اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


گردبادِ حیات

حالیہ ہندوستانی مرحوم ادباء کے لئے خراج عقیدت

گرد بادِ حیات

ڈاکٹر غلام شبیر رانا

کی نئی کتاب

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

راحت اندوری: ہمارے منھ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

 

اَب نہ میں ہوں نہ باقی ہیں زمانے میرے

پھر بھی مشہور ہیں شہروں میں فسانے میرے

اُردو اَدب میں ترقی پسند تصور کی ترجمان ایک بے خوف آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ بھارت کا ممتاز شاعر راحت اندوری (راحت اللہ قریشی) گیارہ اگست 2020ء کو زینۂ ہستی سے اُتر گیا۔ فلمی شاعری کا قومی ایوارڈ حاصل کرنے والا شاعر اَپنی باری بھر کر اِس دنیا سے رُخصت ہو گیا۔ اَدبی محافل اور مشاعروں کی اِس روح رواں کو دیکھنے کے لیے کے لیے اَب آنکھیں ترسیں گی۔ حریتِ فکر کے جذبات، سادگی، سلاست، روانی اور سہل ممتنع کے ذریعے اپنی شاعری کو ساحری بنانے والا با کمال شاعر اَب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ دُنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے ایسے مشاعرے جن میں جہاں لاکھوں افراد اُس کا کلام سننے کے لیے اکٹھے ہوتے اَب اس شاعر کی یادوں کی کہانی سنائیں گے۔ اپنی طلسمی شخصیت اور مسحور کن شاعری سے سماں باندھنے والا فطین شاعر بزم ادب سے اُٹھ کر شہر خموشاں کی جانب چل دیا۔ اِنسانیت کے وقار و سر بلندی، اخوت کی جہاں گیری اور محبت کی فراوانی کا ایساپر جوش حامی اَب کہاں مِلے گا؟ علم و ادب، مصوری، تدریس، موسیقی اور فلمی نغمہ نگاری کا وہ نیّرِ تاباں جو یکم جنوری 1950ء کو اندور، مدھیہ پردیش (بھارت) سے طلوع ہوا وہ گیارہ اگست 2020ء کو اندور ہی میں غروب ہو گیا۔ اندور کی زمین نے اردو شاعری کے اِس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھُپا لیا۔ خطرناک عالمی وبا کووڈ اُنیس(COVID- 19) کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد راحت اندوری کو سری اروبندو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (Sri Aurobindo Institute of Medical Sciences.) اندور میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔ اِسی اثنا میں دل کا دورہ پڑنے سے راحت اندوری چل بسے۔ اُن کے پس ماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

راحت اندوری کے والد رفعت اللہ قریشی اور والدہ مقبول النسا بیگم نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔ اپنی جنم بھومی اندور سے والہانہ محبت اور قلبی وابستگی راحت اندوری کی مستحکم شخصیت کا امتیازی وصف تھا۔ سولہویں صدی سے ریاست مدھیہ پردیش میں تعلیم اور فن کا محور سمارٹ سٹی اِندور شہر نہ صرف ضلع اِندورکا ضلعی صدر مقام ہے بل کہ یہ اِندور ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ نو آبادیاتی دور میں اس شہر سے تعلق رکھنے والے کئی یگانۂ روزگار فاضل پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہے۔ دکن اور دہلی کے معتبر تجارتی ربط کے حوالے سے اس شہر کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔

غزل اور آزاد نظم میں نئے تجربے کر کے راحت اندوری نے کلیشے کے خلاف آواز بھر پور بلند کی اور تخلیقی فعالیت میں جدت و تنوع پر زور دیا۔ چربہ ساز، سارق اور کفن دُزد سفہا کے خلاف راحت اندوری نے کھُل کر لکھا۔ جسارت سارقانہ کی مکروہ سازش سے جعلی بلندیوں تک رسائی حاصل کر کے ہنہنانے والے مسخروں کو خبردار کرتے ہوئے راحت اندوری نے لکھا ہے:

جھُوٹی بلندیوں کا دھواں پار کر کے آ

قد ناپنا ہے میرا تو چھت سے اُتر کے آ

ہوا کا رُخ پہچان کر اپنے جذبات و احساسات کو اَشعار کے قالب میں ڈھالنے والے جدید لہجے کے اس شاعر نے سال 1968ء میں تخلیقی سفر کے آغاز کے ساتھ ہی اپنے لیے ایک واضح لائحہ عمل کا انتخاب کیا اور مشاعروں میں اپنی مقبولیت کی دھاک بٹھا دی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اِس قدر ہمہ گیر مقبولیت کے باوجود نقادوں نے اُس کے اسلوب کے بارے میں کم کم لکھا ہے۔ اپنی شاعری میں راحت اندوری نے بہرام ٹھگ کی اولاد، پیمان شکن، عادی دروغ گو اور محسن کش سفہا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نگاہیں چُرانے کے بجائے اِس ظلم کا حساب دیں کہ اِس لُوٹ مار میں کون کون سے درندے اُن کے شریکِ جُرم رہے ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر رُک رُک کر سنبھلنے اور مُڑ کر دیکھنے والوں کو راحت اندوری نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ دشت نوردی سے اِس قدر خائف تھے تو اپنے چور محل اور عشرت کدے سے باہر قدم کیوں رکھا؟ خارزارِ زیست کے آبلہ پا مسافروں کو راحت اندوری نے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے غاصب استحصالی عناصر کو شیر کی آنکھ سے دیکھیں اور دبنگ لہجے میں بات کریں۔ راحت اندوری نے زندگی بھر بروٹس قماش آستین کے سانپوں کی دو عملی، منافقت، محسن کشی، پیمان شکنی اور مکر و فریب کے خلاف مثبت شعور و آگہی پیدا کرنے کی سعی کی۔ اپنی شاعرانہ بصیرت کو رو بہ عمل لا کر راحت اندوری نے اپنے منفرد اسلوب میں آفاقی اور مقامی تصورات کا احاطہ کیا ہے۔ اُن کے اسلوب پر جن ممتاز شعرا کے کلام کا پرتو دکھائی دیتا ہے اُن میں فانی بدایونی (1879-1961) ، مرزا یاس یگانہ چنگیزی (1833-1956) ، علی سکندر جگر مرادآبادی (1890-1960) ، شبیر حسن خان جوش ملیح آبادی (1898-1982) ، رگھو پتی سہائے فراق گورکھ پوری (1896-1982) ، احمد فراز (1931-2008) ، سیف الدین سیف (1922-1993) ، اُستاد دامن (چراغ دین: 1911-1984) آغا شورش کاشمیری (عبد الکریم: 1917-1975) اور حبیب جالب (1928-1993) شامل ہیں۔ جدید اُردو شاعری کے وہ تخلیق کار جن کی بات دِل سے نکلتی اور دِل میں اُتر جاتی اُن میں محسن بھوپالی، راحت اندوری، ناصر کاظمی، رام ریاض، منیر نیازی اور بشیر بدر شامل ہیں۔ ہر مشاعرے کو کامیابی سے ہم کنار کرنے والا ہر دِل عزیز شاعر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ گزشتہ صدی کی ستر کی دہائی میں مشاعرے میں الفاظ کی موثر اور بر محل ادائیگی اور اشاروں سے سماں باندھ کر ادبی محفلوں پر چھا جانے والا شاعر اب مُلکوں مُلکوں ڈھونڈنے سے بھی نہ مِل سکے گا۔

برف کی چٹان کے تلووں میں چھالے کر دئیے

گورے سُورج نے ہزاروں جِسم کالے کر دئیے

اخلاق، اخلاص اور انسانیت نوازی راحت اندوری کی شخصیت کے امتیازی اوصاف تھے۔ قارئین ادب کے ساتھ اپنے تکلم کے سلسلوں میں اُنھوں نے حریت فکر و عمل کا علم بلند رکھنے پر اصرار کیا۔ راحت اندوری ایک با کمال تخلیق کار تھا اس لیے بے کمال حاسدوں کی سُبک نکتہ چینوں کو وہ کبھی خاطر میں نہ لایا، اُس نے سادیت پسندوں کو للکارتے ہوئے کہا:

میں نُور بن کے زمانے میں پھیل جاؤں گا

تم آفتاب میں کیڑے نکالتے رہنا

ابھی تو پرندے شُمار کرنا ہے

یہ پھِر بتائیں گے کِس کو شِکار کرنا ہے

یہ میری پیٹھ ہے اے میرے بے خبر دشمن

مجھے تو ترے سینے پہ وار کرنا ہے

حسن فطرت سے والہانہ محبت راحت اندوری کی شخصیت کا اہم وصف تھا۔ اُس نے اپنے بیٹے کا نام ’’ستلج‘‘ رکھا اور عملی زندگی میں اُس کی روانی کے لیے سدا دعا کی۔ طوفان حوادث کو اپنی حدود میں رہنے کا مشورہ دینے والا جری شاعر کورونا کی زد میں آ گیا تو دنیا بھر میں اُس کے لاکھوں مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مشاعروں میں راحت اندوری محض صداکار ہی نہیں تھا بل کہ سٹیج پر وہ اپنا کلام پیش کرتے وقت جب بر جستہ اور بے ساختہ انداز میں اداکار کا رُوپ دھارتا تو ناظرین عش عش کر اُٹھتے۔ بھارت کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز پر ثقافتی مزاحمت کی صورت میں راحت اندوری نے وہی لہجہ اور ڈسکورس اپنا یا جو پاکستان میں نئے سماجی اور معاشی حقائق کی روشنی میں محسن بھوپالی، مجید لاہوری، فیض احمد فیض اور احمد فراز کی شاعری میں جلوہ گر ہے۔ پس نو آبادیاتی دور میں داخلی نوعیت کے نو آبادیاتی نظام اور ریاستی جبر کے خلاف راحت اندوری نے نہایت سخت موقف اختیار کیا۔ سال 1977ء کے انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی کی کامیابی پر راحت اندوری نے کہا تھا:

دیکھیں سپردِ گُل ہو کہ پہنچے خزاں کے پاس

اَب کے چمن گیا ہے نئے پاسباں کے پاس

اِس یادگارِ زمانہ شاعر نے اپنی تخلیقی فعالیت سے فکر و نظر کو مہمیز کر کے جمود کا خاتمہ کیا اور سفاک ظلمتوں میں افکارِ تازہ کی شمع فروزاں کر کے جہانِ تازہ کی جستجو کو شعار بنایا۔ اِندور کی خاک سے اُٹھنے والے اس با کمال شاعر نے شاعری میں افلاک کی وسعت کو چھُو لیا۔ اُردو زبان و ادب کے اِس تابندہ ستارے کا غروب ہو جانا اردو ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ زندگی کی رعنائیوں اور رنگینیوں کی مسحور کُن دل کشی اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر وجود سے عدم کی جانب منتقلی بلاشبہ ایک الم ناک سانحہ ہے۔ سکوت مرگ کے سکون کو راحت اندوری نے جداگانہ انداز میں دیکھا ہے۔

