مطالبِ ارمغانِ حجاز ۔۔۔ مولانا غلام رسول مہرؔ

علامہ اقبال کے  مجموعے ارمغان حجاز کے فارسی کلام کی شرح پر مشتمل

مطالبِ ارمغانِ حجاز

وصی اللہ کھوکھر کی یونی کوڈ ٹائپنگ کی پیشکش

از قلم

مولانا غلام رسول مہرؔ

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں …….

 

ابلیس کی مجلس شوریٰ

ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دوں!

ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں!

اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کار ساز

جس نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب

میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں

میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں

کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند

کون کر سکتا ہے اس میں نخل کہن کو سرنگوں؟

تعارف:

یہ نظم علامہ نے ۱۹۳۶ء میں لکھی۔ بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں دنیا نے چند ایک انقلاب دیکھے۔ مثلاً ۱۹۱۷ء میں روس میں سیاسی انقلاب کیمونزم آیا۔ اس سے پہلے فرد واحد یعنی بادشاہ کی حکومت تھی۔ ۱۹۳۲ء میں اٹلی میں فاشسٹ ریاست وجود میں آئی۔ جرمنوں کو نازی ازم سے پالا پڑا۔ پھر جاپان اور سپین میں بھی آمرانہ نظام قائم ہوئے۔ غرضیکہ دوسری جنگ عظیم (۱۹۳۹) تک کئی ایک سیاسی اور معاشی انقلاب آئے۔ اس نظم کو مذکورہ پس منظر کے حوالے سے پڑھا جائے تو اس کے معنی واضح ہو جائیں گے۔

معانی:

مجلس شوریٰ: باہمی مشورہ کرنے کی مجلس، ایسی مجلس یا ایسا ادارہ جس میں چند نمائندے ہوں مشورہ دینے والے۔ عناصر: مراد عناسر اربعہ، چار عناصر۔ پانی، آگ، ہوا، مٹی۔ جن کی آمیزش سے دنیا وجود پذیر ہوئی۔ دنیائے دوں: گھٹیا یا پست دنیا۔ ساکنان: جمع ساکن کی۔ رہنے والے۔ عرش اعظم: مراد فرشتے جو خدا تعالیٰ کے حضور موجود رہتے ہیں۔ تمناؤں کا خون ہونا: ناکامی سے دو چار ہونا۔ آمادہ: تیار۔ کارساز: کام بنانے والا، مراد خالق، خدا۔ جہاں کاف و نون: اشارہ ہے ایک قرآنی آیت کی طرف جس میں ارشاد ہوا ہے کہ جب خدا کسی چیز کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کو کہہ دیتا ہے ’’کن‘‘ یعنی ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔ (آل عمران، آیہ ۴۷) فرنگی: انگریز۔ اہل یورپ۔ ملوکیت: بادشاہت۔ منعم: مالدار، دولت مند۔ (آتش سوزاں: جلا دینے وا لی آگ۔ سوز دروں: مراد دل کی آگ تپش۔ نخل کہن: پرانا درخت۔ سرنگوں: الٹا۔

ترجمہ و تشریح:

خدا کی طرف سے جب ابلیس کو مردود و ملعون ٹھہرایا گیا اور اسے زمین پر اتر جانے کا حکم ملا۔ تو اس میں گویا اپنی توہین محسوس کی۔ پھر اس نے جو کردار ادا کیا، علامہ نے اپنی دو ایک دوسری نظموں میں ان کی عکاسی کی ہے۔ اس نظم کے پہلے بند میں ابلیس کو زور شور سے اپنی بڑائی کرتے اور فرشتوں کی تضحیک نیز خالق کائنات پر ایک طرح سے تنقید کرتے دکھایا گیا ہے۔ پورے بند میں مختلف حوالوں سے بھر پور طنز سے کا لیا گیا ہے۔

ابلیس اس فانی دنیا کو عناصر اربعہ قرار دے کر اسے ساکنان عرش اعظم یعنی فرشتوں (جن میں وہ بھی کبھی شامل تھا) کی ناکامیوں کا مظہر بتاتا ہے۔ خدا نے ’’کن‘‘ کہہ کر (یعنی ہو جا اور دنیا وجود میں آ گئی) جس دنیا کی تخلیق کی تھی آج وہ خود اسے برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ (اس دور کے سیاسی، معاشی اور مذہبی وغیرہ حالا کے حوالے سے یہ کہا ہے۔) اس دور کے سیاسی، معاشی اور مذہبی وغیرہ حالات کے حوالے سے یہ کہا ہے) انگریزوں یا اہل یورپ نے تجارت وغیرہ کی آڑ میں جس طرح دوسرے ملکوں پر قبضہ کیا تھا اسے ابلیس نے اپنا کارنامہ بتایا ہے۔ یعنی انگریزوں کو بادشاہی کا خواب اس نے دکھایا تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ دنیا پر قابض ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی طرح ابلیس کے بقول اس نے عبادت گاہوں کا جادو توڑا یعنی ہر قوم… کیا مسلم کیا ہندو اور کیا عیسائی وغیرہ… میں مذہب سے دوری و بیزاری کا ساماں کیا۔ غریبوں کو تقدیر کا سبق دینے سے مراد ہے کہ وہ جد و جہد کر کے اپنی حالت سنوارنے کی بجائے اپنی سستی و کاہلی کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر مست ہو گئے۔ دوسری طرف دولتمندوں میں اتنی حرص بڑھائی کہ انہیں دولت سمیٹنے کے سوا کوئی کام نہ رہا۔ اور یوں صنعتوں کے حوالے سے اور دوسرے سرمایہ دارانہ نظاموں سے معاشی استحصال کی روش نے تیزی اختیار کی۔ آخری دو اشعار میں ابلیس گویا للکار کر مذکورہ سیاسی و معاشی زندگی کے مظاہر میں اپنے اہم کردار کا اعلان کر رہا ہے۔ اس کے مطابق اس دنیا میں مختلف قسم کے جو بھی شر اور فساد پھیلے ہیں وہ سب اس کی مسلسل محنت اور بے حد جد و جہد کے نتیجے میں پھیلے ہیں اور یہ کہ جس نخل کہن (مراد فتنہ و فساد، شر، سیاسی و معاشی استحصال اور دوسرے منفی ہنگامے) کی شاخوں کو اس نے پانی دیا ہو، اسے کوئی بھی جڑ سے نہیں اکھیڑ سکتا۔ یعنی سب ہنگامے جو ابلیسیت کا شکار ہیں رہتی دنیا تک برقرار رہیں گے۔

پہلا مشیر

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام

پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام

ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود

ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام

آرزو، اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں

ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام

یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج

صوفی و ملا ملوکیّت کے بندے ہیں تمام

طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی

ورنہ ’’ قوالی‘‘ سے کچھ کمتر نہیں ’’علم کلام‘‘

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید

’’ہے جہاد اس دور میں مرد مسلمان پر حرام‘‘

معانی:

مشیر: مشورہ دینے والا۔ محکم: مضبوط، ٹھوس۔ خوئے غلامی: غلامی عادت، غلام بنے رہنے میں عار محسوس نہ کرنا۔ ازل: مراد شروع سے، دنیا کے آغاز سے۔ سجود: سجدہ۔ نماز بے قیام: مراد خدا یا حاکم مطلق کے آگے جھکنے کی بجائے دنیوی حکمرانوں کے آگے سر بسجدہ ہونا۔ خام: کچی، جو مکمل طور پر پوری نہ ہو۔ سعی پیہم: مسلسل کوشش لگاتار جد و جہد۔ کرامت: معجزہ، تعجب انگیز کام۔ ملوکیت: بادشاہت۔ بندے: جمع بندہ۔ غلام، چاکر۔ مشرق: مراد اہل مشرق۔ موزوں: مناسب۔ علم کلام: وہ علم جس میں اسلام کے عقیدے دلیلوں سے ثابت کیے جاتے ہیں۔ طواف: کسی چیز کے گرد چکر کاٹنا، یہاں اشارہ ہے حج کے ایک رکن کا۔ کند: جس کی تیزی یا کاٹ ختم ہو گئی ہو۔ تیغ بے نیام: ننگی تلوار جو کسی رکاوٹ کے بغیر چلتی رہے۔ حجت: دلیل۔ فرماں جدید: نیا حکم، اشارہ ہے میرزا غلام احمد قادیانی بانی فرقہ میرزائیت، کے اس فتوے کی طرف جس میں اس نے جہاد کو موجودہ دور میں حرام قرار دیا تھا۔

ترجمہ و تشریح:

غلامی کے باعث عوام یعنی مسلمان جس ذہنی کیفیت سے دوچار اور جد و جہد اور عمل پیہم سے بیگانہ ہو کر جس طرح غلامی کی زندگی بسر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے تھے۔ ابلیس کا پہلا مشیر اس طرف اشارہ کر کے اسے ابلیسی نظام کا کارنامہ قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق یہ لوگ صرف ظاہری ارکان عبادت کی بجا آوری کے چکر میں الجھ کے رہ گئے ہیں اور ان کے ان ظاہری سجدوں نے انہیں اپنے بدیسی آقاؤں کے آگے جھکنے کی عادت ڈال دی ہے۔

غلامی کے باعث عوام یعنی مسلمان جس ذہنی کیفیت سے دو چار اور جد و جہد اور عمل پیہم سے بیگانہ ہو کر جس طرح غلامی کی زندگی بسر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے تھے، ابلیس کا پہلا مشیر اس طرف اشارہ کر کے اسے ابلیسی نظام کا کارنامہ قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق یہ لوگ صرف ظاہری ارکان عبادت کی بجا آوری کے چکر میں الجھ کے رہ گئے ہیں اور ان کے ان ظاہری سجدوں نے انہیں اپنے بدیسی آقاؤں کے آگے جھکنے کی عادت ڈال دی ہے۔

انسان کے دل میں کوئی آرزو ہو تو وہ اس کے حصول و تکمیل کے لیے جد و جہد اور بھر پور کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس دور کے مسلمانوں کے دل آرزو ہی سے خالی ہیں اور اگر کہیں ہے بھی تو ان کی بے عملی، کاہلی اور تقدیر کے بہانے نامکمل رہ جاتی ہے۔ صوفی و ملا یعنی اسلام کے نام لیوا بھی غیروں کی آقائیت اور ان کی غلامی میں رہنے پر شاکر ہیں۔ ان کا یہ عمل سراسر روح اسلام کے خلاف ہے۔ گویا یہ سب ابلیسی نظام کے ٹھوس ہونے کی دلیل ہے۔

پہلا مشیر ’’قوالی‘‘ اور ’’علم کلام‘‘ کو افیون قرار دے کر اسے اہل مشرق کے لیے موزوں قرار دیتا ہے، کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے اہل مشرق کو جد و جہد و عمل سے بیگانہ کر دیا ہے۔ (یعنی صوفی اور قوالی علامت ہیں بے عملی کی جب کہ ملا ریاکاری اور کم اندیشی کے) حج اور طواف کی جو اصل روح تھی، یعنی اسلام نے اتفاق و یگانگت کا اور عمل پیہم کاجو درس دیا تھا، یہ قوم اس سے دور ہٹ گئی۔ مرد مسلماں جو کبھی باطل قوتوں کے آگے ہٹ جاتا تھا۔ یہ قوم اس سے دور ہٹ گئی۔ مرد مسلمان جو کبھی باطل قوتوں کے آگے پلٹ جاتا تھا آج وہ ان قوتوں کے آگے دب کر رہ گیا ہے۔ در اصل علامہ اقبال نے ابلیس کے مشیر کی زبان سے مسلمانوں کی موجودہ حالت کی عکاسی کی ہے، جس میں ایک بھر پور طنز ہے۔ آخر میں میرزا غلام احمد قادیانی کے جہاد کے خلاف فتوے کو مسلمانوں کی نا امیدی و مایوسی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مشیر نے یہ سب بڑے فخر سے بیان کر کے اسے ابلیسی نظام کی بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

دوسرا مشیر

خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر؟

تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر

معانی

سلطانی جمہور: عوام کی حکومت، جمہوریت۔ غوغا، غل غپاڑا، ہنگامہ۔

ترجمہ و تشریح:

دوسرا مشیر پہلے مشیر سے مخاطب ہے۔ اس کے مطابق یہ جو جمہوریت کا نیا ہنگامہ کھڑا ہوا ہے وہ اس (پہلے مشیر) کی نظر میں اچھا ہے یا برا؟ مطلب یہ کہ یہ نظام، ابلیسی نظام (عوام کو ملوکیت کے غلام رکھنا) کے لیے ایک طرح سے خطرہ ہے، اسی بنا پر وہ پہلے مشیر سے کہتا ہے کہ موجود در کے جو مختلف اور نت نئے ہنگامے ہیں تو ان سے بے خبر ہے۔

پہلا مشیر

ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے

جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

کاروبار شہر یاری کی حقیقت اور ہے

یہ وجود ’’میر و سلطاں‘‘ پر نہیں ہے منحصر

مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو

ہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر

معانی:

ہوں: یعنی میں بخوبی جانتا ہوں۔ جہاں بینی: مراد دنیاوی معاملات اوور وقت کے تقاضوں سے باخبر ہونا۔ پردہ: اوٹ، آڑ، مراد دسری صورت۔ خود شناس: اپنے آپ کو اپنی ذات کو پہچاننے والا۔ خو نگر: خود کو دیکھنے والا جسے اپنی ذات کا عرفان ہو۔ کاروبار شہری یاری: سلطنت/بادشاہت کے امور و معاملات۔ مجلس ملت: نیشنل اسمبلی، جس میں عوام کے نمائندے عوام کے مسائل کا حل سوچتے ہیں۔ پرویز: یہاں کوئی بھی سلطان یا بادشاہ۔ اندرون: باطن، دل۔ چنگیز: مشہور منگول سردار جس نے ۶۱۶/۱۲۱۹ء میں سلطان علاء الدین محمد خوارزم شاہ کے زمانے میں ایران پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور قتل عام کر کے ظلم و ستم کا ریکارڈ توڑ دیا۔ عصری تواریخ کے مطابق چنگیز نے کچھ تاجر خیر سگالی کے طور پر ایران بھجوائے لیکن حاکم اترار نے ان کا مال لوٹنے کی خاطر انہیں قتل کروا دیا۔ چنگیز نے سلطان کو لکھا کہ مذکورہ حاکم کو میرے حوالے کر دو۔ سلطان نے اس ایلچی کو مروا دیا۔ نتیجۃً چنگیز نے اس کا پورا پورا انتقام لیا۔ یہاں مراد کوئی بھی ظالم و سفاک حکمران۔

ترجمہ و تشریح:

اس حصے میں پہلا مشیر اپنے با شعور ہونے کے حوالے سے دوسرے مشیر کی بات کی کاٹ کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ جو نام نہاد جمہوریت یا جمہوری حکومت کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو یہ محض دعوے ہی ہیں، حقیقت میں یہ ملوکیت ہی کا ایک روپ ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انہیں (یعنی ابلیسی نظام) کے بادشاہت کو جمہوری لباس پہنایا۔ یعنی جمہوری حکومت کی شکل دی ہے۔ دوسرے لفظوں کو جمہوریت لباس پہنایا یعنی جمہوری حکومت کی شکل دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جمہوریت یا جمہوری حکومت کے آڑ میں سب کچھ وہی ہو رہا ہے جو بادشاہت میں ہوا کرتا تھا۔

اس کے مطابق شہریاری یعنی بادشاہت (ایک فرد کی حکومت) کے معاملات کی حقیقت کچھ اور ہے وہ محض میر و سلطاں کے وجود سے قائم نہیں ہے۔ اگلے شعر میں وہ اس کی وضاحت اس طرح کرتا ہے کہ جب حاکم یا حاکمان وقت کی نظر دوسروں کے مال و متاع پر ہو اور وہ مختلف بہانوں سے مال لوٹیں تو وہ خواہ قومی اسمبلی سے متعلق ہوں یا پرویز یعنی کسی بادشاہ کے دربار سے وابستہ ہوں۔ گویا لوٹ مار کے حساب سے بادشاہت اور جمہوریت میں کوئی فرق، بجز نام کے نہیں ہے۔ پہلا مشیر اپنے قول کی مزید وضاحت مغربی طرز جمہوریت کے حوالے سے کرتا ہے جو، اس کے مطابق، ظاہر میں تو بہت عمدہ ہے لیکن حقیقت میں چنگیز ایسے سفاک حکمران سے بھی کہیں زیادہ سفاک ہے۔ اس بات کو مشیر نے روشنی اور تاریکی کے الفاظ سے واضح کیا ہے۔

در حقیقت مغربی طرز جمہوریت اسلام کی تعلیمات و نظام کے سراسر برعکس ہے اور علامہ اقبال نے اس اہم پہلو کو ابلیسی نظام کی خرابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔

تیسرا مشیر

روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب

ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟

وہ کلیم ہے تجلی! وہ مسیحِ بے صلیب

نیست پیغمبر و لیکن در بغل وارد کتاب

کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوز

مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے دورِ حساب

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد

توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب

معانی

اضطراب: بے چینی، بے قراری۔ اس یہودی: اشارہ ہے جرمنی کے مشہور سوشلست یہودی کال مارکس (وفات انیسویں صدی کا آخری ربع) کی طرف۔ وہ خدا اور مذہب کا منکر تھا۔ جرمنی سے اسے جلا وطن کر دیا گیا۔ آخر میں لندن آ کر مقیم ہوا۔ اس کی کتاب ’’دی کیپٹل‘‘ مشہور ہے۔ جس میں اس نے یہ کہا کہ دولت کی بنیاد محنت ہے۔ اس کے بغیر سرمایہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ روس نے اس کتاب کو بڑی اہمیت دی چنانچہ وہاں سوشلزم کی بنیاد کا باعث یہی کتاب بنی۔ کلین بے تجلی: حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو تو اللہ کا دیدار میسر آیا لیکن کارل مارکس کو یہ دیدار نصیب تو نہ ہوا البتہ ہزاروں لاکھوں مزدور اس کے معتقد ہو گئے۔ مسیح بے صلیب: حضرت عیسیٰ کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا، کارل مارکس نے مزدوروں میں نئی روح پھونکی تاہم وہ صلیب پر چڑھنے سے محفوظ رہا۔ پردہ سوز: پردے / پردوں کو جلا دینے والی۔۔ نیست پیغمبر۔۔ ۔ الخ: اگرچہ وہ پیغمبر تو نہیں ہے تاہم اس کے پہلو میں کتاب ہے یعنی وہی ’’دی/داس کیپٹل‘‘ ملناب: رسی، خیمے کی ڈوری۔

ترجمہ و تشریح:

کارل مارکس نے محنت و مزدوری کی عظمت کو جس طرح بیان کیا اور جس کے نتیجے میں روسی سوشلزم کا نظام رائج ہوا وہ ابلیسی نظام کے لیے ایک طرح سے خطرہ تھا، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام ہی سے اس (ابلیسی نظام) کا بھرم قائم تھا۔ اب دوسرا نظام آنے سے یہ ہوا کہ مزدوروں کے سر بلند ہو گئے، ان میں جرات پیدا ہوئی اور وہ سرمایہ داروں کے آگے ڈٹ گئے، کیونکہ انہی کی وجہ سے ان سرمایہ داروں نے خوب دولت لوٹی تھی۔ اس احساس نے مزدوروں میں عزت نفس بھی پیدا کی۔ تیسرے مشیر نے اسی پس منظر میں نئے خطرے کی نشان دہی کی ہے۔ اس کے مطابق جمہوری نظام میں اگر سلطانی روح برقرار رہتی ہے تو کوئی بات نہیں۔ اس پر مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں۔ اصل خطرہ تو اس یہودی سے ہے۔ ان اشعار میں کارل مارکس کو جن خطابات و القاب سے نواز گیا ہے وہ در حقیقت علامہ نے اس کے نیم پیغمبرانہ کردار کی تحسین کی ہے۔ اس کی تعلیمات کو تیسرے مشیر نے نگاہ پردہ سوز کہہ کر مشرق و مغرب کی قوموں … یعنی مختلف معاشی اور سماجی نظام وغیرہ … کے لیے اسے قیامت قرار دیا ہے۔ آخر میں وہ اسے بہت بڑا فساد کہہ کر بتاتا ہے کہ اسی کے نتیجے میں غلاموں یعنی مزدوروں میں یہ جرات پیدا ہوئی کہ انہوں نے آقاؤں یعنی سرمایہ دار کے خیمے اکھیڑ دیے۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ داروں کا سب رعب و دبدبہ مٹی میں ملا دیا۔

چوتھا مشیر

توڑ اس کا رومۃ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ

آل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب

کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا

’’گاہ بالد چون صنوبر گاہ نالد چون رباب‘‘

معانی:

توڑ: رو، جواب، دفعیہ۔ رومۃ الکبریٰ کے ایوان: سلطنت روم (اٹلی) کے محل۔ اشارہ ہے مسولینی کی طرف جس نے اطالیہ (اٹلی) میں فاشزم کی بنیاد رکھی اور ڈکٹیٹر بن کر بحیرہ روم میں مکمل اقتدار کے حصول کے لیے جارحانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ (۱۹۴۵) میں اسے قتل کر دیا) آل سیزر: اٹلی کے قدیم حکمرانوں کی اولاد (ارمغان حجاز طبع اول نومبر ۱۹۳۸ء میں لفظ سیرز (سی رز) لکھا ہے۔ ص ۲۱۹) سیزر: روم کے قدیم بادشاہوں کا لقب۔ سیزر کا خواب: قیصر روم بننے کا منصوبہ۔ ’’گاہ بالد۔۔ رباب: (سارنگی) کی مانند روتا ہے۔ (سارنگی کے نغموں کو رونے سے تشبیہ دی ہے) مراد ہے وہ یعنی مسولینی کہ آمر مطلق ہے، ہر طرح سے اپنے اقتدار کے پھیلاؤ کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔

ترجمہ و تشریح:

تیسرے مشیر نے مارکسی نظام کو خطرہ قرار دیا تھا۔ چوتھا مشیر اسے گویا تسلی دے رہا ہے۔ کہس سے ڈرنے یا خطرہ رس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اٹلی کا مسولینی آمر مطلق بن کر اٹھ رہا ہے اور وہ قدیم اطالیہ کے بادشاہوں کی سی قیصر شاہی کو پھر سے رواج دینے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ مسولینی نے بحیرہ روم میں جو جارحانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ چوتھا مشیر شاعرانہ انداز میں اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مسولینی کی جد و جہد کو بحیرہ روم کی موجوں سے لپٹنے کا نام دیا ہے جب کہ دوسرے مصرعے میں اس کی سرگرمیوں کو صنوبر کی طرح سر اٹھانے / بلند ہونے اور سارنگی کی طرح نالہ و زاری کرنے سے تشبیہ دی ہے۔

تیسرا مشیر

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں

جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب!

معانی:

عاقبت بینی: انجام یا نتیجے پر غور کرنے کا عمل۔ افرنگی سیاست: مراد انگریزوں کی کمزور قوموں کو غلام بنانے کی سیاست۔

ترجمہ و تشریح:

تیسرا مشیر، چوتھے مشیر کی سوچ کے بر عکس مسولینی کے کردار کو اس کی عاقبت نا اندیشی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس نے فرنگیوں کی اس سیاست کو جو وہ کمزور قوموں کو غلام بنانے کے لیے اختیار کرتے ہیں، بے نقاب کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یورپی ملوکیت اور مسولینی کی فاشزم سے لوگ بیزار ہو کر اشتراکیت کی طرف مائل ہو جائیں گے اور یوں ابلیسیت کو دھچکا لگے گا۔

پانچواں مشیر (ابلیس کو مخاطب کر کے)

اے ترے سوز نفس سے کار عالم استوار

تو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکار

آب و گل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز

ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار

تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں

سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار

کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف

تیری غیرت سے ابد تک سر نگوں و شرمسار

گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام

اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار

وہ یہودی فتن گر وہ روح مزدک کا بروز

ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار

زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرخ

کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگار

چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر

جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشتِ غبار

فتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج

کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار

میرے آقا وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے

جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

معانی:

سوز نفس: مراد دل کی تپش، بر تاثیر جذبہ۔ جہاں سوز ساز: مراد چہل پہل اور سرگرمیوں کی دنیا ابلہ جنت: جنت کا بیوقوف یعنی انسان، سیدھا سادا انسان۔ حدیث رسول اکرم: اکثر جنتی بھولے بھالے ہیں۔ دانائے کار: معاملات کا سلجھانے والا، بہت با شعور۔ محرم: واقف، باخبر۔ تقدیس: خدا کی پاکی بیان کرنے کا عمل۔ مزدک: قدیم ایران کے بادشاہ نوشیرواں نے اسے قتل کرا دیا) اس نے یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ زر، زن اور زمین پرسب انسانوں کا مشترکہ حق ہے۔ سب ان سے یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کی تعلیمات کی رو سے اسے دنیا کا پہلا اشتراکی کہا جاتا ہے۔ زاغ دشتی: جنگلی کوا، مراد مزدور۔ ہمسر: برابر درجے کا۔ چرغ: باز کی قسم کا ایک شکاری پرندہ۔ مراد سرمایہ دار۔ آشفتہ: منتشر، پھیلی، بکھری ہوئی۔ سیادت: سرداری۔

ترجمہ و تشریح:

پانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے کہتا ہے کہ یہ جو دنیا کا کاروبار ٹھیک ٹھاک طریقے سے چل رہا ہے تو یہ سب تیرے ہی پر تاثیر جذبوں کی بدولت ہے۔ یہ تیرا ہی کمال ہے کہ تو نے جب چاہا ہر طرح کے راز اور بھید کھول دیے۔ یہ عناصر کی دنیا تیری ہی تپش و حرارت سے سرگرمیوں کی اور چہل پہل کی دنیا بن گئی ہے، یعنی دنیا کی تمام رونق اور ہنگامے تیرے ہی دم سے ہیں۔ سیدھے سادے لوگ بھی تیری تعلیم کی بدولت بہت کائیاں اور با شعور بن گئے۔ یہ مشیر ابلیس کی تعریف میں اس حد تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے بقول خدا بھی، جسے سادہ دل انسان پروردگار کے نام سے یاد کرتے ہیں، انسانوں کی فطرت سے اتنا باخبر نہیں جتنا ابلیس ہے۔ جو لوگ مذہب کے صرف ظاہری ارکان پر عمل ہی میں کھوئے رہتے تھے، تیری غیرت یعنی خود داری (جنت سے نکلنا گوارا کر لیا لیکن آدم کو سجدہ نہ کیا) کے آگے خود کو ابد تک شرمندہ خجل سمجھتے رہیں گے۔

اگرچہ یورپ کے تمام جادو گر یعنی بڑے بڑے سیاسی گرگے اور رہنما تیرے پیروکار ہیں، تیری تعلیمات پر چلتے ہیں لیکن مجھے اب ان کی دانائی اور زیرکی پر بھروسا نہیں رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہی لوگوں میں وہ بہت بڑا یہودی فتنہ گر (کارل مارکس۔ اشتراکیت کا بانی) پیدا ہوا ہے، جو گویا مزدک ہی کا دوسرا روپ ہے اور کسی تعلیمات اور فلسفہ فرنگیوں کے ابلیسیت کے زیر اثر تراشے ہوئے، سامراجیت اور ملوکیت وغیرہ کے بتوں کو پاش پاس کر رہا ہے زمانے کا مزاج تیزی سے بدلتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنگلی جیسا حقیر پرندہ (یعنی مزدور) شاہین اور چرخ جیسے شکاری اور طاقت ور پرندہ (سرمایہ دار) کے منہ آنے لگا ہے۔ یعنی مزدور میں اشتراکیت کی بنا پر اسی جرات پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دار آقا سے ٹکر لینے لگا ہے۔ ہماری (ابلیس اور اس کے مشیروں کی) یہ کم عقلی تھی کہ ہم اس فتنے (اشتراکیت) کو معمولی بات سمجھے بیٹھے تھے، جب کہ یہ پھیل کر آسمان تک چھا گیا ہے۔ مستقبل کے اس فتنہ کا خوف و دبدبہ اس حد تک بڑھ رہا ہے کہ پہاڑ، چراگاہیں اور ندی نہریں یعنی پوری دنیا کانپ رہی ہے۔ یعنی اگر اشتراکیت اسی طرح پھیلتی رہی تو ابلیسیت کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ چنانچہ آخری شعر میں مشیر یہی بات کھل کر کہہ دیتا ہے اس کے مطابق اس (اشتراکیت) کے نتیجے میں وہ وقت آ رہا ہے جب ابلیس کی سرداری و رہبری میں چلنے والا نظام زیر و زبر ہو کے رہ جائے گا۔

ابلیس (اپنے مشیروں سے)

ہے مرے دستِ تصرف میں جہانِ رنگ و بو

کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمان تو بتو

دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق

میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو

کیا امامان سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ

سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو

کارگاہِ شیشہ، جو ناداں سمجھتا ہے اسے

توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو

دست فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک

مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد

یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز آشفتہ مو

ہے اگر کوئی خطر مجھ کو تو اس امت سے ہے

جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ

کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو

جانتا ہے جس پہ روشن باطنِ ایام ہے

مزدکیت فتنۂ فردا نہیں، اسلام ہے

معانی:

تصرف: قبضہ، اختیار۔ جہاں رنگ و بو۔ یہ دنیا۔ تو بتو: تہہ در تہ، سات آسمانوں کی وجہ سے۔ کلیسا کے شیوخ: عیسائیوں کے مذہبی رہنما۔ پادری۔۔ ہو: پر جوش نعرہ۔ کارگاہ شیشہ: شیشے کا کارخانہ، مراد نازک چیز جو ذرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ پھوٹ جائے۔ مزدکی منطق: اشارہ ہے اشتراکیت کی تعلیم کی طرف۔ سوزن: سوئی۔ کوچہ گرد: آوارہ پھرنے والے۔ پریشان روزگار: جن کے دنیوی امور مے انتشار ہو۔ آشفتہ مغز: پاگل، دیوانے۔ آشفتہ مو: بکھرے بالوں والے، پریشان خیال (ارمغان حجاز کے پہلے ایڈیشن میں مو کی بجائے، ’’ہو‘‘ ہے، لیکن کلیات اقبال اقبال اکادمی میں مو ہے۔ ہو کی صورت میں معنی ہوں گے: منتشر قسم کے نعرے لگانے والے) خاکستر: راکھ۔ خال خال: اکا دکا، کہیں کہیں۔ اشک سحر گاہی: مراد صبح سویرے خدا کے حضور گریہ و زاری کرنے والے، عبادت گزار۔ باطن ایام: مراد زمانے کے بھید۔

ترجمہ و تشریح:

اس بند میں ابلیس خود کو ایک فعال شخصیت قرار دیتے ہوئے اپنے مشیروں بتا رہا ہے کہ پوری کائنات، زمین سے لے کر سورج، چاند، اور سات آسمانوں تک کے امور میرے قبضے میں ہیں۔ یعنی میرے بغیر اس کائنات کا نظام نہیں چل سکتا۔ میں نے اگر یورپ کی قوموں میں جوش و ولولہ پیدا کر دیا تو اس کا جو نتیجہ سامنے آئے کا وہ مشرق و مغرب یعنی پوری دنیا دیکھ لے گی۔ میرا جوش و جذبہ میں مارا ہوا ایک ہی نعرہ بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں اور مذہبی شیوخ کو پاگل کر کے رکھ دے گا۔ (اس میں اشارہ ہے موجودہ مغربی تہذیب کی طرف جس میں مذہب سے بیزاری، سرمایہ داری اور اخلاقی بے راہ روی ایسی برائیاں ہیں) اس تہذیب کو جو کوئی نازک شیشے کی طرح جانتا ہے جو معمولی سی چوٹ سے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے تو وہ ذرا اس کے جام و سبو تو توڑ کے دکھائے (مطلب یہ کہ اس تہذیب کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں اسے کیا سیاست دان اور کیا مذہبی رہنما ختم کرنے کی جرات نہیں کر سکتے) مزدکی منطق یعنی اشتراکیت کی سوئی ان گریبانوں کوسی نہیں سکتی جو فطری طور پر پھٹے ہوئے ہوں مراد یہ کہ ابلیس نے جو طبقاتی، نسلی، جغرافیائی استعماریت اور سرمایہ داری وغیرہ کا جنون و سودا لوگوں کے دماغوں میں بھر دیا ہے۔ اس کا نکالنا امر محال ہے) یہ آوارہ، پریشان حال، بکھرے ہوئے بالوں والے پاگل اشتراکی مجھے خوف زدہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر مجھے ابلیسی نظام کے ختم ہونے کا) کوئی خطرہ ہے تو اس امت سے ہے جس کی راکھ میں اب بھی آرزو کی چنگاری سلگ رہی ہے۔ (مسلمان قوم اس گئی گذری حالت میں بھی پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو اپنے جذبوں میں شامل کیے ہوئے ہے) اس امت میں بھی پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو اپنے جذبوں میں شامل کیے ہوئے ہے) اس امت میں آج بھی کہیں کہیں ایسے حضرات مل جاتے ہیں جو پورے خشوع و خضوع کے ساتھ عشق حقیقی میں مگن ہیں اور اسلامی تعلیمات پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ چنانچہ یہ بات ہر اس شخص پر روشن ہے جو صاحب بصیرت اور زمانے کے انقلابات سے آگاہ ہے، کہ مستقبل میں مزدکیت (اشتراکیت) نہیں بلکہ اسلام (ابلیسی نظام کے لئے) بہت بڑا خطرہ ہو گا۔

(۲)

جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں

ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے ید بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

مصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف

ہو نہ جائے آشکارا شرحِ پیغمبر کہیں

الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر

حافظ ناموس زن، مرد آزما مرد آفریں

موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے

نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشین

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف

منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں

اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب

بادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں

چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب

یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں

ہے یہی بہتر الٰہیات میں الجھا رہے

یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے

معانی:

حامل قرآں: مراد قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے والی۔ ید بیضا: روشن ہاتھ، حضرت موسیٰ ؑ کا ایک معجزہ، جب وہ آستین سے ہاتھ نکالتے تو وہ روشن ہوتا۔ بے ید بیضا: مراد اس روحانی قوت سے عاری جو قوم کو صحیح راستوں پر چلا سکے۔ الحذر: بچو۔ حافظ: حفاطت کرنے والا۔ ناموس زن: عورت کی عزت و عصمت۔ مرد آزما: دلیروں اور بہادروں کو آزمانے والا۔ مرد آفرین: بڑے بڑے دلیر/ مجاہد پیدا کرنے والا۔ فغفور: قدیم چین بادشاہوں کا لقب، مراد کوئی بھی بادشاہ۔ خاقان: قدیم ترکستانی بادشاہوں کا لقب، کوئی بھی بادشاہ۔ فقیر رہ نشین: مراد انتہائی مفلس انسان۔ آلودگی: گندگی۔ منعموں: دولت مندوں۔ امیں: امانت دار۔ محروم یقین: مراد پختہ ایمان سے عاری الٰہیات: وہ فلسفیانہ مسئلے جو خدا کی ذات سے متعلق ہوں۔ تاویلات: جمع تاویل، اصل مطلب سے ہٹ کر دوسرا مطلب نکالنا۔

ترجمہ و تشریح:

ابلیس کہتا ہے: مجھے یہ علم ہے کہ موجودہ امت مسلمہ قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہے اور اس نے بھی سرمایہ داری ہی کو اپنا دین بنا رکھا ہے (وہ بھی سرمایہ دارانہ نظام ہی میں کوئی ہوئی ہے) اور مجھے یہ بھی علم ہے کہ مشرقی دنیا، بالخصوص امت مسلمہ، جہالت و نادانی اور مذہب سے دوری کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس کے مذہبی رہنما ایسے جہد و عمل اور صلاحیتوں سے عاری ہیں جو امت کو اس تاریکی سے نکال سکیں۔ مجھے موجودہ دور کے تقاضاؤں کی بنا پر جس صورت حال زیادہ خوف آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ شرع پیغمبر ؑ کہیں اپنی مکمل تعلیمات کے ساتھ سامنے نہ آ جائے۔ (کہ یہ ابلیسی نظام کی موت ہو گی)

بھاگو، ڈرو! آئین پیغمبر سے سو مرتبہ ڈرو، بھاگو۔ یہ آئین عورت کی عزت و عصمت کاپاسدار ہے، دلیروں، بہادروں کو آزماتا اور مجاہد پیدا کرتا ہے، (جو باطل قوتوں کے ساتھ ٹکرا کر انہیں پاش پاش کر دیتے ہیں) یہ آئین ہر طرح کی غلامی (خواہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کی صورت میں ہو، خواہ استعماریت وہ آمریت وغیرہ کے نتیجے میں ہو) کی موت کا پیغام ہے اس آئین کی رو سے کوئی حاکم مطلق، کوئی بادشاہ وغیرہ، اور کوئی مفلس نہیں ہے (اس کی روسے حاکم وہ محکوم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سب انسان برابر ہیں) دولت و سرمایہ کو، جو مختلف معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے، یہ آئین ہر گندگی سے صاف کرتا ہے (زکواۃ کی طرف اشارہ ہے) دولت پر سامایہ داروں اور دولت مندوں کی اجارہ داری ختم کر کے انہیں اس کا امانت دار بناتا ہے۔

اس آئین کی بنا پر، اس سے بڑھ کر فکر و عمل کا اور کیا انقلاب ہو گا کہ اس کی رو سے یہ زمین کسی بھی حکمران کی ذاتی ملکیت نہیں، یہ اللہ کی ملکیت ہے اور اس پر سب کا برابر کا حق ہے (ظاہر ہے اس کے رو بہ عمل ہونے سے ابلیسی نظام کو شدید دھچکا لگے کا) یہ شرع و آئین اگر اہل جہاں کی نظروں سے پوشیدہ رہے تو یہ ہمارے حق میں بہتر ہو گا۔ خیر! فی الحال یہ بات بھی غنیمت ہے کہ خود امت مسلمہ اپنے ایمان پر پختہ نہیں ہے (مسلمان آئین پیغمبر پر کماحقہ عمل پیرا نہیں ہیں۔) لہٰذا ہمارے لیے اسی بات میں بھلائی ہے کہ یہ (مسلمان) خدا کی ذات سے متعلق فلسفیانہ بحثوں ہی میں الجھا رہے اور تاویلات کے گورکھ دھندے میں پھنسا رہے (جہد و عمل سے بیگانہ رہے)

(۳)

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات

ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات

ابن مریم مرگیا یا زندۂ جاوید ہے؟

ہیں صفات ذاتِ حق، حق سے جدا یا عین ذات

آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے

یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟

ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم؟

امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟

کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں

یہ الٰہیات کے ترشے ہوئے لات و منات!

خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام

چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر

جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

مست رکھو ذکر و فکرِ صبح گاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے

معانی:

تکبیر: اللہ کی بڑائی کا بیان، اللہ اکبر۔ طلسم شش جہات: چھ اطراف (دائیں بائیں، آگے، پیچھے، اوپر، نیچے) کا جادو، مراد پوری کائنات یا جغرافیائی حدود کا جادو۔ خدا اندیش: مراد کی ذات میں محو رہنے والا۔ ابن مریم: حضرت عیسیٰ ؑ۔ عین ذات: مکمل طور پر ذات / ہستی۔ مسیح ناصری: حضرت عیسیٰؑ مسیح اللہ جن کی ولادت، بعض کے نزدیک، ناصرہ کے مقام پر ہوئی۔ مجدد: مراد ہر صدی کے بعد پیدا ہونے والا دلی جو دین کے اصول و فروغ کی تجدید کرتا ہے۔

حادث: نئے مراد تخلیق کائنات کائنات کے بعد کے۔ قدیم: پرانے، یعنی خدا کی طرح ازلی۔ امت مرحوم: امت مرحومہ، ایسے امت جس پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوئیں۔ مراد امت مسلمہ۔ لات و منات: قدیم عرب کے بتوں کے نام، مراد بت۔ احتساب کائنات: کائنات سیاس کے اعمال کی باز پرس، یعنی انسانوں کے اچھے اور برے اعمال کا جائزہ لینا، اچھے اعمال کی تلقین کرنا اور برے اعمال سے روکنا۔

اس بند میں ابلیس جہاں امت مسلمہ کی بیداری سے خوف زدہ ہے وہاں وہ مسلمانوں میں مختلف مذہبی بحثوں اور مذہب کے فروغی و ظاہری ارکان پر زیادہ توجہ کے حوالے سے اپنے مشیروں کو یہ تلقین کر رہا ہے۔ کہ وہ اس امت کو انہی بیکار بحثوں میں الجھائے رکھیں تاکہ ابلیسی نظام کی تباہی کا سامان نہ ہو سکے۔

(خدا کرے) اس اللہ والے کی تارے رات (مراد مسلمانوں کی موجودہ بے عملی اور فروعی مباحث کی صورت حال) روشن نہ ہو جس کا نعرہ تکبیر کائنات کی تمام حدود کا جادو مٹا کے رکھ دیتا ہے (خدائے واحد پر ایمان کامل کے سبب وہ ہر طرح کی جغرافیائی حدود سے ماورا ہو جاتا ہے)

(مسلمان ان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جس کا جہد و عمل والی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اور جو ملت کی اجتماعی زندگی کے لیے فائدے کی بجائے الٹا نقصان دہ ہیں) کیا حضرت عیسیٰ ؑ زندہ جاوید ہیں یاجسمانی طور پر مر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کی جو صفات ہیں (مثلاً رحیم و کریم…) آیا وہ اس ہستی سے الگ کوئی چیز ہیں یا مکمل طور ہر ذات ہیں۔ (کہا جاتا ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ مسیح اللہ اس دنیا میں آ کر حکومت کریں گے) مسلمان اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ قیامت سے پہلے آنے والی شخصیت سے مراد مسیح ناصری ہے یا وہ مجدد جس میں حضرت عیسیٰ ؑ کی سی صفتیں ہوں گی۔ قرآن کے الفاظ تخلیق کائنات کے بعد کے ہیں ازلی ہیں۔ کونسا عقیدہ ہے جو امت مسلمہ (جس پر اللہ کی رحمت نازل ہوئی) کی نجات کا باعث بن سکتا ہے؟ کیا مسلمانوں کے لیے آج کے دور میں الٰہیات سے متعلق متکلمانہ بحثیں اور موشگافیاں کافی نہیں ہیں (یعنی انہیں انہی فروعی بکھیڑوں میں الجھا رہنا چاہیے۔

تم (میرے مشیرو) اس ملت کو جہد عمل سے دور رکھو تاکہ اسے زندگی کے ہر ہر شعبے میں شکست اور مات ہو۔ (دوسرے لفظوں میں وہ ابلیسیت سے ٹکر لینے کا سوچ بھی نہ سکے۔ ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ مرد مسلمان قیامت تک اس فانی دنیا سے، دوسروں کی خاطر بے تعلق رہے (یعنی جہد و عمل سے بیگانہ رہے اور یوں دوسری اقوام آگے بڑھیں)

اس کے لیے وہی شاعری اور تصوف (صوفیانہ عمل) زیادہ مناسب اور اس کے حق میں مفید ہے جو اس کی آنکھوں سے زندگی کا منظر اوجھل کر دے (یعنی وہ اپنی دنیاوی ترقی و سربلندی کے لیے جد و جہد کو پیکار سمجھے اور وہ دین کے صرف ظاہری ارکان پر عمل ہی کو سب کچھ سمجھے) مجھے ہر پل اس امت کی بیداری سے ڈر لگ رہا ہے۔ جس کے دین کی بنیاد ہی کائنات کے احتساب پر ہے (مراد یہ ہے کہ امت مسلمہ اگر بیدار ہو گئی اور اس نے دین اسلام کی تعلیمات صحیح طور ہر عمل کیا تو دنیا سے ابلیست با باطل قوتوں کا وجود ختم ہو جائے گا۔)

لہذا (اے مشیرو) تم اس امت کو صرف ذکر و فکر (تسبیح اور ظاہری عبادت وغیرہ) ہی میں مست رکھو اور خانقاہی مزاج (’’ھو حق‘‘) کا درد اور عمل سے دوری) میں اس کو اور پختہ کر دو (تاکہ ہمارا نظام مختلف صورتوں میں برقرار رہے)

٭٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید