اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


تانیثیت:عورت کو عورت سمجھنے کی تحریک

کتابی سلسلہ "ادب سلسلہ” میں شائع شدہ طویل مضمون

تانیثیت:عورت کو عورت سمجھنے کی تحریک

از قلم

عظمیٰ فرمان

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

نسائیت کیا ہے؟

 نسائیت / تانیثیت/ فیمنزم کی متعدد تعریفیں متعین کی جا سکتی ہیں اور کی جا چکی ہیں۔ مثال کے طور پر انسائیکلو پیڈیا بریٹینکا کے مطابق

’’فیمنزم ایک سماجی تحریک ہے جو عورتوں کے مساوی حقوق کے لئے جد و جہد کرتی ہے۔‘‘ ایک لغت میں فیمنزم کی تعریف اس طرح درج ہے۔ ’’فیمنزم سیاسی، معاشی اور سماجی حوالے سے جنسی / صنفی (gender) مساوات کا نظریہ ہے‘‘

ایک اور تعریف اس طرح ہے کہ :۔

 ’’فیمنزم ایک نظریاتی وابستگی بھی ہے اور ایک سیاسی تحریک بھی جو عورتوں کے لئے انصاف کے حصول اور معاشرے سے جنسی / صنفی امتیازات کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے‘‘

یا یہ کہ :

 ’’فیمنزم عورتوں کے حقوق اور مفادات کے لئے کام کرنے والی تحریک ہے‘‘۔ نینسی کاٹ (Nancy Cott) کے خیال میں جنسی /صنفی مساوات پر یقین رکھنے اور عدم مساوات کے تصور پر قائم موجودہ نظام کو رد کر دینے کا نام فیمنزم ہے

اسی طرح ایک نقاد کا خیال ہے کہ نسائیت یا فیمنزم در اصل کوئی ایک تحریک یا نظریہ نہیں بلکہ کئی تحریکات اور نظریات کا مجموعہ ہے۔

“Feminism is a discourse that involves various movements, theories and philosophies which are concerned with issues of gender difference, advocate equality for women and campaign for women rights and interests.”

مندرجہ بالا تمام عبارتوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فیمنزم ایک فلسفۂ حیات اور انداز فکر کا نام بھی ہے اور ایک عملی تحریک بھی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے پیچھے نہ کوئی تنہا نظریہ یا فلسفہ موجود ہے اور نہ ہی اس میں باقاعدہ منظم جد و جہد کا وہ تصور نظر آتا ہے جو ’’تحریک‘‘ کی اصطلاح سے وابستہ ہے۔ اسی لئے ہر شخص ’’نسائیت‘‘یا فیمنزم کا ایک نجی تصور اپنے ذہن میں رکھتا ہے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر فیمنزم کی اصطلاح اس قدر وسیع یا با لفاظ دیگر اس قدر ڈھیلی ڈھالی ہے تو پھر وہ کون سی خصوصیات ہیں یا وہ کون سے رجحانات ہیں جن کی بنیاد پر کسی عمل یا تحریر یا شخص کو Feminist قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینا تب ہی ممکن ہے جب ہم ان تمام نظریات و خیالات میں کوئی مقام اتصال تلاش کر سکیں جو فیمنسٹ کہلاتے ہیں اور وہ نقطہ جہاں پر یہ اتصال ممکن ہے صرف ایک ہی ہے۔ یعنی :۔

 ’’عورتوں کے حقوق کا حصول اور سوسائٹی کیhierarchy میں منصفانہ تبدیلی‘‘

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ اس جد و جہد کے دو رخ ہیں۔

۱۔ فلسفیانہ یا نظریاتی

۲۔ عملی

فیمنزم کے عملی رخ کی بات ہو تی ہے تو مغرب میں رونما ہونے والی تحریک ذہن میں آتی ہے جس کا اثر اردو ادب سمیت دنیا بھر کے علوم اور فنون پر مرتب ہوا۔

مغرب میں فیمنزم کی اس تحریک کو عموماً نظریہ موج (wave concept) کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت نسائیت یا فیمنزم میں تین امواج یا waves نظر آتی ہیں۔ پہلی موج کا عرصہ انیسویں صدی عیسوی سے بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول تک ہے۔ اس عرصے میں عورتوں کی ملازمت کی یکساں اجرت، جائیداد اور ملکیت کے حقوق، بیوی کے حقوق اور ووٹ کا حق جیسے مسائل کے لئے عملی جد و جہد ہوئی۔

دوسری موج کی عملی صورت ۱۹۹۶ء سے ۱۹۹۸ء کے درمیان واضح ہوتی ہے۔ اس عرصے میں نجی اور گھریلو مسائل کو سیاسی مسائل قرار دیا گیا۔ کیرل ہانش نے The personal is political کا نعرہ بلند کیا اور عورتوں میں اس خیال کی ترویج و اشاعت کی گئی کہ ان کے نجی معاملات در اصل ایک سیاسی مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی دور میں ’’آزادیِ نسواں‘‘ کا تصور سامنے آیا۔ گھریلو کاموں، بچوں کی ولادت اور تربیت اور ضعیفوں کی خدمت جیسے کاموں کی قدر اور قیمت متعین کرنے کے سوالات اٹھائے گئے۔

۱۹۹۹ء کے بعد سے آج تک تیسری موج کا عہد تصور کیا جاتا ہے۔ اس عہد میں فیمنزم کی عملی تحریک کے بے شمار رخ ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔

یہ تو مغربی فیمنزم کا عملی رخ تھا لیکن یہ پہلو فیمنزم کے نظریاتی رخ سے پوری طرح جڑا ہوا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ فیمنزم کی عملی تحریک کے پیچھے ان فلسفیانہ نظریات اور مباحث کا بڑا حصہ ہے جو فیمنسٹ ادیبوں نے اپنی تصانیف میں پیش کیے۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ فیمنزم کے ارتقاء کا مطالعہ نظریاتی اور فکری مباحث کے پس منظر میں بھی کیا جائے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ مغرب سے شروع ہونے والی فیمنزم کی تحریک کی ابتدا تو اٹھارویں صدی میں ہو چکی تھی مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد اس تحریک نے خاص طور پر زور پکڑا اور عملی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ اس سلسلے کا پہلا اہم اظہاریہ۱۷۹۲ء میں شائع ہوا جسے Mary Wallstone Craft نے تحریر کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا۔

‘‘A vindication of The Rights of Women ’’

۱۸۴۵ء میں مارگریٹ فلر نے ‘‘Women in the 19th Century ’’ لکھی۔

تین سال بعد ۱۸۴۸ء میں مشہورSeneca Falls کنونشن میں عورتوں کے مساوی حقوق کا باقاعدہ مطالبہ کر دیا گیا۔ ۱۸۶۹ء میں John Staurt Mill کی مشہور کتاب "The Subjection of Women” شائع ہوئی جس کا ترجمہ افتخار شیروانی نے ’’عورتوں کی محکومیت‘‘ کے عنوان سے کیا ہے اس کے بعد آزادیِ نسواں کا تصور تیزی سے مقبول ہوا۔ ۱۹۲۰ء میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے بالآخر امریکہ میں عورت کو ووٹ دینے کا حق مل گیا تاہم اس کے بعد بھی مغربی معاشرے میں ملازمتوں میں عورتوں کی شمولیت محدود رہی۔ دوسری جنگ عظیم تک مغربی معاشرے میں عورت کا گھر سے تلاش معاش میں نکلنا ایک معیوب سی بات سمجھی جاتی تھی۔ بہ حالت مجبوری ملازمت تلاش کرنے والی عورتیں نچلے درجے کی نوکریوں پر کم اجرت پر رکھی جاتی تھیں۔ یہ سب برداشت کر لینے کے بعد بھی بے شمار دشواریاں اور سماجیو معاشرتی مسائل، ملازمت پیشہ عورتوں کی زندگی کو کٹھن بنانے اور عملی زندگی میں ان کی حوصلہ شکنی کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔

اس صورت حال میں ورجینیا وولف (Virginia Woolf) نے ایک طویل مضمون A Room of One’s Own (1929 تحریر کیا جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ۱۹۴۹ء میں فرانسیسی ادیبہ سائمن ڈی بووا کی کتاب The Second Sex سامنے آئی۔ یہ کتاب فیمنزم کا بے حد اہم سنگ میل سمجھی جاتی ہے۔ اسی کتاب میں نسائی وجودیت کی انقلاب انگیز بحث اٹھائی گئی تھی۔ سائمن ڈی بووانے عورت کے وجود سے متعلق کئی مباحث چھیڑے مثلاً یہ کہ ’’عورت کیا ہے‘‘، کیا عورت کا وجود قائم بالذات ہے یا اضافی؟ کیا صنف مخالف کی موجودگی سے ہی اس کے وجود کا تعین ممکن ہے؟ اور اگر تذکیر کے بغیر تانیث کا وجود نہیں تو پھر اس قاعدے کی رو سے تذکیر بھی اپنے وجود کے تعین کے لئے تانیث کی محتاج ہے۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ عورت ہی مرد کی نسبت سے پہچانی جاتی ہے؟ اور مرد کے لئے عورت کی نسبت سے پہچانا جانا تذلیل کی بات سمجھی جاتی ہے؟

اپنی دوسری کتاب Women: Myth & Reality میں سائمن ڈی بووا نے عورت اور مرد کے روایتی تصور کو رد کر دیا۔ اس کا خیال ہے کہ مرد کو اپنی مردانگی اور عورت کو اپنی نسوانیت جتانے یا ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے مرد اور عورت دونوں اپنی انسانیت ثابت کریں تو بہتر ہے کیوں کہ اس کے خیال میں ’’عورت پیدا نہیں ہوتی بن جاتی ہے‘‘ سائمن ڈی بووا کو سارتر کے سائے سے نکالنے اور اس کا علیحدہ وجود ثابت کرنے کے لئے بھی فیمنسٹ نقادوں کو طویل عرصہ جد و جہد کرنی پڑی بہر حال سائمن ڈی بووا کی تحریروں نے نسائیت کا وجودیت اور نفسیات سے جو رشتہ استوار کیا اسے بعد میں آنے والوں نے مزید مضبوط کیا۔

بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں کئی فیمنسٹ تحریریں سامنے آئیں۔ بیٹی فرائڈن (Betty Frieden) کی کتاب The Feminine Mystique ۱۹۶۳ء میں شائع ہوئی۔ اپنے عہد کی یہ بے حد مقبول مگر متنازعہ کتاب رہی۔ بیٹی فرائڈن نے صدیوں پرانے اس معاشرتی تصور پر ضرب لگائی کہ گھر اور بچوں کے ذریعہ عورت کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ایسے روایتی باطل تصورات کا شکار ہو کر عورت اپنی شناخت گم کر بیٹھی ہے۔

اس کے بعد کئی دیگر کتابیں جلد ہی منظر عام پر آئیں جنہوں نے نسائیت کی بحث کو آگے بڑھایا۔ مثال کے طور پر :

۱۔ Mary Ellman کی کتاب Thinking about Women (1968)

۲۔ Kate Millet کی Sexual Politics (1969)

۳۔ Judith Fetterly کیThe Resisting Reader (1977)

۴۔ Elaine Showalter کی A Literature of Their Own (1977)

ان مصنفین کے بعد وہ عہد شروع ہوتا ہے جسے Third Waveیا تیسری موج کہا جاتا ہے۔ یہ تینوں امواج ایک دوسرے کا تسلسل بھی ہیں اور بیک وقت ایک ساتھ ہی فیمنزم کے سمندر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ فیمنزم کی اس تیسری موج میں جو آج تک جاری ہے کئی نظریاتی مباحث سامنے آئے۔ اس عہد میں نسائیت / فیمنزم کے تضادات اور ابہامات پر گفتگو کی گئی۔ نسائی ادبیوں کی انفرادیت، تحلیل نفسی اور ردِ تشکیل کے مسائل پر بحث کی گئی اور نسائیت کا رشتہ دیگر علوم سے جوڑ دیا گیا۔

عالم گیریت کے اس عہد میں کوئی علم، فن یا نظریہ ایسا نہیں جس کا تعلق دیگر علوم و فنون سے استوار نہ ہو۔ فیمنزم بھی آج ایک دبستانِ فکر ہے جس کا اثر تمام شعبہ ہائے زندگی پر نظر آتا ہے۔ دوسری طرف دیگر علوم اور نظریات کے زیر اثر خود نسائیت / فیمنزم کی شاخوں میں تقسیم کئی حوالوں سے ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک بڑی تقسیم اس بحث کے نتیجے میں سامنے آئی کہ آیا عورت پیدا ہوتی ہے یا بنا دی جاتی ہے؟ اس حوالے سے آج کے فیمنسٹ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ جنسی/ صنفی تقسیم قدرتی نہیں بلکہ سماجی عمل ہے۔ معاشرے میں رائج دیرینہ تصورات اور رسومات انسانوں میں تذکیر و تانیث کا فرق پیدا کر دیتے ہیں۔ سیاست اور طاقت سے وابستگی اس تفریق کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور یوں عدم مساوات پر مبنی ایک تفریق معاشرے میں جگہ بنا لیتی ہے۔

اسی طرح جبر اور احساسِ جبر، مساوات اور عدم مساوات، محنت اور اس کی قدر و قیمت، عزت، انصاف، آزادی اور اس نوعیت کی دیگر کئی اصطلاحات ہیں جو بے انتہا وسیع مفہوم کی حامل

ہیں اور ان کے تعین میں اختلافات سامنے آنا ایک لازمی امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظریاتی اعتبار سے فیمنزم کی بے شمار ذیلی شاخیں وجود میں آ چکی ہیں۔ یہ سب شاخیں ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ضروری نہیں کہ آپس میں متصادم بھی ہوں۔ ذیل میں چند اہم شاخوں کا تعارف درج کیا جا رہا ہے۔

 

 

 

 

 

کنڈل فائل