دو گز سہی مگر یہ میری ملکیت تو ہے

اے موت تُو نے مجھ کو زمیندار کر دیا

راحت اندوری کا تعلق اندور کے ایک ممتاز علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ اُن کے والد رفعت اللہ اور والدہ مقبول بی بی نے اپنے اِس ہو نہار فرزند کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔ اُنھوں نے ابتدائی تعلیم گھر ہی سے حاصل کی۔ اس کے بعد وسطانی، ثانوی اور اعلا ثانوی جماعتوں کی تعلیم کے لیے وہ نوتن سکول اندور میں زیر تعلیم رہے۔ ڈگری کلاسز کی تعلیم کے لیے شہر کے اہم تعلیمی ادارے کریمیہ کالج، اندور میں داخلہ لیا۔ سال 1970ء میں روشنی کا سفر شروع کرنے والی یو نیورسٹی آف بھوپال کو سال 1988ء میں اِس علاقے کے نامورسپوت اور برطانوی استعمار کے خلاف جد و جہد کرنے والے حریت فکر کے مجاہد پروفیسر برکت اللہ یونیورسٹی کے نام سے شہرت ملی۔ راحت اندوری نے برکت اللہ یونیورسٹی سے سال 1975ء میں ایم۔ اے اُردو کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے تحقیقی مقالہ ’’اُردو میں مشاعرہ‘‘ کے موضوع پر مدھیہ پردیش راجہ بھوج اوپن یونیورسٹی، بھوپال سے سال 1985ء میں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی میں راحت اندوری نے شعبۂ تدریس کا انتخاب کیا اور اِسلامیہ کریمیہ کالج اندور میں تدریسی خدمات پر مامور رہے۔

تصانیف: ایک کثیر التصانیف ادیب کی حیثیت سے راحت اندوری نے درج ذیل تصانیف سے اُردو اور ہندی ادب کی ثروت میں اضافہ کیا۔:

۱۔ دھُوپ بہت ہے (1979ء) ، ۲۔ رُت (1983ء) ، ۳۔ میرے بعد (1990ء) ، ۴۔ پانچواں درویش (1992ء) ، ۵۔ کن فیکون (2002ء) ، ۶۔ لمحے لمحے، ۷۔ چاند پاگل ہے (ہندی) ، ۸۔ دو قدم اور سہی ۹۔ ناراض، ۱۰۔ موجود، ۱۱۔ میرے بعد

اُردو شاعری میں عوامی مزاج کے مطابق جو دبنگ لہجہ شیر افضل جعفری، محسن بھوپالی، اُستاد دامن، سید ضمیر جعفری، ساقی فاروقی، ساغر صدیقی، سید جعفر طاہر (واپسی) ، صہبا اختر (محبت کرو) ، رام ریاض (چاندنی) ، حبیب جالب (دستور) ، دلاور فگار، جون ایلیا، ارشاد گرامی، دانیال طریر اور محمد فیروز شاہ نے اپنایا، راحت اندوری کی شاعری میں اُس کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ اپنی جنم بھومی سے محبت کا جو انداز شیر افضل جعفری کی شاعری میں جلوہ گر ہے وہی کیفیت راحت اندوری کے کلام میں موجود ہے۔ شیر افضل جعفری نے کہا تھا:

جھنگ دیس میں اِک سودائی جھومے ڈھولے گائے

بھگوا الفا چال ملنگی شیر افضل کہلائے

اپنی تحریروں میں راحت اندوری نے اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا ہے کہ سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا استحصالی عناصر پرانے شکاریوں کے مانند ہمیشہ نئے جال لے کر شکار گاہ میں پہنچتے ہیں اور کھُلی فضاؤں میں دانہ دُنکا چُگنے کے عادی طائران خوش نوا کو اسیرِ قفس رکھ کر لذتِ ایذا حاصل کرتے ہیں۔ عالمی سامراج کی سازش سے پس ماندہ اقوام کی آزادی بے وقار اور موہوم ہو کررہ گئی ہے۔ مغرب کی استعماری طاقتوں نے مشرق کے پس ماندہ ممالک میں اپنی نو آبادیاں قائم کر کے ان ممالک کی تہذیب و ثقافت، فنون لطیفہ، سماج اور معاشرت کے بارے میں گمراہ کُن تجزیے پیش کیے۔ حقائق کی تمسیخ اور مسلمہ صداقتوں کی تکذیب مغرب کے عادی دروغ گو محققین کا وتیرہ رہا ہے۔ تاجر کے رُوپ میں آنے والے تاج ور بن بیٹھے یہاں تک کہ وہ اپنی دُکان بڑھا کر چل دئیے۔ شقاوت آمیز نا انصافیوں اور پیمان شکنی کایہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب فرانس کے مہم جُو نپولین بونا پارٹ (: 1769-1821 Napoleon Bonaparte) نے سال 1798ء میں مصر اور شام پر دھاوا بول دیا تھا یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان سابقہ نو آبادیات میں سلطانیِ جمہور کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پس نو آبادیاتی دور میں ان ممالک کے حکمرانوں کے سر پر تو خود مختار حکومت کا جعلی تاج سجا دیا گیا ہے مگر ان کے پاؤں بیڑیوں سے فگار ہو گئے۔ جبر کا ہر انداز لائق استرداد ٹھہراتے ہوئے ہوئے مزاحمت کا جو انداز حبیب جالب کی شاعری میں فکر کو خیال کو مہمیز کرتا ہے وہی جذبہ راحت اندوری کے ہاں نمایاں ہے۔ حبیب جالب نے کہا تھا:

تم سے پہلے بھی جو اِک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اُس کو بھی اپنے خدا ہونے کا اِتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ

وہ کہاں ہیں کہ جنھیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہِ خاک نہ جانے یہاں کتنے

کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اَب وہ پھِرتے ہیں اِسی شہر میں تنہا لیے دِل کو

اِک زمانے میں مزاج اُن کا سرِ عرشِ بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالب نہیں بھولے

تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زِنداں تو نہیں تھا

راحت اندوری نے اپنی مزاحمتی شاعری میں اُن طالع آزما اور مہم جُو عناصر کی جانب اشارہ کیا ہے کہ جو کسی مرحلے پر شریک سفر تو نہ تھے مگر اپنے مکر کی چالوں سے منزلوں پر غاصبانہ طور پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اُردو زبان کے اکثر شعرا نے پس نو آبادیاتی دور میں رونما ہونے والی اسی نیرنگیِ سیاستِ دوراں کی جانب متوجہ کیا ہے۔ پس نو آبادیاتی دور میں دُکھی انسانیت پر جو کوہِ ستم ٹُوٹا وہ تاریخ کا ایک لرزہ خیز باب ہے۔ چور محل میں جنم لینے والے مشکوک نسب کے سفہا اور اجلاف و ارزال نے چور دروازے سے گھُس کر تمام وسائل پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ چڑھتے سورج کے پجاری اس قماش کے جہلا نے اپنی جہالت کا انعام بٹورنے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ وقت کے فراعنہ کے کبر و نخوت اور گھمنڈ سے راحت اندوری کو شدید نفرت تھی۔ انھوں نے طالع آزما اور مہم جُو فراعنہ سے مخاطب ہو کر کہا تھا:

