اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


شکستہ پر ۔۔۔ بیگ احساس

مجموعے "دَخمہ” سے ایک طویل افسانہ

شکستہ پر

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیںِ……

 

اقتباس

 

دس برس بعد سمیر اور سشما کی ملاقات ہوئی تو دونوں نے شادی کا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی اور ایک روز چپکے سے شادی بھی کر لی۔ ان برسوں میں دور رہ کر دونوں کافی کچھ کھو چکے تھے۔ سشما نے جب اپنی ممی کو شادی کی بات بتائی تو اُنھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ فوراً گھر چھوڑ کر سمیر کے پاس چلی جائے۔ ساتھ ہی سمن کو بھی لے جائے۔ جس کی اولاد اسی کے ساتھ رہے تو بہتر ہے۔ سشما کے پاپا نے ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی کا رول ادا کیا۔
اور سشما سمیر کے گھر آ گئی۔ لیکن سمن نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔
’’میں سمجھاؤں گا اسے‘‘۔ پاپا نے کہا۔
سمیر کے گھر آ کر سشما کو ایک کھلی فضاء کا احساس ہوا۔ کتنے دنوں سے وہ گھٹ رہی تھی۔ زندگی اسے اس طرح واپس ملے گی، اس نے سوچا ہی نہ تھا۔ نہ یہ کہ وہ خود اپنی زندگی جیے گی۔
خواہشوں کے پرندوں نے ایک ساتھ زور لگایا اور جال سمیت اُڑنے لگے۔ خوابوں کی گڑیاں جنھیں اس نے دل کے کسی کونے میں پھینک دیا تھا۔ ایک ایک کر کے نکالیں۔ ان کی گرد صاف کر کے بڑے چاؤ سے سجانے لگی۔
کھانے کی میز پر پہلا نوالہ اپنے ہاتھ سے سمیر کو کھلانا اور اس کے ہاتھ سے خود پہلا لقمہ لینا۔۔۔ آفس جاتے وقت گال یا ہونٹ آگے بڑھا دینا۔۔۔
آفس پر دو تین فون۔۔۔ لنچ کیا کہ نہیں؟ جلد گھر آ جایئے۔ آتے ہوئے پزا ہٹ پر آرڈر دیتے آیئے۔
خوبصورت بیڈ۔ بے داغ چادر پر گلاب کی پتیاں بکھیر دینا۔ سوتے میں کوئی پتی گال یا جسم کے کسی حصے پر چپک جائے تو اسے ہونٹوں سے نکالنا۔
دونوں کا ایک سفید چادر اوڑھے برہنہ سونا۔ رات دیر گئے تک فیشن چینل اور گندی گندی فلمیں دیکھنا۔
صبح انگریزی فلموں کی ہیروئین کی طرح چادر میں جسم لپیٹے باتھ روم کے دروازے تک جانا اور ایک دم چادر چھوڑ کر باتھ روم میں گھس جانا۔
شاور کے نیچے اکٹھے نہانا۔
گریٹنگ کارڈ پر دستخط کی جگہ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں کے نشان ثبت کرنا۔ ویک اینڈ پر لمبی ڈرائیو پر جانا۔ موٹر سائیکل پر سمیر کے ساتھ اس طرح چمٹ کر بیٹھنا کہ درمیان سے ہوا بھی نہ گزر سکے۔ جسم کے سارے نشیب و فراز سمیر کی پشت میں مدغم کر دینا۔
کسی ریسورٹ میں جا کر واٹر گیمس کھیلنا، خوب بھیگنا اور ٹرانسپرنٹ ہو جانا۔
گھر میں جینز، شارٹس اور لنگریز پہن کر گھومنا، پابندی سے بیوٹی پارلر جانا، فیشل، پیڈی کیور، مینی کیور۔۔۔ اسٹیپ کٹنگ۔
ہفتہ بھر میں اس کی تازگی لوٹ آئی۔ وہ جل تھل ہو گئی۔

۲

ایک روز دروازے پر سشما کے پاپا کے ساتھ سمن کھڑی تھی۔
’’اب یہ یہیں رہے گی‘‘۔ پاپا نے کہا۔
سشما نے مارے خوشی کے اسے لپٹا لیا۔
’’پاپا سمن مان گئی؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’تم اپنی ممی کو جانتی ہونا۔۔۔ وہی کرتی ہیں جو چاہتی ہیں، سمن کے ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے‘‘۔
اب جو بھی ہو، سشما نے سوچا، وہ ممی سے جیت گئی۔ سمیر کمرے سے باہر آیا۔
’’اب یہ تمھارا گھر ہے‘‘۔ پاپا سمن سے کہہ رہے تھے۔ ’’یہ تمہارے ڈیڈی ہیں‘‘۔
اُنھوں نے سمیر کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ سمیر حیرت زدہ رہ گیا۔ یہ وہی لڑکی ہے جو برسوں پہلے سشما کی انگلی تھامے اس سے ملی تھی۔
’’یہ میری بیٹی سمن ہے۔۔۔ بیٹے وِش کرو‘‘۔
’’یہ سمن ہے‘‘۔ پاپا کہہ رہے تھے۔
’’ہیلو بیٹا‘‘۔ سمیر نے کہا۔
’’ہیلو انک۔۔۔‘‘ سمن کی زبان لڑ کھڑا گئی۔
’’آؤ۔۔۔ ہمارے پاس بیٹھو‘‘۔ سمیر نے محبت سے کہا۰
تھوڑی دیر بعد جب پاپا لوٹ رہے تھے تو سمن انھیں چھوڑنے دروازے تک آئی۔
’’پاپا‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔
’’میں آتا رہوں گا بیٹا۔ تم بھی جب جی چاہے آ سکتی ہو۔ کیوں سشما؟‘‘
’’ہاں۔ ہاں۔ کیوں نہیں‘‘۔ اس طرح سمن گھر آ گئی۔
سمن چپ چاپ سی رہتی۔ اکثر کالج کی کتابیں یا میگزین لے بیٹھتی۔ شام کے کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ اکثر کالج سے لوٹتے ہوئے بڑی ممی اور پاپا سے ملنے چلی جاتی۔ رات زیادہ ہو جاتی تو پاپا چھوڑ جاتے۔ سشما کو بہت بُرا لگتا۔ جب ممی پاپا نے تعلقات ختم کر دیے تو یہ کیوں ان کے پاس جاتی ہے؟ وہ اکثر سمیر سے اس کا ذکر کرتی اور بے بسی سے رونے لگتی۔ ممی نے مجھے ماں بننے بھی نہیں دیا۔ سمیر اسے دلاسہ دیتا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
چھٹی کا دن تھا۔ سب دیر سے جاگے۔ اطمینان سے ناشتہ کرنے لگے۔ سشما سمیر کو بتانے لگی کہ اس کی ممی نے کس طرح اس کی زندگی کو عذاب بنا دیا تھا۔ کم سنی میں شادی بھی انھیں کا فیصلہ تھا۔ علیحدگی اور طلاق کا فیصلہ بھی اُنھوں نے ہی کیا تھا۔ اور جب وہ گھر آ گئی تو ملازمہ بنا کر رکھ دیا تھا۔
’’ممی پلیز‘‘۔ سمن نے ٹوکا۔
’’کیا ہے؟‘‘
’’پلیز بڑی ممی اور پاپا کے بارے میں کچھ نہ کہیے، مجھے بُرا لگتا ہے‘‘۔
’’اور اُنھوں نے جو میری زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا تھا۔ اس کا کیا ہے؟‘‘
’’پتہ نہیں ممی کس نے کس کی زندگی کو جہنم بنایا ہے‘‘۔ وہ کھانا چھوڑ کر اُٹھ گئی۔
’’سمن!‘‘ سشما نے تیز لہجے میں کہا۔
سمیر نے اسے منع کیا اور خود اس کے کمرے میں گیا۔ سمن غصے سے لیٹی ہوئی تھی۔
’’بہت چاہتی ہو بڑی ممی کو۔۔۔‘‘
’’ہاں پاپا کو بھی‘‘۔
’’اور اپنی ممی کو۔۔۔؟‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’تم نے جواب نہیں دیا؟‘‘
’’وہ مجھے ممی جیسی لگتی ہی نہیں‘‘۔
’’اچھا میں تو ڈیڈی جیسا ہوں نا؟‘‘
’’نہیں۔ ڈیڈی جیسے تو پاپا ہیں‘‘۔
’’اور میں۔۔۔؟‘‘
’’آپ اچھے ہیں، بہت اچھے‘‘۔ وہ سمیر سے لپٹ گئی۔
دھیرے دھیرے وہ کھلنے لگی۔ وہ سمیر کو بے تکلفی سے ڈیڈی پکارنے لگی۔ سمیر اس کی پڑھائی میں مدد کرتا۔ آفس سے لوٹتے وقت بڑا سا چاکلیٹ یا برگر لے آتا۔ کبھی اس کے ساتھ بیٹھ کر سیریل دیکھتا، سمن بھی کئی باتیں سمیر سے شیئر کرنے لگی تھی۔ کبھی اس کے بازو پر، کبھی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتی اور کالج کے قصے سناتی۔ کبھی دونوں مل کر اونچی آواز میں کوئی نیا گیت گانے کی کوشش کرتے اور جب بول یاد نہ آتے تو گانا چھوڑ کر ہنسنے لگتے۔ سشما چائے اور پکوڑے تیار کرتی۔ بہت دنوں سے وہ بڑی ممی اور پاپا کے پاس بھی نہیں گئی تھی۔
اس صورت حال سے سشما بے حد خوش تھی۔ سشما کو خوف تھا کہ پتہ نہیں سمیر سمن کو قبول کرے گا بھی یا نہیں۔ لیکن اب سمن سشما سے زیادہ سمیر کی دوست تھی۔ دونوں نے ہر طرح سے اس کی دل جوئی کی۔ چند دنوں میں ہی سمن کے اندر کی ہنس مکھ، بے تکلف بے باک لڑکی باہر نکل آئی۔