اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


رسول اللہﷺ بحیثیت مثالی شوہر ۔۔۔ محمد جاوید یوسف دیوان

ہمارے رسول صل اللہ علیہ و سلم کی ازدواجی زندگی پر عمدہ کتاب

رسول اللہﷺ بحیثیت مثالی شوہر

از قلم

محمد جاوید یوسف دیوان

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل 

ای پب فائل 

کنڈل فائل 

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

تمہید

ہر انسان اپنی گھریلو زندگی میں راحت، سکون اور عافیت کا متلاشی ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ یہ حاصل کیسے کرے۔ اس کا ماڈل اس کے دوست احباب یا اس کے خاندان، برادری، قبیلے کی روایات ہیں خاص طور اس کے والدین اور وہ انہی سے اپنا طرز عمل سیکھتا اور بناتا ہے۔ لیکن جو اس کا ماڈل ہیں وہ خود نہیں جانتے کہ گھریلو زندگی میں سکون و عافیت کیسے آتی ہے۔ ان کی اپنی زندگیاں الجھنوں اور ہولناک مصائب کا شکار ہیں۔ اندھا اندھے کو کیا راستہ دکھائے گا!

ہر مسلمان کا کامل یقین ہے کہ اس کی فلاح اور کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی تعلیمات کا کتنا پابند ہے۔ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہمیشہ رہتا ہے:

ولقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر وذکر اللہ کثیر

(الاحزاب: 21)

ترجمہ: اور یقیناً تمہارے لیے رسول اللہﷺ میں عمدہ نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کی لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے

اس لیے ضروری ہوا کہ رسول اللہﷺ کی خانگی زندگی کو جانا جائے۔ اس لیے کہ اس کو نہ جان کر ہمارا حال یہ ہو گیا ہے کہ ہماری خانگی زندگی افراتفری کا شکار ہو گئی ہے۔ گھر سے باہر کی زندگی کے مسائل اور پریشانیوں کو انسان پھر بھی برداشت کر لیتا ہے لیکن اگر گھریلو زندگی میں نا اتفاقی ہو تو پھر برداشت نہیں ہو پاتا۔ نہ انسان کسی کو اپنی مشکل بتا سکتا ہے، نہ اظہار کر سکتا ہے بس اندر ہی اندر اپنے غم کو پالتا رہتا ہے اور یوں اس کی زندگی بے سکونی میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

حدیث 1

اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا وخیارکم خیارکم لنسائکم

(سنن الترمذی)

ترجمہ: مومنوں میں سے ایمان کے لحاظ سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں، اور تم میں سے خلق کے لحاظ سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں سے بہترین اور مثالی سلوک کرتا ہے۔

یعنی یہ ہر شوہر سے تقاضا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال سے بہترین اخلاق سے پیش آئے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے طرز عمل سے اس بہترین اخلاق کا نمونہ اپنی امت کو پیش کیا ہے۔ جس کا اظہار خود رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے:

حدیث 2

عن عائشة قالت ‏‏‏‏ قال رسول اللہﷺ ‏‏‏‏ خیرکم خیرکم لاہلہ ‏‏‏‏‏‏وانا خیرکم لاہلی

(سنن الترمذی)

ترجمہ: سیدہ عائشہؓ بتاتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا ہے اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال سے حسن سلوک کرنے والا ہوں۔‘‘

حدیث 3

سیدہ عائشہؓ بتاتی ہیں:

کان رسول اللہﷺ اذا خلا فی بیتہ الین الناس بساما ضحاکا       (النسائی)

ترجمہ: رسول اللہﷺ جب گھر میں ہوتے تو انتہائی نرم خو ہوتے، ہنستے مسکراتے۔

یوں بھی آتا ہے کہ آپﷺ ازواج مطہرات کے ساتھ انتہائی نرم مزاج تھے اور ہنستے مسکراتے رہتے تھے خوش طبعی فرمایا کرتے تھے، (بحوالہ سبیل الرشاد، اردو ترجمہ، ج 7)۔ یوں بھی آتا ہے کہ رسول اللہﷺ جب بھی گھر میں تشریف لاتے تو آپﷺ کے چہرے پر مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔ رسول اللہﷺ کی گھر کی زندگی نرم مزاجی، خوش طبعی، اور وسعت قلبی کی حامل تھی۔ اس میں سخت مزاجی یا خشک مزاجی کا کوئی پہلو نہ تھا۔

سیدنا عمرؓ کا ایک قول آتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ انسان کو ایک بچے کی طرح ہونا چاہیے ہنستا ہنساتا، بے تکلف، سیدھا سادہ لیکن جب گھر والے اس سے کسی کام کے طلب گار ہوں تو وہ ایک مرد کو پائیں با ہمت، مضبوط، اور بات کا پکا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اللہ والوں کو، جن کو اس نے عباد الرحمن (رحمن کے بندے) کہا ہے، ان کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے:

والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرة اعین واجعلنا للمتقین اماما

(الفرقان: 74)

ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔

لیکن یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہونا یک طرفہ نہیں کہ بیوی بچے تو شوہر کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں اور خود شوہر ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا ہو۔ در حقیقت گھر کی پر سکون اور خوش گوار زندگی کا معمار شوہر ہے اور اسی پر شریعت نے اس کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ اس کام کے لیے اس معمار کو جو چیز سب سے زیادہ درکار ہے وہ ہے صبر اور برداشت، اور انہی دو باتوں سے شوہر ان بہت سارے مسائل کا حل کر سکتا ہے جو گھریلو زندگی میں پیش آتے ہیں۔ جس کی مثالیں آپ رسول اللہﷺ کی خانگی زندگی سے اخذ کر سکتے ہیں۔

آج کل کے میڈیا زدہ ماحول کا شکار انسان ازدواجی زندگی میں ’محبت بھری‘ زندگی ڈھونڈتا ہے، ایسی زندگی جس کا وجود صرف کہانیوں، افسانوں اور ناولوں تک ہی محدود ہے، انسانی معاشرے میں محبت کا اظہار افسانوں کی طرز پر نہیں ہوتا ہے، اس بات کو سمجنا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے زوجین کے لیے جلد از جلد اس حقیقت کو تسلیم کر لینا ضروری ہے کہ شادی سمجھوتوں کا نام ہے۔ مثالیت (Idealism) کی تلاش اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے!

دین نے خاندانی زندگی کے بارے میں دو بنیادی ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے پہلی سورۃ النساء آیت 34 میں ہے کہ الرجال قوامون علی النساء (مرد عورتوں پر نگران ہیں)۔ دوسری بنیادی ہدایت سورۃ النساء 19 میں مردوں کو بحیثیت قَوَّام یعنی نگراں ہونے کی وجہ سے دی گئی ہے، وہ ہے: وعاشروھن بالمعروف (اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں رہو)۔ اس میں مردوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اپنی عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت یعنی بھلے انداز میں زندگی گزارو۔ وعاشروھن بالمعروف کی عملی تفسیر رسول اللہﷺ نے پیش کی ہے۔ آپﷺ کا اپنی بیویوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا انداز ہی کامیابی کی راہ ہے۔ انہی کی اتباع سے ازدواجی زندگی میں راحت اور سکون آئے گا، جو نکاح کا ایک بنیادی مقصد ہے۔

نکاح میاں بیوی کے درمیان وہ عہد ہے جس کی بنا پر دونوں کے اوپر کچھ حقوق اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ یہ حقوق صرف اخلاقی ذمہ داری تک محدود نہیں ہیں بلکہ اسلامی قانون باقاعدہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ اگر کسی کی جانب سے کوتاہی ہو تو عدالت دخل اندازی کر کے وہ حقوق دلائے گی۔ لیکن ان حقوق کی ادائیگی پر آمادہ کرنے والی سب سے پہلی چیز ظاہر ہے کہ انسان کی اپنی ذاتی خوبیاں اور اس کا ذاتی اخلاق ہے۔ اسلام نے شوہر اور بیوی سے ایک دوسرے کے تعلق کو جن لفظوں میں پیش کیا ہے اس پر غور کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 ہن لباس لکم و انتم لباس لہن              (البقرۃ: 187)

ترجمہ: وہ (عورتیں) تمہارا پیرہن ہیں تم ان کا پیرہن ہو

انسان لباس سے اپنے جسم کو ڈھانپتا ہے جو لباس کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے عیوب پر پردہ ڈالتے ہیں۔ یہ بات بھی ہے کہ لباس ہر وقت اس کے جسم سے لگا رہتا ہے، جدا ہوتے ہوئے بھی جدا نہیں ہوتا۔ لباس میں زینت و آرائش کا پہلو بھی ہے۔ لباس ہی کے ذریعے سے انسان اپنی حیثیت کا اظہار بھی کرتا ہے۔ لباس سے انسان اپنے آپ کو موسم کی سختیوں سے بچاتا ہے۔ لباس کی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو لیے سِپر ہیں۔ ایک دوسرے کی فطری خواہش کو پورا کر کے گناہ سے بچاتے ہیں۔ لباس انسان کو راحت و آرام بھی پہنچاتا ہے۔ شوہر اور بیوی بھی ایک دوسرے کے لیے باعث راحت و آرام بنتے ہیں۔ یہ ساری حکمتیں اس رشتے میں مضمر ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہایت مختصر اور جامع الفاظ میں زوجین کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف وللرجال علیہن درجة (البقرۃ: 228)

ترجمہ: اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے (مردوں) کو ان پر حاصل ہیں، ہاں مردوں کو ایک درجہ فوقیت ہے

یعنی دونوں کے ایک دوسرے پر کچھ حقوق ہیں جن کا خوش دلی سے اور بر وقت ادا کرنا ہی ازدواجی زندگی کو مسرت اور شادمانی سے بھرے گا۔ حقوق کی ادائیگی محض ایک قانونی تقاضا سمجھ کر کرنے سے حق تو ادا ہو جائے گا لیکن اس کا جو مقصد یعنی باہمی محبت اور یگانگت پیدا ہو اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایک بات یاد رکھیں کہ تعلقات کوئی سے بھی ہوں وہ وقت اور توجہ کا سرمایہ اور قربانی مانگتے ہیں۔ ان کو پروان چڑھانا پڑتا ہے تب ہی وہ بار آور ہوتے ہیں اور انسان ان سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ رسمی اور روٹین کے طریقے پر قائم تعلقات تو کاروباری ہوتے ہیں جہاں صرف مفادات پیش نظر ہوتے ہیں۔ شوہر اور بیوی کا تعلق بہت ہی خاص قسم کا ہے اور ہر تعلق سے بڑھ کر ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں اس کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں تا کہ نہ صرف ان کی زندگیاں بلکہ ان کے بچوں کی زندگیاں بھی سکون اور عافیت کے ماحول میں گزرے۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ ان کے تعلقات کسی شعوری کوشش کے بغیر محض حالات کے دھارے پر چلتے چلتے اپنا رخ بناتے رہتے ہیں۔ زوجین کو چاہیے کہ پوری توجہ سے ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے اور رعایت دیتے ہوئے اپنے تعلقات کو پروان چڑھائیں اور جہاں کہیں کوئی مشکل پیش آ جائے تو اس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ کوشش اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ان کے تعلق کی بنیاد مضبوط ہو اور دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور ایثار کے جذبات ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہر اختلاف تعلقات میں نئی دراڑ ڈالے گا اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور کرتا رہے گا۔ دونوں بظاہر ایک ساتھ رہتے ہوں گے لیکن در حقیقت دو جزیروں کے باسی ہوں گے جن کے درمیان میلوں کا فاصلہ ہو گا۔ اپنی اپنی مجبوریاں دونوں کو اس بے جان تعلق کو قائم رکھنے پر مجبور کرتی ہیں اور دونوں ہی بے سکونی کا شکار ہوتے اور پریشانی میں گھرے رہتے ہیں۔

مرد عورتوں پر نگراں ہیں

اسلامی نظامِ خاندان میں جو بنیادی تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مردوں کو سربراہی کا مقام عطا کیا گیا ہے اور عورتوں اور دیگر افراد خانہ کو ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۃ النساء آیت 34 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

الرجال قوامون على النساء بما فضل اللہ بعضہم على بعض وبما انفقوا من اموالہم

ترجمہ: مرد عورتوں کے نگراں ہیں اس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس لیے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں

یہ ایک عقلی اور منطقی بات ہے۔ اس لیے کہ کسی طرح کا نظام چلانے کے لیے کسی نہ کسی کو ذمہ دار بنانا پڑتا ہے ورنہ نظام میں خلل پڑ جائے گا۔ مرد فطرتاً طاقتور اور مضبوط شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو گھر کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ لیکن یہ سربراہی ایک انتظامی ذمہ داری ہے اور در حقیقت بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کا جواب دینا پڑے گا۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

یا ایہا الذین آمنوا قوا انفسکم واہلیکم نارة وقودہا الناس والحجارۃ (التحریم: 97)

ترجمہ: اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں

یعنی مرد پر نہ صرف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی ذمہ داری ہے بلکہ وہ اپنے اہل و عیال کا بھی ذمہ دار ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے اس کو اپنے اہل و عیال پر اختیار دیا ہے جس میں کوتاہی کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ عبداللہ ابن عمرؓ رسول اللہﷺ کا ایک ارشاد نقل کرتے ہیں:

حدیث 4

الا کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ فالامیر الذی على الناس راع وہو مسؤل عن رعیتہ والرجل راع على اہل بیتہ وہو مسؤل عنہم و المراة راعیة على بیت بعلہا وولدہ وہی مسؤلة عنہم والعبد راع على مال سیدہ وہو مسؤل عنہ الا فکلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ (متفق علیہ)

ترجمہ: تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور ہر آدمی اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے چنانچہ امیر (حاکم) نگہبان ہے، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے۔ اس طرح تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

مردوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انتظامی معاملات چلانے کے لیے عورتوں پر فضیلت دی ہے اس میں نگرانی اور ذمہ داری دونوں پہلو ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ عورت مجبور محض ہے جس کی مرد کے سامنے کوئی حیثیت نہیں اس لیے اب مردوں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے جس طرح کا چاہیں سلوک روا رکھیں، ان کے ساتھ زیادتی کریں یا ان پر ظلم کریں۔ یہ اختیار محکوم پر حاکم کی طرح کا اختیار نہیں ہے کہ عورت کو ہر حال میں تابع اور فرماں بردار ہونا چاہیے۔ نہ یہ اختیار نوکر پر مالک جیسا ہے۔ بلکہ اس میں بہت حد تک دوستی کا معاملہ ہے جس میں محبت اور انسیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اگر کوئی مرد عورت پر زیادتی کرے گا تو اسے اللہ کے ہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ گھریلو زندگی میں سکون و اطمینان نکاح کا ایک بنیادی مقصد ہے۔ قرآن پاک میں آتا ہے:

ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (الروم: 21)

ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

وجعل بینکم مودۃ ورحمة یعنی ہم نے خاوند اور بیوی کے درمیان محبت و رحمت پیدا کر دی ہے۔ یعنی اسلام چاہتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں امن، دلی محبت اور یک جہتی کے ساتھ رہیں۔

یہ شوہر کی بحیثیت گھر کے سربراہ کے ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گھر کے معاملات کو اس طرح چلائے کہ میاں بیوی میں محبت اور یک جہتی پروان چڑھے اور گھر کے سکون و راحت میں خلل نہ پڑے اور تمام افراد خانہ اپنی دینی و دنیاوی زندگی شریعت کے مطابق گزار سکیں۔ صرف اپنے ہی حقوق کا طلب گار نہ ہو بلکہ بیوی کے حقوق بھی پوری خوش دلی سے ادا کرے۔ مرد کو قوام یعنی گھر کا نگراں بنانے والے نے مرد کی شان یہ بتائی ہے کہ وہ مال خرچ کرتے ہیں (دیکھیے سورۃ النسا آیت 34)۔ یعنی مرد بڑے دل کا ہوتا ہے اس کی شان تو دینے کی ہے۔ اس فرمان رسولﷺ پر بہت توجہ فرمائیں:

حدیث 5

عن عائشة قالت ‏‏‏‏ قال رسول اللہﷺ ‏‏‏‏ خیرکم خیرکم لاہلہ ‏‏‏‏‏‏وانا خیرکم لاہلی

(سنن الترمذی)

ترجمہ: سیدہ عائشہؓ بتاتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا ہے اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال سے حسن سلوک کرنے والا ہوں۔‘‘

شوہر گھر کا سربراہ ہے لیکن عورت پر بھی گھر کی ذمہ داری ہے۔ غور فرمائیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے۔‘‘ اس لیے شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی پراعتماد اور بھروسا کرے اور گھریلو معاملات کے انتظام کو اس کے سپرد کر دے اور بلا ضرورت دخل اندازی سے بچے بلکہ گاہے گاہے اس کی ہمت افزائی اور شکریہ ادا کرتا رہے تا کہ بیوی اپنی حیثیت کو جانے اور خود اعتمادی سے اپنی ذمہ داری کو ادا کر سکے۔

اچھا مسلمان کون؟

رسول اللہﷺ ایک کامل نمونہ ہیں جن کی اتباع ہمارے لیے واجب ہے، اور اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ آپﷺ کا اپنی بیویوں کے ساتھ طرز عمل ازدواجی زندگی کے سلسلے میں امت کے لیے ایک نمونہ ہے۔ اس لیے کہ آپﷺ نے اپنے طرز عمل سے یہ بتایا کہ بیوی کے ساتھ معاملہ کس طریقے پر ہو اور یہ کہ اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ رسول اللہﷺ کی ازدواجی زندگی کے متعلق خادم رسولﷺ، حضرت انسؓ بتاتے ہیں:

حدیث 6

عن انس بن مالکؓ قال ما رایت احدا کان ارحم بالعیال من رسول اللہﷺ

(صحیح مسلم)

ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی، کہا: ’’میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر کسی کو اپنے اہل و عیال پر شفقت کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘

حدیث 7

عن عائشة قالت ‏‏‏‏ قال رسول اللہﷺ ‏‏‏‏ خیرکم خیرکم لاہلہ ‏‏‏‏‏‏وانا خیرکم لاہلی ‏‏‏‏ واذا مات صاحبکم فدعوہ  (سنن الترمذی)

 ترجمہ: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کا ذکر نہ کرو‘‘

حدیث 8

عن ابی ہریرة قال قال رسول اللہﷺ ‏ اکمل المؤمنین ایمانا احسنہم خلقا وخیارکم خیارکم لنساۂم خلقا (سنن الترمذی)

ترجمہ: ابو ہریرۃؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو‘‘

حدیث 9

عن عائشة قالت قال رسول اللہﷺ ان من اکمل المؤمنین ایمانا احسنہم خلقا والطفہم باہلہ  (سنن الترمذی)

ترجمہ: ام المؤمنین عائشہؓ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’سب سے زیادہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہو، اور جو اپنے بال بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو‘‘

ان تمام احادیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمان کے اچھا یا برا ہونے کا خاص معیار اور نشانی یہ ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ اس کا طرز عمل کیسا ہے۔ یہ احادیث تقاضا کرتی ہیں کہ انسان اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ بہترین سلوک کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ان کو راحت پہنچے نہ کہ رنج و تکلیف۔ گھر کے باہر نیک نامی کی کوئی حیثیت نہیں اگر اس کے اہل و عیال اس سے امن میں نہیں ہیں۔ اگر انسان کے اہل و عیال اس سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے حقوق ان کو نہیں مل رہے تو ایسے انسان کی تہجد کام کی ہے، نہ نیک اعمال، نہ نوافل، نہ تسبیحات کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت ہے۔ الادب المفرد میں حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک روایت آتی ہے جس میں وہ بتاتے ہیں:

حدیث 10

قیل للنبی صلى اللہ علیہ و سلم‏ ‏ یا رسول اللہ ان فلانة تقوم اللیل وتصوم النہار وتفعل وتصدق وتؤذی جیرانہا بلسانہا ‏ فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم‏ ‏ لا خیر فیہا ہی من اہل النار

ترجمہ: ایک عورت کے بارے میں رسول اللہﷺ کو بتایا گیا کہ وہ رات کا قیام کرتی ہے (یعنی تہجد پڑھتی ہے) دن میں (نفلی) روزے رکھتی ہے، (اچھے) کام کرتی ہے اور صدقہ دیتی ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اس عورت میں کوئی خیر نہیں ہے وہ جہنمیوں میں سے ہے

ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے:

حدیث 11

عن ابی شریح ان النبیﷺ قال واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن قیل من یارسول اللہ قال الذی لایامن جارہ بوائقہ (صحیح البخاری)

ترجمہ: حضرت ابو شریحؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، عرض کیا گیا کون یا رسول اللہﷺ؟ ارشاد فرمایا: وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے محفوظ نہ ہو۔

توجہ کرنے کی بات ہے کہ تہجد گزاری، سارے روزے، تمام صدقے اور دیگر نیک اعمال پڑوسی کو تکلیف دینے کے باوجود جہنم میں لے جائیں گے، تو بیوی کے حقوق تو پڑوسی سے بہت زیادہ ہیں اس کو تکلیف دینے والے کس دھوکے میں ہیں؟ بیوی کے حقوق بھی حقوق العباد ہی میں سے ہیں لیکن بہت سے شوہروں کی اس پہلو پر نظر ہی نہیں ہے۔ وہ بلا دریغ بیویوں پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں حالانکہ قیامت کے دن جہاں دوسرے حقوق العباد کا بدلہ چکانا پڑے گا، بیوی سے کی ہوئی زیادتی کا بھی بدلہ دینا پڑے گا۔ اس لیے اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھیں اور بیوی سے اپنا معاملہ حق اور انصاف پر رکھیں۔ معجم طبرانی کی ایک روایت میں شر الناس (سب سے برے آدمی) کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ جس کے گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی بچے سب سہم جائیں، اور جب وہ گھر سے نکل جائے تو بیوی بچے سکون کا سانس لیں۔

رسول اللہﷺ کا اپنا اسوۃ کیا بتاتا ہے؟

وانا خیرکم لاہلی

ترجمہ: اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں

حدیث 12

عن حکیم بن معاویة القشیری عن ابیہ قال قلت یا رسول اللہ ما حَقُّ زوجة احَدِنَا علیہ؟ قال ان تُطْعِمَہَا اذا طَعِمْتَ وَتَکْسُوَہَا اذَا اکْتَسَیْتَ او اکْتَسَبْتَ ولا تضرب الوجہ ولا تُقَبِّحْ ولا تَہْجُرْ الا فی البیت (سنن ابن ماجہ)

ترجمہ: حکیم بن معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم پر ہماری بیوی کے کیا حق ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا یوں فرمایا جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اس سے علاحدگی اختیار نہ کرو۔

پس رسول اللہﷺ کی ازدواجی زندگی کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اپنا جائزہ لیں، اور اگر آپ اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو پھر فکر کریں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کریں!

عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو

نکاح ایک عقد یعنی ایک معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ باہم زندگی گزارنے کا معاہدہ ہے۔ اس عقد کے دیگر مقاصد کے علاوہ اس کا بنیادی مقصد مرد اور عورت کو ایک دوسرے کی زندگی میں راحت اور آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا وجعل بینکم مودة ورحمة ۚ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون   (الروم: 21)

ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

کیونکہ شوہر گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس لیے خانگی زندگی میں راحت اور آسانی کے سلسلے میں شوہر کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے۔ سورۃ النساء آیت 19 میں مردوں کو حکم فرمایا گیا ہے:

وعاشروہن بالمعروف فان کرہتموہ فعسى ان تکرہوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرة

ترجمہ: ان (بیویوں کے ساتھ) بھلے طریقے سے زندگی گزارو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے

اس آیت میں شوہر کو تاکید کی گئی ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا کرو کیونکہ میاں بیوی کی خانگی زندگی میں جب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے رہیں گے تو لامحالہ دونوں کو راحت، مسرت اور سکون حاصل ہو گا۔ وعاشروھن بالمعروف (سورۃ النساء 19) کی تفسیر کے تحت ابن کثیرؒ رسول اللہﷺ کے حسن معاشرت کا ایک طرز بتاتے ہیں:

جس بیوی کے ہاں آپﷺ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپﷺ کی ساری بیویاں جمع ہو جاتیں بات چیت بھی ہوتی، ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپﷺ اسی بیوی کے پاس آرام فرماتے جن کی باری ہوتی۔

غور فرمائیں

یعنی بیوی کے ساتھ بات چیت کرنا اس کو وقت دینا بھی اس کے ساتھ حسن معاشرت ہے۔ یہ رسول اللہﷺ کا معمول تھا (دیکھیے رسول اللہﷺ کا حسن معاشرت، بیوی کو وقت دینا، ص 36)۔

غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک کو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے تشبیہ دی ہے چنانچہ والدین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وصاحبہما فی الدنیا معروفا       (لقمان: 15)

ترجمہ: اور ان دونوں (یعنی ماں اور باپ) سے دنیا کے معاملہ میں بھلائی کرو

اور بیویوں کے بارے میں حکم دیا ہے:

وعاشروہن بالمعروف        (النساء: 19)

ترجمہ: اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو

یعنی دونوں کے ساتھ حسن معاشرت کے لیے معروف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

حسن معاشرت کیا ہے؟ در حقیقت حسن معاشرت انسان کے اچھے اخلاق کا مظہر ہے۔ آدمی کے اچھے اخلاق کا پتہ اس کے طرز عمل سے پتہ چلتا ہے۔ انسان کی دین داری کا صحیح ترین پیمانہ اس کا دوسرے لوگوں سے طرز عمل ہے اور خاص طور پر اس کا اپنی بیوی سے طرز عمل اس کے اخلاق کی صحیح ترین عکاسی ہے۔ غور فرمائیں، عورتوں کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے:

واخذن منکم میثاقا غلیظا       (النساء: 21)

ترجمہ: اور وہ تم سے پختہ وعدہ لے چکی ہیں

کس بات کا وعدہ؟ حسن سلوک کا۔ تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: امساک بمعروف او تسریح باحسان، حسن سلوک جب تک نکاح میں ہیں اور اگر نوبت طلاق تک پہنچے تو اس میں بھی حسن سلوک کا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ مرد پر حسن سلوک ہر حال میں واجب ہے۔ یہی اس کی مردانگی کی نشانی ہے نہ کہ ترش روئی، بد اخلاقی۔

حسن معاشرت کے بہت سے تقاضے ہیں جن کا خیال رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ یہاں بر سبیل تذکرہ حسن معاشرت کے بعض اہم تقاضوں کی طرف اشارہ کر دینا فائدے سے خالی نہ ہو گا۔ اس میں سب سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی پر شفقت کرتے ہوئے اس کی غفلتوں سے چشم پوشی اختیار کرے۔ اگر ایسا نہیں کرے گا اور بیوی کی ہر بات پر طعن و تنقید کرے گا تو ازدواجی زندگی خلفشار کا شکار ہو جائے گی اور یہ خلفشار رفتہ رفتہ شوہر اور بیوی کی راحت و سکون ہی نہیں بلکہ دین و ایمان اور دنیا اور آخرت کو برباد کر دے گا۔ شوہر کا اپنی بیوی کا مہر اور نان و نفقہ پوری طرح ادا کرنا بھی حسن معاشرت ہے۔ بیوی کے لیے علیحدہ پرسکون رہائش مہیا کرنا بھی حسن معاشرت ہے، چاہت اور محبت اور پیار کا اظہار کرنا بھی حسن معاشرت ہے، تلخ کلامی نہ کرنا وغیرہ حسن معاشرت کے ایک اعلی ترین مظاہر ہیں۔ رہا گالم گلوچ کرنا، ہاتھ چلانا، بیوی کی ذات و شخصیت میں عیب نکالنا تو یہ مرد کے گھٹیا پن کی علامت ہے، شریف لوگ ایسا نہیں کر سکتے! دیکھیے، حدیث 17، ص 26 اور حدیث 16 ص 26۔ حسن معاشرت میں شوہر کا اپنی بیوی سے وفا دار رہنا بھی شامل ہے۔ یہ حسن معاشرت کے چند تقاضے ہیں جن کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا مزید تفصیل اس کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت پیش کی گئی ہے۔

حسن معاشرت میں عورتوں پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ گھر میں خوش اخلاقی کی فضا پیدا کرنے کی ذمہ داری عورتوں پر بھی ہے۔ صرف گھریلو کاموں کی ادائیگی سے یہ فضا نہیں پیدا ہو گی۔ بلکہ شوہر کے ساتھ خوش دلی، محبت کا اظہار اور اس کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا بھی ضروری ہے۔ اخلاقی تقاضے صرف مردوں ہی سے نہیں عورتوں سے بھی ہیں۔ یہاں ایک عرب عورت کی وہ نصیحت یاد آتی ہے جو اس نے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت دی تھی، بہت کام کی بات ہے۔ اس نے بیٹی کو نصیحت کی تھی کہ تو شوہر کی کنیز بننا وہ تیرا غلام بن جائے گا۔

***