آندھی مغرور درختوں کو پٹخ جائے گی

بس وہی شاخ بچے گی جو لچک جائے گی

یہ اہلِ درد کی بے بسی کی انتہا تھی کہ پس نو آبادیاتی دور کے بے حس معاشرے میں جاہل اور تہی موقع پرست اپنی جہالت کا انعام بٹور نے میں کامیاب ہو گئے۔ راحت اندوری کو اس بات پر تشویش تھی کہ وقت کے ایسے لرزہ خیز اور اعصاب شکن سانحات کو کسی نام سے تعبیر کرنا بھی ممکن نہیں۔ راحت اندوری کا دبنگ لہجہ اور الفاظ کی ترنگ حریتِ ضمیر سے جینے کی اُمنگ کی ترجمان ہے۔ عالمی مشاعروں، ادبی محفلوں خاص طور پر جشنِ ریختہ میں راحت اندوری کی شرکت سے محفل کی رونق کو چار چاند لگ جاتے تھے۔ ایسے مشاعرے جن میں لاکھوں افراد شرکت کرتے تھے وہاں بھی سامعین راحت اندوری کا کلام ہمہ تن گوش ہو کر سنتے تھے۔ مشاعروں میں دلچسپی رکھنے والے ذوقِ سلیم سے متمتع سامعین کا خیال ہے کہ ادبی نشستوں میں دھنک رنگ مناظر، جدت، تنوع، جرأت اظہار، حق گوئی، بے باکی اور حسن و خوبی کے سبھی اِستعارے راحت اندوری کے دَم سے تھے۔ الفاظ کو فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرنا راحت اندوری کے ادبی مسلک کے خلاف تھا۔ جس وقت اکثر لوگ کسی مصلحت کے تحت حرفِ صداقت لکھنا بھول گئے، اُس وقت راحت اندوری نے نتائج سے بے پروا ہو کر جبر کے کریہہ چہرے سے پردہ اُٹھایا۔ اپنے خالق کی عظمت پر یقین رکھنے والے اس قناعت پسند شاعر نے درِ کسریٰ پر اِس لیے کبھی صدا نہ کی کہ اُسے معلوم تھا کہ اِن بو سیدہ کھنڈرات میں بُوم و شِپر، ملخ و مُور، کرگس و زاغ و زغن کے ضماد کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اُونچے اُونچے درباروں اور آتی جاتی سرکاروں کے کرتا دھرتا افراد کے سامنے اپنی احتیاج بیان کرنے کے بجائے راحت اندوری نے ہمیشہ اپنے خالق اور اپنے مالک حقیقی کے حضور عجز و انکسار کے ساتھ سر جھکا کر التجا کرنے پر زور دیا۔ متاعِ لوح و قلم چھین کر مظلوم انسانوں کے لبِ اظہار پر تالے لگانے والی جابر قوتوں کے خلاف راحت اندوری نے زندگی بھر قلم بہ کف مجاہد کا کردار ادا کیا۔ اُس نے اعصاب پہ پہرے بٹھانے والی جابر قوتوں پر واضح کر دیا کہ اگر زبان کٹتی ہے تو کٹ جائے مگر وہ جذبۂ ایمان کے اعجاز سے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حق و صداقت پر مبنی اپنا موقف علی الاعلان پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایک معلم اور شاعر کے لیے مقتدر حلقوں پر کڑی تنقید بڑے دِل گردے کی بات ہے۔ معاشرتی زندگی، سیاست دوراں کے نشیب و فراز اور سیلِ زماں کے تھپیڑوں کے بارے میں راحت اندوری نے اپنی شاعری کے ذریعے عصری آگہی پروان چڑھانے کی مقدور بھر کوشش کی۔ عرفانِ ذات کی مظہر خود اعتمادی افراد کو اقوام کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت سے متمتع کرتی ہے۔ موقع پرست ملاحوں کے عارضی سہارے سے بے نیاز رہتے ہوئے بڑھتے ہوئے سیل حوادث سے ٹکرا کر تیر کر دریا پار کرنے کا مشورہ دینے والے اس شاعر نے سدا اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی تلقین کی۔ قحط الرجال کے موجودہ زمانے میں ہوس نے انسان کو اخوت، خلوص اور مروّت سے محروم کر دیا ہے۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر کر دی ہیں۔ گلیوں میں پھیلی بارُود کی بُو میں جہاں سانس لینا دشوار ہے راحت اندوری نے وہاں عطر بیز گل ہائے رنگ رنگ کی دکانیں کھولنے کا مشورہ دیا اور زہریلے دھوئیں سے بھرے کوچہ و بازار میں خوشبو کے کاروبار کا آغاز کرنے کی تلقین کی۔ وطن، اہلِ وطن اور انسانیت کے ساتھ والہانہ محبت کرنے والے اس جری تخلیق کار نے جبر کی اطاعت سے ہمیشہ انکار کیا۔ انھوں نے کبھی کسی کی ڈکٹیشن قبول نہ کی اور زندگی کے ہر مرحلے پرا پنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا۔ ہوائے جورو ستم کے مہیب بگولوں میں بھی شمع وفا کو فروزاں رکھنے والے اس شاعر نے مصلحتِ وقت کی کبھی پروا نہ کی اور لال قلعہ دہلی میں وزیر اعظم ہند کی صدارت میں ہونے والے مشاعرے میں کئی بار یہ کلام پڑھا:

اگر خلاف ہے ہونے دو جان تھوڑی ہے

یہ سب دھُواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

ہمارے منھ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے منھ میں تمھاری زبان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں

لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ مسند ہیں کَل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامِل یہاں کی مٹی میں

کِسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے