اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


قصۂ گرو چیلہ ۔۔۔ ترتیب و تعارف: عبد الرشید

نا معلوم مصنف کی تحریر کردہ داستان جو ۱۸۴۵ء میں شائع ہوئی تھی

قصۂ گرو چیلہ

مرتبہ، ترتیب و تعارف

عبد الرشید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

قصۂ گرو چیلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

واقفانِ تواریخ قدیم اس قصۂ عجیب و غریب کو کتاب کلیلہ دمنہ سے انتخاب کر کے واسطے سمجھانے نا واقفوں زمانۂ حال کے بزبانِ اردو تختۂ قرطاس پر اس طرح لکھ گئے ہیں۔

قصہ گرو اور چیلے کا

کلیلہ نے کہا، یوں سنتے ہیں کہ ایک گرو کو کسی پادشاہ نے بہت بھاری خلعت دیا۔ جب اس کا چرچا شہر میں ہوا، ایک اٹھائی گیرے نے بھی خبر پائی، اس کا دل للچایا اور اس خلعت پر ایمان ڈگمگایا۔ رات برات چوری کے لیے کنَوٹھے پاس آتا، جاگنے کی آہٹ پا کے دبے پاؤں ہٹ جاتا۔ گرو جی تو جاپ تاپ میں ساری رات کاٹتے تھے، پر چور یہی جانتا تھا۔ بیت:

نہ ریاضت کو جاگتا ہے شیخ

ہے ڈرے چور آن مارے میخ [سودا] (۱)

دیکھو چوری اور سر زوری، دھِرا دھِرا جاتا تھا۔ بیت:

ہو گی کب تک چچا خبرداری

چور جاتے رہے کہ اندھیاری [سودا] (۲)

گرو جی یہ رات کی … مزید پڑھیے

انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

سفر نامہ عمرہ ۲۰۱۶ء

انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک

از قلم

ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

’’اور اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج و عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۶)

اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی یقیناً بنیادی سبب۔۔۔ ثواب کی تمنا کہیں، روح کی طلب کا نام دیں، ہر مرتبہ کچھ کمی سی رہ جانے اور اس کمی کو دور کرنے کی آرزو کہیں، خون میں گردش کرتی خواہش، کانوں میں گونجتی مدھم سی سرگوشی، کوئی اپنے اور بلائے جاتا ہے اور دنیا داری میں گھرے ہم لوگ فرصت کے لمحات کے منتظر ہی رہتے ہیں۔۔۔۔ ’’ایک اور سفر کے لیے لوٹ آؤ سفر سے‘‘۔۔۔ میرے سفر نامہ عمرہ کے تاثرات پر مشتمل کتاب ’’عجب اک سلسلہ ہے‘‘ کے آخری باب کا عنوان بھی یہی ہے۔ اسلام آباد اور حاجی والا، گجرات کے درمیان مستقل حالتِ سفر میں رہنے کے ساتھ ساتھ ایک اور بلاوا بھی اپنے نصیب میں لکھا جا چکا تھا اور بہت بہت دعا ہے کہ ایسا نصیب ہر ایک کو نصیب ہو۔ ۲۲ نومبر تا ۱۳ دسمبر، اس مرتبہ صرف … مزید پڑھیے

مطالبِ بانگِ درا ۔۔۔ مولانا غلام رسول مہر

کلامِ اقبال( بانگِ درا) کی مشہور شرح

مطالبِ بانگِ درا

از قلم

مولانا غلام رسول مہر

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

خضر راہ

 

یہ نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے سینتیسویں سالانہ اجلاس میں پڑھی تھی جو اپریل 1922ء میں اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ دروازہ میں منعقدہ ہوا تھا۔ عالم اسلام کے لیے وہ وقت بے حد نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے۔ سلطنت عثمانیہ کی اینٹ سے اینٹ بج چکی تھی۔ اتحادیوں کے ایما پر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اُتار دی تھیں۔ شریف حسین جنگ کے زمانے میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کو عرب کے مختلف حصوں میں براہ راست مداخلت کا موقع مل گیا تھا۔ اس طرح مسلمانوں پر رنج و قلق کی گھٹائیں چھا گئیں۔ ہمارے ملک میں ہجرت کی تحریک جاری ہوئی، پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ہزاروں مسلمان قید ہو گئے۔ ادھر دنیائے اسلام کے رو برو نئے نئے مسائل آ گئے۔ اقبال نے ان ہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضرؑ کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی اور نظم کا نام ’’خضر راہ‘‘ اسی وجہ سے رکھا … مزید پڑھیے

چاند گیس پیپر ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

مجموعے "چاند کی گود میں” سے ایک اور مزے دار طویل مضمون

چاند گیس پیپر

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل 

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

 

اقتباس

 

اپریل ۱۹۹۰ء کے چاند میں ایک سوالنامہ شائع ہوا ہے ’’جنگلی کتب خانہ دھر پکڑی کے ناشرین نے اس کے عواقب و عوامل پر اس قدر غور کیا کہ قسمتِ عوام پر بے زار و قطار رونا آ گیا۔ سنبھلے تو عقل آئی کہ مفاد عامہ میں ضروری ہے۔ اس کا گیس پیپر شائع کر وا دیا جائے تاکہ چکورانِ چاند المعروف عاریان عقل کو اس کے حل میں چنداں مشکل و مصائب کا سامنا بزور قلم نہ کرنا پڑے۔ تو عاریان عقل و خرد پیارے چکوران چاند! اگر آپ اس پر چہ کو حل کرنا چاہیں تو ہمارے اس گیس پیپر سے جلد اور ضرور فائدہ اٹھائیں۔ دیری کی صورت میں خدشہ ہے کہ تاویلات و تفصیلات گیس بن کر اڑ جائیں گے۔ اور یہ گیس اس گیس سے کہیں زیادہ خطر ناک ہو گی جو پریشر ککر کی سیٹی والی گیس کی طرح پیٹ سے نکلتی ہے مگر کام اس کا بھی ان نازنینوں، حسینوں، مہ جبینوں جیسا ہے۔ … مزید پڑھیے

انار کلی ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

مجموعے "چاند کی گود میں” سے ایک طویل مضمون کی علیحدہ ای بک

انار کلی

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

 

اقتباس

 

عالم پناہ شہنشاہ جلال الدین اکبر اپنے آگرہ کے قلعہ میں محل کے پائیں باغ میں اداسی اور غم کی تصویر بنے، پشت پر ہاتھ باندھے، دھیرے دھیرے قدم اٹھا تے چہل قدمی کر رہے تھے۔ پھر وہ باغ کے وسط میں حوض کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ پاؤں کو جوتی اور شلوار سمیت حوض کے پانی میں لٹکا دیا اور ایک ہاتھ سے کنارے پر پڑے پتھر اٹھا اٹھا کر پانی ابلتے فوارے کو یوں مارنے لگے جیسے شیطان کو کنکریاں مار رہے ہوں۔ شہنشاہ صبح کی سیر کو محل سے نکلے تھے۔ ابھی تو منہ بھی نہیں دھویا تھا۔ اسی عالم میں دوپہر ہو گئی تھی۔

ادھر دربار میں نورتن اور وزیر اعظم بڑی بے چینی سے شہنشاہ کی آمد کا انتظار کر رہے تھے مگر ان کی آمد کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ ملکہ عالیہ سے دریافت کیا گیا تو پتہ چلا کہ آج صبح سیر کو گئے تھے اس کے بعد کچھ پتہ نہیں۔ … مزید پڑھیے

چاند کی گود میں ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

ہنستے مسکراتے مضامین کا مجموعہ

چاند کی گود میں

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

مسٹر لال بیگ

 

یہ میری پہلی نوکری تھی۔ اور دفتر میں حاضری کا پہلا دن تھا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی چھوٹے سے صحن کے ساتھ ایک لمبا برآمدہ شروع ہوتا تھا۔ میں سہمے سہمے انداز میں جب دفتر میں داخل ہوا تو برآمدے کے آخری کونے تک پہنچتے ہی ایک نادر الوجود شخصیت پر نظر پڑی۔ درمیانہ قد، جسم پتلا، سر اور مونچھیں سرخ مہندی سے رنگی ہوئی، رنگ تھوڑا سفید لیکن سرخ مہندی کے شیڈ نے اسے تانبا بنا رکھا تھا۔ وہ چھوٹے صاحب کے کمرے کے باہر ایک میز پر ڈھیر سارے خط اور لفافے رکھے، انہیں گوند سے بند کر کے ان پرسرکاری ٹکٹیں زبان پر رگڑ کر تھوک سے چسپاں کر رہا تھا۔ اس فلسفے کی وضاحت چند دن بعد خود اس نے کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ٹکٹوں کی پشت پر پہلے ہی گوند لگی ہوتی ہے پھر مزید گوند ضائع کرنے کا فائدہ؟ بچت کرنا چاہئے۔ پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے۔‘‘ اگلے دو چار روز میں ہی پتہ چل … مزید پڑھیے

داستان ایک مردِ خرد مند و جنوں پسند کی ۔۔۔ غضنفر

قوم مسلم کے ایک مجاہد کی داستان

داستان ایک مردِ خرد مند و جنوں پسند کی

از قلم

غضنفر

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

داستان گو اوّل

 

نئے طرز کی اک کہانی سنو

نئی ایک سحر البیانی سنو

حقیقت بیانی تو سنتے رہے

ذرا اب بیاں داستانی سنو

سنو تیرگی میں اجالے کا راگ

سنو روشنی کے فسانے کا راگ

سنو جس سے ظلمات روشن ہوئے

 زمینِ ضیا کے جیالے کا راگ

 

داستان گو دوئم

 

یہ قصہ کسی خطۂ خیالستان یا ملک ایران و طوران کا نہیں اور نہ ہی کسی شہر ِشبستان یا وادی پرستان کا ہے بلکہ اس جہانِ بے امان، بے سر و سامان اور پر از ہیجان کا ہے جس کی ایک قوم اپنے شاندار، پر وقار اور با اعتبار ماضی کے باوجود افلاس و ادبار، فکر و انتشار اور اضطراب و اضطرار کی شکار تھی۔ جس کی شاخِ نمودِ ذات بے برگ و بار تھی، شیرازۂ ہستیِ حیات تار تار تھی۔ جس کے آشیانے، آستانے، جلوت خانے، تعلیمی و تہذیبی سارے ٹھکانے، ہزیمت، فلاکت اور نحوست کے طوفان میں گھرتے جا رہے تھے اور ایک ایک کر کے … مزید پڑھیے

لکھنؤ کا عہدِ شاہی

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

لکھنؤ کا عہدِ شاہی

مجلس ادبیات عالیہ واٹس ایپ گروپ کا کارنامہ

عبد الروؤف عشرت لکھنوی

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

نصیر الدین غازی حیدر

شاہی محل کی عالیشان عمارت کے وسط میں صدر مقام پر ایک نفیس بارہ دری بنی ہوئی اور شیشہ آلات سے سجی ہوئی ہے۔ نفیس نفیس جھاڑ، نازک نازک دیوار گیریاں، قلمی تصویریں، خوشخط قطعے لگے ہیں۔ کمروں میں تمام کا فرش بچھا ہے۔ سنہری، روپہلی چلمنیں، زربفت کے پردے پڑے ہیں۔ بارہ دری کے سامنے پُر فضا چمن لگا ہے۔ سنگ مرمر کی نہریں جن میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ شہ نشین میں صدر مقام پر کارچوبی گاؤ تکیے لگائے ہوئے حضرت شاہ نصیر الدین حیدر بادشاہ غازی جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے پہلو میں بڑے تُزک و احتشام سے نواب ملکہ زمانیہ بیٹھی ہیں۔ گردا گرد خواصیں ماہتاب کے ہالے کی طرح، اردلی کی خواص چنور اور مورچھل جھل رہی ہے۔ ڈومنیاں مع سازندہ عورتوں کے بھاؤ بتا بتا کر سریلے سُروں میں گا رہی ہیں۔ کوئی چیخ کر بات نہیں کر سکتا۔ نظر سے نظر ملانے کا حکم نہیں ہے۔ کسی کو … مزید پڑھیے

نو طرزِ مرصع

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

نو طرزِ مرصّع

اردو محفل کے اراکین مجلس ادبیات عالیہ کی طرف سے تحفہ

محمد حسین عطا خان تحسینؔ

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

دیباچہ

اوپر دانشوران شیریں سخن بزم درایت و رزانت کے اور عاقلان صاحب طبع انجمن بلاغت و متانت کے مخفی و پوشیدہ نہ رہے کہ یہ عاجز ترین خلق اللہ میر محمد حسین عطا خاں متخلص بہ تحسینؔ مخاطب بہ خطاب‘‘مرصع رقم‘‘ بعد رحمت والد بزرگوار حضرت میر محمد باقر خاں صاحب متخلص بہ شوقؔ کے کہ تمام ممالک ہندوستان میں نزدیک ارباب کمال کے کمالات دینی و دنیوی سے شہرہ آفاق تھے اور واقعی یوں ہے کہ بیچ میدان تشریح و توصیف ذات اس مفرد کائنات کے نسریں ہلال آہوئے قلم کا، اوپر صفحۂ گلشنِ افلاکِ چراگاہِ سفیدۂ کاغذ کے جلوہ نمائش کا پا کر نافہ ریز بہار عرصہ تحریر کا نہیں ہو سکتا۔ اگر ذات فائض البرکات ان کے تئیں طغرا منشور فراست عالی یا عنوان مثال بے مثالی کا کہوں، بجا ہے۔ ایزد تعالیٰ غریق رحمت کا کرے۔ برکت صحبت، فیض موہبت، سر حلقۂ سخن طرازانِ دقائق فصاحت و قابلیت، سر دفتر نکتہ پردازانِ حقائق … مزید پڑھیے

فسانۂ عجائب

مجلسِ ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

فسانۂ عجائب

اردو کی اولین داستانوں کی ایک شاندار مثال

 رجب علی بیگ سرورؔ

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

مقدمہ

از مخمورؔ اکبرآبادی

فسانۂ عجائب جس کے مصنف مرزا رجب علی بیگ سرورؔ تھے، اردو زبان کی ایک نہایت مشہور و معروف کتاب ہے۔ ہر چند یہ کتاب اُس طرز تحریر کا ایک مکمل نمونہ ہے جس کی بنیاد محض آوُرد اور تصنّع پر قائم ہے اور جس کے موضوع میں بھی کوئی خاص دلکشی نہیں مگر آج تک یہ کتاب نہایت مقبول ہے اور باوجود اُن تمام باتوں کے جو بظاہر معائب معلوم ہوتی ہیں، اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ باتیں جو عام نظروں کو معائب معلوم ہوتی ہیں ایک نقّادِ سخن کے نزدیک معائب نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک تاریخی خصوصیت پنہاں رکھتی ہے۔

فسانۂ عجائب کی اصلی اہمیت اردو زبان کی تاریخ کے سلسلہ میں معلوم ہوتی ہے۔ اس زبان نے موجودہ حالت تک پہنچنے کے لیے مختلف مدارج طے کیے ہیں اور ان میں ہر درجہ اپنے مقام پر ایک مستقل … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید