اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


پالتو ۔۔۔ عبد الصمد

ایک طویل کہانی

پالتو

از قلم

عبد الصمد

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

اس کے اچانک اور قدرے بے ہنگم قہقہے سے سبھی چونک پڑے اور اسے خوف زدہ نظروں سے گھورنے لگے۔ قہقہہ لگانے والا شرمندہ سا ہو گیا اور معذرت خواہ لہجے میں بولا۔

’’معاف کرنا۔۔۔ دراصل میرے ذہن میں اچانک ایک بات آ گئی تھی۔۔۔‘‘

 وہ رک گیا تو سبھی بے ساختہ دریافت کر نے لگے۔

’’کون سی بات۔۔۔؟ کون سی بات۔۔۔؟‘‘

 وہ تھوڑا جھجک کر بولا۔

 ’’آسیب کی۔۔۔ آسیب والی بات۔۔‘‘

 ’’آسیب۔۔۔؟؟؟‘‘

 وہ سب گویا اچھل پڑے اور اسے یوں دیکھنے لگے جیسے اسی میں کوئی آسیب سما گیا ہو۔ وہ مسکرایا اور دھیرے سے بولا۔

’’امکان کی بات ہے۔ آخر ہم لوگ بار بار غور و خوض کے لئے بیٹھتے ہیں اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نا۔۔۔‘‘

وہ سب ابھی تک اسے ان نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جنہوں نے اسے ان کے سامنے اچانک ایک مشکوک چیز بنا دیا تھا۔

ان میں سے ایک نے کچھ تیز لہجے میں دریافت کیا۔

یعنی اب یہ صورت حال ہو گئی … مزید پڑھیے


نمی دانم کہ ۔۔۔ بیگ احساس

"دَخمہ” مجموعے سے ایک طویل کہانی

نمی دانم کہ ۔۔۔

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

شہر کے اس علاقے میں آنے سے وہ گریز کرتا تھا۔ کافی بھیڑ ہوتی تھی۔ اکثر ٹریفک جام ہو جاتا، سواریاں رینگنے لگتیں۔ شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی اسی علاقے میں تھا۔ اسٹیشن پر تو ’’حیدر آباد‘‘ کے بورڈ لگے تھے لیکن وہ ’’نام پلی‘‘ کہلاتا تھا۔ اکثر باہر سے آنے والے کنفیوز ہو جاتے۔ ایک بار ابّا کے دوست نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا یہ کیا نام ہوا ’’نام پلی‘‘ … … …!!
’’یہ نام ہماری ملی جلی تہذیب کی علامت ہے‘‘ ابّا نے سنجیدگی سے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا۔ ’’عبد اللہ قطب شاہ کے دیوان سلطنت رضا قلی کا خطاب ’’نیک نام خاں‘‘ تھا۔ یہ علاقہ ان کی جاگیر تھا۔ عوام نے ان کے خطاب سے ’’نام‘‘ لیا اور تلگو کا لفظ پلّی جوڑ دیا۔ ’’نام پلی‘‘ … …..!! شہر میں ایسے کئی محلے ہیں۔ تاریخی شہروں کا اپنا ایک الگ کردار ہوتا ہے‘‘ ابّا کے دوست کھسیانے ہو گئے تھے انھوں نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ … مزید پڑھیے


کرگسوں میں گھرا شاہین

حقیقت اور تصور کا امتزاج

پروفیسر غلام شبیر رانا

کا نیا ناول

کرگسوں میں گھرا شاہین

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

مستریاں والی بستی

جھنگ بھی ایک عجیب شہر ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوفے کے قریب ہو رہا ہے۔ دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع اِس قدیم شہر کے ایک نشیبی علاقے کی ایک بستی جہاں کا ماحول پتھر کے زمانے کی یاد لاتا ہے آج بھی اپنی داستانِ حسرت سناتی دکھائی دیتی ہے۔ کہرام ٹھگ کے آباء و اجداد گزشتہ کئی صدیوں سے اس علاقے میں رہتے تھے۔ سلطان جب اس طرف سے گزرتا تو کہرام ٹھگ کی بستی کو حیرت سے دیکھتا اور دیدۂ گریاں کی روانی چھُپانے کے لیے گل افشانیِ گفتار کا سہارا لیتا تھا۔ المیہ ہو یا طربیہ سلطان کی ہر بات کے پس منظر میں احساس کی تمازت اور جذبات کی شدت اس سے ملنے والوں کو مسحور کر دیتی تھی۔ حکیم کمال نے جب سلطان کوبستی مستریاں والا کے آسیب زدہ ہونے کے بارے میں بتایا تو سلطان نے اس کی بات خندۂ استہزا میں اُڑا دی اور کہا:

’’جس بستی میں کہرام ٹھگ اور تشفی مَل کنجڑے … مزید پڑھیے