اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


قرآنی زندگی اور غیر قرآنی زندگی کا تقابل اور جائزہ

ایک تحقیقی مضمون

قرآنی زندگی اور غیر قرآنی زندگی کا تقابل اور جائزہ

از قلم

آسیہ رشید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

ابتدائیہ

انعامات ربانی میں ایک بہترین انعام، امت مسلمہ کو نبی کریمﷺ کے ذریعے دیا جانے والا قرآن حکیم کا عظیم تحفہ ہے۔ سورہ یونس میں قرآن مجید کو رحمتِ خداوندی سے موسوم کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللَّہ وَبِرَحْمَتِہ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ہوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ (1)

(یہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ یہ نعمت تمہیں نصیب ہوئی، پس یہ وہ چیز ہے، جس پر لوگوں کو چاہیے کہ خوشیاں منائیں، جتنی بھی چیزیں دنیا میں لوگ سمیٹتے ہیں، قرآن کی نعمت، ان سب سے زیادہ بہتر اور قیمتی ہے۔)

قرآن کریم کے نزول کا بنیادی مقصد ہی انسانی زندگی کے اسلوب کو راہ حق دکھا کر اوصاف خداوندی سکھا کر درست طرز زندگی پر ڈھالنا تھا۔ بد تہذیبی ختم کرنے اور بد سلیقہ اور نا شائستہ ہونے کے سبب اور پوری دنیا کی اصلاح کرنے، تہذیب سکھانے اور اسلوب زندگی درست کرنے کو اللہ نے اتارا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

إِنَّا أَنْزَلْنَاہ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (2)

(بے شک ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ تم سمجھو۔)

مگر چونکہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے جو انسان کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ‘ اس لئے اس کی روح ابدی‘ کلام کی تاثیر روحانی اور اس کی تعلیمات آفاقی ہیں یعنی یہ انسان کے لئے ضابطہ حیات ہے۔ انسان قرآنی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا پابند ہے اگر وہ اس سے نظر پھیرتا ہے اور احکامات الٰہی سے رو گردانی کرتا ہے تو خسارہ اٹھانے کا خود ہی ذمہ دار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اسلوب بیان بھی انسانی فکر و نظر اور ذوق سلیم کے مطابق ہے یعنی انسان جب قرآن پڑھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ایک ایک نصیحت اس کے دل میں اترتی جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ قرآن مجھ ہی سے ہم کلام ہے۔ اس قرآن کا موضوع ہی انسان ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ کا مطلوب ہے کہ انسان قرآنی انداز فکر قرآنی اسلوب پر زندگی گزارے۔ ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ اس کا اسلوب بیان اس انداز کا ہے کہ ہر نفس کو فرداً فرداً یکساں طور پر متاثر کرتا ہے اور پڑھتے وقت یہی باور کراتا ہے کہ قرآن اس کے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ تاہم قرآن کے اسلوب بیان کے کئی پہلو ہیں جن کو سمجھنا چاہئے۔ ویسے اس کے اسلوب کی طرف خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما دیا ہے سورۃ یوسف میں قرآن کا اسلوب کیا ہے جو زندگی میں راہنمائی فراہم کرتا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ہذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہ لَمِنَ الْغَافِلِینَ (3)

(ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں اس لئے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بے شک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی۔)

اسی طرح ارشاد ربانی ہے:

قَدْ جَاءَکُمْ مِنَ اللَّہ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ (4)

(بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔)

ایک اور جگہ قرآن حکیم میں ارشاد ربانی ہے:

تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (5)

(بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے قرآن اپنے بندے پر اتارا جو سارے جہاں کو ڈر سنانے والا ہو۔)

اسی طرح ایک اور جگہ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

إِنَّ ہذَا الْقُرْآنَ یَہدِی لِلَّتِی ہیَ أَقْوَمُ (6)

(بلا شبہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی ہے۔)