شرک کو سمجھئے ۔۔۔ محمد جاوید دیوان

ایک اہم دینی موضوع پر ایک اہم کتاب

شرک کو سمجھئے

از قلم

محمد جاوید دیوان

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل 

ای پب فائل 

کنڈل فائل 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

تمہید

قرآن کریم نے جتنا زور توحید کے اثبات اور شریک کی تردید پر دیا ہے اتنا زور کسی دوسرے مسئلے پر نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے:

ان الشرک لظلمٌ عظیمٌ (لقمان: 13)

ترجمہ: یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

قرآن پاک بتاتا ہے کہ تمام انبیا کی دعوت کا مرکزی نکتہ ایک ہی تھا: لا الٰہ الا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی بھی الٰہ نہیں ہے۔

وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الٰہ الا انا فاعبدون (الانبیاء: 25)

ترجمہ: اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔

اللہ تعالیٰ کے قانون میں شرک کتنی بری چیز ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ سورۃ انعام میں اللہ تعالیٰ اٹھارہ انبیائے کرام علیہم السلام کے نام گنوانے کے بعد فرماتے ہیں:

ولو اشرکوا لحبط عنہم ما کانوا یعملون (الانعام: 88)

ترجمہ: اور اگر وہ لوگ بھی شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے۔

یعنی مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کو شرک کس قدر ناپسند ہے کہ رسول اللہﷺ کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے:

ولقد اوحی الیک والى الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین (الزمر: 65)

ترجمہ: اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہو چکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہو جاؤ گے۔

گو کہ نبی سے شرک ہونا نا ممکن ہے لیکن امت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔

انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ و ماوہ النار وما للظٰلمین من انصار (المائدہ: 72)

ترجمہ: یقیناً جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

ان تجعل للہ ندا و ہو خلقک (صحیح البخاری)

ترجمہ: کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے۔

حضرت ابو ہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ایسی ہوتی ہے جس کو درجہ قبولیت حاصل ہوتا ہے اور ہر نبی نے ایسی دعا دنیا کے اندر ہی کر لی ہے لیکن میں نے وہ دعا ابھی تک نہیں کی وہ دعا میں نے اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھوڑ رکھی ہے۔ لیکن یہ دعا کس کے حق میں قبول ہو گی؟ پڑھیے:

فھی نائلۃ ان شاء اللہ من مات من امتی لا یشرک باللہ شیئا (صحیح مسلم)

ترجمہ: تو وہ دعا اللہ تعالیٰ کے حکم سے میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچ سکتی ہے جس کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کے شرک میں ملوث ہو جانے کا خطرہ ہے۔

حضرت ابو درداءؓ فرماتے ہیں مجھے میرے محبوبﷺ نے یہ وصیت کی:

ان لا تشرک باللہ شیئا وان قطعت او حرقت (سنن ابن ماجہ)

ترجمہ: کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا چاہے تم ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں یا قتل کر دیے جاؤ۔

خلاصہ یہ کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہے۔ مشرک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنا رہے گا۔ اس کے باوجود لوگ شرکیہ عقائد اور اعمال میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ قلب کی گہرائیوں سے اپنے اعمال کو اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب تو عام طور پر پھیلی ہوئی جہالت ہے۔ لیکن اور وجہ اس تمام تر گمراہی کی یہ بھی ہے ایک ہے کہ عام مسلمان سمجھتا ہے کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اور ایسا وہ اس وجہ سے سمجھتا ہے کہ اسلام جن لوگوں میں آیا وہ بت پرست تھے۔ کیونکہ وہ بت پرست تھے اس لیے وہ تمام آیتیں اور حدیثیں جن میں شرک کی برائی آئی ہے ان سے بت پرستی والا شرک ہی مراد ہے۔ اس مضمون میں اس مغالطے کا جائزہ لے کر حقیقت بیان کی گئی ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مشرکین عرب کا خود اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کیا عقیدہ تھا۔

مشرکین عرب کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں

کیا مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری تھے۔ یقیناً نہیں! مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری نہیں تھے۔ وہ نہ صرف اس کے ہونے کے قائل تھے بلکہ بہت ساری چیزوں کو وہ صرف اسی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ (در حقیقت اس حوالے سے وہ توحید نا آشنا مسلمانوں سے بہتر تھے۔ مشرکین عرب ہر اس ضرورت کے لیے جو اسباب سے بالا تر ہے اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ اس کے برخلاف امت مسلمہ کے نا سمجھ ہر حال میں غیر اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔)، مثلاً مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمین کا خالق و رازق، کائنات کے امور کو چلانے والا، اور ہر چیز کا اختیار رکھنے والا مانتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے۔

مشرکین عرب کہتے تھے: خالق اللہ

ولئن سالتہم من خلقہم لیقولن اللہ فانى یؤفکون (الزخرف: 87)

ترجمہ: اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے، تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟

ولئن سالتہم من خلق السمٰوٰت والارض لیقولن اللہ (الزمر: 38)

ترجمہ: اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے

مشرکین عرب کہتے تھے: رزق دینے والا اللہ، مالک اللہ، زندگی دینے والا اللہ، موت دینے والا اللہ، دنیا کے امور چلانے والا اللہ

قل من یرزقکم من السماء والارض ام من یملک السمع والابصار ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یدبر الامر فسیقولون اللہ فقل افلا تتقون (یونس: 31)

ترجمہ: (ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بے جان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ، تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟

مشرکین عرب کہتے تھے: زمین و آسمان کا مالک اللہ، ہر چیز کا مالک اللہ، بچانے والا اللہ، گھیرنے والا اللہ

قل لمن الارض ومن فیہا ان کنتم تعلمون () سیقولون للہ قل افلا تذکرون () قل من رب السمٰوٰت السبع ورب العرش العظیم() سیقولون للہ قل افلا تتقون() قل من بیدہ ملکوت کل شیء وہو یجیر ولا یجار علیہ ان کنتم تعلمون() سیقولون للہ قل فانى تسحرون (یونس: 84-89)

ترجمہ: کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب کس کا ہے؟ جھٹ بول اٹھیں گے کہ اللہ کا۔ کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ (ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے؟) بے ساختہ کہہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) اللہ ہی کی ہیں، کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ بچاتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا، فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) اللہ ہی کی ہے، تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑ جاتا ہے؟

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ یہیں سے یہ بات بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ وہ بتوں کو اللہ نہیں مانتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ بتوں کو اللہ نہیں مانتے تھے تو پھر وہ بتوں کی پوجا کیوں کرتے تھے؟ در حقیقت بتوں کو وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ذہن کسی پیکر محسوس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے جڑنے کا طلبگار تھا۔ اسی لیے وہ کہتے تھے:

والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدہم الا لیقربونا الى اللہ زلفى (الزمر: 3)

ترجمہ: اور جن لوگوں نے اس کے (اللہ) سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کی اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں۔

ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرہم ولا ینفعہم ویقولون ہؤلاء شفعاؤنا عند اللہ (یونس: 18)

ترجمہ: اور یہ (لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔

مشرکین عرب کے نیک اعمال

مشرکین عرب نہ صرف یہ کہ اللہ کو مانتے تھے بلکہ وہ دین ابراہیمی کے بعض اعمال بھی پوری تندہی سے بجا لاتے تھے۔ گو وہ بھی اپنی اصل حالت پر نہ تھے لیکن ان کا منبع شریعت ابراہیمی ہی تھا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کیا اعمال کرتے تھے۔

مشرکین عرب نماز پڑھتے تھے

رسول اللہﷺ نے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ اس کی وجہ آپﷺ نے یہ فرمائی:

ھی ساعۃ صلاۃ الکفار (سنن النسائی)

ترجمہ: وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے

مشرکین عرب زکوٰۃ دیتے تھے

وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث و الانعام نصیبا فقالوا ہذا للہ بزعمہم وہذا لشرکائنا (الانعام: 136)

ترجمہ: اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو اللہ کا اور یہ ہمارے شریکوں کا

مشرکین عرب اعتکاف کرتے تھے

عن عمر قلت یا رسول اللہ انی کنت نذرت ان اعتکف لیلة فی المسجد الحرام فی الجاہلیة قال اوف بنذرک (صحیح البخاری)

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔

مشرکین عرب خدمت حرم کرتے تھے

ء جعلتم سقایة الحاج وعمارة المسجد الحرام کمن آمن باللہ والیوم الآخر وجاہد فی سبیل اللہ لا یستوون عند اللہ واللہ لا یہدی القوم الظالمین۔ (التوبہ: 19)

ترجمہ: کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے:

قال اللہ: (لا یستوون عند اللہ واللہ لا یہدی القوم الظالمین) یعنی: الذین زعموا انہم اہل العمارة فسماہم اللہ "ظالمین” بشرکہم، فلم تغن عنہم العمارة شیئا .

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ یعنی وہ لوگ جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ اہل حرم ہیں اللہ نے ان کو ظالمین کا لقب دیا جس کا سبب ان کا شرک تھا جس کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

حرم کی تعمیر اور اس کی خدمت بہت بڑی نیکی تھی لیکن ان کے شرک کی وجہ سے یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ٹھہری۔

مشرکین عرب حج کرتے تھے

حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب حج بھی کرتے تھے۔

عن عائشة رضی اللہ عنہا، قالت کان قریش ومن دان دینہا یقفون بالمزدلفة وکانوا یسمون الحمس (صحیح البخاری)

ترجمہ: سیدۃ عائشہؓ بتاتی ہیں کہ قریش اور جو لوگ ان کے مذہب پر تھے وہ (حج کے دوران) مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور وہ (اپنے آپ کو) حمس (شجاع) کہتے تھے۔

صحیح بخاری کی روایت ہے کہ لوگ اسلام سے قبل برہنہ (کعبہ) کا طواف کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں سیدۃ عائشہؓ کی روایت ہے کہ انصار اسلام سے پہلے دو بتوں کے لیے تلبیہ پڑھتے تھے جس کے بعد وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔

مشرکین عرب عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے

حدیث شریف میں آتا ہے:

عن عائشة قالت کان یوم عاشوراء تصومہ قریش فی الجاہلیة (صحیح البخاری)

ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے۔

مشرکین عرب غلام آزاد کیا کرتے تھے

عاص بن وائل جو اسلام قبول کیے بغیر ہی فوت ہو گیا اس نے مرنے سے پہلے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی اس کے بیٹے صحابی رسولﷺ عمروؓ بن عاص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کیا عاص کو اس سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

لو کان مسلما فاعتقتم عنہ او تصدقتم عنہ او حججتم عنہ بلغہ ذلک (سنن ابی داؤد)

ترجمہ: اگر (تمہارا باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے (غلام) آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا۔

یہ شرک کی نحوست ہے کہ مشرک کو کسی نیک عمل کا ثواب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

ان تمام مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مکہ کے کفار مشرک اس لیے نہیں کہلائے کہ وہ نیک اعمال کا انکار کرتے تھے۔ ان کے کفر کا بنیادی سبب ان کا شرک تھا۔

مشرکین عرب کی آپﷺ کے بارے میں رائے

مشرکین عرب رسول اللہﷺ کی دعوت توحید قبول نہ کرنے کا سبب آپﷺ کی ذات نہ تھی بلکہ وہ آپﷺ کے اخلاق کے گرویدہ تھے۔ ایک بار ابو جہل نے آپﷺ سے کہا:

قد نعلم یا محمد انک تصل الرحم و تصدق الحدیث و لا نکذبک ولکن نکذب الذی جئت بہ (سنن الترمذی)

ترجمہ: ہم جانتے ہیں کہ بے شک آپﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، اور باتیں بھی سچی کرتے ہیں، ہم آپﷺ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو آپﷺ لے کر آئے ہیں۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کو رسول اللہﷺ کی ذات سے عناد نہ تھا اور وہ آپﷺ کے اعلی اخلاق کو مانتے تھے۔ جب رسول اللہﷺ نے تمام کفار مکہ کو قبول اسلام کی دعوت دینے سے پہلے اپنے بارے میں رائے لی تو انہوں نے کہا:

ما جربنا علیک الا صدقا (صحیح البخاری)

ترجمہ: ہم نے آپﷺ سے سچ ہی سنا ہے (یعنی آپ سچے ہیں)۔

لیکن جب رسول اللہﷺ نے لا الٰہ الا اللہ کی دعوت دی تو یہی لوگ آپﷺ پر جھوٹا ہونے کا الزام لگانے لگے۔ ایک موقع پر جب رسول اللہﷺ نے اس کلمے کی دعوت یوں دی:

یا ایہا الناس قولوا لا الٰہ الا اللہ تفلحوا (صحیح ابن حبان)

ترجمہ: اے لوگو! لا الٰہ الا اللہ کہو کامیاب ہو جاؤ گے۔

یہ سن کر ابو لہب کہتا تھا:

انہ صابی کاذب (مسند احمد)

ترجمہ: یقیناً یہ بے دین جھوٹا ہے۔

مشرکین عرب کا شرک کیا تھا؟

اوپر بیان ہوا کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار نہیں کرتے تھے اور رسول اللہﷺ کو سچا جانتے تھے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ کس چیز کا انکار کرتے تھے کہ اللہ کا اقرار کرنے کے باوجود وہ مشرک قرار دیے گئے؟ اس کا ایک ہی سبب تھا جس کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے:

اجعل الآلہة الہا واحدا ان ہذا لشی ء عجاب (ص: 5)

ترجمہ: کیا اس نے اتنے الہوں کی جگہ ایک ہی الٰہ بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کا انکار صرف اللہ کو ایک الٰہ ماننے سے تھا۔

قرآن پاک نے اس کا جواب یوں دیا ہے:

لا تتخذوا الھین اثنین انما ہو الٰہ واحد (النحل: 51)

ترجمہ: تم دو الٰہ مت بناؤ الٰہ تو صرف ایک ہی ہے۔

لو کان فیہما آلہة الا اللہ لفسدتا فسبحان اللہ رب العرش عما یصفون (الانبیاء: 22)

ترجمہ: اگر (آسمان اور زمین) میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہو جاتے۔

یعنی ان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کثرت الٰہ کے قائل تھے جب کہ لا الٰہ الا اللہ ایک الٰہ کا تقاضا کرتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہوا کہ یہ سمجھا جائے کہ الٰہ سے کیا مراد ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے وہ یہ کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ لوگ شرکیہ عقائد اور اعمال میں ملوث ہو کر بھی اپنے آپ کو توحید پر کاربند سمجھتے ہیں۔

کیا شرک صرف بت پرستی کا نام ہے؟

پیچھے جو کچھ بیان ہوا اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب نہ اللہ کا انکار کرتے تھے، نہ وہ رسول اللہﷺ کی دعوت کا انکار رسول اللہﷺ کی ذات کی وجہ سے کرتے تھے اور نہ ہی وہ اعمال سے بھاگتے تھے۔ مزید یہ کہ وہ صرف بے جان پتھروں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی سوچ اور فکر اس سلسلے میں یہ تھی کہ یہ بت اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ اور واسطہ ہیں۔ آیئے ذرا اس چیز کو مزید سمجھتے ہیں کہ بت پرستی کیا ہے؟ بت پرست کس چیز کی عبادت کرتے ہیں؟ اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے تو یقیناً شرک کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ جائے گی۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مشرکین عرب جن کو ہم بت پرست کہتے ہیں وہ در حقیقت مٹی کی مورت بنا کر اس کا ایک نام رکھ دیتے تھے اور اس کو اپنا معبود قرار دے دیتے تھے۔ اسی تراشے ہوئے پتھر کو سجدہ کرتے تھے۔ اسی کے نام کا ذکر کرتے تھے۔ اس کا نام لے کر اپنی حاجتوں میں اس کو پکارتے تھے تو در حقیقت یہ انتہائی ناقص خیال ہے، بلکہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کہنے والا کیونکہ بتوں کی پوجا نہیں کرتا لہذا وہ مشرک نہیں ہو سکتا چاہے اس کے عقیدے اور اعمال کیسے ہی ہوں۔ اس سوچ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں قرآن پاک کیا بتاتا ہے کہ کس کس کو معبود بنایا گیا۔

حضرت عیسیؑ اور ان کی ماں کو معبود بنایا گیا

واذ قال اللہ یٰعیسى ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اللہ قال سبحانک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب (المائدۃ: 116)

ترجمہ: اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کو الٰہ مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہو گا تو تجھ کو معلوم ہو گا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے۔

عیسائی بت پرست نہیں بلکہ وہ در حقیقت حد سے بڑھی ہوئی شخصیت پرستی کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ حضرت عیسیؑ کے معجزات ہیں۔ اس بے لگام شخصیت پرستی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ان صفات کا حامل قرار دے دیا ہے جو ان میں نہیں تھیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے ماں کی گود ہی میں اعلان کر دیا تھا:

انی عبد اللہ (مریم: 30)

ترجمہ: میں اللہ کا بندہ ہوں!

لیکن عیسائی کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے بندے نہیں اس کے بیٹے ہیں۔ یہی بے لگام شخصیت پرستی شرک کا سبب بن جاتی ہے اور دین ناواقف اپنی طرف سے اللہ کے مقرب بندوں کو بندگی سے نکال کر الوہیت کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ ٹھیک یہی کام غلو کا شکار مسلمان بھی کرتے ہیں۔ وہ رسول اللہﷺ اور بزرگان دین کے ساتھ وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا انہوں خود دعوی نہیں کیا بلکہ انکار ہی کیا ہے۔

علما اور صوفیوں کو معبود بنایا گیا

اتخذوا احبارہم ورہبانہم اربابا من دون اللہ و المسیح ابن مریم وما امروا الا لیعبدوا الہا واحدا لا الٰہ الا ہو سبحانہ عما یشرکون۔ (التوبہ: 31)

ترجمہ: انہوں (یہودی و نصاریٰ) نے اپنے علما اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا رب بنا لیا حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک الٰہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت عدیؓ بن حاتم نے، جو اسلام لانے سے پہلے عیسائی تھے، رسولﷺ سے دریافت کیا کہ ہم نے تو کبھی علما اور صوفیا کی عبادت نہیں کی تو قرآن پاک نے ایسا کیوں کہا؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ علما اور صوفیوں نے جو چیزیں از خود حلال و حرام کر دی تھیں (یعنی محض اپنی طرف سے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے) تم اس کو حجت نہیں مانتے تھے؟ حضرت عدیؓ نے کہا ضرور سمجھتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا:

فذٰلک عبادتھم ایاھم (سنن الترمذی)

ترجمہ: یہی تو ان کی عبادت کرنا ہے

چونکہ حلال و حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ کا منصب ہے اس لیے اس میں کسی غیر کو شریک ٹھہرانا اس کی عبادت کرنا ہے۔ اس آیت میں علما اور صوفیا کا ذکر ہے کہ لوگوں نے ان کو رب بنایا او مشرک ہوئے۔ حالانکہ علما و صوفیا بت نہیں ہوتے، اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ بت تھے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندوں کو اللہ کی کسی صفت میں شریک کرنا ان کو الٰہ بنانا ہے جو شرک ہے۔

نوٹ: یہاں احبار و رھبان سے مراد وہ علما و صوفیا ہیں جو محض اپنی رائے سے دین میں حلال و حرام قرار دیتے تھے۔ البتہ علمائے حق کسی مسئلے میں کوئی حکم بتاتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں اس لیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں حکم فرماتے ہیں۔

حضرت نوحؑ کی اولاد کو معبود بنایا گیا

وقالوا لا تذرن آلہتکم ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا (نوح: 23)

ترجمہ: اور وہ کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔

ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر یہ ان بتوں کے نام تھے جن کی قوم نوح عبادت کرتی تھی۔ ان بتوں کی حقیقت کیا تھی اس کی خبر صحیح بخاری کی اس روایت سے ملتی ہے:

اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ہلکوا اوحى الشیطان الى قومہم: ان انصبوا الى مجالسہم التی کانوا یجلسون انصابا وسموہا باسماءہم ففعلوا فلم تعبد حتى اذا ہلک اولئک ونسخ العلم عبدت

ترجمہ: (یہ) نام قوم نوح کے نیک لوگوں کے تھے، جن کی وفات کے بعد شیطان نے (اس قوم کے) لوگوں کو پٹی پڑھائی کہ ان (بزرگوں) کے بت بنا کر ان جگہوں پر رکھ دو جہاں یہ بزرگ بیٹھا کرتے تھے اور ان بتوں کے انہی بزرگوں پر نام بھی رکھ دو (تاکہ ان کی یاد آتی رہے)، لوگوں نے اسی طرح کیا لیکن ان مجسموں کی عبادت نہیں کی یہاں تک کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بت بنائے تھے مر گئے اور ان بتوں کا مقصد پس پردہ چلا گیا اور بعد میں آنے والے ان بتوں کی عبادت کرنے لگے۔

ان بتوں کی عربوں کے یہاں بھی عبادت ہوتی تھی۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بت پرستی اصل میں بزرگ پرستی سے شروع ہوئی۔

نیک لوگوں کو معبود بنایا گیا

افرایتم اللات والعزى (النجم: 19)

ترجمہ: بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

لات اس بت کا نام تھا جس کی مشرکین عرب عبادت کرتے تھے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کہتے ہیں:

کان اللات رجلا یلت سویق الحاج (صحیح البخاری)

ترجمہ: لات ایک آدمی کا نام تھا جو حاجیوں کو ستو گھول کر پلاتا تھا۔

جب اس کی وفات ہو گئی تو لوگوں نے اس کی قبر پر ڈیرہ ڈال دیا اور اس کی عبادت ہونے لگی (ابن کثیر)۔ یہاں بھی وہی بات نظر آئے گی کہ بت پرستی اصل میں قبر پرستی ہے جس کی بنیاد شخصیت پرستی ہے۔ بت تو ایک ظاہری شکل ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑی شخصیت ہوتی ہے جس کی عظمت کم عقلوں کی عقلوں کو ماؤف کر دیتی ہے اور وہ اس عظمت کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ اس کو اللہ کے کاموں میں دخل انداز سمجھنے لگتے ہیں۔

فرشتوں کو معبود بنایا گیا

ویوم یحشرہم جمیعا ثم یقول للملائکة اہؤلاء ایاکم کانوا یعبدون () قالوا سبحانک انت ولینا من دونہم بل کانوا یعبدون الجن اکثرہم بہم مؤمنون (سبا: 40-41)

ترجمہ: اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے، وہ کہیں گے تو پاک ہے (شریکوں سے) تو ہی ہمارا دوست ہے ان کے سوا، بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے ان پر ایمان رکھتے تھے۔

مشرکین عرب نے فرشتوں کو معبود بنا لیا تھا جن کو اپنی حاجتوں کے وقت پکارا کرتے تھے۔

جنوں کو معبود بنایا گیا

عزی جس کا ذکر سورۃ نجم آیت 19 میں آیا ہے، اس کے متعلق آتا ہے کہ وہ جنی تھی جس کی عبادت کی جاتی تھی۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو عزی کا معبد ختم کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے جب اس کے مبعد کو منہدم کیا تو اس میں سے ایک عورت برآمد ہوئی جس کو حضرت خالدؓ نے قتل کر ڈالا۔

اہل عرب کے دو مشہور بت تھے اساف اور نائلہ۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو ایک ادھیڑ عمر کی حبشی عورت واویلا کرتی اپنے رخسار نوچتی ہوئی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپﷺ نے فرمایا:

تلک نائلۃ ایست ان تعبد ببلدکم ھذا ابدا (البدایۃ و النھایۃ)

ترجمہ: یہ نائلہ ہے یہ اس سے نا امید ہو چکی ہے کہ تمہارے اس شہر میں کسی وقت اس کی عبادت ہو۔

یہ نائلہ بھی عزی کی طرح کوئی پری یا جنی تھی جس کے بت کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیلؑ کی عبادت کی گئی

مشرکین عرب نے کعبۃ اللہ کے اندر بھی بت رکھے ہوئے تھے۔ سنن ابو داؤد کی ایک روایت میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہﷺ نے کعبۃ اللہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرمایا تو آپﷺ نے حکم فرمایا:

فاخرج صورة ابراہیم و اسمعیل

ترجمہ: ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ کی تصویروں کو باہر نکال دو۔

قبر کی عبادت کی گئی

عن عائشة رضى اللہ عنہا ان ام حبیبة وام سلمة ذکرتا کنیسة راینہا بالحبشة فیہا تصاویر فذکرتا للنبی صلى اللہ علیہ و سلم فقال ‏ ‏ ان اولئک اذا کان فیہم الرجل الصالح فمات بنوا على قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلک الصور فاولئک شرار الخلق عند اللہ یوم القیامة ‏ (صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں تصویریں تھیں، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریمﷺ سے بھی کیا، آپﷺ نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی تصویریں بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔

اسی لیے رسول اللہﷺ نے مرض الموت میں یہ دعا فرمائی:

اللھم لا تجعل قبری و ثنا یعبد (مؤطا امام مالک)

ترجمہ: اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے۔

فرعون الٰہ بنا

قرآن پاک میں فرعون کے یہ الفاظ آئے ہیں:

وقال فرعون یا ایہا الملا ما علمت لکم من الٰہ غیری (القصص: 38)

ترجمہ: اور فرعون نے کہا کہ اے اہل دربار میں تمہارا، اپنے سوا کسی کو الٰہ نہیں جانتا

ایک اور انداز سے اس کو سمجھیں۔ قرآن پاک میں آتا ہے:

واتخذوا من دون االلہ آلہة لعلہم ینصرون (یس: 74)

ترجمہ: اور ان (مشرکوں) نے اللہ کے سوا (اور) الٰہ بنا لیے ہیں کہ شاید (وہ) ان کی مدد پہنچیں۔

واتخذوا من دون االلہ آلہة لیکونوا لہم عزا (مریم: 81)

ترجمہ: اور ان (مشرکوں) نے اللہ کے سوا اور الٰہ بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے (موجب عزت و) مدد ہوں

یعنی اللہ کے علاوہ وہ جن کو بھی الٰہ مانتے تھے ان کو وہ اپنا مددگار سمجھتے تھے۔ پتھر کے بتوں میں ایسی کون سے قوت پوشیدہ تھی جس کی بنیاد پر مشرکین عرب ان سے مدد کی امید باندھتے تھے ان سے عزت کے طلب گار تھے؟ اس سوال کا جواب اس کے علاوہ کیا ہے کہ ان بتوں کے پیچھے شخصیات تھیں۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے ان اقوال کو غور سے پڑھیے:

ظاہر و باطن دونوں طرح کے شرک کو چھوڑنے والوں میں سے ہو جا۔ بتوں کی پرستش کرنا تو ظاہری شرک ہے اور مخلوق پر بھروسا رکھنا اور نفع نقصان میں ان پر نگاہ ڈالنا ہے یہ باطن کا شرک ہے۔ (الفتح الربانی مجلس ۳۴)

فتوح الغیب میں فرماتے ہیں:

 صرف بت پرستی ہی شرک نہیں بلکہ اپنی خواہش نفس کی پیروی کرنا اور خدائے عز و جل کے ساتھ دنیا اور آخرت اور وہاں کی کسی چیز کو اختیار کرنا بھی شرک ہے پس جو اللہ تعالیٰ کے سوا ہے وہ غیر اللہ ہے۔ بس جب تو اس کے سوا اس کے غیر کی طرف مائل ہوا تو بے شک تو نے غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا۔ (فتوح الغیب وعظ ۷)

خلاصہ یہ ہے کہ بتوں کی اصل صاحب بت اور تصویروں کی اصل صاحب تصویر تھے۔ عقیدت پتھر کے بتوں یا کاغذی صنم (تصویر) سے نہیں ہوتی ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی شخصیت ہوتی ہے۔ مشرکین عرب بھی اصلا بتوں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے پیچھے شخصیات تھیں جن کی عظمت کے آگے وہ جھکتے تھے جن کے متعلق یہ عقیدہ قائم کر لیا گیا تھا کہ یہ اللہ کے اس قدر قریب ہو گئے ہیں کہ ان کے واسطے سے ہم اپنی حاجتوں میں اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں۔ یہی سب کچھ آج بھی ہوتا ہے۔ یہ بات کس کی عقل میں آتی ہے کہ ایک نا تراشیدہ پتھر تو کچھ حیثیت نہ رکھے لیکن جب وہی پتھر تراش دیا جائے تو وہ معبود بن جائے جو سب کچھ کر سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شرک کی ابتدا فرد یا مکان کی عظمت سے شروع ہوتی ہے جو بے لگام ہو جائے تو عبادت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

***

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید