اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


معارف القرآن، جلد ششم ۔۔۔ مفتی محمد شفیع عثمانی

مشہور تفسیری کتاب کی ایک اور جلد

معارف القرآن، جلد ششم

سورۃ صافات سے سورۃ الحجرات  تک

از قلم

مفتی محمد شفیع عثمانی

جمع و ترتیب : اعجاز عبید اور محمد عظیم الدین

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

۴۹۔ سورۃ الحجرات

۰۴۹: ۰۰۰

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ترجمہ:

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر:

سورة حجرات مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی اٹھارہ آیتیں ہیں اور دو رکوع

۰۴۹: ۰۰۱

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۝۱

ترجمہ:

اے ایمان والو! آگے نہ بڑھو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ سنتا ہے جانتا ہے

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

ربط سورت و شان نزول:

اس سے پہلی دو سورتوں میں جہاد کے احکام تھے جس سے اصلاح عام و آفاق مقصود ہے۔ اس سورت میں اصلاح نفس کے احکام و آداب مذکور ہیں، خصوصاً وہ احکام جو آداب معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں اور قصہ ان آیتوں کے نزول کا یہ ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ بات زیر غور تھی کہ اس قبیلہ پر حاکم کس کو بنایا جائے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے قعقاع ابن معبد کی نسبت رائے دی اور حضرت عمر نے اقرع بن حابس کے متعلق رائے دی، اس معاملہ میں حضرت ابو بکر و عمرؓ کے مابین آپ کی مجلس میں گفتگو ہو گئی اور گفتگو بڑھ کر دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (رواہ البخاری)

اے ایمان والو! اللہ اور رسولﷺ (کی اجازت) سے پہلے تم (کسی قول یا فعل میں) سبقت نہ کیا کرو (یعنی جب تک قرائن قویہ سے یا بالتصریح گفتگو کی اجازت نہ ہو گفتگو مت کرو جیسا کہ واقعہ مذکورہ جو سبب نزول ان آیات کا ہوا اس میں انتظار کرنا چاہئے تھا کہ یا تو آپ خود کچھ فرماتے یا آپ حاضرین مجلس سے پوچھتے بدون انتظار کے از خود گفتگو شروع کر دینا درست نہیں تھا کیونکہ گفتگو کا جواز اذن شرعی پر موقوف تھا خواہ یہ اذن قطعی ہو یعنی صریح طور پر یا ظنی قرائن قویہ کے ذریعہ غلطی یہ ہوئی انتظار نہیں کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ (تمہارے سب اقوال کو) سننے والا (اور تمہارے افعال کو) جاننے والا ہے (اور) اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبرﷺ کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں کھل کر ایک دوسرے سے بولا کرتے ہو (یعنی نہ بلند آواز سے بولو جبکہ آپ کے سامنے آپس میں کوئی بات کرنا ہو اور نہ برابر کی آواز سے بولو جبکہ خود آپ سے خطاب کرنا ہو) کبھی تمہارے اعمال برباد ہو جاویں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (اس کا مطلب یہ ہے کہ آواز کا بلند کرنا جو صورة بے باکی اور بے پروائی ہے اور بلند آواز سے اس طرح باتیں کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے تکلف باتیں کرتے ہیں یہ ایک قسم کی گستاخی ہے اپنے تابع اور خادم سے اس طرح کی گفتگو ناگوار اور ایذا دہ ہو سکتی ہے اور اللہ کے رسول کو ایذا پہچانا تمام اعمال خیر کو برباد کر دینے والا ہے۔ البتہ بعض اوقات جبکہ طبیعت میں زیادہ انبساط ہو یہ امور ناگوار نہیں ہوتے اس وقت عدم ایذا رسول کی وجہ سے یہ گفتگو حبط اعمال کا موجب نہیں ہو گی، لیکن متکلم کو یہ معلوم کرنا کہ اس وقت ہماری ایسی گفتگو ناگوار خاطر اور موجب ایذا نہیں ہو گی آسان نہیں ہو سکتا ہے کہ متکلم تو یہ سمجھ کر کلام کرے کہ اس سے آنحضرتﷺ کو ایذا نہیں ہو گی مگر واقع میں اس سے ایذا پہنچ جائے تو گفتگو اس کے اعمال کو حبط اور برباد کر دے گی اگرچہ اس کو گمان بھی نہ ہو گا کہ میری اس گفتگو سے مجھے کتنا بڑا خسارہ ہو گیا، اس لئے آواز بلند کرنے اور جہر بالقول کو مطلقاً ممنوع کر دیا گیا کیونکہ ایسی گفتگو کے بعض افراد اگرچہ موجب ایذا و حبط اعمال نہیں ہوں گے مگر اس کی تعیین کیسے ہو گی اس لئے مطلقاً جہر بالقول کے تمام افراد کو ترک کر دینا چاہئے یہاں تک تو آواز بلند کرنے سے ڈرایا گیا ہے آگے آواز پست کرنے کی ترغیب ہے

بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہﷺ کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے خالص کر دیا ہے (یعنی ان کے قلوب میں تقویٰ کے خلاف کوئی چیز آتی ہی نہیں، مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خاص معاملہ میں یہ حضرات کمال تقویٰ کے ساتھ متصف ہیں کیونکہ ترمذی کی حدیث مرفوع میں کمال تقویٰ کا بیان ان الفاظ میں آیا ہے لایبلغ العبد ان یکون من المتقین حتی یدع ما لا باس بہ حذرا لما بہ باس، یعنی بندہ کمال تقویٰ کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ کچھ ایسی چیزوں کو بھی جن میں کوئی گناہ نہیں اس احتیاط کی بناء پر چھوڑ دے کہ یہ جائز کام کہیں مجھے کسی ناجائز کام میں مبتلا نہ کر دے۔ مراد وہ مشتبہ امور ہیں جن میں گناہ کا خطرہ اور شبہ ہو، جیسا کہ آواز بلند کرنے کی ایک فرد ایسی ہے جس میں گناہ نہیں، یعنی وہ جس میں مخاطب کو ایذا نہ ہو اور ایک فرد وہ ہے جس میں گناہ ہے یعنی جس سے ایذا پہنچے، تو کمال تقویٰ اس میں ہے کہ آدمی مطلقاً آواز بلند کرنے کو چھوڑ دے، آگے ان کے عمل کے اخروی فائدہ کا بیان ہے) ان لوگوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور اگلی آیتوں کا قصہ یہ ہے کہ وہ ہی بنو تمیم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ باہر تشریف فرما نہ تھے بلکہ ازواج مطہرات کے حجرات میں سے کسی مکان میں تھے۔ یہ لوگ غیر مہذب گاؤں والے تھے باہر ہی سے کھڑے ہو کر آپ کا نام لے کر پکارنے لگے کہ یا محمد اخرج الینا، یعنی اے محمد ہمارے لئے باہر آئیے، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں (کذا فی الدرا لمنثور بروایۃ ابن اسحاق عن ابن عباس) جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ان میں اکثروں کو عقل نہیں ہے (کہ عقل ہوتی تو آپ کا ادب کرتے اس طرح نام لے کر باہر سے پکارنے کی جرات نہ کرتے اور اکثرہم فرمانے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ بعض پکارنے والے فی نفسہ جری نہ ہوں گے، دوسروں کے ساتھ دیکھا دیکھی لگ گئے اس طرح ان سے بھی یہ غلطی ہو گئی اور یا اگرچہ سب ایک ہی طرح کے ہوں مگر اکثرہم کا لفظ فرمانے سے کسی کو اشتعال نہیں ہو گا کیونکہ ہر شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ شاید مجھ کو کہنا مقصود نہ ہو وعظ و نصیحت کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے کلمات سے احتیاط کی جائے جن سے مخاطب کو اشتعال پیدا ہو) اور اگر یہ لوگ (ذرا) صبر (اور انتظار) کرتے یہاں تک کہ آپ خود باہر ان کے پاس آ جاتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا (کیونکہ یہ ادب کی بات تھی) اور (اگر اب بھی توبہ کر لیں تو معاف ہو جاوے کیونکہ) اللہ غفور رحیم ہے۔

معارف و مسائل:

ان آیات کے نزول کے متعلق روایات حدیث میں بقول قرطبی چھ واقعات منقول ہیں اور قاضی ابو بکر بن عربی نے فرمایا کہ سب واقعات صحیح ہیں کیونکہ وہ سب واقعات مفہوم آیات کے عموم میں داخل ہیں ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں بروایت بخاری ذکر کیا گیا ہے۔

(آیت) یٰٓایہا الذین اٰمنوا لا تقدموا بین یدی اللٰہ ورسولہٖ، بین الیدین کے اصل معنے دو ہاتھوں کے درمیان کے ہیں مراد اس سے سامنے کی جہت ہے یعنی رسول اللہﷺ کے سامنے تقدم اور پیش قدمی نہ کرو کس چیز میں پیش قدمی کو منع فرمایا ہے قرآن کریم نے اس کو ذکر نہیں کیا جس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ کسی قول یا فعل میں آنحضرتﷺ سے پیش قدمی نہ کرو بلکہ انتظار کرو کہ رسول اللہﷺ کیا جواب دیتے ہیں، ہاں آپ ہی کسی کو جواب کے لئے مامور فرما دیں تو وہ جواب دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ چل رہے ہیں تو کوئی آپ سے آگے نہ بڑھے، کھانے کی مجلس ہے تو آپ سے پہلے کھانا شروع نہ کرے مگر یہ کہ آپ تصریح یا قرائن قویہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ خود ہی کسی کو آگے بھیجنا چاہتے ہیں جیسے سفر اور جنگ میں کچھ لوگوں کو آگے چلنے پر مامور کیا جاتا تھا۔

علمائے دین اور دینی مقتداؤں کے ساتھ بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہئے:

بعض علماء نے فرمایا ہے کہ علماء و مشائخ دین کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ وارث انبیاء ہیں اور دلیل اس کی یہ واقعہ ہے کہ ایک دن حضرت ابو الدردا کو رسول اللہﷺ نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر کے آگے چل رہے ہیں تو آپ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کے آگے چلتے ہو جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے اور فرمایا کہ دنیا میں آفتاب کا طلوع و غروب کسی ایسے شخص پر نہیں ہوا جو انبیاء کے بعد ابو بکر سے بہتر و افضل ہو (روح البیان از کشف الاسرار) اس لئے علماء نے فرمایا کہ اپنے استاد اور مرشد کے ساتھ بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہئے۔

۰۴۹: ۰۰۲

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۝۲

ترجمہ:

اے ایمان والو بلند نہ کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر اور اس سے نہ بولو تڑخ کر جیسے تڑختے ہو ایک دوسرے پر کہیں اکارت نہ ہو جائیں تمہارے کام اور تم کو خبر بھی نہ ہو

تفسیر:

(آیت) ولا ترفعوٓا اصواتکم فوق صوت النبی، یہ دوسرا ادب مجلس نبوی کا بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہﷺ کے سامنے آپ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے محابا کیا کرتے ہیں ایک قسم کی بے ادبی گستاخی ہے، چنانچہ اس آیت کے نزول سے صحابہ کرام کا یہ حال ہو گیا کہ حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو (در منشور عن البیہقی) اور حضرت عمر اس قدر آہستہ بولنے لگے کہ بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا (کذا فی الصحاح) اور حضرت ثابت بن قیس طبعی طور پر بہت بلند آواز تھے، یہ آیت سن کر وہ بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو گھٹایا (بیان القرآن از در منشور)

روضہ اقدس کے سامنے بھی بہت بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ممنوع ہے:

قاضی ابو بکر ابن عربی نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کی تعظیم اور ادب آپ کی وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا حیات میں تھا، اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کی قبر شریف کے سامنے ہی زیادہ بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ادب کے خلاف ہے، اسی طرح جس مجلس میں رسول اللہﷺ کی احادیث پڑھیں یا بیان کی جا رہی ہوں اس میں بھی شور و شغب کرنا بے ادبی ہے کیونکہ آپ کا کلام جس وقت آپ کی زبان مبارک سے ادا ہو رہا ہو اس وقت سب کے لئے خاموش ہو کر اس کا سننا واجب و ضروری ہے اسی طرح بعد وفات جس مجلس میں آپ کا کلام سنایا جاتا ہو وہاں شور و شغب کرنا بے ادبی ہے۔

مسئلہ: جس طرح تقدم علی النبی کی ممانعت میں علمائے دین بحیثیت وارث انبیاء ہونے کے داخل ہیں اسی طرح رفع صوت کا بھی یہی حکم ہے کہ اکابر علماء کی مجلس میں اتنی بلند آواز سے نہ بولے جس سے ان کی آواز دب جائے (قرطبی)

(آیت) ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون، لفظ ان تحبط مفعول ہے لا ترفعوا کا جس میں حکم کی علت بتلائی گئی ہے۔ بخدف مصدر یعنی خشیۃ ان تحبط معنے آیت کے یہ ہوئے کہ اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو بسبب اس خطرہ اور خوف کے کہ کہیں تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ اس جگہ کلیات شرعیہ اور اصول مسلمہ کے اعتبار سے چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ حبط اعمال یعنی اعمال صالحہ کو ضائع کر دینے والی چیز تو باتفاق اہل سنت والجماعت صرف کفر ہے۔ کسی ایک معصیت اور گناہ سے دوسرے اعمال صالحہ ضائع نہیں ہوتے اور یہاں خطاب مومنین اور صحابہ کرام کو ہے اور لفظ یایھا الذین امنوا کے ساتھ ہے جس سے اس فعل کا کفر نہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو حبط اعمال کیسے ہوا۔ دوسرے یہ کہ جس طرح ایمان ایک فعل اختیاری ہے جب تک کوئی شخص اپنے اختیار سے ایمان نہ لائے مومن نہیں ہوتا اسی طرح کفر بھی امر اختیاری ہے جب تک کوئی شخص اپنے قصد سے کفر کو اختیار نہ کرے وہ کافر نہیں ہو سکتا اور یہاں آیت کے آخر میں یہ تصریح ہے کہ انتم لاتشعرون، یعنی تمہیں خبر بھی نہ ہو تو حبط اعمال جو خالص کفر کی سزا ہے وہ کیسے جاری ہوئی۔

سیدی حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اس کی توجیہ ایسی بیان فرمائی ہے جس سے یہ سب اشکالات و سوالات ختم ہو جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ مسلمانو! تم رسول اللہﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے اور بے محابا جہر کرنے سے بچو کیونکہ ایسا کرنے میں خطرہ ہے کہ تمہارے اعمال حبط اور ضائع ہو جائیں اور وہ خطرہ اس لئے ہے کہ رسول سے پیش قدمی یا ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کر کے غالب کرنا ایک ایسا امر ہے جس سے رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی ہونے کا بھی احتمال ہے جو سبب ہے ایذائے رسول کا اگرچہ صحابہ کرام سے یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ بالقصد کوئی ایسا کام کریں جو آپ کی ایذا کا سبب بنے لیکن بعض اعمال و افعال جیسے تقدم اور رفع صوت اگرچہ بقصد ایذا نہ ہوں پھر بھی ان سے ایذا کا احتمال ہے اسی لئے ان کو مطلقاً ممنوع اور معصیت قرار دیا ہے اور بعض معصیتوں کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے سے توبہ اور اعمال صالحہ کی توفیق سلب ہو جاتی ہے اور وہ گناہوں میں منہمک ہو کر انجام کار کفر تک پہنچ جاتا ہے جو سبب ہے حبط اعمال کا، کسی اپنے دینی مقتداء استاد یا مرشد کی ایذا رسانی ایسی ہی معصیت ہے جس سے سلب توفیق کا خطرہ ہوتا ہے، اس طرح یہ افعال یعنی تقدم علی النبی اور رفع الصوت ایسی معصیت ٹھہریں کہ جن سے خطرہ ہے کہ توفیق سلب ہو جائے اور یہ خذلان آخر کار کفر تک پہنچا دے جس سے تمام اعمال صالحہ ضائع ہو جاتے ہیں اور کرنے والے نے چونکہ قصداً ایذا کا نہ کہا تھا اس لئے اس کو اس کی خبر بھی نہ ہو گی کہ اس ابتلاء کفر اور حبط اعمال کا اصل سبب کیا تھا۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کسی صالح بزرگ کو کسی نے اپنا مرشد بنایا ہو اس کے ساتھ گستاخی و بے ادبی کا بھی یہی حال ہے کہ بعض اوقات وہ سلب توفیق اور خذلان کا سبب بن جاتی ہے جو انجام کار متاع ایمان کو بھی ضائع کر دیتی ہے نعوذ باللہ منہ۔

۰۴۹: ۰۰۳

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰی ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۝۳

ترجمہ:

جو لوگ دبی آواز سے بولتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہی ہیں جن کے دلوں کو جانچ لیا ہے اللہ نے ادب کے واسطے ان کے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا

۰۴۹: ۰۰۴

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۝۴

ترجمہ:

جو لوگ پکارتے ہیں تجھ کو دیوار کے پیچھے سے وہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔

تفسیر:

(آیت) ان الذین ینادونک من ورآء الحجرٰت اکثرہم لا یعقلون، اس آیت میں نبی کریمﷺ کا ایک تیسرا ادب سکھلایا گیا ہے کہ جس وقت آپ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ کو پکارنا خصوصاً گنوارپن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے یہ بے ادبی ہے عقل والوں کے لیے یہ کام نہیں۔ حجرات، حجرہ کی جمع ہے اصل لغت میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرے ہوئے مکان کو کہتے ہیں جس میں کچھ صحن ہو کچھ مسقف عمارت ہو۔ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات مدینہ طیبہ میں نو تھیں ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک حجرہ الگ الگ تھا جن میں آپ باری باری تشریف فرما ہوتے تھے۔

حجرات امہات المومنین:

ابن سعد نے بروایت عطا خراسانی لکھا ہے کہ یہ حجرات کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر موٹے سیاہ اون کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ امام بخاری نے ادب المفرد میں اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان حجرات کی زیارت کی ہے میرا گمان یہ ہے کہ حجرہ کے دروازہ سے مسقف بیت تک چھ سات ہاتھ ہو گا اور بیت (کمرہ) دس ہاتھ اور چھت کی اونچائی سات آٹھ ہاتھ ہو گی۔ یہ حجرات امہات المومنین ولید بن عبد الملک کی حکومت میں ان کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کر دئیے گئے۔ مدینہ میں اس روز لوگوں پر گریہ و و بکا طاری تھی۔

سبب نزول:

امام بغوی نے بروایت قتادہ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ یہ دوپہر کے وقت مدینہ میں پہنچے جبکہ آپ کسی حجرہ میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ اعراب آداب معاشرت سے ناواقف تھے۔ انہوں نے حجرات کے باہر ہی سے پکارنا شروع کر دیا، اخرج الینا یا محمد اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسند احمد۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت مختلف الفاظ سے آئی ہے (مظہری)

تنبیہ:

صحابہ و تابعین نے اپنے علماء و مشائخ کے ساتھ بھی اسی ادب کا استعمال کیا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ جب میں کسی عالم صحابی سے کوئی حدیث دریافت کرنا چاہتا تھا تو ان کے مکان پر پہنچ کر ان کو آواز یا دروازہ پر دستک دینے سے پرہیز کرتا اور دروازہ کے باہر بیٹھ جاتا تھا کہ جب وہ خود ہی باہر تشریف لاویں گے اس وقت ان سے دریافت کروں گا، وہ مجھے دیکھ کر فرماتے کہ اے رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی، آپ نے دروازہ پر دستک دے کر کیوں نہ اطلاع کر دی تو ابن عباس نے فرمایا کہ عالم اپنی قوم میں مثل نبی کے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نبی کی شان میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ان کے باہر آنے کا انتظار کیا جائے۔ حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کسی عالم کے دروازہ پر جا کر دستک نہیں دی بلکہ اس کا انتظار کیا کہ وہ خود ہی جب باہر تشریف لاویں گے اس وقت ملاقات کروں گا (روح المعانی)

مسئلہ: آیت مذکورہ میں حتی تخرج الیہم میں الیہم کی قید بڑھانے سے یہ ثابت ہوا کہ صبر و انتظار اس وقت تک کرنا ہے جب تک کہ آپ لوگوں سے ملاقات و گفتگو کے لئے باہر تشریف لائیں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا باہر تشریف لانا کسی دوسری ضرورت سے ہو اس وقت بھی آپ سے اپنے مطلب کی بات کرنا مناسب نہیں بلکہ اس کا انتظار کریں کہ جب آپ ان کی طرف متوجہ ہوں اس وقت بات کریں

۰۴۹: ۰۰۵

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۵

ترجمہ:

اور اگر وہ صبر کرتے جب تک تو نکلتا ان کی طرف تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۰۴۹: ۰۰۶

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ۝۶

ترجمہ:

اے ایمان والو! اگر آئے تمہارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر تو تحقیق کر لو، کہیں جا نہ پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو اپنے کئے پر لگو پچھتانے۔

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اے ایمان والو! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے (جس میں کسی کی شکایت ہو) تو (بدون تحقیق کے اس پر عمل نہ کیا کرو بلکہ اگر عمل کرنا مقصود ہو تو) خوب تحقیق کر لیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچا دو پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔

معارف و مسائل:

شان نزول:

اس آیت کے نزول کا واقعہ ابن کثیر نے بحوالہ مسند احمد یہ نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی المصطلق کے رئیس حارث بن ضرار بن ابی ضرار جن کی صاحبزادی حضرت جویریہ بنت حارث امہات المومنین میں سے ہیں یہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیا، میں نے اسلام کو قبول کیا اور زکوٰة ادا کرنے کا اقرار کیا اور عرض کیا کہ اب میں اپنی قوم میں جا کر ان کو بھی اسلام اور ادائے زکوٰة کی طرف دعوت دوں گا۔ جو لوگ میری بات مان لیں گے اور زکوٰة ادا کریں گے میں ان کی زکوٰة جمع کر لوں گا اور آپ فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ تک اپنا کوئی قاصد میرے پاس بھیج دیں تاکہ جو رقم زکوٰة کی میرے پاس جمع ہو جائے اس کو سپرد کر دوں، پھر جب حارث نے حسب وعدہ ایمان لانے والوں کی زکوٰة جمع کر لی اور وہ مہینہ اور تاریخ جو قاصد بھیجنے کے لئے طے ہوئی تھی گزر گئی اور آپ کا کوئی قاصد نہ پہنچا تو حارث کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ شاید رسول اللہﷺ ہم سے کسی بات پر ناراض ہیں ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ وعدے کے مطابق اپنا آدمی نہ بھیجتے۔ حارث نے اس خطرہ کا ذکر اسلام قبول کرنے والوں کے سرداروں سے کیا اور ارادہ کیا کہ یہ سب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاویں۔ ادھر واقعہ یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ نے مقررہ تاریخ پر ولید بن عقبہ کو اپنا قاصد بنا کر زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیج دیا تھا مگر ولید بن عقبہ کو راستہ میں یہ خیال آیا کہ اس قبیلہ کے لوگوں سے میری پرانی دشمنی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مجھے قتل کر ڈالیں اس خوف کے سبب وہ راستہ ہی سے واپس ہو گئے اور رسول اللہﷺ سے جا کر یہ کہا کہ ان لوگوں نے زکوٰة دینے سے انکار کر دیا اور میرے قتل کا ارادہ کیا اس پر رسول اللہﷺ کو غصہ آیا اور حضرت خالد بن ولید کی سر کردگی میں ایک دستہ مجاہدین کا روانہ کیا، ادھر یہ دستہ مجاہدین کا روانہ ہوا ادھر سے حارث مع اپنے ساتھیوں کے حضورﷺ کی خدمت میں حاضری کے لئے نکلے، مدینہ کے قریب دونوں کی ملاقات ہوئی۔ حارث نے ان لوگوں سے پوچھا کہ آپ کن لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ حارث نے سبب پوچھا تو ان کو واقعہ ولید بن عقبہ کے بھیجنے کا اور ان کی واپسی کا بتلایا گیا اور یہ کہ ولید بن عقبہ نے رسول اللہﷺ کے سامنے یہ بیان دیا ہے کہ بنی المصطلق نے زکوٰة دینے سے انکار کر دیا اور میرے قتل کا منصوبہ بنایا۔ حارث نے یہ سن کر کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمدﷺ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے میں نے ولید بن عقبہ کو دیکھا تک نہیں اور نہ وہ میرے پاس آئے۔ اس کے بعد حارث جب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے زکوٰة دینے سے انکار کیا اور میرے قاصد کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حارث نے کہا کہ ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو پیغام حق دے کر بھیجا ہے نہ وہ میرے پاس آئے نہ میں نے ان کو دیکھا۔ پھر جب مقررہ وقت پر آپ کا قاصد نہ پہنچا تو مجھے خطرہ ہوا کہ شاید مجھ سے کوئی قصور ہوا جس پر حضور ناراض ہوئے اس لئے میں حاضر خدمت ہوا۔ حارث فرماتے ہیں کہ اس پر سورة حجرات کی آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)

اور بعض روایات میں ہے کہ ولید بن عقبہ حسب الحکم بنی المصطلق میں پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں کو چونکہ یہ معلوم تھا کہ اس تاریخ پر حضور کا قاصد آوے گا یہ تعظیماً بستی سے باہر نکلے کہ ان کا استقبال کریں۔ ولید بن عقبہ کو شبہ ہو گیا کہ یہ شاید پرانی دشمنی کی وجہ سے مجھے قتل کرنے آئے ہیں یہیں سے واپس ہو گئے اور جا کر حضورﷺ سے اپنے گمان کے مطابق یہ عرض کر دیا کہ وہ لوگ زکوٰة دینے کے لئے تیار نہیں، بلکہ میرے قتل کے در پے ہوئے۔ اس پر آنحضرتﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا اور یہ ہدایت فرمائی کہ خوب تحقیق کر لیں اس کے بعد کوئی اقدام کریں۔ خالد بن ولید نے بستی سے باہر رات کو پہنچ کر قیام کیا اور تحقیق حال کے لئے چند آدمی بطور جاسوس کے خفیہ بھیج دئیے۔ ان لوگوں نے آ کر خبر دی کہ یہ سب لوگ اسلام و ایمان پر قائم، نماز و زکوٰة کے پابند ہیں اور کوئی بات خلاف اسلام نہیں پائی گئی، خالد بن ولید نے واپس آ کر آنحضرتﷺ کو یہ سارا واقعہ بتلایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (یہ ابن کثیر کی متعدد روایات کا خلاصہ ہے)

اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کوئی شریر فاسق آدمی اگر کسی شخص یا قوم کی شکایت کرے ان پر کوئی الزام لگائے تو اس کی خبر یا شہادت پر بغیر مکمل تحقیق کے عمل کرنا جائز نہیں

آیت سے متعلقہ احکام و مسائل:

امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی فاسق کی خبر کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک دوسرے ذرائع سے تحقیق کر کے اس کا صدق ثابت نہ ہو جائے، کیونکہ اس آیت میں ایک قرات تو فتثبتوا کی ہے جس کے معنی ہیں کہ اس پر عمل کرنے اور اقدام میں جلدی نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو جب تک دوسرے ذرائع سے اس کا صدق ثابت نہ ہو جائے اور جب فاسق کی خبر کو قبول کرنا جائز نہ ہوا تو شہادت کو قبول کرنا بدرجہ اولیٰ ناجائز ہو گا کیونکہ ہر شہادت ایک خبر ہوتی ہے جو حلف و قسم کے ساتھ مو کد کی جاتی ہے، اسی لئے جمہور علماء کے نزدیک فاسق کی خبر یا شہادت شرعاً مقبول نہیں، البتہ بعض معاملات اور حالات میں فاسق کی خبر اور شہادت کو بھی قبول کر لیا جاتا ہے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ آیت قرآن میں اس حکم کی ایک خاص علت منصوص ہے یعنی ان تصیبوا قومۢا بجہالة، تو جن معاملات میں یہ علت موجود نہیں وہ آیت کے حکم میں داخل نہیں یا مستثنیٰ ہیں۔ مثلاً یہ کہ کوئی فاسق بلکہ کافر بھی کوئی چیز لائے اور یہ کہے کہ فلاں شخص نے یہ آپ کو ہدیہ بھیجا ہے تو اس کی خبر پر عمل جائز ہے اس کی مزید تفصیل کتب فقہ معین الحکام وغیرہ میں ہے اور احقر نے احکام القرآن عربی ضرب سادس میں اس کی تفصیل لکھ دی ہے اہل علم اس میں دیکھ سکتے ہیں۔

ایک اہم سوال و جواب متعلقہ عدالت صحابہ:

اس آیت کا ولید بن عقبہ کے متعلق نازل ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے اور آیت میں ان کو فاسق کہا گیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں کوئی فاسق بھی ہو سکتا ہے اور یہ اس مسلمہ اور متفق علیہ ضابطہ کے خلاف ہے کہ الصحابة کلہم عدول، یعنی صحابہ کرام سب کے سب ثقہ ہیں ان کی کسی خبر و شہادت پر کوئی گرفت نہیں کی جا سکتی۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا کہ اس معاملے میں حق بات وہ ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام معصوم نہیں ان سے گناہ کبیرہ بھی سر زد ہو سکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کے وقت ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں یعنی شرعی سزا جاری کی جائے گی اور اگر کذب ثابت ہوا تو ان کی خبر و شہادت رد کر دی جائے گی لیکن عقیدہ اہل سنت والجماعت کا نصوص قرآن و سنت کی بنا پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو ہو سکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کر کے پاک نہ ہو گیا ہو۔ قرآن کریم نے علی الاطلاق ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ صادر فرما دیا ہے رضی اللہ و رضوا عنہ الآیۃ، اور رضائے الٰہی گناہ ہونے کی معافی کے بغیر نہیں ہوتی، جیسا کہ قاضی ابو یعلی نے فرمایا کہ رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدیمہ ہے وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انہی کے لئے فرماتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات موجبات رضا پر ہو گی (کذا فی الصارم المسلول الابن تیمیہ)

خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کی عظیم الشان جماعت میں سے گنے چنے چند آدمیوں سے کبھی کوئی گناہ سرزد بھی ہوا ہے تو ان کو فوراً توبہ نصیب ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو رسول کریمﷺ کی صحبت کی برکت سے ایسا بنا دیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی۔ خلاف شرع کوئی کام یا گناہ سرزد ہونا انتہائی شاذ و نادر تھا ان کے اعمال صالحہ، نبی کریمﷺ اور اسلام پر اپنی جانیں قربان کرنا اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لئے ایسے مجاہدات کرنا جن کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی۔ ان بیشمار اعمال صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہو جانا اس کو خود ہی کالعدم کر دیتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت و عظمت اور ادنیٰ سے گناہ کے وقت ان کا خوف خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا کے لئے خود پیش کر دینا، کہیں اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا وغیرہ روایات حدیث میں معروف مشہور ہیں اور بحکم حدیث گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے کہ جیسے گناہ کیا ہی نہیں۔ تیسرے حسب ارشاد قرآن اعمال صالحہ اور حسنات خود بھی گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں (آیت) ان الحسنت یذھبن السیات خصوصاً جبکہ ان کے حسنات عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان کا حال وہ ہے جو ابو داؤ و ترمذی نے حضرت سعید بن زید سے نقل کیا ہے کہ (آیت) واللہ لمشھد رجل منھم مع النبیﷺ یغبر فیہ وجھہ خیر من عمل احدکم و لو عمر عمر نوح، یعنی خدا کی قسم ان میں سے کسی شخص کا نبی کریمﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں ان کے چہرہ پر غبار پڑ گیا ہو تمہاری عمر بھر کی اطاعت و عبادت سے افضل ہے اگرچہ اس کو عمر نوحؑ دے دیگئی ہو۔ اس لئے ان سے صدور گناہ کے وقت اگرچہ سزا وغیرہ میں معاملہ وہی کیا گیا جو اس جرم کے لئے مقرر تھا مگر اس کے باوجود بعد میں کسی کے لئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کو فاسق قرار دے، اس لئے اگر آنحضرتﷺ کے عہد میں کسی صحابی سے کوئی گناہ موجب فسق سر زد بھی ہو اور اس وقت ان کو فاسق کہا بھی گیا تو اس سے یہ جائز نہیں ہو جاتا کہ اس فسق کو ان کے لئے مستمر سمجھ کر معاذ اللہ فاسق کہا جائے (کذا فی الروح)

اور آیت مذکورہ میں تو قطعاً یہ ضروری نہیں کہہ ولید بن عقبہ کو فاسق کہا گیا ہو سبب نزول خواہ ان کا معاملہ ہی سہی مگر لفظ فاسق ان کے لئے استعمال کیا گیا یہ ضروری نہیں، وجہ یہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو ولید بن عقبہ سے کوئی ایسا کام ہوا نہ تھا جس کے سبب ان کو فاسق کہا جائے اور اس واقعہ میں بھی جو انہوں نے بنی المصطلق کے لوگوں کی طرف ایک بات غلط منسوب کی وہ بھی اپنے خیال کے مطابق صحیح سمجھ کر کی اگرچہ واقع میں غلط تھی اس لئے آیت مذکورہ کا مطلب بے تکلف وہ بن سکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر گزرا ہے کہ اس آیت نے قاعدہ کلیہ فاسق کی خبر کے نامقبول ہونے کے متعلق بیان کیا ہے اور واقعہ مذکورہ پر اس آیت کے نزول سے اس کی مزید تاکید اس طرح ہو گئی کہ ولید بن عقبہ اگرچہ فاسق نہ تھے مگر ان کی خبر قرائن قویہ کے اعتبار سے ناقابل قبول نظر آئی تو رسول اللہﷺ نے محض ان کی خبر پر کسی اقدام سے گریز کر کے خالد بن ولید کو تحقیقات پر مامور فرما دیا تو جب ایک ثقہ اور صالح آدمی کی خبر میں قرائن کی بنا پر شبہ ہو جانے کا معاملہ یہ ہے کہ اس پر قبل از تحقیق عمل نہیں کیا گیا تو فاسق کی خبر کو قبول نہ کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا اور زیادہ واضح ہے۔ عدالت صحابہ کی مکمل بحث احقر نے اپنی کتاب مقام صحابہ میں بیان کر دی جو شائع ہو چکی ہے اور اس کا کچھ حصہ اگلی آیت (آیت) وان طآئفتن من المومنین الآیة کے تحت میں بھی آ جائے گا۔

۰۴۹: ۰۰۷

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ۝۷

ترجمہ:

اور جان لو کہ تم میں رسول ہے اللہ کا اگر وہ تمہاری بات مان لیا کرے بہت کاموں میں تو تم پر مشکل پڑے اللہ نے محبت ڈال دی تمہارے دل میں ایمان کی اور کھبا دیا اس کو تمہارے دلوں میں اور نفرت ڈال دی تمہارے دل میں کفر اور گناہ اور نافرمانی کی وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہﷺ تشریف فرما) ہیں (جو خدا کی بڑی نعمت ہیں کما قال تعالیٰ (آیت) لقد من اللہ الخ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ کسی بات میں تم آپ کے خلاف مت کرو گو دنیوی ہی کیوں نہ ہو اور اس فکر میں مت پڑو کہ امور دنیویہ میں خود حضور ہماری رائے کی موافقت فرمایا کریں کیونکہ) بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے (کیونکہ وہ مصلحت کے خلاف ہو تو ضرور اس کے موافق عمل کرنے میں مضرت ہو بخلاف اس کے کہ آپ کی رائے پر عمل کیا جائے کیونکہ امر دنیوی ہونے کے باوجود اس میں خلاف مصلحت ہونے کا احتمال گو فی نفسہ مستبعد اور خلاف شان نبوت نہیں لیکن اول تو ایسے امور جن میں ایسا احتمال ہو شاذو نادر ہوں گے پھر اگر ہوں بھی اور ان میں مصلحت فوت ہو بھی جاوے تو یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اس مصلحت کا نعم البدل یعنی اجر و ثواب اطاعت رسول کا ضرور ہی میسر ہو گا بخلاف اس کے تمہاری رائے پر عمل ہو کہ گو شاذو نادر ایسے امور بھی نکلیں گے جن میں مصلحت تمہاری رائے کے موافق ہو لیکن متعین تو ہیں نہیں اور پھر بہت ہی کم ہوں گے زیادہ احتمال مضرت ہی کا ہے پھر اس مضرت کا کوئی تدارک نہیں اور اس تقریر سے فائدہ کثیر کی قید کا ہونا بھی معلوم ہو گیا، بہرحال اگر آپ تم لوگوں کی منافقت کرتے تو تم بڑی مصیبت میں پڑتے) لیکن اللہ تعالیٰ نے (تم کو مصیبت سے بچا لیا اس طرح سے کہ) تم کو ایمان (کامل) کی محبت دی اور اس (کی تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کر دیا اور کفر و فسق (یعنی گناہ کبیرہ) اور (مطلق) عصیان (یعنی گناہ صغیرہ) سے تم کو نفرت دے دی (جس سے تم کو ہر وقت رضائے رسول کی جستجو رہتی ہے اور جس سے تم ان احکام کو مان لیتے ہو جو رضائے رسول کے موجبات ہیں چنانچہ جب تم کو یہ معلوم ہو گیا کہ امور دنیویہ میں بھی اطاعت رسول کی واجب ہے اور بدون اطاعت مطلقہ کے ایمان کامل نہیں ہوتا اور ایمان کامل کی تحصیل کی رغبت پہلے سے موجود ہے پس تم نے فوراً اس حکم کو بھی قبول کر لیا اور قبول کر کے ایمان کی اور تکمیل کر لی) ایسے لوگ (جو کہ تکمیل ایمان کے محب ہیں) خدا تعالیٰ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں اور اللہ تعالیٰ (نے جو یہ احکام فرمائے ہیں تو وہ ان کی مصلحتوں کو) جاننے والا (ہے اور چونکہ) حکمت والا ہے (اس لئے ان احکام کو واجب کر دیا ہے)۔

معارف و مسائل:

اس سے پہلی آیت میں واقعہ حضرت ولید بن عقبہ اور قبیلہ بنی المصطلق کا مذکور تھا جس میں ولید بن عقبہ نے بنی المصطلق کے متعلق یہ خبر دی تھی کہ وہ مرتد ہو گئے اور زکوٰة دینے سے انکار کر دیا اس پر صحابہ کرام میں بھی اشتعال پیدا ہوا، ان کی رائے یہ تھی کہ ان لوگوں پر جہاد کے لئے مجاہدین کو بھیج دیا جائے مگر آنحضرتﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرائن قویہ کے خلاف سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور فرما دیا۔ پچھلی آیت میں قرآن کریم نے اس کو قانون بنا دیا کہ جس شخص کی خبر میں قرائن قویہ سے کوئی شبہ ہو جاوے تو قبل از تحقیق اس پر عمل جائز نہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کو ایک اور ہدایت کی گئی ہے کہ اگرچہ بنی المصطلق کے متعلق خبر ارتداد سن کر تمہارا جوش غیرت دینی کے سبب تھا مگر تمہاری رائے صحیح نہ تھی۔ اللہ کے رسول نے جو صورت اختیار کی وہ ہی بہتر تھی (مظہری)

مقصد یہ ہے کہ مشورہ طلب امور میں کوئی رائے دے دینا تو درست ہے لیکن یہ کوشش کرنا کہ رسول اللہﷺ تمہاری رائے کے مطابق ہی عمل کریں یہ درست نہیں کیونکہ امور دنیویہ میں اگرچہ شاذ و نادر رسول کی رائے خلاف مصلحت ہونے کا امکان ضرور ہے جو شان نبوت کے خلاف نہیں لیکن حق تعالیٰ نے جو فراست اور دانش اپنے رسول کو عنایت فرمائی ہے وہ تمہیں حاصل نہیں ہے اس لئے اگر رسول اللہﷺ تمہاری رائے پر چلا کریں تو بہت سے معاملات میں نقصان و مصیبت میں پڑ جاؤ گے اور کہیں شاذ و نادر تمہاری رائے ہی میں مصلحت ہو اور تم اطاعت رسول کے لئے اپنی رائے کو چھوڑ دو جس سے تمہیں کچھ دنیوی نقصان بھی پہنچ جاوے تو اس میں اتنی مضرت نہیں جتنی تمہاری رائے کے تابع ہو کر چلنے میں ہے کیونکہ اس صورت میں اگر کچھ دنیوی نقصان ہو بھی گیا تو اطاعت رسول کا اجر و ثواب اس کا بہتر بدل موجود ہے اور لفظ عنتم، عنت سے مشتق ہے جس کے معنی گناہ کے بھی آتے ہیں اور کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بھی یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں (قرطبی)

۰۴۹: ۰۰۸

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۝۸

ترجمہ:

اللہ کے فضل سے اور احسان سے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے حکمتوں والا۔

۰۴۹: ۰۰۹

وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۝۹

ترجمہ:

اور اگر دو فریق مسلمانوں کے آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں ملاپ کرا دو پھر اگر چڑھا چلا جائے ایک ان میں سے دوسرے پر تو تم سب لڑو اس چڑھائی والے سے یہاں تک کہ پھر آئے اللہ کے حکم پر پھر اگر پھر آیا تو ملاپ کرا دو ان میں برابر اور انصاف کرو بیشک اللہ کو خوش آتے ہیں انصاف والے

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کر دو (یعنی جھگڑے کی بنیاد کو رفع کر کے لڑائی موقوف کرا دو) پھر اگر (اصلاح کی کوشش کے بعد بھی) ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے (اور لڑائی بند نہ کرے) تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہو جاوے (حکم خدا سے مراد لڑائی بند کرنا ہے) پھر اگر وہ (زیادتی کرنے والا فرقہ حکم خدا کی طرف) رجوع ہو جاوے (یعنی لڑائی بند کر دے) تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کر دو (یعنی حدود شرعیہ کے موافق اس معاملہ کو طے کر دو محض لڑائی بند کرنے پر اکتفا نہ کرو اگر صلح مصالحت نہ ہوئی تو پھر بھی لڑائی کا احتمال رہے گا) اور انصاف کا خیال رکھو (یعنی کسی نفسانی غرض کو غالب نہ ہونے دو) بیشک اللہ تعالیٰ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے (اور باہمی اصلاح کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ) مسلمان تو سب (دینی اشتراک جو روحانی اور معنوی رشتہ ہے اس رشتہ سے ایک دوسرے کے) بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کر دیا کرو (تاکہ یہ اسلامی برادری قائم رہے) اور (اصلاح کے وقت) اللہ سے ڈرتے رہا کرو (یعنی حدود شرعیہ کی رعایت رکھا کرو) تاکہ تم پر رحمت کی جاوے۔

معارف و مسائل:

ربط:

سابقہ آیات میں رسول اللہﷺ کے حقوق اور آداب اور ایسے اعمال سے پرہیز کا بیان تھا جن سے آنحضرتﷺ کو ایذا پہنچے، آگے عام معاشرت کے آداب و احکام ہیں جن میں اجتماعی اور انفرادی دونوں طرح کے آداب اور باہمی حقوق کا بیان ہے اور سب میں قدر مشترک ایذا رسانی سے اجتناب ہے۔

سبب نزول:

ان آیات کے سبب نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان فرمائے ہیں جن میں خود مسلمانوں کے دو گروہوں میں باہم تصادم ہوا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ سبھی واقعات کا مجموعہ سبب نزول ہوا ہو یا نزول کسی ایک واقعہ میں ہوا، دوسرے واقعات کو اس کے مطابق پا کر ان کو بھی سبب نزول میں شریک کر دیا گیا، اس آیت کے اصل مخاطب وہ اولو الا مر اور ملوک ہیں جن کو قتال و جہاد کے وسائل حاصل ہیں (کذا قال ابو حیان فی البحر و اختارہ فی روح المعانی) اور بالواسطہ تمام مسلمان اس کے مخاطب ہیں کہ وہ اس معاملے میں اولو الامر کی اعانت کریں اور جہاں کوئی امام و امیر یا بادشاہ و رئیس نہیں وہاں حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دونوں کو فہمائش کر کے ترک قتال پر آمادہ کیا جائے اور دونوں نہ مانیں تو دونوں لڑنے والے فرقوں سے الگ رہے نہ کسی کے خلاف کرے نہ موافقت، کذافی بیان القرآن۔

مسائل متعلقہ:

مسلمانوں کے دو گروہوں کی باہمی لڑائی کی چند صورتیں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ دونوں جماعتیں امام المسلمین کے تحت ولایت ہیں یا دونوں نہیں، یا ایک ہے ایک نہیں، پہلی صورت میں عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ فہمائش کر کے ان کو باہمی جنگ سے روکیں، اگر فہمائش سے باز نہ آئیں تو امام المسلمین پر اصلاح کرنا واجب ہے اگر حکومت اسلامیہ کی مداخلت سے دونوں فریق جنگ سے باز آ گئے تو قصاص و دیت کے احکام جاری ہوں گے اور باز نہ آئیں تو دونوں فریق کے ساتھ باغیوں کا سا معاملہ کیا جائے اور ایک باز آ گیا دوسرا ظلم و تعدی پر جما رہا تو دوسرا فریق باغی ہے اس کے ساتھ باغیوں کا معاملہ کیا جائے اور جس نے اطاعت قبول کر لی وہ فریق عادل کہلائے گا اور باغیوں کے احکام کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جا سکتی ہے اور مختصر جامع حکم یہ ہے کہ قبل قتال ان کے ہتھیار چھین لئے جاویں گے اور ان کو گرفتار کر کے توبہ کرنے کے قوت تک قید رکھیں گے اور عین قتال کی حالت میں اور قتال کے بعد ان کی ذریت کو غلام یا لونڈی نہ بنا دیں گے اور ان کا مال مال غنیمت نہیں ہو گا البتہ توبہ کرنے تک اموال کو محبوس رکھا جائے گا توبہ کے بعد واپس دے دیا جائے گا، آیات مذکورہ میں جو یہ ارشاد ہوا ہے (آیت) فان فآءت فاصلحوا بینہما بالعدل واقسطوا، یعنی اگر بغاوت کرنے والا فرقہ بغاوت اور قتال سے باز آ جائے تو صرف جنگ بند کر دینے پر اکتفا نہ کرو بلکہ اسباب جنگ اور باہمی شکایات کے ازالہ کی فکر کرو تاکہ دلوں سے بغض و عداوت نکل جاوے اور ہمیشہ کے لئے بھائی چارے کی فضا قائم ہو جائے اور چونکہ یہ لوگ امام المسلمین کے خلاف بھی جنگ کر چکے ہیں اس لئے ہو سکتا تھا کہ ان کے بارے میں پورا انصاف نہ ہو اس لئے قرآن نے تاکید فرمائی کہ دونوں فریق کے حقوق میں عدل و انصاف کی پابندی کی جائے (یہ سب تفصیل بیان القرآن سے لی گئی ہے اور اس میں ہدایہ کے حوالہ سے ہے)

مسئلہ:

اگر مسلمان کی کوئی بڑی طاقتور جماعت امام المسلمین کی اطاعت سے نکل جائے تو امام المسلمین پر لازم ہے کہ اول ان کی شکایات سنے ان کو کوئی شبہ یا غلط فہمی پیش آئی ہے تو اس کو دور کرے اور اگر وہ اپنی مخالفت کی ایسی وجوہ پیش کریں جن کی بنا پر کسی امام و امیر کی مخالفت شرعاً جائز ہے یعنی جن سے خود امام المسلمین کا ظلم و جور ثابت ہو تو عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس جماعت کی مدد کریں تاکہ امام اپنے ظلم سے باز آ جائے بشرطیکہ اس کے ظلم کا ثبوت یقینی بلا کسی اشتباہ کے ثابت ہو جائے (کذا قال ابن الہمام، مظہری) اور اگر کوئی ایسی واضح وجوہ اپنی بغاوت اور عدم اطاعت کی بیان نہ کر سکیں اور امام المسلمین کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہو جائیں تو مسلمانوں کو ان سے قتال کرنا حلال ہے اور امام شافعی نے فرمایا کہ جب تک وہ خود قتال شروع نہ کر دیں اس وقت تک مسلمانوں کو ان سے قتال کی ابتدا کرنا جائز نہیں (مظہری) یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس جماعت کا باغی اور ظالم ہونا بالکل یقینی اور واضح ہو اور اگر صورت ایسی ہے کہ دونوں فریق کوئی شرعی حجت رکھتے ہیں اور یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ ان میں کون باغی ہے کون عادل وہاں جس شخص کو کسی ایک کے عادل ہونے کا ظن غالب ہو وہ اس کی مدد کر سکتا ہے اور جس کو کسی جانب رجحان نہ ہو وہ دونوں سے الگ رہے جیسا کہ مشاجرات صحابہ کرام کے وقت جنگ جمل اور صفین میں پیش آیا۔

مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:

امام ابو بکر بن العربی نے فرمایا کہ یہ آیت قتال بین المسلمین کی تمام صورتوں کو حاوی اور شامل ہے اس میں وہ صورت بھی داخل ہے جس میں دونوں فریق کسی حجت شرعی کے تحت جنگ کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ صحابہ کرام کے مشاجرات اسی قسم میں داخل ہیں۔ قرطبی نے ابن عربی کا یہ قول نقل کر کے اس جگہ مشاجرات صحابہ جنگ جمل اور صفین وغیرہ کی اصل حقیقت بیان کی ہے اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں بعد کے آنے والے مسلمانوں کے عمل کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ احقر نے یہ سب مضامین احکام القرآن میں بزبان عربی اور بزبان اردو اپنے رسالہ مقام صحابہ میں تفصیل کے ساتھ لکھ دئیے ہیں یہاں اس کا خلاصہ جو تفسیر قرطبی ص ۳۲۲ ج ۱۶ کے حوالہ سے اس رسالہ میں دیا گیا ہے نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

’یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے کہ ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کف لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں کیونکہ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے اور نبیﷺ نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے‘ اس کے علاوہ متعدد سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت طلحہ کے بارے میں فرمایا۔

ان طلحة شھید یمشی علی وجہ الارض، یعنی طلحہ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں۔

اب اگر حضرت علی کے خلاف حضرت طلحہ کا جنگ کے لئے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہو کر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے، اسی طرح حضرت طلحہ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جا سکتا تو بھی آپ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا، کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعت ربانی میں قتل ہوا ہو۔ لہٰذا ان حضرات کے معاملہ کو اسی عقیدہ پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔

اس بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف و مشہور احادیث ہیں جو خود حضرت علی سے مروی ہیں اور جن میں آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’زبیر کا قاتل جہنم میں ہے‘۔

نیز حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو‘ جب یہ بات ہے تو ثابت ہو گیا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا نہ ہوتا تو حضور حضرت طلحہ کو شہید نہ فرماتے اور حضرت زبیر کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشین گوئی نہ کرتے۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے۔

اسی طرح جو حضرات صحابہ ان جنگوں میں کنارہ کش رہے، انہیں بھی تاویل میں خطا کار نہیں کہا جا سکتا، بلکہ ان کا طرز عمل بھی اس لحاظ سے درست تھا کہ اللہ نے ان کو اجتہاد میں اسی رائے پر قائم رکھا جب یہ بات ہے تو اس وجہ سے ان حضرات پر لعن طعن کرنا ان سے برات کا اظہار کرنا اور انہیں فاسق قرار دینا، ان کے فضائل و مجاہدات اور ان عظیم دینی مقامات کو کالعدم کر دینا کسی طرح درست نہیں، بعض علماء سے پوچھا گیا کہ اس خون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صحابہ کرام کے باہمی مشاجرات میں بہایا گیا تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی کہ (آیت) تلک امتہ قد خلت لھا ماکسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون، یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس کے اعمال اس لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔

کسی اور بزرگ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ’ایسے خون ہیں کہ اللہ نے میرے ہاتھوں کو ان میں (رنگنے سے) بچایا، اب میں اپنی زبان کو ان سے آلودہ نہیں کروں گا‘ مطلب یہی تھا کہ میں کسی ایک فریق کو کسی ایک معاملے میں یقینی طور پر خطا کار ٹھہرانے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔

علامہ ابن فورک فرماتے ہیں: ۔

’ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال ایسی جیسے حضرت یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی، وہ حضرات آپس کے ان اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے بالکل یہی معاملہ صحابہ کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے‘۔

اور حضرت محاسبی فرماتے ہیں کہ

’جہاں تک اس خونریزی کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں ہمارا کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں خود صحابہ کے درمیان اختلاف تھا‘ اور حضرت حسن بصری سے صحابہ کے باہمی قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ

’ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ موجود تھے اور ہم غائب وہ پورے حالات کو جانتے تھے اور ہم نہیں جانتے، جس معاملہ پر تمام صحابہ کا اتفاق ہے ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں‘۔

حضرت محاسبی فرماتے ہیں کہ ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حسن بصری نے فرمائی ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرام نے جن چیزوں میں دخل دیا ان سے وہ ہم سے کہیں بہتر طریقے پر واقف تھے لہٰذا ہمارا کام یہی ہے کہ جس پر وہ سب حضرات متفق ہوں اس کی پیروی کریں اور جس میں ان کا اختلاف ہو اس میں خاموشی اختیار کریں اور اپنی طرف سے کوئی نئی رائے پیدا نہ کریں ہمیں یقین ہے کہ ان سب نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہی تھی اس لئے کہ دین کے معاملہ میں وہ سب حضرات شک و شبہ سے بالا تر ہیں۔

۰۴۹: ۰۱۰

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠۝۱۰

ترجمہ:

مسلمان جو ہیں سو بھائی ہیں سو ملاپ کرا دو اپنے دو بھائیوں میں اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم پر رحم ہو۔

۰۴۹: ۰۱۱

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۱۱

ترجمہ:

اے ایمان والو ٹھٹھا نہ کریں ایک لوگ دوسرے سے شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور عیب نہ لگاؤ ایک دوسرے کو اور نام نہ ڈالو چڑانے کو ایک دوسرے کے برا نام ہے گنہگاری پیچھے ایمان کے اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہیں بے انصاف۔

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اے ایمان والو! نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہئے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان (ہنسنے والوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں (پھر وہ تحقیر کیسے کرتے ہیں) اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہئے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستی ہیں) وہ ان (ہنسنے والیوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں (پھر وہ تحقیر کیسے کرتی ہیں) اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو (کیونکہ یہ سب باتیں گناہ کی ہیں اور) ایمان لانے کے بعد (مسلمان پر) گناہ کا نام لگتا (ہی) برا ہے (یعنی یہ گناہ کر کے تمہاری شان میں یہ کہا جا سکنا کہ فلاں مسلمان جس سے تم مراد ہو گناہ یعنی خدا کی نافرمانی کرتا ہے نفرت کی بات ہے تو اس سے بچو) اور جو (ان حرکتوں سے) باز نہ آویں گے تو وہ ظلم کرنے والے (اور حقوق العباد کو تلف کرنے والے) ہیں (جو سزا ظالموں کو ملے گی وہی ان کو ملے گی)۔

سورة حجرات کے شروع میں نبی کریمﷺ کے حقوق اور آداب کا بیان آیا پھر عام مسلمانوں کے باہمی حقوق و آداب معاشرت کا بیان شروع ہوا، سابقہ دو آیتوں میں ان کی اجتماعی و جماعتی اصلاح کے احکام بیان ہوئے، مذکور الصدر آیتوں میں اشخاص و افراد کے باہمی حقوق و آداب معاشرت کا ذکر ہے، ان میں تین چیزوں کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ اول کسی مسلمان کے ساتھ تمسخر و استہزاء کرنا، دوسرے کسی پر طعنہ زنی کرنا، تیسرے کسی کو ایسے لقب سے ذکر کرنا جس سے اس کی توہین ہوتی ہو یا وہ اس سے برا مانتا ہو۔

پہلی چیز سخریہ یا تمسخر ہے۔ قرطبی نے فرمایا کہ کسی شخص کی تحقیر و توہین کے لئے اس کے کسی عیب کو اس طرح ذکر کرنا جس سے لوگ ہنسنے لگیں اس کو سخریہ، تمسخر، استہزا کہا جاتا ہے اور یہ جیسے زبان سے ہوتا ہے ایسے ہی ہاتھوں پاؤں وغیرہ سے اس کی نقل اتارنے یا اشارہ کرنے سے بھی ہوتا ہے اور اس طرح بھی کہ اس کا کلام سن کر بطور تحقیر کے ہنسی اڑائی جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سخریہ و تمسخر کسی شخص کے سامنے اس کا اسی طرح ذکر کرنا ہے کہ اس سے لوگ ہنس پڑیں اور یہ سب چیزیں بنص قرآن حرام ہیں۔

سخریہ کی ممانعت کا قرآن کریم نے اتنا اہتمام فرمایا کہ اس میں مردوں کو الگ مخاطب فرمایا عورتوں کو الگ، مردوں کو لفظ قوم سے تعبیر فرمایا کیونکہ اصل میں یہ لفظ مردوں ہی کے لئے وضع کیا گیا ہے اگرچہ مجازاً و تو سعا عورتوں کو اکثر شامل ہو جاتا ہے اور قرآن کریم نے عموماً لفظ قوم مردوں عورتوں دونوں ہی کے لئے استعمال کیا ہے مگر یہاں لفظ قوم خاص مردوں کے لئے استعمال فرمایا اس کے بالمقابل عورتوں کا ذکر لفظ نساء سے فرمایا اور دونوں میں یہ ہدایت فرمائی کہ جو مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتا ہے اس کو کیا خبر ہے کہ شاید وہ اللہ کے نزدیک استہزاء کرنے والے سے بہتر ہو، اسی طرح جو عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ استہزاء و تمسخر کا معاملہ کرتی ہے اس کو کیا خبر ہے شاید وہی اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ قرآن میں مردوں کا مردوں کے ساتھ اور عورتوں کا عورتوں کے ساتھ استہزاء کرنے اور اس کی حرمت کا ذکر فرمایا حالانکہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ یا کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ استہزاء کرے تو وہ بھی اس حرمت میں داخل ہے مگر اس کا ذکر نہ کرنے سے اشارہ اس طرف ہے کہ عورتوں اور مردوں کا اختلاط ہی شرعاً ممنوع اور مذموم ہے جب اختلاط نہیں تو تمسخر کا تحقق ہی نہیں ہو گا۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے بدن یا صورت یا قد و قامت وغیرہ میں کوئی عیب نظر آوے تو کسی کو اس پر ہنسنے یا استہزاء کرنے کی جرات نہ کرنا چاہئے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید وہ اپنے صدق و اخلاص وغیرہ کے سبب اللہ کے نزدیک اس سے بہتر اور افضل ہو۔ اس آیت کو سن کر سلف صالحین کا حال یہ ہو گیا تھا کہ عمرو بن شرجیل نے فرمایا کہ میں اگر کسی شخص کو بکری کے تھنوں سے منہ لگا کر دودھ پیتے دیکھوں اور اس پر مجھے ہنسی آ جائے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی ایسا ہی نہ ہو جاؤں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ میں اگر کسی کتے کے ساتھ بھی استہزاء کروں تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں خود کتا نہ بنا دیا جاؤں (قرطبی)

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی صورتوں اور ان کے مال و دولت پر نظر نہیں فرماتا بلکہ ان کے قلوب اور اعمال کو دیکھتا ہے قرطبی نے فرمایا کہ اس حدیث سے ایک ضابطہ اور اصل یہ معلوم ہوئی کہ کسی شخص کے معاملہ میں اس کے ظاہری حال کو دیکھ کر کوئی قطعی حکم لگا دینا درست نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس شخص کے ظاہری اعمال و افعال کو ہم بہت اچھا سمجھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ جو اس کے باطنی حالات اور قلبی کیفیات کو جانتا ہے وہ اس کے نزدیک مذموم ہو اور جس شخص کے ظاہری حال اور اعمال برے ہیں ہو سکتا ہے کہ اس کے باطنی حالات اور قلبی کیفیات اس کے اعمال بد کا کفارہ بن جائیں اس لئے جس شخص کو بری حالت یا برے اعمال میں مبتلا دیکھو تو اس کی اس حالت کو تو برا سمجھو مگر اس شخص کو حقیر و ذلیل سمجھنے کی اجازت نہیں، دوسری چیز جس کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے وہ لمز ہے۔ لمز کے معنی کسی میں عیب نکالنے اور عیب ظاہر کرنے یا عیب پر طعنہ زنی کرنے کے ہیں آیت میں ارشاد فرمایا ولا تلمزوٓا انفسکم، یعنی تم اپنے عیب نہ نکالو۔ یہ ارشاد ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں ہے لا تقتلوا انفسکم، جس کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، دونوں جگہ اپنے آپ کو قتل کرنے یا اپنے عیب نکالنے سے مراد یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور اس عنوان سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ بتلانا ہے کہ کسی دوسرے کو قتل کرنا ایک حیثیت سے اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے کیونکہ اکثر تو ایسا واقع ہو ہی جاتا ہے کہ ایک نے دوسرے کو قتل کیا دوسرے کے حمایتی لوگوں نے اس کو قتل کر دیا اور اگر یہ بھی نہ ہو تو اصل بات یہ ہے کہ مسلمان سب بھائی بھائی ہیں اپنے بھائی کو قتل کرنا گویا خود اپنے آپ کو قتل کرنا اور بے دست و پا بنانا ہے یہی معنی یہاں ولا تلمزوٓا انفسکم میں ہیں کہ تم جو دوسروں کے عیب نکالو اور طعنہ دو تو یاد رکھو کہ عیب سے تو کوئی انسان عادة خالی نہیں ہوتا، تم اس کے عیب نکالو گے تو وہ تمہارے عیب نکالے گا جیسا کہ بعض علماء نے فرمایا کہ وفیک عیوب و للناس اعین، یعنی تم میں بھی کچھ عیوب ہیں اور لوگوں کی آنکھیں ہیں جو ان کو دیکھتی ہیں تم کسی کے عیب نکالو گے اور طعنہ زنی کرو گے تو وہ تم پر یہی عمل کریں گے اور بالفرض اگر اس نے صبر بھی کیا تو بات وہی ہے کہ اپنے ایک بھائی کی بدنامی اور تذلیل پر غور کریں تو اپنی ہی تذلیل و تحقیر ہے۔

علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش نصیبی اس میں ہے کہ اپنے عیوب پر نظر رکھے ان کی اصلاح کی فکر میں لگا رہے اور جو ایسا کرے گا اس کو دوسروں کے عیب نکالنے اور بیان کرنے کی فرصت ہی نہ ملے گی۔ ہندوستان کے آخری مسلمان بادشاہ ظفر نے خوب فرمایا ہے۔

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر، رہے دیکھتے لوگوں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو جہان میں کوئی برا نہ رہا

تیسری چیز جس سے آیت میں ممانعت کی گئی ہے وہ کسی دوسرے کو برے لقب سے پکارنا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہو، جیسے کسی کو لنگڑا لولا یا اندھا کانا کہہ کر پکارنا یا اس لفظ سے اس کا ذکر کرنا اسی طرح جو نام کسی شخص کی تحقیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہو اس نام سے اس کو پکارنا، حضرت ابو جبیرہ انصاری نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب رسول اللہﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو ہم میں اکثر آدمی ایسے تھے جن کے دو یا تین نام مشہور تھے اور ان میں سے بعض نام ایسے تھے جو لوگوں نے اس کو عار دلانے اور تحقیر و توہین کے لئے مشہور کر دئیے تھے۔ آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعض اوقات وہی برا نام لے کر آپ اس کو خطاب کرتے تو صحابہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت میں تنابزو بالا لقاب سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہو گیا ہو اس کے بعد اس کو اس برے عمل کے نام سے پکارنا، مثلاً چور یا زانی یا شرابی وغیرہ جس نے چوری، زنا، شراب سے توبہ کر لی ہو اس کو اس پچھلے عمل سے عار دلانا اور تحقیر کرنا حرام ہے۔ حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر عار دلائے جس سے اس نے توبہ کر لی ہے تو اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کو اسی گناہ میں مبتلا کر کے دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا (قرطبی)

بعض القاب کا استثناء

بعض لوگوں کے ایسے نام مشہور ہو جاتے ہیں جو فی نفسہ برے ہیں مگر وہ بغیر اس لفظ کے پہچانا ہی نہیں جاتا تو اس کو اس نام سے ذکر کرنے کی اجازت پر علماء کا اتفاق ہے بشرطیکہ ذکر کرنے والے کا قصد اس سے تحقیر و تذلیل کا نہ ہو جیسے بعض محدثین کے نام کے ساتھ اعرج یا احدب مشہور ہے اور خود رسول اللہﷺ نے ایک صحابی کو جس کے ہاتھ نسبتا زیادہ طویل تھے ذوالیدین کے نام سے تعبیر فرمایا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک سے دریافت کیا گیا کہ اسانید حدیث میں بعض ناموں کے ساتھ کچھ ایسے القاب آتے ہیں مثلاً حمید الطویل، سلیمان الاعمش، مروان الاصفر وغیرہ، تو کیا ان القاب کے ساتھ ذکر کرنا جائز ہے، آپ نے فرمایا جب تمہارا قصد اس کا عیب بیان کرنے کا نہ ہو بلکہ اس کی پہچان پوری کرنے کا ہو تو جائز ہے (قرطبی)

سنت یہ ہے کہ لوگوں کو اچھے القاب سے یاد کیا جائے:

حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مومن کا حق دوسرے مومن پر یہ ہے کہ اس کا ایسے نام و لقب سے ذکر کرے جو اس کو زیادہ پسند ہو اس لئے عرب میں کنیت کا رواج عام تھا اور آنحضرتﷺ نے بھی اس کو پسند فرمایا۔ خود آنحضرتﷺ نے خاص خاص صحابہ کو کچھ لقب دئیے ہیں۔ صدیق اکبر کو عتیق اور حضرت عمر کو فاروق اور حضرت حمزہ کو اسد اللہ اور خالد بن ولید کو سیف اللہ فرمایا ہے۔

۰۴۹: ۰۱۲

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ؗ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۝۱۲

ترجمہ:

اے ایمان والو! بچتے رہو بہت تہمتیں کرنے سے مقرر بعضی تہمت گناہ ہے اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا اور برا نہ کہو پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کا، بھلا خوش لگتا ہے تم میں کسی کو کہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جو مردہ ہو سو گھن آتا ہے تم کو اس سے اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ معاف کرنے والا ہے مہربان۔

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں (اس لئے ظن و گمان کی جتنی قسمیں ہیں ان سب کے اقسام کے احکام کی تحقیق کر لو کہ کون سا گمان جائز ہے کون سا ناجائز، پھر جائز کی حد تک رہو) اور (کسی کے عیب کا) سراغ نہ لگایا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے (آگے غیبت کی مذمت ہے کہ) کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھا لے اس کو تو تم (ضرور) برا سمجھتے ہو (تو سمجھ لو کہ کسی بھائی کی غیبت بھی اسی کے مشابہ ہے) اور اللہ سے ڈرتے رہو (غیبت چھوڑ دو توبہ کر لو) بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

معارف و مسائل:

یہ آیت بھی باہمی حقوق اور آداب معاشرت کے متعلق احکام پر مشتمل ہے اس میں بھی تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اول ظن جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ دوسرے تجسس یعنی کسی پوشیدہ عیب کا سراغ لگانا، تیسرا غیبت یعنی کسی غیر حاضر آدمی کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جس کو اگر وہ سنتا تو اس کو ناگوار ہوتی۔ پہلی چیز یعنی ظن کے معنی گمان غالب کے ہیں، اس کے متعلق قرآن کریم نے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ ’بہت سے گمانوں سے بچا کرو‘ پر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ’بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘ جس سے معلوم ہوا کہ ہر گمان گناہ نہیں تو یہ ارشاد سننے والوں پر اس کی تحقیق واجب ہو گئی کہ کون سے گمان گناہ ہیں تاکہ ان سے بچیں اور جب تک کسی گمان کا جائز ہونا معلوم نہ ہو جاوے اس کے پاس نہ جائیں۔ علماء و فقہا نے اس کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ قرطبی نے فرمایا کہ ظن سے مراد اس جگہ تہمت ہے یعنی کسی شخص پر بغیر کسی قوی دلیل کے کوئی الزام عیب یا گناہ کا لگانا، امام ابو بکر جصاص نے احکام القرآن میں ایک جامع تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ ظن کی چار قسمیں ہیں ایک حرام ہے دوسری ماموربہ اور واجب ہے، تیسری مستحب اور مندوب ہے چوتھی مباح اور جائز ہے، ظن حرام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی رکھے کہ وہ مجھے عذاب ہی دے گا یا مصیبت ہی میں رکھے گا اس طرح کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت سے گویا مایوس ہے حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔

لا یموتن احد کم الا وھو یحسن اظن باللہ

تم میں سے کسی کو اس کے بغیر موت نہ آنی چاہئے کہ اس کا اللہ کے ساتھ اچھا گمان ہو

اور ایک حدیث میں رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد آیا ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ انا عند ظن عبدی بی، یعنی اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جیسا وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اب اس کو اختیار ہے کہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن فرض ہے اور بدگمانی حرام ہے۔ اسی طرح ایسے مسلمان جو ظاہری حالت میں نیک دیکھے جاتے ہیں، ان کے متعلق بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا حرام ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث، یعنی گمان سے بچو کیونکہ گمان جھوٹی بات ہے۔ یہاں ظن سے مراد باتفاق کسی مسلمان کے ساتھ بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا ہے اور جو کام ایسے ہیں کہ ان میں کسی جانب پر عمل کرنا شرعاً ضروری ہے اور اس کے متعلق قرآن و سنت میں کوئی دلیل واضح موجود نہیں، وہاں پر ظن غالب پر عمل کرنا واجب ہے۔ جیسے باہمی منازعات و مقدمات کے فیصلہ میں ثقہ گواہوں کی گواہی کے مطابق فیصلہ دینا کیونکہ حاکم اور قاضی جس کی عدالت میں مقدمہ دائر ہے اس پر اس کا فیصلہ دنیا واجب و ضروری ہے اور اس خاص معاملے کے لئے کوئی نص قرآن و حدیث میں موجود نہیں تو ثقہ آدمیوں کی گواہی پر عمل کرنا اس کے لئے واجب ہے اگرچہ یہ امکان و احتمال وہاں بھی ہے کہ شاید کسی ثقہ آدمی نے اس وقت جھوٹ بولا ہو اس لئے اس کا سچا ہونا صرف ظن غالب ہے اور اسی پر عمل واجب ہے۔ اسی طرح جہاں سمت قبلہ معلوم نہ ہو اور کوئی ایسا آدمی بھی نہ ہو جس سے معلوم کی جا سکے وہاں اپنے ظن غالب پر عمل ضروری ہے اسی طرح کسی شخص پر کسی چیز کا ضمان دینا واجب ہوا تو اس ضائع شدہ چیز کی قیمت میں ظن غالب ہی پر عمل کرنا واجب ہے اور ظن مباح ایسا ہے جیسے نماز کی رکعتوں میں شک ہو جاوے کہ تین پڑھی ہیں یا چار تو اپنے ظن غالب پر عمل کرنا جائز ہے اور اگر وہ ظن غالب کو چھوڑ کر امر یقینی پر عمل کرے یعنی تین رکعت قرار دے کر چوتھی پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے اور ظن مستحب و مندوب یہ ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ نیک گمان رکھے کہ اس پر ثواب ملتا ہے (جصاص ملخصاً)

قرطبی نے فرمایا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) لولا اذسمعتموہ ظن المومنون و المومنت بانفسہم خیرا، اس میں حسن ظن بالمومنین کی تاکید آئی ہے اور یہ جو مشہور ہے کہ ان من الحزم سوء الظن یعنی احتیاط کی بات یہ ہے کہ ہر شخص سے بدگمانی رکھے اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ ایسا کرے جیسے بدگمانی کی صورت میں کیا جاتا ہے کہ بدون قوی اعتماد کے اپنی چیز کسی کے حوالہ نہ کرے نہ یہ کہ اس کو چور سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کسی شخص کو چور یا غدار سمجھے بغیر اپنے معاملہ میں احتیاط برتے۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کے اس قول کا بھی یہی مطلب ہے۔

نگہ دار وآں شوخ در کیسہ در

کہ داند ہمہ خلق را کیسبہ بر

دوسری چیز جس سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے تجسس یعنی کسی کے عیب کی تلاش اور سراغ لگانا ہے۔ اس میں قراتیں دور ہیں ایک لاتجسسوا بالجیم دوسرے لاتحسسوا بالحاء اور حدیث صحیحین میں جو حضرت ابو ہریرہ سے منقول ہے یہ دونوں لفظ آئے ہیں ارشاد ہے لاتجسسوا ولا تحسسوا اور ان دونوں لفظوں کے معنی متقارب ہیں، اخفش نے دونوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ تجسس بالجیم کسی ایسے امر کی جستجو اور تلاش کو کہا جاتا ہے جس کو لوگوں نے آپ سے چھپایا ہو اور تجسس بالحاء مطلق تلاش اور جستجو کے معنی میں آیا ہے۔ سورة یوسف میں (آیت) تحسسوا من یوسف و اخیہ اسی معنی کے لئے آیا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو چیز تمہارے سامنے آ جائے اس کو پکڑ سکتے ہو اور کسی مسلمان کا جو عیب ظاہر نہ ہو اس کی جستجو اور تلاش کرنا جائز نہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے۔

لاتغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتھم فان من اتبع عوراتہم یتبع اللہ عورتہ و من یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ (قرطبی)

مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیوب کی تلاش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش کرتا ہے اور جس کے عیب کی تلاش اللہ تعالیٰ کرے اس کو اس کے گھر کے اندر بھی رسوا کر دیتا ہے

بیان القرآن میں ہے کہ چھپ کر کسی کی باتیں سننا یا اپنے کو سوتا ہوا بنا کر باتیں سننا بھی تجسس میں داخل ہے البتہ اگر کسی سے مضرت پہنچنے کا احتمال ہو اور اپنی یا دوسرے کسی مسلمان کی حفاظت کی غرض سے مضرت پہچانے والے کی خفیہ تدبیروں اور ارادوں کا تجسس کرے تو جائز ہے۔ تیسری چیز جس سے اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے وہ کسی کی غیبت کرنا ہے، یعنی اس کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جس کو وہ سنتا تو اس کو ایذا ہوتی اگرچہ وہ سچی بات ہی ہو کیونکہ جو غلط الزام لگائے وہ تہمت ہے جس کی حرمت الگ قرآن کریم سے ثابت ہے اور غیبت کی تعریف میں اس شخص کی غیر موجودگی کی قید سے یہ نہ سمجھا جائے کہ موجودگی کی حالت میں ایسی رنجیدہ بات کہنا جائز ہے کیونکہ وہ غیبت تو نہیں مگر لمز میں داخل ہے جس کی حرمت اس سے پہلی آیت میں آ چکی ہے۔

(آیت) ایحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا، اس آیت نے کسی مسلمان کی آبرو ریزی اور توہین و تحقیر کو اس کا گوشت کھانے کی مثال و مشابہ قرار دیا ہے اگر اس کے وہ شخص سامنے ہو تو ایسا ہے جیسے کسی زندہ انسان کا گوشت نوچ کر کھایا جائے، اس کو قرآن میں بلفظ لمز تعبیر کر کے حرام قرار دیا ہے جیسا کہ ابھی گزرا لا تلمزوا انفسکم اور آگے آئے گا (آیت) ویل لکل ھمزة لمزة اور وہ آدمی غائب ہو اس کے پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہنا جس سے اس کی آبرو میں خلل آئے اور اس کی تحقیر ہو یہ ایسا ہے جیسے کسی مردہ انسان کا گوشت کھایا جائے کہ جیسے مردہ کا گوشت کھانے سے مردے کو کوئی جسمانی اذیت نہیں ہوتی ایسے ہی اس غائب کو جب تک غیبت کی خبر نہیں ہوتی اس کو بھی کوئی اذیت نہیں ہوتی مگر جیسا کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھانا حرام اور بڑی خست و دنأت کا کام ہے اسی طرح غیبت حرام بھی ہے اور خست و دنأت بھی کہ پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہنا کوئی بہادری کا کام نہیں۔

اس آیت میں ظن اور تجسس اور غیبت تین چیزوں کی حرمت کا بیان ہے مگر غیبت کی حرمت کا زیادہ اہتمام فرمایا کہ اس کو کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس کی حرمت اور خست و دنائت کو واضح فرمایا، حکمت اس کی یہ ہے کہ کسی کے سامنے اس کے عیوب ظاہر کرنا بھی اگرچہ ایذا رسانی کی بنا پر حرام ہے مگر اس کی مدافعت وہ آدمی خود بھی کر سکتا ہے اور مدافعت کے خطرہ سے ہر ایک کی ہمت بھی نہیں ہوتی اور وہ عادتاً زیادہ دیر رہ بھی نہیں سکتا بخلاف غیبت کے کہ وہاں کوئی مدافعت کرنے والا نہیں ہر کمتر سے کمتر آدمی بڑے سے بڑے کی غیبت کر سکتا ہے اور چونکہ کوئی مدافعت نہیں ہوتی اس لئے اس کا سلسلہ بھی عموماً طویل ہوتا ہے اور اس میں ابتلاء بھی زیادہ ہے اس لئے غیبت کی حرمت زیادہ مو کد کی گئی اور عام مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ جو سنے وہ اپنے غائب بھائی کی طرف سے بشرط قدرت مدافعت کرے اور مدافعت پر قدرت نہ ہو تو کم از کم اس کے سننے پر پرہیز کرے کیونکہ غیبت کا بقصد و اختیار سننا بھی ایسا ہی ہے جیسے خود غیبت کرنا۔

غیبت کے متعلق مسائل:

حضرت میمونؒ نے فرمایا کہ ایک روز خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک زنگی کا مردہ جسم ہے اور کوئی کہنے والا ان کو مخاطب کر کے یہ کہہ رہا ہے کہ اس کو کھاؤ، میں نے کہا کہ اے خدا کے بندے میں اس کو کیوں کھاؤں تو اس شخص نے کہا اس لئے کہ تو نے فلاں شخص کے زنگی غلام کی غیبت کی ہے۔ میں نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے تو اس کے متعلق کوئی اچھی بری بات کی ہی نہیں تو اس شخص نے کہا کہ ہاں، لیکن تو نے اس کی غیبت سنی تو ہے اور تو اس پر راضی رہا، حضرت میمون کا حال اس خواب کے بعد یہ ہو گیا کہ نہ خود کبھی کسی کی غیبت کرتے اور نہ کسی کو اپنی مجلس میں کسی کی غیبت کرنے دیتے تھے۔

حدیث میں حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ شب معراج کی حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے لے جایا گیا تو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور بدن کا گوشت نوچ رہے ہیں، میں نے جبرئیل امین سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائی کی غیبت کرتے اور ان کی آبرو ریزی کرتے تھے (رواہ البغوی، مظہری) اور حضرت ابو سعید اور جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، الغیبتہ اشدمن الزنا، یعنی غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ کیسے، تو آپ نے فرمایا کہ ایک شخص زنا کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے تو اس کا گناہ معاف ہو جاتا ہے اور غیبت کرنے والے کا گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی ہے (رواہ الترمذی و ابو داؤد، از مظہری)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غیبت ایک ایسا گناہ ہے جس میں حق اللہ کی بھی مخالفت ہے اور حق العبد بھی ضائع ہوتا ہے اس لئے جس کی غیبت کی گئی ہے اس سے معاف کرانا ضروری ہے اور بعض علماء نے فرمایا کہ غیبت کی خبر جب تک صاحب غیبت کو نہ پہنچے اس وقت تک وہ حق العبد نہیں ہوتی اس لئے اس سے معافی کی ضرورت نہیں (نقلہ فی الروح عن الحسن و الخیاطی و ابن الصباغ و النووی و ابن الصلاح و الزرکشی و ابن عبد البر عن ابن المبارک) مگر بیان القرآن میں اس کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ اس صورت میں گو اس شخص سے معافی مانگنا ضروری نہیں مگر جس شخص کے سامنے یہ غیبت کی تھی اس کے سامنے اپنی تکذیب کرنا یا اپنے گناہوں کا اقرار کرنا ضروری ہے اور اگر وہ شخص مر گیا ہے یا اس کا پتہ نہیں تو اس کا کفارہ حضرت انس کی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ان من کفارة الغیبة ان یستغفر لن اغتابہ تقول اللھم اغفرلنا ولہ (رواہ البیہقی، مظہری) یعنی کفارہ غیبت کا یہ ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کرے اور یوں کہے کہ یا اللہ ہمارے اس کے گناہوں کو معاف فرما۔

مسئلہ: بچے اور مجنون اور کافر ذمی کی غیبت بھی حرام ہے کیونکہ اس کی ایذا بھی حرام ہے اور جو کافر حربی ہیں اگرچہ ان کی ایذا حرام نہیں مگر اپنا وقت ضائع کرنے کی وجہ سے پھر بھی غیبت مکروہ ہے۔

مسئلہ: غیبت جیسے قول اور کلام سے ہوتی ہے ایسے ہی فعل یا اشارہ سے بھی ہوتی ہے جیسے کسی لنگڑے کی چال بنا کر چلنا جس سے اس کی تحقیر ہو۔

مسئلہ: بعض روایات سے ثابت ہے کہ آیت میں جو غیبت کی عام حرمت کا حکم ہے یہ مخصوص البعض ہے یعنی بعض صورتوں میں اس کی اجازت ہوئی ہے مثلاً کسی شخص کی برائی کسی ضرورت یا مصلحت سے کرنا پڑے تو وہ غیبت میں داخل نہیں بشرطیکہ وہ ضرورت و مصلحت شرعاً معتبر ہو جیسے کسی ظالم کی شکایت کسی ایسے شخص کے سامنے کرنا جو ظلم کو دفع کر سکے، یا کسی کی اولاد و بیوی کی شکایت اس کے باپ اور شوہر سے کرنا جو ان کی اصلاح کر سکے، یا کسی واقعہ کے متعلق فتویٰ حاصل کرنے کے لئے صورت واقعہ کا اظہار یا مسلمانوں کو کسی شخص کے دینی یا دنیوی شر سے بچانے کے لئے کسی کا حال بتلانا، یا کسی معاملے کے متعلق مشورہ لینے کے لئے اس کا حال ذکر کرنا، یا جو شخص سب کے سامنے کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور اپنے فسق کو خود ظاہر کرتا پھرتا ہے اس کے اعمال بد کا ذکر بھی غیبت میں داخل نہیں مگر بلا ضرورت اپنے اوقات ضائع کرنے کی بنا پر مکروہ ہے (یہ سب مسائل بیان القرآن میں بحوالہ روح المعانی بیان کئے گئے ہیں) اور ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ کسی کی برائی اور عیب ذکر کرنے سے مقصود اس کی تحقیر نہ ہو بلکہ کسی ضرورت و مجبوری سے ذکر کیا گیا ہو۔

۰۴۹: ۰۱۳

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۝۱۳

ترجمہ:

اے آدمیو! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کو بڑی جس کو ادب بڑا اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار۔

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اے لوگو! ہم نے (سب) کو ایک مرد اور ایک عورت (یعنی آدم و حوا) سے پیدا کیا (اس لئے اس میں تو سب انسان برابر ہیں) اور (پھر جس بات میں فرق رکھا ہے کہ) تم کو مختلف قومیں اور (پھر ان قوموں میں) مختلف خاندان بنایا (یہ محض اس لئے) تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو (جس میں بہت سی مصلحتیں ہیں نہ اس لئے کہ ایک دوسرے پر تفاخر کرو کیونکہ) اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو (اور پرہیزگاری ایسی چیز ہے جس کا پورا حال کسی کو معلوم نہیں بلکہ اس کے حال کو محض) اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پورا خبردار ہے (اس لئے کسی نسب اور قومیت پر فخر نہ کرو)

معارف و مسائل:

اوپر کی آیات میں انسانی اور اسلامی حقوق اور آداب معاشرت کی تعلیم کے سلسلے میں چھ چیزوں کو حرام و ممنوع کیا گیا ہے جو باہمی منافرت اور عداوت کا سبب ہوتی ہیں۔ اس آیت میں ایک جامع تعلیم انسانی مساوات کی ہے کہ کوئی انسان دوسرے کو کمتر یا رذیل نہ سمجھے اور اپنے نسب اور خاندان یا مال و دولت وغیرہ کی بنا پر فخر نہ کرے کیونکہ یہ چیزیں در حقیقت تفاخر کی ہیں نہیں، پھر اس تفاخر سے باہمی منافرت اور عداوت کی بنیادیں پڑتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں اور خاندان اور قبائل یا مال و دولت کے اعتبار سے جو فرق اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ تفاخر کے لئے نہیں بلکہ تعارف کے لئے ہے۔

شان نزول:

یہ آیت فتح مکہ کے موقع پر اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہﷺ نے حضرت بلال حبشیؓ کو اذان کا حکم دیا تو قریش مکہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے والد پہلے ہی وفات پا گئے ان کو یہ روز بد دیکھنا نہیں پڑا اور حارث بن ہشام نے کہا کہ کیا محمدﷺ کو اس کالے کوے کے سوا کوئی آدمی نہیں جڑا کہ جو مسجد حرام میں اذان دے۔ ابو سفیان بولے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ میں کچھ کہوں گا تو آسمانوں کا مالک ان کو خبر کر دے گا، چنانچہ جبرئیل امین تشریف لائے اور آنحضرتﷺ کو اس تمام گفتگو کی اطلاع دی، آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا انہوں نے اقرار کر لیا اسی پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے بتلایا کہ فخر و عزت کی چیز در حقیقت ایمان اور تقویٰ ہے جس سے تم لوگ خالی اور حضرت بلال آراستہ ہیں اس لئے وہ تم سب سے افضل و اشرف ہیں (مظہری عن البغوی)

حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا (تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں) طواف سے فارغ ہو کر آپ نے یہ خطبہ دیا۔

الحمد للہ الذی اذھب عنکم عبیة الجاھلیة وتکبرھا۔ الناس رجلان بر تقی کریم علی اللہ و فاجر شقی ھین علی اللہ ثم تلا۔ یٰٓایہا الناس انا خلقنٰکم لآیۃ (ترمذی و بغوی)

شکر ہے اللہ کا جس نے فخر جاہلیت کو اور اس کے تکبر کو تم سے دور کر دیا، اب تمام انسانوں کی صرف دو قسمیں ہیں ایک نیک اور متقی وہ اللہ کے نزدیک شریف اور محترم ہے، دوسرا فاجر شقی وہ اللہ کے نزدیک ذلیل و حقیر ہے اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی جو اوپر مذکور ہے

حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ دنیا کے لوگوں کے نزدیک عزت مال و دولت کا نام ہے اور اللہ کے نزدیک تقویٰ کا۔

شعوبا وقبآىٕل، شعوب، شعب کی جمع ہے بہت بڑی جماعت کو شعب کہتے ہیں جو کسی ایک اصل پر مجتمع ہوں پھر ان میں مختلف قبائل اور خاندان ہوتے ہیں، پھر خاندانوں میں بھی بڑے خاندان اور اس کے مختلف حصوں کے عربی زبان میں الگ الگ نام ہیں، سب سے بڑا حصہ شعب اور سب سے چھوٹا حصہ عشیرہ کہلاتا ہے او ابو رواق کا قول ہے کہ شعب اور شعوب عجمی قوموں کے لئے بولا جاتا ہے جس کے انساب محفوظ نہیں اور قبائل عرب کے لوگوں کے لئے جن کے انساب محفوظ چلے آتے ہیں اور اسباط بنی اسرائیل کے لئے۔

نسبی اور وطنی یا لسانی امتیاز میں حکمت و مصلحت تعارف کی ہے:

قرآن کریم نے اس آیت میں واضح کر دیا کہ حق تعالیٰ نے اگرچہ سب انسانوں کو ایک ہی باپ اور ماں سے پیدا کر کے سب کو بھائی بھائی بنا دیا ہے مگر پھر اس کی تقسیم مختلف قوموں قبیلوں میں جو حق تعالیٰ ہی نے فرمائی ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا تعارف اور شناخت آسان ہو جائے مثلاً ایک نام کے دو شخص ہیں تو خاندان کے تفاوت میں ان میں امتیاز ہو سکتا ہے اور اس سے دور اور قریب کے رشتوں کا علم ہو سکتا ہے اور نسبی قرب و بعد کی مقدار پر ان کے حقوق شرعیہ ادا کئے جاتے ہیں۔ عصبات کا قرب و بعد معلوم ہوتا ہے جس کی ضرورت تقسیم میراث میں پیش آتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نسبی تفاوت کو تعارف کے لئے استعمال کرو تفاخر کے لئے نہیں۔

۰۴۹: ۰۱۴

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْـًٔا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝۱۴

ترجمہ:

کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے تو کہہ تم ایمان نہیں لائے پر تم کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی نہیں گھسا ایمان تمہارے دلوں میں اور اگر حکم پر چلو گے اللہ کے اور اس کے رسول کے کاٹ نہ لے گا تمہارے کاموں میں سے کچھ اللہ بخشتا ہے مہربان ہے

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہو گئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہو جاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم اللہ و رسول کا (سب باتوں میں) کہنا مان لو (جس میں یہ بھی داخل ہے کہ دل سے ایمان لے آؤ) تو اللہ تمہارے اعمال میں سے (جو کہ بعد ایمان کے ہوں گے محض اس وقت کے کفر و کذب کی وجہ سے جو کہ اس وقت کے اعتبار سے گزشتہ ہو گا) ذرا بھی کم نہ کرے گا (بلکہ سب کا پورا پورا ثواب دے گا کیونکہ) بیشک اللہ غفور رحیم ہے (اب ہم سے سنو کہ کامل مومن کون ہیں تاکہ اگر تم کو مومن بننا ہے تو ویسے بنو سو) پورے مومن وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر (ایمان پر مستمر بھی رہے یعنی عمر بھر کبھی) شک نہیں کیا اور اپنے مال اور جان سے خدا کے راستہ میں (یعنی دین کے لئے) محنت اٹھائی (جس میں جہاد وغیرہ سب آ گیا سو) یہ لوگ ہیں سچے (یعنی پورے سچے اور یوں اگر صرف تصدیق ہی ہو تب بھی نفس صدق ہو جائے گا، بخلاف تمہارے کہ ادنیٰ درجہ کا ایمان کہ تصدیق ہے وہ تک حاصل نہیں اور دعویٰ کرتے ہیں ایمان کامل کا، پس ایک امر قبیح تو ان سے یہ صادر ہوا یعنی کذب کما قال تعالیٰ (آیت) ومن الناس من یقول امنا الی قولہ ماھم بمومنین، اور دوسرا امر قبیح یہ ہے کہ یہ دھوکہ دیتے ہیں کماقال تعالیٰ (یخدعون اللہ سو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ کیا خدا تعالیٰ کو اپنے دین (قبول کرنے) کی خبر دیتے ہو (یعنی اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ تم نے ایمان قبول نہیں کیا باوجود اس کے جو تم دعوے قبول کرنے کا کرتے ہو تو لازم آتا ہے کہ خلاف علم خداوندی خدا تعالیٰ کو ایک بات بتلاتے ہو) حالانکہ (یہ محال ہے کیونکہ) اللہ کو تو سب آسمان اور زمین کی سب چیزوں کی (پوری) خبر ہے اور (علاوہ سمٰوٰت والارض کے) اللہ (اور بھی) سب چیزوں کو جانتا ہے (تو اس کو کوئی کیا بتلاوے گا اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو جو تمہارے متعلق علم ہے کہ تم ایمان نہیں لائے وہی صحیح ہے اور تیسرا امر قبیح جس کے یہ مرتکب ہوتے ہیں یہ ہے کہ) یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں (جو نہایت درجہ گستاخی ہے کہ دیکھئے ہم نے لڑے نہ بھڑے مسلمان ہو گئے اور دوسرے لوگ بہت پریشان کر کر کے مسلمان ہوئے ہیں سو) آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو (اس لئے کہ قطع نظر گستاخی کے تمہارے اسلام سے میرا کیا نفع ہو گیا اور اسلام نہ لانے سے میرا کیا ضرر ہو گیا اگر تم سچے ہوتے تو تمہاری ہی آخرت کا نفع تھا اور جھوٹے ہونے میں بھی تمہارا ہی دنیا کا نفع ہے کہ قتل و قید سے بچ گئے سو مجھ سے احسان رکھنا محض جہل ہے) بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت دی بشرطیکہ تم (اس دعویٰ ایمان میں) بچے ہو (کیونکہ ایمان بڑی نعمت ہے اور بدون تعلیم و توفیق حق تعالیٰ کے نصیب نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ ایسی بڑی نعمت عطا فرما دی، پس دھوکے اور احسان جتلانے سے باز آؤ اور یہ یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کی سب مخفی باتوں کو جانتا ہے اور (اسی علم محیط کی وجہ سے) تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے (اور ان ہی کے موافق تم کو جزا دے گا پھر اس کے سامنے باتیں بنانے سے کیا فائدہ)۔

معارف و مسائل:

سابقہ آیات میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا مدار تقویٰ پر ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے اپنے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکور الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بنا پر یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے اپنے کو مومن کہنا صحیح نہیں، اس پوری سورت میں اول نبی کریمﷺ کے حقوق تعظیم و تکریم کا پھر باہمی حقوق اور آداب معاشرت کا ذکر آیا ہے ختم سورت پر یہ بتلایا گیا کہ آخرت میں سب اعمال کی مقبولیت کا مدار ایمان اور تصدیق قلبی اور اللہ و رسول کی اطاعت پر ہے۔

شان نزول:

واقعہ اس آیت کے نزول کا امام بغوی کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک قحط شدید کے زمانے میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات حاصل کرنے کے لئے اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا اور چونکہ واقع میں مومن نہ تھے اسلامی احکام و آداب سے بے خبر اور غافل تھے انہوں نے مدینہ کے راستوں پر غلاظت و نجاست پھیلا دی اور بازاروں میں اشیاء ضرورت کی قیمت بڑھا دی اور حضورﷺ کے سامنے ایک تو جھوٹا دعویٰ ایمان لانے کا کیا، دوسرے آپ کو دھوکا دینا چاہا، تیسرے آپ پر احسان جتلایا کہ دوسرے لوگ تو ایک زمانہ تک آپ سے بر سر پیکار رہے آپ کے خلاف جنگیں لڑیں پھر مسلمان ہوئے ہم بغیر کسی جنگ کے خود آپ کے پاس حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے اس لئے ہماری قدر کرنی چاہئے جو شان رسالت میں ایک طرح کی گستاخی بھی تھی کہ اپنے مسلمان ہو جانے کا احسان آپ پر جتلایا اور مقصود اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مسلمانوں کی صدقات سے اپنی مفلسی دور کریں اور اگر یہ واقعی اور سچے مسلمان ہی ہو جاتے تو رسول اللہﷺ پر کیا احسان تھا خود اپنا ہی نفع تھا اس پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں جن میں ان کے جھوٹے دعوے کی تکذیب اور احسان جتلانے پر مذمت کی گئی ہے۔

(آیت) ولٰکن قولوٓا اسلمنا، چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہ تھا جھوٹا دعویٰ صرف ظاہری افعال کی بناء پر کر رہے تھے اس لئے قرآن نے ان کے ایمان کی نفی اور دعوائے ایمان کے غلط ہونے کو بیان کر کے یہ فرمایا کہ تمہارا آمنا کہنا تو جھوٹ ہے تم زیادہ سے زیادہ اسلمنا کہہ سکتے ہو کیونکہ اسلام کے لفظی معنی ظاہری افعال میں اطاعت کرنے کے ہیں اور یہ لوگ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرنے کے لئے کچھ اعمال مسلمانوں جیسے کرنے لگے تھے اس لئے لفظی اعتبار سے ایک درجہ کی اطاعت ہو گئی اس لئے لغوی معنی کے اعتبار سے اسلمنا کہنا صحیح ہو سکتا ہے۔

اسلام و ایمان ایک ہیں یا کچھ فرق ہے؟:

اوپر کی تقریر سے معلوم ہو گیا کہ اس آیت میں اسلام کے لغوی معنی مراد ہیں اصطلاحی معنی مراد ہی نہیں اس لئے اس آیت سے اسلام اور ایمان میں اصطلاحی فرق پر کوئی استدلال نہیں ہو سکتا اور اصطلاحی ایمان اور اصطلاحی اسلام اگرچہ مفہوم و معنی کے اعتبار سے الگ الگ ہیں کہ ایمان اصطلاح شرع میں تصدیق قلبی کا نام ہے یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت کو سچا ماننا اور اسلام نام ہے اعمال ظاہرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا لیکن شریعت میں تصدیق قلبی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کا اثر جوارح کے اعمال و افعال تک نہ پہنچ جائے جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ اسلام کا اقرار کرے۔ اس طرح اسلام اگرچہ اعمال ظاہرہ کا نام ہے لیکن شریعت میں وہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ دل میں تصدیق نہ آ جائے ورنہ وہ نفاق ہے۔ اس طرح اسلام و ایمان مبدا اور منتہی کے اعتبار سے تو الگ الگ ہیں کہ ایمان باطن اور قلب سے شروع ہو کر ظاہر اعمال تک پہنچتا ہے اور اسلام افعال ظاہرہ سے شروع ہو کر باطن کی تصدیق تک پہنچتا ہے مگر مصداق کے اعتبار سے ان دونوں میں تلازم ہے کہ ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں اور اسلام ایمان کے بغیر شرعاً معتبر نہیں، شریعت میں یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص مسلم تو ہو مومن نہ ہو یا مومن ہو مسلم نہ ہو مگر یہ کلام اصطلاحی ایمان و اسلام میں ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مسلم ہو مومن نہ ہو جیسے تمام منافقین کا یہی حال تھا کہ ظاہری اطاعت احکام کی بنا پر مسلم کہلاتے تھے مگر دل میں ایمان نہ ہونے کے سبب مومن نہ تھے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

۰۴۹: ۰۱۵

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ۝۱۵

ترجمہ:

ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر پھر شبہ نہ لائے اور لڑے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے وہ لوگ جو ہیں وہی ہیں سچے

۰۴۹: ۰۱۶

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۝۱۶

ترجمہ:

تو کہہ کیا تم جتلاتے ہو اللہ کو اپنی دینداری اور اللہ کو تو خبر ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

۰۴۹: ۰۱۷

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۱۷

ترجمہ:

تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوئے تو کہہ مجھ پر احسان نہ رکھو اپنے اسلام لانے کا بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو راہ دی ایمان کی اگر سچ کہو

۰۴۹: ۰۱۸

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠۝۱۸

ترجمہ:

اللہ جانتا ہے چھپے بھید آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔

٭٭٭

ماخذ:

http://equranlibrary.com

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید