اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


تاریخِ میلاد النبیﷺ ۔۔۔ محمد جاوید دیوان

ایک متنبازعہ موضوع پر سلجھی ہوئی کتاب

تاریخِ میلاد النبیﷺ

از قلم

محمد جاوید دیوان

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

میلاد کی ابتدا

حضرت پیر کرم شاہ صاحبؒ جو بریلوی مسلک کی ایک انتہائی علمی شخصیت گزرے ہیں سیرت النبیﷺ پر اپنی کتاب ضیاء النبیﷺ جلد دوم، صفحہ 48 پر لکھتے ہیں:
’’موجودہ صورت میں محفل میلاد کا انعقاد قرون ثلاثہ (اسلامی تاریخ کی پہلی تین صدیوں) کے بعد شروع ہوا پھر اس وقت سے تمام ملکوں میں اور تمام بڑے شہروں میں اہل اسلام میلاد شریف کی محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں اس کی راتوں میں صدقات و خیرات سے فقراء و مساکین کی دلداری کرتے ہیں حضورﷺ کی ولادت با سعادت کا واقعہ پڑھ کر حاضرین کو بڑے اہتمام سے سنایا جاتا ہے اور اس کی عمل کی برکتوں سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم کی ان پر بارش کرتا ہے۔‘‘
اسی صفحے پر چند سطروں کے بعد یہ تحریر فرماتے ہیں۔
’’علمائے کرام نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ محافل میلاد کے انعقاد کا آغاز کب ہوا اور کس نے کیا۔ امام ابن جوزیؒ ہی لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اربل کے بادشاہ الملک المظفر ابو سعید نے اس کا آغاز کیا اور اس زمانہ کے محدث شہیر حافظ ابن دحیہ نے اس مقصد کے لئے ایک کتاب تصنیف کی اور اس کا نام التنویر فی مولد البشیر النذیر تجویز کیا۔ ملک مظفر کے سامنے جب یہ تصنیف پیش کی گئی تو اس نے ابن دحیہ کو ایک ہزار اشرفی بطور انعام پیش کی۔ وہ ربیع الاول شریف میں ہر سال محفل میلاد کے انعقاد کا اہتمام کرتا تھا۔‘‘
حضرت پیر صاحبؒ کے الفاظ: ’’موجودہ صورت میں محفل میلاد کا انعقاد قرون ثلاثہ (اسلامی تاریخ کی پہلی تین صدیوں) کے بعد شروع ہوا۔‘‘ اس عبارت سے مراد یہ ہے کہ موجودہ طرز پر جو میلاد منعقد کیا جاتا ہے کہ ایک معین مہینے اور معین تاریخ پر کثیر لوازمات کے ساتھ ایک خاص طرز سے اس کو منایا جاتا ہے اس کا آغاز ساتویں صدی ہجری کے شروع میں ہوا۔
اس عبارت کی وضاحت کے لیے کچھ تفصیل جاننے کی ضرورت ہے۔ وہ تفصیل یہ ہے کہ میلاد کو خاص ربیع الاول میں کرنے کے موجد ایک عالم دین عمر بن محمد موصلی تھے اور اس کے اولین سرپرست سلطان اربل ملک معظم مظفر الدین (549ھ میں پیدائش اور 631ھ میں وفات پائی) تھے۔
یہاں اتنا جان لیجیے کہ مسلمان جو اعمال کرتے ہیں ان کی آٹھ قسمیں ہیں۔ ان میں سے ثواب کا تعلق فرض، واجب سنت، مستحب سے اور عذاب و عتاب کا تعلق حرام، مکروہ تحریمی و مکروہ تنزیہی سے ہوتا ہے۔ ان تمام کاموں کو مطالبہ شریعت کرتی ہے۔ کرنے کا یا نہ کرنے کا۔ ان سب کے بعد مباح اعمال ہوتے ہیں جن کے کرنے سے نہ ثواب ہوتا ہے نہ چھوڑ دینے پر کوئی سزا ہے۔ ان اعمال کو جاننے کے اہلسنت والجماعت کے نزدیک چار ذرائع ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔ عمر بن محمد موصلی نے اس عمل کو کس بنیاد پر جاری کیا اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ یعنی ہمیں نہیں معلوم کہ انہوں نے اس عمل کو جائز کس بنیاد پر قرار دیا۔ چنانچہ میلاد النبیﷺ کے جائز ہونے کے جتنے دلائل ہیں وہ بعد کے لوگوں نے دیے ہیں اصل موجد کے حوالے سے کچھ معلومات نہیں۔ اس حوالے سے جو بات ملتی ہے وہ یہ کہ شہر موصل میں عیسائی بھی کثیر تعداد میں آباد تھے جو حضرت عیسیؑ کا یوم ولادت بہت شان و شوکت سے مناتے تھے جس کی وجہ سے وہاں کے مسلمان کافی افسردہ خاطر ہوتے تھے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کی شان و شوکت کے اظہار کے لیے مروجہ میلاد کی ابتدا کی گئی، واللہ تعالیٰ اعلم۔
علمائے کرام میں اختلاف

میلاد النبیﷺ کو جس طرز پر شروع کیا گیا یہ اسلام میں ایک بالکل نئی چیز تھی جس کا پہلے کوئی وجود نہیں تھا۔ جس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ علمائے کرام کی رائے اس کے بارے میں مختلف ہو گئیں اور آج بھی یہ بحث جاری و ساری ہے۔ جس وقت مروجہ میلاد کا آغاز ہوا اُس وقت کے علما میں سے بعض نے اس کو پسند کیا اور بعض نے اس کو بدعت جانا۔ حضرت پیر کرم شاہؒ نے بعض علماء کی پسندیدگی کی رائے ضیا النبیﷺ میں پیش کی ہے۔ ایک عبارت پیش خدمت ہے جو امام نوویؒ کے استاد ابو شامہؒ کی ہے۔
’’ہمارے زمانے میں جو بہترین نیا کام کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ہر سال حضورﷺ کے میلاد کے دن صدقات اور خیرات کرتے ہیں۔‘‘
(ضیاء النبیﷺ ص 47 ج 2)
جن علما نے اس کو ناپسند کیا ان میں سے ایک علامہ تاج الدین فاکہانی جو ساتویں صدی ہجری کے مالکی مسلک کے عالم ہیں اپنی کتاب المورد فی عمل المولد میں صفحہ 8 پر میلاد کے انعقاد کو بدعت لکھتے ہیں:
’’میں نہیں جانتا کہ اس میلاد کے لیے کوئی اصل نہ کتاب (قرآن پاک) سے نہ سنت سے اور نہ ہی ان علما کے کلام میں جو اس امت کا سرمایہ افتخار ہیں بلکہ میلاد بدعت ہے جس کو اہل باطل نے اور خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں نے ایجاد کیا ہے۔‘‘
حافظ ابو الحسن علی بن فضل مقدسی مالکی جو ساتویں صدی ہجری کے مالکی مسلک کے عالم ہیں وہ اپنی کتاب جامع المسائل میں لکھتے ہیں:
’’بے شک عمل میلاد سلف صالح سے منقول نہیں ہے اور وہ قرون ثلاثہ (اسلام کی پہلی تین صدیاں جن کے خیر ہونے کی بشارت رسول اللہﷺ نے دی ہے) کے بعد برے زمانے میں ایجاد ہوا ہے اور جس عمل کو سلف صالح (پچھلے علماء یعنی خیر کی صدیوں کے علماء) نے نہیں کیا اس میں ہم خلف (ان صدیوں کے بعد آنے والے علماء) کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ سلف کی اتباع کافی ہے پھر ابتداع (بدعت گھڑنے) کی کیا حاجت۔‘‘
جو علمائے کرام میلاد منانے کو جائز قرار دیتے ہیں ان کی ایک دلیل ذیل کی حدیث ہے۔
ترجمہ: رسول اللہﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس دن میں پیدا کیا گیا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل ہوا۔ (صحیح مسلم)
جو علماء میلاد النبی کی تائید کرتے ہیں وہ اس حدیث شریف کو بھی سامنے رکھتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ نے اپنا پیر (سوموار) کا روزہ رکھنے کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں ایک تو ولادت شریف اور دوسری نزول وحی۔
جو حضرات مروجہ میلاد النبی کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ بدعت جانتے ہیں ان کے پیش نظر وہ مشہور حدیث ہے جس کا مفہوم ہے کہ دین میں جاری کی جانے والی ہر نئی بات بدعت ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ میلاد کے مروجہ طرز پر جاری کرنے کا سبب عیسائیوں کا میلاد مسیح بنا ہے تو یہ کفار کی نقالی کرنا ہے جو شریعت میں حرام ہے۔
بہرحال، حاصل یہ ہے کہ میلاد النبیﷺ کے حوالے سے امت کے بڑے بڑے علماء میں شروع ہی سے اختلاف رہا اور تا حال یہ اختلاف اپنی جگہ قائم ہے۔ علمائے کرام کے درمیان یہ اختلاف میلاد کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ ہمارے دور میں البتہ ایک مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ کیونکہ حقیقت حال کا صرف ایک رخ بیان ہوتا ہے اور اس پر شدید اصرار ہوتا ہے جس سے سننے والا اسی نکتہ نظر کو اپنا لیتا ہے اور دوسری آراء کو جانے بغیر شدید بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔

٭٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید