اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


لکھنؤ کا عہدِ شاہی

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

لکھنؤ کا عہدِ شاہی

مجلس ادبیات عالیہ واٹس ایپ گروپ کا کارنامہ

عبد الروؤف عشرت لکھنوی

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

نصیر الدین غازی حیدر

شاہی محل کی عالیشان عمارت کے وسط میں صدر مقام پر ایک نفیس بارہ دری بنی ہوئی اور شیشہ آلات سے سجی ہوئی ہے۔ نفیس نفیس جھاڑ، نازک نازک دیوار گیریاں، قلمی تصویریں، خوشخط قطعے لگے ہیں۔ کمروں میں تمام کا فرش بچھا ہے۔ سنہری، روپہلی چلمنیں، زربفت کے پردے پڑے ہیں۔ بارہ دری کے سامنے پُر فضا چمن لگا ہے۔ سنگ مرمر کی نہریں جن میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ شہ نشین میں صدر مقام پر کارچوبی گاؤ تکیے لگائے ہوئے حضرت شاہ نصیر الدین حیدر بادشاہ غازی جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے پہلو میں بڑے تُزک و احتشام سے نواب ملکہ زمانیہ بیٹھی ہیں۔ گردا گرد خواصیں ماہتاب کے ہالے کی طرح، اردلی کی خواص چنور اور مورچھل جھل رہی ہے۔ ڈومنیاں مع سازندہ عورتوں کے بھاؤ بتا بتا کر سریلے سُروں میں گا رہی ہیں۔ کوئی چیخ کر بات نہیں کر سکتا۔ نظر سے نظر ملانے کا حکم نہیں ہے۔ کسی کو کھنکارنے کا حکم نہیں ہے۔ جو شخص جو کچھ کہتا ہے، آتو جی سر جھکا کر با ادب عرض کرتی ہیں۔ اتنے میں داروغہ ڈیوڑھی نے خبر بھجوائی ’’کوئی بی حسینی خانم ہیں، جن کو آتو جی نے محل کی ملازمت کے لیے طلب فرمایا تھا، وہ ڈولی میں آئی ہیں۔ کیا حکم ہوتا ہے؟ ڈولی اتروائی جائے یا نہیں؟‘‘ آتو جی نے کہا ’’ہاں ہاں مجھ سے بیگم صاحبہ نے فرمایا تھا ایک چٹھی نویسنی کے لیے؛ آنے دو‘‘۔

باہر سے ایک خواجہ سرا ہمراہ آیا۔ بی حسینی خانم کی سِٹّی بھول گئی، یا الٰہی کس طرف جاؤں۔ چاروں طرف اچھی پوشاک والی بیبیاں بڑے ٹھسّے سے بیٹھی ہیں۔ پہلے تو انّا کو دیکھ کر سمجھیں شاید یہی بادشاہ بیگم ہیں۔ جھک کر سلام کیا، خواجہ سرا نے کہا آگے چلو۔ اب یہ قدم قدم پر فرشی سلام کرتی ہیں۔ اتنے میں دور سے آتو جی آتے ہوئے دکھائی دیں، اِن کی جان میں جان آئی۔ انہوں نے کہا چلو ہم تو تمہارا راستہ دیکھ رہے تھے۔ بیگم صاحبہ سے تمہارا ذکر کر چکے ہیں۔ غرض سارے محل کے صدقے ہوتی ہوئیں بارہ دری کے زینہ سے تہہ خانہ کے اندر اتریں۔ محلدار ساتھ ساتھ ہوئی۔ محلدار نے کہا سامنے بادشاہ اور بیگم بیٹھے ہیں، ذرا ادب قاعدے سے، پھر آگے بڑھ کر عرض کیا: سرکار عالیہ کے فرمان سے بی حسینی خانم حاضر ہیں، نگہ رو برو! حسینی خانم نے نہایت ادب قاعدے سے سلام کیا اور بادشاہ کی خدمت میں اپنا لکھا ہوا خوشخط قطعہ نذر میں پیش کیا اور بیگم صاحبہ کو پانچ اشرفیاں نذر میں دکھائیں۔ بیگم صاحبہ کے اشارے سے قطعہ اور اشرفیاں آتو جی نے قبول کر لیں۔ بیگم صاحبہ نے بیٹھنے کا حکم دیا اور سرفرازی کا خلعت منگوایا۔ لونڈیاں دوڑتی ہوئی بھاری خلعت کی کشتیاں لے کر حاضر ہوئیں۔ ایک دوشالہ بھاری، ایک رو مال سنہری جالدار، ایک تھان کمخواب، ایک تھان سرخ اطلس کا، ڈھاکے کی جامدانی، بنارسی دو ڈوپٹے، مشروع کے دو تھان اور سونے کے کڑے مرحمت ہوئے۔ بادشاہ نے ایک ہزار روپیہ کا توڑا منگوا کر انعام دیا اور پچاس روپیہ ماہوار پر چٹھی نویسوں میں اسم ہو گیا۔

دو گھنٹے یہاں دل بہلا کر بادشاہ سلامت نے بوچہ طلب فرمایا۔ کہاریاں سواری لے کر حاضر ہوئیں، حضور سوار ہوئے۔ ڈیوڑھی کے باہر کہاروں نے کندھا دیا، حضور دربار میں تشریف لائے۔ دربار کی کوٹھی رمنہ میں ’’فرح بخش‘‘ کے نام سے مشہور تھی، تخت شاہی یہیں رہتا تھا۔ جب سواری مع ماہی مراتب اور جلوس کے کوٹھی تک پہنچی، سارے عملے نے سر وقد ہو کر سلامی دی۔ معتمد الدولہ آغا میر وزیر، ظفر الدولہ کپتان فتح علی خاں بہادر، اقبال الدولہ، مکرّم الدولہ، مَجد الدولہ، میر محمد سر رشتہ دارِ عدالت، نواب روشن الدولہ، افتخار الدولہ، مہاراجا میوہ رام، راجا امرت لال عرض بیگی، مرزا کیوان جاہ نے باری باری سے مُجرا کیا اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے تخت شاہی پر جلوس فرمایا۔ خُدّام داہنے بائیں چنور لیے کھڑے ہیں۔ پشت پر ایک خواص چھڑ لگائے ہوئے ہے۔ درباری لوگ بہت ادب قاعدے سے بیٹھے ہوئے، نگاہیں نیچی کیے ہوئے، خاموشی کا عالم۔

پہلے معتمد الدولہ آغا میر نے ضروری کاغذات پیش کیے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ حضور نے بعد ملاحظہ دریافت طلب باتیں پوچھ کر دستخط فرمائے۔ پھر مقدمات عدالت پیش ہوئے۔ روبکاری سماعت فرما کر احکام جاری کیے۔ اتنے میں مِردھے نے عرض کیا ’’شاہ عالم عالمیان نگاہ رو برو نواب عاشق علی حاضر ہو‘‘۔ آپ نے اشارہ فرمایا۔ داروغہ ڈیوڑھی نے کہا آنے دو، بادشاہ نے طلب فرمایا ہے۔ چوبدار نے آواز دی: نواب عاشق علی حاضر ہے، نگاہ رو برو۔ پہلی ڈیوڑھی کے چوبدار نے کہا کہ سب چوبدار یکے بعد دیگرے آواز دینے لگے۔ اس کے بعد رستم علی مِردھے نے بھی آواز دی۔ نواب عاشق علی پھاٹک سے دو طرفہ سلام کرتے ہوئے جھکے جھکے چلے آتے ہیں، دربار کے رعب سے کانپ رہے ہیں۔ راجا امرت لال عرض بیگی نے اِن کو سامنے لے جا کر عرض کیا: ملاحظہ ہو، نواب عاشق علی حاضر ہے۔ نواب نے زمین دوز ہو کر مجرا کیا۔ دس اشرفیاں نذر میں پیش کیں، حضور نے اشارے سے قبول کیں۔ ۲۴ جنوری ۱۸۲۸ء کو پیش ہوئے، نذر قبول ہوئی، اُسی روز خلعتِ سرفرازی ہوا، پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی اور عہدۂ سفارت مرحمت ہوا۔ اُسی روز کلکتہ جانے کا حکم ملا۔ تین لاکھ روپیہ نقد سرکار سے واسطے ضروریات کے مرحمت ہوا۔ اِسی طرح نجم الدولہ جعفر علی خاں ابن مظفر علی خاں گوالیار سے آئے، بادشاہ نے بہت مرحمت فرمائی اور عہدۂ توپ خانہ سلمانی عنایت ہوا۔ پانچ سو روپیہ مہینہ مقرر ہوا۔

سعادت علی خاں

نواب سعادت علی خاں قبل طلوع آفتاب کے دربار سواری کا فرماتے تھے، عرب اور جنگل کے تال میل سے خانہ زاد گھوڑے تھے۔ محل سے بوچہ پر سوار ہو کر برآمد ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہوئے۔ اس وقت آپ لباس انگریزی، ولایتی ڈاب زیر کمر کیے ہوئے اور سیاہ مغلی ٹوپے دیے ہوتے تھے۔ پہلے سلام مرشد زادوں کا ہوتا تھا، اس کے بعد امرائے خاص کا۔ دو گھڑی میں ہوا خوری سے فراغت کر کے ہاتھی پر مع جلوس سوار ہوتے تھے۔ سواری مع جلوس مع ڈنکا و نشان ہوتی تھی۔ امرائے دولت ہاتھیوں پر سوار ہمراہ ہوتے تھے۔ خاص بردار چنور لیے ہوئے، چوبدار سواری کے داہنے بائیں ساتھ ہوتے تھے۔ مرزا کریم بیگ، محمد غلامی سوار انگریزی پوشاک میں آگے آگے ہوتے تھے۔ بیس سوار اور بیس پیدل روزانہ اہتمام سواری کرتے تھے اور کل اہتمام نواب انتظام الدولہ مظفر علی خاں کے سپرد تھا۔ نواب اشرف الدولہ رمضان علی خاں، مرزا اشرف علی بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ روزانہ پہرہ چوکی پر بائیس سوار آدمی مختلف فرقے کے ملازم تھے، ان میں دو سوار بھی تھے۔

دربار سواری کی بھی شان تھی۔ امرا درِ دولت سے رخصت ہو جاتے تھے۔ نو بجے صبح کو چائے پانی ہوتا تھا۔ کرسی نشین امرا، مقربان خاص، صمصام الدولہ مرزا ہجّو، مرزا محمد تقی خاں ہوس پہلو میں، مکلوڈ صاحب، ڈاکٹر لا صاحب خاص کرسی کی پشت پر بیٹھتے تھے۔ میر انشاء اللہ خاں، میر ابو القاسم خاں، سراج الدولہ، معززین، خواجہ سرا باریابِ سلام ہوتے تھے۔

سلام کا قاعدہ یہ تھا کہ مِردھا پہلے عرض خدمت کرتا تھا۔ پھر عرض بیگی اپنے سامنے پیش کر کے ادب قاعدے سے سلام کراتا تھا۔ اس میں بہت دیر موقع محل دیکھنے میں ہو جاتی تھی۔ ایک دربار وقت خاصے کے ہوتا تھا، جس میں مقربان خاص، اردلی و نواب جلال الدولہ، مہدی علی خاں، رُکن الدولہ، نواب محمد حسن خاں شریکِ خاصہ ہوتے تھے۔ اس کے بعد حضور محل میں تشریف لے جاتے تھے۔

بارہ بجے برآمد ہوتے، کچہری فرماتے تھے۔ کاغذات ملاحظہ ہوتے تھے۔ نواب نصیر الدولہ تمام رپورٹیں ایک بند لفافے میں رکھ کر پیش کرتے تھے۔ نواب شمس الدولہ بھی کاغذات بند لفافے میں پیش کرتے تھے اور آپ علاحدہ کمرے میں حاضر رہتے تھے۔ اِسی طرح نواب منتظم الدولہ مہدی علی خاں، وزیر راجا دیا کرشن رائے رتن چند صاحب، اخبار رائے رام اخبار نویس، خفیہ منشی رونق علی، منشی دانش علی اپنے اپنے لفافے میز پر رکھ کر علاحدہ کمرے میں بیٹھتے تھے۔ استفسار کے لیے بلائے جاتے تھے۔ جناب عالی لفافے ملاحظہ فرما کر ضروری کاغذات پر دستخط فرماتے تھے اور جو ناقابل داخل دفتر ہوتے تھے وہ طشتِ آب میں ڈال دیے جاتے تھے، اِن کا ایک ایک حرف دھو ڈالا جاتا تھا۔ جس کاغذ پر مہر خاص کرنا ہوتی تھی، ظفر الدولہ سامنے حضور کے مہر کرتے تھے۔ جو کاغذ باقی رہ جاتے تھے، رات کو ملاحظہ فرماتے تھے۔ پرچہ اخبار ہر وقت گزر سکتا تھا۔ بعد دستخط تمام کاغذ ہر دفتر میں بھجوا دیے جاتے تھے۔ اُسی روز تمام احکام جاری ہوتے تھے۔

وقت شام دو اسپہ گاڑی پر سوار ہو کر ہوا خوری کو نکلتے تھے۔ جلوس سواری میں راجا بختاور سنگھ کا رسالہ تُرک سواران ہمراہ ہوتا تھا۔ کبھی تامدان پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ اکثر گنج میں جا کر نرخ غلہ کا دریافت کرتے تھے کہ رعایا کو گرانی غلہ سے تکلیف نہ ہو۔ بقّال اس خوف سے اناج مہنگا نہیں کر سکتے تھے۔ اُس وقت دو پیسے سیر آٹا بکتا تھا۔