اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


سر سید کی علمی / ادبی تحریک کے سندھ اور سندھی ادب پر اثرات ۔۔۔ ڈاکٹر محمد یوسف خشک

تاریخی اہمیت کی تنقیدی کتاب

سر سید کی علمی / ادبی تحریک کے سندھ اور سندھی ادب پر اثرات

از قلم

ڈاکٹر محمد یوسف خشک

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

اقتباس

 شخصیات ہوں یا تحاریک، زیادہ مقبولیت اور طویل تاریخی زندگی انہیں مل پاتی ہے جن کے اندر دوسروں کی خدمت کا عملی جذبہ زیادہ موجود ہو جب کہ سر سید کی شخصیت اور تحریک کے اندر یہ خصوصیت باقاعدہ موجود تھی۔ تاریخ کی کتب گواہ ہیں کہ اورنگزیب کے جانشینوں میں نہ وہ کام کرنے کی لگن رہی تھی اور نہ رعایا اور حکومت کی سرپرستی کا جذبہ تھا، اس لئے ایک سو پچاس سال کے اندر یعنی ۱۸۵۷ء میں سلطنت مغلیہ کا دَور ختم ہوا اور ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں سے چلی گئی۔ حکومت اسلامیہ کا نام و نشان بھی ختم ہو گیا، اب معاشی طور پر مسلمان اس حد تک پست ہو چکے تھے کہ ان کو دو وقت پیٹ بھر کر روٹی بھی میسر نہیں آتی تھی۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کا تمام جاہ و جلال یکسر ختم ہو چکا تھا۔ 

 ایسی صورتحال میں سر سید نے زمانے کا رنگ … مزید پڑھیے

ہم عصر علمی و ادبی جرائد کے تناظر میں خرد افروز ’’نگار‘‘ کی انفرادیت ۔۔۔ ڈاکٹر ممتاز کلیانی

ایک عہد ساز جریدے پر ایک اہم کتابچہ

ہم عصر علمی و ادبی جرائد کے تناظر میں خرد افروز ’’نگار‘‘ کی انفرادیت

از قلم

ڈاکٹر ممتاز کلیانی

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

بر صغیر میں اردو کے ادبی رسائل کی تاریخ میں ’’نگار‘‘ فروری ۱۹۲۲ء میں، اُس وقت طلوع ہوا جب ملک کے ہر علاقے سے اردو کے ادبی جرائد کی ایک معقول تعداد زبان و ادب کی خدمت کے لئے مصروفِ عمل تھی۔ بعض اہم اور رجحان ساز رسائل ’’نگار‘‘سے پہلے اردو ادب کے اُفق پر روشنی بن کر جگ مگ کر رہے تھے اور بعض ’’نگار‘‘ کے بعد اپنے مخصوص و محدود مقاصد کے تحت مطلع ادب پر نمودار ہوئے اور کچھ عرصہ تک اردو زبان و ادب کی خدمت کے با ب میں اپنی بہارِ جاں فزا دِکھلا کر امتدادِ زمانہ کا شکار ہو کر منظر سے غائب ہو گئے۔ 

’’نگار‘‘ اپنے ہم عصر رسائل میں سے واحد ادبی جریدہ ہے جو فروری ۱۹۲۲ء سے تا حال (۲۰۰۰ء) اپنی ماہانہ اشاعتوں سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ ماہانہ اشاعتوں کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرنے والے رسائل … مزید پڑھیے

اردو کا پہلا اساطیری افسانہ ۔۔۔ ڈاکٹر قاضی عابد

ایک تحقیقی نوعیت کا کارنامہ

اردو کا پہلا اساطیری افسانہ

از قلم

ڈاکٹر قاضی عابد

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل 

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

اقتباس

 

اُسطورہ قصے اور کہانی کا اس کائنات میں قدیم ترین روپ ہے۔ عربی زبان کے اس لفظ کا مادہ ’سطر ‘ہے (۱) اور یہ معانی کی سطح پر اپنے یونانی متبادل Muthos سے حیران کن حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ ’اسطورہ‘ کے معنی ایک ایسی کہانی کے ہیں جس کی سچائی کو عام طریقوں سے ثابت نہ کیا جا سکے جبکہ Muthos اور Logos کے تال میل سے جنم لینے والا لفظ Myth بھی کم و بیش انہی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسے بالعموم ایسی کہانی تصور کیا جاتا ہے جس کی واقعیت اس ثقافت کے لوگوں کے عقیدے، ایمان یا روایت کا اس طرح سے اٹوٹ حصہ ہو کہ اس ثقافت سے متعلق لوگوں کی اکثریت اس کی واقعیت یا سچائی کو زیرِ بحث نہ لاتی ہو (۲)۔

مختصر لفظوں میں ’اسطورہ‘ ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جس میں دیوی دیوتاؤں یا ان کی نمائندہ یا قائم مقام شخصیات کے اوصاف و فضائل یا کارنامے بیان کیے گئے ہوں یا پھر … مزید پڑھیے

نثرِ بے نظیر ۔۔۔ میر بہادر علی حسینی

مجلسِ ادبیات عالیہ کی پیشکش

نثرِ بے نظیر

از قلم

میر بہادر علی حسینی

ڈاؤن لوڈ کریں 

 

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

حمد و نعت میں

قلم سے لکھوں پہلے نام خدا

وہ کیا ہے کہ ہو یہ کہانی تمام

کہ حاصل ہو دل کا مرے مدعا

بحقِ نبی سرورِ خاص و عام

حمد کی زیبائش لائق ہے ایسے خالق کو جس نے مجرد و مادی پیدا کیے۔ ادراک و حواس جو ان میں قابل تھے، ان کو دیے۔ انسان کو ان میں شریف تر بنایا، حسن و عشق اس کو عطا فرمایا۔ کون پا سکے اس کی صنعت کے راز، ان کو آپ ہی جانتا ہے وہ بے نیاز۔ رحمت کاملہ کی آرائش سزاوار اس نبی کے ہے، قرآن سا معجزہ جس کے لیے بھیجا اور قصہ ہر ایک پیغمبر کا اس میں بیان کیا۔ بشر کی تاب کیا جو اس کے مقطعات کے اشاروں کو سمجھے یا مرکبات کے معانی کی تہوں کو پاوے۔ تحفہ سلام کا قابل اس کے آل و اصحاب کے ہے جن کا رتبہ عرش سے اعلیٰ ہے اور علم فرشتوں سے بھی بڑا ؎

سراہا ہے حق نے انھیں بارہا… مزید پڑھیے

قصۂ گرو چیلہ ۔۔۔ ترتیب و تعارف: عبد الرشید

نا معلوم مصنف کی تحریر کردہ داستان جو ۱۸۴۵ء میں شائع ہوئی تھی

قصۂ گرو چیلہ

مرتبہ، ترتیب و تعارف

عبد الرشید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

قصۂ گرو چیلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

واقفانِ تواریخ قدیم اس قصۂ عجیب و غریب کو کتاب کلیلہ دمنہ سے انتخاب کر کے واسطے سمجھانے نا واقفوں زمانۂ حال کے بزبانِ اردو تختۂ قرطاس پر اس طرح لکھ گئے ہیں۔

قصہ گرو اور چیلے کا

کلیلہ نے کہا، یوں سنتے ہیں کہ ایک گرو کو کسی پادشاہ نے بہت بھاری خلعت دیا۔ جب اس کا چرچا شہر میں ہوا، ایک اٹھائی گیرے نے بھی خبر پائی، اس کا دل للچایا اور اس خلعت پر ایمان ڈگمگایا۔ رات برات چوری کے لیے کنَوٹھے پاس آتا، جاگنے کی آہٹ پا کے دبے پاؤں ہٹ جاتا۔ گرو جی تو جاپ تاپ میں ساری رات کاٹتے تھے، پر چور یہی جانتا تھا۔ بیت:

نہ ریاضت کو جاگتا ہے شیخ

ہے ڈرے چور آن مارے میخ [سودا] (۱)

دیکھو چوری اور سر زوری، دھِرا دھِرا جاتا تھا۔ بیت:

ہو گی کب تک چچا خبرداری

چور جاتے رہے کہ اندھیاری [سودا] (۲)

گرو جی یہ رات کی … مزید پڑھیے

محاکمۂ مرکزِ اردو ۔۔۔ سید احمد دہلوی

ادبیات عالیہ کی ذیل میں ایک اہم کتاب

محاکمۂ مرکزِ اردو

از قلم

سید احمد دہلوی

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

اقتباس

 

مرکز اردو کا محاکمہ بدیں ثبوت کہ ہر زبان کا مرکز اس کی جائے پیدا‌‌‎ئش ہے۔ قطعہ ؎

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل

ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

مرکز میں آ پڑی ہے مگر فلسفانہ بحث

مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے

جس طرح مرکز دائرہ کا وہ وسطی نقطہ ہے کہ اس سے محیط تک جس قدر خط کھینچیں وہ سب آپس میں برابر ہوں، اسی طرح زبان کا مرکز بھی وہ مقام ہے جہاں کسی زبان کے ایجاد یا پیدا ہونے کا مہر جہاں تاب طلوع ہوا ہو اور اس سورج کی کرنیں وہاں سے چاروں طرف پھیلی تو ہوں مگر قرب مرکز اور بعد مرکز میں وہی فرق ہو جو ہر ایک چیز کے قرب مخرج اور بعد مسافت میں ہوا کرتا ہے۔

پس اس سے ثابت ہے کہ ان کرنوں کی روشنی مقامات قریبہ میں بعیدہ کی نسبت زیادہ اثر کرے گی، یعنی جو اثر مرکز کے قریب ہو گا وہ بعید میں نہیں ہو … مزید پڑھیے

دیکھ لی دنیا ہم نے ۔۔۔ غضنفر

ایک عمدہ خود نوشت

دیکھ لی دنیا ہم نے

از قلم

غضنفر

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

میں جس حلیے میں گھر کے اندر تھا اسی حلیے میں باہر نکل پڑا تھا۔ بغیر کسی سے ملے، بنا کسی کو کچھ بتائے ماموں کی بیٹھک سے نکل کر میں سیدھے سیوان ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ نیم بد حواسی کے عالم میں کیے گئے اس سفر پر اب جب غور کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ میرا یہ ناگہانی سفر ضرور کسی اضطراری کیفیت کے دباؤ کا نتیجہ تھا اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قربتوں میں جب دوریاں در آتی ہیں تو در و دیوار ڈرانے لگتے ہیں اور توقع کی لو جب بجھتی ہے تو رشتوں سے دھواں اٹھنے لگتا ہے اور یہ دھواں ایسا دبیز اور دم سوز ہوتا ہے کہ اس کے گھنے گھیرے میں کھڑا ہونا دوبھر ہو جاتا ہے۔

پلیٹ فارم کی بھیڑ میں کھڑا بے سمتی کی شکار آنکھوں سے ہونقوں کی طرح میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ اچانک کانوں میں ایک زور دار سیٹی کی آواز سنائی پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے شور کرتی ہوئی کسی سمت … مزید پڑھیے

مطالبِ ارمغانِ حجاز ۔۔۔ مولانا غلام رسول مہرؔ

علامہ اقبال کے  مجموعے ارمغان حجاز کے فارسی کلام کی شرح پر مشتمل

مطالبِ ارمغانِ حجاز

وصی اللہ کھوکھر کی یونی کوڈ ٹائپنگ کی پیشکش

از قلم

مولانا غلام رسول مہرؔ

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں …….

 

ابلیس کی مجلس شوریٰ

ابلیس

یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دوں!

ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں!

اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کار ساز

جس نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب

میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں

میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں

کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند

کون کر سکتا ہے اس میں نخل کہن کو سرنگوں؟

تعارف:

یہ نظم علامہ نے ۱۹۳۶ء میں لکھی۔ بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں دنیا نے چند ایک انقلاب دیکھے۔ مثلاً ۱۹۱۷ء میں روس میں سیاسی انقلاب کیمونزم آیا۔ اس سے پہلے فرد واحد یعنی بادشاہ کی حکومت تھی۔ ۱۹۳۲ء میں اٹلی میں فاشسٹ ریاست وجود میں آئی۔ جرمنوں کو نازی ازم سے پالا پڑا۔ پھر … مزید پڑھیے

مطالبِ بال جبریل ۔۔۔ (ترجمہ و شرح) مولانا غلام رسول مہرؔ

کلامِ اقبال کی شرح اور ترجمے کی مولانا مہرؔ کی اور وصی اللہ کھوکھر کی ٹائپنگ کی زبردست کاوش

مطالبِ بال جبریل

ترجمہ و شرح بال جبریل

از قلم

مولانا غلام رسول مہرؔ

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل 

ای پب فائل 

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

 

(۱۹)

 

کمالِ ترک نہیں آب و گل سے مہجوری

کمالِ ترک ہے تسخیر خاکی و نوری

میں ایسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آیا

تمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوری

نہ فقر کے لیے موزوں، نہ سلطنت کے لیے

وہ قوم جس نے گنوایا متاعِ تیموری

سنے نہ ساقی مہ وَش تو اور بھی اچھا

عیارِ گرمی صحبت ہے حرفِ معذوری

حکیم و عارف و صوفی تمام مست ظہور

کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری

وہ ملتفت ہوں تو کنجِ قفس بھی آزادی

نہ ہوں تو صحن چمن بھی مقامِ مجبوری

برا نہ مان، ذرا آزما کے دیکھ اسے

فرنگ دل کی خرابی، خرد کی معموری

معانی

مہجوری: جدائی۔ علیحدگی۔ اہل حلقہ: یہ تصوف والوں کی اصطلاح ہے اس لیے کہ وہ کسب فیض کی غرض سے پیرو مرشد کے سامنے حلقہ بنا کر بیٹھتے ہیں۔ ملتفت: متوجہ، مہربان۔

ترجمہ و تشریح

۱۔ آب و گل … مزید پڑھیے

انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

سفر نامہ عمرہ ۲۰۱۶ء

انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک

از قلم

ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

’’اور اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج و عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۶)

اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی یقیناً بنیادی سبب۔۔۔ ثواب کی تمنا کہیں، روح کی طلب کا نام دیں، ہر مرتبہ کچھ کمی سی رہ جانے اور اس کمی کو دور کرنے کی آرزو کہیں، خون میں گردش کرتی خواہش، کانوں میں گونجتی مدھم سی سرگوشی، کوئی اپنے اور بلائے جاتا ہے اور دنیا داری میں گھرے ہم لوگ فرصت کے لمحات کے منتظر ہی رہتے ہیں۔۔۔۔ ’’ایک اور سفر کے لیے لوٹ آؤ سفر سے‘‘۔۔۔ میرے سفر نامہ عمرہ کے تاثرات پر مشتمل کتاب ’’عجب اک سلسلہ ہے‘‘ کے آخری باب کا عنوان بھی یہی ہے۔ اسلام آباد اور حاجی والا، گجرات کے درمیان مستقل حالتِ سفر میں رہنے کے ساتھ ساتھ ایک اور بلاوا بھی اپنے نصیب میں لکھا جا چکا تھا اور بہت بہت دعا ہے کہ ایسا نصیب ہر ایک کو نصیب ہو۔ ۲۲ نومبر تا ۱۳ دسمبر، اس مرتبہ صرف … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید