اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ (اردو) اور القلم قرآن ۲ (عربی) میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

القلم قرآن ۲

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


ترجمان القرآن ۔۔۔ مولانا ابو الکلام آزادؔ

مشہور زمانہ قرآن کی تفسیر

ترجمان القرآن

از قلم

مولانا ابو الکلام آزادؔ

حصہ اول

(سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ)

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل
پی ڈی ایف فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل
کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں ……

ترجمان القرآن

حصہ اول: فاتحہ (ام الکتاب) اور سورۃ البقرہ

مولانا ابو الکلام آزادؔ

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

۲۔ سورۃ البقرۃ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الٓمّٓۚ۝۱ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ۛۖۚ فِیْهِ ۛۚ هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَۙ۝۲ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ۝۳ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ۝۴ اُولٰٓىِٕكَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْ ۗ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۵ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۝۶ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ ؕ وَ عَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ؗ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠۝۷

۱      الف۔  لام۔  میم۔

۲      یہ الکتاب ہے۔  اس میں کوئی شبہ نہیں۔  متقی انسانوں پر (سعادت کی) راہ کھولنے والی

۱۔ یہ کتاب متقی انسانوں پر فلاح و سعادت کی راہ کھولنے والی ہے۔  متقین، قبولیت حق کے لحاظ سے انسانوں کی پہلی قسم

۳      (متقی انسان وہ ہیں) جو غیب (کی حقیقتوں) پر ایمان رکھتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ روزی انہیں دے رکھی ہے اسے (نیکی کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں

۴      نیز وہ لوگ جو اس (سچائی) پر ایمان رکھتے ہیں۔  جو تم پر (یعنی پیغمبر اسلام پر) نازل ہوئی ہے اور ان تمام (سچائیوں پر) جو تم سے پہلے (یعنی پیغمبر اسلام سے پہلے) نازل ہو چکی ہیں اور (ساتھی ہی) آخرت (کی زندگی) کے لیے بھی ان کے اندر یقین ہے

۵      تو یقیناً یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے (ٹھہرائے ہوئے) راستہ پر ہیں اور یہی ہیں ( دنیا اور آخرت میں) کامیابی پانے والے

۶      (لیکن) وہ لوگ  جنہوں نے (ایمان کی جگہ) انکار کی راہ اختیار کی (اور سچائی کے سننے اور قبول کرنے کی استعداد کھودی) تو (ان کے لیے ہدایت کی تمام صدائیں بیکار ہیں) تم انہیں (انکار حق کے نتائج سے) خبردار کرو یا نہ کرو وہ ماننے والے نہیں

۲۔ دوسری قسم منکرین حق کی جو قبولیت کی استعداد کے لحاظ سے پہلی قسم کی ضد ہیں

۷      ان کے دلوں اور کانوں پر اللہ نے مہر لگا دی اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا سو (جن لوگوں نے اپنا یہ حال بنا لیا ہے) وہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتے۔  کامیابی کی جگہ، ان کے لیے عذاب جانکاہ ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ۝۸ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ۝۹ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ۝۱۰ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۝۱۱ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ۝۱۲ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ۝۱۳ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ۝۱۴ اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۝۱۵ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۝۱۶ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ۝۱۷ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ۝۱۸ اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ۝۱۹ یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠۝۲۰

۸      (ان دو قسم کے آدمیوں کے علاوہ) کچھ لوگ   ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مومن نہیں

۳۔ تیسری قسم ان لوگوں کی جو اگرچہ خدا پرستی کا دعوی کرتے ہیں مگر فی الحقیقت اس سے محروم ہیں

۹      وہ (ایمان کا دعوی کر کے) اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود دھوکے میں پڑے ہیں اگرچہ (جہل و سرکشی سے) اس کا شعور نہیں رکھتے

۱۰     ان کے دلوں میں (انکار کا) روگ ہے۔  پس اللہ نے (دعوت حق کامیاب کر کے) انہیں اور زیادہ رو گی کر دیا اور ان کے عذاب جانکاہ ہو گا اس لیے کہ اپنی نمائش میں سچے نہیں

۱۱     جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں خرابی  نہ پھیلاؤ (اور بد عملیوں سے باز آ جاؤ) تو کہتے ہیں (ہمارے کام خرابی کا باعث کیسے ہو سکتے ہیں) ہم تو سنوارنے والے ہیں۔

۱۲     یاد رکھو یہی لوگ ہیں جو خرابی   پھیلانے والے ہیں اگرچہ (جہل و سرکشی سے اپنی حالت کا) شعور نہیں رکھتے

۴۔ وہ مفسد ہیں مگر اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں

۱۳     اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ایمان کی راہ اختیار کرو جس طرح اور لوگوں نے اختیار کی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح (یہ) بے وقوف  آدمی ایمان لے آئے ہیں (یعنی جس طرح ان لوگوں نے بے سر و سامانی و مظلومی کی حالت میں دعوت حق کا ساتھ دیا اسی طرح ہم بھی بے وقوف بن کر ساتھ دے دیں؟) یاد رکھو فی الحقیقت یہی لوگ بے وقوف ہیں اگرچہ (جہل و غرور کی سرشاری میں اپنی حالت کا) شعور نہیں رکھتے

۵۔ وہ راست بازی کو بے وقوفی اور اور نفاق کو دانشمندی سمجھتے ہیں

۱۴     جب یہ لوگ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو (دعوت حق پر) ایمان   لا چکے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔  لیکن جب اپنے شیطانوں کے ساتھ اکیلے میں بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہمارا اظہار ایمان اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ہم تمسخر کرتے تھے

۶۔ راست بازوں کی تحقیر اور ایمان والوں کا تمسخر ان لوگوں کا شیوہ ہے

۱۵     (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ خود انہی کے ساتھ تمسخر ہو رہا ہے کہ اللہ (کے قانون جزا) نے رسی ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے اور سرکشی (کے طوفان میں) میں بہکے چلے جا رہے ہیں

۱۶     (یقین کرو) یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی۔  لیکن نہ تو ان کی تجارت فائدہ مند نکلی نہ ہدایت ہی پر قائم رہے

۱۷     ان لوگوں   کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی (رات کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا۔  اس) نے (روشنی کے لیے) آگ سلگائی لیکن جب (آگ سلگ گئی اور اس کے شعلوں سے) آس پاس روشن ہو گیا تو قدرت الٰہی سے ایسا ہوا کہ (اچانک شعلے بجھ گئے، اور) روشنی جاتی رہی۔  نتیجہ یہ نکلا کہ روشنی جاتی رہی۔  نتیجہ یہ نکلا کہ روشنی کے بعد اندھیرا چھا گیا اور آنکھیں اندھی ہو کر رہ گئیں کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا

۷۔ تیسری قسم کے لوگوں کی محرومی ایک مثال

۱۸     بہرے، گونگے، اندھے ہو کر رہ گئے۔  پس (جن لوگوں کی محرومی و شقاوت کا یہ حال ہے) وہ کبھی اپنی گم گشتگی سے لوٹ نہیں سکتے

۱۹     یا پھر ان لوگوں کی مثال ایسی سمجھو جیسے آسمان سے پانی کا برسنا کہ اس کے ساتھ کالی گھٹائیں اور بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک ہوتی ہے (فرض کرو دنیا پانی کے لیے بے قرار تھی۔  اللہ نے اپنی رحمت سے بارش کا سماں باندھ دیا۔  تو اب ان لوگوں کا حال یہ ہے بارش کی برکتوں کی جگہ صرف اس کی ہولنا کیاں ہی ان کے حصے میں آئی ہیں) بادل جب زور سے گرجتے ہیں تو موت کا ڈر انہیں دہلا دیتا ہے (اس کی گرج تو روک سکتے نہیں) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگتے ہیں۔  حالانکہ (اگر بجلی گرنے والی ہی ہو تو ان کے کان بند کر لینے سے رک نہیں جائے گی) اللہ کی قدرت تو (ہر حال میں) منکروں کو گھیرے ہوئے ہے

۸.     حق کے ظہور اور محروموں کی محرومی کی دوسری مثال۔  کائنات خلقت کی ہولنا کیاں بھی خیر و برکت کے لیے ہیں، لیکن محروموں کے حصے میں خوف و سراسیمگی کے سوا کچھ نہیں آتا۔

۲۰     (جب) بجلی (زور سے چمکتی ہے تو ان کی خیرگی کا یہ حال ہوتا ہے گویا) قریب ہے کہ بینائی اچک لے۔  اس کی چمک سے جب فضا روشن ہو جاتی ہے تو دوچار قدم چل لیتے ہیں۔  جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو (ٹھٹک کر) رک جاتے ہیں۔  اگر اللہ چاہے تو یہ بالکل بہرے اندھے ہو کر رہ جائیں۔  اور یقیناً اللہ ہر بات پر قادر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۝۲۱ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۲ وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۲۳ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ۝۲۴ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۝۲۵ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ۝۲۶ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ ۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۲۷ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۝۲۸ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠۝۲۹

۲۱     اے افراد نسلِ انسانی! اپنے پروردگار کی عبادت کرو (اس پروردگار کی) جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان سب کو بھی پیدا کیا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (اور اس لیے پیدا کیا) تاکہ اس کی نا فرمانی  سے بچو

۹.     توحید الٰہی کی تلقین اور خالقیت اور ربوبیت سے استدلال جس کا یقین انسان کی فطرت میں ہے

۲۲     وہ پروردگار عالم، جس نے تمہارے لیے زمین فرش کی طرح بچھا دی، اور آسمان کو چھت کی طرح بلند کر دیا اور (پھر تم دیکھ رہے ہو کہ وہی ہے) جو آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے زمین شاداب ہو جاتی ہے اور طرح طرح کے پھل تمہاری غذا کے لیے پیدا ہو جاتے ہیں۔  پس (جب خالقیت اسی کی خالقیت ہے اور ربوبیت اسی کی ربوبیت تو) ایسا نہ کرو کہ اس کے ساتھ کسی دوسری ہستی کو شریک اور ہم پایہ بناؤ۔  اور تم جانتے ہو کہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے!

۲۳     اور (دیکھو) اگر تمہیں اس (کلام) کی سچائی میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر (یعنی پیغمبر اسلام پر) نازل کیا ہے۔  تو (اس کا فیصلہ بہت آسان ہے۔  اگر یہ محض ایک انسانی دماغ کی بناوٹ ہے، تو تم بھی انسان ہو۔  زیادہ نہیں) اس کی سی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن (طاقتوں) کو تم نے اپنا حمایتی سمجھ رکھا ہے ان سب کو بھی اپنی مدد کے لیے بلا لو

۱۰.    رسالت اور وحی

۲۴     اور پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور حقیقت یہ ہے کہ کبھی نہ کر سکو گے، تو اس آگ کے عذاب سے ڈرو جو (لکڑی کی جگہ) انسان اور پتھر کے ایندھن سے سلگتی ہے، اور منکرین حق کے لیے تیار ہے

۲۵     (لیکن ہاں) جن لوگوں نے (انکار و سرکشی کی جگہ) ایمان کی راہ اختیار کی، اور ان کے کام بھی اچھے ہوئے، تو ان کے لیے (آگ کی جگہ ابدی راحت کے) باغوں کی بشارت ہے۔  (سر سبز و شاداب باغ) جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور اس لیے وہ کبھی خشک ہونے والے نہیں) جب کبھی ان باغوں کا کوئی پھل ان کے حصے میں آئے گا (یعنی بہشتی زندگی کی کوئی نعمت ان کے حصے میں آئے گی) تو بول اٹھیں گے، یہ تو وہ نعمت ہے جو پہلے ہمیں دی جاچکی ہے (یعنی نیک عملی کا وہ اجر ہے جس کے ملنے کی ہمیں دنیا میں خبر دی جا چکی ہے) اور (یہ اس لیے کہیں گے کہ) باہم دگر ملتی جلتی ہوئی چیزیں ان کے سامنے آئیں گی (یعنی جیسا کچھ ان کا عمل تھا، ٹھیک ویسی ہی بہشتی زندگی کی نعمت بھی ہو گی) علاوہ بریں ان کے لیے نیک اور پارسا بیویاں ہوں گی اور ان کی راحت ہمیشگی کی راحت ہو گی کہ اسے کبھی زوال نہیں!

۲۶     اللہ  (کا کلام جو انسانوں کو ان کی سمجھ کے مطابق مخاطب کرنا چاہتا ہے) اس بات سے نہیں جھجکتا کہ کسی (حقیقت کے سمجھانے کے لیے کسی حقیر سے حقیر کی) مثال سے کام لے۔  مثلاً مچھر کی، یا اس سے بھی زیادہ کسی حقیر چیز کی پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ (مثالیں سن کر ان کی دانائی میں غور کرتے ہیں اور) جان لیتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہے ان کے پروردگار کی طرف سے ہے۔  لیکن جن لوگوں نے انکار حق کی راہ اختیار کی ہے تو وہ (جہل اور کج فہمی سے حقیقت نہیں پا سکتے۔  وہ) کہتے ہیں بھلا ایسی مثال بیان کرنے سے اللہ کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ بس کتنے ہی انسان ہیں جن کے حصے میں اس سے گمراہی آئے گی اور کتنے ہی ہیں جن پر اس (کی سمجھ بوجھ سے) راہ (سعادت) کھل جائے گی۔  اور (خدا کا قانون یہ ہے کہ) وہ گمراہ نہیں کرتا مگر انہی لوگوں کو جو (ہدایت کی تمام حدیں توڑ کر) فاسق ہو گئے ہیں

۱۱.    سنت الٰہی یہ ہے کہ وحی کا کلام انسانی بول چال کے مطابق ہوتا ہے اور بیان حقائق کے لیے مثالیں ضروری ہیں

۲۷     (فاسق کون ہیں؟ فاسق وہ ہیں) جو احکام الٰہی کی اطاعت کا عہد کر کے پھر اسے تور ڈالتے ہیں اور جن رشتوں کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کے کاٹنے میں بے باک ہیں اور (اپنی بد عملیوں اور سرکشیوں سے) ملک میں فساد پھیلاتے ہیں سو (جن لوگوں کی شقاوتوں کا یہ حال ہے وہ ہمیشہ گمراہی کی چال ہی چلیں گے۔  اور فی الحقیقت) یہی لوگ ہیں جے کے لیے سر تا سر نامرادی اور نقصان ہے

۲۸     (اے افراد نسل انسانی!) تم کس طرح اللہ سے (اور اس کی عبادت سے) انکار کر سکتے ہو جبکہ حالت یہ ہے کہ تمہارا وجود نہ تھا، اس نے زندگی بخشی پھر وہی ہے جو زندگی کے بعد موت طاری کرتا ہے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی بخشے گا، اور بالآخر تم سب کو اسی کے حضور لوٹنا ہے

۱۲.    آخرت کی زندگی، اور پہلی پیدائش سے دوسری پیدائش پر استدلال

۲۹     (اور دیکھو) یہ اسی (پروردگار) کی کارفرمائی ہے کہ اس نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں (تاکہ جس طرح چاہو ان سے کام لو) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان درست کر دیے (جن سے طرح طرح کے فوائد تمہیں حاصل ہوتے ہیں) اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

۱۳.    زمین کی مخلوقات میں نوع انسانی برتری اور مخلوقات ارضی کا اس لیے ہونا تاکہ انسان انہیں اپنے کام میں لائے۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۳۰ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلٰٓىِٕكَةِ ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۳۱ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ۝۳۲ قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۝۳۳ وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ ؕ اَبٰی وَ اسْتَكْبَرَ ؗۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ۝۳۴ وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا ۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۝۳۵ فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ ۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ۝۳۶ فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۝۳۷ قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًی فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۝۳۸ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠۝۳۹

۳۰     (اور اے  پیغمبر اس حقیقت پر غور کر) جب ایسا ہوا تھا کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا:  ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘ فرشتوں نے عرض کیا ’’کیا ایسی ہستی کو خلیفہ بنایا جا رہا ہے جو زمین خرابی پھیلائے گی اور خونریزی کرے گی؟ حالانکہ ہم تیری حمد و ثنا کرتے ہوئے تیری پاکی و قدوسی کا اقرار کرتے ہیں (کہ تیری مشیت برائی سے پاک اور تیرا کام نقصان سے منزہ ہے)‘‘ اللہ نے کہا ’’میری نظر جس حقیق پر ہے، تمہیں اس کی خبر نہیں‘‘۔

۱۴.    انسان کا زمین میں خدا کا خلیفہ ہونا، نوع انسانی کی معنوی تکمیل، آدمؑ کا ظہور اور قوموں کی ہدایت و ضلالت کی ابتدا

۳۱     (پھر جب ایسا ہوا کہ مشیت الٰہی نے جو کچھ چاہا تھا ظہور میں آ گیا) اور آدم نے (یہاں تک معنوی ترقی کی کہ) تعلیم الٰہی سے تمام چیزوں کے نام معلوم کر لیے تو اللہ نے فرشتوں کے سامنے وہ (تمام حقائق) پیش کر دیے اور فرمایا ’’اگر تم (اپنے شبہ میں) درستی پر ہو تو بتلاؤ ان (حقائق) کے نام کیا ہیں؟‘‘

۳۲     فرشتوں نے عرض کیا ’’خدایا ساری پاکیاں اور بڑائیاں تیری ہی لیے ہیں۔  ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھلا دیا ہے۔  علم تیرا علم ہے اور حکمت تیری حکمت‘‘

۳۳     (جب فرشتوں نے اس طرح اپنے عجز کا اعتراف کر لیا، تو) حکم الٰہی ہوا۔  ’’اے آدم، تم (اب) فرشتوں کو ان (حقائق) کے نام بتلا دو‘‘ جب آدم نے بتلا دیے تو اللہ نے فرمایا ’’کیا میں نے تم سنے نہیں کہا تھا کہ آسمان و زمین کے تمام غیب مجھ پر روشن ہیں؟ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی میری علم میں ہے اور جو کچھ تم چھپاتے تھے وہ بھی مجھ سے مخفی نہیں‘‘

۳۴     اور پھر (دیکھو) جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا۔  آدم کے آگے سر بسجود ہو جاؤ۔  وہ جھک گئے۔  مگر ابلیس کی گردن نہیں جھکی اس نے نہ نہ مانا اور گھمنڈ کیا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ منکروں میں سے تھا

۱۵.    فرشتوں کا آدم کے سامنے سر بسجود ہو جانا مگر ابلیس کا انکار کرنا، آدمؑ کی بہشتی زندگی اور شجر ممنوع

۳۵     پھر (ایسا ہوا کہ) ہم نے آدم سے کہا ’’اے آدم تو اور تیری بیوی دونوں جنت میں رہو جس طرح چاہو کھاؤ پیو، امن چین کی زندگی بسر کرو، مگر دیکھو، وہ جو ایک درخت ہے تو کبھی اس کے پاس بھی نہ پھٹکنا، اگر تم اس کے قریب گئے تو (نتیجہ یہ نکلے گا کہ) حد سے تجاوز کر بیٹھو گے، اور ان لوگوں میں سے ہو جاؤ گے جو زیادتی کرنے والے ہیں‘‘

۳۶     پھر (ایسا ہوا کہ) شیطان کی وسوسہ اندازی نے ان دونوں کے قدم ڈگمگا دیے، اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ جیسی کچھ (راحت و سکون کی) زندگی بسر کر رہے تھے اسے نکلنا پڑا۔  خدا کا حکم ہوا ’’یہاں سے نکل جاؤ۔  تم میں سے ہر وجود دوسرے کا دشمن ہے‘‘ اب تمہیں (جنت کی جگہ) زمین میں رہنا ہے اور ایک خاص وقت تک کے لیے (جو علم الٰہی میں مقرر ہو چکا ہے) اس سے فائدہ اٹھانا ہے

۱۶.    آدمؑ کی لغزش اور اعتراف قصور۔  قبولیت توبہ اور ایک نئی زندگی کا آغاز

۳۷     پھر ایسا ہوا کہ آدم نے اپنے پروردگار کی تعلیم سے چند کلمات معلوم کر لیے (جن کے لیے اس کے حضور قبولیت تھی) پس اللہ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور بلا شبہ وہی ہے جو رحمت سے درگزر کرنے والا ہے اور اس کی درگزر کی کوئی انتہا نہیں

۳۸     (آدم کی توبہ قبول ہو گئی اور) ہمارا حکم ہوا، تو اب تم سب یہاں سے نکل چلو (اور جس نئی زندگی کا دروازہ تم پر کھولا جا رہا ہے اسے اختیار کرو) لیکن (یاد رکھو) جب کبھی ایسا ہو گا کہ ہماری جانب سے تم پر راہ (حق) کھولی جائے گی تو (تمہارے لیے دو ہی راہیں ہوں گی) جو کوئی ہدایت کی پیرو کرے گا اس کے لیے کسی طرح کی غمگینی نہیں

۱۷.    وحی الٰہی کی ہدایت اور انسان کی سعادت و شقاوت کا قانون

۳۹     جو کوئی انکار کرے گا اور ہماری نشانیاں جھٹلائے گا وہ دوزخی گروہ میں سے ہو گا۔  ہمیشہ عذاب میں رہنے والا

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ۝۴۰ وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ ۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ؗ وَ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ۝۴۱ وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۴۲ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ۝۴۳ اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۴۴ وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَۙ۝۴۵ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠۝۴۶

۴۰     اے بنی اسرائیل! میری نعمت یاد کرو، وہ نعمت جس سے میں تمہیں سرفراز کیا تھا اور دیکھو اپنا عہد پورا کرو (جو ہدایت قبول کرنے اور اس پر کاربند ہونے کا عہد ہے) میں بھی اپنا عہد پورا کروں گا (جو ہدایت پر کاربند ہونے والوں کے لیے کامرانی و سعادت کا عہد ہے) اور دیکھو میرے سوا کوئی نہیں پس دوسروں سے نہیں صرف مجھی سے ڈرو

۱۸.    وحی الٰہی کی ہدایت کا جاری ہونا اور اس سلسلہ میں بنی اسرائیل سے خطاب کہ کتاب اللہ کے سب سے بڑے حامل وحی سمجھے جاتے تھے

۴۱     اور اس کلام پر ایمان لاؤ جو میں نازل کیا ہے، اور جو اس کلام کی تصدیق کرتا ہوا نمایاں ہوا ہے جو تمہارے پاس (پہلے سے) موجود ہے اور ایسا نہ کرو کہ اس کے انکار میں (شقاوت کا) پہلا قدم جو اٹھے وہ تمہارا ہو۔  اور (دیکھو) میرے سوا کوئی نہیں، پس میری نا فرمانی سے بچو

۴۲     اور ایسا نہ کرو کہ حق کو باطل کے ساتھ ملا کر مشتبہ بنا دو اور حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو حقیقت حال کیا ہے؟

۴۳     اور نماز قائم کرو (جس کی حقیقت تم نے کھو دی ہے) اور زکوٰۃ ادا کرو (جس کا تم میں اخلاص باقی نہیں رہا) اور جب اللہ کے حضور جھکنے والے جھکیں تو ان کے ساتھ تم بھی سرِ نیاز جھکا دو

۴۴     تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو مگر خود اپنی خبر نہیں لیتے کہ تمہارے کاموں کا کیا حال ہے حالانکہ خدا کی کتاب تمہارے پاس ہے اور ہمیشہ تلاوت کرتے رہتے ہو؟ (افسوس تمہاری عقلوں پر!) کیا اتنی سی موٹی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آتی

۴۵     اور (دیکھو) صبر اور نماز (کی قوتوں) سے (اپنی اصلاح میں) مدد لو لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جو (انسان کی راحت طلب طبیعت پر) بہت ہی کٹھن گزرتا ہے۔ البتہ جن لوگوں کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔

۴۶     اور جو سمجھتے ہیں انہیں اپنے پروردگار سے ملنا اور (بالآخر) اس کے حضور لوٹنا ہے تو ان پر یہ عمل کٹھن نہیں ہو سکتا

۱۹.    صبر اور نماز دو بڑی روحانی قوتیں ہیں جن سے اصلاح نفس اور انقلاب حال میں مدد لی جا سکتی ہے

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۝۴۷ وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۝۴۸ وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۝۴۹ وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۝۵۰ وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۝۵۱ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۵۲ وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۝۵۳ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰی بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۝۵۴ وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰی نَرَی اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۝۵۵ ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۵۶ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰی ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ۝۵۷ وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ۝۵۸ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠۝۵۹

۴۷     اے بنی اسرائیل! میری نعمتیں یاد کرو جن سے میں نے تمہیں سرفراز کیا تھا اور (خصوصاً) یہ (نعمت) کہ دنیا کی قوموں پر تمہیں فضیلت دی تھی

۲۰.    بنی اسرائیل کے ایام و وقائع کا تذکرہ اور قوموں کی ہدایت و ضلالت کے حقائق

۴۸     اس دن کی پکڑ سے ڈرو جبکہ (انسان کی کوئی کوشش بھی اسے برے کاموں کے نتیجوں سے نہیں بچا سکے گی اس دن) نہ تو کوئی انسان دوسرے انسان کے کے کام آئے گا، نہ کسی کی سفارش سنی جائے گی، نہ کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا، اور نہ کہیں سے کسی طرح کی مدد ملے گی

۴۹     اور (اپنی تاریخ حیات  کا) وہ یاد کرو جب ہم نے تمہیں خاندان فرعون (کی غلامی) سے جنہوں نے تمہیں نہایت سخت عذاب میں ڈال رکھا تھا نجات دی تھی۔ وہ تمہارے لڑکوں کو بے دریغ ذبح کر ڈالتے (تاکہ تمہاری نسل نابود ہو جائے) اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے (حکمراں قوم کی لونڈیاں بن کر زندگی بسر کریں اور فی الحقیقت اس صورت حال میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے بڑی ہی آزمائش تھی

۲۱.    مصر کے فرعونوں کی غلامی سے نجات اور کتاب و فرقان کا عطیہ لیکن بنی اسرائیل کا مصری بت پرستی کی طرف مائل ہو جانا اور گوسالہ پرستی شروع کر دینی۔

۵۰     اور پھر وہ وقت یاد کرو جب (تم مصر سے نکلے تھے اور فرعون تمہارا تعاقب کر رہا تھا) ہم نے سمندر کا پانی اس طرح الگ الگ کر دیا کہ تم بچ نکلے مگر فرعون کا گروہ غرق ہو گیا، اور تم (کنارے پر کھڑے) دیکھ رہے تھے

۵۱     اور (پھر وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں والا وعدہ کیا تھا۔ (پھر جب ایسا ہوا کہ وہ چالیس دن کے لیے تمہیں چھوڑ کر پہاڑ پر چلا گیا تو اس کے جاتے ہی) تم نے ایک بچھڑے کی پرستش اختیار کر لی، اور تم راہ حق سے ہٹ گئے تھے (یہ تمہاری بڑی گمراہی تھی)

۵۲     لیکن ہم نے (اپنی رحمت سے) درگزر کی تاکہ اللہ کی بخشائشوں کی قدر کرو

۵۳     اور پھر وہ واقعہ بھی یاد کرو جب ہم نے (چالیس راتوں والا وعدہ پورا کیا تھا، اور) موسیٰ کو الکتاب (یعنی تورات) اور الفرقان (یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوت) عطا فرمائی تھی، تاکہ تم پر (سعادت و فلاح کی) راہ کھل جائے

۵۴     اور (پھر وہ وقت) جب موسیٰ (کتاب الٰہی کا عطیہ لے کر پہاڑ سے اترا تھا اور تمہیں ایک بچھڑے کی پوجا میں سرگرم دیکھ کر) پکار اٹھا تھا: اے میری قوم! افسوس تمہاری حق فراموشی پر) تم نے بچھڑے کی پوجا کر کے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو تباہ کر دیا ہے۔ پس چاہیے کہ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور گوسالہ پرستی کے بدلے اپنی جانوں کو قتل کرو۔ اسی میں خدا کے نزدیک تمہارے لیے بہتری ہے۔ چنانچہ تمہاری توبہ قبول کر لی گئی، اور اللہ بڑا ہی رحمت والا، اور رحمت سے سے درگزر کرنے والا ہے

۵۵     اور (پھر وہ واقعہ یاد کرو) جب تم نے کہا تھا: اے موسی! ہم کبھی تم پر یقین کرنے والے نہیں جب تک کہ کھلے طور پر اللہ کو (تم سے بات کرتا ہوا) نہ دیکھ لیں۔ پھر (تمہیں یاد ہے کہ اس گمراہانہ جسارت کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ یہ نکلا تھا کہ) بجلی کے کڑاکے نے (اچانک) آ گھیرا، اور تم نظر اٹھائے تک رہے تھے

۲۲.    بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ ان کے دلوں میں وحی الٰہی پر کامل یقین نہ تھا۔

۵۶     پھر ہم نے تمہیں اس ہلاکت کے بعد (دوبارہ) اٹھا کھڑا کیا تاکہ اپنے آپ کو نعمت الٰہی کا قدر شناس ثابت کرو!

۵۷     اور (پھر جب ۲۳ ایسا ہوا تھا کہ صحرا سینا کی بے آب و گیاہ سرزمین میں دھوپ کی شدت اور غزا کے نہ ملنے سے تم ہلاک ہو جانے والے تھے تو) ہم نے تمہارے سروں پر ابر کا سایہ پھیلا دیا اور من اور سلویٰ  ۲۴ کی غذا فراہم کر دی (تم سے کہا گیا:) خدا نے تمہاری غذا کے لیے جو اچھی چیزیں مہیا کر دی ہیں انہیں بفراغت کھاؤ اور کسی طرح کی تنگی محسوس نہ کرو (لیکن اس پر بھی تم اپنی بد عملیوں سے باز نہ آئے۔ غور کرو) تم نے (اپنی ناشکریوں سے) ہمارا کیا بگاڑا؟ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے

۲۳۔   صحرائے سینا کی بے آب و گیاہ سرزمین میں زندگی کی تمام ضروریات کا مہیا ہو جانا لیکن بنی اسرائیل کا کفران نعمت کرنا۔

۲۴.    ’من‘ درخت کا شیرہ ہے جو گوند کی طرح جم جاتا ہے اور خوش ذائقہ و مقوی ہوتا ہے۔  ’سلویٰ‘ ایک پرند ہے۔  یہ دونوں چیزوں کوہ طور کے اطراف و جوانب میں بکثرت ہوتی ہیں۔  من کا حلوہ میں نے خود کھایا ہے جو فلسطین کے یہودی بنایا کرتے ہیں۔

۵۸     اور پھر (کیا اس وقت کی یاد بھی تمہارے اندر عبرت پیدا نہیں کر سکتی) جب (ایک شہر کی آبادی تمہارے سامنے تھی اور) ہم نے حکم دیا تھا کہ اس آبادی میں (فتح مندانہ) داخل ہو جاؤ اور پھر کھاؤ پیو، آرام چین کی زندگی بسر کرو، لیکن جب شہر کے دروازے میں قدم رکھو، تو تمہارے سر اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہوں اور تمہاری زبانوں پر توبہ و استغفار کا کلمہ جاری ہو کہ حطۃ! حطۃ! (خدایا ہمیں گناہوں کی آلودگی سے پاک کر دے! اگر تم نے ایسا کیا، تو) اللہ تمہاری خطائیں معاف کر دے گا، اور (اس کا قانون یہی ہے کہ) نیک کردار انسانوں کے اعمال میں برکت دیتا ہے اور ان کے اجر میں فراوانی ہوتی رہتی ہے

۲۵.    بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ جب انہیں فتح و کامرانی عطا کی گئی تو عبودیت و نیاز کی جگہ غفلت و غرور میں مبتلا ہو گئے

۵۹     لیکن پھر ایسا ہوا کہ تم میں سے ان لوگوں نے جن کی راہ ظلم و شرارت کی راہ تھی خدا کی بتلائی ہوئی بات ایک دوسری بات سے بدل ڈالی (اور عجز و عبودیت کی جگہ غفلت و غرور میں مبتلا ہو گئے) نتیجہ یہ نکلا کہ ظلم و شرارت کرنے والوں پر ہم نے آسمان سے عذاب نازل کیا اور یہ ان کی نافرمانیوں کی سزا تھی

وَ اِذِ اسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ۝۶۰ وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآىِٕهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠۝۶۱

۶۰     اور پھر (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی طلب کیا تھا اور ہم نے حکم دیا تھا پنی لاٹھی سے پہاڑ کی چٹان پر ضرب لگاؤ (تم دیکھو گے کہ پانی تمہارے لیے موجود ہے۔  موسیٰ نے اس حکم کی تعمیل) چنانچہ بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور تمام لوگوں نے اپنے اپنے پانی لینے کی جگہ معلوم کر لی   (اس وقت تم سے کہا گیا تھا) کھاؤ پیو خدا کی بخشائش سے فائدہ اٹھاؤ اور اس سرزمین میں جھگڑ فساد نہ کرو

۲۶.    صحرائے سینا میں پانی کے چشموں کا نمایاں ہو جانا لیکن بنی اسرائیل کا پانی کے لیے آپس میں جھگڑا اور فتنہ و فساد پھیلانا

۶۱     اور پھر (دیکھو تمہاری تاریخ حیات کا وہ واقعہ بھی کس درجہ عبرت انگیز ہے) جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی طرح کے کھانے پر قناعت کر لیں، پس اپنے پروردگار سے دعا کرو ہمارے لیے وہ تمام چیزیں پیدا کر دی جائیں جو زمین کی پیداوار ہیں۔  سبزی، ترکاری، گیہوں، دال، پیاز، لہسن وغیرہ (جو مصر میں ہم کھایا کرتے تھے) موسیٰ نے یہ سن کر کہا (افسوس تمہاری غفلت اور بے حسی پر!) کیا تم چاہتے ہو ایک ادنی سی بات کے لیے (یعنی غذا کی لذت کے لیے) اس (مقصد عظیم) سے دست بردار ہو جاؤ جس میں بڑی ہی خیر و برکت ہے؟ (یعنی قومی آزادی و سعادت سے؟ اچھا اگر تمہاری غفلت و بدبختی کا یہی حال ہے تو) یہاں سے نکلو، شہر کی راہ لو، وہاں یہ تمام چیزیں مل جائیں جن کے لیے ترس رہے ہو۔  بہرحال بنی اسرائیل پر خواری و نامرادی کی مار پڑی اور خدا کے غضب کے سزاوار ہوئے اور یہ اس لیے ہوا کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور اس کے نبیوں کے ناحق قتل میں بے باک تھے، اور (گمراہی و شقاوت کی یہ روح ان میں) اس لیے (پیدا ہو گئی) کہ (اطاعت کی جگہ) سرکشی سما گئی تھی اور تمام حدیں توڑ کر بے لگام ہو گئے تھے!

۲۷.    محکومی و غلامی سے قوم کا اخلاق پست ہو جاتا ہے اور بلند مقاصد کے لیے جوش و عزم باقی نہیں رہتا۔  بنی اسرائیل فراعنہ مصر کی غلامی سے آزاد ہو گئے تھے۔  اور قومی عظمت کا مستقبل ان کے سامنے تھا، لیکن وہ ان حقیر راحتوں کے لیے ترستے تھے جو مصر کی غلامانہ زندگی میں میسر تھیں، اور وہ چھوٹی چھوٹی تکلیفیں شاق گذرتی تھیں جو آزادی و عظمت کی راہ میں پیش آتی تھیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِـِٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَلِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۝۶۲ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۶۳ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ۝۶۴ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕیْنَۚ۝۶۵ فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۝۶۶ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ۝۶۷ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ۝۶۸ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ۝۶۹ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ۝۷۰ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا ؕ قَالُوا الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠۝۷۱

۶۲     جو لوگ (پیغمبر اسلام پر) ایمان لا چکے ہیں وہ ہوں یا وہ لوگ ہوں جو یہودی ہیں یا وہ لوگ ہوں جو یہودی ہیں یا نصاریٰ اور صابی ہوں (کوئی ہو اور کسی گروہ بندی میں سے ہو) لیکن جو کوئی بھی خدا پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوئے تو وہ اپنے ایمان و عمل کا اجر اپنے پروردگار سے ضرور پائے گا۔ اس کے لیے نہ تو کسی طرح کا کھٹکا ہو گا نہ کسی طرح کی غمگینی

۲۸.    اس اصل عظیم کا اعلان کہ سعادت و نجات ایمان و عمل سے وابستہ ہے۔  نسل و خاندان یا مذہبی گروہ بندی کو اس میں کوئی دخل نہیں۔  یہودی جب ایمان و عمل سے محروم ہو گئے تو نہ تو ان کی نسل ان کے کام آئی نہ یہودیت کی گروہ بندی سود مند ہو سکی۔  خدا کے قانون نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کون ہیں اور کس گروہ بندی سے تعلق رکھتے ہیں ؟ بلکہ صرف یہ دیکھا کہ عمل کا کیا حال ہے ؟ اور پھر جب آزمائش عمل میں پورے نہ اترے تو مغضوب و نا مراد ہو گئے۔

۶۳     اور پھر (اپنی تاریخ حیات کا وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے تمہارا عہد لیا تھا اور (یہ وہ وقت تھا کہ تم نیچے کھڑے تھے اور) کوہ طور کی چوٹیاں تم پر بلند کر دی تھیں: (دیکھو) جو کتاب تمہیں دی گئی ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ جم جاؤ اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھو۔  (اور یہ اس لیے ہے) تاکہ تم (نافرمانی سے بچو۔

۲۹.    بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ شریعت کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل نہیں کرتے تھے اور ان سے بچنے کے لیے طرح طرح کے شرعی حیلے گھڑ لیے تھے یعنی محض نمائشی طور پر تو ان کی تعمیل کر لیتے لیکن جو کچھ حقیقی مقصد تھا وہ پورا نہ کرتے۔

۶۴     لیکن پھر تم اپنے عہد سے پھر گئے اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارا ساتھ نہ دیتی تو (تمہاری گمراہی کی چال تو ایسی تھی کہ) فوراً ہی تباہی کے حوالے ہو جاتے

۶۵     اور یقیناً تم ان لوگوں کے حال سے بے خبر نہیں ہو جو تم ہی میں سے تھے اور جنہوں نے ’سبت‘ (یعنی تعطیل اور عبادت کے مقدس دن) کے معاملہ میں راست بازی کی حدیں توڑ ڈالی تھیں (یعنی حکم شریعت سے بچنے کے لیے حیلوں اور مکاریوں سے کام لیا تھا) ہم نے کہا ذلیل و خوار بندروں کی طرح ہو جاؤ (انسانوں کے پاس سے ہمیشہ دھتکارے نکالے جاؤ گے)

۶۶     چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہم نے اس معاملہ کو ان سب کے لیے جن کے سامنے ہوا اور ان کے لیے بھی جو بعد کو پیدا ہوئے تازیانہ عبرت بنا دیا اور ان لوگوں کے لیے جو متقی ہیں اس میں نصیحت و دانائی رکھ دی

۶۷     اور پھر (وہ معاملہ یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے یہ بات کہی تھی کہ یہ خدا کا حکم ہے ایک گائے ذبح کر دو۔  (بجائے اس کے کہ راست بازی کے ساتھ اس پر عمل کرتے، لگے طرح طرح کی کٹ حجتیاں کرنے) کہنے لگے:  معلوم ہوتا ہے تم ہمارے ساتھ تمسخر کر رہے ہو۔ موسیٰ نے کہا نعوذ باللہ اگر میں (احکام الٰہی کی تبلیغ میں تمسخر کروں اور) جاہلوں کا سا شیوہ اختیار کروں

۳۰.    کثرت سوال اور تعمق فی الدین کی گمراہی۔  یعنی احکام حق کی سیدھی سادھی اطاعت کرنے کی جگہ رد و کد کرنا۔  طرح طرح کے سوالات گھڑنا، بلا ضرورت باریک بینیاں اور دقیقہ سنجیاں کرنی اور شریعت کی سادگی اور آسانی کو سختی اور پیچیدگی سے بدل دینا۔  حکم ذبح کے لیے گنتی باب ۱۹۔ ۲۰، استثنا ۲۱۔ ۲ دیکھو۔

۶۸     (یہ سن کر) وہ بولے (اگر ایسا ہی ہے تو) اپنے پروردگار سے درخواست کرو وہ کھول کر بیان کر دے کس طرح کا جانور ذبح کرنا چاہئے؟ (یعنی ہمیں تفصیلات معلوم ہونی چاہیں) موسیٰ نے کہا۔  خدا کا حکم یہ ہے کہ ایسی گائے ہو جو نہ تو بالکل بوڑھی ہو نہ بالکل بچھیا۔  درمیانی عمر کی ہو۔  اور اب (کہ تمہیں تفصیل کے ساتھ حکم مل گیا ہے) چاہیے کہ اس کی تعمیل کرو

۶۹     (لیکن انہوں نے پہلے سوال کا جواب پا کر ایک دوسرا سوال کھڑا کر دیا) کہنے لگے اپنے پروردگار سے درخواست کرو۔  وہ یہ بھی بتلا دے کہ جانور کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟ موسیٰ نے کہا حکم الٰہی یہ ہے کہ اس کا رنگ پیلا ہو خوب گہرا پیلا۔  ایسا کہ دیکھنے والوں کا جی دیکھ کر خوش ہو جائے

۷۰     (جب رنگ کی خصوصیت بھی معین ہو چکی تو انہوں نے اور الجھاؤ پیدا کر دیا) کہنے لگے (ان ساری باتوں کے بعد بھی) ہمارے لیے جانور کی پہچان مشکل ہے اپنے پروردگار سے کہو کہ (اور زیادہ کھول کے) بتلا دے کہ جانور کیسا ہونا چاہیے؟ انشاء اللہ ہم ضرور پتہ لگا لیں گے

۷۱     اس پر موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے۔  ایسی گائے ہو جو نہ تو کبھی ہل میں جوتی گئی ہو نہ کبھی آب پاشی کے لیے کام میں لائی گئی ہو۔  پوری طرح صحیح سالم، داغ دھبے سے پاک و صاف۔  (جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو پھر عاجز ہو کر بولے۔  ہاں اب تم نے ٹھیک ٹھیک بات بتلا دی۔  چنانچہ جانور ذبح کیا گیا۔  اگرچہ ایسا کرنے پر وہ (دل سے) آمادہ نہ تھے ۔

۳۱.    بنی اسرائیل کا قتل نفس میں بے باک ہو جانا جو شریعت الٰہی کے رو سے انسان کا بڑے سے بڑا جرم ہے

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ۝۷۲ فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰی ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝۷۳ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝۷۴ اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ۝۷۵ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۷۶ اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ۝۷۷ وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۝۷۸ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ۝۷۹ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۸۰ بَلٰی مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓـَٔتُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۝۸۱ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠۝۸۲

۷۲     اور پھر (غور کرو وہ واقعہ) جب تم نے (یعنی تمہاری قوم نے) ایک جان ہلاک کر دی تھی، اور اس کی نسبت آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے تھے اور جو بات تم چھپانی چاہتے تھے خدا اسے آشکارا کر دینے والا تھا

۷۳     چنانچہ ایسا ہوا کہ ہم نے حکم دیا اس (شخص) پر (جو فی الحقیقت قاتل تھا) مقتول کے بعض (اجزائے جسم) سے ضرب لگاؤ (جب ایسا کیا گیا تو حقیقت کھل گئی اور قاتل کی شخصیت معلوم ہو گئی) اللہ اسی طرح مردوں کو زندگی بخشتا اور تمہیں اپنی (قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھلاتا ہے تاکہ سمجھ بوجھ سے کام لو

۷۴     اور پھر تمہارے دل سخت پڑ گئے   ایسے ست، گویا پتھر کی چٹانیں ہیں! (نہیں) بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت کیونکہ پتھروں میں تو بعض پتھر ایسے بھی ہیں جن میں سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور انہی پتھروں میں ایسی چٹانیں بھی ہیں جو شق ہو کر دو ٹکڑے ہو جاتی ہیں اور ان میں سے پانی اپنی راہ نکال لیتا ہے، اور پھر انہی میں وہ چٹانیں بھی ہوئیں جو خوف الٰہی سے (لرز کر) گر پڑتی ہیں (پس افسوس ان دلوں پر، جن کے آگے پتھر کی سختی اور چٹانوں کا جماؤ بھی ماند پڑ جائے) اور (یاد رکھو) خدا (کا قانون) تمہارے کرتوتوں کی طرف سے غافل نہیں ہے

۳۲.    بنی اسرائیل کی قلبی و اخلاقی حالت کا انتہائی تنزل حتی کہ اس حالت کا پیدا ہو جانا جب عبرت پذیر اور تنبہ کی استعداد یک قلم معدوم ہو جاتی ہے اور فکر انسان اپنی تباہ شدہ حالت پر قانع و مطمئن ہو جاتا ہے

۷۵     (مسلمانو!) کیا تم توقع رکھتے ہو کہ یہ لوگ (کلام حق پر غور کریں گے اور اس کی سچائی پرکھ کر) تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور اس کا مطلب سمجھتا تھا لیکن پھر بھی جان بوجھ کر اس میں تحریف کر دیتا تھا  (یعنی اس کا مطلب بدل دیتا تھا)

۳۳.    بنی اسرائیل کے گذشتہ ایام و وقائع کے ذکر کے بعد ان کو موجود اعمال و اقوال پر تبصرہ، ان کی اعتقادی اور عملی گمراہیوں کی تشریح اور دین الٰہی کے حجج و براہین۔  سب سے پہلی اور بنیادی گمراہی یہ ہے کہ نہ تو کتاب اللہ کا سچا علم باقی رہا ہے نہ سچا عمل!

۷۶     اور (دیکھو ان کا حال تو یہ ہے کہ) جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں، تو اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے ہیں لیکن جب اکیلے میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’جو کچھ تمہیں خدا نے (تورات کا) علم دیا ہے وہ ان لوگوں پر کیوں ظاہر کرتے ہو؟‘ کیا اس لیے کہ وہ تمہارے خلاف تمہارے پروردگار کے حضور اس سے دلیل پکڑیں) یعنی تورات سے تمہارے خلاف دلیل لائیں؟ کیا (اتنی موٹی سی بات بھی) تم نہیں سمجھتے؟

۷۷     (افسوس ان کے دعوائے ایمان و حق پرستی پر!) کیا یہ نہیں جانتے کہ (معاملہ انسان سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے اور) اللہ کے علم سے کوئی بات چھپی؟ وہ جو کچھ چھپا رکھتے ہیں اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ بھی اس کے سامنے ہے؟

۷۸     اور پھر انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو ان پڑھ ہیں، اور جہاں تک کتاب الٰہی کا تعلق ہے (خوش اعتقادی کی) آرزوؤں اور ولولوں کے سوا اور کچھ نہیں جانتے، اور محض وہموں گمانوں میں مگن ہیں

۳۴.    ان کے علما حق فروش ہیں، اور عوام کا سرمایہ دین خوش اعتقادی کی آرزوؤں اور جہالت کے ولولوں کے سوا کچھ نہیں ہے! یہودیوں کے علما کی یہ گمراہی کہ کتاب اللہ کے احکام پر اپنی رایوں اور خواہشوں کو ترجیح دیتے اور پھر اپنے گھڑے ہوئے حکموں اور مسئلوں کو کتاب اللہ کی طرح واجب العمل بتلاتے

۷۹     پس افسوس ان پر جن کا شیوہ یہ ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں (یعنی اپنی رایوں اور خواہشوں کے مطابق احکام شرع کی کتابیں بناتے ہیں) پھر لوگوں سے کہتے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ہے (یعنی اس میں جو کچھ لکھا ہے وہ کتاب الٰہی کے احکام ہیں) اور یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کے بدلے میں ایک حقیر سی قیمت دنیوی فائدہ فائدہ کی حاصل کر لیں۔  پس افسوس اس پر جو کچھ ان کے ہاتھ لکھتے ہیں، اور افسوس اس پر، جو کچھ وہ اس ذریعہ سے کماتے ہیں

۸۰     یہ لوگ (یعنی یہودی) کہتے ہیں   جہنم کی آگ ہمیں کبھی چھونے والی نہیں (کیونکہ ہماری امت خدا کے نزدیک نجات پائی ہوئی امت ہے) اگر ہم آگ میں ڈالے بھی جائیں گے تو (اس لیے نہیں کہ ہمیشہ عذاب میں رہیں بلکہ) صرف چند گنے ہوئے دنوں کے لیے (تاکہ گناہ کے میل کچیل سے پاک صاف ہو کر پھر جنت میں جا داخل ہوں)۔ اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دو یہ بات جو تم کہتے ہو تو (دو حالتوں سے خالی نہیں۔  یا تو) تم نے خدا سے (غیر مشروط) نجات کا کوئی پٹہ لکھا لیا ہے کہ اب وہ اس کے خلاف جا نہیں سکتا، اور یا پھر تم خدا کے نام پر ایک ایسی بات کہہ رہے ہو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں

۳۵.    یہودیوں کی یہ گمراہی کہ سمجھتے تھے، ان کی امت نجات یافتہ امت ہے۔  اس لیے ممکن نہیں کہ کوئی یہودی ہمیشہ دوزخ میں نہیں ڈالا جائے۔  قرآن ان کے اس زعم باطل کا رد کرتا ہے اور کہتا ہے جنت و دوزخ کی تقسیم قوموں کی تقسیم کی بنا پر نہیں ہے کہ کسی خاص قوم کے لیے جنت ہو، اور باقی کے لیے دوزخ، بلکہ اس کا تمام تر دارو مدار ایمان و عمل پر ہے۔  جس انسان نے بھی اپنے اعمال کے ذریعہ برائی کمائی، اس کے لیے برائی یعنی عذاب ہے اور جس کسی نے بھی اپنے اعمال کے ذریعہ اچھائی کمائی اس کے لیے اچھائی یعنی نجات ہے۔  خواہ وہ کوئی ہو، اور کسی گروہ بندی کا ہو!

۸۱     نہیں (آخرت کی نجات کسی ایک گروہ ہی کی میراث نہیں ہے کہ ہر حال میں اسی کے لیے ہو۔  خدا کا قانون تو یہ ہے کہ کوئی انسان ہو اور کسی گروہ کا ہو، لیکن) جس کسی نے بھی اپنے کاموں سے برائی کمائی اور اس کے گناہوں نے اسے گھیرے میں لے لیا، تو وہ دوزخی گروہ میں سے ہے۔  ہمیشہ دوزخ میں رہنے والا

۸۲     اور جو کوئی بھی ایمان لایا اور اس کے کام بھی اچھے ہوئے تو وہ بہشتی گروہ میں سے ہے۔  ہمیشہ بہشت میں رہنے والا

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ ۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ۝۸۳ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ۝۸۴ ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ ؗ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الْعَذَابِ ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝۸۵ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ ؗ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠۝۸۶

۸۳     اور پھر (وہ وقت) یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا (وہ عہد کیا تھا؟ کیا اسرائیلیت کے گھمنڈ اور یہودی گروہ بندی کی نجات یافتگی کا عہد تھا؟ نہیں، ایمان و عمل کا عہد تھا) اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، عزیزوں قریبوں کے ساتھ نیکی سے پیش آنا، یتیموں مسکینوں کی خبر گیری کرنا، تمام انسانوں سے اچھا برتاؤ کرنا، نماز قائم کرنی، زکوٰۃ ادا کرنی (ایمان و عمل کی یہی بنیادی سچائیاں ہیں جن کا تم سے عہد لیا گیا تھا) لیکن تم اس عہد پر قائم نہیں رہے) ایک تھوڑی تعداد کے سوا سب الٹی چال چلے، اور حقیقت یہ ہے کہ (ہدایت کی طرف سے) تمہارے رخ ہی پھرے ہوئے ہیں

۸۴     اور پھر (وہ معاملہ یاد کرو) جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا:  آپس میں ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے آپ کو (یعنی اپنی جماعت کے افراد کو) جلا وطن کرو گے۔ تم نے اس کا اقرار کیا تھا اور تم (اب بھی) یہ بات مانتے ہو۔

۳۶.    پیروان مذاہب کی گمراہی کی وہ حالت، جبکہ اتباع دین کی روح یک قلم مفقود ہو جاتی ہے، اور دینداری کی نمائش صرف اس لیے کی جاتی ہے تاکہ نفسانی خواہشوں اور کام جوئیوں کے لیے اسے آلہ کار بنایا جائے۔  اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کے بنیادی اور اصولی احکام پر تو کوئی توجہ نہیں کرتا۔  لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو نمائش اور ریاکاری کا ذریعہ ہو سکتی ہیں اور جن کے کرنے میں کچھ چھوڑنا اور کھونا نہیں پڑتا، بہت زور دیا جاتا ہے۔  حالانکہ اگر ان اصولی باتوں پر ٹھیک ٹھیک عمل کیا جاتا تو یہ فروعی خلاف ورزیاں ظہور ہی میں نہ آتیں۔  علمائے یہود اسی گمراہی میں مبتلا تھے

۸۵     لیکن (پھر دیکھو) تم ہی وہ اقرار کرنے والی جماعت ہو جس کے افراد ایک دوسرے کو بے دریغ قتل کرتے ہیں اور ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف ظلم و معصیت سے جتھا بندی کر کے اس اس کے وطن سے نکال باہر کرتا ہے (اور تم میں سے کسی کو بھی یہ بات یاد نہیں آتی کہ اس بارے میں خدا کی شریعت کے احکام کیا ہیں؟) لیکن پھر جب ایسا ہوتا ہے کہ تمہارے جلا وطن کیے ہوئے آدمی (دشمنوں کے ہاتھ پڑ جاتے ہیں اور) قیدی ہو کر تمہارے سامنے آتے ہیں تو تم فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو (اور کہتے ہو شریعت کی رو سے ایسا کرنا ضروری ہے) حالانکہ (اگر شریعت کے حکموں کا تمہیں اتنا ہی پاس ہے تو) شریعت کی رو سے تو یہی بات حرام تھی کہ انہیں ان کے گھروں اور بستیوں سے جلا وطن کر دو (پھر یہ گمراہی کی کیسی انتہا ہے کہ قیدیوں کے چھڑانے اور ان کے فدیہ کے لیے مال جمع کرنے میں تو شریعت یاد آ جاتی ہے لیکن اس ظلم و معصیت کے وقت یاد نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ دشمنوں کے ہاتھ پڑے اور قید ہوئے؟) کیا یہ اس لیے ہے کہ کتاب الٰہی کا کچھ حصہ تو تم مانتے ہو اور کچھ حصے سے منکر ہو؟ پھر بتلاؤ تم میں سے جن لوگوں کے کاموں کا یہ حال ہے انہیں پاداش عمل میں اس کے سوا کیا مل سکتا ہے کہ دنیا میں ذلت و رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سسے سخت عذاب! یاد رکھو اللہ (کا قانون جزا) تمہارے کاموں کی طرف سے غافل نہیں ہے

۳۷.    یہ حالت اس بات کا نتیجہ ہے کہ راست بازی اور حق پرستی کی جگہ نفسانی خواہشوں کی پرستش کی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ غرض پرستوں نے ہمیشہ داعیان حق و اصلاح کی مخالفت کی ہے۔  بنی اسرائیل کے تکذیب رسل اور قتل انبیا سے استشہاد، کہ جس طرح ہمیشہ سچائی کے منکر و معاند رہے، اسی طرح اب بھی انکار و عناد میں سرگرم ہیں۔

۸۶     یقیناً یہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت (کی زندگی) تاراج کر کے دنیا کی زندی مول لی ہے۔  (پس ایسے لوگوں کے لیے علاج کی کوئی امید نہیں) نہ تو ان کے عذاب میں کمی ہو گی، نہ کہیں سے مدد پا سکیں گے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ ؗ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ ؗ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ۝۸۷ وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ۝۸۸ وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ؗ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ۝۸۹ بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۝۹۰ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۝۹۱ وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ۝۹۲ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۝۹۳ قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۹۴ وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ۝۹۵ وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوةٍ ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠۝۹۶

۸۷     اور (پھر دیکھو) ہم نے (تمہاری رہنمائی کے لیے پہلے) موسیٰ کو کتاب دی۔  پھر موسیٰ کے بعد ہدایت کا سلسلہ پے در پے رسولوں کو بھیج کر جاری رکھا، بالآخر مریم کے بیٹے عیسیٰ کو سچائی کی روشن نشانیاں دیں، اور روح القدس کی تائید سے ممتاز کیا (لیکن ان میں سے ہر دعوت کی تم نے مخالفت کی) پھر کیا تمہارا شیوہ ہی یہ ہے کہ جب کبھی اللہ کا کوئی رسول ایسی دعوت لے کر آئے جو تمہاری نفسانی خواہشوں کے خلاف ہو، تو تم اس کے مقابلے میں سرکشی کر بیٹھو، اور کسی کو جھٹلاؤ، کسی کو قتل کر دو

۸۸     اور (یہ لوگ اپنے جماؤ اور بے حسی کی حالت پر فخر کرتے ہیں، اور) کہتے ہیں  ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں (یعنی اب کسی نئی بات کا اثر ان تک پہنچ ہی نہیں سکتا حالانکہ یہ اعتقاد کی پختگی اور حق کا اثبات نہیں ہے) بلکہ انکار حق کے تعصب کی پھٹکار ہے (کہ کلام حق سننے اور اثر پذیر ہونے کی استعداد ہی کھو دی) اور اسی لیے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ دعوت حق سنیں اور قبول کریں

۳۸.    حق کے اثبات اور تقلید کے جمود میں فرق ہے۔  خیالات کی ایسی پختگی میں کوئی خوبی نہیں کہ ہم دوسروں کی بات سننے ہی سے انکار کر دیں۔  علمائے یہود ایسے ہی جمود میں مبتلا تھے اور اسے اعتقاد کی پختگی سمجھ کر فخر کرتے تھے۔

۸۹     چنانچہ جب ایسا ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان کی ہدایت کے لیے ایک کتاب نازل ہوئی اور وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی تھی جو پہلے سے ان کے پاس موجود ہے تو باوجودیکہ وہ (تورات کی پیشین گوئیوں کی بنا پر اس کے ظہور کے منتظر تھے، اور) کافروں کے مقابلے میں اس کا نام لے کر فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے تھے، لیکن جب وہی جانی بوجھی ہوئی بات سامنے آ گئی، تو صاف انکار کر گئے، پس ان لوگوں کے لیے جو (جان بوجھ کر) کفر کی راہ اختیار کریں اللہ کی لعنت ہے، (یعنی ایسوں پر فلاح و سعادت کی راہ کبھی نہیں کھلتی)

۹۰     (افسوس ان کی شقاوت پر) کیا ہی بری قیمت ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کا سودا چکایا! انہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی سچائی سے انکار کیا، اور صرف اس لیے انکار کیا کہ وہ جس کسی پر چاہتا ہے اپنا فضل کر دیتا ہے (اس میں خود ان کی نسل و جماعت کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔  یہ لوگ اپنی بد عملیوں کی وجہ سے پہلے ہی ذلیل و خوار ہو چکے تھے، لیکن اس نئے انکار سے اور زیادہ ذلت و خواری کے سزاوار ہوئے) پس اللہ کا غضب بھی ایک کے بعد ایک ان کے حصے میں آیا اور اس کا قانون یہی ہے کہ انکار حق کرنے والوں کے لیے (ہمیشہ) رسوا کرنے والا عذاب ہوتا ہے

۳۹.    قبول حق کی راہ میں جو موانع پیش آتے ہیں، ان میں سب سے بڑا مانع نسلی، جماعتی، یا شخصی حسد ہے۔

۹۱     اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے  جو کچھ خدا نے اتارا ہے اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ہم تو صرف وہی بات کہیں گے جو ہم پر اتری ہے (یعنی اس کے سوا جو کچھ ہے اس سے انہیں انکار ہے) حالانکہ وہ خدا کا سچا کلام ہے جو ان کی کتاب کی تصدیق کرتا ہوا نمودار ہوا ہے۔ اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے کہو اچھا اگر واقعی تم (اپنی کتاب پر) ایمان رکھنے والے ہو (اور قرآن کی دعوت سے صرف اس لیے انکار کرتے ہو کہ تورات پر ایمان رکھنے کے بعد اس کی ضرورت نہیں) تو پھر تم نے پچھلے وقتوں میں خدا کے نبیوں کو کیوں قتل کیا (جو تمہیں تورات پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے، اور کیوں ایمان کی جگہ انکار و سرکشی کی راہ اختیار کی)

۴۰.    اہل کتاب کی عالمگیر گمراہی یہ ہے کہ جب انہیں اتباع حق کی دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہمارے پاس ہمارا دین موجود ہے۔  ہمیں کسی نئی تعلیم کی ضرورت نہیں۔  حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ جس دین کو اپنا دین کہتے ہیں اس پر ان کا عمل کب ہے؟ قرآن کہتا ہے دین سب کے لیے اور سب کا ایک ہی ہے، اور میں اس لیے نہیں آیا کہ پچھلی سچائیوں کی جگہ کوئی نیا دین پیش کروں بلکہ اس لیے آیا ہوں کہ ان کا سچا اعتقاد اور عمل پیدا کر دوں۔

۹۲     اور پھر دیکھو، یہ واقعہ ہے کہ موسیٰ سچائی کی روشن دلیلوں کے ساتھ تمہارے پاس آیا لیکن جب (چالیس دن کے لیے) تم سے الگ ہو گیا تو تم بچھڑے کے پیچھے پڑ گئے، اور ایسا کرتے ہوئے یقیناً تم حق سے گزر گئے تھے

۹۳     اور پھر جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے (دین الٰہی پر قائم رہنے کا) تم سے عہد لیا تھا اور کوہ طور کی چوٹیا تم پر بلند کر دی تھیں (تو تم نے اس کے بعد کیا کیا؟ تمہیں حکم دیا گیا تھا کہ) جو کتاب تمہیں دی گئی ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ جم جاؤ اور اس کے حکموں پر کاربند ہو، تم نے (زبان سے) کہا سنا اور (دل سے کہا) نہیں مانتے۔  اور پھر ایسا ہوا کہ تمہارے کفر کی وجہ سے تمہارے دلوں میں بچھڑے کی پوجا رچ گئی (اے پیغمبر) ان سے کہو (دعوت حق سے بے نیازی ظاہر کرتے ہوئے) تم اپنے جس ایمان کا دعوی کرتے ہو اگر وہ یہی ایمان ہے تو افسوس اس ایمان پر، کیا ہی بری راہ ہے جس پر تمہارا ایمان تمہیں لے جا رہا ہے

۹۴     یہ لوگ کہتے ہیں آخرت کی نجات صرف اسی کے حصے میں آئی ہے) تم ان سے کہو اگر آخرت کا گھر خدا کے نزدیک صرف تمہارے ہی لیے ہے۔  اور تم اپنے اس اعتقاد میں سچے ہو تو (تمہیں دنیا کی جگہ آخرت کا طلب گار ہونا چاہیے۔  پس بے خوف ہو کر) موت کی آرزو کرو (حیات فانی کے پجاری نہ بنو)

۴۱.    جن کے دل میں نجات اخروی کا سچا یقین ہے وہ موت سے خائف اور حیات دنیوی کے پجاری نہیں ہو سکتے۔  بنی اسرائیل کی دنیا پرستی اور حیات دنیوی کی حرص سے ان کے ایمان و یقین سے محرومی پر استشہاد۔

۹۵     اے پیغمبر! تم دیکھ لو گے کہ یہ لوگ اپنی بد عملیوں کی وجہ سے جس کا ذخیرہ جمع کر چکے ہیں۔  کبھی ایسا کرنے والے نہیں اور اللہ ظلم کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے

۹۶     اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ تم دیکھو گے، زندگی کی سب سے زیادہ حرص رکھنے والے یہی لوگ ہیں۔  مشرکوں سے بھی زیادہ (ان مدعیان توحید کے دلوں میں حیات فانی کا عشق ہے) ان میں ایک ایک آدمی کا دل یہ حسرت رکھتا ہے کہ کاش ایک ہزار برس تک توحید کے دلوں میں حیات فانی کا عشق ہے) ان میں سے ایک ایک آدمی کا دل یہ حسرت رکھتا ہے کہ کاش ایک ہزار برس تک تو جیے! حالانکہ عمر کی درازی انہیں عذاب آخرت سے نجات نہیں دلا دے گی اور جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ کی نظر سے چھپا ہوا نہیں ہے

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰی قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۝۹۷ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ۝۹۸ وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۝۹۹ اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۝۱۰۰ وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؗ۝۱۰۱

 وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْكِ سُلَیْمٰنَ ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۝۱۰۲ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠۝۱۰۳

۹۷     (اے پیغمبر!)یہ اللہ کا کلام ہے جو جبرائیل نے اس کے حکم سے تمہارے دل میں اتارا ہے اور یہ اس کلام کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے، جو اس سے پہلے نازل ہو چکا ہے۔ اس میں انسان کے لیے ہدایت ہے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (فلاح و کامیابی کی) بشارت

۴۲.    جو کوئی سلسلہ وحی کا مخالف ہے۔  تو وہ اللہ اور اس کے قوانین ہدایت کا مخالف ہے

۹۸     (پھر اگر یہ لوگ اللہ کی وحی و نبوت کے سلسلہ کے مخالف ہیں اور جہل و تعصب سے کہتے ہیں ہم جبریل کا اتارا ہوا کلام نہیں مانیں گے اس سے ہماری دشمنی ہے تو) تم کہہ دو جو کوئی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہے، تو یقیناً اللہ بھی منکرین حق کا دوست نہیں ہے

۹۹     اے پیغمبر! یقین کرو ہم نے تم پر سچائی کی روشن دلیلیں نازل کی ہیں، اور ان سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر صرف وہی جو راست بازی کے دائرہ سے باہر ہو گیا ہے۔

۴۳.    پیغمبر اسلام سے خطاب کہ دعوت حق کا ظہور سچائی کی روشن دلیلوں کے ساتھ ہوا ہے، جن سے کوئی راست باز انسان انکار نہیں کر سکتا اور اگر علمائے یہود باوجود کتاب اللہ کے حال ہونے کے انکار کر رہے ہیں، تو یہ کفر و جحود کا کوئی نیا مظاہرہ نہیں ہے جس پر تعجب ہو اس سے پہلے بھی ان کی روش ایسی ہی رہ چکی ہے۔

۱۰۰    جب کبھی ان لوگوں نے اتباع حق کا کوئی عہد کیا تو کسی نہ کسی گروہ نے ضرور ہی اسے پس پشت ڈال دیا اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد ایسے ہی لوگوں کی ہے جن کے دل ایمان سے خالی ہیں

۱۰۱    چنانچہ (دیکھو) جب ایسا ہوا کہ اللہ کا ایک رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا آیا جو پہلے سے ان کے پاس موجود تھی (یعنی حضرت مسیح کا ظہور ہوا) تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے کہ کتاب الٰہی رکھتے تھے، کتاب الٰہی اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دی گویا اسے جانتے ہی نہیں

۱۰۲    اور پھر (دیکھو) ان لوگوں نے (کتاب الٰہی کی تعلیم فراموش کر کے جادوگری کے) ان (مشرکانہ) عملوں کی پیروی کی جنہیں شیطان سلیمان کے عہد سلطنت کی طرف منسوب کر کے پڑھا پڑھایا کرتے تھے۔ حالانکہ سلیمان کبھی کفر کا مرتکب نہیں ہوا۔ در اصل یہ انہی شیطانوں کا کفر تھا کہ لوگوں کو جادوگری سکھلاتے تھے اور یہ بھی صحیح نہیں کہ بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اس طرح کی کوئی بات نازل ہوئی تھی (جیسا کہ ان لوگوں میں مشہور ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ) وہ جو کچھ بھی کسی کو سکھلاتے تھے تو یہ کہے بغیر نہیں سکھلاتے تھے کہ دیکھو ہمارا وجود تو ایک فتنہ ہے، پھر تم کیوں کفر میں مبتلا ہوتے ہو؟ (یعنی جادوگری کی باتوں کا برا ہونا ایک ایسی مانی ہوئی بات ہے، کہ جو لوگ اس کے سکھانے والے تھے وہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ بات خدا پرستی کے خلاف ہے) لیکن اس پر بھی لوگ ان سے ایسے ایسے عمل سیکھتے جن کے ذریعے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈالنا چاہتے، حالانکہ وہ کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ ہاں یہ ہو سکتا تھا کہ خدا کے حکم سے کسی کو نقصان پہنچنے والا ہو اور نقصان پہنچ جائے۔ (بہرحال) یہ لوگ (کتاب الٰہی کی تعلیم فراموش کر کے) ایسی باتیں سیکھتے ہیں جو انہیں سراسر نقصان پہچانے والی ہیں۔ اور (پھر کچھ یہ بات بھی نہیں کہ انہیں احکام الٰہی کی خبر نہ ہو) انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی (اپنا دین و ایمان بیچ کر) جادوگری کا خریدار ہوتا ہے اس کے لیے آخرت کی برکتوں میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پس افسوس ان کی اس خرید و فروخت پر! کیا ہی بری جنس ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کی نجات بیچ ڈالی! کاش وہ اس حقیقت کی خبر رکھتے

۴۴.    بنی اسرائیل کے ضعف عقل و ایمان پر اس واقعہ سے استشہاد کہ جادوگروں کے شعبدوں پر جھک پڑے تھے اور کتاب الٰہی کی تعلیم پس پشت ڈال دی تھی۔  ضمناً اس حقیقت کا اعلان کہ اس بارے میں جو خرافات مشہور ہیں، ان کی کوئی اصلیت نہیں۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل
پی ڈی ایف فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل
کنڈل فائل

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید