اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


ترجمہ بیان القرآن، حصہ دوم

مشہور مفسر قرآن کی تفسیر کا صرف ترجمہ

ترجمہ بیان القرآن

حصہ دوم

ڈاکٹر اسرار احمد

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

۱۸۔ الکہف

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱. کل حمد و ثنا اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور اس میں اس نے کوئی کجی نہیں رکھی

۲. (یہ کتاب) بالکل سیدھی ہے تاکہ وہ خبردار کرے ایک بہت بڑی آفت سے اس کی طرف سے اور (تاکہ) وہ بشارت دے ان اہل ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہوں کہ ان کے لیے ہو گا بہت اچھا بدلہ

۳. وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش

۴. اور خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے

۵. انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کو تھا بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے وہ نہیں کہتے مگر سرا سر جھوٹ

۶. تو (اے نبی!) آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کر لیں گے ان کے پیچھے اگر وہ … مزید پڑھیے


ترجمہ بیان القرآن، حصہ اول

معروف مفسر قرآن کی تفسیر کی کتاب میں سے صرف ترجمہ

ترجمہ بیان القرآن

حصہ اول

ڈاکٹر اسرار احمد

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

فاتحہ

۱. اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۲. کل شکر اور کل ثنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے۔

۳. بہت رحم فرمانے والا نہایت مہربان ہے

۴. جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔

۵. ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔

۶. (اے رب ہمارے!) ہمیں ہدایت بخش سیدھی راہ کی۔

۷. راہ ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا جو نہ تو مغضوب ہوئے اور نہ گمراہ۔

٭٭٭

۲۔ البقرہ

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱. (الم) ا۔ ل۔ م۔

۲. یہ الکتاب ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔

۳. جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

۴. اور جو ایمان رکھتے … مزید پڑھیے


لکھنؤ کا عہدِ شاہی

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

لکھنؤ کا عہدِ شاہی

مجلس ادبیات عالیہ واٹس ایپ گروپ کا کارنامہ

عبد الروؤف عشرت لکھنوی

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

نصیر الدین غازی حیدر

شاہی محل کی عالیشان عمارت کے وسط میں صدر مقام پر ایک نفیس بارہ دری بنی ہوئی اور شیشہ آلات سے سجی ہوئی ہے۔ نفیس نفیس جھاڑ، نازک نازک دیوار گیریاں، قلمی تصویریں، خوشخط قطعے لگے ہیں۔ کمروں میں تمام کا فرش بچھا ہے۔ سنہری، روپہلی چلمنیں، زربفت کے پردے پڑے ہیں۔ بارہ دری کے سامنے پُر فضا چمن لگا ہے۔ سنگ مرمر کی نہریں جن میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ شہ نشین میں صدر مقام پر کارچوبی گاؤ تکیے لگائے ہوئے حضرت شاہ نصیر الدین حیدر بادشاہ غازی جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے پہلو میں بڑے تُزک و احتشام سے نواب ملکہ زمانیہ بیٹھی ہیں۔ گردا گرد خواصیں ماہتاب کے ہالے کی طرح، اردلی کی خواص چنور اور مورچھل جھل رہی ہے۔ ڈومنیاں مع سازندہ عورتوں کے بھاؤ بتا بتا کر سریلے سُروں میں گا رہی ہیں۔ کوئی چیخ کر بات نہیں کر سکتا۔ نظر سے نظر ملانے کا حکم نہیں ہے۔ کسی کو … مزید پڑھیے


نو طرزِ مرصع

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

نو طرزِ مرصّع

اردو محفل کے اراکین مجلس ادبیات عالیہ کی طرف سے تحفہ

محمد حسین عطا خان تحسینؔ

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

دیباچہ

اوپر دانشوران شیریں سخن بزم درایت و رزانت کے اور عاقلان صاحب طبع انجمن بلاغت و متانت کے مخفی و پوشیدہ نہ رہے کہ یہ عاجز ترین خلق اللہ میر محمد حسین عطا خاں متخلص بہ تحسینؔ مخاطب بہ خطاب‘‘مرصع رقم‘‘ بعد رحمت والد بزرگوار حضرت میر محمد باقر خاں صاحب متخلص بہ شوقؔ کے کہ تمام ممالک ہندوستان میں نزدیک ارباب کمال کے کمالات دینی و دنیوی سے شہرہ آفاق تھے اور واقعی یوں ہے کہ بیچ میدان تشریح و توصیف ذات اس مفرد کائنات کے نسریں ہلال آہوئے قلم کا، اوپر صفحۂ گلشنِ افلاکِ چراگاہِ سفیدۂ کاغذ کے جلوہ نمائش کا پا کر نافہ ریز بہار عرصہ تحریر کا نہیں ہو سکتا۔ اگر ذات فائض البرکات ان کے تئیں طغرا منشور فراست عالی یا عنوان مثال بے مثالی کا کہوں، بجا ہے۔ ایزد تعالیٰ غریق رحمت کا کرے۔ برکت صحبت، فیض موہبت، سر حلقۂ سخن طرازانِ دقائق فصاحت و قابلیت، سر دفتر نکتہ پردازانِ حقائق … مزید پڑھیے


حیات ماہ لقا

اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ کی سوانح

حیاتِ ماہ لقا

سلطنت دکن کی ایک جھلک

غلام صمدانی خان گوہر

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

تمہید

ماہ لقا بائی کے نام سے کون واقف نہیں ہے اور چندا جی کا نام کون ہے جو سنا نہیں۔ اس کو انتقال کیے ابھی سو برس بھی پورے نہیں ہوئے، جس کا مقبرۂ عالیشان اور سرا کوہ شریف کے پائیں میں واقع ہیں، جہاں ہر سال عرس شریف کے موقع پر ہزاروں تماش بین اور زائرین فروکش ہوتے ہیں، جس کو حیدرآباد دکن کا ہر امیر فقیر اور برنا و پیر جانتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ ماہ لقا بائی لطیفہ گوئی، بذلہ سنجی، شاعری، مروت، اخلاق، فیاضی، دولت و ثروت، حکومت میں اپنے زمانہ میں یکتائے روزگار مانی جاتی تھیں۔ بارہ کم سو برس ۸۸ کے پیشتر ہزاروں اشخاص بلکہ لاکھوں مہ لقا بائی کے جمال جہاں آرا کے مشتاق اور اس کی نظر عنایت کے امیدوار رہتے تھے۔ افسوس ہے کہ اب وہ ماہ لقا بائی موجود ہے اور نہ اس کے چاہنے والوں کا وجود باقی ہے۔ امتداد زمانہ نے … مزید پڑھیے


قرآنی زندگی اور غیر قرآنی زندگی کا تقابل اور جائزہ

ایک تحقیقی مضمون

قرآنی زندگی اور غیر قرآنی زندگی کا تقابل اور جائزہ

از قلم

آسیہ رشید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

ابتدائیہ

انعامات ربانی میں ایک بہترین انعام، امت مسلمہ کو نبی کریمﷺ کے ذریعے دیا جانے والا قرآن حکیم کا عظیم تحفہ ہے۔ سورہ یونس میں قرآن مجید کو رحمتِ خداوندی سے موسوم کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللَّہ وَبِرَحْمَتِہ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ہوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ (1)

(یہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ یہ نعمت تمہیں نصیب ہوئی، پس یہ وہ چیز ہے، جس پر لوگوں کو چاہیے کہ خوشیاں منائیں، جتنی بھی چیزیں دنیا میں لوگ سمیٹتے ہیں، قرآن کی نعمت، ان سب سے زیادہ بہتر اور قیمتی ہے۔)

قرآن کریم کے نزول کا بنیادی مقصد ہی انسانی زندگی کے اسلوب کو راہ حق دکھا کر اوصاف خداوندی سکھا کر درست طرز زندگی پر ڈھالنا تھا۔ بد تہذیبی ختم کرنے اور بد سلیقہ اور نا شائستہ ہونے کے سبب اور پوری دنیا کی اصلاح کرنے، تہذیب سکھانے اور اسلوب زندگی درست کرنے کو اللہ نے اتارا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:… مزید پڑھیے


جوہرِ اخلاق

مجلسِ ادبیات عالیہ کی پیشکش

جوہرِ اخلاق

فورٹ ولیم کالج کے دور کی ایک درسی کتاب

جیمز فرانسس کارکرن

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

گیارھویں نقل

کسی گاؤں کے چوہے نے اپنے ایک شہری بھائی کی دعوت کی۔ گاؤں میں جو کچھ میسر ہوا جیسا کہ باسی روٹی کے سوکھے ٹکڑے اور پنیر کی کترن، اس نے حاضر کی۔ دونوں دسترخوان پر بیٹھے اور کھانے لگے۔ شہری چوہے کو اور ہی مزا پڑا ہوا تھا، اس طرح کی غذا اس نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ ہر چند اس سے جی اس کا گھبرایا، مگر مارے لحاظ کے کچھ نہ کہا۔ غرض طعنے مانے میں اس نے کہا کہ ایسی سنسان جگہ میں رہنا اور اس طرح کی خوراک کھانا آپ کی شان سے باہر ہے۔

جب رخصت ہوا تو بدلا اُتارنے کو شہری چوہے نے ایک روز دہقانی بھائی کی دعوت کی اور اپنے ساتھ اُسے شہر کے ایک عالی شان مکان میں لے گیا۔ وہاں پہنچ کر شہری چوہے نے نعمت خانے میں اسے لے جا کر ایک سے ایک نعمت دکھلائی۔ بعد اس کے دالان میں جا کے میز پر کیا دیکھتے ہیں … مزید پڑھیے


فسانۂ عجائب

مجلسِ ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

فسانۂ عجائب

اردو کی اولین داستانوں کی ایک شاندار مثال

 رجب علی بیگ سرورؔ

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

مقدمہ

از مخمورؔ اکبرآبادی

فسانۂ عجائب جس کے مصنف مرزا رجب علی بیگ سرورؔ تھے، اردو زبان کی ایک نہایت مشہور و معروف کتاب ہے۔ ہر چند یہ کتاب اُس طرز تحریر کا ایک مکمل نمونہ ہے جس کی بنیاد محض آوُرد اور تصنّع پر قائم ہے اور جس کے موضوع میں بھی کوئی خاص دلکشی نہیں مگر آج تک یہ کتاب نہایت مقبول ہے اور باوجود اُن تمام باتوں کے جو بظاہر معائب معلوم ہوتی ہیں، اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ باتیں جو عام نظروں کو معائب معلوم ہوتی ہیں ایک نقّادِ سخن کے نزدیک معائب نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک تاریخی خصوصیت پنہاں رکھتی ہے۔

فسانۂ عجائب کی اصلی اہمیت اردو زبان کی تاریخ کے سلسلہ میں معلوم ہوتی ہے۔ اس زبان نے موجودہ حالت تک پہنچنے کے لیے مختلف مدارج طے کیے ہیں اور ان میں ہر درجہ اپنے مقام پر ایک مستقل … مزید پڑھیے


دہلی میں بیاہ کی ایک محفل اور بیگموں کی چھیڑ چھاڑ

دلی میں بیاہ کی ایک محفل

اور بیگموں کی چھیڑ چھاڑ

دہلی کے قدیم معاشرے کی ایک تصویر

ناصر نذیر فراق دہلوی

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

اقتباس

میری بڑی آپا ملکہ زمانی صاحبہ

آداب!

میں اصل خیر سے دلّی پہونچ گئی اور سب چھوٹے بڑوں کو تندرست دیکھ کر اور ان سے مل جل کر خوش بھی ہو لی۔ مگر اللہ جانتا ہے کہ میرا دم آپ میں ہی پڑا ہے۔ کیا کروں آپا جان! سسرال والوں کا پاس آن پڑا، نہیں تو زچہ خانہ میں آپ کو چھوڑ کر خدائیوں میں بھی نہ آتی۔ ویسے تو خدا رکھے دولہا بھائی نے نوکر چاکر، ماما اصیلیں آپ کی ٹہل کے لیے بہت سی لگا رکھی ہیں مگر جو ہمدردی ماں بہنیں کرتی ہیں وہ نوکریں کب کر سکتی ہیں۔ خیر بہت گئی، تھوڑی رہی ہے۔ اللہ نے چاہا تو اب کے اٹھوارہ کو سلامتی سے آپ بڑا چلّہ نہا لیں گی اور پلنگ کو لات مار کر کھڑی ہو جائیں گی۔ میاں ننھے مجھے ہر وقت یاد آتے ہیں اور ان کی ہُواں ہُواں میرے کانوں میں بسی ہوئی ہے۔ خدا وہ دن بھی کرے … مزید پڑھیے


سہ ماہی ‘سمت’ شمارہ ۵۱، جولائی تا ستمبر ۲۰۲۱ء

اردو تحریر میں اردو کے پہلے آن لائن جریدے

سَمت

مارہ ۵۱، جولائی تا ستمبر ۲۰۲۱ء

مدیر: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب

کنڈل فائل

نمونہ پڑھیں…….

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

کس کس کو یاد کیجیے، کس کس کو روئیے۔۔۔۔

فاروقی صاحب کی جدائی کا غم تو تازہ ہی ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا ہی، کرونا کی دوسری لہر نے مزید چرکے دئے ہیں۔ اس سہ ماہی میں مزید بڑے نام رخصت ہو گئے ہیں۔ کچھ کو ہی اس شمارے میں یاد کیا گیا ہےشمیم حنفی مئرے لئے شمیم بھائی تھے۔ وہ میرے استاد بھی رہ چکے تھے۔ جب وہ ایم اے کے فوراً بعد اندور میں ۱۹۶۶ء میں ہمارے اسلامیہ کریمیہ سکول/کالج میں استاد بن کر آئے۔ ایک آدھ شعری نشست میں بھی ملاقات رہی جہاں والد مرحوم صادقؔ اندوری کے ساتھ جانا ہوا۔ اور شمیم بھائی بطور شاعر ان نشستوں میں شریک ہوئے تھے، اور والد کے ساتھ وہ بھی بہت احترام سے پیش آنے لگے۔ اور مجھ سے بھی اس تعلق کی بنا پر رشتہ دہرا ہو گیا۔ حیدر آباد بھی جب ان کا آنا ہوتا تو کہیں نہ کہیں ضرور ملاقات ہو جاتی۔ کبھی مصحف اقبال توصیفی کے گھر طعام و … مزید پڑھیے