معارف القرآن، جلد ٧ ۔۔۔ مفتی محمد شفیع عثمانی

مشہور تفسیری کتاب کی آخری جلد

معارف القرآن، جلد ہفتم

سورۃ ق سے سورۃ الناس تک( منزل ٧)

از قلم

مفتی محمد شفیع عثمانی

جمع و ترتیب : اعجاز عبید اور محمد عظیم الدین

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

۹۵۔ سورۃ التین

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة تین مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی آٹھ آیتیں ہیں

 

۰۹۵: ۰۰۱

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ۝۱

 

ترجمہ:

قسم انجیر کی اور زیتون کی

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

قسم ہے انجیر (کے درخت) کی اور زیتون (کے درخت) کی اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر (یعنی مکہ معظمہ) کی کہ ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے پھر (ان میں جو بوڑھا ہو جاتا ہے) ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی پست تر کر دیتے ہیں (یعنی وہ خوبصورتی بد صورتی سے اور قوت ضعف سے بدل جاتی ہے اور برے سے برا ہو جاتا ہے مقصود اس سے بیان کرنا کمال قبح کا ہے جس سے ان کے دوبارہ پیدا کرنے پر حق تعالیٰ کی قدرت ہونا واضح ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ اللہ الذی خلقنکم من ضعف الخ اور مقصود اس سورت کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت دوبارہ پیدا کرنے اور زندہ کرنے پر ثابت کرنا ہے جیسا کہ فما یکذیک بعد بالدین کے جملے سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور اس آیت کے عموم سے چونکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوڑھے سب کے سب قبیح اور برے ہو جاتے ہیں اس ابہام کو دور کرنے کے لئے آگے آیت میں ایک استثناء بیان کیا جاتا ہے کہ) لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو ان کے لئے اس قدر ثواب ہے جو کبھی منقطع نہ ہو گا (جس میں بتلا دیا کہ مومن صالح بوڑھے ضعیف ہو جانے کے باوجود انجام کار کے اعتبار سے اچھے ہی رہتے ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ ان کی عزت بڑھ جاتی ہے، آگے خلقنا اور رددنا پر تفریع ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تخلیق و تخلیق و تقلیب احوال پر قادر ہیں) تو (اے انسان) پھر کون چیز تجھ کو قیامت کے بارے میں منکر بنا رہی ہے (یعنی وہ کونسی دلیل ہے جس کی بنا پر تو ان دلائل کے ہوتے ہوئے قیامت کا منکر ہو رہا ہے) کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے (تصرفات دنیویہ میں بھی جن میں سے تخلیق انسانی اور پھر بڑھاپے میں اس پر تغیرات کا ذکر اوپر آیا ہے اور تصرفات اخرویہ میں بھی جن میں سے قیامت و مجازاة بھی ہے)

 

معارف و مسائل

والتین والزیتون، اس آیت میں چار چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جن میں دو درخت ہیں ایک تین یعنی انجیر، دوسرے زیتون اور ایک پہاڑ طور اور ایک شہر یعنی مکہ مکرمہ کی، اس تخصیص کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ دونوں درخت کثیر البرکت کثیر المنافع ہیں جس طرح طور پہاڑ اور شہر مکہ کثیر البرکت ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں تین اور زیتون کے ذکر سے مراد وہ جگہ ہو جہاں یہ درخت کثرت سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ملک شام ہے جو معدن انبیاء (علیہم السلام) ہے اور حضرت ابراہیمؑ بھی اسی ملک میں مقیم تھے ان کو ہجرت شام ہے جو معدن انبیاء (علیہم السلام) ہے اور حضرت ابراہیمؑ بھی اسی ملک میں مقیم تھے ان کو ہجرت کرا کر مکہ معظمہ لایا گیا تھا اس طرح ان قسموں میں تمام وہ مقامات مقدسہ شامل ہو گئے جہاں خاص خاص انبیاء (علیہم السلام) پیدا اور مبعوث ہوئے، ملک شام انبیاء علیہم السلام کا وطن اور مسکن ہے۔ کوہ طور حضرت موسیٰؑ کے حق تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہونے کی جگہ ہے اور سینین یاسینا اس مقام کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے اور بلد امین مکہ مکرمہ خاتم الانبیاءﷺ کا مولد و مسکن ہے۔

 

۰۹۵: ۰۰۲

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ۝۲

 

ترجمہ:

اور طور سینین کی

 

۰۹۵: ۰۰۳

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ۝۳

 

ترجمہ:

اور اس شہر امن والے کی

 

۰۹۵: ۰۰۴

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍؗ۝۴

 

ترجمہ:

ہم نے بنایا آدمی خوب سے اندازے پر

 

تفسیر:

ان چار چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم تقویم کے لفظی معنے کسی چیز کے قوام اور بنیاد کو درست کرنے کے ہیں۔ احسن تقویم سے مراد یہ ہے کہ اس کی جبلت و فطرت کو بھی دوسری مخلوقات کے اعتبار سے احسن بنایا گیا اور اس کی جسمانی ہئیت اور شکل و صورت کو بھی دنیا کے سب جانداروں سے بہتر اور حسین بنایا گیا۔

 

انسان تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ حسین ہے:

جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ حسین بنایا ہے۔ ابن عربی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں انسان سے احسن نہیں کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے حیات کے ساتھ عالم، قادر، متکلم، سمیع، بصیر، مدبر اور حکیم بنایا ہے اور یہ سب صفات در اصل خود حق سبحانہٗ و تعالیٰ کی ہیں۔ چنانچہ بخاری و مسلم کی روایت میں آیا کہ ان اللہ خلق ادم علی صورتہ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ مراد اس سے یہی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا کوئی درجہ اس کو بھی دیا گیا ہے ورنہ حق تعالیٰ ہر شکل و صورت سے بری ہے۔ (قرطبی)

محسن انسانی کا ایک عجیب واقعہ: ۔ قرطبی نے اس جگہ نقل کیا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی جو خلیفہ ابو جعفر منصور کے دربار کے مخصوص لوگوں میں سے تھے اور اپنی بیوی سے بہت محبت رکھتے تھے ایک روز چاندی رات میں بیوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بول اٹھے انت طالق ثلاثا ان لم تکونی احسن من القمر یعنی تم پر تین طلاق ہیں، اگر تم چاند سے زیادہ حسین نہ ہو، یہ کہتے ہی بیوی اٹھ کر پردہ میں چلی گئی کہ آپ نے مجھے طلاق دے دی، بات ہنسی دل لگی کی تھی مگر طلاق کا حکم یہی ہے کہ کسی طرح بھی طلاق کا صریح لفظ بیوی کو کہہ دیا جائے تو طلاق ہو جاتی ہے خواہ ہنسی دل لگی ہی میں کیا جائے۔ عیسیٰ بن موسیٰ نے رات بڑی بے چینی اور رنج و غم میں گزاری صبح کو خلیفہ وقت ابو جعفر منصور کے پاس حاضر ہوئے اور اپنا قصہ سنایا اور اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ منصور نے شہر کے فقہا اہل فتویٰ کو جمع کر کے سوال کیا سب نے ایک ہی جواب دیا کہ طلاق ہو گئی کیونکہ چاند سے زیادہ حسین ہونے کا کسی انسان کے لئے امکان ہی نہیں، مگر ایک عالم جو امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے تھے خاموش بیٹھے رہے۔ منصور نے پوچھا کہ آپ کیوں خاموش ہیں تب یہ بولے اور بسم اللہ الرحمٰٓن الرحیم پڑھ کر سورة تین تلاوت کی اور فرمایا کہ امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا احسن تقویم میں ہونا بیان فرما دیا ہے، کوئی شئے اس سے زیادہ حسین نہیں۔ یہ سن کر سب علماء فقہا حیرت میں رہ گئے کوئی مخالفت نہیں کی اور منصور نے حکم دے دیا کہ طلاق نہیں ہوئی۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ حسین ہے ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن کے اعتبار سے بھی، حسن و جمال کے اعتبار سے بھی اور بدنی ساخت کے اعتبار سے بھی، اس کے سر میں کیسے کیسے اعضاء کیسے کیسے عجیب کام کر رہے ہیں کہ ایک مستقل فیکٹری معلوم ہوتی ہے جس میں بہت سی نازک باریک خود کار مشینیں چل رہی ہیں۔ یہی حال اس کے سینہ اور پیٹ کا ہے اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں کی ترکیب و ہئیت ہزاروں حکمتوں پر مبنی ہے۔ اسی لئے فلاسفہ نے کہا ہے کہ انسان ایک عالم اصغر یعنی پودے عالم کا ایک نمونہ ہے۔ سارے عالم میں جو چیزیں بکھری ہوئی ہیں وہ سب اس کے وجود میں جمع ہیں (قرطبی)

صوفیائے کرام نے بھی اس کی تائید کی اور بعض حضرات نے انسان کے سر سے پیر تک کا سراپا لے کر اشیائے عالم کے نمونے اس میں دکھلائے ہیں۔

 

۰۹۵: ۰۰۵

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ۝۵

 

ترجمہ:

پھر پھینک دیا اس کو نیچوں سے نیچے

 

تفسیر:

ثم رددنہ اسفل سفلین، پہلے جملے میں ساری مخلوقات اور کائنات سے احسن بنانے کا بیان تھا، اس جملے میں اس کے بالمقابل یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح وہ اپنی ابتدا اور شباب میں ساری مخلوقات سے زیادہ حسین اور سب سے بہتر تھا آخر میں اس پر یہ حالت بھی آتی ہے کہ وہ بد سے بدتر اور برے سے برا ہو جاتا ہے ظاہر یہ ہے کہ بدتری اور برائی اس کی ظاہری جسمانی حالت کے اعتبار سے بتلائی گئی ہے کہ شباب ڈھلنے کے بعد شکل و صورت بدلنے لگتی ہے بڑھاپا اس کا روپ بالکل بدل ڈالتا ہے، بد ہئیت بد شکل نظر آنے لگتا ہے بیکار اور دوسروں پر بار ہو کر رہ جاتا ہے۔ کسی کے کام نہیں آتا، بخلاف دوسرے جانوروں کے کہ وہ آخر تک اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، انسان ان سے دودھ اور سواری بار برداری کے اور دوسری قسم کے سینکڑوں کام لیتے ہیں، وہ ذبح کر دیئے جائیں یا مر جائیں تو بھی ان کی کھال، بال، ہڈی، غرض جسم کا ریزہ ریزہ انسانوں کے کام میں آتا ہے بخلاف انسان کے کہ جب وہ بیماری اور بڑھاپے میں عاجز و درماندہ ہو جاتا ہے تو مادی اور دنیاداری کے اعتبار سے کسی کام کا نہیں رہتا مرنے کے بعد بھی اس کے کسی جز سے کسی انسان یا جانور کو فائدہ نہیں پہنچتا، خلاصہ یہ ہے کہ اس کے اسفل السلافلین میں پہنچ جانے سے مراد اس کی مادی اور جسمانی کیفیت ہے۔ یہ تفسیر حضرت ضحاک وغیرہ ائمہ تفسیر سے منقول ہے (کما فی القرطبی)

 

۰۹۵: ۰۰۶

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ۝۶

 

ترجمہ:

مگر جو یقین لائے اور عمل کئے اچھے سو ان کے لئے ثواب ہے بے انتہا

 

تفسیر:

اس تفسیر پر اگلی آت میں جو مؤمنین صالحین کے استثناء یعنی الا الذین امنو وعملو الصلحت قلھم اجر غیر ممنون کا ذکر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر بڑھاپے میں کے حالات اور عجز و درماندگی نہیں آتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس جسمانی بیکاری اور مادی خرابی کا نقصان ان کو نہیں پہنچتا بلکہ نقصان صرف ان لوگو کو پہنچتا ہے جنہوں نے اپنی ساری فکر اور توانائی اسی مادی درستی پر خرچ کی تھی وہ اب ختم ہو گئی اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں بخلاف مؤمنین صالحین کے کہ ان کا اجر و ثواب کبھی قطع ہونے والا نہیں۔ اگر دنیا میں بڑھاپے کی بیماری کمزوری اور عجز سے سابقہ بھی پڑا تو آخرت میں ان کے لئے درجات عالیہ اور راحت ہی راحت موجود ہے اور بڑھاپے کی بیکاری اور عجز سے سابقہ بھی پڑا تو آخرت میں ان کے لئے درجات عالیہ اور راحت ہی راحت موجود ہے اور بڑھاپے کی بیکاری میں بھی عمل کم ہو جانے کے باوجود ان کے نامہ اعمال میں وہ سب اعمال لکھے جاتے ہیں جو وہ قوت کے زمانے میں کیا کرتا تھا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان کسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال لکھنے والے فرشتے کو حکم دے دیتے ہیں کہ جو جو عمل خیر یہ اپنی تندرستی میں کیا کرتا تھا وہ سب اس کے اعمال نامہ میں لکھتے رہو (رواہ البغوی فی شرح السنہ و البخاری عن ابی موسیٰ مثلہ فی المریض و المسافر) اس کے علاوہ اس مقام پر مؤمنین صالحین کی جزاء جنت اور اس کی نعمتوں کو بیان کرنے کے بجائے لھم اجر غیر ممنون فرمایا ہے یعنی ان کا اجر کبھی مقطوع و منقطع ہونے والا نہیں۔ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ صلہ دنیا کی مادی زندگی ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ حق تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کے لئے بڑھاپے اور ضعف میں ایسے مخلف رفقاء مہیا فرما دیتے ہیں جو ان کے آخری لمحہ تک ان سے روحانی فوائد اٹھاتے ہیں اور ان کی ہر طرح کی خدمت کرتے ہیں اسی طرح بڑھاپے کا وہ وقت جب انسان مادی اور جسمانی طور پر معطل بیکار اور لوگوں پر بار سمجھا جاتا ہے، اللہ کے یہ بندے اس وقت بھی بیکار نہیں ہوتے اور بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ رددنہ اسفل سفلین عام انسانوں کے لئے نہیں بلکہ کفار و فجار کے لئے ہے۔ جنہوں نے خدا داد احسن تقویم اور انسانی کمالات و شرافت اور عقل کو مادی لذائذ کے پیچھے برباد کر دیا تو اس ناشکری کی سزا میں ان کو اسفل السافلین میں پہنچا دیا جائے گا، اس صورت میں الا الذین اٰمنوا کا استثناء اپنے ظاہری مفہوم پر رہتا ہے کہ اسفل سافلین میں پہنچنے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور عمل صالح کے پابند رہے کیونکہ ان کا اجر ہمیشہ جاری رہے گا۔ (کذا فی المظہری)

 

۰۹۵: ۰۰۷

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ۝۷

 

ترجمہ:

پھر تو اس کے پیچھے کیوں جھٹلائے بدلہ ملنے کو

 

تفسیر:

فما یکذبک بعد بالدین، پچھلی آیات میں تخلیق انسانی کے کمال اور اس پر حق تعالیٰ کے خاص انعام کا پھر بڑھاپے میں حالات کے انقلاب کا ذکر فرما کر اس آیت میں منکرین قیامت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ قدرت الٰہیہ کے ایسے مناظر اور انقلاب دیکھنے کے بعد بھی کیا گنجائش ہے کہ تم آخرت اور قیامت کی تکذیب کرو، کیا اللہ تعالیٰ سب حکومت کرنے والوں پر حاکم نہیں۔

 

مسئلہ:

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة تین پڑھے اور اس آیت پر پہنچے الیس اللہ باحکم الحکمین تو اس کو چاہئے کہ یہ کلمہ کہے بلی وانا علی ذلک من الشھدین اس لئے حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ کلمہ پڑھنا مستحب ہے۔

 

۰۹۵: ۰۰۸

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠۝۸

 

ترجمہ:

کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم۔

٭٭٭

 

 

۹۶۔ سورۃ العلق

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة علق مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی انیس آیتیں ہیں

 

۰۹۶: ۰۰۱

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ۝۱

 

ترجمہ:

پڑھ اپنے رب کے نام سے جو سب کا بنانے والا

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

اقراء سے مالم یعلم تک سب سے پہلے وحی ہے جس کے نزول سے نبوت کی ابتدا ہوئی جس کا قصہ حدیث شیخین میں یہ کہ عطاء نبوت کے قریب زمانے میں آپ کو از خود خلوت پسند ہو گئی، آپ غار حرا میں تشریف لے جا کر کئی کئی شب رہتے، ایک روز دفعتاً جبرئیلؑ تشریف لائے اور آپ سے کہا کہ اقراء یعنی پڑھئے، آپ نے فرمایا ما انا بقاری، یعنی میں کچھ پڑھا ہوا نہیں، انہوں نے خوب آپ کو زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور پھر کہا اقراء، آپ نے پھر وہی جواب دیا، اسی طرح تین بار کیا پھر آخر میں دبانے کے بعد چھوڑ کر کہا اقراء الی مالم یعلم

اے پیغمبرﷺ آپ (پر جو) قرآن (نازل ہوا کرے گا جس میں اس وقت کی نازل ہونے والی کیجئے جیسا کہ اس آیت میں اذا قرات القرآن فاستعذ باللہ میں قرآن کے ساتھ اعوذ باللہ پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور ان دونوں امر سے جو اصل مقصود ہے یعنی توکل و استعانت وہ تو واجب ہے اور زبان سے کہہ لینا مسنون و مندوب ہے اور گو اصل مقصود ہے یعنی توکل و استعانت وہ تو واجب ہے اور زبان سے کہہ لینا مسنون و مندوب ہے اور گو اصل مقصود کے اعتبار سے اس آیت کے نزول کے وقت بسم اللہ کا آپ کو معلوم ہونا ضروری نہیں لیکن بعض روایات میں اس سورت کے ساتھ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا نازل ہونا بھی آیا ہے۔ اخرجہ الواجدی عن عکرمۃ والحسن انھما قالا اول مانزل بسم اللہ الرحمٓن الرحیم و اول سورة اقراء اخرجہ ابن جزیرہ وغیرہ عن ابن عباس انہ قال اول مانزل جبرئیلؑ علی النبیﷺ قال یا محمد استعذثم قل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کذا فی روح المعانی اور ان آیتوں میں جو قراة کو اسم الٰہی کے ساتھ افتاحت کرنے کا حکم ہوا ہے اس حکم میں خود ان آیتوں کا داخل ہونا ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اسمع ما اقول لک یعنی میں جو کچھ تجھ سے کہوں تو اس کو سن، تو خود اس جملہ کے سننے کا حکم کرنا بھی اس کو مقصود ہے پس حاصل یہ ہو گا کہ خواہ ان آیتوں کو پڑھو یا جو آیات بعد میں نازل ہوں گی ان کو پڑھو سب کی قرات اسم الٰہی سے ہونا چاہئے اور آپ کو بعلم ضروری معلوم ہو گیا کہ یہ قرآن اور وحی ہے اور حدیثوں میں جو آپ کا ڈر جانا اور ورقہ ابن نوفل سے بیان کرنا آیا ہے وہ بوجہ شبہ کے نہ تھا بلکہ خوف و ہیبت وحی سے اضطراری تھا اور ورقہ سے بیان کرنا مزید اطمینان و زیارت ایقان کے لئے تھا نہ عدم ایقان کے سبب، اور معلم متعلم سے ابجد شروع کرانے کے وقت کہتا ہے کہ ہاں پڑھ، پس اس سے تکلیف مالا یطاق لازم نہیں آتی اور آپ کا عذر فرمایا تو اس وجہ سے ہے کہ آپ کو اس جملے کے معنے متعین نہ ہوئے ہوں کہ مجھ سے کیا پڑھوانا چاہتے ہیں اور یہ امر کوئی خلاف شان نہیں ہے یا باوجود تعیین مراد کے اس سبب سے ہے کہ قرات کا استعمال اکثر لکھی ہوئی چیز کو پڑھنے کے معنے میں آتا ہے تو آپ نے بوجہ صرف شناس نہ ہونے کے یہ عذر فرمایا ہو اور حضرت جبرئیلؑ کا دبانا بظن غالب واللہ اعلم بحقیقۃ الحال اس لئے ہو گا کہ آپ کے اندر بار وحی کے تحمل کی استعداد پیدا کر دیں اور لفظ رب سے اشارہ اس طرف ہے کہ ہم آپ کی مکمل تربیت کریں گے اور نبوت کے درجات اعلیٰ پر پہنچا دیں گے آگے رب کی صفت ہے یعنی وہ ایسا رب ہے) جس نے (مخلوقات کو) پیدا کیا (اس وصف کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ حق تعالیٰ کی نعمتوں میں اول ظہور اس نعمت کا ہوتا ہے تو تذکیر میں اس کا مقدم ہونا مناسب ہے اور نیز خلق دلیل ہے خالق پر اور سب سے اہم اور اقدم معرفت خالق ہے آگے بطور تخصیص بعد تعمیم کے ارشاد ہے کہ) جس نے (سب مخلوقات میں سے بالخصوص) انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا (اس تخصیص بعد تعمیم میں اشارہ ہی کہ نعمت خلق میں بھی عام مخلوقات سے زیادہ انسان پر انعام ہے کہ اس کو کس درجہ تک ترقی دی کہ صورت کیسی بنائی، عقل و علم سے مشرف بنایا، پس انسان کو زیادہ شکر اور ذکر کرنا چاہئے اور تخصیص علق کی شاید اس لئے ہے کہ یہ ایک برزخی حالت ہے کہ اس کے قبل نطفہ اور غذا و عنصر ہے اور اس کے بعد مضغہ اور ترکیب عظام و نفخ روح ہی پس گویا وہ جمعی احوال متقدمہ و متاخرہ کے درمیان ہے آگے قرأت کو مقصود اہم قرار دینے کے لئے ارشاد ہے کہ آپ قرآن پڑھا کیجئے (حاصل یہ کہ پہلے امر یعنی اقراباسم ربک سے یہ شبہ نہ کیا جاوے کہ یہاں اصل مقصود ذکر اسم اللہ ہے بلکہ قرات خود بھی فی نفسہا مقصود ہے کیونکہ تبلیغ کا ذریعہ یہی قرات ہے اور تبلیغ ہی اصل کام صاحب وحی کا ہے پس اس تکرار میں آپ کی نبوت اور مامور بالتبلیغ ہونے کا اظہار بھی ہو گیا) اور (آگے اس عذر کو رفع کر دینے کی طرف اشارہ ہے جو آپ نے اول جبرئیلؑ سے پیش کیا تھا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس کے لئے ارشاد فرمایا کہ) آپ کا رب بڑا کریم ہے (جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور وہ ایسا ہے) جس نے (لکھے پڑھوں کو نہشتہ) قلم سے تعلیم دی (اور عموماً و مطلقاً) انسان کو (دوسرے ذرائع سے) ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا (مطلب یہ کہ اول تو تعلیم کچھ کتابت میں منحصر نہیں کیونکہ دوسرے طریقوں سے بھی تعلیم کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، ثانیاً اسباب مؤثر بالذات نہیں، مسبب حقیقی اور علم دینے والے ہم ہیں، پس گو آپ لکھنا نہیں جانتے مگر ہم نے جب آپ کو قرات کا امر کیا ہے تو ہم دوسرے ذریعہ سے آپ کو قرات اور حفظ علوم وحی پر قدرت دے دیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا، پس ان آیات میں آپ کی نبوت اور اس کے مقدمات و متمات کا پورا بیان ہو گیا اور چونکہ صاحب نبوت کی مخالفت غایت درجہ کا گناہ اور شنیع امر ہے اس لئے آئندہ آیات میں جن کا نزول آیات اولیٰ سے ایک مدت کے بعد ہوا ہے آپ کے ایک خاص مخالف یعنی ابو جہل کی مذمت عام الفاظ سے ہے جس میں دوسرے مخالفین بھی شامل ہو آویں، جس کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک بار ابو جہل نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھا کہنے لگا کہ میں آپ کو اس سے بار ہا منع کر چکا ہوں، آپ نے اس کو جھڑک دیا تو کہنے لگا کہ مکہ میں سب سے بڑا مجمع میرے ساتھ ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر اب کی بار نماز پڑھتے دیکھوں گا تو نعوذ باللہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا چنانچہ ایک بار اس قصد سے چلا مگر قریب جا کر رک گیا اور پیچھے ہٹنے لگا، لوگوں نے وجہ پوچھی کہنے لگا مجھ کو ایک خندق آگ کی حائل معلوم ہوئی اور اس میں پر دار چیزیں نظر آئیں آپ نے فرمایا وہ فرشتے تھے اگر اور آگ کی حائل معلوم ہوئی اور اس میں پر دار چیزیں نظر آئیں آپ نے فرمایا وہ فرشتے تھے اگر اور آگے آتا تو فرشتے اس کو بوٹی بوٹی کر کے نوچ ڈالتے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کذا فی الدر المنثور عبن الصحاح وغیرہا من کتب الحدیث ارشاد ہے کہ) سچ مچ بیشک (کافر) آدمی حد (آدمیت) سے نکل جاتا ہے اس وجہ سے کہ اپنے آپ کو (ابنائے جنس سے) مستغنی دیکھتا ہے (کقولہ تعالیٰ ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا الخ حالانکہ اس استغناء پر سرکشی حماقت ہے کیونکہ کسی کو گو مخلوق سے من وجہ استغنا ہو بھی جاوے لیکن حق تعالیٰ سے استغفاء تو کسی حال میں نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ آخر میں) اے مخاطب (عام) تیرے رب ہی کی طرف سب کا لوٹنا ہو گا (اور اس وقت بھی مثل حالت حیات کے اس کی قدرت کے احاطہ میں گھرا ہو گا اور اس حالت میں جو اس کو طغیان کی سزا ہو گی اس سے بھی کہیں نہ بھاگ سکے گا پس ایسا عاجز ایسے قادر سے کب مستغنی ہو سکتا ہے تو اپنے کو مستغنی سمجھنا اور اس کی بنا پر سرکشی کرنا بڑی بیوقوفی ہے، آگے بصورت استفہام تعجب ہے اس کی سرکشی پر یعنی) اے مخاطب (عام) بھلا اس شخص کا حال تو بتلا جو (۲ مارے) ایک (خاص) بندے کو منع کرتا ہے جب وہ (بندہ) نماز پڑھتا ہے (مطلب یہ کہ اس شخص کا حال دیکھ کر تو بتلا کہ اس سے زادہ عجیب بات بھی کوئی ہے حاصل یہ کہ نمازی کو نماز سے روکنا نہایت ہی بری اور عجیب بات ہے، آگے اسی تعجب کی تاکید و تقویت کے لئے مکرر فرماتے ہیں کہ) اے مخاطب (عام) بھلا یہ تو بتلا کہ اگر وہ بندہ (جس کو نماز سے روکا گیا ہے) ہدایت پر ہو (کہ جو کمال لازمی ہے) وہ (دوسروں کو بھی) تقویٰ کی تعلیم دیتا ہو (جو کمال متعدی یعنی دوسروں کی نفع رسانی ہے اور شاید کلمہ تردید لانے سے اشارہ اس طرف ہو کہ اگر ان میں سے ایک صفت بھی ہوتی تب بھی منع کرنے والے کی مذمت کے لئے کافی تھی چہ جائیکہ دونوں ہوں اور) اے مخاطب (عام) بھلا یہ تو بتلا کہ اگر وہ شخص (منع کرنے والا دین حق کو) جھٹلاتا ہو اور (دین حق سے) رو گردانی کرتا ہو (یعنی نہ عقیدہ رکھتا ہو اور نہ عمل، یعنی اول تو یہ دیکھو کہ نماز سے منع کرنا کتنا برا ہی پھر بالخصوص یہ دیکھو کہ جب منع کرنے والا ایک گمراہ اور جس کو منع کر رہا ہے وہ ہدایت کا اعلیٰ نمونہ ہے تو یہ کتنی عجیب بات ہے۔ آگے اس منع کرنے پر اس کو وعید ہے یعنی) کیا اس شخص کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ (اس کی سرکشی اور اس سے پیدا ہونے والے اعمال کو) دیکھ رہا ہے (اور اس پر سزا دے گا، آگے اس پر زجر ہے یعنی اس کو) ہرگز (ایسا) نہیں (کرنا چاہئے اور) اگر یہ شخص (اپنی اس حرکت سے) باز نہ آوے گا تو ہم (اس کو) پٹھے پکڑ کر جو کہ دروغ اور خطا میں آلودہ پٹھے ہیں (جہنم کی طرف) گھسیٹیں گے (ناصیہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جن کو اردو میں پٹھے بولتے ہیں اس کی صفت میں کا ذبہ خاطہ مجازاً فرمایا اور اس کو جو اپنے مجمع پر گھمنڈ ہے اور ہمارے پیغمبر کو دھمکاتا ہے) سو یہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے (اگر اس نے ایسا کیا تو) ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے (چونکہ اس نے نہیں بلایا اس لئے اللہ نے ان فرشتوں کو بھی نہیں بلایا کما روی الطبری عن قتادہ مرسلا قال النبیﷺ لوفعل ابو جہلم لاخذتہ الملئکتۃ الزبانیہ عیانا آگے پھر زیارت زجر کے لئے اس کو تنبیہ ہے کہ اس کو) ہرگز (ایسا نہیں (کرنا چاہئے مگر) آپ (اس نالائق کی ان حرکتوں کی کچھ پرواہ کیجئے اور) اس کا کہنا نہ مانیئے (جیسا اب تک بھی نہیں مانا) اور (بدستور) نماز پڑھتے رہئے اور (خدا کا) قرب حاصل کرتے رہئے (اس میں ایک لطیف وعدہ ہے کہ حق تعالیٰ آپ کو ان لوگوں کے ضرر سے محفوظ رکھے گا کیونکہ نماز سے قرب ہوتا ہے اور قرب موجب عظمت ہے الحکمۃ خاصہ پس ایسے امور کی طرف ذرا التفات نہ کیجئے اپنے کام میں لگے رہئے۔)

 

معارف و مسائل

 

وحی نبوت کی ابتداء اور سب سے پہلے وحی:

صحیحین اور دوسری معتبر روایات سے ثابت اور جمہور سلف و خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ وحی کی ابتدا سورة علق یعنی اقراء سے ہوتی ہے اور اس سورة کی ابتدائی پانچ آتیں مالم یعلم تک سب سے پہلے نازل ہوئیں۔ بعض حضرات نے سورة مدثر کو سب سے پہلی سورت قرار دیا ہے اور بعض نے سورة فاتحہ کو۔ امام بغوی نے فرمایا کہ جمہور سلف و خلف کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ سب سے پہلے سورة اقراء کی پانچ آیتیں نازل ہوئیں (کذا روی فرمایا کہ جمہور سلف و خلف کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ سب سے پہلے سورة اقراء کی پانچ آیتیں نازل ہوئیں (کذا روی عن ابن عباس و الزہری و عمرو بن دینار، در منشور) اور جن حضرات نے سورة مدثر کو پہلی سورت فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اقراء کی پانچ آیتیں نازل ہونے کے بعد نزول قرآن میں ایک مدت تک توقف رہا جس کو زمانہ فترت کا کہا جاتا ہے اور وحی کی تاخیر و توقف سے رسول اللہﷺ کو سخت رنج و غم پیش آیا اس کے بعد اچانک پھر حضرت جبرئیل امین سامنے آئے اور سورة مدثر کی آیتیں نازل ہوئیں اس وقت بھی آنحضرتﷺ پر نزول وحی اور ملاقات جبرئیل سے وہ ہی کیفیت طاری ہوئی جو سورة اقراء کے نزول کے وقت پیش آئی تھی جس کا بیان آگے آ رہا ہے جس طرح فترت کے بعد سب سے پہلے سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اس لحاظ سے اس کو بھی پہلی سورت کہہ سکتے ہیں اور سورة فاتحہ کو جن حضرات نے پہلی سورت فرمایا ہے اس کی بھی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ مکمل سورت سب سے پہلے سورة فاتحہ ہی نازل ہوئی اس سے پہلے چند سورتوں کی متفرق آیات ہی کا نزول ہوا تھا (مظہری) صحیحین کی ایک طویل حدیث میں نبوت اور وحی کی ابتدا کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا کہ سب سے پہلے رسول اللہﷺ پر سلسلہ وحی رویائے صالحہ یعنی سچے خوابوں سے شروع ہوا جس کی کیفیت یہ تھی کہ جو کچھ آپ خواب میں دیکھتے بالکل اس کے مطابق واقعہ پیش آتا اور اس میں کسی تعبیر کی بھی ضرورت نہ تھی، صبح کی روشنی کی طرح واضح طور پر خواب میں دیکھا ہوا واقعہ سامنے آ جاتا تھا۔

اس کے بعد رسول اللہﷺ کو مخلوق سے یکسوئی اور خلوت میں عبادت کرنے کا داعیہ قوی پیش آیا جس کے لئے آپ نے غار حرا کو منتخب فرمایا (یہ غار مکہ مکرمہ کے قبرستان جنۃ المعلیٰ سے کچھ آگے ایک پہاڑ پر ہے جس کو جبل النور کہا جاتا ہے اس کی چوٹی دور سے نظر آتی ہے) حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ اس غار میں جا کر راتوں کو رہتے اور عبادت کرتے تھے جب تک اہل و عیال کی خبر گیری کی ضرورت پیش نہ آتی وہیں مقیم رہتے تھے اور اس وقت کے لئے آپ ضروری توشہ لے جاتے تھے اور پھر توشہ ختم ہونے کے بعد حضرت خدیجہ ام المومنین کے پاس تشریف لاتے اور مزید کچھ دنوں کے لئے توشہ لے جاتے یہاں تک کہ آپ اسی غار حرا میں تھے کہا اچانک آپ کے پاس حق یعنی وحی پہنچی۔ (غار حراء میں خلوت گزینی کی مدت میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحیحین کی روایت ہے کہ آپ نے ایک ماہ یعنی پورے ماہ رمضان اس میں قیام فرمایا۔ ابن اسحٰق نے سیرت میں اور زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ اس سے زیادہ مدت کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے اور یہ عبادت جو آپ غار حراء میں نزول وحی سے پہلے کرتے تھے اس وقت نماز وغیرہ کی تعلیم تو ہوئی نہ تھی، بعض حضرات نے فرمایا کہ نوح اور ابراہیم اور عیسیٰ (علیہم السلام) کی شرائع کے مطابق عبادت کرتے تھے مگر نہ کسی روایت سے اس کا ثبوت ہے اور نہ آپ کے امی ہونے کی وجہ سے یہ احتمال صحیح ہے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ اس وقت آپ کی عبادت محض مخلوق سے انقطاع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ خاص اور تفکر کی تھی (مظہری)

حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ وحی آنے کی صورت میں ہوئی کہ فرشتہ یعنی جبرئیل امین آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہا اقراء یعنی پڑھئے، آپ نے فرمایا ما انا بقاری یعنی میں پڑھنے والا نہیں ہوں (کیونکہ آپ امی تھے، اور جبرئیل امین کے قول اقراء کی مراد آپ پر اس وقت واضح نہ تھی کہ کیا اور کس طرح پڑھوانا چاہتے ہیں کیا کوئی لکھی ہوئی تحریر دیں گے جس کو پڑھنا ہو گا اس لئے اپنے امی ہونے کا عذر کر دیا) حضرت صدیقہ کی روایت میں ہی کہ آپ نے فرمایا کہ میرے اس جواب پر جبرئیل امین نے مجھے آغوش میں لے کر اتنا دبایا کہ مجھے اس کی تکلیف محسوس ہونے لگی اس کے بعد مجھے چھوڑ دیا اور پھر وہی بات کہی اقراء میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں تو پھر جبرئیل امین نے دوبارہ آغوش میں لے کر اتنا دبایا کہ مجھے اس کی تکلیف محسوس ہونے لگی پھر چھوڑ دیا اور تیسری مرتبہ پھر کہا اقراء میں نے پھر وہی جواب دیا مانا بقاری تو تیسری مرتبہ پھر آغوش میں دبایا پھر چھوڑ کر کہا، اقراء باسم اربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقراو ربک الاکرم، الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم

قرآن کی یہ (سب سے پہلی پانچ) آیتیں لے کر آپ گھر واپس تشریف لائے آپ کا دل کانپ رہا تھا حضرت خدیجہ کے پاس آ کر فرمایا زملونی زملونی مجھے ڈھانپو مجھے ڈھانپو (حضرت خدیجہ نے آپ پر کپڑے ڈالے) یہاں تک کہ یہ ہیبت کی کیفیت رفع ہوئی (یہ ہیبت اور کپکپی جبرئیلؑ کے خوف سے نہیں تھی کیونکہ آپ کی شان اس سے بہت بلند وبالا ہے بلکہ اس وحی کے ذریعہ جو نبوت و رسالت کی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی اس کا بار گراں محسوس فرمانے اور ایک فرشتہ کو اس کی اصلی ہئیت میں دیکھنے سے طبعی طور پر یہ ہیبت کی کیفیت پیدا ہوئی)

حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ افاقہ کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت خدیجہ کو غار حرا کا پورا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ اس سے مجھ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہو گیا۔ حضرت خدیجہ ام المومنین نے عرض کیا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ناکام نہ ہونے دیں گے کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ بوجھ میں دبے ہوئے لوگوں کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔ بیروزگار آدمی کو کسب پر لگا دیتے ہیں مہمانوں کی مہمانداری کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی امداد کرتے ہیں (حضرت خدیجہ لکھی پڑھی اتون تھیں ان کو شاید کتب سابقہ توریت و انجیل سے یا اس کے علماء سے یہ بات معلوم ہوئی ہو گی کہ جس شخص کے اخلاق و عادات ایسے کریمانہ ہوں وہ محروم و ناکام نہیں ہوا کرتا اس لئے اس طریقے سے رسولﷺ کو تسلی دی)

اس کے بعد حضرت خدیجہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ ابن نوفل کے پاس لے گئیں یہ زمانہ جاہلیت ہی میں بت پرستی سے تائب ہو کر نصراین ہو گئے تھے (کیونکہ اس وقت کا دین حق یہی تھا) ورقہ ابن نوفل (لکھے پڑھے آدمی تھے عبرانی زبان بھی جانتے تھے اور عربی تو ان کی مادری زبان تھی) وہ عبرانی زبان میں بھی لکھتے تھے اور انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور اس وقت وہ بہت بوڑھے تھے، بڑھاپے کی وجہ سے بینائی جاتی رہی تھی، حضرت خدیجہ نے ان سے کہا کہ میرے چچا زاد بھائی ذرا اپنے بھتیجے کی بات تو سنو۔ ورقہ ابن نوفل نے آنحضرتﷺ سے حال دریافت کیا تو آپ نے غار حرا میں جو کچھ دیکھا تھا بیان کر دیا۔ ورقہ بن نوفل نے سنتے ہی کہا کہ یہ وہ ہی ناموس یعنی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ پر اتارا تھا کا سش میں آپ کی نبوت کے زمانے میں قوی ہوتا، اور کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جبکہ آپ کی قوم آپ کو (وطن سے) نکالے گی۔ رسول اللہﷺ نے (تعجب سے پوچھا) کیا میری قوم مجھے نکال دے گی، ورقہ نے کہا کہ بلا شبہ نکالے گی کیونکہ جب بھی کوئی آدمی وہ پیغام حق اور دین حق لے کر آتا ہے جو آپ لائے ہیں تو اس کی قوم نے اس کو ستایا ہے اور اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا مگر ورقہ اس کے چند ہی روز کے بعد انتقال کر گئے اور اس واقعہ کے بعد وحی قرآن کا سلسلہ رک گیا (بخاری و مسلم) فترت وحی کی مدت کے متعلق سہیلی کی روایت ہے کہ ڈھائی سال تک رہی اور بعض روایات میں تین سال کی مدت بیان کی گئی ہے (مظہری)

اقرا باسم ربک الذی خلق، باسم ربک میں لفظ اسم بڑھانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن جب بھی پڑھیں اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحم پڑھ کر شروع کریں جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے، دوسرا اشارہ اس میں اس عذر کے جواب کا ہے جو آپ نے پیش کیا تھا کہ میں قاری نہیں، باسم ربک کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا کہ اگرچہ آپ اپنی موجودہ حالت کے اعتبار سے امی ہیں لکھے پڑھے نہیں، مگر آپ کے رب کو سب قدرت ہے وہ امی شخص کو اعلیٰ علوم اور خطابت کا سلیقہ اور فصاحت و بلاغت کا وہ درجہ دے سکتا ہے کہ جس کے سامنے بڑے بڑے لکھے پڑھے عاجز ہو جائیں جیسا کہ بعد میں اس کا ظہور (مظہری) اور اس جگہ اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے لفظ رب کو خصوصیت سے اختیار کرنے میں اس مضمون کی مزید تائید و تاکید ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کا پروردگار ہے ہر طرح کی تربیت کرتا ہے وہ امی ہونے کے باوجود آپ سے پڑھوا بھی سکتا ہے الذی خلق صفات الٰہیہ میں سے اس جگہ صفت تخلیق کو خصوصیت سے ذکر کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ مخلوقات پر جیسے انعامات و احسانات حق تعالیٰ کے ہیں ان میں سب سے پہلا انعام اس کو وجود عطا کرنا ہغے جو تخلیق ربانی کے ذریعہ عطا ہوتا ہے، اور اس جگہ خلق کا مفعول یعنی جس چیز کو پیدا کیا وہ ذکر نہیں کی گئی اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ ساری ہی کائنات اس کی مخلوق ہیں۔

۰۹۶: ۰۰۲

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ۝۲

 

ترجمہ:

بنایا آدمی کو جمے ہوئے لہو سے

 

تفسیر:

خلق الانسان من علق، الذی خلق میں پوری کائنات کی تخلیق کا بیان ہا تھا خلق الانسان میں اشرف المخلوقات انسان کی تخلیق کا ذکر فرمایا کہ غور سے دیکھو تو پوری کائنات و مخلوقات کا خلاصہ سان ہے جہاں وہ جو کچھ ہے اس کی نظائر انسان کے وجود میں مجود ہیں اس لئے انسان کو عالم اصغر کہا جاتا ہے اور انسان کی تخصیص بالذکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبوت و رسالت اور قرآن کے نازل کرنے کا مقصد احکام الٰہیہ کی تنقید و تعمیل ہے وہ انسان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ علق کے معنے منجمد خون کے ہیں انسان کی تخلیق پر مختلف دور گزرے اور گزرتے ہیں اس کی ابتداء مٹی اور عناصر سے ہے پھر نطفہ سے اس کے بعد علقہ یعنی منجمد خون بنتا ہے پھر مضغہ گوشت پھر ہڈیاں وغیرہ پیدا کی جاتی ہیں علقہ ان تمام ادوار تخلیق میں ایک درمیانہ حالت ہے اس کو اختیار کر کے اس کے اول و آخر کی طرف اشارہ ہو گیا۔

 

۰۹۶: ۰۰۳

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ۝۳

 

ترجمہ:

پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے

 

تفسیر:

اقرا و ربک الاکرم یہاں لفظ اقرا کو مکرر لایا گیا ہے جس کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے اور یہ بھی کا جا سکتا ہے کہ پہلا اقرا تو خود آپ کے پڑھنے کے لئے فرمایا تھا، یہ دوسرا تبلیغ و دعوت اور لوگوں کو کہ تخلیق عالم اور تخلیق انسان میں اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی غرض اور نفع نہیں بلکہ یہ سب بتقاضائے جو دو کرم ہے کہ بے مانگ کائنات کو جود کی نعمت عظمیٰ عطا فرمائی۔

۰۹۶: ۰۰۴

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ۝۴

 

ترجمہ:

جس نے علم سکھایا قلم سے

 

تفسیر:

الذی علم بالقلم تخلیق انسانی کے بعد اس کی تعلیم کا بیان ہے کیونکہ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بناتی ہے پھر تعلیم کی عام صورتیں دو ہیں ایک زبانی تعلیم دوسرے بذریعہ قلم تحریر و خط سے ابتدائے سورت میں لفظ اقراء میں اگرچہ زبانی تعلیم ہی کی ابتدا ہے مگر اس آیت میں جہاں تعلیم دینے کا بیان آیا ہے اس میں قلمی تعلیم کو مقدم کر کے بیان فرمایا ہے۔

 

تعلیم کا سب سے پہلا اور اہم ذریعہ قلم اور کتابت ہے:

ایک صحیح حدیث حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا لما خلق اللہ الخلق کتب فی کتابہ فھو عندہ فوق العرش، ان رحمتی غلبت غضبی، یعنی اللہ تعالیٰ نے ازل میں جب مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں جو عرش پر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یہ کلمہ لکھا کہ ’’میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔‘‘

اور حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اول ماخلق اللہ القلم فقال لھم اکتب فکتب مایکون الی یوم القیمة فھو عندہ فی الذکر فوق عرشہ، یعنی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ لکھے، اس نے تمام چیزیں جو قیامت تک ہونے والی تھیں لکھ دیں، یہ کتاب اللہ تعالیٰ کے پاس عرش پر ہے (قرطبی)

 

قلم کی تین قسمیں:

علماء نے فرمایا ہے کہ عالم میں قلم تین ہیں۔ ایک سب سے سے پہلا قلم جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور تقدیر کائنات لکھنے کا اس کو حکم دیا، دوسرے فرشتوں کے قلم جس سے وہ تمام ہونے والے واقعات اور ان کی مقادیر کو نیز انسانوں کے اعمال کو لکھتے ہیں۔ تیسرے عام انسانوں کے قلم جن سے وہ اپنے کلام لکھتے اور اپنے مقاصد میں کام لیتے ہیں اور کتابت در حقیقت بیان کی ایک قسم ہے اور بیان انسان کی مخصوص صفت ہے (قرطبی) امام تفسیر مجاہد نے ابو عمرو سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات میں چار چیزیں اپنے دست قدرت سے خود بنائیں اور ان کے سوا باقی مخلوقات کے لئے حکم دین کن یعنی ہو جاوہ موجود ہو گئیں۔ یہ چار چیزیں یہ ہیں۔ قلم، عرش، جنت عدن، آدمؑ

 

علم کتابت سب سے پہلے دنیا میں کس کو دیا گیا:

بعض حضرات نے فرمایا کہ سب سے پہلے یہ فن کتابت ابو البشر حضرت آدم کو سکھایا گیا تھا اور سب سے پہلے انہوں نے لکھنا شروع کیا (کعب احبار) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سب سے پہلے یہ فن حضرت ادریسؑ کو ملا ہے اور سب سے پہلے کاتب دنیا میں وہی ہیں (ضحاک) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر شخص جو کتابت کرتا ہے وہ تعلیم منجانب اللہ ہی ہے۔

 

خط و کتابت اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے:

حضرت قتادہ نے فرمایا کہ قلم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر یہ تو ہوتا تو نہ کوئی دین قائم رہتا نہ دنیا کے کاروبار درست ہوتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ان چیزوں کا علم دنا جن کو وہ نہیں جانتے تھے اور ان کو جہل کی اندھیری سے نور علم کی طرف نکالا اور علم کتابت کی ترغیب دی کیونکہ اس میں بیشمار اور بڑے منافع ہیں جن کا اللہ کے سوا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ تمام علوم و حکم کی تدوین اور اولین و آخرین کی تاریخ اس کے حالات و مقامات اور اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابیں سب قلم ہی کے ذریعہ لکھی گئیں اور رہتی دنیا تک باقی رہیں گی، اگر قلم نہ ہو تو دنیا و دین کے سارے ہی کام مختل ہو جائیں۔

 

علمائے سلف و خلف نے ہمیشہ خط و کتابت کا بہت اہتمام کیا ہے:

علمائے سلف و خلف نے ہمیشہ تعلیم خط و کتابت کا بڑا اہتمام کیا ہے جس پر ان کی تصانیف کے عظیم الشان ذخائر آج تک شاید ہیں۔ افسوس ہے کہ ہمارے اس دور میں علماء و طلباء نے اس اہم ضرورت کو ایسا نظر انداز کیا ہے کہ سینکڑوں میں دوچار آدمی مشکل سے تحریر کتابت کے جاننے والے نکلتے ہیں فی اللہ المشت کے۔

 

رسول اللہﷺ کو کتابت کی تعلیم نہ دینے کا راز:

حق تعالیٰ جل شانہ، نے خاتم الانبیاءﷺ کی شان کو لوگوں کے فکر و قیاس سے بالاتر بنانے کے لئے آپ کی جائے پیدائش سے لے کر آپ کے ذاتی حالات تک سب ایسے بنائے تھے کہ جن میں کوئی انسان اپنی ذاتی کوشش و محنت سے کوئی کمال حاصل نہیں کر سکتا۔ جائے پیدائش کے لئے عرب کا صحرا تجویز ہوا جو متمدن دنیا اور علم و حکمت کے گہواروں سے بالکل کٹا ہوا تھا اور راستے اور مواصلات اتنے دشوار گزار تھے کہ شام و عراق اور مصر وغیرہ کے متمدن شہروں سے یہاں کے لوگوں کا کوئی جوڑ نہ تھا، اسی لئے عرب سب کے سب ہی امیین کہلاتے ہیں، ایسے ملک اور ایسے قبائل میں آپ پیدا ہوئے اور پھر حق تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ عرب کے لوگوں میں جو خال خال کوئی علم و حکمت اور خط و کتابت سیکھ لیتا تھا، آپ کو اس کے سیکھنے کا بھی موقع نہ دیا گیا، ان حالات میں پیدا ہونے والے انسان سے علم و حکمت اور اخلاق فاضلہ اس کے سیکھنے کا بھی موقع نہ دیا گیا، ان حالات سے پیدا ہونے والے انسان سے علم و حکمت اور اخلاق فاضلہ عالیہ کا کس کو تصور ہو سکتا ہے۔ اچانک حق تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا اور علم و حکمت کا غیر منقطع سلسلہ آپ کی زبان مبارک پر جاری فرما دیا، فصاحت و بلاغت میں عرب کے بڑے بڑے شعراء و بلغار آپ کے سامنے عاجز ہو گئے یہ ایک ایسا کھلا ہوا معجزہ تھا کہ ہر آنکھوں والا اس کو دیکھ کر یہ یقین کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ کے کمالات انسانی سعی و عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے غیبی عطیات ہیں، خط و کتابت کی تعلیم نہ دینے میں بھی یہی حکمت تھی۔ (ماخوذ از قرطبی)

علم الانسان مالم یعلم، اس سے پہلی آیت میں تعلیم کے ایک خاص ذریعہ کا ذکر تھا جو عام طور پر تعلیم کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی قلمی تعلیم۔

 

ذریعہ علم صرف قلم نہیں بلکہ بیشمار ذرائع ہیں:

اس آیت میں اس کا ذکر ہے کہ اصل تعلیم دینے والا اللہ تعالیٰ سبحانہ ہے اور اس کے لئے ذرائع تعلیم بیشمار ہیں، کچھ قلم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ علم دیا جس سے وہ پہلے ناواقف تھا، اس میں قلم یا کسی دوسرے ذریعہ تعلیم کا ذکر نہ فرمانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ کی یہ تعلیم انسان کی ابتداء آفرینش سے جاری ہے کہ اول اس میں عقل پیدا کی جو سب سے بڑا ذریعہ لم ہے، انسان اپنی عقل سے خود بغیر کسی تعلیم کے بہت سی چیزیں سمجھتا ہے پھر اس کے پس و پیش میں اپنی قدرت کاملہ کے ایسے مناظر اور دلائل رکھ دیئے جن کا مشاہدہ کر کے وہ اپنی عقل سے اپنے پیدا کرنے والے کو پہچان سکے۔ پھر وحی اور الہام کے ذریعہ بہت سی چیزوں کا علم انسان کو عطا فرمایا اور بہت سی ضروری چیزوں کا علم انسان کے ذہن میں خود بخود پیدا فرما دیا جس میں کسی زبان یا قلم کی تعلیم کا دخل نہیں، ایک بے شعور بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے ساتھ ہی اپنی غذا کے مرکز یعنی ماں کی چھاتیوں کو پہچان لیتا ہے پھر چھاتی سے دودھ اتارنے کے لئے منھ کو دبانا (اس کو کس نے سکھایا اور کون سکھا سکتا تھا، پھر اس کو ایک ہنر رونے کا اللہ تعالیٰ نے اول ولادت ہی سے سکھا دیا، بچے کا یہ رونا اس کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے اس کو روتا ہوا دیکھ کر ماں باپ اس فکر میں پڑ جاتے ہیں کہ اس کو کیا تکلیف ہے۔ اس کی بھوک پیاس، سردی، گرمی کی سب ضروریات اسی رو دینے سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ یہ رونے کی تعلیم اس نومولود کو کون کر سکتا تھا اور کس طرح کرتا۔ یہ سب وہبی علم ہے جو اللہ تعالیٰ ہر جاندار کے خصوصاً انسان کے ذہن میں پیدا فرما دیتا ہے۔ اس ضروری علم کے بعد پھر زبانی تعلیم پھر قلبی تعلیم کے ذریعہ اس کے علوم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور مالم یعلم یعنی جس کو وہ نہیں جانتا تھا اس کے کہنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ عادتاً تعلیم تو اسی چیز کی ہوتی ہے جس کو انسان نہیں چاہتا اس کے فرمانے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اس خدا داد علم و ہنر کو انسان اپنا ذاتی کمال نہ سمجھ بیٹھے، مالم یعلم سے اشارہ فرما دیا کہ انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے جب وہ کچھ نہیں جانتا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ہے اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیا یعنی اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے بطن سے ایسی حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، معلوم ہوا کہا نسان کو بھی جو بھی علم و ہنر ملا ہے وہ اس کا ذاتی نہیں بلکہ سب خالق و مالک کا عطیہ ہے۔ (مظہری) اور بعض حضرات مفسرین نے اس آیت میں انسان سے حضرت آدم یا نبی کریمﷺ کو مراد قرار دیا ہے کیونکہ آدمؑ سب سے پہلے انسان ہیں جن کو تعلیم دی گی وعلم ادم الاسمآء کلھا اور نبی کریمﷺ وہ آخری پیغمبر ہیں جن کی تعلیم میں تمام انبیاء سابقین کے علوم اور لوح و قلم کے علوم شامل ہیں کما قال ومن علومک علم اللوح والقلم

یہاں تک سورة اقراء کی پانچ آیتیں سب سے پہلے نازل ہوئیں، اس کے بعد کی آیتیں کافی عرصہ کے بعد نازل ہوئی ہیں کیونکہ باقی آیتیں آخر سورت تک ابو جہل کے ایک واقعہ کے متعلق ہیں اور ابتداء وحی و نبوت میں تو مکہ میں کوئی بھی آپ کا مخالف نہ تھا سب آپ کو امین کے لقب سے پکارتے تھے اور محبت و تعظیم کرتے تھے، ابو جہل کی مخالفت اور دشمنی خصوصاً نماز پڑھنے سے روکنے کا واقعہ جو آگے آنے والی آیات میں مذکور ہے ظاہر ہے کہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہﷺ نے نبوت و دعوت کا اعلان فرمایا اور شب معراج میں آپ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔

 

۰۹۶: ۰۰۵

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ۝۵

 

ترجمہ:

سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا

 

۰۹۶: ۰۰۶

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤیۙ۝۶

 

ترجمہ:

کوئی نہیں آدمی سر چڑھتا ہے

 

تفسیر:

کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، اس آیت کا روئے سخن اگرچہ ایک خاص شخص یعنی ابو جہل کی طرف ہے جس نے رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی مگر عنوان عام رکھا ہے جس میں عام انسانوں کی ایک کمزوری بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ انسان جب تک دوسروں کا محتاج رہتا ہے تو سیدھا چلتا ہے اور جب اس کو یہ گمان ہو جائے کہ میں کسی کا محتاج نہیں سب سے بے نیاز ہوں تو اس کے نفس میں طغیان یعنی سرکشی وغیرہ اور دوسروں پر ظلم و جور کے رجحانات پیدا ہو جاتے ہیں، جیسا کہ عموماً مالداروں اور اقتدار حکومت والوں اور اولاد و احباب یا خدام کی کثرت رکھنے والوں میں اس کا بکثرت مشاہدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمول اور جماعت جتھے کی طاقت میں مست ہو کر کسی کو نظر میں نہیں لاتے، چونکہ ابو جہل کا بھی یہی حال تھا کہ مکہ مکرمہ کے خوشحال لوگوں میں سے تھا اور اس کے قبیلے بلکہ پورے شہر کے لوگ اس کی تعظیم و تکریم کرتے اور بات مانتے تھے وہ بھی اسی پندار میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ سید الانبیاء اور اشرف الخلائق کی شان میں گستاخی کر بیٹھا۔ اگلی آیت میں ایسے سرکشوں کے برے انجام پر تنبیہ ہے۔

 

۰۹۶: ۰۰۷

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰیؕ۝۷

 

ترجمہ:

اس سے کہ دیکھے اپنے آپ کو بے پروا

 

۰۹۶: ۰۰۸

اِنَّ اِلٰی رَبِّكَ الرُّجْعٰیؕ۝۸

 

ترجمہ:

بیشک تیرے رب کی طرف پھر جانا ہے

 

تفسیر:

ان الی ربک الرجعی، رجعی مثل بشریٰ کے اسم مصدر ہے۔ معنے یہ ہیں کہ سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اس کے ظاہر معنے تو یہی ہیں کہ مرنے کے بعد سب کو اللہ کے پاس جانا اور اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہی اس وقت اس طغیانی اور سرکشی کے انجام بد کو آنکھوں سے دیکھ لے گا  اور یہ بھی بعید نہیں کہ اس جملے میں مغرور انسان کے غرور کا علاج بتلایا گیا ہو کہ اے احمق تو اپنے آپ کو سب سے بے نیاز خود مختار سمجھتا ہے اگر غور کرے گا تو اپنی ہر حالت بلکہ ہر حرکت و سکون میں تو اپنے آپ کو رب تعالیٰ کا محتاج پائے گا، اگر اس نے تجھے کسی انسان کا محتاج بظاہر نہیں بنایا تو کم از کم اس کو تو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا تو ہر چیز میں محتاج ہے اور انسانوں کی محتاجی سے بے نیاز سمجھنا بھی صرف ظاہری مغالطہ ہی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدنی الطبع بنایا ہے وہ اکیلا اپنی ضروریات میں سے کسی ایک ضرورت کو بھی پورا نہیں کر سکتا، اپنے ایک لقمہ کو دیکھے تو پتہ چلے گا کہ ہزاروں انسانوں اور جانوروں کی محنت شاقہ اور مدت دراز تک کام میں لگے رہنے کا نتیجہ یہ لقمہ تر ہے جو بے فکری کے ساتھ نگل رہا ہے اور اتنے ہزاروں انسانوں کو اپنی خدمت میں لگا لینا کسی کے بس کی بات نہیں، یہی حال اس کے لباس اور تمام دوسری ضروریات کا ہے کہ ان کے مہیا کرنے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں اور جانوروں کی محنت کا دخل ہے جو تیرے غلام نہیں اگر تو ان سب کو تنخواہیں دے کر بھی چاہتا کہ اپنے اس کام کو پورا کرے تو ہرگز تیرے بس میں نہ آتا، ان باتوں میں غور و فکر انسان پر یہ راز کھولتا ہے کہ اس کی تمام ضروریات کے مہیا کرنے کا نظام خود اس کا بنایا ہوا نہیں بلکہ خالق کائنات نے اپنی حکمت بالغہ سے بنایا اور چلایا ہے کسی دل میں ڈال دیا کہ زمین میں کشات کا کام کرے، کسی کے دل میں یہ پیدا کر دیا کہ وہ لکڑی اور نجاری کا کام کرے، کسی کے دل میں لوہار کے کام کی رغبت ڈال دی، کسی کو محنت مزدوری کرنے ہی میں راضی کر دیا، کسی کو تجارت و صنعت کی طرف راغب کر کے انسانی ضروریات کے بازار لگا دیئے۔ نہ کوئی حکومت اس کا نظم قانون سے کر سکتی تھی نہ کوئی فرد۔ اس لئے اس غور فو کر کا لازمی نتیجہ الی ربک الرجع ہے یعنی انجام کار سب چیزوں کا حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے تابع ہونا مشاہدہ میں آ جاتا ہے۔

 

۰۹۶: ۰۰۹

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰیۙ۝۹

 

ترجمہ:

تو نے دیکھا اس کو جو منع کرتا ہے

 

تفسیر:

ارءیت الذی ینھی عبدا اذا صلی، اس آیت سے آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابو جہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اللہ آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے کے لئے یہ آیات آئی ہیں ان میں فرمایا الم یعلم بان اللہ یریٰ یعنی کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کو دیکھ رہا ہے اس لئے عام اور شامل ہے کہ نماز پڑھنے والی بزرگ ہستی کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس سے روکنے والے بد بخت کو بھی اور یہاں صرف اس جملہ پر اکتفا کیا گیا کہ ہم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، آگے دیکھنے کے بعد کیا حشر ہو گا اس کے ذکر نہ کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہولناک انجام قابل تصور نہیں۔

 

۰۹۶: ۰۱۰

عَبْدًا اِذَا صَلّٰیؕ۝۱۰

 

ترجمہ:

ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھے

 

۰۹۶: ۰۱۱

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَی الْهُدٰۤیۙ۝۱۱

 

ترجمہ:

بھلا دیکھ تو اگر ہوتا نیک راہ پر

 

۰۹۶: ۰۱۲

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰیؕ۝۱۲

 

ترجمہ:

یا سکھاتا ڈر کے کام

 

۰۹۶: ۰۱۳

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰیؕ۝۱۳

 

ترجمہ:

بھلا دیکھ تو اگر جھٹلایا اور منہ موڑا

 

۰۹۶: ۰۱۴

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰیؕ۝۱۴

 

ترجمہ:

یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھتا ہے

 

۰۹۶: ۰۱۵

كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ۝۱۵

 

ترجمہ:

کوئی نہیں اگر باز نہ آئے گا ہم گھسیٹیں گے چوٹی پکڑ کر

 

تفسیر:

لنسفعا بالناصیۃ سفع مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے سختی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں اور ناصیتہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتے ہیں جس شخص کے پیشانی کے بال کسی کے ہاتھ میں آ جائیں وہ اس کے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہو کر رہ جاتا ہے۔

 

۰۹۶: ۰۱۶

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ۝۱۶

 

ترجمہ:

کیسی چوٹی جھوٹی گنہگار

 

۰۹۶: ۰۱۷

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ۝۱۷

 

ترجمہ:

اب بلا لیوے اپنی مجلس والوں کو

 

۰۹۶: ۰۱۸

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ۝۱۸

 

ترجمہ:

ہم بھی بلاتے ہیں پیادے سیاست کرنے کو

 

۰۹۶: ۰۱۹

كَلَّا ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩۝۱۹

 

ترجمہ:

کوئی نہیں مت مان اس کا کہا اور سجدہ کر اور نزدیک ہو۔

 

تفسیر:

کلا لا تطعہ و اسجد و اقترب یہ نبی کریمﷺ کو ہدایت ہے کہ ابو جہل کی بات پر کان نہ دھریں اور سجدہ اور نماز میں مشغول رہیں کہ یہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا راستہ ہے۔

 

سجدے کی حالت میں قبولیت دعا:

ابو داؤد میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اقرب مایکون العبد من ربہ وہوساجد فاکتروا الدعاء، یعنی بندہ اپنے رب سے قریب تر اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدہ میں ہو اس لئے سجدہ میں بہت دعا کیا کرو اور ایک دوسری صحیح حدیث میں یہ لفظ بھی آئے ہیں فانہ قمن ان یستجاب لکم، یعنی سجدے کی حالت میں دعا قبول ہونے کے لائق ہے۔

 

مسئلہ:

نفل نمازوں کے سجدہ میں دعا کرنا ثابت ہے، بعض روایات حدیث میں اس دعا کے خاص الفاظ بھی آئے ہیں وہ الفاظ ماثورہ پڑھے جائیں تو بہتر ہے۔ فرائض میں اس طرح کی دعائیں ثابت نہیں، کیونکہ فرائض میں اختصار مطلوب ہے۔

 

مسئلہ:

اس آیت کو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہے۔ صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابو ہریرہ رسول اللہﷺ سے اس آیت پر سجدہ تلاوت کرنا ثابت ہے۔ واللہ اعلم

٭٭٭

 

 

۹۷۔ سورۃ القدر

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة قدر مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی پانچ آیتیں ہیں

 

۰۹۷: ۰۰۱

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ۝۱

 

ترجمہ:

ہم نے اس کو اتارا شب قدر میں

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے (تحقیق شب قدر میں نازل ہونے کی سورة دخان میں گزری ہے) اور زیادت تشویف کے لئے فرماتے ہیں کہ۔) آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے (آگے جواب ہے کہ) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے، کذا فی الخازن اور وہ رات ایسی ہے کہ) اس رات میں فرشتے اور روح القدس (یعنی جبرائیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں (اور وہ شب) سراپا سلام ہے (جیسا حدیث بیہقی میں حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے کہ شب قدر میں حضرت جبرئیلؑ فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس شخص کو قیام و قعود و ذکر میں مشغول دیکھتے ہیں تو اس پر صلوة بھیجتے ہیں یعنی اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور خازن نے ابن الجوزی سے اس روایت میں یسلمون بھی بڑھایا ہے یعنی سلامتی کی دعا کرتے ہی اور یصلون کا خلاصہ بھی یہی ہے کیونکہ رحمت و سلامتی میں تلازم ہے اسی کو قرآن میں سلام فرمایا ہے اور امر خیر سے مراد یہی ہے اور نیز روایات میں اس میں توبہ کا قبول ہونا ابو اب سماء کا مفتوح ہونا اور ہر مومن پر ملائکہ کا سلام کرنا آیا ہے۔ کذا فی الدر المنثور اور ان امور کا بواسطہ ملائکہ کے ہونا اور موجب سلامت ہونا ظاہر ہے یا امر سے مراد وہ امور ہوں جن کا عنوان سورة دخان میں امر حکیم اور اس شب میں ان کا طے ہونا ذکر فرمایا ہے اور) وہ شب قدر (اسی صفت و برکت کے ساتھ) طلوع فجر تک رہتی ہے (یہ نہیں کہ اس شب کے کسی حصہ خاص میں یہ برکت ہو اور کسی میں نہ ہو)

 

معارف و مسائل

شان نزول: ۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک مجاہد کا حال ذکر کیا جو ایک ہزار مہینے تک مسلسل مشغول جہاد رہا، کبھی ہتھیار نہیں اتارے۔ مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب ہوا، اس پر سورة قدر نازل ہوئی جس میں اس امت کے لئے صرف ایک رات کی عبادت کو اس مجاہد کی عمر بھر کی عبادت یعنی ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دیا ہے اور ابن جریر نے بروایت مجاہد ایک دوسرا واقعہ یہ ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد کا یہ حال تھا کہ ساری رات عبادت میں مشغول رہتا اور صبح ہوتے ہی جہاد کے لئے نکل کھڑا ہوتا دن بھر جہاد میں مشغول رہتا، ایک ہزار مہینے اس نے اسی مسلسل عبادت میں گزار دیئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة قدر نازل فرما کر اس امت کی فضیلت سب پر ثابت فرما دی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر امت محمدیہ کی خصوصیات میں سے ہے۔ (مظہری)

ابن کثیر نے یہی قول امام مالک کا نقل کیا ہے اور بعض ائمہ شافعیہ نے اس کو جمہور کا قول لکھا ہے۔ خطابی نے اس پر اجتماع کا دعویٰ کیا ہے مگر بعض محدثین نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ (ماخوذ از ابن کثیر)

 

لیلۃ القدر کے معنے:

قدر کے ایک معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ زہری وغیرہ حضرات علماء نے اس جگہ یہی معنی لئے ہیں اور اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ سے اس رات کی عظمت و شرف ہے۔ اور ابو بکر وراق نے فرمایا کہ اس رات کو لیلۃ القدر اس وجہ سے کہا گیا کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب کوئی قدر و قیمت نہ تھی اس رات میں توبہ و استغفار اور عبادت کے ذریعہ وہ صاحب قدر و شرف بن جاتا ہے۔

قدر کے دوسرے معنی تقدیر و حکم کے بھی آتے ہیں، اس معنے کے اعتبار سے لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یہ ہو گی کہ اس رات میں تمام مخلوقات کے لئے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال میں رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالہ کر دیا جاتا ہے جو کائنات کی تدبیر اور تنقید امور کے لئے مامور ہیں، اس میں ہر انسان کی عمر اور موت اور رزق اور بارش وغیرہ کی مقداریں مقررہ فرشتوں کو لکھوا دی جاتی ہیں یہاں تک کہ جس شخص کو اس سال میں حج نصیب ہو گا وہ بھی لکھدیا جاتا ہے اور یہ فرشتے جن کو یہ امور سپرد کئے جاتے ہیں۔ بقول ابن عباس چار ہیں۔ اسرافیل، میکائیل، عزرائیل، جبرئیل (علیہم السلام) (قرطبی)

سورة دخان کی آیت انا انزلنہ فی لیلة مبرکة انا کنا منذرین، فیھا یفرق کل امر حکیم، امرا من عندنا میں یہ مضمون خود صراحت کے ساتھ آ گیا ہے کہ اس لیلۃ مبارکہ میں تمام امور تقدیر کے فیصلے لکھے جاتے ہیں اور اس آیت کی تفسیر میں گزر گیا ہے کہ جمہور مفسرین کے نزدیک لیلۃ مبارکہ سے مراد بھی لیلۃ القدر ہی ہے اور بعض حضرات نے جو لیلہ مبارکہ سے نصف شعبان کی رات یعنی لیلۃ البرأت مراد لی ہے تو وہ اس کی تطبیق اس طرح کرتے ہیں کہ ابتدائی فیصلے امور تقدیر کے اجمالی طور پر شب برأت میں ہو جاتے ہیں پھر ان کی تفصیلات لیلۃ القدر میں لکھی جاتی ہیں اس کی تائید حضرت ابن عباس کے ایک قول سے ہوتی ہے جس کو بغوری نے بروایت ابو الضحی نقل کیا ہے اس میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سال بھر کے تقدیری امور کا فیصلہ تو شب برائت یعنی نصف شعبان کی رات میں کر لیتے ہیں پھر شب قدر میں یہ فیصلے متعلقہ فرشتوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں (مظہری) اور یہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ امور تقدیر کے فیصلے اس رات میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سال میں جو امور تقدیر نافذ ہونا ہیں وہ لوح محفوظ سے نقل کر کے فرشتوں کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں اور اصل نوشتہ تقدیر پر ازل میں لکھا جا چکا ہے۔

 

لیلة القدر کی تعیین:

اتنی بات تو قرآن کریم کی تصریحات سے ثابت ہے کہ شب قدر ماہ رمضان المبارک میں آتی ہے مگر تاریخ کے تعین میں علماء کے مختلف اقوال ہیں جو چالیس تک پہنچتے ہیں مگر تفسیر مظہری میں ہے کہ ان سب اقوال میں تاریخ کے تعین میں علماء کے مختلف اقوال ہیں جو چالیس تک پہنچتے ہیں مگر تفسیر مظہری میں ہے کہ ان سب اقوال میں صحیح یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان مبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے مگر آخری عشرہ کی کوئی خاص تاریخ متعین نہیں بلکہ ان میں سے کسی بھی رات میں ہو سکتی ہے وہ ہر رمضان میں بدلتی بھی رہتی ہے اور ان دس میں سے خاص طاق راتیں یعنی ۲۹, ۲۷, ۲۵, ۲۳, ۲۱ میں از روئے احادیث صحیحہ زیادہ احتمال ہے۔ اس قول میں تمام احادیث جو تعیین شب قدر کے متعلق آئی ہیں جمع ہو جاتی ہیں جن میں ۲۹, ۲۷, ۲۵, ۲۳, ۲۱ راتوں میں شب قدر ہونے کا ذکر آیا ہے۔ اگر شب قدر کو ان راتوں میں دائر اور ہر رمضان میں منتقل ہونے والا قرار دیا جائے تو یہ سب روایات حدیث اپنی اپنی جگہ درست اور ثابت ہو جاتی ہیں کسی میں تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، اسی لئے اکثر ائمہ فقہاء نے اس کو عشرہ اخیرہ میں منتقل ہونے والی رات قرار دیا ہے۔ ابو قلابہ، امام مالک، احمد بن حنبل، سفیان ثوری، اسحاق بن راہویہ ابو ثور، مزنی، ابن خزیمہ وغیرہ سب نے یہی فرمایا ہے اور ایک روایت میں امام شافعی سے بھی اس کے مواقف منقول ہے اور دوسری روایت امام شافعی کی یہ ہے کہ یہ رات منتقل ہونے والی نہیں بلکہ معین ہے۔ (ابن کثیر)

صحیح بخاری میں حضرت صدیقہ عائشہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تحرو الیلة القدر فی العشر الاواخر من رمضان، یعنی شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا فاطلبوھا فی الوتر منھا، یعنی شب قدر کو رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں طلب کرو۔ (مظہری)

 

لیلۃ القدر کے بعض فضائل اور اس رات کی مخصوص دعا:

اس رات کی سب سے بڑی فضیلت تو وہی ہے جو اس سورت میں بیان ہوئی ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں یعنی تراسی ۸۳ سال سے زائد کی عبادت سے بھی بہتر ہے پھر بہتر ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں، کتنی بہتر ہے کہ دوگنی چوگنی دس گنی سو گنی وغیرہ سبھی احتمالات ہیں۔

اور صیحیین میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شب قدر میں عبادت کے لئے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو گئے اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ شب قدر میں وہ تمام فرشتے جن کا مقام سدرة المنتہیٰ پر ہے جبرئیل امین کے ساتھ دنیا میں اترتے ہیں اور کوئی مومن مرد یا عورت ایسی نہیں جس کو وہ سلام نہ کرتے ہوں بجز اس آدمی کے جو شراب پیتا یا خنزیر کا گوشت کھاتا ہو۔

اور ایک حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ بالکل ہی محروم بد نصیب ہے۔ شب قدر میں بعض حضرات کو خاص انوار کا مشاہدہ بھی ہوتا ہے مگر نہ یہ سب کو اصل ہوتا ہے نہ رات کی برکات اور ثواب حاصل ہونے میں ایسے مشاہدات کا کچھ دخل ہے اس لئے اس کی فکر میں نہ پڑنا چاہئے۔

حضرت صدیقہ عائشہ نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ اگر میں شب قدر کو پاؤں تو کیا دعاء کروں آپ نے فرمایا کہ یہ دعا کرو اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا اللہ آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور معافی کو پسند کرتے ہیں۔ میری خطائیں معاف فرمایئے۔ (قرطبی)

انا انزلنہ فی لیلة القدر اس آیت میں تصریح ہے کہ قرآن کریم شب قدر میں نازل ہوا، اس کا یہ مفوم بھی ہو سکتا ہے۔ پورا قرآن لوح محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا پھر جبرئیل امین اس کو تدریجاً تئیس سال کے عرصہ میں حسب ہدایت تھوڑا تھوڑا لاتے رہے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ابتدائے نزول قرآن اس رات میں چند آیتوں سے ہو گیا باقی بعد میں نازل ہوتا رہا۔

 

تمام آسمانی کتابیں رمضان ہی میں نازل ہوئی ہیں:

حضرت ابو ذر غفاری نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ صحف ابراہیمؑ تیسری تاریخ رمضان میں اور تو رات چھٹی تاریخ میں اور انجیل تیرہویں تاریخ میں اور زبور اٹھارویں تاریخ رمضان میں نازل ہوئی ہیں اور قرآن نبی کریمﷺ پر چوبیس تاریخ رمضان میں اترا ہے۔ (مظہری)

 

۰۹۷: ۰۰۲

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ۝۲

 

ترجمہ:

اور تو نے کیا سمجھا کہ کیا ہے شب قدر

 

۰۹۷: ۰۰۳

لَیْلَةُ الْقَدْرِ ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ۝۳

 

ترجمہ:

شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے

 

۰۹۷: ۰۰۴

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ۝۴

 

ترجمہ:

اترتے ہیں فرشتے اور وحی اس میں اپنے رب کے حکم سے

 

تفسیر:

تنزل الملکة والروح روح سے مراد جبرئیل امین ہیں۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل امین فرشتوں کی بڑی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور جتنے اللہ کے بندے مرد و عورت نماز یا ذکر اللہ میں مشغول ہوتے ہیں سب کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ (مظہری)

من کل امر میں حرف من بمعنے با رہے جیسے یحفظونہ من امر اللہ الایۃ میں بھی من و بمعنے باء استعمال ہوا ہے۔ معنے یہ ہیں کہ فرشتے لیلۃ القدر میں تمام سال کے اندر پیش آنے والے تقدیری واقعات لے کر زمین پر اترتے ہیں۔ اور بعض حضرات مفسرین مجاہد وغیرہ نے من کل امر کو سلام کے ساتھ متعلق کر کے یہ معنے قرار دیئے ہیں کہ یہر ات سلامتی ہے ہر شر و آفت اور بری چیز سے۔ (ابن کثیر)

 

۰۹۷: ۰۰۵

سَلٰمٌ ۛ۫ هِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠۝۵

 

ترجمہ:

ہر کام پر امان ہے وہ رات صبح کے نکلنے تک۔

 

تفسیر:

سلم، عبارت کی اصل سلم ہے۔ لفظ ہی حذف کر دیا گیا، معنے یہ ہیں کہ یہ رات سلام اور سلامتی ہی ہے اور خیر ہی خیر ہے اس میں شرکا نام نہیں (قرطبی) اور بعض حضرات نے تقدیر عبارت سلام ہو قرار دے کر اس کو من کل امر کی صفت بنایا اور معنی یہ ہوئے کہ یہ فرشتے ہر ایسا امر لے کر آتے ہیں جو خیر وسلام ہے۔ (مظہری)

ھی حتی مطلع الفجر، یعنی لیلۃ القدر کی یہ برکات رات کے کسی خاص حصہ کی ساتھ مخصوص نہیں، شروع رات سے طلوع فجر تک ایک ہی حکم ہے۔

 

فائدہ:

ان آیات میں لیلۃ القدر کو ایک ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان ایک ہزار مہینوں کے اندر بھی ہر سال ایک شب قدر آئے گی تو حساب کس طرح بنے گا۔ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہاں ایک ہزار مہینوں سے وہ مراد ہیں جن میں شب قدر شامل نہ ہو اس لئے کوئی اشکال نہیں (کذا ذکرہ ابن کثیر عن مجاہد)

اختلاف مطالع کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں شب قدر مختلف دنوں میں ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں، کیونکہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شب قدر قرار پائے گی اس جگہ اسی رات میں شب قدر کے برکات حاصل ہوں گے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

 

مسئلہ:

جس شخص نے شب قدر میں عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے پڑھ لی اس نے بھی اس رات کا ثواب پا لیا اور جو شخص جتنا زیادہ کرے گا زیادہ ثواب پائی گی صحیح مسلم میں حضرت عثمان غنی کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کر لی تو آدھی رات کے قیام کا ثواب پا لیا اور جس نے صبح کی نماز بھی جماعت سے ادا کر لی تو پوری رات جاگنے عبادت کرنے کا ثواب حاصل کر لیا۔

٭٭٭

 

 

 

٩۶۔ سورۃ البینۃ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة بینہ مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی آٹھ آیتیں ہیں

 

۰۹۸: ۰۰۱

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ۝۱

 

ترجمہ:

نہ تھے وہ لوگ جو منکر ہیں اہل کتاب اور مشرک باز آنے والے یہاں تک کہ پہنچے ان کے پاس کھلی بات

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے (قبل بعثت نبویہ) کافر تھے وہ (اپنے کفر سے ہرگز) با آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی (یعنی) ایک اللہ کا رسول جو (ان کو) پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جن میں درست مضامین لکھے ہوں (مراد قرآن ہے مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون کسی عظیم رسول کے ان کی راہ پر آنے کی کوئی توقع نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی حجت تمام کرنے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا) اور (ان کو چاہئے تھا کہ اس کو غنیمت سمجھتے اور اس پر ایمان لے آتے مگر) جو لوگ اہل کتاب تھے (اور غیر اہل کتاب تو بدرجہ اولیٰ) وہ اس واضح دلیل کے آنے ہی کے بعد (دین میں) مختلف ہو گئے (یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمی اختلاف جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولیٰ اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی علم سماوی نہ تھا) حالانکہ ان لوگوں کو (کتب میں) یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی اس طرح عبادت کریں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں یکسو ہو کر (ادیان باطلہ کی طرح کسی کو اللہ کا شریک نہ بنا دیں) اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوة دیا کریں اور یہی طریقہ ہے ان درست مضامین (مذکورہ) کا بتلایا ہوا۔ حاصل تقریر کا یہ ہوا کہ ان اہل کتاب کو ان کی کتابوں میں یہ حکم ہوا تھا کہ قرآن اور رسول کریمﷺ پر ایمان لائیں اور یہی تعلیم تھی قرآن کی جس کو اوپر کتب قیمہ سے تعبیر فرمایا ہے اس لئے اس قرآن کے نہ مانے سے خود اپنی کتب کی مخالفت بھی لازم آتی ہے۔ یہ تو الزام اہل کتاب کو ہوا اور مشرکین اگرچہ پہلی کتب کو نہیں مانتے مگر ابراہیمؑ کے طریقے کا حق ہونا یہ بھی تسلیم کرتے تھے اور یہ بات یقینی طور پر ثابت ہے کہ ابراہیمؑ شرک سے بالکل برے تھے اور کتب قیمہ یعنی قرآن کا اس طریقے کے ساتھ موافق ہونا بھی ظاہر ہے اس لئے ان پر بھی حجت تمام ہو گئی اور مراد ان متفرقین و مخالفین سے بعض وہ کفار ہیں جو ایمان نہ لائے تھے اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جن لوگوں نے تفرق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں، آگے بیان عمل کے بعد تصریحاً کفار کی دونوں قسموں یعنی اہل کتاب و مشرکین کی اور مؤمنین کی سا و جزاء کا مضمون ارشاد فرماتے ہیں یعنی) بیشک جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کافر ہوئے وہ آتش دوزخ میں جاویں گے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) یہ لوگ بدترین خلائق ہیں (اور) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے وہ لوگ بہترین خلائق ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے نزدیک ہمیشہ رہنے کی بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) اور اللہ تعالیٰ ان سے خوش رہے گا اور وہ اللہ سے خوش رہیں گے (یعنی نہ ان سے کوئی معصیت ہو گی اور نہ ان کو کوئی امر مکروہ پیش آوے گا جس سے احتمال عدم رضا کا جانبین سے ہو اور) یہ (جنت اور رضا) اس شخص کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے (اور اللہ سے ڈرنے ہی پر ایمان و عمل صالح مرتب ہوتا ہے جس کو دخول جنت و حصول رضا کا مدار فرمایا ہے۔)

 

معارف و مسائل

پہلی آیت میں رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے دنیا میں کفر و شرک اور جہالت کے انتہائی عموم اور غلبہ کو ذکر کر کے فرمایا گیا ہے کہ کفر و شرک کی ایسی عالمگیر ظلمت کو دور کرنے کے لئے رب العالمین کی حکمت و رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ جیسے ان کا مرض شدید اور وباء عالمگیر ہے اس کے علاج کے لئے بھی کوئی سب سے بڑا ماہر حاذق معالج بھیجنا چاہے اس کے بغیر وہ اس مرض سے نجات نہ پا سکیں گے۔ آگے اس حاذق و ماہر حکیم کی صفت بیان کی کہ اس کا وجود ایک بینہ یعنی حجت واضحہ ہو شرک و کفر کے ابطال کے لئے آگے فرمایا کہ مراد اس معالج سے اللہ کا وہ رسول اعظم ہے جو قرآن کی حجت واضحہ لے کر ان کے پاس آوے۔ اس مجموعہ میں بعثت نبوی سے پہلے زمانے کے فساد عظیم اور ہر طرف جہالت و ظلمت ہونا بھی معلوم ہوا اور رسول اللہﷺ کی عظمت شان کا بھی بیان ہوا۔ آگے قرآن کی چند اہم صفات کا بیان فرمایا۔

 

۰۹۸: ۰۰۲

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ۝۲

 

ترجمہ:

اس رسول اللہ کا پڑھتا ہوا ورق پاک

 

تفسیر:

یتلوا صحفا مطھرة، فیھا کتب قیمة یتلو، تلاوت سے مشتق ہے جس کے معنے پڑھنے کے ہیں، مگر ہر پڑھنے کو تلاوت نہیں کہا جاتا بلکہ وہ پڑھنا جو پڑھانے والے کی تلقین کے بالکل مطابق ہو اس کو تلاوت کہتے ہیں اسی لئے عرف میں عموماً لفظ تلاوت صرف قرآن پڑھنے کے لئے بولا جاتا ہے۔ صحف صحیفہ کی جمع ہے جن کاغذات میں کوئی مضمون تحریر ہو ان کو صحیفہ کہتے ہیں۔ کتب، کتاب کی جمع ہے اس کے ایک معنی تو لکھی ہوئی چیز کے ہیں اس اعتبار سے کتاب اور صحیفہ تقریباً ہم معنی لفظ ہیں اور کبھی لفظ کتاب بمعنے حکم بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن کی آیت لو لا کتب من اللہ سبق میں لفظ کتاب بمعنے حکم ہی مستععمل ہوا ہے۔ اس جگہ بھی یہی دوسرے معنے مراد ہیں کیونکہ معروف معنی میں لیں تو کتب عین صحف ہیں۔ فیہا کہنے کے کوئی معنے نہیں رہتے۔

مطہرة یہ صحف کی صفت ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ صحیفے جھوٹ اور شک اور نفاق اور گمراہی سے پاک ہیں۔ قیمة بمعنے مستقیمہ کتب کی صفت ہے معنے یہ ہیں کہ یہ احکام مستقیم منصفانہ و معتدل ہیں اور اس کے معنے مضبوط و مستحکم کے بھی ہو سکتے ہیں تو مطلب یہ ہو گا کہا حکام الٰہیہ جو قرآن میں آئے قیامت تک قائم دائم رہیں گے۔

مطلب آیت کا یہ ہو گیا کہ اس زمانے کے مشرکین اور اہل کتاب کی گمراہی اس درجے میں پہنچی ہوئی تھی کہ ان کو اپنے عقائد باطلہ سے ہٹنا ممکن نہ تھا جب تک کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کھلی نشانی اور حجت واضحہ نہ آ جائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے واسطے اپنے رسولﷺ کو حجت واضحہ بنا کر بھیجا جس کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سناتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ وحی خداوندی کے وہ احکام سناتے تھے جو بعد میں صحیفوں کے ذریعہ محفوظ کئے گئے کیونکہ ابتدا تلاوت میں رسول اللہﷺ کسی صحیفے سے نہیں بلکہ اپنی یاد سے پڑھ کر سناتے تھے اور یہ پاک صحیفے ایسے ہیں جن میں ایسے احکام الٰٓہیہ ہیں جو عدل و اعتدال کے ساتھ دیئے گئے ہیں اور ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں۔

 

۰۹۸: ۰۰۳

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ۝۳

 

ترجمہ:

اس میں لکھی ہیں کتابیں مضبوط

 

۰۹۸: ۰۰۴

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ۝۴

 

ترجمہ:

اور وہ جو پھوٹ پڑی اہل کتاب میں سو جبکہ آ چکی ان کے پاس کھلی بات

 

تفسیر:

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الامن بعد ماجآءتہم البینة تفرق سے مراد اس جگہ انکار و اختلاف ہے۔ قرآن اور نبی کریمﷺ کی نبوت سے جس پر تمام اہل کتاب آنحضرتﷺ کی ولادت اور بعثت سے پہلے متفق تھے کیونکہ ان کی آسمانی کتب تورات و انجیل میں رسولﷺ کی رسالت و نبوت کا اور آپ کی خاص خاص صفات اور آپ پر قرآن نازل ہونے کا واضح ذکر موجود تھا اس لئے کسی یہودی نصرانی کو اس میں اختلاف نہیں تھا کہ آخر زمانے میں محمد رسول اللہﷺ تشریف لاویں گے۔ آپ پر قرآن نازل ہو گا آپ ہی کا اتابع سب پر لازم ہو گا، جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ان کے اس اتفاق کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ وکانوا من قبل یستفخون علی الذین کفروا یعنی یہ اہل کتاب رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے آنے کے منتظر تھے اور جب کبھی مشرکین سے ان کا مقابلہ ہوتا تو آنے والے نبی کے واسطے سے اپنی فتح مانگتے تھے یعنی اللہ سے دعا کرتے تھے کہ نبی آخر الزماں جو آنے والے ہیں ان کی برکت سے ہمیں فتح نصیب فرما دے یا یہ کہ یہ مشرکین سے ہوا کرتے تھے تم لوگ ہمارے خلاف زور آزمائی کرتے ہو مگر عنقریب ایک ایسے رسول آنے والے ہیں جو تم سب کو زیر کر دیں گے اور ہم چونکہ ان کے ساتھ ہوں گے تو ہماری فتح ہو گی۔

خلاصہ یہ کہ رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے تو اہل کتاب سب کے سب آپ کی نبوت و رسالت پر متفق تھے مگر جب آپ تشریف لے آئے تو منکر ہو گئے۔ اسی مضمون کو قرآن میں ایک جگہ فرمایا فلما جآءھم ماعرفوا کفروابہ، یعنی جب ان لوگوں کے پاس وہ رسول یا دنی حق یا قرآن آ گیا جس کو انہوں نے بھی اپنی آسمانی کتابوں کی پیش گوئی کے مطابق پہچان لیا تو لگے کفر کرنے اور آیت مذکورہ میں اس مضمون کو اس طرح ذکر فرمایا کہ وما تفرق الذین اوتوا الکتب الایۃ، یعنی یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے آنے اور دیکھنے سے پہلے تو ان لوگوں کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں تھا سب آپ کی نبوت کے اعتقاد پر جمع تھے مگر جب یہ اللہ کا بینہ واضحہ یعنی رسول آخر الزمان تشریف لے آئے تو ان میں افتراق پیدا ہو گیا کچھ لوگ تو آپ پر ایمان لائے اور بہت سے انکار کرنے لگے۔

یہ معاملہ چونکہ اہل کتاب ہی کے ساتھ مخصوص تھا اس لئے اس آیت میں صرف اہل کتاب ہی کا ذکر فرمایا ہے مشرکین کو شامل نہیں کیا بلکہ فرمایا وما تفرق الذین اوتوا الکتب آلایہ، اور پہلا معاملہ مشرکین اور اہل کتاب دونوں کو عام اور شامل تھا اس لئے وہاں فرمایا لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب و المشرکین منفکین

اور خلاصہ تفسیر مذکور میں معاملہ ثانیہ کو بھی مشرکین اور اہل کتاب دونوں میں عام قرار دے کر اس کے مطابق تقریر کی گئی ہے واللہ اعلم

۰۹۸: ۰۰۵

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ۝۵

 

ترجمہ:

اور ان کو حکم یہی ہوا کہ بندگی کریں اللہ کے خالص کر کے اس کے واسطے بندگی ابراہیم کی راہ پر اور قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰة اور یہ ہے راہ مضبوط لوگوں کی

 

تفسیر:

و ذلک دین القیمة یہاں لفظ قیمہ بظاہر کتب کی صفت ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اور بعض نے اس کو ملت کی صفت قرار دیا ہے غ۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اہل کتاب کو ان کی کتابوں میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ اپنی عبادت و اطاعت کو خلاص اللہ کے لئے رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں، پھر فرمایا کہ یہ کچھ ان کی ہی خصوصیت نہیں، ہر ملت قیمہ یا تمام کتب قیمہ جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں ان سب کا دین اور طریقہ یہی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ قیمہ جو کتب کی صفت ہے اس سے مراد بقرینہ سابق احکام قرآنیہ لئے جائیں تو مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ اس شریعت محمدیہ نے بھی جو احکام ان کو دیئے وہ بھی بعینہ وہی تھے جو پہلے ان کی کتابوں نے دیئے تھے ان سے کچھ مختلف احکام ہوتے تو ان کو مخالفت کا کچھ بہانا بھی ہوتا اب وہ بھی نہیں۔

 

۰۹۸: ۰۰۶

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ۝۶

 

ترجمہ:

اور جو منکر ہوئے اہل کتاب اور مشرک ہوں گے دوزخ کی آگ میں سدا رہیں اس میں وہ لوگ ہیں سب خلق سے بدتر

 

تفسیر:

رضی اللہ عنھم ورضواعنہ، ذلک لمن خشی ربہ، اس آیت میں اہل جنت کی سب سے بڑی نعمت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اب ناراضی کا کوئی خطرہ نہیں۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے خطاب کے لئے فرمائیں گے۔ یا اہل الجنہ، تو اہل جنت جواب دیں گے۔ لبیک ربنا وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک یعنی اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور اطاعت حکم کے لے تیار ہیں اور ہر بھلائی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر حق تعالیٰ فرمائیں گے ھل رضیتم یعنی تم لوگ راضی اور خوش ہو وہ جواب دیں گے، اے ہمارے پروردگار، اب بھی راضی نہ ہونے کا کیا احتمال ہے جبکہ آپ نے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما دیا جو کسی مخلوق کو نہیں ملا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا میں تم کو اس سے بھی افضل اور بہتر نعمت دے دوں، پھر فرمائیں گے کہ میں نے اپنی رضا تمہارے اوپر نازل کر دی اب کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا (رواہ البخاری و مسلم۔ مظہری)

اس حدیث میں بھی اہل جنت سے پوچھا گیا کہ آپ راضی بھی ہو، اور اس آیت میں خبر دی گئی کہ رضوا عنہ یعنی اہل جنت بھی اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے، یہاں بظاہر یہ سوال ہوتا ہے کہ اللہ سے اور اس کے ہر حکم اور ہر فعل سے راضی ہونا تو فرائض بندگی اور لازمہ عبدیت ہے اس کے بغیر تو کوئی جنت میں جا ہی نہیں سکتا، پھر یہاں اہل جنت کی رضا مندی ذکر کرنے کا کیا مطلب ہے، جواب یہ ہے کہ رضاء کے عام مفہوم کے اعتبار سے تو یہ صحیح ہے کہ رضاء بالقدر واجبات و فرائض عبدیت میں سے ہے لیکن رضاء کا ایک درجہ اور بھی ہے جو اس سے آگے ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی ہر مراد عطا کر دیں اور کوئی تمنا و آرزو باقی نہ چھوڑیں، اس جگہ رضا سے یہی مراد ہے جیسے سورة ضحیٰ میں رسول اللہﷺ کے لئے آیا ہے لسوف یعطیک ربک فترضی یعنی عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دیں گے وہ چیز جس سے آپ راضی ہو جائیں گے، یہاں بھی مراد غایت تمنا کا پورا کر دینا ہے اسی لئے آیت کے نزول پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پھر تو میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ایک بھی مومن جہنم میں باقی رہے گا۔ (من المظہری)

 

۰۹۸: ۰۰۷

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ۝۷

 

ترجمہ:

وہ لوگ جو یقین لائے اور کئے بھلے کام وہ لوگ ہیں سب خلق سے بہتر

 

۰۹۸: ۰۰۸

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠۝۸

 

ترجمہ:

بدلہ ان کا ان کے رب کے یہاں باغ ہیں ہمیشہ رہنے کو نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں سدا رہیں ان میں ہمیشہ اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ ملتا ہے اس کو جو ڈرا اپنے رب سے۔

 

تفسیر:

ذلک لمن خشی ربہ، آخر سورت میں تمام کمالات دینی اور نعمائے اخروی کا جس پر مدار ہے وہ بتلا دیا یعنی خشیتہ اللہ، خشیت اس خوف کو نہیں کہا جاتا جو کسی دشمن یا درندے یا موذی چیز سے طبعاً ہوتا ہے بلکہ خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی انتہائی عظمت و جلال کی وجہ سے پیدا ہو جس کا مقتضا یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر کام ہر حال میں اس کی رضا جوئی کی فکر کرتا ہے اور ناراضی کے شبہ سے بھی بچتا ہے یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عبد کامل اور مقبول بنانے والی ہے۔

٭٭٭

 

 

۹۹۔ سورۃ الزلزال

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة زلزال مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی آٹھ آیتیں ہیں

 

۰۹۹: ۰۰۱

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ۝۱

 

ترجمہ:

جب ہلا ڈالے زمین کو اس کے بھونچال سے

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

جب زمین اپنی سخت جنبش سے ہلائی جائے گی اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی (مراد بوجھ سے دفینے اور مردے ہیں اور اگرچہ بعض روایات سے پہلے بھی دفینوں کا باہر آ جانا معلوم ہوتا ہے لیکن ممکن ہی کہ قیامت سے پہلے جو دفینے باہر آ گئے تھے مرور ایام سے پھر ان پر مٹی آ گئی ہو اور مستور ہو گئے ہوں اور قیامت کے روز پھر نکلیں اور دفائن کے ظاہر ہو جانے کی شاید یہ حکمت ہو کہ ماں کی بہت محبت کرنے والی اپنی آنکھوں اموال کا بیکار ہونا دیکھ لیں) اور (اس حالت کو دیکھ کر کافر) آدمی کہے گا کہ اس کو کیا ہوا (کہ زمین اس طرح ہل رہی ہے اور سب دفینے باہر آ رہے ہیں) اس روز زمین اپنی سب (اچھی بری) خبریں بیان کرنے لگے گی اس سبب سے کہ آپ کے رب کا اس کو یہی حکم ہو گا (ترمذی وغیرہ میں اس کی تفسیر میں حدیث مرفوع آئی ہے کہ جس شخص نے روئے زمین پر جیسا عمل کیا ہو گا اچھا یا برا زمین سب کہہ دے گی یہ اس کی شہادت ہو گی) اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (موقف حساب سے) واپس ہوں گے (یعنی جو لوگ حساب محشر سے فارغ ہو کر لوٹیں گے تو کچھ جماعتیں جنتی کچھ دوزخی قرار پا کر جنت و دوزخ کی طرف چلی جاویں گی) تاکہ اپنے اعمال (کے ثمرات) کو دیکھ لیں، سو جو شخص (دنیا میں) ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا  اور جو شخص ذرہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا  (بشرطیکہ اس وقت تک وہ خیر و شر باقی رہی ہو، ورنہ اگر کفر کے سبب وہ چیز فنا ہو چکی ہو یا ایمان و توبہ کے ذریعہ بدی معاف ہو چکی ہو تو وہ اس میں داخل نہیں کیونکہ اب نہ وہ باطل شدہ خیر خیر ہے اور نہ وہ معاف کیا ہوا گناہ اور شر شر ہے اس لئے محشر میں وہ سامنے نہ آویں گی۔)

 

معارف و مسائل

اذا زلزلت الارض زلزالھا: ۔ اس میں اختلا ہے کہ اس آیت میں جس زلزلہ کا ذکر ہے یہ وہ زلزلہ ہے جو نفخہ اولیٰ سے پہلے دنیا میں ہو گا جیسا کہ علامات قیامت میں اس زلزلہ کا ذکر آیا ہے یا اس زلزلہ سے مراد نفخہ ثانیہ کے بعد جب مردے زندہ کر زمین سے اٹھیں گے اس وقت کا زلزلہ ہے۔ روایات اور اقوال مفسرین کے مختلف ہیں اور اس میں کوئی بھی بعد نہیں کہ زلزلے متعدد ہوں ایک نفخہ اول سے پہلے، دوسرا نفخہ ثانیہ کے بعد مردوں کے زندہ ہونے کے وقت اور اس جگہ یہی دوسرا زلزلہ مراد ہو اور اس سورت میں جو آگے احوال قیامت حساب کتاب کا ذکر ہے وہ قرینہ اسی کا ہے کہ یہ زلزلہ دوسرا نفخہ ثانیہ کے بعد کا ہے۔ واللہ اعلم (از مظہری)

 

۰۹۹: ۰۰۲

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ۝۲

 

ترجمہ:

اور نکال باہر کرے زمین اپنے اندر سے بوجھ

 

تفسیر:

واخرجت الارض اثقالھا، رسول اللہﷺ نے اس زلزلہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے کی بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لئے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہے گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا، جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لئے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چور جس کا ہاتھ چوری کی سا میں کاٹا گیا تھا اس کو دیکھ کر کہے گا کہ اس کے لئے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کرے گا ۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرة )

 

۰۹۹: ۰۰۳

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ۝۳

 

ترجمہ:

اور کہے آدمی اس کو کیا ہو گیا

 

۰۹۹: ۰۰۴

یَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۝۴

 

ترجمہ:

اس دن کہہ ڈالے گی وہ اپنی باتیں

 

۰۹۹: ۰۰۵

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰی لَهَاؕ۝۵

 

ترجمہ:

اس واسطے کہ تیرے رب نے حکم بھیجا اس کو

 

۰۹۹: ۰۰۶

یَوْمَىِٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ۝۶

 

ترجمہ:

اس دن ہو پڑیں گے لوگ طرح طرح پر کہ ان کو دکھا دیئے جائیں ان کے عمل

 

۰۹۹: ۰۰۷

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ۝۷

 

ترجمہ:

سو جس نے کی ذرہ بھر بھلائی وہ دیکھ لے گا اسے

 

تفسیر:

فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ، آیت میں خیر سے مراد وہ خیر ہے جو شرعاً معتبر ہے، ینی جو ایمان کے ساتھ ہو بغیر ایمان کے اللہ کے نزدیک کوئی نیک عمل نیک نہیں، یعنی آخرت میں ایسے نیک عمل کا جو حالت کفر میں کیا ہے کوئی اعتبار نہیں ہو گا کہ دنیا میں اس کو اس کا بدلہ دے دیا جائے اسی لئے اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس شخص کے دل میں ایک ذرہ برابر ایمان ہو گا وہ بالآخر جہنم سے نکال لیا جاوے گا کیونکہ اس آیت کے وعدہ کے مطابق اس کو اپنی نیکی کا پھل بھی آخرت میں ملنا ضرور ہے اور کوئی بھی نیکی نہ ہو تو خود ایمان بہت بڑی نیکی ہے۔ اس لئے کوئی مومن کتنا ہی گناہگار ہو ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا البتہ کافر نے اگر دنیا میں کچھ نیک عمل بھی کئے تو شرط عمل یعنی ایمان کے نہ ہونے کی وجہ سے کالعدم ہیں اس لئے اخرت میں اس کی کوئی خیر خیر ہی نہیں۔

 

۰۹۹: ۰۰۸

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠۝۸

 

ترجمہ:

اور جس نے کی ذرہ بھر برائی وہ دیکھ لے گا اسے۔

 

تفسیر:

ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ مراد اس سے وہ شر ہے جس سے اپنی زندگی میں توبہ نہ کر لی ہو کیونکہ توبہ سے گناہوں کا معاف ہونا قرآن و سنت میں یقینی طور پر ثابت ہے۔ البتہ جس گناہ سے توبہ نہ کی ہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا آخرت میں اس کا نتیجہ ضرور سامنے آئے گا۔ اسی لئے رسول اللہﷺ نے حضرت صدیقہ عائشہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو ایسے گناہوں سے بچنے کا پورا اہتمام کرو جن کو چھوٹا یا حقیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بھی مواخذہ ہونا ہے (رواہ النسائی و ابن ماجہ عنہا)

حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ مسحتکم اور جامع آیت ہے اور حضرت انس کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس آیت کو الفاذة الجامعہ فرمایا ہے یعنی منفرد یکتا اور جامع

اور حضرت انس اور ابن عباس کی حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے سورة اذا زلزت کو نصف القرآن اور قل ہو اللہ احد کو ثلث القرآن اور قل یا ایھا الکفرون کو ربع القرآن فرمایا ہے (رواہ الترمذی و البغوی، مظہری)

٭٭٭

 

 

۱۰۰۔ سورۃ العادیات

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة عادیات مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی گیارہ آیتیں ہیں

 

۱۰۰: ۰۰۱

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ۝۱

 

ترجمہ:

قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپ کر

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں پھر (پتھر پر) ٹاپ مار کر آگے جھاڑتے ہیں پھر صبح کے وقت تاخت تاراج کرتے ہیں پھر اس وقت غبارا ڑاتے ہیں پھر اس وقت (دشمنوں کی) جماعت میں جا گھستے ہیں (مراد اس سے لڑائی کے گھوڑے ہیں۔ جہاد ہو یا غیر جہاد، عرب چونکہ حرب وضرب اور جنگ کے عادی تھے جس کے لئے گھوڑے پالتے تھے ان کی مناسبت سے ان جنگی گھوڑوں کی قسم کھائی گئی آگے جواب قسم ہے کہ) بیشک (کافر) آدمی اپنے پروردگار کا بڑا ناشکر ہے اور اس کی خود بھی اس کی خبر ہے (کبھی ابتداء ہی اور کبھی کچھ غور کے بعد اپنی ناشکری کا احساس کر لیتا ہے) اور وہ مال کی محبت میں بڑا مظبوط ہے (یہی اس کی ناشکری کا سبب ہے، آگے حط مال اور ناشکری پر وعید ہے یعنی) کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں جب زندہ کئے جاویں گے جتنے مردے قبروں میں ہیں اور طاہر ہو جائے گا جو کچھ دلوں میں ہے بیشک ان کا پروردگار ان کے حال سے اس روز پورا آگاہ ہے (اور مناسب جزا دے گا۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کو اگر اس وقت کی پوری خبر ہوتی اور آخرت کا حال مستحضر ہوتا تو اپنی ناشکری اور حب مال سے باز آ جاتا)

 

معارف و مسائل

سورة عادیت حضرت ابن مسعود اور جابر اور حس بصری، عکرمہ، عطاء رحمہم اللہ کے نزدیک مکی اور ابن عباس، انس، امام مالک، قتاعدہ کے نزدیک مدنی سورت ہے (قرطبی)

اس سورت میں حق تعالیٰ نے جنگی گھوڑوں کے کچھ خاص حالات و صفات کا ذکر فرمایا اور ان کی قسم کھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکر ہے۔ یہ بات تو قرآن میں بار بار معلوم ہو چکی ہے کہ حق تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے مختلف چیزوں کی قسم کھا کر خاص واقعات اور احکام بیان فرماتے ہیں یہ حق تعالیٰ کی خصوصیت ہے، انسان کے لئے کسی مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں ہے اور قسم کھانے کا مقصد عام قسموں کی طرح اپنی بات کو محقق اور یقینی بتلانا ہے اور یہ بات بھی پہلے آ چکی ہے کہ قرآن کریم جس چیز کی قسم کھا کر کوئی مضمون بیان فرماتا ہے تو اس چیز کو اس مضمون کے ثبوت میں دخل ہوتا ہے اور یہ چیز گویا اس مضمون کی شہادت دیتی ہے۔ یہاں جنگی گھوڑوں کی سخت خدمات کا ذکر گویا اس کی شہادت میں لایا گیا ہے کہ انسان بڑا ناشکر ہے۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ گھوڑوں کے اور خصوصاً جنگی گھوڑوں کے حالات پر نظر ڈالئے کہ وہ میدان جنگ میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کیسی کیسی سخت خدمات انسان کے حکم و اشارہ کے تابع انجام دیتے ہیں حالانکہ انسان ان گھوڑوں کو پیدا نہیں کیا، ان کو جو گھاس دانہ انسان دیتا ہے وہ بھی اس کا پیدا کیا ہوا نہیں، اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے رزق کو ان تک پہچانے کا ایک واسطہ بنتا ہے اب گھوڑے کو دیکھئے کہ وہ انسان کے اتنے سے احسان کو کیسا پہچانتا اور مانتا ہے کہ اس کے ادنیٰ اشارہ پر اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے اور سخت سے سخت مشقت برداشت کرتا ہے، اس کے بالمقابل انسان کو دیکھو جس کو ایک حقیر قطرہ سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور اس کو مختلف کاموں کی قوت بخشی، عقل وشعوردیا، ان کے کھانے پینے کی ہر چیز پیدا فرمائی اور اس کی تمام ضروریات کو کس قدر آسان کر کے اس تک پہنچا دیا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے مگر وہ ان تمام اکمل واعلیٰ احسانات کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا اب الفاظ آیت کی تشریح دیکھئے عادیات، عدو سے مشتق ہے جس کے معنی دوڑنے کے ہیں۔ ضبحا، ضبح وہ خاص آواز ہے جو گھوڑے کے دوڑنے کے وقت اس کے سینے سے نکلتی ہے جس کا ترجمہ ہانپتا کیا گیا ہے۔ موریات، ایراء سے مشتق ہے جس کے معنی آگ نکالنے کے ہیں جیسے چقماق کو مار کر یا دیا سلائی کو رگڑ کر نکالی جاتی ہے۔ قدحا، قدح کے معنے ٹاپ مارنے کے ہیں پتھریلی زمین پر جب گھوڑا تیزی سے دوڑے خصوصاً جبکہ اس کے پاؤں میں آہنی نعل بھی ہو ٹکراؤ سے آگ کی چنگاریاں نکلتی ہیں۔ مغیرات، اغارہ سے مشتق ہے جس کے معنے حملہ کرنے اور چھاپہ مارنے کے ہیں۔ صبحا صبح کے وقت کی تخصیص بیان عادت کے طور پر ہے کیونکہ عرب لوگ اظہار شجاعت کے لئے رات کی اندھیری میں چھاپہ مارنا معیوب سمجھتے تھے حملہ صبح ہونے کے بعد کیا کرتے تھے اثرن، اثارت سے دوڑتے ہیں کہ ان کے سموں سے غبار اڑ کر چھا جاتا ہے خصوصاً صبح کے وقت میں غبار اڑنا زیادہ سرعت اور تیزی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ وقت عادتاً غبار اڑنے کا نہیں، کسی سخت دوڑ ہی سے اس وقت غبار اٹھ سکتا ہے۔

 

۱۰۰: ۰۰۲

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ۝۲

 

ترجمہ:

پھر آگ سلگانے والے جھاڑ کر

 

تفسیر:

فوسطن بہ جمعا، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بے خوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔

ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔

 

۱۰۰: ۰۰۳

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ۝۳

 

ترجمہ:

پھر غارت ڈالنے والے صبح کو

 

تفسیر:

۱۰۰: ۰۰۴

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ۝۴

 

ترجمہ:

پھر اٹھانے والے اس میں گرد

 

۱۰۰: ۰۰۵

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ۝۵

 

ترجمہ:

پھر گھس جانے والے اس وقت فوج میں

 

۱۰۰: ۰۰۶

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ۝۶

 

ترجمہ:

بیشک آدمی اپنے رب کا ناشکر ہے

 

۱۰۰: ۰۰۷

وَ اِنَّهٗ عَلٰی ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ۝۷

 

ترجمہ:

اور وہ آدمی اس کام کو سامنے دیکھتا ہے

 

۱۰۰: ۰۰۸

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ۝۸

 

ترجمہ:

اور آدمی محبت پر مال کی بہت پکا ہے

 

تفسیر:

انہ لحب الخیر لشدید، خیر کے لفظی معنی ہر بھلائی کے ہیں۔ عرب میں مال کو بھی لفظ خیر سے تعبیر کرتے تھے، گویا مال بھلائی ہی بھلائی اور فائدہ ہی فائدہ ہے حالانکہ در حقیقت بعض مال انسان کو ہزاروں مصیبتوں میں بھی مبتلا کر دیتے ہیں۔ آخرت میں تو ہر مال حرام کا یہی انجام ہے کبھی کبھی دنیا میں بھی مال انسان کے لئے وبال بن جاتا ہے مگر عرب کے محاورہ کے مطابق اس آیت میں مال کو لفظ خیر سے تعبیر کر دیا ہے جیسا ایک دوسری آیت میں فرمایا ان ترک خیرا، یعنی یہاں بھی خیر سے مراد مال ہے۔

آیت مذکور میں گھوڑوں کی قسم کھا کر انسان کے متعلق دو باتیں کہی گئیں، ایک یہ کہ وہ ناشکر ہے۔ مصیبتوں تکلیفوں کو یاد رکھتا ہے نعمتوں اور احسانات کو بھول جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ مال کی محبت میں شدید ہے۔ یہ دونوں باتیں شرعاً و عقلا مذموم ہیں ان میں انسان کو ان مذموم خصلتوں پر متنبہ کرنا مقصود ہے۔ ناشکری کا مذموم ہانا تو بالکل ظاہر ہے۔ مال کی مخبت کو جو مذموم قرار دیا حالانکہ وہ انسانی ضروریات کا مدار ہے۔ اور اس کے کسب واکتساب کو شریعت نے صرف حلال ہی نہیں بلکہ بقدر ضرورت فرض قرار دیا ہے تو مال کی محبت کا مذموم ہونا یا تو وصف شدت کے اعتبار سے ہے کہ مال کی محبت میں ایسا مغلوب ہو جاوے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے بھی غافل ہو جائے اور حلال و حرام کی پروانہ رہے، اور یا اس لئے کہ مال کا کسب واکتساب اور بقدر ضرورت جمر کنا تو مذموم نہیں بلکہ فرض ہے مگر محبت اس کی بھی مذموم ہے کیونکہ محبت کا تعلق دل سے ہے اس کا حاصل یہ ہو گا کہ مال کو بقدر ضرورت حاص کرنا اور اس سے کام لینا تو ایک فریضہ اور محمود ہے لیکن دل میں اس کی محبت ہونا پھر بھی مذموم ہی ہے۔ جیسا انسان پیشاب پاخانے کی ضرورت کو پورا بھی کرتا ہے اس کا اہتمام بھی کرتا ہے مگر اس کے دل میں محبت نہیں ہوتی۔ بیماری میں دوا بھی پیتا ہے آپریشن بھی کراتا ہے مگر دل میں ان چیزوں کی محبت نہیں ہوتی بلکہ بدرجہ مجبوری کرتا ہے اس طرح اللہ کے نزدیک مومن کو ایسا ہونا چاہئے کہ بقدر ضرورت مال کو حاصل بھی کرے اس کی حفاظت بھی کرے اور مواقع ضرورت میں اس سے کام بھی لے مگر دل اس کے ساتھ مشغول نہ ہو، جیسا کہ مولانا رومی نے بڑے بلیغ انداز میں فرمایا ہے

آب اندر زید کشتی پشتی است

آب درکشتی ہلاک کشتی است

یعنی پانی جب تک کشتی کے نیچے رہے تو کشتی کا مددگار ہے مگر یہی پانی جب کشتی کے اندر آ جائے تو کشتی کو لے ڈوبتا ہے۔ اس طرح مال جب تک دل کی کشتی کے اردگرد رہے تو مفید ہے جب دل کے اندر گھس گیا تو ہلاکت ہے۔ آخرسورت میں انسان کی ان دونوں مذموم خصلتوں پر آخرت کی وعید سنائی گئی۔

 

۱۰۰: ۰۰۹

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ۝۹

 

ترجمہ:

کیا نہیں جانتا وہ وقت کہ کریدا جائے جو کچھ قبروں میں ہے

 

تفسیر:

افلایعلم اذا بعثر ما فی القبور الایۃ، کیا اس غافل انسان کو اس کی خبر نہیں کہ قیامت کے روز جبکہ مردے قبروں سے زندہ کر کے اٹھا لئے جاویں گے اور دلوں میں چھپی ہوئی باتیں بھی سب کھل کر سامنے آ جاویں گی اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ رب العالمین ان سب کے سب حالات سے باخبر ہیں تو اس کے مطابق جزاء سزا دیں گے اس لئے عقلمند کا کام یہ ہے کہ ناشکری سے باز آئے اور مال کی محبت میں ایسا مغلوب نہ ہو کہ اچھے برے کی تمیز نہ رہے۔

 

فائدہ:

اس آیت میں یہ دو مذموم خصلتیں مطلق انسان کی بیان کی گئی ہیں حالانکہ انسان میں انبیاء و اولیاء اور بہت سے صلحاء عباد ایسے ہیں، جو ان مذموم خصلتوں سے پاک اور شکر گزار بندے ہوتے ہیں مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالنے کے لئے تیار رہتے ہیں حرام مال سے بچتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مطلق انسان کی طرف ان مذموم خصلتوں کی نسبت اس لئے کر دی گئی کہ اکثر انسان ایسے ہی ہیں اس سے سب کا ایسا ہونا لازم نہیں آتا۔ اسی لئے بعض حضرات نے اس آیت میں انسان سے مراد انسان کافر لیا ہے جیسا کہا وپر خلاصہ تفسیر میں ایسا ہی ہے اس کا حاصل یہ ہو گا کہ یہ دونوں مذموم خصلتیں در اصل کافر کی ہیں کسی مسلمان میں بھی خدا نخواستہ پائی جائیں تو اسے فکر کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم

 

۱۰۰: ۰۱۰

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ۝۱۰

 

ترجمہ:

اور تحقیق ہو وے جو کچھ کہ جیوں میں ہے

 

۱۰۰: ۰۱۱

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِیْرٌ۠۝۱۱

 

ترجمہ:

بیشک ان کے رب کو ان کی اس دن سب خبر ہے۔

٭٭٭

 

 

۱۰۱۔ سورۃ القارعۃ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة قارعہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی گیارہ آیتیں ہیں

 

۱۰۱: ۰۰۱

اَلْقَارِعَةُۙ۝۱

 

ترجمہ:

وہ کھڑکھڑا ڈالنے والی

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

وہ کھڑکھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور کانوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہو گا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہو جاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہو جاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بے چین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت خاص مومنین میں نہیں ہو گی وہ اپنی قبروں سے مطمئن اٹھیں گے) اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جاویں گے (عہن رنگین اون کو کہا جاتا ہے، پہاڑوں کے رنگ چونکہ مختلف ہیں وہ سب اڑتے پھریں گے جن کی مثال اس اون کی ہو گی جس میں مختلف رنگ کے بال ملے ہوئے ہوں اس روز اعمال انسانی تولے جائیں گے) پھر جس شخص کا پلہ (ایمان کا) بھاری ہو گا (یعنی جو مومن ہو گا) وہ تو خاصر خواہ آرام میں ہو گا (یعنی نجات پا کر جنت میں جائے گا) اور جس شخص کا پلہ (ایمان کا) ہلکا ہو گا (یعنی کافر) اس کا ٹھکانا ہاویہ ہو گا اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ (ہاویہ) کیا چیز ہے (وہ) ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔

 

معارف و مسائل

اس سورت میں اعمال کے وزن ہونے اور ان کے ہلکے بھاری ہونے پر دوزخ یا جنت ملنے کا ذکر ہے۔ وزن اعمال کی پوری تحقیق اور شبہات کا جواب سورة اعراف کے شروع میں گزر چکا ہے (معارف جلد سوم ص ۵۲۶ تا ۵۳۲) وہاں دیکھ لیا جائے اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ روایات حدیث اور آیات کی تطبیق سے معلوم ہوتا ہے کہ وزن اعمال غالباً دو مرتبہ ہو گا، ایک مرتبہ کے وزن سے مومن اور کافر کا امتیاز کر دیا جائے گا ہر مومن کا پلہ بھاری اور کافر کا ہلکا رہے گا، پھر مؤمنین میں اعمال حسنہ اور سیسہ کا امتیاز کرنے کے لئے دوسرا وزن ہو گا، اس سورت میں بظاہر وہ پہلا وزن مراد ہے جس میں ہر مومن کا پلہ ایمان کی وجہ سے بھاری رہے گا خواہ اس کا عمل کیسا بھی ہو اور کافر کا پلہ ایمان نہ ہونے کے سبب ہلکا رہے گا خواہ اس نے کچھ نیک کام بھی کئے ہوں۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ قرآن کریم میں عام طور پر جزا و سزا میں تقابل کفار کا مؤمنین صالحین کے ساتھ کیا گیا کہ اصلی مؤمنین کا ملین وہی ہیں، باقی رہے وہ مومنین جنہوں نے اعمال صالحہ اور سیسہ مخلوط کئے ہیں قرآن میں عام طور پر ان سے سکوت کیا گیا اور ان سب آیات میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یا مت میں انسانوں کے اعمال تو لے جائیں گے گنے نہیں جائیں گے اور عمل کا وزن بقدر اخلاص اور مطابقت سنت کے بڑھتا ہے جس شخص کے عمل میں اخلاص بھی کامل ہو اور سنت کی مطابقت بھی مکمل ہو اگرچہ اس کے عمل تعداد میں کم ہوں اس کا وزن بہ نسبت اس شخص کے بڑھ جائے گا جس نے تعداد میں تو نماز روزے، صدقہ خیرات، حج عمرے بہت کئے مگر اخلاص میں کمی رہی یا سنت کی مطابقت میں کمی رہی۔ واللہ اعلم

 

۱۰۱: ۰۰۲

مَا الْقَارِعَةُۚ۝۲

 

ترجمہ:

کیا ہے وہ کھڑکھڑا ڈالنے والی

 

۱۰۱: ۰۰۳

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ۝۳

 

ترجمہ:

اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ کھڑکھڑا ڈالنے والی

 

۱۰۱: ۰۰۴

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ۝۴

 

ترجمہ:

جس دن ہوویں لوگ جیسے پتنگے بکھرے ہوئے

 

۱۰۱: ۰۰۵

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ۝۵

 

ترجمہ:

اور ہو ویں پہاڑ جیسے رنگی ہوئی اون دھنی ہوئی

 

۱۰۱: ۰۰۶

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ۝۶

 

ترجمہ:

سو جس کی بھاری ہوئی تولیں

 

۱۰۱: ۰۰۷

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ۝۷

 

ترجمہ:

تو وہ رہے گا من مانتے گزران میں

 

۱۰۱: ۰۰۸

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ۝۸

 

ترجمہ:

اور جس کی ہلکی ہوئیں تولیں

 

۱۰۱: ۰۰۹

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ۝۹

 

ترجمہ:

تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہے

 

۱۰۱: ۰۱۰

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ۝۱۰

 

ترجمہ:

اور تو کیا سمجھا وہ کیا ہے

 

۱۰۱: ۰۱۱

نَارٌ حَامِیَةٌ۠۝۱۱

 

ترجمہ:

آگ ہے دہکتی ہوئی۔

٭٭٭

 

۱۰۲۔ سورۃ التکاثر

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة تکاثر مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی آٹھ آیتیں ہیں

 

۱۰۲: ۰۰۱

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ۝۱

 

ترجمہ:

غفلت میں رکھا تم کو بہتایت کی حرص نے

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

دو نبوی سامان پر فخر کرنا تم کو (آخرت سے) غافل کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ تم قبرساتنوں میں پہنچ جاتے ہو (یعنی مر جاتے ہو کذا فی تفسیر ابن کثیر مرفوعاً) ہرگز نہیں (یعنی دنیوی سامان قابل فخر ہے اور نہ آخرت قابل غفلت) تم کو بہت جلد (قبر میں جاتے ہی یعنی مرتے ہی) معلوم ہو جاوے گا پھر (’ و بارہ تم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ) ہرگز (یہ چیزیں قابل فخر اور توجہ کے اور آخرت قابل غفلت و انکار کے) نہیں تم کو بہت جلد (قبر سے نکلتے ہی یعنی حشر میں) معلوم ہو جاوے گا (کذا فی فتح البیان مرفوعاً اور سہ بارہ پھر تم کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ) ہرگز (یہ چیزیں قابل فخر و توجہ کے اور آخرت قابل غفلت اور انکار کے) نہیں (اور) اگر تم یقینی طور پر جان لیتے (یعنی دلائل صحیحہ میں غور و توجہ سے کام لیتے اور اس کا یقین آ جاتا تو کبھی اس سامان پر فخر اور آخرت ہے غفلت میں نہ پڑتے) واللہ تم لوگ ضرور دوزخ کو دیکھو پھر (کرر تاکید کے لئے کہا جاتا ہے) واللہ تم لوگ ضرور اس کو ایسا دیکھنا دیکھو گے جو کہ خود یقین ہے (کیونکہ یہ دیکھنا استدلال اور دلائل کی راہ سے نہیں ہو گا جس سے یقین حاصل ہونے میں کبھی دیر بھی لگتی ہے بلکہ یہ آنکھوں کا مشاہدہ ہو گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنی آنکھوں دیکھ لینے کو عین الیقین سے تعبیر فرمایا ہے) پھر (ور بات سنو کہ) اس روز تم سب سے نعمتوں کی پوچھ ہو گی۔ (ہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا حق ایمان و اطاعت کیسا بجا لائے یا نہیں۔)

معارف و مسائل

الکم التکاثر، تکاثر کثرت سے مشتق ہے معنی ہیں کثرت کے ساتھ مال و دولت جمع کرنا۔ حضرت ابن عباس اور حسن بصری نے اس لفظ کی یہی تفسیر کی ہے اور یہ لفظ بمعنے تفاخر بھی استعمال کیا جاتا ہے حضرت قتادہ کی یہی تفسیر ہے اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے الہاکم التکاثر پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مال کو ناجائز طریقوں سے حاصل کیا جائے اور مال پر جو فرائض اللہ کے عائد ہوتے ہیں انہیں خرچ نہ کریں (قرطبی)

 

۱۰۲: ۰۰۲

حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ۝۲

 

ترجمہ:

یہاں تک کہ جا دیکھیں قبریں

 

تفسیر:

حتی زرتم المقابر، یہاں زیارت مقابر سے مراد مر کر قبر میں پہنچنا ہے جیسا کہ حدیث مرفوع میں خود رسول اللہﷺ نے حتی زرتم المقابر کی تفسیر میں فرمایا حتی یاتیکم الموت (ابن کثیر بروایت ابن ابی حاتم) اس لئے مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ تم لوگوں کو مال و دولت کی بہتات یا مال و اولاد اور قبیلہ و نسب پر تفاخر غفلت میں ڈالے رہتی ہے اپنے انجام اور آخرت کے حساب کی کوئی فکر نہیں کرتے یہاں تک کہ اسی حال میں تمہیں موت آ جاتی ہے اور وہاں عذاب میں پکڑے جاتے ہو یہ خطاب بظاہر عام انسانوں کو ہے جو مال و اولاد کی محبت یا دوسروں پر اپنی برتری اور تفاخر میں ایسے مست رہتے ہیں کہ اپنے انجام کو سوچنے کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔ حضرت عبد اللہ ابن شخیرہ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز آنحضرتﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ الہاکم التکاثر پڑھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ

آدمی کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال حالانکہ اس میں تیرا حصہ تو اتنا ہی ہے جس کو تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا یا صدقہ کر کے اپنے آگے بھیج دیا اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے تو اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے۔

امام بخاری نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا

اگر آدم زادے کے لئے ایک وادی (دامن کوہ) سونے سے بھری ہوئی موجود ہو تو (وہ اس پر قناعت نہیں کرے گا بلکہ) چاہے گا  کہ ایسی دو وادیاں ہو جاویں اور اس کے منہ کو تو (قبر کی) مٹی کے سوا کوئی چیز بھر نہیں سکتی اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے اس شخص کی جو اس کی طرف رجوع ہو۔

حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ ہم حدیث کے الفاظ مذکورہ کو قرآن سمجھا کرتے تھے یہاں تک کہ سورة الہاکم التکاثر نازل ہوئی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے الہاکم التکاثر پڑھ کر مذکورہ الفاظ اس کی تفسیر و تشریح کے طور پر پڑھے تھے اس سے بعض صحابہ کو شبہ ہو گیا کہ یہ بھی قرآن ہی کے الفاظ ہیں بعد میں جب پوری سورة الہاکم التکاثر سامنے آئی تو اس میں یہ الفاظ نہیں تھے اس سے حقیقت واضح ہو گئی کہ یہ الفاظ تفسیر کے تھے۔

 

۱۰۲: ۰۰۳

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ۝۳

 

ترجمہ:

کوئی نہیں آگے جان لو گے

 

۱۰۲: ۰۰۴

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ۝۴

 

ترجمہ:

پھر بھی کوئی نہیں آگے جان لوں گے

 

۱۰۲: ۰۰۵

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ۝۵

 

ترجمہ:

کوئی نہیں اگر جانو تم یقین کر کے

 

تفسیر:

لو تعلمون علم الیقین، حرف لو جو شرط کے لئے آتا ہے اس کے مقابل کوئی جزاء ہونا چاہئے وہ بقرینہ سیاق اس جگہ حذف کر دی گئی ہے یعنی لما الھکم التکاثر یعنی اگر تم کو قیامت کے حساب کتاب کا یقین ہوتا تو تم اس تکاثر اور تغافل میں نہ پڑتے۔

 

۱۰۲: ۰۰۶

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ۝۶

 

ترجمہ:

بیشک تم کو دیکھنا ہے دوزخ

 

تفسیر:

ثم لترونھا عین الیقین اوپر خلاصہ تفسیر سے معلوم ہو چا ہے کہ عین الیقین سے مراد وہ یقین ہے کہ جو کسی چیز کے مشاہدہ کے بعد حاصل ہوتا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ درجہ یقین کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت موسیٰؑ جب کوہ طور پر تشریف رکھتے تھے اور ان کے پیچھے ان کی قوم نے گو سالہ پرستی شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہیں کوہ طور پر خبر کر دی تھی کہ تمہاری قوم اس وبال میں مبتلا ہو گئی ہے مگر موسیٰؑ پر اس خبر سے اتنا اثر نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوا جب واپس پہنچ کر انہوں نے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی آنکھوں سے دیکھی اس کا اثر یہ ہوا کہ بے اختیار ہو کر الواح تورات ہاتھ سے چھوڑ دیں (رواہ احمد و البطرانی بسند صحیح۔ مظہری)

۱۰۲: ۰۰۷

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ۝۷

 

ترجمہ:

پھر دیکھنا ہے اس کو یقین کی آنکھ سے

 

تفسیر:

ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم یعنی تم سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے متعلق باز پرس ہو گی کہ تم نے ان کا شکر کیا ادا کیا اور ان کو گناہوں میں تو خچ نہیں کیا، ان میں سے بعض نعمتوں کے متعلق تو خود قرآن میں دوسری جگہ وضاحت آ گئی جیسا فرمایا ان السمع والبصر و الفوادکل اولیک کان عنہ مسؤلا جس میں انسان کی قوت شنوائی، بینائی اور دل سے متعلق وہ لاکھوں نعمتیں آ گئیں جن کو انسان ہر لمحہ استعمال کرتا ہے۔

حدیث: ۔ اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بندہ سے جس چیز کا سب سے پہلے سوال ہو گا (وہ تندرستی ہے) اس کو کہا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں تندرستی نہیں دی تھی اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈا پانی نہیں پلایا تھا (الترمذی عن ابی ہریرہ و ابن حبان فی صحیحہ۔ ابن کثیر)

حدیث: ۔ اور رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ محشر میں کوئی آدمی اپنی جگہ سے سرک نہ سکے گا جب تک پانچ سوالوں کا جواب اس سے نہ لیا جائے۔ ایک یہ کہ اس نے اپنی عمر کو کن کاموں میں فنا کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے اپنے شباب کی قوت کو کن کاموں میں خرچ کیا ہے۔ تیسرے یہ کہ جو مال اس نے حاصل کیا وہ کس کس طریقے جائز یا ناجائز سے حاصل کیا۔ چوتھے یہ کہ اس مال کو کہاں کہاں خرچ کیا، پانچویں یہ کہ جو علم اللہ نے اس کو دیا تھا اس پر کتنا عمل کیا۔ (رواہ البخاری)

اور امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ قیامت میں یہ سوال دنیا کی ہر لذت کے متعلق ہو گا (قرطبی) خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو یا لباس اور مکان سے یا بیوی اور اولاد سے یا حکومت و عزت سے۔ قرطبی نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ بالکل درست ہے اس سوال میں کسی خاص نعمت کی تخصیص نہیں ہے۔

 

سورة تکاثر کی خاص فضیلت:

رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام سے خطاب کر کے فرمایا کہ کیا تم میں کوئی آدمی اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ ہر روز قرآن کی ایک ہزار آیتیں پڑھا کرے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں کون پڑھ سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں کوئی الہاکم التکاثر نہیں پڑھ سکتا، مطلب یہ ہے کہ الہاکم التکاثر روزانہ پڑھنا ایک ہزار آیتوں کے پڑھنے کی برابر ہے۔ (مظہری بحوالہ حاکم و بیہقی عن ابن عمر)

 

۱۰۲: ۰۰۸

ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠۝۸

 

ترجمہ:

پھر پوچھیں گے تم سے اس دن آرام کی حقیقت۔

٭٭٭

 

 

۱۰۳۔ سورۃ العصر

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة عصر مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی تین آیتیں ہیں

 

۱۰۳: ۰۰۱

وَ الْعَصْرِۙ۝۱

 

ترجمہ:

قسم ہے عصر کی

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

قسم ہے زمانہ کی (جس میں رناج و خسران واقع ہوتا ہے) کہ انسان (اپنی عمر ضائع کرنے کی وجہ سے) بڑے خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جو اپنے نفس کا کمال ہے) اور ایک دوسرے کو حق (پر قائم رہنے کی فرمائش کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (عمال کی) پابندی کی فرمائش کرتے رہے (جو دو رسوں کی تکمیل ہے تو جو لوگ یہ کمال حاصل کریں اور دو رسوں کی بھی تکمیل کریں یہ لوگ البتہ خسارے میں نہیں بلکہ نفع میں ہیں)

 

معارف و مسائل

 

سورة عصر کی خاص فضیلت:

حضرت عبید اللہ ابن حصن فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ میں سے دو شخص ایسے تھے کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ان میں سے ایک دوسرے کے سامنے سورة والعصر نہ پڑھ لے (رواہ البطرانی) اور امام شافعی نے فرمایا کہ اگر لوگ صرف اسی سورت میں تدبر کر لیتے تو یہی ان کے لئے کافی تھی (ابن کثیر)

سورة عصر قرآن کریم کی بہت مختصر سی سورت ہے لیکن ایسی جامع ہے کہ بقول حضرت امام شافعی اگر لوگ اسی سورت کو غور و تدبر کے ساتھ پڑھ لیں تو دین و دنیا کی درستی کے لء کافی ہو جائے۔ اس صورت میں حق تعالیٰ نے زمانہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ نوع انسان بڑے خسارے میں ہے اور اس خسارے سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو چار چیزوں کے پابند ہوں۔ ایمان، عمل صالح، دوسروں کو حق کی نصیحت و وصیت اور صبر کی وصیت، دنیا و دنیا کے خسارے سے بچنے اور نفع عظیم حاصل کرنے کا یہ قرآنی نسخہ چار اجزاء سے مرکب ہے جن میں پہلے دو جز اپنی ذات کی اصلاح کے متعلق ہیں اور دوسرے دو جز دوسرے مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح سے متعلق ہیں۔

یہاں پہلی بات یہ غور طلب ہے کہ اس مضمون کے ساتھ زمانے کو کیا مناسبت ہے جس کی قسم کھائی گئی کیونکہ قسم اور جواب قسم میں باہم مناسبت ضرور ہوتی ہے۔ عام حضرات مفسرین نے فرمایا کہ انسان کے تمام حالات اس کا نشو و نما اس کی حرکات سکنات، اعمال، اخلاق سب زمانے کے اندر ہوتے ہیں۔ جن اعمال کی ہدایت اس سورت میں دی گئی ہے وہ بھی اسی زمان کے لیل و نہار میں ہوں گے اس کی مناسبت سے زمانہ کی قسم اختیار کی گئی۔

 

زمانے کو نوع انسانی کے خسارے میں کیا دخل ہے:

اور توضیح اس کی یہ ہے کہ انسان کی عمر کا زمانہ اس کے سال اور مہینے اور دن رات بلکہ گھنٹے اور منٹ اگر غور کیا جائے تو یہی اس کا سرمایہ ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا و آخرت کے منافع عظیمیہ عجیبیہ بھی حاصل کر سکتا ہے اور عمر کے اوقات اگر غلط اور برے کاموں میں لگا دیئے تو یہی اس کے لئے وبال جان بھی بن جاتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا ہے۔

حیا تک انفاس تعد فکلما مضی نفس منھا انتقصت بہ جزاء

یعنی تیری زندگی چند گنے ہوئے سانسوں کا نام ہے۔ جب ان میں سے ایک سانس گزر جاتا ہے تو تیری عمر کا ایک جز کم ہو جاتا ہے حق تعالیٰ نے ہر انسان کو اس کی عمر کے اوقات عزیز کا بے بہا سرمایہ دے کر ایک تجارت پر لگا یا ہے کہ وہ عقل و شعور سے کام لے اور اس سرمایہ کو خلاص نفع بخش کاموں میں لگائے تو اس کے منافع کی کوئی حد نہیں رہتی اور اگر اس کے خلاف کسی مضرت رساں کام میں لگا دیا تو نفع کی تو کیا امید ہوتی یہ راس المال بھی ضائع ہو جاتا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں کہ نفع اور راس المال ہاتھ سے جاتا رہا۔ بلکہ اس پر سینکڑوں جرائم کی سا عائد ہو جاتی ہے اور کسی نے اس سرمایہ کو نہ کسی نفع بخش کام میں لگایا نہ مضرت رساں میں تو کم از کم یہ خسارہ تو لازمی ہی ہے کہ اس کا نفع اور راس المال دونوں ضائع ہو گئے اور یہ کوئی شاعرانہ تمثیل ہی نہیں بلکہ ایک حدیث مرفوع سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے۔

یعنی ہر شخص جب صبح اٹھتا ہے تو اپنی جان کا سرمایہ تجارت پر لگاتا ہے پھر کوئی تو اپنے اس سرمایہ کو خسارہ سے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر ڈالتا ہے۔

خود قرآن کریم نے بھی ایمان و عمل صالح کو انسان کی تجارت کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ھل ادتکم علی تجارة تجیکم من عذاب الیم اور جب زمانہ عمر انسان کا سرمایہ ہوا اور انسان اس کا تاجر تو عام حالات میں اس تاجر کا خسارہ میں ہونا اس لئے واضح ہے کہ اس مسکین کا سرمایہ کوئی منجمد چیز نہیں جس کو کچھ دن بیکار بھی رکھا تو اگلے وقت میں کام آ سکے بلکہ یہ سیال سرمایہ ہے جو ہر منٹ ہر سیکنڈ بہ رہا ہے اس کی تجارت کرنے والا بڑا ہوشیار مستعد آدمی چاہئے جو بہتی ہوئی چیز سے نفع حاصل کرے۔ اسی لئے ایک بزرگ کا قول ہے کہ وہ برف بیچنے والے کی دکان پر گئے تو فرمایا کہ اس کی تجارت کو دیکھ کر سورة والعصر کی تفسیر سمجھ میں آ گئی کہ یہ ذرا بھی غفلت سے کام لے تو اس کا سرمایہ پانی بن کر ضائع ہو جائے گا اس لئے اس ارشاد قرآنی میں زمانے کی قسم کھا کر انسان کو اس پر متوجہ کیا ہے کہ خسارے سے بچنے کے لئے جو چار اجزاء سے مرکب نسخہ بتلایا گیا ہے اس کے میں ذرا غفلت نہ برتے۔ عمر کے ایک ایک منٹ کی قدر پہچان اور ان چار کاموں میں اس کو مشغول کر دے۔

زمانہ کی قسم کی ایک مناسبت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جائے وہ ایک حیثیت سے اس معاملہ کے شاہد کے قائم مقام ہوتی ہے اور زمانہ ایسی چیز ہے کہ اگر اس کی تاریخ اور اس میں قوموں کے عروج و نزول کے بھلے برے واقعات پر نظر کرے گا تو ضرور اس یقین پر پہنچ جائے گا کہ صرف یہ چار کام ہیں جن میں انسان کی فلاح و کامیابی منحصر ہے جس نے ان کو چھوڑا وہ خسارہ میں پڑا دنیا کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔

آگے ان چاروں اجزاء کی تشریح یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح جو خود انسان کی ذات سے متعلق ہیں ان کا معاملہ واضح ہے کسی تشریح کا محتاج نہیں البتہ آخری دو جز یعنی تواضی بالحق اور تواصی بالصبر یہ قابل غور ہیں کہ ان سے کیا مراد ہے۔ لفظ تواصی وصیت سے مشتق ہے کسی شخص کو تاکید کے ساتھ مؤ ثر انداز میں نصیحت کرنے اور نیک کام کی ہدیات کرنے کا نام وصیت ہے اسی وجہ سے مرنے والا جو اپنے عبد کے لئے کچھ ہدایات دیتا ہے اس کو بھی وصیت کہا جاتا ہے۔

یہ دو جز در حقیقت اسی وصیت کے دو باب ہیں۔ ایک حق کی وصیت دوسرے صبر کی وصیت، اب ان دونوں لفظوں کے معنی میں کئی احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ حق سے مراد عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کا مجموعہ ہو اور صبر کے معنے تمام گناہوں اور برے کاموں سے بچنا ہو تو پہلے لفظ کا حاصل امر بالمعروف ہو گیا یعنی نیک کاموں کا حکم کرنا اور دوسرے کا حاصل نہی عن المنکر ہو گیا یعنی برے کاموں سے روکنا، اس مجمعہ کا حاصل پھر وہی ایمان اور عمل صالح جس کو خود اختیار کیا ہے اس کی تاکید و نصیحت دوسروں کو کرنا ہو گیا اور ایک احتمال یہ ہے کہ حق سے مراد اعتقادات حقہ لئے جائیں اور صبر کے مفہوم میں تمام اعمال صالح ہیک پابندی بھی ہو اور برے کاموں سے بچنا بھی کیونکہ لفظ صبر کے حقیقی معنے اپنے نفس کو روکنے اور پابند بنانے کے ہیں۔ اس پابندی میں اعمال صالحہ بھی آ گئے اور گناہوں سے اجتناب بھی۔

اور حافظ ابن تیمیہ نے اپنے کسیر سالے میں فرمایا کہ انسان کو ایمان اور عمل صالح سے روکنے والی عادتاً دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک شبہات یعنی اس کو ایمان و عمل صالح میں کچھ نظری اور فکری شبہات پیدا ہو جاویں۔ جن کے سبب عقائد ہی مختلف ہو جائیں اور عقائد کے مختلف ہونے سے عمل صالح کا خلل پذیر ہونا خود ظاہر ہے۔ دوسرے شہوات یعنی خواہشات نفسانی جو انسان کو بعض اوقات نیک عمل سے روک دیتی ہیں اور بعض اوقات برے اعمال میں مبتلا کر دیتی ہیں اگرچہ وہ نظری اور اعتقادی طور پر نیکی پر عمل اور برائی سے بچنے کو ضروری سمجھتا ہو مگر نفسانی خواہشات اس کے خلاف ہوں اور وہ ان خواہشات سے مغلوب ہو کر سیدھا راستہ چھوڑ بیٹھے تو آیت مذکور میں وصیت حق سے مراد یہ ہے کہ شبہات کو دور کرے اور وصیت صبر سے مراد یہ کہ نفسانی خواہشات کو چھوڑ کر اچھے اعمال اختیار کرنے کی ہدایت کرے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وصیت بالحق سے مراد دوسرے مسلمانوں کی علمی اصلاح ہے اور وصیت بالصبر سے مراد عملی اصلاح۔

 

نجات کے لئے صرف اپنے عمل کی اصلاح کافی نہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کی فکر بھی ضروری ہے:

اس سورت نے مسلمانوں کو ایک بڑی ہدایت یہ دی کہ ان کا صرف اپنے عمل کو قرآن و سنت کے تابع کر لینا جتنا اہم اور ضروری اتنا ہی اہم یہ ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھی ایمان اور عمل صالح کی طرف بلانے کی مقدور بھر کوشش کرے ورنہ صرف اپنا عمل نجات کے لئے کافی نہ ہو گا، خصوصاً اپنے اہل و عیال اور احباب و متعلقین کے اعمال سیئہ سے غفلت برتنا اپنی نجات کا راستہ بند کرنا ہے اگرچہ خود وہ کیسے ہی اعمال صالحہ کا پابند ہو، اسی لئے قرآن و حدیث میں ہر مسلمان پر اپنی نجات کا راستہ بند کرنا ہے اگرچہ خود وہ کیسے ہی اعمال صالحہ کا پابند ہو، اسی لئے قرآن و حدیث میں ہر مسلمان پر اپنی اپنی مقدرت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں عام مسلمان بلکہ بہت سے خواص تک غفلت میں مبتلا ہیں، خود عمل کرنے کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں، اولاد و عیال کچھ بھی کرتے رہیں اس کی فکر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس آیت کی ہدایت پر عمل کی تفویق نصیب فرما دیں۔

 

۱۰۳: ۰۰۲

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ۝۲

 

ترجمہ:

مقرر انسان ٹوٹے میں ہے

 

۱۰۳: ۰۰۳

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْ۠رِ۝۳

 

ترجمہ:

مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی۔

٭٭٭

 

 

۱۰۴۔ سورۃ الہمزہ

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة ہمزہ مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی نو آیتیں ہیں

 

۱۰۴: ۰۰۱

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ۝۱

 

ترجمہ:

خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو پس پشت عیب نکالنے الا ہو (اور) رو در رو طعنہ دینے والا ہو جو (بہت حرص کی وجہ سے) مال جمع کرتا ہو اور (اس کی محبت اور اس پر فخر کے سبب) اس کو بار بار گنتا ہو (اس کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا) وہ خیال کر رہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا (یعنی مال کی محبت میں ایسا انہماک رکھتا ہو جیسے وہ اس کا معتقد ہے کہ ہو خود بھی ہمیشہ زندہ رہے گا  اور اس کا مال بھی ہمیشہ یوں ہی رہے گا حالانکہ یہ مال اس کے پاس) ہرگز نہیں (رہے گا، آگے اس ویل یعنی خرابی کی تفصیل ہے کہ) واللہ وہ شخص ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جس میں جو کچھ پڑے وہ اس کو توڑ پھوڑ دے، اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ توڑنے پھوڑنے والی آگ کیسی ہے وہ اللہ کی آگ ہے جو (اللہ کے حکم سے) سلگائی گئی ہے (آگ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنیں اس آگ کے سخت اور ہولناک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور وہ ایسی ہے) جو (بدن کو لگتے ہی) دلوں تک جا پہنچے گی وہ (آگ) ان پر بند کر دی جاوے گی (اس طرح سے کہ وہ لوگ آگ کے) بڑے لمبے لمبے سوتنوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے) جیسے کسی کو آگ کے صندوقوں میں بند کر دیا جائے)

 

معارف وسائل

اس سورت میں تین سخت گناہوں پر عذاب شدید کی وعید اور پھر اس عذاب کی شدت کا بیان ہے وہ تین گناہ یہ ہیں ہمز، لمز، جمع مال، ہمز اور لمز چند معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اکثر مفسرین نے جس کو اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمز کے معنی غیبت یعنی کسی کے پیٹھ پیچھے اس کے عیوب کا تذکرہ کرنا ہے اور لمز کے معنے آمنا سامنے کسی کو طعنہ دینے اور برا کہنے کے ہیں، یہ دونوں ہی چیزیں سخت گناہ ہیں۔ غیبت کی وعیدیں قرآن و حدیث میں زیادہ ہیں جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس گناہ کے اشتعال میں کوئی رکاوٹ سامنے نہیں ہوتی جو اس میں مشغول ہو تو بڑھتا چڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس لئے گناہ بڑے سے بڑا اور زیادہ سے زیادہ ہوتا جاتا ہے بخلاف آمنا سامنے کہنے کے کہ وہاں دوسرا بھی مدافعت کے لئے تیار ہوتا ہے اس لئے گناہ میں امتداد نہیں ہوتا، اس کے علاوہ کسی کے پیچھے اس کے عیوب کا تذکرہ اس لئے بھی بڑا ظلم ہے کہ اس کو خبر بھی نہیں کہ مجھ پر کیا الزام لگایا جا رہا ہے کہ اپنی صفائی پیش کر سکے۔

اور ایک حیثیت سے لمز زیادہ شدید ہے، کسی کے روبرو اس کو برا کہنا اس کی توہین و تذلیل بھی ہے، اور اس کی ایذا بھی اشد ہے اسی اعتبار سے اس کا عذاب بھی اشد ہے۔ حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا شرار عباد اللہ تعالیٰ المشاءون بالتمیمة المفرقون بین الاحبة الباعون البرآء العنت یعنی اللہ کے بندوں میں بدترین وہ لوگ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان فساد ڈلواتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کے عیب تلاش کرتے رہتے ہیں۔

 

۱۰۴: ۰۰۲

ِ۟الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ۝۲

 

ترجمہ:

جس نے سمیٹا مال اور گن گن کر رکھا

 

تفسیر:

تیسری خصلت جس پر عذاب کی وعید اس سورت میں آئی ہے وہ مال کی حرص اور محبت ہے اسی کو آیت میں اس طرح سے تعبیر کیا ہے کہ حرص و محبت مال کی وجہ سے اس کو بار بار گنتا رہتا ہے چونکہ دوسری آیات و روایات اس پر شاید ہیں کہ مطلقاً مال کا جمع رکھنا کوئی حرام و گناہ نہیں اس لئے یہاں بھی مراد وہ جمع کرنا ہے جس میں حقوق واجبہ ادا نہ کئے گئے ہوں یا فخر و تفاخر مقصود ہو یا اس کی محبت میں منہمک ہو کر دین کی ضروریات سے غفلت ہو۔

 

۱۰۴: ۰۰۳

یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ۝۳

 

ترجمہ:

خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا کو رہے گا اس کے ساتھ

 

۱۰۴: ۰۰۴

كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِؗۖ۝۴

 

ترجمہ:

کوئی نہیں وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی میں

 

۱۰۴: ۰۰۵

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ۝۵

 

ترجمہ:

اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی

 

۱۰۴: ۰۰۶

نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ۝۶

 

ترجمہ:

ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی

 

۱۰۴: ۰۰۷

الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَةِؕ۝۷

 

ترجمہ:

وہ جھانک لیتی ہے دل کو

 

تفسیر:

تطلع علی الافدة یعنی یہ جہنم کی آگ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ یوں تو ہر آگ کا خاصہ یہی ہے کہ جو چیز اس میں پڑے اس کے سبھی اجزاء کو جلا دیتی ہے انسان اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے سارے اعضاء کے ساتھ دل بھی جل جائے گا، یہاں جہنم کی آگ کی یہ خصوصیت اس لئے ذکر کی گئی کہ دنیا کی آگ جب انسان کے بدن کو لگتی ہے تو اس کے دل تک پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہو جاتی ہے بخلاف جہنم کے کہ اس میں موت تو آتی نہیں تو دل تک آگ کا پہنچنا بحالت حیات ہوتا ہے اور دل کے جلنے کی اذیت اپنی زندگی میں انسان محسوس کرتا ہے۔

 

۱۰۴: ۰۰۸

اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ۝۸

 

ترجمہ:

ان کو اس میں موند دیا ہے

 

۱۰۴: ۰۰۹

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠۝۹

 

ترجمہ:

لمبے لمبے ستونوں میں۔

٭٭٭

 

 

۱۰۵۔ سورۃ الفیل

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

 

سورة فیل مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی پانچ آیتیں ہیں

 

۱۰۵: ۰۰۱

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ۝۱

 

ترجمہ:

کیا تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ

 

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا معاملہ کیا (اس استفہام وسوال سے مقصد اس واقعہ کی عظمت اور ہولناک ہونے پر تنبیہ کرنا ہے۔ آگے اس معاملہ کا بیان ہے) کیا ان کی تدبیر کو (جو کعبہ ویران کرنے کے لئے تھی) سرتاپا غلط نہیں کر دیا (یہ استفہام وسوال تقریری ہے یعنی واقعہ کی صحت ثابت کرنے کے لئے) اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے جو ان لوگوں پر کنکر کی پتھریاں پھینکتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح (پامال) کر دیا (حاصل یہ کہ احکام الٰہیہ کی بے حرمتی کرنے والوں کو ایسے عذاب و عقاب سے بے فکر نہ رہنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ دنیا ہی میں عذاب آ جائے جیسے اصحاب فیل پر آیا ورنہ آخرت کا عذاب تو یقینی ہی ہے)

 

معارف و مسائل

اس سورت میں اصحاب فیل کے واقعہ کا مختصر بیان ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کو مسمار کرنے کے قصد سے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی، حق تعالیٰ نے معملوی پرندوں کے ذریعہ ان کی فوج کو عذاب آسمانی نازل فرما کر نیست و نابود کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

واقعہ فیل آنحضرتﷺ کی ولادت کے سال میں ہوا: ۔ یہ واقعہ اس سال میں پیش آیا جس سال میں حضرت خاتم الانبیاءﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی بعض روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور یہی مشہور قول ہے (ابن کثیر) حضرت محدثین نے اس واقعہ کو رسول اللہﷺ کا ایک قسم کا معجزہ قرار دیا ہے مگر چونکہ معجزات کا قانون یہ ہے کہ وہ نبی کے دعوائے نبوت کے ساتھ ان کی تصدیق کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں دعوائے نبوت سے پہلے بلکہ نبی کی ولادت سے بھی پہلے حق تعالیٰ بعض اوقات دنیا میں ایسے واقعات اور نشانیاں ظاہر فرماتے ہیں جو خرق عادت ہونے میں مثل معجزہ کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی نشانیوں کو محدثین کی اصطلاح میں ارہاص کہا جاتا ہے جو تاسیس و تمہید کے منی میں استعمال ہوتا ہے۔ رہص سنگ بنیاد کو کہتے ہیں (قاموس) انبیاء (علیہم السلام) کی دنیا میں تشریف آوری سے یا ان کے دعوائے نبوت سے پہلے بھی حق تعالیٰ کچھ ایسی نشانیاں ظاہر فرماتے ہیں جو معجزات کی قسم سے ہوتی ہیں اور ایسی نشانیاں چونکہ ان کی نبوت کے اثبات کا مقدمہ اور اس قسم کی تمہید و تاسیس ہوتی ہیں اس لئے ان کو ارہاص کہا جاتا ہے نبی کریمﷺ کی بعثت اور ولادت سے پہلے بھی اس قسم کے ارہاصات متعدد قسم کے ہوئے ہیں۔ اصحاب فیل کو آسمانی عذاب کے ذریعہ بیت اللہ پر حملے سے روک دنیا بھی انہی ارہاصات میں سے ہے۔

 

اصحاب فیل کا واقعہ:

امام حدیث و تاریخ ابن کثیر نے اس طرح نقل فرمایا ہے کہ یمن پر ملوک حمیر کا قبضہ تھا یہ لوگ مشرک تھے ان کا آخری بادشاہ دونوں اس ہے جس نے اس زمانے کے اہل حق یعنی نصاریٰ پر شدید مظالم کئے، اسی نے ایک طویل عریض خندق کھدوا کر اس کو آگ سے بھرا اور جتن نصرانی بت پرستی کے خلاف ایک اللہ کی عبادت کرنے والے تھے سب کو اس آگ کی خندق میں ڈال کر جلا دیا جن کی تعداد بیس ہزار کے قریب تھی۔ یہی وہ خندق کا واقعہ ہے جس کا ذکر اصحاب الاخدود کے نام سے سورة بروچ میں گزرا ہے۔ ان میں دو آدمی کسی طرح اس کی گرفت سے نکل بھاگے اور انہوں نے قیصر ملک شام سے جا کر فریاد کی کہ دونوں اس ملک حمیر نے صناری پر ایسا ظلم کیا ہی آپ ان کا انتقام لیں۔ قیصر ملک شام نے بادشاہ حبشہ کو خط لکھا یہ بھی نصرانی تھا اور یمن سے قریب تھا کہ آپ اس ظالم سے ظلم کا انتقام لو، اس نے اپنا عظیم لشکر دو کمانڈر (امیر) ارباط اور ابرہہ کی قیادت میں یمن کے اس بادشاہ کے مقابلے پر بھیج دیا، لشکر اس کے ملک پو ٹوٹ پڑا اور پورے یمن کو قوم حمیر کے قبضہ سے آزاد کرایا۔ ملک حمیر ذوالنواس بھاگ نکلا اور دریا میں غرق ہو کر مر گیا۔ اس طرح ارباط و ابرہہ کے ذریعہ میں پر بادشاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا، پھر ارباط اور ابرہہ میں باہمی جنگ ہو کر ارباط مقتول ہو گیا ابرہہ غالب آ گیا اور یہی بادشاہ حبشہ نجاشی کی طرف سے ملک یمن کا حاکم (گورنر) مقررہو گیا، اس نے یمن پر قبضہ کرنے کے بعد ارادہ کیا کہ یمن میں ایک ایسا شاندار کنیسہ بنائے جس کی نظیر دنیا میں نہ ہو۔ اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ یمن کے عرب لوگ جو حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جاتے ہیں اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں یہ لوگ اس کنیسہ کی عظمت و شوکت سے مرعوب ہو کر کعبہ کے بجائے اسی کنیسہ میں جانے لگیں گے، اس خیال پر اس نے بہت بڑا عالیشان کنیسہ اتنا اونچا تعمیر کیا کہ اس کی بلندی پر نیچے کھڑا ہوا آدمی نظر نہیں ڈال سکتا تھا اور اس کو سونے چاندی اور جواہرات سے مرصع کیا اور پویر مملکت میں اعلان کرا دیا کہ اب یمن سے کوئی کعبہ کے حج کے لئے نہ جائے اس کنیسہ میں عبادت کرے۔ عرب میں اگرچہ بت پرستی غالب آ گئی تھی مگر دین ابراہیم اور کعبہ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں پیوست تھی اس لئے عدنان اور قحطان اور قریش کے قبائل میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے رات کے وقت کنیسہ میں داخل ہو کر اس کو گندگی سے آلودہ کر دیا اور بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے مسافر قبیلہ نے کنیسہ کے قریب اپنی ضروریات کے لئے آگ جلائی اس کی آگ کنیسہ میں لگ گئی اور اس کو سخت نقصان پہنچ گہا۔

ابرہہ کو جب اس کی اطلاع ہوئی اور بتلایا گیا کہ کسی قریشی نے یہ کام کیا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں ان کے کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رہوں گا، ابرہہ نے اس کی تیاری شروع کی اور اپنے بادشاہ نجاشی سے اجازت مانگی اس نے اپنا خاص ہاتھی کہ جس کا نام محمود تھا ابرہہ کے لئے بھیج دیا کہ وہ اس پر سوار ہو کر کعبہ پر حملہ کرے بعض روایات میں ہے کہ یہ سب سے بڑا عظیم الشان ہاتھی تھا جس کی نظیر نہیں پائی جاتی تھی اور اس کے ساتھ آٹھ ہاتھی دوسرے بھی اس لشکر کے لئے بادشاہ حبشہ نے بھیج دیئے تھے۔ ہاتھیوں کی یہ تعداد بھیجنے کا انتشار یہ تھا کہ بیت اللہ کعبہ کے ڈھانے میں ہاتھیوں سے کام لیا جائے۔ تجویز یہ تھی کہ بیت اللہ کے ستونوں میں لوہے کی مضبوط اور طویل زنجیریں باندھ کر ان زنجیروں کو ہاتھیوں کے گلے میں باندھیں اور ان کو ہنکا دیں تو سارا بیت اللہ (معاذ اللہ) فوراً ہی زمین پر آ گرے گا۔

عرب میں جب اس کے حملے کی خبر پھیلی تو سارا عرب مقابلہ کے لئے تیار ہو گیا۔ یمن کے عروب میں ایک شخص ذونفر نامی تھا اس نے عربوں کی قیادت اختیار کی اور عرب لوگ اس کے گرد جمع ہو کر مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے اور ابرہہ کے خلاف جنگ کی مگر اللہ تعالیٰ کو تہ یہ منظور تھا کہ ابرہہ کی شکست اور اس کی رسوائی نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے اس لئے یہ عرب میں کامیاب نہ ہوئے، ابرہہ نے ان کو شکست دے دی اور ذونفر کو قید کر لیا اور آگے روانہ ہو گیا اس کے بعد جب وہ قبیلہ خثعم کے مقام پر پہنچا تو اس قبیلہ کے سردار نفیل بن حبیب نے پورے قبیلہ کے ساتھ ابرہہ کا مقابلہ کیا مگر ابرہہ کے لشکر نے ان کو بھی شکست دے دی اور نفیل بن حبیب کو بھی قید کر لیا اور ارادہ ان کے قتل کا کیا مگر پھر یہ سمجھ کر ان کو زندہ رکھا ان سے ہم راستوں کا پتہ معلوم کر لیں گے، اس کے بعد جب یہ لشکر طائف کے قریب پہنچا تو طائف کے باشندے قبیلہ ثقیف پچھلے قبائل کی جنگ اور ابرہہ کی فتح کے واقعات سن چکے تھے انہوں نے اپنی خیر منانے کا فیصلہ کیا اور یہ کہ طائف میں جو ہم نے ایک عظیم الشان بت خانہ لات کے نام سے بنا رکھا ہے یہ اس کو نہ چھیڑے تو ہم اس کا مقابلہ نہ کریں، انہوں نے ابرہہ سے مل کر یہ بھی طے کر لیا کہ ہم تمہاری امداد اور رہنمائی کے لئے اپنا ایک سردار ابو رغال تمہارے ساتھ بھیج دیتے ہیں، ابرہہ اس پر راضی ہو کر ابو رغال کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ کے قریب ایک مقام مغمس پر پہنچ گیا جہاں قریش مکہ کے اونٹ چر رہے تھے، ابرہہ کے لشکر نے سب سے پہلے ان پر حملہ کر کے اونٹ گرفتار کر لئے جن میں دو سو اونٹ رسول اللہﷺ کے جدا مجد عبد المطلب رئیس قریش کے بھی تھے ابرہہ نے یہاں پہنچ کر اپنا ایک سفیر حناطہ حمیری کو شہر مکہ میں بھیجا کہ وہ قریش کے سرداروں کے پاس جا کر اطلاع کر دے کہ ہم تم سے جنگ کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد کعبہ کو ڈھانا ہے اگر تم نے اس میں رکاوٹ نہ ڈالی تو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ حناطہ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو سب نے اس کو عید المطلب کا پتہ دیا کہ وہ سب سے بڑے سردار قریش کے ہیں حناطہ نے عبد المطلب سے گفتگو کی اور ابرہہ کا پیغام پہنچا دیا۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق عبد المطلب نے یہ جواب دیا کہ ہم بھی ابرہہ سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، نہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ کر سکیں۔ البتہ میں یہ بتائے دیتا ہوں کہ یہ اللہ کا گھر اور اس کے خلیل ابراہیمؑ کا بنایا ہوا ہے وہ خود اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اللہ سے جنگ کا ارادہ ہے تو جو چاہے کرے پھر دیکھ کہ اللہ تعالیٰ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ حناطہ نے عبد المطلب سے کہا کہ تو پھر آپ میرے ساتھ چلیں میں آپ کو ابرہہ سے ملاتا ہوں۔ ابرہہ نے جب عبد المطلب کو دیکھا کہ بڑے وجیہ آدمی ہیں تو ان کو دیکھ کر اپنے تخت سے نیچے اتر کر بیٹھ گیا اور عبد المطلب کو اپنے برابر بٹھایا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ عبد المطلب سے پوچھے کہ وہ کس غرض سے آئے ہیں، عبد المطلب نے کہا کہ میری ضرورت تو اتنی ہے کہ میرے اونٹ جو آپ کے لشکر نے گرفتار کر لئے ہیں ان کو چھوڑ دیں۔ ابرہہ نے ترجمان کے ذریعہ عبد المطلب سے کہا کہ جب میں نے آپ کو اول دیکھا تو میرے دل میں آپ کی بڑی وقعت و عزت ہوئی مگر آپ کی گفتگو نے اس کو بالکل ختم کر دیا کہ آپ مجھ سے صرف اپنے دو سو اونٹوں کی بات کر رہے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ میں آپ کا کعبہ جو آپ کا دین ہے اس کو ڈھانے کے لئے آیا ہوں اس کے متعلق آپ نے کوئی گفتگو نہیں کی۔ عبد المطلب نے جواب دیا کہ اونٹوں کا مالک تو میں ہوں مجھے ان کی فکر ہوئی اور بیت اللہ کا میں مالک نہیں بلکہ اس کا مالک ایک عظیم ہستی ہے وہ اپنے گھر کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ ابرہہ نے کہا کہ تمہارا خدا اس کو میرے ہاتھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبد المطلب نے کہا کہ پھر تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو اور بعض روایات میں ہے کہ عبد المطلب کے ساتھ اور بھی قریش کے چند سردار گئے تھے اور انہوں نے ابرہہ نے کے سامنے یہ پیش کش کی کہ اگر آپ بیت اللہ پر دست اندازی نہ کریں اور لوٹ جائیں تو ہم پورے تہامہ کی ایک تہائی پیداوار آپ کو بطور خراج ادا کرتے رہیں گے مگر ابرہہ نے اس کے ماننے سے انکار کر دیا۔ عبد المطلب کے اونٹ ابرہہ نے واپس کر دیئے وہ اپنے اونٹ لے کر واپس آئے تو بیت اللہ کے دروازے کا حلقہ پکڑ کر دعاء میں مشغول ہوئے اور قریش کی ایک بڑی جماعت ساتھ تھی سب نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ ابرہہ کے عظیم لشکر کا مقابلہ ہمارے تو بس میں نہیں، آپ ہی اپنے بیت کی حفاظت کا انتظام فرما دیں، الحاح و زاری کے ساتھ دعا کرنے کے بعد عبد المطلب مکہ مکرمہ کے کے دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر مختلف پہاڑوں پر پھیل گئے ان کو یہ یقین تھا کہ اس کے لشکر پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا، اسی یقین کی بنا پر انہوں نے ابرہہ سے خود اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا، بیت اللہ کے متعلق گفتگو کرنا اس لئے پسند نہ کیا کہ خود تو اس کے مقابلے کی طاقت نہ تھی اور دوسری طرف یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بے بسی پر رحم فرما کر دشمن کی قوت اور اس کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گے صبح ہوئی تو ابرہہ نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تیاری کی اور اپنے ہاتھی محمود نامی کو آگے چلنے کے لئے تیار کیا۔ نفیل بن حبیب جن کو راستہ سے ابرہہ نے گرفتار کیا تھا اس وقت وہ آگے بڑھے اور ہاتھی کا کان پکڑ کر کہنے لگے تو جہاں سے آیا ہے وہیں صحیح سالم لوٹ جا، کیونکہ تو اللہ کے بلد امین (محفوظ شہر) میں ہے یہ کہہ کر اس کا کان چھوڑ دیا، ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، ہاتھی بانوں نے اس کو اٹھانا چلانا چاہا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا، اس کو بڑے بڑے آہنی تبروں سے مارا گیا، اس کی بھی پروانہ کی، اس کی ناک میں آنکڑا لوہے کا ڈال دیا پھر بھی وہ کھڑا نہ ہوا، اس وقت ان لوگوں نے اس کو یمن کی طرف لوٹانا چاہا تو فوراً کھڑا ہو گیا پھر شام کی طرف چلانا چاہا تو چلنے لگا پھر مشرق کی طرف چلایا تو چلنے لگا، ان سب اطراف میں چلانے کے بعد پھر اس کو مکہ مکرمہ کی طرف چلانے لگے تو پھر بیٹھ گیا۔

قدرت حق جل شانہ کا یہ کرشمہ تو یہاں ظاہر ہوا۔ دوسری طرف دریا کی طرف سے کچھ پرندوں کی قطاریں آتی دکھائی دیں جن میں سے ہر ایک کے ساتھ تین کنکریاں چنے یا مسور کی برابر تھیں ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں واقدی کی روایت میں ہے کہ پرندے عجیب طرح کے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے، جثّے میں کبوتر سے چھوٹے تھے ان کے پنجے سرخ تھے، ہر پنجے میں ایک کنکر اور ایک چونچ میں لئے آتے دکھائی دیتے اور فوراً ہی ابرہہ کے لشکر کے اوپر چھا گئے، یہ کنکریں جو ہر ایک کے ساتھ تھیں ان کو ابرہہ کے لشکر پر گرایا۔ ایک ایک کنکر نے وہ کام کیا جو ریوالور کی گولی بھی نہیں کر سکتی کہ جس پر پڑتی اس کے بدن کو چھیدتی ہوئی زمین میں گھس جاتی تھی۔ یہ عذاب دیکھ کر ہاتھی سب بھاگ کھڑے ہوئے، صرف ایک ہاتھی رہ گیا تھا جو اس کنکری سے ہلاک ہوا اور لشکر کے سب آدمی اس موقع پر ہلاک نہیں ہوئے بلکہ مختلف اطراف میں بھاگے ان سب کا یہ حال ہوا کہ راستہ میں مر مر کر گر گئے ابرہہ کو چونکہ سخت سزا دینا تھی یہ فوراً ہلاک نہیں ہوا مگر اس کے جسم میں ایسا زہر سرایت کر گیا کہ اس کا ایک ایک جوڑ گل سڑ کر گرنے لگا اسی حال میں اس کو واپس یمن لایا گیا، دار الحکومت صنعا، پہنچ کر اس کا سارا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بہ گیا اور مر گیا۔ ابرہہ کے ہاتھی محمود کے ساتھ دو ہاتھی بان یہیں مکہ مکرمہ میں رہ گئے مگر اس طرح کہ دونوں اندھے اور اپاہج ہو گئے تھے۔ محمد بن اسحاق نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اندھے اور اپاہج تھے اور حضرت صدیقہ عائشہ کی بہن اسماء نے فرمایا کہ میں نے دونوں اپاہج اندھوں کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔ اصحاب فیل کے اسی واقعہ کے متعلق اس سورت میں رسول اللہﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے۔

الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل یہاں الم تر فرمایا جس کے معنے ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا حالانکہ یہ واقعہ آپ کی ولادت باسعادت سے کچھ دن پہلے کا ہے، آپ کے دیکھنے کا یہاں بظاہر کوئی موقع نہیں تھا مگر جو واقعہ یقینی ایسا ہو کہ عام طور پر مشاہدہ کیا گیا ہو اس کے علم کو بھی لفظ رویت سے تعبیر کر دیا جاتا ہے کہ گویا یہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے اور ایک حد تک دیکھنا بھی ثابت ہے جیسا کہ اوپر گزرا ہے کہ حضرت صدیقہ عائشہ اور اسماءؓ نے ہاتھی بانوں کو اندھا اور اپاہج بھیک مانگتے دیکھا ہے۔

 

۱۰۵: ۰۰۲

اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ۝۲

 

ترجمہ:

کیا نہیں کر دیا ان کا داؤ غلط

 

۱۰۵: ۰۰۳

وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ۝۳

 

ترجمہ:

اور بھیجے ان پر اڑتے جانور ٹکڑیاں ٹکڑیاں

 

تفسیر:

طیرا ابابیل، ابابیل لفظ جمع کا ہے مگر اس کا کوئی مفرد مستعمل نہیں، معنے اس کے پرندوں کے غول کے ہیں کسی خاص جانور کا نام نہیں، اردو زبان میں جو ایک خاص چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں وہ مراد نہیں جیسا کہ اوپر روایت میں گزر چکا ہے۔ یہ پرندے کبوتر سے کسی قدر چھوٹے تھے اور کوئی ایسی جنس تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی (کذا قال سعید بن حبیر قرطبی)

 

۱۰۵: ۰۰۴

تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ۝۴

 

ترجمہ:

پھینکتے تھے ان پر پتھریاں کنکر کی

 

تفسیر:

بحجارة من سجیل سجیل بکسر سین سنگ گل کا معرب کیا ہوا لفظ ہے جس کے معنے ہیں ایسی کنکریں جو تر مٹی کو آگ میں پکانے سے بنتی ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کنکریں بھی خود کوئی طاقت نہ رکھتی تھیں معمولی گارے اور آگ سے بنی ہوئی تھیں مگر بقدرت حق سبحانہ، انہوں نے ریوالور کی گولیوں سے زیادہ کام کیا۔

 

۱۰۵: ۰۰۵

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠۝۵

 

ترجمہ:

پھر کر ڈالا ان کو جیسے بھس کھایا ہوا۔

 

تفسیر:

فجعلھم کعصف ماکول عصف، بھوسہ کو کہتے ہیں اول تو خود بھوسہ ہی منتشر تنکے ہوتے ہیں، پھر جبکہ اس کو کسی جانور نے چبا بھی لای ہو تو ہو تنکے بھی اپنے حال پر نہیں رہتے۔ ابرہہ کے لکشر میں جس پر یہ کنکر پڑی ہے اس کا یہی حال ہو گیا ہے۔ اصحاب فیل کے اس عجیب و غریب واقعہ نے پورے عرب کے دلوں میں قریش کی عظمت بڑھا دی اور سب ماننے لگے کہ یہ لوگ اللہ والے ہیں ان کی طرف سے خود حق تعالیٰ جل شانہ نے ان کے دشمن کو ہلاک کر دیا (قرطبی) اسی عظمت کا یہ اثر تھا کہ قریش مکہ مختلف ملکوں کا سفر بغرض تجارت کرتے تھے اور راستہ میں کوئی ان کو نقصان نہ پہنچاتا حالانکہ اس وقت دوسروں کے لئے کوئی سفر ایسے خطرات سے خالی نہیں تھا۔ قریش کے انہی سفروں کا ذکر آگے اگلی سورت سورة قریش میں کر کے ان کو شکر نعمت کی طرف دعوت دی گئی ہے۔

٭٭٭

 

۱۰۶۔ سورۃ القریش

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر:

سورة قریش مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی چار آیتیں ہیں

۱۰۶: ۰۰۱

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ۝۱

ترجمہ:

اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

چونکہ خوگر ہو گئے ہیں یعنی جاڑے اور گرمی کے سفر کے خوگر ہو گئے ہیں تو (اس نعمت کے شکر میں) ان کو چاہئے کہ اس خانہ کعبہ کے مالک کی عبادت کریں جس نے ان کو بھوک میں کھانے کو دیا اور خوف سے ان کو امن دیا۔

معارف و مسائل

اس پر تو سب مفسرین کا اتفاق ہے کہ معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہ سورت سورة فیل ہی سے متعلق ہے اور شاید اس وجہ سے بعض مصاحف میں ان دونوں کو ایک ہی سورت کر کے لکھا گیا تھا، دونوں کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی تھی مگر حضرت عثمان غنیؓ نے جب اپنے زمانے میں تمام مصاحف قرآن کو جمع کر کے ایک نسخہ تیار فرمایا اور تمام صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہوا۔ اسی نسخہ قرآن کو جمہور کے نزدیک امام کہا جاتا ہے اس میں ان دونوں کو دو الگ الگ سورتیں ہی لکھا ہے۔ دونوں کے درمیان بسم اللہ لکھی گی ہے۔

لایلف قریش، حرف لام ترکیب نحوی کے اعتبار سے اس کا مقتضی ہے کہ اس کا تعلق کسی سابق مضمون کے ساتھ ہو اسی لئے اس کے متعلق میں متعدد اقوال ہیں، پچھلی سورت کے ساتھ معنوی تعلق کی بنا پر بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہاں مخدوف جملہ انا اھلکنا اصحب الفیل ہے یعنی ہم نے اصحاب فیل کو اس لئے ہلاک کیا کہ قریش مکہ سردی گرمی کے دو سفروں کے عادی تھے، ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے سب کے دلوں میں ان کی عظمت پیدا ہو جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ مخدوف جملہ اعجبوا ہے یعنی تعجب کرو قریش کے معاملے سے کس طرح سردی گرمی کے سفر آزادانہ بے خطر ہو کر کرتے ہیں اور بعض نے فرمایا کہ اس کا تعلق اس جملہ سے ہے جو آگے آیت میں آ رہا ہے یعنی فلیعبدوا مطلب یہ ہوا کہ قریش کو اس نعمت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا اور اس کی عبادت میں لگ جانا چاہئے اس صورت میں فلیعبدوا کے اوپر حرف فاء اس لئے ہے کہ پہلے جملے میں ایک معنی شرط کے پائے جاتے ہیں بہرحال اس سورت میں میں ارشاد یہ ہے کہ قریش مکہ چونکہ دو سرفوں کے عادی تھے، ایک سردی میں یمن کی طرف دوسرا گرمی میں شام کی طرف اور انہی دو سفروں پر ان کی تجارت اور کاروبار کا مدار تھا اور اسی تجارت کی بنا پر وہ مالدار اور اغنیاء تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمن اصحاب فیل کو عبرتناک سزا دے کر ان کی عظمت لوگوں کے قلوب میں بڑھا دی، یہ پورے ممالک میں جہاں بھی جائیں لوگ ان کی تعظیم تکریم کرتے ہیں۔

قریش کی افضلیت سارے عرب پر:

اس سورت میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تمام قبائل عرب میں قریش اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد اسماعیلؑ میں سے کنانہ کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو انتخاب کر لیا ہے (البغوی عن واثلہ بن اسقع) اور ایک حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمام آدمی قریش کے تابع ہیں خیر و شر میں (راہ مسلم عن جابر، مظہری) اور پہلی حدیث میں جس خداوندی انتخاب کا ذکر ہے غالباً اس کی وجہ ان قبائل کے خاص ملکات اور استعداد دیں ہیں، کفر و شرک اور جہالت کے زمانہ میں بھی ان کے بعض اخلاق اور ملکات نہایت اعلیٰ تھے ان میں قبول حق کی استعداد بہت کامل تھی، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور اولیاء اللہ میں بیشتر لوگ قریش میں سے ہوئے ہیں (مظہری)

۱۰۶: ۰۰۲

اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ۝۲

ترجمہ:

مانوس رکھنا ان کو سفر سے جاڑے کے اور گرمی کے

تفسیر:

رحلة الشتاء والصیف، یہ بات معلوم و معروف ہے کہ مکہ مکرمہ ایک ایسے مقام میں آباد ہے جہاں کوئی زراعت نہیں ہوتی وہاں باغات نہیں جن کے پھل مکہ والوں کو مل سکیں، اسی لئے بانی بیت اللہ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوة والسلام نے مکہ مکرمہ کے آباد ہونے کے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی تھی کہ اس شہر کو جائے امن بنا دے اور اہل مکہ کو ثمرات کا رزق عطا فرمائے ارزق اھل من الثمرات اور باہر سے ہر طرح کے پھل ہیاں لائے جایا کریں یحی الیہ ثمرات کل شئی اس لئے اہل مکہ کے معاش کا مدار اس پر تھا کہ وہ تجارت کے لئے سفر کریں اور اپنی ضروریات وہاں سے لائیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ مکہ والے بڑے افلاس اور تکلیف میں تھے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے جد امجد ہاشم نے قریش کو اس کے لئے آمادہ کیا کہ دوسرے ملکوں سے تجارت کا کام کریں۔ ملک شام ٹھنڈا ملک تھا گرمی کے زمانے میں وہاں اور یمن گرم ملک ہے سردی کے زمانے میں اس طرف تجارتی سفر کرتے اور منافع حاصل کرتے تھے اور چونکہ یہ لوگ بیت اللہ کے خادم ہونے کی حیثیت سے تمام عرب میں مقدس و محترم مانے جاتے تھے تو یہ راستہ کے ہر خطرے سے بھی محفوظ رہتے تھے اور ہاشم چونکہ ان سب کے سردار مانے جاتے تھے ان کا طریقہ یہ تھا کہ اس تجارت میں جو منافع حاصل ہوتے ان کو قریش کے امیر و غریب سب میں تقسیم کر دیتے تھے یہاں تک کہ ان کا غریب آدمی بھی مالداروں کی برابر سمجھا جاتا تھا۔ پھر حق تعالیٰ نے ان پر یہ مزید احسان فرمایا کہ ہر سال کے دو سرفوں کی زحمت سے بھی اس طرح بچا دیا کہ مکہ مکرمہ سے ملے ہوئے علاقہ یمن، تبادلہ اور حرش کو اتنا سرسبز اور زرخیز بنا دیا کہ وہاں کا غلہ ان کی ضرورت سے زائد ہونے کی بناء پر ان کو اس کی ضرورت پڑی کہ یہ غلات وہاں سے لا کر جدہ میں فروخت کریں۔ چنانچہ اکثر ضروریات زندگی جدہ میں ملنے لگیں مکہ والے ان طویل دو سرفوں کے بجائے صرف دو منزل پر جا کر جدہ سے سب سامان لانے لگے۔ آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ نے مکہ والوں پر اسی احسان و انعام کا ذکر فرمایا ہے۔

۱۰۶: ۰۰۳

فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ۝۳

ترجمہ:

تو چاہئے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی

تفسیر:

فلیعبدوا رب ھذا البیت، انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ان کا شکر ادا کرنے کے لئے قریش کو خصوصی خطاب کے ساتھ یہ ہدایت فرمائی کہ اس کے گھر کے مالک کی عبادت کیا کرو۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے رب البیت ہونے کی صفت کو خصوصیت سے اس لئے ذکر فرمایا کہ یہی بیت کعبہ ان کے تمام فضائل اور برکات کا سرچشمہ تھا۔

۱۰۶: ۰۰۴

الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠۝۴

ترجمہ:

جس نے ان کو کھانا دیا بھوک میں اور امن دیا ڈر میں۔

تفسیر:

الذی الطعھم من جوع و امنھم من خوف اس میں قریش مکہ کے لئے دنیا کی ان تمام عظیم نعمتوں کو جمع فرما دیا ہے جو انسان کے خوش عیش رہنے کے لئے ضروری ہیں اطعھم من جوع میں کھانے پینے کی ضروریات داخل ہیں اور امنھم من خوف میں دشمنوں ڈاکوؤں کے خوف سے مامون ہونا بھی شامل ہے اور آخرت کے عذاب سے مامون ہونا بھی۔

فائدہ:

ابن کثیر نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اس آیت کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا میں بھی امن اور بے خوف و خطر رہنے کا سامان فرما دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اور جو اس سے انحراف کرے اس سے یہ دونوں قسم کے امن سلب کر لئے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ضرباللہ مثلاً قریتہ کانت امتہ مطمئنتہ یایتھا رزقھا رغدا من کل مکان فکفرت بانعم اللہ فاذا قھا اللہ لباس الجوع و الخوف بما کانوا یصنعون یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک بستی تھی جو مامون و محفوظ اور ہر خطرہ سے مطمئن تھی اس کا رزق ہر جگہ سے وافر آ جاتا تھا، پھر اس بستی والوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کو بھوک اور خوف کی پریشانی میں مبتلا کر دیا ان کے کرتوت کی بنا پر

فائدہ عظیمہ:

ابو الحسن قزوینی نے فرمایا کہ جس شخص کو کسی دشمن یا اور کسی مصیبت کا خوف ہو اس کے لئے لایلاف قریش کا پڑھنا امان ہے، اس کو امام جزری نے نفل کر کے فرمایا کہ یہ عمل آزمودہ اور جرب ہے۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری میں اس کو نفل کر کے فرمایا کہ مجھے میرے شیخ حضرت مرزا مظہر جان جاناں نے خوف و خطر کے وقت اس سورة کے پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہر بلا و مصیبت کے دفع کرنے کے لئے اس کی قرات مجرب ہے۔ حضرت قاضی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ میں نے بھی بارہا اس کا تجربہ کیا ہے۔

٭٭٭

۱۰۷۔ سورۃ الماعون

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر:

سورة ماعون مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی سات آیتیں ہیں

۱۰۷: ۰۰۱

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ۝۱

ترجمہ:

تو نے دیکھا اس کو جو جھٹلاتا ہے انصاف ہونے کو

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو روز جزاء کو جھٹلاتا ہے سو (آپ اس کا حال سننا چاہیں تو سنئیے کہ) وہ شخص وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاج کو کھانا دینے کی (دوسروں کو بھی) ترغیب نہیں دیتا (یعنی وہ ایسا سنگدل ہے کہ خود وہ کسی غریب کو کیا دیتا دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتا۔ اور جب بندوں کا حق ضائع کرنا ایسا برا ہے تو خالق کا حق ضائع کرنا تو اور زیادہ برا ہے) سو (اس سے ثابت ہوا کہ) ایسے نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھلا بیٹھتے ہیں (یعنی ترک کر دیتے ہیں) جو ایسے ہیں کہ (جب نماز پڑھتے ہیں تو) ریا کاری کرتے ہیں اور زکوٰة بالکل نہیں دیتے (کیونکہ زکوٰة کے لئے شرعاً یہ ضروری نہیں کہ سب کے سامنے ظاہر کر کے دے اس لئے اس کو بالکل نہ دینے سے بھی کوئی اعتراض نہیں کر سکتا بخلاف نماز کے وہ جماعت کے ساتھ علانیہ ادا کی جاتی ہے اس کو بالکل چھوڑ دے تو سب پر نفاق ظاہر ہو جاوے اس لئے نماز کو محض دکھلاوے کے لئے پڑھ لیتا ہے)

معارف و مسائل

اس سورة میں کفار و منافقین کے بعض افعال قبیحہ مذمومہ کا ذکر اور ان پر جہنم کی وعید ہے، یہ افعال اگر کسی مومن سے سرزد ہوں جو تکذیب نہیں کرتا وہ بھی اگرچہ شرعاً مذموم اور سخت گناہ ہیں مگر وعید مذکور ان پر نہیں ہے اسی لئے ان افعال و اعمال سے پہلے ذکر اس شخص کا فرمایا ہے جو دین اور قیامت کا منکر ہے اس کی تکذیب کرتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ضرور ہے کہ یہ اعمال جن کا ذکر آگے رہا ہے مومن کی شان سے بعید ہیں وہ کوئی منکر کافر ہی کر سکتا ہے، وہ اعمال قبیحہ جنا کا اس جگہ ذکر اس سورة میں فرمایا ہے یہ ہیں، یتیم کے ساتھ بد سلوکی اور اس کی توہین۔ مسکین محتاج کر باوجود قدرت کے کھانا نہ دینا اور دوسروں کو اس کی ترغیب نہ دینا، نماز پڑھنے میں ریا کاری کرنا، زکوٰة ادا نہ کرنا یہ سب افعال اپنی ذات میں بھی بہت مذموم اور سخت گناہ ہیں اور جب کفر و تکذیب کے نتیجہ میں یہ افعال سرزد ہوں تو ان کا وبال دائمی جہنم ہے جیسا کہ اس سورة میں اس کو ویل کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے۔

فویل للمصلین، الذین ہم عن صلاتھم ساھون الذین ہم یرآءون یہ حال منافقین کا بیان فرمایا ہے جو لوگوں کو دکھلانے اور اپنے دعوائے اسلام کو ثابت کرنے کے لئے نماز تو پڑھتے ہیں مگر چونکہ وہ نماز کی فرضیت ہی کے معتقد نہیں اس لئے نہ اوقات کی پابندی کرتے ہیں نہ اصل نماز کی، جہاں دکھلانے کا موقع ہوا پڑھ لی، ورنہ ترک کر دی عن صلاتھم میں لفظ عن کا مفہوم یہی ہے کہ اصل نماز ہی سے بے پروائی اختیار کرے جو منافقین کی عادت ہے اور نماز کے اندر کچھ سہو و نسیان ہو جانا جس سے کوئی مسلمان یہاں تک کہ آنحضرتﷺ بھی خالی نہیں، وہ اس کلمہ کی مراد نہیں ہے کیونکہ اس پر وعید ویل جہنم کی نہیں ہو سکتی، اور اگر یہ مراد ہوئی تو عن صلاتھم کے بجائے فی صلاتھم فرمایا جاتا احادیث صحیحہ میں متعدد مرتبہ رسول اللہﷺ سے نماز میں سہو واقع ہونا ثابت ہے ویمنعون الماعون ماعون کے اصل لفظی معنے پشئی قلیل و حقیر کے ہیں اس لئے ماعون ایسی استعمالی اشیاء کو کہا جاتا ہے جو عادتاً ایک دوسرے کو عاریتاً دی جاتی ہیں اور جن کا باہم لین دین عام انسانیت کا تقاضا سمجھا جاتا ہے جیسے کلہاڑی پھاوڑو یا کھانے پکانے کے برتن جن کا ضرورت کے وقت پڑوسیوں سے مانگ لینا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا اور جو اس میں دینے سے بخل کرے وہ بڑا کنجوس کمینہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر آیت مذکورہ میں لفظ ماعون سے مراد زکوة اور زکوة کو ماعون اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ مقدار کے اعتبار سے نسبتاً بہت قلیل ہے یعنی صرف چالیسواں حصہ، حضرت علی، ابن عمر، حضرت بصری، قتادہ ضعاک، غیرہ جمہور مفسرین نے اس آیت میں ماعون کی تفسیر زکوة ہی سے کی ہے (مضہری) اور اس کے نہ دینے پر جو عذاب ویل جہنم کا مذکور ہے وہ بھی ترک فرض ہی پر ہو سکتا ہے اشیاء استعمال کا دوسروں کو دنیا بہت بڑا ثواب اور انسانیت و مروت کے لحاظ سے ضروری سہی مگر فرض و واجب نہیں جس کے روکنے پر جہنم کی وعید ہو اور بعض روایات حدیث میں جو اس جگہ ماعون کی تفسیر استعمالی اشیاء اور بترنوں سے کی گئی ہے اس کا مطلب ان لوگوں کی انتہائی خست کا اظہار ہے کہ یہ زکوة تو کیا دیتے استعمالی اشیاء جن کے دینے میں اپنا کچھ خرچ نہیں ہوتا اس میں بھی کنجوسی کرتے ہیں تو وعید صرف ان اشیاء کے نہ دینے پر نہیں بلکہ زکوة فرض کی عدم ادائیگی اور اس کے ساتھ مزید بخل شدید پر ہے واللہ اعلم۔

۱۰۷: ۰۰۲

فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ۝۲

ترجمہ:

سو یہ وہی ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو

۱۰۷: ۰۰۳

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ۝۳

ترجمہ:

اور نہیں تاکید کرتا محتاج کے کھانے پر

۱۰۷: ۰۰۴

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ۝۴

ترجمہ:

پھر خرابی ہے ان نمازیوں کی

۱۰۷: ۰۰۵

الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ۝۵

ترجمہ:

جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں

۱۰۷: ۰۰۶

الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ۝۶

ترجمہ:

وہ جو دکھلاوا کرتے ہیں

۱۰۷: ۰۰۷

وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠۝۷

ترجمہ:

اور مانگی نہ دیویں برتنے کی چیز۔

٭٭٭

۱۰۸۔ سورۃ الکوثر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر:

سورة کوثر مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی تین آیتیں ہیں

۱۰۸: ۰۰۱

اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۝۱

ترجمہ:

بیشک ہم نے دی تجھ کو کوثر

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

بیشک ہم نے آپ کو کوثر (جنت کی ایک حوض کا نام بھی ہے اور ہر خیر کثیر بھی اس میں شامل ہے) عطا فرمائی ہے (جس میں دنیا و آخرت کی ہر خیر و بھلائی شامل ہے دنیا میں دین اسلام کی بقاء و ترقی اور آخرت میں جنت کے درجات عالیہ سب داخل ہیں) سو (ان نعمتوں کے شکر میں) آپ اپنے پر ورگدار کی نماز پڑھئے (کیونکہ سب سے بڑی نعمت کے شکر میں سب سے بڑی عبادت چاہئے اور وہ نماز ہے) اور تکمیل شکر کے لئے جسمانی عبادت کے ساتھ مالی عبادت یعنی اسی کے نام کی) قربانی کیجئے (جیسا دوسری آیتوں میں عموماً نماز کے ساتھ زکوة کا حکم ہے اس میں زکوة کے بجائے قربانی کا ذکر شاید اس لئے اختیار کیا گیا کہ قربانی میں مالی عبادت ہونے کے علاوہ مشرکین اور مشرکانہ رسوم کی عملی مخالفت بھی ہے کیونکہ مشرکین بتوں کے نام کی قربانی کیا کرتے تھے۔ آگے آنحضرتﷺ کے صاحبزادے قاسم کی بچپن میں وفات پر بعض مشرکین نے جو یہ طعنہ دیا تھا کہ ان کی نسل نہ چلے گی اور ان کے دین کا سلسلہ جلد ختم ہو جائے گا، اس کا جواب ہے کہ آپ بفضلہ تعالیٰ بے نام و نشان نہیں ہیں بلکہ) بالیقین آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے (خواہ ظاہری نسل اس دشمن کی چلے یا نہ چلے لیکن دنیا میں اس کا ذکر خیر باقی نہیں رہے گا۔ بخلاف آپ کے کہ آپ کی امت اور آپ کی یاد نیک نامی، محبت و اعتضاد کے ساتھ آبی رہے گی اور یہ سب نعمتیں لفظ کوثر کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اگر پسری اولاد کی نسل نہ ہو نہ سہی، جو نسل سے مقصود ہے وہ آپ کو حاصل ہے یہاں تک کہ دنیا سے گزر کر آخرت تک بھی، اور دشمن اس سے محروم ہے۔)

معارف و مسائل

شان نزول: ۔ ابن ابی حاتم نے سدی سے اور بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت محمد بن علی بن حسین سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کی اولاد ذکور مر جائے اس کو عرب ابتر کہا کرتے تھے یعنی مقطوع النسل جس وقت نبی کریمﷺ کے صاحبزادے قاسم یا ابراہیم کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تو کفار مکہ آپ کو ابتر کہہ کر طعنہ دینے لگے ایسا کہنے والوں میں عاص بن وائل کا نام خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے اس کے سامنے جب رسول اللہﷺ کا ذکر کیا جاتا تو کہتا تھا کہ ان کی بات چھوڑو یہ کچھ فکر کرنے کی چیز نہیں کیونکہ وہ ابتر (مقطوع النسل) ہیں جب ان کا انتقال ہو جائے گا ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا، اس پو سورة کوثر نازل ہوئی (رواہ البغوی، ابن کثیر و مظہری)

اور بعض روایات میں ہے کہ کعب بن اشرف یہودی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آیا تو قریش مکہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ آپ اس نوجوان کو نہیں دیکھتے جو کہتا ہے کہ وہ ہم سب سے (دین کے اعتبار سے) بہتر ہے حالانکہ ہم حجاج کی خدمت کرنے والے اور بیت اللہ کی حفاظت کرنے والے اور لوگوں کو پانی پلانے والے ہیں۔ کعب نے یہ سن کر کہا کہ نہیں تم لوگ اس سے بہتر ہو، اس پر سورة کوثر نازل ہوئی (ذکرہ ابن کثیر عن البزار باسنا (صحیح و قدر واہ مسلم قالہ مظہری)

خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ جو رسول اللہﷺ کے پسری اولاد نہ رہنے کے سبب ابتر ہونے کے طعنے دیتے تھے یا دوسری وجوہ سے آپ کی شان میں گستاخی کرتے تھے ان کے جواب میں سورة کوثر نازل ہوئی ہے جس میں ان کے طعنوں کا جواب بھی ہے کہ صرف اولاد نرینہ کے نہ رہنے سے آپ کو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر کہنے والے حقائق سے بے خبر ہیں۔ آپ کی نسل نسبی بھی انشاء اللہ دنیا میں تا قیامت باقی رہے گی اگرچہ دختری اولاد سے ہو اور نسل معنوی یعنی آپ پر ایمان لانے والے مسلمان جو در حقیقت نبی کی اولاد معنوی ہوتے ہیں وہ تو اس کثرت سے ہوں گے کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں سے بھی بڑھ جائیں گے اور اس میں رسول اللہﷺ کا اللہ کے نزدیک مقبول اور مکرم و معظم ہونا بھی مذکور ہے جس سے کعب بن اشرف کے قول کی تردید ہو جاتی ہے۔ یہ سب مضمون سورة کی تیسری آیت میں آیا ہے۔

انا اعطینک الکثور، امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر میں وایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ’کوثر وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔‘ ابن عباس کے خاص شاگرد سعید بن خبیر سے کسی نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوثر جنت کی ایک نہ کا نام ہے تے تو سعید بن جبیر نے جواب دیا کہ (ابن عباس کا قول اس کے منافی نہیں بلکہ) وہ نہر جنت جس کا نام کوثر ہے وہ بھی اس خیر کثیر میں داخل ہے اسی لئے امام تفسیر مجاہد نے کوثر کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ دنیا و آخرت دونوں کی خیر کثیر ہے، اس میں جنت کی خاص نہر کوثر بھی داخل ہے۔

حوض کوثر:

بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے۔ مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔

ایک روز جبکہ رسول اللہﷺ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اچانک آپ پر ایک قسم کی نیند یا بیہوشی کی سی کیفیت طاری ہوئی پھر ہنستے ہوئے آپ نے سر مبارک اٹھایا، ہم نے پوچھا یا رسول اللہﷺ آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے، تو فرمایا کہ مجھ پر اسی وقت ایک سورت نازل ہوئی ہے پھر آپ نے بسم اللہ کے ساتھ سورة کوثر پڑھی، پھر فرمایا تم جانتے ہو کوثر کیا چیز ہے ہم نے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم، آپ نے فرمایا یہ ایک نہر جنت ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے جس میں خیر کثیر ہے اور وہ حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز پانی پینے کے لئے آئے گی اس کے پانی پینے کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے اس وقت بعض لوگوں کو فرشتے حوض سے ہٹا دیں گے تو میں کہوں گا کہ میرے پروردگار یہ تو میری امت میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد کیا نیا دین اختیار کیا ہے۔

ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے مزید لکھا ہے،

حوض کی صفت میں روایات حدیث میں آیا ہے کہ اس میں دو پر نالے آسمان سے کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔

اس حدیث سے سورة کوثر کا سبب نزول بھی معلوم ہوا اور لفظ کوثر کی صحیح تفسیر بھی یعنی خیر کثیر، اور یہ بھی کہ اس خیر کثیر میں و حوض کوثر بھی شامل ہے جو قیامت میں امت محمدیہ کو سیراب کرے گی۔ نیز اس روایت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اصل نہر کوثر جنت میں ہے اور یہ حوض کوثر میدان حشر میں ہو گی اس میں دو پرنالوں کے ذریعہ نہر کوثر کا پانی ڈالا جائے گا۔ اس میں ان روایات کی بھی تطبیق ہو گئی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض کوثر پر امت کا درود دخول جنت سے پہلے ہو گا اور اس حدیث میں جو بعض لوگوں کو حوض کوثر سے ہٹا دینے کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو بعد میں اسلام سے پھر گئے یا پہلے ہی سے مسلمان نہیں تھے مگر منافقانہ اظہار اسلام کرتے تھے، آنحضرتﷺ کے بعد ان کا نفاق کھل گیا، واللہ اعلم

احادیث صحیحہ میں حوض کوثر کے پانی کی صفائی اور شیرینی اور اس کے کناروں کا جواہرات سے مرصع ہونے کے متعلق ایسے اوصاف مذکور ہیں کہ دنیا میں ان کا کسی چیز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

اس سورة کا نزول اگر کفار کے طعنوں کے دفاع میں ہو جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ آپ کی اولاد نرینہ فوت ہو جانے کی وجہ سے وہ آپ کو ابتر مقطوع النسل قرار دے کر کہا کرتے تھے کہ ان کا کام چند روزہ ہے پھر کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا تو اس سورة میں آپ کو کوثر عطا فرمانے کا ذکر جس میں حوض کوثر بھی شامل ہے ان طعنہ زنوں کی مکمل تردید ہے کہ ان کی نسل و نسب صرف یہی نہیں کہ دنیا کی عمر تک چلے گی بلکہ ان کی روحانی اولاد کا رشتہ محشر میں بھی محسوس ہو گا جہاں وہ تعداد میں بھی تمام امتوں سے زیادہ ہوں گے اور ان کا اعزاز و اکرام بھی سب سے زیادہ ہو گا۔

۱۰۸: ۰۰۲

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ۝۲

ترجمہ:

سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر

تفسیر:

فصل لربک وانحر، انحر، نحر سے مشتق، اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے جس کا مسنون طریقہ اس کا پاؤں باندھ کر حلقوم میں نیزہ یا چھری مار کر خون بہا دینا ہے جیسا کہ گائے بکری وغیرہ کی قربانی کا طریقہ ذبح کرنا یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے۔ عرب میں چونکہ عموماً قربانی اونٹ کی ہوتی تھی اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ وانحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر مطلقاً قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سورة کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل کے خلاف رسول اللہﷺ کو کوثر یعنی دنیا و آخرت کی ہر خیر اور وہ بھی کثیر مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اس کے شکر کے طور پر آپ کو دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک نماز، دوسری قربانی، نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے اور قربانی مالی عبادتوں میں اس بناء پر خاص امتیاز اور اہمیت رکھتی ہے کہا للہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد بھی ہے کیونکہان کی قربانیاں بتوں کے نام پر ہوتی تھیں۔ اسی لئے قرآن کریم کی ایک اور آیت میں بھی نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر فرمایا ہے ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی لل رب العالمین اس آیت میں وانحر کے معنے قربانی ہونا حضرت ابن عباس، عطار، مجاہد اور حسن بصری وغیرہ سے مستند روایات میں ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے جو وانحر کے معنی نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے بعض ائمہ تفسیر کی طرف منسوب کئے ہیں اس کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا کہ روایت منکر (ناقابل اعتبار) ہے۔

۱۰۸: ۰۰۳

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠۝۳

ترجمہ:

بیشک جو دشمن ہے تیرا وہی رہ گیا پیچھا کٹا۔

تفسیر:

ان شانئک ھو الابتر لفظ شانی کے معنے بغض رکھنے والے عیب لگانے والے کے ہیں یہ آیت ان کفار کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ جو رسول اللہﷺ کو ابتر مقطوع النسل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ اکثر روایات میں عاص بن وائل، بعض میں عقبہ، بعض میں کعب بن اشرف اس کے مصداق ہیں۔ حق تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو کوثر بعنی خیر کثیر عطا کی جس میں اولاد کثیر بھی داخل ہے آپ کے لئے اولاد کی کثرت اس لحاظ سے ہے کہ نسبی اولاد بھی آپ کی ماشاء اللہ کچھ کم نہیں اور پیغمبر چونکہ پوری امت کا باپ ہوتا ہے اور پوری امت اس کی اولاد روحانی اور آپ کی امت پچھلے تمام انبیاء کی امتوں سے تعداد میں زیادہ ہو گی ایک طرف تو ان دشمنوں کی بات کو اس طرح خاک میں ملا دیا دوسری طرف یہ بھی فرما دیا کہ جو لوگ آپ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیتے ہیں وہ ہی ابتر ہیں۔

عبرت:

اب غور کیجئے کہ رسول مقبولﷺ کے ذکر کو حق تعالیٰ نے کیسی رفعت اور عظمت فرمائی کہ آپ کے عہد مبارک سے آج تک پوری دنیا کے چپہ چپہ پر آپ کا نام مبارک پانچ وقت اللہ کے نام کے ساتھ میناروں پر پکارا جاتا ہے اور آخرت میں آپ کو شفاعت کبریٰ کا مقام محمود حاصل ہو گا، اس کے بالمقابل دنیا کی تاریخ سے پوچھئے کہ عاص بن وائل، عقبہ، کب کی اولاد کہاں اور ان کا خاندان کیا ہوا، خود ان کا نام بھی اسلامی روایات سے تفسیر آیات کے ذیل میں محفوظ ہو گی اور نہ دنیا میں آج ان کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں ہے۔

فاعتبروا یا اولی الاصبار

٭٭٭

۱۰۴۔ سورۃ الکافرون

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر:

سورة کافرون مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی چھ آیتیں ہیں

۱۰۹: ۰۰۱

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ۝۱

ترجمہ:

تو کہہ اسے منکرو

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

آپ (ان کافروں سے) کہہ دیجئے کہ اے کافرو (میرا تمہارا طریقہ ایک نہیں ہو سکتا اور) نہ (قوفی الحال) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو اور نہ (آئندہ استقبال میں) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے (مطلب احقر کے نزدیک یہ ہے کہ میں موجد ہو کر شرک نہیں کر سکتا نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک ہو کر موحد نہیں قرار دیئے جا سکتے نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہو سکتے۔) تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرا بدلہ ملے گا (اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنا دی گئی۔)

معارف مسائل

سورت کے فضائل اور خواص:

حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ فجر کی سنتوں میں پڑھنے کے لئے دو سورتیں بہتر ہیں سورة کافرون اور سورة اخلاص (رواہ ابن ہاشم مظہری) اور تفسیر ابن کثیر میں متعدد صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو صبح کی سنتوں میں اور بعد مغرب کی سنتوں میں بکثرت یہ دو سورتیں ڑھتے ہوئے سنا ہے۔ بعض صحابہ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی دعا بتا دیجئے جو ہم سونے سے پہلے پڑھا کریں، آپ نے قل یا ایھا الکفرون پڑھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ شرک سے برأت ہے (رواہ الترمذی و ابو داؤد) اور حضرت جبیر بن مطلعم فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جب سفر میں جاؤ تو وہاں تم اپنے سب رفقاء سے زیادہ خوشحال با مراد رہو اور تمہارا سامان زیادہ ہو جائے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ بیشک میں ایسا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ آخر قرآن کی پانچ سورتیں سورة کافرون، سورة نصر، سورة اخلاص، سورة فلق اور سورة ناس پڑھا کر اور ہر سورة کو بسم اللہ سے شروع کرو اور بسم اللہ ہی پر ختم کرو۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں کہ اس وقت میرا حال یہ تھا کہ سفر میں اپنے دوسروں ساتھیوں کے بالمقابل قلیل الزاد خستہ حال ہوتا تھا۔ جب سے رسول اللہﷺ کی اس تعلیم پر عمل کیا میں سب سے بہتر حال میں رہنے لگا (مضہری بحوالہ ابو یعلی) اور حضرت علی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کو بچھو نے کاٹ لیا تو آپ نے پانی اور نمک منگایا اور یہ پانی کاٹنے کی جگہ لگاتے جاتے تھے اور قل یا ایھا الکافرون قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس پڑھتے جاتے تھے۔ (مظہری)

شان نزول:

ابن اسحاق کی روایت ابن عباس سے یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور اسود بن عبد الطلب اور امیہ بن خلف رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آؤ ہم آپس میں اس پر صلح کر لیں کہ ایک سال آپ ہمارے بتوں کی عبادت کیا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں (قرطبی) اور طبرانی کی روایت حضرت ابن عباس سے یہ ہے کہ کفار مکہ نے اول تو باہمی مصالحت کے لئے رسول اللہﷺ کے سامنے یہ صورت پیش کی کہ ہم آپ کو اتنا مال دیتے ہیں کہ آپ سارے مکہ میں سب سے زیادہ مال دار ہو جائیں اور جس عورت سے آپ چاہیں آپ کا نکاح کر دیں، آپ صرف اتنا کریں کہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہا کریں اور اگر آپ یہ بھی نہیں مانتے تو ایسا کریں کہ ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کیا کریں اور ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیا کریں۔ (مظہری)

اور ابو صالح کی روایت حضرت ابن عباس سے یہ ہے کہ کفار مکہ نے باہمی مصالحت کے لئے یہ صورت پیش کی تھی کہ آپ ہمارے بتوں میں سے بعض کو صرف ہاتھ لگا دیں تو ہم آپ کی تصدیق کرنے لگیں گے، اس پر جبرئیل امین سورة کافرون لے کر نازل ہوئے جس میں کفار کے اعمال سے برات اور خلاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہے شان نزول میں جو متعدد واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ واقعات سبھی پیش آئے ہوں اور ان سب کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی ہو جس کا حاصل ایسی مصالحت سے روکنا ہے۔

لا اعبد ماتعبدون الایۃ اس سورة میں یہ چند کلمات مکرر آئے ہیں اس تکرار کو رفع کرنے کے لئے ایک تفسیر تو وہ ہے جس کو بخایر نے بہت سے مفسرین سے نقل کیا ہے کہ دو کلمے ایک مرتبہ زمانہ لا کے لئے اور دوسری مرتبہ زمانہ مستقبل کے متعلق آئے ہیں اس لئے کوئی تکرار نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو بالفعل ایسا ہو رہا ہے کہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں اور تم میرے معبود کی عبادت کرو، اور نہ آئندہ ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اپنی توحید پر تم اپنے شرک پر قائم رہتے ہئے ایک دوسرے کے معبود کی عبادت کریں۔ اسی تفسیر کو حضرت حکیم الامت نے تفسیر بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے مگر بخاری کی تفسیر میں لکم دینکم ولی دین کی تفسیر دین بمعنے مذہب اسلام و فکر سے کی ہے اور مطلب یہ قرار دیا ہے کہ مصالحت کی مجوزہ صورت قابل قبول نہیں میں تو اپنے دین پر قائم ہوں ہی تم بھی اپنے دین پر مصر ہو تو تم جانور، اس کا انجام تمہیں بھگتنا ہے اور بیان القرآن میں دین کو بمعنے جزاء قرار دیا ہے۔

دوسری تفسیر وہ ہے جس کو ابن کثیر نے اختیار فرمایا ہے کہ حرف مالغت عرب میں جیسا اسم موصول الذی کے معنی میں آتا ہے ایسا ہی کبھی مصدری معنی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ وہ جس فعل پر داخل ہو اس کو بمعنے مصدر کر دیتا ہے۔ اس سورت میں پہلی جگہ تو صرف ما اسم موصول الذی کے معنے میں ہے اور دوسری جگہ مامصدر یہ ہے تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے جملہ لا اعبد ماتعبدون ولا انتم عبدون ما اعبد کے معنے یہ ہوئے کہ جن معبودوں کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا اور جس معبود کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم نہیں کرتے اور دوسرے جملے ولا انا عابد ماعبدتم ولا انتم عبدون ما اعبد میں حرف ما مصدریہ ہے اور معنے یہ ہیں انا عابد عبادتکم ولا انتم عابدون عبادتی، یعنی ہماری اور تمہاری عبادت کے طریقے ہی الگ الگ ہیں، میں تمہارے طرز کی عبادت نہیں کر سکتا اور تم جب تک ایمان نہ لاؤ تو میرے طرز کی عبادت نہیں کر سکتے۔ اس طرح پہلے جملے میں معبودوں کا اختلاف بتلایا اور دوسرے جملے میں عبادت کے طرز و طریقہ کے اختلاف کو ظاہر کیا، حاصل یہ ہوا کہ نہ تمہارے اور ہمارے معبود میں اشتراک ہے نہ طری عبادت میں، اس طرح تکرار رفع ہوا اور طریق عبادت رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کا وہ ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی بتلایا گیا اور مشرکین کے طریقے خود ساختہ ہیں۔

ابن کثیر نے اس تفسیر کو راجح قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ کلمہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے یہی مفہوم نکلتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور طریق عبادت وہ معتبر ہے جو محمد رسول اللہﷺ کے واسطے سے ہم تک پہنچا ہے اور لکم دینکم ولی دین کی تفسیر میں ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسے دوسری جگہ قرآن کریم کا ارشاد ہے فان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم اور دوسری جگہ ہے لنا اعمالنا ولکم اعمالکم اس کا حاصل یہ ہے کہ لفظ دین کو ابن کثیر نے بھی اعمال دین کے معنی میں لیا ہے اور پھر مقصود اس سے وہی ہو گا جو بیان القرآن میں بیان کیا گیا کہ ہر ایک کو اپنے اپنے عمل کی جزا سزا خود بھگتنی پڑے گی۔

اور بعض مفسرین نے ایک تیسری تفسیر یہ اختیار کی کہ صرف ما دونوں جگہ موصولہ ہی ہے اور حال و استقبال کا بھی فرق نہیں بلکہ یہ دو جملے فی المواقع مکرر لائے گئے ہیں مگر ہر تکرار برا نہیں ہوتا، بہت جگہ تکرار تقاضائے بلاغت ہوتا ہے جیسا کہ فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا میں ہے۔ یہاں اس تکرار کا مقصد تاکید مضمون بھی ہے اور یہ بھی کہ کفار کی طرف سے چونکہ ایسی مصالحت کی پیشکش متعدد مرتبہ کی گئی تو متعدد جملوں سے اس کو رد کیا گیا (نقلہ ابن جریر۔ ابن کثیر)

کفار سے معاہدہ صلح کی بعض صورتیں جائز ہیں بعض ناجائز:

سورة کافرون میں کفار کی طرف سے پیش کی ہوئی مصالحت کی چند صورتوں کو بالکلیہ رد کر کے اعلان برأت کیا گیا، مگر خود قرآن کریم میں یہ ارشاد بھی موجود ہے و ان جنحوا للسلم فاجنح لھا، یعنی کفار اگر صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی جھک جایئے (یعنی معاہدہ صلح کر لیجئے) اور مدینہ طیبہ جب آپ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو یہود مدینہ سے آپ کا معاہدہ صلح مشہود و معروف ہے اس لئے بعض مفسرین نے سورة کافرون کو مسنوخ کہہ دیا اور منسوخ کہنے کی بڑی وجہ آیت لکم دینکم ولی دین کو قرار دیا ہے کیونکہ بظاہر یہ احکام جہاد کے منافی ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ یہاں لکم دینکم کا یہ مطلب نہیں کہ کفار کو کفر کی اجازت یا کفر پر برقرار رکھنے کی ضمانت دے دی گئی بلکہ اس کا حاصل وہی ہے جو لنا اعمالنا ولکم اعمالک کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھگتو گے اس لئے راجح اور صحیح جمہور کے نزدیک یہ ہے کہ یہ سورت منسوخ نہیں، جس قسم کی مصالح سورة کافرون کے نزول کا سب بنی وہ جیسے اس وقت حرام تھی آج بھی حرام ہے اور جس صورت کی اجازت آیت مذکورہ میں آئی اور رسول اللہﷺ کے معاہدہ یہود سے عملاً ظاہر ہوئی، وہ جیسے اس وقت جائز تھی آج بھی جائز ہے۔ بات صرف موقع و محل کو سمجھنے اور شرائط صلح جائز ہے بجز اس صلح کے جس کی رو سے اللہ کی حرام کی ہوئی کسی چیز کو حلال یا حلال کی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا گیا ہو۔ اب غور کیجئے کہ کفار مکہ نے صلح کی جو صورتیں پیش کی تھیں، ان سب میں کم از کم کفر و اسلام کی حدود میں التباس یقینی ہے اور بعض صورتوں میں تو اصول اسلام کے خلاف شرک کا ارتکاب لازم آتا ہے، ایسی صلح سے سورة کافرون نے اعلان برأت کر دیا اور دوسری جگہ جس صلح کو جائز قرار دیا اور معاہدہ یہود سے اس کی عملی صورت معلوم ہوئی اس میں کوئی چیز ایسی نہیں جس میں اصول اسلام کا خلاف کیا گیا ہو یا کفر و اسلام کی حدود آپس میں ملتبس ہوئی ہوں۔ اسلام سے زیادہ کوئی مذہب رواداری، حسن سلوک صلح و سلامیت کا داعی نہیں مگر صلح اپنے انسانی حقوق میں ہوتی ہے۔ خدا کے قانون اور اصول دین میں کسی صلح مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں۔ واللہ اعلم

۱۰۹: ۰۰۲

لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ۝۲

ترجمہ:

میں نہیں پوجتا جس کو تم پوجتے ہو

۱۰۹: ۰۰۳

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ۝۳

ترجمہ:

اور نہ تم پوجو جس کو میں پوجوں

۱۰۹: ۰۰۴

وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ۝۴

ترجمہ:

اور نہ مجھ کو پوجنا ہے اس کا جس کو تم نے پوجا

۱۰۹: ۰۰۵

وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ۝۵

ترجمہ:

او نہ تم کو پوجنا ہے اس کا جس کو میں پوجوں

۱۰۹: ۰۰۶

لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠۝۶

ترجمہ:

تم کو تمہاری راہ اور مجھ کو میری راہ۔

٭٭٭

۱۱۰۔ سورۃ النصر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة نصر مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی تین آیتیں ہیں

۱۱۰: ۰۰۱

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ۝۱

ترجمہ:

جب پہنچ چکے مدد اللہ کی

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

(اے محمدﷺ جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح (ع اپنے آثار کے) آ پہنچے اور) اس فتح پر مرتب ہونے والے آثار یہ ہیں کہ) آپ لوگوں کو اللہ کے دین (اسلام) میں جوق جوق داخل ہوتا دیکھ لیں، تو (اس وقت سمجھئے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور آپ کی بعثت کا جو تکمیل دین تھا وہ پورا ہو چکا اور اب سفر آخرت قریب ہے اس کے لئے تیاری کیجئے اور) اپنے رب کی تسبیح و تحمید کیجئے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے (یعنی ایسے امور جو خلاف اولیٰ واقع ہو گئے ان سے مغفرت مانگئے) وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔

معارف و مسائل

یہ سورة با جماع مدنی ہے اور اس کا نام سورة التودیع بھی ہے، تو دیع کے معنی کسی کو رخصت کرنے کے ہیں اس سورة میں چونکہ رسول اللہﷺ کی وفات قریب ہونے کی طرف اشارہ ہے اس لئے اس کو سورة التودیع بھی کہا گیا ہے۔

قرآن مجید کی آخری سورة اور آخری آیات: ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ سورة نصر قرآن کی آخری سورة ہے (قرطبی) مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی مکمل سورة نازل نہیں ہوئی بعض آیات کا نزول جو اس کے بعد ہونا بعض روایات میں ہے وہ اس کے منافی نہیں، جیسا کہ سورة فاتحہ کو قرآن کی سب سے پہلی سورة اسی معنی میں کہا جاتا ہے کہ مکمل سورة سب سے پہلے فاتحہ نازل ہوئی ہے۔ سورة اقراء اور مدثر وغیرہ کی چند آیات کا اس سے پہلے نازل ہونا اس کے منافی نہیں۔

حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ یہ سورة حجۃ الوداع میں نازل ہوئی اس کے بعد آیت الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی، ان دونوں کے نزول کے بعد رسول اللہﷺ اس دنیا میں صرف اسی روز رہے (اسی روز کے بعد وفات ہو گئی) ان دونوں کے بعد آیت کلالہ نازل ہوئی جس کے بعد رسول اللہﷺ کی عمر شریف کے کل پچاس دن رہ گئے تھے اس کے بعد آیت لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم الآیہ نازل ہوئی جس کے بعد عمر شریف کے کل پینتیس روز باقی تھے اس کے بعد آیت اتقوایو ما ترجعون فیہ الی اللہ نازل ہوئی جس کے بعد صرف اکیس روز اور مقاتل کی روایت میں صرف سات روز کے بعد وفات ہو گئی۔ (قرطبی)

اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح میں فتح سے فتح مکہ مراد ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ یہ سورة فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے یا بعد میں لفظ اذا جاء سے بظاہر قبل فتح نازل ہونا معلم ہوتا ہے اور روح المعانی میں بحر محیط سے ایک روایت بھی اس کے موافق نقل کی ہے جس میں اس سورة کا نزول غزوہ خیبر سے لوٹنے کے وقت بیان کیا گیا اور خیبر کی فتح فتح مکہ سے مقدم ہونا معلوم و معروف ہے اور روح المعانی میں بسند عبد ابن حمید حضرت قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آنحضرتﷺ اس سورة کے نزول کے بعد دو سال زندہ رہے اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ اس کا نزول فتح مکہ سے پہلے ہوا کیونکہ فتح مکہ سے وفات تک دو سال سے کم مدت ہے۔ فتح مکہ رمضان ۸ ہجری میں ہوئی اور وفات ربیع الاول ۱۱ ہجری میں اور جن روایات میں اس کا نزول فتح مکہ یا حجۃ الوداع میں نازل ہونا بیان کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے یہ سورة پڑھی ہو گی جس سے لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ ابھی نازل ہوئی ہے۔ مزید تحقیق اس کی بیان القرآن میں مذکورہ ہے۔

متعدد احادیث مرفوعہ اور آثار صحابہ میں ہے کہ اس سورة میں رسول اللہﷺ کی وفات کا وقت قریب آ جانے کی طرف اشارہ ہے کہ اب آپ کی بعثت اور دنیا میں قیام کا کام پورا ہو چکا اب تسبیح و استغفار میں لگ جایئے۔ مقاتل کی روایت میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام کے مجمع کے سامنے اس کی تلاوت فرمائی جن میں حضرت ابو بکر، عمر اور سعد بن ابی وقاص وغیرہ موجود تھے سب اس کو سنکر خوش ہوئے کہ اس میں فتح مکہ کی خوشخبری ہے مگر حضرت عباس رونے لگے۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ رونے کا کیا سبب ہے تو حضرت عباس نے عرض کیا کہ اس میں تو آپ کی وفات کی خبر مضمر ہے آنحضرتﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے یہی مضمون روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس کو حضرت عمر نے سنا تو فرمایا کہ اس سورت کے مفہوم سے میں بھی یہی سمجھتا ہوں (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن صحیح، قرطبی)

۱۱۰: ۰۰۲

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ۝۲

ترجمہ:

اور فیصلہ اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول

تفسیر:

ورایت الناس فتح مکہ سے پہلے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جن کو رسول اللہﷺ کی رسالت اور اسلام کی حقانیت پر تقریباً یقین ہو چکا تھا مگر اسلام میں داخل ہونے سے ابھی تک قریش کی مخالفت کے خوف سے یا کسی تذبذب کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔ فتح مکہ نے وہ رکاوٹ دور کر دی تو فوج فوج ہو کر یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یمن سے سات سو نفر مسلمان ہو کر پہنچے جو راستہ میں اذانیں دیتے اور قرآن پڑھتے ہوئے آئے۔ اسی طرح عام عرب فوج فوج ہو کر داخل اسلام ہوئے۔

۱۱۰: ۰۰۳

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠۝۳

ترجمہ:

تو پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے۔

تفسیر:

جب موت قریب محسوس ہو تو تسبیح و استغفار کی کثرت چاہئے:

فسبح بحمد ربک واستغفرہ حضرت صدیقہ ائشہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے تھے سبحانک ربنا وبحمدک الھم اغفرلی (رواہ البخاری)

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد اٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے ہر وقت میں یہ دعا پڑھتے تھے، سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ اور فرماتے تھے کہ مجھے اس کا حکم کیا گیا اور دلیل میں اذا جاء نصر اللہ کی تلاوت فرماتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہﷺ نے عبادت میں بڑا مجاہدہ فرمایا یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم کر گئے۔ (قرطبی)

٭٭٭

۱۱۱۔ سورۃ اللہب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة اللہب مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی پانچ آیتیں ہیں

۱۱۱: ۰۰۱

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۝۱

ترجمہ:

ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو جائے۔ نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی (مال سے مراد اصل سرمایہ اور کمائی سی مراد اس کا نفع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی سامان اس کو ہلاکت سے نہ بچاوے گا، یہ حالت تو اس کی دنیا میں ہوئی اور آخرت میں) وہ عنقریب (یعنی مرتے ہی) ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہو گا، وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیاں لاد کر لاتی ہے (مراد خار دار لکڑیاں ہیں جن کو وہ رسول اللہﷺ کے راستہ میں بچھا دیتی تھی تاکہ آپ کو تکلیف پہنچے اور دوزخ میں پہنچ کر) اس کے گلے میں (دوزخ کی زنجیر اور طوق ہو گا کہ گویا وہ) ایک رسی ہو گی خوب بٹی ہوئی (تشبیہ شدت اور استحکام میں ہے)

معارف و مسائل

ابولہب کا اصلی نام عبد العزیز تھا، یہ عبد المطلب کی اولاد میں سے ہے۔ سرخ رنگ ہونے کی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب مشہور تھی۔ قرآن کریم نے اس کا اصلی نام اس لئے چھوڑا کہ وہ نام بھی مشرکانہ تھا اور ابو لہب کنیت میں، لہب جہنم سے ایک مناسبت بھی تھی۔ یہ شخص رسول اللہﷺ کا بے حد دشمن اور اسلام کا شدید مخالف، آپ کو سخت ایذائیں دینے والا تھا، جب آپ لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے یہ ساتھ لگ جاتا اور آپ کی تکذیب کرتا جاتا تھا (ابن کثیر)

شان نزول: ۔ صحیحین میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ پر آیت وانذر عشیرتک الاقربین نازل ہوئی تو آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر اپنے قبیلہ قریش کے لوگوں کو آواز دی، بعض روایات میں ہے کہ یا صباحاہ کہہ کر یا بنی عبد مناف اور یا بنی عبد المطلب وغیرہ ناموں کے ساتھ آواز دی (اس طرح آواز دینا عرب میں خطرہ کی علامت سجھا جاتا تھا) سب قریش جمع ہو گئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ دشمن (تم پر چڑھ آیا ہے اور) صبح شام میں تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے کیا آپ لوگ میری تصدیق کرو گے۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا ہاں ضرور تصدیق کریں گے، پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک عذاب شدید سے (جو شرک و کفر پر اللہ کی طرف سے مقرر ہے) یہ سن کر ابو لہب نے کہا تبا لک الھذا جمعتنا ہلاکت ہو تیرے لئے کیا تو نے ہمیں اس کے لئے جمع کیا تھا اور آپ کو مارنے کے لئے ایک پتھر اٹھالیا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔

تبت یدا ابی لھب وتب، ید کے صلی معنی ہاتھ کے ہیں، چونکہ انسان کے سب کاموں میں بڑا دخل ہاتھوں کو ہے اس لئے کسی شخص کی ذات اور نفس کو ید سے تعبیر کر دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے بما قدمت یداک، اور بیہقی نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ابو لہب نے ایک روز لوگوں سے کہا کہ محمدﷺ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد فلاں فلاں کام ہوں گے پھر اپنے ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا کہ ان ہاتھوں میں ان چیزوں میں سے کچھ بھی آیا نہیں پھر اپنے ہاتھوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا تبا لکما ما اری فیکما شیئا مما قال محمد، یعنی تم برباد ہو جاؤ میں تمہارے اندر ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں دیکھتا جن کے ہونے کی خبر محمدﷺ دیتے ہیں اس کی مناسبت سے قرآن کریم نے ہلاکت کو ہاتھوں کی طرف منسوب کیا۔

تب، تباب سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ہلاک و برباد ہو، اس آیت میں پہلا جملہ تبت یدا ابی لھب بطور بددعا کے ہے یعنی ابو لہب ہلاک ہو جائے اور دوسرا جملہ یعنی وتب جملہ خبریہ ہے گویا بددعا کے ساتھ اس کا اظر بھی بتلا دیا کہ وہ ہلاک ہو گیا اور جملہ بددعا کا مسلمانوں کے شفاء غیظ کے لئے ارشاد فرمایا گیا کیونکہ جس وقت ابو لہب نے آپ کی شان میں تبا کہا تو مسلمانوں کے دل کی خواہش تھی کہ وہ اس کے لیے بددعا کریں، حق تعالیٰ نے گویا ان کے دل کی بات خود فرمادی اور ساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی کہ یہ بددعا اس کو لگ بھی گئی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ قرآن نے اس کی ہلاکت و بربادی کی خبر جو پہلے ہی دے دی تھی اس کا اثریہ ہو کہ واقعہ بدر کے ساتھ روز بعد اس کے طوفان کی گلٹی نکلی جس کو عرب عدسہ کہتے ہیں۔ مرض دوسروں کو لگ جانے کے خوف سے سب گھر والوں نے اس کو الگ ڈال دیا یہاں تک کہ اسی بے بسی کی حالت میں مر گیا اوت تین روز تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، جب سڑنے لگا تو مزدوروں سے اٹھوا کر دبوادیا۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر ایک لکڑی سے اس کی لاش کو گڑھے میں ڈال دیا اوپر سے پتھر بھر دیئے (بیان القران بحوالہ روح)

ما اغنی عنہ مالہ وما کسب، ماکسب کے معنے ہیں جو کچھ اس نے کمایا، اس سے مراد وہ منافع تجارت وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں جو مال کے ذریعہ حاصل کئے جاتے ہیں جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں کہا گیا ہے اور اولاد بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ اولاد کو بھی انسان کی کمائی کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ان اطیب ما اکل الرجل من کسیہ وان ولدہ، من کسیہ یعنی جو کھانا آدمی کھاتا ہے اس میں سب سے زیادہ حلال طیب وہ چیز ہے جو آدمی اپنی کمائی سے حاصل کرے اور آدمی کی اولاد بھی اس کے کسب میں داخل ہے یعنی اولاد کی کمائی کھانا بھی اپنی ہی کمائی سے کھانا ہے (قرطبی) اسی لئے حضرت عائشہ، مجاہد، عطاء، ابن سیرین وغیرہ نے اس جگہ ماکسب کی تفسیر اولاد سے کی ہے ابو لہب کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی بہت دیا تھا اولاد بھی، یہی دونوں چیزیں ناشکری کی وجہ سے اس کے فخر و غرور اور وطال کا سبب بنیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جس وقت رسول اللہﷺ نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو ابو لہب نے یہ بھی کہا تھا کہ جو کچھ یہ میرا بھتیجہ کہتا ہے اگر وہ حق ہی ہوا تو میرے پاس مال و اولاد بہت ہے میں اس کو دے کر اپنی جان بچا لوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ما اغنی عنہ مالہ وماکسب یعنی جب اس کو خدا تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو نہ اس کا مال کام آیا نہ اولاد، یہ تو حال اس کا دنیا میں ہوا، آگے آخرت کا ذکر ہے۔

۱۱۱: ۰۰۲

مَاۤ اَغْنٰی عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ۝۲

ترجمہ:

کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو اس نے کمایا

۱۱۱: ۰۰۳

سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ۝۳

ترجمہ:

اب پڑے گا ڈنک مارتی آگ میں

تفسیر:

سیصلے نارا ذات لھب، یعنی قیامت کے بعد یا مرنے کے فوراً بعد قبر ہی میں یہ ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہو گا۔ اس کے نام کی مناسبت سے آگ کے ساتھ ذات لھب کی صفت میں خاص بلاغت ہے۔

۱۱۱: ۰۰۴

وَّ امْرَاَتُهٗ ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ۝۴

ترجمہ:

اور اس کی جورو جو سر پر لئے پھرتی ہے ایندھن

تفسیر:

امراتہ حما لة الحطب، جس طرح ابو لہب کو رسولﷺ سے سخت غیظ اور دشمنی تھی اس کی بیوی بھی اس دشمنی اور رسول اللہﷺ کی ایذارسانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ قرآن کریم کی اس آیت نے بتلایا کہ یہ بد بخت بھی اپنے شوہر کے ساتھ جہنم کی آگ میں جائے گی اس کے ساتھ اس کا ایک حال یہ بتلایا کہ وہ حمالة الحطب ہے۔ جس کے لفظی معنے ہیں سوختہ کی لکڑیاں لادنے والی۔ یعنی آگ لگانے والی، عرب کے محاورات میں چغل خوری کرنے والے کو حمال الحطب کہا جاتا تھا کہ جیسے کوئی سوختہ کی لکڑیاں جمع کر کے آگ لگانے کا سامان کرتا ہے چغل خوری کا عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ اپنی چغل خوری کے ذریعہ افراد اور خاندانوں میں آگ بھڑکا دیتا ہے یہ عورت رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کی ایذا رسائی کے لئے چغل خوری کا کام بھی کرتی تھی۔ اس آیت میں ابو لہب کی بیوی کو حمالة الحطب کہنے کی تفسیر حضرت ابن عباس مجاہد، عکرمہ وغیرہ ایک جماعت مفسرین نے یہی کی ہے کہ یہ چغل خوری کرنے وای تھی، اور ابن زید، ضحاک وغیرہ مفسرین نے اس کو اپنے حقیقی معنے میں رکھا ہے جس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ یہ عورت جنگل سے خاردار لکڑیاں جمع کر کے لاتی اور رسول اللہﷺ کے راستے میں بچھا دیتی تھی تاکہ آپ کو تکلیف پہچنے اس کی اس ذلیل وخسیس حرکت کو قرآن نے حمالة الحطب سے تعبیر فرمایا ہے (قرطبی، ابن کثیر) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا یہ حال جہنم میں ہو گا کہ اپنے شوہر پر جہنم کے درختوں زقوم وغیرہ کی لکڑیاں لا کر ڈالے گی تاکہ اس کی آگ بھڑک جائے جس طرح دنیا میں وہ اس کے کفر وظلم کو بڑھاتی تھی آخرت میں اس کے عذاب کو بڑھائے گی (ابن کثیر)

چغل خوری سخت گناہ کبیرہ:

حدیث صحیح میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جنت میں چغل خورداخل نہ ہو گا اور حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ تین عمل ایسے ہیں جو انسان کے تمام اعمال صالحہ کو برباد کر دیتے ہیں روزہ دار کا روزہ اور وضو والے کا وضو خراب کر دیتے ہیں یعنی غیبت اور چغل خوری اور جھوٹ عطار بن سائب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے رسول اللہﷺ کی اس حدیث کا ذکر کیا جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ لا ید خل الجنة سافک دم ولا مشاء بنمیمة ولا تاجریربی، یعنی تین قسم کے آدمی جنت میں نہ داخل ہوں گے۔ ناحق خون بہانے والا چغل خوری کرنے والا، اور تاجر جو سود کا کاروبار کرے۔ عطا کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا ذکر کر کے شعبی سے بطور تعجب کے دریافت کیا کہ حدیث میں چغلخور کو قاتل اور سود خور کی برابر بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں چغلوخوری تو ایسی چیز ہے کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق اور غصب اموال کی نوبت آ جاتی ہے۔ (قرطبی)

۱۱۱: ۰۰۵

فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠۝۵

ترجمہ:

اس کی گردن میں رسی ہے مونجھ کی۔

تفسیر:

فی جید ھا حبل من مسد، مسد بسکون السین مصدر ہے جس کے معنی رسی یا ڈور بٹنے یا اس کے تار پر تار چڑھا کر مضبوط کرنے کے ہیں اور مسد بفتح میم و سی اس رسی یا ڈور کو کہا جاتا ہے جو مضبوط بنائی گئی ہو خواہ وہ کسی چیز کی ہو، کھجور یا ناریل وغیرہ سے یا آہنی تاروں سے ہر طرح کی مضبوط رسی اس میں داخل ہے (کذا فے القامسو) بعض حضرات نے جو خاص کھجور کی رسی اس کا ترجمہ کیا ہے۔ وہ عرب کی عام عادت کے مطابق کیا گیا ہے اصل مفہوم عام ہے۔ اسی مفہوم عام کے اعتبار سے حضرت ابن عباس عروہ بن زبیر وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں حبل من مسد سے مراد لوہے کے تاروں سے بٹا ہوا رسا ہے اور یہ اس کا حال جہنم میں ہو گا کہ آہنی تاروں سے مضبوط بٹا ہوا طوق اس کے گلے میں ہو گا۔ حضرت مجاہد نے بھی اس کی تفسیر میں فرمایا ہے من مسد ای من حدید (مظہری)

اور شعبی اور مقاتل وغیرہ مفسرین نے اس کو بھی دنیا کا حال قرار دے کر حبل من مسد سے مراد کھجور کی رسی لی ہے اور فرمایا کہ اگرچہ ابو لہب اور اس کی بیوی مالدار غنی اور اپنی قوم کے سردار مانے جاتے تھے مگر اس کی بیوی اپنی خست طبیعت اور کنجوسی کے سبب جنگل سے سوختہ کی لکڑیاں جمع کر کے لاتی اور اس کی رسی کو اپنے گلے میں ڈال لیتی تھی کہ یہ گٹھا سر سے گر نہ جائے اور یہی ایک روز اس کی ہلاکت کا سبب بنا کر لکڑیوں کا گٹھہ سر پر اور رسی گلے میں تھی تھک کر کہیں بیٹھ گئی اور پھر گر کر اس کا گلا گھٹ گیا اور اسی میں مر گئی۔ اس دوسری تفسیر کی رو سے یہ حال اس کا اس کی خست طبیعت اور اس کا انجام بد بیان کرنے کے لئے ہے (مظہری) مگر چونکہ ابو لہب کے گھرانہ صوصا بیوی سے ایسا کرنا مستبعد تھا اس لئے اکثر حضرات مفسرین نے ہلی ہی تفسیر کو اختیار فرمایا ہے۔

٭٭٭

۱۱۲۔ سورۃ الاخلاص

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة اخلاص مکہ میں نازل ہوئی اور اس کی چار آیتیں ہیں

۱۱۲: ۰۰۱

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ۝۱

ترجمہ:

تو کہہ وہ اللہ ایک ہے

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

(اس کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین نے آپ سے کہا کہ اپنے رب کی صفات اور نسب بیان کیجئے اس پر یہ سورت نازل ہوئی، کذا فی الدر المنثور باسانید متعددہ) (آپ ان لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ وہ یعنی اللہ (اپنے کمال ذات و صفات میں) ایک ہے (کمال ذات یہ ہے کہ واجب الوجود ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور کمال صفات یہ کہ علم قدرت وغیرہ اس کے قدیم اور محیط ہیں اور) اللہ بے نیاز ہے (یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں اور اس کے سبب محتاج ہیں) اس کے اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔

معارف و مسائل

شان نزول: ۔ ترمذی حاکم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ سے اللہ تعالیٰ کا نسب پوچھا تھا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ دوسری بعض روایات میں یہ سوال یہود مدینہ کی طرفم نسوب کیا ہے اسی لئے اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حسنب صری، عطار، عکرمہ، جابرؓ نے اس کو مکی کہا ہے اور قتادہ، ضحاک وغیرہ نے مدنی، حضرت ابن عباس کے دو قول منقول ہیں (قرطبی)

بعض روایات میں ہے کہ مشرکین کے سوال میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کس چیز کا بنا ہوا ہغے سونا چاندی یا اور کچھ، ان کے جاب میں یہ سورت نازل ہوئی۔

فضائل سورت:

امام احمد نے حضرت انس سے روایت کیا ہےغ کہ ایک شخص رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے اس سورت (یعنی سورة اخلاص) سے بڑی محبت ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا (ابن کثیر)

ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ سب جمع ہو جاؤ میں تمہیں ایک تہائی قرآن سنائیں گا جو جمع ہو سکتے تھے جمع ہو گئے تو آپ تشریف لائے اور قل ہو اللہ احد الخ کی قرات فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کی برابر ہے (رواہ مسلم فی صحیحہ) ابو داؤد، ترمذی، نسائی نے ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام قل ہو اللہ احد اور معوذتین پڑھ لیا کرے تو یہ اس کے لئے کافی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ یہ اس کو ہر بلا سے بچانے کے لئے کافی ہے (ابن کثیر)

امام امد نے حضرت عقبہ ابن عامر سے رایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو ایسی تین سورتیں بتاتا ہوں کہ جو تو رات، انجیل، زبور اور قرآن سب میں نازل ہوئی ہیں اور فرمایا کہ رات کو اس وقت تک نہ سوؤ جب تک ان تنیوں (معوذتین اور قل ہو اللہ احد) کو نہ پڑھ لو۔ حضرت عقبہ کہتے ہیں کہ اس وقت سے میں نے کبھی ان کو نہیں چھوڑا (ابن کثیر)

قل ہو اللہ احد لفظ قل میں اشارہ ہے رسول اللہﷺ کی نبوت و رسالت کی طرف کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کا حکم ہو رہاے اور لفظ اللہ اس ذات کا نام ہے جو واجب الودود ہی اور تمام کمالات کا جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے۔ احد اور واحد ترجمہ تو دونوں کا ایک ہی کیا جاتا ہے مگر مفہوم کے اعتبار سے لفظ احد کے معنے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ترکیب اور تزیہ سے اور تعدد سے اور کسی چیز کی مشابہت اور مشاکلت سے پاک ہے یعنی وہ کسی ایک یا متعدد مادوں سے نہیں بنا، نہ اس میں تعدد کا کوئی امکان ہے نہ کسی کے مشابہ ہے، یہ جواب ہو گیا ان لوگوں کا جو اللہ تعالیٰ کے متعلق پوچھتے تھے کہ وہ سونے چاندی کا ہے یا کسی جوہر کا۔ اس ایک مختصر جملہ میں ذات و صفات کے سب مباحث آ گئے اور لفظ قل میں نبوت و رسالت کا مسئلہ آ گیا، اس میں غور کرو تو یہ ایک مختصر جملہ ان عظیم الشان مباحث کو حاوی میں جو بڑی بڑی جلدوں میں لکھے جاتے ہیں۔

۱۱۲: ۰۰۲

اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ۝۲

ترجمہ:

اللہ بے نیاز ہے

تفسیر:

اللہ الصمد، لفظ صمد کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں اسی لئے حضرات مفسرین کے اقوال اس میں بہت میں امام حدیث طبرانی نے کتاب السنہ میں ان تمام اقوال کو جمع کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب صحیح ہیں اور ان میں جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ سب ہمارے رب کی صفات ہیں، لیکن اصل معنی صمد کے یہ ہیں کہ جس کی طرف لوگ اپنی حاجات اور ضروریات میں رجوع کری اور جو بڑائی اور سرداری میں ایسا ہو کہ اس سے کوئی بڑا نہیں، خلاصہ یہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ کسی کا محتاج نہ ہو (ابن کثیر)

۱۱۲: ۰۰۳

لَمْ یَلِدْ ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ۝۳

ترجمہ:

نہ کسی کو جنا نہ کسی سے جنا

تفسیر:

لم یلد، ولم یولد، یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نسب نامہ کا سوال کیا تھا کہ اس کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جو تو الدوتناسل کے ذریعہ وجود میں آتی ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے نہ کوئی اس کی الاد۔

۱۱۲: ۰۰۴

لَمْ یَلِدْ ۙ۬ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ۝۳

ترجمہ:

اور نہیں اس کے جوڑ کا کوئی۔

تفسیر:

ولم یکن لہ کفوا احد، کفو کے لفظی معنے مثل اور مماثل کے ہیں، معنے یہ ہیں کہ نہ کوئی اس کا مثل ہے نہ کوئی اس سے مشاکلت اور مشابہت رکھتا ہے۔

سورة اخلاص میں مکمل توحید اور ہر طرح کے شرک کی نفی ہے:

اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنے والے منکرین توحید کی دنیا میں مختلف اقسام ہوئی ہیں۔ سورة اخلاص نے ہر طرح کے مشرکانہ خیالات کی نفی کر کے مکمل توحید کا سب دیا ہے کیونکہ منکرین توحید میں ایک گروہ تو خود اللہ کے وجود ہی کا منکر ہے بعض وجود کے تو قائل ہیں مگر وجوب وجود کے منکر ہیں بعض دونوں کے قائل ہیں مگر کمال صفات کے منکر ہیں۔ بعض یہ سب کچھ مانتے ہیں، مگر پھر عبادت میں غیر اللہ کو شریک ٹھہراتے ہیں، ان سب کے خیالات باطلہ کا رد اللہ احد میں ہو گیا، بعض لوگ عبادت میں بھی کسی کو شریک نہیں کرتے مگر حاجت روا اور کار ساز اللہ کے سوا دوسروں کو بھی سمجھتے ہیں ان کے خیال کا ابطال لفظ صمد میں ہو گیا۔ بعض لوگ اللہ کے لئے اولاد کے قائل ہیں ان کا رد لم یلد میں ہو گیا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

٭٭٭

۱۱۳۔ سورۃ الفلق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر:

سورة فلق مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی پانچ آیتیں ہیں

۱۱۳: ۰۰۱

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ۝۱

ترجمہ:

تو کہہ میں پناہ میں آیا صبح کے رب کی

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

آپ (اپنے استعازہ یعنی اللہ سے پناہ مانگنے کے لئے اور دو رسوں کو بھی یہ استعاذہ سکھلانے کے لئے جس کا حاصل اللہ پر توکل اور مکمل بھروسہ کی تعلیم ہے۔ یوں) کہئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔ تمام مخلوقات کے شر سے اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب وہ رات آ جاوے (رات میں شرور و آفات کا احتمال ظاہر ہے) اور (بالخصوص گنڈے کی) گروہوں پر پڑھ پڑھ کر پھنکنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے (اول تمام مخلوقات کے شر سے پناہ لینے کا ذکر کرنے کے بعد خاص خاص چیزوں کا ذکر شاید بمناسبت مقام یہ ہوا کہ اکثر سحر کی ترتیب اور ترکیب رات کو ہوتی ہے (کذا فی الخازن) تاکہ کسی کو اطلاع نہ ہو اطمینان سے اس کی تکمیل کر سکیں اور گنڈہ پر دم کرنے والی جانوں یا عورتوں کی مناسبت اس لفظ نقاثات کا موصوف نفوس بھی ہو سکتے ہیں جو مرد و عورت دونوں کو شامل ہیں اور عورتیں بھی اس کی موصوف ہو سکتی ہیں اور رسول اللہﷺ پر جو یہودیوں نے سحر کیا تھا اس کا اصل منشاء حسد تھا۔ اس طرح سحر کے متعلقہ جتنی چیزیں تھیں سب سے استعاذہ ہو گیا اور باقی شرور آفات کو شامل کرنے کے لئے من شرما خلق فرما دیا اور آیت میں جو اللہ کی صفت رب الفلق یعنی صبح کا مالک ذکر کی گئی حالانکہ اللہ تو صبح اور شام سبھی چیزوں کا رب اور مالک ہے۔ اس تخصیص میں شاید اشارہ اس طرف ہو کہ جیسے اللہ تعالیٰ رات کی اندھیری کا ازالہ کر کے صبح کی روشنی نکال دیتا ہے اسی طرح سحر کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔

معارف و مسائل

یہ سورت فلق اور اس کے بعد کی سورة ناس دونوں سورتیں ایک ساتھ ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ حافظ ابن قیم نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر یکجا لکھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ ان دونوں سورتوں کے منافع اور برکات اور سب لوگوں کو ان کی حاجت و ضرورت ایسی ہے کہ کوئی انسان ان سے مستغنی نہیں ہو سکتا ان دونوں سورتوں کو سحر اور نظر بد اور تمام آفات جسمانی و روحانی کے دور کرنے میں تاثیر عظیم ہے اور حقیقت کو سمجھا جائے تو انسان کو اس کی ضرورت اپنے سانس اور کھانے پینے اور لباس سب چیزوں سے زیادہ ہے اس کا واقعہ مسند احمد میں اس طرح آیا ہے کہ نبی کریمﷺ پر ایک یہودی نے جادو کر دیا تھا جس کے اثر سے آپ بیمار ہو گئے۔ جبرئیل امین نے آ کر آپ کو اطلاع کی کہ آپ پر ایک یہودی نے جادو کیا ہے اور جادو کا عمل جس چیز میں کیا گیا ہے وہ فلاں کوئیں کے اندر ہے۔ آنحضرتﷺ نے وہاں آدمی بھیجے وہ یہ جادو کی چیز کنوئیں سے نکال لائے اس میں گر ہیں لگی ہوئی تھیں آنحضرتﷺ نے ان گرہوں کو کھول دیا اسی وقت آپ بالکل تندرست ہو کر کھڑے ہو گئے (اور اگرچہ جبرئیلؑ نے آپ کو اس یہودی کا نام بتلا دیا تھا اور آپ اس کو جانتے تھے مگر اپنے نفس کے معاملے میں کسی سے انتقام لینا آپ کی عادت نہ تھی اس لئے) عمر بھر اس یہودی سے کچھ نہیں کہا اور نہ کبھی اس کی موجودگی میں آپ کے چہرہ مبارک سے کسی شکایت کے آثار پائے گئے (وہ منافق ہونے کی وجہ سے حاضر باش تھا) اور صحیح بخاری کی روایت حضرت عائشہ سے یہ ہے کہ آپ پر ایک یہودی نے سحر کیا تو اس کا اثر آپ پر یہ تھا کہ بعض اوقات آپ محسوس کرتے تھے کہ فلاں کام کر لیا ہے مگر وہ نہیں کیا ہوتا۔ پھر ایک روز آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا ہے کہ میری بیماری کیا ہے اور فرمایا کہ (خواب میں) دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا، ایک پاؤں کی طرف، سرہانے والے نے دوسرے سے کہا کہ ان کو کیا تکلیف ہے، دوسرے نے کہا کہ یہ مسحور ہیں، اس نے پوچھا کہ سحر ان پر کس نے کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ لبید ین اعصم نے جو یہودیوں کا حلیف منافق ہی اس نے پوچھا کہ کس چیز میں جادو کیا ہے، اس نے بتلایا کہ ایک کنگھے اور اس کے دندانوں میں، پھر اس نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو اس نے بتلایا کہ کھجور کے اس غلاف میں جس میں کھجور کا پھل پیدا ہوتا ہے برذروان (ایک کنوئیں کا نام ہے) میں ایک پتھر کے نیچے مدفون ہے۔ آپ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے اور اس کو نکال لیا، اور فرمایا کہ مجھے خواب میں یہی کنواں دکھلایا گیا تھا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ نے اس کا اعلان کیوں نہ کر دیا (کہ فلاں شخص نے یہ حرکت کی ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفا دے دی اور مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی شخص کے لئے کسی تکلیف کا سبب بنوں (مطلب یہ تھا کہ اس کا اعلان ہوتا تو لوگ اس کو قتل کر دیتے یا تکلیف پہنچاتے) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ کا یہ مرض چھ مہینے تک رہا اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ جن صحابہ کرام کو معلوم ہو گیا تھا کہ یہ کام لبید ین اعصمم نے کیا ہے انہوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ ہم اس خبیث کو کیوں قتل نہ کر دیں، آپ نے وہی جواب دیا جو صدیقہ عائشہ کو دیا تھا اور امام ثعلبی کی روایت میں ہے کہا یک لڑکا آنحضرتﷺ کی خدمت کرتا تھا، اس منافقع یہودی نے اس کو بہلا پھسلا کر رسول اللہﷺ کا کنگھا اور کچھ اس کے دندانے اس سے حاصل کر لئے اور ایک تانت کے تار میں گیارہ گرہیں لگائیں، ہر گرہ میں ایک سوئی لگائی، کنگھے کے ساتھ اس کو کھجور کے پھل کے غلاف میں رکھ کر ایک کنوئیں میں پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دو سورتیں نازل فرمائیں جن میں گیارہ آیتیں ہیں، آپ ہر گزہ پر ایک ایک آیت پڑھ کر ایک ایک کھولتے رہے یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ سے اچانک ایک بوجھ سا اتر گیا (یہ سب روایتیں تفسیر ابن کثیر سے لی گئی ہیں۔)

سخر کے اثر سے متاثر ہو جانا نبوت و رسالت کے منافی نہیں:

جو لوگ سحر کی حقیقت سے ناواقف ہیں ان کو تعجب وتا ہے کہ رسول اللہﷺ پر جادو کا اثر کیسے ہو سکتا ہے۔ سحر کی حقیقت اور اس کے اقسام و احکام پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر معارف القرآن جلد اول ص ۲۱۷ تا ۲۲۳ میں بیان کئے جا چکے ہیں وہاں دیکھ لئے جائیں۔ خلاصہ اس کا جس کا جاننا یہاں ضروری ہے اتنا ہے کہ سحر کا اثر بھی اسباب طبیعہ کا اثر ہوتا ہے جیسے آگ سے جلنا یا گرم ہونا، پانی سے سرد ہونا۔ بعض اسباب طبعیہ سے بخار آ جانا یا مختلف قسم کے درود و امراض کا پیدا ہو جانا ایک امر طبعی ہے جس سے پیغمبر و انبیاء مستثنیٰ نہیں ہوتے اسی طرح سحر و جادو کا اثر بھی اسی قسم سے ہے اس لئے کوئی بعید نہیں۔

معوذتین ہر قسم کی دنیوی اور دینی آفات سے حفاظت کا قلعہ ہیں، ان کے فضائل:

یہ تو ہر مومن کا عقیدہ ہے کہ دنیا و آخرت کا ہر نفع نقصان اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بغیر اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ایک ذرہ کا نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا تو دنیا و آخرت کی تمام آفات سے محفوظ رہنے کا اصل ذریعہ ایک ہی کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں دے دے اور اپنے عمل سے اس کی پناہ میں آنے کے قابل بننے کی کوشش کرے۔ ان دونوں سورتوں میں پہلی یعنی سورة فلق میں تو دنیاوی آفات سے اللہ کی پناہ مانگنے کی تعلیم ہے اور دوسری سورت یعنی سورة ناس میں اخروی آفات سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ مستند احادیث میں ان دونوں سورتوں کے بڑے فضائل اور برکات منقول ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر کی حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ خبر ہے کہ آج کی رات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل فرمائی ہیں کہ ان کی مثل نہیں دیکھی یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس اور ایک روایت میں ہے کہ تورات۔ انجیل اور زبور اور قرآن میں بھی ان کی مثل کوئی دوسری سورت نہیں ہے۔ ایک دوسرے روایت انہی حضرت عقبہ سے ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہﷺ نے ان کو معوذتین پڑھائی اور پھر مغرب کی نماز میں انہی دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ ان سورتوں کو سونے کے وقت بھی پڑھا کرو اور پھر اٹھنے کے وقت بھی (رواہ النسائی) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں سورتوں کو ہر نماز کے بعد پڑھنے کی تلقین فرمائی (رواہ ابو داؤد النسائی)

اور حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو جب کوئی بیماری پیش آتی تو یہ دونوں سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کر کے سارے بدن پر پھیر لیتے تھے پھر جب مرض وفات میں آپ کی تکلیف بڑھی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر دم کر دیتی تھی آپ اپنے تمام بدن پر پھیر لتے تھے۔ میں یہ کام اس لئے کرتی تھی کہ حضرت کے مبارک ہاتھوں کا بدل میرے ہاتھ نہ ہو سکتے تھے (رواہ الامام مالک) (یہ سب روایتیں تفسیر ابن کثیر سے نقل کی گئی ہیں) اور حضرت عبد اللہ بن حبیب سے روایت ہے کہ ایک رات میں بارش اور سخت اندھیری تھی ہم رسول اللہﷺ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے، جب آپ کو پا لیا تو آپ نے فرمایا کہ کہو، میں نے عرض کیا کہ کیا کہوں، آپ نے فرمایا قل ہو اللہ احد اور معوذتین پڑھو، جب صبح ہو اور جب شام ہو تین مرتبہ یہ پڑھنا تمہارے لیے ہر تکلیف سے امان ہو گا (رواہ الترمذی ابو داؤد و النسائی۔ مظہری)

خلاصہ یہ ہے کہ تمام آفات سے محفوظ رہنے کے لئے یہ دو سورتیں رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کا معمول تھیں۔ آگے سورت کے الفاظ کے ساتھ تفسیر دیکھئے۔

قل اعوذ برب الفلق فلق کے لفظی معنے پھٹنے کے ہیں مراد رات کی پو پھٹنا اور صبح کا نمودار ہونا جیسا ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت فالق الاصباح آئی ہے۔ اس کلمہ میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات میں سے اس کو اختیار کرنے کی حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رات کی اندھیری اکثر شرور و آفات کا سبب بنتی ہے اور صبح کی روشنی اس کو دور کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں یہ اشارہ ہے کہ جو اس کی پناہ مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی تمام آفات کو دور فرما دے گا (مظہری)

لفظ شر کے معنی

از علامہ ابن قیم: ۔ من شرما خلق، علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ لفظ شر دو چیزوں کے لئے عام اور شامل ہے۔ ایک آلام و آفات، جن سے براہ راست انسان کو رنج و تکلیف پہنچتی ہے دوسرے وہ چیزیں جو آلام و آفات کے موجباب اور اسباب ہیں۔ اس دوسری قسم میں کفر و شرک اور تمام معاصی بھی لفظ شر کے مفہوم میں داخل ہیں۔ قرآن و حدیث میں جن چیزوں سے پناہ کا ذکر آیا ہے وہ ان دونوں قسموں سے کسی ایک میں داخل ہوتی ہیں کہ یا تو وہ خود آفت یا مصیبت ہوتی ہیں یا اس کے لئے سبب موجب ہوتی ہیں۔ نماز کے آخر میں جو دعا، استعاذہ مسنون ہے اس میں چار چیزیں مذکورہ ہیں۔ عذاب قبر، عذاب نار، فتنہ المحیا و الممات ان میں پہلی دو چیزیں خو مصیبت و عذاب ہیں اور آخری دو چیزیں مصیبت و عذاب کے اسباب ہیں۔

۱۱۳: ۰۰۲

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ۝۲

ترجمہ:

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے بنائی

تفسیر:

من شر ما خلق کے لفظ میں ساری مخلوقات کا شر داخل ہے اس لئے یہ کلمہ تمام شرور آفتاب سے پناہ لینے کے لئے کافی تھا مگر اس جگہ تین چیزوں کو ممتاز کر کے ان کے شر سے پناہ مانگنے کا علیحدہ ذکر فرمایا جو اکثر آفات و مصائب کا سبب بنتی ہیں۔ پہلے فرمایا من شر غاسق اذا وقب اس میں لفظ غاسق غسق سے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کا پھیل جانا اور چھا جانا ہے اس لئے غاسق کے معنی حضرت ابن عسا اور حسن اور مجاہد نے رات کے لئے ہی اور وقب وقوب کے مشتق ہے جس کے معنی اندھیری کے پوری طرح بڑھ جانے کے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں رات سے جبکہ اس کی اندھیری پوری ہو جاوے رات کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی وقت جناب و شیاطین اور موذی جانوروں اور حشرات الارض اور چوروں ڈاکوؤں کے پھیلنے اور دشمنوں کے حملہ کرنے کا وقت ہوتا ہے اور جادو کی تاثیر بھی رات میں زیادہ ہوتی ہے صبح ہوتے ہی ان چیزوں کا تسلط ختم ہو جاتا ہے (ابن قیم) دوسری چیز یہ فرمائی کہ ومن شر النفثت فی العقد، نفاثات، نفث سے مشتق ہے جس کے معنی پھونک مارنے کے ہیں۔ اور عقد عقدة کی جمع ہے جس کے معنی گرہ کے ہیں جادو کرنے والے ڈورے وغیرہ میں گرہ لگا کر اس پر جادو کے کلمات پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ نفاثات فی العقد کے معنی ہوئے گروہوں پر پھونکنے والیاں مراد جادو کرنے والیاں ہیں اور لفظ نفاثات کا موصوف نفوس بھی ہو سکتا ہے جس میں مرد عورت دونوں داخل ہیں اس صورت میں جادو کرنے والیوں سے مراد جادو کرنے والی جانیں ہوں گی اور ظاہر یہ ہے کہ اس کا موصوف عورتیں ہیں۔ عورتوں کی تخصیص شاید اس لئے کی گئی کہ جادو کا کام عموماً عورتیں کرتی ہیں اور کچھ خلقتہ عورتوں کو اس سے مناسبت بھی زیادہ ہے اور یا اس لیے کہ رسول اللہﷺ پر جادو کرنے کا جو واقعہ ان سورتوں کا سبب نزول ہوا اس میں جادو کرنے والیاں ولید بن اعصم کی لڑکیاں تھیں جنہوں نے باپ کے کہنے سے یہ کام کیا تھا اس لئے اس جادو کی نسبت ان کی طرف کر دی گئی اور جادو کرنے والوں سے پناہ مانگنے کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ سبب نزول یہی جادو کا واقعہ ہے اور یہ بھی کہ اس کا شر اور ضرر اس لئے زیادہ ہے کہ انسان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی بے خبری کی وجہ سے اس کے ازالہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی، وہ بیماری سمجھ کر دو ادوار میں لگا رہتا ہے اور تکلیف بڑھ جاتی ہے۔

تیسری چیز جو خصوصیت کے ساتھ ذکر کی گئی وہ حاسد اور حسد ہے اس کی تخصیص کی وجہ بھی یہی دونوں ہو سکتی ہیں کیونکہ آپ پر جادو کرنے کا اقدام اسی حسد کے سبب سے ہوا۔ یہود و منافقین آپ کی اور مسلمانوں کی ترقی کو دیکھ کر جلتے تھے اور ظاہری جنگ و قتال میں آپ پر غالب نہیں آ سکے تو جادو کے ذریعہ اپنی حسد کی آگ کو بجھانا چاہا اور رسول اللہﷺ کے حاسد دنیا میں بیشمار تھے اس لئے بھی خصوصیت سے پناہ مانگی گئی نیز حاسد کا حسد اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا وہ ہر وقت اس کو نقصان پہچانے کے در پے رہتا ہے اس لئے یہ ضرر شدید بھی ہے۔

حسد کہتے ہیں کسی کی نعمت و راحت کو دیکھ کر جلنا اور یہ چاہنا کہ اس سے یہ نعمت زائل ہو جائے چاہے اس کو بھی حاصل نہ ہو، یہ حسد حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور یہ سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں کیا گیا اور سب سے پہلا گناہ ہے جو زمین میں کیا گیا، کیونکہ آسمان میں ابلیس نے حضرت آدمؑ سے حسد کیا اور زمین پر ان کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل سے کیا (قرطبی) حسد سے ملتا جلتا غبطہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ یہ نعمت مجھے بھی حاصل ہو جائے یہ جائز ہے بلکہ مستحسن ہے۔

یہاں تین چیزوں سے خصوصی پناہ مانگنے کا ذکر ہے مگر پہلی اور تیسری میں تو ایک ایک قید کا ذکر کیا گیا۔ پہلی غاسق کے ساتھ اذا وقب فرمایا اور تیسری میں حاسد کے ساتھ اذا حسد فرمایا اور درمیانی چیز یعنی جادو کرنے والوں میں کوئی قید ذکر نہیں فرمائی۔ سبب یہ ہے کہ جادو کی مضرت عام ہے اور رات کی مضرت اسی وقت ہوتی ہے جب اندھیری پوری ہو جائے، اسی طرح حاسد کا حسد جب تک وہ اپنے حسد کی وجہ سے کسی ایذا پنچانے کا اقدام نہ کرے اس وقت تک تو اس کا نقصان خد اسی کی ذات کو پہنچتا ہے کہ دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلتا کڑھتا ہے، البتہ محسود کو اس کا نقصان اس وقت پہنچتا ہے جبکہ وہ مقتضائی حسد پر عمل کر کے ایذا رسانی کی کوشش کرے اس لئے پہلی اور دوسری چیز میں یہ قیدیں لگا دی گئیں۔

۱۱۳: ۰۰۳

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ۝۳

ترجمہ:

اور بدی سے اندھیرے کی جب سمٹ آئے

۱۱۳: ۰۰۴

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ۝۴

ترجمہ:

اور بدی سے عورتوں کی جو گرہوں میں پھونک ماریں

۱۱۳: ۰۰۵

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠۝۵

ترجمہ:

اور بدی سے برا چاہنے والے کی جب لگے ٹوک لگانے۔

٭٭٭

۱۱۴۔ سورۃ الناس

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة الناس مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کی چھ آیتیں ہیں

۱۱۴: ۰۰۱

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۝۱

ترجمہ:

تو کہہ میں پناہ میں آیا لوگوں کے رب کی

تفسیر:

خلاصہ تفسیر

آپ کہئے کہ میں آدمیوں کے مالک، آدمیوں کے بادشاہ، آدمیوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے (پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ کہ حدیث میں ہے کہ اللہ کا نام لینے سے شیطان ہٹ جاتا ہے) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ (وسوسہ ڈالنے والا) جن ہو یا آدمی (یعنی جس طرح میں شیاطین الجن سے پناہ مانگتا ہوں، اسی طرح شیاطین الانس سے بھی پناہ مانگتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ جنات اور انسان دونوں میں شیاطین ہونے کا ذکر ہے وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن)

معارف و مسائل

سورة فلق میں دنیوی آفات و مصائب سے پناہ مانگنے کی تعلیم ہے اور اس صورت میں اخری و آفات سے پناہ مانگنے کی تاکید ہے اور جیسا کہ لفظ شر کا مفہوم سورة فلق میں بیان کیا گیا ہے کہ آلام اور موجبات آلام دونوں کو شامل ہے اس سورت میں اس شر سے پناہ مانگی گئی ہے جو تمام گناہوں کا سبب ہے یعنی شیطان وساوس و اثرات، چونکہ آخرت کی مضرت اشد ہے اس لئے اس کی تاکید پر قرآن ختم کیا گیا۔

قل اعوذ برب الناس رب کے معنی پالنے والے اور ہر حال کی اصلاح کرنے والے کے ہیں اس جگہ رب کی اضافت ناس کی طرف کی گئی اور پہلی سورت میں فلق کی طرف وجہ یہ ہے کہ سورة فلق میں ظاہری اور جسمانی آفات سے پناہ مانگتا مقصود ہے اور وہ انسان کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جانوروں کو بھی بدنی آفات و مصائب پہنچتے ہیں بخلاف وسوسہ شیطانی کے کہ اس کا نقصان انسان کے ساتھ مخصوص ہے اور جنات بھی اس میں شامل ہیں۔ اس لئے یہاں رب کی اضافت ناس کی طرف کی گئی۔ (مظہری عبن البیضاوی)

۱۱۴: ۰۰۲

مَلِكِ النَّاسِۙ۝۲

ترجمہ:

لوگوں کے بادشاہ کی

تفسیر:

ملک الناس یعنی لوگوں کا بادشاہ

۱۱۴: ۰۰۳

اِلٰهِ النَّاسِۙ۝۳

ترجمہ:

لوگوں کے معبود کی

تفسیر:

الہ الناس لوگوں کا معبود، ان دو صفتوں کا اضافہ اس لئے کیا گیا کہ لفظ رب جب کسی خاص چیز کی طرف منسوب ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا بھی دوسروں کے لئے بولا جاتا ہے جیسا رب الدار گھر کے مالک کو، رب المال، مالک کے مالک کو کہا جاتا ہے اور ہر مالک بادشاہ نہیں ہوتا اس لئے ملک کا اضافہ کیا کہ وہ رب یعنی مالک بھی ہے اور ملک یعنی بادشاہ بھی، پھر ہر بادشاہ معبود نہیں ہوتا اس لئے تیسری صفت ذکر فرمائی الہ الناس، ان تینوں صفتوں کو جمع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان میں سے ہر صفت حفاظت کی داعی ہے کیونکہ ہر مالک اپنے مملوک کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی طرح ہر بادشاہ اپنی رعیت کی حفاظت کرتا ہے اور معبود کا اپنے عابد کے لئے محافظ ہونا تو سب سے اظہر ہے۔ یہ تینوں صفتیں صرف حق تعالیٰ میں جمع ہیں اس کے سوا کوئی ان صفتوں کا جامع نہیں اس لئے اس کی پناہ حاصل کرنا سب سے بڑی پناہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان تین صفتوں کے ساتھ پناہ مانگنا دعا کی قبولیت کے لئے اقرب ہے کہ یا اللہ آپ ہی ان صفات کے جامع ہیں ہم صرف آپ ہی سے پنا ہمانگتے ہیں۔ یہاں جبکہ پہلے جمہ میں رب الناس آ ڈکا تو بظاہر تقاضا مقام کا یہ تھا کہ آگے اس کی طرف ضمیریں راجع کرنے سے کام لیا جاتا ملکم والھم فرمایا جاتا مگر اس لفظ کا بار بار تکرار اس لئے ہے کہ مقام دعا اور مدح و ثناء کا ہے اس میں تکرار رہی بہتر ہے اور بعض حضرات نے لفظ ناس کے بار بار تکرار میں یہ لطیفہ بیان کیا ہے کہ سا سورت میں یہ لفظ پانچ مرتبہ آیا ہے۔ پہلے لفظ ناس سے مراد بچے ہیں اور لفظ رب اور ربوبیت اس کا قرینہ ہے کیونکہ پرورش کی حاجت سب سے زیادہ بچوں کو ہوتی ہے اور دوسرے لفظ ناس سے جوان مراد ہیں، اور لفظ ملک اس کا قرینہ ہے جو ایک سیاست کے معنی رکھتا ہے وہ جو ان کے مناسب ہے اور تیسرے لفظ باس سے بوڑھے مراد ہیں جو دنیا سے منقطع ہو کر عبادت میں مشغول ہوں اور لفظ الہٰ اس کا قرینہ ہے جو عبادت لہ طرف مشیر ہے اور چوتھے لفظ ناس سے مراد اللہ کے صالح بندے ہیں اور لفظ وسوسہ اس کا قرینہ ہے کیونکہ شیطان نیک بندوں کا دشمن ہے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالنا اس کا مشغلہ ہے اور پانچویں لفظ ناس سے مراد مفسد لوگ ہیں کیونکہ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

۱۱۴: ۰۰۴

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ۝۴

ترجمہ:

بدی سے اس کی جو پھسلائے اور چھپ جائے

تفسیر:

من شرالوسو اس الخناس، اللہ تعالیٰ کی تین صفات ذکر کر کے اب اس کا بیان ہے جس سے پناہ مانگنا مقصود ہے وہ ہے وسو اس خناس، وسو اس مصدر در اصل بمعنی وسوسہ ہے یہاں شیطان کو وسواس مبالغتاً فرمایا گویا کہ وہ سراپا وسوسہ ہے اور وسوسہ کے معنی شیطان کا اپنی اطاعت کی طرف ایک مخفی کلام کے ذریعہ بلانا ہے جس کا مفہوم انسان کے دل میں آ جائے اور کوئی آواز سنائی نہ دے (قرطبی)

خناس، خنس کے مشتق ہے جس کے معنی پیچھے لوٹنے کے ہیں۔ شیطان کو خناس اس لئے کہا گیا کہ اس کی عادت یہ ہے کہ انسان جب اللہ کا نام لیتا ہے تو پیچھے بھاگتا ہے پھر جب ذرا غفلت ہوئی پھر آ جاتا ہے پھر وہ اللہ کا نام نام لیتا ہے تو پھر پیچھے لوٹ جاتا ہے یہی عمل مسلسل جاری رکھتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان کے قلب میں دو گھر ہیں ایک میں فرشتہ رہتا ہے دوسرے میں شیطان (فرشتہ اس کو نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور شیطان برے کاموں کی) پھر جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب تک وہ ذکر اللہ میں مشغول نہی ہوتا تو اپنی چونچ انسان کے دل پر رکھ کر اس میں برائیوں کے وسوسے ڈالتا ہے (رواہ ابو یعلی عن انس مرفوعاً مظہری)

۱۱۴: ۰۰۵

الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ۝۵

ترجمہ:

وہ جو خیال ڈالتا ہے لوگوں کے دل میں

۱۱۴: ۰۰۶

مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠۝۶

ترجمہ:

جنوں میں اور آدمیوں میں۔

تفسیر:

من الجنۃ والناس: ۔ یہ بیان ہے وسو اس کا یعنی وسوسہ ڈالنے والے جنات میں سے بھی ہوتے ہیں، اور انسانوں میں سے بھی، تو حاصل اس کا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی تلقین فرمائی کہ اللہ سے پناہ مانگیں جنات شیاطین کے شر سے بھی اور انسانی شیاطین کے شر سے بھی۔ اگر یہ شبہ ہو کہ وسوسہ جناتی شیاطین کی رف سے ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ مخفی طور پر انسان کے قلب میں کوئی مخفی کام ڈال دلیں، مگر انسانی شیاطین تو کھلم کھلا سامنے آ کر بات کرتے ہیں ان کا وسوسہ سے کیا تعلق ہے تو جواب یہ ہے کہ انسانی شیاطین بھی اکثر ایسی باتیں کسی کے سامنے کرتے ہیں جن سے اس کے دل میں کسی معاملے کے متعلق ایسے شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں جن کو وہ صراحتاً نہیں کہتے اور شیخ عز الدین بن عبد السلام نے اپنی کتاب (الفوائد فی مشکلات القرآن) میں فرمایا کہ انسانی شیطان کے شر سے مراد خود اپنے نفس کا وسوسہ ہے کیونکہ جس طرح شیطان جن انسان کے دل میں برے کاموں کی طرف رغبت ڈالتا ہے اسی طرح خود انسان کا اپنا نفس بھی برے ہی کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے اسی لئے رسول اللہﷺ نے خود اپنے نفس کے شر سے بھی پناہ مانگنا سکھلایا ہے حدیث میں ہے اللھم اعوذ بک من شر نفسی و شرالشیطان و شرکہ، یعنی یا اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے بھی اور شیطان کے شر اور شرک سے بھی۔

شیطانی وساوس سے پناہ مانگنے کی بڑی اہمیت:

ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں انسان کو اس کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفتیں (ب، ملک، الہ ذکر کر کے اس سے شیطانی وساوس اور وسائس سے پناہ مانگنا چاہئے کیونکہ ہر انسان کے ساتھ ایک قرین (ساتھی) شیطان لگا ہوا ہے جو ہر قدم پر اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ انسان کو تباہ و برباد کر دے، اول تو اس کو گناہوں کی رغبت دیتا ہے اور طرح طرح سے اس کو بہلا کر گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، اگر اس میں کامیاب نہ ہوا تو انسان جو طاعات و عبادت کرتا ہے اس کو خراب اور ضائع کرنے کے لئے ریاء و نمود اور غرور و تکبر کے وسوسے سے دل میں ڈالتا ہے علم والوں کے دلوں میں عقائد حقہ کے متعلق شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے شر سے وہی بچ سکتا ہے جس کو اللہ ہی بچائے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی ایسا نہیں جس پر اس کا قرین (ساتھی) شیطان مسلط نہ ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا آپ کے ساتھ بھی یہ قرین ہے۔ فرمایا، ہاں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری اعانت فرمائی اور اس کو ایسا کر دیا کہ وہ بھی مجھے بجز خیز کے کسی بات کو نہیں کہتا۔

صحیحین میں حضرت انس کی حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ مسجد میں معتکف تھے ایک رات میں ام المومنین حضرت صفیہ آپ کی زیارت کے لئے مسجد میں گئیں واپسی کے وقت رسول اللہﷺ ان کے ساتھ ہوئے، گلی میں دو انصاری صحابی سامنے آ گئے تو آپ نے آواز دے کر فرمایا، ٹھہرو میرے ساتھ صفیہ بنت حیی ہیں، ان دونوں نے بکمال ادب عرض کیا سبحان اللہ یا رسول اللہ (یعنی کیا آپ نے ہمارے بارے میں یہ خیال کیا کہ ہم کوئی بدگمانی کریں گے) رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بیشک کیونکہ شیطان انسان کے خون کے ساتھ اس کی رگ و پے میں اثر انداز ہوتا ہے، مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ بدگمانی کا پیدا کر دے (اس لئے میں نے بتلا دیا کہ کوئی غیر عورت میرے ساتھ نہیں)

فائدہ: ۔ جیسا کہ خود برے کاموں سے بچنا انسان کے لئے ضروری ہے اسی طرح مسلمانوں کو اپنے بارے میں بدگمانی کا موقع دینا بھی درست نہیں، ایسے مواقع سے بچنا چاہئے جس سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہو اور کوئی ایسا موقع آ جائے تو بات واضح کر کے تہمت کے مواقع کو ختم کر دینا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث نے شیطانی وسوسہ کا بڑا خطرناک ہونا ثابت کیا ہے جس سے بچنا آسان نہیں۔ بجز خدا کی پناہ کے۔

تنبیہ: ۔ یہاں جس وسوسہ سے ڈرایا گیا ہے اس سے مراد وہ خیال ہے جس میں انسان با اختیار خود مشغول ہو اور غیر اختیاری وسوسہ و خیال جو دل میں آیا اور گزر گیا وہ کچھ مضر نہیں، نہ اس پر کوئی گناہ ہے۔

لطیفہ، سورة فلق اور ناس کے تعوذات میں ایک فرق:

سورة فلق میں تو اللہ تعالیٰ، جس کی پناہ مانگی گئی ہے اس کی صرف ایک صفت پر اکتفا کیا گیا یعنی رب الفلق، اور جن چیزوں سے پناہ مانگی گئی وہ بہت ہیں جن کو اولاً من شرما خلق میں اجمالاً ذکر کیا، پھر ان میں سے خاص تین آفات کو الگ بیان فرمایا اور سورة ناس میں جس چیز سے پناہ مانگی گئی ہے وہ تو صرف ایک ہی ہے یعنی وسواس اور جس کی پناہ مانگی ہے اس کی اس جگہ تین صفات بیان کر کے پناہ کی دعا کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا شر سب شرور و آفات سے بڑھا ہوا ہے، اول تو اس لئے کہ اور آفات و مصائب کا اثر تو انسان کے جسم اور دنیاوی امور پر پڑتا ہے بخلاف شیطان کے کہ یہ انسان کی دنیا کی آفات کا تو کچھ نہ کچھ علاج مادی بھی انسان کے قبضہ میں ہے اور وہ کرتا رہتا ہے بخلاف شیطان کے کہ اس کے ماقبل کی کوئی مادی تدبیر انسان کے بس کی نہیں، وہ تو انسان کو دیکھتا ہے انسان اس کو نہیں دیکھتا وہ انسان کے باطن میں غیر معلوم طریقہ پر تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے اس کا علاج صرف اللہ کا ذکر اور اس کی پناہ لینا ہے۔

انسان کے دو دشمن، انسان اور شیطان اور دونوں دشمنوں کا الگ الگ علاج: ۔

انسان کا دشمن انسان بھی ہوتا ہے اور شیطان بھی اس کا دشمن ہی حق تعالیٰ نے انسانی دشمن کو اول تو حسن خلوق اور مدارات اور ترک انتقام و صبر کے ذریعہ رام کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور جواں تدبیروں سے باز نہ آئے اس کے ساتھ جہاد و قتال کا حکم دیا ہے۔ بخلاف دشمن شیطانی کے اس کا مقابلہ صرف استعاذہ اور اللہ کی پناہ لینے سے تلقین کیا گیا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں قرآن کریم کی تین آیتیں اس مضمون کی لکھی ہیں جن میں ان دونوں دشمنوں کا ذکر کر کے انسانی دشمن کا دفاع حسن خلق ترک انتقام اور اس کے ساتھ احسان کا سلوک کرنا بتلایا اور اس کے مقابلے میں شیطان کا دفاع استعاذہ تلقین فرمایا، ابن کثیر نے فرمایا کہ پورے قرآن میں یہ تین ہی آیتیں اس مضمون کی آئی ہیں۔ ایک آیت سرہ اعراب میں ہے کہ اول فرمایا، خذ العفو وا امر بالعرف و اعرض عن الجھلین یہ تو انسانی دشمن کے مقابلے کی تدبیر ارشاد فرمائی جس کا حاصل عفو و درگزر اور اس کو نیک کام کی تلقین اور اس کی برائی سے چشم پوشی بتلائی۔ اسی آیت میں آگے فرمایا واما ینزعنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ ان سمیع علیم یہ تلقین دشمن شیطانی کے مقابلے میں فرمائی جس کا حاصل اللہ سے پناہ مانگنا ہے۔ دوسری آیت سورة قد افلح المومنون میں اول دشمن انسانی کے مقابلے کے علاج میں فرمایا ادفع بالتھی احسن السئۃ یعنی برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو پھر دشمن شیطانی کے مقابلے کے لئے فرمایا وقل رب اعوذ بک من ھمزت الشیطین واعوذ بک رب ان یحضرون یعنی اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کی چھیڑ سے اور اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں اور تیسری آیت سورة حم سجدہ کی ہے جس میں اول دشمن انسانی کی مدافعت کے لئے ارشاد فرمایا ادفع بالتی ہی احسن فاذ الذین بینک وبینہ عداوة کانہ ولی حمیم یعنی تم برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو اگر ایسا کر لو گے تو مشاہدہ ہو گا کہ تمہارا دشمن تمہارا مخلص دوست بن جائے گا۔ اسی آیت میں دوسرا جز دشمن شیطانی کے مقابلے میں یہ فرمایا واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ انہ ہو السمیع العلیم یہ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو سورة اعراف میں شیطان کے مقابلے کے لئے ارشاد فرمائے ہیں اور حاصل اس کا یہ ہے کہ اس کا مقابلہ بجز استعاذہ کے کچھ نہیں (ابن کثیر)

ان تینوں آیتوں میں انسانی دشمن کا علاج عفو و درگزر اور حسن سلوک سے بتلایا گیا ہے کیونکہ انسانی فطرت یہی ہے کہ حسن خلق اور احسان سے مغلوب ہو جاتا ہے اور جو شریر النفس فطری انسانی صلاحیت کھو بیٹھے ہوں ان کا علاج دوسری آیات میں جہاد و قتال بتلایا گیا ہے کیونکہ وہ کھلے دشمن ہیں، کھلے ساز و سامان کے ساتھ سامنے آتے ہیں ان کی قوت کا مقابلہ قوت سے کیا جا سکتا ہے۔ بخلاف شیطان العین کے کہ وہ اپنی فطرت میں شریر ہے احسان اور عفو و درگزر اس پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈالتا ہے جس سے یہ اپنی شرارت سے باز آ جائے اور نہ ظاہری مقابلہ اس کا جہاد و قتال سے ہو سکتا ہے یہ دونوں قسم کی نرم و گرم تدبیریں صرف انسانی دشمن کے مقابلے میں چلتی ہیں شیطان کے مقابلے میں نہیں چلتی اس لئے اس کا علاج صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا اور ذکر اللہ میں مشغول ہو جانا ہے جو پورے قرآن میں تلقین کیا گیا ہے اور اسی پر قرآن کو ختم کیا گیا ہے۔

انسانی اور شیطانی دشمن کے مقابلے میں انجام کے اعتبار سے بڑا فرق:

اوپر قرآنی تعلیمات میں انسانی دشمن کا دفاع اول احسان اور صبر جمیل سے بتلایا گیا ہے اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو جہاد و قتال سے اور دونوں صورتوں میں مقابلہ کرنے والا مومن کامیاب ہی کامیاب ہے بالکل ناکامی مومن کے لئے ممکن ہی نہیں کیونکہ دشمن سے مقابلہ میں یہ غالب آ گیا تب تو اس کی کامیابی کھلی ہوئی ہے اور اگر شکست کھا گیا یا مقبول بھی ہو گیا تو آخرت کا اجر و ثواب اور شہادت کے فضائل اس کو اتنے بڑے ملیں گے جو دنیا کی کامیابی سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ غرض انسانی دشمن کے مقابلے میں ہار جانا بھی مومن کے لئے کوئی مضرت نہیں، بخلاف شیطان کے کہ اس کی خوشامد اور اس کو راضی کرنا بھی گناہ ہے اور اس کے مقابلے میں ہار جانا تو آخرت کو تباہ کر لینا ہے یہی وجہ ہے جس کے لئے دشمن شیطانی کی مدافعت کے واسطے حق تعالیٰ ہی کی پناہ لینا علاج ہے اس کی پناہ کے سامنے شیطان کی ہر تدبیر ضعیف و بے اثر ہے۔

کید شیطانی ضعیف ہے:

مذکورہ وجود سے کسی کہ یہ خیال نہ ہونا چاہئے کہ شیطان کی طاقت بڑی ہے اس کا مقابلہ مشکل ہے اسی خیال کو دفع کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ان کید الشیطن کان ضعیفا اور والوں اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں پر یعنی اللہ کی پناہ لینے والوں پر شیطان کا کوئی تسلط نہیں ہوتا ارشاد ہے فاذا قرات القران فاسعذ باللہ من الشیطن الرجیم، انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون، انما سلطنہ علی الذین یتولونہ والذین ہم بہ مشرکون، یعنی جب تو قرآن پڑھنے لگے تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے اس کا زور نہیں چلتا ان پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک مانتے ہیں۔

سورة نحل کی تفسیر معارف القرآن جلد پنجم ص ۳۸۷ میں اس آیت کی پوری تشریح اور استعاذہ کے مسائل اور شرعی احکام کی تفصیل گزر چکی ہے اس کو دیکھ لیا جاوے۔

قرآن کریم کے فاتحہ اور خاتمہ میں مناسبت:

قرآن کریم کو حق تعالیٰ نے سورة فاتحہ سے شروع فرمایا ہے جس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد اس کی مدد حاصل کرنا اور اس سے صراط مستقیم کی توفیق مانگنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور صراط مستقیم یہی دو چیزیں ہیں جن میں انسان کی دنیا و دین کے سب مقاصد کی کامیابی مضمر ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کے حصول میں اور حصول کے بعد اس کے استعمال میں ہر قدم پر شیطان لعین کے مکرو فریب اور وسوسوں کا جال بچھا رہتا ہے اس لئے اس جال کو پاش پاش کرنے کی مؤثر تدبیر استعاذہ پر قرآن کو ختم کیا گیا۔

٭٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید