اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


تفسیرِ قرآن ۔۔۔ نا معلوم

اردو وکیپیڈیا سے ماخوذ

تفسیرِ قرآن

تفسیر کے معانی و مطالب، تفسیر کے اصول اور طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی کتاب

نا معلوم

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

کنڈل فائل 

ای پب فائل 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……..

 

اقتباس

 

تفسیر کے معانی

لفظ تفسیر عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ فسر ہے۔ یہ باب تفعیل کا مصدر ہے اس کے معنی ہیں واضح کرنا، کھول کر بیان کرنا، وضاحت کرنا، مراد بتانا اور بے حجاب کرنا کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں مسلمان قرآن کی تشریح و وضاحت کے علم کو تفسیر کہتے ہیں اور تفسیر کرنے والے کو مفسر۔ [1] ایک عربی آن لائن لغت میں [لفظ فسر] کا اندراج۔۔ [2] اسی عربی لفظ فسر سے، اردو زبان میں، تفسیر کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ الفاظ بھی بنائے جاتے ہیں جیسے، مُفسَر، مُفَسِّر اور مُفَسّر وغیرہ ایک اردو لغت میں [مُفسَر]، [مُفَسِّر][4][ر] کا اندراج۔ [5] تفسیر کی جمع تفاسیر کی جاتی ہے اور مفسر کی جمع مفسرین آتی ہے۔

لغوی معنی

تفسیر کا مادہ ف-س-ر=فسر ہے اور اس مادہ سے جو الفاظ بنتے ہیں۔ ان سے بالعموم شرح و ایضاح کے معنی شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ فَسّرَ (ماضی) کے مصدری معنی ہیں: واضح کرنا، تشریح کرنا، مراد بتانا، پردا ہٹانا۔ جبکہ اسی سے تفسیر ہے کیونکہ اس میں بھی عبارت کھول کر معانی کی وضاحت کی جاتی ہے۔

تعریف

وہ علم جس سے قرآن کو سمجھا جاتا ہے۔ اس علم سے قرآن کے معانی کا بیان، اس کے استخراج کا بیان، اس کے احکام کا استخراج معلوم کیا جاتا ہے۔ اور اس سلسلے میں لغت، نحو، صرف، معانی و بیان وغیرہ سے مدد لی جاتی ہے۔ اس میں اسباب نزول، ناسخ و منسوخ سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ علامہ امبہانی کہتے ہیں: تفسیر اصطلاح علما میں قرآن کریم کے معانی اور اس کی مراد کو واضح کرنے اور بیان کرنے کو کہتے ہیں، خواہ باعتبار حل الفاظ مشکل ہو یا باعتبار معنی ظاہر ہو یا خفی اور تاویل کلام تام اور جملوں کا مفہوم متعین کرنے کو کہتے ہیں۔ امام ماتریدی کے نزدیک: تفسیر اس یقین کا نام ہے کہ لفظ سے یہی مراد اور اس قدر یقین ہو کہ خدا کو شاہد ٹھہرا کر کہا جائے کا خدا نے یہی مراد لیا ہے۔ اور تاویل یہ ہے کہ چند احتمالات میں سے کسی ایک کو یقین اور شہادت الٰہی کے بغیر ترجیح دی جائے۔ امام ابو نصر القشیری کہتے ہیں کہ تفسیر موقوف ہے سماع اور اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر۔ علامہ ابو طالب شعلبی کہتے ہیں: تفسیر کے معنی لفظ کی وضع کا بیان کر دینا ہے، خواہ وہ حقیقت ہویا مجاز، مثلاً صراط کے معنی راستہ، صیب کے معنی بارش اور کفر کے معنی انکار۔
قرآن میں جو بیان کیا گیا ہے اور صحیح سنت میں اس کی تعین کیا گیا ہے اس کو ظاہر کرنا تفسیر ہے۔ جو بیان ظاہر کے مطابق ہو وہ تفسیر ہے۔

تاویل
تاویل کا مادہ ا-و-ل=اول ہے۔ اس کے لغوی معنی تعبیر بتانا، کل بٹھانا۔ بیان حقیقت، اپنی اصل کی صرف لوٹنا کے ہیں۔ مرجع اور جائے بازگشت کو موؤل کہتے ہیں۔ کسی شے کو فعل ہو علم اس کی اصل کی طرف لوٹانے کا نام تاویل ہے۔ قرآن اور کلام عرب میں یہ لفظ بیان حقیقت، تفسیر، توضیح معانی، تبیین کے مترادف استعمال ہوا ہے۔ یعنی قرآن میں تاویل و تفسیر ہم معنی استعمال ہوا ہے۔ چوتھی صدی ہجری سے پہلے تک تاویل و تفسیر کا ایک ہی معنی لیا جاتا رہا ہے۔ اور اسی (تفسیر) کے مترادف کے طور پر تاویل کا لفظ مستعمل رہا۔ پھر اس میں شروع شروع میں تھوڑا فرق پایا جاتا تھا، عام طور پر علما ان دونوں لفظوں کے مفہوم میں یہ فرق کیا کرتے تھے کہ: تاویل کا استعمال جملوں اور معانی کی توضیح کے لےر استعمال کرتے اور تفسیر کا لفظ مشکل الفاظ اور مفردات کی تشریح کے لےم، مگر یہ تمام علما کے نزدیک مسلم نہیں تھا۔ پھر جب بعد میں علوم اسلامیہ کی باقاعدہ ترتیب و تدوین عام ہو گئی۔ تو تفسیر و تاویل کے اصطلاحی معانی بھی مقرر ہوئے اور دونوں میں واضح فرق کیا جانے لگا۔ اور فنی و اصطلاحی حیثیت سے تفسیر و تاویل الگ الگ چیزیں ہو گئیں۔

اصطلاحی تعریف

علامہ زرکشی نے اس کی مختصر تعریف یوں نقل کی ہے:
ھُوَعِلْمٌ یُعْرَفُ بِہٖ فَھُم کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ عَلیٰ نَبِیِّہَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَبَیَانُ مَعَانِیْہِ وَاسْتَخْرَاج أَحْکَامِہٖ وَحِکَمِہٖ۔ [6]
وہ ایسا علم ہے جس سے قرآن کریم کی سمجھ حاصل ہو اور اس کے معانی کی وضاحت اور اس کے احکام اور حکمتوں کو نکالا جا سکے۔ علامہ آلوسی تعریف میں مزید عموم پیدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ھُوَ عِلْمٌ یبْحَثُ فِیہِ عَنْ کَیفِیةِ النُّطْقِ بِأَلْفَاظِ الْقُرْآنِ، وَمَدْلُوْلَاتِہَا، وَأَحْکَامِہَا الْإِفْرَادِیةِ وَالتَّرْکِیبِیةِ، وَمَعَانِیہَا الَّتِی تُحْمَلُ عَلَیہَا حَالَۃِ التَّرْکِیبِ، وَتَتِمَّاتُ لِذَلِک [7]
وہ علم ہے کہ جس میں قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقے اور ان کے مفہوم اور ان کے افرادی اور ترکیبی احکام اور اُن معانی سے بحث کی جاتی ہو جو ان الفاظ سے جوڑنے کی حالت میں مراد لےَ جاتے ہیں اور ان معانی کا تکملہ جو ناسخ و منسوخ اور شان نزول اور غیر واضح مضمون کی وضاحت میں بیان کیا جائے۔
اس تعریف کی روشنی میں علمِ تفسیر مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہے:

الفاظِ قرآن کی ادائیگی کے طریقے

یعنی الفاظ قرآن کو کس کس طرح پڑھا جا سکتا ہے؟ اس کی توضیح کے لےن قدیم عربی مفسرین اپنی تفسیروں میں ہر آیت کے ساتھ اس کی قرأتیں بھی تفصیل سے واضح کرتے تھے اور اس مقصد کے لےن ایک مستقل علم” علم قرأت” کے نام سے بھی موجود ہے۔
"الفاظ قرآنی کے مفہوم” یعنی ان کی لغوی معنی، اس کام کے لے علم لغت سے پوری طرح باخبر ہونا ضروری ہے اور اسی بنا پر تفسیر کی کتابوں میں علما لغت کے حوالے عربی ادب کے شواہد بکثرت ملتے ہیں۔

الفاظ کے انفرادی احکام
یعنی ہر لفظ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ اس کا مادہ کیا ہے، یہ موجودہ صورت میں کس طرح آیا ہے، اس کا وزن کیا ہے اور اس وزن کے معانی و خواص کیا ہیں؟ ان باتوں کے لئے علم صرف کی ضرورت پڑتی ہے۔

الفاظ کے ترکیبی احکام

یعنی ہر لفظ کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ وہ دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر کیا معنی دے رہا ہے؟ اس کی نحوی ترکیب (Grammatical Analysis) کیا ہیں؟ اس پر موجودہ حرکات کیوں آئی ہیں اور کن معانی پر دلالت کر رہی ہیں؟ اس کام کے لےد علم نحو اور علم معانی سے مدد لی جاتی ہے۔

ترکیبی حالت میں الفاظ کے مجموعی معنی
یعنی پوری آیت اپنے سیاق و سباق میں کیا معنی دے رہی ہے؟ اس مقصد کے لےے آیت کے مضامین کے لحاظ سے مختلف علوم سے مدد لی جاتی ہے، مذکورہ علوم کے علاوہ بعض اوقات علم ادب اور علم بلاغت سے کام لیا جاتا ہے، بعض اوقات علم حدیث اور بعض اوقات علم اصول فقہ سے۔

معانی کے تکملے

یعنی آیات قرآنی کا پس منظر اور جو بات قرآن کریم میں مجمل ہے اس کی تفصیل، اس غرض کے لےا زیادہ تر علمِ حدیث سے کام لیا جاتا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ اس دنیا کے ہر علم و فن کی معلومات کھپ سکتی ہیں کیونکہ بسا اوقات قرآن کریم ایک مختصر سا جملہ فرماتا ہے مگر اس کی میں حقائق و اسرار کی ایک غیر متناہی کائنات پوشیدہ ہوتی ہے مثلاً قرآن کریم کا ارشاد ہے:
وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (الذاریات: 21)
اور تم اپنی جانوں میں غور کرو کیا تم نہیں دیکھتے۔
غور فرمائیے اس مختصر سے جملے کی تشریح و تفصیل میں پورا علم الابدان (Physiology) اور پورا علمِ نفسیات (Psychology) سما جاتا ہے اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی تخلیقی حکمت بالغہ کے جن اسرار کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ سب پورے ہو گئے ہیں، چنانچہ تفسیر کے اس ذیلی جز میں عقل و تدبر، تجربات و مشاہدات کے ذریعے انتہائی متنوع مضامین شامل ہیں۔ [8]

تفسیر القرآن کے اصول

چونکہ ہر کام کی ایک اصل ہوتی ہے اور اصول کے ساتھ ہونے والے کام کو کام کہا جاتا ہے، بے اصولی تو کسی بھی شعبہ میں اچھی نہیں سمجھی جاتی، اسی اصول پر تفسیر کے اصول بھی ہیں، تاکہ اس میں دلچسپی پیدا ہو، اب ایک بات ضروری طور پر یہ رہ جاتی ہے کہ وہ کیا ذرائع اور طریقے ہیں جن کی بنیاد پر قرآن کریم کی تفسیر کی جا سکے، یقیناً ہم کو اس کے لےا حق سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے رہبری کی گئی ہے، چنانچہ فرمایا:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ۔ (آل عمران: 7)
اے رسول!وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے اورکچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ گویا اس آیت کی رو سے آیات کی اولین تقسیم دو طرح پر کی گئی ہے۔
(1) آیات محکمات
(2) آیات متشابہات
پھر متشابہات دو قسم پر ہیں:
(1) جو لفظ بھی سمجھ سے باہر ہو جیسے حروف مقطعات
(2) لفظ تو سمجھ میں آتے ہوں، لیکن مفہوم ان کا قابل فہم نہ ہو۔ پھر آیاتِ محکمات کو مفسرین نے دو طرح پر تقسیم کیا ہے:
(1) وہ آیتیں جن کے سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو جو بالکل واضح ہوں یعنی جس زبان میں بھی ان کا ترجمہ کیا جائے سمجھنے والے کو مشکل معلوم نہ ہوں اور بظاہر مفسرین کے پاس کوئی اختلاف رائے نہ ہو، جیسے پچھلی قوموں سے متعلق واقعات اور جنت و جہنم سے متعلق آیات۔
(2) دوسری وہ آیتیں ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی ابہام یا اجمال یا اور کوئی دشواری پائی جائے یا اُن آیتوں کو سمجھنے کے لے ان کے منظر وپس منظر کو سمجھنا ضروری ہو جیسے وہ آیتیں جن سے دقیق مسائل اور احکام نکلتے ہوں یا اسرار و معارف اُن سے نکلتے ہوں، ایسی آیات کو سمجھنے کے لےن انسان کو صرف زبان اور اس کی باریکیوں کو جاننا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی بہت سی معلومات کی ضرورت پڑتی ہے، انہیں معلومات میں سے ایک ’ماخذِ تفسیر‘ کہلاتا ہے۔

پہلی مثال

سورۃ الفاتحہ کو ہی لیجئے، اِس کی دونوں آیتیں اس طرح ہیں:
اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ، صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیہِمْ غَیرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیہِمْ وَلَا الضَّالِّینَ”۔ (الفاتحۃ: 6، 7)
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما، ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے۔ جن پر انعام کیا گیا ہے اس کی تفسیر سورۃ النساء کی درجِ ذیل آیت میں کی گئی ہے:
وَمَنْ یطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیہِمْ مِنَ النَّبِیینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا۔ (النساء: 96)
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیا، صدیقین، شہداء اور صالحین اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

دوسری مثال

فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِoاِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (البقرۃ: 37)
پھر آدمؑ نے اپنے پروردگار سے (توبہ کے) کچھ الفاظ سیکھ لےت (جن کے ذریعہ انہوں نے توبہ مانگی) چنانچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ اس آیت میں کلمات کا تذکرہ ہے مگر وہ کلمات کیا تھے؟ دوسری آیت میں اس کی تفسیر موجود ہے:
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا، وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔ (الاعراف: 23)
دونوں بول اٹھے کہ: اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔

تیسری مثال

سورۃ الانعام کی آیت نازل ہوئی:
الَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یلْبِسُوا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولِٰئکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۔ (الانعام: 82)
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہ دیا، امن چین تو بس ان ہی کا حق ہے اور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔ تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے کہ جس سے ( کسی نہ کسی طرح کا) ظلم صادر نہ ہوا ہو، تو اللہ نے ظلم کی تفسیر و مراد کو واضح کرنے کے لےن یہ آیت نازل فرمائی:
إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ۔ (لقمان: 13)
کہ شرک ظلم عظیم ہے۔ یعنی آیت بالا میں ایمان کے ساتھ جس ظلم کا تذکرہ آیا ہے وہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ [9]
تفسیر القرآن بالقرآن کے موضوع پر ایک گرانقدر کتاب مدینہ منورہ کے ایک عالم شیخ محمد امین بن محمد مختار کی تالیف ہے جو ’اضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔

***

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید