اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


عظمتِ قرآن

مشہور مفسر قرآن کی تقاریر کا پسندیدہ موضوع

عظمتِ قرآن

از قلم مفسرِ قرآن

ڈاکٹر اسرار احمد

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

عظمت قرآن، بزبان قرآن

عظمت قرآن کا مضمون خود قرآن مجید میں بہت مرتبہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی خود تعریف کی ہے۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہم انسانوں کے لیے تو برائی کا درجہ رکھتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو زیب دیتی ہیں۔ جیسے تکبر بہت بڑی برائی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے بڑائی کو اپنی چادر اور عظمت کو اپنی اِزار قرار دیا ہے:

((اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَائِیْ وَالْعَظْمَۃُ اِزَارِیْ)) (ابوداؤد، ابن ماجہ، مسنداحمد)۔

اُس کا نام اَلْمُتَکَبِّر ہے۔ یہ جامہ اُسی کو راست آتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنی کسی بات کی تعریف کریں تو یہ اچھی بات محسوس نہیں ہو گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ خود اپنے کلام کی عظمت بیان کرتا ہے اور خود اِس کی تعریف کرتا ہے۔ قرآن مجید کے وہ بے شمار مقامات جن میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید کی عظمت بیان کی ہے، ان میں سے پانچ مقامات میرے سامنے ایک عجیب ترتیب سے آئے ہیں، جسے میں نے بارہا بیان بھی کیا ہے۔ اس وقت وہ میرا اصل موضوع نہیں ہے، صرف انہیں گِنوا دینا کافی ہے۔ پہلے ایک آیت، پھر دو آیتیں، پھر چار آیتیں، پھر چھ آیتیں اور پھر آٹھ آیتیں، اور ہر مقام کا اپنا ایک خاص مضمون ہے۔

عظمت قرآن کی ایک تمثیل

عظمت قرآن فی نفسہٖ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے اور کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن اللہ کی صفت ہے اور ہم اس کی عظمت کماحقہٗ نہیں سمجھ، سکتے۔ لیکن سورۃ الحشر میں فرمایا کہ ایک مثال سے ہم تمہیں کچھ تھوڑا سا تصور دے سکتے ہیں:

{لَو اَنزَلنا ہٰذَا القُراٰن عَلیٰ جَبَلٍ لَّرَاَیتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّن خَشیَۃِ اللّٰہِ ؕ وَ تِلکَ الاَمثَالُ نضرِبُہَا لِلناسِ لَعَلَّہُم یَتَفَکَّرُون ﴿۲۱﴾}

’’اگر ہم نے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اُتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کی خشیت سے۔ اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ غور و فکر کریں‘‘۔

اور پہاڑ کے پھٹ جانے کا واقعہ حضرت موسیٰؑ کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت موسیٰؑ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ پردے کی اوٹ سے

{مِن وَّرَآءِ حِجَابٍ}

ہو رہا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے دیدار بھی حاصل ہو جائے۔ عرض کیا:

{رَبِّ اَرِنیۤ اَنظُر اِلَیکَ}

’’پروردگار! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں‘‘۔

فرمایا:

{لَن تَرٰىنی}

’’تم مجھے نہیں دیکھ سکتے‘‘

{وَ لٰکِن انظُر اِلَی الجَبَلِ فَاِن استَقَرَّ مَکَانہٗ فَسَوفَ تَرٰىنی}

’’لیکن اس پہاڑ پر نظر جماؤ، (میں اس پر اپنی ایک تجلی ڈالوں گا) پس اگر وہ (اسے برداشت کر جائے اور ) اپنی جگہ پر قائم رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے‘‘۔

{فَلَمَّا تَجَلّیٰ رَبُّہٗ لِلجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوسیٰ صَعِقًا} (الاعراف: ۱۴۳)

’’چنانچہ جب اُس کے ربّ نے پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰؑ غش کھا کر گر پڑے‘‘۔

یہ بالواسطہ مشاہدہ تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے پہاڑ پر اللہ کی تجلی کا مشاہدہ کیا، لیکن اس کی تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اس سے ذرا عظمت قرآن کا اندازہ کیجیے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اور جو اللہ کی ذات تجلی کا اثر ہے وہی اللہ کی صفت کی تجلی کا اثر ہے۔

افادیت قرآن کے چار پہلو

سورۃ الحشر کی ایک آیت کے بعد اب سورۂ یونس کی دو آیتیں ملاحظہ کیجیے۔ دیکھئے، ایک ہے کسی شے کا اپنی جگہ عظیم ہونا اور ایک ہے اُس کی افادیت۔ تاج محل اپنی جگہ بڑا عظیم ہے، لیکن مجھے اس سے کیا فائدہ ہوا؟ تو قرآن کی عظمت فی نفسہٖ کیا ہے، اس کا بیان تو سورۃ الحشر کی آیت میں آ گیا، جبکہ اس کی افادیت کیا ہے، اسے سورۂ یونس کی دو آیات میں بیان کر دیا گیا۔ فرمایا:

{یٰۤاَیُّہَا الناسُ قَد جَآءَتکُم مَّوعِظَۃٌ مِّن رَّبِّکُم وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحمَۃٌ لِّلمُؤمِنین ﴿۵۷﴾ قُل بِفَضلِ اللّٰہِ وَ بِرَحمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلیَفرَحُوا ؕ ہُوَ خَیرٌ مِّمَّا یَجمَعُون ﴿۵۸﴾} (یونس)

’’اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔ (آپؐ) کہہ دیجیے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے۔ وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں‘‘۔

یہ قرآن تمہارے ربّ کی طرف سے مَوْعِظَۃ یعنی نصیحت ہے، جس سے دل نرم ہو جائیں گے۔ جب دل نرم ہو جائیں گے تو یہ قرآن ان میں جذب ہو جائے گا، اس طرح ساری باطنی بیماریوں کا علاج ہو جائے گا۔ تکبر، حسد، حبّ دنیا، حبّ مال، حبّ جاہ اور حبّ شہرت کا علاج ہو جائے گا۔ پھر یہ ہدایت ہے۔ یہ تمہیں رستہ بتائے گا کہ تمہیں کدھر جانا ہے، کدھر نہیں جانا۔ اور آخرت میں رحمت ہے۔ یہ قرآن کی چار افادیتیں ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کا مظہر ہے جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔ تو خوشیاں منانی ہوں تو اس کی مناؤ! اور جان لو کہ جو کچھ تم دنیا میں جمع کرتے ہو، ان سب چیزوں سے کہیں بڑھ کر قیمتی چیز یہ قرآن ہے۔

سورۃ الرحمن کی ابتدائی چار آیات

آگے چلیے۔ سورۃ الرحمن کی پہلی چار آیات ملاحظہ کیجیے۔ ان چار آیتوں میں چار چوٹی کی چیزیں بیان کی گئی ہیں۔

{اَلرَّحمٰن ۙ﴿۱﴾}

یہ اللہ کے ناموں میں سب سے پیارا نام ہے۔ عرب اس نام سے واقف نہیں تھے۔ سورۃ الفرقان کی آیت ۶۰ میں فرمایا گیا:

{وَ اِذَا قِیلَ لَہُمُ اسجُدُوا لِلرَّحمٰن قَالُوا وَ مَا الرَّحمٰن}

’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سجدہ کرو رحمن کو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہوتا ہے؟‘‘

اللہ کو تو وہ جانتے تھے، اسم ’’اللہ‘‘ ان کے ہاں ہمیشہ سے چلا آ رہا تھا، لیکن ’’رحمن‘‘ سے ناواقف تھے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اللہ کی رحمت ہے اور ’’رحمن‘‘ میں وہ رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوتی ہے، جس میں جوش اور ہیجان ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سب سے پیارا نام رحمن ہے۔ آگے فرمایا:

{عَلَّمَ القُراٰن ؕ﴿۲﴾}

’’سکھلایا قرآن‘‘۔

سارے علوم اللہ ہی نے سکھائے ہیں، چاہے مادّی علوم ہوں چاہے روحانی علوم ہوں، لیکن تمام علوم میں چوٹی کا علم قرآن کا علم ہے جو اللہ کی رحمانیت کا مظہر اتم ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا:

{خَلَقَ الاِنسَان ۙ﴿۳﴾}

’’پیدا کیا انسان کو‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ہی تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔ جنوں کو بھی اسی نے پیدا کیا، فرشتوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ آسمان بنایا، زمین بنائی، پہاڑ بنائے، سورج، چاند، ستارے بنائے۔ کیا نہیں بنایا؟ لیکن جو کچھ اس نے بنایا ہے اس میں چوٹی کی مخلوق انسان ہے جو مسجودِ ملائک ہے، خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ آگے فرمایا:

{عَلَّمَہُ البَیَان ﴿۴﴾}

’’اسے بیان کی صلاحیت دی‘‘۔

تو کیا دیکھنے کی صلاحیت نہیں دی؟ سننے کی صلاحیت نہیں دی؟ ظاہر ہے انسان کو تمام صلاحیتیں اللہ تعالیٰ ہی نے عطا کی ہیں، لیکن انسان کی سب سے اونچی صلاحیت قوتِ بیان ہے۔ اسی لیے انسان کو حیوان ناطق کہتے ہیں۔ تو ان چار آیات میں چوٹی کی چار چیزیں بیان کر دی گئیں۔

 اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہ کہ جو سب سے اونچی صلاحیت ہے یعنی بیان، اس کو سب سے اونچے علم ’’قرآن‘‘ پر صرف کرو۔ قرآن کو بیان کرو، قرآن کو عام کرو، قرآن کو پھیلاؤ۔ یہ نتیجہ حضورﷺ نے ایک حدیث میں بیان کر دیا:

عَن عُثْمَان بْن عَفَّانؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ: ((خَیْرُکُمْ مَن تَعَلَّمَ الْقُرْآن وَعَلَّمَہٗ))

’’حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور اسے سکھائیں‘‘۔ خود قرآن پڑھیں اور دوسروں کو پڑھائیں۔ یہ قرآن کی اس نعمت کو عام کرنے کے لیے تشویق و ترغیب کا انتہائی خوبصورت انداز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سب سے پیارا نام ’’رحمن‘‘ اس نے جو علم انسان کو دیے اس میں چوٹی کا علم ’’قرآن‘‘ اس نے جو کچھ بنایا ہے اس میں چوٹی کی تخلیق ’’انسان‘‘ انسان کو جو صلاحیتیں دی ہیں ان میں چوٹی کی صلاحیت ’’بیان‘‘۔ تو جیسے ہم کہتے ہیں توپ سے مکھی نہیں ماری جاتی، توپیں کسی اور کام کے لیے بنتی ہیں، اسی طرح تم اس قوتِ بیان کو دنیاوی چیزوں کے لیے صرف نہ کرو۔ دنیا کی چیزوں کی اللہ کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ ساری دنیا میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں۔ اسی قوتِ بیان کے زور پر ایک شخص عوامی مقرر اور لیڈر بن جاتا ہے، کوئی ڈکٹیٹر بن جاتا ہے، ہٹلر بن جاتا ہے، بھٹو بن جاتا ہے۔ اسی قوتِ بیان سے ایک وکیل ایک ایک پیشی کے پانچ پانچ لاکھ روپے لے لیتا ہے۔ حالانکہ وہی قانون ان وکیلوں نے بھی پڑھ رکھا ہوتا ہے جو بے چارے جوتیاں پٹخارتے پھر رہے ہوتے ہیں اور انہیں کوئی اپنا وکیل نہیں کرتا۔ وہ زیادہ سے زیادہ سرٹیفکیٹ attest کر کے تھوڑے سے پیسے کما لیتے ہیں۔ وہی قانون اے کے بروہی اور ایس ایم ظفر نے پڑھا ہے اور اپنی قوتِ بیان کے بل بوتے پر ایک مقام حاصل کیا ہے۔ تو اِس قوتِ بیان کا اصل مصرف یہ ہے کہ اسے قرآن کے لیے استعمال کیا جائے۔

کَلَّاۤ اِنہَا تَذکِرَۃٌ

سورۃ الرحمن کی چار آیات کے بعد اب ملاحظہ کیجیے سورۂ عبس کی چھ آیات۔ فرمایا:

{کَلَّاۤ اِنہَا تَذکِرَۃٌ ﴿ۚ۱۱﴾ فَمَن شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ۘ۱۲﴾ فِی صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾ مَّرفُوعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾ بِاَیدِی سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾ کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾}

’’یوں نہیں! یہ قرآن تو ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ جو چاہے اس سے یاد دہانی حاصل کر لے۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو بہت پُر عظمت ہیں۔ بہت بلند مقام کے حامل، نہایت پاکیزہ ہیں۔ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو لائق تکریم اور پاک باز ہیں‘‘۔

پہلی دو آیات میں فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ، یہ قرآن تذکرہ ہے، یاد دہانی ہے۔ جو چاہے اس سے یاد دہانی حاصل کرے۔ یہ بہت اہم مضمون ہے۔ قرآن جس چیز کی طرف تمہیں بلا رہا ہے وہ تمہارے دل کے اندر موجود ہے۔ تم دنیا میں گم ہو گئے ہو اس لیے تمہیں پتا ہی نہیں کہ تمہارے پاس کتنا قیمتی ہیرا ہے۔ ہندی کا ایک بڑا پیارا دوہا ہے ؎

بھیکاؔ بھوکا کوئی نہیں، سب کی گدڑی لال

گرہ کھول جانے نہیں اس بدیے کنگال

یعنی ’’اے بھیکؔ (شاعر کا نام) بھوکا اور محروم کوئی انسان بھی نہیں ہے، ہر انسان کی گدڑی کے اندر لعل موجود ہے، لیکن جو گرہ لگی ہوئی ہے وہ کھولی نہیں جا سکتی، اس لیے کنگال بن گئے ہیں۔‘‘

پس تمہارے اندر تو سب کچھ ہے، لیکن ذہول ہے، توجہ نہیں ہے۔ یہ قرآن یاد دہانی ہے۔ قرآن حکیم کے لیے خود قرآن میں الذّکر، ذکریٰ اور تذکرہ جیسے الفاظ آئے ہیں۔ فرمایا:

{ فَذَکِّر بِالقُراٰن مَن یَّخَافُ وَعِیدِ ﴿٪۴۵﴾}

(قٓ) ’’پس آپ قرآن کے ذریعے اسے یاددہانی کرائیں جو میری تنبیہ سے ڈرے‘‘۔

ایسے مقامات پر تعلیم کے بجائے تذکیر کا لفظ آتا ہے۔

اور یہ قرآن کتنی عظمت والا ہے؟ یہ لوحِ محفوظ میں ان صحیفوں میں درج ہے جو بہت محترم، با عزت اور پُر عظمت ہیں، بہت بلند مقام پر ہیں، نہایت پاک ہیں، ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو بہت ہی لائق تکریم اور پاک باز ہیں۔ یعنی یہ قرآن لوحِ محفوظ میں عالی مرتبت فرشتوں کے ہاتھوں میں ہے۔

سورۃ الواقعہ کی آٹھ آیات

اس کے بعد سورۃ الواقعہ کی آٹھ آیات کا مطالعہ کر لیجیے:

{فَلَاۤ اُقسِمُ بِمَوٰقِعِ النجُومِ ﴿ۙ۷۵﴾ وَ اِنہٗ لَقَسَمٌ لَّو تَعلَمُون عَظِیمٌ ﴿ۙ۷۶﴾ اِنہٗ لَقُراٰن کَرِیمٌ ﴿ۙ۷۷﴾ فِی کِتٰبٍ مَّکنون ﴿ۙ۷۸﴾ لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا المُطَہَّرُون ﴿ؕ۷۹﴾ تَنزِیلٌ مِّن رَّبِّ العٰلَمِین ﴿۸۰﴾ اَفَبِہٰذَا الحَدِیثِ اَنتُم مُّدہِنون ﴿ۙ۸۱﴾ وَ تَجعَلُون رِزقَکُم اَنکُم تُکَذِّبُون ﴿۸۲﴾}

’’پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کے مقام کی، اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے، کہ یہ بڑی عزت والا قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت ہے، جسے نہایت پاک مخلوق (فرشتوں) کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ ربّ العالمین کا نازل کردہ ہے۔ پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو، اور اس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو؟‘‘

ان آیات کا آغاز ایک بہت بڑی قسم سے ہوا۔ فرمایا: ’’میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے ڈوبنے کے مقام کی۔ اور یہ قسم بہت بڑی ہے اگر تمہیں معلوم ہوتا‘‘۔ تمہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ کتنی بڑی قسم ہے۔ یہ تو وقت آئے گا تو پتا چلے گا۔ چنانچہ آج نزولِ قرآن کے چودہ سو سال بعد ہمارے علم میں آیا ہے کہ اس کائنات میں بلیک ہولز ہیں، جو ستاروں کے سکڑ کر ختم ہو جانے کے نشانات ہیں۔ گویا ستارے ڈوب رہے ہیں، ان کی موت واقع ہو رہی ہے۔ کائنات میں کہیں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کے اندر جو ویکیوم ہے اس میں کھینچنے کی اتنی طاقت ہے کہ جو ستارہ اس کے قریب سے گزر جائے اسے کھینچ کر اس قبر میں دفن کر دیتا ہے۔ یہ ہے وہ جگہ جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔ فرمایا اگر تم جانتے تو یہ بہت بڑی قسم ہے جو ہم نے کھائی ہے۔ اور یہ عظیم قسم اس بات پر کھائی جا رہی ہے کہ یقیناً یہ بہت با عزت قرآن ایک چھپی ہوئی محفوظ کتاب میں درج ہے، جسے کوئی چھو ہی نہیں سکتا، مگر نہایت پاک مخلوق یعنی فرشتے۔ یہ ربّ العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ لوحِ محفوظ سے اس کی تنزیل ہو رہی ہے محمدٌ رسول اللہﷺ پر۔ وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے جو یہ نازل ہو رہا ہے، یہ اللہ ربّ العالمین کی طرف سے ہے۔

 اس کے بعد ڈانٹ کا انداز ہے:

{اَفَبِہٰذَا الحَدِیثِ اَنتُم مُّدہِنون ﴿ۙ۸۱﴾}

’’پھر کیا اس کلام سے تم لاپرواہی برت رہے ہو؟‘‘

اور سہل انگاری کر رہے ہو؟ تم نے انگریزی پڑھ لی، دنیا کی دوسری زبانیں سیکھ لیں، لیکن اتنی عربی نہیں پڑھی کہ ہمارے کلام کو سمجھ سکو۔ ڈاکٹری پڑھ لی اور اس میں بیس سال لگا دیے۔ انجینئرنگ میں اٹھارہ سال لگا دیے، لیکن اتنا وقت نہ نکال سکے کہ عربی پڑھتے اور قرآن کو براہِ راست اپنے قلب کے اندر اتارتے؟

{وَ تَجعَلُون رِزقَکُم اَنکُم تُکَذِّبُون ﴿۸۲﴾}

’’اور اپنا حصہ تم نے بس یہی رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے پھرو؟‘‘

قرآن کے ساتھ تمہاری بے اعتنائی کا یہ طرزِ عمل اس کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اگر تم اسے اللہ کا کلام مانتے تو یہ بے اعتنائی اور یہ بے توجہی ہو سکتی تھی؟ قطعاً نہیں!

عظمتِ قرآن کے ضمن میں مَیں نے پانچ مقامات آپ کو گِنوائے ہیں، جن کے درمیان بڑی حسین ترتیب بن گئی ہے پہلے ایک آیت، پھر دو آیتیں، پھر چار آیتیں، پھر چھ آیتیں اور پھر آٹھ آیتیں۔ پہلی آیت میں اللہ کے کلام کی عظمت بیان ہوئی ہے جیسے کہ وہ ہے۔ دوسرے مقام پر قرآن کی عظمت اس کے افادے کے لحاظ سے بیان ہوئی ہے۔ تیسرے مقام میں اس کو عام کرنے کی ترغیب و تشویق ہے۔ چوتھے مقام میں کہا گیا ہے کہ یہ اصل میں تذکرہ اور یاد دہانی ہے، کوئی نئی شے نہیں ہے، تمہاری فطرت میں ہدایت موجود ہے، جسے وہاں سے یہ قرآن نکال کر تمہارے سامنے لاتا ہے۔ اور پھر پانچویں مقام پر فرمایا گیا کہ یہ کتابِ مکنون میں ثبت ہے، جہاں اسے کوئی چھو ہی نہیں سکتا سوائے فرشتوں کے جو نہایت پاک باز اور مطہر ہیں۔ اس آیت سے ضمنی طور پر یہ فقہی مسئلہ بھی نکالا گیا ہے کہ آپ قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتے اگر آپ با وضو نہ ہوں۔

{لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا المُطَہَّرُون ﴿ؕ۷۹﴾}

کا ایک تیسرا مطلب بھی ہے۔ دیکھئے، ایک ہے اِس قرآن کا گودا اور مغز، جبکہ ایک اس کا چھلکا ہے۔ متذکرہ بالا الفاظِ قرآنی سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ جن لوگوں کا اندر پاک نہیں ہو چکا، جن لوگوں کا تزکیۂ نفس نہیں ہو چکا، وہ اس کے چھلکے ہی کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، اس کے مغز تک اُن کی رسائی نہیں ہو گی، چاہے وہ کہنے کو مفسر بن جائیں، جلدیں کی جلدیں لکھ دیں۔ غلام احمد پرویز نے ’’مفہوم القرآن‘‘ لکھ دی، غلام احمد قادیانی آنجہانی کے بیٹے نے تفسیر کبیر بھی لکھی تفسیر صغیر بھی، لیکن قرآن کے مغز تک اِن حضرات کی رسائی نہیں ہوئی۔ مولانا روم نے یہ بات اپنے ایک شعر میں بیان کی ہے، اگرچہ انداز اچھا نہیں ہے، لیکن بہت گہری بات کہی ہے ؎

ماز قرآں مغزہا برداشتی

ماُستخواں پیشِ سگاں انداختیم

یعنی ہم نے قرآن سے اس کا مغز حاصل کر لیا ہے، ہڈی کا گودا تو ہم نے لے لیا ہے اور جو ہڈی تھی وہ کتوں کے آگے ڈال دی ہے۔ تو انسان قرآن کے مغز تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس کا باطن پاک نہ ہو۔