اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


تفسیر جلالین( اردو)، جلد ہفتم ۔۔۔ جلال الدین السیوطی اور جلال الدین المحلّی

اہم عربی تفاسیر میں ایک اہم تفسیر

تفسیر جلالین ( اردو)

جلد ہفتم

جلال الدین السیوطی اور جلال الدین المحلّی

منزل ہفتم، سورۃ ق تا الناس

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

سورۃ ۵۰۔ ق

سورة ق مکیہ وہی خمس و اربعون ایۃ وثلث رکوعات

سورة ق مکیۃ الا ولقد خلقنا السموت، الایۃ فمدنیۃ خمس واربعون ایۃ

سورة ق مکی ہے مگر ولقد خلقنا السموات (الآیۃ)، مدنی ہے پینتالیس آیتیں ہیں۔

ترجمہ: ق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، قسم قرآن کریم کی کہ کفار مکہ، محمدﷺ پر ایمان نہیں لائے، بلکہ اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا یعنی انہی میں سے ایک رسول جو ان کے زندہ ہونے کے بعد نار (جہنم) سے ڈراتا ہے آگیا سو کافر کہنے لگے یہ ڈراوا عجیب بات ہے، کیا جب ہم مر گئے اور مٹی ہو گئے؟ ہم کو لوٹایا جائے گا، دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کر کے، یہ واپسی انتہائی درجہ بعید (بات) ہے، زمین ان میں سے جو کچھ کھا جاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس محفوظ کرنے والی کتاب ہے اور وہ لوح محفوظ ہے جس میں تمام اشیاء مقدرہ موجود ہیں بلکہ انہوں نے حق یعنی قرآن کو جب کہ وہ ان کے پاس آیا جھوٹ کہا پس وہ ایک الجھن میں پڑگئے یعنی مضطرب کرنے والی حالت میں، کبھی تو انہوں نے ساحر و سحر کہا اور کبھی شاعر و شعر کہا اور کبھی کاہن اور کہانت کہا، کیا انہوں نے اپنی عقلوں کی چشم عبرت سے آسمانوں کو نہیں دیکھا، جب انہوں نے بعث (بعد الموت) کا انکار کیا، حال یہ کہ وہ ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اس کو بغیر ستونوں کے کس طرح بنایا اور ہم نے ان کو ستاروں سے زینت بخشی اور ان میں کوئی رخنہ عیب دار کرنے والا شگاف نہیں ہے اور کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا الی السماء کے محل پر عطف ہے کہ ہم نے اس کو پانی کی سطح پر کس طرح پھیلایا اور ہم نے اس پر پہاڑ جمائے جو اس کو تھامے ہوئے ہیں اور ہم نے اس میں ہر قسم کی خوشنما نباتات اگائی کہ اس کی خوشنمائی سے مسرت حاصل کی جاتی ہے آنکھیں کھولنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے مفعول لہ ہے یعنی ہم نے یہ صنعت آنکھیں کھولنے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے کی، ہر اس بندے کے لئے جو ہماری اطاعت کی جانب رجوع کرنے والا ہے اور ہم نے آسمان سے مبارک یعنی کثیر البرکت پانی برسایا پھر اس سے باغ اگائے اور کاٹے جانے والی کھیتی کا غلہ اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت (بسقت) حال مقدرہ ہے جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں یعنی جوتہ بہ تہ آپس میں جمے ہوئے ہیں بندوں کو روزی دینے کے لئے یہ مفعول لہ ہے اور ہم نے پانی سے مردہ زمین کو زندہ کر دیا (میتا) میں مذکر اور مؤنث دونوں برابر ہیں، اسی طرح یعنی اسی زندہ کرن کے مانند قبروں سے نکلنا ہو گا، پھر تم اس کا کیونکر انکار کرتے ہو اور (افلم ینظروا) میں استفہام تقریری ہے اور معنی یہ ہیں کہ انہوں نے مذکورہ چیزوں کو یقیناً دیکھا اور سجھا اور ان سے پہلے قوم نوح نے فعل کی تانیث قوم کے معنی سے ہے اور رس والوں نے یہ ایک کنواں تھا جہاں یہ اپنے چوپایوں کے ساتھ بود و باش رکھتے تھے اور بتوں کو پوجتے تھے کہا گیا ہے کہ ان کے نبی حنظلہ بن صفوان تھے اور کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ تھے، اور صالح کی قوم ثمود نے اور ہود کی قوم عاد نے اور فرعون نے اور لوط کے بھائی بندوں نے اور ایکہ والوں نے یعنی شعیب کی قوم جھاڑی والوں نے اور تبع کی قوم نے وہ یمن کا بادشاہ تھا جس نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اس نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تھی، مگر قوم نے اس کو جھٹلا دیا مذکورہ تمام قوموں نے قریش کے مانند رسولوں کی تکذیب کی تو سب پر عذاب متحقق ہو گیا، یعنی سب پر عذاب کا نزول متحقق ہو گیا لہٰذا قریش کے آپ کے انکار سے آپ کا دل تنگ نہ ہونا چاہیے، کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ یعنی ہم اس سے نہیں تھکے لہٰذا دوبارہ پیدا کرنے سے بھی نہ تھکیں گے، بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں شک میں ہیں اور (نئی پیدائش) بعث ہے۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: ۔ ق، جمہور کے نزدیک قاف سکون کے ساتھ ہے اور شاذ قراۃ میں کسرہ، فتحہ اور ضمہ پر مبنی بھی پڑھا گیا ہے۔ (صاوی)

قولہ: ۔ ما امن کافر مکۃ بمحمدﷺ شارح علیہ الرحمہ نے مذکورہ عبارت محذوف مان کر اشارہ کر دیا کہ یہ قسم کا جواب محذوف ہے۔

قولہ: ۔ بل عجبوا ان جاء ہم الخ جواب قسم سے یہ اعراض مشرکین مکہ کے احوال شنیعہ کو بیان کرنے کے لئے ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ محمدﷺ پر ایمان نہیں لائے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ انہی میں کے ایک شخص کا رسول بن کر آ جانا ان کے لئے تعجب خیز اور اچنبھے کی بات تھی۔

قولہ: نرجع سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ متنا کا عامل محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے انرجع اذ متنا وکنا تراباً اس حذف پر لفظ رجع دلالت کر رہا ہے۔

قولہ: ۔ غایۃ البعد یعنی عقل و امکان سے بہت دور ہے کہ گلنے سڑنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ ہو جائے۔

قولہ: ۔ مربع صفت مشبہ ہے، مادہ مرج الجھی ہوئی بات، غیر یقینی کی کیفیت، متزلزل حالت، یعنی یہ مشرکین مکہ قرآن اور رسول کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں انہیں خود کسی ایک بات پر قرار نہیں ہے، کبھی آپ کو ساحر اور قرآن کو سحر اور آپﷺ کو شاعر اور قرآن کو شعر اور کبھی آپﷺ کو کاہن اور قرآن کو کہانت کہتے ہیں۔

قولہ: ۔ اقلم ینظروا ہمزہ محذوف پر داخل ہے تقدیر عبارت یہ ہے اعموا فلم ینظروا الی السماء

قولہ: ۔ کائنۃ شارح علام نے کائنۃ محذوف مان کر اشارہ کر دیا کہ فوقھم، السماء سے حال ہے۔

قولہ: ۔ الی السماء ینظروا کا مفعول ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔

قولہ: ۔ کیف بنینھا کیف مفعول مقدم ہے اور جملہ بنینھا سماء سے بدل ہے۔

قولہ: ۔ والارض کا الی السماء کے محل پر عطف ہے، اور والارض فعل محذوف مددنا کی وجہ سے بھی منصوب ہو سکتا ہے جس کی تفسیر مابعد کا فعل کر رہا ہے، ای مددنا الارض مددنا ھا اس صورت میں ما اضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر کے قبیل سے ہو گا۔

قولہ: ۔ الزرع مفسر علام نے الزرع کو محذوف مان کر اشارہ کر دیا کہ الحصید صفت ہے الزرع موصوف کو حذف کر کے صفت کو اس کے قائم مقام کر دیا ہے اور حصید بمعنی محصود ہے یعنی وہ کھیتی جس کی شان کٹنا ہو جیسے گندم، جو وغیرہ

قولہ: ۔ والنخل بسقت بسقات، النخل سے حال مقدر ہے ای قدر اللہ لھا البسوق اس لئے کہ حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے حالانکہ نخل انبات (اگنے) کے وقت باسقات (طویل) نہیں ہوتے بعد میں طویل ہوتے ہیں۔

قولہ: ۔ نخل ذوالحال مفرد ہے اور باسقات حال جمع ہے، حالانکہ حال اور ذوالحال میں مطابقت ضروری ہوتی ہے۔

جواب: نخل منافع کثیر اور نہایت دراز ہونے کی وجہ سے قائم مقام جمع کے ہے۔

قولہ: ۔ لھا طلع نضید یہ اگر نخل سے حال ہو تو حال مترادفہ ہے اور اگر باسقات کی ضمیر سے حال ہو تو حال متداخلہ ہے۔

قولہ: ۔ نضید صفت مشبہ بمعنی منضود اسم معفول گتھا ہوا تہ بہ تہ جما ہوا۔

قولہ: ۔ یستوی فیہ المذکر و المؤنث اس عبارت کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ میتاً بلدۃ کی صفت ہے بلدۃ مؤنث ہے اور میتاً صفت مذکر ہے حالانکہ موصوفصفت میں مطابقت ضروری ہے۔

جواب: ۔ میتا میں مذکر اور مؤنث دونوں برابر ہیں لہٰذا میتاً کا صفت واقع ہونا درست ہے، مگر اس جواب میں نظر ہے اس لئے کہ فعیل کا وزن مذکر و مؤنث میں برابر ہوتا ہے اور میتاً، فعیل کے وزن پر نہیں ہے، اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ بلدۃ مکان کے معنی میں ہے۔

قولہ: ۔ الاستفھام للتقریر، صحیح یہ تھا کہ مفسر علام الاستفھام لانکار والتوبیخ فرماتے۔

قولہ: ۔ و المعنی انھم نظروا وعلموا شارح کی یہ عبارت زائد اور بے محل ہے، اس لئے کہ اگر وہ دیکھتے اور سمجھتے تو ایمان لے آتے مگر ایسا نہیں ہوا۔ (حاشیہ جلالین وصاوی)

قولہ: ۔ لمعنی قوم ای بمعنی امۃ

قولہ: ۔ اصحاب الرس، رس کنواں، امام بخاری نے رس کے عنی معدن کے کئے ہیں اس کی جمع رس اس بتائی ہے۔

قولہ: ۔ عیینا (س) عیی یعنی عیا سے ہم تھک گئے، عاجز ہو گئے۔

تفسیر و تشریح

سورة ق خصوصیات: سورة ق میں بیشتر مضامین آخرت اور قیامت اور مردوں کو زندہ کرنے اور حساب و کتاب سے متعلق ہیں اور سورة حجرات کے آخر میں بھی ان ہی مضامین کا ذکر تھا، اس سے دونوں سورتوں کے درمیان مناسبت بھی معلوم ہو گئی۔

سورة ق کی اہمیت: سورة ق کی ایک خصوصیت اور اہمیت یہ ہے کہ آپ اس سورت کو نماز جمعہ کے خطبہ و عیدین میں اکثر تلاوت فرمایا کرتے تھے، ام ہشام بنت حارثہ کہتی ہیں کہ میرا مکان رسول اللہﷺ کے مکان کے بہت قریب تھا دو سال تک ہمارا اور رسول اللہﷺ کا تنور بھی ایک ہی تھا، فرماتی ہیں کہ مجھے سورة ق یاد ہی اس طرح ہوئی کہ میں جمعہ کے خطبوں میں اکثر آپ کی زبان مبارک سے اس سورت کو سنا کرتی تھی، حضرت جابر سے منقول ہے کہ آپﷺ صبح کی نماز میں بکثرت سورة ق تلاوت فرماتے تھے۔

کیا آسمان نظر آتا ہے؟ افلم ینظروا الی السماء سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا ہے اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے، یہ ہوا کا رنگ ہے، مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی یعنی غور و فکر کرنا بھی مراد ہو سکتا ہے۔

آپﷺ کی بعثت پر مشرکین مکہ کو تعجب: قرآن کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے، اسے تو بیان نہیں کیا گیا اس کے ذکر کرنے کے بجائے بیچ میں ایک لطیف خلاف چھوڑ کر آگے کی بات ’’بل‘‘ سے شروع کر دی گئی ہے آدمی ذرا غور کرے اور اس پس منظر کو بھی نگاہ میں رکھے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ قسم اور بل کے درمیان جو خلاء چھوڑ دیا گیا ہے اس کا مضمون کیا ہے؟ جس بات کی قسم کھائی گئی ہے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ قسم اور بل کے درمیان جو خلاء چھوڑ دیا گیا ہے اس کا مضمون کیا ہے؟ جس بات کی قسم کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اہل مکہ نے محمدﷺ کی رسالت کو ماننے سے انکار کسی معقول بنیاد پر نہیں کیا ہے بلکہ اس سراسر غیر معقول بنیاد پر کیا ہے کہ ان کی اپنی ہی جنس کا ایک بشر اور ان کی اپنی ہی قوم کے ایک فرد کا خدا کی طرف سے قاصد اور پیغمبر بن کے آ جانا ان کے نزدیک سخت قابل تعجب بات تھی، اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں قرآن کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ محمدﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور ان کی رسالت پر کفار کا تعجب بے جا ہے۔

دوسرا تعجب: ان کی عقل میں یہ بات نہیں سماتی تھی کہ انسان کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہونے کے بعد جب کہ اس کے اجزاء منتشر ہو جائیں گے وہ کس طرح پھر سے جمع ہو جائیں گے، یہ تو ان کی اپنی عقل کی تنگی کی بات تھی اس سے تو یہ الزم نہیں آتا کہ اللہ کا علم اور اس کی قدرت بھی تنگ ہو جائے ان کے استعجاب کی دلیل یہ تھی کہ ابتداء آفرینش سے قیامت تک مرنے والے بیشمار انسانوں کے جسم کے اجزاء جو زمین میں بکھر چکے ہیں اور آئندہ بکھرتے چلے جائیں گے، ان کو جمع کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر جزء جس شکل میں جہاں بھی ہے اللہ براہ راست اس کو جانتا ہے اور مزید برآں اس کا پورا ریکارڈ اللہ کے دفتر میں محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے کوئی ایک ذرہ بھی چھوٹا ہوا نہیں ہے، جس وقت اللہ کا حکم ہو گا اسی وقت آناً فاناً اس کے فرشتے اس ریکارڈ سے رجوع کر کے ایک ایک ذرہ کو نکال لائیں گے اور تمام انسانوں کے وہی جسم پھر بنا دیں گے جن میں رہ کر انہوں نے دنیا میں کام کیا تھا۔

یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ آخرت کی زندگی نہ صرف یہ کہ ایسی ہی جسمانی زندگی ہو گی جیسی اس دنیا میں ہے، بلکہ جسم بھی ہر شخص کا وہی ہو گا جو اس دنیا میں تھا، اگر حقیقت یہ نہ ہوتی تو کافر کی بات کے جواب میں یہ کہنا بالکل بے معنی تھا کہ زمین تمہارے جسم میں جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ذرہ ذرہ کا ریکارڈ موجود ہے، جو ذات ایسی علیم وبصیر ہے اور جس کی قدرت اتنی کامل اور سب چیزوں پر حاوی ہے اس کے متعلق یہ تعجب کرنا خود قابل تعجب ہے ماتنقص الارض کی یہ تفسیر حضرت ابن عباسؓ اور مجاہد اور جمہور مفسرینؒ سے منقول ہے۔ (بحر محیط)

کفار مکہ تذبذب اور بے یقینی کا شکار تھے: فی امر مریج، مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں جن میں مختلف چیزوں کا اختلاط و التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابو ہریرہؓ نے مریج کا ترجمہ فاسد فرمایا ہے اور ضحاکؒ و قتادہؒ اور حسن بصری وغیرہ نے مریج کا ترجمہ مختلط اور ملتبس سے کیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے کبھی آپ کو جادو گر بتاتے ہیں تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و نجومی اور قرآن کے بارے میں بھی ان کا یہی حال ہے۔

آگے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جو آسمان اور زمین اور ان کے اندر پیدا ہونے والی بڑی بڑی چیزوں کی تخلیق کے حوالہ سے کیا گیا ہے اس میں آسمان کے متعلق فرمایا ومالھا من فروج یہاں آسمان سے مراد پورا عالم بالا ہے، جسے انسان اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے جس میں دن کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بیشمار تارے چمکتے نظر آتے ہیں۔ جسے آدمی برہنہ آنکھ ہی سے دیکھے تو حیرت طاری ہو جاتی ہے، لیکن اگر دور بین لگا لے تو ایک ایسی وسیع اور عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو ناپیدا کنا رہے، کہیں سے کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی، ہماری زمین سے لاکھوں گنا بڑے سیارے اس کے اندر گنبدوں کی طرح گھوم رہے ہیں، ہمارے سورج سے ہزاروں گنا روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں، ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے، تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم ۳ ارب دوسرے تارے (ثوابت) موجود ہیں اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی ایسی دس لاکھ کہکشاؤں کا پتہ دے رہا ہے، ان لاکھوں کہکشاؤں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلہ پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ ۸۶ ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے، یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم میں اور اس کے مشاہدہ میں آ چکی ہے، خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے ہم اس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتے، اس عظیم کائنات ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق جس کا نام انسان ہے اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے، کائنات کے خلاق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہو جائے گی۔ (فلکیات جدید ملخصاً)

قوم نوحؑ: کذبت قبلھم قوم نوح سابقہ آیات میں کفار کی تکذیب رسالت و آخرت کا ذکر تھا، جس سے رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچنا ظاہر ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے پچھلے انبیاءؑ اور ان کی امتوں کے حالات بیان کئے ہیں کہ ہر پیغمبر کو متکبرین و کفار کی طرف سے ایسی ایذائیں پیش آتی ہیں، یہ سنت انبیاء ہے، اس سے آپ شکستہ خاطر نہ ہوں، قوم نوحؑ کا قصہ قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے حضرت نوحؑ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے قوم کی طرف سے نہ صرف انکار بلکہ قسم قسم کی ایذائیں پہنچتی ہیں۔

اصحاب الرس کون لوگ ہیں؟ رس، عربی زبان میں مختلف معنی میں آتا ہے مشہور معنی کچے کنوئیں کے ہیں، اصحاب الرس سے قوم ثمود کے باقی ماندہ لوگ مراد ہیں جو عذاب کے بعد باقی رہ گئے تھے ضحاک وغیرہ مفسرین نے ان کا قصہ یہ لکھا ہے کہ جب حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی قوم پر عذاب آیا تو ان میں سے چار ہزار آدمی جو حضرت صالحؑ پر ایمان لا چکے تھے وہ عذاب سے محفوظ رہے یہ لوگ اپنے مقام سے منتقل ہو کر ایک مقام پر جس کو اب حضرموت کہتے ہیں جا کر مقیم ہو گئے، حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسام بھی ان کے ساتھ تھے، ایک کنوئیں پر جا کر یہ لوگ ٹھہر گئے اور یہیں صالحؑ کا انتقال ہو گیا، اسی وجہ سے اس مقام کو حضرموت کہتے ہیں، پھر ان کی نسل میں بت پرستی رائج ہو گئی اس کی اصلاحی کے لئے حق تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا جس کو انہوں نے قتل کر ڈالا، اس کے بعد ان پر خدا کا عذاب آیا ان کا کنواں جس پر ان کی زندگی کا انحصار تھا وہ بیکار ہو گیا اور عمارتیں ویران ہو گئیں، قرآن کریم نے اس کا ذکر اس آیت میں کیا ہے وبئر معطلۃ وقصر مشید یعنی چشم عبرت والوں کے لئے ان کا بیکار پڑا ہوا کنواں اور پختہ بنے ہوئے محلات ویران پڑے ہوئے عبرت کے لئے کافی ہیں۔

اصحاب الایکہ: ایکۃ گھنے جنگل اور جھاڑیوں کو ہتے ہیں یہ لوگ ایسے ہی مقام پر آدمی تھے، حضرت شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، ان کی قوم نے نافرمانی کی بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ و برباد ہوئے۔ (معارف القرآن)

قوم تبع: تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب ہے جس طرح کہ قیصر و کسریٰ روم وفارس کے بادشاہوں کا لقب ہے اس کی ضروری تشریح سورة دخان میں گذر چکی ہے۔

ترجمہ: اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم اس کے دل میں نفس کے وسوسہ ڈالنے کو بھی جانتے ہیں (نعلم) نحن کی تقدیر کے ساتھ حال ہے، (بہ) میں باء زائدہ ہے یا تعدیہ کے لئے ہے اور (بہ) کی ضمیر انسان کی طرف لوٹ رہی ہے اور ہم انسان کے علم کے اعتبار سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں (حبل الورید) میں اضافت بیانیہ ہے، وریدان گردن کی دونوں طرف دو رگیں ہیں اور جب اخذ کر لیتے ہیں اور لکھ لیتے ہیں دو اخذ کرنے والے اس کے عمل کو دو فرشتے جو انسان پر مقرر ہیں، انسان کے دائیں جانب اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں (اذ) کا ناصب اذکر مقدر ہے (قعید) بمعنی قاعدان ہے، یہ متبداء ہے اس کا ماقبل اس کی خبر ہے (انسان) کوئی لفظ منہ سے نہیں نکال پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک نگہبان حاضر ہوتا ہے (قعید اور عتید) میں سے ہر ایک تثنیہ کے معنی میں ہے اور موت کی بے ہوشی آخرت کی حقیقت لے کر آپہنچی یعنی موت کی بیہوشی اور شدت کو (لیکر آپہنچی) حتی کہ جو آخرت کا منکر ہے وہ بھی اس کو کھلم کھلا دیکھ لے گا اور وہ امر آخرت نفس شدت ہے، یہ وہی موت ہے جس سے تو بھگتا تھا اور ڈرتا تھا اور بعث کے لئے صور میں پھونکا جائے گا اور یہی پھونکنے کا دن کافر کے لئے وعید کا دن ہو گا اور اس وعید کے دن ہر نفس محشر کی طرف اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا یعنی فرشتہ ہو گا جو اس کو میدان محشر کی طرف ہانک کر لائے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے خلاف اس کے اعمال کی گواہی دے گا اور وہ ہاتھ پیر وغیرہ ہیں اور کافر سے کہا جائے گا دنیا میں بلا شبہ تو آج کے دن تیرے اوپر نازل ہونے والی اس مصیبت سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پردہ ہٹا دیا یعنی تیری غفلت کو زائل کر دیا جس کی وجہ سے تو آج اس نازل ہونے والی مصیبت کا مشاہدہ کر رہا ہے پس آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے یعنی وہ جو اس پر مقرر تھا، عرض کرے گا یہ وہ ہے جو میرے پاس تیار ہے مالک یعنی (دوزخ کے نگران) سے کہا جائے گا ڈال دو جہنم میں حق کے دشمن ہر ضدی کافر کو یعنی ڈلوا ڈالو یا ضرور ڈالو، اور حسن نے (القین) نون خفیہ کے ساتھ پڑھا ہے، نون خفیفہ کو الف سے بدل دیا گیا جو کہ خیر زکوٰۃ سے روکنے والا ہو جو حد سے گذر جانے والا ظالم ہو اور دین میں شک ڈالنے والا ہو جس نے خد کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کیا ہو (الذی) مبتداء متضمن بمعنی شرط ہے اس کی خبر فالقیاہ الخ ہے ایسے شخص کو شدید عذاب میں ڈال دو اس کی تفسیر ماقبل کے مانند ہے وہ شیطان جو اس کے ساتھ رہتا تھا کہے گا اے ہمارے پروردگار! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا یہ تو خود ہی دور و دراز کی گمراہی میں تھا سو میں نے اس کو بلایا تو اس نے میری بات مان لی، اور ہا کہ کافر نے مجھ کو اس نے دعوت دے کر گمراہ کر دیا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا میرے سامنے جھگڑے کی باتیں نہ کرو یہاں جھگڑنا کچھ فائدہ نہ دے گا، میں تو پہلے ہی دنیا میں تمہارے پاس آخرت کے عذاب کی وعید بھیج چکا ہوں اگر تم ایمان نہ لاؤ گے، اور یہ ضرور واقع ہو کر رہے گا۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: ۔ توسوس الوسوسۃ الصوت الخفی ’’وسوسہ‘‘ خفی آواز کو کہتے ہیں جس میں دل میں کھٹکنے والے خیالات بھی شامل ہیں، ولقد خلقنا الانسان جملہ مستانفہ ہے اور لقد میں لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے ای و عزتنا و جلا لنا لقد خلقنا الانسان، الانسان میں الف لام جنس کا ہے جو آدم اور اولاد آدم دونوں پر صادق آتا ہے، مفسر علام کا حال بتقدیر نحن کے اضافہ سے مقصد ایک سوال مقدر کا جواب دینا ہے۔

سوال: ونعلم یہ خلقنا کی ضمیر سے حال ہے اور مضارع مثبت جب حال واقع ہوتا ہے تو پھر واؤ حالیہ نہیں آتا صرف ضمیر کافی ہوتی ہے واؤ اس وقت آتا ہے جب حال جملہ اسمیہ ہو اور یہاں ایسا نہیں ہے۔

جواب: ۔ یہاں حال جملہ اسمیہ ہے جس کی طرف مفسر علام نے حال بتقدیر نحن کہہ کر اشارہ کر دیا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ونحن نعلم مبتداء خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر حال واقع ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔

قولہ: ۔ ماتوسوس ما مصدریہ بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے تقدیر عبارت یہ ہو گی و نعلم وسوسۃ نفسہ ایاہ یعنی انسان کے دل میں نفس کے وسوسہ ڈالنے کو ہم جانتے ہیں اور ما موصولہ بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں بہ کی ضمیر عائد ہو گی اور تقدیر عبارت یہ ہو گی ونعلم الامر الذی تحدت نفسہ بہ یعنی ہم اس بات کو جانتے ہیں جس کو اس نفس اس کے دل میں ڈالتا ہے، ما موصولہ ہونے کی صورت میں بہ کی باء زائدہ ہو گی، اور ضمیر ماموصولہ کی طرف راج عہو گی اور اگر مامصدریہ ہو تو باء تعدید کے لئے ہو گی اور ضمیر انسان کی طرف راجع ہو گی۔ (ترویح الارواح)

قولہ: ۔ نحن اقرب الیہ بالعلم

سوال: بالعلم کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے؟

جواب: ۔ مفسر علام نے بالعلم کا اضافہ کر کے اشارہ کر دیا کہ یہاں قربت سے قربت علمیہ مراد ہے نہ کہ قربت جسمیہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جسم سے منزہ ہے، حبل الوریہ سے شدت قرب کی طرف اشارہ ہے، حبل رگ کو کہتے ہیں اور حبل الورید شہ رگ کو کہتے ہیں، جس کو رگ جاں بھی کہا جاتا ہے، یہ رگیں دو ہوتی ہیں گردن کی دونوں جانب ایک ایک، ان کے کٹ جانے سے یقیناً موت واقع ہو جاتی ہے، ذبیحہ میں ان دونوں رگوں کا کٹنا ضروری ہے۔

قولہ: ۔ ما یعملہ یہ یتلقی کا مفعول ہے یعنی انسان جو کچھ کرتا ہے اس کو متعین کردہ دونوں فرشتے اچک لیتے ہیں اور ثبت کر دیتے ہیں۔

قولہ: ۔ ای قاعدان یہ بھی ایک شبہ کا جواب ہے۔

شبہ: قعید جملہ ہو کر المتلقیان سے حال ہے ذوالحال تثنیہ ہے اور حال مفرد ہے حالانکہ دونوں میں مطابقت ضروری ہے۔

دفع: قعید بروزن فعیل ہے اور فعیل کے وزن میں مفردو تثنیہ و جمع سب برابر ہیں، لہٰذا قعید مفرد تثنیہ کے قائم مقام ہے،

قعید متبداء اور اس کا ماقبل یعنی عن الیمین وعن الشمال اس کی خبر مقدم ہے پھر جملہ ہو کر المتلقیان سے حال ہے۔

قولہ: ۔ لدیہ رقیب، رقیب مبتداء مؤخر ہے اور لدیہ خبر مقدم ہے۔

قولہ: ۔ عتید تیار، حاضر، یہ عتادٌ سے ہے جس کے معنی ضرورت سے پہلے کسی چیز کے ذخیرہ کر لینے کے ہیں۔

قولہ: ۔ وھو نفس الشدۃ بہتر ہوتا کہ مفسرؒ اس عبارت کو حذف فرما دیتے اس لئے کہ ماقبل کے ہوتے ہوئے اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر ہو کا مرجع امر آخرت ہو اور شدۃ سے مراد امر شدید ہو اور وہ احوال آخرت ہیں تو کچھ بات بن سکتی ہے۔

قولہ: ۔ الق، الق یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لقیادر اصل الق، الق تھا تکرار فعل کے ساتھ یعنی ڈالو ڈالو، ایک فعل کو حذف کر کے اس کی ضمیر فاعل کو اول فعل کے ساتھ ملا دیا، جس کی وجہ سے ضمیر مثنیٰ ہو گئی۔

قولہ: ۔ اوالقین اس کا مطلب یہ ہے کہ الیا میں الف تثنیہ کا نہیں ہے بلکہ نون تاکید خفیفہ سے بدلا ہو ہے۔

سوال: ۔ نون تاکید خفیفہ کو الف سے حالت وقف میں بدلتے ہیں نہ کہ وصل میں۔

جواب: ۔ حالت وصل کو حالت وقف پر محمول کر لیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ القیا تثنیہ ہی کا صیغہ ہے اور مراد اس سے سابق اور شہید ہیں۔

قولہ: ۔ عنید عناد رکھنے والا، مخالف، ضدی، سرکش (جمع) عند آتی ہے۔

قولہ: ۔ الشدید یعنی القیا میں تثنیہ لانے کی جو تین توجیہ سابق میں کی گئی ہیں وہی فالقیہ میں ہو گی۔

قولہ: ۔ قال قرینہ الشیطان ربنا ما اطغیتہ، ربنا ما اطغیتہ یہ کافر کے قول ہو اطغانی بد عاۂ لی کے جواب میں ہے یعنی جب کافر رب العالمین کے حضور میں عذر پیش کرتے ہوئے کہے گا، اس یعنی شیطان نے مجھے گمراہ کیا تھا تو اس کے جواب میں شیطان کہے گا ربنا ما اطغیتہ مگر مفسر علامہ کے لئے مناسب تھا کہ ہو اطغانی کو مقدم کرتے۔

قولہ: ۔ لاتختصموا یہ کافروں اور ان کے ہمنشینوں سے خطاب ہے۔

قولہ: ۔ وقد قدمت الیکم بالوعید ظاہر یہ ہے کہ یہ لاتختصموا سے حال ہے مگر یہ دشوار ہے اس لئے کہ حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے حالانکہ یہاں ایسا نہیں ہے اس لئے کہ تقدیم وعید دنیا میں ہوئی اور اختصام آخرت میں۔

قولہ: ۔ ولامفھوم لہ یعنی لاظلم الیوم کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے، یعنی یہ مطلب نہیں ہے کہ آج ظلم نہیں ہے آج کے علاوہ میں ظلم ہے۔

تفسیر و تشریح

ربط آیات: سابقہ آیات میں منکرین حشر و نشر اور مردوں کے زندہ ہونے کو بعید از عقل و امکان کہنے والوں کے شبہات کا ازالہ تھا، آیات مذکورہ میں بھی علم الٰہی کی وسعت اور ہمہ گیری کا بیان ہے کہ انسان کے اجزاء منتشرہ کا علم ہونے سے بھی زیادہ بڑی بات تو یہ ہے کہ ہم ہر انسان کے دل میں آنے والے خیالات ووسوں کو بھی ہر وقت اور ہر حال میں جانتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انسان سے اتنے زیادہ قریب ہیں کہ اس کی رگ جان کو جس پر اس کی زندگی کا مدار وہ بھی اتنی قریب نہیں، اس لئے ہم اس کے حالات کو خود اس سے بھی زیادہ جانتے ہیں جیسا کہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان عرض کیا جا چکا ہے، کہ نحن اقرب الیہ من حبل الورید میں قرب سے مراد قربت علمیہ ہے نہ کہ جسمیہ جمہور مفسرین کا یہی خیال ہے۔

اللہ تعالیٰ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے: من حبل الورید، حبل الورید میں اضافت بیانیہ ہے یعنی وہ رگیں جو ورید ہیں، جسم حیوانی میں دو قسم کی رگیں ہوتی ہیں، کچھ تو وہ ہیں جو جسم حیوانی میں خون کی سپلائی کا کام کرتی ہیں ان کا منبت جگر ہے اور دوسری قسم کی شریان کہلاتی ہیں، ان کا کام جسم حیوانی میں روح سپلائی کرنا ہے، ان کا منبت قلب ہے اور یہ بہ نسبت ورید کے باریک ہوتی ہیں، مذکورہ اصطلاح طبی ہے ضروری نہیں کہ آیت میں ورید کا لفظ طبی اصطلاح کے مطابق ہی استعمال ہوا ہو بلکہ قلب سے نکلنے والی رگوں کو بھی لغت کے اعتبار سے ورید کہا جا سکتا ہے اور چونکہ اس جگہ مراد انسان کے قلبی خیالات سے مطلع ہونا ہے اس لئے ورید سے شریان مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔

یتلقی المتلقیان ای یاخذان ویثبتان، فتح القدیر میں شوکانی نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم انسان کے تمام حالات کو جانتے ہیں بغیر اس کے کہ ہم فرشتوں کے محتاج ہوں، جن کو ہم نے انسان کے اقوال و احوال لکھنے کے لئے مقرر کیا حالات کو جانتے ہیں بغیر اس کے کہ ہم فرشتوں کے محتاج ہوں، جن کو ہم نے انسانوں کے اقوال و احوال لکھنے کے لئے مقرر کیا ہے، یہ فرشتے تو ہم نے صرف اتمام حجت کے لئے مقرر کئے ہیں، بعض کے نزدیک دو فرشتوں سے نیکی اور بدی لکھنے والے فرشتے مراد ہیں اور بعض کے نزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔

اعمال کو ریکارڈ کرنے والے فرشتے: حضرت حسن بصریؒ نے مذکورہ آیت عن الیمین وعن الشمال قعید تلاوت فرما کر، کہا:

’’اے ابن آدم! تیرے لئے نامہ اعمال بچھا دیا گیا ہے اور تجھ پر دو معزز فرشتے مقرر کر دیئے گئے ہیں، ایک تیری دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب داہنی جانب والا تیری حسنات لکھتا ہے اور بائیں جانب والا تیری سیئات، اب اس حقیقت کو سامنے رکھ کر جو تیرا جی چاہے عمل کر کم کر یا زیادہ، یہاں تک کہ جب تو مرے جائے گا تو یہ صحیفہ یعنی نامہ اعمال لپیٹ دیا جائے گا اور تیری گردن میں ڈال دیا جائے گا جو تیرے ساتھ قبر میں جائے گا اور رہے گا، یہاں تک کہ جب تو قیامت کے روز قبر سے نکلے گا تو اس وقت حق تعالیٰ فرمائے گا وکل انسان الزمنہ طائرہ فی عنقہ ونخرج لہ یوم القیامۃ کتاباً یلقاہ منشوراً اقراء کتابتک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً‘‘

ترجمہ: ۔ ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کی گردن میں لگا دیا ہے اور قیامت کے روز وہ اس کو کھلا ہوا پائے گا، اب اپنا اعمال نامہ خود پڑھ لے اور تو خود ہی اپنا حساب لگانے کے لئے کافی ہے۔ (معارف)

انسان کا ہر قول رکارڈ کیا جاتا ہے: ما یلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کر لیتا ہو، حضرت حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھتے ہیں کہ جن میں کوئی ثواب یا عقاب کی بات ہو۔

علی بن ابی طلحہ نے ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہو جاتے ہیں، اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے خواہ اس میں کوئی ثواب و عقاب کی بات ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ میں جمعرات کے روز اس پر فرشتے نظر ثانی کرتے ہیں، اور صرف وہ کلمات باقی رکھتے ہیں جن میں کوئی ثواب یا عقاب ہو باقی کو نظر اندز کر دیتے ہیں، قرآن کریم میں ویمحوا اللہ مایشاء ویثبت وعندہ ام الکتاب کے مفہوم میں یہ محود اثبات بھی داخل ہے، قال لاتختصموا الدی الخ یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیاطین سے کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے میں نے تو پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ سے ان وعیدوں سے تم کو آگاہ کر دیا تھا۔

ترجمہ: جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ (یوم) کا ناصب ظلام ہے، (نقول) نون ویاء کے ساتھ ہے استفہام، جہنم سے اس کے بھرنے کے وعدے کی تحقیق کے لئے ہے اور جہنم جواب دے گی، کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے؟ یعنی میرے اندر جو چھ بھرا گیا اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں یعنی میں بھر گئی اور جنت پرہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی، اتنی کہ ذرا بھی ان سے دور نہ ہو گی چنانچہ وہ اس کو دیکھیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ جو کچھ نظر آ رہا ہے وہی ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا، یاء اور تاء کے ساتھ اور للمتقین سے اس کا قول لکل اواب بدل ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی طاعت کی طرف رجوع کرنے والا اور حدود کی حفاظت کرنے والا ہو جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو یعنی اس سے ڈرتا ہو حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے اور اس کی طاعت کی طرف متوجہ ہونے والا دل لایا ہو اور پرہیز گاروں سے یہ بھی کہا جائے گا اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ یعنی ہر اندیشہ سے بے خوف ہو کر، یا سلامتی کے ساتھ، یا سلام کرو اور داخل ہو جاؤ یہ دن جس میں دخول حاصل ہوا ہے، دائمی طور پر جنت میں داخل ہونے کا دن ہے ان کے لئے وہاں جو چاہیں گے دائمی طور پر ملے گا (بلکہ) اور ہمارے پاس ان کے عمل سے اور طلب سے زیادہ ہے، اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں یعنی قریش سے پہلے کافروں میں سے بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں وہ ان سے طاقت میں بہت زیادہ تھے تمام شہروں کو چھان مارا تھا کیا ان کو اور دوسروں کو موت سے فرار کی کوئی جگہ ملی؟ نہیں ملی، بلا شبہ اس مذکور میں ہر صاحب دل (صاحب عقل) کے لئے نصیحت ہے اور اس کے لئے جو حضوری قلب کے ساتھ نصیحت سننے کے لئے کان لگائے اور یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے چھ دنوں میں پیدا کیا، ان میں کا پہلا دن اتوار ہے اور ان کا آخری جمعہ ہے، اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں، یہ آیت یہود کے اس قول کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی کہ ’’ہفتہ کے روز اللہ تعالیٰ نے آرام فرمایا‘‘ اور تکان کا اس سے منتفی ہونا باری تعالیٰ کے مخلوق کی صفات سے منزہ ہونے کی وجہ سے ہے اور اس کے اور اس کے غیر کے درمیان مجانست نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی شئی کے کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس کے لئے کن کہہ دیتا ہے تو وہ شئی موجود ہو جاتی ہے پس یہ یعنی یہود وغیرہ تشبیہ و تکذیب کی جو بات کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں یہ آنحضرتﷺ کو خطاب ہے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے حمد بیان کرتے ہوئے نماز پڑھئے طلوع شمس سے پہلے یعنی صبح کی نماز اور غروب سے پہلے یعنی ظہر اور عصر کی نماز اور رات کے کسی وقت میں تسبیح بیان کریں یعنی مغرب و عشاء کی نماز پڑھئے، اور نماز کے بعد بھی ادبار ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ دبر کی جمع ہے اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ادبر کا مصدر ہے، مطلب یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل مسنونہ پڑھئے اور کہا گیا ہے کہ ان اوقات میں حمد کے ساتھ تسبیح پڑھنا مراد ہے اور اے مخاطب میری بات سن جس دن ایک پکارنے والا اور وہ اسرافیل (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں آسمان سے قریبی مکان سے پکارے گا اور وہ بیت المقدس کا صخرہ (بڑا پتھر) ہے (صخرہ) زمین سے آسمان کی طرف قریب ترین مقام ہے، وہ پکارنے والا کہے گا اے بوسیدہ ہڈیو اور اکھڑے ہوئے جوڑوں اور پارہ پارہ گوشتو اور بکھرے ہوئے بالو، اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ مقدمہ کے فیصلے کے لئے جمع ہو جاؤ جس دن بعث کے لئے پکار کو پوری مخلوق سن لے گی اور یہ اسرافیل کا نفخہ ثانیہ ہو گا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ نفخہ اسرافیلؑ کی پکار سے پہلے یا بعد میں ہو وہ نداء و سماع کا دن قبروں سے نکلنے کا دن ہو گا اور یوم کا ناصب ینادی مقدر ہے یعنی وہ اپنی تکذیب کے انجام کو جان لیں گے، بلا شبہ ہم جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے جس دن زمین ان سے پھٹ جائے گی حال یہ کہ وہ جلدی کرنے والے ہوں گے (تشقق) شین کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ تاء ثانیہ کو اصل میں ادغام کر کے تو دوڑتے ہوئے (نکل پڑیں گے) سراعاً، سریع کی جمع ہے سراعاً مقدر سے حال ہے، ای فیخر جون مسرعین یہ جمع کر لینا ہم پر (بہت) ہی آسان ہے اس میں موصوف اور صفت کے درمیان صفت کے متعلق کا فصل ہے، اختصاص کے لئے اور یہ (فصل) مضر نہیں ہے اور (ذلک) سے معنی حشر کی جانب اشارہ ہے جو کہ ذلک کا مخبر بہ ہے اور وہ (معنی) فناء کے بعد زندہ کرنا اور پیشی اور حساب کے لئے جمع کرنا ہے ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ کفار مکہ کہتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں اور یہ حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے، سو آپ ان کو قرآن کے ذریعہ سمجھاتے رہئے جو میری وعید سے ڈریں اور وہ مومن ہیں۔

تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد

قولہ: یوم ناصبہ ظلام، یوم کے منصوب ہونے کی دو وجہ ہو سکتی ہیں اول یہ کہ اذکر فعل محذوف ناصب ہو، دوسرے یہ کہ سابقہ آیت میں ظلام ناصب ہو مفسر علام نے دوسری صورت کو اختیار کیا ہے۔

قولہ: ھل امتلات استفہام تحقیقی یعنی تقریری ہے اللہ نے جہنم سے جو بھرنے کا وعدہ فرمایا اس کے محقق اور پورا ہونے کو ثابت کرنے کے لئے یعنی میں نے تجھ سے جو بھرنے کا وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا؟ جہنم استفہام سوالی کے طور پر جواب دے گی، کیا کچھ اور ہے؟ یعنی اب مزید کی میرے اندر گنجائش نہیں ہے، جواب اگرچہ بصورت استفہام ہے مگر سوال معنی میں خبر کے ہے، جس کی طرف مفسر علام نے قدامتلات سے اشارہ کیا ہے۔

سوال: جہنم کے سوال کی صورت میں جواب دینے میں کیا فائدہ ہے؟

جواب: تاکہ سوال و جواب میں مطابقت ہو جائے۔

قولہ: مکاناً

سوال: مکاناً کو محذوف ماننے سے کیا فائدہ ہے؟

جواب: مکاناً محذوف مان کر اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ غیر بعید جنۃ کی صفت نہیں ہے بلکہ مکاناً محذوف کی صفت ہے اس لئے کہ اگر جنۃ کی صفت ہوتی تو غیر بعیدۃ ہوتی۔

قولہ: غیر بعید ازلفت الجنۃ کی تاکید ہے اس لئے کہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، جیسا کہ عرب بولتے ہیں عزیز غیر ذلیل (یا) قریب غیر بعید

قولہ: لکل اواب متقین سے اعادہ جار کے ساتھ بدل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہذا موصوف اور ما توعدون اس کی صفت موصوف صفت سے مل کر مبتداء اور لکل اواب اس کی خبر ہے۔

قولہ: خافہ ولم یرہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بالغیب حال ہے یا تو مفعول یعنی رحمٰن سے حال ہے یعنی وہ رحمٰن سے ڈرا، حال یہ ہے کہ وہ رحمٰن نظروں سے غائب ہے، یا پھر خشی کے فاعل سے حال ہے، یعنی وہ اللہ سے ڈرا حال یہ ہے کہ اس نے اللہ کو دیکھا نہیں ہے۔

قولہ: لھ، لھم کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ لھم، محیص مبتداء کی خبر محذوف ہے اور من زائدہ ہے اور استفہام انکاری ہے، مطلب یہ کہ سابقہ امتوں نے دنیا چھان ماری مگر ان کو کہیں موت سے پناہ نہیں ملی، اسی طرح تم کو بھی اے اہل مکہ موت سے کہیں پناہ نے ملے گی۔

قولہ: من لغوب، من فاعال پر زائدہ ہے لقوب (ن) سے مصدر ہے بمعنی تعب تکان

قولہ: لعم المجانسۃ بعض نسخوں میں عدم المماشتۃ ہے یعنی خالق و مخلوق کے درمیان میں کسی قسم کا جنسی ربط وتعلق نہ ہونے کی وجہ ہے۔

قولہ: مقولی، مقولی مقدر مان کر اشارہ کر دیا کہ مقولی استمع کا مفعول ہے۔

قولہ: یعلمون عاقبۃ تکذیبھم یہ یوم یناد المناد کا عامل ناصب ہے، مفسرؒ کے لئے بہتر تھا کہ عامل کو معمول کے ساتھ ہی ذکر کرتے۔

قولہ: یوم تشقق یہ اپنے ماقبل یوم الخروج سے بدل ہے اور انا نحن الخ درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔

قولہ: بادغام التاء الثانیۃ فی الاصل فیھا، تشقق اصل میں تتشقق تھا، اصل میں تاء ثانیہ کو شین میں ادغام کر دیا۔

قولہ: سراعاً، فیخرجون کی ضمیر سے حال ہے اور عنھم کی ضمیر سے بھی حال ہو سکتا ہے۔

قولہ: فیہ فصل بین الموصوف والصفۃ بمتعلقھا، علینا موصوف اور صفت کے درمیان فاصل ہے، تقدیر عبارت یہ تھی ذلک حشر یسیر علینا اختصاص کے لئے علینا جار مجرور کو مقدم کر دیا یعنی یہ حشر ہمارے ہی لئے آسان ہے اور فصل چونکہ اجنبی کا نہیں اس لئے مضر بھی نہیں ہے۔

قولہ: ذلک اشارۃ الی معنی الحشر المخبر بہ عنہ مذکورہ عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔

سوال: ذلک حشر علینا یسیر میں مخبر عنہ اور مخبربہ دونوں واحد ہیں اس لئے کہ ذلک کا مشار الیہ حشر ہے جو کہ مخبر عنہ ہے اور یسیر مخبر بہ ہے حشر موصوف یسیر اس کی صفت ہے، موصوف صفت ایک ہوا کرتے ہیں اس طریقہ سے مخبربہ اور مخبر عنہ واحد ہو گئے حالانکہ ان کو الگ ہونا چاہیے۔

جواب: ۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ذلک کا مشار ایہ حشرٌ نہیں بلکہ اس کے معنی میں ہیں یعنی احیاء بعد الفناء اور جمع بین الاجزاء المتفرقۃ جو کہ مخبر عنہ ہے اور یسیر مخبر بہ ہے، اسی طرح مخبر عنہ اور مخبربہ دونوں الگ الگ ہو گئے، فلا اعتراض علیہ

تفسیر و تشریح

یوم نقول لجھنم ھل امتلات و تقول ھل من مزید اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورة آلم السجدۃ میں فرمایا ہے (لاملئن جھنم من الجنۃ و الناس اجمعین) میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا، اس وعدہ کا جب ایفاء ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی یا نہیں؟ وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے جہنم سے اللہ تعالیٰ کی یہ گفتگو اور جہنم کا جواب دینا اللہ کی قدرت سے قطعاً بعید نہیں ہے، خاص طور پر موجود ہترقی کے دور نے تو یہ ثابت کر دیا کہ بے جان و بے روح چیزوں کا بولنا نہ صرف یہ کہ ممکن ہے بلکہ واقع اور رات دن کا مشاہدہ ہے کہ پتھر اور دھات سے بنی ہوئی چیزیں ٹیپ رکارڈ اور سی ڈی، فلوپی وغیرہ کے بولنے کا ہم رات دن مشاہدہ کرتے ہیں، بعض حضرات نے اس سوال و جواب کو مجاز پر محمول کیا ہے اور محض صورت حال کی منظر کشی کے لئے جہنم کی کیفیت کو سوال و جواب کی شکل میں ذکر کیا گیا ہے جیسے مثلاً آپ اپنے قلم سے یوں کہیں کہ تو چلتا کیوں نہیں تو قلم اس کے جواب میں کہے کہ میں اس لئے نہیں چلتا کہ میرے اندر روشنائی نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزیں ہمارے لئے جامد اور صامت ہیں ان کے متعلق یہ سمجھ لینا درست نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی ویسی ہی جامد و صامت ہوں گی، خالق اپنی ہر مخلوق سے کلام کر سکتا ہے اور اس کی ہر مخلوق اس کے کلام کا جواب دے سکتی ہے، خواہ ہمارے لئے اس کی زبان کتنی ہی ناقابل فہم ہو۔

اور اب کون لوگ ہیں؟ لکل اواب حفیظ یعنی جنت کا وعدہ ہر اس شخص سے ہے جو اواب اور حفیظ ہو اواب کے معنی ہیں رجوع کرنے والا اور مراد وہ شخص ہے جو معاصی سے ال لہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود اور شعبی اور مجاہد نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کرے، اور حضرت عبید بن عمیر نے فرمایا اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعاء پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سر زد ہوئے، دعا یہ ہے:

سبحانک اللھم وبحمدک اشھدان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک

اور حفیظ کے معنی حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتلائے ہیں کہ جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھے تاکہ ان سے رجوع کر کے تلافی کیر، اور ایک روایت میں حفیظ کے معنی حافظ لا مر اللہ کے بھی منقولہ ہیں یعنی وہ شخص جو احکام کو یاد رکھے اور حدود اللہ کی حفاظت کرے، حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جو شخص شروع دن میں چار رکعت (اشراق کی) پڑھ لے وہ اواب اور حفیظ ہے۔ (قرطبی، معارف)

من خشی الرحمٰن بالغیب وجاء بقلب منیب ’’خشیت بالغیب‘‘ کا مطلب دنیا میں ڈرنا ہے، جہاں نار و نعیم دونوں غائب ہیں اور قلب منیب سے قل سلیم مراد ہے۔

فنقبوا فی البلاد ھل من محیص نقبوا تنقیب سے ہے اس کے اصل معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں محاورات میں دور دراز ملکوں کے سفر کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ (کمافی القاموس)

محیض ظرف مکان ہے، پناہ گاہ، لوٹنے کی جگہ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ال لہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں مگر دیکھو کہ انجام کا ران کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں، نہ ان کو کہیں پناہ ملی اور نہ راہ فرار، یعنی خدا کی طرف سے جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو کیا ان کی وہ طاقت ان کو بچا سکی؟ اور کیا دنیا میں پھر کہیں ان کو پناہ مل سکی، اب آخر تک اس بھروسہ پر یہ امید رکھتے ہو کہ خدا کے مقابلہ میں بغاوت کر کے تمہیں کہیں جگہ مل جائے گی۔

ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام و ما مسنا من غلوب امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈالی اور اس کو بنا کر ہم تھک نہیں گئے کہ اس کی تعمیر نو ہمارے بس میں نہ رہی ہو، اب اگر یہ نادان لوگ آپ سے زندگی بعد الموت کی خبر سن کر تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو، ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر آپ مامور کئے گئے ہیں اس کو بیان کرتے چلے جائیں۔

اس آیت میں ضمنی طور پر یہود و نصاریٰ پر ایک لطیف طنز بھی ہے، جس کا بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور (ہفتہ کو) ساتویں دن آرام کیا اور عرش پر جا کر لیٹ گیا (پیدائش ۲: ۲) اگرچہ مسیحی پادری اس بات سے شرمانے لگے ہیں اور انہوں نے کتاب مقدس کے اردو ترجمہ میں آرام کیا کو ’’فارغ ہوا‘‘ سے بدل دیا ہے مگر کنگ جیمس کی مستند انگریزی بائبل میں (And he rested on the seventh Day) کے الفاظ صاف موجود ہیں اور یہی الفاظ اس ترجمہ میں بھی پائے جاتے ہیں جو ۱۹۵۴ء میں یہودیوں نے فلیڈ لفیا سے شائع کیا ہے، عربی ترجمہ میں بھی فاستراح فی الیوم السابع کے الفاظ ہیں۔

یوم یناد المناد من مکان قریب ابن عسا کرنے زید بن جابر شافعیؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ فرشتہ اسرافیل ہو گا جو بیت المقدس کے صحرہ پر کھڑا ہو کر ساری دنیا کے مردوں کو خطاب کرے گا، اے گلی سڑی ہڈیو! اور ریزہ ریزہ ہونے والی کھالو! اور بکھر جانے والے بابو! سن لو، تم کو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لئے جمع ہو جاؤ۔ (مظہری)

یوم یسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج یہ نفخہ ثانیہ کا بیان ہے جس سے دوبارہ عالم کو زندہ کیا جائے گا اور مکان قریب سے مراد یہ ہے کہ اس وقت اس فرشتے کی آواز پاس اور دور کے سب لوگوں کو اس طرح پہنچے گی کہ گویا پاس ہی ہی سے پکار رہا ہے اور بعض حضرات نے مکان قریب سے مراد صخرہ بیت المقدس لیا ہے کیونکہ وہ زمین کا وسط ہے۔ (قرطبی)

یوم تشقق الارض عنھم سراعاً یعنی جب زمین پھٹ کر سب مردے زمین سے نکل آئیں گے تو سب لوگ اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے، نبی کریمﷺ نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے نکلنے والا میں ہوں گا انا اول من تنشق عنہ الارض (صحیح مسلم کتاب الفضائل) جامع ترمذی میں حضرت معاویہ بن حیدہؓ سے روایت ہے کہ رسوال اللہﷺ نے دست مبارک سے ملک شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔

من ھھنا الی ھھنا تحشرون رکبانا ومشاۃ وتجرون علی وجوھکم یوم القیامۃ (الحدیث)

یہاں سے اس طرف (یعنی شام کی طرف) تم سب اٹھائے جاؤ گے کچھ لوگ سوار اور کچھ پیدل اور بعض کو چہروں کے بل گھسیٹ کر قیامت کے روز اس میدان میں لایا جائے گا۔ (قرطبی، معارف)

٭٭٭