اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


تفسیر جلالین، جلد ششم ۔۔۔ جلال الدین السیوطی اور جلال الدین المحلّی

تفسیری ادب کی ایک اہم عربی کتاب کا اردو ترجمہ

تفسیر جلالین( اردو)

جلد ششم، منزل ششم (صافات تا حجرات)

از قلم

جلال الدین السیوطی اور جلال الدین المحلّی

جمع و ترتیب: محمد عظیم الدین، اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

۳۹۔ سورة الزمر

سورة الزمر مکیۃ وھی خمس و سبعون ایۃ وثمانی رکوعات

سورة الزمر مکیۃ الا قل یا عبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسھم الایۃ فمدنیۃ وھی خمس وسبعون ایٰۃ۔

سورة زمر مکی ہے، مگر قُل یا عبادی الذین اسرفوا علیٰ انفسھم (الآیۃ) مدنی ہے، اور یہ پچھتر (۷۵) آیتیں ہیں۔

آیت نمبر ۱ تا ۹

ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمدﷺ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ہم کو خڈا کا مقرب بنا دیں قُربیٰ تقریباً معنی میں مصدر کے ہے جس دینی امر کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان (عملی) فیصلہ فرما دے گا، کہ مومنوں کو جنت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کرے گا، اس کی طرف ولد کی نسبت کرنے میں جھوٹے (اور) غیر اللہ کی عبادت کر کے ناشکرے کو اللہ راہ نہیں دکھاتا اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ اولاد ہی کا ہوتا، جیسا کہ (کفار) کہتے ہیں کہ اللہ کے اولاد ہے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا چن لیتا (یعنی) اس کو اولاد بنا لیتا، ان کے علاوہ جن کے بارے میں (کفار) کہتے ہیں (یعنی یہ کہ) فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور عزیر اور مسیح علیہما السلام، اللہ کے بیٹے ہیں، وہ تو پاک ہے یعنی اولاد رکھنے سے وہ پاک ہے وہ ایسا اللہ ہے جو واحد ہے اپنی مخلوق پر زبردست ہے اس نے زمین و آسمان کو حکمت سے پیدا کیا (بالحَقِّ) خلَقَ سے متعلق ہے وہ رات کو دن میں داخل کر دیتا ہے جس سے دن بڑا ہو جاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے تو رات بڑی ہو جاتی ہے اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ہر ایک اپنے محور پر وقت مقرر (یعنی) قیامت کے دن تک چلتا رہے گا یقین مانو وہی اپنے امر پر غالب ہے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے اور اپنے اولیاء کو بخشنے والا ہے اس نے تم لوگوں کو تن واحد سے یعنی آدم سے پیدا کیا پھر اسی سے اس نے ھواء کو اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لئے چوپایوں میں (یعنی) اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ، دنبے آٹھ جوڑے پیدا کئے، ہر ایک نر و مادہ کا جوڑا، جیسا کہ سورة انعام میں بیان کیا گیا ہے، وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے (یعنی اولاً) نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ تین تین تاریکیوں میں وہ پیٹ کی تاریکی اور رحم کی تاریکی اور جھلی کی تاریکی ہے یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی سلطنت ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو اس کی بندگی کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کی طرف کہاں بہک رہے ہو، اگر تم کفر کرو گے یاد رکھو اللہ تمہارا محتاج نہیں اور وہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا اگرچہ ان میں سے بعض سے اس (کفر) کا ارادہ کرے اور اگر تم اللہ کا شکر کرو گے کہ ایمان لے آؤ تو وہ اسے یعنی شکر کو تمہارے لئے پسند کرے گا (یرضَہُ) میں ھاء کے سکون اور ضمہ کے ساتھ مع اشباع کے اور کوئی شخص کسی شخص کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہو گا، سو وہ تمہارے سب اعمال بتا دے گا جو تم کرتے تھے، وہ یقیناً دلوں تک کی باتوں سے واقف ہے اور انسان کافر کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوب رجوع ہو کر عاجزی کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس سے نعمت یعنی انعام عطا فرما دیتا ہے تو اس سے پہلے جو دعاء کر رہا تھا اسے بالکل بھول جاتا ہے اور وہ اللہ ہے اور م۔ ا، مَن کی جگہ میں ہے اور خدا کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستہ یعنی دین اسلام سے بھٹک جائے (یا) بھٹکا دے (ی) کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ آپ فرما دیجئے کہ کفر کی بہار کچھ دن اور لوٹ لو، یعنی اپنی بقیہ زندگی (پھر آخر کار) تو دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے بھلا جو شخص راتوں کے اوقات وظیفہ طاعت میں مشغول ہو کر رکوع اور سجدے یعنی نماز میں گزارتا ہو حال یہ ہے کہ وہ آخرت یعنی اس کے عذاب سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت، جنت کی امید بھی کر رہا ہو (أمنْ) میں میم کی تخفیف کے ساتھ، اس شخص کے مانند ہو سکتا ہے کہ وہ کفر وغیرہ کے ذریعہ نافرمانی کرنے والا ہے اور ایک قرأت میں أم مَنْ ہے، اور أم بمعنی بَلْ اور ہمزہ ہے، آپ کہئے کہ (کہیں) علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟ یعنی برابر نہیں ہو سکتے، جیسا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں۔

 

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

 

اس سورت کا نام سورة زمر ہے اُمَرْ، زُمْرَۃٌ کی جمع ہے، اس کے معنی جماعت کے ہیں اس سورة کو سورة غُرَفْ بھی کہا جاتا ہے، یہ دونوں کلمے چونکہ اس سورت میں آئے ہیں اس لئے یہ اسم الکل باسم الجزء کے قبیل سے ہے، زُمر کا کلمہ وَسِیقَ الَّذِیْنَ کفروا اِلیٰ جھنَّمَ زُمرًا اور وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زُمَرًا میں استعمال ہوا ہے، اور غُرَف کا کلمہ لَھُم غُرف مِن فَوقِھَا غُرفٌ میں استعمال ہوا ہے، یہ پوری سورت مکی ہے سوائے تین آیتوں کے یا عِبَادِیَ الذینَ اسرفُوا علیٰ انفُسِھِم سے تین آیتوں تک مدنی ہیں، اور بعض نے یہاں سے سات آیات تک مدنی کہا ہے۔

قولہ: تَنزِیلُ الکتاب، ھُوَ مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے ای ھُوَ تنزیل الکتاب اور کہا گیا ہے کہ مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور کائنٌ جار مجرور سے متعلق ہو کر مبتداء کی خبر مقدر ہے ای تنزیل کائنٌ مِن اللہِ اور فرّاء اور کسائی نے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب بھی کہا ہے ای اتَّبِعُوا تَنذِیْلَ الکتاب یا اقرَءُ واتَنزِیْلَ الکتاب اور فرّاء نے اغراء کے طور پر بھی نصب جائز کہا ہے ای الزَمُوا تنزیل الکتاب۔ (فتح القدیر شوکانی)

قولہ: مُخلَصًا، اُعْبُد کی ضمیر سے حال ہے۔

قولہ: زُلفیٰ یہ یقربونَ کا مصدر بغیر لفظہٖ ہے، اصل میں یزلفون زلفیٰ ہے، انبتکم من الارض نباتاً کے مانند مصدر بغیر لفظہٖ ہے۔

قولہ: یُکوِّرُ، تکویرًا سے بمعنی اللَّفُّ، واللَّیُ بمعنی لپیٹنا یقال کار العمامۃَ علیٰ رآسَہٖ وکورھا دستار کو سر پر لپیٹا۔

قولہ: وان ارادہٗ من بعضھم یعنی اللہ اپنے بندے کے کفر سے راضی نہیں ہے اگرچہ کفر کا وجود اللہ کے ارادہ ہی سے ہے، اس لئے کہ ارادہ اور مشیئت خداوندی کے بغیر کسی شئ کا وجود نہیں ہو سکتا، اور ارادہ کے لئے رضا لازم نہیں ہے جیسے ناخواستہ کسی کام کے کرنے میں ارادہ تو ہوتا ہے مگر رضا مندی نہیں ہوتی۔

قولہ: یرضَہ ہا ضمیر کا مرجع شکر ہے، اگر تم اللہ کا شکر کرو گے تو وہ تمہارے شکر سے خوش ہو گا یَرضَہْ اصل میں یرضاہُ تھا، شرط کی جزاء ہونے کی وجہ سے الف ساقط ہو گیا یرضَہْ میں تین قرأتیں ہیں، ضمہ مع الاشباع یعنی (کھینچ کر) اور ضمہ بغیر الإشباع، اور ہا کے سکون کے ساتھ۔

قولہ: ای الشکرَ اس اضافہ کا مقصد یَرَضَہْ کی ضمیر مفعولی کا مرجع متعین کرنا ہے اور یرضَہٗ کا فاعل اللہ ہے۔

قولہ: خَوَّلَہٗ تخویل (تفعیل) سے ماضی واحد مذکر غائب، اس کو عطا کیا، مالک بنایا، منہُ کی ضمیر حق تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔

قولہ: تَرَکَ، نَسِیَ کی تفسیر ترک سے کر کے اشارہ کر دیا کہ یہاں نسیان کے لازم معنی مراد ہیں، ترک نسیان کے لئے لازم ہے، اور لازم معنی مراد لینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ نسیان پر مؤاخذہ نہیں رُفِعَ عن امتی الخطاء والنسیان حدیث مشہور ہے۔

قولہ: ما کان یدعوا الیہ من قبلُ، ما میں تین وجہ جائز ہیں (۱) مَا موصولہ بمعنی الذی اور الذی سے مراد ضُرٌّ (تکلیف) ای نسی الضُّر الَّذِی کان یدعوا الیٰ کشفہٖ یعنی ہمارے اس پر انعام کرنے اور اس کی تکلیف کو دور کرنے کے بعد وہ اس تکلف کو بھول گیا، جس کے دور کرنے کی دعا کرتا تھا (۲) ما بمعنی الذی، مراد باری تعالیٰ، ای نسی الَّذِی کان یتضرعُ الیہِ یعنی تکلیف دور ہونے کے بعد اس ذات کو بھول گیا جس سے تکلف دور کرنے کی دعا کر رہا تھا، مگر یہ ان کے نزدیک درست ہے جو ما کا اطلاق ذوی العقول کے لئے جائز سمجھتے ہیں۔ (۳) ما مصدریہ ہو ای نسی کونہٗ داعِیًا یعنی مصیبت کے دور ہونے کے بعد وہ یہ بھی بھول گیا کہ میں کسی وقت داعی تھا۔

قولہ: من قبل ای من قبل تخویل النعمۃ۔ قولہ: وھُوَ اللہُ مفسر علام نے اس عبارت سے اشارہ کر دیا کہ اس کے نزدیک دوسری صورت پسندیدہ ہے۔

قولہ: قانتٌ، قُنُوتٌ سے اسم فاعل وظیفۂ طاعت کو ادا کرنے والا (اعراب القرآن) خشوع خضوع کرنے والا، اطاعت کرنے والا۔ (لغات القرآن) قولہ: اٰناءٌ یہ انیٰ کی جمع ہے بمعنی اوقات۔

قولہ: امَّن، اَمْ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، اس کا مقابل محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے الکافرُ خیرٌ ام الذی ہو قانتٌ ہمزہ من موصولہ پر داخل ہے، میم کو میم میں ادغام کر دیا گیا ہے، یا اَمْ منقطع ہے، اس کی تقدیر بَل اور ہمزہ کے ساتھ ہو گی ای بَلْ اَمَن ہو قانتٌ کغَیرہٖ؟ اور تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس صورت میں ہمزہ استفہام انکاری ہو گا۔

قولہ: کمن ھُو عاصٍ بکفرہٖ وغیرہٖ سے شارح کا مقصد اَمْ من ہو قانتٌ کے معادل کو بیان کرنا ہے۔

تفسیر و تشریح

سورة زمر کے فضائل: امام نسائیؒ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت بیان کی ہے کہ آپﷺ جب روزہ رکھتے تو اس کثرت اور تسلسل کے ساتھ رکھتے کہ ہم یہ خیال کرتے کہ شاید اب آپ کبھی افطار نہ کریں گے، اور جب آپ افطار فرماتے تو اس قدر تسلسل کے ساتھ افطار فرماتے کہ ہم خیال کرتے کہ شاید اب آپ کبھی روزہ نہ رکھیں گے، اور آپﷺ روزانہ ہر شب کو سورة بنی اسرائیل اور سورة زمر تلاوت فرماتے، اور یہ امام ترمذی نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے کَانَ رسول اللہﷺ لایَنَامُ حتّیٰ یقرأ الزُمر و بنی اسرائیل یعنی آپﷺ اس وقت تک نہ سوتے جب تک کہ سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل تلاوت نہ فرما لیتے۔ (فتح القدیر شوکانی)

اعمال میں اخلاص کا مقام: فاعبد اللہ۔۔ ۔۔ ۔ الخالص یہاں دین کے معنی عبادت و طاعت کے ہیں جو تمام احکام دینیہ کو شامل ہیں، اس سے پہلے جملہ میں آنحضرتﷺ کو خطاب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت و طاعت خالص اسی کے لئے کریں، جس میں شرک یار یاء و نمود کا شائبہ بھی نہ ہو، ابن مردویہ نے یزید الرقاشی سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے آپﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ ہم اپنے اموال کو (راہ خدا میں) شہرت و ثنا کے لئے دیتے ہیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا لاَ! عرض کیا کہ ہم اگر اجر (ثواب) اور ذکر (نام آوری) کے لئے دیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا؟ تو آپﷺ نے فرمایا انَّ اللہ لا یقبل الآَ ما اخلص لہٗ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتے ہیں جو خالص اسی کے لئے ہو پھر آپ نے مذکورہ آیت تلاوت فرمائی۔ (فتح القدیر شوکانی)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں بعض اوقات کوئی صدقہ خیرات کرتا ہوں یا کسی پر احسان کرتا ہوں، جس میں میری نیت رضا جوئی کی بھی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف کریں گے، آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتے جس میں کسی غیر کو شریک کیا گیا ہو، پھر آپ نے آیت مذکورہ بطور استدلال کے تلاوت فرمائی الا للہ الدینُ الخالص (قرطبی)

اعمال کی مقبولیت کا دار و مدار اخلاص پر ہے نہ کہ تعداد پر: متعدد قرآنی آیات اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کا حساب گنتی سے نہیں بلکہ وزن سے ہو گا، حق تعالیٰ نے فرمایا ونَضَعُ الموازِیْنَ القِسطَ لِیَومِ القیامۃِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں حساب گنتی اور شمار سے نہیں بلکہ وزن و مقدار سے ہو گا اور وزن، اعمال میں اخلاص سے پیدا ہوتا ہے، صحابہ کرام جو کہ مسلمانوں کی صفت اول ہیں، ان میں سے اکثر کے اعمال و ریاضیات کی تعداد گنتی اور شمار کے اعتبار سے کچھ زیادہ نظر نہ آئے گی، مگر اس کے باوجود ان کا ادنیٰ عمل باقی امت کے بڑے بڑے اعمال سے فائق ہونے کی وجہ ان کا کمال ایمان اور کمال اخلاص ہی تو ہے۔

والذین اتخذوا من دونہ اولیاءَ (الآیۃ) اہل مکہ اور تقریباً تمام اہل عرب کا عقیدہ تو یہی تھا کہ تمام کائنات کا مالک اور زمین و آسمان کا خلاق اور تمام کاموں میں متصرف صرف خدا ہی کی ذات ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے کچھ دیوی دیوتاؤں اور فرشتوں کے بت تراش رکھے تھے، ان کی بندگی اور نذر و نیاز کرتے تھے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ ہی کو مالک کون و مکان اور خالق زمین و آسمان مانتے تھے تو پھر وہ ان بتوں کی بندگی کیوں کرتے تھے؟ ان سے جب یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ یہی جواب دیتے تھے جو قرآن نے یہاں نقل کیا ہے، ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفیٰ ہم ان بتوں کی بندگی محض اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہو جائے، یا اللہ کے حضور ہماری سفارش کر دیں، یہ حضرات اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ہم شرک کر رہے ہیں یا ہمارا یہ عمل شرک ہے آج بھی جو حضرات قبر پرستی اور مزار پرستی میں مبتلا ہیں اور رات دن قبروں پر نذر و نیاز کے علاوہ سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، اپنے ان اعمال کو شرک ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ فرمائے گا، اور اسی کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔

لو اراد اللہ۔۔ ۔۔ ما یَشَاءُ (الآیۃ) یہ ان لوگوں پر رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہتے تھے، ان کے اس باطل اور محال خیال کو بطور فرض محال کے فرمایا اگر اس کو اولاد بنانا ہی تھا تو لڑکیوں ہی کو کیوں اولاد بنایا؟ جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو والد و ولد کے نقص ہی سے پاک ہے لم یلد ولم یولد اس کی خاص صفت ہے۔ (ابن کثیر تلخیصا وترمیما)

یُکورُ اللیل علی النھار ’’تکویر‘‘ کے معنی ایک شئ کو دوسری پر ڈال کر چھپا دینے کے ہیں، قرآن کریم نے دن اور رات کے انقلاب کو یہاں عام نظروں کے اعتبار سے لفظ تکویر سے تعبیر کیا ہے رات آتی ہے تو گویا دن کی روشنی پر ایک پردہ ڈال دیا گیا، اور جب دن آتا ہے تو رات کی تاریکی پردہ میں چلی جاتی ہے۔

چاند اور سورج متحرک ہیں: کل یجری لاجل مسمی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمس و قمر، دونوں حرکت کرتے ہیں، فلکیات اور طبقات الارض کی مادی تحقیقات قرآن پاک یا کسی آسمانی کتاب کا موضوع بحث نہیں ہوتا، مگر اس معاملہ میں جتنی بات کہیں ضمناً آ جاتی ہے اس پر یقین رکھنا فرض ہے، فلاسفہ کی قدیم و جدید تحقیقات تو موم کی ناک ہیں روز بدلتی رہتی ہیں، قرآنی حقائق غیر متبدل ہیں آیت مذکور سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شمس و قمر دونوں حرکت میں ہیں، اس پر یقین رکھنا فرض ہے نہ اس میں شک کرنے کی گنجائش اور نہ تاویل کی ضرورت، اب رہا یہ معاملہ کہ ہمارے سامنے آفتاب کا طلوع و غروب زمین کی حرکت سے ہے یا خود ان سیاروں کی حرکت سے ہے قرآن نہ اس کا اثبات کرتا ہے اور نہ نفی، تجربہ سے جو کچھ معلوم ہوا اس کے ماننے میں حرج نہیں۔

خلقکُم۔۔ ۔۔ زوجھا (الآیۃ) ثم کے ذریعہ عطف، آدم و حواء (علیہم السلام) کے درمیان ترتیب تخلیق اور تاخیر کو بیان کرنے کے لئے ہے، معطوف علیہ مقدر ہے اور وہ نفس کی صفت ہے، تقدیر یہ ہے خلقکم من نفسٍ خلقھا واحدۃً ثُم جعل منھا زوجھا اور یہ بھی جائز ہے کہ واحدۃً کے معنی پر عطف ہو، ای من نفسٍ انفردت ثم جعل منھا زوجھا۔

سوال: حق تعالیٰ شانہ نے خلق کو جَعل سے کیوں تعبیر کیا؟

جواب: حضرت حواء کو آدمؑ کی پسلی سے پیدا فرمانا یہ قدرت خداوندی پر زیادہ دلالت کرنے والا ہے، اس لئے کہ یہ طریق تخلیق، اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ کے خلاف ہے بخلاف تخلیق آدم اور اس کی نسل کے کہ یہ عادت مستمرہ کے موافق ہے اس لئے کہ اشیاء کو عدم سے وجود میں لانا رحم مادر کے واسطہ سے ہونا یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عام عادت ہے، بخلاف حواء کے کہ ان کو آدمؑ کی پسلی سے پیدا کیا یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ نہیں ہے، اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے خلق کے بجائے جَعَلَ کا لفظ اختیار فرمایا۔

وانزل۔۔ ۔۔ ثمانیۃ ازواج اس کا عطف خلقکم پر ہے، یہاں تخلیق کو انزال سے تعبیر فرمایا ہے یا تو اس لئے کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تخلیق اولاً جنت میں ہوئی تھی، وہاں سے دنیا میں اتارا گیا اس صورت میں انزل حقیقی معنی میں ہو گا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجازاً انزل سے تعبیر کر دیا ہو اس لئے کہ مویشی گھاس چارہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اور گھاس چارہ پانی سے پیدا ہوتا ہے اور پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے تو گویا کہ مویشی آسمان سے نازل کردہ ہیں، اس میں نسبت سبب السبب کی طرف کر دی گئی، جس طرح کہ شاعر نے مندرجہ ذیل شعر میں سبب کی طرف نسبت کی ہے: ؎

اذا نزل السماءُ بِاَرْضِ قوم

رعیناہ وان کانوا غضابًا (فتح القدیر شوکانی)

شاعر نے نزل کی نسبت پانی کے بجائے پانی کے سبب یعنی بادل کی جانب کی ہے۔

وانزل لکم۔۔ ۔۔ ازواج یہ انہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے جن کا ذکر سورة انعام کی آیت ۱۴۳، ۱۴۴ میں گزرا ہے اور وہ بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے ہے جو نر و مادہ مل کر آٹھ ہو جاتے ہیں۔

ان تکفروا۔۔ ۔ عنکم مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے کفر و ایمان سے مستثنیٰ ہے کسی کے ایمان سے نہ اس کا کوئی فائدہ اور نہ کفر سے کچھ نقصان، صحیح مسلم کی ایک حدیث قدسی میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا، اے میرے بندو! اگر تمہارے اولین و آخرین اور تمہارے انسان اور جن سب کے سب انتہائی فسق و فجور میں مبتلا ہو جائیں تو میرے ملک و سلطنت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آتی۔ (ابن کثیر، معارف)

ولا یرضی لعبادہ الکفر، کفر اگرچہ انسا، اللہ کی مشیت ہی سے کرتا ہے، اس لئے کہ کوئی کام خدا کی مشیت اور ارادہ کے بغیر نہیں ہو سکتا، تاہم کفر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے، اس کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ اور ذریعہ شکر ہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا اور چیز ہے۔

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ: اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی اچھا یا برا کام یا کفر و ایمان اللہ جل شانہ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا، البتہ حق تعالیٰ کی رضا اور پسندیدگی صرف ایمان اور اچھے کاموں سے متعلق ہوتی ہے، شیخ الاسلام علامہ دینوری نے اپنی کتاب ’’الاصول والضوابط‘‘ میں تحریر فرمایا ہے:

مذھب اھل الحق الایمانُ بالقدرِ واثباتہٖ وانَّ جمیعَ الکائنات خیرھا وزشرّھُا بقضاء اللہ وقدرہ وھو مرید لَھَا کُلھا ویکرہ المعاصی مع أنہ تعالیٰ مُرید لھَا لحِکمۃٍ یعلمھُا جلَّ وعَلا۔ (روح المعانی، معارف)

’’اہل حق کا مذہب تقدیر پر ایمان لانا ہے اور یہ کہ تمام کائنات اچھی ہو یا بری سب اللہ تعالیٰ کے حکم و تقدیر سے وجود میں آتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کا تخلیق کا ارادہ بھی فرماتے ہیں، مگر وہ معاصی کو مکروہ اور ناپسند سمجھتا ہے اگرچہ اس کی تخلیق کا ارادہ کسی حکمت و مصلحت سے ہوتا ہے جس کو وہ خود ہی جانتا ہے‘‘ ۔

أمن ھُو قانتٌ اٰناء اللیل لفظ اَمَّن دو لفظوں سے مرکب ہے اَمْ حرف استفہام اور من اسم موصول سے، اس جملہ سے پہلے کفار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں اپنے کفر و فسق کے مزے اڑا لو، آخر کار تم جہنم کے ایندھن ہو و گے، اس کے بعد اس جملہ میں مومن مطیع کا بیان ہے، جس کو اَمَّن کے لفظ سے شروع کیا ہے، علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے پہلے ایک جملہ جو کہ اس جملہ کا معادل ہے محذوف ہے کہ کافر سے کہا جائے گا کہ تو اچھا ہے یا وہ مومن مطیع جس کا ذکر آگے آتا ہے

واذا مس۔۔ ۔۔ منیبًا (الآیۃ) جب اللہ تعالیٰ مصیبت زدہ انسان کی فریاد کو سن لیتے ہیں اور اس کی مصیبت کو دور کر دیتے ہیں تو مصیبت دور ہونے کے بعد اس ذات کو کہ جس سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کرتا تھا بھول جاتا ہے اور پھر اسی کفر و معصیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ کافر و مشرک ہے جس کا حال یہ ہے جو ابھی اوپر مذکور ہوا، اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی اور خوشحالی خوشی اور غمی میں رات کی گھڑیاں اللہ کے سامنے عاجزی اور فرمانبرداری کا اظہار کرتے ہوئے قومہ و قیام، رکوع و سجود میں گزارتا ہے، اور آخرت کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے، یعنی امید و بیم کی کیفیت سے سرشار ہے، جو اصل ایمان ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں اور یقیناً نہیں، خوف ورجاء کے بارے میں حضرت انسؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک شخص کے پاس عیادت کے لئے گئے مریض حالت سکرات میں تھا، آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تو خود کو کسی حالت میں پاتا ہے، اس نے عرض کیا میں اللہ سے امید رکھتا ہوں، اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرتا بھی ہوں، آپﷺ نے فرمایا اس موقع پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتیں ہوں تو اللہ اسے وہ چیز عطا فرماتا ہے جو وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے بچا لیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر الموت)

آیت نمبر ۱۰ تا ۲۱

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین کو خالص کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس قوم میں سے سب سے پہلا فرمانبردار بن جاؤں (آپ) کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں (آپ) کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ عبادت کو اسی کے لئے شرک سے خالص رکھتا ہوں تم اس کو چھوڑ کر جس کی چاہو بندگی کرو اس میں ان کے لئے تہدید (دھمکی) ہے، اور اس بات کا اعلان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کرتے (اور) آپ ان سے یہ (بھی) کہہ دیجئے کہ حقیقی زیاں کا روہ ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے خود کو جہنم میں ہمیشہ کے لئے ڈال کر اور ان حوروں کو حاصل نہ کر کے جو ان کے لئے جنت میں تیار کی گئی ہیں، اگر وہ ایمان لاتے یاد رکھو، کھلا نقصان یہی ہے کہ ان کے لئے ان کے اوپر سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے یہ وہی (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو یعنی مومنین کو ڈراتا ہے تاکہ اس سے ڈریں، اور اس وصف (ایمان) پر یا عِبَادِ فَاتَّقُونِ دلالت کر رہا ہے، اے میرے بندوں مجھ ہی سے ڈرو، اور جن لوگوں نے طاغوت یعنی بتوں کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف متوجہ رہے وہ جنت کی خوشخبری کے مستحق ہیں تو میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس میں سے اچھی بات کی اتباع کرتے ہیں اور اچھی بات وہ ہے جس میں فلاح ہے یہی ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے یہی لوگ عقل مند ہیں، بھلا جس شخص پر عذاب کی بات محقق ہو چکی یعنی لاَمَلاَنَّ جھَنَّمَ (الآیۃ) تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟ افَانتَ الخ جواب شرط ہے اور اس میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر رکھا گیا ہے اور ہمزہ انکار کے لئے ہے اور معنی (آیت) کے یہ ہیں کہ آپ اس کی ہدایت پر قادر نہیں ہیں کہ اس کو آگ سے چھڑا سکیں، ہاں جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی ان کے لئے بالاخانے ہیں جن کے اوپر بھی بالا خانے ہیں جو بنے بنائے تیار ہیں، (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یعنی فوقانی اور تحتانی بالا خانوں کے نیچے (نہریں جاری ہیں) یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے (وَعْدَ اللہِ) اپنے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں یعنی چشموں کی جگہ داخل کر دیتا ہے پھر اس کے ذریعہ مختلف قسم کی کھیتیاں اگائیں پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں پھر (اے مخاطب) تو اس کو سبزی کے بعد مثلاً زرد دیکھتا ہے پھر وہ اس کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے اس میں عقلمندوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اس کے خدا کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے کی وجہ سے۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: باَن تُطیعوہُ یہ تقویٰ کی تفسیر ہے۔ قولہ: للذین احسنوا فی ھٰذہ الدنیا جملہ ہو کر خبر مقدم ہے، اور حَسَنۃٌ مبتداء مؤخر ہے۔

قولہ: ارضُ اللہِ واسِعۃٌ مبتدا خبر ہیں۔

قولہ: فیہِ تَھْدِید لھُمْ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فاعبُدُوا امر تہدید یعنی دھمکی کے لئے ہے نہ کہ طلب فعل کے لئے۔

قولہ: لھُمْ من فوقِھِم ظُلَلٌ لھم خبر مقدم ہے من فوقھم حال ہے ظُلَلٌ مبتداء مؤخر ہے۔

قولہ: طباق ای قِطَعٌ کبار، بڑے بڑے ٹکڑے، آگ کے بڑے بڑے شعلوں پر ظُلَلٌ کا اطلاق تہکم کے طور پر ہے، ورنہ تو آگ کے شعلوں میں سایہ کا سوال ہی نہیں ہے ظُلَلٌ ظُلَّۃٌ کی جمع ہے بمعنی سائبان۔ قولہ: مِن تحتھم ظُلَلٌ۔

سوال: سائبان کا فوق ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر سائبان کا نیچے ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔

جواب: اس کی صورت یہ ہو گی اگر بالائی طبقہ کے لئے فرش ہو گا تو اس سے نیچے والے طبقہ کے لئے سائبان ہو گا، جیسے کثیر المنزلہ

عمارت میں درمیانی چھت ایک فریق کے لئے فرش ہوتی ہے تو دوسرے فریق کے لئے چھت ہوتی ہے۔

قولہ: ذٰلک تَخویفٌ ای ذکر احوال اھل النار تخویف المؤمنین، ذٰلک کا مرجع ذکر احوال اھل النار ہے۔

قولہ: الاوثان طاغوت کی چند تفاسیر میں سے یہ ایک ہے، بعض نے طاغوت سے شیطان مراد لیا ہے، بعض نے ہر وہ معبود مراد لیا ہے جس کی اللہ کے علاوہ بندگی کی گئی ہو۔

قولہ: اقیم فیہ الظاھر مقام المضمر، یعنی مَن فی النَّارِ اسم ضمیر کی جگہ میں ہے اور ایسا زیادتی شناعت کو بیان کرنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ ان کا ہل نار میں سے ہونا واضح ہو جائے، ورنہ افَانْتَ تُنقِذُہٗ کافی تھا، افَانتَ میں ہمزہ انکار کے لئے ہے افانتَ، فَمَن حَقَّ علیہِ کا جواب ہے، ہمزہ کا اعادہ کی تاکید کے لئے۔

قولہ: لَھُمْ غُرَفٌ من فوقھا عُرَف اہل جنت کے بارے میں یہ قول مقابلہ میں ہے اہل نار کے لئے اللہ تعالیٰ کے قول لَھُم من فوقھم ظُللٌ من النار ومن تحتھم ظُلَلٌ کے۔ قولہ: بفعلہ المقدر اس کی تقدیر ہے وَعَدَھُم اللہ وعداً، وعداً کا فعل ناصب وَعَدَ فعل محذوف ہے۔

تفسیر و تشریح

وارض اللہ واسعۃٌ اس سے پہلے جملے میں اعمال صالحہ کا حکم ہے، اس میں کوئی یہ عذر کر سکتا تھا کہ میں شہر یا علاقہ یا ملک میں رہتا ہوں، وہاں کے حالات دینی اعمال اور اسلامی شعار کی ادائیگی کے لئے سازگار نہیں، جس کی وجہ سے میں اعمال صالحہ نہیں کر سکتا، اس کا جواب اس جملہ میں دے دیا گیا کہ اگر کسی خاص ملک و شہر یا علاقہ میں رہتے ہوئے احکام شرعیہ کی پابندی مشکل نظر آئے تو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، کسی ایسے ملک یا علاقہ میں جا کر رہو جو اطاعت احکام الٰہیہ کے لئے ساز گار ہو، اس میں ایسی جگہ سے ہجرت کرنے کی ترغیب ہے۔

انما یوفی الصّٰبرُون (الآیۃ) ایمان وتقویٰ اور ہجرت کی راہ میں مشکلات ناگزیر اور شہوات و لذت نفس کی قربانی بھی لابدی ہے، جس کے لئے ضرورت ہے، اس لئے صابرین کی فضیلت بھی بیان کر دی گئی ہے، کہ ان کو ان کے صبر کے بدلے میں اس طرح پورا پورا اجر دیا جائے گا، کہ اسے حساب کے پیمانوں سے ناپنا ممکن نہیں ہو گا یعنی اس کا اجر غیر متناہی ہو گا، صبر کی یہ وہ عظیم فضیلت ہے جس کی ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے۔

حضرت قتادہؓ نے فرمایا کہ حضرت انسؓ نے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز میزان عدل قائم کی جائے گی، اہل صدقہ آئیں گے تو ان کے صدقات کو تول کر اس کے حساب سے پورا پورا اجر دلایا جائے گا، اسی طرح نماز حج وغیرہ عبادتوں کو تول کر حساب سے ان کا اجر پورا دے دیا جائے گا، پھر جب بلاء اور مصیبتوں پر صبر کرنے والے آئیں گے تو کوئی کَیْل اور وزن نہیں ہو گا، بلکہ بغیر حساب و اندازے کے ان کی طرف اجر و ثواب بہا دیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنّما یوفَی الصابرون اجرھم بغیر حساب حتی کہ وہ لوگ جن کی دنیوی زندگی عافیت میں گزری ہو گی تمنا کرنے لگیں گے کہ کاش ہمارے جسم دنیا میں قینچیوں کے ذریعہ کاٹے گئے ہوتے تو ہمیں بھی صبر کا ایسا ہی صلہ ملتا۔

حضرت امام مالکؒ  علیہ نے اس آیت میں ’’صابرین‘‘ سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جو دنیا کے مصائب اور آلام پر صبر کرنے والے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صابرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی سے اپنے نفس کو روکیں، مفسر قرطبی فرماتے ہیں کہ لفظ صابر جب بغیر کسی دوسرے لفظ کے بالا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ہوتا ہے جو اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھنے کی مشقت پر صبر کرے، اور مصیبت پر صبر کرنے والے کے لئے صابر علیٰ کذا بولا جاتا ہے یعنی فلاں مصیبت پر صبر کرنے والا، (واللہ اعلم بالصواب)

فسل کہ۔۔ ۔ یَنَابِیْعٌ، ینبُوعٌ کی جمع ہے، زمین سے ابلنے والے چشمے یعنی بارش کے ذریعہ پانی آسمان سے اترتا ہے پھر وہ زمین میں جذب ہو جاتا ہے، پھر چشموں کی شکل میں نکلتا ہے یاتالابوں اور نہروں اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ پانی کو محفوظ کرنے کا اس طرح نظام نہ کرتا تو انسان اس سے صرف بارش کے وقت یا اس کے متصل چند روز تک فائدہ اٹھا سکتا تھا، حالانکہ پانی پر انسانی زندگی کا دار و مدار ہے اور پانی ایسی ضرورت ہے کہ اس سے ایک دن بھی مستغنی نہیں رہ سکتا، اس لئے حق تعالیٰ نے اس نعمت کے صرف نازل کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس کے محفوظ کرنے کے عجیب عجیب سامان فرما دئیے، کچھ زمین کے گڑھوں، تالابوں، حوضوں میں محفوظ ہو جاتا ہے، اور بہت بڑا ذخیرہ برف کی شکل میں پہاڑوں پر لاد دیا جاتا ہے، جس سے اس کے سڑنے اور خراب ہونے کا بھی امکان نہیں رہتا پھر وہ برف آہستہ آہستہ پگھل کر پہاڑوں کی رکوں کے ذریعہ زمین میں اتر جاتا ہے، اور جا بجا ابلنے والے چشموں کی شکل میں ابلنے لگتا ہے، اور ندیوں کی شکل میں زمین پر بہنے لگتا ہے، اور زیر زمین ذخیرہ ہو جاتا ہے جس کو کنواں کھود کر اور دیگر طریقوں سے نکالا جاتا ہے۔ یعنی اس پانی سے جو ایک ہوتا ہے، انواع و اقسام کی چیزیں پیدا فرماتا ہے جس کا رنگ، ذائقہ، خوشبو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، یہ بھی خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے عظیم نشانی ہے پھر وہ کھتیاں شادابی اور تر و تازگی کے بعد سوکھ کر زرد ہوتی ہیں، اور شکست و ریخت کا شکار ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں۔

انَّ فی ذلک لذکری۔۔ الالبابِ۔ یعنی اہل دانش اس سے سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا کی مثال بھی اسی طرح ہے وہ بھی بہت جلد زوال و فنا سے ہمکنار ہو جائے گی، اس کی رونق و بہجت، اس کی شادابی اور زینت اور اس کی لذتیں اور آسائشیں عارضی اور وقتی ہیں، جن سے انسان کو دل نہیں لگانا چاہیے، بلکہ اس موت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے جس کے بعد کی زندگی دائمی اور لافانی ہے۔

آیت نمبر ۲۲ تا ۳۱

ترجمہ: بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہو سکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے ان لوگوں کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں (کانپنے لگتے ہیں) جب اس کی وعید ذکر کی جاتی ہے، جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں آخر کار ان کے جسم اور سل اس کے وعدہ کے ذکر کے وقت نرم (مطمئن) ہو جاتے ہیں یہ کتاب اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی ہادی نہیں بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کو بدترین عذاب کے لئے (سپر) ڈھال بنائے گا، یعنی شدید ترین عذاب کے لئے اس طریقہ پر کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں باندھ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے، جو نار جہنم سے جنت میں داخل ہونے کی وجہ سے محفوظ رہا؟ ظالموں یعنی کفار مکہ سے کہا جائے گا، اپنے کئے کا (مزا) یعنی اس کی سزا چکھو عذاب آنے کے بارے میں ان سے پہلے والوں نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا یعنی ایسی جہت سے آیا کہ ان کے دل میں وہم و گمان بھی نہیں تھا سو اللہ نے ان کو دنیوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا عذاب چکھا دیا وہ مسخ اور قتل وغیرہ ہے اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ تکذیب کرنے والے اس کے عذاب کو سمجھ جاتے تو تکذیب نہ کرتے اور یقیناً ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں، حال یہ کہ قرآن عربی ہے یہ حال مؤکدہ ہے اس میں کسی قسم کی کجی التباس و اختلاف نہیں تاکہ یہ لوگ کفر سے بچیں اللہ تعالیٰ نے مشرک اور موحد جی ایک مثال بیان فرمائی (وہ یہ کہ) ایک شخص (غلام) ہے رجلاً، مثلاً سے بدل ہے جس میں بد اخلاق، جھگڑالو قسم کے چند لوگ شریک ہیں اور دوسرا وہ شخص (غلام) ہے جو خالص ایک ہی شخص کا (غلام) ہے (تو) کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہے؟ مثلاً تمیز ہے یعنی پوری جماعت کا غلام اور ایک شخص کا غلام برابر نہیں ہو سکتے، اس لئے کہ اول سے جب اس کا ہر مالک ایک ہی وقت میں خدمت طلب کرے گا، تو وہ (غلام) حیران رہ جائے گا، کہ ان میں سے کس کی خدمت کرے یہ مثال مشرک کی ہے، اور دوسری مثال موحد کی ہے اللہ وحدہ کے لئے سب تعریفیں ہیں بات یہ ہے کہ اہل مکہ میں سے اکثر لوگ اس عذاب کو جانتے ہی نہیں ہیں جس کی طرف وہ جا رہے ہیں (اسی عدم علم) کی وجہ سے شرک کر بیٹھتے ہیں یقیناً آپ کو بھی موت آئے گی اور وہ بھی مرنے والے ہیں (یہ آپﷺ کو خطاب ہے) لہٰذا (کسی کی) موت پر خوشی کی کوئی بات نہیں، یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کہ (اہل مکہ) آپﷺ کی موت کا انتظار کرنے لگے، پھر تم یقیناً سب کے سب اے لوگو! آپس میں حقوق کے بارے میں قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

ربط آیات: قولہ: افمن شرح اللہ صدرہٗ للإسلامِ یہ کلام مستانف ہے، ما قبل میں مذکور فی ذٰلک الذِکریٰ لاُولِی الاَلباب کے لئے بمنزلہ علت کے ہے یعنی ذکریٰ کو اولی الالباب کے ساتھ خاص کرنے کی علت کے قائم مقام ہے، مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسنے کے بعد پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ملہ سے کیسے کیسے عجیب و غریب تغیرات ظاہر فرماتے ہیں، ان کو دیکھ کر عقلمندوں ہی کو اسلام کے لئے شرح صدر ہوتا ہے اور یہی شرح صدر عقلمندوں کے لئے قبول ذکر کا سبب ہوتا ہے (اعراب القرآن ترمیماً) ہمزہ استفہام انکاری ہے اور فاء عاطفہ ہے معطوف مقدر ہے، ای أکُلُّ النَّاسِ سَواء، من موصولہ ہے اس کے بعد پورا جملہ صلہ ہے، موصول اپنے صلہ سے مل کر مبتداء اس کی خبر محذوف ہے، جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر فرما دیا ہے کمَن طُبِعَ عَلیٰ قلبہٖ اور اس حذف خبر پر فَوَیلٌ للقَاسِیَۃ دلالت کر رہا ہے، اور بعض حضرات نے من کو شرطیہ بھی کہا ہے اور بعد والا جملہ اس کی جزاء ہے۔

قولہ: عَنْ ذکر قُبُولِ ال قرآن اس عبارت سے علامہ محلی کا مقصد دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے اول یہ کہ من بمعنی عن ہے، اور یہ کہ کلام میں مضاف محذوف ہے عن ذکر اللہ ای عن قبول ذکر اللہ اور یہ بھی صحیح ہے کہ مِنْ اپنے باب پر ہو اور تعلیل کے لئے ہو ای قَسَتْ قُلُوْبُھُمْ من اجل ذکر اللہ لفَسَاد قلوبھم وخسرانھِا۔

قولہ: مَثَانِی یہ مَثْنیٰ کی جمع ہے مگر یہ مفرد کی بھی صفت واقع ہو سکتا ہے، جیسا کہ یہاں کتاب کی صفت واقع ہے، کتاب گو مفرد ہے مگر بہت سی تفاصیل کو جامع ہونے کی وجہ سے ایک مجموعہ کا نام ہے، لہٰذا اس کی صفت جمع لائی جا سکتی ہے، اس کی نظرہ عرب کا یہ قول ہے الانسانُ عُرُوقٌ وعِظامٌ واعصابٌ۔ قولہ: وغیرھما کالقصص والاحکام۔

قولہ: تقشعرُّ منہ عند ذکر وعیدہٖ شارح نے اشارہ کر دیا کہ من بمعنی عِنْدَ ہے تقشَعِرُّ ای ترتعدُ وتضطربُ (وبالفارسیۃ) لرزیدن، کانپنا، اس کا مصدر اقشعرار ہے (بالفارسیۃ) موئے برتن خاستین یقال اقشَعَرَّ الشعر ای قام وانتصب من فزعٍ او بردٍ خوف یا سردی کی وجہ سے رونگٹے کھڑے ہونا (لغات القرآن ترمیما وتلخیصاً) زمخشری نے کہا ہے کہ یہ در اصل القَسَعُ ہے، خشک شدہ چمڑا، اس کو رباعی بنانے کے لئے اس کے آخر میں راء زائد کر دی تاکہ زیادتی معنی پر دلالت کرے۔ (لغات القرآن)

قولہ: الیٰ ذکر اللہ ای عند ذکر وَعْدِہٖ اس میں اشارہ ہے کہ الیٰ بمعنی عند ہے۔

قولہ: ذٰلک ای الکتاب الموصوف بتلک الصفات المذکورۃ۔

قولہ: ھُدَی اللہ ای سببٌ فی الھُدیٰ یا مبالغہ کے طور پر زیدٌ عدلٌ کے قبیل سے ہے یعنی یہ کتاب اس قدر سبب ہدایت ہے گویا کہ وہ خود ہی ہدایت ہے۔

قولہ: افَمَنْ یتَّقِی ویلقیٰ بوجھہٖ سوءَ العذاب ایک نسخہ میں یَلْقیٰ کے بجائے یَقِی ہے، مَنْ موصولہ اپنے صلہ سے مل کر جملہ ہو کر مبتداء اس کی خبر محذوف ہے، جس کو علامہ محلی نے کَمْن اَمِنَ منہُ کہہ کر ظاہر کر دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے چہرے کو آگ کے لئے سپر (ڈھال) بنائے، کیا وہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے، جو آگ سے مامون و محفوظ ہو۔

قولہ: قِیلَ للظّٰلِمِیْنَ یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا ہے، اس کا عطف یتقی پر ہے، للظّٰلِمِینَ اسم ظاہر کو اسم ضمیر کی جگہ ان کی صفت ظلم کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، ورنہ تو وقِیْلَ لَھُمْ کافی تھا۔

قولہ: ای کفار مکۃ کے بجائے مطلقاً کفار کہتے تو زیادہ مناسب ہوتا، اس لئے کہ یہ قول کفار مکہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

قولہ: ای جزاءَہٗ اس میں اشارہ ہے مضاف محذوف ہے، ای ذوقوا جزاءَ ما کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ۔ قولہ: لَوْ کانوا یعلَمُونَ، لَوْ شرطیہ ہے کانوا فعل ناقص اس کے اندر ضمیر وہ اسم، یَعلَمونَ جملہ ہو کر کَانَ کی خبر کان اسم و خبر سے مل کر شرط، جواب شرط محذوف جس کو مفسر نے ما کذبوا نکال کر ظاہر کر دیا، اور عذَابَھَا مقدر مان کر اشارہ کر دیا کہ یعلمونَ کا مفعول محذوف ہے۔

قولہ: وَلَقَدْ ضَرَبْنَا، لَقَدْ میں لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے اور ضَرَبْنَا بمعنی بَیَّنَّاواَوْ ضَحْنَا ہے۔

قولہ: قرآنًا عربیًّا، ھٰذا القرآن کے لئے حال مؤکدہ ہے۔

قولہ: مُتَشَاکِسُوْنَ اسم فاعل جمع مذکر غائب، جھگڑالو شَکُسَ یشکُسُ (ک) شکاسۃً بدخلق ہونا، قال زمخشریؒ التشاکُس والتَّشَاخُسْ ای الاختلاف۔

قولہ: ھل یستویان، مثلاً تمیزٌ، مثلاً تمیز ہے جو فاعل سے منقول ہے تقدیر عبارت یہ ہے ای لا یستوی مثلھما وصِفَتھُما۔

قولہ: میتٌ فرّا نے کہا ہے یاء کی تشدید کے ساتھ وہ شخص جو ابھی مرانہ ہو اور عنقریب مرنے والا ہو اور مَیْتٌ (ی) کی تخفیف کے ساتھ مردہ، بعض حضرات نے کہا ہے کہ دونوں کے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔

تفسیر و تشریح

افمن شرح۔۔ ۔۔ للاسلام (الآیۃ) شرحٌ کے لغوی معنی کھولنے اور پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں، شرح صدر کا مطلب ہے وسعت قلب یعنی قلب میں قبول حق کی استعداد و صلاحیت کا پیدا ہو جانا کیا وہ شخص کہ جس میں قبول حق اور کار خیر پر عمل کرنے کی استعداد و صلاحیت پیدا ہو گئی، اس جیسا ہو سکتا ہے جس کا دل اسلام کے لئے سخت اور سینہ تنگ ہو، اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو، شرح صدر کے بالمقابل ضیق قلب ہے، جیسا کہ اسی آیت میں قاسیۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب یہ آیت افَمَن شرح اللہ صدرَہٗ تلاوت فرمائی تو ہم نے آپ سے دریافت کیا کہ شرح صدر کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے فرمایا جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا قلب وسیع ہو جاتا ہے، جس سے احکام الٰہیہ کا سمجھنا اور عمل کرنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے ہم نے دریافت کیا، یا رسول اللہ اس (شرح صدر) کی علامت کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: الإنابۃُ الیٰ دار الخلود والتجا فی عن دار الغرور والتأھبُ للموت قبل نزول الموت۔ (رواہ الحاکم، فی المستدرک والبیھقی فی شعب الایمان، مظھری) ’’ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف راغب اور مائل ہونا اور دھوکے کے گھر یعنی دنیا کے (لذائذ اور زینت) سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا‘‘ ۔

افمن شرح اللہ صدرہٗ (الآیۃ) اس آیت کو حرف استفہام سے شروع فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کیا ایسا شخص جس کا دل اسلام کے لئے کھول دیا گیا ہو اور وہ اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے نور پر ہو (یعنی اس کی روشنی میں سب کام کرتا ہو) اور وہ آدمی جو تنگ دل اور سخت دل ہو کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ اس کے بالمقابل سخت دل کا ذکر اگلی آیت میں ویل سے کیا گیا ہے فویلٌ للقٰسِیَۃِ قُلُوبُھُمْ، قاسیۃٌ، قساوۃٌ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں سخت دل ہونا، جس کو کسی پر رحم نہ آئے اور جو اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔ (معارف)

اللہ نزَّل۔۔ ۔۔ متشابھًِا (الآیۃ) اس سے پہلی آیت میں اللہ کے مقبول بندوں کی کیفیت میں بیان کیا گیا تھا کہ یستمعون القولَ فیتَّبِعُوْنَ احسنَہٗ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ پورا قرآن ہی احسن الحدیث ہے، لغت میں حدیث اس کلام یا قصہ کو کہتے ہیں جس کو بیان کیا جاتا ہے، قرآن کو احسن الحدیث کہنے کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو کچھ کہتا بولتا ہے اس سب میں قرآن احسن الکلام ہے، یہ مطلب نہیں کہ قرآن کا کچھ حصہ احسن اور کچھ غیر احسن ہے، جیسا کہ یتبعوْنَ احسنَہٗ سے شبہ ہوتا ہے، آگے قرآن کی چند صفات ذکر فرمائی ہیں: (۱) پہلی صفت متشابھًا ہے، متشابہ سے یہاں مراد متماثل ہے، یعنی مضامین قران ایک دوسرے سے مربوط و مماثل ہیں کہ ایک آیت کی تصدیق و تشریح دوسری آیت سے ہو جاتی ہے، اس کلام میں تضاد و تعارض کا نام نہیں ہے (۲) دوسری صفت مثانی ہے جو مثنیٰ کی جمع ہے، جس کے معنی مکرر کے ہیں یعنی وعد، وعید بعض مضامین کو ذہن میں مستحضر کرنے کے لئے بار بار دہرایا جاتا ہے (۳) تیسری صفت۔

تقشعر منہ۔۔ ۔۔ ربھم (الآیۃ) یعنی اللہ کی عظمت سے متأثر ہو کر ایسے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے (۴) چوتھی صفت ثُمَّ تلینُ جُلودھم (الآیۃ) یعنی تلاوت قرآن کا کبھی اثر نہ ہوتا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کبھی مغفرت اور رحمت خداوندی کی آیات سن کر یہ حال ہوتا ہے کہ بدن اور قلب سب اللہ کی یاد میں نرم ہو جاتے ہیں۔ (قرطبی، معارف)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس بندے کے بدن پر اللہ کے خوف سے بال کھڑے ہو جائیں تو اللہ اس کے بدن کو آگ پر حرام کر دیتے ہیں۔ (قرطبی)

جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاتے ہیں، حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، اور ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ وہ مد ہوش اور حواس باختہ ہو جائیں اور عقل و ہوش باقی نہ رہے کیونکہ یہ بدعتیوں کا طریقہ ہے، اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)

افمن یَّتَّقِی بوجھہٖ اس میں جہنم کی سخت ہولناکی کا بیان ہے، حضرت ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کافروں کو دست و پابستہ جہنم کی طرف لے جائے گے اور اس میں پھینک دیں گے، اور سب سے پہلے آگ اس کے چہرے کو مس کرے گی، انسان کی عادت دنیا میں یہ ہے کہ اگر کوئی تکلیف کی چیز چہرے کے سامنے آ جائے تو اپنے ہاتھوں سے اسے دفع کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر خدا کی پناہ، جہنمیوں کو ہاتھوں سے مدافعت بھی نصیب نہ ہو گی، اس لئے کہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، ان پر جو عذاب آئے گا وہ براہ راست چہروں پر پڑے گا، وہ اگر مدافعت بھی کرنا چاہیں گے تو چہروں ہی کو آگے کرنا ہو گا۔ (قرطبی، معارف)

ثم انکم۔۔ ۔۔ تختصمون حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ انکُمْ میں مومن اور کافر اور مسلمان، ظالم اور مظلوم سب داخل ہیں، یہ سب اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے، اور اللہ تعالیٰ ظالم سے مظلوم کا حق دلوائیں گے، اور حقوق کی ادائیگی کی صورت وہ ہو گی جو صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے آئی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ کسی کا حق ہے اس کو چاہیے کہ دنیا ہی میں اس کو معاف کرا کر فارغ ہو جائے، اس لئے کہ آخرت میں درہم و دینار تو ہوں گے نہیں، اگر ظالم کے پاس کچھ اعمال صالحہ ہوں گے، تو بمقدار ظلم یہ اعمال اس سے لے کر مظلوم کو دے دیئے جائیں گے، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔

اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک روز صحابہ کرامؓ سے سوال فرمایا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں جس کے پاس نہ کوئی نقد رقم ہو اور نہ ضروریات کا سامان ہو، آپ کے فرمایا: اصلی اور حقیقی مفلس میری امت میں وہ شخص ہے جو قیامت میں بہت سے نیک اعمال، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ لے کر آئے گا، مگر اس کا حال یہ ہو گا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تمہت لگائی ہو گی، کسی کا مال ناجائز طور پر کھایا ہو گا یا کسی کو قتل کیا ہو گا، کسی کو مار پیٹ سے ستایا ہو گا، یہ سب مظلوم اللہ کے سامنے اپنے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے اور اس ظالم کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی، پھر جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور حقوق باقی رہ جائیں گے تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

ظالم کے تمام نیک اعمال حقوق کے عوض دے دئیے جائیں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا: تفسیر مظہری میں مذکور روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالموں کے نیک اعمال دینے کا جو ذکر آیا ہے اس کی مراد ایمان کے علاوہ دیگر اعمال ہیں، اس لئے کہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں کفر نہیں ہیں، اور عملی گناہ کی سزا محدود ہو گی، بخلاف ایمان کے کہ وہ غیر محدود عمل ہے اس کی جزاء بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے، اگرچہ وہ ابتداءً کچھ سزا بھگتنے کے بعد ہو۔

آیت نمبر ۳۲ تا ۴۱

ترجمہ: اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبیﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کے لئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے اسوأ السَّیّیُ اور احسن الحَسَنُ کے معنی میں ہیں (یعنی دونوں اسم تفصیل صفت کے معنی میں ہیں) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے یعنی محمدﷺ کے لئے کافی نہیں ہے؟ ہاں ضرور کافی ہے اور لوگ آپ کو غیر اللہ یعنی بتوں سے ڈرا رہے ہیں، اس میں آپﷺ کو خطاب ہے، یہ کہ وہ بت آپ کو ہلاک کر دیں گے یا پاگل بنا دیں گے اور اللہ جس کو گمراہ کر دے اس کی کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں اور جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا نہیں؟ ہاں کیوں نہیں؟ اور قسم ہے اگر آپ ان سے معلوم کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ لئن میں لام قسم کا ہے تو وہ یقیناً یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے (پیدا کئے ہیں) آپ ان سے کہئے اچھا یہ تو بتاؤ کہ جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو یعنی بتوں کی اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہچانا چاہے تو کیا اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ نہیں یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ اور ایک قرأت میں دونوں میں اضافت کے ساتھ ہے (یعنی کاشفات اور ممسکات) میں آپ کہہ دیں کہ اللہ میرے لئے کافر ہے توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں (یعنی) بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے، اے میری قوم تم اپنی جگہ یعنی اپنے طریقہ پر عمل کئے جاؤ میں بھی اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہوں، سو عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آنے والا ہے مَنْ موصولہ تعلمون کا مفعول ہے اور کس پر دائمی عذاب نازل ہو گا؟ (اور) وہ دوزخ کا عذاب ہے، اور بلا شبہ اللہ نے ان کو بدر میں ذلیل کر دیا، آپ پر ہم نے حق کے ساتھ لوگوں کے لئے یہ کتاب نازل فرمائی ہے بالحق، اَنزَلَ کے متعلق ہے، پس جو شخص راہ راست پر آ جائے تو اس کے ہدایت پر آنے کا فائدہ اسی کے لئے ہے اور جو شخص گمراہ ہو جائے تو اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں کہ ان کو زبردستی ہدایت پر لے آئیں۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: فَمَنْ اظلَمُ؟ ای لا احَدَ اس تفسیر کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ فمن اظلَمُ میں استفہام انکاری بمعنی نفی ہے۔

قولہ: کذّبَ بالصدقِ مفسرؒ  نے صدق سے قرآن مراد لیا ہے اور قرآن کو جو کہ صادق ہے، مبالغۃً صدق کہا گیا ہے

قولہ: بلیٰ مفسر علام نے بلیٰ کا اضافہ، سنت کی اتباع میں کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا مَنْ قرأ الیسَ اللہُ باحکم الحاکمین، فَلیقل بلیٰ لہٰذا ألیس کذا؟ (مثلاً) کی تلاوت کے وقت بلیٰ کہنا مسنون ہے۔ (حاشیہ جلالین)

قولہ: الذی جاءَ بالصِّدقِ، الَّذِی موصول کے دو صلے ہیں ایک واحد ہے اور وہ جاء بالصدق محمدﷺ ہیں اور دوسرا صدق بہٖ المؤمنون ہے جو کہ جمع ہے اول صلہ کی رعایت سے الَّذِیْ کو مفرد لایا گیا اور دوسرے صلہ کی رعایت سے الذی کو الَّذِینَ کے معنی میں لیا گیا، دوسرے صلہ ہی کی رعایت سے اُولٰٓئکَ ھُمُ المتقونَ میں جمع کے صیغے لائے گئے ہیں، الَّذِیْ چونکہ اسم جنس ہے، لہٰذا اس میں واحد جمع دونوں کی گنجائش ہے۔

قولہ: اسوأ واحسنَ السَّیئَ، والحَسَنَ کے معنی میں ہیں، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تصدیق کرنے والے مومنوں کے نیک تر اعمال کا صلہ عطا فرمائیں گے اور بدتر اعمال کو معاف فرمائیں گے، اس میں نیک اعمال اور بد اعمال کا ذکر نہیں ہے، مفسر علام نے مذکورہ عبارت کا اضافہ کر کے جواب دے دیا کہ اسم تفضیل اپنے معنی میں نہیں ہے بلکہ اسم فاعل کے معنی میں ہے لہٰذا اب نیک اور نیک تر اسی طرح بد اور بدتر دونوں قسم کے اعمال اس میں داخل ہو گئے۔

قولہ: تخبُلُہٗ (ن) خَبلاً عقل کو فاسد کرنا، پاگل بنانا، تخبیل کے بھی یہی معنی ہیں۔

قولہ: وفی قراء ۃٍ بالإضافۃِ یہ دونوں قرأتیں سبعیہ ہیں، اگر اضافت کے ساتھ پڑھیں گے تو کاشفاتُ ضُرِہٖ اور مُمسِکاتُ رحمۃٖ پڑھا جائے گا۔

تفسیر و تشریح

فمن اظلم۔۔ ۔ اللہِ (الآیۃ) اللہ پر بہتان لگانے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لئے اولاد ہونے کا دعویٰ کرے یا اس کا شریک ثابت کرے یا اس کی بیوی ہونے کا عقیدہ رکھے، حالانکہ وہ ان تمام نقائص سے پاک اور بری ہے، کذّبَ بالصِّدق اور جاءَ بالصدقِ میں صدق سے مراد وہ تعلیمات ہیں جن کو نبی کریمﷺ لے کر آئے خواہ قرآن ہو یا عقائد و احکام، جس میں عقیدۂ توحید بھی شامل ہے، اور عقیدہ بعث و نشر بھی، اور صَدَّق بہٖ میں سب مومنین داخل ہیں جو اس کی تصدیق کرنے والے ہیں نیز جاء بالصدق میں کافروں کے لئے وعیدیں اور مومنین کے لئے خوشخبری بھی داخل ہیں۔

اذ جاءَہٗ سے آنحضرتﷺ مراد ہیں جو سچا دین لے کر آئے، اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا ہو اور لوگوں کی شریعت کی جانب رہنمائی کرتا ہو، اور صَدَّق بہٖ سے بعض حضرات نے حضرت ابو بکر صدیقؓ مراد لئے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہﷺ کی تصدیق کی۔ (فتح القدیر) مجاہد نے کہا ہے الذی جاءَ بالصدق سے مراد نبیﷺ ہیں اور وصدّق بہٖ سے حضرت علیؓ بن ابی طالب مراد ہیں، اور سدّی نے کہا: الذی جاء بالصدق سے مراد جبرائیلؑ ہیں اور وصدق بہ سے آپﷺ مراد ہیں، اور قتادہ و مقاتل و ابن زید نے کہا ہے کہ الّذِی جاء بالصدق سے نبیﷺ مراد ہیں اور وصدق بہ سے مومنین مراد ہیں۔

الیسَ اللہ بکافٍ عبدَہٗ جمہور نے عبدہ کو مفرد پڑھا ہے اور حمزہ و کسائی نے جمع کے صیغہ کے ساتھ عِبَادہٗ پڑھا ہے، پہلی صورت میں عبدہ سے مراد نبی کریمﷺ ہیں اور اگر عبد سے جنس عبد مراد لی جائے تو آنحضرتﷺ تو دخول اولی کے طور پر داخل ہوں مگر دیگر حضرات انبیاء و صلحاء و علماء بھی مراد ہو سکتے ہیں، دوسری قرأت کی صورت میں جمیع انبیاء یا جمیع مومنین یا دونوں فریق مراد ہوں گے، ابو عبید نے جمہور کی قرأت کو اختیار کیا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی)

شان نزول: اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ کفار نے رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہ کو ڈرایا تھا کہ اگر آپ نے ہمارے بتوں کی بے ادبی کی تو ان بتوں کا اثر بڑا سخت ہے، اس سے آپ نچ نہ سکیں گے، اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟

انا انزلنا۔۔ ۔۔ للناسِ (الآیۃ) نبی کریمﷺ کو اہل مکہ کا کفر پر اصرار بہت زیادہ گراں گزرتا تھا، اس آیت میں آپﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام صرف اس کتاب کو بیان کر دینا ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ مکلف نہیں ہیں، اگر یہ لوگ ہدایت کا راستہ اپنا لیں گے تو اس میں ان ہی کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے

آیت نمبر ۴۲ تا ۵۲

ترجمہ: اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کر لیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا، بلکہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں یعنی بتوں کو اپنے خیال میں اللہ کے حضور سفارشی بنا رکھا ہے، آپ ان سے دریافت کیجئے کہ کیا وہ سفارش کریں گے؟ گو وہ سفارش وغیرہ کا کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ تم ان کی بندگی کرتے ہو اور نہ اس کے علاوہ کوئی بات سمجھتے ہوں، نہیں، آپ کہہ دیجئے کہ تمام سفارشوں کا مختار اللہ ہی ہے سفارش اسی کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کر سکتا زمین و آسمانوں میں اسی کی حکومت ہے پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے جب ان کے معبودوں کو چھوڑ کر اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یعنی ان کو انقباض ہونے لگتا ہے اور جب اس کو چھوڑ کر ان کے معبودوں یعنی بتوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ فوراً ہی خوش ہو جاتے ہیں آپ (اس طرح) دعا کیجئے کہ اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے اللّٰھُمَّ یا اللہ کھے معنی میں ہے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس دینی معاملہ میں فیصلہ کر سکتا ہے جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں (یعنی) جس بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں آپ میری اس میں حق کی طرف رہنمائی فرمائیں اگر ظلم کرنے والوں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے عوض قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہو گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا اور ان پر ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور جس عذاب کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کر دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ انعام تو مجھے اس لئے دیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ میں اس کا مستحق ہوں بلکہ یہ یعنی اس کا مقولہ فتنہ ہے، جس کے ذریعہ بندے کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ یہ عطا، ڈھیل ہے اور آزمائش ہے ان سے پہلے لوگ بھی یہی بات کہہ چکے ہیں جیسا کہ قارون اور اس کی قوم جو کہ اس بات سے راضی تھی سو ان کی کاروائی ان کے کچھ کام نہ آئی سو ان کی بد اعمالیاں یعنی ان کی سزا ان پر آ پڑی اور ان پر بھی جو ان میں سے یعنی قریش میں سے ظالم ہیں ان کی بد اعمالیوں کی سزا پڑنے والی ہے اور وہ ہم کو عاجز کر دینے والے نہیں ہیں یعنی ہمارے عذاب سے بچ نکلنے والے نہیں چنانچہ سات سال تک قحط میں مبتلا کئے گئے، پھر ان کو فراخی عطا کی گئی، کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں بطور امتحان روزی کشادہ کر دیتے ہیں؟ اور جس کی چاہتے ہیں ابتلاءً روزی تنگ کر دیتے ہیں ایمان لانے والوں کے لئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: یتوفّیٰ واحد مذکر غائب مضارع معروف (تَفَعُّل) وہ روح قبض کرتا ہے۔

قولہ: انفُس، جمعُ نفسٍ روحیں، جانیں، یتوَفَّی الانفُسَ ای یقبض الارواح عند حضور آ جالِھَا، اللہ مبتداء یتوفی الانفس جملہ ہو کر خبر حین موتھا یَتَوفّیٰ سے متعلق ہے، واؤ حرف عطف، الَّتِی لم تمت معطوف انفُس پر فی منَامھَا یتَوفّیٰ کا ظرف ہے، مطلب یہ ہے کہ جن نفوس کئ موت کا وقت نہیں آیا ہے ان کو سونے کے وقت قبض کر لیتا ہے، اور اسی معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا قول وَھُوَ الذی یتوفّٰکم باللیل

موت اور نیند میں قبض روح اور دونوں میں فرق: اللہ یتَوَفَّی الانفُسَ، توفّیٰ کے لفظی معنی لینے اور قبض کرنے کے ہیں، اس آیت کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ جانداروں کی روحیں ہرحال اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف اور زیر حکم ہیں، وہ جب چاہے قبض کر سکتا ہے، اس تصرف خداوندی کا ایک مظاہرہ تو ہر جاندار روزانہ دیکھتا ہے کہ نیند کے وقت اس کی روح ایک حیثیت سے قبض ہو جاتی ہے، پھر بیداری کے وقت واپس کر دی جاتی ہے، اور آخر کار ایک وقت ایسا آئے گا کہ بالکل قبض ہو جائے گی، قیامت سے پہلے واپس نہ ملے گی۔

صاحب مظہری کی تحقیق: فرماتے ہیں قبض روح کا مطلب ہے، روح کا بدن سے ربط و تعلق ختم کر دینا، کبھی یہ تعلق ظاہراً و باطناً دونوں طریقہ پر ختم کر دیا جاتا ہے، اس کا نام موت ہے، اور کبھی صرف ظاہراً منقطع کیا جاتا ہے باطناً باقی رہتا ہے، اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ صرف حس اور حرکت ارادیہ جو زندگی کی ظاہری علامت ہیں وہ منقطع کر دی جاتی ہے اور باطنی ربط باقی رہتا ہے، جس سے وہ سانس لیتا ہے اور زندہ رہتا ہے۔

آیت میں لفظ تَوَفّیٰ بمعنی قبض بطور عموم کے دونوں معنی کو شامل ہے، موت اور نیند دونوں میں قبض روح کا یہ فرق جو اوپر بیان کیا گیا ہے، حضرت علیؓ کے ایک قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، آپ نے فرمایا: سونے کے وقت روح بدن سے نکل جاتی ہے مگر ایک شعاع کے ذریعہ روح کا ربط و تعلق بدن کے ساتھ باقی رہتا ہے جس سے وہ زندہ رہتا ہے، اور اسی رابطہ شعاعی سے وہ خواب دیکھتا ہے، پھر یہ خواب اگر روح کے عالم مثال کی طرف توجہ کے وقت دیکھتا ہے تو وہ سچا خواب ہوتا ہے، اور اگر بدن کی طرف واپسی کے وقت دیکھتا ہے تو اس میں شیطانی تصرفات شامل ہو جوتے ہیں ایسے خواب رویائے صادقہ نہیں ہوتے۔

مسند ہندو شاہ ولی اللہؒ  کی تحقیق: شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں، نیند میں ہر روز جان کھینچتا ہے، اور پھر (واپس) بھیجتا ہے یہ ہی شان ہے آخرت کا، معلوم ہوا نیند میں بھی جان کھینچتی ہے، جیسے موت میں، اگر نیند میں کھینچ کر رہ گئی وہی موت ہے مگر یہ جان وہ ہے جس کو ہوش کہتے ہیں اور ایک جان وہ ہے جس سے سانس چلتی ہے اور نیض حرکت کرتی ہے، اور کھانا ہضم ہعتا ہے، یہ دوسری جان موت سے پہلے نہیں کھینچتی۔ (موضع القرآن ملخصًا، ترجمہ شیخ الھندؒ)

حضرت علیؓ سے بغوی نے نقل کیا ہے کہ نیند میں روح نکل جاتی ہے، مگر اس کا مخصوص تعلق بدن سے بذریعہ شعاع باقی رہتا ہے، جس سے حیات باطل نہیں ہوتی (جیسے آفتاب لاکھوں میلوں سے بذریعہ شعاعوں کے زمین کو گرم رکھتا ہے) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند میں بھی وہی چیز نکلتی ہے جو موت کے وقت نکلتی ہے، لیکن تعلق کا انقطاع ویسا نہیں ہوتا جیسا موت میں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ (ترجمہ شیخ الھندؒ)

زجاج نے کہا ہے کہ ہر انسان کے دو نفس ہوتے ہیں ایک نفس تمییز یہ وہ ہے کہ جو نیند کے وقت بدن سے جدا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے فہم و ادراک معطل ہو جاتے ہیں، اور دوسرا نفس حیات ہے جب یہ نفس زائل ہو جاتا ہے تو حیات زائل ہو جاتی ہے اور نفس (سانس) منقطع ہو جاتا ہے، بخلاف نائم کے کہ اس کا سانس جاری رہتا ہے، قشیری نے کہا ہے کہ اس میں بعد ہے، اس لئے کہ آیت سے جو مفہوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں نفس مقبوض شئ واحد ہے، اسی وجہ سے فرمایا فیمسک التی قضیٰ علیھا الموت ویرسل الاخریٰ یعنی جس کی موت کا وقت آ جاتا ہے اس کو روک لیتا ہے ورنہ چھوڑ دیتا ہے، پہلی صورت کا نام موت ہے اور دوسری صورت کا نام نیند ہے۔ (فتح القدیر شوکانی ملخصاً)

عقلاء کا اس میں اختلاف ہے کہ نفس اور روح دونوں ایک ہی شئ ہیں یا الگ الگ ہیں، اس مسئلہ میں بحث طویل ہے جس کے لئے کتب طب کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس لئے کہ یہ موضوع فن طب ہی کا ہے، روح کے سلسلہ میں جتنے بھی نظریات قائم ہوئے ہیں وہ سب ظن و تخمین پر مبنی ہیں، حقیقت حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں سب سے زیادہ صحیح بات وہی ہے جو قرآن کریم نے قل الروح من امر ربی کہہ کر واضح کر دی ہے۔

قولہ: و المرسلۃ نفس التمییز الخ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نفس دو قسم کا ہے نفس تمییز اور نفس حیات، نفس تمییز کے بغیر نفس حیات باقی رہ سکتا ہے مگر نفس تمییز نفس حیات کے بغیر نہیں رہ سکتا، حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ابن آدم میں ایک نفس ہے اور روح ہے، عقل و تمیز کا تعلق نفس کے ساتھ ہے اور حرکت اور سانس کا تعلق روح کے ساتھ ہے، جب بندہ سو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نفس کو قبض فرما لیتے ہیں، روح کو قبض نہیں فرماتے، اسی قسم کا قول حضرت علیؓ سے بھی منقول ہے جیسا کہ سابق میں گذر چکا ہے۔

تحقیقی بات: صحیح بات یہ ہے کہ انسان میں روح حقیقت میں واحد ہے، مگر اپنے اوصاف کے اعتبار سے متعدد ہے۔ (حاشیہ جلالین)۔ قولہ: اولو کانُوْا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمزہ استفہام انکاری ہے اور محذوف پر داخل ہے تقدیر یہ ہے أیشفعُونَ جیسا کہ مفسر نے ظاہر کر دیا ہے واؤ حالیہ ہے، اور لَوْ شرطیہ ہے جملہ حال ہونے کی وجہ سے موضع نصب میں ہے، لَوْ کا جواب محذوف ہے تقدیر یہ ہے ای واِن کانوا بھٰذہ الصفۃ تتخذونَھُم من دون اللہ شفعاء۔

قولہ: قل للہ الشفاعۃ جمیعًا مفسر علام نے اَی ھُوَ مختص بھا فلا یشفعُ احدٌ الا باذنہٖ کا اضافہ کر کے ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے۔

سوال: للہ الشفاعۃُ جمیعاً سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو سفارش کا نہ حق ہو گا اور نہ کوئی کسی کی سفارش کرے گا، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علماء شہداء وغیرہ سفارش کریں گے۔

جواب: جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنی بھی اقسام کی سفارشیں ہوں گی وہ اللہ ہی کی اجازت سے ہوں گی لہٰذا یہ سفارشیں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا لاَ یَشْفَعُوْنَ الآَ لمنِ ارتضیٰ دوسری جگہ فرمایا مَن ذَا الَّذِی یشفَعُ عندہٗ الآَ باذنہٖ۔

قولہ: نعمۃ، انعامًا نعمۃ کی تفسیر انعاماً سے کرنے کا مقصد انما اوتیتُہٗ کے مرجع کو درست کرنا ہے تاکہ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہو جائے، یہ اس صورت میں ہو گا کہ ما کو کافہ مانا جائے، اور ما کو موصولہ مانا جائے تو اس تاویل کی ضرورت نہ ہو گی۔

قولہ: ای القولۃ اس کے اضافہ کا مقصد ھِیَ ضمیر اور اس کے مرجع قول کے درمیان مطابقت قائم کرنا ہے اسی وجہ سے قول سے مراد مقولہ لیا ہے، اور مقولہ سے مراد اس کا یہ مقولہ ہے اِنّما اوتیتُہٗ علی علم اور بعض حضرات نے ھِیَ کا مرجع نعمۃ کو قرار دیا ہے ای بل النعمۃ فتنۃ اس صورت میں تاویل کی ضرورت نہ ہو گی۔

قولہ: وبدا لھم سیات ما کسبوا ای جزاؤھا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ سیئات کا مضاف محذوف ہے۔

تفسیر و تشریح

اللہ یتوفی الانفس (الآیۃ) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرمایا ہے، جس کا مشاہدہ انسان روزانہ کرتا ہے، اور وہ یہ کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح، اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے اس لئے کہ اس کے احساس و ادراک کی قوت ختم ہو جاتی ہے اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو وہ روح اس میں دوبارہ لوٹا دی جاتی ہے، جس سے اس کے حواس بحال ہو جاتے ہیں، البتہ جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں ان کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے، اس کو بعض مفسرین کبریٰ اور وفات صغریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔

اس آیت میں بعث بعد الموت کے امکانی وقوع کی طرف اشارہ ہے یعنی روح کا قبض و ارسال، وفات وا حیا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت کے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ کرے گا، اگلی آیت میں کفار کے اس عقیدہ کا رد ہے کہ یہ ہمارے دیوی دیوتا جن کی ہم پوجا پاٹ کرتے ہیں یہ اللہ کے حضور ہماری سفارش کریں گے، اور ہمیں جنت میں اعلیٰ درجوں پر فائز کرائیں گے، رد کا خلاصہ یہ ہے کہ سفارش کا اختیار تو کجا انہیں تو سفارش کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں کیونکہ وہ تو اینٹ پتھر ہیں یا بے خبر محض ہیں۔

واذا ذکر اللہ وحدہ اشمأزت (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہ سہیم تو ان کو یہ بات ناگوار معلوم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے قلوب منقبض ہو جاتے ہیں البتہ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا یہ کہ آخر وہ بھی اللہ کے نیک بندے اور اس کے ولی ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں، وہ بھی مشکل کشائی حاجت روائی کر سکتے ہیں تو پھر یہ مشرکین اس بات سے بڑے خوش ہو جاتے ہیں، اہل بدعت و خرافات کا بھی آج یہی حال ہے، جب ان سے کہا جاتا ہے یا اللہ المدد کہو، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں تو چنگاری زیر پا ہو جاتے ہیں، یہ جملہ ان کے لئے سخت ناگوار معلوم ہوتا ہے، لیکن جب یا علی المدد، یا رسول المدد یا یا الغوث المدد کہا جائے تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل جاتی ہیں، باقی آیات کی تفسیر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان تحریر کر دی گئی ہے دیکھ لیا جائے۔

آیت نمبر ۵۳ تا ۶۳

ترجمہ: (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہو گی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آ جائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ قرآن ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو (یعنی) اس کی آمد سے پہلے تم کو اس کے آنے کے وقت کی خبر بھی نہ ہو، لہٰذا توبہ کی طرف سبقت کرو قبل اس کے کہ کبھی کوئی شخص کہے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب یعنی طاعت میں کی یا حسرتی بمعنی یا ندامنتی ہے میں تو اس کے دین اور اس کی کتاب کا مذاق اڑانے والوں ہی میں رہا اِنْ مخففہ عن الثقیلہ ہے یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ (دنیا میں) مجھ کو طاعت کی ہدایت دیتا تو میں ہدایت پاتا تو میں بھی اس کے عذاب سے بچنے والوں میں سے ہوتا یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش میری (دنیا) میں واپسی ہو جاتی تو میں بھی نیک لوگوں یعنی مومنین میں سے ہو جاتا یعنی ایمان والوں میں سے ہو جاتا، تو اس کو اللہ کی جانب سے کہا جائے گا، ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری قرآنی آیتیں پہنچ چکی تھیں، اور وہ ہدایت کا ذریعہ ہیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے تو نے تکبر کیا، اور تو کافروں ہی میں سے رہا، اور جن لوگوں نے اللہ پر اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کر کے جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا ایمان سے تکبر کرنے والوں کو ٹھکانہ جہنم نہیں ہے؟ ہاں کیوں نہیں ضرور ہے، اور جن لوگوں نے شرک سے اجتناب کیا تو اللہ تعالیٰ ان کو مقام کامیابی میں (دخول) کے سبب جہنم سے بچالے گا، اور وہ (مقام) جنت ہے (اور اگر مفازۃ کو مصدر میمی اور ’’ب‘‘ کو سببیہ مانا جائے تو ترجمہ یہ ہو گا، اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب ہونے کے سبب جہنم سے بچا لے گا) بایں طور کہ ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا، انہیں کوئی تکلیف چھو بھی نہ سکے گی، اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے (یعنی اس میں جس طرح چاہے تصرف کرنے والا ہے) آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مالک ہے یعنی زمین و آسمانوں کے خزانوں کا مالک ہے وہ پانی اور نباتات وغیرہ ہیں جس نے بھی اللہ کی آیتوں قرآن کا انکار کیا وہی خسارہ میں ہے، اس جملہ (یعنی والذین کفروا الخ) کا تعلق (عطف) اللہ کے قول وَیُنَجِّی الَّذین اتقوا الخ سے ہے اور ان دونوں کے درمیان (اللہ خالق کل شئ الخ) جملہ معترضہ ہے (نوٹ) یہ جملہ اسمیہ کا عطف جملہ فعلیہ پر ہے، جو کہ جائز ہے۔ (صاوی)

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: یا عبَادی، بحد الیاء وثبوتھا مفتوحَۃً، یا عبادی میں دو قرأتیں ہیں حذف الیاء اور کسرۂ دال کے ساتھ ای یا عباد اور ثبوت یاء مع فتح الیاء ای یا عِبَادِی۔

قولہ: الذین اسرفوا علیٰ انفسھم، اسرفوا، اسرافٌ سے ماضی جمع مذکر غائب، انہوں نے زیادتی کی، حد سے تجاوز کیا، یعنی اپنے نفس پر معصیت و خیانت کر کے زیادتی کی، یہاں اسراف سے اسراف فی المعصیۃ مراد ہے، اسراف کے معنی مطلقاً زیادتی کرنے کے ہیں، اسراف مقید مثلاً اسرَفَ فی المالِ میں استعمال مجازاً ہو گا اور بعض حضرات نے اس کا عکس کہا ہے مگر اول راجع ہے۔ (روح المعانی)

سوال: اسراف کا صلہ علیٰ مستعمل نہیں ہے۔ جواب: اسراف چونکہ جنایت کے معنی کو متضمن ہے، اس لئے اس کا صلہ علیٰ لانا درست ہے۔ قولہ: لا تقنطوا یہ زیادہ تر (س، ض، ن) سے آتا ہے (ک) سے شاذ ہے۔

قولہ: ھُو القرآنُ یہ احسن کی تفسیر ہے، یعنی کتب سماویہ میں قرآن سب سے احسن ہے۔

قولہ: ان تقول نفسٌ أن اور جو اس کے ماتحت ہے مفعول لاجلہٖ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، زمخشری نے اس کی تقدیر کراھۃ ان تقول مانی ہے، اور ابو البقاء نے انذرنا کُم مخافَۃَ ان تقول اور مفسر علام نے بادروا فعل مقدر کا معمول قرار دیا ہے، جیسا کہ ظاہر ہے۔ قولہ: بالطاعۃِ ایک نسخہ ہے بالطافِہٖ ہے۔

قولہ: بنسبَۃِ الشریک والولد الیہ یہ عبارت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں مطلقاً کذب مراد نہیں ہے بلکہ وہ کذب مراد ہے جس سے شرک لازم آتا ہو، اس لئے کہ آئندہ جو وعید بیان کی گئی ہے وہ مطلقاً کذب کی نہیں ہے بلکہ اس کذب کی ہے جس سے کفر لازم آتا ہے۔ قولہ: مقالیدۃ مقلاد یا مقلید کی جمع ہے، بمعنی کنجی یہ ہر شئ میں شدت تصرف و تمکن سے کنایہ ہے۔

تفسیر و تشریح

شان نزول: قل یعبادی۔۔ ۔ انفسھم ابن جریر و ابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے قتل ناحق کئے اور بہت کئے، اور زنا کا ارتکاب کیا اور بہت کیا، ان لوگوں نے آپﷺ سے عرض کیا کہ آپ جس دین کی دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا، لیکن فکریہ ہے کہ جب ہم نے اتنے بڑے بڑے گناہ کر رکھے ہیں، اب اگر ہم مسلمان ہو بھی گئے تو کیا ہماری توبہ قبول ہو سکے گی، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (روح المعانی، معارف)

ابن جریر نے عطاء بن یسار سے روایت کیا کہ مذکورہ تینوں آیتیں مدینہ میں وحشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (روح المعانی)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وسعت مغفرت کا بیان ہے، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہونے کا مطلب ہے ایمان لانے سے پہلے انسان نے کتنے بھی گناہ کئے ہوں اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ میں تو بہت گنہگار ہوں اللہ تعالیٰ مجھے کیونکہ معاف کرے گا؟ بلکہ اگر سچے دل سے ایمان قبول کر لے اور سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے، شان نزول کی روایت سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے، کچھ کافر اور مشرک ایسے تھے کہ جنہوں نے کثرت سے قتل و زنا کا ارتکاب کیا تھا، یہ لوگ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی دعوت تو بالکل صحیح ہے، لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطا کار ہیں، اگر ہم ایمان لے آئیں تو کیا ہمارے وہ سب گناہ معاف ہو جائیں گے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی، (صحیح بخاری، تفسیر سورة زمر، کمامر)

مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر بھروسہ کر کے خوب گناہ کئے جائیں، اس کے احکام و فرائض کی مطلق پر واہ نہ کی جائے، اور اس کے ضابطوں کو بے دردی سے پامال کیا جائے، اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت غیر دانشمندی اور خام خیالی ہے، یہ تخم حنظل بوکر ثمرات و فواکہہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے، ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں وہ غفور و رحیم ہے، وہاں وہ نافرمانوں کے لئے عزیز ذوانتقام بھی ہے، چنانچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے۔

واتبعوا احسن ما انزل (الآیۃ) احسن ما انزل سے مراد قرآن ہے اور پورا قرآن احسن ہے، اور قرآن کو احسن ما اُنزِلَ اس لئے کہا گیا ہے، کہ جتنی کتابیں توریت، انجیل، زبور اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں ان سب میں احسن و اکمل قرآن ہے۔ (قرطبی)

بلیٰ قد جاء تکَ ایٰاتی فکذبتَ بھَا اس آیت میں کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ اللہ اگر ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی متقی ہوتے، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اختیاری ہدایت کے جتنے طریقہ ہو سکتے تھے وہ سب مہیا فرما دئیے کتابیں بھیجیں، رسول بھیجے، ان کو معجزے عطا کئے، ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ ہمیں ہدایت نہیں کی، ہاں ہدایت کے تمام تر اسباب مہیا کرنے کے بعد، نیکی اور اطاعت پر اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا، بلکہ بندوں کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جس راستہ یعنی حق یا باطل کو اختیار کرنا چاہے کرے یہی بندے کا امتحان ہے۔

لہ مقالید السموت والارض، مقالید مقلاد یا مقلید کی جمع ہے، اس کے معنی کنجی، چابی کے ہیں، بعض حضرات نے کہا ہے یہ در اصل فارسی لفظ کلید کا معرب ہے، اس لئے کہ فارسی میں کنجی کو، کلید کہتے ہیں، کنجیوں کا کسی کے ہاتھ میں ہونا یہ اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اور بعض روایات میں کلمہ سوم کو زمین و آسمانوں کی کنجی کہا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کلمہ کو صبح و شام پڑھتا رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو زمین و آسمان کے خزانوں کی نعمتیں عطا فرمائیں گے۔

آیت نمبر ۶۴ تا ۷۰

ترجمہ: آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی  جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمدﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلا شبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہو جائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی چاہیے تھی، اس کے ساتھ شرک کر کے نہ اس کے حق کو پہچانا جیسا کہ اس کی معرفت کا حق تھا اور نہ اس کی تعظیم کی جیسی کہ کرنی چاہیے تھے، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی (جمیعًا) حال ہے یعنی ساتوں زمینیں (اس کی مٹھی میں ہوں گی) یعنی اس کی ملک و تصرف میں ہوں گی اور تمام آسمان لپٹے ہوئے اس کے داہنے ہاتھ (یعنی) اس کی قدرت میں ہوں گے وہ پاک اور برتر ہے اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک ٹھہرائیں اور صور پھونک دیا جائے گا، پہلا صور، لہٰذا زمین و آسمانوں میں جو بھی ہے فوت ہو جائے گا جس کو وہ چاہے (مثلاً) حور اور بچے وغیرہ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو ایک دم وہ تمام مردہ مخلوق اٹھ کھڑی ہو گی اور انتظار کرنے لگے گی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے؟ اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی، جب وہ مقدمات کے فیصلے کے لئے جلوہ افروز ہو گا، کتاب یعنی نامہ عمل حساب کے لئے (سامنے) رکھ دیا جائے گا، اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا یعنی محمدﷺ اور ان کی امت کو لایا جائے گا، اور یہ لوگ رسولوں کی پیغام رسانی کی گواہی دیں گے اور لوگوں کے درمیان عدل (و انصاف) کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ لوگ کرتے ہیں وہ اس سے بخوبی واقف ہے لہٰذا اس کو گواہ کی ضرورت نہ ہو گی۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: افغیر اللہ تأمُرُونی یہ اصل میں أتامُرُوننی ان اعبد غیُر اللہِ، اعبدُ کے مفعول غیر اللہ کو تأمُروننی پر جو کہ اعبد کا عامل ہے مقدم کر دیا، بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ صورت ضعیف ہے، (مگر ضعیف کہنا درست نہیں ہے) اس لئے کہ أن لفظوں میں نہیں ہے لہٰذا اس کا عمل باقی نہیں رہے گا۔

دوسری صورت یہ کہ غیر اللہ کو تامرونّی کے ذریعہ منصوب مانا جائے، اور اعبُدَ کو اس سے بدل مانا جائے، تقدیر عبارت یہ ہو گی قل: افتأمُرُونی بعبادۃ غیر اللہ یہ ترکیب بدل الاشتمال کے قبیل سے ہو گی۔

تیسری صورت غَیرَ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہو اَی افَتَلْزَمُونِی غَیْرَ اللہِ اس صورت میں اس کا مابعد اس کے لئے مفسر ہو گا، اس کے علاوہ بھی ترکیبیں ہو سکتی ہیں (اعراب القرآن دیکھیں)

قولہ: تامُرُونی صیغہ جمع مذکر حاضر، تم مجھ کو حکم دیتے ہو، اس میں (ی) ضمیر واحد متکلم ہے اور نون ادغام کی وجہ سے مشدد ہے۔

قولہ: ولقد اوحِیَ الیکَ لام جواب قسم کے لئے ہے ای واللہ لقَدْ، قَد حرف تحقیق ہے، اوحِیَ فعل ماضی مجہول ہے اور الیک قائم مقام نائب فاعل ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ نائب فاعل سیاق وسباق کے قرینہ کی وجہ سے محذوف ہے، ای اُوحِیَ اِلیکَ التوحید۔

قولہ: فرضًا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں، ان سے شرک کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، تو پھر لإن اشرکت کیوں کہا گیا؟

جواب: فرض محال کے طور پر کہا گیا ہے بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ خطاب اگرچہ آپﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے مگر اب یہ سوال پیدا ہو گا کہ اگر مراد امت ہے لإن اشرکت کے بجائے لان اشرکتُم کہنا چاہیے تھا، اس کا جواب یہ ہے، معنی یہ ہیں اوحِیَ الی کُل واحدٍ منھم لان اشرکت الخ جیسا کہ عرب میں بولا جاتا ہے، کسانا الامیرُ حلَّۃً ای کساکلَّ واحدٍ منا حُلَّۃً۔

تفسیر و تشریح

قل افغیر اللہ تامرونی (الآیۃ) یہ کفار کی اس دعوت کو جواب ہے جو آپﷺ کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین (بت پرستی) کو اختیار کر لیں، اور بتوں کی مذمت چھوڑ دیں، اس لئے کہ اگر ہماری دیوی دیوتاؤں کو غصہ آ گیا تو ہلاک کر ڈالیں گے یا پاگل بنا دیں گے، لإن اشرکت میں اگرچہ خطاب آپﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے، اس لئے کہ آپﷺ تو شرک سے پاک تھے ہر نبی معصیت سے پاک ہوتا ہے اور آئندہ کے لئے محفوظ بھی، کیونکہ اللہ کی حفاظت اور عصمت میں ہوتا ہے، ان سے ارتکاب و کبائر کا کوئی امکان نہیں ہوتا مگر چونکہ امت کو سمجھانا مقصود ہے اس لئے آپ کو خطاب فرمایا کہ امت کو یہ تأثر ملے کہ جب شرک سے نبی جیسی برگزیدہ ہستی کے اعمال سلب اور حبط ہو سکتے ہیں تو ماوشما کس شمار و قطار میں ہیں بَلِ اللہ فاعبد، ایاک نعبد کی طرف یہاں بھی اللہ مفعول کو مقدم کر کے حصر کی طرف اشارہ کر دیا یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور شرک کے ذریعہ اعمال کے حبط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شرک ہی پر موت آئی ہو اور مرنے سے پہلے شرک سے توبہ کر لی تو یہ حکم نہیں ہے۔

وما قدروا اللہ حق قدرہٖ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت اور حقیقی عظمت جو کہ اس کی شایان شان ہو وہ بندے کے لئے ممکن نہیں اور نہ بندہ اس کا مکلف، البتہ جس قدر معرفت و تعظیم کا مکلف اور مامور ہے، کفار و مشرکین نے وہ بھی نہیں کی، اس لئے کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ جو دعوت توحید ان کے پاس بھیجی تھی اس کو نہیں مانا، عبادت کو اس کے لئے خالص نہ کرتے ہوئے غیر اللہ کو اس کی ذات و صفات میں شریک کر لیا، مشرکین نے اس کی عظمت و جلال، بزرگی و برتری کو اتنا نہ سمجھا جتنا ایک بندے کو سمجھنا چاہیے تھا، اس کی شان رفیع اور مرتبہ بلند کا اجمالی تصور بھی رکھنے والا، کیا عاجز و محتاج مخلوق، حتی کہ بے جان پتھر اور دھات کی عاجز و مجبور مورتیوں کو اس کا شریک وسہیم تجویز کر سکتا ہے؟ حاشا و کلا ہرگز نہیں کیا اس سے زیادہ اس مالک کون و مکان خالق زمین و زماں کی ناقدری اور ناحق شناسی ہو سکتی ہے؟ اگلی آیت میں اس کی بعض شؤن عظمت و جلال کا بیان ہے۔

والارض۔۔ ۔۔ القیامۃ (الآیۃ) القبضۃُ، ما قُبِضَ علیہ بجمیع الکف علیہ یعنی اس کی عظمت شان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کی مٹھی اور سارے آسمان کاغذ کے مانند لپٹے ہوئے ایک ہاتھ میں ہوں گے۔

کلمات متشابہات: مطویات بیمینہٖ، یمینٌ وغیرہ الفاظ متشابہات میں سے ہیں جن پر بلا کیف ایمان رکھنا واجب ہے، بعض احادیث میں ہے وکلتا یدیہ یمینٌ کو اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں، اس سے تجسم، تحیز اور جہت وغیرہ کی نفی ہوتی ہے۔ (فوائد عثمانی)

کلمات متشابہات کے سلسلہ میں اہل حق کا مسلک: کلامی یعنی عقائد کے باب میں اہل حق کی تین جماعتیں ہیں، اشاعرہ، ماتریدیہ، سلفیہ (یا حنابلہ)۔

(۱) اشاعرہ: وہ حضرات ہیں جو شیخ ابو الحسن اشعریؒ  (۲۶۰/۳۳۴ ھ) کی پیروی کرتے ہیں، امام ابو الحسن اشعری چونکہ شافعی تھی، اس لئے یہ مکتب فکر شوافع میں مقبول ہوا، یعنی حضرات شوافع عام طور پر کلامی مسائل میں اشعری ہوتے ہیں

(۲) ماتریدیہ: وہ حضرات ہیں جو شیخ ابو منصور ما تریدیؒ  (متوفی ۳۳۳ ھ) کی پیروی کرتے ہیں، امام تریدی چونکہ حنفی تھے اس لئے یہ مکتب فکر احناف میں مقبول ہوا، احناف عام طور پر کلامی مسائل میں ما تریدی ہوتے ہیں، اشاعرہ اور ما تریدیہ کے درمیان بارہ مسائل میں اختلاف ہے جو فروعی (غیر اہم) مسائل ہیں، بنیادی اختلاف کسی مسئلہ میں نہیں ہے، ان مختلف فیہا بارہ مسائل کو علامہ احمد بن سلیمان معروف بہ ابن کمال پاشاؒ  (متوفی ۹۴۰ ھ) نے ایک رسالہ میں جمع کر دیا ہے، یہ رسالہ مطبوعہ ہے، مگر عام طور پر علماء اس سے واقف نہیں ہیں، اس رسالہ کو حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب مدظلہ پالنپوری استاذ حدیث دار العلوم دیوبند نے اپنی قابل فخر اور مایۂ ناز تصنیف رحمۃ اللہ الواسعہ کے صفحہ ۴۸ پر علماء کے استفادہ کے لئے نقل کر دیا ہے۔

(۳) سلفیہ: یہ وہ حضرات ہیں جو صفات خداوندی کی تو ویل کے عدم جواز میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ  (۱۶۴/۲۴۱) کے مسلک پر ہیں، چونکہ صفات کے تعلق سے یہ ذوق اسلاف کرام کا تھا، اس لئے یہ حضرات سلفی کہلائے، اس جماعت کو کتابوں میں حنابلہ بھی لکھا گیا ہے، مگر چونکہ فقہی جنسیت سے اشتباہ ہوتا تھا، اس لئے رفتہ رفتہ یہ اصطلاح متروک ہو گئی، مسئلہ خلق قرآن میں یہی نام سلفیہ کے لئے استعمال ہوا ہے، نیز اس مسلک کو مسلک محدثین بھی کہا جاتا ہے، اس لئے کہ امام مالک، سفیان ثوری وغیرہ حضرات محدثین سے صفات متشابہات کے بارے میں یہی نقطہ نظر مروی ہے، اس زمانہ میں جو سلفیت کو بمعنی ظاہریت یعنی عدم تقلید ائمہ استعمال کیا جاتا ہے وہ رلبیس ہے اور لفظ کا غیر معروف معنی میں استعمال ہے۔

سلفیوں کا اشاعرہ اور ماتریدیہ سے اختلاف: سلفیوں کا اشاعرہ اور ما تریدیہ سے یہ اختلاف صرف ایک معمولی بات میں ہے، اور وہ یہ ہے کہ صفات متشابہات مثلاً استواء علی العرش، یدٌ، وجہٌ وغیرہ کی تاویل جائز ہے یا نہیں؟ سلفیوں کے یہاں تاویل ناجائز ہے اور باقی دونوں مکاتب فکر کے نزدیک تاویل جائز ہے، چنانچہ قرآن کریم کو جو اللہ کی صفت کلام ہے مطقاً بلا تاویل قدیم کہتے ہیں، اور اشاعرہ ما تریدیہ کلام نفسی کی تاویل کرتے ہیں اور اس کو قدیم کہتے ہیں، امام بخاریؒ  نے مسلک محدثین کے خلاف ’’لفظی بالقرآن حادث‘‘ کہہ دیا تھا، تو حنابلہ نے جن کو سرخیل امام ذہلی تھے ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ (ؒ الواسعہ)۔

غرضیکہ علم کلام میں یہی تین جماعتیں برحق ہیں دیگر تمام فرق اسلامیہ جیسے معتزلہ، جہمیہ، کرامیہ وغیرہ گمراہ فرقے ہیں، اور یہی فرقے اہل سنت والجماعت کے مد مقابل ہیں۔ (رحمۃ اللہ الواسعہ)

ونفخ فی۔۔ ۔۔ فی الارض بعض کے نزدیک (نفخہ فرع کے بعد) یہ نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ صعق ہے، جس سے سب کی موت واقع ہو جائے گی، بعض کے نزدیک صعق نفخہ اولیٰ ہی ہے، اسی سے اولاً سخت گھبراہٹ ہو کر بے ہوشی طاری ہو جائے گی، پھر سب کی موت واقع ہو جائے گی، اور بعض حضرات نے ان نفخات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے (۱) نفخۃ فناء (۲) نفخۃ البعث (۳) نفخۃ الصعق (۴) نفخہ القیام لرب العالمین (ایسر التفاسیر) اور بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں، نفخہ موت اور نفخہ بعث۔

الا ماشاء اللہ یعنی نفخۃ فنا کے بعد اللہ جس کو چاہے گا اس کو موت نہیں آئے گی، جیسے حضرت جبرائیلؑ، میکائل علیہ السلام، اسرافیلؑ اور بعض نے ان میں نگران جنت رضوان اور نگران جہنم مالک، اور حملۃ العرش کو بھی شامل کیا ہے (اور بعض نے حور و غلمان وغیرہ کو بھی)۔ (فتح القدیر)

وجآی بالنبیین والشھداء (الآیۃ) نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا؟ قبول کیا یا انکار کیا؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا، جو اس بات کی گواہی دے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا، جیسا کہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعہ مطلع فرمایا تھا

آیت نمبر ۷۱ تا ۷۵

ترجمہ: اور کافروں کے غول کے غول مختلف گروہوں میں شدت کے ساتھ جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے جب وہ جہنم کے پا سپہنچ جائیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے (فتحت ابو ابھا) اذا کا جواب ہے، وہاں نگران ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں قرآن وغیرہ پڑھ کر سناتے تھے؟ اور تمہیں ان دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے، یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے، لیکن کلمہ عذاب یعنی لاملان جھنم (الآیۃ) کافروں پر ثابت ہو گیا حکم دیا جائے گا اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، جہاں ہمیشہ رہو گے، حال یہ کہ خلود مقدر ہو چکا پس سرکشوں کا ٹھکانہ بہت ہی برا ہے اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروہ کے گروہ جنت کی طرف اکرام کے ساتھ روانہ کئے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس (جنت) کے پاس آ جائیں گے، حال یہ کہ دروازے کھلے ہوں گے (وفتحت) میں واؤ حالیہ ہے قَدْ کی تقدیر کے ساتھ اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو خوش حال رہو، تم اس میں ہمیشہ کے لئے چلے جاؤ حال یہ کہ ان کا اس میں ہمیشہ رہنا مقدر ہو چکا ہے، اذا کا جواب مقدر ہے ای دخلوھَا اور ان کو لے جانا اور ان کے آنے سے پہلے دروازوں کا کھلنا یہ ان کا اعزاز ہے، اور کفار کو ہانکنا اور جہنم کے دروازوں کو ان کی آمد پر کھولنا تاکہ جہنم کی حرارت باقی رہے، یہ ان کی توہین ہے، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا جنت کا وعدہ پورا کیا اور ہمیں اس نے زمین کا یعنی جنت کا وارث بنا دیا کہ جنت میں ہم جہاں چاہیں قیام کریں اس لئے کہ جنتی ایک مقام کو دوسرے مقام پر ترجیح نہیں دے گا، پس عمل کرنے والوں کا کیا اچھا بدلہ ہے، اور تو فرشتوں کو اس کے چاروں طرف سے عرش کے گردا گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے یعنی اس میں مشغول دیکھے گا، یُسبحون، حافین کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ سبحان اللہ وبحمدہٖ کہہ رہے ہوں گے اور ان میں یعنی تمام مخلوق کے درمیان حق یعنی عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا، سو مومنین جنت میں اور کافر دوزخ میں داخل ہوں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں، جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے دو فریقوں (یعنی اہل جنت و دوزخ) کا اسقرار، ملائکہ کی حمد پر ختم ہوا۔ (واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم)

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: وسیق الذین کفروا بعنفٍ واؤ عاطفہ سیق فعل ماضی مجہول الَّذینَ موسول کفرُوا صلہ، موصول صلہ سے مل کر سیق کا نائب فاعل اِلیٰ جھَنَّمَ سقَ سے متعلق ہے، زمراً حال، زمرٌ زمرۃٌ کی جمع ہے بمعنی جماعت۔

قولہ: بعنفٍ اس کا اضافہ لے جانے میں شدت اور سختی کو بیان کرنے کے لئے ہے اس لئے کہ جہنمہوں کے یہی مناسب حال ہے۔

قولہ: وسیقَ الذینَ اتقوا ربَّھُم بلطفٍ لفط کا اضافہ احترام اور اکرام کو بیان کرنے کے لئے ہے۔

سوال: جہنمیوں اور دوزخیوں، دونوں کے لئے سیق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جہنمیوں کے لئے معنی بیان کئے ’’شدت اور سختی سے ہانک کر لے جانا‘‘ ، اور جنتیوں کے لئے معنی بیان کئے ’’عزت و احترام کے ساتھ لے جانا‘‘ ، لفظ ایک صیغہ ایک مادہ ایک پھر دونوں جگہ معنی میں فرق کی کیا وجہ ہے۔

جواب: جہنمیوں کے لئے سیق کے لفظ کا استعمال صحیح اور معقول ہے، اس لئے کہ جب ان کے لئے عقاب و عذاب کا فیصلہ کر دیا گیا تو ان کی حیثیت ایسے مجرم کی ہو گئی کہ جس کو قید کا حکم دیا  جا چکا ہو، ظاہر ہے ایسے باغی اور مجرم کو سختی اور تیزی کے ساتھ لے جایا جاتا ہے تاکہ جلدی سے جلدی اس کو جیل خانہ میں داخل کر دیا جائے، البتہ ان لوگوں کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن کے لئے جنت کا فیصلہ کر دیا گیا ہو، ان کو تیزی سے لے جانے کی کیا ضرورت، ان کو بہت عزت و احترام کے ساتھ لے جانا چاہیے، اس کا جواب یہ ہے الذینَ اتَّقَوا ربَّھُم سے پہلے مضاف محذوف ہے، اور وہ مراکب ہے، اب عبارت یہ ہو گی سیق مراکبُ الَّذین اتقوا یعنی اہل جنت کی سواریوں کو تیزی سے چلایا جائے گا تاکہ وہ اپنی آرام گاہ میں جلدی سے جلدی پہنچیں، اور لفظ کو محذوف ماننے کا قرینہ یہ ہے کہ جنتیوں کو پیدل نہیں لے جایا جائے گا، بلکہ قبروں سے نکلتے ہی سواریاں مہیا کی جائیں گی۔ (جمل)

ما اجمل قول الزمخشری فی ھذا الصَدَدِ قال: فان قُلْت کیف عبر عنِ الذّھِاب بالفریقین جمیعًا بلفظ السوق؟ قلتُ: المراد بسوق اھل النار، طردھُم الیھَا بالھَوَانِ والعنفِ کما یُفْعَلُ ما لا ساریٰ والخارجین علی السلطان اذا سیقوا الی حبسٍ او قتلٍ و المراد بسوق اھل الجنۃ: سوق مراکبھم لانَّہٗ لا یذھب بھم الآَ راکبین وحثّھُا الی دار الکرامۃ والرضوان کما یفعلُ بمن یشرف و یکرم من الفوافدین علیٰ بعض الملوک فشتان بین السوقَین (اعراب القرآن للدرویش)۔

حتی اذا جاءُوْھَا فتحت ابوابھا۔

قولہ: حتّیٰ ابتدائیہ ہے، اذا جاءُوھَا شرط فتحت ابوابھا بالاتفاق جزاء۔ قولہ: حتّیٰ اذا جاءُوھا و فتحت ابوابھُا۔

سوال: یہاں وفتحت ابوابھا میں واؤ لایا گیا ہے اس سے ماقبل میں واؤ نہیں لایا گیا، اس میں کیا نکتہ ہے؟

جواب: اس میں نکتہ یہ ہے کہ جیل خانوں کے دروازے عام طور پر بند رہتے ہیں جب کوئی مجرم لایا جاتا ہے تو اس وقت کچھ دیر کے لئے کھولے جاتے ہیں پھر فوراً ہی بند کر دئیے جاتے ہیں، اس میں آنے والوں کی توہین ہے، لہٰذا اس کے لئے عدم واؤ مناسب ہے، بخلاف مہمان خانوں اور تفریح گاہوں کے دروازوں کے کہ ان کے دروازے آنے والوں کے انتظار میں کھلے رہتے ہیں، نیز اس میں آنے والوں کا اعزاز بھی ہے لہٰذا اس کے مناسب واؤ ہے۔

یہاں اَذَا کے جواب میں تین صورتیں ہو سکتی ہیں (۱) وفتحت جواب شرط ہے، واؤ زائدہ ہے یہ کہ کوفیین اور اخفش کی رائے ہے (۲) جواب محذوف ہے زمخشری نے کہا ہے کہ خالدین کے بعد محذوف مانا جائے اس لئے کہ متعلقات شرط کے بعد معطوف علیہ کو لایا جاتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہو گی اِطمَانوا اور مبرد نے سعدوا مقدر مانا ہے اور محلی نے دخلوھا مقدر مانا ہے (۳) بعض حضرات نے کہا ہے کہ جواب وَقَالَ لھُم خزنتھُا ہے واؤ کی زیادتی کے ساتھ۔

قولہ: مُقَدَّرینَ الخلود فیھا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس اعتراض کو جواب دینا ہے کہ خٰلدین، فادخلوا کی ضمیر سے حال ہے، اور حال و ذوالحال کا زمانہ ایک ہوا کرتا ہے، حالانکہ یہاں دونوں کا زمانہ ایک نہیں ہے اس لئے کہ دخول کے بعد خلود ہو گا نہ کہ ساتھ ساتھ، اس کا جواب یہ دیا کہ ان کے لئے خلود مقدر کر دیا گیا، یعنی وہ جنت میں داخل ہوں گے حال یہ کہ ان کے لئے خلود مقدر کر دیا گیا ہے۔

تفسیر و تشریح

زُمرٌ، زمرٌ سے مشتق ہے (ن) زمزاً کے معنی آواذ کرنا، اور گروہ و جماعت میں چونکہ آواز اور شور ضرور ہوتا ہے، اس لئے زمرۃٌ کا لفظ گروہ جماعت کے لئے بھی استعمال ہونے لگا، مطلب یہ ہے کہ کافروں کو گروہوں اور جماعتوں کی شکل میں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، ایک گروہ کے پیچھے دوسرا گروہ ہو گا، علاوہ ازیں انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی مانند ہنکایا جائے گا، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: یوم یدعُّونَ الیٰ نار جھنم دعَّا یعنی انہیں جہنم کی جانب سختی کے ساتھ دھکیلا جائے گا۔

وسیق الَّذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمراً (الآیۃ) اہل ایمان و تقویٰ بھی گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جائے جائیں گے پہلے مقربین پھر ابرار اسی طرح درجہ بدرجہ ہر گروہ، ہم مرتبہ لوگوں پر مشتمل ہو گا، انبیاء کا گروہ الگ ہو گا صدیقین کا الگ شہدا کا الگ علیٰ ھٰذا القیاس۔ (ابن کثیر)

تم بحمد اللہ

٭٭٭