اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


رائفل اور شکاری کتّے ۔۔۔ سر سیموئیل بیکر/ محمد منصور قیصرانی

شکاریات کی ایک عمدہ کتاب

رائفل اور شکاری کتّے

شکاری مصنف

سر سیموئیل بیکر

اردو ترجمہ

محمد منصور قیصرانی

ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

 

‍‍‍رائفل اور شکاری کتے

 

 

 

سر سیموئل بیکر

اردو ترجمہ

محمد منصور قیصرانی

 

 

باب ۱

 

کسی جنگلی علاقے کے بارے میں میں ایسے تفصیلی انداز سے بتانا کہ اجنبی اسے دیکھتے ہی پہچان لے، کافی مشکل کام ہے۔ تاہم غیر ممالک میں کھیلے گئے شکار کے بارے میں میں ایسی تفاصیل بتانا انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ ہر شخص دوسرے ملک جا کر شکار نہیں کھیل سکتا۔ شکار کے دوران پیش آنے والے واقعات اور ماحول کی تفصیل بتانا کافی توجہ طلب کام ہے۔ اگر ایسی تفاصیل نہ ہوں تو قاری بیس پچیس صفحے پڑھ کر اکتا جاتا ہے کہ یہ شکاری نہیں بلکہ قصاب ہے جو جانوروں کو بے رحمی سے مارتا جا رہا ہے۔

کسی جانور کے شکار کے دوران اس کی ہلاکت اس وقت تک شکار نہیں کہلائی جا سکتی جب تک کہ اس کے شکار سے متعلق واقعات و حالات نہ بیان کیے جائیں۔ قصاب کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ انتہائی خوبصورت ہرن کو کھونٹے سے باندھ کر مارے یا پھر جنگل میں جا کر۔ قصاب کی اصل دلچسپی جانور کی ہلاکت ہے۔ شکار والی جگہ جتنی جنگلی ہو، شکاری کی دلچسپی اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ پن چکی کے پاس بنے پانی کے پرسکون تالاب سے چھ پاؤنڈ وزنی ٹراؤٹ پکڑنا کہ سامنے بہترین چراگاہوں میں فربہ مویشی چر رہے ہوں تو یہ تجربہ کسی حد تک شکار کہلا سکتا ہے۔ مگر اسی جسامت کی ٹراؤٹ کسی بپھری ہوئی پہاڑی ندی کے کنارے پکڑی جائے جہاں انسان کا وجود شاید ہی دکھائی دیتا ہو تو آپ کو لگے گا کہ پن چکی والی مچھلی بے شک اسی جسامت کی اور اتنی ہی بہادری سے لڑی ہو، مگر وہ شکار نہیں تھا۔ اگر آپ کو یہ فرق نہ دکھائی دے تو آپ شکاری نہیں اور آپ کو چاہیے کہ مچھلی پکڑنے کی بجائے بازار سے خرید کر کھا لیں۔

غیرآباد علاقے میں جنگلی جانوروں کی موجودگی شکار کی بنیاد ہے اور وہاں رائفل استعمال ہوتی ہے۔ آبادی میں رائفل کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور بندوق سے شکار ہوتا ہے۔ اب تصور کیجیے کہ شکار کے لیے مقام کی کوئی قید نہ ہو، آپ سکاٹ لینڈ کے پہاڑوں میں کشمیرے کا شکار کھیل رہے ہوں اور افق پر پہاڑوں کے سوا کچھ نہ دکھائی دے اور ہرے بھرے گھاس کے میدان ہوں تو آپ بتائیے کہ اس کا مقابلہ تیتر کے شکار سے کیسے کیا سکتا ہے کہ جھاڑیوں کے پیچھے کھڑے آدمی پنجروں سے تیتر نکال کر اڑا رہے ہوں اور شکاری بندوق چلا کر انہیں مارتے جا رہے ہوں۔ اسی لیے ہرن کا تعاقب کر کے اس کا شکار کرنا اتنی اہمیت رکھتا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ جانور کی ہلاکت شکار نہیں ورنہ ہندوستان کے جنگل میں ہاتھی شکار کرنے سے زیادہ چڑیا گھر میں ہاتھی کو مار کر لطف ملتا۔

فطری طور پر انسان خون کا پیاسا جانور ہے مگر سچا شکاری کبھی اتنا وحشی نہیں ہو سکتا کہ اسے محض جانور کی ہلاکت سے غرض ہو۔ اسے فطرت سے محبت ہوتی ہے اور قدرتی مناظر پسند کرتا ہے۔ اسے ہر جانور اور پرندے کی فطرت اور عادات سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے۔ اس واقفیت کے بغیر وہ محض قصاب ہو گا، شکاری نہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علاقے کی مناسبت سے شکار کی نوعیت بدلتی ہے۔ اچھا شکاری پہلا سوال یہی کرے گا کہ علاقہ کیسا ہے۔ جب اسے علاقے کے بارے میں میں تفصیل بتائی جائے گی تو وہ آپ کی بتائی ہوئی شکار کی تفصیلات کے ہر لفظ سے لطف اندوز ہو گا۔

شکار سے متعلق کتب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ایسی کتب صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہیں جس سے انا کی بو آتی ہے۔ شکاری اپنے حقیقی واقعات کو بیان کرتا ہے تو اس بارے میں میں انا کا پہلو نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ اجنبی افراد شاید اسے مبالغہ آرائی سمجھیں۔

انہی وجوہ کی بنا پر بہت سے ماہر شکاری اپنی داستان لکھنا پسند نہیں کرتے کہ قاری ان کو جانے بغیر ان کی باتوں پر اعتبار کرنے کی بجائے ان پر ہنسے گا۔ مجھے اکثر گورڈن کمنگ پر ترس آتا ہے کہ اس کے قارئین کی اکثریت نے کبھی پنجرے سے باہر جنگلی جانور نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی رائفل چلائی ہے۔

جب تک انسان جنگلی جانور کو اس کے فطری ماحول میں نہ دیکھے، اسے شکار کی اہمیت کا اندازہ تک نہیں ہو سکتا۔ کسی بلند مقام پر کھڑا شکاری کہ جسے اپنے مطلوبہ جانور کے بارے میں میں تمام تر معلومات ہوں اور وہ ان پر نظر ڈالے تو برتری کا عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ وہ خود کو فطرت میں مداخلت کرنے والا سمجھتا ہے۔ اس منظر کی خاموشی ہی اس کی خوشی ہے۔ جب شام کو سورج غروب ہوتا ہے تو اسے خوشی ہوتی ہے کہ اس نے جنگلی جانوروں کو ان کے فطری ماحول میں سکون سے چھوڑ دیا ہے۔ کسی قسم کی انسانی، مشینی یا پالتو جانوروں کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ وہ تہذیب کی ابتدا والی جگہ پر کھڑا ہوتا ہے جہاں کوئی غیر فطری آواز کبھی نہیں سنائی دی اور جہاں اونچے جنگلات میں گزرتی ہوا سنائی دیتی ہے۔ اسے دور پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جو نیلگوں آسمان سے ہم آہنگ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے ہزار فٹ اونچے پہاڑ ہوتے ہیں جس کی ڈھلوانوں پر سبزہ اگا ہوتا ہے۔ اس کی آنکھیں گھاس کے میدانوں میں دیکھتی ہیں اور جنگل، چٹانوں اور ندیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور اس کے دماغ میں اپنے وطن کی یادیں گھومتی ہیں اور جیسے چند لمحوں کے لیے اسے اپنا حال بھول گیا ہو اور ماضی کے مناظر دکھائی دیتے ہوں۔ اس طرح وہ یادوں میں کھویا ہوتا ہے کہ ہاتھی کی چنگھاڑ اسے واپس لے آتی ہے۔ اس طرح شکاری جب یادوں سے نکلتا ہے تو اسے یاد آتا ہے کہ وہ یہاں جنگل کے بادشاہ کے شکار پر آیا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ اگلا دن یا اگلا لمحہ کیسا ہو گا۔ اسے اپنے معبود اور اپنی بھاری رائفل پر پورا بھروسہ رکھنا ہو گا اور پھر وہ جنگل کے بادشاہ کی کھوج میں چل پڑتا ہے۔

عام طور پر جنگل کا بادشاہ ببر شیر کو مانا جاتا ہے مگر جس آدمی نے جنگلی ہاتھی کو اس کے فطری ماحول میں نہ دیکھا ہو، وہ کبھی نہیں جان سکتا کہ جنگل کا حقیقی بادشاہ جنگلی ہاتھی ہے۔ تمام جنگلی جانوروں کی بادشاہت کا حقیقی روپ ہاتھی کی شکل میں اپنے فطری مسکن میں گھومتا ہے۔ اس دوران وہ پیٹ بھرنے کے لیے اونچی شاخیں توڑتا ہے تو کبھی شرارتاً چھوٹے درخت گراتا ہے اور دن نکلنے پر جب وہ گشت پر نکلتا ہے تو اس سے زیادہ طاقتور کوئی اور جانور نہیں۔

جس آدمی نے جنگلی ہاتھی کو اس کے فطری مسکن میں نہیں دیکھا، اسے ہاتھی کے جسمانی اور دماغی پہلوؤں کا علم نہیں ہو سکتا۔ چڑیا گھر یا سرکس کا ہاتھی تماشائیوں سے سکے وصول کر کے ڈبے میں ڈالتا ہے اور اس کی تمام تر توجہ بچوں کے اچھالے ہوئے بن کھانے تک محدود رہتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے اجداد اپنے علاقے میں بے رحم اور تباہی کی مشینیں رہے ہوں اور کسی بھی انسان کو دیکھتے ہی اس پر حملہ کر کے اس کو مار ڈالتے ہوں۔ جنگلی گھاس کی بجائے اسے بن کھانے پڑتے ہیں اور وسیع و عریض جھیلوں اور تالابوں میں نہانے کی بجائے یہاں اسے لوگوں کے سامنے تام چینی کے بڑے ٹب میں نہانا پڑتا ہے۔ لوگ کس طرح جان سکتے ہیں کہ جنگلی ہاتھی اور اس ہاتھی میں کتنا فرق ہو گا۔

ہاتھیوں کے شکار کی داستان سن کر اکثر لوگ ہاتھیوں کو ’بیچاری مخلوق‘ کہتے ہیں۔

’بیچاری مخلوق‘ جب جنگل میں اس آدمی کے پیچھے لگی ہو اور یہ آدمی اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہا ہو اور ہر قدم پر ہاتھی اس کے قریب تر آتا جا رہا ہو اور آنکھوں سے شعلے برسا رہا ہو تو یہی شخص اس ہاتھی کی ہلاکت کا سبب بننے والی گولی کے لیے کتنا مشکور ہو گا؟

ہاتھی سے زیادہ کسی جانور کے بارے میں میں غلط فہمی نہیں پائی جاتی۔ اپنی فطری اور آزاد حالت میں ہاتھی دیگر جانوروں سے کہیں زیادہ جنگلی، محتاط اور منتقم مزاج ہوتے ہیں۔ ان کا وحشیانہ پن ہی ان کو خطرناک دشمن بناتا ہے۔ سدھائے جانے پر بھی بہت سے ہاتھی اجنبی کو قریب نہیں آنے دیتے اور ان کو محض آنکس سے ہی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

پالتو بننے پر ہاتھی طاقت اور وحشت کا عجیب نمونہ ہوتا ہے۔ مگر یہ کتاب پالتو ہاتھیوں کے بارے میں میں نہیں کہ اس بارے میں میں بہت سی کتب موجود ہیں۔ تاہم ہاتھی کی عادات کے بارے میں میں مختصراً بتایا جا سکتا ہے۔

استوائی خطوں کے جنگلی جانور سورج سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے پیٹ بھرنے کا وقت شام اور رات کا ہوتا ہے اور سورج نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ گھنے جنگل کو لوٹ جاتے ہیں۔

ہاتھی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اگر جنگلات میں بانس، لیمن گراس، دریاؤں، جھیلوں اور دلدلوں کے کنارے اگی نباتات بکثرت ہوں تو وہاں ہاتھی بھی عام ملتے ہیں۔ تاہم جب ایک علاقے میں خشک سالی کی وجہ سے ان کی خوراک کم ہو جائے تو وہ دوسرے علاقے کو چلے جاتے ہیں۔

ہاتھی شام چار بجے پیٹ بھرنے نکلتے ہیں اور صبح سات بجے نزدیک ترین خار دار اور دشوار ترین جنگل میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی دشوار گزار جگہیں ان کو محفوظ لگتی ہیں۔

ہتھنی کا زمانہ حمل ۲ سال ہے اور پیدائش کے بعد ہاتھی کو جوان ہونے میں ۱۶ برس لگتے ہیں۔ ہاتھی کا دورانِ حیات سو سال سمجھا جاتا ہے مگر میں پچاس سال کو اوسط سمجھتا ہوں۔

ہاتھی کی اونچائی ایک دوسرے سے کافی فرق ہوتی ہے۔ سیلون میں ہاتھی کی اونچائی کو اس کے شانے کی بلندی سے ماپا جاتا ہے۔ بہت بڑا ہاتھی نو فٹ اونچا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑے ہاتھی بھی ہوتے ہیں اور میں نے خود کئی مرتبہ ایسے ہاتھی مارے ہیں جو اس سے زیادہ اونچے تھے مگر ایسی جسامت کے ہاتھی عام نہیں۔ ہاتھی کی اوسط بلندی سات فٹ (نر کی ساڑھے سات فٹ جبکہ مادہ کی اونچائی سات فٹ) کے قریب ہوتی ہے۔

اوسطاً ہر تین سو میں سے ایک ہاتھی کے بیرونی دانت ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے بیرونی دانت ان کے بالائی جبڑے سے تین انچ باہر ہوتے ہیں اور ان کی موٹائی دو انچ ہوتی ہے۔ سیلون میں اسے ’ٹوش‘ کہا جاتا ہے اور ان کو نکالنے کی کوشش بیکار سمجھی جاتی ہے۔ یہ دانت ہاتھی شاخیں توڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ہاتھی غول کی شکل میں رہتے ہیں اور اوسط غول میں آٹھ ہاتھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ تعداد ۵۰ یا ۸۰ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ہر غول میں بہت بڑی تعداد میں ہتھنیاں ہوتی ہیں اور بعض اوقات تو پورے غول میں ایک بھی نر نہیں ہوتا۔ میں نے نر ہاتھیوں کے چھوٹے غول بھی دیکھے ہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ نر کی جسامت مادہ سے کافی بڑی ہوتی ہے اور وہ زیادہ وحشی ہوتا ہے۔ اس کی عادات اسے عموماً غول سے باہر تنہا رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جب ہاتھی اکیلا ہو تو اور بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے علاقے سے زیادہ دور نہیں جاتا اور بہت سال ایک ہی علاقے میں گزارتا ہے۔ ایسے ہاتھی کو ’بدمعاش‘ ہاتھی کا لقب دیا جاتا ہے کہ اس سے مقامی افراد محفوظ نہیں رہتے۔ بدمعاش ہاتھی اپنے علاقے میں چاول کے کھیتوں کی تباہی کا مشغلہ اپنا لیتا ہے اور آگ ہو یا کچھ اور، کچھ بھی اسے ڈرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور جہاں اسے مقامی آدمی دکھائی دیا، بلاوجہ اس کو مارنے پر تل جاتا ہے۔

ان ہاتھیوں کی دلیری اور کمیں گی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان کی قوتِ شامہ بہت تیز ہوتی ہے اور دن کے وقت ہمیشہ ہوا کی سمت چلتا ہے تاکہ اس کے پیچھے آنے والا کوئی بھی آدمی اس کی بے خبری میں قریب نہ پہنچ سکے۔ جونہی اسے دشمن کی بو ملتی ہے تو وہیں رک جاتا ہے۔ اسے علم ہو جاتا ہے کہ اس کا دشمن خاموشی سے اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ اس کے کان آگے کو جھک جاتے ہیں، دم کھڑی ہو جاتی ہے اور سونڈ کو اٹھا کر وہ دشمن کی بو سونگھتا ہے۔ اس کیفیت میں ہاتھی جیسے سنگِ سیاہ کا مجسمہ ہو اور ذرا سی بھی حرکت نہیں کرتا۔ اس کا دشمن بار بار جھک کر اس کے پیروں کے نشان تلاش کرتا ہے۔ اس طرح خاموشی سے پیش قدمی کرتا شکاری جب قریب پہنچ جائے تو ہاتھی چنگھاڑ کر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔

بدمعاش ہاتھی سے اصل خطرہ اس کی غیر متوقع حرکات ہوتی ہیں۔ آپ کو میدان یا جنگل میں بدمعاش ہاتھی دکھائی دے تو عین ممکن ہے کہ یا تو حملہ کر دے یا پھر فرار ہو جائے۔ اگر وہ فرار ہوا تو یقین کیجیے کہ وہ آپ کو کسی خاص جنگل کی طرف لے کر جا رہا ہے جہاں وہ آسانی سے چھپ کر آپ پر حملہ کر سکتا ہو گا۔

بدمعاش ہاتھی کے بعد سب سے خطرناک اور دشمن کی ہلاکت پر کمربستہ ایسی ہتھنی ہے کہ جس کا بچہ مارا گیا ہو۔ ایسی صورت میں ہتھنی یا شکاری میں سے ایک کی ہلاکت یقینی ہے۔ اگر غول میں بچے ہوں تو یقین کیجیے کہ چھیڑے جانے پر ہتھنیاں آپ کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوں گی۔

ہاتھی کا شکار خطرناک ترین مشغلہ ہے مگر یاد رہے کہ ہاتھیوں کی ہلاکت اور ہاتھیوں کے شکار میں بہت فرق ہے۔ ہلاکت محض قتل ہے جبکہ شکار تفریح ہے۔

بہت سے لوگ جو ہاتھی کا شکار کر چکے ہوں گے، کو اس بارے میں میں زیادہ علم نہ ہو گا اور انہوں نے سیلون سے جاتے ہوئے کبھی ہاتھی کے شکار کو خطرناک نہ شمار کیا ہو گا۔ ان کے شکار کا طریقہ کچھ ایسے ہے:

دو یا تین شکاری کسی خاص مقام پر پہنچتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بستی کے نمبردار کو بلوایا جاتا ہے اور اس سے ہاتھیوں کے نزدیکی غول کے بارے میں میں معلومات لی جاتی ہیں اور پھر ہاتھیوں کی تلاش اور نگرانی کے لیے کھوجی وغیرہ بھیجے جاتے ہیں۔

اس دوران خیمے لگانے کے بعد شکاری رائفلیں تیار کرتے ہیں۔ چند گھنٹے بعد کچھ کھوجی لوٹ کر بتاتے ہیں کہ انہوں نے ہاتھیوں کا غول تلاش کر کے نگرانی کے لیے کچھ آدمی مقرر کر دیے ہیں۔

بندوقیں بھر کر شکاری روانہ ہو جاتے ہیں۔ کھوجی انہیں لے کر آگے بڑھتے ہیں اور راستے میں انہیں ایک دو نگران آن ملتے ہیں کہ کھوجیوں کی واپسی کے بعد ہاتھیوں نے جگہ تبدیل کی تھی۔ اب ایک کھوجی آگے بڑھتا ہے اور سب کو احتیاط سے لے کر آگے بڑھتا ہے۔ سو گز دور ہاتھیوں کے کان ہلانے اور شاخوں کے ہلنے کی مدھم آواز آتی ہے۔

جنگل کھلا اور مناسب ہے۔ جگہ جگہ اونچی گھاس اگی ہوئی ہے۔ کھوجی انتہائی احتیاط سے شکاریوں کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھتا جاتا ہے اور شکاری بھی پوری مہارت دکھاتے ہیں۔ کھوجی مشہور آدمی ہے اور شکاریوں کو بے خبر ہاتھیوں سے دس گز کے فاصلے پر پہنچا کر ان کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے۔ بندوقوں سے نکلنے والی گولیوں کی آواز کے ساتھ بارود کا دھواں دکھائی دیتا ہے۔ ہاتھیوں کی گھبرائی ہوئی چنگھاڑیں سنائی دیتی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی جنگل میں راستہ بناتے ہوئے بعجلت فرار ہو گئے ہیں۔ فرض کیجیے کہ الف نے دو ہاتھی مارے۔ ب نے ایک ہاتھی مارا جبکہج نے بھی ایک ہاتھی گرایا مگرج کا ہاتھی پھر اٹھ کر فرار ہو گیا۔ سو کل تین ہاتھی شکار ہوئے۔ اب شکاری واپس لوٹ کر خیموں میں رات گزارتے ہیں۔ مہینہ بھر اس طرح کا شکار کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کل بیس ہاتھی مارے ہیں۔ ان کی رائے لی جائے تو ان کے خیال میں ہاتھیوں کا شکار بہت عمدہ مشغلہ سہی مگر اس میں کسی قسم کا خطرہ نہیں کہ ہاتھی ہمیشہ فرار ہو جاتے ہیں۔

اب ذرا ہم خود کو ہاتھیوں کی جگہ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ ہم غنودگی کی حالت میں گرمی کا دورانیہ سایہ دار درخت کے نیچے گزارتے ہیں۔ ہمارے قویٰ مضمحل ہیں۔ ہمیں خطرے کا بالکل بھی اندازہ نہیں کہ کتنا قریب ہے۔

اچانک ایک زوردار چنگھاڑ سنائی دیتی ہے۔ ایک بدمعاش ہاتھی آن پہنچا ہے اور یہ اسی کی چنگھاڑ تھی۔ ہم کس طرح سر پر پیر رکھ کر بھاگیں گے۔ جب تک بندوق ہاتھ نہ آئے، ہم رکیں گے بھی نہیں۔ تاہم بندوق ہاتھ آنے کے بعد بھی اگر ہاتھی نے پیچھا جاری رکھا تو تھوڑی ہی دیر میں اس کے بھیجے میں گولی اتر چکی ہو گی۔

عین اسی طرح جب ہم کسی بے خبر جانور پر حملہ آور ہوتے ہیں، چاہے وہ ہاتھی ہو یا کوئی اور جانور تو وہ عارضی ہیجان کی کیفیت میں فرار ہو جاتے ہیں۔ اب سوچیے کہ الف، بے اورج نے تین ہاتھی اتنی آسانی سے مار لیے اور اب وہ باقی غول کا پیچھا کر کے تقریباً سبھی ہاتھی مار لیتے ہیں۔ اس دوران ظاہر ہے کہ وہ پسینے سے تر ہوں گے، بے شمار کانٹے ان کے جسم میں پیوست ہو چکے ہوں گے کہ انہوں نے ہاتھیوں کے تعاقب میں کچھ نہیں دیکھا ہو گا۔ راستے میں ندی نالے ہوں تو بھی وہ بھاگ کر اسے عبور کر جائیں گے۔ اسی دوران ایک ہاتھی غول سے الگ ہو کر ان پر حملہ آور ہو گا اور انہیں اس کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس طرح کے شکار میں واقعی سنسنی ہوتی ہے۔

چھوٹے غول میں اچھے دانتوں والے ہاتھی کی ہلاکت میں ایک لمحہ لگتا ہے اور باقی غول بھی زیادہ دیر نہیں بچ پاتا۔ بہت مرتبہ میں نے خود پانچ سے چھ ہاتھیوں کے غول کو پانچ سیکنڈ میں شکار ہوتے دیکھا ہے کہ شکاری انتہائی مہارت سے بہت قریب پہنچ کر بہترین زاویوں سے گولی چلا کر ہاتھیوں کو ڈھیر کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے شکار میں سنسنی محض جنگل میں خاموش چلنے کی حد تک ہی ہوتی ہے۔

اصولی طور پر خار دار اور مشکل جنگل میں ہاتھیوں کا پیچھا کرنا مناسب نہیں کہ اکثر انتہائی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ عام غول کا بڑا حصہ آسانی سے شکار ہو جاتا ہے مگر اتنے گھنے جنگل میں گولی نشانے پر لگنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ایسے مقامات پر آپ کو ہاتھی صاف دکھائی دے رہا ہوتا ہے مگر گولی کو خطِ مستقیم میں جاتے ہوئے کم از کم پچاس ٹہنیوں کو کاٹنا ہو گا اور اگر کوئی شاخ ذرا ترچھی ہوئی تو وہ گولی کا راستہ بدل دے گی۔ ہر اصول کا استثنا بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات گھنے اور خار دار جنگل میں ہاتھیوں کا تعاقب کرنا پڑتا ہے۔

سیلون کے جنگل کی نوعیت ہر قسم کے شکار کے لیے غیر مناسب ہے۔ اس جزیرے کی کل لمبائی ۲۸۰ میل اور چوڑائی ۵۰ میل سے زیادہ نہیں اور اس کا زیادہ تر حصہ ناقابلِ رسائی جنگلات پر مشتمل ہے جو بے شمار جانوروں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔

جزیرے کا وسطی علاقہ پہاڑی ہے جس سے نکلنے والے نالے آگے چل کر دریاؤں کی شکل میں سیلون کو سیراب کرتے ہیں۔ نشیبی علاقے مسطح ہیں۔ پورے جزیرے کی مٹی کمزور اور ریتلی ہے۔

اس قسم کے جغرافیے والے ملک میں وسیع اور ناقابلِ رسائی جنگلات زیادہ تر حصے پر پھیلے ہیں۔ شکار کے شوقین افراد جب یہاں پہنچتے ہیں تو بہت مایوس ہوتے ہیں۔

شکاری سوچتا ہے کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر جنگلی جانوروں کا پیچھا کرے گا مگر اس کا سامنا سڑک کے دونوں جانب ناقابلِ عبور دیوار نما جنگل سے ہوتا ہے تو بہت مایوسی ہوتا ہے۔ اسے معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اس کی پہلی منزل گالے ہے جہاں وہ بحری جہاز سے اترتا ہے۔ یہ بہت گنجان آباد علاقہ ہے۔ یہاں سے وہ کولمبو جانے کے لیے سواری پکڑتا ہے۔ ۷۰ میل کے سفر میں جگہ جگہ گنجان آباد علاقے اور کو کوا کے جھنڈ دکھائی دیتے ہیں اور وہ دار الحکومت پہنچ جاتا ہے۔ اس کی مایوسی کا اندازہ کیجیے کہ اس سارے سفر میں اسے کوئی جنگل نہیں دکھائی دیتا اور کولمبو تہذیب کی علامت ہے۔ یہاں سے شکاری کینڈی جانے کے لیے تیار ہوتا ہے جو سیلون کے عین دل میں واقع ہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ کینڈی میں اسے خوب شکار ملے گا۔

کولمبو کے قلعے سے صبح ۵ بجے توپ چلتی ہے اور کوچ روانہ ہو جاتی ہے۔ میلوں پر میل گزرتے جاتے ہیں مگر ہر جگہ گنجان انسانی آبادیاں ہی دکھائی دیتی ہیں اور چاولوں کے کھیت ہر ممکن جگہ دکھائی دیتے ہیں، چاہے وہ میدانی علاقہ ہو یا پہاڑی۔ یہاں شکار ممکن نہیں۔

ساٹھ میل طے کرنے کے بعد شکاری کاڈوگاناوا درے کو پہنچتا ہے جو سطح سمندر سے ۱۸۰۰ فٹ بلند ہے۔ اس درے کی بلندی سے وہ دیکھتا ہے تو تا حدِ نگاہ اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کہیں بھی کھلا علاقہ نہیں دکھائی دیتا۔ سارا علاقہ ہی ناقابلِ رسائی جنگلات پر مشتمل ہے۔

پھر وہ کینڈی پہنچتا ہے جو چاروں طرف پہاڑی جنگلات سے گھرا ہوا قصبہ ہے۔ کینڈی پہنچ کر اس کا سفر تمام ہوتا ہے۔ یا تو وہ یہیں رکے گا یا پھر انگلستان لوٹ جائے گا۔ ہاں اگر اسے کوئی تجربہ کار شکاری بطور رہنما مل جائے تو اور بات ہے۔ مگر تجربہ کار شکاری شاید ہی اناڑی شکاریوں کے رہنما بنیں۔ بہت سے لوگ اپنی صلاحیتوں پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ کرتے ہیں اور ہاتھی کے شکار کو دلچسپ محسوس کرتے ہیں۔ تاہم جب غصے سے پاگل ہاتھی کے سامنے دوڑنا پڑے تو ان کے شکار کا جذبہ کچھ سرد پڑ جاتا ہے۔

اب میں آپ کو سیلون میں شکار کی مختلف اقسام کے بارے میں میں بتاتا ہوں جو کئی سالوں کے تجربے پر مشتمل ہے۔

سیلون میں ہاتھی، جنگلی بھینسے، ایلک یعنی سانبھر، چیتل، سرخ ہرن، پساری، سور، ریچھ، تیندوے، خرگوش، کالے تیتر، سرخ ٹانگوں والے تیتر، مور، بٹیر، سنائپ، بطیں، ویجن، ٹِیل، پلوور، مختلف اقسام کے کبوتر، بے شمار خزندے جیسا کہ سانپ اور مگرمچھ عام ملتے ہیں۔

ہاتھی، جنگلی بھینسے، ہرن اور سانبھر کا شکار آتشیں اسلحے سے جبکہ ہرن اور سانبھر کا پیچھا کر کے نیزے یا چاقو سے شکار کیا جاتا ہے۔ نیزے یا چاقو سے شکار کی خاطر شکاری کا مقامی رہائشی ہونا ضروری ہے کہ اس مقصد کے لیے کتوں کا غول ہونا چاہیے۔ جنگلی سور اکثر شکار ہوتا ہے مگر اسے شکار نہیں مانا جاتا کہ اس کے شکار میں کئی کتے مارے جاتے ہیں یا بری طرح زخمی ہوتے ہیں۔ ریچھ اور تیندوے کا شکار الگ سے نہیں ہوتا بلکہ جب مل جائیں تو ان کو مار لیتے ہیں۔

شکار کی ہر قسم کے بارے میں میں بات کرنے سے قبل میں مطلوبہ جانور کی عادات و خصائل اور جہاں اس کا شکار ہوا ہو، اس علاقے کے بارے میں میں بھی کچھ روشنی ڈالوں گا۔ سیلون کا جغرافیہ کچھ اس نوعیت کا ہے کہ اس میں ہر علاقے کی الگ سے وضاحت ضروری ہے۔

سب سے اہم کام اسلحے کا انتخاب ہے۔ پہلے سال کے شکار کے دوران میں نے چار رائفلیں استعمال کی تھیں جو بطورِ خاص بنوائی تھیں اور ان کو خطرناک جانوروں کے لیے بنایا گیا تھا۔ چاروں رائفلیں دو نالی اور دس بور والی تھیں اور ان کا وزن پندرہ پاؤنڈ فی رائفل تھا۔ میرے لیے یہ بہترین رائفلیں تھیں مگر کئی شکاری ان کے وزن سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ میں دو گروو یا دو قعر والی رائفلوں کے خلاف ہوں کہ ان کو تیزی سے نہیں بھرا جا سکتا۔ دس بور کی بارہ قعر والی رائفل میں اڑھائی اونس کی گولی سہولت سے بھری جا سکتی ہے۔ کئی شکاری رائفل کی جگہ بندوق کو ترجیح دیتے ہیں مگر میرے خیال میں ہاتھی کے شکار کے لیے بندوق کی نسبت رائفل بدرجہا بہتر ہے۔ ایسے جنگلات جہاں بیس یا تیس گز تک بندوق یا رائفل کی گولی کا یکساں اثر ہو، اور بات ہے۔ مگر سیلون میں اول تو یہ علم نہیں ہوتا کہ اب کس جانور سے سامنا ہو گا اور پھر یہ بھی کہ کئی مرتبہ جانور سو گز دور دکھائی دیتا ہے تو بندوق بیکار ہو جاتی ہے۔ رائفل میں یہ خوبی ہے کہ بیس گز ہو یا سو گز، کوئی مسئلہ نہیں۔

میرے ’اسلحہ خانے ‘ میں ۲۱ پاؤنڈ وزنی ایک نالی رائفل جس میں چار اونس والی گولی پڑتی تھی، ایک عدد لمبی دو اونس گولی والی ۱۶ پاؤنڈ وزنی ایک نالی رائفل اور ۱۰ بور کی دو نالی چار رائفلیں جن میں ہر ایک پندرہ پاؤنڈ وزنی تھی شامل تھیں۔ میں نے بندوق اکثر استعمال کی ہے مگر اس کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں۔

یہ تو ہتھیاروں کی بات ہو گئی۔ میرے خیال میں سیلون میں شکار کے لیے بڑے بور کی دو نالی چار رائفلیں جیسا کہ دس یا بارہ بور کی رائفلیں بہترین ہیں۔ تاہم سبھی رائفلوں کا بور ایک ہونا چاہیے تاکہ بھرنے میں گڑبڑ نہ ہو۔ ہر آدمی اپنی سہولت کے مطابق رائفل کا وزن طے کرتا ہے مگر یاد رہے کہ ایک نالی رائفل بیکار ہتھیار ہے۔

رائفل کے بعد شکاری کتوں کی باری ہے۔

سانبھر اپنی طاقت اور جسامت کے حوالے سے بہت عمدہ شکار ہے اور اس کے لیے اعلیٰ نسل کے کتے درکار ہوتے ہیں۔

سیلون کا سانبھر ہندوستانی سانبھر ہے جو سب سے بڑا ایشیائی ہرن ہے۔

پوری طرح جوان نر سانبھر کی شانے پر اونچائی ۱۴ ہاتھ بنتی ہے اور زندہ جانور کا وزن ۶۰۰ پاؤنڈ ہوتا ہے۔ اس کا رنگ گہرا بھورا اور چھ انچ لمبی ایال ہوتی ہے۔ باقی سارے جسم پر دو انچ لمبے کھردرے بال ہوتے ہیں۔ میرے پاس سینگوں کا جوڑا ہے جو ۳ فٹ ۴ انچ لمبا ہے مگر یہ انتہائی غیر معمولی لمبے سینگ ہیں۔

سانبھر کے سینگوں پر چھ سے زیادہ شاخیں کم ملتی ہیں۔ زیریں علاقے کا سانبھر پہاڑی سانبھر سے کافی بڑا ہوتا ہے۔ پہاڑی سانبھر بارہ یا تیرہ ہاتھ سے زیادہ بڑا کم ہی ملتا ہے اور اسی مناسب سے جسامت بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ جب پہاڑی سانبھر کا پیٹ چاک کر کے آلائشیں وغیرہ نکال دی جائیں تو اس کا وزن ۴۰۰ پاؤنڈ بنتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں اس سے بہت بڑے سانبھر بھی میں نے شکار کیے ہیں مگر اوسط وزن یہی رہے گا۔

سانبھر شب بیدار جانور ہے۔ سورج غروب ہونے پر یہ پیٹ بھرنے کو نکلتا ہے اور پو پھٹتے ہی چھپ جاتا ہے۔ ایک ساتھ دو یا تین سے زیادہ سانبھر شاید ہی دکھائی دیں۔ سانبھر عموماً اکیلا رہتا ہے۔ جب اس کے فرار کا راستہ نہ بچے تو یہ انسان اور کتے، دونوں پر ہی حملہ آور ہو جاتا ہے اور اکثر عمدہ شکاری کتے مارے جانے کے بعد ہی سانبھر شکار ہوتا ہے۔

سانبھر کا شکار سیلون کے پہاڑی علاقے میں ہوتا ہے۔ سطح سمندر سے ۶۲۰۰ فٹ کی بلندی پر نیویرا ایلیا کا صحت افزا مقام ہے جہاں میں نے کئی برس تک کتوں کے ساتھ اس کا شکار کھیلا تھا۔ یہاں درجہ حرارت شاید ہی ۶۶ ڈگری فارن ہائیٹ سے اوپر جاتا ہو اور شکار بہت لطف دیتا ہے۔ اس علاقے میں دلدلیں بھی ہیں، میدان، جنگلات، منہ زور نالے، پہاڑ اور ڈھلوانیں بھی۔ سو یہاں اس شکار کے لیے خاص قسم کے شکاری کتے درکار ہوتے ہیں۔

خالص نسل کے فاکس ہاؤنڈ بیکار ہیں۔ یہ کتے میل بھر سے زیادہ فاصلے سے سانبھر کی بو پا کر بھونکتے ہوئے پیچھا کریں گے اور دور موجود سانبھر نیند سے بیدار ہو کر فرار ہو جائے گا۔ اس کے بعد کتے ناقابلِ عبور جنگلات میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے کھو کر یا تو تیندوے کی خوراک بنیں گے یا پھر بھوک سے مر جائیں گے۔ میں کئی بار اس طرح کتے گنوا چکا ہوں کہ میں اپنے ہمراہ انگلستان سے خالص نسل کے فاکس ہاؤنڈ لایا تھا اور چند ماہ کے شکار کے بعد صرف ایک کتا زندہ بچا۔

سانبھر کے شکار کی خاطر فاکس ہاؤنڈ اور بلڈ ہاؤنڈ کا ملاپ بہتر رہتا ہے کہ اس طرح بڑی جسامت، دلیر اور اونچی آواز والے کتے پیدا ہوتے ہیں۔ کتے کو بچپن سے ہی شکار کی تربیت دینی چاہیے تاکہ اسے علم ہو جائے کہ تازہ بو یا دو تین سو گز دور موجود شکار کا پیچھا کرے۔ اس طرح جب کتا سانبھر کا پیچھا شروع کرے گا تو سانبھر کے پاس فرار ہونے کو زیادہ وقت نہیں رہے گا۔ ایسے تیس کتے مل کر جب بھونکیں گے تو سانبھر پوری رفتار سے بھاگے گا۔ غول کے سب سے آگے کے دو تین کتوں کی تیزی کی وجہ سے سانبھر کو پوری رفتار سے بھاگنا پڑتا ہے جس سے وہ جلدی تھک جاتا ہے کہ اس کا پیٹ پوری طرح بھرا ہوتا ہے اور فرار ہوتا ہوا سانبھر ہمیشہ پہاڑ کے اوپر کی جانب بھاگتا ہے۔ جب اس کا سانس پھولتا ہے تو وہ نیچے کا رخ کرتا ہے اور انتہائی تیزی سے بھاگتا ہوا سب سے بڑی اور سب سے گہری ندی کا رخ کرتا ہے اور وہاں پہنچ کر رک جاتا ہے۔

کتوں کا سب سے بڑا دشمن تیندوا ہوتا ہے۔ جونہی کتا اکیلا ہو، درخت پر بیٹھا تیندوا اس پر جھپٹ کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اگر کتا بہت بڑا اور بہادر نہ ہو تو تیندوے سے بچنا ممکن نہیں۔ اس وجہ سے بھی شکاری کتوں کی بڑی جسامت کو ترجیح دینی چاہیے۔

دوسرا شکار ’ڈیئر کورسنگ‘ ہے۔ یہ سیلون کے بہترین شکاروں میں سے ایک ہے۔ عموماً یہ چیتلوں کے شکار پر مشتمل ہوتا ہے اور شکاری گھوڑوں پر سوار ہو کر کتوں کی مدد سے میدانوں میں چیتل کا پیچھا کرتے ہیں۔

زندہ نر چیتل کا وزن ۲۵۰ پاؤنڈ ہوتا ہے اور بہت تیز رفتار اور بہادر جانور ہے۔ اس کے سینگ بہت لمبے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ سخت زمین پر پہنچ کر چیتل اچانک کتوں پر حملہ کرتا ہے اور سانبھر کی نسبت کتوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ اس کا پیچھا عموماً دو ہی کتے کرتے ہیں، سو اس کے بچ نکلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

بڑی جسامت کے خالص تازی کتے اس شکار کے لیے بہترین ہیں۔

 

باب ۲

 

کہاں سے ابتدا کروں؟ یہ سوال عجیب تو ہے مگر جب مڑ کر گزرے برسوں کو دیکھتا ہوں تو ہزارہا واقعات ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب کی تفصیل بتانا ممکن نہیں۔ واقعات کا بیان دلچسپ اور غیر دلچسپ واقعات کا مرکب ہوتا ہے۔ سو میں یہاں ایسا کچھ بیان نہیں کروں گا کہ یہ بہت طویل اور بوریت سے بھرا ہو گا۔ میں موجودہ وقت سے شروع کرتا ہوں اور بتدریج ماضی کے واقعات کو یاد کرتا جاؤں گا۔

اس وقت میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں اور میرے سامنے آتشدان کے اوپر رائفلیں ترتیب سے ٹنگی ہیں۔ ہرنوں کے سینگ ترتیب سے دیوار پر جڑے ہیں اور بارود کی بوتلیں اور دیگر ہتھیار اپنی اپنی جگہوں پر رکھے ہیں۔ کتا خانے سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔

اس وقت درجہ حرارت ۶۲ فارن ہائیٹ ہے اور دوپہر کا وقت۔ گرم ترین موسم میں بھی ۷۲ ڈگری سے زیادہ گرمی نہیں پڑتی اور بعض اوقات رات کو درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ مطلع صاف اور ہوا رکی ہوئی ہے۔ انگلستان کے بے شمار پھولوں کی خوشبو سے فضا معطر ہے۔ گھاس کے ہرے بھرے میدانوں کے گرد باڑ لگی ہوئی ہے اور آرام دہ گھر ہر طرف موجود ہیں۔ بہترین نسلوں کے پلے ہوئے مویشی گھاس چر رہے ہیں۔ ہر طرف عمدہ سڑکیں موجود ہیں۔ چند برس قبل یہ سب علاقہ محض جنگل تھا۔

ابھی ہمیں ایک بھی درخت دکھائی نہیں دے رہا مگر چند برس قبل یہاں جنگل تھا۔ پہاڑوں سے گزرنے والی ہوا یہاں درختوں سے شور مچاتی گزرتی تھی اور نشیبی علاقوں میں دلدلیں ہوتی تھیں مگر تہذیب اور صنعت نے اس علاقے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ گھنے جنگلات اب اس مزروعہ زمین کے اردگرد موجود ہیں اور خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ بندر اور طوطے بھی یہاں دکھائی دیتے ہیں اور کبھی کبھار ہاتھی کی چنگھاڑ بھی آ جاتی ہے جو رات کو کھیتوں میں چرنے آتے ہیں۔

رات کو ساکن ہوا اور ستاروں کی روشنی میں سانبھر کی آواز گونجتی ہے اور جو کتا بیدار ہوتا ہے، وہ اس کا جواب لمبی بھونک کی شکل میں دیتا ہے۔

یہ مقام نیویرا ایلیا ہے، سیلون کا صحت افزا مقام، جس کی آب و ہوا دنیا میں سب سے بہترین ہے۔ اب یہاں ایک خوبصورت گرجا گھر، ایک لائبریری، ایک بڑا ہوٹل، بیرک اور ۲۰ انفرادی رہائش گاہیں موجود ہیں۔

آس پاس کے علاقے نسبتاً مسطح ہیں اور ۳۰ میل کے قریب پھیلے ہیں۔ یہاں بلندی ۶۲۰۰ سے ۷۰۰۰ فٹ کے قریب ہے اور پاس کے اونچے پہاڑوں کی بنیاد کا کام دیتے ہیں جو ۹۰۰۰ فٹ تک بلند ہیں۔ متواتر ہموار میدان آتے رہتے ہیں جن کے درمیان جنگلاتی پٹیاں، تیز دریا، آبشاریں، ڈھلوانیں اور خوبصورت مناظر ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں شکار کے مواقع بکثرت ہیں اور نیویرا ایلیا میں رہائش نہ صرف صحت بخش ہے، بلکہ آرام دہ اور آزادانہ بھی ہے۔

کولمبو سے آنے والی شاہراہ نیویرا ایلیا سے ہو کر بدولہ کو جاتی ہے جہاں سے سیلون کے بہترین شکاری مقامات شروع ہوتے ہیں اور یہ سڑک پھر آگے بٹیکلوا سے ہو کر ٹرنکومالی جاتی ہے۔ نیویرا ایلیا سے گالے کا فاصلہ ۱۸۵ میل، کولمبو سے ۱۱۵ میل، کینڈی سے ۴۷ میل، بڈلوا سے ۳۶ میل، بٹیکلوا سے ۱۴۸ میل بنتا ہے۔ اگر یہاں کی زمین کمزور نہ ہوتی تو نیویرا ایلیا بہت عرصہ قبل ہی اہمیت اختیار کر چکا ہوتا کہ اس کا موسم ہر قسم کی برطانوی فصل کے لیے بہترین ہے مگر زمین میں چونے کی نایابی کی وجہ سے یہاں چونا لانا پڑتا ہے جو بہت مہنگا پڑتا ہے اور یہاں غلہ نہیں اگایا جا سکتا مگر آلو اور دیگر سبزیاں اگتی ہیں۔ کئی چھوٹی آبادیوں میں مناسب مقدار میں آلو اگائے ہیں مگر حالیہ برسوں میں ان کو بیماری لگ گئی ہے۔

نیویرا ایلیا ہمیشہ سے جنوری کے آغاز سے مئی کے وسط تک شکار کے لیے بہترین مقام رہا ہے۔ مئی کے وسط سے برسات شروع ہو جاتی ہے اور مسافر واپسی کا رخ اختیار کرتے ہیں۔

نئے آنے والے سیاحوں کے لیے یہاں قیام کی زیادہ سہولیات نہیں ہوتیں۔ نیویرا ایلیا میں چہل قدمی کرتے ہوئے سیاحوں کی تعداد دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہاں موجود چند عمارتوں میں کیسے اتنے افراد مقیم ہو سکتے ہیں۔ سیلون کے جنگلات سے بہترین تعمیراتی لکڑی ملتی ہے اور آ رہ مشینیں بھی عام ہیں مگر اس کی زمین کی طرح یہ پورا ملک ہی زرخیز نہیں۔ یہاں کی اہم ’فصل‘ کافی ہے جو اتنی آمدنی نہیں دیتی کہ اس کے باغات کے مالک نیویرا ایلیا میں اپنی ذاتی رہائش گاہ بنوا سکیں۔ انگلستان میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک موسم میں کسی جگہ بہت سے لوگ آتے ہیں تو دوسرے موسم میں وہ جگہ بالکل خالی ہو جاتی ہے۔ سو یہاں سیاحت کا موسم ختم ہونے کے بعد کماندار، فوجیوں کا افسر، حکومتی نمائندہ، ڈاکٹر، پادری اور ہمارا خاندان رہ جاتا تھا۔

بہت سے لوگ سوچیں گے کہ یہ تو بوریت کا سامان ہو گیا مگر جنگل میں ہر قسم کا بڑا شکار بھرا ہوا ہے اور نیویرا ایلیا اس کے وسط میں ہے۔ بہترین شکاری جنگلات یہاں سے ایک سو میل دور ہیں۔ سو جب دل چاہے، اسلحہ، خیمے، سامان لے کر آدمی دو ہفتے یا چار ہفتے کے لیے ہاتھیوں کے شکار پر نکل سکتا ہے۔

مناسب موسم میں سانبھر کا شکار بہت لطف دیتا ہے۔ ہوا صاف اور سرد اور میدان میں ہر طرف سفید کہرا چھایا ہوتا ہے اور صبح چھ بجے کئی خواتین بھی گھوڑوں پر سوار ہو کر مطلوبہ مقام پر آتی ہیں اور شکاری اپنے کتوں کے ہمراہ جمع ہوتے ہیں۔

ان پہاڑوں پر طلوع ہوتے سورج کا عجب مزہ ہوتا ہے اور اونچائی کی وجہ سے یہاں ہوا لطیف ہوتی ہے اور انسان کی روح نہال ہو جاتی ہے۔ گھوڑے اور شکاری کتے بھی اس سے برابر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میدانی علاقے کا انتہائی شریف گھوڑا بھی یہاں آ کر کچھ شوخ ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسے شکار پر تیس سے زیادہ گھڑ سوار جمع ہو جاتے ہیں مگر ایسے مواقع پر جب نئے تماشائی ہمراہ ہوں تو مسطح علاقہ چنا جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر گھوڑے تیار رہتے ہیں مگر ان کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے۔ جب سانبھر کے شکار پر نکلیں تو ہر چوتھائی میل پر دلدل نما جگہیں آتی ہیں جہاں گھوڑے نہیں دوڑ سکتے۔ سو اس طرز کے شکار کو وہی افراد ہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں اس کا تجربہ ہو۔ ویسے بھی بلندی کی وجہ سے ہوا لطیف ہوتی ہے اور دوڑتے ہوئے پھیپھڑوں پر بہت زور پڑتا ہے۔ ایسے مقامات پر سانبھر کے پیچھے اور کتوں کے ہمراہ دوڑنے والے شکاری کو سانس پر پورا قابو ہونا چاہیے، ہاتھ پیر مضبوط ہوں اور ذرا سا بھی فربہ نہ ہو کہ شکار کے سلسلے میں اسے جنگلوں، دریاؤں، میدانوں اور گہری وادیوں میں دوڑنا ہو گا اور اکثر یہ دوڑ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک جاری رہتی ہے اور شکاری نے صبح سویرے کافی کے ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا ہی کھایا ہوتا ہے۔ اس نوعیت کا شکار بہت مشکل ہوتا ہے کہ شکاری چاقو ہی واحد ہتھیار ہوتا ہے اور علم نہیں ہوتا کہ شکار کے دوران سانبھر کا سامنا ہو گا یا جنگلی سور یا تیندوے کا۔ سو شکاری چاقو اور شکاری کتے، سبھی پوری طرح قابل بھروسہ ہوں۔

شکاری کو اپنے کتوں سے پوری طرح واقفیت ہو اور ان کو آواز سے پہچان سکے اور اتنا ماہر ہو کہ جانور کو دیکھنے سے قبل ہی پہچان لے۔ اگر سانبھر مل جائے تو کتے اس کا پیچھا ایک قطار کی شکل میں اور انتہائی تیز رفتاری سے کرتے ہیں کہ سانبھر سیدھا پہاڑ کے اوپر کو بھاگتا ہے اور جب اس کا سانس پھول جائے تو پھر نیچے کا رخ کرتا ہے تاکہ کسی محفوظ دریا میں جا کر پناہ لے۔ سو جنگل سے پوری طرح واقف شکاری جب کتوں کی آواز سنتا ہے تو اسے فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کی منزل کیا ہو گی اور وہ سیدھا اسی جانب بھاگتا ہے۔

سب سے پہلے شکاری اپنی بیلٹ کو سختی سے باندھتا ہے اور پھر آڑی ترچھی دوڑ لگا دیتا ہے کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اسے پورا دن دوڑنا ہو گا۔ پہاڑیوں اور وادیوں سے ہوتے اور جنگل میں زبردستی راستہ بناتے ہوئے چاہے چڑھائی ہو یا اترائی، جنگل ہو یا کیچڑ، وہ جگہ جگہ رک کر کتوں کی آواز سننے کی کوشش کرتا ہے۔ جب اسے کتے کی آواز سنائی دیتی ہے تو پہچان لیتا ہے کہ یہ فلاں کتا ہے جو اب سانبھر کو روک چکا ہے۔ شکاری پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے نعرہ لگا کر اسی جانب بھاگ پڑتا ہے۔ اب کئی کتے اس جانور کے گرد جمع ہو کر اس کے فرار کا راستہ روک چکے ہیں اور ان کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ شکاری پر اتنا جوش طاری ہے کہ جنگل اور جھاڑ جھنکار اب اس کا راستہ نہیں روک سکتے اور شکاری کھلے میں پہنچ جاتا ہے۔

پھر اسے چٹان کے گرد چکر کاٹ کر گزرتے ہوئے دریا میں بنا ہوا گہرا تالاب دکھائی دیتا ہے۔ بہترین سانبھر پانی میں ہے اور اس نے اچانک کتوں پر حملہ کیا اور سب سے آگے والے کتے پر اگلے سم سے وار کیا۔ جونہی کتوں کو اپنے مالک کی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ مڑ کر مالک کو آتا دیکھتے ہیں۔ اگلے ہی لمحے شکاری تالاب میں کود کر کتوں کے ساتھ تیرتے ہوئے سانبھر کو جاتا ہے۔ سانبھر کتوں پر حملہ کرتا ہے۔ شکاری اور کتے، دونوں کے لیے سانبھر کے سم سے بچنا لازمی ہے۔

اب سانبھر دریا کے بہاؤ کے ساتھ تیرنا شروع کرتا ہے اور جہاں پانی کم گہرا ہو تو جست لگاتا ہے اور کبھی تیرتا ہے۔ کبھی اس کا رخ تیز بہاؤ والے مقام کی طرف ہوتا ہے تو کبھی تالاب کا رخ کرتا ہے۔ شکاری اس دوران کنارے پر پہنچ کر اس کا پیچھا جاری رکھتا ہے۔ آخرکار سانبھر رک جاتا ہے۔ تاہم اس بار سانبھر نے محفوظ مقام چنا ہے جہاں دو فٹ گہرا پانی تیزی سے بہہ رہا ہے۔ اس کی پتلی ٹانگوں سے پانی ٹکرا کر گزرتا ہے اور شکاری کتوں کے پیر اکھڑتے ہیں کہ بہاؤ تیز ہے۔ سانبھر کے نتھنے پھیلے اور ایال کھڑی ہے۔ اس کی آنکھیں چمک رہی ہیں اور اونچی آواز سے بول رہا ہے۔ شکاری کتے اسے نہیں چھو سکتے۔ اب شکاری اپنے سب سے طاقتور کتوں کو بلاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کر کے ان کے ساتھ پانی میں اترتا ہے اور شکاری چاقو اس کے ہاتھ میں ہے۔ بجلی کی سی تیزی سے سانبھر حملہ کرتا ہے مگر اس نے بے احتیاطی کر دی۔ شکاری جست لگا کر اس پہلو میں پہنچتا ہے اور شانے کے پیچھے چاقو گھونپ دیتا ہے۔ اب شدید جد و جہد شروع ہو جاتی ہے کہ کتوں کا پورا غول سانبھر پر جھپٹتا ہے۔ مرنے سے قبل کی جد و جہد میں وہ کتوں سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور سارے منظر پر جیسے دھند طاری ہو۔ پھر اچانک ہی سانبھر گرتا کر مر جاتا ہے۔ شکار تمام ہوا۔ کتوں کو واپس کنارے پر لا کر ان کے زخم دیکھے جاتے ہیں۔

شکاری اب اپنے گھر سے کئی میل دور ہے۔ سو وہ لکڑی کا ایک ڈنڈا کاٹتا ہے اور اس کے اوپر گھاس کا گٹھا باندھ کر سانبھر کے ساتھ کنارے پر بطور نشانی گاڑ دیتا ہے۔ پھر کتوں کو جمع کر کے وہ گھر لوٹتا ہے اور اپنے ملازمین کو سانبھر کا گوشت لانے بھیجتا ہے۔ سانبھر کا گوشت بہت عمدہ ہوتا ہے مگر انگلستان کے جنگلی جانوروں کے برعکس اس کا ذائقہ بڑے گوشت جیسا ہوتا ہے۔

یہ سانبھر کے عام شکار کا بیان ہے تاہم اس دوران ہونے والے حادثات و واقعات بہت فرق ہو سکتے ہیں۔

جنگلی سور خطرناک ہوتا ہے اور دوڑ سے ہی اس کے بارے میں میں علم ہو جاتا ہے۔ شکاری کتے اس کی بو پر اتنی دلچسپی سے نہیں دوڑتے جتنی وہ سانبھر کے پیچھے دکھاتے ہیں۔ اس کی دوڑ کافی سست ہوتی ہے کہ جنگلی سور کبھی سیدھی لکیر میں نہیں بھاگتا۔ عموماً دس منٹ کی دوڑ کے بعد جنگلی سور رک جاتا ہے۔ جنگلی سور کے رکنے کا مقام ہمیشہ جنگل کا گھنا ترین حصہ ہوتا ہے اور وہاں رک کر وہ شکاری کتوں پر حملہ کرتا رہتا ہے۔

جنگل میں دوڑتے اور راستہ بناتے ہوئے شکاری جب اس مقام سے بیس گز دور رہ جاتا ہے تو نعرہ لگا کر اپنے کتوں کی ہمت بندھاتا ہے۔ ماہر کتے زخموں کی پروا کیے بغیر سور پر حملہ آور ہوتے ہیں اور جونہی کتے اس پر قابو پاتے ہیں تو اس کی چیخ سے شکاری جان لیتا ہے۔ فوراً چاقو سمیت وہ اس جانب دوڑتا ہے اور گھنے جنگل میں اسے کتوں اور سور کی کشمکش دکھائی دیتی ہے۔

جب شکاری کو صاف دکھائی دیتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے بہترین شکاری کتے خاصے زخمی ہو چکے ہیں اور سور کتوں سے گھرا ہوا فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور جونہی سور شکاری کو دیکھتا ہے تو اس پر حملہ کرتا ہے۔

سور کی نظروں سے بچتے ہوئے شکاری اس کے پیچھے سے آگے بڑھتا ہے اور شانوں کے بیچ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں چاقو اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس کا نشانہ کامیاب ہو تو سور وہیں گر کر مر جاتا ہے کہ اس کا حرام مغز کٹ جاتا ہے۔ اگر وار ناکام ہو تو شکاری دوسرے وار کی کوشش کرتا ہے اور اس دوران سور کی کچلیوں سے بچنے کی کوشش بھی جاری رہتی ہے۔

اگر شکاری کتے بہادر نہ ہوں اور شکاری کے کہنے کے باوجود جنگلی سور پر حملہ نہ کریں تو گھنے جنگل میں ایک چاقو کے ساتھ شکاری کبھی سور پر حملہ نہیں کرتا کہ اس طرح اس کی اپنی موت یقینی ہوتی ہے۔ جنگلی سور بہت پھرتیلا اور انتہائی طاقتور ہوتا ہے اور دو سو کلو وزن کا سور اکثر ملتا ہے۔

جنگلی سور کے شکار میں عموماً سبھی بہترین شکاری کتے مارے جاتے ہیں۔ چونکہ بہترین کتا سب سے آگے ہوتا ہے، سو جنگلی سور کا پہلا وار اسی پر ہوتا ہے اور گھنے جنگل میں کتے کے پاس فرار کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔

٭٭

باب ۳

 

ذیل میں سیلون کے پہاڑی شکار کی عام انداز میں وضاحت درج ہے۔ تاہم ابھی ایک اور جانور کے بارے میں میں بتانا باقی ہے کہ جب وہ مشتعل ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ خطرناک کوئی جانور نہیں۔ یہاں میں جنگلی بھینسے کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔

اس جانور کی جائے رہائش سیلون کے گرم ترین مقامات ہیں جہاں ندیاں، نالے، کیچڑ اور گھاس کے وسیع و عریض میدان قریب ہوں۔ جنگلی بھینسے بڑے جھنڈ کی شکل میں رہتے ہیں اور زیادہ تر وقت کیچڑ میں لیٹے رہتے اور دن کا دو تہائی وقت پانی میں گزارتے ہیں۔ آپ اسے خشکی سے زیادہ آبی جانور سمجھ لیجیے۔

اس کی جسامت بڑے بیل کے برابر ہوتی ہے اور ہڈیاں بہت بڑی اور بہت مضبوط۔ یہ جانور بہت پھرتیلا ہوتا ہے اور کھال پر بال نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کی کھال بدنما اور ربڑ کی مانند لجلجی ہوتی ہے۔ اس کا سر عجیب انداز سے اٹھا ہوتا ہے کہ سینگ پیچھے کو مڑے ہوتے ہیں اور ناک اس کے ماتھے کی بلندی پر ہوتی ہے۔ اس طرح سامنے سے اس کے سر پر مہلک گولی نہیں چلائی جا سکتی۔ چھوٹے ہتھیار کے سامنے جنگلی بھینسا دیوار کی مانند کھڑا ہوتا ہے اور اس کی گردن اور سینے پر چاہے جتنی گولیاں چلائی جائیں، بیکار جاتی ہیں۔ اس کے شانے پر گولی چلانے کو ترجیح دی جاتی ہے مگر ایسا نشانہ لگانے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ اگر شکاری جنگلی بھینسے کے ہتھے چڑھ جائے تو اس کے غصے کی انتہا نہیں رہتی اور اسے سینگ گھونپ کر ہلاک کر کے اس کی لاش کھروں تلے روندتا ہے۔

جنگل میں اس کا شکار مشکل نہیں کہ اگر بھینسا ہلاک نہ بھی ہو تو شکاری درخت پر چڑھ کر جان بچا سکتا ہے مگر جنگلی بھینسے عموماً ایسے کھلے میدانوں میں ملتے ہیں جہاں ایک بھی درخت نہیں ہوتا۔ سو جب بھینسے کا سامنا ہو تو اس کی فوری ہلاکت لازمی ہوتی ہے ورنہ اس کے قہر سے بچنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی بھینسے کا رویہ کسی حد تک ناقابلِ اعتبار ہوتا ہے جس سے اس کے شکار میں خطرے کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔ عموماً جنگلی بھینسا اس طرح فرار ہوتا ہے کہ جیسے انتہائی بزدل ہو اور شکاری دھوکا کھا کر اس کے پیچھے چلتا ہے اور جلد ہی شکاری خود شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے کردار کے بارے میں آپ کو مندرجہ ذیل واقعے سے بہتر معلومات ملیں گی جو اس سے میرے پہلے مقابلے کے وقت پیش آیا۔

مجھے سیلون آئے زیادہ عرصہ نہ ہوا تھا مگر میری آمد کا مقصد شکار ہی تھا۔ سو فارغ بیٹھنا ممکن نہ تھا اور میں نے جلد ہی کافی جانور شکار کر لیے۔ ہر اناڑی شکاری کی مانند میں نے غلطی کی کہ جنگلی جانوروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگا کہ مجھے شکار سے وابستہ خطرات کا اندازہ نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قسمت نے میرا ساتھ دیا اور زیادہ تر جانور پہلی ہی گولی پر شکار ہوئے۔ اس طرح مجھے کسی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑا تھا اور مجھے اپنی رائفل کی طاقت پر بہت بھروسہ ہو گیا۔ عام قصاب شکاریوں کی مانند میں نے جنگلی جانوروں کو اندھا دھند شکار کرنا جاری رکھا اور اس دوران میں نے جانوروں اور ان کی عادات و خصائل کے بارے میں کچھ بھی جاننے کی کوشش نہ کی۔ تاہم یہ بہت برس پرانی بات ہے جب میں پہلی مرتبہ سیلون آیا تھا۔ اُن دنوں شکار کے لیے بہت سی مناسب جگہیں تھیں جو اب کثرتِ شکار سے تباہ ہو چکی ہیں اور اب مجھے ان میں کوئی دلچسپی نہیں محسوس ہوتی۔ ان میں سے ایک ایسی جگہ مینیریا جھیل تھی۔

یہاں میں اپنے بھائی کے ہمراہ شکار کے لیے آیا تھا جس کو ہم ’ب‘ کے نام سے پکاریں گے۔ ہم اس روز بیس میل کا سفر طے کر کے آئے تھے اور سارا راستہ چھ سات مقامی افراد ہمارے سامنے جنگل کو کاٹ کر راستہ بناتے رہے تھے اور ہم اپنے خچروں کو چلاتے آئے۔ یہ راستہ کبھی اچھی حالت میں تھا مگر استعمال نہ ہونے کی وجہ سے جھاڑ جھنکار اگ آیا تھا اور یہاں سے گزرنا کافی مشکل ہو چکا تھا۔

چار بجے ہم کینڈی سے چار میل دور تھے کہ جنگل ختم ہوا اور مینیریا جھیل دکھائی دی۔ اسے دیکھتے ہی سارے دن کی تھکن دور ہو گئی۔ سہ پہر کافی خوشگوار تھی۔ جھیل کا پانی بیس مربع میل رقبے پر تھا جو ڈھلتے ہوئے سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ جھیل کنارے گھاس کے سبز میدان انگلستان کی یاد دلا رہے تھے اور میدانوں کے کنارے جنگل عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔ جگہ جگہ زمین کے قطعے جھیل کے اندر تک چلے گئے تھے جہاں گھنا سبزہ اور آبی پرندے بھی موجود تھے۔ میدانی علاقے میں ہرنوں کے غول گھاس چر رہے تھے اور بعض غول درختوں کی چھاؤں میں سستا رہے تھے۔ خوبصورت منظر کے تمام تر عناصر یہاں موجود تھے۔ بعض جگہوں پر جنگلی درخت جھیل کنارے تک پہنچ گئے تھے جبکہ دیگر مقامات پر جھیل کے کنارے میلوں تک ہر قسم کی نباتات سے پاک تھے۔ بہت دور نیلے پہاڑ بھی دکھائی دے رہے تھے۔

ہم اس خوبصورت منظر سے خاموشی سے لطف اندوز ہوتے رہے جبکہ ہمارے خچر گھاس سے پیٹ بھرتے رہے۔

مینیریا کا گاؤں مزید تین میل آگے جبکہ ہمارے قلی، ملازمین اور سامان ہم سے کہیں پیچھے تھے۔ ہمارے ساتھ دو بندوقیں ہی تھیں کہ باقی سب رائفلیں سامان کے ساتھ آ رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس چند گولیاں بھی تھیں۔

ہم نے ملازمین اور سامان کا انتظار کیا مگر آدھا گھنٹہ گزرنے پر بھی وہ نہ پہنچے تو ہم بے صبرے ہونے لگے کہ شام ڈھل رہی تھی۔ ہم نے سوچا کہ جھیل کنارے چہل قدمی کر کے اس مقام کا جائزہ لیتے ہیں۔ سو ہم نے خچر وہیں چھوڑے اور خود پیدل چل پڑے۔

گھاس بہت خوبصورت اور برسیم کی طرح بلند مگر کم گھنی تھی۔ ہر بیس تیس قدموں پر سنائپ اڑتے رہے حالانکہ زمین پوری طرح خشک تھی۔ ایک بڑا میدان طے کر کے ہم خشکی کی پٹی کو بڑھے جو جھیل میں کافی دور تک گئی ہوئی تھی۔ اس دوران مرغابیوں اور ٹیل کے بڑے بڑے جھنڈ اڑتے رہے۔ خشکی کی یہ پٹی دو سو گز سے زیادہ چوڑی نہ تھی۔ جلد ہی ہم دوسری جانب پہنچے تو ہمارے بائیں جانب جھیل کا پانی سنہری چادر کی مانند میلوں تک پھیلا ہوا تھا جبکہ دائیں جانب بہترین جنگل تھا۔ جھیل کے کنارے پر پانی کے اندر کچھ پتھر پڑے تھے جن پر آبی پرندے بیٹھے تھے۔ اس میدان کے اصل باسی جنگلی بھینسے تھے۔

لگ بھگ سو جنگلی بھینسوں کا ایک غول ہم سے چوتھائی میل دور کیچڑ میں موجود تھا۔ تنہا نر بھینسے میدان میں جگہ جگہ دکھائی دے رہے تھے۔ جھیل کے دوسرے کنارے پر مدھم سے دھبے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ جنگلی بھینسوں کے مزید غول تھے جو فاصلے کی وجہ سے دھبے دکھائی دیتے تھے۔ اس وسیع میدان سے کسی قسم کی آواز نہ آ رہی تھی اور واحد آواز جو سنائی دے رہی تھی وہ آبی پرندوں کی چہکار تھی جو ہماری آمد سے خبردار ہو گئے تھے۔ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی اور سارا ماحول انتہائی پرسکون تھا۔ سورج افق کے قریب تھا اور ہوا نسبتاً ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ بھینسوں کی تعداد سے ہمیں حیرت ہوئی اور ہم دو ہلکی دو نالی بندوقوں کی مدد سے ان کے شکار پر تیار ہو گئے۔

ابھی ہم جنگل سے چند قدم ہی نکلے ہوں گے کہ جنگلی بھینسوں کو ہماری آمد کا علم ہو گیا اور انہوں نے بے چینی دکھانا شروع کر دی اور کیچڑ میں اٹھ کر ہماری جانب حیرت سے دیکھنے لگے۔ ہمارے پیچھے جنگل تھا اور سامنے ہزار ایکڑ سے زیادہ وسیع میدان جبکہ ایک جانب جھیل تھی۔ سو ہم چھپ نہیں سکتے تھے اور ہم نے پیش قدمی جاری رکھی۔

جب ہم اس غول کے قریب پہنچے تو انہوں نے جتھے کی شکل اختیار کر لی اور ان کے سامنے ایک دیوار سی بن گئی۔ پھر اس دیوار سے سات بڑے نر آگے بڑھے اور لڑائی کے لیے تیار ہو گئے۔ اس دوران ہم دوڑتے رہے تھے، سو ہم ان سے تیس گز کے فاصلے پر جا پہنچے۔ اس پر پورے غول نے ایک ساتھ رخ موڑا اور فرار کو ترجیح دی۔ تاہم ایک بڑے بھینسے سیدھا ہماری جانب دوڑ لگائی مگر بیس گز پر اس نے موڑ کاٹا اور عین اسی وقت ہم دونوں نے ایک ایک گولی اس کے شانے میں اتار دی۔ خوش قسمتی سے اس کے شانے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور بھینسا وہیں گرا مگر اگلے ہی لمحے اٹھا اور تین ٹانگوں پر جھیل کو بھاگا۔

عین اسی وقت قسمت نے عجیب انداز سے ہمارا ساتھ دیا۔ اس کے ساتھ والا ایک بڑا بھینسا اچانک اسی پر جھپٹا اور اس کے پہلو پر ٹکر ماری۔ زخمی بھینسا جھپاک کے ساتھ کیچڑ میں گرا۔ کیچڑ میں گرنے والے زخمی بھینسے کے لیے اٹھنا ممکن نہ رہا جبکہ دوسرا بھینسا ہلکی رفتار سے دوڑتا ہوا میدان کی دوسری جانب بھاگا۔

زخمی بھینسے کے خاتمے کے لیے ’ب‘ کو چھوڑ کر میں دوسرے بھینسے کے پیچھے لپکا۔ چونکہ اس کی رفتار تیز نہ تھی، سو میں نے سو گز پر اسے جا لیا۔ تب بھینسا مڑا اور سر اوپر کو اٹھا کر پھنکارا اور میری جانب تیزی سے چند قدم بڑھا۔ مگر جوں ہی میں نے قدم بڑھائے تو بھینسا پیچھے کو ہٹا۔

اس طرح بھینسا آگے پیچھے ہوتے ہوتے مجھے جھیل سے ایک میل دور لے گیا مگر نہ اس نے حملہ کیا اور نہ ہی مجھے قریب آنے دیا۔ اس کی بزدلی پر لعنت بھیجتے ہوئے میں نے فاصلے سے اس پر ایک گولی چلائی اور آخری گولی بھر کر اس کے پیچھے روانہ ہوا۔ میری رہنمائی کے لیے میری جہالت اور جوش کافی تھے۔

ایک جگہ جھیل ایک کھائی کی شکل میں زمین کے اندر جا رہی تھی اور بھینسے نے اسی جگہ کا رخ کیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں نے اسے ایک طرح سے دیوار سے لگا دیا ہے اور میر اجوش مزید بڑھ گیا اور میں نے رفتار بڑھا دی۔ ہمارا درمیانی فاصلہ کم ہوتا گیا اور بھینسا پانی کے کنارے پہنچ کر رک گیا۔ میں اس سے تیس گز دور تھا کہ بھینسے نے پانی میں کود کر تیرنا شروع کر دیا۔ اس کا رخ دوسرے کنارے کو تھا۔ کھاڑی ساٹھ گز چوڑی تھی، سو میں نے سوچا کہ اب گولی چلانی چاہیے۔

کھاڑی کے کنارے کنارے بھاگتے ہوئے اندازے سے میں اس مقام پر پہنچا جہاں میرے خیال کے مطابق بھینسے کو پہنچنا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو گہرے پانی سے بھینسا نکل کر اتھلے پانی میں پہنچ گیا تھا۔ یہاں بھینسا مجھ سے پندرہ گز دور کھڑا مجھے آرام سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ احمق بھینسا، اب اس کی ہلاکت یقینی ہے اور اگلے ہی لمحے اسے شکار کر چکا ہوں گا۔

میں نے اس کے سینے کا نشانہ سکون سے لیا جہاں وہ گلے سے ملتا ہے۔ جب دھواں ہٹا تو میں نے دیکھا کہ بھینسا عین اسی جگہ کھڑا ہے اور اس نے ذرا بھی حرکت نہیں کی۔ واحد فرق یہ تھا کہ پہلے اس کی آنکھوں میں بے پرواہی کا تاثر تھا مگر اب وہاں اشتعال دکھائی دے رہا تھا۔ جہاں میں نے نشانہ لیا تھا، اس سے ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر خون کی دھار بہہ رہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ میری گولی خطا نہیں گئی۔

گولی کا اثر نہ ہونے کی وجہ سے میں نے غصے میں بائیں نال بھی عین اسی جگہ چلا دی جہاں دائیں نال چلائی تھی۔ دھواں ہٹا تو دیکھا کہ اس کے زخم سے خون کا بہاؤ بڑھ اور آنکھوں سے جھلکنے والا اشتعال بھی بڑھ چکا ہے۔

اب میری بندوق خالی تھی اور مزید گولیاں بھی نہیں تھیں۔ اب بھینسے کی باری تھی۔ میں نے بھاگنے سے گریز کیا کہ اس طرح بھینسا بھی دوڑ پڑتا۔ ہم دونوں آمنے سامنے کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔

اچانک چنگھاڑ کر بھینسے نے دوڑ لگائی۔ میں نے حرکت نہ کی تو بھینسا بھی رک گیا۔ تاہم اب ہمارا فاصلہ دس گز رہ گیا تھا۔ اب مجھے احساس ہونے لگا کہ جنگلی بھینسے کا شکار اتنا بھی آسان نہیں۔ اس وقت میں اپنی چار اونس والی رائفل حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار تھا۔ نہتا ہونے اور بھینسے کے حملے کا علم ہو جانے کے بعد میں نے اپنا شکاری چاقو ٹٹولا جو جنگلی بھینسے کے سامنے بیکار تھا۔

مجھے یہ بھی علم تھا کہ میرا بھائی ’ب‘ یہاں سے ایک میل دور ہے اور اسے میرے حال کا علم نہیں ہو گا۔ سو میں نے منہ میں انگلیاں ڈال کر زور سے طویل سیٹی بجائی۔ مجھے علم تھا کہ اگر میرے بھائی نے سیٹی سنی تو فوراً جواب آئے گا۔

خاموش قدموں اور پھنکار کے بعد جنگلی بھینسے نے دو قدم اٹھائے۔ اسے شاید میری بے بسی کا اندازہ ہو گیا تھا اور اس وقت جنگلی بھینسا اشتعال کا مجسم نمونہ بنا ہوا تھا اور اگلے کھروں سے زمین کھرچ رہا تھا۔

میں مایوس ہو گیا مگر ہرممکن طور پر غصیلی شکل بنا کر اسے دیکھتا رہا۔

مجھے اچانک ایک دلچسپ خیال سوجھا۔ آنکھیں جنگلی بھینسے پر جمائے ہوئے میں نے دائیں نالی میں دگنا باردو ڈالا اور اپنی قمیض سے دھجی پھاڑ کر بارود کے اوپر جما دی۔ پھر جیب سے تمام رقم نکالی جو چھ پینی والے سکوں کی شکل میں تین شلنگ بنتی تھی اور اس کے علاوہ دو آنے بھی موجود تھے جو میں نے قلیوں کو دینے کی نیت سے رکھے ہوئے تھے۔ بعجلت ان سب کو میں نے اپنی قمیض سے پھاڑی ہوئی ایک اور دھجی میں لپیٹا اور نال کے اندر ڈال دیا۔ عین اسی لمحے جنگلی بھینسے نے جست لگائی اور مجھے لکڑی کی سلاخ پانی میں پھینکنی پڑی اور میں نے بندوق کا گھوڑا چڑھا دیا۔ تاہم جنگلی بھینسا پھر رکا اور اب ہمارا درمیانی فاصلہ سات قدم رہ گیا تھا۔ پہلے میں خالی بندوق کے ساتھ بے بس تھا اور اب میرے پاس بھری ہوئی بندوق تھی اور اگر میں ایک فٹ کے فاصلے سے اس پر گولی چلاتا تو اسے گرا دینے کو کافی تھی۔ سو میں اسے گھورتا رہا۔

پھر مجھے اپنے پیچھے کیچڑ میں کسی کے بھاگنے کی آواز آئی۔ یہ ’ب‘ تھا جو سارا فاصلہ دوڑ کر یہاں پہنچا اور اب اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ مجھے علم تھا کہ اس کی ایک نال بھری ہوئی ہے اور مزید کوئی گولی نہیں۔ میں نے جنگلی بھینسے سے نظر نہ ہٹائی اور ’ب‘ سے کہا کہ جب تک جنگلی بھینسا میرے انتہائی قریب نہ پہنچے، گولی نہ چلائے اور جب گولی چلائے تو جنگلی بھینسے کے سر پر چلائے۔

ابھی یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے تھے کہ پچھلے بیس منٹ کے غصے کی وجہ سے جنگلی بھینسا سیدھا میرے اوپر آیا۔ جیسے پلک جھپکتے ہی ’ب‘ نے گولی چلائی مگر بے اثر رہی۔ جنگلی بھینسے کے دونوں سینگ جھکے ہوئے تھے اور میری بندوق کی نال بمشکل اس کی پیشانی سے لگی کہ میں نے گولی چلا دی۔ جنگلی بھینسا وہیں گرا۔ ’ب‘ اور میں سر پر پیر رکھ کر دوڑ پڑے کہ ہم جانتے تھے کہ جنگلی بھینسا مرا نہیں، محض بے ہوش ہے۔ جنگلی بھینسے سے نصف میل پر کچھ درخت گرے تھے جن کی شاخیں کافی اونچی تھیں۔ یہاں ہمیں پناہ مل سکتی تھی۔ ہمارا رخ اسی جانب تھا اور ہم جیسے اڑتے ہوئے جا رہے ہوں۔ سو گز کی دوڑ کے بعد ہم نے مڑ کر دیکھا کہ جنگلی بھینسا اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا تھا اور ہلکی رفتار سے ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ ہمیں تجربہ ہو چکا تھا کہ شکاری سے شکار بن کر کیسا محسوس ہوتا ہے۔

جنگلی بھینسے نے ہمارا تعاقب جاری رکھا مگر آخری وار کی بدولت اس کی چال کافی سست تھی۔ کچھ دیر بعد یہ چال بھی رک گئی اور جنگلی بھینسا گر گیا۔ ہم نے موقع غنیمت جانا اور سانس لینے کو رکے۔ جلد ہی جنگلی بھینسا پھر کھڑا ہو کر ہمارے پیچھے لگ گیا۔ کچھ ہی دیر میں ہم پناہ کے لیے درختوں کو پہنچ گئے اور جب اوپر چڑھے تو دو سو گز دور جنگلی بھینسا اب ہمارے لیے خطرہ نہ رہا تھا۔

پھر ہم نے جنگل میں اپنے گھوڑوں کا رخ کیا اور کسی جنگلی جانور کا سامنا کرنے کی نوبت نہ آئی۔ پھر ہم گاؤں کو پہنچ گئے جہاں رک کر ہم نے اگلی صبح اس جنگلی بھینسے سے حساب برابر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اگر جنگلی جانور کا سامنا کرنے کے لیے انسان کے پاس ہاتھ، پیر اور دانت ہی ہوں تو انسان کے لیے بلی بھی خطرناک ہے۔ انسانی ٹانگیں نہ تو اسے کسی جنگلی جانور کے تعاقب میں فائدہ دے سکتی ہیں اور نہ ہی اس سے دور بھاگنے میں۔ اس کے ہاتھ کی طاقت میں جب تک مصنوعی ہتھیار نہ ہو، وہ بیکار ہے۔ سو اگر عقل نہ ہوتی تو انسان کبھی بھی جنگل میں بچ نہ سکتا۔ اس کا دماغ ہی اسے اشرف المخلوقات بناتا ہے۔

اس کے باوجود جب انسان کو مشتعل جنگلی بھینسے کے سامنے بھاگنا پڑے تو انسان کا مقابلہ جنگلی بھینسے سے کرنا بیکار ہے۔ ہر قدم پر جنگلی بھینسا اس کے قریب تر آ رہا ہو، سانس پھولا ہوا ہو اور ہمت جواب دینے والی ہو تو اشرف المخلوقات کا لفظ انسان کے لیے عجیب لگتا ہے۔ اُس روز بھی جنگلی بھینسے کے سامنے سے بھاگتے ہوئے ہم عجیب مخلوق دکھائی دے رہے ہوں گے۔

اگلی صبح ہم پو پھٹنے پر اٹھے اور میدانِ جنگ کا رخ کیا جہاں ہم نے جنگلی بھینسے کو پچھلی شام چھوڑا تھا۔ ہمیں پورا یقین تھا کہ جنگلی بھینسا وہیں مردہ پڑا ہو گا۔ جنگلی بھینسا ہمیں دوبارہ دکھائی نہ دیا کہ وہ فرار ہو چکا تھا۔

اب میرے پاس دو اونس والی لمبی نال والی رائفل اور چار اونس والی رائفلیں بھی موجود تھیں، سو میں نے پچھلے روز کی ذلت کا بدلہ لینے کی ٹھانی۔

صبح کا وقت تھا اور مطلع ابرآلود تھا کہ پچھلی رات کافی تیز بارش ہوئی تھی اور ہوا ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ جگہ جگہ بارش کے قطرے چمک رہے تھے اور موروں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور جیسے فطرت کا منہ دھلا ہوا ہو۔ ہم نے اس پورے علاقے کو چھانا اور جنگلی بھینسوں کے کئی غول دیکھے اور طے کیا کہ شکار کہاں سے شروع کریں۔

ایک بڑا جنگلی بھینسا ہم سے تین سو گز کے فاصلے پر کیچڑ میں لیٹا ہمیں دکھائی نہ دیا۔ جب وہ اچانک اٹھ کر سست رفتاری سے دوڑا تو میں نے دو اونس والی لمبی نال کی رائفل آزمانے کا سوچا۔ میں نے فاصلے کا خیال نہ رکھا اور گولی جنگلی بھینسے کے اوپر سے گزر گئی۔ دھماکے سے جنگلی بھینسے نے رخ بدلا اور ہمارے اور کنارے کے درمیان سے گزرنے کی نیت سے بھاگا۔ ہم کنارے سے تین سو گز دور تھے، سو جب جنگلی بھینسا درمیان سے گزرا تو اس کا فاصلہ ڈیڑھ سو گز ہو گا۔

میں نے اپنی چار اونس والی رائفل میں ۱۲ ڈرام بارود ڈالا تھا، سو میں نے جنگلی بھینسے کے شانے کا نشانہ لے کر گولی چلائی۔ جنگلی بھینسے پر تو کوئی اثر نہ پڑا مگر گولی پانی کی سطح سے بار بار اچٹتی ہوئی دوسرے کنارے کو جا پہنچی جو یہاں سے ایک میل دور تھا۔ ہمارے ساتھ موجود شکاریوں نے کہا کہ میری گولی جنگلی بھینسے کے پیچھے سے گزری ہے مگر میں نے گولی لگنے کی ’پھٹ‘ کی آواز خود سنی تھی سو مجھے یقین تھا کہ گولی جنگلی بھینسے کو لگی ہے۔

گولی لگتے ہی جنگلی بھینسے نے راہ فرار اختیار کی اور میدان پر دو سو گز تک بلا رکے بھاگتا گیا۔ پھر اس نے اچانک رخ موڑا اور ہماری طرف دوڑا۔ جب وہ سو گز پر پہنچا تو صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اب ہر قدم پر اس کی رفتار کم ہوتی جا رہی ہے۔ پھر وہ رک گیا۔ اس کا منہ پوری طرح کھلا ہوا تھا اور اس کے منہ سے جھاگ دار خون نکل رہا تھا۔ میری گولی اس کے پھیپھڑوں سے ہو کر دوسرے شانے سے نکلی اور پوری جھیل سے اچٹتی ہوئی دوسرے کنارے پر جا پہنچی۔ بارہ ڈرام بارود کی طاقت کا اس سے بہتر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔

میں نے گولی دوبارہ بھری اور جنگلی بھینسے کی سمت آگے بڑھا۔ پچاس گز دور پہنچ کر میں رک گیا۔ یہ جنگلی بھینسا گزشتہ رات والے بھینسے سے عین مشابہ اور اسی کی مانند مشتعل تھا۔ جھکے جھکے اس نے چند قدم اور بڑھائے اور اس کی آنکھیں ہم پر اس طرح جمی ہوئی تھیں کہ جیسے اسے ہماری شکست کا پورا یقین ہو۔

تھوڑی سی کھانسی اور اس کے منہ سے خون کا فوارہ نکلا جس سے اس کی پیش قدمی تھم گئی۔

پھر ہم نے قدم بڑھائے اور اس سے بیس گز کے فاصلے پر رک گئے۔ میں نے دیکھ لیا تھا کہ اس پچھلی گولی اس کے لیے کافی ہو چکی ہے، سو میں نے دوسری گولی نہیں چلائی۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ پھیپھڑے کی گولی کھانے کے بعد جنگلی بھینسا کتنی دیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس سے جنگلی بھینسے کے شکار میں بہت مدد مل سکتی تھی۔

میں نے کل کا بدلہ اتار دیا تھا اور مجھے چار اونس والی رائفل کی طاقت پر پورا بھروسہ ہو چکا تھا کہ اس سے سیلون میں بڑے شکار میں آسانی رہے گی۔

ہم نے بھینسے کی لاش کو الٹا تو احساس ہوا کہ جب ہم نے اس بھینسے کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی تو اس وقت بہت دور جنگلی بھینسوں کا ایک غول موجود تھا جو اب ہم سے محض چند سو گز دور آ چکا تھا اور پورا غول ایک جتھے کی شکل میں کھڑا ہمیں دیکھ رہا تھا۔ ہم نے فوراً ان کی طرف قدم بڑھائے اور جب ہم ایک سو گز کے فاصلے پر رہ گئے تو غول سے دو بڑے نر نکل کر سامنے آئے جو پہلے بھینسے سے بھی زیادہ بھاری تھے۔ ان کے پیچھے سارا غول زمین پر کھر مار کر آوازیں دے رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان بھینسوں نے ہمارے شکار کے خون کی بو سونگھ لی تھی اور اب غصے سے پاگل ہو رہے تھے۔

ہم آگے بڑھتے رہے اور جب نوے قدم پر پہنچے تو دو سو کے قریب بھینسوں کا جتھا سیدھا ہماری جانب دوڑنے لگا۔ ان کی حرکت اتنی اچانک تھی کہ جیسے پیدل فوج کا دستہ حملہ آور ہو رہا ہو۔ زمین ان کے بھاری جثوں کے وزن سے لرز رہی تھی۔ ان کی دمیں، سر اور سینگ اوپر کو اٹھے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی نیت سے آ رہے ہیں۔

اب ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں تھا کہ وہ بہت قریب آ چکے تھے۔ ہمارے شکاری کبھی کے چمپت ہو چکے تھے مگر میں نے دو اونس والی لمبی رائفل بردار شکاری کو پکڑے رکھا اور چار اونس والی رائفل کے ساتھ میں بھینسوں کے استقبال کے لیے تیار تھا۔

دونوں بڑے بھینسے باقی غول سے چند گز آگے تھے اور ان کے پیچھے دیگر بھینسے ایک دیوار کی مانند آ رہے تھے۔ جب یہ غول پچاس گز کے فاصلے پر پہنچا تو مجھے لگا کہ شاید ہمارا آخری وقت آن پہنچا۔ میں نے غول کی بجائے سب سے آگے والے بڑے بھینسے پر نگاہ جمائے رکھی۔ گولی کی طرح اڑتے ہوئے بھینسے تیس گز پر آن پہنچے تو میں نے چار اونس والی رائفل کے ساتھ سب سے آگے والے بھینسے پر گولی چلائی جو سر کے بل وہیں گرا۔ پھر میں نے خوف سے شل ساتھی کے ہاتھ سے دو اونس والی رائفل چھینی اور دوسرے بڑے بھینسے پر گولی چلائی۔ یہ بھینسا بھی گولی کھاتے ہی ہمارے بہت قریب آن گرا۔ اس گولی کی وجہ سے پورے غول کا راستہ بدل گیا۔ ہم سے بیس گز دور پورا غول مڑا۔ ہم فاتح تو تھے مگر انتہائی حیرت سے ان کو دور جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ہم نے ہلکی بندوقوں سے غول پر گولیاں چلائیں مگر بیکار گئیں۔ اس دوران ہم نے بھاری رائفلیں بھر کر گرے ہوئے دونوں بھینسوں کا رخ کیا کہ وہ ابھی تک زندہ تھے مگر ان میں حرکت کی گنجائش باقی نہ تھی اور ہم نے دو نالی بندوقوں سے ان کا خاتمہ کر دیا۔ میری دونوں گولیاں بھینسوں کو سینے اور گلے کے ملاپ پر لگی تھیں اور چار اونس والی گولی تو بھینسے کے کولہے سے نکل گئی تھی۔ کل میں نے عین اسی مقام پر گولی چلائی تھی مگر ہلکی بندوق کی گولی سے بھینسے کو کوئی فرق نہ پڑا۔

اب تک میں دو سو سے زائد جنگلی بھینسے شکار کر چکا ہوں مگر جنگلی بھینسوں کے غول کا اس طرح کا حملہ میں نے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ یہ حملہ غیر معمولی اور واحد واقعہ تھا جو جنگلی بھینسوں کے شکار کے دوران پیش آیا۔ اگر ہمارے پاس دو بھاری رائفلیں نہ ہوتیں تو ہمارے شکار کی داستان اس روز اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہوتی۔ سیلون کا یہ حصہ تب انسانی دستبرد سے بالکل محفوظ تھا اور جنگلی بھینسے بکثرت اور بالکل جنگلی تھے اور جب بھی ان پر حملہ کیا جاتا تو وہیں رک کر شکاری کا سامنا کرتے تھے۔

ہم نے دونوں بھینسوں کی زبانیں کاٹیں اور ناشتے کو لوٹے۔ جھیل کے کنارے چکر کاٹتے ہوئے اچانک ہمیں سامنے ایک بڑا جنگلی بھینسا کھڑا دکھائی دیا۔ جھیل کے کنارے جگہ جگہ کھاڑیاں سی تھیں اور ہمیں دیکھتے ہی اس بھینسے نے ایک کھاڑی میں جست لگائی اور ہمارے سامنے سے تیرتا ہوا گزرا۔ جب یہ بھینسا ہم سے سو گز دور مخالف کنارے پر چڑھا تو گولی چلانے کا عمدہ موقع ملا۔ چار اونس والی رائفل کی گولی کھاتے ہی جنگلی بھینسا گرا کہ گولی اس کے کولہے کو توڑ کر اس کے جسم میں پھیپھڑوں سے گزر کر گلے کی کھال کے نیچے جا رکی۔ مگر فوراً ہی اٹھ کر بھینسا پانی میں کودا اور کنارے سے تیس گز دور اونچی گھاس سے ڈھکے جزیرے کو تیرنے لگا۔ جزیرے کو پہنچ کر جنگلی بھینسا مڑا اور ہمیں دیکھنے لگا۔ چند لمحے بعد جنگلی بھینسا پھر گرا اور اس مرتبہ اٹھ نہ سکا۔ ہم نے رحم کھاتے ہوئے اس کے ماتھے پر گولی چلا کر اس کی تکلیف ختم کر دی۔

ہم جھیل کے کنارے سے ہٹ کر گاؤں کو روانہ ہونے والے تھے کہ دو جنگلی بھینسیں ہمارے سامنے سے اٹھیں اور جنگل کو بھاگیں۔ سو گز کے فاصلے پر ہمیں گولی چلانے کا عمدہ موقع ملا۔ چار اونس والی رائفل کی گولی لگتے ہی اگلی بھینس گری کہ گولی اس کے دونوں شانوں کو توڑتی گزری تھی۔ یہ بھینس جوان اور عمدہ حالت میں تھی۔ ہم نے اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے کاٹے کہ شاید منیریا میں ہمیں گوشت کی ضرورت ہو۔ پھر ہم جھیل سے ہٹ کر گاؤں کو روانہ ہوئے۔

جب ہم واپس گاؤں پہنچے تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے اور میں نے اس دوران چار جنگلی بھینسے اور ایک بھینس شکار کیے تھے۔ اس کے علاوہ چار اونس والی رائفل کی طاقت بھی ہر طرح سے ثابت ہو گئی تھی کہ بارہ ڈرام بارود سے اس کی گولی جنگلی بھینسے کے لیے بہترین ہے۔ میں نے کئی مرتبہ سولہ ڈرام یعنی ایک اونس بارود استعمال کیا تھا مگر اس کا دھکا بہت زور کا ہوتا تھا۔ مگر ایک اونس بارود کے ساتھ فولادی نوک والی چار اونس کی گولی جنگلی بھینسے کو ہلنے نہ دیتی تھی۔

جب ہم گاؤں پہنچے تو عمدہ ناشتہ تیار تھا اور ہم نزدیکی ندی سے نہانے کے بعد جب کھانے کو بیٹھے تو ہمارے بھوک خوب چمک اٹھی تھی۔ بھینسے کا گوشت چمڑے کی مانند سخت تھا۔ جب کچھ اور کھانے کو مل جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تاہم جنگلی بھینسے کی زبان کا ذائقہ اچھا ہے مگر اس میں نمک زیادہ ڈالنا پڑتا ہے۔

تب منیریا میں باہر سے نہ ہونے کے برابر ہی لوگ آتے تھے اور ہر قسم کی چیز سستی مل جاتی تھی۔ بڑی مرغیاں ایک پینی فی کس جبکہ دودھ کے لیے جو بھی قیمت دے دی جاتی، وہ قبول ہوتی تھی۔ اب یہ صورتحال بدل چکی ہے اور ماسوائے مچھلی کے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔

آپ کسی دیہاتی کو چھ پینس دیں تو وہ صبح سویرے جا کر جتنی کہیں، مچھلیاں پکڑ لائے گا۔ اس مقصد کے لیے مخروطی شکل کی ٹوکری استعمال ہوتی ہے جو ایک طرف آٹھ انچ جبکہ دوسری جانب دو فٹ چوڑی ہوتی ہے۔ اس کے دونوں سرے کھلے ہوتے ہیں اور دو فٹ لمبی ہوتی ہے۔

’لولا‘ نامی مچھلی سب سے زیادہ مقبول ہے جو ٹراؤٹ اور کارپ کا ملاپ دکھائی دیتی ہے۔ اس کی عادات ٹراؤٹ جیسی جبکہ شکل کارپ جیسی ہوتی ہے۔ اس کا اوسط وزن تین پاؤنڈ ہوتا ہے مگر نو یا دس پاؤنڈ وزنی بھی عام ملتی ہیں۔ اس کو کم گہرے پانی میں رہنا پسند ہے اور تہہ میں نرسل وغیرہ میں چھپنا پسند کرتی ہے۔ جب بھی گڑبڑ ہو تو یہ مچھلی ایسی جگہ چھپنے چلی جاتی ہے۔ اس عادت سے واقف شکاری ہمیشہ دو فٹ گہرے پانی میں چلتے ہیں اور ہر قدم پر اس ٹوکری کو تہہ میں ڈبوتے جاتے ہیں۔ جونہی مچھلی اس ٹوکری میں محسوس ہو تو شکاری ٹوکری کے منہ پر ہاتھ رکھ کر مچھلی کو نکال کر جھولی میں ڈالتے جاتے ہیں۔

لولا مچھلی بہت لذیذ ہے اور بام مچھلی جیسا ذائقہ ہوتا ہے۔ ایک بار میں نے مقامی شکاری کو اسی طریقے سے ایک صبح چالیس مچھلیاں پکڑتے دیکھا تھا۔

سیلون کی دیگر جھیلوں کی مانند منیریا میں بھی بہت بڑے مگرمچھ عام ہیں۔ علی الصبح اور شام کو اکثر مگرمچھ جھیل کنارے ایسے پڑے دکھائی دیتے ہیں جیسے درختوں کے تنے پڑے ہوں۔ میں نے بہت مرتبہ دیکھا ہے کہ جھیل سے چند گز کے فاصلے پر مارا گیا جنگلی بھینسا ہمیشہ رات کے دوران غائب ہو جاتا تھا اور نشانات سے پتہ چلتا تھا کہ مگرمچھ اسے گھسیٹ کر لے گئے تھے۔ مچھلی پکڑتے یا نہاتے ہوئے مقامی لوگ بھی ان کا شکار بن جاتے ہیں تاہم خشکی پر چڑھ کر انہوں نے کبھی کسی انسان پر حملہ نہیں کیا۔

مجھے یاد ہے کہ سات سال قبل سیلون کے مغربی ساحل پر مدمپی نامی مقام پر میری آمد سے ایک روز قبل ایسا واقعہ ہوا تھا۔ بہت ساری خواتین جمع ہو کر چٹائی بنانے کی خاطر نرسل کاٹ رہی تھیں جو تین فٹ گہرے پانی میں اگے ہوئے تھے۔ اچانک انہیں مگرمچھ کی دم دکھائی دی جو ان خواتین کی طرف آ رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے مگرمچھ نے ایک عورت کو ران سے پکڑ کر بہاؤ کی مخالف سمت تیرنا شروع کر دیا۔ دیگر عورتوں نے خوف سے چیخیں ماریں اور بھاگ کر کنارے پر چڑھ گئیں۔ کچھ فاصلے پر پانی گہرا تھا اور مگرمچھ اس عورت سمیت اسی جانب جا رہا تھا اور عورت کبھی پانی کی سطح کے نیچے جاتی تو کبھی اوپر دکھائی دیتی۔ جب مگرمچھ گہرے پانی تک پہنچا تو پھر عورت کی چیخیں تھم گئیں اور پھر وہ کبھی نہ دکھائی دی۔

یہاں کے بعض مگرمچھ بیس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ موٹائی کے حامل ہو جاتے ہیں مگر اوسط لمبائی ۱۴ فٹ ہے۔ زمین پر ان کی حرکت سست مگر پانی میں ان کی رفتار بہت تیز ہے۔ عموماً گہرے پانی میں کنارے کے قریب مگرمچھ دم سادھے شکار کی تلاش میں لیٹا رہتا ہے اور جب بے خبر ہرن یا جنگلی بھینسا پانی پینے آتا ہے تو پانی پیتی حالت میں مگرمچھ انہیں ناک سے پکڑ کر پانی میں گھسیٹ لیتا ہے اور جب جانور ڈوب کر مر جائے تو پھر سکون سے پیٹ بھرتا ہے۔

مگرمچھ کے نچلے جبڑے کے دو دانت بالائی ہونٹ سے اوپر نکلے ہوتے ہیں جو بھورے جبڑے پر سفید رنگ کی وجہ سے دور سے دکھائی دے جاتے ہیں۔ جب مگرمچھ منہ بند کرتا ہے تو اس کے دانت ایک دوسرے کے ساتھ گڑ جاتے ہیں۔

عام غلط فہمی ہے کہ مگرمچھ کی کھال اتنی سخت ہوتی ہے کہ گولی بھی اس سے لگ کر اچٹ جاتی ہے۔ مگرمچھ کی کھال سخت اور کھردری ہوتی ہے مگر عام رائفل کی گولی بھی اس سے پار ہو جاتی ہے۔ میں نے ایک بار دیکھا کہ عام شکاری چاقو مگرمچھ کی پشت کے سخت حصے میں بھی دستے تک دھنس گیا تھا۔ یہ مگرمچھ ۱۴ فٹ لمبا تھا جو میں نے کولمبو سے ۲۲ میل دور بولگڈے نامی مقام پر مارا تھا۔

ایک شخص مچھلی پکڑنے کے لیے جال بچھا کر تیرتا ہوا کنارے کو جا رہا تھا کہ مگرمچھ نے اسے پکڑ کر ڈبو دیا۔ اگلی صبح دو بھینسیں بھی اس مقام کے پاس ماری گئیں اور اندازہ یہی تھا کہ ان بھینسوں کو بھی اسی مگرمچھ نے مارا ہو گا۔ مجھے اس کی اطلاع کولمبو میں ملی اور میں فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر بولگڈے جا پہنچا۔

بولگڈے بہت میلوں پر پھیلی جھیل ہے جس میں مگرمچھ، ویجن، ٹیل اور بطیں عام ہوتی ہیں۔

شام کو پہنچا تو مودلیر یعنی نمبردار نے مجھے وہ مقام دکھایا جہاں آدمی اور بھینسیں ماری گئی تھیں۔ ایک بھینس تو پوری کھا لی گئی تھی جبکہ دوسری کا سر غائب تھا جبکہ باقی دھڑ پانی میں تیر رہا تھا اور متعفن گوشت کی سڑاند پھیلی ہوئی تھی۔ تاریکی چھانے والی تھی، سو میں نے اگلی صبح کے لیے کشتی کا انتظام کر لیا۔

اگلی صبح پو پھٹ رہی تھی کہ میں کشتی میں سوار ہوا۔ تاہم اس میں احتیاط درکار تھی کہ یہ کشتی دو افراد کے لیے بمشکل کافی تھی۔ کشتی کیا تھی، ایک فٹ چوڑے اور چھ فٹ لمبے درخت کے تنے کو کھوکھلا کر کے کشتی سی بنا دی گئی تھی۔ اس کے ایک جانب ایک چھوٹا سا سہارا بنا ہوا تھا تاکہ کشتی الٹنے سے بچی رہے۔ تاہم جب میں بیٹھا تو پانی کشتی کے کنارے سے بمشکل ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر تھا۔ پھر مقامی آدمی انتہائی احتیاط سے چپو چلاتا ہوا بھینس کی لاش کو بڑھا۔

جب ہم لاش سے سو گز کے فاصلے پر پہنچے تو لاش کے پاس ہمیں پانچ مگرمچھ دکھائی دیے۔ ہر مگرمچھ پانی سے محض نو انچ باہر دکھائی دے رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے درخت کی چھال ہو۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ مگرمچھوں کے ماتھے ہیں اور ایک مگرمچھ لاش کی طرف بڑھا۔ پھر اس کا لمبا سر اور شانے پانی سے نکلے اور اس نے اگلے پنجے کو بھینس کی لاش میں گاڑ دیا۔ تاہم لاش اس کے زور سے گھومی تو اس کا پنجہ پھسل گیا۔ مگرمچھ نے لاش کے گھومنے کے دوران ہی منہ کھول کر لاش سے گوشت کا بڑا سا لوتھڑا نوچ لیا۔ میں اب لاش سے ۳۰ گز کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا مگر مجھے دیکھتے ہی مگرمچھوں نے پانی میں غوطہ لگایا۔

لاش کنارے سے چند ہی گز دور تھی جہاں پانی بہت گہرا مگر شفاف تھا۔ کنارے پر بہت سے بڑے درخت اگے ہوئے تھے جن کے پیچھے چھپنا آسان تھا۔ سو میں کنارے پر اترا اور کشتی کو کچھ دور بھیج دیا اور خود چھپ کر پانی کو دیکھنے لگا۔

مجھے اس مقام پر چھپے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے کہ کنارے کے پاس ہی پانی سے ایک بہت بڑا مگرمچھ پانی سے ابھرنے لگا۔ یہ مگرمچھ اٹھارہ فٹ سے زیادہ لمبا ہو گا اور اس کا ما تھا اور آنکھیں پانی سے باہر نکلیں۔ یہ مگرمچھ بہت خوفناک لگ رہا تھا اور اس کی جسامت سے میں نے اندازہ لگایا کہ اسی مگرمچھ نے ہی حالیہ وارداتیں کی ہوں گی۔ مگرمچھ مجھ سے تین گز دور تھا اور میں کنارے پر ہی کھڑا تھا مگر اس کی آنکھوں میں کسی قسم کا خوف یا ڈر نہ دکھائی دیا اور وہ مجھے گھورتا رہا۔ اگلے لمحے میری دو اونس کی گولی اس کی آنکھوں کے عین درمیان لگی اور مگرمچھ وہیں مر گیا مگر اس نے چند مرتبہ دم پٹخی اور پانی میں جھاگ بننے لگی۔ پھر مگرمچھ الٹ کر پانی میں بتدریج ڈوبنے لگا اور آخرکار بیس فٹ نیچے اس کا سفید پیٹ رک گیا۔

مگرمچھ کو نکالنے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہ تھا، سو میں پھر کشتی میں بیٹھ گیا۔ ہلکی ہوا چلنے لگی جو بھینس کی لاش کو کنارے سے دور لے جانے لگی۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور کچھ دیر بعد لاش نرسلوں کے پاس جا کر کم گہرے پانی میں رک گئی۔ میں نے کشتی کو لاش سے چار گز کے فاصلے پر ایسے مقام پر رکوا دیا جہاں سے ہوا لاش کو جا رہی تھی تاکہ بو نہ آئے۔

یہاں رکے زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ لاش اچانک اس طرح گھومی جیسے پانی کے اندر سے کسی نے اسے ہلایا ہو اور اگلے لمحے کشتی کے کنارے اگے سرکنڈے ایک قطار کی شکل میں ہلنے لگے جیسے مگرمچھ نیچے سے گزر رہا ہو۔

میرا مقامی ساتھی دہشت سے زرد پڑ گیا اور فوراً چپو چلا کر دور جانے لگا۔ مگر میں نے پھر اسے واپس اسی جگہ لانے کے بعد اس کے ہاتھ سے چپو لے لیا۔ کشتی کا ناخدا چپو کے بغیر انتہائی دہشت کی حالت میں کشتی پر بیٹھا تھا۔ ہم کنارے کے قریب تھے اور پانی کی گہرائی تین فٹ سے زیادہ نہ ہو گی مگر ناخدا اتنی ہمت نہ کر سکا کہ پانی میں جست لگا کر کنارے پر چڑھ جائے۔ شاید اسے مگرمچھ کی قربت نے ڈرایا ہوا تھا۔ اس نے چند مرتبہ مجھے گہرے پانی میں جانے کا اشارہ کیا اور پھر مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔

چند ہی منٹ بعد لاش پھر ہلی اور پانی کی سطح سے مگرمچھ کا سر اور شانے ابھرے اور لاش سے چند پاؤنڈ گوشت مزید کم ہو گیا۔ اس مرتبہ اس کے سر پر گولی چلانے کا موقع نہیں تھا، سو میں نے گولی اس کے شانوں میں اتار دی اور کشتی کو فوراً کنارے کی طرف دھکیلا۔ اگر میں کشتی کو نہ دھکیلتا تو زخمی مگرمچھ کی جد و جہد کی وجہ سے کشتی الٹ جاتی۔ تڑپتا ہوا مگرمچھ نرسلوں میں جا کر نیچے بیٹھ گیا۔ میں اس کی حرکات کو بخوب دیکھ سکتا تھا۔ پھر میں نے مقامی ساتھی کو چپو پکڑایا اور اسے زبردستی مگرمچھ کا پیچھا کرنے کا کہا اور خود رائفل تانے تیار بیٹھا رہا۔

اچانک مگرمچھ کی حرکات تھم گئیں اور کشتی بھی رک گئی۔ میں نے کنارے پر جھک کر نیچے جھانکا تو ہوا کا ایک بڑا بلبلہ اوپر کو ابھر رہا تھا اور اس کے پیچھے گوشت کا ایک بڑا لوتھڑا ابھرا۔ بدبو ناقابلِ برداشت تھی مگر یہ بات واضح تھی کہ مگرمچھ بری طرح زخمی ہوا ہے ورنہ اتنا گوشت اتنی آسانی سے نہ جانے دیتا۔ میں نے چپو اٹھا کر پانی کی تہہ کو ٹٹولا کہ یہاں پانی کم گہرا تھا۔ جونہی چپو مگرمچھ کو لگا، اس نے پھر حرکت شروع کر دی۔ پھر مجھے نیچے سے مگرمچھ کے کھلے جبڑے ابھرتے دکھائی دیے جو کشتی سے دو فٹ دور تھے۔ اگلے لمحے مگرمچھ کا سر پانی سیے باہر نکلا اور عین اسی لمحے دو اونس والی گولی اس کے بھیجے میں ترازو ہو گئی۔ مگرمچھ پانی میں ڈوبا اور سرکنڈے ساکت ہو گئے۔ میں نے کشتی کنارے سے لگوائی اور مڑی ہوئی شاخ کاٹی اور مگرمچھ کی تلاش میں نکلا۔ جب مڑی ہوئی شاخ اس کے اگلے بازو میں پھنسی، میں نے مگرمچھ کو کنارے پر لے آیا۔ پھر اس کے اگلے بازو میں رسی باندھی اور کشتی کی مدد سے اسے گھسیٹ کر گاؤں کو روانہ ہو گئے۔ وزن کی وجہ سے کشتی کی سطح پانی کے تقریباً برابر تھی۔

پانی میں اس کا وزن نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتا تھا مگر جب ہم گاؤں پہنچے تو بیس افراد مل کر اسے بمشکل خشکی پر لا سکے۔ یہ مگرمچھ چودہ فٹ لمبا تھا اور جونہی خشکی پر پہنچا تو مقامی افراد کلہاڑیوں اور چاقوؤں سے اس کی تکابوٹی کرنے لگے۔ مگرمچھ کے کئی ٹکڑے ان لوگوں نے پانی میں پھینکے تو دیگر مگرمچھ انہیں کھانے پہنچ گئے۔ مگرمچھ کے حصوں کو دیگر مگرمچھوں کو کھاتے دیکھ کر ان لوگوں کو تسلی مل رہی تھی۔

ایک بڑی کشتی لے کر میں نے بندوق اٹھائی اور بہت ساری بطیں اور ٹیل مارنے کے بعد ناشتے کو لوٹا۔ ذائقے اور چربی کے حوالے سے سیلون کی بطیں برطانوی بطوں سے کسی طور کم نہیں۔

٭٭

باب ۴

 

سیلون میں شکار کے حوالے سے ذاتی آرام سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ معتدل علاقوں کے برعکس منطقہ باردہ کے جنگلات میں جنگلی جانوروں کا تعاقب بہت تھکا دیتا ہے۔ سورج کی تیز دھوپ، دلدلی علاقوں کا حبس، حشرات وغیرہ کا مسلسل تنگ کرنا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جن سے بچاؤ کا مناسب انتظام ہو تو انسان شکار سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ میں نے سفر کے لیے ہر قسم کا ذریعہ آزمایا ہوا ہے سو مجھے ہر مقام پر اچھے شکار کے ساتھ ساتھ آرام اور سہولت بھی مہیا رہتی ہے۔

اچھا خیمہ جس میں پانی نہ داخل ہو سکے مگر اتنا ہلکا ہو کہ دو آدمی اٹھا سکیں، لازمی ہے۔ میرا خیمہ چھتری کے اصول پر بنا ہے جو پندرہ فٹ گولائی رکھتا ہے اور اس میں تین آدمی سہولت سے رہ سکتے ہیں۔ گول میز دو حصوں پر مشتمل ہے اور خیمے کے ستون کے گرد لگ جاتی ہے۔ تین تہہ دار کرسیاں بھی ہیں اور خیمے کی دیواروں کے ساتھ تین بستر بھی لگ جاتے ہیں۔ بستروں کے نیچے کپڑوں کے صندوق وغیرہ آ جاتے ہیں اور ڈریسنگ ٹیبل اور بندوقوں کی الماری سے سارا انتظام بہترین دکھائی دیتا ہے۔

خیمے کے بعد دوسری اہم ترین چیز کینٹین ہے۔ میری کینٹین جاپانی جست سے بنی ہے اور اس میں تین افراد کے لیے مکمل ناشتہ اور دوپہر کا کھانا سما جاتا ہے۔ دو آدمی اسے بانس پر لٹکا کر اٹھاتے ہیں۔

کپڑوں کے صندوق جست کے بنے ہوں ورنہ دیمک انہیں کچھ ہی دنوں میں ہڑپ کر جائے گی۔

کھانے پینے کے برتن کافی تعداد میں ہوں، لالٹین، کلہاڑی، داؤ (مڑا ہوا چاقو)، آگ جلانے کا سامان، ماچس، موم بتیاں، تیل، چائے، کافی، چینی، بسکٹ، وائن، برانڈی اور چٹنیاں وغیرہ کافی مقدار میں ہوں۔ کچھ ہیم (سور کی پکی ہوئی ران)، ڈبہ بند گوشت اور شوربے وغیرہ بھی لازمی ساتھ رکھنے چاہئیں۔

ایک بار میں نے انتہائی کم ساز و سامان کے ساتھ سفر کرنے کا سوچا اور اپنے ہمراہ ہتھیار، کپڑے، بسکٹ کا ڈبہ اور برانڈی کی چند بوتلیں رکھیں اور بستر، تکیے، خیمے اور کرسیاں گھر پر ہی چھوڑ دیں۔ میرا ملازم بہت متوحش ہوا مگر تب میں جوان تھا اور شکار کا شوق سبھی مادی ضروریات پر بھاری تھا۔ کھانے کے لیے مجھے ہر چیز شکار کرنی تھی اور پکانے کے لیے ایک جالی اور ایک دیگچی تھی۔ ہم مقامی جھونپڑوں میں ننگی زمین پر سوتے اور کھانا زمین پر آلتی پالتی مار کر کھاتے تھے۔ تھالی کی جگہ کسی درخت کا بڑا پتہ اور پانی کی خاطر ناریل کا سخت چھلکا۔ چھری کاٹنے کا کام میرا شکاری چاقو کرتا تھا اور میں نے ’ب‘ کے ساتھ مل کر ایک بڑے علاقے میں شکار کیا اور اس سے زیادہ لطف مجھے آج تک نہ مل سکا۔

اس موقع پر میں نارلینڈ کے پاس ایک علاقے میں شکار کھیل رہا تھا جو کینڈی سے تیس میل دور ہے۔ سفر کے پہلے روز ہم دو بجے ایک بستی پہنچے تو اپنے ہتھیار چوکی پر رکھ کر قریبی دریا پر نہانے چلے گئے۔

ہم نے نہا کر کپڑے پہنے ہی تھے کہ ایک مقامی آدمی بھاگتا ہوا آیا کہ کچھ ہاتھی اس کی فصل اجاڑ رہے ہیں۔ باجرے کی ایک قسم کی یہ فصل ان لوگوں کی واحد خوراک ہے۔

ہم نے فوراً اپنے ہتھیار منگوائے۔ چوکی کا نگہبان اچھا کھوجی تھا اور خار دار جھاڑیوں والے جنگل میں پگڈنڈی پر چند منٹ کے سفر کے بعد ہم مزروعہ زمین کو پہنچ گئے۔ درختوں پر چوکیداری کے لیے بنائے گئے جھونپڑوں پر بہت سے لوگ موجود تھے جو کافی شور کر رہے تھے۔ ان لوگوں کے شور سے ڈر کر ہاتھی جنگل میں چھپ گئے تھے۔

اس سارے علاقے کے جنگل کو وقفے وقفے سے کاٹ کر اس پر فصل اگائی جاتی تھی۔ زمین اتنی بیکار تھی کہ ایک فصل اگنے کے بعد اسے خالی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایسی زمین پر خار دار جھاڑیوں کا جنگل تھا جس سے گزرنا انسانی بس سے باہر تھا۔ اسے مقامی زبان میں ’چینہ جنگل‘ کہتے تھے۔ ہاتھی اور دیگر جنگلی جانور اسے بہت پسند کرتے تھے کہ اس میں انسان ان کا پیچھا نہیں کر سکتا۔

ایسی پناہ گاہوں سے رات کو ہاتھی نکل کر فصلوں پر شب خون مارتے تھے۔ یہ فصل دو فٹ اونچی تھی اور اس کا ذائقہ میٹھا تھا۔ ہاتھی اسے اتنا پسند کرتے ہیں کہ دور افتادہ کھیتوں میں دن کے وقت بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مقامی افراد ہوائی گولیاں چلا کر اور شور مچا کر انہیں بھگاتے اور چند ہی منٹ بعد ہاتھی لوٹ آتے تھے۔

ہاتھیوں کے بڑا گروہ تھوڑی ہی دیر میں پورے کھیت کی فصل کا ستیاناس کر سکتا ہے۔

اس مرتبہ تباہی پھیلانے والے تین ہاتھی تھے جن میں سے ایک نر، ایک مادہ اور ایک ان کا بچہ تھا جو ’پونچی‘ کہلاتا ہے۔ جب ہم کھیت میں داخل ہوئے تو جنگل میں کچھ ہی دور ہمیں شاخیں ٹوٹنے کی آوازیں تو آئیں مگر جنگل اتنا گھنا تھا کہ ہم کچھ نہ دیکھ سکے۔ اس جنگل میں ہاتھیوں کے نقش قدم پر بھی چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہم نے کچھ دیر انتظار کیا کہ ہاتھی لوٹیں مگر انہیں شاید خطرے کا احساس ہو گیا تھا اور وہ ہوا کی سمت چل رہے تھے تاکہ تعاقب کا اندازہ کر سکیں۔

خیر، ہم نے ہمت نہ ہاری اور ہاتھیوں کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ خار دار جھاڑیاں اتنی گھنی تھیں کہ جیسے ایک ہی جھاڑی ہو۔ جلد ہی ہمیں گھٹنوں کے بل چلنا پڑا اور رائفلیں بھی اٹھائے رکھنی تھیں کہ آواز نہ پیدا ہو۔ میں سب سے آگے تھا اور مجھے چند فٹ دور ہاتھیوں کے کانوں کی حرکت سے ٹہنیاں ہلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی مگر ان کے جسم کا ایک انچ بھی دکھائی نہ دیا۔ پھر ہمیں ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی کہ ہاتھیوں نے ہماری بو سونگھ لی تھی۔ پھر ان کے چلنے کی آواز آئی۔

پہلے پہل تو یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ آیا ہاتھی آپ کی طرف آ رہا ہے یا آپ سے دور بھاگ رہا ہے۔ یہ کیفیت بہت ہیجان انگیز ہوتی ہے کہ عموماً چینہ جنگل میں درخت نہیں ہوتے اور جنگل اتنا گھنا ہوتا ہے کہ انسان کے فرار کی راہ بھی نہیں ہوتی۔ اگر ہاتھی شکاری کی طرف بھاگے تو شکاری کی ہلاکت تقریباً یقینی ہوتی ہے۔

چند لمحے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ ہاتھی ہم سے مخالف سمت کو فرار ہوئے ہیں۔ سو ہم بھی ان کے پیچھے پوری رفتار سے بھاگے کہ ہاتھیوں کے فرار کا راستہ سا بنا ہوا تھا۔ مگر یہ کام آسان نہ تھا کہ جنگل کے درخت بے شک گرے تھے مگر ان کے کانٹے اور لٹکی ہوئی بیلیں وغیرہ ہمارا راستہ روکتی رہیں اور چند ہی منٹوں میں ہمارے کپڑے لیر لیر ہو گئے اور ہمارے جسم سے خون کی لکیریں بہنے لگیں۔ اس جنگل میں تھوہر کے پودے بھی کافی تھے جو بیس فٹ تک اونچے تھے اور ہاتھی انہیں گرا کر کچلتے ہوئے گئے۔ کچھ دور جا کر یہ رکاوٹیں ختم ہو گئیں اور ہم نے رفتار بڑھا دی اور ہر کچھ دیر بعد ہاتھیوں کے فرار کی آواز سننے کو رکتے تھے۔

ہمیں پتہ چل گیا کہ یہاں سے ہاتھی الگ ہو گئے تھے۔ نر نے ایک سمت جبکہ مادہ نے اپنے نوعمر بچے کے ساتھ دوسری سمت اختیار کی۔ ہم نے مادہ اور بچے کا پیچھا شروع کیا۔ ہماری رفتار کافی تیز تھی کہ ہاتھی ہم سے کافی آگے اور تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ نصف گھنٹے تک ہم نے رفتار برقرار رکھی اور پھر ہمیں دو سو گز دور ہمیں ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی جس سے ہمیں پتہ چل گیا کہ ہاتھی بہت محتاط ہو چکے ہیں اور ہماری پیش قدمی شاید بیکار جائے کہ وہ ہوا کی سمت جا رہے تھے۔

ہماری واحد امید ہماری رفتار تھی، سو ہم نے مزید رفتار بڑھا دی اور تیزی سے راستہ بناتے آگے کو بڑھتے رہے۔ مزید نصف گھنٹے بعد تک ہاتھیوں کی طرف خاموشی رہی۔ ہم سانس لینے کو رکے اور آواز سننے لگے۔ اچانک کافی دور ہمیں ہاتھیوں کے فرار کی آواز سنائی دی کہ وہ ہماری بو سونگھ چکے تھے۔ اب تعاقب بے سود دکھائی دے رہا تھا کہ ہم ایک گھنٹے سے جان توڑ رفتار سے شدید گرمی میں ناقابلِ عبور جنگل میں بھاگ رہے تھے۔ خیر، ہم نے فیصلہ کیا کہ جب تک دن کی روشنی ہو، ہم تعاقب جاری رکھیں گے۔ اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے اور ایک گھنٹہ روشنی باقی تھی۔ ہوا یکسر تھم گئی جس کی وجہ سے حبس اور بھی ناقابلِ برداشت ہو چلا تھا۔ ہم نے اس وقت دیکھا کہ اب ہاتھیوں کے نقشِ قدم آگے کی بجائے پیچھے کو مڑ گئے ہیں۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہاتھی ہماری بو نہیں سونگھ سکتے، سو ہم پھر دوڑے۔

اندھیرے سے نصف گھنٹہ قبل ہمارا صبر اور ہمت، دونوں ہی جواب دینے والے تھے کہ سو گز دور ہمیں ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ اسے آخری موقع سمجھ کر ہم نے رفتار بڑھا دی۔

دو گھنٹے گھنے اور اونچے جنگل میں بھاگنے کے بعد ہم اچانک کھلے میں پہنچ گئے جہاں چینہ کے درختوں کی اونچائی پانچ فٹ سے زیادہ نہ تھی۔ تاہم یہ درخت اتنے گھنے تھے کہ ہمارے لیے واحد امید ہاتھیوں کی گزرگاہ تھی۔

جب ہم یہاں پہنچے تو چالیس گز دور مجھے ہتھنی بھاگتی ہوئی دکھائی دی۔ میرے پاس دو نالی ہلکی رائفل تھی، سو ہتھنی کو روکنے کی خاطر میں نے بعجلت اس کے کان پر گولی چلا دی۔ ہتھنی کا تعاقب اتنی دور سے ہو رہا تھا کہ وہ اب لڑائی پر آمادہ ہو گئی۔ اس کی رفتار کم ہوئی تو میں چند ہی لمحوں میں اس کی دم کے قریب پہنچ گیا۔ ہتھنی اس گھنے جنگل میں آسانی سے راستہ بناتی جا رہی تھی مگر میں اس کے پیچھے ہی رہنے پر مجبور تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے مجبوری میں ہتھنی کی دم کے نیچے گولی چلائی جس کا رخ اوپر کی جانب تھا۔ مجھے توقع تھی کہ ہتھنی کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہو گی۔

بارود کا دھواں نال کے سامنے چھا گیا اور میں نے خالی رائفل ایک طرف پھینکی اور دوسری رائفل کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ جونہی دوسری رائفل میرے ہاتھ میں آئی، ہتھنی کا سر دھوئیں سے نکلتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے کان جسم سے چپکے ہوئے تھے۔ میں نے گھوڑا چڑھایا اور دو اونس والی رائفل سے نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ ایک بار پھر دھوئیں کا بادل چھا گیا مگر گولی چلاتے ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ہتھنی مر جائے گی۔ جب دھواں چھٹا تو دیکھا کہ مجھ سے چھ فٹ دور ہتھنی مردہ پڑی تھی۔ میری گولی ہتھنی کے ماتھے کے عین وسط میں لگی تھی اور ’ب‘ نے بھی عین اسی لمحے گولی چلائی تھی جس کی آواز میری گولی کے ساتھ مل گئی تھی۔ اس کی گولی میری گولی سے تین انچ کے فاصلے پر ہتھنی کے ماتھے میں لگی تھی۔ اگر ہمارا نشانہ خطا جاتا تو یہ میرا آخری شکار ہوتا۔

ہمارا شکار کامیاب رہا اور کئی میل کے سفر کے بعد قسمت نے ہمارا ساتھ دیا اور ہوا تھم گئی۔ ہوا کے رکتے ہی ہتھنی نے واپس جوار کے اسی کھیت کی جانب رخ کیا جہاں وہ ہمیں پہلے ملی تھی۔ یہ مقام ہماری رہائش سے تین میل دور تھا اور کھوجی اس سے بخوبی واقف تھے اور چند منٹ میں ہم سڑک پر پہنچ گئے۔

پونچی اور نر ہاتھی دونوں الگ ہو گئے تھے سو وہ بچ کر نکل گئے۔

گھنے جنگل میں سب سے بڑا مسئلہ پہلی نال کے دھوئیں کا ہوتا ہے جو گھنے جنگل کی وجہ سے غائب ہونے میں وقت لگاتا ہے اور دوسری نال سے درست نشانہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ مرطوب موسم میں یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے۔

مجھے ذاتی طور پر ایسے گھنے جنگل میں شکار کا شوق نہیں اور کم ہی ایسا شکار کرتا ہوں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے رات کے اندھیرے میں جانور کو ٹٹول کر شکار کیا جائے۔ دوسرا خار دار گھنے جنگل سے گزرنا اپنی جگہ ایک عذاب ہے۔

ہم چوکی لوٹ کر کھانا کھانے کے بعد سونے کی تیاری کرنے لگے۔ رات بہت خاموش تھی اور ہوا بھی نہیں چل رہی تھی۔ تھکے ہارے قلی اور ملازمین سو رہے تھے۔ لالٹین جل رہا تھا اور ہم لیٹ رہے تھے کہ اچانک ایک عجیب اور غیر انسانی چیخ سنائی دی۔ اگلے لمحے دروازے سے ایک ہیولہ داخل ہوا۔ یہ ہیولہ سیاہ رنگ کا اور یکسر برہنہ تھا۔ اس کی آدھی کٹی زبان باہر لٹک رہی تھی، لال انگارہ آنکھیں جن میں عجیب سا تاثر تھا، حلقوں سے ابلی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ پھیلے ہوئے تھے اور پھر اس نے ایک اور غیر انسانی چیخ ماری اور گر گیا۔

چوکی کا نگران اور دیگر قلی وغیرہ جمع ہو گئے تھے اور سب بیک زبان کہنے لگے کہ اس آدمی پر شیطان سوار ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بیچارے کو مرگی کا دورہ پڑا تھا اور ہاتھ یا پیر ہلائے بغیر وہ اس طرح تڑپ رہا تھا جیسے پانی سے نکلنے کے بعد مچھلی تڑپتی ہے۔ میرے پاس کوئی دوائی یا ٹوٹکا نہ تھا کہ جس سے مدد کر پاتا، سو میں نے یہ آدمی نگران کے حوالے کر دیا۔ نگران بد روحوں کو بھگانے کا ماہر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا مگر اس کے منتر بیکار رہے۔ اچانک یہ آدمی اٹھا اور اسی طرح چیختا ہوا خار دار جنگل کو بھاگا۔ آج تک اس آدمی کی کوئی خبر نہیں مل سکی۔

سنہالی لوگ بد روحوں پر پورا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ان کا ایک فرقہ تو ہے ہی شیطان کا پجاری۔ تاہم ان کی اکثریت بدھ مت کو مانتی ہے۔ اس قوم میں مشنریوں کو بہت دقت ہوتی ہے۔ سنہالی قوم کا کوئی کردار نہیں: یہ لوگ بدعقیدہ، مکار، دھوکے باز اور انتہائی بزدل ہیں۔ ہر قسم کی توہم پرستی ان میں عام ہے اور کسی خدا پر ان کا ایمان نہیں۔ اگر بدھ مت کے ماننے والا سنہالی عیسائی بنے تو وہ اسی صورت میں ہمارے خدا سے دعا مانگے گا اگر اسے کسی قسم کا فائدہ ملنے کی توقع ہو۔ ورنہ وہ یہی دعا مہاتما بدھ سے یا شیطان سے بھی مانگنے سے گریز نہیں کرے گا۔

ایک مرتبہ میں نے بدھ مت کے سنہالیوں کے عیسائی بننے کا واقعہ دیکھا تھا جو کسی بھی مشنری کا دل توڑنے کو کافی تھا۔

سیلون کے دور افتادہ علاقے میں ایک بہت محنتی مشنری نے بہت سارے آدمی عیسائی بنا لیے اور پھر اس نے وہاں ایک رومن کیتھولک چرچ بھی بنایا۔ ایک مرتبہ وہ چند ہفتے کے لیے کسی کام سے دوسرے ضلع گیا۔ نئے عیسائیوں نے مسیحی عقیدے کے تحت اپنی عبادت جاری رکھی اور ساتھ ہی اس میں کچھ جدتیں بھی پیدا کیں اور لوٹنے پر ان جدتوں کو دیکھ کر مشنری کے ہوش اڑ گئے۔

چرچ میں عبادت کے مقام پر یسوع مسیح کی تصویر، مقدس کنواری مریم کی تصویر وغیرہ تو عیسائی روایات کا جزو لاینفک ہیں ہی مگر انہوں نے مہاتما بدھ کی بھی تین تصویریں، رنگین پلاسٹر آف پیرس سے بنی ملکہ برطانیہ اور پرنس البرٹ کی تصویریں اور ایک انتہائی قابلِ اعتراض تصویر بھی ساتھ لٹکا رکھی تھی۔ میرے خیال میں بدھ مت کے ماننے والے جب ابھی سکول میں ہی ہوں تو ان کی عیسائی عقائد کے مطابق تربیت ہونی چاہیے۔ بالغان کا مذہب تبدیل کرنے کا خیال بیکار ہے۔

٭٭٭

باب ۵

 

دو اونس والی رائفل کا نپل ٹوٹ گیا تو میں اسے لے کر ٹرنکومالی آیا جو میرے مجوزہ راستے سے ستر میل ہٹ کر ہے۔ شکاری علاقے میں شکاری کی پسندیدہ رائفل کا اس طرح خراب ہو جانا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ خیر میرے پاس نیا نپل تھا، سو میں نے پرانا نکلوا کر نیا لگوا لیا۔ شکار پر جاتے ہوئے ہمیشہ ہر نالی کا اضافی نپل اور مین سپرنگ لے جانا چاہیے۔

ٹرنکومالی سے واپسی پر کنڈیلی سے گزرتے ہوئے میں اسی جھیل پر دوبارہ آیا۔ یہ جگہ منیریا سے کافی مشابہت رکھتی ہے مگر یہاں شکاریوں کی کثرت کی وجہ سے شکار کا مزہ نہیں رہا تھا۔ جنگلی بھینسے بھی کافی بزدل تھے اور تین سو گز سے بھی زیادہ فاصلے سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ میں ناخوش ہو کر جھیل سے روانہ ہونے ہی لگا تھا کہ مجھے نصف میل دور گھٹنے گھٹنے تک جھیل کے پانی میں کھڑے تین بھینسے دکھائی دیے۔ اتنے فاصلے سے ان کی جسامت عام کتے کے برابر لگ رہی تھی۔

پانی کی سطح پر گولی چلانے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ گولی نشانے پر گئی یا اگر خطا ہوئی تو کتنے فاصلے سے خطا ہوئی۔ میں نے ویسے بھی شام کو صفائی کی خاطر بھری ہوئی رائفلوں کو چلانا تو تھا ہی، سو میں نے ان کی طاقت کا امتحان لینے کا سوچا۔

دو اونس والی لمبی رائفل کی گولی کی سیدھ تو ٹھیک تھی مگر وہ بھینسوں سے پہلے ہی گر گئی۔ پھر میں نے ایک آدمی کے کندھے پر چار اونس والی رائفل رکھ کر سب سے دور والے نشانے کی پتی اٹھائی اور آگے والے بھینسے کے گلے کا نشانہ لیا۔ چونکہ بھینسے چل رہے تھے، سو میں نے اس کا بھی خیال رکھا۔ گولی چلتے ہی اس آدمی کے کان کا پردہ پھٹ گیا کہ رائفل میں سولہ ڈرام بارود تھا۔

ہم نے پانی کی سطح پر گزرتی ہوئی گولی کی تلاش جاری رکھی اور پورے تین ثانیے گزرنے پر اگلا بھینسا اچانک اپنے گھٹنوں کے بل گرا اور اسی حالت میں رہا۔ کئی ثانیوں کے بعد ہمیں گولی لگنے کی مدھم آواز آئی۔ یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ یہ فاصلہ چھ سو گز تھا، آٹھ سو گز یا اس سے بھی زیادہ۔ چونکہ یہ سارا راستہ پانی گہرا نہیں تھا، سو ہم گھوڑوں پر سوار ہو کر اس جانب چلے۔ اس کے قریب پہنچ کر میں نے اس کے سر میں گولی اتار کر اس کی تکلیف دور کر دی اور پھر اس کی لاش کا معائنہ کیا۔ رائفل کی گولی دونوں کولہوں کو توڑتی ہوئی پار ہو گئی تھی۔ اسی وجہ سے جب بھینسا گرا تو دوبارہ نہ اٹھ سکا۔

واپسی پر ہمیں کنارے تک کا سفر نصف میل لگا اور میں حیران ہوا کہ اس فاصلے پر بھی گولی جنگلی بھینسے کے دونوں کولہوں کو توڑ کر پار ہوئی تھی۔

تاہم یہ محض اتفاقی نشانہ تھا جو کامیاب رہا۔ میں نے اس سے قبل یا اس کے بعد کبھی اتنے فاصلے سے کامیاب گولی نہیں چلائی۔ اگر کوئی آدمی اس پر یقین نہ کرے تو میں مجبور نہیں کروں گا کہ چھ سو گز سے زیادہ فاصلے پر میں نے پھر کبھی کامیاب گولی نہیں چلائی۔ تاہم یہ گولی مخروطی نہیں بلکہ گول شکل کی تھی۔ تین اونس کی پٹی والی گولی دو قعر والی نال کے لیے بنائی جاتی ہے۔ مخروطی گولی چار اونس سے کچھ زیادہ وزنی ہوتی ہے۔

اس رائفل کی دور مار سے مجھے ایک ہاتھی کا واقعہ یاد آیا جو میں نے ٹوپاری جھیل پر دیکھا تھا۔ یہ ہاتھی بدمعاش مشہور تھا اور یہ جھیل سیلون کی دیگر جھیلوں اور تالابوں کی مانند پختہ بنائی گئی تھی۔ سیلون میں زمانہ قدیم میں انسانوں نے سخت محنت کر کے دریاؤں پر بند باندھے اور ان کا رخ موڑ کر آبی ذخائر بنائے جو چاول کی کاشت کے لیے زمین سیراب کرتے تھے۔ یہ نسل بہت پہلے صفحہ ہستی سے مٹ چکی مگر ان کے بنائے ہوئے پختہ آبی ذخائر ابھی تک موجود ہیں۔ عجیب بات دیکھیے کہ ان لوگوں کے بنائے آبی ذخائر کے علاوہ ان کے شہروں کے کھنڈرات بھی موجود ہیں مگر یہ لوگ خود کہاں گئے، اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ ایسا ہی ایک شہر پولاناروا کے نام سے مشہور ہے جو ٹوپاری کے دیہات سے نصف میل دور ہے۔ یہاں دریا پر باندھا گیا بند دو میل طویل ہے اور پختہ اینٹوں اور پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ جب جھیل میں پانی بھرتا ہے تو اس کا قطر آٹھ میل تک پھیل جاتا ہے۔

جب میں گاؤں پہنچا تو ملازم نے مجھ سے گھوڑا لیا اور اسے پانی پلانے جھیل پر لے گیا۔ تاہم چند لمحے بعد وہ دوڑتا ہوا لوٹا اور بولا کہ جھیل کے دوسرے کنارے پر دو میل دور ایک بدمعاش ہاتھی موجود ہے۔

میں نے فوراً رائفلیں سنبھالیں اور اس کے ساتھ چل پڑا۔ راستہ اس عظیم بند کے اوپری کنارے سے ہو کر جاتا تھا اور کاز وے (اضافی پانی کے بہاؤ کا راستہ) پر جنگل اگا ہوا تھا۔ کاز وے کی چوڑائی ساٹھ گز اور لمبائی دو میل تھی۔ پانی اس سے بیس فٹ نیچے تھا۔ مخالف کنارے پر میدان تھا جس میں کھلا جنگل، کھاڑیاں اور گھاس بھی جگہ جگہ دکھائی دے رہی تھیں۔

میں اس کاز وے پر بڑھتا رہا اور تیزی سے چلتے ہوئے جھیل کے دوسرے سرے پر جا پہنچا۔ یہ عظیم بند ابھی اور کافی آگے تک جا رہا تھا۔ اس لمبائی اور کاز وے کی اونچائی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ماضی میں یہ جھیل کہیں بڑی رہی ہو گی۔

بند کے کنارے پر لگے پتھروں کی مدد سے میں نیچے اتر کر میدان میں گھسا اور پانی کے قریب رہتے ہوئے ایسے مقام سے گزرا جہاں خشک زمین پانی کے اندر تک گئی ہوئی تھی۔ یہاں درخت بھی تھے۔ مجھے ہاتھی کے مقام کا علم تھا اور یہ بھی کہ اب وہ مجھ سے زیادہ دور نہیں ہو گا۔ میں جنگل سے محتاط ہو کر گزرا کہ شاید ہاتھی ابھی یہاں سے گزرنے والا ہو گا۔ تاہم ہاتھی ابھی تک پانی میں کھڑا تھا اور مجھ سے اس کا فاصلہ تین سو قدم ہو گا۔ کنارے سے بھی اس کا فاصلہ ۱۲۰ گز سے کم نہ تھا۔ اس ہاتھی کی جسامت بہت بڑی تھی اور جھیل کے بدمعاش ہاتھی کا عمدہ نمونہ تھا۔ یہ ہاتھی کبھی اپنی جھیل سے زیادہ دور نہیں جاتے بلکہ کئی کئی برس تک جھیل کے کنارے ایک مخصوص علاقے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ دو ملازموں کے علاوہ میرے پاس کوئی اور نہ تھا اور ملازم اس ہاتھی کے شکار کے لیے بیکار تھے۔ سو میں نے منصوبہ بنایا۔

میں جہاں درختوں کی پٹی میں کھڑا تھا، ہاتھی کے قریب ترین چھپنے کی وہی محفوظ جگہ تھی جبکہ اصل جنگل جھیل سے چوتھائی میل دور تھا۔ اگر مجھے ہاتھی سے بچنے کے لیے بھاگنا پڑتا تو یہی فاصلہ اہم تھا۔ پانی کے کنارے سے ڈیڑھ سو قدم پر املی کا ایک بڑا درخت اگا تھا جو میرے اور ہاتھی کے عین درمیان تھا۔ اس کے تنے پر کافی اونچائی تک مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ شاید ہاتھی غسل سے فارغ ہو کر یہاں اپنا جسم رگڑتا تھا۔

یہ سوچ کر میں نے اپنے ملازمین سے بندوقیں لے کر انہیں کسی مضبوط درخت پر چڑھ کر بیٹھنے کو کہا۔ خطرے کی صورت میں انہوں نے ویسے بھی فرار ہو جانا تھا اور بھاگتے ہوئے بندوقیں بھی ساتھ لے جاتے۔ پھر میں نے جنگل کے بالکل کنارے پر ایک بڑے درخت کے ساتھ اپنی دو اونس والی رائفل کو ٹکایا اور باقی دو رائفلوں کے ساتھ چھپتا چھپاتا پانی کو چلا۔ ایک بندوق میں نے مندرجہ بالا املی کے بڑے درخت کے ساتھ رکھ دی۔ اس طرح فرار کے لیے میرے پاس دو مناسب جگہیں تھیں۔

املی کے درخت تک کا سفر کافی مشکل تھا مگر ہوا میرے موافق اور سورج میری پشت پر چمک رہا تھا۔

ہاتھی اب میرے مخالف سمت منہ کیے کھڑا اور سر کو ہلا رہا تھا۔ میں نے چار اونس والی رائفل کے ساتھ املی کے درخت سے پیش قدمی شروع کی اور عین ہاتھی کی طرف بڑھا۔ گھاس چھدری اور نرم تھی اور میں آرام سے بغیر آہٹ پیدا کیے آگے بڑھتا رہا۔ واحد خطرہ یہ تھا کہ ہاتھی سر گھماتے ہوئے کہیں مجھے دیکھ نہ لے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے میں مسلسل آڑا ترچھا چل رہا تھا۔ جلد ہی میں جھیل کے کنارے اور ہاتھی سے ۱۲۰ گز دور پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ کر میں نے ہاتھی کو دیکھا تو اس کی جناتی جسامت واضح تھی۔ ایسے ہاتھی بہت بدمعاش ہوتے ہیں۔ جب میں نے یہاں سے مڑ کر املی کے درخت اور جنگل کو دیکھا تو فاصلہ بہت زیادہ محسوس ہوا۔ ویسے بھی واپسی کا سارا راستہ ہلکی چڑھائی تھی۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ میں کنارے پر پہنچ کر چلاؤں گا اور جب ہاتھی مڑے گا تو اس کے ماتھے میں گولی اتار دوں گا۔ اب محسوس ہوا کہ اگر مجھے دوڑنا پڑا تو یہ فاصلہ بہت زیادہ ہو جائے گا۔

ہاتھی کا سر مسلسل ہل رہا تھا اور میں بھی اسی مناسبت سے اپنا مقام بدلتا رہا تھا۔ ایک مرتبہ اس کا سر مڑا تو کان کے پیچھے تھالی کے برابر سفید داغ دکھائی دیا۔ دائیں کان کے پیچھے اس مقام پر گولی چلائی جائے تو مہلک ثابت ہوتی ہے۔ میں نے اسی نشان پر گولی چلانے کا فیصلہ کیا اور اگر ہاتھی نہ بھی مرتا تو بھی میرے پاس اتنا وقت ہوتا کہ میں املی کے درخت تک پہنچ کر دوسری رائفل اٹھا لیتا۔

ہاتھی کی ساری توجہ کنول کے پودوں سے پیٹ بھرنے پر مرکوز تھی۔ اس نے بہت ساری بیلیں اکھاڑیں اور انہیں کھانے لگا۔ ایک بار پھر اس کا سر ہلا اور کان پھڑپھڑائے اور نشانہ لینے سے قبل ہی کان واپس اپنی جگہ لوٹ آیا۔ ایسا کئی مرتبہ ہوا مگر میں نے صبر سے انتظار جاری رکھا۔ میرا ارادہ تھا کہ گولی چلاتے ہی میں دوڑ لگا دوں گا۔

ایک مرتبہ پھر اس کا سر ہلا اور میں نے رائفل اٹھائی کہ شاید موقع مل جائے۔ اس کے کان پھڑپھڑائے اور سر بالکل درست مقام پر پہنچا۔ جب میں نے شست باندھی تو رائفل کی سفید مکھی عین اسی نشان پر چمک رہی تھی۔ گولی چلتے ہی دھپ کی آواز آئی۔

ہاتھی وہیں گھٹنوں کے بل گر گیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ آیا۔ اتنے طویل فاصلے سے اور اتنا بڑا جانور محض ایک گولی لگتے ہی کچی دیوار کی مانند گر جائے؟ مجھے اپنے پیچھے ملازمین کے چلانے کی آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو میرے بندوق بردار ملازمین خوشی سے میری جانب دوڑتے آ رہے تھے۔ کچھ دیر قبل یہی دو آدمی اس بات پر پریشان تھے کہ اکیلا شکاری ایک نالی رائفل کے ساتھ کھلے میدان میں جھیل کے بدمعاش ہاتھی کے شکار پر آمادہ ہے۔ اب یہی آدمی خوشی خوشی جھیل میں گھس کر ہاتھی کی دم کاٹنے کو چل پڑے۔ میں اس جھیل میں مگرمچھوں کی وجہ سے کسی قیمت پر نہ گھستا۔ واپسی پر انہوں نے بتایا کہ گولی اسی سفید نشان کے عین وسط میں لگی تھی۔ واپسی پر وہ ہاتھی کی دم اپنے ساتھ لائے تھے۔

اس کے بعد بھی میں نے بہت مرتبہ طویل فاصلے سے گولی چلائی ہے مگر ایک بار کامیاب ہوا۔ یہ ہاتھی فوراً نہیں مرا بلکہ اس کی لاش اگلے روز دیہاتیوں نے تلاش کی تھی۔ اس روز میں نے ۵۶ سنائپ اور کافی بطیں بھی شکار کیں۔ اُن دنوں یہ شکار کی جنت تھی کہ یہاں مجھ سے قبل کوئی شکاری نہیں آیا تھا۔ تاہم اب یہ جگہ بھی شکار سے خالی ہو چکی ہے۔

جھیل کے قریب کھلے جنگل میں ہرنوں کی بہتات تھی۔ گھاس کے میدانوں میں جگہ جگہ سایہ دار درخت اگے ہوئے تھے اور ہرنوں کا پسندیدہ مقام تھا۔

انہی قطعوں میں گھومتے ہوئے ایک روز مجھے پولانروا کے کھنڈرات دکھائی دیے۔ محلات کی جگہ اب تراشیدہ پتھروں کے بے ہنگم ڈھیر موجود تھے۔ علیحدہ علیحدہ پتھروں سے کاٹے گئے بارہ بارہ فٹ اونچے ستون کئی میل تک پھیلے ہوئے تھے۔ ان ستونوں کا کام عمارات کو سہارا دینا تھا جو کب کی گر چکی تھیں۔ اب ان ستونوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے قبروں کے کتبے ہوں۔ بعض عمارات ابھی تک موجود تھیں اور ان میں دو ایسے معبد بھی تھے جو بڑے پتھروں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے اور ان پر سفید پلستر چڑھا ہوا تھا اور ان کی عجیب عجیب انداز سے سجاوٹ کی گئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے انڈے کی شکل کے پتھر کو کاٹ کر ہموار سطح کو زمین پر رکھ دیا گیا ہو۔ ان کے پلستر تو کب کے اتر چکے تھے اور جگہ جگہ گھاس اور جنگل اگ آیا تھا۔ بڑا معبد تو سو فٹ سے بھی زیادہ اونچا تھا۔

ایک دلچسپ استوپ ایسا تھا جو ٹھوس چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا اور بہترین حالت میں موجود تھا۔ مقامی لوگ اس میں عبادت کرنے آتے تھے اور ایک پجاری بھی یہاں متعین تھا۔ مہاتما بدھ کے تین مجسمے بھی موجود تھے جو ۵۶ فٹ لمبے اور ایک ہی پتھر سے کاٹے گئے تھے۔

انہی کھنڈرات میں گھومتے ہوئے مجھے ستونوں کے درمیان ایک جگہ مادہ چیتل دکھائی دی۔ میں اس سے بیس گز کے فاصلے پر تھا کہ اسے میری موجودگی کا علم ہوا۔ میں نے دو نالی بندوق سے اسے شکار کر لیا۔ کارتوس چلتے ہی میری نظروں سے اوجھل تیس چیتل جو قریب ہی تھے، بھاگے تو میں نے دوسری نال سے ایک اور مادہ چیتل شکار کر لی۔

یہ سارا علاقہ زمانہ قدیم میں گنجان آباد تھا اور شاید آبادی کی کثرت سے ہی وبا کا شکار ہوا ہو گا۔ یہ کھنڈرات کم از کم بھی ۶۰۰ سال سے غیرآباد ہیں جبکہ ان کا قیام شاید ۳۰۰ قبل مسیح میں ہوا تھا۔ اناراج پور کے کھنڈرات ۱۶ میل چوڑے اور ۱۶ میل لمبے ہیں اور ان کا کل رقبہ ۲۵۶ مربع میل بنتا ہے۔ پولانارو کے کھنڈرات اس سے کہیں چھوٹے ہیں مگر ان کا طول و عرض بھی بہت زیادہ ہے۔

ٹوپاری کے دیہاتی اس علاقے کے قدیم باشندوں کی نسل اور انتہائی غلیظ انسان ہیں۔ ان کے اخلاق اور ان کی عادات اسی طرح انحطاط پذیر ہوئی ہیں جیسے اس علاقے کے کھنڈرات۔ سیلون سے کم گنجان آباد ملک مشکل سے ہی ملتا ہے مگر یہاں جگہ جگہ ماضی کی عظیم الشان تہذیب اور قوم کے نشانات ہیں۔ آج جہاں بھی جھیل یا بڑے آبی ذخائر ملتے ہیں، وہاں کوئی نہ کوئی عظیم الشان شہر موجود تھا۔ کئی کئی ماہ خشک سالی کا سامنا کرنے والے ممالک پانی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ورنہ زراعت ممکن نہیں۔ ان جھیلوں اور تالابوں کی تعمیر کے پیچھے بھی یہی وجہ کارفرما ہے۔ یہ تالاب اور جھیلیں تمانکاڈوا کے ضلع میں بہت زیادہ ملتے ہیں۔ ان علاقوں میں شکار کی کثرت ہے اور جنگلی بطیں، سنائپ (نومبر سے مئی) بھی عام ملتے ہیں۔ خشک سالی میں سبھی جنگلی جانور پانی کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔

ٹوپاری سے اگلی جھیل ڈولانا میں ہے جو آٹھ میل دور ہے۔ اس کا رقبہ بھی ٹوپاری جتنا ہی ہے۔ ضلع میں اس جسامت کی آٹھ مختلف جھیلیں موجود ہیں۔ ان جھیلوں کی وجہ سے بدمعاش ہاتھی بھی عام ہیں کہ سیلون میں جنگلی ہاتھی عام ہیں۔ اسی وجہ سے میں ان ہاتھیوں کے کچھ چنیدہ واقعات پیش کرتا ہوں جن کی مدد سے آپ کو بدمعاش ہاتھیوں کی عادات کے بارے میں بہتر معلوم ہو سکے گا۔

میں ۵ اپریل ۱۸۴۷ کو ڈولانا پہنچا اور میرے ہمراہ دو اچھے کھوجی بھی تھے جو ہاتھی پکڑنے کا کام جانتے تھے۔ ان کی مدد سے میں اور میرا بھائی ’ب‘ شکار کو نکلے۔ ضلع کے اس علاقے میں ایک خاص قوم آباد ہے جو بہت عمدہ نسل ہے اور سنہالیوں سے بدرجہا بہتر۔ میرے کھوجی بھی اسی نسل کے آدمی تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عرب سے آئی نسل ہے اور مسلمان ہیں۔ علاقے کا نمبردار راتمہاتمیا ڈولانا میں رہائش پذیر تھا اور اس نے ہمیں خلوص سے خوش آمدید کہا۔ سو ہم اس کے گھر گئے۔

گاؤں کے سامنے کم بلند گھنے جنگل کی پٹی تھی اور ہم جھیل کے کنارے میدان سے گزرے۔ اس جھیل کی لمبائی تین میل اور چوڑائی ایک میل سے کم تھی۔ مخالف کنارے پر پانی کے کنارے تک آیا عمدہ جنگل تھا۔ ظاہر ہے کہ بارشوں کے موسم میں یہاں سیلاب آ جاتا ہو گا۔ اس وقت مٹی نرم اور کیچڑ نما تھی۔

اُس دور میں یہاں شکاری نہیں آتے تھے، سو ہمیں دلچسپ منظر دکھائی دیا۔ ہمارے سامنے جھیل میں کم از کم تیرہ عدد بدمعاش ہاتھی موجود تھے۔ ایک ہاتھی ہم سے چوتھائی میل دور تھا تو دوسرا اتنا دور کہ بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔ ایک ہاتھی مخالف کنارے پر تھا۔ یہ سبھی نر اور اکیلے ہاتھی تھے۔ ایک جگہ دو ہاتھی ایک ساتھ دکھائی دیے جو پہلو بہ پہلو تھے اور ان کی جسامت دیگر بدمعاش ہاتھیوں سے بھی زیادہ بڑی تھی اور رنگ ساگوان کی طرح سیاہ۔ یہ دونوں ہاتھی جھیل کے عین درمیان میں تھے۔ دیہاتیوں نے فوراً بتایا کہ یہ دونوں ہاتھی علاقے ہمیشہ ایک ساتھ ہوتے ہیں اور پورے علاقے کے لیے دہشت بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان ہاتھیوں کے بارے میں کافی دہشتناک کہانیاں بھی سنائیں مگر ہم نے کان نہ دھرے۔

ہم کشتی میں سوار ہو کر دوسرے کنارے پر گئے جہاں کیچڑ میں ہاتھیوں کے پیروں کے اتنے نشانات تھے کہ کھوج کا کام بہت مشکل ہو گیا کہ سبھی تازہ تھے۔ آخرکار ہم نے دو ہاتھیوں کے نشانات پر چلنا شروع کیا۔ کافی دیر بعد ہمیں دور سے ایک ٹہنی ٹوٹنے کی آواز آئی اور جلد ہی ہم ان ہاتھیوں تک پہنچ گئے۔ مگر ہاتھی ہماری بو سونگھ کر چلنے ہی والے تھے۔ میں نے ایک ہاتھی کی کنپٹی پر گولی چلائی اور یہ ہاتھی دوسرے سے الگ ہو گیا۔ ہم پوری رفتار سے اس کے پیچھے دوڑے۔ تاہم یہ دوڑ کچھ دور تک ہی ہو سکی کہ کیچڑ بہت گہرا ہو گیا اور ہر قدم پر ہم کئی انچ کیچڑ میں دھنس جاتے۔

ہاتھی ہم سے دور ہوتے گئے اور ہمارے کھوجی جنہیں ہاتھیوں کے شکار کے بارے میں کچھ علم نہ تھا، وہ ان کے پیچھے دوڑے اور جلد ہی ہاتھی اور کھوجی، دونوں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ہم نے پیش قدمی جاری رکھی اور پھر اچانک ایک گولی کی آواز سنائی دی۔ پھر کھوجی چلائے اور ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ پھر ایک گولی چلی، پھر دوسری اور پھر کئی گولیاں چلیں اور پھر کھوجی شور مچانے لگے۔ کھوجیوں نے ہماری اضافی بندوقیں چلا دی تھیں۔

چند لمحے بعد ہم ان تک پہنچ گئے۔ خوبصورت کھلے میدان اور عمدہ زمین پر کھوجیوں نے ایک بدمعاش ہاتھی سے مقابلہ شروع کر دیا تھا۔ ہاتھی کسی ایک آدمی کا رخ کرتا تو دوسرے اس کے پیچھے گولیاں چلاتے اور شور مچاتے۔ جب ہاتھی ان کی طرف مڑتا تو باقی آدمی یہی کام کرتے۔ جونہی ہم پہنچے تو ہاتھی نے ب کا رخ کیا اور حملہ آور ہو گیا۔ اس دوران ب کو گولی چلانے کا عمدہ موقع ملا اور اس نے ہاتھی وہیں گرا لیا۔

گولیاں چلنے سے جنگل میں ہاتھیوں کا جھنڈ پریشان ہو گیا اور انہوں نے بڑا دریا تیر کر عبور کیا مگر اس وقت پانی اتنا زیادہ تھا کہ ہم عبور کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اس لیے ہم جنگل کے کنارے کو گئے جہاں جھیل کا پانی درختوں کی جڑوں تک پہنچ گیا تھا اور یہاں سے ہم جھیل کا کافی بڑا حصہ دیکھ سکتے تھے۔

کچھ دیر قبل ہم نے جو آوارہ ہاتھی دیکھے، وہ سب جنگل میں گھس گئے تھے۔ صرف وہ دو ہاتھی جو ایک ساتھ تھے، ابھی تک پانی میں کھڑے تھے اور انہیں گولی چلنے کی آواز سے بھی کوئی فرق نہ پڑا تھا کہ وہ بہت نڈر تھے۔ میں نے سوچا کہ ان پر گھات لگانی چاہیے۔ دونوں ہاتھی پیٹ تک گہرے پانی میں کنارے سے چوتھائی میل دور کھڑے تھے۔ سوال یہ تھا کہ اب ان کے قریب کیسے پہنچا جائے۔ دیگر ہاتھیوں کی جنگل واپسی سے میں نے سوچا کہ ان ہاتھیوں کو بھی کسی طرح سے واپس جنگل بھیجا جائے اور وہاں جنگل کنارے ان کا سامنا کیا جائے۔

ہمارے بائیں جانب کچھ دور لمبا مگر کم گہرا پانی کا تالاب تھا جو جھیل کے اندر تک پھیل گیا تھا۔ اس جگہ گھٹنے گھٹنے پانی میں چلتے ہوئے آدمی ہاتھیوں سے دو سو گز کے فاصلے پر ہاتھیوں کے برابر پہنچ سکتا تھا۔ پھر میں نے اپنے ایک ساتھی کو بندوق دے کر ہدایت کی کہ وہ اسی کم گہرے پانی کے انتہائی سرے پر جا کر سرکنڈوں میں چھپنے کے بعد ہاتھیوں پر گولی چلائے۔ اس طرح ہاتھی شاید جنگل کا رخ کرتے جہاں ان سے مڈبھیڑ ہو سکتی تھی۔

مقامی آدمی میری بات پر فوراً عمل کرنے کو تیار ہو گیا اور اسے دو نالی بندوق اور کچھ بارود اور گولیاں دے کر روانہ کرنے کے بعد ہم بے چینی سے اسے جاتا دیکھنے لگے۔ ہاتھی پکڑنے والے آدمی بہت پر جوش ہو گئے۔ پندرہ منٹ بعد کہ ہمیں سرکنڈوں کے اوپر سفید رنگ کے دھوئیں کا مرغولہ دکھائی دیا۔ چند لمحے بعد دھماکہ سنائی دیا اور ہاتھیوں کے قریب گولی گرتی دکھائی دی۔ ہاتھیوں نے فوراً کان اپنے جسم کے ساتھ لگائے اور سونڈ اونچی کر کے دشمن کی بو سونگھنے کی کوشش کرنے لگے۔ چند منٹ بعد وہ پھر کنول کے پودوں کو کھانے لگے۔ ایک مرتبہ پھر گولی چلی اور ہاتھیوں نے پھر دشمن کی بو سونگھنے کی کوشش کی اور اس دوران دو اور گولیاں چلیں اور ہاتھیوں نے کنارے کا رخ کیا۔

ہم اطمینان ہوا مگر ہاتھی پکڑنے والوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ وہ جھیل کے کنارے پانی سے بچتے ہوئے درختوں کی جڑوں پر پھدکتے ہوئے کیچڑ سے بچ کر دوڑے جبکہ میں ہر قدم پر ایک فٹ گہرے کیچڑ میں دھنس جاتا تھا۔ نو سٹون وزنی آدمی کے لیے اس کیچڑ پر بھاگنا آسان تھا مگر میرا وزن بارہ سٹون تھا اور میری دو اونس والی سولہ پاؤنڈ وزنی رائفل اور گولہ بارود ڈیڑھ پاؤنڈ کا اضافی وزن ہو جاتا تھا۔ جلد ہی یہ لوگ ہماری اضافی رائفلوں کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو گئے اور محض اکیس پاؤنڈ وزنی چار اونس والی رائفل اٹھائے آدمی ہمارے ساتھ رہ گیا۔

ہمیں اس بات پر بھی غصہ تھا کہ یہ آدمی بغیر سوچے ہماری اضافی بندوقیں اپنے ساتھ لے کر دور چلے گئے تھے۔ مجھے یقین تھا کہ یہ آدمی ہاتھیوں کے فرار کے مقام سے آگے نکل چکے ہوں گے کہ ہاتھی اگر ہمارے اندازے کے مطابق لوٹتے تو ہمارے ابتدائی مقام سے تین سو گز کے فاصلے پر سے گزرتے۔

پھسلتے، کیچڑ میں دھنستے، کافی کوشش کے بعد ہم لوگ اچانک رک گئے۔ اس جگہ گہرا کیچڑ اور گھاس تھی جس کے چاروں جانب گھنا جنگل تھا۔ جنگل کیا تھا، کانٹوں بھرے درختوں کا ایک جال سا تھا۔ یہ جنگل کچھ اس نوعیت کا تھا کہ اس میں ہاتھی بھی گھسنا پسند نہ کرتے۔ انسان کے لیے تو کوئی امکان ہی نہ تھا کہ اس میں گھس سکتا۔

ٹخنوں تک کیچڑ میں دھنسے ہوئے ہم ایک کھلی جگہ پہنچے جو تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی تھی۔ اس کے گرد ناقابلِ عبور جنگل تھا۔ جھیل ہمارے بائیں جانب پچاس گز دور اور جنگل کے پیچھے تھی۔ بندوق بردار ہم سے آگے کہیں پہنچے ہوئے تھے۔ ہم یہاں پہنچ کر رک گئے۔ میں اپنی رائفل کی ٹیک لگا کر جھیل والی سمت کے جنگل کے کنارے سے چار فٹ دور تھا۔ میں نے ب سے کہا، ’کھوجی بالکل غلط اور بہت دور جا چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہاتھی اسی جگہ کے آس پاس سے گزرے گا‘۔

میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہاتھی عین اسی وقت ہم سے چند فٹ دور تھے۔ ب میرے پیچھے اور مخالف سمت جنگل سے سات گز دور کھڑا تھا۔

مجھے اچانک چار فٹ دور ایک ٹہنی ٹوٹنے کی آواز سنائی دی اور اسی وقت جنگل کی دیوار جیسے آگے کو جھک کر پھٹی اور مشتعل ہاتھی کا سر دکھائی دیا اور اس کی اٹھی ہوئی سونڈ حملے کی علامت تھی اور وہ سیدھا مجھ پر آ رہا تھا۔

مجھے گھوڑا چڑھا کر رائفل اٹھانے میں جتنا وقت لگا، ہاتھی رائفل کی نال برابر فاصلے پر پہنچ چکا تھا۔ مجھے علم تھا کہ میری گولی بیکار جائے گی کہ ہاتھی کی سونڈ اٹھی ہوئی تھی۔ ب نے بھی عین اسی وقت دائیں نال چلائی مگر ہاتھی پر اثر نہ پڑا۔ گولی چلاتے ہی میں نے ایک طرف چھلانگ لگائی اور گہرے کیچڑ میں بھاگنے کی کوشش کرنے لگا تاہم لمبی گھاس میرے پیروں کو جکڑنے لگی اور اگلے لمحے میں ہاتھی کے راستے سے ایک فٹ کی دوری پر منہ کے بل گرا۔ سنسنی کے اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ کسی وقت بھی ہاتھی کا پیر میری ہڈیوں کو کچلنے کے لیے مجھ پر آئے گا۔ عین اسی لمحے ب کی رائفل کی دوسری نال چلی۔ مجھے اپنی ایڑی پر نرم اسفنج نما کوئی چیز محسوس ہوئی اور میں نے فوراً قلا بازی کھائی اور کھڑے ہو کر دیکھا کہ ہاتھی کی سونڈ میری ایڑی پر لگی تھی۔ ب کی آخری گولی نے میرے سر پر پہنچے ہاتھی کو گرا دیا تھا۔ میں چند قدم اٹھا کر ایک طرف ہوا۔ تاہم ہاتھی ابھی تک زندہ تھا اور میں نے رائفل بردار سے چار اونس والی رائفل چھینی اور اگلی گولی نے ہاتھی کا بھیجا اڑا دیا۔

آخری گولی چلاتے ہوئے میری کمر جنگل کو چھو رہی تھی کہ مجھے اپنے عقب میں دوسرے مشتعل ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی اور ہاتھی کا اگلا پیر جنگل سے نکلتا دکھائی دیا۔ میں نے اپنے عقب میں جنگل پر پورا زور لگایا اور جونہی میں ہٹا تو ہاتھی کا اگلا پیر میرے پیر سے ایک انچ دور زمین سے لگا۔ اس کا سر میرے اوپر سے ہو کرب کی جانب بڑھا جس کی رائفل اب خالی ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی چار اونس والی رائفل کی نال اوپر کی جانب کر کے ہاتھی کے گلے پر گولی چلائی۔ مجھے یقین تھا کہ ہاتھی گولی کھا کر میرے اوپر گرے گا اور میں کچلا جاؤں گا۔ مگر ب کی جان بچانے کا یہی واحد راستہ تھا۔

گولی چلتے ہی گہرا دھواں چھا گیا اور ایک لمحے کو ہر چیز دھوئیں میں چھپ گئی۔ گولی چلاتے ہی میں ایک طرف ہو گیا تھا۔ ہاتھی گرا نہیں مگر گولی اس کی شہ رگ کے پار ہو چکی تھی۔ گولی لگتے ہی ہاتھی ایک لمحے کو رکا اور پھر ب کی جانب بڑھا اور اس کی شہ رگ سے خون کا جیسے پرنالہ بہہ رہا ہو۔ اب ہاتھی کی چال میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہو چکی تھی۔ ب پھرتی سے ایک طرف ہو گیا اور ہاتھی لڑکھڑاتا ہوا جنگل میں غائب ہو گیا۔ ہم نے رائفلیں بھریں۔ اس دوران پہلا ہاتھی مر چکا تھا۔ ہم دوسرے ہاتھی کے پیچھے لپکے۔ دور سے ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ بندوق بردار نے جب پاس سے گزرتے ہوئے زخمی ہاتھی کو دیکھا تو اس پر گولیاں چلا دیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہاتھی شدید زخمی ہو چکا تھا اور دریا کے دوسرے کنارے پر گرا ہو گا۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ دریا اتنا بپھرا ہوا تھا کہ اسے عبور کرنا ہمارے بس کی بات نہیں تھی۔ چند دن بعد جب پانی کچھ اترا تو ہاتھی عین اسی جگہ مرا ہوا ملا جہاں ہمارے بندوق برداروں نے کہا تھا۔

اس طرح ان دو بدمعاش ہاتھیوں کا خاتمہ ہوا اور جیسا کہ ان کے بارے میں بتایا گیا تھا، ویسے ہی بدمعاش ثابت ہوئے اور گھنے جنگل میں لگ بھگ ہماری موت بننے والے تھے۔ اس طرح ہم نے صبح سویرے تین بدمعاش ہاتھی ہلاک کیے اور خوش خوش واپس لوٹے۔

تب سے میں نے بہت سے بدمعاش ہاتھیوں کو شکار کر کے اس علاقے میں ان کی تعداد کم کر دی ہے۔ میں نے ان کے شکار کے لیے بہترین منصوبہ بنا لیا تھا۔ میں ہمیشہ ایک یا دو بندوق برداروں کے ساتھ جاتا اور جنگل کے کنارے ان ہاتھیوں کے پیٹ بھرنے اور واپس لوٹنے کا انتظار کرتا۔ پھر اسی مناسبت سے ان پر گھات لگاتا اور قبل اس کے کہ ہاتھی میری موجودگی بھانپتے، میں ان کو شکار کر لیتا تھا۔ ان بدمعاش ہاتھیوں کے شکار کا یہ طریقہ بہترین تو تھا مگر خطرناک بھی۔ ایک مرتبہ میں ایسی ہی جگہ پر ہاتھی کا شکار ہوتے ہوتے بچا کہ یہ ہاتھی ہمیشہ بہت وحشی ہوتے ہیں۔ تب خشک سالی کی وجہ سے جھیل میں کافی کم پانی تھا اور جنگل سے ایک سو گز دور جا کر پانی شروع ہوتا تھا اور یہ سارا حصہ کیچڑ اور سڑتی ہوئی نباتات سے بھرا ہوا تھا۔ سورج کی گرمی سے اس کیچڑ کی بالائی سطح سخت مگر نیچے نرم کیچڑ ہوتا تھا۔ اس سخت سطح پر بہت احتیاط سے چلنا پڑتا تھا۔ اگر یہ بالائی سخت سطح ٹوٹتی تو انسان سیدھا کمر تک کیچڑ میں دھنس سکتا تھا۔ تاہم ہاتھی اس کیچڑ میں بہت مزے سے گزرتے تھے۔ یہ کیچڑ ان کے جسم پر موٹی تہہ کی شکل میں جم کر انہیں مچھروں وغیرہ سے بچاتا تھا۔ ہاتھیوں کو مچھروں سے بہت چڑ ہوتی ہے مگر ان سے جان چھڑانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔

اس روز میں شام کو چار بجے جنگل کے کنارے ہاتھیوں کی آمد کا منتظر تھا کہ ایک بہت بڑا ہاتھی جنگل سے نکل کر کیچڑ میں چلتا جھیل کی سمت جاتا دکھائی دیا۔ ہوا کا رخ موافق تھا، سو میں نے اس کا پیچھا شروع کر دیا۔

درختوں کے پیچھے چھپتے چھپاتے اپنے دو بندوق برداروں کے ساتھ میں جنگل کے کنارے عین اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے ہاتھی نمودار ہوا تھا۔

میں اس مقام پر ہاتھی سے اسی گز دور تھا اور ہاتھی کا رخ جھیل کی طرف اور کولہے میری سمت تھے۔ گہری کیچڑ میں اس کے قدموں کے نشانات پانچ پانچ فٹ دور تھے کہ اس کی جسامت اور قدم کی طوالت بہت بڑی تھی۔ اس مقام پر کیچڑ کم از کم بھی ساڑھے تین فٹ گہرا تھا۔ ہاتھی کے پیٹ اور کیچڑ کے درمیان بھی دو فٹ کا فاصلہ تھا۔ یہ بہت عمدہ ہاتھی تھا اور میں نے انتہائی محتاط انداز سے کیچڑ پر بنی ہوئی پتلی تہہ پر چلتے ہوئے ہاتھی کا رخ کیا۔ راستے میں دو مرتبہ میں یہ سوچنے کو رکا کہ آیا پیش قدمی جاری رکھنا عقلمندی ہو گی کہ جھیل کے قریب کیچڑ پر بنی ہوئی خشک تہہ بتدریج پتلی ہوتی جا رہی تھی۔

میرے سامنے کھڑا ہاتھی کیچڑ میں کھیلتے ہوئے کافی شور کر رہا تھا۔ اس طرح مجھے عمدہ موقع ملا کہ میں اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جاؤں۔

جب میں ہاتھی سے آٹھ گز دور پہنچا تو اسی وقت ہاتھی نے اپنی پشت پر کیچڑ پھینکا جو میرے اردگرد گرا۔ میرے ہاتھ میں دو نالی ہلکی بندوق تھی سو میں نے ہاتھ پیچھے کو کیا تاکہ یہ بندوق دے کر چار اونس والی رائفل لوں۔ اس طرح میرا وزن تھوڑا سا بڑھا مگر نتیجتاً کیچڑ کی خشک تہہ ٹوٹ گئی اور میں پلک جھپکتے میں کمر تک کیچڑ میں دھنس گیا۔ میرے گرنے کی آواز سے خبردار ہو کر ہاتھی نے فوراً میری جانب دیکھا اور چنگھاڑتے ہوئے سیدھا میری جانب بڑھا۔ اس کے کان جسم سے چپکے ہوئے، دم اٹھی ہوئی اور وہ سر جھکا میری جانب بڑھا۔ شکر ہے کہ اس نے دیگر ہاتھیوں کی مانند سر اٹھا کر حملہ نہ کیا ورنہ سر پر گولی چلانا ایک طرح سے بیکار ہو جاتا ہے۔ شاید اسے میرا آدھا دھڑ دیکھ کر میری جسامت کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہو گی۔

مجھے لگا کہ میرا وقت آن پہنچا ہے کہ میں کیچڑ میں حرکت کرنے سے قاصر تھا۔ اس کے علاوہ رائفل کی صاف ستھری سرمئی نال کی بجائے میرے ہاتھ میں کیچڑ سے لتھڑی ہوئی رائفل تھی جس سے کیچڑ چادر کی صورت میں لٹک رہا تھا۔ شست باندھنا ممکن نہ تھا کہ دیدبان پر کیچڑ کی موٹی تہہ تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ گولی نہیں چلے گی۔ میں نے اندازے سے نشانہ لے کر پھسلتی لبلبی دبائی تو ہاتھی پانچ گز دور تھا۔ نہ صرف گولی چلی بلکہ ہاتھی وہیں کیچڑ میں گر گیا۔ اگر گولی نہ چلتی یا خطا جاتی تو کیچڑ میں میرے لیے حرکت نا ممکن تھی اور میں مارا جاتا۔ ہاتھی کی موت کے بعد میں اپنے بندوق برداروں کی مدد سے بمشکل کیچڑ سے نکلا۔

ہاتھی، جنگلی بھینسے اور سور کو کیچڑ میں لوٹنیاں لگانے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ بھینسا رانوں تک گہرے کیچڑ میں بہ آسانی دوڑتا ہے جبکہ سوار کے بغیر گھوڑا بھی ایسی جگہ تیزی سے نہ چل پائے گا۔ ہاتھی بھی گہرے کیچڑ میں انتہائی آسانی سے پیش قدمی کرتے ہیں کہ ان کی ٹانگوں کی ساخت ان کی مدد کرتی ہے۔

بدمعاش ہاتھیوں کے شکار میں اسی وجہ سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ خطرناک جگہوں پر ملتے ہیں۔ مسطح اور ہموار مقام پر انسان کی رفتار کافی ہوتی ہے مگر کٹے پھٹے، دشوار اور گھاس سے بھرے مقام پر چلنا بھی انسان کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جو زمین ہاتھی کے لیے مسطح اور ہموار ہو، وہ انسان کے لیے ایسی ہوتی ہے جیسے ہل چلا ہوا کھیت ہو۔ اس طرح فرار کا امکان تبھی بچتا ہے جب کوئی مناسب درخت قریب ہی موجود ہو کہ جس کے پیچھے چھپ کر بچ سکے۔ ایسی جگہوں پر انسان پوری رفتار سے نہیں بھاگ سکتا کہ پتھروں اور مٹی کے ڈھیلوں کی وجہ سے انسان بار بار گرتا ہے۔ جب ہاتھی پیچھے لگا ہو اور انسان کو جان بچانے کے لیے بار بار مڑ کر دیکھتے ہوئے بھاگنا پڑے تو پتھر، ٹہنیاں، گھاس اور اونچ نیچ انسان کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

فرار ہوتے ہوئے جنگلی جانور کے آگے بھاگنے میں بھی پورا ہنر چاہیے۔ آپ کو انتہائی تحمل مزاج اور ذہنی طور پر پختہ ہونا چاہیے کہ اس کے بغیر انسان جس خطرے سے بھاگ رہا ہوتا ہے، عین اسی کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ میجر ہیڈک چند برس قبل سیلون میں اسی وجہ سے موت کا شکار ہوا۔ اس نے ایک بدمعاش ہاتھی پر گھات لگائی تو ہاتھی اس پر حملہ آور ہو گیا۔ اس نے رائفل کی دونوں نالیاں چلائیں مگر ہاتھی گرانے میں ناکام رہا۔ پھر اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور ایک بڑے درخت کے پیچھے پہنچ کر دوسری جانب پہنچا تاکہ ہاتھی اسے دیکھے بغیر گزر جائے۔ بدقسمتی سے درخت کے پیچھے جاتے ہوئے اس نے مڑ کر نہیں دیکھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ درخت کی دوسری جانب پہنچا تو ہاتھی عین اسی جانب سے گزر رہا تھا۔ ہاتھی نے اسے وہیں کچل کر ہلاک کر دیا۔

مسٹر والیٹ بھی اسی طرح بدمعاش ہاتھی کے شکار میں ہلاک ہوا۔ اس ہاتھی کو کچھ روز بعد کیپٹن گیلوے اور اینسائن سکروجز نے مل کر شکار کیا اور اس دوران خود بھی ہلاک ہوتے ہوتے بچے۔ چند برس قبل مسٹر کین بھی اسی طرح ایک بدمعاش ہاتھی کا شکار ہوا۔ اس نے ہاتھی پر گولی چلائی مگر اسے گرا نہ سکا اور ہاتھی نے فوراً سر پر پہنچ کر اسے کچل دیا۔ بدمعاش ہاتھی کے بارے میں سب سے عجیب واقعہ مجھے ڈولانا کے رتمہاتما نے سنایا تھا جو اس کے بچپن کا واقعہ ہے۔ میں اسے سو فیصد درست نہیں مانتا مگر ذیل میں اس کے اپنے الفاظ میں اس کہانی کو ’رتمہاتما کی کہانی‘ کے عنوان سے بیان کرتا ہوں تاکہ مجھ پر غلط بیانی کا الزام نہ لگے۔ تاہم یاد رہے کہ اس کہانی کی تصدیق اس گاؤں کے تمام معمر افراد نے مِن و عَن کی تھی۔

رتمہاتما کی کہانی

 

آج سے تیس برس قبل ڈولانا میں ایک مشہور بدمعاش ہاتھی تھا جس کے غیض و غضب کی داستانیں پھیلی ہوئی تھیں اور جھیل کے کنارے جنگل ایک ٹکڑا اس کی ملکیت تھا۔ اس نے ۸ یا ۹ آدمی ہلاک کیے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا واحد مقصد مقامیوں کی تباہی تھا۔ اس کی جسامت بہت بڑی تھی اور ماتھے پر گلابی رنگ کا ایک دھبہ تھا جیسے کچا گوشت ہو۔

ان دنوں وہاں کسی کے پاس آتشیں اسلحہ نہ تھا، سو انسانی جان ہو یا مال اسباب، بچاؤ نا ممکن تھا۔ رات کے وقت یہ ہاتھی چاول کے کھیت پر ہلہ بولتا اور نگرانی کے لیے بنائی گئی مچانوں کو اکھاڑ پھینکتا اور جلتے ہوئے الاؤ بھی اسے نہ روک پاتے۔ مچانوں کو اکھاڑنے کے بعد الاؤ پر مٹی پھینک کر انہیں بھی بجھا دیتا۔ ہاتھی کی دہشت اتنی بڑھ گئی کہ اس کی رہائش کے قرب و جوار کے لوگ اس کی دہشت سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

آخرکار کئی ماہ تک یہ ہاتھی غائب ہو گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ اس پر چلائے گئے زہریلے تیر شاید کام کر گئے ہوں کہ مچانوں پر بیٹھے آدمی اکثر اس پر زہر میں بجھے تیر چلاتے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ اس کو بھول گئے۔

ایک روز شام کو مغرب سے ایک گھنٹہ قبل بیس عورتیں گاؤں کے پاس جھیل کے کنارے گھاس اور سرکنڈے کاٹ کر بنڈل بنا رہی تھیں اور آپس میں ہنسی مذاق کرتی جا رہی تھیں۔ اس گھاس سے چٹائیاں بنائی جاتی تھیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ گاؤں کا رخ کرنے ہی والی تھیں کہ اچانک ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی اور اچانک انہیں وہی بدمعاش ہاتھی دکھائی دیا جس کے ماتھے پر گلابی رنگ کا نشان تھا۔ ہاتھی پوری رفتار سے ان کی سمت بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔ زمین بالکل مسطح تھی اور کئی سو گز تک درخت نہیں تھے۔ البتہ ہاتھی جس سمت سے آ رہا تھا، اس سمت کچھ درخت تھے۔ عورتیں چیخنے لگیں اور بھگدڑ مچ گئی۔ چند لمحوں میں ہاتھی ان کے درمیان پہنچ گیا اور سونڈ سے ایک کم عمر لڑکی کو پکڑ کر ہوا میں اٹھا لیا۔ پھر اس نے چند لمحے شاید سوچا کہ اس لڑکی کے ساتھ کیا کرے۔ اس دوران لڑکی بیچاری چلاتی رہی مگر کون اس کی مدد کو آتا۔ سبھی خواتین جنگل کا رخ کر چکی تھیں اور محفوظ جگہ پہنچ کر اپنی بدقسمت ہمراہی کا انجام دیکھ رہی تھیں۔

ان کی دہشت کا اندازہ کیجیے کہ ہاتھی نے اچانک لڑکی کو زمین کے قریب لا کر پھر اس طرح اٹھایا کہ لٍڑکی کا سر اس کے منہ کے قریب تھا۔ پھر اس نے لڑکی کے سر کو منہ میں ڈال کر چبایا تو کڑاکے کی آواز آئی۔ ہاتھی لڑکی کی کھوپڑی کو چبا رہا تھا۔ پھر اس نے سر کو دھڑ سے نوچ کر کھایا اور پھر لاش پر پیر رکھ کر اس کے بازو اور ٹانگیں اکھاڑ کر پوری لاش کھا گیا۔

خواتین نے گاؤں کا رخ کیا اور سب کو یہ غیرفطری بات بتائی۔

ڈولانا اور اس کے آس پاس کے دیہات ہاتھیوں کو پکڑنے کے ماہر مانے جاتے تھے اور اس بدقسمت لڑکی کا شوہر بہترین شکاریوں میں سے ایک تھا۔ یہ لوگ ہاتھی پکڑ کر عرب تاجروں کو بیچ دیتے تھے جو انہیں ہندوستانی حکومت کو فروخت کرتے تھے۔

اس خونی واقعے کی اطلاع آس پاس کے سبھی دیہاتوں تک پہنچ گئی اور اس ہاتھی کی ہلاکت کے انتظامات شروع ہو گئے۔

لڑکی کی ہلاکت کے بعد ہاتھی کی قیام گاہ جنگل کا ایک چھوٹا سا قطعہ تھا جس کے چاروں طرف کھلا میدان اور نرم گھاس تھی۔ زمین ریتلی مگر مسطح تھی۔

چند روز بعد ہاتھی کی ہلاکت پر کمربستہ ایک سو ماہر شکاری ڈولانا پہنچ گئے۔ یہ سب شکاری بچپن سے ہی ہاتھیوں کا شکار کرتے آئے تھے اور خطرات سے بخوبی واقف تھے۔ بعض شکاریوں کے پاس انتہائی تیز دھار کلہاڑیاں تھیں، بعض نے لمبے نیزے اٹھائے ہوئے تھے اور بعض کے پاس ہرن کی کچی کھال سے بنائی گئی بل دار رسیاں تھیں۔ ہر ٹولی کی خاص ذمہ داری تھی۔

یہ سب لوگ جمع ہو کر ہاتھی کی قیام گاہ کے قریب پہنچے۔ ہاتھی ان کی آمد سے باخبر ہو کر سو گز کی دوری سے ان پر چڑھ دوڑا۔ جنگ شروع ہو گئی۔ نیزہ بردار آگے تھے اور انہوں نے ہاتھی کی سمت دوڑ لگا دی۔ سو بندوں کا شور و غل بھی ہاتھی کو نہ روک سکا اور ہاتھی بڑھتا چلا آیا۔ بیس گز کی دوری پر نیزہ برداروں نے واپس مڑ کر دوڑ لگا دی جو پہلے سے طے تھا۔ ہاتھی کلہاڑی بردار دائیں اور بائیں جتھے کے درمیان سے گزرا جو فوراً اس کے پیچھے لگ گئے۔ سب سے آگے متوفیہ لڑکی کا شوہر تھا جس نے کلہاڑی کے ایک ہی وار سے ہاتھی کے پچھلے پیر کے ٹخنے کی نس کو کاٹ دیا (اس کتاب کے لکھے جانے کے بعد میں نے ہاتھیوں کے شکار کا یہی طریقہ مصر میں بھی دیکھا تھا جہاں تلوار سے شکاری اس طرح ہاتھی کی نس کاٹ کر اسے بیکار کر دیتے تھے۔ اس بارے میں "Nile Tributaries of Abyssinia” میں تفصیل بیان کر چکا ہوں)۔ نس کٹتے ہی ہاتھی گھٹنے کے بل گرا مگر فوراً سنبھل کر حملہ آوروں کی طرف مڑنے کی کوشش کی۔ عین اسی لمحے درجن بھر کلہاڑیاں اٹھیں اور ہاتھی کی دوسری پچھلی ٹانگ کی نس کٹ گئی۔ ایک لمحے میں ہاتھی کی دونوں پچھلی ٹانگیں بیکار ہو چکی تھیں اور ہاتھی وہیں بیٹھ گیا مگر غصے سے چنگھاڑنے لگا۔ اب رسی برداروں نے رسی کے پھندوں سے ہاتھی کی سونڈ اور سر کو جکڑ لیا۔ پچاس آدمی مل کر بمشکل ہاتھی کی سونڈ کو قابو کر سکے۔ تیز دھار نیزے ہاتھی کی پہلو میں اترنے لگے اور کئی نڈر شکاری اس کی پیٹھ پر سوار ہو گئے۔ متوفیہ کے شوہر نے کلہاڑی کے کئی وار کر کے ہاتھی کی گدی پر اس کی ریڑھ کی ہڈی کاٹ دی۔ جونہی حرام مغز کٹا، ہاتھی وہیں گر کر مر گیا۔ اس جنگ میں ایک بھی انسان ہلاک نہ ہوا۔

مقامی آدمی کہتے ہیں کہ یہ ہاتھی پاگل ہو چکا تھا اور شاید اسی وجہ سے اس لڑکی کو کھایا تھا۔ ہاتھی اور جنگلی بھینسے محض طیش میں آ کر حملہ کر سکتے ہیں مگر ان کا مطمع نظر انسانی گوشت سے پیٹ بھرنا نہیں ہوتا۔ اگرچہ نمبردار اس کہانی کی صداقت کی قسمیں کھاتا ہے مگر مجھے اس بات پر یقین نہیں کہ ہاتھی نے انسانی گوشت کھایا ہو گا۔ یہ ممکن ہے کہ ہاتھی نے اس کا سر نوچ کر الگ کر دیا ہو اور باقی عضو بھی اکھاڑ ڈالے ہوں مگر یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ ہاتھی نے اسے کھایا بھی ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

باب ۶

 

 

ویدا نامی علاقے کا انتہائی شمالی حصہ ڈولانا کہلاتا ہے جو پورے سیلون کی بہترین شکارگاہ ہے۔ آج بھی (جب یہ کتاب لکھی گئی) یہاں بہت کم یورپی شکاری آتے ہیں۔ کبھی کبھار ویدا قبائلی اپنے تیر کمان سمیت ہرن وغیرہ کی تلاش میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں مقامی بندوں نے کبھی بارودی اسلحہ نہیں چلایا اور جانور محتاط نہیں ہوئے۔ میں نے اس بہترین شکاری علاقے کا چپہ چپہ چھانا ہوا ہے اور اس سے جب پوری طرح واقفیت ہوئی تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں صرف یہیں شکار کروں گا۔ سیلون کے دیگر مقامات کی نسبت یہ علاقہ کھلا ہے اور انتہائی جنگلی حالت میں موجود ہے۔

ویدا کا یہ علاقہ شمال سے جنوب ۸۰ میل لمبا جبکہ مشرق سے مغرب ۴۰ میل چوڑا ہے۔ اس کے شمالی سرے پر ایک مشہور پہاڑ ہے جسے انگریزی میں ’گنرز کوائن‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے ۴۰ میل کے فاصلے تک آپ کسی قسم کی انسانی علامات نہیں پائیں گے۔ یہ سارا علاقہ جنگلی ہے اور یہاں کے مقامی آدمی ویدا ہیں جو جانوروں کی طرح رہتے ہیں اور ان کا نہ تو کوئی گھر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قانون یا مذہب۔

ان لوگوں کی عادات و خصائل کے بارے میں میں نے بہت عجیب داستانیں سنی ہیں جو ظاہر ہے کہ سنی سنائی باتوں پر مشتمل تھیں اور حقیقت سے شاید ان کا کوئی واسطہ نہ ہو۔ عام خیال ہے کہ یہ لوگ جنگل میں درختوں پر رہتے ہیں اور عام آدمی انہیں دیکھ کر بندر یا دیگر جانور سمجھتے ہیں۔ جس آدمی نے پہلے پہل ان کی درختوں پر بنی ’جھگیاں ‘ دیکھیں، اگر وہ ذرا سا بھی تحقیق کرتا تو پتہ چل جاتا کہ یہ عارضی مچانیں ہیں جو ان لوگوں نے اپنی جوار کی فصل کو جنگلی جانوروں سے بچانے کے لیے بنائی ہیں۔ درختوں پر تو کیا رہنا، ان کی کوئی مستقل رہائش گاہ نہیں ہوتی اور اس خوبصورت دھرتی میں شکار کی تلاش میں پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ موسم کی مناسبت سے ان کا شکار بھی بدلتا رہتا ہے۔ سیلون جیسے چھوٹے سے جزیرے پر موسم کافی بدلتا ہے۔ ایک علاقے کا مرطوب موسم دوسرے کا خشک موسم ہوتا ہے۔ جہاں خشک موسم ہو تو وہاں گھاس وغیرہ سوکھ جاتی ہے اور ندی نالے بھی خشک ہو جاتے ہیں۔ ویدا ایسے ندی نالوں میں پانی والے مقامات کی تاک میں رہتے ہیں جہاں تھوڑا سا بھی پانی ہو کہ ہر قسم کی جنگلی حیات انہی جگہوں سے پانی پینے آتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کے چوڑی انیوں والے تیر کام آتے ہیں۔ جانور کو شکار کرنے کے بعد اس کے گوشت کی لمبی لمبی پٹیاں بنا کر دھوپ میں خشک کر کے پھر کسی کھوکھلے درخت کے تنے میں یہ مزیدار گوشت رکھ کر اس میں جنگلی شہد بھر دیتے ہیں اور پھر گیلی مٹی سے سوراخ بند کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔

جب پانی کا آخری قطرہ تک خشک ہو جائے تو ہرن پہاڑی علاقوں کو چلے جاتے ہیں جہاں پانی اور چارہ عام ہوں۔ ویدا کو خشک گھاس جہاں ملے، اسے جلا دیتے ہیں۔ جلد ہی پورا علاقہ سیاہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ تاہم بارشوں کے فوراً بعد یہاں بہت خوبصورت اور مزیدار گھاس اگ آتی ہے۔ پھر ہرن اور ویدہ، دونوں ہی اس علاقے کو لوٹ آتے ہیں۔ جب ویدا اپنے علاقے سے نکلتے ہیں تو جہاں غاریں ملیں تو غاروں میں ورنہ گھاس پھونس کی جھگیاں بنا کر عارضی طور پر رہتے ہیں۔

ہرنوں کی گزرگاہیں، ہر چٹان، ہر قابلِ ذکر مقام، پانی کے تالاب وغیرہ کا ویدا کو علم ہوتا ہے اور ہاتھیوں کے شکار کے لیے ان سے بہتر مددگار اور کوئی نہیں۔ جہاں گورے آدمی کے لیے سخت زمین پر ہاتھی کے پیر کا نشان دکھائی نہ دیتا ہو، وہاں یہ آدمی پوری رفتار سے دوڑتے ہوئے ان نشانات کا پیچھا کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کی آبادی زیادہ نہیں ورنہ قابلِ شکار جانور نہ بچتے۔

یہ لوگ تیندوے کی طرح گھات لگاتے ہیں اور شکار سے دس قدم کے فاصلے پر پہنچ کر اس پر تیر چلاتے ہیں۔ اس فاصلے سے بھلا کس کا نشانہ خطا جائے گا۔ اگر جانور زخمی بھی ہو جائے تو یہ اس کا پیچھا پاتال تک کرتے ہیں۔ تاہم ان کا نشانہ بہت برا ہوتا ہے اور چونکہ یہ محض دس قدم کے فاصلے سے تیر چلاتے ہیں، سو ان کے نشانے میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔

تیر کمان سے اجنبیت کے باوجود میں نے کئی مرتبہ ان کے ساتھ ساٹھ گز کے فاصلے پر مقابلہ کیا ہے اور ان کے بنائے ہوئے ہتھیار سے انہیں ہرایا ہے۔ ان کی کمانیں چھ فٹ لمبی اور ہلکی مگر لچکدار لکڑی سے بنی ہوتی ہیں اور چلہ ایک خاص درخت کی چھال کو کوٹنے اور چکنائی میں ڈبونے کے بعد بل دے کر بنایا جاتا ہے۔ تین فٹ لمبے تیر اور کمان والی لکڑی سے بنے ہوتے ہیں۔ تیر کی انی سات انچ لمبی اور پتلی ہوتی ہے۔ تیر کے پیچھے مور کے تین چھوٹے پر لگے ہوتے ہیں۔

ویدا انتہائی بدصورت، پست قامت اور انتہائی دبلے ہوتے ہیں اور ان کے لمبے اور بکھرے بال ان کی پشت تک آتے ہیں اور انسانی بال کی بجائے گھوڑے کی دم والے بال دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں پیسوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی مگر چاقو، کلہاڑی، شوخ رنگوں کے کپڑے یا پیتل کے برتن بہت پسند کرتے ہیں۔

ان کی عورتیں انتہائی بدصورت ہوتی ہیں اور کپڑوں کے نام پر ایک دھجی سے شرمگاہ ڈھانپی ہوتی ہے۔ ان کے ہاں شادی کا رواج نہیں اور بچے انتہائی غلیظ اور قابلِ رحم دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہ لوگ انتہائی خوش رہتے ہیں اور اپنی موجودہ آزاد زندگی جینے کو دیگر سہولیات پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی اپنی زبان ہوتی ہے اور ان کی عادات جنگلی جانوروں سے زیادہ مماثل ہوتی ہیں اور یہ لوگ سنہالیوں سے الگ رہتے ہیں۔ یہ لوگ ہرنوں کے سینگ اور شہد کے چھتوں کا گشتی تاجروں سے تبادلہ کرتے ہیں اور اپنی معمولی ضرورت کی کوئی چیز لے لیتے ہیں۔ اگر ان کو کچھ کھانے کو مل جائے تو کھا لیتے ہیں، نہ ملے تو صبر کرتے ہیں۔ کھانا نہ ملے تو یہ لوگ مختلف درختوں کی چھال چباتے ہیں اور مختلف بیریاں تلاش کرتے رہتے ہیں اور اپنے ذخیرہ شدہ ہرن کا گوشت اور شہد تلاش کرتے ہیں۔

میں نے پہلی بار سیلون کے شمال میں ویدا کو دیکھا تھا۔ گنرز کوائن سے چھ میل دور پانی اور کیچڑ کے ایک چھوٹے سے تالاب میں ایک بدمعاش ہاتھی نہا رہا تھا۔ اس مقام سے چند گز ہی دور ویدا نے جنگلی سور شکار کیا تھا اور اس کے گوشت کو دھواں دے رہا تھا کہ اس نے ہاتھی کی آواز سنی۔ اسے علم تھا کہ میں ایک میل دور کیمپ لگائے ہوئے ہوں۔ سو اس نے فوراً مجھے خبر پہنچائی۔

جب میں اس تالاب کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ہاتھی اتنے گہرے کیچڑ میں تھا کہ اس کے لیے چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ اس کا رخ میرے مخالف سمت کو تھا۔ تالاب محض تیس گز چوڑا تھا اور اس کے چاروں طرف ناقابلِ عبور جنگل تھا۔ واحد راستہ وہی تھا جہاں میں کھڑا تھا۔ سو میں نے ہاتھی کی توجہ اپنی جانب کرنے کے لیے تالی بجائی۔ ہاتھی نے آہستہ سے رخ موڑا۔ اسی دوران میں نے ایک ہی گولی سے اسے گرا دیا۔ یہ ہاتھی مونم پٹیا کے تالاب کے بدمعاش ہاتھیوں میں سے ایک تھا مگر اس گہرے کیچڑ میں اس کے بچنے کا کوئی امکان نہ تھا۔

سیلون کا سب سے بڑا ہاتھی میں نے اسی علاقے میں شکار کیا تھا۔ ایک روز سہ پہر کو پانچ بجے میں خوبصورت میدان میں پہنچا جو مونم پٹیا سے بارہ میل دور ہے۔ اس جگہ خوبصورت جھیل اور عمدہ گھاس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شکار کی کوئی کمی نہ ہو گی۔ اس کے علاوہ یہ مقام الگ تھلگ تھا اور قلی میرے ہمراہ ہی تھے، سو انہیں خیمہ گاڑنے کے لیے مناسب جگہ بتا کر میں چہل قدمی کو نکل کھڑا ہوا۔ میرے خیمے والی سمت خشکی کا ایک ٹکڑا پانی کے اندر کئی سو گز تک چلا گیا تھا۔ مجھے علم تھا کہ پانی میں نہانے کے بعد ہاتھی ہمیشہ قریب ترین خشکی کا رخ کرتے ہیں۔ سو میں خشکی کے اسی ٹکڑے پر چل پڑا۔

موسم بہت خشک تھا اور زمین پر دو دو فٹ گہرے گڑھے بنے ہوئے تھے جو ظاہر ہے کہ اس وقت بنے ہوں گے جب پانی یہاں تک تھا اور ہاتھی یہاں سے گزرتے تھے۔ اب سورج کی حدت سے زمین خشک ہو کر جگہ جگہ چٹخ گئی تھی۔ کئی بڑے درخت اور چند جھاڑیاں بھی دکھائی دے رہی تھیں اور گہری دراڑوں کی وجہ سے چلنا دشوار تھا۔ اس قطعے کے انتہائی سرے سے پچاس گز پہلے ایک بڑا درخت تھا اور اسی قسم کا دوسرا بڑا درخت کنارے کے قریب تر تھا۔ دونوں درختوں پر خشک کیچڑ کی موٹی تہہ تھی جو چند گھنٹے پرانی دکھائی دے رہی تھی۔ ان جگہوں پر درخت کی چھال رگڑ کی وجہ سے اتر چکی تھی جیسے ہاتھی کئی برسوں سے ان درختوں سے اپنا جسم رگڑ رہے ہوں۔ درخت پر کیچڑ بارہ فٹ اونچائی تک موجود تھا اور اس سے بھی اوپر کئی جگہوں پر ہاتھی دانت کے نشانات موجود تھے۔ یہ بات واضح تھی کہ یہ بدمعاش ہاتھی جو بہت بڑی جسامت کے تھے، کئی برسوں سے یہاں سے گزر رہے تھے۔ جہاں گیلی مٹی تھی، وہ شاید اسی روز صبح ہاتھیوں کے گزرنے کی علامت تھی۔ مجھے ان کی موجودگی کا اندازہ تھا اور میرے پاس دوربین تھی۔ میں نے مخالف سمت کا بغور جائزہ لیا اور نصف میل دور مجھے دوسرے کنارے پر مجھے عمدہ اور کھلا جنگل دکھائی دیا۔ تاہم کوئی جانور دکھائی نہ دیا۔ میں نے دوسری جانب دیکھا مگر ناکامی ہوئی۔ یہ پرسکون مقام خوبصورت گھاس اور پانی سے بھرا ہوا تھا مگر ایک بھی جنگلی جانور نہ دکھائی دیا۔ میں نے ایک بار پھر مخالف کنارے کا جائزہ لیا۔ جونہی دوربین اس سمت اٹھی، جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر ہاتھی ظاہر کر دیا ہو۔ اتنا بڑا ہاتھی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا مگر یہ ہاتھی جھیل کے کنارے تیز قدموں سے آ جا رہا تھا۔ یہ بدمعاش ہاتھیوں کی علامت ہوتی ہے۔ میں نے اسے چند منٹ تک دیکھا اور آخرکار ہاتھی پانی میں گھس گیا اور سونڈ میں پانی بھر کر اپنے شانوں پر ڈالنے لگا۔ پھر اس نے جھیل کے وسط کا رخ کیا اور کنول کے پودے اکھاڑ کر کھانے لگا۔

سہ پہر بہت خاموش اور ہوا تھمی ہوئی تھی۔ مجھے ڈر ہوا کہ قلیوں کے شور کی وجہ سے ہاتھی فرار نہ ہو جائے سو میں واپس لوٹا۔ جلد ہی سبھی قلی خاموش ہو گئے اور گھوڑوں کو جنگل میں کچھ دور لے جایا گیا تاکہ ان کے شور سے ہاتھی خبردار نہ ہو۔ اس کے علاوہ سبھی قلیوں کو بھی چھپا کر میں اپنے شکاریوں کے ساتھ لوٹا اور جھیل کے پاس والے بڑے درخت کے پیچھے چھپ گیا۔ دوسرا درخت یہاں سے پچاس گز دور تھا جہاں ہاتھی اپنے جسم رگڑتے تھے۔ میرے ہمراہی شکاری بہت تجربہ کار تھے اور میں ان کے ساتھ بہت مرتبہ شکار کر چکا تھا۔ یہاں کھڑے ہو کر میں ہاتھی کا مشاہدہ کرتا رہا۔ ہاتھی کبھی پیٹ بھرتا تو کبھی چلتا۔ اس کی حرکات و سکنات سے عجیب شیطنت ٹپک رہی تھی۔ آخرکار ہاتھی نے پانی سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور سیدھا مجھ سے پچاس گز دور والے درخت کا رخ کیا۔

اب دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی کہ میرے ساتھ کوئی نہیں تھا اور مجھے اپنی رائفل پر بھروسہ کرنا تھا کہ زمین اتنی کٹی پھٹی تھی کہ فرار ممکن نہ تھا۔ مجھ پر جوش طاری ہو رہا تھا جو ہاتھی کا پیچھا کرتے ہوئے شروع ہوتا ہے اور ہاتھی پر گولی چلائے جانے پر ختم ہوتا ہے اور انسان پرسکون ہو جاتا ہے۔ اس وقت مجھے دل حلق میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا اور دونوں بندوق بردار جوش سے کپکپا رہے تھے کہ ان لوگوں کو ہاتھی سے ڈر نہیں لگتا۔

یہ ہاتھی سچ مچ جنگلی جانوروں کا سردار تھا۔ اس نے سیدھا اسی درخت کی سمت پیش قدمی جاری رکھی۔ اچانک ہاتھی ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا اور اس کی سونڈ کا سرا ہمیں پانی کے اوپر لہراتا دکھائی دیا۔ شاید چند گز کے لیے گہری کھاڑی آ گئی ہو گی۔ پھر ہاتھی دوبارہ نمودار ہوا اور اس درخت کے قریب پہنچ گیا۔ اس ہاتھی کے جثے کے پیشِ نظر یہ بات نا ممکن لگ رہی تھی کہ اسے ایک گولی کافی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس کا سر اور جسم بہت بڑے تھے مگر اس کی ٹانگیں بھی غیر متناسب لمبی لگ رہی تھیں۔ پھر اس نے چند لمبے لمبے ڈگ اٹھائے اور درخت کے نیچے پہنچ کر اپنا جسم رگڑنے لگا۔ اسے اپنے قریب دشمن کی موجودگی کا ذرا بھی اندازہ نہیں ہو سکا۔

جسم رگڑنے کے بعد اس نے سونڈ سے گھاس کے چند مٹھے توڑے مگر کھانے کی بجائے انہیں اپنی پشت اور پہلوؤں پر مارنے لگا۔ میں ڈرا کہ کہیں گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز نہ آ جائے کہ وہ اس مقام سے محض دو سو گز دور تھے۔ تاہم گھوڑوں اور قلیوں کی جانب سے خاموشی رہی۔ چھپے ہوئے قلی پھولی سانسوں کے ساتھ ہمیں دیکھ رہے تھے۔

پھر کچھ دیر ہاتھی نے قدموں سے مٹی اکھاڑ کر اپنے اوپر پھینکی اور پھر اس نے جھیل کنارے کا رخ کیا۔ اس کی رفتار تیز تھی۔ میں درخت کے پیچھے اس طرح گھومتا رہا کہ ہاتھی کو دکھائی نہ دوں۔ ہاتھی میرے سامنے سے ترچھا گزرنے لگا تو ہمارا فاصلہ تیس گز کا تھا۔ اس مقام پر پہنچ کر اچانک ہاتھی رکا، کان اس کے جسم کے ساتھ لگے اور دم اور سونڈ اٹھا کر اس نے سیدھا اس درخت کی جانب دیکھا جہاں میں چھپا ہوا تھا۔ ہاتھی اس حالت میں چند لمحے کھڑا رہا۔ میں نے چار اونس والی رائفل تیار رکھی مگر گولی نہیں چلائی۔ پھر اس نے میری سمت بڑھنا شروع کیا۔ اب میرے پاس وقت کم تھا کہ ہاتھی کو میری موجودگی کا علم ہو چکا تھا۔ اٹھی ہوئی سونڈ کی وجہ سے ماتھے پر گولی چلانا ممکن نہ تھا۔ ایک مرتبہ جب ہاتھی کا سر تھوڑا مڑا تو میں نے اس کی کنپٹی پر گولی چلا دی۔ گولی لگتے ہی ہاتھی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور پھر نہ ہلا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور اتنی چمک رہی تھیں کہ میں نے اس کی آنکھوں میں انگلی چبھو کر دیکھا کہ واقعی وہ مر چکا ہے۔ ہمارا درمیانی فاصلہ بتیس قدم تھا اور گولی ایک کنپٹی پر لگی اور دوسری جانب سے نکل گئی۔ چونکہ ہاتھی بیٹھی حالت میں تھا، سو میں نے اس کی پشت پر ایک قلی چڑھایا جس نے سیدھی لکڑی کو اس کی پشت پر رکھا۔ میں اپنی بلند قامت کے باوجود انگلیوں سے اس لکڑی کو بمشکل چھو سکتا تھا۔ اس طرح بیٹھی حالت میں بھی ہاتھی کی اونچائی ۷ فٹ ۲ انچ تھی۔ اگر یہ ہاتھی کھڑا ہوتا تو ریڑھ کی ہڈی پر اس کی اونچائی بارہ فٹ سے زیادہ ہوتی اور شانے ساڑھے گیارہ فٹ اونچے۔ اگر میری پہلی گولی اسے گرانے میں ناکام رہتی تو مجھے اس سے پیچھا چھڑانے میں بہت مشکل پیش آتی کہ ہاتھی مجھ پر حملہ آور ہو چکا تھا۔

ان ہاتھیوں کا سامنا کرتے وقت چار اونس والی رائفل بہترین رہتی ہے اور اگر گولی مہلک نہ بھی ثابت ہو تو بھی اتنا دھکا پہنچاتی ہے کہ ہاتھی وہیں رک جاتا ہے۔ یہ رائفل ایک یا دو مرتبہ ہاتھی کو گرانے میں ناکام رہی مگر وہ بھی اس صورت میں کہ جب میں نے مخروطی گولی بھری تھی۔ مخروطی گولی گول شکل والی گولی سے زیادہ دور تک گھستی ہے مگر ہاتھی کے شکار کے لیے گول شکل والی گولی ہی بہترین ہے۔ وجہ سادہ سی ہے۔ گولی جب تک ہاتھی کے دماغ کے نہ پار ہو، اس کے سر پر چلائی گئی گولی بے کار جاتی ہے چاہے وہ ایک اونس وزنی گولی ہو یا پھر چھ پاؤنڈ وزنی۔ جب ہاتھی سونڈ اور سر اٹھا کر حملہ کرتا ہے تو اس کے دماغ تک گولی کا پہنچنا ممکن نہیں رہتا۔ پھر گولی تبھی فائدہ دیتی ہے جب اس سے ہاتھی کو دھکا پہنچے۔ دھکے کے معاملے میں مخروطی شکل کی بجائے گول شکل والی گولی زیادہ موثر ہے کہ زیادہ بڑا رقبہ ٹکراتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ پتلی نوک والی تلوار سے آپ کسی کے بازو کو چھیدنے کی کوشش کریں اور پھر یہی کام کسی لاٹھی کے سرے سے کریں۔ پتلی نوک والی تلوار گوشت میں ترازو ہو جائے گی مگر لاٹھی سے کافی دھکا پہنچے گا۔ سو مخروطی گولی ہاتھی کے سر سے ہو کر شانوں تک پہنچ جائے گی مگر وہ اثر نہیں ہو گا جو گول شکل والی گولی کرے گی۔ جنگلی بھینسے کے شکار کے لیے مخروطی گولی کو ترجیح دی جانی چاہیے مگر اس کے ساتھ بارود کی بھاری مقدار بھی لازم ہے کہ اس طرح گولی جنگلی بھینسے کے ایک سرے سے داخل ہو گی اور دوسرے سے نکل جائے گی۔ جنگلی بھینسے کافی خطرناک ہوتے ہیں اور ہلکی بندوق سے مہلک زخم کھا کر بھی شکاری کا تیاپانچہ کر سکتے ہیں اور پھر زخم کے اثر سے کچھ دیر بعد خود بھی گر کر مر جائیں گے۔

افریقہ میں شکار کے لیے مخروطی شکل کی چار اونس والی گولی کو ہاتھی کے شانے پر چلایا جائے۔ سیلون میں جنگل اتنا گھنا ہوتا ہے کہ ہاتھی کے شانے پر گولی چلانے کا بہت ہی کم موقع ملتا ہے۔ اگر گولی چلا بھی دی جائے تو یہ مہلک تو ثابت ہوتی ہے مگر ہاتھی فوراً نہیں گرتا اور لٹکے کانوں اور لٹکی ہوئی سونڈ کے ساتھ ہاتھی فرار ہو جاتا ہے۔ میں نے سر کے علاوہ شانے کی گولی سے محض ایک بار سیلون کا ہاتھی موقعے پر گرایا تھا جو چھوٹا نر تھا اور اپنے غول کے ہمراہ ایک گھنے اور خار دار جنگل میں تھا۔ یہاں کئی چٹانیں تھیں جن پر کھڑا ہو کر میں نیچے کی سمت جنگل میں دیکھ سکتا تھا۔ ایسی ہی ایک چٹان پر چڑھ کر میں نے جب نیچے دیکھا تو قریب سے گزرتے ہوئے ہاتھیوں کے جھنڈ پر نظر پڑی اور میں نے اس ہاتھی پر نیچے کی سمت شانوں کے بیچ گولی چلائی تو ہاتھی وہیں گر گیا۔ جنگل اتنا گھنا تھا کہ اس ہاتھی کا سر دکھائی نہ دیا سو میں نے شانوں کا نشانہ لیا۔ تاہم یہ شانے پر گولی چلائے جانے کی عمدہ مثال نہیں کہ میں نے بلندی سے نیچے کی سمت شانوں کے درمیان گولی چلائی تھی اور گولی ہاتھی کے جسم کے پار ہو گئی تھی۔

ایک بار میں نے چار اونس والی رائفل سے گولی چلائی جو اس گولی کی طاقت کی عمدہ مثال تھی۔ میں مینیریا کے کنارے شکار کھیل رہا تھا اور جنگلی بھینسوں کا عمدہ شکار کیا تھا کہ اچانک مجھے کافی دور ان کا بڑا غول دکھائی دیا جو ایک ہی جگہ کھڑا ہو کر اپنے قریب کسی چیز کو بغور دیکھ رہا تھا۔ میں گھوڑے پر سوار تھا، سو اس جانب رخ کیا۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ دو بڑے جنگلی بھینسے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ اس لڑائی کی وجہ سے ہی باقی ریوڑ انہیں دیکھ رہا تھا جو میری آمد پر بھاگ نکلا۔ دونوں نر اتنے مشتعل تھے کہ جب میں ان سے پچاس گز دور پہنچا تو انہوں نے مجھے دیکھا۔ دونوں نروں کے سینگ پھنسے ہوئے تھے اور وہ ایک ہی جگہ کھڑے تھے۔ ایک دوسرے سے سینگ چھڑانے کی کوشش کرتے کرتے وہ بری طرح پھنس چکے تھے اور پہلو بہ پہلو کھڑے تھے۔ میں نے اپنے قریب والے بھینسے کے شانے پر گولی چلائی تو دونوں گر گئے۔ دونوں کے گرنے کی وجہ سے ان کے سینگ چھوٹ گئے اور دوسرا نر کھڑا ہو کر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ قریبی بھینسا مر چکا تھا۔ سو میں نے گھوڑا اسی جانب دوڑایا۔ دوسرے بھینسے سے پچاس گز دور پہنچا تو دیکھا کہ اس کے منہ سے خون جاری تھا اور پھر وہ گر کر مر گیا۔ میری چلائی ہوئی گولی پہلے بھینسے کے پار ہوئی اور پھر دوسرے کے شانے کو توڑتی ہوئی جسم سے گزر کر دوسرے پہلو کی کھال کے نیچے پہنچ کر رک گئی۔ میں نے چاقو سے چیرا لگا کر کھال کے نیچے سے گولی نکال لی۔

میں نے نر بھینسوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بہت شدت سے لڑائی کرتے دیکھا ہے۔ ایسے موقع پر جنگلی بھینسے بہت مشتعل ہوتے ہیں اور لڑائی کی وجہ سے ان کا غصہ اور بھی بڑھا ہوتا ہے۔ ایک بار ایک مینیریا سے ایک جنگلی ہاتھی کا تعاقب مجھے جنگل میں لے گیا جہاں کچھ فاصلے پر ایک جنگلی بھینسا اس طرح میری سمت بڑھتا دکھائی دیا جیسے وہ میرا راستہ کاٹنا چاہتا ہو۔ جب وہ قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پہلو پر زخم تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔ شاید وہ کسی اور نر سے لڑائی کر کے آ رہا تھا۔ ہاتھی کی وجہ سے میں اس پر گولی چلانے سے ہچکچا رہا تھا مگر پیچھا چھڑانا بہت مشکل تھا۔ پچاس گز دور پہنچ کر جنگلی بھینسا رکا اور زمین پر کھر مارنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ حملہ کرنا چاہتا ہے۔ میں نے مشکل سے پیچھا چھڑایا مگر سوچ لیا کہ اگر میری واپسی پر یہ جنگلی بھینسا یہیں ہوا تو میں اس سے دو دو ہاتھ کروں گا۔

جب میں ہاتھی کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک گہرے تالاب کے وسط میں کھڑا تھا جس کے اردگرد بہت گھنا جنگل تھا۔ اس پر گولی چلانے کا امکان نہ تھا کہ وہ ڈیڑھ سو گز دور تھا۔ میں نے اسے باہر نکالنے کے لیے بہت کوششیں کیں مگر ناکام رہا۔ شاید یہ ہاتھی لڑائی کا شوقین نہ تھا۔ سو میں ایک درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور اس پر چار اونس والی گولی شانے کے وسط میں ماری۔ ہاتھی کے کان اور سونڈ لٹک گئے مگر اس سے زیادہ اثر نہ ہوا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد میں نیچے اترا اور خیمے کی سمت چل پڑا۔ مجھے یقین تھا کہ جنگلی بھینسا وہیں ملے گا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ وہ اسی جگہ کے قریب ہی موجود تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے پیش قدمی کی کہ اسے میرے بارے میں غلط فہمی ہوئی تھی کہ ایک گھنٹہ قبل وہ اپنی طرف سے مجھے بھگا چکا تھا۔

فوراً حملہ کرنے کی بجائے جنگلی بھینسا آہستہ آہستہ میری طرف بڑھا۔ پچاس گز کے فاصلے سے میں نے اس پر چار اونس والی گولی چلائی۔ بھینسا گرا مگر پھر فوراً اٹھ کر میری جانب بھاگا۔ خوش قسمتی سے بیس گز پہنچ کر وہ پھر رکا۔ خوش قسمتی اس لیے کہ میرے بندوق بردار نے دو اونس والی لمبی نال کی رائفل بھرنے کے بعد جب مجھے تھمائی تو اس کے ہاتھوں گولی چل گئی۔ رائفل کی نال میرے سر سے چند انچ دور تھی۔ اب میرے پاس بھری ہوئی ہلکی دو نالی بندوق تھی اور بھینسا چند لمحوں میں ہی حملہ کرنے والا تھا۔

بھینسے کے ہونٹوں پر جھاگ دار خون دیکھ کر مجھے تسلی ہوئی کہ گولی پھیپھڑوں سے گزری ہے۔ مگر ہمارا فاصلہ اتنا کم تھا کہ دو یا تین جستوں میں ہی وہ میرے سر پر آ جاتا۔ میں نے بندوق بردار کو اپنی ہلکی دو نالی بندوق دے کر وہیں کھڑا کیا اور خود اپنی دونوں بڑی رائفلیں بھرنے لگا۔ اس دوران بھینسا قدم بقدم بڑھ رہا تھا۔ سنہالی ملازم بھاگنے کے لیے بہانہ تلاش کرتے ہوئے مجھے بار بار بھاگنے کا مشورہ دے رہا تھا۔ میں اتنا مصروف تھا کہ اسے چپ نہ کرا سکا مگر دولتی ماری تو وہ چپ ہوا۔ چند لمحے بعد میری دونوں بڑی رائفلیں تیار تھیں۔ اب بھینسا پندرہ قدم دور تھا اور میں گولی چلانے ہی والا تھا کہ اچانک بھینسا گرا اور مر گیا۔ واحد گولی جو میں نے اس پر چلائی تھی، وہ اس کے پھیپھڑوں سے ہو کر گزری اور کولہے کی کھال کے نیچے جا رکی۔ اس جنگلی بھینسے نے مرتے دم تک ہار نہیں مانی تھی۔

میں نے جنگلی بھینسوں کے حوصلے کے بے شمار واقعات دیکھے تھے اور اب اگر میں ان کو یاد کر کے آدھے واقعات بھی بتاؤں تو ایک پوری کتاب درکار ہو گی۔ یہ واقعات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو علم ہو جائے کہ فطری حالت میں جنگلی بھینسے کا شکار کیسا ہوتا ہے۔ میں ایک سو واقعات ایسے بھی بتا سکتا ہوں کہ جنگلی بھینسے کو مارنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوئی اور پالتو مویشیوں سے بھی زیادہ آسانی سے ان کا شکار ہوا مگر میں ان واقعات کا تذکرہ کرنا پسند کرتا ہوں کہ جو مجھے خود پیش آئے اور جو قاری کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں۔ اگر آپ اس کو باقاعدہ مشغلہ بنا لیں تو کسی ایک جنگلی بھینسے کے واقعے کو اس کی پوری نسل پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ بعض لڑائی کو ترجیح دیں گے تو بعض فرار ہو جائیں گے اور کوئی بھی یہ بات نہیں بتا سکتا کہ جنگلی جانور کیا رویہ اختیار کرے گا۔ احتیاط اور مہارت کے ساتھ ساتھ بھاری رائفل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر خطرناک جانوروں کا باقاعدگی سے شکار کیا جائے اور بھاری رائفل ساتھ نہ ہو تو جلد ہی یہ مشغلہ انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اکا دکا جنگلی بھینسے مارنے والے شکاری عام ہوتے ہیں مگر سیلون میں مجھے ایک بھی شکاری ایسا نہیں ملا جو محض جنگلی بھینسوں کے شکار پر کمربستہ ہو۔ جب تک کوئی شکاری باقاعدہ جنگلی بھینسوں کے شکار پر نہ تیار ہو جائے، اس نسل کا اصل رویہ پوشیدہ رہے گا۔ چند استثنائی واقعات کو چھوڑ کر جنگلی بھینسا کبھی بھی حملے میں پہل نہیں کرتا۔ اس کی فطرت اسے بتاتی ہے کہ کھلے میدان میں اس کی سمت آنے والا آدمی اس کا دشمن ہو گا۔ اگر ان کو زخمی نہ کیا جائے تو عموماً ایسی حالت میں جنگلی بھینسے فرار ہو جاتے ہیں۔ جیسے بہادر انسان خوامخواہ لڑائی نہیں چاہتا، اسی طرح جنگلی بھینسا بھی جب تک مجبور نہ ہو، انسان پر حملہ نہیں کرتا اور جب مجبور کیا جائے تو جان پر بھی کھیل جانے کو تیار ہو جائے گا۔ میرے بیان کردہ کئی واقعات اس کی نفی کرتے دکھائی دیں گے مگر یاد رہے کہ یہ واقعات استثنائی تھے۔ جب جنگلی بھینسا اپنے سر کو جھٹکا دے کر اٹھاتا ہے تو یہ حملے کی علامت محسوس ہوتی ہے مگر جنگلی بھینسا اس کا مظاہرہ کرنے کے بعد فرار کو ترجیح دیتا ہے۔

اگر آپ نر بھینسوں پر حملہ کریں تو جلد ہی ان کا اصل کردار سامنے آ جائے گا۔ بھاری رائفل کے بغیر جنگلی بھینسے کا مقابلہ کرنے والے انسان کی کامیابی کا امکان دس میں سے محض ایک ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ جنگلی بھینسے کے شکار کے لیے عموماً کھلا میدان ہوتا ہے جہاں دور دور تک کوئی درخت نہیں ہوتا۔ جنگلی بھینسے سے زیادہ تیز بھاگنا انسان کے بس کی بات نہیں اور عام گھوڑے کی رفتار بھی شکاری کو بھینسے سے نہیں بچا سکتی۔

اس قسم کے شکار کے مزید لرزہ خیز واقعات سے پہلوتہی کرتے ہوئے میں مینیریا میں شکار کے ایک روز کے واقعات بیان کرتا ہوں جس سے آپ کو بہتر اندازہ ہو گا۔

دھوپ سے بچاؤ کے لیے میرا خیمہ سایہ دار درختوں کے نیچے گاڑا گیا۔ چاروں طرف کھلا جنگل تھا جس میں جگہ جگہ خوبصورت گھاس کے میدان اور تا حدِ نگاہ پھیلی ہوئی جھیل بھی دکھائی دے رہے تھے۔ نیلی پہاڑیاں جھیل کے وسط سے اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں اور افق پر چھائی ہوئی تھیں اور کانڈین پہاڑ اوپر موجود بادلوں سے گھل مل گئے تھے۔ اس مقام سے میں عمدہ دوربین کی مدد سے جنگلی بھینسوں کے بے شمار مندے دیکھ سکتا تھا جو گھاس کے میدان میں چر رہے تھے۔ خیمے سے نصف میل دور ایک بڑا نر کھڑا تھا اور میں نے دن کے شکار کا آغاز اسی سے کرنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے اپنے ہمراہ دو قابلِ بھروسہ اور کافی مشہور آدمی بندوق بردار کے طور پر رکھے۔ جنگلی بھینسا لڑائی نہیں چاہتا تھا اور ہم ابھی چار سو گز دور تھے کہ وہ مڑ کر بھاگ نکلا۔ میں نے دو اونس والی رائفل کی آخری پتی چڑھائی اور نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ اتنے فاصلے سے گولی کھا کر بھینسا گرا اور پھر فوراً ہی اٹھ کر مڑا اور بظاہر تین ٹانگوں پر دوڑتا ہوا میری جانب حملہ آور ہوا۔ اتنا فاصلہ تھا کہ میں بہ آسانی رائفل بھر کر تیار ہو سکتا تھا، سو میں نے سہولت سے چار اونس والی رائفل سے نشانہ لے کر گولی چلائی اور جنگلی بھینسا ایک لمحے کے وقفے کے بعد وہیں گرا اور اٹھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ اتنے طویل فاصلے سے گولی کارگر ہونے کے امکانات کافی کم تھے، سو میں نے تیزی سے رائفلیں بھر کر بھینسے سے اپنا فاصلہ گنا۔ میں جب بھینسے سے ۱۰ گز دور رکا تو میں نے کل ۳۵۲ قدم گنے۔ بھینسا ابھی تک اٹھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اس کے ماتھے میں گولی اتار کر اس کی مشکل آسان کر دی۔ میری پہلی گولی سے اس کی پچھلی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور دوسری گولی ناک پر لگی اور بالائی جبڑے کو اڑاتے ہوئے گردن سے گزری اور شانے کے پیچھے سے نکل گئی۔ اتنی دور سے اتنا درست نشانہ قسمت سے ہی لگ سکتا ہے کہ جنگلی بھینسا دوڑتا ہوا آ رہا تھا۔ یہ کھوپڑی ابھی تک میرے پاس انگلستان میں رکھی ہے اور بھاری گولی کی تباہ کاری کی عمدہ مثال ہے۔

اس روز میں نے پورا دن شکار کرنے کا ارادہ کیا تھا سو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور میدان کی سمت چلا۔ بھینسے بہت جنگلی تھے اور میں یہاں کئی روز سے شکار کھیل رہا تھا اور میدان میں مختلف جگہوں پر ۴۲ بھینسوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ میں نے طویل فاصلوں سے کئی مرتبہ گولیاں چلائی تھیں اور ایک مرتبہ ایک مندے پر اندھا دھند گولی بھی چلائی تھی کہ مندہ جنگل میں گھسنے والا تھا۔ یہ مندہ چوتھائی میل دوڑا اور پھر اس میں سے ایک جنگلی بھینس گر گئی۔ جب میں اس کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہ مرنے والی تھی۔ میری اندھا دھند چلائی گئی گولی اس کے شانے کے پیچھے لگی تھی۔ میں نے اس کے سر میں گولی اتار کر اس کی تکلیف ختم کر دی۔ اسی دوران ایک اور جنگلی بھینسا غول سے الگ ہو گیا تھا اور جھیل میں گھسنے کے بعد چار سو گز دور جا کر رکا۔ اس مقام پر پانی اس کے شانوں تک آ رہا تھا۔ جھیل کے چمکدار پانی پر بھینسا کالا دھبہ دکھائی دے رہا تھا اور اس کے جسم کا اوپری ڈیڑھ فٹ حصہ پانی کے اوپر دکھائی دے رہا تھا۔ میں گھوڑے پر سوار جھیل کے کنارے تک گیا اور گھوڑے سے اترنے کے بعد زین پر رائفل رکھ کر میں نے سکون سے نشانہ لیا۔ میرا گھوڑا اس کا عادی تھا اور مجسمے کی مانند ساکت ہو گیا۔ تاہم میری گولی بھینسے سے ذرا اوپر سے گزری۔ تیسری گولی اسے لگی اور وہ فوراً مخالف کنارے کو تیرنے لگا۔ جلد ہی کم گہرے پانی میں پہنچ کر بھینسا چلنے لگا تو میں نے چوتھی گولی چلائی جو خطا گئی۔ پانچویں گولی اسے لگی اور بھینسا وہیں گر گیا۔ اتنے فاصلے سے میرے لیے یہ جاننا ممکن نہ تھا کہ اسے کہاں گولی لگی ہو گی مگر میرا اندازہ ہے کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو گی کہ اس کے جسم کا تھوڑا سا بالائی حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔

میں نے سارا دن طویل فاصلے پر چاندماری کرتے گزارا مگر نتائج زیادہ تسلی بخش نہ تھے۔ کئی بھینسے شدید زخمی ہو کر جنگل میں چھپ گئے۔ کئی روز سے بھاری رائفل اور بارود کی زیادہ مقدار کی وجہ سے میرا شانہ درد کر رہا تھا۔ سو میں نے بارود کی مقدار کم کر کے چھ ڈرام کر دی اور طویل فاصلوں پر چاندماری بند کر دی۔

سہ پہر ڈھل رہی تھی اور گرمی انتہائی شدید تھی۔ مجھے بھوک بھی لگی تھی کہ میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔ سو میں نے سوچا کہ خیمے کو لوٹ کر کچھ کھاتا ہوں جو آٹھ میل دور تھا۔ میں گھوڑے پر سوار میدان سے گزر رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے دلدل سے ایک بہت خوبصورت جنگلی بھینسا اٹھا اور بھاگنے لگا۔ گھوڑے کو ایڑ لگا کر جلد ہی میں اس کے پیچھے تھا۔ چار اونس والی رائفل میرے ہاتھ میں تھی۔ جنگلی بھینسے نے مجھے تعاقب میں قریب ہوتے دیکھا تو ایک خشک گڑھے میں گھس گیا جہاں دس فٹ اونچی اور ناقابلِ عبور گھاس تھی۔ برسات میں یہ تالاب رہا ہو گا مگر اب وہاں محض گھاس اور جھاڑیاں اگی تھیں۔ مجھے علم تھا کہ بھینسا اسی میں ہے مگر وہ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ یہ گڑھا بڑے میدان کے وسط میں تھا سو مجھے یقین تھا کہ بھینسا چھپ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ اتنی دیر میں میرے بندوق بردار بھی پہنچ گئے اور میں نے انہیں کہا کہ وہ اس گڑھے پر پتھراؤ کریں۔ بھینسے نے شکل نہ دکھائی۔ میں نے گھوڑے پر سوار ہو کر اس تک پہنچنے کی ٹھانی۔ گھاس اتنی گھنی تھی کہ گھوڑا مشکل سے راستہ بنا رہا تھا اور میں ایک گز دور کی چیز بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ بیس منٹ میں ایسے ہی ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا مگر بے سود۔ جب میں اس بھینسے کا خیال چھوڑنے والا تھا کہ اچانک میرے عین سامنے نیچے جھاڑیاں پھٹیں اور کسی جانور کے دوڑنے کی آواز آئی۔ پھر سیاہ رنگ کی ایک چوڑی ناک دکھائی دی اور اس کے پیچھے سر اور سینگ نظر آئے کہ بھینسا مجھ پر حملہ کر رہا تھا۔ جونہی بھینسے کے سینگ قریب پہنچے، گھوڑا پچھلی ٹانگوں پر اٹھا اور میں نے اس دوران گولی چلا دی۔ اگلے لمحے میں زمین پر لیٹا تھا اور میرا گھوڑا میرے اوپر، باردو کا دھواں اور الجھن چھائے ہوئے تھے۔

انتہائی غیر شکاریانہ انداز سے (جیسا کہ کئی آدمی سوچیں گے کہ وہ میرے ہمراہ نہ تھے)، میں گھوڑے کے پیچھے چھپا اور گھوڑا اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ ہر طرف خاموشی تھی اور صرف گھوڑے کی ہنہناہٹ سنائی دے رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ بھینسا اب ہمارے سر پر ہو گا۔ میں نے گھوڑے کے اوپر سے جھانکا تو دیکھا کہ گھوڑے سے تین فٹ دور بھینسے کی لاش پڑی تھی۔ اس کے سینگوں کے عین درمیان گولی کا سوراخ تھا جس سے وہ فوراً مر گیا ہو گا۔ میرا گھوڑا جب بھینسے کو قریب دیکھ کر پچھلی ٹانگوں پر اٹھا تو اس کی پچھلی ٹانگیں گھاس میں پھنس گئیں اور وہ گرا۔ بھینسے کے سینگ اسے چھو بھی نہ سکے۔

مجھے اس طرح اپنے بچ نکلنے پر بہت خوشی ہوئی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ دوبارہ کبھی اونچی گھاس میں بھینسے کے پیچھے نہیں جاؤں گا۔ پھر میں گھوڑے پر سوار ہو کر خیمے کو چل دیا۔ میدان خالی دکھائی دے رہا تھا اور جھیل کے کنارے میں تین یا چار میل تک گیا مگر شکار کے قابل کوئی جانور نہ دکھائی دیا۔ آخرکار جب میں خیمے سے تین میل دور تھا کہ مجھے پانچ بھینسوں اور تین بچھڑوں کا ایک مندہ دکھائی دیا جو جھیل کے اندر تک گئے ہوئے کیچڑ کے ایک خطے پر موجود تھا۔

میں نے گھوڑے کا رخ اسی جانب موڑا اور جب ساٹھ گز دور پہنچا تو دیکھا کہ تین مادہ، دو نر اور تین بچھڑے تھے۔ میں ان کی جانب بڑھا تو ان کے لیے فرار کا واحد راستہ پانی میں گھسنا تھا مگر انہوں نے مجھ پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ جھیل سے نکل سکیں۔ چند مرتبہ چنگھاڑ اور سر کو ہلا کر ایک نر سیدھا بھاگتا ہوا میری جانب آیا۔ اس کے ساتھی وہیں کھڑے رہے کہ وہ فیصلہ نہ کر پا رہے تھے۔ جب وہ چالیس گز پر پہنچا تو میری گولی اس کی گردن کو توڑتی ہوئی نکل گئی اور بھینسا سینگوں کے بل گر کر الٹا ہو گیا۔ میں نے فوراً رائفل بھرنا شروع کی اور ابھی گولی آدھی نال میں تھی کہ دوسرے بھینسے نے حملہ کر دیا۔ میں نے بندوق بردار سے دو اونس والی رائفل چھینی اور گولی چلا دی جو شاید اس کے دل میں ترازو ہوئی کہ بھینسا وہیں مر گیا۔

تینوں مادائیں اپنے ساتھیوں کی موت کو خاموشی سے دیکھتی رہیں مگر مجھے لگ رہا تھا کہ وہ جلد ہی لڑائی پر آمادہ ہو جائیں گی۔ جب رائفلیں دوبارہ بھر لیں تو میں نے سوچا کہ دفاع کی بجائے حملہ کروں کہ دفاع کی صورت میں تین مادہ بھینسوں کو بیک وقت روکنا مشکل ہو جاتا۔ میں نے زیادہ غصیلی دکھائی دینے والی بھینس کے گلے پر دو اونس والی گولی چلائی مگر اس کا اثر فوری حملے کی صورت میں نکلا۔ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا مگر وہ دوڑتی ہوئی آئی۔ فاصلہ اتنا کم تھا کہ مہلک زخم کے باوجود وہ مجھے نقصان پہنچا سکتی تھی، سو چار اونس والی گولی نے اسے مجھ سے پندرہ قدم دور گرا دیا۔ تاہم یہ بھینس مری نہیں بلکہ اٹھنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔ پھر میں نے رائفلیں بھریں۔

باقی دو بھینسوں نے شاید سبق سیکھ لیا تھا اور انہوں نے حملے کی کوشش نہیں کی۔ میں چلتا ہوا ان سے بیس گز پر جا رکا۔ ایک بھینس سینگوں سے کیچڑ کھود رہی تھی اور نشانے کا عمدہ موقع ملتے ہی میں نے گولی چلا دی۔ گدی پر لگنے والی گولی نے اسے وہیں گرا دیا۔ آخری بھینس فوراً پانی کو دوڑی مگر چار اونس والی گولی اس کے شانے پر لگی اور پانی تک پہنچنے سے قبل وہ گر گئی۔ ایک بچھڑے کے سر پر میں نے دائیں نال چلا کر اسے وہیں ڈبو دیا جبکہ دوسرے بچھڑے پر بائیں نال خطا گئی۔ دو بچھڑے بچ کر نکل گئے۔ میں نے اپنے ہمراہی کو کہا کہ وہ پانی میں گھس کر اس بچھڑے کی لاش کو نکالے۔ وہ پانی میں اترا اور کچھ ہی دیر میں بچھڑے کی لاش سمیت کنارے پر آ گیا۔ رائفلیں بھر کر میں باقی بھینسوں کو دیکھنے چل پڑا کہ ان کو کہاں گولیاں لگی تھیں۔ خوش قسمتی سے میں نے رائفلیں بھر لیں کہ جونہی میں پہلی مادہ کے قریب پہنچا تو وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی۔ میں نے ہلکی دو نالی رائفل سے اس کے دماغ میں گولی اتار دی۔ میرے شکاری واقعات میں اس واقعے میں جنگلی بھینسوں نے ڈٹ کر حملہ کیا تھا اور اتنا مزہ کم ہی آتا ہے۔ بھاری رائفلوں سے ان کا کوئی جوڑ نہیں اور انہیں جانیں گنوانی پڑیں۔ شام ڈھل چکی تھی اور دن بھر شدید گرمی میں شکار کے بعد اب مجھے خیمے کو لوٹنا تھا۔ میں نے دس جنگلی بھینسے مارے جن میں ایک بچھڑا بھی تھا۔ ہم نے بچھڑے کے گوشت کا ایک عمدہ حصہ کاٹ لیا۔ پھر میں نے بندوق بھر کر رائفلیں رکھ دیں۔ اب میری توجہ ٹیلوں کے اس جھنڈ پر تھی جو بھینسوں کے شکار کے دوران اڑا تھا۔ میں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ جھنڈ جھیل میں آنے والی ایک ندی میں اترا تھا۔ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتا ہوا میں اس ندی کے کنارے پہنچا تو بیس گز دور مجھے کم از کم ۸۰ ٹیلیں پیٹ بھرتے دکھائی دیں۔ میں نے ایک نال پانی پر اور دوسری ہوا میں اڑتی ہوئی ٹیلوں پر چلائی اور پانچ تو فوراً مر گئیں جبکہ چھٹی زخمی ہونے کے باوجود ڈبکیاں لگاتی ہوئی بچ نکلی۔ واپسی پر میں نے چند سنائپ بھی مارے اور پھر اتنا اندھیرا ہو گیا کہ شکار ممکن نہ رہا۔

چود ہویں کا چاند جھیل پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، ہوا خنک تھی اور دن بھر کی گرمی کے بعد اب سنائپ اور دیگر جنگلی پرندوں کی آوازیں جھیل کے منظر میں سنائی دینے والی واحد آوازیں تھیں۔ خیمے کے سامنے الاؤ جل رہے تھے جو جنگل کے کنارے سے ایک میل دور تھے۔ میں نے اپنی بندوق سائیس کو دی اور خود گھوڑے پر سوار ہو کر خیمے کو روانہ ہو گیا۔

میں خیمے سے ابھی نصف میل دور تھا اور جنگل کے قریب موڑ کاٹا ہی تھا کہ سامنے ہاتھیوں کے بڑے اور سرمئی کئی جثے دکھائی دیے جو جنگل سے نکل کر کھلے میں چر رہے تھے۔ مجھ سے ان کا فاصلہ سو گز رہا ہو گا۔ میں نے کل سات گنے جن میں سے ایک مجھ سے ساٹھ گز دور اور بڑا نر تھا۔ میں نے سوچا کہ اس بڑے ہاتھی پر قسمت آزماتا ہوں۔ سو بھاری رائفل لے کر میں گھوڑے سے اترا اور محتاط انداز سے اس کی جانب بڑھا۔ چند قدم پر ہی اس ہاتھی نے میری موجودگی بھانپ لی اور زور سے چنگھاڑ کر جنگل کو بھاگا۔ میں اس کے پیچھے لپکا اور اس دوران باقی ہاتھی جادوئی انداز میں غائب ہو گئے۔ ہاتھی کی رفتار مجھ سے زیادہ تیز تھی، سو جب درمیانی فاصلہ بڑھتے دیکھا تو میں نے رک کر اطمینان سے نشانہ لیا اور ستر گز سے چار اونس والی رائفل سے اس ہاتھی کے کان پر گولی چلا دی۔ ہاتھی وہیں گرا اور اس کا شور سنائی دینے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ کسی لمحے بھی اٹھ جائے گا۔ جونہی میں نے خالی رائفل پھینکی تو کسی نے میرے ہاتھوں میں دو نالی رائفل تھما دی۔ میں اس ہاتھی کے قریب پہنچا تو وہ نصف اٹھ چکا تھا۔ میں نے اطمینان سے اس سے دو قدم پر پہنچ کر اس کے ماتھے پر گولی چلا دی۔ میری حیرت کا اندازہ کیجیے کہ ہاتھی جست لگا کر اٹھا اور چنگھاڑتا ہوا جنگل کو بھاگا۔ میں نے اس کے قریب بھاگتے ہوئے اس کے کان کے پیچھے دوسری نال چلا دی۔ ہاتھی نے محض رفتار بڑھائی اور جنگل میں غائب ہو گیا۔ میں نے اتنے قریب سے اس ہاتھی پر دو گولیاں چلائی تھیں اور مجھے ہر گولی پر پورا بھروسہ تھا۔ میں نے بندوق کو دیکھا تو پتہ چلا کہ میرے سائیس نے مجھے دو نالی گولی والی رائفل کی بجائے سنائپ کے شکار والی دو نالی بندوق تھما دی تھی اور میں ہاتھی پر سنائپ والے چھرے چلا کر سمجھ رہا تھا کہ میں اس پر گولیاں چلا رہا ہوں۔ اب سوچیے کہ اگر ہاتھی حملہ کرتا تو کیا ہوتا۔ میں نے سائیس کی خوب مرمت کی۔

تاہم اس روز کا شکار منیریا میں اچھے شکار کا آخری دن ثابت ہوا۔ ۱۸۴۷ کا جون چل رہا تھا۔ اگلی صبح ہم نے خیمے اکھاڑے اور گھر کو روانہ ہوئے۔ اچانک مجھے خیموں سے چوتھائی میل دور ایک بدمعاش ہاتھی جھیل سے پانی پیتا ہوا دکھائی دیا مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ محتاط پیش قدمی کے باوجود اس نے میری بو سونگھ لی اور سونڈ اٹھا کر حملہ آور ہو گیا۔ بھاری رائفل کی گولی اسے مار تو نہ سکی مگر وہ رخ موڑ کر خار دار جنگل میں گھس گیا جہاں اس کا پیچھا کرنا میرے لیے مناسب نہ تھا۔

ٹرنکومالی سے کینڈی والی سڑک پر میں اپنے ساتھیوں سے ایک میل آگے چل رہا تھا کہ شاید قابلِ شکار جانور دکھائی دے جائے۔ کاؤڈیلائی کے پاس کھلے میں پہنچا تو ایک ہرنی پر بیس گز سے گولی چلانے کا موقع مل گیا۔ ہرنی مجھے ایسے دیکھ رہی تھی کہ جیسے کسی نے اس پر جادو کر دیا ہو۔ اس طرح میرے لیے دو دن کا گوشت ہو گیا۔ استوائی خطوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ گوشت بہت جلدی سڑنے لگتا ہے۔ شکار کردہ جانور کا پیٹ چاک کر کے اگر فوراً ہی آنتیں وغیرہ نہ نکال دی جائیں تو اگلے دن شام تک بو دینے لگتا ہے اور جانور کی جسامت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سو ایسے خطوں میں جب رائفل ہی خوراک کی فراہمی کا ذریعہ ہو تو ضرورت سے زیادہ جانور مارنے پڑتے ہیں۔ جس روز صبح کے وقت سنائپ شکار ہو تو اگلی شام تک خراب ہو جاتا ہے۔

ہرنی کو مارنے کے بعد میں نے ایک خوبصورت مور پر گھات لگائی جس پر ایک گھنٹہ صرف ہوا۔ موروں کے قریب جانے میں بہت مشکل ہوتی ہے مگر میں نے کوشش کر کے اس مور کو کھلے میدان میں ایک بڑی جھاڑی میں پہنچا دیا۔ جب اس جھاڑی پر پتھر پھینکا تو مور اڑا اور تیس گز پر اس نے گولی چلانے کا خوبصورت موقع دیا۔ دو اونس والی رائفل سے مور شکار تو ہو گیا مگر کافی گوشت ضائع بھی ہوا۔ سیلون کے مور سے زیادہ لذیذ پرندے کم ہی ہوتے ہیں۔ اسے دو دن رکھنے کے بعد سرکے سے دھو کر پکایا جائے تو ٹرکی (بوقلموں) اور فیزنٹ کا ذائقہ دیتا ہے۔

چونکہ میرے بندوق بردار ہرنی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، سو میں نے اضافی بندوقیں اپنے کھوجی کو تھما دیں اور خود مور کو اٹھا لیا۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہم آگے بڑھے۔ کھوجی سب سے آگے تھا اور اچانک ایک جگہ پہنچ کر وہ اچھلا اور میری طرف بھاگا اور راستے میں کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے لگا۔ راستے کے عین درمیان ایک بڑا اژدہا بل کھائے بیٹھا تھا۔ اس کا سر چھوٹے ناریل کے برابر اور زمین سے ڈیڑھ فٹ اوپر تھا۔ یہ اژدہا ہمیں گھور رہا تھا اور اس کی دو شاخہ زبان لہرا رہی تھی۔ چار قدم کے فاصلے سے میں نے دو نالی بندوق سے گولی چلائی اور اس کے سر کے چیتھڑے اڑ گئے۔ ایسا لگا کہ جیسے اژدہا مر گیا ہے۔ تاہم جب اس کے بل کھول کر اس کی لمبائی کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تو اس نے اتنی زور سے اپنے جسم کو پٹخنا شروع کر دیا کہ آس پاس کی اونچی گھاس برابر ہو گئی۔ مجھے دور ہٹنا پڑا کہ اس کی دم سے لگنے والی ضرب بہت تکلیف دہ ہوتی۔ اس کے جسم کا سب سے موٹا حصہ انسانی ران کے برابر تھا۔ میں نے اس کو ایک جگہ روکنے کی ترکیب سوچی اور ایک نوکیلا کھونٹا کاٹ کر اس کے رکنے کا انتظار کیا۔ جب وہ کچھ دیر کو رکا تو میں نے شکاری چاقو سے اس کی دم میں چیرا دیا اور رائفل کے کندے سے کھونٹا زمین میں گہرائی تک گاڑ دیا۔ اژدہا پھر تڑپنے لگا۔ جب وہ پھر رکا تو میں نے جنگل سے ایک بیل کاٹی اور اس کے گلے میں چیرا لگا کر بیل سے گانٹھ لگا دی۔ پھر میں اور میرے تینوں ساتھیوں نے مل کر اسے بمشکل سیدھا کیا اور پھر میں نے دوسرے کھونٹے سے اس کی گردن زمین میں گاڑ دی۔ اس کی لمبائی پندرہ فٹ تھی اور ہم سب نے مل کر بمشکل اس کی کھال اتاری۔ اس کی کھال کے مختلف رنگ چمک رہے تھے۔ جونہی اس کی کھال اتری، اژدہے نے خود کو کھونٹوں سے آزاد کر لیا اور تڑپتا رہا۔ میری گولی نے نہ صرف اس کا سر بلکہ تین فٹ جتنی گردن بھی اڑا دی تھی۔ جب ہم روانہ ہوئے تو اژدہا تڑپ رہا تھا۔ اژدہے ہرن کو جکڑ کر ان کی ہڈیوں کا سرمہ بنا دیتے ہیں اور پھر اسے نگل لیتے ہیں۔ سیلون میں اژدہے عام ہوتے ہیں مگر شبینہ جانور ہونے کی وجہ سے دن کی روشنی میں دکھائی نہیں دیتے۔ اگرچہ یہ اژدہا کافی بڑا تھا مگر میرے ہمراہی نے بتایا کہ اس نے اس سے بھی بڑے اژدہے دیکھے ہیں۔

مجھے سانپ سے زیادہ کسی اور جانور سے کراہت نہیں محسوس ہوتی، ایسے لگتا ہے کہ جیسے نسلِ انسانی کا ازلی دشمن سانپ کی شکل میں آ گیا ہو اور اسے دیکھ کر خون رگوں میں جمنے لگتا ہے۔ میں اس اژدہے کی کھال اپنے ہمراہ انگلستان لایا ہوں اور خشک حالت میں اس کی لمبائی ۱۲ فٹ ہے جبکہ گولی کی وجہ سے گردن کا تین فٹ کا حصہ ضائع ہو چکا ہے۔

یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سیلون میں سانپوں کی کثرت کے باوجود وہاں کتنے کم لوگ سانپ کا شکار ہوتے ہیں حالانکہ لوگ عموماً ننگے پیر پھرتے ہیں۔ میں ایک بار کانڈیلائی میں ریسٹ ہاؤس کے صوفے پر لیٹا تھا کہ کھلے ہوئے دروازے سے چار فٹ لمبا زہریلا سانپ داخل ہوا اور سیدھا دوسرے صوفے کے گدے کے نیچے جا کر بیٹھ گیا۔ میرا چھوٹا بھائی چند لمحے قبل اسی صوفے سے اٹھ کر کرسی پر بیٹھا تھا۔ سانپ کے انداز سے ظاہر تھا کہ وہ اسی تکیے کے پیچھے بیٹھنے کا عادی ہے اور ظاہر ہے کہ جو بھی انسان اس صوفے پر بیٹھتا تو زہریلا ڈنگ اس کی قسمت بنتا۔ میں نے اسے لکڑی سے چھیڑا اور شکاری چاقو سے اس کی گردن اتار دی۔ جب آپ کسی ایسے ڈاک بنگلے یا ریسٹ ہاؤس میں رہنے کو جائیں کہ جہاں زیادہ لوگ نہ آتے ہوں تو سب سے پہلے صوفوں اور تکیوں کو اچھی طرح جھاڑ لیا کریں کہ انہی کے نیچے سانپ اور بچھو اور پتہ نہیں کیا کیا حشرات چھپے ہوتے ہیں۔

٭٭٭

 

باب ۷

 

 

سیلون سے زیادہ خوبصورت ملک کم ہی ہیں۔ مناظر کا تنوع فرحت بخش ہے اور پہلے پہل سدابہار سبزہ یکساں دکھائی دیتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ آپ اس کے مختلف رنگ دیکھنے لگتے ہیں کہ پتے کونپل سے لے کر جھڑنے تک، مختلف مراحل اور مختلف رنگوں سے گزرتے ہیں جو برطانیہ میں خزاں کے رنگوں سے کہیں زیادہ دلچسپ ہوتے ہیں کہ برطانیہ میں پتے چند روز رنگ دکھا کر گر جاتے ہیں جبکہ سیلون میں جنگل کے رنگ مستقل ہوتے ہیں کہ گرنے والے پتوں کی جگہ نئے اگتے رہتے ہیں اور یہ رنگ قرمزی، شوخ پیلے اور سبز کے مختلف شیڈ ہوتے ہیں۔

سیلون میں بہت گھنے جنگل ہیں جس کی وجہ سے یہاں ہوا کی گردش ممکن نہیں اور یہاں مرطوبیت، ملیریا، بخار اور پیچش عام ہیں۔ پیچش تو اس ملک میں وبائی صورت اختیار کر چکی ہے۔ نشیبی علاقوں کی آب و ہوا اور بھی بری ہے۔

جنگلوں کے گھنے پن کی وجہ سے یہاں سفر بہت مشکل ہوتا ہے۔ جنگل میں کاٹ کر بنائی گئی پگڈنڈیوں پر بہت گرمی اور حبس ہوتا ہے اور ستر یا اسی میل کے سفر کے بعد جب پہاڑ یا وسیع میدان دکھائی دیتے ہیں تو بہت خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔ کئی مقامات پر گھنے جنگل کی بجائے لہراتی ہوئی چھوٹی گھاس سے بھری پہاڑیاں ہوتی ہیں۔ دیگر جگہوں پر بھاری درختوں کی بجائے گھنے اور خار دار جنگل ہوتے ہیں اور یہ جنگل عموماً سمندر کے کنارے ملتے ہیں۔ سارا جزیرہ اسی طرح کا ہے۔

بہت سارے مصنفین نے سیلون کے ’ممکنات‘ کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے مگر یاد رہے کہ کتب میں چاہے جو بھی درج ہو، حقیقت میں سیلون اس کے برعکس ہے۔ ایسی ناکارہ زمین رکھنے والے ممالک دنیا میں کم ہی ہوں گے۔ لوہے کے سوا کوئی معدن نہیں، ڈولومائٹ کے سوا چونے کا کوئی پتھر نہیں اور کوارٹز اور نیس کے سوا کوئی پتھر نہیں ملتا۔ قدرتی چراہگاہیں بیکار ہیں اور جنگل سے ملنے والی واحد قدرتی شئے لکڑی اور دارچینی ہے۔ گنے کی کاشت کامیاب نہیں جبکہ کافی کے لیے آب پاشی کا معقول انتظام کرنا پڑتا ہے اور کھاد بھی دینی پڑتی ہے۔ زمین اتنی بیکار ہے کہ مقامی آدمی جنگل کو کاٹ کر وہیں جلانے کے بعد بمشکل ایک فصل اگاتے ہیں اور پھر زمین کی طاقت جواب دے جاتی ہے۔ جب ایک ہی فصل کے بعد زمین کو بیکار چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہاں ناقابلِ رسائی خار دار جنگل اگ آتا ہے۔ کئی ہزار سال کے اس معمول کی وجہ سے اس جزیرے کا زیادہ تر حصہ خار دار اور ناقابلِ عبور جنگلات پر مشتمل ہے۔ جنگلات بھی کئی اقسام کے ہیں: کہیں کہیں جھاڑ جھنکار سے پاک اونچے درختوں کا جنگل ہے مگر زیادہ تر جگہوں پر ناقابلِ عبور خار دار اور جھاڑ جھنکار سے بھرے جنگل ہیں۔

سیلون کے جنگلات میں مناظر کی درجہ بندی اس طرح کی جا سکتی ہے:

فطری جنگل جو بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے

خار دار جنگل جو بڑے رقبے پر ہے

مسطح میدان اور خار دار جنگل جو ساحل کے قریب ہیں

کھلا نشیبی علاقہ جو ویدا علاقے کے زیادہ تر حصے پر مشتمل ہے

پہاڑ جو جزیرے کے وسط میں ہیں

پہاڑ زیادہ تر جنگلات سے گھرے ہیں مگر جگہ جگہ اونچی نیچی پہاڑیاں، گھاس بھرے میدان جبکہ پہاڑوں کی بلندی ۳ سے ۹ ہزار فٹ تک ہوتی ہے۔

سیلون اگر کھلا علاقہ ہوتا تو بڑا شکار نہ ہوتا کہ سورج سے پناہ نہ ملتی۔ اُوویا کے خوبصورت کھلے علاقے میں دیکھیں تو جنگلی سور، سرخ ہرن، پساری، خرگوشوں اور تیتر سے بڑا کوئی جانور نہیں۔ یہ جانور بھی دن کی گرمی کے دوران پہاڑی غاروں اور کھوہ وغیرہ میں جنگلی امرود کی جھاڑیوں میں چھپ کر رہتے ہیں۔ خار دار جنگل میں ہر قسم کا شکار چھپا ہوتا ہے اور یہاں وہ ہر قسم کے حملے سے بچے رہتے ہیں۔ ساحل کے قریب مسطح میدانوں اور خار دار جنگلات میں مخصوص موسموں میں بہترین شکار ملتا ہے۔ سیلون میں ہر جگہ چیتل ملتے ہیں اور مندرجہ بالا ساحل کے قریب والے علاقے ان کی خاص آماج گاہ ہیں جہاں میں نے بیک وقت ایک مندے میں سو چیتل بھی گنے ہیں۔ دیگر مقامات پر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کہ وہاں ان کو کھانے کے لیے انسان نہیں اور ان کا شکار بیکار ہے۔

پالیار اور ایلیپی کاڈیوے کے علاقے شمال مغربی ساحل پر ہیں اور میں نے وہاں اتنے چیتل مارے کہ ان کے شکار کا لطف ختم ہو گیا۔ ایک روز میرے خیمے کے سامنے نو فربہ اور تندرست چیتل لٹکے ہوئے تھے اور میرے ہمراہیوں کی ہرممکن کوشش کے باوجود ہم گوشت کو دھواں دے کر محفوظ نہ کر سکے اور گوشت خراب ہونے لگا۔ میں چاہتا تو بے شمار چیتل اور بھی شکار کر لیتا مگر یہ خوبصورت جانور ضائع جاتے کہ ان کا گوشت کھانے کے لیے کوئی انسان نہ تھا۔

ایک مرتبہ میں ایلیپی کاڈیوے میں شکار کھیل رہا تھا کہ ایک انتہائی عجیب انداز سے ایک خالص شکاری سے ملاقات ہوئی۔ میں ایک دوست کے ساتھ شکار کھیل رہا تھا اور ہم ایک دوسرے سے چند سو قدم دور تھے۔ میں نے ایک مورنی پر گولی چلائی اور اسے شکار کر لیا۔ میری گولی چلتے ہی جنگل میں میرے دوست کی سمت سے بھی ایک گولی چلی۔ چونکہ میری رائفل خالی تھی، سو میں نے حیرت سے جنگل سے نکلنے والی مادہ چیتل کو دیکھا جس کے پیچھے ایک سفید رنگ کا عام سا دیہاتی کتا لگا ہوا تھا۔ گاؤں سے اتنی دور (چار میل) دیہاتی کتا کہاں؟جب میں نے سیٹی بجائی تو کتا مادہ چیتل کا تعاقب چھوڑ کر میرے قریب آ گیا۔ صاف لگ رہا تھا کہ کتا اس علاقے میں اجنبی نہیں اور اکیلا ہی شکار کھیل رہا تھا۔ پھر میرے دوست کی آواز آئی کہ اس نے ایک چیتل پر گولی چلائی ہے اور اس کے خون کے نشانات بھی تلاش کر لیے ہیں۔ میں نے گھاس کا ایک تنکا اٹھایا جس پر خون لگا تھا اور کتے کو سنگھایا۔ کتے نے فوراً ایک جانب کا رخ کیا۔ میں نے گھاس کا تنکا پھینکا اور اس کے پیچھے چل پڑا۔ کتا خاموشی سے تعاقب کر رہا تھا، سو میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ چوتھائی میل بعد کتا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ خون کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے مجھے فاصلے سے کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے چیتل کو روک لیا ہے۔ جلد ہی میں اس مقام پر پہنچ گیا۔ چیتل ایک چھوٹے سے گھاس کے قطعے میں رک کر بار بار کتے پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور کتا جان بوجھ کر چیتل کی زد سے باہر رہتا تھا۔ میں نے چیتل کو گولی مار دی اور پھر ایک جنگلی بیل اتار کر کتے کے گلے میں پٹے کی مانند ڈالی اور اپنے بندوق بردار کو تھما دی۔ مجھے امید تھی کہ کتا آگے چل کر بھی شکار میں ہماری مدد کرے گا۔

نصف میل سے زیادہ چلنے کے بعد راستے میں ایک ندی آئی جو گدلے پانی کی تھی۔ اس میں جگہ جگہ سرکنڈے اور کنول کے پودے اگے ہوئے تھے۔ ہم اس میں اترے اور پانی ہماری کمر تک تھا مگر بندوق بردار کسی طور پر کتے کو پانی میں نہ لا سکا۔ کتا پوری قوت سے خود کو پانی سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور واضح طور پر دہشت زدہ تھا۔

میں دوسرے کنارے پر پہنچ چکا تھا اور کتا ابھی تک پانی سے کترا رہا تھا۔ میں نے بندوق بردار سے کہا کہ وہ کتے کو گھسیٹ کر پانی میں لے آئے۔ جونہی کتا پانی میں گھسا، اس نے انتہائی وحشت سے تیرتے ہوئے اپنی گردن بیل سے آزاد کرا لی اور دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی اس نے دوڑ کر اونچی جگہ کا رخ کیا اور پھر نیچے پانی کو دیکھنے لگا۔

تب جا کر ہمیں سمجھ آئی کہ کتا کیوں پانی سے کترا رہا تھا۔ ہمارے نیچے ندی میں سرکنڈے کی جھاڑیاں ہلنے لگیں کہ ایک اٹھارہ فٹ لمبا مگرمچھ اب کسی گہرے گڑھے کو جا رہا تھا۔ پھر کتا مڑا اور اس نے پوری قوت سے دوڑ لگا دی۔ ہم نے ہرممکن کوشش کی مگر سیٹیوں اور بلاوے کے باوجود کتا جلد ہی ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا اور پھر نہ دکھائی دیا۔ میں نہیں جانتا کہ کتے کو مگرمچھ کی موجودگی کا کیسے علم ہو گیا ہو گا۔ شاید ماضی میں ندی عبور کرتے ہوئے کتے کا سامنا اس مگرمچھ سے ہوا ہو گا اور ایک مرتبہ اس سے بچ نکلنے پر کتا ہمیشہ کے لیے اس ندی سے خائف ہو گیا ہو گا۔

ندی عبور کرنے کے بعد میں اپنے ہمراہیوں سے الگ ہو کر دوسرے راستے پر چل پڑا۔ بڑے میدان، خار دار جنگل اور مڑے ہوئے کانٹوں والی جھاڑیاں اس جگہ عام تھیں۔ یہاں مور، تیتر اور چیتل بکثرت تھے۔ میں نے ایک مور شکار کیا اور گولی کی آواز سنتے ہی قریب سے ہی ساٹھ چیتل بھاگ کھڑے ہوئے۔ لگ بھگ ایک میل بعد جا کر چیتل دوبارہ دکھائی دیے۔ کچھ زمین پر بیٹھے تھے اور کچھ لیٹے ہوئے تو کچھ کھڑے۔ سبھی چیتل ایک بڑی جھاڑی کے پیچھے تھے۔ پھر اس غول سے ایک نر اور ایک مادہ چیتل جھاڑی سے چند گز ہٹ کر میری جانب دیکھنے لگے کہ شاید انہیں میری بو آئی ہو گی۔ میں ایک چھوٹے درخت کے پیچھے چھپا تھا اور یہاں سے جھاڑی تک کا علاقہ کھلا تھا اور مزید قریب جانا ممکن نہ تھا۔ چیتل کے لیے یہ فاصلہ کافی تھا، مگر میں نے درخت پر ہاتھ رکھ کر سہولت سے نشانہ لیا اور گولی چلا دی۔ اس وقت دونوں چیتل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ فوراً ہی غول بھاگ نکلا مگر مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دو سفید رنگ کے پیٹ زمین پر گرے دکھائی دیے جو اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں ان کو ذبح کرنے بھاگا (ذبح کرنے سے ان کے جسم سے خون بہہ جاتا ہے۔ اگر ذبح نہ کیا جائے تو گوشت کھانے کے قابل نہیں رہتا)۔ دو اونس والی گولی دونوں کے شانے توڑتی ہوئی پار ہو گئی۔ میں نے فاصلہ ماپا تو کل دو سو تیس قدم بنے۔

کچھ دیر بعد مجھے ایک مرتبہ پھر گولی چلانے کا موقع ملا اور اتفاق سے اس بار بھی دو چیتل شکار ہوئے۔ ہوا کچھ یوں کہ میں جنگل میں ایک تنگ سے قطعے سے گزر رہا تھا کہ دو گولیوں کی آواز اور پھر چیتلوں کے ایک بڑے مندے کو اپنی جانب آتے سنا تو میں زمین پر لیٹ گیا۔ پھر میں نے سو سے زائد چیتلوں کو اپنی سمت آتے دیکھا۔ وہ مجھ سے ستر گز کے فاصلے سے گزرے۔ میں نے ایک مادہ پر نشانہ لے کر گولی چلائی اور فوراً ہی دو چیتل گرے۔ ایک تو وہی مادہ تھی جس پر میں نے گولی چلائی تھی اور دوسرا اس کا بچہ جو اس کے قریب تھا۔ گولی مادہ کے شانوں کے پار ہو کر دوسری طرف بچے کی گردن توڑ گئی۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ چیتلوں کے بڑے غول پر ایک گولی چلائی جائے تو دو چیتلوں کے مرنے کا بہت کم امکان ہوتا ہے۔

ہرنوں کا تعاقب کرنا انتہائی دلچسپ مشغلہ ہے۔ میں بہت مرتبہ ایک عمدہ سینگوں والے نر کا شکار کرنے کے لیے کہنیوں اور گھٹنوں کے بل چوتھائی میل تک کیچڑ اور گھاس سے گزرا ہوں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس طرح پیچھا کرنے کے بعد آپ ایسی جگہ پہنچتے ہیں کہ جو آپ نے اپنے لیے منتخب کی ہوتی ہے کہ اس جگہ پہنچ کر ہرن پر گولی چلائیں گے اور جب وہاں پہنچ کر سر اٹھاتے ہیں تو میدان صاف ہوتا ہے۔ آپ ہرن کو دکھائی تو نہیں دیے مگر اس نے آپ کی بو سونگھ کر وہاں سے چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی ہوتی ہے۔

جنگلی جانور کا شکار دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو، ہوا کا رخ سب سے اہم ہے۔ ہرن کے شکار میں تو ہوا کے مخالف چلنے میں ہی فائدہ ہوتا ہے۔ ہوا کی سمت میں چلیں گے تو بہت فاصلے سے ہی ہرن آپ کی سمت دیکھنے لگے گا اور گولی چلانے کا عمدہ موقع نہیں ملے گا۔ شکار کی دلچسپی اور اہمیت اس بات پر ہوتی ہے کہ آپ کو مطلوبہ جانور کے تعاقب کے بارے میں کتنا علم ہے۔ جب آپ علی الصبح شکار پر نکلتے ہیں تو کافی اوس گری ہوتی ہے اور آپ رائفل اٹھائے چیتل کے پگوں کی تلاش میں میدانوں اور تالابوں کا چکر لگاتے ہیں۔ پگ دیکھ کر ان کی مدت کا تعین کر کے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مندہ کس سمت گیا ہو گا اور پھر تعاقب کر کے مندہ تلاش کرتے ہیں۔ ہوا کا رخ جانچنے کے لیے خشک پتہ مسل کر گرائیں تو ہوا کی سمت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور اسی مناسبت سے پیش قدمی ہوتی ہے۔ پیش قدمی کے راستے کی ہر جھاڑی، پتھر اور گھاس کے قطعے اچھی طرح ذہن نشین کر لینے کے بعد آپ اپنا جسم ان کے پیچھے چھپاتے ہوئے کہنیوں اور گھٹنوں کے بعد چلنا شروع کر دیتے ہیں اور مناسب فاصلے پر رک جاتے ہیں۔ اس طرح تعاقب کرنا شکار کا عمدہ ترین طریقہ ہے۔ ایسے چلتے ہوئے میں نے بہت مرتبہ اپنے دل کی دھڑکن سنی ہے۔ چیتل کی قوتِ شامہ بہترین ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ محتاط رہتا ہے کہ اس کا دشمن تیندوا چھپ کر وار کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

جب چیتل محتاط ہوں تو ان کا شکار کرنے کے لیے آپ کو رائفل کے عمدہ نشانے کا حامل ہونا چاہیے ورنہ آپ بہت سے چیتل زخمی تو کریں گے مگر ہاتھ مشکل سے ہی آئیں گے۔ ان کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور دوڑتے ہوئے ان پر نشانہ لگانا کافی مشکل ہے۔ کھڑے چیتل پر بھی گولی یا تو اس کے سر، گردن یا شانے پر لگنی چاہیے ورنہ وہ زخمی ہو کر ایسے بھاگیں گے کہ جیسے انہیں کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ فرار کے بعد وہ کسی اور جگہ زخموں کی وجہ سے سسک سسک کر مر جائیں گے۔

جب میں نے طویل فاصلے سے شکار کے بارے میں لکھا ہے تو یاد رہے کہ یہ محض استثنائی صورتیں ہیں، اصول نہیں۔ میرے نزدیک اس شخص کا نشانہ عمدہ ہے جو ہمیشہ اسی گز پر کھڑا یا پچاس گز پر بھاگتا چیتل گرا لے۔ گولی کا لگنا اور جانور کا گرنا دو الگ امور ہیں۔ اگر کوئی شکاری مندرجہ بالا فاصلے سے ہمیشہ چیتل کو گرا لینے میں کامیاب ہو تو اس کی گولی اس سے زیادہ فاصلے پر بھی جانور کو لگے گی اور اکثر اسے گرا بھی دے گی۔ اس کا نشانہ عمدہ ہو گا اور نشانہ خطا ہونے کی صورت میں بھی اس کی گولی مطلوبہ مقام کے قریب تر لگے گی اور اکثر جانور گرا دے گی۔

سیلون کے مختلف حصوں کے چیتل کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ کئی مقامات پر کبھی بھی ان کا شکار نہیں کیا گیا اور وہ آپ کو تیس سے چالیس گز تک بھی آنے دیتے ہیں۔ اس فاصلے سے مناسب نشانے کا حامل شکاری بھی چیتل گرا لے گا۔ تاہم اس شکار کا زیادہ لطف آتا ہے جس میں چیتل شکاری کو زیادہ قریب نہ آنے دیں۔ میں نے سیلون میں سب سے زیادہ چیتل جنوب مشرقی سرے پر دیکھے تھے جو پونٹین اور یال کا درمیانی علاقہ ہے۔ یہ پورا علاقہ ہی غیرآباد ہے اور اسی وجہ سے یہاں کے جنگلی جانوروں کو انسان سے مڈبھیڑ کی عادت نہیں۔ یال یہاں سے قریب ترین آبادی ہے اور یہاں سے سڑک پچاس میل دور تانگال تک جاتی ہے اور اس راستے کے دونوں اطراف ناریل اور دیگر درخت اگے ہیں۔ یال سے چند دور جنگلی علاقہ شروع ہوتا ہے اور نوے میل دور ہمبنٹوٹے تک پھیلا ہوا ہے۔ ہمبنٹوٹے کے اردگرد کا علاقہ سفید ریت اور پست قد جھاڑیوں پر مشتمل ہے اور یہاں بہت بڑی نمکین جھیلیں ہیں۔ سبزہ انتہائی برے حال میں ہے اور اس کے اردگرد خار دار جنگلات پھیلے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہاں شکار کی کثرت ہے۔ جنوری اور فروری کے مہینوں میں ہاتھی اور جنگلی بھینسوں کا عمدہ شکار ملتا ہے جبکہ اگست اور ستمبر میں چیتل وغیرہ کہ خشک سالی کی وجہ سے پانی دریائے یال اور اس کے آس پاس کے تالابوں تک محدود ہوتا ہے اور سبھی جانور وہیں کھینچے چلے آتے ہیں۔ یہ سارا علاقہ برسات میں پانی سے بھر جاتا ہے اور گہری دلدلیں بن جاتی ہیں اور ملیریا پھیل جاتا ہے۔ اس دوران گھاس بھی اونچی ہوتی ہے اور ہاتھیوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔

میں جب اس علاقے میں پہنچا تو یہاں خشک سالی طویل ہو چکی تھی اور جنگل خشک تھا۔ کسی بھی درخت یا جھاڑی پر پتے دکھائی نہیں دیتے تھے اور سورج کی گرمی ناقابلِ برداشت تھی۔ بادل کا نام و نشان تک نہ تھا اور دوپہر کے وقت زمین جھلسنے لگتی تھی۔ چھوٹی ندیاں تو یکسر خشک ہو چکی تھیں اور بڑے دریا بھی ندیاں بن گئے تھے۔

یہ سارا علاقہ ریتلا تھا اور کم بلند جنگل ساحلِ سمندر تک پھیلے تھے۔ گرمی کی شدت اور سورج کی دمک سے سفر بہت تکلیف دہ ہو گیا تھا۔ ایک جگہ مجھے جنگل کی طویل پٹی سی دکھائی دی تو میں سمجھ گیا کہ ہم کسی دریا کے قریب ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو درختوں کے عمدہ سائے کی وجہ سے سورج کی گرمی سے نجات مل گئی۔ جہاں ہم جنگل میں داخل ہوئے، وہاں سے چند سو گز دور دریائے یال ایک ندی کی شکل میں بہہ رہا تھا۔ برسات میں دریا ڈیڑھ سو گز چوڑا ہو جاتا ہے مگر اس وقت اس کی چوڑائی تیس گز سے بھی کم تھی اور عین کنارے کے نیچے بہہ رہا تھا۔

یہاں میری نظروں کے سامنے عجیب منظر دکھائی تھا۔ دریا کی چوڑائی کافی تھی اور دونوں کناروں پر بہت گھنے درخت اگے تھے اور ان کی شاخیں بہاؤ کے اوپر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کے سائے کے نیچے اور ان سے ہٹ کر بھی ہر طرف ہاتھ سے بنے خیمے لگے ہوئے تھے اور ہزاروں مرد، عورتیں اور بچے گروہوں کی شکل میں موجود تھے۔ کچھ لوگ نہا رہے تھے تو کچھ آگ کے پاس بیٹھے کھانا پکا رہے تھے تو کئی لوگ سو رہے تھے۔ ان سب کے اجتماع کا ایک ہی مقصد تھا اور مختلف لباس اور رسوم و رواج کی وجہ سے لگ رہا تھا کہ پورے ملک کے لوگوں نے اپنے نمائندے یہاں بھیجے ہیں۔ یہ تہوار ان کے دیوتا کٹرگام پر چڑھاوے چڑھانے کا تھا اور اس مقام کو انہوں نے سفر کے دوران آرام کے لیے چنا تھا۔ ان کا رخ اس دیوتا کے مندر کی جانب تھا۔ چند روز بعد کٹرگام میں ۱۸۰۰۰ افراد جمع ہو گئے تھے۔

اس وقت میں اپنے ایک دوست مسٹر ایچ والٹرز کے ساتھ شکار کھیل رہا تھا جو ۱۵ویں رجمنٹ میں افسر تھا۔ ہم نے دریا کے بہاؤ کے ساتھ مزید ایک میل سفر کیا اور اچھے جنگل کو دیکھ کر گھنے درختوں تلے خیمے لگوا لیے۔ ہمارے سامنے کچھ فاصلے پر چند جنگلی بھینسے پانی پی رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ مقام جنگلی ہاتھیوں کے لیے بہترین ہے، سو ہم بلاوجہ یہاں گولیاں نہ چلائیں۔ تاہم اس مقام کے آس پاس دو گھنٹے کی چہل قدمی سے اندازہ ہو گیا کہ یہاں بہت کم ہاتھی ہیں، سو ہم نے دیگر جانوروں کے شکار کا سوچا۔

پہلے دو روز ہم نے کئی ہرن، چند جنگلی بھینسے اور ایک ہاتھی شکار کیا۔ میرا خیال تھا کہ اگر ہم ہاتھیوں کو تلاش کرنا چاہیں تو واحد راستہ کسی قریبی تالاب پر رات کو ان کا انتظار کا ہو گا۔ سو ہم نے یالے سے ۲۵ میل دور ایک بڑے تالاب کے کنارے خیمے لگوائے تو مجھے یقین تھا کہ یہاں ہاتھی آتے ہوں گے۔

یہاں پہنچنے کے لیے ہمیں سارا دن جلتے ہوئے سورج میں چلنا پڑا اور پھر ہم ستراویلے پہنچے۔ یہ چھوٹا سا گاؤں ساحلی گاؤں کسینڈے سے چھ میل پر ہے۔ مقامی ہمارے لیے کیلے اور بھینس کا دودھ لائے اور ہم نے املی کے ایک بہت بڑے درخت کے تلے بیٹھنے کی جگہ منتخب کی۔ ہمارے سامنے برگد کا ایک عظیم الشان درخت تھا جس کی شاخیں نصف ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا تنا چالیس فٹ سے زیادہ موٹا تھا۔ املی کا درخت بھی لگ بھگ اسی جسامت کا تھا اور میں نے پھر کبھی دو اتنے بڑے درخت ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں دیکھے۔ چند گز دور چار میل پر محیط جھیل شروع ہو رہی تھی جو وسیع میدان کے وسط میں واقع تھی۔ اس جھیل کے گرد کھلا جنگل تھا اور صاف لگ رہا تھا کہ یہاں شکار کے عمدہ موقعے ملیں گے۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم جھیل کے مخالف کنارے پر مسطح زمین پر اور گھنے درختوں کے نیچے خیمے لگوا دیے۔ تاریکی چھانے والی تھی اور میں رات کے کھانے کے لیے مور شکار کرنے کی نیت سے نکلا اور تاریکی چھانے سے قبل مور سمیت شکار کر کے لوٹ آیا۔

اگلی صبح میرا دوست مسٹر پی برائی بروک پہنچ گیا جو اس ضلع میں حکومتی نمائندہ تھا۔ جب ہم تینوں شکاریوں نے ہاتھی کے نشانات نہ دیکھے تو فیصلہ کیا کہ وہاری ویلے جاتے ہیں جو یہاں سے مزید چھ میل آگے ایک مقام تھا۔

یہاں سے راستہ ابھرا ہوا اور پختہ تھا۔ اس سڑک کے دونوں جانب جنگل میں ۱۲ فٹ اونچے سنگی ستونوں کی قطاریں پھیلی ہوئی تھیں۔ اجڑے ہوئے اور ٹوٹے پھوٹے مندر درختوں کے اوپر سے دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پولاناروا اور انارجاہپورا جیسی عمارات یہاں بھی رہی ہوں گی۔ ہم مہاگم کے کھنڈرات سے گزر رہے تھے۔ ایک کھنڈر ۷۲ ستونوں پر کھڑا تھا جو ۱۲ ستونوں کی ۶ قطاروں پر مشتمل تھا۔ ہر ستون ۱۴ فٹ بلند اور ۲ فٹ چوڑا تھا اور ہر ستون کے درمیان ۲۵ فٹ کا فاصلہ تھا۔ سو یہ عمارت ۳۰۰ فٹ لمبی اور ۱۵۰ فٹ چوڑی ہو گی۔ اکثر ستونوں پر کھدائی کر کے تصاویر بنائی گئی تھیں اور جگہ جگہ سیڑھیاں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ پولاناروا جیسے مگر اس سے چھوٹے کھنڈرات تھے۔ ہمارا پختہ راستہ دو میل طویل تھا اور اس پر جگہ جگہ کیکٹس اور دیگر جنگلی نباتات اگ آئی تھیں۔ میں نے ایک جگہ جنگل میں گھسنے کی کوشش کی مگر زیادہ دور تک نہ جا پایا کہ جنگل ناقابلِ عبور تھا۔ تاہم جتنا بھی فاصلہ میں چلا، مجھے پکی اینٹیں اور مربع شکل کے پتھر دکھائی دیے جن کے درمیان جنگلی نباتات اگ آئی تھیں۔

سیلون میں اس شہر کی ابتدا کے بارے میں ہمیں تسلی بخش معلومات نہیں ملتیں۔ پہلی بار ہمیں اس شہر کے بارے میں ۲۸۶ قم میں معلومات ملتی ہیں مگر اس کے عہد یا اس کی تباہی کے بارے میں راوی خاموش ہے۔ اس ضلع میں مہاگم واحد بڑا شہر ہے جس کے کھنڈرات ملتے ہیں مگر پورے ملک میں جگہ جگہ مندر اور دیگر عمارات کے کھنڈرات موجود ہیں۔ میں نے کترگم کی پہاڑیوں میں سے ایک کی چوٹی پر عمارتوں کے کھنڈرات دیکھے ہیں۔ یہ سارا ضلع جنگلی اور غیر آباد ہے مگر زمانہ قدیم میں گنجان آباد اور مزروعہ رہا ہو گا۔ اس علاقے کی موجودہ شکل بتاتی ہے کہ تخلیق سے لے کر اب تک شاید ہی اس میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔

ایک جگہ ہم ڈھلوان سے اترے اور مانک گنگا دریا عبور کیا۔ یہاں ریت میں ابرق، سنگِ مردہ، نیلم، لعل اور جاکینت موجود تھے۔ زیادہ تر لعل تھے اور ریت جیسے سند باد جہازی کے خزانے کو بھی منہ چڑا رہی ہو۔ تاہم یہ سب بیکار تھا کہ میں نے ایک گھنٹہ صرف کیا کہ شاید کوئی مناسب جسامت کا لعل مل جائے مگر بڑے سے بڑا لعل بھی رائی کے دانے سے بڑا نہ تھا۔ مقامی لوگ اس ریت کی مدد سے ہاتھیوں کے دانت کاٹتے ہیں۔ ہاتھی کے چبانے والے دانت اتنے سخت ہوتے ہیں کہ کلہاڑی سے وار کیا جائے تو چنگاریاں نکلتی ہیں۔

دریا کے دوسرے کنارے سے چھوٹی سی پگڈنڈی پر دو میل کا سفر تھا جس کے دونوں جانب گھنا جنگل ہے۔ ہم وہاری والے کے گاؤں کے قریب پہنچے تو کھلا میدان دکھائی دیا جو جنگلی نیل کے پودوں اور موروں سے بھرا ہوا تھا۔ اس میدان کے دوسرے سرے پر واقع گاؤں سے گزر کر ہم نے جھیل کے کنارے سے چوتھائی میل قبل خیمے لگوا دیے۔ جھیل تین مربع میل چوڑی تھی اور ستاروالے کی مانند یہ بھی مہاگم والے شہزادوں نے تعمیر کرائی تھی۔

گاؤں میں بہت کم لوگ تھے اور جو تھے، وہ معمر افراد اور بچے تھے کہ باقی سبھی لوگ کٹرگام میلے کو گئے تھے۔ سو ہمیں ہاتھیوں کے بارے میں تسلی بخش معلومات نہ مل سکیں۔ تاہم مجھے یقین تھا کہ اگر اس علاقے میں ہاتھی موجود ہوئے تو یہیں ہوں گے۔ میرے یقین کی وجہ اس جھیل کے کنارے اگی ہوئی لمبی گھاس تھی۔ شام ڈھل چکی تھی اور قلی رات کے لیے الاؤ جلا رہے تھے۔ تاریکی چھانے لگی اور الاؤ پر بھونا جانے والا مور لگ بھگ تیار ہو گیا۔ ہم نے کھانا شروع کیا تو جھیل سے ہاتھیوں کی چنگھاڑ سن کر اطمینان ہو گیا کہ اگلے روز اچھا شکار ہو گا۔

میں پو پھٹنے پر مٹرگشت پر نکلا تاکہ جھیل کا جائزہ لے سکوں۔ سات ہاتھیوں کے پیروں کے نشانات سے علم ہوا کہ وہ رات کو ہم سے نصف میل دور پیٹ بھر رہے تھے۔ اس دوران میں نے بے شمار مور، جنگلی مرغیاں، خرگوش اور بطیں دیکھیں اور چیتل کے کئی غول بھی دکھائی دیے۔ تاہم ہاتھیوں کے خیال سے میں نے گولی چلانے سے گریز کیا اور خیموں کو لوٹ کر کھوجی روانہ کر دیے۔

دوپہر کو کھوجی لوٹے اور بتایا کہ دو میل دور ایک چھوٹا سا تالاب ہے جو جھیل کے مخالف کنارے پر واقع ہے۔ یہ تالاب گھنے جنگل میں ہے اور وہاں ہاتھیوں کے پیروں کے تازہ نشانات ملے ہیں۔ کھوجیوں کا خیال تھا کہ اس تالاب سے ہاتھی روزانہ رات کو پانی پینے آتے ہیں، سو ہمیں اس تالاب کے پاس چھپ کر رات گزارنی چاہیے۔ جھیل کے علاوہ کئی میل تک پانی کا کوئی اور تالاب نہیں تھا، سو ہم فوراً اس جانب روانہ ہو گئے۔

تالاب پر پہنچ کر ہم نے موقعے کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ تالاب کی چوڑائی اسی گز تھی اور اس کے اردگرد گھنا جنگل تھا۔ تالاب کے کنارے کئی بڑے درخت بھی موجود تھے اور ہر طرف چار فٹ اونچے پتھر پڑے تھے۔ ہمارے چھپنے کے لیے یہ پتھر بہت عمدہ آڑ ثابت ہوئے۔ ہم نے ان پتھروں کے اوپر ٹہنیاں بچھائیں تاکہ ہمارے سر اوپر سے دکھائی نہ دیں۔ پھر ہم ان پتھروں کے پیچھے لیٹ کر ہاتھیوں کا انتظار کرنے لگے۔

سورج غروب ہوا اور چاند نکل آیا۔ چاندنی میں تالاب کا پانی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا اور آس پاس کے درختوں کے تاریک سائے پانی پر پڑ رہے تھے۔ پھر اچانک ہمیں سانبھر کی آواز سنائی دی جو زیادہ دور سے نہ آئی تھی۔ مجھے مخالف کنارے پر دو یا تین سائے حرکت کرتے دکھائی دیے۔ چیتلوں کی آواز قریب تر آتی گئی اور جنگل میں سرسراہٹ کے بعد اچانک پانی میں چیتلوں کے حرکت کرنے کی آواز آئی۔ تاریک پسِ منظر کی وجہ سے ہم جانوروں کو پہچان تو نہ سکے مگر ان میں چیتل، جنگلی سور، سانبھر اور جنگلی بھینسے شامل تھے جو بہت بڑی تعداد میں پانی پینے اور نہانے آئے تھے۔ ہاتھی دکھائی نہ دیے۔

چند گھنٹے اسی طرح گزرے۔ ہوا بالکل ساکت تھی اور ہمارے اوپر اکا دکا بادل گزرتے رہے۔ جب بھی بادل چاند کے سامنے آتے تو اچانک تاریکی چھا جاتی۔ ہمارے بندوق بردار ہمارے اردگرد بیٹھے تھے۔ ان کا سیاہ رنگ پسِ منظر سے مل گیا تھا اور درختوں کے کٹے ہوئے تنے دکھائی دے رہے تھے۔ دس بج رہے تھے کہ مجھے شدت سے نیند آنے لگی۔ سو ایک شخص نگرانی پر بٹھا کر ہم بھنے مرغ سے انصاف کرنے لگے۔

کھانے کے بعد ہم نے چیری برانڈی کی ایک بوتل ختم کی تھی کہ میرے کندھے پر ہلکا سا لمس محسوس ہوا۔ مڑ کر دیکھا تو نگران تالاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی میں بولا، ’آلیہ (ہاتھی)‘۔ شبنم سے بچاؤ کی خاطر بندوقیں کمبلوں میں لپیٹ کر رکھی تھیں۔ میں نے ڈبلیو سے کہا کہ وہ بندوقیں نکال کر بندوق برداروں کو دے مگر آواز نہ پیدا ہو۔ پھر میں آہستہ سے اٹھ کر چل پڑا تاکہ ہاتھیوں کے مقام کا اندازہ لگا سکوں۔ چاندنی اور سایوں کا ملاپ اتنا الجھا دینے والا تھا کہ میں جب ہاتھی سے دس قدم دور پہنچا تو مجھے اس کی موجودگی کا احساس ہوا۔ میں نے تین ہاتھی دیکھے جن میں سے ایک بڑا جبکہ دو چھوٹے چھ چھ فٹ اونچے تھے۔ یہ تسلی کرنے کے بعد کہ اور کوئی ہاتھی قریب نہیں، میں واپس اپنی جگہ لوٹا اور سب کو ہاتھیوں کے بارے میں بتایا۔ تیار ہو کر ہم سب چل پڑے۔ ہم ہاتھیوں سے دس قدم دور تھے کہ اچانک ایک خار دار ٹہنی ڈبلیو کے کپڑوں سے الجھ گئی۔ کپڑا چھڑانے کے دوران آواز پیدا ہوئی اور ہاتھیوں نے سن لی۔ ہتھنی نے جونہی آواز سنی، اس نے مڑ کر ہماری جانب دیکھا اور اسی دوران ڈبلیو کی گولی اسے کہیں لگی۔ ب نے ایک چھوٹے ہاتھی پر گولی چلا کر اسے زخمی کیا۔ بچے کی چیخ سن کر ہتھنی اس کی جانب دوڑی۔ اب سبھی ہاتھی ہم سے پندرہ گز دور تھے۔ ہتھنی نے اپنے کان جسم سے چپکا لیے اور ہمیں تلاش کرنے لگی۔ میں اس کی جانب بھاگا تو ہتھنی فوراً میری جانب لپکی۔ رائفل کے دیدبان دکھائی نہیں دے رہے تھے، سو میں نے انتظار کیا کہ ہتھنی قریب آ جائے۔ جب ہتھنی چار گز کے فاصلے پر پہنچی تو میں نے گولی چلا دی۔ گولی لگتے ہی ہتھنی وہیں گر کر مر گئی۔ ب نے دوبارہ گولی چلا کر بچے کو مزید زخمی کیا تو بچہ چنگھاڑنے لگا۔ میں نے دوسری رائفل لی اور تالاب میں گھس کر دوسرے بچے کے قریب پہنچا اور اسے بھی مار لیا۔ پہلا بچہ اس دوران جنگل میں گھس کر غائب ہو چکا تھا۔

ہم اگلی شام پھر اس تالاب پر پہنچے اور اس مرتبہ ایک ہتھنی اور ایک بچہ آئے۔ ڈبلیو اور ب نے بچے کو جبکہ میں نے ہتھنی کو شکار کیا۔

اچھے شکاری کے لیے چاندنی رات کو پانی پر چھپ کر بیٹھنا قابلِ تعریف نہیں کہ یہ پیاسے جانوروں کا قتل ہے۔ سارے دن کے پیاسے جانور اپنی پیاس بجھانے آتے ہیں اور گولی ان کا استقبال کرتی ہے۔ زخمی ہو کر جانور جنگل میں غائب ہو جاتے ہیں اور کسی دور افتادہ مقام پر ایڑیاں رگڑ کر جان دے دیتے ہیں۔ بہترین نشانے باز بھی چاندنی میں اکثر نشانہ خطا کرتے ہیں کہ چاندنی میں ہر چیز غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔ تین میں سے دو جانور زخمی ہو کر فرار ہو جاتے ہیں۔

میں رات کو اس طرح کے شکار سے تھک گیا تھا اور دوبارہ یالے کے گرد و نواح کا رخ کیا۔ جلتے سورج کے نیچے گھوڑوں پر طویل سفر کے بعد میں دریا میں نہانے کو اترا۔ پانی تین فٹ گہرا اور اتنا شفاف تھا کہ تہہ میں بچھے کنکر صاف دکھائی دے رہے تھے۔

ابھی میں کولہوں تک اترا تھا کہ میرا ملازم چلایا، ’سار، سار، لوٹ آئیں، مورا مورا‘ اور اس نے ندی کے اوپری جانب کسی چیز کی طرف اشارہ کیا۔ یہ چیز مجھ سے دس یا بارہ گز دور تھی اور مجھے لگا کہ جیسے لکڑی کا ٹکڑا ہو۔ تاہم میں نے فوراً کنارے کا رخ کیا۔ آہستہ آہستہ یہ چیز میرے قریب آئی تو میں حیران رہ گیا کہ اس کا کالا پر پانی کی سطح سے ابھرا ہوا تھا۔ یہ نو فٹ لمبی شارک تھی۔

ندی کا پانی کئی جگہوں پر اتنا اتھلا تھا کہ شارک کی دم کا کچھ حصہ اور پشت بھی سطح کے اوپر دکھائی دے جاتی تھی۔ شارک ان مچھلیوں کی تلاش میں تھی جو یہاں بکثرت ہوتی ہیں۔ اس موسم میں اس ندی میں شارکوں کی کثرت ہو جاتی ہے جو مچھلیوں کے جھنڈوں کا پیچھا کرتی ہیں۔ میرا ملازم ہیجان میں مبتلا تھا کہ اس کا مالک چند لمحوں کی تاخیر کرتا تو جان گنوا چکا ہوتا۔ مقامی افراد نے مجھے کہا کہ پریشان ہوئے بغیر نہا لوں کہ ’اس موسم میں شارک انسان کو نہیں کھاتی‘۔ میں نے اس بات پر یقین نہیں کیا کہ شارک کو کیا علم کہ انسان کو کس موسم میں کھانا چاہیے اور کس موسم میں نہیں۔ میری سفید جلد سے شارک کو شاید دعوت ملتی۔

میں نے جتنے قابلِ شکار جانور اس علاقے میں جمع دیکھے، اتنی بڑی تعداد میں اور کہیں نہیں دیکھے۔ گرمی انتہائی شدت پر تھی اور یالے دریا کے آس پاس کا گھنا جنگل ہر قسم کے جانوروں کو سایہ دار پناہ فراہم کر رہا تھا اور ٹھنڈا پانی اور گھاس بھی بکثرت تھی۔ یہ جنگل ہر قسم کے جھاڑ جھنکار سے پاک تھا اور درخت بہت بلند تھے۔ آدمی سو گز تک آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ درختوں کی ٹہنیاں اس طرح گتھم گتھا تھیں کہ سورج کی روشنی کا کوئی گزر نہ تھا۔ اس مقام پر ہرنوں پر گھات لگانے کا عمدہ موقع تھا۔ میں کئی دن تک رائفل لے کر یہاں گھومتا رہا اور ان گنت جانور مارے۔ ہرنوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ میں محض نر شکار کرتا تھا۔ سارے دن کی گشت کے دوران پانچ منٹ بھی ایسے نہ گزرتے کہ ہرن، سانبھر، جنگلی بھینسے یا جنگلی سور نہ دکھائی دیتے ہوں۔ رائفل کی آواز سے اگر ہرنوں کا ایک غول فرار ہوتا تو دوسرا اس کی جگہ لینے کو فوراً پہنچ جاتا۔ ہاتھی البتہ دکھائی نہ دیے۔ میرے ہمراہ پچاس سے زیادہ قلی اور ملازمین تھے مگر شکار کردہ جانور اتنے تھے کہ وہ انہیں دھوئیں پر خشک نہ کر پا رہے تھے اور گوشت خراب ہو رہا تھا۔ سو میں نے اس علاقے کو چھوڑنے کا سوچا۔

میں نے ملازمین کو حکم دیا کہ اگلے روز ناشتے کے بعد روانگی کی تیاری کر لیں۔ یہ لوگ تیاریوں میں مصروف ہوئے ہی تھے کہ ایک مقامی آدمی خبر لے کر آیا کہ ہمارے کیمپ سے چار میل کے فاصلے پر ایک بدمعاش ہاتھی موجود ہے۔ سہ پہر ڈھل رہی تھی مگر میں نے یہ موقع گنوانا مناسب نہ سمجھا کہ ہم نے بہت دن سے ہاتھی نہ دیکھا تھا۔ میرا دوستب اور میں دونوں ہی گھوڑوں پر روانہ ہو گئے۔

ہمارا راستہ میدانوں سے گزرتا تھا اور اس میں جگہ جگہ خار دار جھاڑیاں تھیں۔ بے شمار جنگلی سور ہمیں شکار کی دعوت دیتے ملے۔ اس جگہ نیزے سے سور کے شکار بہترین موقع تھا کہ زمین مسطح اور گھڑ سواری کے لیے مناسب تھی۔ راستے میں ہرنوں اور جنگلی بھینسوں کے بے شمار غول ملے مگر ہم نے ہاتھی کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔ اس طرح چار میل کے سفر کے بعد اچانک ہمارا رہنما رکا اور اور ہمارے سامنے چوتھائی میل دور ہاتھی کی جانب اشارہ کیا۔ ہاتھی پچاس گز چوڑے گھاس کے قطعے میں کھڑا تھا جس کے تین اطراف خار دار جنگل تھا اور ہماری جانب سے کھلا راستہ۔ یہاں سے حملہ کرنا مشکل تھا کہ ہوا سیدھی ہم سے ہاتھی کو جا رہی تھی سو ہم سیدھی پیش قدمی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر ہم لمبا چکر کاٹ کر ہاتھی کے عقب میں خار دار جنگل سے آتے تو شام کا ڈھلتا سورج عین ہماری آنکھوں میں پڑتا۔ چونکہ اور کوئی حل بھی نہیں تھا، سو ہم نے چکر کاٹ کر ہاتھی کے پیچھے سے آنے کا فیصلہ کیا۔

گھوڑوں سے اتر کر ہم نے سائیسوں کو کہا کہ وہ گھوڑوں سمیت جھاڑیوں میں چھپ جائیں تاکہ ہاتھی کی نظر نہ پڑے۔ ہم نے ایک میل لمبا چکر کاٹا تاکہ ہوا کا رخ مناسب ہو جائے۔ جب ہم گھنے جنگل کی دوسری جانب پہنچے تو ہمارے اور ہاتھی کے درمیان جنگل کی پٹی تھی۔ اس جگہ پہنچ کر میرے اندیشے کی تصدیق ہو گئی کہ ڈھلتا ہوا سورج عین ہماری آنکھوں میں ہو گا۔ اگر قسمت یاوری نہ کرتی تو ہاتھی بچ کر نکل جاتا۔ خیر، ہم بہت احتیاط سے جنگل سے گزرے۔ جنگل کی یہ پٹی بمشکل پچاس گز چوڑی تھی اور اسے عبور کر کے ہم جلد ہی دوسری جانب پہنچ گئے۔

چالیس قدم دور ہاتھی ہماری جانب پیٹھ کیے کھڑا تھا اور دوسری جانب کا گھنا جنگل اس کے قریب تھا۔ میں نے اپنی چار اونس والی رائفل اٹھائی اور خاموشی سے تیز قدم اٹھاتا ہاتھی کی جانب بڑھا۔ عین اسی وقت ہاتھی نے سونڈ اٹھائی اور فوراً مڑ کر ہم پر حملہ آور ہو گیا۔ سورج عین آنکھوں میں چمک رہا تھا، سو میں نے اندازے سے اس کے سر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ گولی کھاتے ہی ہاتھی گرا مگر فوراً سنبھل کر اٹھا اور خار دار جنگل سے گزرتا ہوا بھاگا۔ بھاری گولی نے اس کی ہمت ختم کر دی تھی۔ ہاتھی کا فرار عین میرے خدشات کے مطابق ہوا تھا کہ خار دار جنگل میں ہاتھی کا پیچھا کرنا ممکن نہ تھا۔ تاہم ہاتھی کے حملے کو روک لینے پر ہی مجھے کافی خوشی تھی۔

اگلی صبح ہم لوگ واپسی کے لیے تیار تھے اور ناشتے سے قبل میں نے رائفل اور دو نالی بندوق سمیت ایک بندوق بردار ساتھ لیا اور مٹرگشت پر نکل کھڑا ہوا۔ سورج نکل رہا تھا اور میرا رخ دریا کی جانب تھا جو جنگل سے بہتا گزرتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ہمیں شکار کے قابل جانور دکھائی دیں گے کہ سورج نکلنے سے ایک گھنٹہ قبل جانور پانی پینے آتے ہیں۔ جلد ہی ہمیں چیتلوں کے بہت بڑے غول دکھائی دینے لگے مگر میں بڑے سینگوں والے نر کی تلاش میں تھا اور جب تک ایسا کوئی نر نہ ملتا، میں نے گولی نہیں چلانی تھی۔ راستے میں جنگلی بھینسوں کے غول بھی ملتے رہے مگر میں نے محض شرارت پر آمادہ دو بھینسوں کو شکار کیا۔ اگر میں چاہتا تو یہاں ان گنت جانوروں کو مار سکتا تھا مگر یہ شکار نہیں، قتل ہوتا۔ آخرکار دریا کے کنارے ایک گھنے درخت کے نیچے لیٹا ہوا بہت عمدہ سینگوں والا نر چیتل دکھائی دیا۔ میں نے ساٹھ گز کے فاصلے سے اسے شکار کیا۔ دس منٹ بعد مجھے ایک اور خوبصورت نر چیتل دکھائی دیا جو مجھ سے تیس گز دور جھاڑیوں میں کھڑا ہماری جانب دیکھ رہا تھا۔ اس کے نتھنے پھیلے ہوئے تھے کہ جیسے وہ بھاگنے والا ہو۔ میں نے جونہی گھوڑا چڑھایا تو چیتل بھاگ نکلا۔ تاہم اتنے نزدیک سے اس کے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اس کے سینگ بھی دس منٹ قبل شکار کیے گئے چیتل کے برابر تھے۔

پھر میں نے خیموں کا رخ کیا اور دریا کی تہہ میں اتر کر ریت پر چلنے لگا۔ اس طرح چلتے ہوئے نصف میل گئے ہوں گے کہ ڈیڑھ سو گز دور دریا میں گرے ہوئے ایک بڑے درخت کے تنے کے پیچھے حرکت سی محسوس ہوئی۔ تنے کی موٹائی پانچ فٹ تھی اس کے اوپر سے مجھے ایک بڑے نر چیتل کا سر اور سینگ دکھائی دیے۔ دوسری جانب پانی پینے کے بعد اس نے سر اٹھایا تو میری نظر پڑ گئی تھی۔ میں نے سہولت سے نشانہ لے کر گولی چلائی اور گولی لگتے ہی چیتل گرا مگر فوراً اٹھ کر بھاگا تو اس کا ایک سینگ غائب تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر وہ سینگ اٹھایا۔ گولی نے اس کے سر سے ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر سینگ کو کاٹ ڈالا تھا۔

اب یہاں سے خیمے زیادہ دور نہیں تھے، سو میں نے خالی رائفل بندوق بردار کو دی اور خود دو نالی بندوق اٹھا لی۔ ہم تیز قدموں سے ناشتے کے لیے چل پڑے۔ کچھ ہی دور گئے تھے کہ مجھے جھاڑیوں سے ایسی آواز آئی جیسے ہاتھی گزر رہا ہو۔ عین اسی لمحے ایک نر چیتل پوری رفتار سے بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا سر پیچھے کو جھکا ہوا تھا اور حیران کن سہولت کے ساتھ وہ جھاڑیوں سے گزر رہا تھا۔ میں نے اس سے بڑا نر چیتل پھر کبھی نہیں دیکھا۔ جب چیتل مجھ سے تیس گز دور تھا تو میں نے بندوق کی دائیں نال چلائی۔ ایک لمحے کو اس کی رفتار کم ہوئی اور میں نے دوسری نال بھی چلا دی۔ تاہم اب اس کی رفتار بہت سست ہو گئی تھی اور وہ لنگڑا بھی رہا تھا۔ رائفل بھر کر میں خون کے نشانات پر چل پڑا۔

یہاں نوعمر درخت بھی تھے اور میں نے دیکھا کہ کئی درختوں پر اڑھائی فٹ کی بلندی پر خون کے نشانات تھے۔ ریتلی زمین پر پگ بے ترتیب دکھائی دے رہے تھے اور اگلے ایک پیر کے نشانات بہت مدھم تھے جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اس کا ایک اگلا پیر متاثر ہوا ہے۔ آہستگی اور احتیاط سے میں نے ان نشانات کا تعاقب شروع کر دیا اور کبھی کبھار لیٹ پر جھاڑیوں کے نیچے سے بھی گرد و پیش کا جائزہ لے لیتا تھا۔ ایک گھنٹے تک اس طرح تعاقب جاری رہا اور نشانات مدھم ہوتے گئے اور خون کا بہاؤ بھی تھم گیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ خون کے دھبے اتنے کم ہو گئے تھے کہ مجھے اپنے بندوق بردار کو پچھلے نشان پر چھوڑ کر اگلے کی تلاش کرنی پڑتی تھی۔ آخرکار اس تعاقب سے میں مایوس ہو گیا اور کھڑا ہو کر اس چیتل کے پگوں کو اس جگہ سے گزرنے والے دیگر چیتلوں کے پگوں سے فرق کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک پچاس گز دور کسی جانور کے دوڑنے کی آواز آئی اور دیکھا تو زخمی چیتل ایسے بھاگ رہا تھا کہ جیسے اسے کوئی زخم نہ ہو۔ اگلے ہی لمحے میری گولی اس کے دل کے پار ہو گئی اور چیتل وہیں گر گیا۔ مجھے اس چیتل کی جسامت پر یقین نہ آیا کہ میں نے اتنا بڑا چیتل اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ اس کی جسامت بڑی مادہ سانبھر کے برابر تھی اور اس کے سینگ میرے شکار کردہ چیتلوں میں سب سے عمدہ تھے۔ آٹھ افراد دو ڈنڈوں پر اس کی لاش کو اٹھا کر کیمپ تک لائے۔

آٹھ بجے میں ناشتے کی خاطر اپنے خیمے کو پہنچا تو تین بہترین چیتل اور دو جنگلی بھینسے شکار کر چکا تھا۔ اب وقتی طور پر میرا جی سیلون کے شکار سے بھر چکا تھا، سو میں سیلون سے روانہ ہو گیا۔

٭٭٭

باب ۸

 

مندرجہ بالا تفاصیل سیلون میں میرے پہلے دورے سے متعلق تھیں۔ اس ملک میں میری آمد کا مقصد اس جزیرے سے واقفیت پیدا کرنا اور اس کے شکار سے لطف اندوز ہونا تھا۔ یہ تمام مقاصد ایک سالہ قیام میں پورے ہو گئے اور میں نے پورے ملک کی سیر بھی کی۔ پھر میں واپس انگلستان روانہ ہوا۔ تاہم قسمت نے میرے لیے نیا راستہ چنا تھا اور کچھ ہی عرصے بعد میں دوبارہ سیلون آیا اور اس مرتبہ نیویرا ایلیا میں رہائش پذیر ہو گیا۔

سابقہ تجربے کی روشنی میں میرے پاس مناسب ہتھیار تھے۔ میں اپنے ہمراہ چار عدد دو نالی ۱۰ بور کی رائفلیں لایا تھا جو میری منشا کے مطابق بنی تھیں۔ میرے شکاری چاقو اور چوڑے پھلوں والے نیزے میری مرضی کے مطابق پیکاڈلی کے پیجٹ نے عمدہ ترین فولاد سے بنائے تھے۔ سیلون پہنچنے پر میرے ہمراہ بہترین فاکس ہاؤنڈ کے علاوہ ایک بہترین تازی کتا ’بران‘ بھی تھا جس کی رفتار حیران کن حد تک تیز تھی۔ اب اس کی عمر کافی ہو چلی ہے مگر ابھی بھی زندہ ہے۔

نئی جگہ پہنچنے پر ہونے والی ابتدائی دشواریوں کے بعد میری رہائش گاہ یعنی نیویرا ایلیا بہترین مقام بن گئی۔ جلد ہی مجھے علم ہو گیا کہ خالص نسل کے فاکس ہاؤنڈ جنگلات سے بھرے ملک میں بیکار ہیں۔ کچھ کتے گم ہو گئے، کچھ مارے گئے اور اب ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں۔ تاہم ان کے اور پوائنٹر، بلڈ ہاؤنڈ اور مخلوط نسل کے فاکس ہاؤنڈ کتوں سے ان کے ملاپ کے بعد پیدا ہونے والے کتے سانبھر کے شکار کے لیے بہترین ثابت ہوئے۔

اس طرح کے کتے ہر اعتبار سے بہترین نہیں ہوتے۔ بعض اوقات بہترین ہاؤنڈ کتا بظاہر آوارہ دیہاتی کتا دکھائی دیتا ہے مگر اس کے بغیر پورا غول کسی کام کا نہیں ہوتا تھا۔ سو اس کی موجودگی لازمی تھی۔

تیندوؤں، جنگلی سوروں، سانبھر اور گم ہونے کی وجہ سے شکاری کتوں کی تعداد اتنی تیزی سے کم ہو رہی تھی کہ نسل کشی سے بھی ان کی کمی پوری کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ یاد رہے کہ سیلون میں گم ہونے والے کتے کی جگہ دوسرا کتا لانا ممکن نہیں۔ پورے ملک میں چند ہی مقامات ایسے ہیں جہاں کتوں کی افزائشِ نسل ہو سکتی ہے اور نیویرا ایلیا ان میں سے ایک ہے۔ نشیبی اور گرم علاقوں میں کتوں کی زندگی بہت مختصر اور قابلِ ترس ہوتی ہے اور عموماً امراضِ جگر سے ان کی موت ہو جاتی ہے۔ اگر کتوں کی افزائش نہ کی جائے تو ان کی تعداد پوری کرنے کی خاطر انگلستان سے کتے منگوانا بہت مہنگا پڑتا ہے۔

میرے کتا خانے میں اس وقت بیس کتے ہیں جو سانبھر کے شکار کے لیے بہترین ہیں۔ ان کی بڑی تعداد فاکس ہاؤنڈ کی ہے جبکہ چند ایک پکڑنے والے کتے بھی ہیں جو بلڈ ہاؤنڈ اور تازی کتے کے اختلاط سے پیدا ہوئے ہیں جبکہ دو لمبے بالوں والے لرچر یعنی پکڑنے والے ہیں جیسے سکاچ ڈیئر ہاؤنڈ ہوتے ہیں۔

شکار کے متعلق واقعات بتانے کے لیے ضروری ہے کہ میں ایسے کتوں کا تذکرہ کروں جو اب مارے جا چکے ہیں مگر ان کے بغیر واقعات کا تسلسل نہیں بن سکتا۔

’جادوئی آواز‘ کا سب سے پہلے جواب دینے والا کتا ’سمٹ‘ تھا جو کم از کم چار سو سانبھر اور جنگلی سوروں کے شکار کا اہم کردار رہا ہے۔ اس کی گہری آواز سب سے منفرد تھی۔ اس کے جسم پر مندمل زخموں کے ان گنت نشانات تھے۔ اس کا باپ منیلا ہاؤنڈ تھا جس سے سمٹ کو غصہ ملا تھا۔ اس کا حوصلہ ناقابلِ تسخیر تھا۔ اس کی جسامت بڑی مگر قد اونچا نہ تھا۔ اس کی ٹانگیں بہت بھاری تھیں۔ شانے پر اس کی اونچائی ساڑھے چھبیس انچ تھی جبکہ سینے کی چوڑائی ۳۴ انچ تھی۔ نوجوانی میں جب وہ کسی جانور کے پیچھے لگتا تو اس کی بھاری آواز پہاڑوں اور وادیوں میں گونجتی ہوئی سنائی دیتی تھی۔ جب اس کی عمر بڑھنے لگی تو اس میں چالاکی بھی پیدا ہو گئی اور اس نے خاموشی سے تعاقب کرنا سیکھ لیا کہ اسے علم ہو گیا تھا کہ آگے بھاگنے والا سانبھر اس کی آواز سنے گا تو اس کی رفتار تیز تر ہوتی جائے گی۔ بہت مرتبہ سمٹ پوری رات غائب رہنے کے بعد اگلی صبح واپس لوٹا تو اس کا پیٹ پھولا ہوا ہوتا تھا۔ اس نے بہت مرتبہ مادہ سانبھر کو اکیلے ہی شکار کر کے پیٹ بھرا ہوتا تھا۔ نوعمری میں جب وہ کسی جانور کے تعاقب میں نکلتا تو واحد کتا ہوتا تھا جو دو ہفتوں کے دوران دو نر سانبھر کو تنہا تعاقب کر کے جا گھیرتا اور اس دوران اسے اپنے مالک اور شکاری چاقو کی مدد حاصل ہوتی تھی۔ تب اس کا مالک ۱۵ویں رجمنٹ کا لیفٹیننٹ پرڈو تھا۔

اس نے کئی مرتبہ تیندوؤں سے لڑائی لڑی تھی اور واپسی پر اس کا حلیہ بگڑا، بال کھڑے ہوتے اور آواز مزید وحشت ناک ہو چکی ہوتی تھی۔

بلند ہمت اور شرافت میں سمٹ کا مقابلہ کوئی دوسرا کتا نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے بہت سے ایسے کتے دیکھے ہیں جو جنگلی سور کی کچلیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اس سے چمٹ کر اپنی جان دے دیتے ہیں مگر سمٹ اندھا دھند وار کرنے کی بجائے مناسب موقعے کی تلاش میں رہتا اور جونہی موقع ملتا تو بھوت کی مانند چمٹ جاتا۔ ایسے جنگلی شکار میں کہ جہاں شکاری اور کتے کا باہمی تعلق دونوں کی بقا کے لیے لازم ہو، وہاں سمٹ جیسے کتوں کا ہونا ایک نعمت ہے۔ جب بھی آپ چاقو ہاتھ میں لے کر جنگلی سور یا سانبھر کی طرف بڑھتے تو آپ کو پورا یقین ہوتا تھا کہ جونہی یہ جانور آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے رخ موڑے گا تو سمٹ نے اسے وہیں دبوچ لینا ہے۔ ایک بار دبوچنے کے بعد سمٹ نے کبھی اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی۔ بڑھاپے میں جب اس کے دانت گر گئے تو گرفت کمزور پڑ چکی تھی۔ بڑھاپے اور دانت گرنے کے باوجود بھی سمٹ ہمیشہ جھپٹنے والے اولین کتوں میں سے ایک ہوتا تھا۔ ضعف کے باوجود اس کی ہمت ہمیشہ بلند رہی اور آخرکار اس کی موت کا سبب بنی۔

دوسرا کتا جس کا میں تذکرہ کروں گا، اس کا نام ’کِل بک‘ تھا جو آسٹریلوی نسل کا تازی کتا تھا اور اس کی ہمت بھی لاجواب تھی۔ شانے پر اس کی اونچائی ۲۸ انچ جبکہ سینے کا گھیرا ۳۱ انچ تھا۔

سمٹ کی مانند غصیلا اور جھگڑالو ہونے کی بجائے کِل بک انتہائی شریف النفس اور حساس تھا۔ جب سانبھر کو پکڑنے کے لیے کِل بک جست لگاتا تو وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا کہ ایسے سانبھر کو چھونے کا تصور کوئی دوسرا کتا کر بھی نہیں سکتا تھا۔ اسے سانبھر پکڑنے میں ملکہ حاصل تھا جو میں نے کسی دوسرے کتے میں نہیں دیکھا۔ ایک بار کِل بک کسی جانور کے پیچھے لگتا تو اس کی موت یقینی ہو جاتی تھی اور کوئی بھی مقام یا کوئی بھی انداز کِل بک کو سانبھر پکڑنے سے نہ روک پاتا تھا۔ جب سانبھر ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا تو بھی کِل بک اپنی ناک زمین کے قریب رکھتے ہوئے پوری رفتار سے دوڑتا ہوا سانبھر کا تعاقب ایسے کرتا تھا جیسے فاکس ہاؤنڈ لومڑی کے پیچھے دوڑ رہا ہو۔ جب جانور ایک جگہ تھک کر رک جاتا تو بھی کِل بک اس پر نہ بھونکتا تھا۔ بل ڈاگ کی مانند وہ نڈر انداز سے سیدھا سانبھر کے سر پر حملہ آور ہوتا اور اس حملے کے دوران لگنے والے زخم سے بھی اسے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ اسی بے خوفی کی وجہ سے ہی عین جوانی میں کِل بک مارا گیا۔ اس کی عمر مختصر سہی، مگر اس کی یاد ہمیشہ میرے دل میں تازہ رہے گی۔

اگلا نمبر لینا کا ہے جو ابھی تک زندہ ہے۔ یہ آسٹریلیوی کتیا ہے اور اس میں خوبصورتی، حوصلہ اور جسامت سبھی بہت بڑے تھے۔ اس کے بال سخت تھے جیسے سکاچ ڈیئر ہاؤنڈ کے ہوتے ہیں۔

بران تازی کتے کی بہترین مثال تھا۔

لوسیفر کو اپنے والدین بران اور لینا کی خوبصورتی، رفتار اور حوصلہ ملے تھے اور ان اوصاف میں وہ اپنے والدین سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا تھا۔

اس کے علاوہ میرے کتوں میں اور بھی بہت سے اچھے کتے تھے مگر ان کا تذکرہ گول کر دیتا ہوں۔

اگر میں ان شکاروں کا پانچواں حصہ بھی لکھنے بیٹھوں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی اور قاری بوریت کا شکار ہو جائے گا۔ میں سیلون کے پہاڑوں میں کھیلے جانے والے شکار سے متعلق چند واقعات بیان کرتا ہوں کہ جن سے آپ کو اس نوعیت کے شکار اور اس سے وابستہ خطرات کا اندازہ ہو جائے گا۔

نیویرا ایلیا کے بارے میں میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس میں کھلے میدان اور جنگلات کے علاوہ تیز بہنے والے دریا اور چشموں کے علاوہ پہاڑ، وادیاں اور ڈھلوانیں ہیں مگر ایک خاص حصہ ہورنٹن پلینز مزید تفصیل سے بیان کرنے کے لائق ہے۔

کچھ برس قبل میں نے ۱۵ویں رجمنٹ کے اپنے ایک قریبی دوست لیفٹنٹ دے مونیٹا کے ساتھ یہاں دو ماہ کے شکار میں ۴۳ سانبھر شکار کیے۔

ہورنٹن پلینز نیویرا ایلیا سے ۲۲ میل کے فاصلے پر ہیں جس میں ۱۶ میل کا پیدل سفر جنگلات اور میدانوں کے علاوہ ٹوٹاپیلا کے پہاڑ کی چڑھائی پر بھی مشتمل ہے۔ سارا راستہ کافی دشوار گزار اور پگڈنڈی نما ہے۔ چڑھائی اتنی دشوار ہے کہ گھوڑا مشکل سے چڑھ سکتا ہے، سو گھڑ سواری ممکن نہیں۔ ڈیڑھ میل کی شدید چڑھائی کے بعد درے سے گزر کر آپ کو سارا علاقہ دکھائی دیتا ہے۔ نیویرا ایلیا کافی نیچے اور دور سے دکھائی دیتا ہے۔ مزید دو میل اونچے نیچے پہاڑی جنگلات سے گزر کر اچانک آپ کے سامنے ہورنٹن پلینز نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہ میدان نیویرا یلیا سے ۸۰۰ جبکہ سطح سمندر سے ۷۰۰۰ فٹ بلند ہیں۔ یہاں پہنچ کر ایسا لگتا ہے کہ سارے مناظر بدل گئے ہوں۔ ایسا نہیں لگتا کہ آپ اونچے پہاڑوں کے دامن میں وادی میں کھڑے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ آپ دنیا کی چھت پر پہنچ گئے ہوں۔ سارے میدان میں چند ایک چھوٹی پہاڑیاں دکھائی دیتی ہیں مگر باقی سارا میدان ہموار ہے۔ ہورٹن پلینز میں عجیب سی آزادی کا احساس ہوتا ہے کہ یہاں میلوں تک پالتو جانوروں، آبادیوں یا انسان کا کوئی وجود نہیں۔ جب انسان یہاں کھڑا ہوتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے۔ یہاں کی لطیف ہوا میں سانس لیتے ہوئے شکاری اپنے سامنے موجود شکارگاہ کا جائزہ لیتا ہے جہاں اسے کوئی حد بندیاں نہیں دکھائی دیتیں بلکہ پہاڑوں کی چوٹیاں اور گرے ہوئے درختوں کے تنے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں شکار کے قوانین کی بجائے اس کی مضبوط ٹانگیں، ہوا کا مناسب رخ اور شکاری چاقو اس کی مدد کرتے ہیں۔ یہاں موجود راستے ہاتھیوں اور سانبھروں کی گزرگاہیں ہوتی ہیں۔ یہاں کا ہر گوشہ اور کونا میرے لیے جانا پہچانا ہے۔ میں یہاں ان گنت مرتبہ شکار کھیل چکا ہوں۔

شکار میں دلچسپی تبھی پیدا ہو گی جب شکارگاہ کی مکمل تفصیل بتائی جائے۔ متذکرہ بالا میدان ۵ میل لمبا اور ۲ میل سے زیادہ چوڑا نہیں اور تقریباً ہموار ہے۔ اس کے تین اطراف جنگلات سے بھری ڈھلوانیں ہیں۔ اس کے نشیبی علاقے میں دلدلیں ہیں جہاں سے ایک بڑا دریا نکلتا ہے اور یہ دریا مہاویلی گنگا کا منبع ہے۔

اس میدان سے ۱۵ مزید میدان نکلتے اور مختلف سمتوں کو جاتے ہیں اور ان کی وسعت بڑھتی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ تنگ وادیاں اور گہری کھائیاں بھی ہیں۔ ان میدانوں کے زیادہ حصے سے دریا بہتا ہوا گزرتا ہے۔ اس کی ابتدا محض ایک ندی کے طور پر ہوتی ہے اور جوں جوں وہ نیچے اترتا جاتا ہے، اس کی رفتار اور وسعت بڑھتی جاتی ہے اور منبع سے ایک میل کے اندر اندر بیس یا تیس گز چوڑا ہو جاتا ہے۔ ہر میدان پچھلے سے زیادہ نشیب میں ہے اور دریا کا بہاؤ آڑا ترچھا ہے اور کہیں بہاؤ تنگ موڑوں سے گزرتا ہے تو کہیں بپھرے ہوئے نالے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کہیں تالاب آ جاتے ہیں تو کہیں ڈھلوانوں پر سو فٹ نیچے گزرتے ہوئے ایک اور میدان پہنچ کرتا لاب بنتا ہے جس کی گہرائی نامعلوم ہے اور پھر اگلی وادی سے گزرتا ہے۔

دریا میں اچانک آنے والے موڑ کے تالاب میں سانبھر پناہ لیتے ہیں اور یہاں بعض اوقات دو دو گھنٹے تک شکاری اور کتوں کو قریب نہیں آنے دیتے۔ ان تالابوں کی چوڑائی ساٹھ گز تک ہوتی ہے اور درمیان میں ریت کی بار موجود ہوتی ہے جو دریا کے بہاؤ کے ساتھ یہاں تک آتی ہے۔

یہاں ہم نے شکار کی نیت سے عارضی قیام گاہ بنائی تھی جسے ہم ’سانبھر لاج‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ یہ تنہا عمارت بہترین رہائش گاہ تھی۔ اس کا برآمدہ ۲۸ فٹ لمبا اور ۸ فٹ چوڑا تھا جبکہ طعام گاہ ۲۸ فٹ لمبی اور ۱۲ فٹ چوڑی تھی۔ اس کے علاوہ ۸ فٹ چوڑا آتش دان اور دو خوابگاہیں ۲۰ فٹ لمبی اور ۸ فٹ چوڑی تھیں جن میں ہرن کی کھالوں سے قالین کا کام لیا گیا تھا۔ دیواروں پر چوڑے پتے لگے ہوئے تھے۔ بیرونی حصے میں کتا خانہ موجود تھا اور تین گھوڑوں کے لیے اصطبل، باورچی خانہ اور ۲۰ قلیوں اور مزدوروں کی رہائش کا انتظام تھا۔

آتش دان ہمارے لیے باعث فخر تھا اور اس کے سامنے ۸ افراد آرام سے بیٹھ سکتے تھے۔ رات کے کھانے کے دوران اس میں الاؤ جلتا تھا اور کھانے کے بعد ہم پورٹ (شراب) پینے کے لیے آتش دان کے سامنے بیٹھتے تھے۔ شام کا وقت ہمارے لیے سماجی تقریب جیسا ہوتا تھا اور میں اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ دن بھر شکار کھیلنے کے بعد رات کا کھانا کھا کر سات بجے ہم اس آتش دان کے سامنے کرسیاں ڈال کر سگار نوشی اور پورٹ پینے میں مشغول ہو جاتے تھے۔ آٹھ بجے ہم سونے چلے جاتے اور پانچ بجے صبح بیدار ہو کر گرم چائے اور ڈبل روٹی سے ناشتہ کر کے شکار پر نکل پڑتے۔ ہمارا باورچی اس عمارت کا منتظم تھا۔

یہ باورچی کمال انسان تھا۔ اس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی تھی مگر اس کا سارا وقت کھانے کی مختلف ترکیبیں سوچنے میں گزرتا تھا۔ یہ آدمی کمال مہارت سے ایک جانور سے دوسرے جانور کا ذائقہ لاتا تھا۔ اکثر رات کے کھانے سے قبل اسے بلا کر ہدایات دی جاتیں:

’باورچی‘۔

’یس سار‘، باورچی داخل ہوتا ہے۔

’رات کا کھانا عمدہ بنانا‘۔

’یس سار‘۔

’رات کو مسالے دار یخنی ہو‘۔

’یس سار‘۔

’بچھڑے کی سری، مغز اور زبان‘۔

’یس سار‘۔

’آملیٹ‘۔

’یس سار‘۔

’مٹن چاپ‘۔

’یس سار‘۔

’مرغی‘۔

’یس سار‘۔

’گائے کا گوشت‘۔

’یس سار‘۔

’گودے والی ہڈیاں‘۔

’یس سار‘۔

یہ سب کھانے وہ محض سانبھر کے گوشت سے بسہولت سے بنا لیتا تھا۔

پہلی رات کو کتے خانے میں اپنی پسند کا مقام چننے کے لیے سمٹ، بران اور کِل بک خوب لڑے تھے۔ صبح سویرے جب پو پھٹ رہی تھی تو ہم نے کتوں کو باہر نکالا۔ چند ایک روشن ستارے ابھی تک چمک رہے تھے۔ کہرے کی لکیریں نیچے وادی میں دکھائی دے رہی تھیں جو ہوا کے ساتھ بتدریج تحلیل ہو رہی تھیں۔ عمدہ شکار کا دن شروع ہو رہا تھا۔

ہم بلندی پر کھڑے ہو کر جائزہ لے رہے تھے کہ دن کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ ہمارے لاج کے قریب ہی سانبھر کے تازہ پگ دکھائی دے رہے تھے جو رات کو ہمارے لاج کا معائنہ کرنے آیا تھا۔ دریا ہماری کمر تک گہرا تھا اور اسے عبور کر کے ہم کنارے کنارے آگے بڑھے۔ ہماری تلاش کا مقصد وہ جگہ تلاش کرنا تھی جہاں سے شام کو سانبھر پانی پینے کو اترا تھا اور یہ بھی کہ وہ مقام دریا کے دوسرے کنارے پر ہو گا۔ خاموشی سے چلتے ہوئے نصف میل دور ہمیں اچانک سانبھر کی کھردری آواز مخالف سمت کی پہاڑی سے سنائی دی۔ اگلے لمحے شکاری کتوں نے سیدھا اس آواز کی جانب دوڑ لگائی۔ آواز سے سانبھر کے مقام کا اندازہ لگاتے ہوئے میں نے اسی جانب کا رخ کیا۔ میرا رخ دریا کے بہاؤ کی جانب تھا۔ چوتھائی میل دور جہاں دریا نیچے وادی میں اترتا ہے، سے ایک سو گز کے فاصلے پر گھاس سے بھری پہاڑی ڈھلوان پر رکا۔ اس مقام سے مجھے سارا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میرے عین سامنے وہ پہاڑی تھی جہاں سے سانبھر کی آواز آئی تھی اور میرے نیچے دریا میں جہاں جنگل میں داخل ہو رہا تھا وہاں ایک تالاب تھا۔ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ میں منتظر رہا کہ کتوں کو سانبھر ملتا ہے یا نہیں۔ چند منٹ بعد اچانک کتوں کی آواز سنائی دی تو پتہ چلا کہ وہ بلندی کو جا رہے ہیں اور پھر چوٹی عبور کر کے ان کی آواز غائب ہو گئی۔ چند منٹ بعد بہت دور سے ان کی آواز آئی اور صاف پتہ چل رہا تھا کہ سانبھر سیدھا پہاڑوں پر چڑھ رہا ہے۔ ایک یا دو بار مجھے خوف ہوا کہ سانبھر کتوں سے پیچھا چھڑا کر کسی اور جگہ کو نہ نکل جائے۔ کتوں کی آوازیں اتنی مدھم ہو چکی تھیں کہ بڑی مشکل سے سنائی دے رہی تھیں کہ اچانک ہوا کا جھونکا اس سمت سے کتوں کی آواز کو لایا جو بتدریج بڑھتی گئی۔ سانبھر نے رخ بدل کر اب پہاڑی سے نیچے اترنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بہترین انداز سے بھاگتے ہوئے وہ جنگل سے نکلا اور کھلے میدان میں دوڑا۔ سانبھر بہترین نر تھا اور وہ کتوں سے کافی آگے تھا اور کتے ابھی تک جنگل سے نہیں نکلے تھے مگر ان کا شور قریب آتا جا رہا تھا۔ سانبھر نے سیدھا میرے نیچے تالاب کا رخ کیا۔ میں نے کتوں کو ہلاشیری دی۔ اتنی دیر میں سانبھر میری نظروں سے اوجھل ہو گیا کہ اس نے جنگل میں تالاب کا رخ کیا تھا۔

میں نے کتوں کو ایک بار پھر بلاوا دیا اور سمٹ سیدھا جنگل سے نکلا اور سانبھر کے قدموں پر بھاگتا اس کے پیچھے گیا۔ ببر شیر کی مانند دوڑتے ہوئے سمٹ نے سیدھا سانبھر کے فرار کی سمت پر دوڑ لگائی اور اس کے ساتھ ایک پوائنٹر کتا ڈان (بعد ازاں تیندوے کے ہاتھوں مارا گیا) اور کیٹو تھا جس نے پہلی بار سانبھر دیکھا تھا۔ باقی سارے کتے ایک مادہ کی بو پر اس کے پیچھے لگ کر مختلف سمتوں کو بھاگ رہے تھے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ سانبھر نے کسی پگڈنڈی کو پکڑ کر نیچے وادی کا رخ کیا ہو گا۔ سو میں نے ہرنوں کی ایک گزرگاہ پر دوڑ لگائی تاکہ میں بھی وادی میں کم سے کم وقت میں پہنچ سکوں۔

ابھی میں سو گز بھاگا کہ مجھے سمٹ کی آواز آئی جس سے واضح تھا کہ سانبھر فرار کا راستہ مسدود پا کر ایک جگہ رک گیا ہے۔ اس آواز کے ساتھ ہی آبشار کی آواز بھی آ رہی تھی۔ میں اس آبشار کے متوازی تھا۔ میں نے فوراً اپنا رخ بدلا اور چند لمحوں میں آبشار کے سرے پر پہنچ گیا۔ اس جگہ ایک نر سانبھر تین فٹ گہرے تالاب میں کھڑا تھا اور اس تک پہنچنے کے لیے کتوں کو تیرنا پڑتا۔ جب میں اس تالاب میں اترا تو سانبھر اس جگہ سے نکلا اور سیدھا کتوں کے درمیان سے ہوتا ہوا دریا کے دہانے پر پہنچا۔ تاہم وہ دہانے پر نہیں بلکہ ہرنوں کی ایک پگڈنڈی پر گیا تھا۔ یہ راستہ ایک انتہائی ڈھلوان سے گزرتا تھا۔ ڈھلوان اتنی شدید تھی کہ مجھے درختوں کی شاخیں پکڑ پکڑ کر نیچے اترنا پڑا۔ آبشار میرے دائیں جانب چند فٹ دور تھی اور اس کا شور اتنا تھا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔ میں نے اترنے میں احتیاط کی کہ کتے اور سانبھر میرے سامنے ہی کہیں ہونے تھے۔ آبشار کا شور اتنا تھا کہ توپ کی آواز بھی سنائی نہ دیتی۔ میں ایک تہائی راستہ نیچے اترا۔ آبشار پچاس فٹ کی بلندی سے گر رہی تھی۔ پہاڑی کے کنارے سے ایک بڑی اور ہموار چٹان نکلی ہوئی تھی جو چھ مربع فٹ ہو گی۔ اس کے ایک کنارے پر پانی گر کر نیچے جا رہا تھا۔ اس جگہ پہنچنے کے لیے ایک تنگ سی گزرگاہ تھی جس کے نیچے تیس فٹ گہرائی میں آبشار کا پانی جیسے کھول رہا تھا۔ سانبھر نے اسی جگہ کو پناہ کے لیے چنا تھا۔ شکاری یا کتوں میں سے جو بھی اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا تو وہ سانبھر کے حملے کے نتیجے میں تیس فٹ نیچے پانی میں جا گرتا۔ کتوں کو بھی اس صورتحال کا بخوبی اندازہ تھا اور وہ دور کھڑے بھونک رہے تھے۔ میں نے اوپر کھڑے ہو کر سانبھر کو پتھر اور لکڑیاں مار کر وہاں سے نکالنے کی کوشش کی۔

جب سانبھر میرے حملوں سے پریشان ہوا تو اس نے سیدھا جست لگا کر کتوں پر حملہ کیا اور سیدھا ڈھلوان پر اترتا چلا گیا۔ میں نے فوراً کتوں کے ساتھ پیچھا کیا۔ درختوں کی ٹہنیوں اور بیلوں کو پکڑ پکڑ کر میں نیچے پہلی آبشار کے نچلے سرے پر پہنچا جس کے دونوں جانب عمودی دیوار نما چٹانیں تھیں۔

یہ مقام آٹھ فٹ لمبا تھا مگر آبشار سے گرنے والا پانی اس تنگ سی جگہ پر دو نالوں کی صورت میں تیزی سے بہتا ہوا دوسرے سرے سے ایک اور آبشار بنا رہا تھا جو نیچے وادی میں گرتی تھی۔

جب میں اس جگہ پہنچا تو بہترین منظر دکھائی دیا۔ دونوں نالوں کے درمیان سانبھر پیٹ تک گہرے پانی میں کھڑا تھا اور جھاگ دار پانی اس کی ٹانگوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ اس کی ایال کھڑی اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ اس نے سر جھکا کر اپنے سینگ سامنے کیے ہوئے تھے تاکہ جو بھی اس کی جانب بڑھے، وہ سینگوں کا نشانہ بن جائے۔ میرے پاس اتفاق سے ایک چھوٹا نیزہ تھا سو مجھے یقین تھا کہ سانبھر بچ کر نہیں جا سکتا۔ میں نے نعرہ لگا کر کتوں کا حوصلہ بڑھایا۔ میرا کتا ’کاٹو‘ کم عمر تھا اور یہ اس کا پہلا سانبھر تھا۔ میرا نعرہ سنتے ہی اس نے سیدھا سانبھر پر حملہ کیا اور سانبھر نے اسے سینگوں پر اٹھا کر جب پتھروں پر پھینکا تو اس نے حرکت بھی نہیں کی۔ سمٹ ہمیشہ جوش کی بجائے ہوش سے کام لیتا تھا۔

جب میں نے پانی میں چھلانگ لگائی تو سمٹ بھی بڑھا۔ سانبھر میری جانب لپکا تو عین اسی لمحے زرد رنگ کا ایک بالدار جسم دکھائی دیا کہ سمٹ نے اس کی گال پکڑ لی تھی۔ ایک کتا اس طرح کی صورتحال میں سانبھر کو نہیں سنبھال سکتا۔ پانی اتنا تیز تھا کہ سمٹ کے منہ میں کان کی بجائے گال آیا تھا۔ سانبھر نے فوراً موقعے سے فائدہ اٹھایا اور سینگوں پر سمٹ کو اٹھا کر اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوا اور سمٹ کو پتھروں پر مارنے کی کوشش کی۔ اگر میرے پاس نیزہ نہ ہوتا تو سمٹ کا یہ آخری شکار ثابت ہوتا۔ میں بروقت سانبھر کے پہلو میں پہنچا اور نیزہ اس کے شانے میں اتار دیا۔ چند لمحوں کی جد و جہد کے بعد سانبھر مر گیا۔ یہ سانبھر بھی انتہائی نڈر اور ہمت والا تھا۔

میں نے سانبھر کے سینگوں کو ایک جھاڑی سے باندھا تاکہ وہ پانی میں نہ بہہ جائے۔ پھر میں نے کتوں کا جائزہ لیا۔ سمٹ کو دو جگہ زخم لگے تھے اور کاٹو اب ہوش میں آ رہا تھا مگر اتنا زخمی تھا کہ حرکت کرنا دشوار ہو رہا تھا۔ سانبھر کا ایک سینگ اس کے کندھے کے نیچے کافی گہرائی تک چلا گیا تھا۔

ہورٹن میدانوں میں سانبھروں کی بہت بڑی تعداد اور نسبتاً کھلا ہوا مقام ہونے کی وجہ سے نیویرا ایلیا سے یہاں شکار کا مزہ کہیں زیادہ آتا تھا کہ نیویرا ایلیا میں پہاڑ نسبتاً چھوٹے اور کم تھے جبکہ جنگلات انتہائی گھنے۔ ہورٹن میدانوں میں دو ماہ کے دورے میں ہم نے ۴۳ سانبھر مارے جبکہ مزید دس سانبھروں کو کتوں نے گھیر کر خود ہی چیر پھاڑ لیا تھا۔ شام کو جب یہ کتے پہنچتے تو ان کے پھولے ہوئے پیٹ ان کے شکار کا ثبوت ہوتے تھے۔ ایسا عموماً تب ہوتا تھا جب سانبھر ایسے جنگلات کا رخ کرے کہ وہاں انسان کے لیے پیچھا ممکن نہ ہو۔ اگر ایسا مقام ہو تو یا تو سانبھر بچ کر نکل جاتا یا پھر کتے اسے گھیر کر کھا جاتے۔

کچھ عرصہ قبل ہی میرے تین بہترین شکاری کتے گم ہوتے ہوتے بچے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک مادہ سانبھر ہورٹن میدانوں کے ایک چھوٹے سے جنگل سے نکلی اور میدان کا رخ کرنے کی بجائے واپس جنگل میں گھس گئی جہاں کسی قسم کی پگڈنڈی نہیں تھی۔ تین تازی کتے کِل بک، بران اور لینا اس کے پیچھے لگ گئے۔ سب سے آگے والا کتا مادہ سانبھر کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا رہا مگر مجھے ان کی خبر نہ ہوئی کہ یہ کتے سانبھر کا پیچھا کرتے ہوئے کوئی آواز نہیں کرتے تھے۔ رات ہوئی تو کتے واپس نہ لوٹے۔ اگلا دن بھی گزر گیا مگر کوئی کتا نہ لوٹا۔ میں نے مقامی افراد کو کتوں کی تلاش میں بھیجا جنہوں نے ہر سمت میں جنگل اور کھائیوں کو چھانا مگر ناکام رہے۔ تین دن گزر گئے تو میں نے ان کتوں کی واپسی کا خیال بھلا دیا۔ ایک رات ہم کھانا کھانے بیٹھے تھے اور ہمارے سامنے آتش دان روشن تھا اور تیز بارش ہو رہی تھی۔ ہوا بہت تیز تھی اور چاند بھی نہیں تھا۔ ہماری گفتگو کا رخ گمشدہ کتوں کی جانب تھا۔ ہم سوچنے لگے کہ ایسی تیز بارش اور ہوا سے رات کے وقت بے چارے کتوں کی کیا کیفیت ہو گی کہ وہ جنگل میں آوارہ پھر رہے ہوں گے اور ان کو واپسی کی کوئی امید نہیں ہو گی۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ہم نے دروازہ کھولا تو سامنے دو مقامی آدمی پوری طرح بھیگے ہوئے کھڑے کپکپا رہے تھے۔ ایک آدمی کے ہاتھ میں سانبھر کا سر تھا جو کافی کھایا جا چکا تھا جبکہ دوسرے کے پاس تینوں گمشدہ کتے کھڑے تھے۔ کتوں نے سانبھر کو پکڑ کر کھا لیا تھا اور کئی میل دور دریا کے کنارے دو کتے ایک غار میں سو رہے تھے جبکہ تیسری کتیا ادھ کھائے سانبھر کی لاش سے پیٹ بھر رہی تھی۔ ہم نے ان بندوں کو اندر بلا کر الاؤ کے سامنے بٹھایا اور عمدہ کھانا پیش کیا اور پھر شراب بھی پلائی۔

ہورٹن میدانوں پر سانبھر بہت زیادہ ہیں مگر ماداؤں کی کثرت کی وجہ سے ان کے شکار میں دلچسپی جلد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ہر آٹھ مادہ کے مقابلے میں ایک نر شکار ہوتا تھا۔ اس مقام پر نروں کی تعداد میں اتنی کمی کی وجہ بتانا میرے لیے ممکن نہیں۔ نیویرا ایلیا میں ہر مادہ کے مقابلے میں دو یا تین نر ہوتے ہیں۔ میری شکاری کتاب سے نیچے دی گئی تعداد سے آپ کو شکار کردہ سانبھروں کے بارے میں مناسب اندازہ ہو جائے گا:

۱۸۵۲

۲۴ مارچ: ایک مادہ، سانبھر پلینز

۳۰ مارچ: دو مادہ سانبھر نیویرا ایلیا میں شکار ہوئیں

۳ اپریل: ہیک گالا پہاڑی کے دامن میں ایک مادہ شکار ہوئی

۵ اپریل: ایک نر پیڈرو کے دامن میں شکار ہوا

۸ اپریل: ایک مادہ درے کے اوپر شکار ہوئی

۱۳ اپریل: ایک نر درے کے دامن میں شکار ہوا

۱۶ اپریل: ایک نر درے میں دریا پر شکار ہوا

۱۹ اپریل: ایک مادہ بدولا روڈ کے میدان میں شکار ہوئی

۲۱ اپریل: پیڈرو کے دامن میں ایک نر شکار ہوا

۲۳ اپریل: متورتہ میدان میں ایک نر شکار ہوا

۲۵ اپریل: سانبھر پلینز میں ایک مادہ شکار ہوئی

۲۵ اپریل: سانبھر پلینز میں ایک سورنی شکار ہوئی

۲۷ اپریل: ایک نر سور چونے کے پتھر کی کان کے قریب مارا گیا

۳ مئی: ایک سورنی سانبھر پلینز میں شکار ہوئی

۶ مئی: دو مادہ سانبھر براک میدان میں شکار ہوئیں

۱۰ مئی: دو مادائیں شکار ہوئیں، ایک براک میدان میں جبکہ دوسری درے کے دامن میں

۱۲ مئی: ایک نر سانبھر نیویرا ایلیا کے میدان میں شکار ہوا

۱۹ مئی: ایک نر سانبھر نیویرا ایلیا کے دریا میں شکار ہوا

۲۲ مئی: ایک مادہ سانبھر پائنیئر لائنز لابوکیل میں شکار ہوئی

۳۱ مئی: دو مادہ سانبھر براک میدان میں شکار ہوئیں

۵ جون: پیڈرو کے دامن میں ایک نر سانبھر شکار ہوا

۸ جون: براک میدان میں ایک نر سانبھر شکار ہوا

۱۱ جون: کِکلمین میدان میں دو نر سانبھر شکار ہوئے

۲۴ جون: دو مادہ سانبھر نیویرا ایلیا کے میدان میں شکار ہوئیں

۲۸ جون: سانبھر پلینز میں ایک جنگلی سور شکار ہوا

۲۹ جون: ایک مادہ سانبھر

کل: ۲۸ سانبھر (۱۱ نر اور ۱۷ مادائیں) اور ۴ جنگلی سور

یہ کسی حد تک اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے کہ جب شکار سارا سال جاری رہے اور جانوروں کے لیے کوئی محفوظ وقت نہ ہو بلکہ موسم کی مناسبت سے شکار ہوتا ہو۔ ہم خشک موسم میں ہر ہفتے تین بار شکار کو نکلتے تھے جبکہ مرطوب موسم میں جب بھی دھوپ نکل آئے۔ برطانوی اعتبار سے یہ سخت شکاری طریقہ معلوم ہوتا ہے کہ شکاری کتوں کو شکار کردہ جانوروں کے گوشت پر پالا جائے مگر بڑے گوشت سے سستا پڑتا ہے اور اتنی بڑی مقدار میں یہاں گوشت کا انتظام ممکن نہیں۔ جب سانبھر کے سینگ مخمل میں ہوں تو اس کا گوشت سب سے بہتر ہوتا ہے۔ اس موسم میں نئے سینگ تقریباً پوری لمبائی پا جاتے ہیں اور ابھی نرم ہوتے ہیں۔ اس لیے سانبھر بہت احتیاط سے چلتے ہیں کہ کہیں سینگوں کی مخمل کو چوٹ نہ لگ جائے۔ اس لیے خوراک کی تلاش میں زیادہ محنت نہیں کرتے۔

سانبھر کی رفتار بہت تیز مگر چیتل سے کم تر ہوتی ہے۔ چیتل پہلے دو سو گز کے فاصلے تک بہترین شکاری کتوں سے دور جاتا محسوس ہوتا ہے مگر کھلے اور ہموار میدان میں انہی کتوں سے سانبھر کے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔ کتوں سے سانبھر کا شکار کم وقت میں پورا ہو جاتا ہے کہ شکاری کتے فوراً اس تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر جد و جہد شروع ہو جاتی ہے۔ اس جد و جہد کو فوراً چاقو سے ختم کر دینا بہتر ہوتا ہے ورنہ شکاری کتوں کے زخمی ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایک بار میں نے کِل بک کو انتہائی بہادری کے ساتھ سانبھر پکڑنے کا منظر دیکھا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ سانبھر پلینز پر میں نے ایک سانبھر کو جھاڑیوں سے نکل کر بھاگتے دیکھا تو فوراً ہی کِل بک اور بران کو اس کے پیچھے لگا دیا۔ سانبھر دو سو گز دور تھا مگر شکاری کتے چوتھائی میل میں سانبھر کے قریب پہنچ گئے۔ کِل بک بران سے آگے تھا۔ اگلے لمحے اس نے جست لگا کر سانبھر کے کان کو پکڑ لیا۔ سانبھر بیچارہ اس اچانک افتاد سے لڑکھڑایا اور قلا بازی کھا گیا۔ کِل بک اس کے کان سے لٹکا ہوا تھا۔ گرنے کے بعد جب سانبھر اٹھا تو کل بک اس کے بائیں کان کو پکڑ کر اس کی پشت پر لدا ہوا تھا اور سانبھر کی رفتار کافی تیز تھی۔ اتنی مشکل حالت کے باوجود کل بک نے کان نہیں چھوڑا مگر وزن کی وجہ سے سانبھر کا کان چرتا جا رہا تھا۔ کل بک کے وزن کی وجہ سے سانبھر کا سر اس کے گھٹنوں تک جھکا ہوا تھا۔ سو گز کی دوڑ کے بعد سانبھر نے دوڑنا چھوڑ کر چلنا شروع کر دیا۔ دونوں شکاری کتے اس کے کانوں سے لٹکے ہوئے تھے۔ سانبھر دریا پر پہنچا اور کتوں سمیت ڈھلوان پر لڑھکنے لگا۔ میں بروقت پہنچا اور سانبھر کو ہلاک کر دیا۔ دونوں کتے شدید زخمی تھے اور کچھ دن تک مجھے ان کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہ تھی۔

کتوں کی طرف سے جنگلی جانور کو پکڑنے کی یہ عمدہ مثال تھی اور کل بک اس کام میں لاجواب تھا۔ جنگلی جانور کو پکڑنا اور اپنی گرفت قائم رکھنا بہت اہم خوبی ہے۔ جب آپ کتوں اور شکاری چاقو کی مدد سے جنگلی سور کا شکار کر رہے ہوں تو یہ خوبی اور بھی لازمی ہو جاتی ہے ورنہ شکاری کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بہت مرتبہ میں نے جب قریب پہنچ کر جنگلی سور کے جسم میں شکاری چاقو بھونکا تو وہ کتوں کی گرفت سے خود کو چھڑا لیتا تھا۔ اگر جنگلی سور بڑا ہو تو خطرناک حادثہ ہو سکتا ہے۔

میں نے ایک بار ایک ویدا دیکھا جو جنگلی سور کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا تھا۔ یہ آدمی کئی چھوٹے کتوں اور تیر کمان کے ساتھ گوہ کے شکار پر نکلا تھا۔ کتوں نے اچانک ایک بڑا جنگلی سور دیکھا اور اس کے پیچھے لپکے۔ سور فوراً اپنی جگہ رک گیا۔ ویدا نے تیر کمان سے جنگلی سور کو زخمی کیا تو جنگلی سور بجلی کی طرح اس پر حملہ آور ہوا اور اسے گرا کر بھاگ گیا۔ جب یہ شخص زمین پر گرا تو سور کی کچلیوں نے اس کا پیٹ کھول کر انتڑیاں نکال دی تھیں۔ شکر ہے کہ اس آدمی کا دوست ساتھ ہی تھا جس نے اس کی انتڑیاں واپس پیٹ میں رکھ کر پٹی باندھی۔ کئی برس بعد میں نے اس آدمی کو دیکھا تو اس کے پیٹ پر آگے کی جانب کافی بڑا ابھار تھا اور آٹھ انچ لمبے مندمل زخم کا نشان بھی واضح تھا۔

جب آپ کتوں اور شکاری چاقو سے جنگلی سور کا شکار کرنے نکلیں تو وہ ہمیشہ ہی مشکل ثابت ہوتا ہے۔ سب سے بڑا جنگلی سور جو میں نے مارا تھا، ۲۰۰ کلو وزنی تھا۔ اس روز میں اپنے سب سے چھوٹے بھائی کے ساتھ شکار پر نکلا تھا اور ہم نے کئی جنگل چھان مارے مگر شکار نہ ملا۔ جب ہم سانبھر پلینز پر پہنچے تو ہمیں تازہ کھدی ہوئی زمین دکھائی دی جو جنگلی سور کی نشانی ہے۔ چند منٹ میں ہم نے کتوں کو بغیر دوڑے ایک جگہ سور کو روکے جانے کی آواز سنی۔ کتوں کی موجودگی سور کو پسند نہ آئی اور اس نے پھر چلنا شروع کر دیا۔ تین منٹ چلنے کے بعد وہ پھر رک گیا۔ جنگل انتہائی گھنا تھا اور ہم بمشکل اپنا راستہ بناتے جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ دو بہترین کتے لوسیفر اور لینا تھے اور سور سے بیس گز دور پہنچ کر ہم نے کتوں کو ہلاشیری دی۔ دونوں کتوں نے اندھا دھند دوڑ لگا دی اور فوری سور کی چنگھاڑ سنائی دی۔ ہمیں علم ہو گیا کہ کتوں نے سور کو قابو کر لیا ہے اور ہم نے ہرممکن تیزی سے اس جانب دوڑ لگائی۔ جائے وقوعہ پر زمین کھدی اور جھاڑیاں اکھڑی ہوئی تھیں اور جنگلی سور ادھر ادھر بھاگ رہا تھا جبکہ سمٹ، بران، لینا اور لوسیفر، سبھی اس پر پلے پڑے تھے۔ ہم نے کتوں کو شاباش دی اور کئی کتوں نے سور پر حملہ کیا۔ اگلے لمحے ہم سور کے قریب تھے اور سور اور کتے ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے۔ ہم نے سور پر جست لگائی اور اس کے جسم میں چاقو کئی بار گھونپا مگر اس کا زیادہ اثر نہ ہوا۔ سور نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے سر گھمایا تو سمٹ نے اسے ناک سے پکڑ لیا۔ سور نے اپنی کچلیاں سمٹ کی گردن میں گھسا دیں مگر سمٹ نے گرفت نہ ڈھیلی کی۔ کتوں کی کوشش کے باوجود سور انہیں اٹھا کر بھاگا۔ ہمارے شکاری چاقو سور کے شانوں میں پیوست تھے مگر سور ہمیں بھی ساتھ لیے بھاگ رہا تھا۔ پچاس گز تک جنگل اتنا گھنا تھا جیسے مکڑی کا جالا ہو۔ آخرکار سور رکا اور کتے اور ہم بھی رک گئے۔ ہم سب خون اور گرد سے اٹے ہوئے تھے اور ہماری آواز سے سور اور کتے، دونوں کو جوش چڑھ رہا تھا۔ سور نے ہمت نہ ہاری اور دائیں بائیں کتوں پر حملہ کرتا رہا۔ سور کی اونچائی ۳۸ انچ ہو گی اور سب سے بڑا کتا بھی اس کے سامنے بچہ دکھائی دے رہا تھا مگر کسی کتے نے اپنی گرفت ڈھیلی نہ کی۔ سور کافی زخمی ہو چکا تھا۔ پھر میں نے اس کی گدی پر چاقو سے وار کیا تو اس کا حرام مغز کٹ گیا اور سور وہیں گر کر مر گیا۔

سمٹ کے گلے پر دو گہرے زخم تھے جبکہ لینا کے کان کے نیچے زخم لگا تھا جبکہ بران کا منہ اس کے کان تک چرا ہوا تھا۔ کتے بری طرح بے دم تھے اور سور کی لاش کے پاس پڑے ہانپ رہے تھے۔ ہم نے سور کا سر کاٹا اور ایک ڈنڈے پر لٹکا کر ساتھ لیا اور کتا خانے تک لائے۔ میرے بھائی کا اور میرا مشترکہ وزن ڈیڑھ سو کلو سے زیادہ تھا اور چھ بھاری کتے بھی سور سے لٹکے ہوئے تھے مگر سور بلا کسی دقت کے ہمیں اٹھائے بھاگتا رہا تھا۔ اسی سے اس سور کی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر چاقو نہ ہوتا تو شاید سبھی کتے سور کے ہاتھوں یا تو مارے جاتے یا بری طرح زخمی ہوتے۔

اس طرح کے شکار میں بہترین کتے اکثر بری طرح زخمی ہوتے ہیں اور جانور کی ہلاکت کے بعد ان کو ٹانکے لگانے پڑتے ہیں۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پہلی نظر میں جو زخم لاعلاج دکھائی دیتے ہیں، وہ بہت تیزی سے بھر جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا کہ میں نے اپنے ایک بہترین کتے کی موت یقینی سمجھ لی تھی۔ ہوا کچھ یوں ہمیں ایک سانبھر دکھائی دیا جو کچھ دیر تیز دوڑ کے بعد دریا کے ایک گہرے حصے میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ ہم اس مقام کو بلیک پول یعنی کالے تالاب کے نام سے یاد کرتے تھے۔ میرا چھوٹا بھائی (مرحوم جیمز بیکر، کیمبرج یونیورسٹی والنٹیئرز کا لیفٹیننٹ کرنل، ہمیشہ میرے ساتھ شکار کا ساتھی رہا تھا) اور میں کچھ دور تھے مگر ہمیں اس تالاب کا مقام معلوم تھا، ہم پوری رفتار سے بھاگتے ہوئے ایک میل کی دوڑ کے بعد گھنی وادی میں پہنچے تو دیکھا کہ دریا میں کتے اور سانبھر کھڑے تھے۔ تاہم ابھی ہم قریب نہ پہنچے تھے کہ سانبھر مڑ کر کنارے پر چڑھا اور پہاڑی پر گھنے جنگل میں گھس گیا۔ زیادہ تر کتے دھوکا کھا گئے مگر دو کتے سانبھر کے عین پیچھے تھے۔ یہ کتے اتنے تیز تھے کہ سانبھر ان کی نظروں سے ایک بار بھی اوجھل نہ ہوا۔ یہ کتے میری مین اور ٹپ ٹو تھے اور پورا غول ان کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ پھر ہمیں پہاڑی کے اوپر سے ان کے بھونکنے کی آواز آئی اور ایسا لگا جیسے سانبھر اور کتے اب سیدھا نیچے بلیک پول کی جانب دوڑ رہے ہوں۔ ہم درختوں کے پیچھے چھپ گئے تاکہ سانبھر ہمیں نہ دیکھ سکے۔ سانبھر ہمارے قریب سے دوڑتا ہوا گزرا اور دریا میں کود گیا۔ چند لمحے بعد ٹپ ٹو اس کے پیچھے بھاگتا ہوا جنگل سے نکلا تو اس کی انتڑیاں اس کے پیچھے گھسٹ رہی تھیں۔ اپنی کیفیت کا احساس کیے بنا ٹپ ٹو نے سیدھا دریا میں جست لگائی اور اسے عبور کر کے دوسرے سرے کے جنگل پر غائب ہو گیا۔ باقی کتے اب دریا کو عبور کر کے دوسرے سرے پر سانبھر کی بو پر پھیل گئے۔ کچھ دیر بعد سانبھر واپس دوڑتا ہوا دریا میں گھسا اور ایک ایسے پتھریلے مقام پر جا کر رک گیا جہاں تیز بہاؤ کی وجہ سے کتے پیر نہیں جما سکتے تھے اور پانی میں بہہ جاتے تھے۔ یہاں سانبھر محفوظ تھا۔ ہم نے ٹپ ٹو کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ دکھائی نہ دیا۔ بیس منٹ تک اس انتہائی محفوظ مقام پر کھڑے ہونے کے بعد سانبھر نے غلطی کر دی اور اپنا مقام چھوڑ کر گہرے پانی کی جانب بڑھا۔ سارے کتے اس کے پیچھے لگے اور میری مین نے اسے پکڑا مگر سانبھر نے گرفت چھڑا لی۔ اس نے کئی مرتبہ سانبھر کو پکڑنے کی کوشش کی مگر پانی کے بہاؤ کی وجہ سے اس کی کوششیں ناکام رہیں۔ سمٹ اس کے قریب تھا اور اس کی بھاری آواز دور تک سنائی دے رہی تھی مگر وہ کچھ نہ کر سکتا تھا۔ سانبھر کندھے تک گہرے پانی میں کھڑا تھا اور جونہی کوئی کتا قریب آتا، وہ پچھلے پیروں پر کھڑا ہو کر اگلے سموں سے وار کرتا۔ آدھے گھنٹے تک اس طرح کی صورتحال کے بعد سمٹ کو اچانک ایک خیال آیا اور اس نے کنارے کا رخ کیا۔ دیگر کتوں کی وجہ سے سانبھر نے سمٹ پر توجہ نہ دی۔ سانبھر کا فاصلہ کنارے سے ۱۴ فٹ ہو گا اور کنارے پر جنگل تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں سمٹ تیندوے کی سی مہارت سے چھپتا چھپاتا سانبھر کے عین مخالف سمت آتا دکھائی دیا۔ چند قدم پیچھے ہٹ کر سمٹ نے جست لگائی اور سیدھا سانبھر کے کان کو پکڑ کر لٹک گیا۔ جست کی وجہ سے پانی اچھلا تو ہمیں کچھ نہ دکھائی دیا مگر جب منظر صاف ہوا تو سمٹ اور سانبھر پانی کے نیچے تھے۔ جب وہ ابھرے تو میری مین نے اس کا دوسرا کان پکڑ لیا اور تیسرے کتے نے بھی اس کے جسم میں اپنے دانت گاڑ دیے۔ سانبھر نے پانی میں غوطہ لگا کر کتوں کو بھگانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ چاقو کے ایک ہی وار سے سانبھر کا کام تمام ہو گیا۔

اب ہم نے ٹپ ٹو کی لاش کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ ہمارا خیال تھا کہ جہاں وہ جنگل میں گھسا تھا، اس کی لاش وہیں کہیں پڑی ہو گی۔ کچھ دیر بعد ہمیں ٹپ ٹو ایک جگہ پڑا ہوا ملا اور اس کی انتڑیاں ابھی تک باہر تھیں۔ کتا ابھی زندہ تھا۔ سانبھر کے سم سے لگنے والا زخم دو انچ لمبا تھا اور آنتیں پھول چکی تھیں۔ سو میں انہیں واپس نہ ڈال سکا۔ چھوٹے چاقو سے میں نے زخم کو کچھ بڑا کیا اور پھر آنتیں صاف کر کے اندر ڈال دیں اور اپنی نکٹائی اتار کر پھاہا سا بنا کر اس کے زخم پر باندھ دی۔ اس دوران مجھے یقین تھا کہ ٹپ ٹو کسی وقت بھی مر سکتا ہے۔ پھر ہم نے اپنی جیکٹیں ڈنڈے پر باندھ کر ٹپ ٹو کو لادا اور گھر واپس لوٹے۔ ہر روز اس کے زخم کو نیم کے تیل سے صاف کرتے رہنے کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ابھی بھی ٹپ ٹو پہلے کی مانند صحت مند ہے۔ بس اس کی ایک آنکھ سانبھر کا سینگ لگنے کی وجہ سے ضائع ہو چکی ہے۔

نیم کے تیل کی عجیب سی بو ہوتی ہے جس کی وجہ سے مکھیاں زخم سے دور رہتی ہیں۔ اگر مکھیاں بیٹھ جائیں تو انڈے دے جاتی ہیں اور چند گھنٹے بعد کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ نیم سیلون میں عام ملتا ہے مگر میں نے کبھی انگریز ڈاکٹر کو یہ تیل استعمال کرتے نہیں دیکھا۔ اس میں سخت بو کسی حد تک ہینگ سے مشابہہ ہوتی ہے۔ سیلون میں بہت سے ادویاتی پودے ملتے ہیں جنہیں مقامی لوگ عام استعمال کرتے ہیں مگر ہمارے ڈاکٹر ان پر توجہ نہیں دیتے۔ جنگل کی پیداوار میں ایک اور اہم پھل بیلگری ہے جو مقامی لوگ ہیضے اور پیچش کے آغاز پر استعمال کرتے ہیں۔ اسے انگریز ڈاکٹر کچھ برس سے سیلون میں استعمال کرتے آئے ہیں مگر بظاہر اس کا کوئی اثر نہیں محسوس ہوا۔

٭٭٭

باب ۹

 

جولائی ۱۸۴۸ کو میں نے سیلون کے پارک نامی مقام پر خیمہ لگایا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ گھوڑوں پر سوار ہو کر ہرنوں کو کتوں کی مدد سے شکار کریں گے۔ اس شکار کو انگریزی میں ڈیئر کورسنگ کہتے ہیں۔ میرے پاس تین شکاری کتے کل بک، بران اور لینا تھے جو پالکی پر سوار ۱۰۰ میل دور سے یہاں لائے گئے تھے۔ یہاں کی گھاس دو ماہ قبل جلائی گئی تھی سو ابھی چھ انچ جتنی خوبصورت اور ہموار گھاس اگی ہوئی تھی۔ ہرن بکثرت تھے مگر جنگلی۔ اس لیے شکار کا لطف دوبالا ہو گیا تھا۔ اس منظر کو یوں سمجھیں کہ جیسے خوبصورت برطانوی پارک ہو جس میں جگہ جگہ ندیاں اور ایک دریا بہہ رہے ہوں اور پانی کی کثرت سے سبزہ بے پناہ ہو اور جگہ جگہ چھوٹی پہاڑیاں بھی دکھائی دیں جو برطانیہ میں کم دکھائی دیتی ہیں۔ اگر یہاں نیویرا ایلیا جیسا موسم ہوتا تو یہ زمین پر بہشت کی مانند ہوتا۔ تاہم گرمی کی شدت سے نہ صرف شکار بلکہ کورسنگ کا لطف بھی کم ہو کر رہ گیا تھا کہ صبح آٹھ بجے کے بعد کتوں کو واپس لا کر سائے میں رکھنا ہوتا تھا ورنہ گرمی سے مر جاتے۔

سورج طلوع ہونے کے وقت گھاس پر کافی شبنم پڑی تھی اور پتوں پر شبنم سورج کی روشنی میں چمک رہی تھی۔ ہم نے ہرنوں کی تلاش میں ان میدانوں کا چکر لگایا اور کل بک اور لینا ہمارے ساتھ تھے۔ ہرنوں کے کئی غول نصف میل دور سے ہماری بو پا کر بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم تعاقب نہ کر سکے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جب تک ہمیں پوری طرح شکار کا یقین نہ ہو، ہم کتوں کو نہیں چھوڑیں گے کہ صبح سویرے ایک دوڑ بھی ان کو تھکا دیتی۔ کئی بار کی ناکامی کے بعد ہمیں ایک خوبصورت ہرن جنگل کی چھوٹی سی پٹی کے کنارے کھڑا دکھائی دیا۔ جونہی ہرن نے ہمیں دیکھا، اس نے جنگل کی راہ لی۔ میرے بھائی نے کتوں سمیت اس مقام کا رخ کیا جہاں سے ہرن جنگل میں گھسا تھا جبکہ میں نے دوڑ کر جنگل کے دوسرے کنارے کا رخ کیا اور نصف میل چوڑے اور ہموار گھاس کے میدان کے کنارے جگہ سنبھال لی۔

ابھی میں اس جگہ ایک منٹ بھی نہیں رکا ہوں گا کہ جنگل سے مجھے ایسی آواز سنائی دی جیسے ہاتھی راستہ بناتا آ رہا ہو۔ اگلے لمحے وہی خوبصورت ہرن پوری رفتار سے دوڑتا ہوا جنگل سے نکلا اور میدان میں جیسے اڑنے لگا۔ دونوں کتے اس سے پچاس قدم پیچھے تھے۔ ہرن اپنی پوری رفتار پر تھا اور کتے بھی اس کے پیچھے پیچھے پوری رفتار سے جا رہے تھے۔ کل بک آگے اور لینا اس سے ایک قدم پیچھے تھی۔

کتوں کی رفتار سے ہرن کو مشکل ہو رہی تھی اور ان کے درمیان فاصلہ گھٹتا جا رہا تھا۔ میدان عبور ہونے والا تھا اور محض ۲۰۰ گز دور جنگل موجود تھا۔ اس جنگل تک پہنچنے کے لیے ہرن نے اپنی رفتار بڑھائی اور کتوں کو بھی اس بات کا بخوبی علم تھا، سو انہوں نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی۔ اب جنگل کا کنارہ پچاس گز دور رہ گیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہرن جنگل میں گھسا تو کتے اس کے عین پیچھے تھے۔ اب ہمیں ہرن اور کتے دکھائی دینا بند ہو گئے تھے۔

میں فوری اٹھا اور جنگل میں گھسا تو ہرن اور کتوں کی نہ تو جھلک دکھائی دی اور نہ ہی آواز سنائی دی۔ تاہم راستے پر پچاس گز دور جا کر دیکھا تو ہرن اور کتے ایک ریتلی ندی کی تہہ میں کھڑے تھے۔ کتوں نے ہرن کو کانوں سے پکڑ کر اس کی ناک زمین سے لگائی ہوئی تھی اور ہرن خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔ چاقو سے ایک وار نے ہرن کا کام تمام کر دیا۔ میں نے اس شکار سے زیادہ خوبصورت مقام، دوڑ یا انجام نہیں دیکھا۔

جب ہم کیمپ واپس لوٹے تو میں نے پوری رفتار سے دوڑتی ہوئی ایک ہرنی کو زخمی کیا جسے لینا نے اکیلے ہی دبوچ لیا۔ اس طرح ہمارے ملازمین کے لیے گوشت مل گیا۔ چیتل کا گوشت انگریزی ہرنوں کی بجائے بکری کے گوشت جیسا ذائقہ رکھتا ہے اور بہت مزے کا ہوتا ہے۔ اگر اسے چند روز کے لیے محفوظ کیا جا سکے تو اس کا ذائقہ اور بھی بہتر ہو جائے۔

سیلون میں ڈیئر کورسنگ سے بہتر کوئی شکار نہیں مگر اچھے شکاری کتوں کی عدم موجودگی میں یہ کام بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ چیتل بہت طاقتور اور بہادر ہوتا ہے۔ شکاری کتے اس کا پیچھا کر کے اس تک پہنچ تو سکتے ہیں مگر زیادہ تر کتے اسے پکڑ کر رکھنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ایک چیتل کے لیے کئی کتے ہونا بہتر رہتا ہے اور اچھا گھوڑا بھی ساتھ ہو تو آپ اس شکار کو مناسب فاصلے پر رہتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ پارک میں دو ہفتے کے دوران ہم نے ۳ شکاری کتوں کی مدد سے ۱۷ چیتل شکار کیے اور اس کے بعد کتوں کے پیر اتنے زخمی ہو گئے کہ انہیں گھر بھیجنا پڑا۔ ان کے پیر زخمی ہونے کی وجہ پرانی گھاس کے جلے ہوئے سخت ٹھونٹھ تھے۔

جب کتے چلے گئے تو ہم نے ہاتھیوں کی جانب توجہ کی۔ اس موسم میں یہاں بہت کم ہاتھی تھے کہ یہ علاقہ خشک ہو چکا تھا۔ ہم لوگ کونڈاواتاوینی گئے جو بٹاکالوا کی سمت ہے (یہاں جنگل صاف ہو چکے تھے اور ۲۵، ۰۰۰ ایکڑ پر چاول کی کاشت شروع ہو چکی تھی اور ہاتھیوں کا مسکن اجڑ گیا تھا)۔ کونڈاواتاوینی ایک چھوٹی سی بستی ہے جہاں ماہی گیر رہتے ہیں۔ یہ بستی ایک بڑی جھیل کے کنارے ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہاں ہر قسم کا شکار بکثرت موجود ہے۔ مقامی آدمی ہاتھیوں کے شکار کے ماہر تھے۔ جلد ہی ہمیں بندوق بردار اور کھوجی مل گئے اور چار بجے ہم جھیل کے کنارے بڑے شکار کی تلاش میں نکلے۔ پانچ بجے ہمیں کچھ بدمعاش ہاتھی دکھائی دیے جو جھیل کے گرد مختلف جگہوں پر موجود تھے۔ جب میں نے دوربین سے جائزہ لیا تو ان میں سے ایک ہاتھی ایسا دکھائی دیا جس کے شکار میں ہمیں مشکل پیش آ سکتی تھی۔ یہ ہاتھی جھیل کے اندر گھس کر نہاتے ہوئے پیٹ بھر رہا تھا۔ اس ہاتھی اور ہمارے درمیان دو اور ہاتھی بھی موجود تھے۔ ہم نے سوچا کہ بڑے ہاتھی کی جانب بڑھتے ہوئے ہم ان ہاتھیوں کے شکار بھی کوشش کریں گے۔

ہم نے محتاط ہو کر پیش قدمی کی مگر جنگل اور جھیل کے پانی کے درمیان دو سو گز کا خالی میدان تھا جہاں سے گزرتے ہوئے ہاتھیوں نے ہمیں دیکھ لیا اور سیدھا جنگل کو فرار ہو گئے۔ ان کو درمیان میں ہی جا لینے کے لیے ہم نے دوڑ لگائی۔ ابھی ہم قریب نہ پہنچے تھے کہ ایک ہاتھی جنگل میں گھس گیا مگر ساٹھ گز کے فاصلے سے ہم نے دوسرے ہاتھی پر گولی چلائی اور وہ وہیں گر گیا۔ قریب پہنچ کر ہم نے دوسری گولی سے اسے ہلاک کر لیا۔ رائفلیں دوبارہ بھر کر ہم نے اس بڑے ہاتھی کا رخ کیا مگر گولیوں کے دھماکے سے خبردار ہو کر وہ جا چکا تھا۔

جھیل کے کنارے کے قریب دو ایکڑ پر پھیلا گھنا اور خار دار جنگل کا قطعہ تھا جو اصل جنگل سے کم از کم ۸۰ گز دور تھا۔ اصل جنگل اور اس قطعے کے درمیان بہترین ہموار زمین اور چھوٹی گھاس اگی ہوئی تھی۔ ماہی گیروں کو اس ہاتھی کی عادات کا بخوبی علم تھا کہ یہ ہاتھی یہاں روز آتا تھا اور یہ لوگ بولے کہ بدمعاش ہاتھی اسی قطعے میں چھپا ہو گا۔

سوال یہ پیدا ہوا کہ اس ہاتھی کو باہر کیسے نکالا جائے کہ اتنے گھنے اور خار دار جنگل میں گھسنا ممکن نہیں تھا۔

اس قطعے کی جانب اصل جنگل سے چند گز دور کچھ جھاڑیاں تھیں۔ ہم نے طے کیا کہ ہم انہی جھاڑیوں میں چھپ جاتے ہیں جبکہ ماہی گیر دوسری جانب جا کر ہاتھی کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے ایک ملاح کو اپنی اضافی بندوق دے دی اور خود جھاڑیوں کو روانہ ہو گئے۔ ماہی گیروں نے سیدھا جھیل کی سمت جا کر جنگل کے قطعے کا رخ کیا اور بہت اونچے درختوں پر چڑھ کر انہوں نے شور کرنا اور بندوق چلانا شروع کر دی۔ کچھ وقت گزرا مگر ہاتھی کی کوئی خبر نہ آئی۔ جب فائرنگ رک گئی اور ہر طرف خاموشی چھا گئی تو کچھ ماہی گیر واپس لوٹے اور بولے کہ ہاتھی وہاں نہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہاتھی کو بھگانے کے خیال سے ڈر رہے تھے۔ مجھے بدمعاش ہاتھیوں کے بارے میں علم ہے اور یہ ہاتھی بہت بدمعاش لگ رہا تھا۔ سو وہ جنگل میں چھپ کر انتظار کر رہا ہو گا کہ کوئی آدمی اس کے قریب سے گزرے تو اس پر حملہ کرے۔ میں نے ایک آدمی کو مزید بارود دیا اور کہا کہ جا کر پھر ہاتھی کو نکالنے کی کوشش کرے۔ ایک بار پھر انسانی شور اور بندوق کے دھماکے سنائی دینے لگے۔ جلد ہی سارا بارود ختم ہو گیا مگر ہاتھی نہ نکلا۔ اب کافی دیر ہو رہی تھی اور اندازہ تھا کہ ہاتھی ابھی وہیں چھپا رہے گا۔ ہر طرف خاموشی تھی کہ اچانک ایک شاخ ٹوٹنے کی آواز آئی اور اگلے لمحے ہاتھی جنگل سے نکلا۔ شاندار مگر اب تک دیکھے گئے ہاتھیوں میں سے بدمعاش ترین ہاتھی ایسے نکلا جیسے اسے پوری خبر ہو کہ اس کے خلاف کیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سونڈ لہراتے ہوئے اس نے جنگل کے سامنے کئی بار آگے پیچھے حرکت کی اور پھر سیدھا انہی جھاڑیوں کا رخ کیا جہاں ہم چھپے بیٹھے تھے۔ اس کا فاصلہ ہم سے اسی قدم تھا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ ہاتھی کو ہمارے موجودگی کا علم ہو چکا ہے، سو میں نے باہر نکل کر ہاتھی کا سامنا کرنے کا سوچا۔ اپنی چار اونس والی رائفل اٹھا کر میں جھاڑیوں سے باہر نکلا۔ انتہائی تیزی سے چلتا ہوا ہاتھی سیدھا میری جانب آیا اور اس کا سر اوپر کو اٹھا ہوا تھا۔ اس کا سر ایسی حالت میں تھا کہ اس پر یقینی نشانہ ممکن نہ تھا سو میں نے انتظار کیا۔ جب ہاتھی مجھ سے پندرہ قدم پر پہنچا تو میں نے پورے اطمینان سے گولی چلا دی۔ میرے سامنے کالے بارود کے دھوئیں کا بادل چھا گیا۔ مجھے اپنے نشانے پر بھروسہ تھا، سو میں نے دھوئیں کے نیچے سے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی کہ ہاتھی مر چکا ہو گا یا ابھی تڑپ رہا ہو گا۔ خدایا! میری گولی سے ہاتھی کی رفتار پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور وہ مجھ سے تین فٹ دور تھا۔ رائفل کو جھاڑیوں پر پھینک کر میں نے دوسری جانب قلا بازی لگائی اور دوڑ لگا دی۔ زمین بالکل ہموار تھی اور میں پوری قوت سے دوڑا۔ ہاتھی جنگل میں گھسنے کی بجائے مڑا اور سیدھا میرے پیچھے آیا۔ میں جب بھاگا تو اس سے تین فٹ آگے تھا۔ زمین اتنی ہموار تھی کہ اس پر ٹھوکر لگنے کا کوئی امکان نہ تھا، سو میں اتنا تیز دوڑا کہ جتنا زندگی بھر نہیں دوڑا ہوں گا۔ دوڑتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ہاتھی کی پیشانی پر گولی لگی ہے اور اس سے خون بہہ رہا ہے مگر ہاتھی اپنی سونڈ بڑھائے مجھے پکڑنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے۔ اس کی سونڈ مجھ سے دو فٹ دور ہو گی۔ میں اپنی پوری قوت سے دوڑ رہا تھا۔ میں نے دوڑ جاری رکھی اور ہاتھی ہر قدم پر مجھ سے قریب تر ہو رہا تھا۔ جب ہمارا درمیانی فاصلہ ایک فٹ رہ گیا تو میں نے سوچا کہ میرا بھائی کیوں نہیں گولی چلا رہا اور کوئی دوسرا آدمی میری مدد کو کیوں نہیں آ رہا؟ پھر مجھے خیال آیا کہ میرا بھائی اتنی تیزی سے دوڑتے ہوئے ہاتھی کا پیچھا کر رہا ہو گا مگر گولی چلانے کا موقع نہیں مل رہا ہو گا۔ میں نے فوری طور پر بائیں مڑ کر واپسی کا رخ کیا۔ ہاتھی میرے قریب سے گزرا تو میرا بھائی اس کے عین پیچھے دوڑ رہا تھا مگر اسے گولی چلانے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ ہاتھی نے مجھے ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو سیدھا جنگل کا رخ کیا۔ میں بال بال بچا تھا کہ زمین بالکل ہموار تھی۔ اگر ذرا سا بھی رکاوٹ ہوتی تو میں اب تک ہاتھی کا شکار بن چکا ہوتا۔ تاریکی چھانے والی تھی کہ ہم لوگ واپس خیمے کو لوٹے اور اس دوران ہم نے کئی مور اور مرغابیاں بھی شکار کر لی تھیں۔

رات بہت بے آرام گزری کہ مچھروں کی کثرت تھی۔ جب نور کا تڑکا ہوا تو مچھروں سے جان چھوٹی۔ نہانے کے بعد کافی سکون محسوس ہوا۔ صبح کی روشنی ہوتے ہی ماہی گیروں نے ہاتھیوں کی تلاش میں جنگل کا رخ کیا اور میں ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔ ان لوگوں کو ہاتھی پکڑنے سے بہت دلچسپی تھی اور اس کام میں مہارت بھی رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے اپنی رسیوں اور پھندوں کا معائنہ کرنا شروع دیا۔

دوپہر کو کھوجی لوٹے اور بتایا کہ پانچ میل دور ہاتھیوں کا ایک غول موجود ہے۔ ہم سب تیار تھے، سو فوری روانہ ہو گئے۔ میرے ساتھ میرا بھائی، چار بندوق بردار اور تیس ماہی گیر تھے۔ ہر ماہی گیر نے ہرن کی کچی کھال سے بنی رسیوں کے بیس بیس گز لمبے گٹھے اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ رسی ایک انچ موٹی تھی۔

جھیل کے کنارے تین میل کا چکر کاٹ کر ہم جنگل میں گھسے اور جنگل اور کھلے میدانوں سے گزرتے گئے۔ یہاں ہمیں نگران ملے جنہوں نے بتایا کہ یہاں سے چند سو قدم دور ہاتھیوں کا غول موجود ہے۔ ہوا کا رخ جان کر ہم نے احتیاط سے ان کے مقام کا رخ کیا۔ یہاں پیش قدمی بہت مشکل تھی اور جگہ جگہ دو فٹ اونچی دیمک کے ہد تھے اور اونچی گھاس کے علاوہ کھلا میدان تھا۔ دور سے دیکھیں تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہم کسی قبرستان میں چل رہے ہوں۔ اس کے علاوہ یہاں چھوٹی جھاڑیوں کے جھنڈ بھی تھے جن کے اوپر ہمیں ہاتھیوں کے ہلتے ہوئے کان دکھائی دیے۔ ہاتھی چرتے ہوئے کھلے میدان کی سمت جا رہے تھے۔ دن بہت خوبصورت تھا اور آسمان پر ہلکے بادلوں کی تہہ تھی اور دھوپ کی شدت ختم ہو چکی تھی۔ جھاڑی کے پیچھے چھپ کر ہم نے اس غول کو کچھ دیر دیکھا اور ایک ایک کر کے سبھی ہاتھی کھلے میں پہنچ گئے۔ دو ہاتھیوں کا رخ ہماری جانب تھا۔ اس غول میں سات ہاتھی تھے۔ ان کا درمیانی فاصلہ زیادہ نہ تھا جبکہ ایک ہاتھی باقیوں سے تیس گز دور تھا۔ ہم نے اسی تنہا ہاتھی کو پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اپنے بندوق برداروں کے علاوہ چار رسی والے بندوں کو بھی ساتھ لیا۔ باقی افراد ضرورت کے وقت پہنچ جاتے کہ زیادہ بندوں کی موجودگی سے ہاتھی خبردار ہو سکتے تھے۔ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ہم سامنے والے دونوں ہاتھیوں کے درمیان موجود دیمک کے ہد کے پیچھے بڑھتے چلے گئے۔ ہوا کافی تیز تھی اور ہم ہاتھیوں سے سات گز کے فاصلے تک پہنچ گئے۔ دونوں بڑے ہاتھی ایک ایک گولی کھا کر گرے اور شکار شروع ہو گیا۔ ہمارے بندوق بردار اتنے ماہر تھے کہ جونہی ہماری رائفل خالی ہوتی تو بھری رائفل ہمارے ہاتھوں میں موجود ہوتی۔ ہاتھی ابھی بیس گز بھی نہ جا پائے تھے کہ چھ ہاتھی شکار ہو چکے تھے۔ ساتواں ہاتھی جسے ہم زندہ پکڑنا چاہتے تھے، ہم اس کے پیچھے دوڑے۔ اس ہاتھی کی رفتار سات میل فی گھنٹہ رہی ہو گی سو ہم آسانی سے اس کے پیچھے دوڑ رہے تھے کہ جگہ جگہ دیمک کے ہد ہاتھی کے لیے رکاوٹ تھے جبکہ ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہ بنے۔ رسیاں تیار تھیں اور جونہی ہاتھی کا پچھلا پیر اوپر اٹھا، انتہائی مہارت سے ایک آدمی نے پھندا ڈال کر اسے جکڑ لیا اور پھر باقی رسی چھوڑ دی۔ ہاتھی کا رخ کی جنگل کی طرف تھا اور اسے پھندے کا احساس نہ ہو سکا اور رسی اس کے پیچھے جیسے لمبے سانپ کی طرح ہل رہی تھی۔ ہم ہاتھی سے بیس گز پیچھے اور رسی کے ساتھ دوڑ رہے تھے اور ہم نے اچانک حملے کے پیش نظر رائفلیں تیار کی ہوئی تھیں۔ آخرکار ہاتھی ایک خشک نالے تک پہنچا جو جنگل کے کنارے تھا۔ اس نے سوچا ہو گا کہ اب وہ محفوظ ہے۔ اس نے بھربھرے کنارے سے نیچے اترنا شروع کیا۔ ہم اس سے زیادہ تیز نکلے اور رسی کا دوسرا سرا ایک درخت کے گرد لپیٹ دیا۔ نیچے اترتی حالت میں جونہی رسی سخت ہوئی، ہاتھی گھٹنے کے بل گرا۔ تاہم گرتے ہی وہ دوبارہ اٹھا اور اپنی ٹانگ چھڑانے کے لیے زور آزمائی کرنے لگا۔ پھر اس نے اپنی پھندے والی ٹانگ اٹھائی اور سارے جسم کا وزن آگے کو ڈالا۔ اگر ایک انچ موٹی چمڑے کی رسی نہ ہوتی تو لازمی ٹوٹ جاتی۔ تاہم رسی میں اتنی لچک تھی کہ ہاتھی منہ کے بل گرا مگر رسی نہ ٹوٹی۔

کئی بار کی ناکام کوشش کے بعد ہاتھی نے ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ہاتھی مضبوطی سے بندھا ہوا تھا، سو ہم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی جاری رکھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے مکھی مکڑی کے جالے میں پھنس گئی ہو۔ جونہی ہاتھی حملہ کرتا تو دوسری جانب سے رسیوں کے پھندے ڈال کر باری باری اس کی ٹانگیں، سونڈ اور گردن بھی جکڑ دی گئیں اور ہاتھی چلنے کے قابل نہ رہا۔

ہمیں آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت لگا کہ ہم ہاتھی کو اس طرح جکڑ سکیں کہ وہ ہمارے ساتھ گاؤں جانے کے قابل ہو سکے۔

سب سے پہلے ہم نے اس کی سونڈ کو اگلی ٹانگ سے باندھا اور پھر اگلی ٹانگ کو ڈھیلی رسی سے اس کی پچھلی ٹانگ سے باندھا تاکہ وہ دو فٹ سے زیادہ لمبا قدم نہ اٹھا سکے۔ اس کی گردن اگلی دوسری ٹانگ سے بندھی تھی۔ اگلی اور پچھلی ٹانگوں کو رسی کے پھندے سے جکڑ کر تیس بندوں نے تھاما ہوا تھا۔

جب یہ سب کام ہو چکا تو ہاتھی کو کھول کر اسے گاوں کی طرف چلایا جانے لگا جو پانچ میل دور تھا۔ یہ کام اتنا آسان نہ تھا کہ دو آدمی اس کے سامنے چلتے ہوئے اسے برا بھلا کہتے اور چیزیں لہراتے جا رہے تھے اور ہاتھی ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل رہا تھا اور یہ آدمی سیدھا گاوں کو جا رہے تھے۔ رات ہوتے ہوتے ہم جھیل تک پہنچ گئے مگر ابھی دو میل کا سفر باقی تھا۔ سو ہم نے ہاتھی کو رات بھر کے لیے ایک درخت سے باندھ دیا۔ اگلی صبح ہاتھی کو گاؤں لایا گیا۔ ہاتھی ابھی پوری طرح جوان نہیں ہوا تھا اور بہترین حالت میں تھا۔ اسی وجہ سے پورے غول سے یہ ہاتھی چنا گیا کہ اس کی عمر سولہ سال کے لگ بھگ تھی اور اسے پالتو بنانا آسان تھا۔ اسے دو دن بھوکا رکھنے کے بعد پیٹ بھر کھانا دیا گیا اور اچھا سلوک کیا گیا۔ تیسرے دن اس کی سونڈ کو باندھ کر ایک آدمی اس پر سوار ہوا۔ ہندوستان میں استعمال کے لیے یہ ہاتھی اگر عربوں کو بیچا جائے تو اس وقت اس ہاتھی کی قیمت پندرہ پاؤنڈ تھی۔

اس علاقے میں چند روز قیام اور ہاتھیوں کے شکار کے بعد ہم پارک والے علاقے کو لوٹے۔ واپسی کے بعد پہلی شام کو ہم نے خیمے سے کچھ دور ہاتھیوں کی آوازیں سنیں۔ اگلی صبح پو پھٹتے ہی ہم نکلے اور پانچ میل دور ایک خار دار جنگل میں انہیں تلاش کرنے کے بعد تین ہاتھی شکار کیے۔ سارا دن بہت تھکا دینے والا تھا اور سہ پہر کو واپسی کے وقت ہمیں کھلے میدان میں ہرنوں کا ایک غول چرتا دکھائی دیا۔ اس علاقے کا نمبردار بہترین شکاری تھا اور یہاں شکار کے دوران وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کا نام "بندا” تھا۔ پورے سیلون میں یہ واحد مقامی آدمی تھا جو شکل صورت اور خاندان کے اعتبار سے مجھے خاندانی دکھائی دیا۔ یہ آدمی کافی خوش شکل تھا اور ہاتھ پیر متناسب تھے۔ ہرن کی طرح پھرتیلا اور ہر اعتبار سے بہترین پیدائشی شکاری تھا۔ کھوج لگانا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا اور سیلون کے تمام جانوروں اور ان کی عادات سے بخوبی واقف تھا۔ ہاتھیوں کے بارے میں اس کی معلومات بہت وسیع تھیں۔ اس نے میرے ساتھ ان ہرنوں پر گھات لگانا شروع کی اور طویل چکر کاٹ کر ہرنوں سے ستر گز کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ زمین مسطح نہیں تھی اور ہرن ایک چھوٹی پہاڑی پر کھڑے تھے۔ دو اونس کی رائفل سے میں نے ایک شاندار نر گرایا تو پورا غول پہاڑی سے اتر کر غائب ہو گیا۔ بندا نے مجھے دو نالی رائفل تھمائی اور میں غول کے پیچھے بھاگا۔ جب میں پہاڑی کے اوپر پہنچا تو دیکھا کہ کافی دور نیچے وادی میں ہرن بھاگے جا رہے تھے۔ ایک نر غول سے چالیس گز پیچھے تھا سو میں نے فاصلے کے اعتبار سے پتی اٹھائی اور گولی چلا دی۔ گولی لگتے ہی ہرن گر گیا۔ میں نے دوسری نال سے غول پر گولی چلائی مگر نشانہ خطا گیا۔ میں نے گرے ہوئے ہرن تک فاصلہ گنا جو ۱۷۸ قدم بنا۔ میری گولی کچھ اوپر گئی تھی اور ہرن کے جسم کے اوپر سے ہوتی ہوئی گردن کو توڑ گئی۔ اتنے طویل فاصلے سے دوڑتے ہوئے ہرن پر کامیاب نشانہ بہت خوشی دیتا ہے اور بندا بھی بہت خوش ہوا۔

اس موسم میں پارک والے علاقے میں بہت کم ہاتھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھاس میں موجود پسو کی کثرت سے شکار کا لطف نہ رہا۔ یہ پسو باریک ذرے جتنے ہوتے ہیں اور جسم کے ہر حصے تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کے کاٹنے کے مقام پر بہت کھجلی ہوتی ہے۔ جتنا کھجایا جائے، خارش اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ ان سے بچاؤ ممکن نہیں مگر ناریل کا تیل لگانے سے کچھ فرق پڑتا ہے۔ سیلون میں پسو وغیرہ ہمیشہ ہی ہوتے ہیں۔ موسم خشک ہو تو پسو اور نم ہو تو مچھر۔ اس کے علاوہ جونکیں بھی ہوتی ہیں جو لباس کے کھلے حصوں سے داخل ہو کر مختلف جگہوں سے خون چوسنا شروع کر دیتی ہیں اور کئی دن بعد جب جان چھوڑتی ہیں تو خارش دے جاتی ہیں۔

اس طرح کے مسائل نشیبی علاقے کے شکار کے لطف کو غارت کر دیتے ہیں کہ شکار کے دوران ان سے بہت تکلیف ہوتی ہے مگر بعد میں شکار کی خوبصورت یادیں رہ جاتی ہیں اور ان تکالیف کو بھلا دیا جاتا ہے۔ دن بھر کی تھکن کے بعد شام کو آدمی جب غسل کر کے لباس بدلتا ہے تو جگہ جگہ جونکوں کے زخم سے خون رس رہا ہوتا ہے اور پسو سے ہونے والی کھجلی جان نہیں چھوڑتی مگر بہترین شکار سے انسان کو سکون ملتا ہے۔

پارک علاقے میں ایک مقام کا نام ڈمبولڈین ہے۔ اس مقام پر ایک بڑی چٹان لٹکی ہوئی ہے جس کے نیچے قیام خیمے کی نسبت بہتر محسوس ہوتا ہے۔ یہاں ہم نے رات گزارنے کا فیصلہ کیا کہ یہاں ہمارے علاوہ ہمارے ملازمین، سامان اور گھوڑوں کے لیے بھی کافی جگہ تھی۔ رات مچھروں سے پاک اور خنک تھی۔ صبح سورج طلوع ہونے سے شام پانچ بجے تک ہم نے سارا علاقہ چھانا مگر ایک بھی ہاتھی نہ دکھائی دیا۔ ہم نے شام کو دوربین کی مدد سے اس علاقے کی بیرونی حد پر دیکھا تو پتہ چلا کہ سامنے والے پہاڑ کے گھاس بھرے دامن میں ایک بڑا نر ہاتھی چر رہا تھا۔ ہم جس پہاڑ پر تھے، اس سے اتر کر وادی سے ہوتے ہوئے مخالف سمت ہاتھی تک پہنچنے پر کئی گھنٹے لگتے اور ابھی دن کی روشنی اتنی باقی نہیں تھی کہ ہم ایسا کر پاتے، سو ہم نے رخ موڑا اور پھر واپس اسی غار میں رات گزارنے کو چل پڑے۔ ہماری تھکن کی وجہ سارے دن کی مشقت نہیں بلکہ شکار نہ ملنا تھی۔ ہم اگلے روز کے بارے میں منصوبے باندھتے جا رہے تھے کہ اچانک مجھے ۲۰۰ گز دور ایک چھوٹی پہاڑی پر ۸ ہاتھی چلتے ہوئے دکھائی دیے جو نیچے وادی کے گھنے جنگل سے نکلے اور ہماری آمد سے خبردار ہو کر دوسری جانب جا رہے تھے۔

ہم نے دوڑنا شروع کر دیا کہ ہم ڈھلوان پر جا رہے تھے۔ جب ہم سامنے والی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے تو ہاتھی دوسری جانب کے جنگل میں داخل ہو رہے تھے۔ میرے بھائی نے بعجلت نشانہ لے کر گولی چلائی اور سب سے پچھلے ہاتھی کو گرا لیا۔ اگلے ہی لمحے باقی سب ہاتھی جنگل میں غائب ہو چکے تھے۔ چڑھائی پر دوڑنے کی وجہ سے ہماری سانس پھولی ہوئی تھی مگر چند لمحے بعد جب ہاتھی نیچے وادی میں جنگل کی دوسری جانب نکلتے دکھائی دیے تو ہم پھر دوڑ پڑے۔ اس مقام پر اونچی لیمن گراس اگی ہوئی تھی۔

جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہاتھی دور جا چکے تھے۔ گھاس کافی اونچی تھی اور ہاتھیوں کے گزرنے سے یہاں کچلی ہوئی گھاس کی لکیریں موجود تھیں جبکہ اطراف کی گھاس دس سے بارہ فٹ اونچی دیوار کی شکل میں موجود تھی۔ ان راستوں پر چلتے ہوئے دن کی روشنی دھندلکے میں بدل گئی۔ یہاں ہم رکے اور مشورہ کرنے لگے کہ اتنی دیر ہو چکی ہے، آیا ہم ہاتھیوں کا پیچھا کریں یا چھوڑ دیں۔ ابھی ہم یہ بات کر ہی رہے تھے کہ بائیں جانب قریب سے ہاتھی کے بھاگنے کی آواز سنائی دی۔ ہم نے قریب بلند جگہ کا رخ کیا اور دیکھا کہ ۱۰۰ گز دور کئی ہاتھی اونچی گھاس میں کھڑے تھے اور یہ مقام جنگل کے قریب تھا اور کئی ہاتھی جنگل میں چھپے ہوں گے۔ دو ہاتھی براہ راست ہماری جانب دیکھ رہے تھے، سو ہم سیدھا ان کی جانب چل پڑے۔ ہاتھی آرام سے کھڑے ہمیں دیکھتے رہے۔ جب ہم بیس گز کے فاصلے پر پہنچے تو انہوں نے چند قدم ہماری جانب بڑھائے۔ میری گولی کھاتے ہی ایک ہاتھی گرا جبکہ دوسرے ہاتھی نے میرے بھائی کی گولی کھاتے ہوئے رخ پھیرا۔ باقی غول سیدھا جنگل کو بھاگا۔ یہ مقام ہمارے اور ہاتھیوں کے لیے بہت دشوار تھا۔ یہاں بڑے پتھر بھی تھے اور پانچ سے چھ فٹ گہرے گڑھے بھی اور اونچی لیمن گراس بھی اگی ہوئی تھی۔ ہاتھیوں اور ہمارے لیے پیش قدمی کافی مشکل تھی۔ میں ایک ہاتھی کے پیچھے چلتے ہوئے انتظار کر رہا تھا کہ اس کا رخ مڑے تو میں اس کے شانے کے پیچھے گولی اتار دوں کہ میں اچانک سیدھا ایک گڑھے میں گرا۔ میرے ہاتھ میں چار اونس والی بھاری رائفل تھی، سو مشکل سے گڑھے سے نکلا تو دیکھا کہ ہاتھی جنگل میں گھس رہا تھا۔ ہاتھی مجھ سے بیس گز دور ہو گا کہ میں نے اس کے کان کے پیچھے گولی اتار دی اور ہاتھی وہیں گر گیا۔

اب تاریکی چھانے والی تھی، سو ہم مزید پیچھا جاری نہ رکھ سکتے تھے۔ رائفلیں بھر کر ہم نے غار کا رخ کیا جو الاؤ کی روشنی میں دور سے دکھائی دے رہا تھا۔ ہم جنگل کے متوازی چل رہے تھے اور ہاتھی اسی جنگل میں گھسے تھے کہ میرے ملازم والیس نے دبی آواز میں کہا کہ ہاتھی آ رہا ہے۔ یہ شخص بہترین بندوق بردار ہے۔ ملگجے اندھیرے میں ایک بڑا ہاتھی ہماری جانب تیز قدموں سے آتا دکھائی دیا۔ ہاتھی جنگل کے قریب تر اور ہم سے ۴۰ گز دور ہو گا۔ میرے بھائی نے اس پر گولی چلائی مگر ہاتھی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں نے دو نالی رائفل سے ایک گولی چلائی اور ہاتھی گر گیا۔ ہاتھی کے چنگھاڑنے کی آواز سنتے ہی میں اس جانب بھاگا۔ والیس بھی میرے ساتھ تھا۔ مجھے علم تھا کہ ہاتھی محض غش ہوا ہے مگر مرا نہیں۔ جلد ہی وہ ہوش سنبھال کر فرار ہو جائے گا۔ اونچی گھاس میں مشکل سے راستہ بناتے ہوئے میں اس کے قریب پہنچا مگر اندھیرا چھا چکا تھا اور ہاتھی دکھائی نہ دیا۔ اچانک قریب سے حرکت کی آواز آئی تو دیکھا کہ چھ فٹ کے فاصلے پر ہاتھی کی سونڈ اور کان دکھائی دیے۔ ہاتھی مجھ پر حملہ آور تھا۔ رائفل کی ایک نال میں گولی تھی سو وہ میں چلا دی اور ہاتھی گر گیا۔ گولی چلاتے ہی میں چند قدم پیچھے کو ہٹا تاکہ دیکھ سکوں کہ گولی کا کیا اثر ہوا کہ اندھیرے اور بارود کے دھوئیں سے مجھے کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔ اس دوران والیس نے میرے ہاتھ میں بھری ہوئی رائفل تھمائی۔ میری دہشت کا اندازہ کیجیے کہ مجھے پھر ہاتھی کی سونڈ اور کان اپنی جانب بڑھتے دکھائی دیے۔ اندھیرے کی وجہ سے نشانہ لینا ممکن نہ تھا، سو میں نے ایک بار پھر اس پر گولی چلائی اور ہاتھی گرا۔ میں چند قدم پیچھے ہٹا اور پھر دیکھا کہ ہاتھی پھر میرے سر پر تھا۔ پانچ قدم کے فاصلے سے میں نے اس پر ایک اور گولی چلائی اور بھاگ پڑا۔ ہاتھی پھر اٹھا اور جنگل میں گھس گیا۔ اگر دن کی روشنی ہوتی تو میں اسے کب کا مار چکا ہوتا مگر اندھیرے میں نشانہ لینا ممکن نہ تھا۔ اب تاریکی اتنی گہری ہو چکی تھی کہ ہم دو میل دور الاؤ کی روشنی کو چل پڑے۔

اگلی صبح ہمیں مناسب علاقے میں آٹھ ہاتھیوں کا غول دکھائی دیا اور ہم سات شکار کرنے میں کامیاب رہے مگر یہ اس علاقے میں ہاتھیوں کا آخری غول تھا۔ چند روز کی مزید ناکام کوشش کے بعد ہم نے سیدھا نیویرا ایلیا کا رخ کیا تو تین ہفتوں میں ہم نے ۲۲ ہاتھیوں کے علاوہ بہت سے ہرن، جنگلی سور، جنگلی بھینسوں اور دیگر چھوٹے جانوروں کا شکار کیا تھا اور خوب لطف اندوز ہوئے تھے۔

٭٭٭

باب ۱۰

 

پورا ایک سال میں نے بندوق یا رائفل نہیں چلائی۔ میرا سارا وقت سانبھروں کے شکار میں گزرتا تھا جو نیویرا ایلیا اور اس کے گردونواح میں بکثرت تھے۔ نومبر ۱۸۵۰ میں اپنے بھائی وی کے ساتھ میں پارک کو روانہ ہوا۔ ہمارے تازی کتے پالکی میں جبکہ میں اپنے وفادار گھوڑے جیک پر سوار تھا۔

شام کو پانچ بجے جب گرمی ختم ہو گئی تو ہم رکے۔ ہمارے خیمے اور قلی بہت پیچھے رہ گئے تھے اور ہمارے ساتھ صرف سائیس تھے۔ ہم نے ایک مقام خیموں کے لیے چنا جہاں ہمارے سامنے پارک نما علاقہ تھا جس میں جگہ جگہ درختوں کے جھنڈ تھے۔ ہمارے دائیں جانب شفاف پانی کی ایک ندی بہہ رہی تھی اور کئی جگہ پتھر ایسے پڑے تھے جیسے قدیم قلعے کی سنگی دیواروں کے کھنڈرات ہوں۔ ان پتھروں کے ڈھیر سے درختوں کے جھنڈ اگ آئے تھے۔ ان درختوں کے نیچے ہم نے گھوڑوں کو چھوڑ دیا تاکہ گھاس سے پیٹ بھر سکیں۔ یہ پورا علاقہ نرم گھاس سے بھرا ہوا تھا۔ کتے ہمارے ساتھ تھے اور ایک ایک رائفل اٹھا کر ہم چل پڑے کہ باقی سبھی ہتھیار ملازمین کے ساتھ کافی پیچھے تھے۔ ہم نے سائیسوں کو خیمے کے لیے جگہ بتائی اور پھر شکاری کتوں کے ہمراہ شکار کو نکل پڑے کہ ہمیں رات کے کھانے کے لیے ہرن مارنا تھا۔

جب ہم روانہ ہونے لگے تو دیکھا کہ چوتھائی میل دور چٹانوں کے پاس دو ہاتھی چر رہے تھے مگر ہمارے پاس ایک رائفل تھی، سو ہم نے انہیں نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا اور دوسری جانب چل پڑے۔ نصف میل پر ہمیں ہرنوں کا ایک غول دکھائی دیا جو جنگل سے نکل کر پیٹ بھرنے کے لیے کھلے میں آئے تھے۔ جب میری نگاہ پڑی تو ہرن جنگل سے ۶۰ گز کے فاصلے پر ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑخانیاں کر رہے تھے۔ چونکہ ہمارا رات کا کھانا شکار کی کامیابی سے منسلک تھا، سو میں نے محتاط ہو کر پیش قدمی جاری رکھی۔ میرے پاس کل بک اور لینا تھے اور شکار کے امکانات کم دکھائی دے رہے تھے۔ ساٹھ گز کی دوری پر ہرنوں کو میری موجودگی کا علم ہوا تو میں نے کتوں کو آزاد کر دیا۔ کتوں کی آواز سے ہرن پریشان ہو گئے اور جنگل کی طرف جانے کی بجائے دائیں بائیں بکھر گئے۔ کتے ان کے قریب تھے اور جنگل میں داخل ہوتے ایک نر کے بہت قریب تھے۔ میں ان کے پیچھے جنگل میں گھسا تو کچھ دور ہرن کی پکار سنائی دی۔ آگے بڑھا تو دیکھا کہ کل بک اور لینا ایک ہرن کو دبوچے ہوئے تھے۔ کل بک کے سامنے ہرن کے بچنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ جنگل جیسا بھی ہو، ایک بار کل بک کسی جانور کے پیچھے لگ جائے تو پھر اس جانور کی موت یقینی تھی۔ اسے مارنے کے بعد ہم نے مردہ ہرن کا پیٹ چاک کیا اور آلائش سے کتوں کو پیٹ بھرنے دیا۔ ہم نے ہرن کی لاش کو بانس پر باندھ کر اٹھایا اور واپس لوٹے۔ بھاری وزن کے باوجود جب ہم واپس لوٹے تو دیکھا کہ سبھی ملازمین آ چکے تھے اور خیمے نصب ہو چکے تھے اور الاؤ جل رہے تھے اور تاریکی چھا رہی تھی۔

ایک گھنٹے بعد ہم ہرن کے بھنے ہوئے گوشت سے پیٹ بھر رہے تھے جو ہمارے کتوں کی محنت کا نتیجہ تھا۔ کتے ہمارے قدموں میں آرام سے سو رہے تھے۔ کھانے کے دوران میں نے اگلے روز کے بارے میں منصوبہ بنایا۔ ہم نیل گالا (نیلی چٹان) نامی گاؤں سے ۸ میل دور تھے۔ ہمارا شکاری بندا اسی گاؤں کا رہائشی تھا اور میں نے صبح سویرے ایک ملازم اس کی جانب بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اسے میری آمد سے مطلع کرے اور اسے ہدایت کرے کہ مدیما اور دیگر اچھے شکاری لے کر فوری پہنچ جائے۔ اس دوران ہم لوگ ان دو ہاتھیوں کی طرف جاتے جو پچھلی شام ہمارے ہاتھوں بچ گئے تھے۔ اس مہم پر والیس اور دیگر بندوق بردار ہمارے ساتھ ہوتے۔ والیس کوچن نسل سے ہے اور اس کے اجداد میں پرتگیزی خون شامل ہے۔ اسے چھ مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا اور بہترین ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین بندوق بردار بھی ہے۔ یہ آدمی میرے ساتھ بہت مرتبہ شکار پر گیا اور کبھی پریشانی نہیں ہوئی کہ وہ دیگر بندوق برداروں کو منظم انداز سے رکھتا تھا اور حسب ضرورت بھری بندوق یا رائفل مجھے ہمیشہ مل جاتی تھی۔

پو پھٹتے ہی ہم روانہ ہو گئے مگر رات کو ہلکی بارش سے نشانات مٹ چکے تھے سو ہم ہاتھیوں کا پیچھا نہ کر سکے۔ ہم نے طے کیا کہ ہم اس علاقے میں ہاتھیوں کے مزید نشانات کی تلاش کرتے ہیں۔ اس تلاش میں ہم کئی میل چلے مگر کوئی بھی نشان نہ دکھائی دیا۔

کافی دیر بعد جا کر ہمیں ایک خار دار جنگل کے پاس ہاتھیوں کے گزرنے کے نشانات ملے مگر جنگل اتنا گھنا تھا کہ وہاں داخل ہونا ممکن نہ تھا۔ اس دوران ہم نے ایک ہرن شکار کیا اور قلیوں کے ہاتھ کیمپ بھجوا دیا اور خود تین بجے تک تلاش میں مصروف رہے۔ اس دوران ہم راستہ بھول گئے اور رہنما نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں معلوم نہ تھا کہ خیمے کس جانب ہوں گے۔ گرمی عروج پر تھی اور ہمیں اب پریشان لاحق ہونے لگی۔ خیر، ہم نے اپنا رخ بڑے پہاڑ کی جانب رکھا جو چند میل دور تھا۔ مجھے علم تھا کہ اس پہاڑ اور نیل گالا کے درمیان گزرنے والا راستہ ہمیں خیموں تک لے جاتا۔ چار بجے ہمیں یہ راستہ ملا تو تسلی ہوئی اور ہم تیزی سے پہاڑ کے دامن میں چلتے ہوئے خیموں کو بڑھے جو چار میل دور تھے۔

ہم پہاڑ کو بائیں جانب چھوڑ کر جا رہے تھے کہ اچانک چوتھائی میل دور سے ہمیں ہاتھیوں کی آواز سنائی دی۔ آواز وقفے وقفے سے آ رہی تھی اور آخرکار تھم گئی۔

ہم تھوڑی ہی دیر میں اس مقام پر پہنچ گئے جہاں سے ہاتھیوں کی آواز آ رہی تھی۔ یہ مقام کافی سخت ریتلا تھا اور جگہ جگہ پتھر اور جھاڑیاں اگی تھیں جو پہاڑی کے دامن تک پھیلی تھیں۔ یہاں چٹانیں تہہ در تہہ تھیں جن پر ہم سیڑھیوں کی مانند چڑھتے گئے۔ یہاں گرینائٹ یا سنگ خارا کی بڑی چٹانیں بکھری ہوئی تھیں اور اتنے وقفے موجود تھے کہ ہاتھیوں کا پورا غول یہاں سے گزرا تھا۔ یہاں زمین پتھریلی تھی اور کھوج لگانا کافی مشکل ہو گیا تھا اور کچلی گھاس اور بکھرے پتوں کی مدد سے پیچھا کرنے میں مجھے کافی مشکل ہوئی۔ آخرکار ہم نے ان ہاتھیوں کو پہاڑی پر بنے ایک چھوٹے سے تالاب کے قریب پا لیا جہاں سے وہ چند منٹ قبل پانی پی کر ہٹے تھے اور ان کے گیلے پیروں کے نشان چٹانوں پر واضح تھے۔ یہاں میں نے باقی ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور اکیلا چل پڑا کہ ہم اس غول کے قریب پہنچ چکے تھے۔ چٹانوں کے درمیان بنے راستوں سے چلتے ہوئے اچانک میں ایک سطح مرتفع تک جا پہنچا جہاں بارہ فٹ اونچی لیمن گراس اتنی گھنی تھی کہ اس میں سے راستہ بنا کر گزرنا مشکل کام تھا۔ یہ مقام دو ایکڑ جتنا ہو گا اور تین اطراف میں جنگل سے گھرا تھا جبکہ چوتھی جانب پہاڑ بلند ہو رہا تھا۔ اس جانب بھی لیمن گراس اگی ہوئی تھی۔

جونہی میں اس مقام پر پہنچا تو تیس قدم دور اونچی گھاس میں ایک ہاتھی کے کان کا پچھلا حصہ دکھائی دیا۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ دو اور ہاتھی بھی اس کے قریب کھڑے تھے۔ گھاس میں ہاتھیوں کے چلنے کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ مزید ہاتھی بھی موجود ہیں مگر گھاس اونچی ہونے کی وجہ سے وہ نظروں سے اوجھل تھے۔

یہاں رک کر میں نے کئی منٹ تک سوچا مگر ہمارے بندوق بردار جو پیچھے تھے، سرگوشیاں کر کے ایک دوسرے کو مناسب جگہوں پر کھڑا کرنے لگے اور اس دوران کچھ بندوقوں کی نالیں آپس میں ٹکرائیں اور ہلکا سا شور ہوا۔ دو بڑے ہاتھیوں نے ہماری موجودگی بھانپ لی اور سونڈ ہوا میں اٹھا کر چنگھاڑے مگر بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ گھاس کے دیگر حصوں سے بھی دیگر ہاتھیوں نے سونڈ اٹھا کر چنگھاڑتے ہوئے اپنی موجودگی ثابت کی اور ان کے سر گھاس کے اوپر سے نمودار ہوئے کہ وہ ہمیں تلاش کرنا چاہ رہے تھے۔

ہاتھی کی چنگھاڑ دور سے سنائی دینے والی آسمانی بجلی کی گرج کی مانند ہوتی ہے اور دونوں بڑے ہاتھی شور کرتے رہے۔ شاید وہ پورے غول کو جمع کر رہے تھے مگر انہوں نے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کان سونت کر ہماری جانب توجہ مرکوز رکھی اور ان کے ارادے خطرناک لگ رہے تھے۔ اسی دوران ہم لوگ بالکل ساکت کھڑے تھے تاکہ ہاتھی ہمیں دیکھ کر بھاگ نہ جائیں۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پورا غول ان دو بڑے ہاتھیوں کے گرد جمع ہو گیا اور ہماری جانب دیکھنے لگا۔ میں نے مناسب موقع جان کر حملے کا اشارہ کیا اور ہم سب دوڑ پڑے۔ کچھ ہاتھی مڑ کر فرار ہوئے جبکہ دو بڑے ہاتھیوں سمیت پانچ ہاتھیوں نے سیدھا ایک صف میں ہماری جانب رخ کیا اور کان، دم اور سونڈ اٹھائے ہماری جانب بڑھے۔ ہم نے بھی پیش قدمی جاری رکھی اور ہاتھی بھی سیدھی صف کی شکل میں بڑھتے ہوئے ہم سے دس قدم پر آن پہنچے۔

ہماری رائفلیں تیزی سے چلیں اور دھوئیں کا بادل سا چھا گیا۔ پانچوں کے پانچوں ہاتھی اپنے اپنے مقام پر مردہ پڑے تھے۔ فوری طور پر اضافی رائفلیں ہمارے ہاتھوں میں آ گئیں اور مردہ ہاتھیوں کے قریب سے گزر کر ہم بھاگتے ہوئے باقی ہاتھیوں کے پیچھے گئے جو ابھی زیادہ دور نہیں پہنچے تھے۔ چند ہی لمحوں میں ان کے قریب پہنچ کر ہم نے گولیاں چلائیں، پہلا ہاتھی گرا، وی کی گولی سے دوسرا گرا اور پھر اٹھا مگر میری دوسری نال سے گولی کھاتے ہی وہ بھی مر گیا۔

اب میری رائفل خالی تھی کہ اس روز میرے پاس نمبر ۱۰ کی دو نالی دو رائفلیں ہی تھیں۔ مگر جوش سے میں نے خالی رائفل کے ساتھ ہی تعاقب جاری رکھا اور امید کی کہ شاید وی کا کوئی بندوق بردار اس کی اضافی رائفل مجھے دے دے گا۔ ایک بڑی ہتھنی اور اس کا ساڑھے تین فٹ قد کا بچہ میرے سامنے تھے۔ ہتھنی تو ہم سے سو گز آگے سیدھا جنگل میں گھس گئی جبکہ بچے کافی پیچھے تھا۔ خالی رائفل کو ایک جانب پھینک کر میں نے اس بچے کی دم پکڑ لی۔ بچہ اتنا طاقتور تھا کہ میں اس کے پیچھے پیچھے گھسٹ رہا تھا۔ اس دوران وی پہنچ گیا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ بھری ہوئی رائفل کے ساتھ نگرانی کرے کہ کہیں ہتھنی لوٹ نہ آئے اور پھر میں نے ایک ہاتھ سے ایک درخت کو جبکہ دوسرے ہاتھ سے ہاتھی کے بچے کی دم کو پکڑے رکھا۔ جب یہ بچہ چلنے کے قابل نہ رہا تو اس نے بڑے ہاتھیوں کی مانند چنگھاڑنا شروع کر دیا۔ ہتھنی نے بچے کی پکار کو نظر انداز کر دیا۔ اس دوران بندوق بردار پہنچ گئے۔ کسی آدمی نے میری نمبر ۱۰ رائفل بھر لی تھی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک نوجوان ہاتھی نیچے گھاس کی جانب بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ میں نے اس بچے کو وی اور بندوق برداروں کی نگرانی میں چھوڑا اور سیدھا دوسرے ہاتھی کی جانب دوڑ لگا دی۔ جب ہاتھی گھاس سے نکل کر جنگل میں داخل ہونے لگا تو میں نے اس کے کان کے پیچھے گولی اتار کر اسے ہلاک کر دیا۔

اس پورے غول میں ہم نے نو ہاتھی شکار کیے اور واحد ہتھنی جو بچی، وہ اسی بچے کی ماں تھی۔

والیس اب اوپر پہنچ گیا تھا اور اس نے مردہ ہاتھیوں کی دمیں کاٹیں۔ میرے پاس ایک نال ابھی تک بھری ہوئی تھی اور پانچ مردہ ہاتھیوں کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک والیس چلایا، ’دیکھیں، دیکھیں، ہاتھی آ رہا ہے ‘۔

میں نے مڑ کر دیکھا کہ والیس کے پاس سے آخری مردہ ہاتھی اچانک زندہ ہو کر سیدھا میری جانب دوڑتا آ رہا تھا۔ شکل سے وہ انتہائی بدمعاش ہاتھی لگ رہا تھا، اس کے کان جسم کے ساتھ چپکے ہوئے، دم اور سونڈ ہوا میں بلند تھیں اور ریلوے انجن کی مانند چنگھاڑتا ہوا اتنی تیزی سے آ رہا تھا کہ مجھے اس کی رفتار پر حیرت ہونے لگی۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ اس نے مجھے مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

میں بہت مرتبہ خطرناک صورتحال سے دوچار ہوا ہوں مگر کبھی اتنی لاچاری محسوس نہیں کی۔ گھاس اتنی گھنی اور الجھی ہوئی تھی کہ فرار نا ممکن تھا اور میرے پاس محض ایک نال بھری ہوئی تھی مگر اٹھی ہوئی سونڈ کی وجہ سے ہاتھی کے سر کا نشانہ ممکن نہ رہا تھا۔ مجھے اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا اور جیسی سوچیں اس کیفیت میں انسان کے ذہن میں آتی ہیں، میرے بھی ذہن میں آئیں۔ میں نے سوچا کہ میں آخری لمحے تک انتظار کروں گا کہ ہاتھی سونڈ نیچی کرے تو میں اس کے ماتھے پر گولی چلاؤں گا۔

ہاتھی کی رفتار تیز گھوڑے کے برابر ہو گی اور اس کے چلنے سے گھاس دائیں بائیں پھٹتی جا رہی تھی مگر اس کی سونڈ ابھی تک بلند تھی۔ اگلے لمحے وہ مجھ سے تین قدم پر پہنچ گیا اور اس نے سونڈ کو چابک کی مانند لہرایا اور چنگھاڑتے ہوئے مجھ پر پل پڑا۔

عین اسی لمحے میں نے گولی چلائی مگر اگلے لمحے میں ہوا میں اڑ رہا تھا۔ گولی چلاتے ہوئے میں نے بائیں جانب جست لگائی تھی اور عین اسی لمحے ہی ہاتھی کی سونڈ میری دائیں ران سے ٹکرائی اور میں آٹھ یا دس قدم دور جا کر گرا۔ عین اسی وقت ہاتھی رکا اور سونڈ سے گھاس میں مجھے تلاش کرنے لگا۔ مجھے علم تھا کہ میرے بچنے کا واحد امکان یہی ہے کہ دم سادھ کر پڑا رہوں۔ ہاتھی کی سونڈ گھاس کو ٹٹولتی ہوئی مجھ سے قریب تر ہوتی گئی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اگلے چند لمحوں میں ہاتھی کا پیر میرے اوپر ہو گا۔ کئی مرتبہ ہاتھی کی سونڈ عین میرے اوپر گھاس کو چھو رہی تھی۔ شکر ہے کہ میں نے گولی چلانے میں ہر ممکن تاخیر کی تھی، سو رائفل کی چمک اور بارود کے دھوئیں سے اس کی بصارت اور شامہ متاثر ہوئی تھیں اور وہ مجھے تلاش نہ کر سکا۔ جب اس کی آواز مجھ سے دور ہونے لگی تو مجھے بہت سکون ملا اور آخرکار ہاتھی چلا گیا۔

مجھے یقین تھا کہ میرے جسم کی آدھی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں اور سارا جسم سونڈ کی ضرب سے سن ہو چکا تھا۔ اس کا حملہ ایسے ہی تھا کہ جیسے انسان ۲۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والے ٹرین کے انجن سے ٹکرا جائے۔

مجھے یقین تھا کہ میں چل نہیں سکوں گا، سو کروٹ بدل کر میں نے گھٹنے کے بل اٹھنے کی کوشش کی۔ میری سبھی ہڈیاں سلامت تھیں۔ مشکل سے کھڑا ہو کر میں قریب موجود ندی کو گیا اور ٹانگ دھوئی۔ چند منٹ میں میری ٹانگ کئی گنا سوج گئی تھی۔ میرا بھائی اور دیگر افراد میرے گرد جمع ہو کر رائفلیں بھرنے لگے تھے مگر بدمعاش ہاتھی جا چکا تھا۔

میری رائفل اور ٹوپی کی تلاش ہوئی جو ہاتھی کے حملے کے مقام کے قریب سے مل گئیں۔ رائفل کے کندے پر ہاتھی کے پیر کا نشان تھا جو ابھی تک موجود ہے۔

چند منٹ بعد میں چلنے سے معذور ہو گیا۔ سو ہم نے خیموں سے گھوڑے منگوائے اور شام کو چھ بجے واپس جا پہنچے۔ ہم لوگ صبح پانچ بجے سے خالی پیٹ ہاتھیوں کے پیچھے تھے اور اب آرام کا موقع ملا۔

خیموں کو پہنچے تو بندا اور اس کے ساتھ کھوجی پہنچ چکے تھے۔

بدمعاش ہاتھی کے بارے میں اس سے بہتر کیا مثال دوں۔ یہ ہاتھی باقی غول سے کچھ فاصلے پر جنگل میں چھپ کر چر رہا تھا اور اس نے پورے غول کی ہلاکت کو دیکھا مگر حملہ اس وقت کیا جب اس نے مجھے بالکل غافل پایا۔ اگر میں نے بھاگنے کی کوشش کی ہوتی تو وہ مجھے مار چکا ہوتا۔ میرے بچاؤ کا واحد راستہ یہی تھا کہ میں آخری لمحے تک اپنی جگہ رک کر اس کا انتظار کرتا اور پھر ایک طرف جست لگاتا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور اسی وجہ سے ہاتھی کی سونڈ میری ران سے ٹکرائی۔ اگر میں حرکت نہ کرتا تو ہاتھی کی سونڈ کا وار میرے پیٹ پر ہوتا اور میری ہلاکت موقعے پر ہی ہو جاتی۔

رات بہت بے آرام گزری۔ میری ٹانگ میں شدید تکلیف تھی اور ہم نے اس پر سرکے اور پانی میں ڈبو کر پٹیاں لگائی تھیں۔ ہاتھی کی سونڈ جہاں ٹکرائی تھی، وہاں ایک فٹ چوڑائی کا نیل پڑ گیا تھا اور ٹخنے سے لے کر کولہے تک زخم دکھائی دے رہا تھا۔ اگلی صبح میں ٹانگ ہلانے کے قابل نہ تھا کہ ٹانگ پوری طرح سن تھی جیسے ریت کی بوری ہو۔ ناشتے کے بعد میرے ساتھیوں نے مجھے گھوڑے پر بٹھایا اور ہمارا کیمپ نیل گالا کو منتقل ہوا۔ اس سے اگلی صبح میں پھدک پھدک کر چلنے کے قابل ہو گیا مگر ٹانگ معمول سے دُگنا موٹی تھی اور مجھے شک ہونے لگا کہ کہیں ساری مہم ہی برباد نہ ہو جائے۔

ناشتے کے دوران ایک مقامی نے آ کر بتایا کہ چار میل دور ہاتھیوں کا ایک غول موجود ہے۔ میں شکار کے قابل نہ تھا مگر سوچا کہ اپنے گھوڑے جیک پر سوار ہو کر دیکھوں گا کہ موقع مل گیا تو کل والے ہاتھی سے بدلہ لے لوں گا۔ سو ہم نے اسی مناسبت سے رائفلیں بھر لیں اور روانہ ہو گئے۔

ہم لوگ تین میل جتنا فاصلہ پارک سے گزرے اور جنگل کے ایک قطعے کے گرد گھومے ہی تھے کہ ہمارے سامنے ہی ۷۰ گز دور کھڑا ایک بدمعاش ہاتھی ہماری جانب دیکھ رہا تھا۔ جونہی اس نے گھوڑوں کو دیکھا تو فوری مڑا اور قریب موجود کھلے جنگل کو بھاگا۔ یہ مقام شکار کے لیے بہترین تھا، سو ہم نے پیچھا کیا۔ میری ٹانگ حرکت کے قابل نہ تھی، سو میں بہت آہستگی سے اس کے پیچھے گیا مگر بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ جنگل میں پہنچے تو دیکھا کہ بدمعاش ہاتھی وہاں سے بھی فرار ہو گیا تھا۔ ہم نے سوچا کہ ہاتھی کو جنگل میں فائدہ ملے گا، سو ہم نے فاصلہ رکھ کر اس کا پیچھا کیا اور جنگل میں چند سو گز کے بعد اچانک سامنے اونچی لیمن گراس کا وسیع میدان آ گیا۔ ہاتھی نے اسی گھاس کا رخ کیا تھا اور نقل و حرکت میں مشکل کی وجہ سے میں نے مزید تعاقب نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم بندا نے اصرار کیا کہ ہم اس گھاس کے اندر کسی اونچے مقام سے جا کر دیکھیں کہ ہاتھی کہاں ہے۔ گھاس سے گزرتے ہوئے مجھے ہر لمحہ دھڑکا لگا رہا کہ ہاتھی حملہ آور نہ ہو جائے۔ آخرکار ہم لوگ مطلوبہ مقام تک پہنچ گئے۔

وہاں پہنچ کر ہم نے ہاتھی کو فوری تلاش کر لیا جو گھاس کے دوسرے کنارے پر جنگل کے پاس موجود تھا۔ اس کا فاصلہ ۱۵۰ گز رہا ہو گا۔ ہاتھی ہیجان کا شکار اور ہمارا ہی منتظر تھا۔ ہوا کا رخ ایسا تھا کہ اسے ہمارے موجودہ مقام کو تلاش میں دیر نہ لگی۔ دو تین چنگھاڑیں مار کر ہاتھی جنگل کے سامنے اس طرح چلنے لگا جیسے پہرے داری کر رہا ہو۔ اونچی گھاس میں جا کر ہاتھی پر حملہ کرنا ممکن نہ تھا کہ ہاتھی ہمارا منتظر تھا اور ہم اسے آخری لمحے تک نہ دیکھ سکتے۔ سو ہم نے دس منٹ تک اسے برا بھلا کہا۔ اس دوران ہاتھی مسلسل چنگھاڑتا اور اسی طرح چلتا رہا اور پھر اس نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور سونڈ اٹھا کر سیدھا ہماری جانب دوڑا۔ خشک گھاس میں ہاتھی کی دوڑ کی وجہ سے مٹی کا بادل اڑ رہا تھا مگر ہم ہاتھی کے استقبال کے لیے تیار تھے۔ زخمی ٹانگ کے مد نظر میں نے فیصلہ کیا کہ ہاتھی کو زیادہ قریب نہ آنے دوں اور جب وہ ۱۲۰ قدم دور ہو گا کہ میں نے دو اونس والی رائفل سے اس پر گولی چلائی۔ ہاتھی پر محض اتنا اثر ہوا کہ اس کی سونڈ جھک گئی مگر اس کی رفتار پر کوئی فرق نہ پڑا۔ والیس سے چار اونس والی رائفل لے کر میں نے گولی چلائی تو ۱۰۰ گز پر اسے گولی لگنے کی آواز صاف سنائی دی۔ ہاتھی نیچے گرا اور بندا اور دیگر بندوق برداروں نے خوشی سے نعرہ لگایا۔ میں نے چار اونس والی رائفل بھرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔ جونہی گولی اپنے مقام پہنچی تو بظاہر مردہ ہاتھی کے چنگھاڑنے کی آواز آئی۔ اگلے ہی لمحے ہاتھی پھر کھڑا ہوا تو میرے سامنے اس کا پہلو تھا اور سر پر لگنے والی بھاری گولی سے اس کا دماغ چکرایا ہوا تھا۔ چار اونس والی رائفل سے دوسری گولی کو میں نے اس کے شانے میں اتارا تو ہاتھی کچھ دیر جھومنے کے بعد آہستہ آہستہ لڑکھڑاتا ہوا جنگل کو چل پڑا۔ زخمی ٹانگ کی وجہ سے میں پیچھا کرنے کے قابل نہ تھا سو ہم واپس گھوڑوں کی جانب لوٹے۔ اگلی صبح مقامیوں نے اس کی لاش ڈھونڈ لی۔

مجھے ڈر تھا کہ رائفل کے دھماکوں سے ہاتھیوں کا غول خبردار ہو کر فرار نہ ہو گیا ہو کہ وہ یہاں سے زیادہ دور نہیں تھے۔ تاہم مزید ایک میل جانے کے بعد ہم نے ہاتھیوں کو اونچی لیمن گراس میں دیکھا۔ پارک میں یہ گھاس ہر طرف اگی ہوئی تھی اور ہاتھیوں کو نکالنا ممکن نہ تھا کہ یہ گھاس نہ صرف ان کی غذا بلکہ ان کے لیے پناہ بھی تھی۔ پتہ نہیں ہاتھی اسے کیسے کھا لیتے ہوں گے کہ چاقو کی مانند تیز دھار، گتے کی طرح سخت اور ذائقہ جیسے لیموں کا چھلکا ہو۔

جلد ہی ہم اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ ہلکی ڈھلوان پر گھاس اگی تھی جس کے دوسرے سرے پر جنگل تھا۔ ہمیں کئی ہاتھیوں کے تالو دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے گھوڑوں پر سوار رہتے ہوئے محتاط انداز سے ہاتھیوں کا رخ کیا۔ زیادہ تر ہاتھی بکھرے ہوئے تھے مگر پانچ ہاتھی ایک جگہ اکٹھے تھے۔ بندا ہماری رہنمائی کر رہا تھا۔ ہماری کامیابی کا انحصار اچھے آغاز پر تھا سو میں نے والیس کو تاکید کی کہ جونہی میری رائفل خالی ہو، مجھے فوری دوسری رائفل تھماتا جائے۔ پھر ہم ہاتھیوں کی جانب بڑھے۔ دو ہاتھیوں کا رخ ہماری جانب تھا، سو ہماری پیش قدمی محتاط رہی اور جب ہاتھیوں کو ہماری آمد کی خبر ہوئی تو وہ ہم سے محض چار گز دور تھے۔ دونوں نے ابھی اپنے کان سونتے ہی تھے کہ دو گولیوں سے دونوں گر گئے۔ باقی غول چنگھاڑتا ہوا بھاگا۔ کچھ دیر کو میری ٹانگ جیسے ٹھیک ہو گئی ہو کہ ہم ڈھلوان پر جا رہے تھے۔ میں نے پیچھا کر کے ایک ہاتھی کو بائیں نال سے گرایا۔ دوسری رائفل لیتے ہی میں دو ہاتھیوں کے درمیان پہنچ گیا کہ دونوں پہلو بہ پہلو بھاگتے ہوئے جنگل کو جا رہے تھے۔ دونوں ہی ایک ایک گولی کھا کر گر گئے۔ باقی ہاتھیوں کا رخ جنگل کی جانب تھا اور وی نے ان کے درمیان پہنچنے کی کوشش کی مگر ہمیں ان کا پچھلا حصہ ہی دکھائی دے رہا تھا سو گولی چلانے کا موقع نہ مل سکا۔ جوش کی وجہ سے میں نے چوتھائی میل تک تعاقب جاری رکھا اور اس دوران میری ٹانگ بالکل سن ہو چکی تھی اور ایک وقت ایسا آیا کہ زخمی ٹانگ جواب دے گئی اور میں منہ کے بل نیچے گرا۔ میں نے چار ہاتھی مارے جبکہ میرے بھائی نے دو۔ اس غول میں گیارہ ہاتھی تھے، سو ہمیں باقی ہاتھیوں کے بچ نکلنے کا بہت افسوس ہوا۔ یہاں پیش قدمی بہت مشکل تھی اور میری ٹانگ عین وقت پر جواب دے گئی۔

چند روز بعد ہم نے نیل گالا سے ۸ میل آگے پتاپلار نامی جگہ پر خیمے لگائے۔ ہاتھی بہت کم تھے اور شکار کے لیے ہمیں مشقت کرنا تھی۔ یہ مقام ایک چوڑے دریا کے کنارے تھا۔ ہم پو پھٹنے پر گھوڑوں پر سوار ہو کر نکلے اور ہرن وغیرہ پر گولی چلانے سے احتراز کیا تاکہ ہاتھی خبردار نہ ہو جائیں۔

ہم ابھی کچھ دور پہاڑ کے دامن میں نسبتاً کھلے جنگل سے گزر رہے تھے اور بندا ہم سے تھوڑا آگے جا رہا تھا کہ اچانک مڑ کر چلایا، ’ولاہا، ولاہا (ریچھ، ریچھ)‘۔ ہم نے فوراً گھوڑوں سے جست لگائی مگر میں سیدھا کمر کے بل زمین پر گرا کہ میری زخمی ٹانگ بالکل سن تھی۔ خیر، میں فوراً سنبھلا اور دیکھا کہ سامنے جنگل میں ریچھ بھاگ رہا تھا۔ میں ہرممکن تیزی سے بڑھا۔ وی مجھ سے آگے ایک اور ریچھ کے پیچھے جا چکا تھا اور مجھے دو یا تین گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ اس دوران میرے سامنے والا ریچھ اب دوڑنے کی بجائے تیز قدموں سے چلنے لگا تھا اور میں نے فیصلہ کیا کہ قریب پہنچ کر ہی گولی چلاؤں گا کہ زخمی ہونے کی صورت میں اس کا زیادہ دیر پیچھا کرنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔ چند لمحے بعد میں اس کے اتنا قریب پہنچ گیا کہ اس کی دم مجھ سے ایک فٹ آگے تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ جونہی موقع ملا تو اس کے شانوں کے درمیان گولی چلاوں گا کہ یہاں جھاڑیاں کافی گھنی تھیں۔ اسی دوران ریچھ اچانک پچھلی ٹانگوں پر اٹھا اور خوفناک دھاڑ سے رائفل کی نال پر لپکا۔ جونہی اس کا سینہ رائفل کی نال سے لگا، میں نے دونوں نالیں چلا دیں۔ دھماکے اور دھوئیں نے سامنے کا منظر چھپا دیا مگر ریچھ نیچے گرا اور جھاڑیوں کے کچلے جانے کی آواز آئی۔ تاہم وہ فوراً اٹھا اور اتنی تیزی سے بھاگا کہ میں اس کافی پیچھے رہ گیا۔ تاہم ریچھ کافی زخمی ہوا ہو گا کہ اس کی انتڑیاں اس کی گزرگاہ پر جگہ جگہ پھیلی ہوئی تھیں۔ وی نے جو ریچھ شکار کیا وہ ۲۰۰ پاؤنڈ وزنی ہو گا اور کھال اتارنے کے بعد اس کے بازو کی موٹائی ۱۴ انچ تھی۔

سیلون کا ریچھ بہت وحشی ہوتا ہے اور بغیر کسی وجہ سے انسان پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ میں نے بہت سے مقامی افراد دیکھے جو ریچھ کے حملوں سے بچ تو گئے مگر ان کی شکل بگڑ کر رہ گئی تھی۔ مقامی لوگ سب سے زیادہ ریچھ سے ڈرتے ہیں۔ مقامی کھوجیوں نے زخمی ریچھ کا پیچھا کرنے سے یکسر انکار کر دیا اور میں اپنی زخمی ٹانگ کے ساتھ کچھ دور تک ہی جا سکا اور پھر مجھے اس ریچھ کا خیال چھوڑنا پڑا۔ ایک بار میں نے ایک ایسے ماہی گیر کو دیکھا تھا جو بہت سخت جان اور ہاتھیوں کا بہترین کھوجی تھا۔ یہ آدمی ریچھ کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا تھا۔ یہ ایک مرتبہ بانس کاٹنے کے لیے مڑے ہوئے چاقو نما داؤ کے ساتھ گیا تھا۔ جب یہ آدمی بانس کاٹ رہا تھا تو پاس کے درخت سے ایک ریچھ اترا اور سیدھا اس پر حملہ آور ہو گیا۔ اس آدمی نے بائیں بازو کو ریچھ کی جانب بڑھایا تو ریچھ نے اس کا ہاتھ منہ میں لے کر انگوٹھا کاٹ کر الگ کر دیا اور بازو کو بھی کافی زخمی کیا۔ اس آدمی نے دائیں ہاتھ سے داؤ کا وار کیا تو ریچھ کی کھوپڑی کو دانتوں تک کاٹ دیا اور داؤ کا وار اس کے بازو کی ہڈی کو بھی زخمی کر گیا۔ یہ آدمی زندہ تو بچ گیا مگر بائیں بازو سے کام لینے کے قابل نہ رہا۔

سیلون کا ریچھ شہد، دیمک، پھل، جڑیں اور گوشت، جو بھی ملے ہضم کر جاتا ہے۔ اس کے عضلات بہت طاقتور ہوتے ہیں اور حملے کے دوران دانت اور پنجے دونوں استعمال کرتا ہے۔ سیلون میں ریچھ بکثرت ہیں مگر شب بیدار ہونے کی وجہ سے زیادہ دکھائی نہیں دیتے اور دن کو غاروں میں سو جاتے ہیں۔

اس علاقے میں چند میل کے بعد ہمیں اچانک اونچی گھاس میں ہاتھیوں کے گزرنے کی علامات ملیں اور ہم نے پیچھا شروع کر دیا۔ علامات کا پیچھا کرتے کرتے نصف گھنٹے اور دو میل بعد ہم لوگ خوبصورت جنگل میں داخل ہوئے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہاتھی کہیں مناسب مقام پر مل جائیں گے مگر اس جنگل کے وسط میں کئی ایکڑ پر مشتمل چنار کا ذخیرہ دکھائی دیا جو گھنی باڑ کی طرح تھا۔ ہم چنار کے جنگل میں نہ گھس سکے۔ ہاتھیوں نے ہماری بو سونگھ لی تھی اور مسلسل چنگھاڑ رہے تھے۔ ان کی آواز ایسے لگ رہی تھی کہ جیسے دور بادل گرج رہے ہوں۔ نئے شکاریوں کے لیے یہ آواز دہشت ناک ہوتی ہے۔

اس غول کے ساتھ ایک بدمعاش ہاتھی بھی تھا سو حملہ کرتے ہوئے ہمیں کافی محتاط رہنا تھا۔ گھنے جنگل میں گھسنا ممکن نہ تھا اور ہاتھیوں کو باہر نکالنے کی ہر کوشش ناکام رہی۔ میں چنار کے جنگل کے پاس کئی گھنٹے تک رکا رہا مگر ہاتھی باہر نہ نکلے۔ کئی مرتبہ ہاتھیوں نے ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ چنار کے اندر ہی رہے۔ ایک مرتبہ ایسا لگا کہ اب ان کا حملہ ہونے لگا ہے۔ سبھی ہاتھی ایک قطار کی شکل میں چنار کے جنگل کی حد سے چند فٹ کے فاصلے پر رک گئے۔ ہمارا ان سے فاصلہ ۶ گز ہو گا اور وہ کئی بڑے درختوں کے تنوں کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔ ہمیں چھ ہاتھیوں کے ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ کسی لمحے بھی جنگل سے نکل آئیں گے مگر انہوں نے ہماری بو سونگھ لی اور مڑے کر ایسے غائب ہوئے جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھمائی ہو۔

اب ہم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ جنگل کے مختلف حصوں میں جا کر شور مچائیں اور گولیاں چلائیں تاکہ ہاتھی ہماری جانب نکلیں۔ اس بات سے بدمعاش ہاتھی کو سخت غصہ چڑھا اور وہ سیدھا ہماری جانب بڑھا۔ اس کی پیش قدمی کو بھانپتے ہوئے والیس کے سوا باقی سبھی بندوق برداروں نے بندوقیں پھینکیں اور درختوں پر چڑھ گئے۔ سو جب یہ بدمعاش ہاتھی باہر نکلا تو پریشان ہو گیا کہ اسے کوئی انسان دکھائی نہ دے رہا تھا۔ اس کے کان سونتے ہوئے اور دم کھڑی تھی۔ یہ ہاتھی بہت بڑا تھا اور اس سے بڑا ہاتھی میں نے کم ہی دیکھا ہو گا۔ اسے ہر طرف سے انسان کی بو مل رہی تھی اور وہ کسی ایک انسان کے مقام کے بارے میں نہ جان پایا۔ میں، میرا بھائی اور والیس درختوں کے پیچھے چھپے تھے۔ میں اس ہاتھی سے ۲۰ گز دور تھا اور جب ہاتھی نے اپنا رخ میری جانب پھیر کر سونڈ میری سمت بڑھائی تو مجھے علم ہو گیا کہ وہ میری جانب آنے والا ہے۔ سو میں نے سیدھا اس کی جانب دوڑ لگائی اور اس کے ماتھے میں گولی اتار کر اسے موقعے پر ہلاک کر دیا۔ بدقسمتی سے عین اسی وقت ہاتھیوں کے غول نے جنگل کے دوسرے سرے سے فرار کو ترجیح دی اور ہم مزید شکار نہ کر سکے۔ چونکہ اب اندھیرا چھانے والا تھا اور ہم کیمپ سے ۵ میل دور تھے، اس لیے ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا۔

اگلی صبح میں اپنے شکاری کتے کل بک، بران اور لینا کے ساتھ ہرن مارنے نکلا۔ یہاں لیمن گراس اتنی بلند تھی کہ کتوں کے لیے شکار ممکن نہ تھا۔ میں نے ایک مناسب مقام تلاش کیا جہاں گھاس نہ تھی اور سوچا کہ ہانکے والوں کو دوسری جانب بھیج کر ہرنوں کو اپنی سمت بلاؤں گا۔ ایک جگہ مجھے ہرنوں کا بڑا غول دکھائی دیا اور میں نے ہانکے والوں کو مخالف سمت بھیجا تاکہ ان کے شور سے خبردار ہو کر ہرن میری جانب آئیں۔ میں نے اپنے کتوں کے ہمراہ درختوں کے ایک چھوٹے جھنڈ کے پیچھے جگہ سنبھالی۔

ہانکے والوں کا شور قریب ہوا تو ۲۰۰ گز پر دو خوبصورت نر بھاگتے ہوئے دکھائی دیے جیسے وہ ہوا میں تیرتے جا رہے ہوں۔ میں نے کتوں کو ان کے پیچھے بھگایا۔

میں نے اپنے وفادار گھوڑے جیک پر سوار ہو کر ایڑ لگائی اور ہرنوں اور کتوں کے پیچھے لگ گیا۔ ہرن الگ ہو گئے تھے اور ایک ہرن کے پیچھے بران اور لینا تھے جبکہ دوسرے کے پیچھے کل بک۔ ہرن مسلسل جھکائی دیتے ہوئے کتوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے رہے مگر کل بک ہرن کے پیچھے لگا رہا۔ میں نے بران اور لینا کو چھوڑ کر کل بک کے پیچھے رہنے کو ترجیح دی۔ بہت تیزی سے میدان عبور کرنے کے بعد ہم درختوں کی ایک تنگ سی پٹی سے گزرے جس کے بعد ایک پتھریلا نشیب آیا جس کے بعد جنگل میں گھسے تو کل بک ہرن سے چند گز پیچھے تھا۔

میرے گھوڑے جیک کو شکار کا اتنا ہی شوق ہے جتنا کہ مجھے۔ سو اونچی لیمن گراس سے ہم تیزی سے گزر رہے تھے کہ اچانک گھوڑے کی اگلی ٹانگیں ایک گرے ہوئے درخت کے تنے سے ٹکرائیں اور گھوڑے نے قلا بازی کھائی اور میں گھوڑے سے کئی گز آگے جا گرا۔ درخت کا تنا گھاس میں چھپا ہوا تھا۔ میں اگلے ہی لمحے اٹھا مگر آنکھوں کے سامنے تارے ناچ رہے تھے۔ میں گھوڑے پر سوار ہوا اور ہم ہرن کے پیچھے روانہ ہو گئے۔

ہم کچھ دور چڑھائی پر گئے اور ہرن ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ جب ہم چوٹی پر پہنچے تو دیکھا کہ ہم سے ۱۰۰ گز دور ہرن رک کر کتے سے لڑ رہا ہے۔ یہ ہرن بہت بڑا تھا اور اس نے اپنی جانب دوڑتے ہوئے کتے کی طرف قدم بڑھائے اور اسے اپنے سینگوں پر لاد کر زمین پر پٹخا۔ اگلے لمحے کل بک پھر اٹھا اور پھر حملہ آور ہوا اور پھر ہرن نے اسے سینگوں میں اٹھا کر زمین پر کئی گز رگیدا۔ اس دوران میں ہرن کے قریب پہنچ گیا تھا اور ہرن نے گھوڑے پر حملہ کرنے کے لیے رخ موڑا تو کل بک نے ہرن کا گلا دبوچ لیا۔ میں نے فوراً چاقو ہرن کے شانے کے پیچھے اتار دیا اور شکار تمام ہوا۔

پھر میں نے کتے کا معائنہ کیا تو وہ کئی جگہوں سے زخمی تھا مگر خون اتنا نہیں بہہ رہا تھا۔ سو میں نے سوچا کہ وہ لڑائی سے تھک گیا ہو گا۔

اس دوران بران اور لینا بھی پہنچ گئے کہ ان کا ہرن اونچی لیمن گراس میں پہنچ کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ دونوں ہی ہرن کے سینگوں سے زخمی ہو چکے تھے۔ میں نے کل بک اور لینا کو ایک ہی رسی سے باندھا اور ہرن کو چھ آدمی ڈنڈے پر لٹکا کر کیمپ کو چل پڑے۔ ابھی ہم کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ کتوں کی رسی تھامنے والا آدمی زور سے چلایا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو کل بک زمین پر پڑا تھا۔ میں نے بھاگ کر اس کی گردن سے پٹہ نکالا مگر اس کی جان نکلنے والی تھی۔ اس نے ایک بار مجھے دیکھا اور چند بار ہانپنے کے بعد مر گیا۔

مجھے اس کی موت کا یقین نہ ہوا اور اپنی ٹوپی اتار کر قریبی ندی سے پانی لا کر اس کے منہ پر ڈالا۔ مگر اس کے دانت سختی سے بھنچے ہوئے تھے اور آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ میرا بہترین شکاری کتا مر چکا تھا۔ بیچارہ کل بک۔ اس نے انتہائی بہادری سے لڑ کر جان دی تھی اور مجھے اس کی موت پر شدید افسوس ہوا مگر ایسے بہادر کتے کو اس سے بہتر موت نہ مل سکتی تھی۔

پھر میں نے سوچا کہ اس کی لاش کو کھول کر دیکھتا ہوں کہ موت کی کیا وجہ ہو گی۔ وہی چاقو جس سے میں نے ان گنت لڑائیوں میں کل بک کے پکڑے ہوئے جانور مارے تھے، اسی چاقو سے میں نے اس کی لاش کو کھولا۔ ہرن کے سینگ نے اس کے پھیپھڑوں میں دو جگہ سوراخ کر دیے تھے اور اندرونی جریان خون سے کل بک مرا تھا۔ قریب ہی ایک بڑے درخت کا کھوکھلا تنا تھا جہاں میں نے کل بک کی لاش دفنا دی۔ اس ہرن کے سینگ میرے بڑے کمرے میں دیوار کی زینت ہیں جو کل بک کی افسوس ناک موت اور بہادری کا ثبوت ہیں۔

چند روز بعد میری ٹانگ اتنی بہتر ہو چکی تھی کہ میں آسانی سے چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ جگہ چھوڑتے ہیں کہ میرا اندازہ تھا کہ جہاں ہم جائیں گے، وہاں ہاتھی ملیں گے۔ ایک روز سہ پہر کو ہم روانہ ہوئے کہ فاصلہ آٹھ میل تھا۔ راستہ کافی دشوار اور پتھریلا تھا، سو گھوڑوں کی پیش قدمی محتاط تھی۔ نصف راستے پر ہمیں ہاتھیوں کے گزرنے کے تازہ نشانات ملے۔ شام ہونے والی تھی، سو ہم نے ان کے پیچھے جانے کی بجائے وہیں خیمے لگانے کا سوچا تاکہ اگلی صبح پو پھٹتے ہی ان کے پیچھے جا سکیں۔

اگلی صبح ہم سورج نکلنے سے قبل روانہ ہوئے اور ایک میل سے بھی کم فاصلے پر ہاتھیوں کے تازہ نشان ملے۔ آگے چل کر ہمیں ایک پتھریلی پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے ہاتھی دکھائی دیے۔ یہاں درخت نہیں تھے، سو ہم پتھروں کے پیچھے چھپتے چھپاتے ہاتھیوں کے عین قریب پہنچ گئے۔ دو ہاتھی ہم سے سات فٹ اوپر ایک پتھر پر کھڑے تھے۔ ہاتھی عین اوپر تھے، سو میں نے ان کی سونڈ سے چار انچ نیچے کا نشانہ لیا تاکہ نیچے سے داخل ہونے کے بعد گولی دماغ سے گزرے۔ یہ گولی کارگر ثابت ہوئی اور ہاتھی وہیں گر کر مر گیا۔ وی نے نشانہ لیتے ہوئے احتیاط نہیں کی سو اس کا نشانہ کارگر نہ ثابت ہوا اور آٹھوں ہاتھی فرار ہو گئے۔

یہاں چٹانیں اتنی عمودی تھیں کہ ہمیں پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنے پر کچھ وقت لگ گیا۔ جب ہم اوپر پہنچے تو دیکھا کہ ہاتھی ہم سے ۲۰۰ گز دور بھاگ رہے تھے۔ یہاں زمین بالکل کھلی تھی اور اکا دکا ٹول پڑے تھے۔ ہم نے تیزی سے ہاتھیوں کا پیچھا شروع کیا۔ ہاتھیوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک میل بھاگے مگر ہاتھیوں پر گولی چلانے کا موقع نہ مل سکا۔ اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں چھوٹے چھوٹے ٹیلے شروع ہو رہے تھے اور جگہ جگہ ٹول اور چار فٹ اونچی گھاس اگی ہوئی تھی۔ یہاں سے گزرتے وقت کافی دقت ہوئی۔ ہم یہاں سے سست رفتاری سے گزرے مبادا کہ ہاتھیوں کو ہماری آواز نہ پہنچ جائے۔ رائفلوں کا وزن پندرہ پاؤنڈ فی رائفل تھا جو اتنی طویل دوڑ میں بہت بھاری ثابت ہوا۔ میں غول سے ۸۰ گز دور تھا اور پوری کوشش کے باوجود فاصلے کو ذرا سا بھی کم نہ کر سکا۔ میں نے رک کر غول کے وسط میں موجود بڑے ہاتھی پر گولی چلائی۔ گولی کا ہاتھی پر اتنا اثر ہوا کہ سیدھا جانے کی بجائے دائروں میں یوں گھومنے لگا جیسے اپنی دم پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے ساتھی گھبرا گئے اور کچھ دائیں بھاگے تو کچھ بائیں۔ میں بھاگ کر زخمی ہاتھی کے پاس پہنچا اور دوسری نال سے اس کو ختم کر دیا اور پھر والیس سے دوسری رائفل لے کر میں نے دو گولیوں سے ۴۰ گز دور کھڑے ایک اور ہاتھی کو گرا لیا۔ والیس واحد بندوق بردار تھا جو ہمارے ساتھ اتنی دور تک بھاگا۔ اب میری رائفلیں خالی ہو چکی تھیں۔ ہاتھیوں کا غول جب نشیب سے گزرنے لگا تو وی نے اپنی رائفلوں سے اچھا شکار کیا اور تین ہاتھی مارے۔ اس طرح ہم نے اس غول سے چھ ہاتھی شکار کر لیے تھے۔ باقی دو ہاتھی گھنے جنگل میں پہنچ کر گم ہو چکے تھے۔

ہم خیموں کو لوٹے اور غسل کے بعد ناشتے کے لیے بیٹھ گئے۔ ابھی صبح کے سات بج رہے تھے اور ہم اس دوران چھ ہاتھی شکار کر چکے تھے۔

سہ پہر کو ہم پھر باہر نکلے اور کھوجیوں کو بھی روانہ کیا۔ یہاں خوراک کے حوالے سے کافی تنگی تھی کہ ہرن وغیرہ نہ ہونے کے برابر تھے اور ہمیں گلہریوں اور طوطوں پر گزارا کرنا پڑا۔ ان کا ذائقہ برا نہیں تھا مگر ان میں زیادہ گوشت نہیں ہوتا۔

یہ پورا علاقہ اونچی لیمن گراس سے بھرا ہوا ہے اور چونکہ گھاس کو جلایا نہیں گیا تھا، اس لیے گھاس کے تنے ایک دوسرے سے الجھ گئے تھے اور پتے بلیڈ کی مانند تیز دھار ہونے کی وجہ سے یہاں شکار کا لطف برباد ہو گیا تھا۔

اس مقام پر ہم نے ۱۰ ہاتھیوں کا ایک غول دیکھا اور منتظر رہے کہ وہ شاید کسی بہتر مقام کو جائیں مگر کافی دیر انتظار کے بعد ہم سے مزید صبر نہ ہو سکا اور ان کے شکار کی ٹھان لی۔ سہ پہر ڈھل رہی تھی اور غول ہماری بو سے خبردار ہو کر ایک ساتھ جمع تھا اور سبھی ہاتھی سونڈ لہرا کر چنگھاڑ رہے تھے۔

اونچی گھاس میں راستہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ہم ہاتھیوں سے ۶ گز قریب پہنچ گئے تھے کہ انہوں نے مڑ کر بھاگنے کا سوچا۔ ہم نے عمدگی سے گولیاں چلانا شروع کیں۔ ہاتھی بھاگتے ہوئے اپنی راہ میں گھاس کو لٹاتے جا رہے تھے۔ وی ایک پہلو میں اور میں دوسرے پہلو میں دوڑ پڑے اور نصف میل تک ہم پوری رفتار سے دوڑتے رہے۔ تاہم ہاتھی ہم سے تیز نکلے اور کہیں رکے بغیر مسلسل اونچائی کی سمت بھاگتے رہے۔ گھنے جنگل تک پہنچ کر دو ہاتھی اندر گھسے مگر باقی آٹھ ہاتھی ادھر ادھر چھپے رہے۔

ہم نے چند روز میں ہاتھیوں کے چار غول اور تین بدمعاش ہاتھی دیکھے اور کل ۳۱ ہاتھی شکار کیے۔ پہلے روز کا حادثہ ایسا تھا کہ شکار کا لطف تباہ ہو گیا تھا اور اب میری ٹانگ میں پھر سے تکلیف شروع ہو گئی تھی۔

٭٭٭

باب ۱۱

 

ہاتھیوں کے شکار کے بارے میں جب واقعات بتائے جاتے ہیں تو پڑھتے ہوئے یہ واقعات بہت سہل لگتے ہیں جبکہ حقیقت ان کے برعکس ہوتی ہے۔ جب آپ ہاتھیوں کے غول کا پیچھا کرتے ہوئے اس میں سے کچھ ہاتھیوں کو شکار کر لیتے ہیں تو قاری محض اسے قتل و غارت ہی سمجھتے ہیں جبکہ اس دوران شکاری پر بیتنے والی کیفیت اور جوش و جذبے کی وضاحت نہیں ہو پاتی۔ انسان کی نسبت ہاتھی کی جسامت بہت بڑی ہوتی ہے اور جب ان دیو قامت ہاتھیوں کا غول اکیلے شکاری کے ڈر سے بھاگ رہا ہو تو عام انسان کو اس بات کی سمجھ نہیں آئے گی۔ کھلے میدان میں ہاتھیوں کے غول کا پیچھا کر کے ان کو مار گرانا شاندار منظر ہوتا ہے۔ عام طور پر اس مقصد کے لیے ۱۰ بور کی دو نالی رائفلیں استعمال ہوتی ہیں جس کی گولی شاید ہی کبھی خطا جاتی ہو اور تعاقب کے دوران ہر مرتبہ جب رائفل سے دھواں نکلتا ہے تو ایک نہ ایک ہاتھی گرتا ہے۔ شاندار ترین مناظر میں سے ایک وہ ہوتا ہے جب بدمعاش ہاتھی شکاری پر حملہ کر رہا ہو اور اسے ایک ہی گولی سے گرا دیا جائے۔ اس کا حملہ ناقابل دفاع دکھائی دیتا ہے اور اس کی جسامت بہت بڑی ہوتی ہے کہ کئی مرتبہ میں ہاتھی کے مقابلے پر انسان کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں کر پاتا تھا مگر مناسب مقام پر چلائی گئی ایک گولی اور باردو کی مناسب مقدار ایک لمحے میں اس ہاتھی کو گوشت و ہڈیوں کا ڈھیر بنا دیتے ہیں۔

سب سے برے مناظر میں سے ایک وہ ہے جب ہاتھی کو مرے چار یا پانچ روز گزر چکے ہوں۔ استوائی موسم میں مردہ جانور میں بہت تیزی سے تعفن پیدا ہو جاتا ہے اور مردہ ہاتھی پر شعلے برساتے سورج کی طاقت بہتر سمجھ آتی ہے۔ حدت سے ہاتھی کی انتڑیوں میں گیس پھیلتی ہے اور ہاتھی کی جسامت بہت پھیل جاتی ہے۔ جب پیٹ پھٹتا ہے تو چند ہی گھنٹے بعد ہاتھی کے پورے جسم پر کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ ہلاکت کے تین ہفتے بعد ہاتھی کی لاش میں ہڈیاں اور سنڈیوں کے خول بچ جاتے ہیں۔ اتنے بڑے جانور کی ہلاکت کے بعد اتنے کم وقت میں اس کے جسم کا تحلیل ہو جانا فطرت کے قوانین کے مطابق ہے جو بظاہر نا ممکن لگتا ہے۔ موت اٹل اور فنا کا نام ہے۔ ہاتھی جیسے دیو کی طاقت، اس کی عظمت، وحشت، اب مکھیوں کی شکل میں بچی ہے جو اس کے گوشت پر پلی تھیں۔

گرم علاقے میں چند ہفتے شکار کے بعد معتدل علاقے کو واپسی بہت خوشگوار محسوس ہوتی ہے اور نیویرا ایلیا بہشت محسوس ہوتا ہے۔ جنگل سے واپسی پر انسان خیموں میں بھی بخوشی رہ سکتا ہے مگر اچھے گھر کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔

نیویرا ایلیا میں دستیاب شکار کی سہولت کا کوئی مقابل نہیں۔ آپ گھر کی دہلیز سے نکلیں تو شکار سامنے مل جاتا ہے۔ یہ محاورتاً نہیں کہہ رہا بلکہ ایک مرتبہ میں نے ایک کھڑکی سے چھلانگ لگاتے ہوئے سانبھر کو شکار کیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ نیویرا ایلیا میں ہمارے ہوٹل کے پیچھے والے پہاڑ پر ہمارے کتوں نے تین سانبھروں کو روک لیا۔ کئی کتے تو دو روز تک غائب رہے کہ سانبھر نے انتہائی دشوار علاقے کا رخ کیا تھا۔ باقی کتے ایک مادہ سانبھر کے پیچھے لگے۔ سمٹ نے ایک اور مادہ سانبھر کو چنا اور اس کو بھگاتا ہوا پہاڑ کے نیچے ہوٹل کی جانب لے آیا۔ اس دوران کئی کتے پہلی مادہ سانبھر کو گھیر کر اسی جگہ لائے تھے اور ہم نے اسے شکار کر لیا تھا۔ اس دوران بہت سے آدمی ہوٹل کے برآمدے میں کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے لگ گئے۔ اچانک سمٹ اور اس کے آگے بھاگتی ہوئی مادہ سانبھر مجمع کو چیرتے ہوئے گزرے۔ مادہ سانبھر اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ اس نے بلاجھجھک ہوٹل کے دروازے سے اندر کا رخ کیا۔ سمٹ کو علم تھا کہ مادہ سانبھر کیا کرے گی سو اس نے چکر کاٹا اور ہوٹل کے سامنے والے دروازے کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سوچا ہو گا کہ اگر مادہ سانبھر ایک سمت سے گھسی ہے تو دوسری سمت سے نکلے گی۔ اس کا اندازہ درست تھا۔ اس دوران مادہ سانبھر مختلف کمروں میں بھاگتی پھری اور ہر جگہ لوگ اس کے پیچھے تھے۔ آخرکار اس نے ایک خاتون کی خوابگاہ کا رخ کیا تو دیکھا کہ کھڑکی بند تھی۔ مادہ سانبھر نے سیدھا کھڑکی سے جست لگائی اور شیشے کو توڑتی ہوئی باہر پہنچی تو سمٹ نے اسے چند ہی قدم کی دوڑ کے بعد پکڑ لیا۔ میں نے ساری زندگی میں سانبھر کو کھڑکی سے کودتے پھر کبھی نہیں دیکھا۔ انگلستان میں شکار کے دوران ہرن گھروں میں گھسنے سے بھی نہیں کتراتے۔ ایک بار پیدرو تالا گالا میں سانبھر چوٹی پر دکھائی دیا۔ یہ پہاڑ نیویرا ایلیا سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سانبھر جب کتوں کو دیکھتے ہیں تو سیدھا نیچے وادی کو اترنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہوٹل کے قریب دریا کو پہنچ کر رک جاتے ہیں۔ بعض اوقات سانبھر کسی اور جانب بھی رخ کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے پورا دن اسی شکار پر ہی صرف ہو جاتا ہے۔ ۲۷ جولائی ۱۸۵۲ کو ایسا ہی ہوا کہ میں اور میرا سب سے چھوٹا بھائی صبح ۶ بجے ہوٹل سے نکلے اور اسی پہاڑ پر چڑھنے لگے۔ چوٹی تک تین میل راستہ بنتا ہے اور سارا جنگل سے گزرتا ہے۔ چوٹی کے قریب سانبھر کی موجودگی کی تازہ علامات دکھائی دیں۔ اوس کافی زیادہ تھی اور سانبھر کے جسم کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ میرے دو کتے میری مین اور پلو بوائے سیدھا اسی بو پر لپکے اور باقی کتے بھی ان کے پیچھے بھاگے۔ چند منٹ بعد چوتھائی میل نیچے کی جانب سے کتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ کتوں کو شاباش دیتے ہوئے ہم اس جانب بھاگے اور پندرہ منٹ بعد ہم پہاڑ کے دامن میں تھے۔ یہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ کہ جونہی سانبھر جنگل سے نکلا، اس کے سامنے کئی لوگ موجود تھے اور ان کے ڈر سے سانبھر نے رخ موڑا اور اب ہمیں کتوں کی آواز سنائی دینا بند ہو چکی تھی۔ ہمیں ان بندوں پر سخت غصہ آیا کہ ان کی وجہ سے ہمارا شکار خراب ہوا اور ان کو دل ہی دل میں برا بھلا کہتے ہوئے ہم پہاڑ کو بھاگے۔ ہمارا اندازہ تھا کہ کچھ دور جا کر ہمیں پہاڑ پر موجود کئی کھائیوں سے کتوں کی آواز سنائی دے جائے گی۔

تاہم ہماری امیدیں بھر نہ آئیں کہ پرندوں کی چہچہاہٹ اور پانی کے بہاؤ کی آوازوں سے باقی سب آوازیں دب کر رہ گئی تھیں۔ تازی کتے بھی باقی کتوں کے ساتھ غائب تھے اور ہمیں علم تھا کہ تاریکی چھانے تک کتوں نے سانبھر کا پیچھا نہیں چھوڑنا۔ سو ہم نے بھی تعاقب کی کوشش جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دن بھر کے دوران ہم اس پہاڑ پر تین مرتبہ چڑھے کہ کہیں سے کتوں کی آواز سنائی دے جائے مگر ناکام رہے۔ ہم نیویرا ایلیا کے درے پر بھی چڑھے مگر کوئی آواز نہ سنائی دی۔ اس روز ہم بہت میل پیدل چلتے رہے مگر کہیں سے کوئی آواز نہ آئی۔ ہم نے پہاڑ کے دوسری جانب کی کھائیوں تک بھی جا کر دیکھا مگر کتوں کا یا سانبھر کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ پرندوں یا جھرنوں کی آوازیں ہی سنائی دیتی رہیں۔

ایک بار پھر دامن میں اتر کر ہم نے ایک دوست کے گھر ناشتہ کیا اور پھر متورتہ میدان کو چل پڑے۔ یہ میدان بیرکوں سے تین یا چار میل دور ہیں اور مجھے تھوڑی سی امید تھی کہ شاید سانبھر نے پہاڑوں کو عبور کر کے یہاں سے گزرنے والے دریا کا رخ کیا ہو گا جو گھاس کے میدانوں سے گزرتا ہے۔ ہم گھوڑوں پر سوار ہوئے کہ صبح سے اب تک ہم پیدل ہی چلتے رہے تھے۔ تین بج رہے تھے کہ ہم کتوں کو تلاش کرنے کے لیے متورتہ میدان کی سمت چل پڑے۔

جب ہم جنگل میں داخل ہونے لگے تو ایک کم عمر شکاری کتا واپس آتا دکھائی دیا جس کے شانے پر سانبھر کے سینگ سے لگنے والا زخم واضح دکھائی دے رہا تھا۔ اب ہمیں یقین ہو گیا کہ سانبھر اور کتے اسی سمت گئے ہوں گے سو ہم نے گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور ہر ممکن تیزی سے چلے۔ نصف راستے پر مجھے ایک بہت بڑے سانبھر کے کھروں کے نشان دکھائی دیے جو اسی سمت جا رہے تھے۔ یہ نشان تازہ اور سم پھیلے ہوئے تھے جیسے سانبھر بہت تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ اس کے عین پیچھے کتوں کے پنجوں کے نشانات تھے۔ سارے دن کی مشقت کے بعد اب جا کر ہمیں کچھ سکون ملا اور ہم نے گھوڑوں کو پھر ایڑ لگائی۔

آخرکار ہم مطلوبہ میدان کو پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر ہم نے بری طرح ہانپتے گھوڑوں کو روکا اور کتوں کی آواز سننے کی کوشش کی مگر گھوڑوں کے ہانپنے کی آواز سے کچھ اور نہ سنائی دیا۔ میں نے ایسے ہی کتوں کو بلایا تو آواز کی بجائے اچانک بران اور لوسیفر نمودار ہوئے۔ اس طرح ہمیں یقین ہو گیا کہ باقی کتے بھی اسی سمت ہی کہیں ہوں گے۔ سو ہم پھر گھوڑوں پر سوار ہو کر اسی جانب چل پڑے۔ سامنے والی پہاڑیوں سے اچانک ہمیں سمٹ کی بھاری آواز سنائی دی۔ میں نے بران اور لوسیفر کو تھپکی دی تو وہ کمان سے نکلے تیر کی مانند اسی جانب بھاگے۔ یہ میدان ایک کھلی وادی کی شکل میں ہیں جس کے وسط سے دریا بل کھاتا ہوا گزرتا ہے۔ ہم کتوں کے پیچھے پوری رفتار سے گھوڑوں پر سوار بھاگے اور جلد ہی ہمیں معلوم ہو گیا کہ کتوں نے سانبھر کو گھیرا ہوا ہے۔ اب مجھے دیگر کتوں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں۔ گھوڑوں کو شکار کا علم ہو گیا اور ان کی رفتار بھی بڑھ گئی۔ اچانک جیک ایک گڑھے میں گرا اور میں قلا بازی کھا کر دور جا گرا۔ جیک کے بعد مومس بھی عین اسی جگہ گرا اور میرا بھائی بھی میرے قریب آن گرا۔ ہم سانبھر کے قریب تھے، سو ہم نے گھوڑوں کو وہیں چھوڑا کہ وہ خود ہی گڑھے سے نکل آئیں گے اور خود اسی جانب بھاگے۔

سانبھر دریا کے وسط میں رکا ہوا تھا اور تھکے ہوئے کتے کنارے سے ہی اس پر بھونک رہے تھے۔ جونہی ہم پہنچے اور کتوں کو آواز دی تو سمٹ سیدھا ہماری سمت خوشی سے بھونکتا ہوا آیا اور دو تین مرتبہ گھاس پر لوٹنے کے بعد واپس لوٹ گیا۔ تاہم سانبھر نے اچانک دریا سے نکل کر کتوں پر حملہ کیا اور ان کے درمیان سے بھاگتا ہوا میدان کو گیا تو کتے اس کے پیچھے تھے۔ سرد پانی میں کھڑے ہونے سے سانبھر تازہ دم ہو چکا تھا جبکہ کتے تھک چکے تھے۔ سانبھر کتوں کے آگے بھاگتا ہوا جنگل میں گھسا اور پانچ منٹ تک آگے پیچھے بھاگتا رہا اور پھر ہمیں جنگل سے اس کے بھاگنے کی آواز سنائی دی اور اگلے لمحے سانبھر جنگل سے نکلا تو بران، لوسیفر اور لینا اس کے عین پیچھے تھے۔ کتوں نے لپک کر اسے پکڑا مگر سانبھر نے ایک جھٹکا دیا تو سبھی کتوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور سانبھر تیز رفتاری سے پھر سیدھا دریا کو بھاگا۔ دریا میں گھستے ہوئے سانبھر کو کتوں نے پھر پکڑا اور کتے اور سانبھر پانی میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔

اگلے لمحے سانبھر پانی میں تیرتا دکھائی دیا اور کتے کنارے پر رہتے ہوئے پیچھے بھاگے۔ سانبھر کے پیر دریا کی تہہ سے ٹکرائے تو اس نے کتوں پر حملہ کر دیا۔

سانبھر بہت عمدہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے نتھنے پھیلے ہوئے، ایال کھڑی اور اس کی آنکھیں دہک رہی تھیں۔ اس نے پچھلے پیروں پر کھڑے ہو کر سیدھا آگے والے کتوں پر حملہ کر کے کتوں کو پانی کے نیچے پہنچا دیا۔ کتوں کا سانبھر سے کوئی جوڑ نہ تھا کہ وہ یکے بعد دیگرے سبھی کتوں پر حملہ کر کے انہیں پانی میں غوطے دے رہا تھا۔ سمٹ سب سے آگے تھا اور سب سے زیادہ مار کھا رہا تھا۔ تاہم ایک غوطے کے بعد وہ سانبھر کے شانے کے پیچھے پانی سے نکلا اور اگلے لمحے اس کے کان کو پکڑ کر لٹک گیا۔ سمٹ اتنی مرتبہ شکار پر جانور پکڑ چکا تھا کہ اب اس کے منہ میں بہت کم دانت بچے تھے۔ سو سانبھر نے ایک زوردار جھرجھری لی تو سمٹ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور سانبھر نے آزاد ہو کر کتوں پر حملہ کیا اور آدھے کتوں کو پانی میں غوطے دیتا ہوا بھاگا۔ تاہم اس کی بہادری نے اسے بہاؤ کے مخالف چند گز سے زیادہ نہ جانے دیا اور اس نے مڑ کر کتوں کا رخ کیا تو بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی بہادری کی وجہ سے میرے دل میں اس کے لیے کچھ ہمدردی پیدا ہو گئی تھی۔

جب سانبھر بھاگا تو سمٹ سب سے پیچھے رہ گیا تھا۔ تاہم لینا نے غول کی سربراہی سنبھالی اور ریتلے کنارے پر پہنچ کر اس نے سانبھر پر حملہ کیا جسے سانبھر نے اپنے سینگوں پر روک کر لینا کو رگیدنا شروع کر دیا۔ عین اسی وقت ایک اور طاقتور کتے والیئنٹ نے جست لگائی اور سانبھر کا کان پکڑ لیا۔ ابھی سانبھر اس سے کان نہ چھڑا پایا تھا کہ پلو بوائے نامی کتے نے دوسرا کان پکڑ لیا۔ سانبھر نے ہوا میں بلند ہو کر اور جھٹکے مار کر کان چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دونوں کتے سانبھر کے کان کا ہی حصہ ہوں۔ دوسرے ہی لمحے دیگر کتے بھی پہنچ گئے اور سانبھر کتوں میں گھر گیا اور زوردار لڑائی شروع ہو گئی۔ سانبھر بہت نڈر تھا اور انتہائی بہادری اور خوبصورتی سے لڑا مگر اس کا وقت پورا ہو چکا تھا اور ہم نے شکاری چاقو سے اس لڑائی کو ختم کر دیا۔

ہم سانبھر کے پیچھے صبح سات بجے لگے تھے اور اب شام کے چار بج رہے تھے۔ تاہم اس کے شکار کے ساتھ دن بھر کی محنت وصول ہوئی۔ ہماری رہائش گاہ سے یہ فاصلہ کل آٹھ میل بنتا ہو گا مگر ہم نے دن بھر میں انتہائی دشوار علاقوں سے گزرتے ہوئے ۲۰ میل کا سفر طے کیا تھا۔ میدانی علاقے میں سانبھر ۱۵ یا ۲۰ میل کی دوڑ کے بعد ہی شکاری کتوں کے ہاتھ لگتا ہے۔ جنگل میں گزرتے ہوئے جھاڑ جھنکار کی وجہ سے سانبھر کو دوڑنے میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور اس کے پیچھے بھاگنے والے کتے اس کے بنائے ہوئے راستے پر آسانی سے بھاگتے ہیں۔ ایسے جنگل میں سانبھر کیسے بھاگتا ہو گا جہاں بھاگتے ہوئے گھوڑے کی ٹانگیں ٹوٹ جائیں اور ایسی جگہیں بھی ہوتی ہیں کہ گھوڑا حرکت بھی نہ کر سکے مگر سانبھر وہاں پوری رفتار سے بھاگتا ہوا گزرتا ہے۔

سیلون کے پہاڑی علاقوں میں نیلہاؤ نامی جھاڑی بکثرت ملتی ہے جس کا تنا بالکل سیدھا ہوتا ہے اور یہ جھاڑی بارہ سے بیس فٹ تک بلند ہو سکتی ہے اور اس کے تنے کی موٹائی ڈیڑھ انچ ہوتی ہے۔ اس کے عین اوپر چوٹی پر جا کر چند شاخیں نکلتی ہیں جس پر بڑے پتے ہوتے ہیں۔ جیسے کھیت میں مکئی اگتی ہے، اسی طرح یہ بھی اتنا ہی قریب قریب اگتی ہے۔ اس کا جنگل ناقابل رسائی ہوتا ہے۔ اس طرح کے جنگل میں سانبھر کو بھی چلتے ہوئے مشکل ہوتی ہے کہ اسے گزرتے ہوئے اتنا زور لگانا پڑتا ہے کہ جلد ہی تھک کر رک جاتا ہے۔

نیلہاؤ پر ہر سات سال بعد پھول اگتے ہیں تو سارا جنگل شوخ جامنی اور سفید پھولوں کا غالیچہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی خوشبو بہت مدھر ہوتی ہے اور دور دور سے شہد کی مکھیاں اس کا رس چوسنے آتی ہیں۔ شہد جمع کرنے والے نچلے علاقوں سے کام شروع کرتے ہیں اور شہد اور موم جمع کرتے کرتے چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب بلندی پر کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو جگہ جگہ نیلے رنگ کے دھوئیں کی لکیریں اٹھتی دکھائی دیتی ہیں کہ وہاں شہد جمع کرنے والے آدمی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے شہد جمع کرنے کا عمل بہت سادہ ہوتا ہے۔ شہد کا چھتہ درخت کی شاخ سے لٹک رہا ہوتا ہے اور ایک آدمی سلگتے ہوئے سبز پتوں کی چھوٹی سی گٹھڑی سی ہاتھ میں لے کر درخت پر چڑھتا ہے جس سے بہت زیادہ دھواں نکلتا ہے۔ یہ آدمی شہد کے چھتے کے قریب پہنچ کر دھواں دیتا ہے جس کی وجہ سے ساری مکھیاں چھتہ چھوڑ دیتی ہیں اور چھتہ صاف دکھائی دیتا ہے جس کی عام لمبائی ڈیڑھ فٹ اور موٹائی چھ انچ ہوتی ہے۔ اس آدمی کو رسی سے باندھ کر کدو سے بنے پیالے بھیجے جاتے ہیں۔ یہ آدمی چھتے کو کاٹ کاٹ کر پیالوں میں ڈال کر نیچے بھیجتا جاتا ہے۔

جب نیلہاؤ کے پھول ختم ہوتے ہیں تو بیج بننے لگتے ہیں جن کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے۔ پھر شہد کی مکھیاں بھی اچانک غائب ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ کبوتر، جنگلی مرغیاں اور چوہے پہنچ جاتے ہیں۔ جب یہ بیج گرتے ہیں تو نیلہاؤ کا پودا مر جاتا ہے۔ پھر جنگل کی شکل بدل جاتی ہے۔ جھاڑ جھنکار خشک ہوتا ہے اور ان میں اگے ہوئے درخت عجیب دکھائی دیتے ہیں۔ پھر ان کی جڑیں بھی مر جاتی ہیں اور چند ہفتے تک چلنے والی تیز ہوا سے سارا جھاڑ جھنکار ختم ہو جاتا ہے اور بس درخت ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہر طرف ان خشک جھاڑیوں کے کم از کم تین فٹ اونچے انبار دکھائی دیتے ہیں۔ نیلہاؤ کے نئے پودے تیزی سے بڑھتے ہیں اور ان کے نیچے خشک جھاڑیوں کے ڈھیر چھپ جاتے ہیں۔ کتے اور شکاری کے لیے یہاں سے گزرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ شکاری موٹی برجیس پہن کر طاقت کے زور پر اس سے گزر سکتے ہیں اور شکاری کتے بیچارے کبھی ان ڈھیروں کے اوپر اور کبھی نیچے سے بھاگتے ہیں۔ جب نیلہاؤ کے نئے پودے اگتے ہیں تو بہت بڑی تعداد میں سانبھر چرنے کے لیے آتے ہیں۔ کتوں کو یہاں نقصان ہوتا ہے۔ کتوں کو راستہ بنانا پڑتا ہے جبکہ سانبھر ان ڈھیروں کے اوپر سے جست لگا کر گزرتے ہیں اور ان کے گزرنے سے کوئی راستہ نہیں بنتا۔ سانبھر کو راستہ بنانے کے لیے زور بھی نہیں لگانا پڑتا جس کی وجہ سے اس کے تھکنے کے امکانات نہیں ہوتے۔ اس طرح سانبھر کتوں سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں اور ان کے پیچھے جانے والے کتے اکثر گم ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔

سیلون سال بھر شکار کے لیے بہت برا ہے اور جنگل اور گھاس کے میدانوں کا تناسب بھی اچھا نہیں۔ دوسری جانب یہ بھی ہے کہ اگر جنگل چھوٹے ہوتے تو قابل شکار جانوروں کی تعداد بھی اسی تناسب سے کم ہوتی۔ سانبھر کا شکار بہت عمدہ مشغلہ ہے۔ اس شکار میں بار بار مایوسی بھی ہاتھ آتی ہے مگر یہ شکار کی خاصیت ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کتے مسلسل ضائع ہوتے رہتے ہیں۔ جتنا عمدہ کتا ہو گا، اتنی جلدی ضائع ہو گا۔ جنگلی سور، تیندوے، سانبھر اور کھو جانے کی وجہ سے کتوں کا غول مشکل سے ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ پلے بھی اکثر اسی طرح تربیت کے لیے شکار پر جاتے ہی کھو جاتے ہیں۔ میرا ایک بہترین شکاری کتا لانسر جو لوسیفر کا بھائی تھا، اسی طرح تربیت کے پہلے روز کھو گیا۔

ہم نے ایک سانبھر دیکھا جو گہرے اور پتھروں سے بھرے تیز نالے میں رک گیا تھا۔ یہ صورتحال کتوں کے بس سے باہر تھی۔ سانبھر اپنی پسند سے کتوں پر حملہ کر کے انہیں پانی میں ڈبونے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر سانبھر نے ایک ایسے مقام کا رخ کیا جہاں وہ بڑے پتھروں کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ اس کے پیچھے نالہ ۶۰ فٹ اونچی آبشار کی صورت میں گرتا تھا اور بہاؤ بہت تیز تھا۔

اس مقام پر لانسر نے اپنی سمجھ داری اور بہادری دکھانے کے لیے سیدھا سانبھر کے سر پر حملہ کیا اور سانبھر نے اپنے کھروں سے اس کا حملہ روکا تو لانسر کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ آبشار سے ہوتا ہوا ۶۰ فٹ نیچے جا گرا۔ یہ سانبھر دو گھنٹے کی مزید جد و جہد کے بعد شکار ہوا۔

پکڑنے والے کتے جو جوانی گزار چکے ہوں، کے جسموں پر زخموں کے بے شمار مندمل نشان ہوتے ہیں۔ بران خالص تازی نسل کا کتا تھا اور اس کی کھال یہاں شکار کے لیے بے کار تھی۔ اس کے زخموں پر اتنے ٹانکے لگے ہیں کہ جیسے وہ کڑھائی کا شاہکار ہو۔ اگر کسی شکار میں سانبھر یا سور کے ہاتھوں کوئی کتا زخمی ہوا ہو تو وہ ہمیشہ بران ہی ہوتا تھا۔ اب اس کی کمر پر سات انچ لمبا زخم ہے جو اسے سانبھر کے سینگوں سے لگا۔ یہ سینگ اب میرے دروازے کے اوپر سجے ہیں۔

میں کتوں کے ساتھ پو پھٹتے ہی نکلا اور گھر سے ایک میل دور گیا ہوں گا کہ کتوں نے سڑک پر سے کسی جانور کی بو اٹھائی اور پوری قوت سے بھونکتے ہوئے جنگل میں گھس گئے۔ سڑک کے دونوں جانب گھنا جنگل تھا۔ کتوں کو دو مختلف سانبھروں کی بو ملی ہو گی کہ آدھے کتے ایک جانب اور باقی دوسری جانب بھاگے تھے۔

میں نے سیدھا درے کا رخ کیا اور جب نیچے اتر کر ڈھلوان گھاس کے میدانوں کو پہنچا تو سڑک کے بائیں جانب پہاڑوں سے کتوں کی آواز نیچے آتی محسوس ہوئی۔ پھر جھاڑیوں میں کسی جانور کے گزرنے کی آواز آئی اور اگلے ہی لمحے ایک خوبصورت سانبھر نکلا اور پہاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگا۔ میری مین اور ٹپ ٹو سب سے آگے مگر سانبھر سے پچاس گز پیچھے تھے۔ سمٹ بھی پہنچا اور میں نے بران کو اشارہ کیا اور وہ بھی بھاگ پڑا۔ بران جیسے اڑتا ہوا گھاس سے گزر رہا ہو۔ اس نے ایک ہی جست میں چوڑی ندی عبور کی اور پہاڑی پر چڑھتے ہوئے وہ چند منٹ میں سانبھر کے قریب ہونے لگا۔ وہ دیگر کتوں کے پاس سے بجلی کی سی تیزی سے گزرا اور چند چھلانگوں کے بعد وہ سانبھر کے پہلو میں پہنچ گیا۔ تاہم سانبھر نے اگلے پیر کے عمدہ وار سے اسے گرا دیا۔ بران کے پہلو میں گہرا زخم لگا مگر وہ اپنے زخم کو بھلا کر پھر بھاگا۔ اتنی دیر میں سانبھر پہاڑی سے اتر کر دریا میں ایک گہرے تالاب میں رک گیا۔ جلد ہی سبھی کتے بھی پہنچ گئے اور سانبھر بہادری سے لڑ رہا تھا۔ کتے اس کو چھو بھی نہ سکتے تھے کہ وہ سینگوں سے بھی وار کر رہا تھا۔

میں پانی میں کودا اور کتوں کو بھی ہمت دلائی۔ سانبھر نے براہ راست مجھ پر حملہ کر دیا۔ میں نے چاقو سے اس کے ناک پر وار کیا تو وہ رک گیا۔ عین اسی وقت ایک کتا اس کے کان سے چمٹا اور دوسرے کان پر بران کا قبضہ ہو گیا۔ میں نے چاقو سے ایک ہی وار کر کے سانبھر کو ختم کر دیا۔ چند لمحے بعد سانبھر بے جان پڑا تھا۔ بران کے پہلو میں لگنے والا زخم چار انچ چوڑا اور سات انچ لمبا تھا۔

میرے بھائی نے دوسرے کتوں کے ساتھ جس سانبھر کا پیچھا کیا تھا، وہ مادہ نکلی اور ان کا تعاقب کافی طویل ہو گیا۔ خیر، صبح آٹھ بجے ہم ناشتے کے لیے واپس پہنچے تو دو سانبھر شکار ہو چکے تھے۔

سانبھر کا شکار کرنا ہو تو پو پھٹنے کے ساتھ نکلنا چاہیے۔ یہ وہی وقت ہوتا ہے کہ جب رات بھر گھاس چرنے کے بعد سانبھر جنگل میں آرام کرنے کو جاتے ہیں۔ تازہ بو پر شکاری کتے چھپٹتے ہیں اور شکاری کو جنگل میں بے کار نہیں گھسنا پڑتا۔ اگر تاخیر سے نکلا جائے تو سانبھر جنگل میں اتنی دور پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ ان کا پیچھا کرنا بے سود رہتا ہے۔ میرے ساتھ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ میں دیر سے اٹھا اور ارادہ تھا کہ چھ میل دور متورتہ کے میدانوں میں شکار کھیلیں گے۔ بو پرانی ہو چکی تھی، سورج بہت گرم تھا اور تھکے ہوئے کتے ہانپ رہے تھے۔ دو بجے تک ہمیں کچھ نہ ملا اور ہم نے گھر واپسی کا سوچا کہ اب کامیابی نہیں ہو گی۔

اچانک مجھے بہت دور سے کتے کی آواز آئی جو اتنی کمزور تھی کہ مجھے شبہ ہوا کہ کہیں میرے کان مجھے دھوکا تو نہیں دے رہے۔ مگر آواز پھر آئی۔ میں نے کتوں کو گنا تو دیکھا کہ سمٹ غائب ہے۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ سمٹ ہی کی آواز تھی جو کسی سانبھر کو روکے کھڑا ہے۔ ہم بھاگتے ہوئے آواز کی جانب گئے اور متورتہ میدانوں کو جا پہنچے۔ اب کتوں کو سمٹ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ سمٹ نے نہ صرف سانبھر کو تلاش کر لیا بلکہ تن تنہا اسے دریا میں روکے کھڑا تھا۔

جونہی باقی کتے پہنچے، سانبھر نے اپنی جگہ چھوڑی اور کنارے پر جست کر کے چڑھا اور سیدھا گھاس کے میدان کو بھاگا۔ سارے کتے اس کے پیچھے لگ گئے مگر بران دیگر کتوں سے ایک سو قدم آگے تھا۔ جونہی مجھے لگا کہ بران اب اس کے کان کو پکڑنے والا ہے کہ سانبھر نے لات مار کر اسے گرا دیا۔ بران فوری اٹھا اور سیدھا بھاگ کر سانبھر کے کان سے چمٹ گیا۔ مگر کان چرا اور بران کی گرفت پھسل گئی۔ اس دوران سانبھر نے ایک اور لات مار کر پھر اسے گرا دیا۔ اس دوران سانبھر چند لمحے ایک ہی جگہ رکا اور باقی کتے قریب پہنچنے لگے۔ اب سانبھر نے خطرہ بھانپ کر پھر دریا کے تالاب کا رخ کیا اور گہرے پانی میں رک گیا۔ سمٹ پھر اس کے پیچھے بڑھا اور چند لمحے بعد سارے کتے سانبھر کو گھیر کر بھونکنے لگے۔

دریا گہری کھائی سے گزرتا تھا سو مجھے بیٹھ کر پھسلتے ہوئے تیس گز نیچے جانا پڑا۔ کئی جگہ رفتار کم کرنے کے لیے مجھے گھاس پکڑنی پڑی۔ جب دریا کو پہنچا تو کنارے پر اگی ہوئی اونچی گھاس اور جھاڑیوں کی وجہ سے کچھ نہ دکھائی دیا۔ آواز آئی تو پتہ چلا کہ کتے اور سانبھر میرے عین نیچے موجود ہیں۔ جھاڑیوں سے گزرتے ہوئے میں دریا میں کودا اور تیرنے لگا۔ کتے اور سانبھر میرے اردگرد تھے۔ سمٹ اور بران نے سانبھر کے کان پکڑے تھے اور چاقو کے ایک وار سے سانبھر شکار ہو گیا۔

اس طرح کے شکار میں چاہے جتنی ہی دلچسپی کیوں نہ ہو، ایک وقت آتا ہے کہ انسان اکتا جاتا ہے۔ سو میں سمٹ اور میری مین کتوں کی ہلاکت کے بارے میں بتا کر اس پہاڑی شکار کے باب کو ختم کر دوں گا۔ دونوں کی موت سے جو خلا پیدا ہوا، وہ آسانی سے پورا نہیں ہو سکتا۔

۱۶ اکتوبر ۱۸۵۲ کو میں جب گھر سے نکلا تو میرے پاس بہت کم کتے تھے۔ لوسیفر زخمی ہونے کی وجہ سے کتے خانے میں چھوڑ دیا تھا، لینا اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی اور کئی دوسرے کتے بیمار تھے۔ سمٹ اور بران ہی دو ایسے کتے تھے جو شکار پکڑنے کا کام بخوبی جانتے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اس روز اس سرسبز علاقے میں شکار کھیلوں گا جو ہیک گالا پہاڑ کے دامن میں ہے۔

میرا بھائی اور میں کتوں کے ساتھ جنگل میں گھسے اور سو گز بھی نہ جانے پائے ہوں گے کہ سارے کتوں کی آواز آئی جس سے پتہ چلا کہ وہ کسی جانور کو گھیرے کھڑے ہیں۔ یہ آواز چوتھائی میل دور سے آئی تھی اور ہم سوچنے لگے کہ کون سا جانور ہو گا کہ جو اتنی خاموشی اور بنا بھاگے رک گیا ہو گا۔ خیر، ہم اس مقام کو چل پڑے اور کچھ دور ہی آواز آئی کہ جیسے وہ جانور اپنی جگہ چھوڑ چکا ہو اور اب آہستہ آہستہ بھاگ رہا ہو۔ اگلے لمحے بران جنگل سے نکلا تو خون میں لت پت تھا۔ اس کے کولہے پر ایک گہرا زخم تھا۔ ہمیں علم ہو گیا کہ ہمارا شکار ایک بہت بڑا سور ہے۔

بران شدید زخمی تھا اور سمٹ کے منہ میں شاید کوئی دانت بچا ہو۔ سو ہمارے پاس اب کوئی کتا نہیں تھا جو شکار کو پکڑ سکے۔ سور پھر گھنے جنگل میں رکا۔

اس روز میرے پاس رائفل تھی اور چند روز قبل یہاں ہاتھیوں کا راستہ دیکھا تھا۔ سور کو گولی مارنے کی نیت سے ہم جنگل میں گھس کر مطلوبہ مقام کو پہنچے۔

ابھی ہم اس مقام سے بیس گز دور ہوں گے کہ سور کی غصیلی آواز سنائی دی کہ وہ کتوں پر حملہ کر رہا تھا (ایسی کیفیت میں کتوں کو ہٹانا ممکن نہیں ہوتا اور واحد امکان یہی تھا کہ کتے جونہی سور کو پکڑتے، میں چاقو سے اسے ہلاک کر دیتا۔ اس مقصد کے لیے کتوں کی ہمت بڑھانی تھی جو ایک طرح سے ظالمانہ فعل تھا)۔ میں نے کتوں کی ہمت بندھائی مگر سور کے پکڑے جانے کی آواز نہ آئی۔ سمٹ کی بھاری آواز اور سور کی خرخر کی آوازیں آتی رہیں اور کوئی کتا زخمی ہوتا تو اس کی آواز بھی سنائی دیتی۔ میں نے پھر کتوں کی ہمت بندھائی اور سمٹ اچانک دس گز دور لڑائی چھوڑ کر میری جانب آیا۔ بیچارے کو مہلک زخم لگا تھا اور اس کا جسم دو حصوں میں جیسے تقسیم ہو گیا ہو۔ سور کی کچلیوں نے اس کے پیٹ کے نیچے سے پشت تک ۱۴ انچ لمبا زخم لگایا تھا جو ریڑھ کی ہڈی تک جا رہا تھا۔ اس کی پچھلی ٹانگ کے پٹھے کٹ چکے تھے اور ٹانگ گھسٹ رہی تھی۔ پھر وہ اچانک بھونکتا ہوا تین ٹانگوں پر ہی سور کو لپکا۔ میں اس کے پیچھے گیا اور چھ گز دور سے بھی مجھے کچھ نہ دکھائی دیا کہ بانس کے جھنڈ بہت گھنے تھے۔ اچانک سور نے حملہ کیا۔ میں نے ایک پتھر پر جست لگائی اور کوشش کی کہ گولی چلانے کا موقع مل جائے۔ سور رائفل کی نال سے تین فٹ تک آ گیا مگر مجھے دکھائی نہ دے سکا اور نہ ہی سور مجھے دیکھ سکا۔ اگر کتوں کی ہلاکت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ہلتی ہوئی جھاڑیوں میں ہی گولی جھونک دیتا۔ مگر ایسی صورتحال میں کچھ نہ کر سکا کہ اتنے گھنے جنگل میں رائفل بیکار ہوتی ہے۔ جلد ہی سور بھاگا اور پھر کچھ دور جا کر پھر ایسی ہی محفوظ جگہ پر رک گیا۔ میں کتوں کی کوئی مدد نہ کر پا رہا تھا اور سور مزے سے کتوں کی چیرپھاڑ کر رہا تھا۔ اگر لوسیفر اور لینا ہمارے ساتھ ہوتیں تو سور کب کا مارا جا چکا ہوتا۔ مگر پکڑنے والے کتوں کی عدم موجودگی میں سور کی جیت ہو رہی تھی۔

ایک گھنٹہ گزرنے کے دوران ہم نے یکے بعد دیگرے تمام کتے واپس بلا لیے مگر سمٹ اپنی بری حالت کے باوجود سور کو چھوڑنے پر آمادہ نہ تھا اور سب سے آخر پر نکلا۔ اس کے جسم پر اور بھی کئی نئے زخم بن چکے تھے اور ایک گہرا زخم اس کے گلے پر تھا۔ وہ نڈھال ہو کر گر پڑا اور ہم نے اس کے لیے ایک سٹریچر بنایا اور اٹھا کر گھر لائے۔ بران، میری مین اور پلو بوائے بھی شدید زخمی تھے۔ ہمیں بری طرح شکست ہوئی۔ یہ ہماری پہلی شکست تھی اور مجھے یقین ہے کہ آخری شکست بھی یہی تھی۔ ہم بری طرح زخمی کتوں کے ہمراہ گھر کو لوٹے۔ سمٹ کو چار بندوں نے اٹھایا ہوا تھا اور اداسی کی کیفیت میں گھر پہنچے۔ میری مین اور پلو بوائے شدید زخمی تھے اور کئی ہفتے تک ان کے ساتھ شکار پر نکلنا ممکن نہ تھا۔

سمٹ کئی دن تک تکلیف سہنے کے بعد راہی عدم ہوا۔ اس طرح اس کی شاندار یادیں اب میرے ساتھ ہیں اور ہمیشہ میرے دل میں اس کے لیے خاص گوشہ رہے گا۔ اس کا بیٹا اب ایک سال کا ہو رہا ہے اور بالکل اپنے باپ کی نقل ہے۔ میری خواہش ہے کہ وہ سمٹ کی طرح کامیاب شکاری بنے (چار ماہ بعد یہ کتا بھی ایک سانبھر کے ہاتھوں مارا گیا)۔

برا وقت کبھی تنہا نہیں آتا۔ سمٹ کی موت کے چند ہفتے بعد میری بہترین کتیا لزی کو تیندوے نے ہلاک کر دیا۔ اس تیندوے نے میری مین کو گلے سے پکڑا مگر میری مین اتنا طاقتور تھا کہ خود کو چھڑانے میں کامیاب ہو گیا۔ ابھی میری مین پوری طرح صحت یاب نہ ہوا تھا کہ ایک اور حادثے کا شکار ہو کر وہ بھی مر گیا۔

۲۴ دسمبر ۱۸۵۲ کو ہمیں بدولا روڈ کے پاس جنگل میں ایک سانبھر دکھائی دیا۔ خشک نیلہاؤ اتنی اونچی تھی کہ سانبھر بہت دور سے ہی بھاگ نکلا اور ایک ندی سے گزرتا ہوا مخالف سمت کی پہاڑی پر چڑھا۔ جب وہ جنگل میں گھسا تو اس کے پیچھے ایک ہی کتا دکھائی دیا۔ میری مین باقی کتوں سے ایک سو گز آگے تھا۔ چند ہی منٹ بعد سبھی کتے سانبھر کے راستے پر بھاگتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یہاں ہمارے کتے اکثر گم ہو جاتے تھے کہ جنگل بہت وسیع اور گھنا تھا اور دوسری جانب عمودی ڈھلوانیں اور تیز بہاؤ والا بڑا دریا تھا۔ میں نے یہاں بہت مرتبہ کتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ہمیشہ ناکام رہا۔ تاہم اس بار میں نے سوچا کہ کچھ نیا آزماتا ہوں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ نیچے اتر کر بیس میل کا چکر کاٹ کر پھر دوبارہ آتا ہوں۔ سارے دن کی تلاش کے بعد جب میں گھر پہنچا تو محض دو کتے تلاش کر پایا تھا۔ سانبھر شاید اسی راستے سے گزرا تھا جہاں مجھے کتے ملے۔ اس مقام کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے قلم کافی نہیں مگر شکار کی نیت سے یہ علاقہ بہت ہی برا ہے۔ جب پہاڑ ختم ہوتے ہیں تو اچانک تیس میل چوڑی وادی دکھائی دیتی ہے مگر وہاں اترنے کے لیے انسان کو بہت عمودی ڈھلوان سے اترنا پڑتا ہے کہ یہاں سے بہت تیز بہاؤ والا دریا گزرتا ہے جو جگہ جگہ آبشار کی شکل میں گرتا ہے۔ آخری آبشار لگ بھگ ۳۰۰ فٹ اونچی اور بہت وسیع ہے۔ یہ مقام پیری ویل کے گاؤں سے ایک میل دور ہے۔ میں گاؤں کے قریب سے گزرا اور پہاڑ کی دشوار چڑھائی سے چڑھا اور کئی گھنٹوں تک کتوں کو تلاش کرتا رہا۔ آبشار کا شور اتنا تھا کہ ہر قسم کی آواز دب کر رہ گئی تھی۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ نصف چڑھائی پر مجھے لگا کہ میں نے نیچے دریا سے کسی کتے کی آواز سنی ہو اور پھر کسی مقامی آدمی کی آواز۔ تاہم یہ آوازیں دوبارہ نہ آئیں تو میں نے سوچا کہ مقامی آدمی اپنی بھینسیں چرا رہے ہوں گے۔ مجھے اس وقت تک علم نہ تھا کہ بیچارے میری مین پر کیا بیت رہی ہو گی۔

اگلے دن سبھی کتے گھر لوٹ آئے مگر میری مین گم تھا۔ مجھے اس کی زیادہ فکر ہو رہی تھی کہ وہ اس علاقے سے بخوبی واقف تھا اور اسے سب سے پہلے لوٹنا چاہیے تھا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ سانبھر نے کئی مرتبہ دریا میں پناہ لی تھی کہ اس کے کھروں کے ساتھ کتوں کے پنجوں کے نشان بھی تھے اور دو کتے جو مجھے ملے، وہ اسی علاقے میں ہی تھے۔ دو تین دن گزر گئے مگر میری مین نہ لوٹا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ شاید وہ آبشار میں بہہ کر ہلاک ہو گیا ہو گا۔

ایک ہفتے بعد ایک مقامی آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ میرے کتوں نے سانبھر کو دریا میں روک لیا تھا اور یہ مقام پیری ویل گاؤں کے قریب تھا۔ مقامی بندوں نے کتوں کو بھگا کر سانبھر کو مار لیا تھا۔ تاہم اس آدمی کی بیان کردہ تفصیلات نے مجھے غصے سے دیوانہ کر دیا۔ اس آدمی نے بتایا کہ میری مین نے جب سانبھر کی لاش کے پاس سے ہٹنے سے انکار کر دیا تو مقامی بندوں نے سوچا کہ کہیں یہ کتا انہیں پھنسوا نہ دے تو انہوں نے اسے درخت سے باندھ کر کلہاڑی سے اس کا سر پھاڑ کر مار دیا اور پھر لاش کو دریا میں بہا دیا۔ یہ کتا بہت عمدہ تھا اور جونہی مجھے اس کی ہلاکت کی خبر ملی، میں نے ایک مضبوط لاٹھی اٹھائی اور اپنے چھوٹے بھائی اور تین دوستوں کو ساتھ لے کر مقامی آدمی کہ رہنمائی میں نکل کھڑا ہوا۔ ہمارے گھر سے پیری ویل بارہ میل کا فاصلہ بنتا ہے اور اب چھ بجے چکے تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے ہم پیری ویل سے دو میل دور ایک اور گاؤں جا پہنچے اور رات وہیں گزاری۔ یہاں ایک اور آدمی ہمیں ان تین افراد کی نشاندہی کرنے کے لیے تیار ملا جو کتے کی ہلاکت کا سبب بنے تھے۔ اگلی صبح ہم چار بجے اٹھے اور پیری ویل روانہ ہو گئے۔

چاندنی بہت صاف تھی اور ہم پو پھٹتے ہی پیری ویل جا پہنچے۔ ہمیں ان تین بندوں کا گھر دکھایا گیا اور ہم نے فوراً گھیرا ڈال دیا۔ گھر کی تلاش کے دوران ہمیں خشک شدہ سانبھر کا گوشت ملا اور ایک نیزہ اور خون آلودہ ایک کلہاڑی بھی۔ اسی کلہاڑی سے کتے کو مارا گیا تھا۔

میں نے ایک عمدہ چابک اٹھایا اور ان لوگوں کی مرمت شروع کر دی۔ جب ان کی اچھی مرمت ہو چکی تو ہم نے انہیں جائے واردات پر جانے کا حکم دیا۔ انہوں نے سانبھر کی ہلاکت کا تو اقرار کیا مگر کتے کی ہلاکت کے منکر ہی رہے۔ مگر تمام تر ثبوت ان کے خلاف تھے۔

جائے وقوعہ آبشار سے ۲۰۰ گز دور تھی۔ دریا حالیہ بارشوں کی وجہ سے کافی بپھرا ہوا تھا اور پتھروں کے اوپر سے بہہ رہا تھا اور جھاگ بن رہی تھی۔ ہمارے اوپر ۱۰۰۰ فٹ اونچا پہاڑ تھا جبکہ گھاس سے بھرے پہاڑ ادھر ادھر موجود تھے۔ یہاں سے وہ مقام صاف دکھائی دے رہا تھا جہاں مجھے کتے اور پھر مقامی آدمی کی آواز آئی تھی۔ اگر مجھے اس وقت احساس ہو جاتا تو شاید میں میری مین کی جان بچا سکتا تھا۔

یہاں ہمیں سانبھر کی آلائشیں وغیرہ دکھائی دیں مگر کتے کا کوئی نشان نہ تھا کہ بپھرے ہوئے دریا نے اس کی لاش کے چیتھڑے اڑا دیے ہوں گے۔

یوں میری مین اپنے انجام کو پہنچا جو بہترین شکاری کتا تھا۔ بدقسمتی سے سیلون میں جو لوگ قانون کی رکھوالی کرتے ہیں، انہیں قانون کی الفب کا بھی علم نہیں۔ مار کھانے کے بعد یہ بدمعاش قانون کے ہاتھوں صاف بچ نکلے۔ شکر ہے کہ میں نے ان کی مرمت کرنے میں کسی قسم کے تساہل سے کام نہیں لیا۔

اوپر بیان شدہ چند واقعات سے نئے آدمی کو بھی سانبھر کے شکار کے بارے میں خاصی معلومات مل جائیں گی۔ شکاری کتوں کے مالک سے زیادہ اس شکار سے کوئی لطف اندوز نہیں ہو سکتا کہ اسے اپنے ہر ایک شکاری کتے کے بارے میں پوری معلومات ہوتی ہیں اور کتوں کو مشکل وقت میں اپنے مالک پر پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ ان کی مدد کو آئے گا۔ اس طرح کتے اپنے مالک سے زیادہ لگاؤ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب ایسے کتے ضائع ہوں تو مالک کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔

سیلون میں شکار کی اقسام کے بارے میں بیان شدہ معلومات کے بعد اب میں نشیبی علاقے میں شکار کے چند ہفتوں کی تفصیل بتاتا ہوں اور پھر یہ کتاب تمام ہو جائے گی۔ میں یہ معلومات اپنی جیبی ڈائری سے لے رہا ہوں جو ایسی مہمات پر میرے ہمراہ ہوتی تھی اور میں ہر چیز کے بارے میں مختصر درج کرتا رہتا تھا۔ اس طرح آپ کو جنگل میں شکار کے بارے میں اچھی معلومات مل سکیں گی۔

٭٭٭

باب ۱۲: جنگل کا چکر

 

 

۱۶ نومبر ۱۸۵۱کو جب میں کینڈی سے نکلا تو میرے ہمراہ میرا بھائی لیفٹیننٹ وی بیکر (اب کرنل ویلنٹائن بیکر، ۱۰ حصار) تھا جو اُن دنوں سیلون کی رائفل رجمنٹ کا حصہ تھا۔ چند روز قبل ہم نے نیویرا ایلیا سے اپنے گھوڑے یہاں بھجوا دیے تھے جو کینڈی سے ۱۶ میل دور ہمارے منتظر تھے۔ ہم صبح جلد ہی وہاں پہنچ گئے اور اسسٹنٹ گورنمنٹ ایجنٹ لے یارڈ کے ساتھ ناشتہ کیا۔ پچھلے چوبیس گھنٹے سے بلا تعطل بارش ہو رہی تھی اور ہم یہاں دو بجے تک رکے رہے کہ شاید موسم بہتر ہو جائے۔ تاہم بارش جاری رہی اور ہم نے بھی یہاں سے روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

میرا وفادار گھوڑا جیک پوری طرح تیار ملا۔ اسے علم تھا کہ ہم شکاری مہم پر جانے والے ہیں۔ ہم نے سیدھا ڈمبول کا رخ کیا جو یہاں سے ۳۶ میل دور تھا۔ رات جنگل میں نہ گزارنے کے خیال سے ہم نے گھوڑوں کو بھگایا اور ساڑھے پانچ بجے منزل پر پہنچ گئے۔

میں نے نیویرا ایلیا سے ایک ہفتہ قبل اپنے قلیوں کو سامان وغیرہ کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ انہیں ہدایت تھی کہ وہ میرے کپڑوں کا ایک چھوٹا صندوق ڈمبول کے ریسٹ ہاؤس میں چھوڑ دیں گے۔ شکر ہے کہ میں نے یہ ہدایت کی تھی ورنہ سائیس وغیرہ تو اس رات نہ پہنچ پاتے۔ سو ہم نے اپنے گھوڑوں کی دیکھ بھال کر کے ان کے لیے گھاس وغیرہ ڈالی اور پھر ان کے آرام کے لیے چاول کی پرالی بچھا دی اور پھر خود چاول اور کری سے پیٹ بھرنے بیٹھے۔

اگلی صبح پو پھٹنے پر ہم نے گھوڑوں کو گھاس کھلائی۔ جیک بہت خوش تھا۔ صبح کے وقت بادل چھائے ہوئے تھے مگر بارش نہیں تھی۔ ہم نے سیدھا انعاملا کا رخ کیا جو ڈمبول سے ۵ میل دور ہے۔ یہاں ہم نے منیریا جانے کے لیے ایک رہنما ساتھ لیا اور سڑک کو چھوڑ کر ہم جنگل کی پگڈنڈی پر چل پڑے۔ ہم نے گھنے جنگل میں ۲۰ میل کا سفر طے کیا۔ ہم سگیری کے پاس سے گزرے جس پہاڑی پر قدیم مقامی افراد کا بنا ہوا قلعہ ہے اور پھر ہم بتدریج بہتر جنگل میں داخل ہوتے گئے اور بالاخر منیریا کے میدانوں کو پہنچ گئے۔ میں نے والیس کو حکم دیا تھا کہ ہمارا کیمپ عین اسی جگہ لگایا جائے جہاں کئی سال قبل ہم شکار کے سلسلے میں کیمپ لگاتے رہے تھے۔ مجھے راستے کا علم تھا، سو میں نے گھوڑے کو سیدھا اسی جانب بڑھایا۔

یہ مقام بہت بدل چکا تھا۔ خشک سالی کے باعث ۲۲ مربع میل پر پھیلی جھیل اب بمشکل ۴ مربع میل کا تالاب رہ گئی تھی۔ جھیل کی خشک تہہ سے دو فٹ اونچی ریشمی گھاس اگی ہوئی تھی اور تاحد نگاہ زمردی قالین سا بچھا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ یہ تہہ سخت مگر لچکدار تھی اور چار بجے سورج کی حدت بہت کم ہو گئی تھی اور یہ خوبصورت منظر برطانیہ میں موسم گرما کی شام لگ رہا تھا۔ سیلون میں کم ہی ایسی جگہیں ہیں جہاں کسی خطرے کے بغیر آپ گھوڑا دوڑا سکیں۔ لمبے سفر کے باوجود گھوڑوں نے جب یہاں دوڑ لگائی تو انہیں بھی مزہ آنے لگا۔ میں اس جگہ کے چپے چپے سے واقف تھا مگر کیمپ تک پہنچنے میں کچھ دقت ہوئی کہ جھیل کے سکڑنے کے باعث منظر بہت بدل گیا تھا۔

میدان میں کئی جگہ ہمیں ہاتھیوں کے پیروں کے تازہ نشان دکھائی دیے تھے اور ہمیں امید تھی کہ اگلے روز ہم عمدہ شکار کھیلیں گے۔ اچانک ہمیں کھلے جنگل سے ہاتھیوں کی چنگھاڑ سنائی دی۔ ہم اس جنگل سے بچ کر جا رہے تھے۔ اگلے لمحے میں نے آٹھ ہاتھی دیکھے جو جنگل کے کنارے کے بڑے درختوں کے پاس کھڑے تھے۔ پہلے پہل مجھے لگا کہ جیسے یہ ہاتھیوں کا غول ہو مگر پھر ان کے غیر فطری انداز سے شک ہوا۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ سبھی ہاتھی درختوں سے بندھے ہوئے تھے۔ جب ہم قریب پہنچے تو دیکھا عرب اور مورمن لوگوں کا کیمپ لگا تھا اور انہوں نے ان ہاتھیوں کی ٹانگیں درختوں سے باندھی ہوئی تھیں۔ یہ لوگ جنگلی ہاتھی پکڑ کر انہیں بیچتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ کئی ہفتوں سے یہاں ہاتھی پکڑ رہے تھے، سو ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہاں شکار کی توقع فضول ہو گی۔

سات یا آٹھ میل کے مزید سفر کے بعد میں نے دور کے ایک جنگل سے نیلے رنگ کے دھوئیں کی لکیر اٹھتی دیکھی اور کچھ دیر بعد انسان چلتے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ جب ہم قریب پہنچے تو دیکھا کہ وہ ہمارے قلی اور ہمارا کیمپ تھا۔ ہمارے خیمے گھنے درختوں کے نیچے نصب تھے جہاں سورج کی روشنی نہ پہنچ سکتی تھی۔ کئی سال قبل میں عین اسی جگہ کیمپ لگاتا تھا۔ جب ہمارے ملازمین کینڈی سے روانہ ہونے لگے تو انہیں ہدایت کر دی گئی تھی کہ ۱۷ نومبر کو شام پانچ بجے کھانا تیار ہو۔ سو جب ہم پہنچے تو کھانا تیار تھا۔

منیریا سے ہمارے دورے کا آغاز ہونا تھا۔ ہمارے ساتھ ای سٹیورٹ ورٹلی (اب لارڈ وارنکلف)، ای پلیسر اور لیفٹیننٹ وی بیکر تھے۔ میرے بھائی کو رجمنٹ سے دو ہفتے کی چھٹی ملی تھی اور میں ایک دن قبل ہی پہنچ گیا تھا کہ دیگر افراد اتنی تیزی سے گھوڑوں پر سفر نہ کر سکتے تھے۔

ہمارے انتظامات بہترین تھے۔ ہمارے ساتھ چار ذاتی خدمتگار، ایک بہترین خانساماں، چار سائیس، پچاس قلی اور والیس تھے جو کل ملا کر ۶۰ افراد بنتے تھے۔ قلی سبھی چھان پھٹک کر چنے گئے تھے اور پورے سفر پر ذرا سا بھی تکلیف کا سبب نہ بنے۔ ہمارے پاس دو خیمے تھے۔ ایک کے اندر چار بستر اور ایک میز تھی جبکہ دوسرا خیمہ چھتری نما تھا جو ہم طعام گاہ کے طور پر استعمال کرنے والے تھے۔ چار افراد کے کھانے کے لیے یہ بہترین تھا اور ہمارے پاس تمام مطلوبہ ساز و سامان تھا۔ مجھے ساز و سامان کے بغیر بھی شکار کھیلنے میں کوئی عار نہیں مگر جب سہولیات مہیا ہو سکیں تو میں تکلیف اٹھانے کا قائل نہیں۔ ہمارے پاس شیری، مدیرا، برانڈی، بسکٹ، چائے، چینی، کافی، ہیم، گوشت، چٹنیاں، اچار، سارڈین، سوپ کے ڈبے اور محفوظ شدہ گوشت اور سبزیاں، جیلیاں، میکرونی، سویاں، آٹے کے علاوہ صابن اور موم بتیاں تک تھیں۔ صابن اور موم بتی کی قدر تب معلوم ہوتی ہے جب ان کی ضرورت پڑے۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس ایک خاص قسم کے درخت کے بہت چوڑے پتوں کی اچھی خاصی تعداد بھی تھی تاکہ بارش ہو تو ہمارے ملازمین اور گھوڑوں کو بارش سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ سارا انتظام انتہائی عمدگی سے ہوا تھا اور کسی چیز کی کمی کی شکایت نہ ہوئی۔ ہمارا اسلحہ خانہ کچھ یوں تھا:

ورٹلی:

ایک عدد ایک نالی تین اونس کی رائفل

ایک عدد دو نالی ۱۲ بور کی رائفل

دو عدد دو نالی ۱۲ بور کی بندوقیں

پلیسر:

ایک عدد ایک نالی والی ۸ بور کی رائفل (میری پرانی دو اونس والی رائفل)

ایک عدد دو نالی ۱۲ بور رائفل

دو عدد دو نالی ۱۲ بور کی بندوقیں

ویلنٹائن بیکر:

تین عدد دو نالی ۱۴ بور کی بندوقیں

ایک عدد دو نالی ۱۲ بور کی بندوق

ایک عدد ایک نالی ۱۴ بور کی رائفل

مصنف:

ایک عدد ایک نالی رائفل چار اونس

تین عدد دو نالی ۱۰ بور کی رائفلیں

ایک عدد دو نالی ۱۶ بور کی بندوق

کل: ۱۸ ہتھیار

یہ سبھی ہتھیار صف اوّل کمپنیوں کے بنائے ہوئے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ اگر شکار کے قابل جانور ہوئے تو عمدہ شکار ہو گا۔

چند سال میں ہی یہ علاقہ نہ صرف دیکھنے کی حد تک بدل چکا تھا بلکہ شکار کے حوالے سے بھی۔

چند سال قبل انہی میدانوں پر میں نے جنگلی بھینسوں کے ان گنت غول دیکھے تھے اور اب ایک بھی دکھائی نہ دیا۔ چیتل بھی سات یا دس سے زیادہ کے غول میں نہ تھے اور صاف لگ رہا تھا کہ متواتر شکار سے ان کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ منیریا میں چار سال سے شکاری بکثرت آتے رہے اور نتیجتاً شکار غارت ہو گیا تھا۔ تاہم اس کی وجہ مغربی شکاری نہیں بلکہ ان کی حماقت تھی کہ وہ واپسی پر مقامی افراد کو بچے ہوئے بارود اور گولیاں تحفتاً دے جاتے تھے۔ مقامی افراد بغیر کسی وقفے کے چیتل اور جنگلی بھینسوں کا شکار کرتے تھے اور لگ بھگ سبھی قابل شکار جانور یا تو مارے گئے تھے یا پھر یہ علاقہ چھوڑ گئے تھے۔

میں نے پہنچتے ہی بھانپ لیا کہ یہاں شکار نہیں ہو گا۔ ہم نے رات کے کھانے پر طے کیا کہ ڈولانا سے ہاتھیوں کے کھوجی کو لے کر یہاں سے چل دیں گے۔

۱۸ نومبر: پو پھٹنے پر میں نے والیس کو ڈولانا بھیجا تاکہ وہ میرے پرانے شکاری رحمتاماتمایا اور مورمن شکاریوں کو لے آئے۔ مجھے یقین تھا کہ میں اسے اپنے ساتھ ضلعے کے دوسرے کنارے پر چلنے پر آمادہ کر لوں گا کہ اس کی مدد کے بغیر ہمارا شکار ممکن نہیں تھا۔

ناشتے کے بعد میں اپنے بھائی کے ہمراہ ۸ میل دور کوڈیل کو چل دیا جو کھلا مگر الگ تھلگ علاقہ ہے۔ وہاں ہمیں ہاتھیوں کے تازہ نشانات دکھائی دیے مگر میں نے فیصلہ کیا کہ آج ہم انہیں کچھ نہیں کہیں گے کہ ورٹلی اور پلیسر کو اگلے روز پہنچنا تھا۔ سو ہم منیریا لوٹے اور دوپہر کا وقت سنائپ اور مگرمچھوں کے شکار میں گزارا۔ مگرمچھوں کی تعداد کافی زیادہ تھی کہ بائیس مربع میل پر پھیلی جھیل کے تمام مگرمچھ اب چار مربع میل کی جھیل میں جمع تھے۔ مچھلیاں بھی اسی اعتبار سے بکثرت تھیں اور ہمیں ۴ سے ۸ پاؤنڈ وزنی مچھلیاں ایک پینی کے فی مچھلی کے حساب سے مل جاتی تھیں۔ ہم نے ایک مقامی آدمی کو عارضی طور پر مچھلیاں پکڑنے پر لگا دیا اور ہمارے قلیوں کی جیسے دعوت ہو گئی۔ خانساماں نے دیسی گھی، انچوی ساس، مدیرا، پیاز اور ہری مرچوں کے ساتھ ایسا عمدہ کھانا بنایا جو شاہی دسترخوان کو زیب دیتا تھا۔

۱۹ نومبر: شام چار بجے میں نے دوربین سے میدان کا جائزہ لیا کہ ہمارے مہمانوں کی آمد کا وقت ہو چلا تھا۔ میں نے انہیں دور سے آتے دیکھ لیا۔ جب وہ کچھ قریب پہنچے تو ہم نے آگے بڑھ کر انہیں خوش آمدید کہا۔ شام کو کھانے پر ہم سبھی بہت خوش تھے اور سوچا کہ جونہی مقامی کھوجی پہنچیں گے تو ہم کوڈیل کا چکر لگائیں گے جہاں ہاتھیوں کے تازہ نشانات موجود تھے۔

یہاں کا سب سے بڑا عذاب مچھروں کی شکل میں تھا جو رات کو سونے نہ دیتا تھا اور ہم بے چینی سے صبح ہونے کا انتظار کرتے تھے۔

۲۰ نومبر: صبح سویرے روشنی ہونے سے قبل ہی پلیسر نے خیمے سے باہر جھانکا تو اس نے ۲۰۰ گز دور ایک بدمعاش ہاتھی کو جنگل میں گھستے دیکھا۔ ہم نے بندوقیں بھریں اور سیدھا اس ہاتھی کے پیچھے نکلے مگر ہاتھی اتنا تیز تھا کہ ہم سے پہلے ہی گھنے جنگل میں پہنچ کر محفوظ ہو گیا۔ ورٹلی اور میں چہل قدمی کرتے ہوئے بڑھے کہ شاید آگے چل کر ہاتھی جنگل سے نکل آئے۔ جگہ جگہ کھاڑیاں سی بنی ہوئی تھیں۔ نصف میل کے بعد ہمارے سامنے ایک پتھریلا چبوترہ سا آیا جس کی دوسری جانب چھوٹی جھیل تھی اور جنگل وہاں سے پچاس گز دور اور ہموار ڈھلوان شکل میں تھا۔ یہ مقام کچھ پوشیدہ تھا اور جب ہم یہاں سے گزرے تو ہمارے پیروں تلے کنکروں کی آواز آئی۔ ہم نے چھ چیتلوں کا ایک غول دیکھا جو کنکروں کی آواز سن کر فرار ہو رہا تھا۔ پانچ چیتل تو جنگل میں گھس گئے مگر ان کا سردار سب سے پیچھے تھا اور رک کر ہماری جانب دیکھنے لگا۔ اس کے سینگ شاندار تھے، سو میں نے ۱۲۰ گز کے فاصلے سے اپنی ۱۰ نمبر والی رائفل سے گولی چلائی۔ چیتل جنگل میں گھس کر غائب ہو گیا مگر گولی لگنے کی آواز سے مجھے یقین تھا کہ میرا نشانہ خطا نہیں گیا۔ عین اسی وقت پلیسر اور میرا بھائی بھی دوڑتے ہوئے پہنچ گئے کہ شاید ہمیں ہاتھی مل گیا ہو۔

چیتل بالکل سفید کنکروں پر کھڑا تھا کہ میں نے اس پر گولی چلائی۔ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جھاگ دار خون موجود تھا یعنی میری گولی اس کے پھیپھڑوں سے گزری تھی۔ انسان خون کی پیاسی مخلوق ہے اور جب دور سے گولی چلائے اور جانور کا خون دکھائی دے تو اسے بہت خوشی ہوتی ہے۔ جنگل میں ۲۰ گز دور ہرن مردہ پڑا تھا جو ہم نے فوراً تلاش کر لیا۔ ڈمبول سے آتے وقت میں نے ایک نوعمر سانبھر مارا تھا اور اب یہ چیتل دوسرا شکار تھا۔ یہاں سنائپ بکثرت تھے اور مچھلی، جنگلی مرغ، چیتل وغیرہ سے ہمارا ناشتہ بہت اچھا بنا۔ ناشتے کے بعد ہم نے چند سنائپ مارے اور پھر شام کو پلیسر اور میرے بھائی نے ایک جبکہ میں نے ورٹلی کے ساتھ دوسری سمت جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے طے کیا کہ اندھیرا ہوتے وقت ہم کیمپ لوٹ آئیں گے۔

ورٹلی اور مجھے ہاتھیوں کے نشان دکھائی دیے جو رات کو یہاں سے گزرے تھے۔ ہم شام تک گھومتے رہے اور پھر خیموں کو لوٹ آئے۔ واپسی پر میں نے ۱۵۰ گز دور کھڑے ایک بگلے پر رائفل سے نشانہ لگایا اور خوش قسمتی سے اسے مار لیا۔

ہمارے ساتھی زیادہ خوش قسمت نکلے۔ انہیں دو بدمعاش ہاتھی دکھائی دیے تھے۔ پہلا ہاتھی گھنے جنگل میں تھا جس پر میرے بھائی نے گولی چلائی مگر نشانہ خطا گیا۔ دوسرا ہاتھی کچھ ہی دور ملا جو ہمارے خیمے سے قریب تھا۔ شام کا ڈھلتا سورج ہاتھی کی آنکھوں میں پڑ رہا تھا اور ہاتھی سے پچیس گز قریب جا کر پلیسر نے اسے ہلاک کر لیا۔ میرے خیال میں یہ وہی ہاتھی تھا جو صبح ہمارے خیمے کے قریب سے گزرا تھا۔

والیس ہمارے شکاریوں کے ساتھ لوٹ آیا تھا اور ہم نے طے کیا کہ اگلی صبح پو پھٹتے ہی کوڈیل کو روانہ ہو جائیں گے۔

۲۱ نومبر: ہم نے رات کو ہی سفر کی تیاری کر لی تھی اور صبح پو پھٹتے ہی ہم نے خانساماں اور ناشتے کے سامان کے ساتھ روانگی اختیار کی۔

گھنے جنگل اور ریتلے راستے پر ۸ میل کے سفر کے بعد کھلے دلدلی علاقے کو پہنچے جہاں کئی روز پرانے ہاتھیوں کے نشانات دکھائی دیے۔ سارا راستہ ہم ہاتھیوں کے تازہ نشانات پر چلتے رہے تھے کہ شاید وہ اسی علاقے میں موجود تھے۔ راستے میں جگہ جگہ ہاتھیوں نے پیٹ بھرنے کے لیے شاخیں توڑ کر گرائی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ ہمیں سانبھر، چیتل، سور اور تیندوؤں کے بھی بے شمار نشانات دکھائی دیے۔ ہم ایک جگہ گھنے درختوں کے نیچے رکے جس کے نیچے شفاف پانی کی ایک ندی بہہ رہی تھی اور کناروں پر عمدہ گھاس اگی ہوئی تھی۔ یہاں ہمیں ہاتھیوں کے واضح نشانات ملے جو حال ہی میں یہاں سے پانی پی کر گئے تھے۔ سارا علاقہ پارک نما تھا اور اطراف میں گھنے جنگل اور خار دار جھاڑیاں بکھری ہوئی تھیں اور عمدہ گھاس کی کثرت سے اندازہ تھا کہ یہاں قابل شکار جانور کافی ہوں گے۔ ہاتھی ہم سے زیادہ دور نہ ہوں گے کہ گھنا جنگل زیادہ دور نہ تھا۔

ورٹلی نے کبھی جنگلی ہاتھی کو آزاد حالت میں نہ دیکھا تھا اور گھنے جنگل میں پہلی بار جنگلی ہاتھی کا شکار اچھا خیال نہیں۔ میں گھنے جنگل میں ہاتھیوں کے تعاقب کا قائل نہیں کہ ہاتھی تو وہاں راستہ بنا سکتے ہیں مگر انسان نہیں۔ خیر، ہر اصول میں مستثنیات ہوتی ہیں، سو ہم نے جنگل میں ہاتھیوں کا پیچھا کرنے کا سوچا کہ اتنی مشقت اور محنت کے بعد خالی ہاتھ تو جانے سے رہے۔

ہم گھوڑوں سے اترے اور ملازمین کو حکم دیا کہ کسی گھنے سایہ دار درخت کے نیچے ہماری واپسی پر ناشتہ تیار رکھیں۔ پھر ہم نے رائفلیں بھریں اور ہاتھیوں کے تعاقب میں چل پڑے۔ میری توقع کے عین مطابق ہاتھیوں نے گھنے خار دار جنگل کا رخ کیا تھا اور ہم اپنے رہنما کے پیچھے خاموشی سے چلنے لگے۔ جنگل کی نوعیت بدتر ہوتی چلی گئی اور اگر ہاتھیوں کے گزرنے سے راستہ سا نہ بنا ہوتا تو ہم کبھی بھی ان کا پیچھا نہ کر سکتے۔ جھاڑیوں کے پتے شبنم سے تر تھے اور ہمیں اپنی رائفلوں کو اس طرح چھپانا پڑا کہ نمی کی وجہ سے فائر کرنے میں دقت نہ ہو۔ اس طرح ہم چوتھائی میل تک گئے اور پھر اچانک سو گز دور سامنے سے ٹہنی ٹوٹنے کی آواز آئی تو پتہ چل گیا کہ ہم ہاتھیوں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

ہاتھیوں کے شکار کا یہ مرحلہ ہیجان خیز ہوتا ہے اور انسان ہاتھیوں کو تلاش کرتے ہوئے سانس تک لینا بھول جاتا ہے۔ ہمیں ہاتھیوں کی آواز سنائی دی جیسے دور بادل گرج رہے ہوں۔ جب وہ چلتے تو ان کے پہلو سے ٹکرانے والی شاخیں آواز پیدا کرتی تھیں۔ ہماری پیش قدمی بہت خاموشی سے ہوئی تھی اور ہاتھی ہماری موجودگی سے بے خبر تھے۔ اور قریب پہنچے تو مجھے دو ہاتھیوں کے سر دکھائی دیے جو عین ہماری جانب دیکھ رہے تھے۔ ہمارا فاصلہ دس گز ہو گا۔ ان کے پیچھے تین اور ہاتھیوں کے ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔

میں نے سرگوشی میں ورٹلی کو بتایا کہ وہ بائیں جانب والے ہاتھی کی پیشانی کے عین وسط میں گولی چلائے۔ اگلے ہی لمحے دو گولیاں چلیں اور دو ہاتھی گرے۔ ایک کو ورٹلی کی اور دوسرے کو میری گولی لگی تھی۔ پھر ہم ہاتھیوں کی جانب بھاگے اور ابھی انہیں خطرے کا احساس ہو ہی رہا تھا کہ میرے بھائی کی گولی سے تیسرا ہاتھی گرا۔ اب دھواں اتنا گاڑھا تھا کہ ہمیں دو گز دور کی چیز بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اچانک اس دھوئیں کے بادل کے اوپر ایک ہاتھی کا سر نمودار ہوا جو ہماری جانب بڑھ رہا تھا۔ میرے بھائی نے گولی چلائی مگر خطا کی۔ میری بائیں نال کی گولی نے اس ہاتھی کا خاتمہ کر دیا۔ دھوئیں سے گزرتے ہوئے میں نے اضافی رائفل لی اور آخری ہاتھی کو بھی مار گرایا۔ لگ بھگ تیس سیکنڈ کے دوران ہم نے پانچ ہاتھی مار گرائے تھے۔ ورٹلی نے اپنا پہلا ہاتھی ایک گولی سے مار کر کمال کر دکھایا تھا۔

واپس لوٹ کر ہم نے ناشتہ کیا اور چونکہ بھاری رائفلوں کے کئی دھماکے ہو چکے تھے، سو ہم منیریا واپس لوٹے۔

مجھے اندازہ تھا کہ اب اس علاقے میں مزید شکار نہیں ملے گا، سو ہم نے مشاورت کی۔

کئی سال قبل میں اس علاقے سے ویدا کی طرف گیا تھا اور میں نے تجویز پیش کی کہ ہم اس علاقے کا جائزہ لینے کے لیے شمال سے جنوب کی سمت ویدا کو جائیں اور پھر پارک جا کر داخل ہوں۔ اس راستے پر کسی آدمی نے آج تک گولی نہیں چلائی تھی اور سارا علاقہ ہی غیرآباد تھا، سو سفر بھی دلچسپ رہتا۔ ہمیں فاصلے کا اندازہ تو نہیں تھا مگر جیبی سمت نما سے سمتوں کا پتہ چلانا مشکل نہ تھا۔

اس سارے منصوبے میں ایک خامی تھی کہ میرے بھائی کے پاس کل دس روز کی چھٹی باقی تھی اور اتنے بڑے علاقے میں مہم جوئی کے لیے دس روز بالکل بھی کافی نہیں۔ تاہم اس کے پاس اچھا خچر تھا جو بلاتکان چل سکتا تھا۔ سو اس نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس وجہ سے ہم اس خوبصورت علاقے سے بعجلت گزرے جو بصورت دیگر شکار کا بہت عمدہ مقام تھا۔ پھر ہم اس مقام پر پہنچے جہاں سے میرا بھائی کینڈی واپسی کا سفر اختیار کر سکتا تھا۔ اگر ہمارے پاس وقت ہوتا تو ہم نے بے شمار جانور شکار کر لیے ہوتے۔

ہم نے اس راستے پر چلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ہم ویدا علاقے میں شمال سے داخل ہو کر جنوب سے نکلتے۔ مجھے بدولا سے بٹی کلوا کا راستہ معلوم تھا جو سیدھا اسی علاقے میں مغرب سے مشرق کو جاتا ہے اور ہم اس راستے کو عبور کرتے۔ اس جگہ میرا بھائی واپس کینڈی روانہ ہو جاتا کہ اس نے مغرب کا رخ کر کے بدولا جانا تھا اور وہاں سے نیویرا ایلیا اور پھر کینڈی، جہاں اس کی رجمنٹ اس کی منتظر ہوتی۔ باقی ہم تین ساتھی جنوب کو چلتے اور پارک کے علاقے کو جا پہنچتے۔

۲۲ نومبر: ہم نے کیمپ اکھاڑا اور نمبردار اور اس کے ساتھیوں کے ہمراہ ۱۴ میل دور ہیں گیری واٹدوانے پہنچے جو ۱۲ مربع میل کا پارک نما علاقہ ہے اور یہاں ہمیں اچھا شکار ملنے کی توقع تھی۔ شکاری کی حیثیت سے ایسے ہی عمدہ علاقے کی خواہش ہوتی ہے جہاں جگہ جگہ گھاس کے قطعے ہوں اور بے شمار درختوں کے ذخیرے بھی اور اکا دکا درخت بھی دکھائی دے جائیں۔

دوپہر کو ہم نے سرد پانی سے غسل کر کے اپنے راستے الگ کیے اور اپنے اپنے بندوق برداروں کے ساتھ مختلف سمتیں اختیار کیں۔ ہم نے طے کر لیا تھا کہ ہاتھی کے علاوہ کسی جانور پر گولی نہیں چلائی جائے گی۔ شام کو ہم پھر جمع ہو کر اپنے اپنے علاقے کے بارے میں بیان کرتے تاکہ اگلے روز کا منصوبہ بنا سکیں۔

مجھے بہت سی جگہوں پر چیتل کے غول دکھائی دیے مگر میں نے گولی نہیں چلائی۔ بہت مرتبہ تو چیتل ہم سے بہت قریب بھی تھے۔ مجھے کوئی ہاتھی نہ دکھائی دیا۔

سبھی ساتھیوں کو چیتل کے غول دکھائی دیے تھے مگر میرے بھائی کو ہاتھی بھی دکھائی دیے۔ اس نے ہاتھیوں کا ایک عمدہ غول دیکھا مگر ہاتھی اس کی بو پا کر فرار ہو گئے تھے۔ میرے بھائی نے گولی چلائی مگر خطا گئی۔ یہاں کافی شکار تھا اور چونکہ میرا بھائی گولی چلا چکا تھا، سو ہم سبھی نے اپنی بندوقیں چلا کر خالی کیں اور پھر خوب صفائی کر کے ان کو اگلی صبح کے لیے تیار کیا۔ ہم نے سوچا کہ اگلی صبح دو میل دور ایک اور جگہ جا کر خیمے لگائیں گے۔

۲۳ نومبر: اس علاقے کے بارے میں ہماری اجنبیت ظاہر ہو گئی۔ میں نے یہ علاقہ منیریا سے ویدا شمالاً جنوباً عبور کیا تھا اور اسے بخوبی جانتا تھا مگر موجودہ مقام اس راستے سے ہٹ کر تھا۔ سو مجھے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ نتیجتاً جب ہم چلے تو درختوں کے ذخیرے تو بہت دکھائی دیے مگر سایہ دار درخت نہ ملے کہ جن کے نیچے ہم خیمے لگا سکیں۔

اکہری چھت والا خیمہ دھوپ کے نیچے تندور کی طرح محسوس ہوتا ہے، سو ہم نے درختوں کی تلاش میں سفر جاری رکھا۔ کئی میل کے سفر کے دوران ہمیں نہ صرف ہاتھیوں کے تازہ نشانات بکثرت دکھائی دیے بلکہ ہر قسم کا جانور بھی دکھائی دیتا رہا۔ یہ علاقہ شکاریوں کی جنت کہلایا جا سکتا تھا۔

آخرکار کھلا علاقہ کم ہونے لگا اور درختوں اور جنگلی قطعوں کا رقبہ اور تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ کھلا علاقہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ اب ہمارے سامنے کیچڑ سے بھرا تنگ سا راستہ تھا جس کے دونوں جانب ناقابل عبور خار دار جنگل تھا۔ ہمارے رہنماوں نے اصرار کیا کہ ہم پش قدمی جاری رکھیں اور اس نے بتایا کہ جیسا خوبصورت شکاری مقام ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں، ویسا ہی مقام آگے ہمارا منتظر ہے۔ دو میل کی بجائے ہم کم از کم ۱۶ میل چل چکے تھے اور نمبردار ابھی بھی آگے بڑھنے پر مصر تھا۔ ابھی تک قلی نہیں پہنچے تھے اور خیمے اور سامان سبھی پیچھے رہ گئے تھے۔ ہمارے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں تھا اور شکار سے بھرا کھلا علاقہ ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے اور گھنے جنگل میں رائفل بیکار تھی۔ ہمیں بہت غصہ آیا تھا اور میں نے رائے دی کہ ہمیں واپس جانا چاہیے کہ شکار کے قابل خوبصورت علاقہ پیچھے رہ گیا تھا۔ مگر طویل مشاورت کے بعد یہی نتیجہ نکلا کہ میرے بھائی کی مختصر چھٹی کے پیش نظر ہم واپس نہ جا سکتے تھے۔

اس طرح یہ خوبصورت شکاری مقام ہم پیچھے چھوڑ آئے جہاں ہر قسم کا شکار بکثرت تھا مگر ہم نے ایک بھی گولی نہیں چلائی تھی۔

میں نے وقت گزاری کے لیے قریبی تالاب پر موجود چند سنائپ مارے۔ چار بجے ہمارے قلی پہنچے اور یوں سارا دن ضائع گیا۔

۲۴ نومبر: اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے ہم نے بندوقوں کو ہاتھ نہ لگایا۔ یہ سارا علاقہ چنار کے گھنے جنگل سے بھرا تھا سو ہم نے پیش قدمی جاری رکھی اور ۱۴ میل آگے رحمتاماتمایا کے گاؤں جا پہنچے۔ اس نے فوراً ہمارے لیے ناشتے کا انتظام شروع کر دیا۔ ہمارا شکاری چاقو لے کر اس نے بکری کے ایک بچے کو پکڑ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور مزید آدھے گھنٹے بعد ہم اس میمنے کے گوشت سے بنے لذیذ کھانے کھا رہے تھے۔

منیریا سے روانگی سے یہاں تک ہم نے ۴۴ میل کے سفر میں ایک بھی جانور شکار نہیں کیا تھا۔ اگر ہم اس علاقے میں ایک ہفتہ گزارتے تو بہترین شکار کھیل سکتے تھے۔ مگر عجلت کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔

کئی سال قبل میں نے ڈولانا کے علاقے میں بہت سے ہاتھی شکار کیے تھے اور مجھے یقین تھا کہ وہاں اچھا شکار ہو گا مگر میرے بھائی کی چھٹی کم ہو رہی تھی اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ ویدا کا علاقہ بہت دشوار گزار ہے۔ سو ہمارے پاس بٹی کلوا کے راستے کی طرف پیش قدمی کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔

ہم نے رحمتاماتمایا سے رخصت لی اور اس نے عمدہ کھوجی ہمارے ساتھ بھیج دیے جو ہمیں ویدا سے گزار کر پارک تک لے جانے والے تھے۔ مجھے ان لوگوں پر شک ہونے لگا کہ انہیں علاقے سے زیادہ واقفیت نہیں ہو گی۔ خیر، ہم روانہ ہوئے اور ڈولانا تالاب سے ہٹ کر ہم عمدہ جنگل میں پانچ میل گزرے اور پھر مہاویلی دریا کو جا پہنچے۔ اس کا بہاؤ بہت تیز تھا اور چوڑائی چوتھائی میل پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے دونوں کنارے ڈھلوان تھے اور ان پر بہت بڑے درختوں کا جنگل تھا۔ یہاں دریا کو عبور کرنے پر چند گھنٹے لگ گئے کہ منمپٹیہ گاؤں کی کشتی چھوٹی تھی اور اس پر ایک وقت میں چار قلی اور سامان سے زیادہ نہ آ سکتے تھے۔

ہم نے گھوڑوں کو تیرا کر دریا عبور کرایا اور خانساماں کو سب سے پہلے بھیجا تھا۔ جتنی دیر قلی اور سامان منتقل ہوتے، ہم دوسرے کنارے پر آرام سے ناشتہ کر رہے تھے۔

ناشتے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اب ہمیں کس سمت جانا چاہیے؟ ہمارے رہنماؤں نے صاف بتا دیا کہ دریا کے اس جانب انہیں ذرا بھی علم نہیں کہ کدھر جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک قدم بھی بڑھانے سے انکار کر دیا۔ خیر، اس کا حل تو ہم نے نکال لیا۔

منمپٹیا کے گاؤں میں ۶ جھونپڑے تھے اور کسی بھی جانب چالیس میل تک کوئی دوسری بستی نہیں۔ کوئی بھی ہماری رہنمائی کو تیار نہ تھا اور نہ ہی کوئی اس علاقے سے واقف تھا۔ اس کے علاوہ یہاں کھانے کا بھی کوئی انتظام ممکن نہ تھا، سو ہمارے رہنما کو واپسی پر بھوک کا سامنا کرنا پڑتا۔ ہم نے بے بسی سے منظر کا جائزہ لیا۔ ہمارے پاس قطب نما تو تھا جو میدان یا صحرا کی حد تک کارآمد ہوتا ہے مگر جنگل میں اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔

ابھی ہم قطب نما کی سوئی کو دیکھ ہی رہے تھے جو انجان سرزمین کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ ہمیں تیر کمان سے مسلح دو آدمی جنگل سے نکلتے دکھائی دیے۔ جونہی انہوں نے ہمیں دیکھا تو ایک تو فوراً ہی واپس بھاگ کر جنگل میں گم ہو گیا جبکہ دوسرے کو ہم نے پکڑ لیا۔ اس آدمی کے ہاتھ میں چار پاؤنڈ وزنی مچھلی تھی جو اس نے تیر کمان سے شکار کی تھی۔

میں نے آج تک جتنے بھی جنگلی آدمی دیکھے ہیں، یہ آدمی ان سب سے بڑھ کر بدصورت تھا۔ اس کی آنکھیں انتہائی بھیں گی تھیں اور بھورے بالوں پر غلاظت کی تہیں تھیں۔ اس کا قد ساڑھے چار فٹ تھا اور ساڑھے چھ فٹ اونچی کمان اٹھائے ہوئے تھا۔ اسے محض اپنی زبان آتی تھی مگر یہاں کی زبان سنہالی سے قدرے مشابہ ہے اور مقامی افراد کسی حد تک سمجھ لیتے ہیں۔ ہم نے اس کے ساتھ مناسب سلوک کیا اور تمباکو اور چاول دے کر گفتگو کرنے پر آمادہ کر لیا۔

اسے ویدا علاقے کے محض شمالی حصے کا علم تھا۔ اس کی پوری دنیا اسی حصے تک محدود تھی مگر اس کے بارے میں بھی انتہائی محدود معلومات رکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ ہمیں تین دن کی مسافت پر واقع اومانو بستی تک لے جا سکتا ہے۔ پھر ہم نے اسے کہا کہ وہ مطلوبہ بستی کی سمت بتائے۔ پھر ہم نے اس کی بتائی ہوئی سمت کو قطب نما اور سورج کے مقام سے جانچا تو پتہ چلا کہ وہ جنوب جنوب مشرق کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو لگ بھگ ہماری مطلوبہ منزل کے راستے میں تھی۔ اس نے کہا کہ اومانو سے ہم کسی اور رہنما کو ساتھ لے لیں کہ اسے خود کو آگے کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔

یہاں تک تو صورتحال کافی مناسب تھی مگر ڈولانا سے پارک تک کے فاصلے کے بارے میں میرا اندازہ یکسر غلط نکلا۔ ہم نے اومانو تک تین روز کی مسافت کا سنا جو شاید ویدا علاقے کے وسط میں موجود بستی تھی۔ مگر اس آدمی کو بٹی کلوا سڑک کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔ سو یہ سڑک شاید بٹی کلوا سے کافی دور ہو گی۔ ویدا ایک دن میں دس سے تیس میل تک سفر کر سکتے ہیں۔

اب میں نے راشن پر توجہ دی کہ ابھی تک ہم شکار کے علاقے سے خالی ہاتھ گزر رہے تھے اور سارا زور ڈبہ بند خوراک پر تھا جس کے محض چار ڈبے باقی تھے۔

منمپٹیا میں چاول نہ تھے مگر یہ لوگ کراکن (باجرہ) پر گزارا کرتے تھے۔ جب میں نے قلیوں سے کہا کہ وہ کراکن خرید لیں تو انہوں نے ناک بھوں چڑھائی۔

وقت ضائع کرنا ممکن نہ تھا اور ہمیں ایسی رفتار سے چلنا تھا کہ قلی بھی ساتھ دے پاتے۔ ہمارے اور قلیوں کے پاس محض دو دن کا راشن موجود تھا۔ ہماری صورتحال ایسی تھی کہ جیسے کوئی بحری سفر پر نکل کھڑا ہو مگر اس کے پاس راشن کی کم مقدار ہو۔ جب ہم اس آدمی کی رہنمائی میں نکلے اور منمپٹیا نظروں سے اوجھل ہوا تو میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر کوئی جانور شکار نہ ہوا تو ہمیں بھوکا رہنا ہو گا۔

ہم نے آٹھ میل کے کھلے علاقے کو عبور کیا جہاں ہمیں چیتل کے بہت سے غول دکھائی دیے مگر گولی چلانے کا موقع نہ ملا۔ آخرکار ہم نے شام چار بجے گنرز کوائن نامی پہاڑی کے دامن میں خیمے لگائے۔ یہ اکیلا پہاڑ ۲۰۰۰ فٹ بلند ہے اور اچانک ہی زمین سے اوپر کو اٹھتا ہے۔ پھر رائفلوں سمیت ورٹلی اور پلیسر ایک طرف جبکہ میں اور میرا بھائی دوسری سمت روانہ ہوئے۔

سارا علاقہ بالکل ہموار تھا اور چھدری گھاس کے قطعے موجود تھے۔

ہم نے طے کیا تھا کہ خیموں سے ایک میل سے زیادہ دور نہ جائیں گے کہ کہیں راستہ نہ بھول جائیں اور روانگی سے قبل ہم نے پہاڑی کے مختلف حصے ذہن نشین کر لیے تاکہ واپسی میں دقت نہ ہو۔

ایک گھنٹے کی گشت کے بعد جب سورج غروب ہو رہا تھا کہ چند گز دور جنگل میں آہٹ سنائی دی اور ہم نے رائفلیں تان لیں۔ اگلے لمحے ایک ہاتھی کا سر نمودار ہوا اور میری گولی کھاتے ہی وہ گرا۔ تاہم اس کا سر کچھ ایسے زاویے پر تھا کہ گولی دماغ تک نہ پہنچ سکی اور اگلے ہی لمحے ہاتھی اٹھا اور مڑ کر جنگل میں غائب ہو گیا۔ میں دوسری گولی نہ چلا سکا اور نہ ہی گھنے جنگل کی وجہ سے تعاقب ممکن تھا۔ ہم گھاس کے قطعوں میں گھومتے رہے اور یہ توقع بھی تھی کہ شاید ہاتھی لوٹ آئے۔ پندرہ منٹ بعد ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ ہمیں یقین تھا کہ یہ وہی زخمی ہاتھی ہو گا۔ ہم اس جانب بڑھے اور ایک موڑ مڑتے ہی سات ہاتھی دکھائی دیے۔ ساتوں اتنی بڑی جسامت کے تھے کہ پھر کبھی اتنے بڑے ہاتھی اتنی تعداد میں ایک ساتھ نہیں دیکھے۔ ساتوں ہی نر ہوں گے۔ بدقسمتی سے ہوا کا رخ ان کی جانب تھا اور وہ جنگل کے کنارے پر تھے۔ ہماری بو پاتے ہی وہ مڑے اور جنگل میں غائب ہو گئے۔ ہم نے تعاقب کی کوشش کی مگر کانٹوں نے زیادہ دور نہ جانے دیا۔

اب تاریکی چھانے لگی تھی اور ہم نے خیمے کا رخ کیا۔ راستے میں چیتل کے تین اور سور کا ایک غول دکھائی دیا مگر تاریکی اتنی تھی کہ گولی چلانا ممکن نہ تھا۔ چیتل کی آوازیں ہر سمت سے آ رہی تھیں اور لگ رہا تھا کہ یہ علاقہ شکار سے بھرا ہے۔

جب ہم خیموں کو پہنچے تو دیکھا کہ ورٹلی اور پلیسر بھی ناکام لوٹے تھے۔ ہم نے خوراک کے دو ڈبے استعمال کیے اور اگلے دن طویل سفر کا سوچ کر تیار ہو گئے۔

۲۵ نومبر: سورج نکلتے ہی ہم گھوڑوں پر سوار تھے۔ قلی ہمارے خیمے اور سامان کے ساتھ ہمارے پیچھے تھے کہ یہاں کوئی راستہ نہیں تھا اور قلی راہ بھٹکنے کے خیال سے پریشان تھے۔ ہمارا سارا انحصار ہمارے رہنما پر تھا جو اس علاقے سے بخوبی واقف تھا۔ اس آدمی نے انتہائی مہارت سے رہنمائی جاری رکھی۔ پانچ میل کے سفر کے دوران ہم نے ایک لفظ بھی نہ بولا کہ ہمیں چیتل دکھائی دینے کی توقع تھی۔ بدقسمتی سے ہم ہوا کے رخ پر جا رہے تھے اور سبھی جانور بہت دور سے ہماری بو سونگھ کر بھاگ جاتے تھے۔

آٹھ میل کے سفر کے بعد اچانک ہمیں ہاتھیوں کے تازہ نشانات ملے اور ہم فوراً گھوڑوں سے اتر کر ان کا جائزہ لینے لگے۔ زمین بہت خشک اور سخت تھی اور گھاس چھوٹی اور مرجھائی ہوئی تھی۔ یہاں ہاتھیوں کے پیروں کے نشان بہت مشکل سے دکھائی دے رہے تھے۔ جنگلی پٹیوں اور گھاس کے میدانوں میں چلتے ہوئے ہم نے نصف میل تک ان کا تعاقب کیا کہ اچانک ہمیں ساٹھ گز دور ایک درخت کے پیچھے چھپا ہوا ویدا دکھائی دیا۔ جونہی اسے اندازہ ہوا کہ ہم نے اسے دیکھ لیا ہے تو وہ دوڑ پڑا۔ ہمارے ساتھ دو بندوق بردار قلی تھے جو بہت تیز بھاگتے تھے۔ انہوں نے دوڑ کر اس آدمی کو کچھ ہی دیر میں پکڑ لیا اور ہمارے پاس لے آئے۔ جب یہ آدمی ہمارے پاس آیا تو ڈرنے کی بجائے ہنسنے لگا کہ اس کے خیال میں اس نے اچھا مذاق کیا تھا۔ یہ آدمی کافی پست قد مگر مضبوط جسامت کا مالک تھا اور ہمارے رہنما نے فوراً اسے پہچان لیا کہ یہ اس علاقے کا بہترین شکاری ہے۔ جب اس آدمی کو ہمارے مقصد کا علم ہوا تو وہ اپنا تیر کمان اور پانی والا کدو وہیں چھوڑ کر سیدھا نشانات پر چل پڑا۔

میرے علم میں اس آدمی سے بہتر کھوجی اور کوئی نہیں۔ زمین پتھر کی مانند سخت تھی اور ہاتھیوں کے پیروں کے نشانات یکسر غائب تھے مگر یہ شخص جیسے ان کی بو سونگھ کر ان کا پیچھا کرنے لگا ہو اور کئی مرتبہ تو ہمیں اس کے پیچھے دوڑنا پڑا۔ نصف گھنٹے تک اس طرح چلنے کے بعد اچانک ہمیں تین ہاتھی دکھائی دیے۔ میرے بھائی نے ایک جبکہ عین اسی لمحے میں نے دوسرا ہاتھی مار گرایا۔ میرے بھائی نے تیسرے ہاتھی پر گولی چلائی مگر وہ بھاگنے کی بجائے ہماری جانب لپکا۔ پلیسر اور میں نے بیک وقت گولیاں چلا کر اس ہاتھی کو بھی مار گرایا۔ تینوں ہاتھیوں کی ہلاکت میں تین لمحے لگے ہوں گے۔ غول کے دیگر ہاتھی ہماری نظروں سے اوجھل تھے اور ہم نے ان کے فرار کی آوازیں سنیں اور پیچھا کرنے کی کوشش کی مگر زیادہ دور نہ جا پائے۔ سو گھوڑوں اور کھوجی کے پاس لوٹ آئے۔

بیس میل کے سفر کے بعد ایک سو ایکڑ قطعے کو پہنچے جہاں بہت عمدہ گھاس اگی ہوئی تھی۔ اس کے اطراف میں گھنا جنگل تھا۔ بدقسمتی سے راتیں تاریک تھیں، ہم شکار نہ کر سکے۔ ہم نے کئی سنائپ شکار کر لیے تھے، سو انہی سے پیٹ بھرا۔ خوراک کے باقی بچے ہوئے دو ڈبے ہم نے کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھے۔

۲۶ نومبر: کھلا علاقہ ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے ۱۷ میل کا سفر انتہائی شاندار جنگل میں طے کیا۔ یہاں اگے ہوئے برگد کے عظیم درختوں سے زیادہ بڑے درخت میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ مہاگنی کے درخت بھی بکثرت اور بہت بڑے تھے۔ جنگل کھلا تھا اور کہیں بھی جھاڑ جھنکار یا گھاس نہیں تھی۔ کسی کسی جگہ ویدا کی کلہاڑیوں کے نشان دکھائی دے جاتے تھے۔ ایک مقام پر ہمیں جگہ جگہ چٹانیں ملیں جیسے کوئی پہاڑی پھٹ گئی ہو۔ گرجا گھروں جیسے بڑے پتھر ایک دوسرے کے اوپر ایسے رکھے تھے کہ غاریں سی بن گئی تھیں جہاں کئی سو آدمی آرام سے رہ سکتے تھے۔

اس علاقے میں سورج کی روشنی زیادہ نہیں آ سکتی کہ تناور درخت ہر طرف چھائے ہوئے تھے اور جو ہلکی سی روشنی آتی بھی تو عجیب افسانوی تاثر بناتی تھی۔ بڑے بڑے درختوں کے تنے ایسے لگ رہے تھے کہ جیسے عمارتوں کے ستون ہوں۔ اگر یہاں چند دیو بھی موجود ہوتے تو عجیب نہ لگتا۔

سہ پہر کو ہم لوگ اوومانو کی بستی کو پہنچے جو ہمارے پچھلے کیمپ سے ۱۸ میل دور تھی۔ چھوٹی سی بستی انتہائی غلیظ تھی اور خوراک کے نام پر یہاں کچھ نہ مل سکا۔ ہمارے قلیوں نے پچھلی شام سے کچھ نہ کھایا تھا مگر ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں کچھ مسافر تاجر مل گئے جو عین اسی وقت اپنے چاول بیچنے کے لیے بستی میں آئے تھے۔ یہ لوگ چاول کو ہرن وغیرہ کے خشک گوشت کے عوض بیچتے ہیں۔ چونکہ بستی والوں کے پاس تبادلے کے لیے کچھ نہ تھا، ہم نے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر خشک گوشت کے بدلے چاول لے لیے۔ تاہم ہمیں اصل سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑی۔ پھر بھی چاول اتنے کم تھے کہ ہمارے قلی ایک وقت کا پیٹ بھر کر کھانا بھی نہ کھا سکتے تھے۔

ہم نے چار سنائپ اور دو مادہ چیتل شکار کر لی تھیں، سو ڈبہ بند گوشت کے ساتھ انہیں ملا کر ہم نے کھانا بنایا جو کافی اچھا بنا۔ اب ہمارے پاس محض بسکٹ اور کچھ اور سامان بچ گیا تھا۔ ہیم (سور کا گوشت) اور دیگر ڈبہ بند گوشت ختم ہو چکے تھے اور اس روز ہم نے ایک بار کھانا کھایا۔

نومبر ۲۷: ہمارے گھوڑوں نے کئی روز سے محض گھاس سے پیٹ بھرا تھا مگر گھاس اتنی عمدہ تھی کہ ان کے پیٹ خوب بھرے ہوئے تھے۔ ہم نے اپنے ویدا رہنما واپس بھیجے اور اوومانو سے کچھ اور آدمی ہمراہ لے لیے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ بٹی کلوا والی سڑک یہاں سے محض چار میل دور ہے۔ سو پو پھٹتے ہی ہم خوشی خوشی نکلے کہ سڑک پر پہنچ کر ناشتہ کریں گے۔

چار میل! ہم نے پورے چوبیس میل کا سفر طے کیا اور پھر جا کر اس ’سڑک‘ کو پہنچے جو گھاس کی ایک تنگ سی پگڈنڈی تھی جو اس دوران ہماری منزل بنی رہی تھی۔ اس مقام کا نام ’پیالی‘ بتایا گیا۔

اس مقام سے ہمیں ’کرہلولائی‘ نامی بستی کی طرف رہنمائی کی گئی جو ’چھوٹا لندن‘ بتائی گئی کہ وہاں دنیا کی ہر آسائش موجود ہے اور یہ کہ دو میل دور ہے۔ ہم نے ایک نیا رہنما پکڑا اور سیدھا روانہ ہو گئے۔ تین میل کے سفر کے بعد پتہ چلا کہ یہ بستی مزید تین میل آگے ہے۔ چونکہ ہمیں علم تھا کہ مقامی افراد فاصلے کے بارے میں کچھ بھی ادراک نہیں رکھتے، سو ہم نے وہیں راستہ چھوڑا اور گھوڑوں سے اتر کر ناشتے کی تیاری کرنے لگے۔ ہم نے گھوڑوں کو گھاس چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔

ہم نے پچھلے روز ایک بار کھانا کھایا اور اس روز ناشتے کے بغیر تھے، سو ہم بے چینی سے قلیوں کے منتظر تھے مگر مجھے علم تھا کہ خوراک کی کمی سے قلی بدحال ہو رہے تھے۔ انہوں نے پچھلے روز تھوڑا سا کھانا کھایا تھا اور اس سے پچھلے روز وہ خالی پیٹ تھے۔

ہم گھاس کے قطعے میں تھے اور چاروں طرف گھنا جنگل تھا۔ ہرن اور سانبھر کے کھروں کے بے شمار نشان تھے مگر ایک بھی جانور دکھائی نہ دیا۔

جب شام ہوئی تو ہم نے کافی ساری خشک لکڑیاں جمع کر کے اچھا خاصا الاؤ روشن کر لیا۔ پھر ہم نے رائفلوں اور شاخوں کی مدد سے چھت بنائی تاکہ شبنم اور اوس سے محفوظ رہ سکیں اور سر کے نیچے زینیں رکھ کر ہم آرام سے سو گئے اور صبح کو جا کر اٹھے۔

۲۸ نومبر: ہم جب اٹھے تو بھوک لگی ہوئی تھی۔ ہم نے اپنی بیلٹیں کس لیں۔ میرے بھائی کو ۳۰ تاریخ کی شام کینڈی پہنچنا تھا، سو اس نے روانگی کا فیصلہ کیا۔ اس کے خچر کے نعل گر چکے تھے اور کئی دن سے بیچارہ گھاس پر گزارا کر رہا تھا۔

مجھے اس مقام کے بارے میں اچھی معلومات تھیں کہ دو سال قبل میں قریب ہی کے ایک علاقے میں راستہ بھول گیا تھا۔ ہم بدولا سے ۵۳ میل دور تھے۔ اس کے باوجود میرا بھائی روانہ ہو گیا اور اسی رات بدولا جا پہنچا۔ اگلے روز وہ اسی خچر پر سوار ہو کر ۳۶ میل دور نیویرا ایلیا جا پہنچا اور پھر گھوڑا بدل کر ۴۷ میل کا فاصلہ طے کر کے اپنی منزل پر ۳۰ نومبر کی شام پہنچ گیا۔

بھائی کی روانگی کے بعد ہم نے زینیں کسیں اور رہنما کے پیچھے جنگل میں گھسے اور کرہلولائی کو روانہ ہوئے جو چار میل دور تھا۔ اس جگہ کی غلاظت کے بارے میں کچھ کہنا بیکار ہے حالانکہ اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے تھے۔ چند چھوٹے جھونپڑوں کی اس بستی سے ہمیں چاول کا ایک دانہ بھی نہ مل سکا اور نیم فاقہ زدہ نمبردار نے ہمارے لیے کراکن کی کچھ روٹیاں بنائیں جو دو حصے ریت، ایک حصہ مٹی اور ایک حصہ آٹے سے بنی تھیں۔ میں نے بھوکا رہنے کو ترجیح دی۔ سارے علاقے کی غربت اور بدحالی ناقابل بیان تھی۔

ہمارے قلی صبح ۸ بجے پہنچے اور تھکن اور بھوک سے نیم جان تھے اور کراکن کی روٹیاں نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئیں اور انہوں نے خوب پیٹ بھر کر کھائیں۔

میں نے اپنے بھائی کے قلیوں اور آٹھ دیگر افراد کہ جن کے پاس اٹھانے کا سامان نہ تھا، کو اس کے پیچھے بھیج دیا۔ پھر ہم باقی قلیوں کے ساتھ بیبیل کی طرف روانہ ہوئے جس کے بارے میں مقامی افراد بتا رہے تھے کہ ۱۹ میل دور ہے۔ خوش قسمتی سے اس بار فاصلہ درست نکلا۔ کرہلولائی سے چار میل بعد خوبصورت پارک نما علاقہ شروع ہو گیا اور ہم نے باقی ۱۶ میل انتہائی سکون سے طے کیے اور بیبیل کے خوبصورت گاؤں جا پہنچے جو کئی مرتبہ میری قیام گاہ رہ چکا تھا۔

منیریا سے ہم نے یہاں تک ۱۴۰ میل کا فاصلہ طے کیا اور سارا علاقہ قابل شکار جانوروں سے بھرا ہوا تھا اور ۶۰ میل کے رقبے میں تو کبھی کسی نے بندوق بھی نہیں چلائی تھی۔ اس کے باوجود اس جگہ ہم نے محض ۳ ہاتھی مارے کہ ہمیں جلدی تھی۔ اگر ہم گنرز کوئن پر ایک ہفتہ گزارتے اور ڈولانا سے سامان لے لیتے تو سارے علاقے میں بہترین شکار سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ اگر ہم ساری مہم کا جائزہ لیں تو میرے بھائی کی مختصر چھٹی کی وجہ سے ہم نے ۹ ہاتھی اور ۲ چیتل مارے تھے۔ میرے بھائی کے شکار کردہ ہاتھی محض دو تھے اور اسے واپس جانا پڑا۔ ایک طرح سے ہماری اصل شکاری مہم بیبیل سے شروع ہوئی۔

بیبیل انتہائی خوبصورت اور مہذب گاؤں تھا اور اس کے چاروں طرف کا علاقہ ان چھوا تھا۔ یہ مقام رحمتاماتمایا کی رہائش گاہ تھا اور میں اس کے خاندان سے بخوبی واقف تھا۔ جب انہوں نے میری آمد کے راستے کے بارے میں سنا تو بہت حیران ہوئے کہ ہم اس راستے پر چلتے ہوئے ۴۸ گھنٹے کے فاقے سے گزرے اور انہوں نے فوراً ہمارے لیے کھانے کی تیاری شروع کر دی۔ یہاں کسی چیز کی قلت نہیں تھی اور کچھ ہی دیر بعد ہم مختلف قسم کے سالن، چاول، اچھی کافی، چاولوں کی روٹی، کیلوں اور شکر قندی وغیرہ سے پیٹ بھر رہے تھے۔ گوشت کے لیے کئی مرغیاں استعمال ہوئی تھیں۔

۲۹ نومبر: قلی صبح کو آن پہنچے اور کچھ ہی دیر بعد چاول اور سالن سے پیٹ بھرنے لگے۔ چند گھنٹے کے آرام کے بعد ہم لوگوں نے سامان باندھا اور پارک کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ یہ مقام بیبیل سے دس میل دور ہے اور میں وہاں بہت مرتبہ کیمپ لگا چکا ہوں۔

ہماری طرح گھوڑوں کو بھی گھاس کے علاوہ دیگر اجناس کھانے کو ملی تھیں اور وہ بھی کافی خوش تھے اور قلی بھی نئے سرے سے تازہ دم ہو چکے تھے۔ میں نے کوٹو بویا (بیبیل سے بیس میل دور ایک بستی) سے چاول، اجناس اور مرغیاں وغیرہ منگوائی تھیں جو کیمپ والے مقام پر پہنچنی تھیں۔ ہم لوگ آرام سے چلتے ہوئے تین بجے کے بعد مطلوبہ مقام پر جا پہنچے۔

یہاں عمدہ گھاس تھی اور کچھ بڑے اور سایہ دار درخت ہمارے خیموں کے لیے مناسب جگہوں پر مل گئے۔ ہم نے سائے میں ندی کنارے خیمے گاڑے۔ سارا علاقہ ہموار نہیں بلکہ اونچا نیچا تھا۔ ہم نے نیلگالا کو ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ ’بندا‘ کو بلا لائے۔ دوسرے کو ہم نے ڈمبولڈن بھیجا جو مدیمہ اور اس کے کھوجیوں کو بلا کر لاتا۔ پھر ہم رائفلیں لے کر ہرن مارنے کو نکلے۔ جلد ہی چیتل کا غول دکھائی دیا اور ورٹلی نے ۶۰ گز سے گولی چلا کر ایک مادہ چیتل شکار کی۔ اگر ہم چاہتے تو اور بھی چیتل شکار ہو جاتے مگر ہم نے اس علاقے میں فالتو گولیاں چلانے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا کہ یہاں ہاتھیوں کے پیروں کے تازہ نشان موجود تھے۔

ہم مادہ چیتل کو اٹھا کر کیمپ پہنچے تو سب خوش ہوئے کہ گوشت کھانے کو ملا۔ اپنے لیے ایک ران رکھ کر ہم نے باقی چیتل اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔

۳۰ نومبر: اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے ہم نے آرام کیا اور بندا اور کھوجیوں کی آمد کا انتظار کیا۔ ہمارے ہتھیار قطار میں خوبصورتی سے سجے ہوئے تھے اور اگلے روز ہم انہیں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

بندا اور اس کے کھوجی سہ پہر کو پہنچ گئے۔ اس کے مطابق یہاں ہاتھیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور جلد ہی ہم نے پارک کے علاقے کو منظم انداز سے کھنگالنے کا منصوبہ بنا لیا۔ اس منصوبے پر ہی ہمارے یہاں قیام کے دورانیے کا انحصار تھا۔ اگر ہم لاپرواہی سے ہر جگہ شکار کرنا شروع کر دیتے تو ہاتھی اس علاقے کو فوراً ہی چھوڑ کر چنار کے گھنے جنگل میں گھس جاتے۔ میرا منصوبہ یہ تھا کہ ہم اپنے موجودہ قیام کے مقام سے شکار شروع کرتے اور پھر غار کی طرف جاتے اور پھر پٹہ پلار کو جاتے اور پھر دریا عبور کر کے پارک کا چکر کاٹ کر دوسری جانب سے داخل ہوتے اور نیل گالا کے مضافات پر ہمارے شکار کا اختتام ہوتا۔ بندا نے اس منصوبے کی حمایت کی کہ اس طرح ہم پارک کے وسط کی بجائے اطراف کو چھانتے۔

یکم دسمبر: صبح پو پھٹتے ہی ہم نے کھوجیوں کو روانہ کر دیا۔ وہ دن دو بجے لوٹے اور بتایا کہ انہوں نے ہمارے خیموں سے چار میل دور ہاتھی دیکھے اور دو بندوں کو ان کی نگرانی پر مقرر کر کے ہمیں بتانے آ گئے۔ جب ہم نے ان کے مقامات کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ انہیں ہاتھیوں کی تعداد کے بارے میں یکسر علم نہیں کہ اس غول کے ساتھ ایک مشہور بدمعاش ہاتھی بھی تھا اور یہ لوگ قریب جا کر ان کی گنتی نہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے ہاتھیوں کے چنگھاڑنے کی آواز سن کر جگہ کا تعین کیا اور ہمارے پاس لوٹ آئے۔ بدمعاش ہاتھی کے منہ میں ڈیڑھ فٹ لمبا صرف ایک دانت تھا۔

نومبر اور دسمبر میں ہاتھی کے شکار کے دوران خاصی احتیاط کرنی چاہیے کہ ان مہینوں میں بدمعاش ہاتھی نسل کشی کی نیت سے غول کے قریب ہوتے ہیں۔ ان کی کمیں گی خطرناک ہوتی ہے کہ یہ ہاتھی خود دکھائی نہیں دیتے مگر غول سے چند سو گز کے فاصلے پر چھپے رہتے ہیں۔ جب غول کے ہاتھیوں پر گولیاں چلائی جائیں تو یہ بدمعاش ہاتھی اپنی کمین گاہ سے نکل کر شکاریوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ یہ خاصا خطرناک ثابت ہوتا ہے اور ۱۸۵۰ میں میرے ساتھ اس مقام کے قریب ایسا ہی ایک واقعہ پیش آ چکا ہے۔

بندا چاہتا تھا کہ ہم اس بدمعاش ہاتھی کا قصہ نپٹا کر ہی غول کا رخ کریں۔ اس نے مجھے کہا کہ میں اپنی چار اونس والی رائفل سے اس ہاتھی کے شانے پر جبکہ پلیسر اور ورٹلی اس کے سر پر گولیاں چلائیں۔ شانے والی گولی سے ہاتھی فوری تو نہ ہلاک ہوتا مگر اس کی ہلاکت یقینی ہو جاتی۔ مقامی لوگ اس بدمعاش سے اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ اسے ہر قیمت پر مردہ دیکھنا چاہتے تھے۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے اسی بدمعاش ہاتھی سے نپٹیں گے۔ اگر وہ موقعے پر نہ مارا جا سکا تو بھی چار اونس والی گولی اس کے شانے پر لگ کر پھیپھڑوں سے ہو کر گزرے گی اور ہاتھی کچھ ہی دیر میں ختم ہو جائے گا اور مرنے سے قبل وہ اتنا زخمی ہو گا کہ غول پر حملے کی صورت میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ بدمعاش ہاتھی سے نجات پاتے ہی ہم غول کے ہاتھیوں کے پیچھے لگ جاتے۔

یہ طے کر کے ہم روانہ ہو گئے۔ خوبصورت مناظر دیکھتے ہوئے چار میل کی گھڑ سواری کے بعد ہم نے دور سے ایک آدمی کو دیکھا جو ہمیں دیکھ کر اشارہ کر رہا تھا۔ یہ آدمی نگرانی کرنے والوں میں سے ایک تھا اور اس نے اشارے سے بتایا کہ ہاتھی عین اسی وقت جنگل میں کس مقام سے داخل ہوا تھا۔ ان کی احتیاط سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ مقامی آدمی اس بدمعاش ہاتھی سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں۔

جس جنگل میں ہاتھی داخل ہوا تھا، وہ طویل اور تنگ پٹی کی شکل میں تھا اور اس کی چوڑائی سو گز سے زیادہ نہ تھی۔ جنگل بہت گھنا نہ تھا مگر چھ قدم سے زیادہ دور کچھ دیکھنا ممکن نہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ ہاتھی ہمارے انتظار میں چھپا ہوا ہے اور جب ہمیں بے خبر دیکھے گا تو ہم پر حملہ کر دے گا۔ سو ہم انتہائی احتیاط سے جنگل میں داخل ہوئے اور بندا سے کہا کہ وہ ہم سے بیس گز آگے چلے اور جونہی ہاتھی اس پر حملہ کرے تو فوری ہماری جانب بھاگ کر آ جائے۔

بندا نے فوراً اپنے بال کھولے جو اس کے کولہوں تک آتے تھے۔ پھر اس نے اپنے جسم سے ایک لنگوٹی کے سوا سبھی کپڑے اتار دیے اور بلی کی سی احتیاط سے چل پڑا۔ اس کی پیش قدمی اتنی محتاط تھی کہ وہ جلد ہی ہمیں خاموشی سے واپس آتا دکھائی دیا۔ اس نے سرگوشی میں بتایا کہ ہاتھی جنگل سے چند گز آگے گھاس کے میدان میں کھڑا ہے۔ ہم فوراً آگے بڑھے اور جنگل سے نکلے تو دیکھا کہ تیس گز دور ہاتھی ہماری جانب پہلو کیے کھڑا تھا۔ میری چار اونس کی گولی اس کے شانے کے پار ہوئی اور تین اونس اور آٹھ بور رائفل کی گولیاں اس کے سر پر لگیں۔ ہاتھی تین گولیاں کھانے کے بعد بھی نہ گرا اور تیزی سے چل پڑا۔ تاہم اس کی سونڈ اور دم نیچے کو تھیں اور ٹھوکریں کھاتا چل رہا تھا اور اس کے کان جسم سے چپکے ہوئے تھے۔ نصف پاؤنڈ سیسے نے اس کے جسم میں پہنچ کر اس کی بدمعاشی نکال دی تھی۔ ستر گز دور جنگل تک کا فاصلہ اس نے اتنی تیزی سے طے کیا کہ ہم مزید گولیاں نہ چلا سکے۔ سو یہاں ہم نے رک کر رائفلیں بھریں کہ ہمارے سامنے چنار کا جنگل تھا جو بہت گھنا لگ رہا تھا۔ تاہم یہ ہماری غلط فہمی تھی کہ جب ایک منٹ بعد ہم اس کے تعاقب میں نکلے تو دیکھا کہ جنگل بالکل کھلا تھا اور چنار کے گھنے درخت محض ایک تنگ سی پٹی کی شکل میں دریا کے کنارے تھے۔ اگر ہم رائفلیں بھرنے کو نہ رکتے تو دریا کو عبور کرتے ہوئے ہاتھی کو آسانی سے مار لیتے۔

اس دریا کی نرم ریت پر ہم نے بہت سے ہاتھیوں کے قدموں کے نشان دیکھے جو گولیوں کی آواز سن کر فرار ہو گئے تھے۔ ہم نے بدمعاش کا علاج کر لیا تھا سو اب ہم ان ہاتھیوں کے پیچھے بہترین اور کھلے جنگل میں روانہ ہو گئے۔

ہم ایک گھنٹے تک جنگل، میدان، دریا اور گھنے جنگلوں سے باری باری گزرتے ہوئے پیچھا کرتے رہے اور آخرکار زمین کچھ بلند ہونے لگی تو ہاتھی کی چنگھاڑ سنی۔

یہ علاقہ بہت عمدہ تھا مگر لیمن گراس دس فٹ اونچی تھی۔ درختوں کے جھنڈ بھی کہیں کہیں دکھائی دے رہے تھے اور چھوٹی چھوٹی وادیاں بھی تھیں۔ عین مخالف سمت بڑی چٹانیں تھیں جن کے پاس چند درخت اگے ہوئے تھے۔ ہمارے بائیں جانب نشیب میں اونچی لیمن گراس تھی جس کے کنارے پر جنگل واقع تھا۔ اسی نشیب میں ہمیں سات ہاتھی دکھائی دیے۔ گھاس کے اوپر سے ان کی پشت اور سر ہی دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا فاصلہ ستر گز تھا اور وہ ذرا بلندی پر تھے۔ مزید تین ہاتھی گھاس میں چھپے ہوئے پیٹ بھر رہے تھے۔

جس جنگل سے یہ سات ہاتھی نکل کر آئے تھے، وہاں سے مزید ہاتھیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ یہ ہاتھیوں کے پیٹ بھرنے کا وقت تھا اور ہم نے صبر سے سبھی ہاتھیوں کے نکلنے کا انتظار کیا۔

یکے بعد دیگر ہاتھی جنگل سے نکلتے آئے۔ ہم ہاتھیوں کی تعداد کے بارے میں بات کر ہی رہے تھے کہ ایک ہاتھی کو ہماری بو پہنچ گئی۔ سب ہاتھی ایک ساتھ مڑے اور جنگل کو بھاگے۔

اپنے بندوق برداروں کو قریب رہنے کا حکم دے کر ہم نے ہاتھیوں کی جانب دوڑ لگا دی اور سیدھا نشیب سے گزر کر لیمن گراس سے گزرے جہاں ہاتھیوں نے اچھے خاصے راستے بنا دیے تھے۔

سارا جنگل جیسے جاگ اٹھا ہو۔ اس غول میں پچاس سے زیادہ ہاتھی شامل تھے۔ ان کی چنگھاڑ سے جنگل گونجنے لگا اور ان کی بھاگ دوڑ سے چھوٹے درخت گرنے لگے اور ہاتھی جان بچانے کو بھاگ رہے تھے۔

گھاس والے نشیب کے دوسرے سرے پر ایک موڑ تھا جہاں جنگل ایک زاویے پر آ کر ملتا تھا۔ یہاں جنگل سے کچھ فاصلے پر چھوٹی گھاس کا مسطح قطعہ تھا۔ ہاتھی چونکہ اسی جانب جا رہے تھے، سو میں نے ورٹلی کو اپنے ساتھ لے کر اسی جانب دوڑ لگا دی کہ ہاتھیوں کو جنگل میں گھسنے سے قبل ہی یہاں روکیں۔ چند لمحے بعد ہم مطلوبہ جگہ پہنچ گئے اور مناسب جگہیں سنبھال لیں۔ یہاں سے جنگل دس گز دور تھا اور ہم اپنی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھیوں کے غول کو دیکھنے لگے۔

کوئی قلم یا زبان ایسی نہیں کہ جو اس منظر کو بیان کر سکے۔ پورے غول کی چنگھاڑیں اور چیخیں، درختوں کے تنے ٹوٹنے کی آوازیں، درختوں کے پتوں سے ہاتھیوں کے رگڑنے سے پیدا ہونے والی آندھی نما آوازیں، ان سب کا رخ سیدھا ہماری جانب تھا۔

جو آدمی ہاتھیوں کے شکار سے بخوبی واقف نہ ہو، اس کے لیے یہ لمحہ انتہائی ہیجان خیز ہوتا ہے۔

جنگل کا یہ سرا مختلف بیلوں سے بھرا ہوا تھا جو اونچے درختوں کی چوٹیوں سے لے کر زمین تک پھیلی ہوئی تھیں اور سبز پردہ سا بنایا ہوا تھا۔ اس پردے کے پیچھے سے سارے ہاتھی چند لمحے بعد نمودار ہونے والے تھے۔

سارا جنگل ان کے قدموں کی دھمک سے لرز رہا تھا۔ اچانک سبز پردہ چاک ہوا اور درختوں کی ٹوٹتی ہوئی ٹہنیوں کے بیچ ہاتھیوں کے بے شمار سر دکھائی دیے۔

ہم نے ان کی طرف بھاگتے ہوئے زوردار نعرہ لگایا تو ہاتھی اچانک گھبرا کر رک گئے۔ ہاتھی اتنے زیادہ اور قریب قریب تھے کہ ان پر گولی چلانا کافی مشکل تھا۔ دو ہاتھی میری دائیں جانب ایک کونے کو لپکے تو میں نے دائیں اور بائیں نالیاں چلا کر دونوں کو وہیں گرا دیا۔ والیس نے جونہی میرے ہاتھ سے خالی رائفل لے کر بھری ہوئی رائفل میرے ہاتھ میں تھمائی تو اسی وقت ایک بڑی ہتھنی کان سونتے میری طرف بڑھنے لگی۔ اس ہتھنی کو میں نے ماتھے پر گولی چلا کر وہیں ڈھیر کیا۔ بدقسمتی سے بارود کی زیادہ مقدار کی وجہ سے دائیں نال کے جھٹکے سے بائیں نال بھی اسی وقت چل گئی تھی۔ سارے غول نے رخ موڑا اور اپنے تینوں رہنماؤں کو چھوڑ کر دوسری جانب بھاگے۔

شاندار جنگل میں ہاتھی لگ بھگ دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگے۔ وہ اتنے قریب قریب تھے کہ جیسے ایک دیوار ہوں۔ ۲۰۰ گز دوڑنے کے بعد ان کے سامنے دس فٹ چوڑے دریا کا خشک بہاؤ ان کی راہ میں خندق بن گیا۔

اس رکاوٹ سے گھبرائے بغیر ان کے رہنما نے سیدھا اس بہاؤ کا رخ کیا تو بھربھرا کنارہ گرنے لگا اور دریا کے پاٹ میں مٹی کی تہہ بننے لگی۔

دریا عبور کرنے کے دوران میں نے ایک اور بڑے ہاتھی کو گرایا جو خندق میں گرا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں نے اس کی گدی میں دوسری گولی اتار کر اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ اس ہاتھی نے ہمارے لیے پل کا کام دیا اور اس پر جست لگا کر ہم نے اس کھائی کو عبور کیا اور دوسرے کنارے پر دوڑنے لگے۔ غول ہم سے ۳۰ گز دور ہو گا۔

گھاس کے ایک عمدہ قطعے پر پہنچ کر پورا غول ایک دوسرے سے اتنا قریب تھا کہ ہاتھیوں کے پچھلے دھڑ ایک ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔ یہاں گھاس کی اونچائی چار فٹ تھی۔ جب اتنے قریب قریب ہو کر ہاتھی بھاگے تو اپنے پیچھے ایک عمدہ راستہ بناتے ہوئے گزرے۔ ان کے بنائے راستے کے دونوں جانب چار فٹ اونچی گھاس پردے کی طرح تنی ہوئی تھی۔

ہم اس راستے پر پوری رفتار سے بھاگتے رہے اور بہت کوشش کے بعد ہاتھیوں سے بیس گز قریب جا پہنچے اور اس دوران ہم نے پوری رفتار سے دوڑتے ہوئے چوتھائی میل کا فاصلہ طے کر لیا ہو گا اور ایک بھی گولی نہ چلا سکے۔ آخرکار ایک ہاتھی مڑ کر سیدھا میری جانب دیکھنے لگا۔ میری تینوں دو نالی رائفلیں خالی تھیں اور میرے ہاتھ میں ۱۶ بور کی چھوٹی بندوق تھی۔ میں نے دائیں نال سے اس ہاتھی کو مار گرایا مگر اتنی دیر میں دیگر ہاتھی دور ہو گئے۔

غول اب جنگل سے دو سو گز دور ہو گا اور انہوں نے پناہ گاہ کو دیکھ کر اپنی رفتار اور بھی تیز کر لی تھی۔

میں نے اپنی چھوٹی بندوق والیس کو دے کر اس کے ہاتھ سے چار اونس والی رائفل لے لی کہ اب ہاتھیوں کے قریب پہنچنا ممکن نہ رہا تھا۔ سو اب گولی چلانے کا آخری موقع تھا۔ اس بھاری رائفل (۲۱ پاؤنڈ) کے ساتھ میں بمشکل غول سے چالیس گز کے فاصلے پر دوڑ رہا تھا۔

پلیسر اور ورٹلی مجھ سے بیس گز آگے تھے۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو میں نے بائیں جانب کا رخ کیا تاکہ پہلو سے گولی چلا سکوں۔ جب غول جنگل کے سرے پر پہنچا تو میں بھی مطلوبہ جگہ پہنچ چکا تھا۔ کنارے پر ہی بیس فٹ اونچے کنارے والا خشک دریا تھا۔ اس دریا کے کنارے پچاس گز دور ایک بڑے ہاتھی کی کنپٹی پر میں نے گولی چلائی اور وہ نیچے دریا میں جا گرا اور چنگھاڑنے لگا۔ میں نے بھاری رائفل دے کر چھوٹی بندوق اٹھائی اور کنارے کھڑے ہو کر اس ہاتھی کا قصہ پاک کر دیا۔

اب میرے پاس چھ خالی رائفلیں تھیں اور اصل تماشہ شروع ہونے کا وقت تھا۔ سارا غول پوری رفتار سے کنارے پر ایک مخصوص مقام سے دریا کو عبور کرنے کے چکر میں تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سینما پر کھڑکی توڑ رش ہو۔ بدقسمتی سے ورٹلی اور پلیسر نے دریا عبور کرتے ہوئے غول میں صرف ایک ہاتھی کو شکار کیا اور اس دوران سبھی ہاتھی دریا عبور کر کے دوسرے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ یہ دونوں بھی ان کے پیچھے دوڑتے رہے۔

میں نے ہر ممکن عجلت سے رائفلیں بھریں اور جب ان میں گولیاں ڈال رہا تھا کہ میں نے متواتر کئی فائر سنے۔ جب سبھی رائفلیں بھر چکیں تو میں اپنے بندوق برداروں کے ساتھ ہاتھیوں کے پیچھے لپکا۔

یہ جنگل بہت خار دار اور برا تھا مگر جگہ جگہ عمدہ گھاس کے قطعے بھی موجود تھے۔

دریا سے چوتھائی میل دور ایک ایسے ہی قطعے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک جگہ بندوق بردار دائرے میں کھڑے ہیں۔ چونکہ پلیسر یا ورٹلی دکھائی نہ دیے، مجھے ان کی خیریت کی فکر لاحق ہو گئی۔ میں نے چلا کر پوچھا، ’تمہارے آقا کہاں ہیں؟‘ عین اسی وقت مجھے زمین پر پڑا ہوا ایک قلی دکھائی دیا تو مجھے سکون ملا۔ جب معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ بندہ زخمی کم ہے اور ڈرا ہوا زیادہ۔ اس کے جسم پر کئی جگہ زخم تھے۔

جب میں نے آواز دی تو ورٹلی اور پلیسر واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہاتھیوں کے تازہ نشانات پر بھاگ رہے تھے مگر کوئی ہاتھی دکھائی نہ دیا کہ اچانک جنگل میں سے دو ہاتھی ان پر حملہ آور ہوئے۔ دونوں نے ان پر گولی چلائی مگر ہاتھی نہ رکے۔ ان کے بندوق بردار بھاگے تو ایک ہاتھی نے ایک آدمی کو گرا کر اسے کچلنے کی کوشش کی تو ورٹلی اور پلیسر نے پھر گولیاں چلائیں اور اس ہاتھی نے رخ موڑا۔ اسی دوران ان دونوں کو بھی بھاگنا پڑا کہ دوسرا ہاتھی ان پر حملہ آور ہوا اور اس کی سونڈ پلیسر کو چھو کر گزری۔ خوش قسمتی سے یہ دونوں سیدھا بھاگنے کی بجائے مڑے۔ اس دوران دوسرا ہاتھی بھی جنگل میں غائب ہو گیا۔ یہ دونوں اس کے پیچھے بھاگے مگر جنگل بہت دشوار گزار تھا اور میری آواز سن کر دونوں واپس آ گئے۔

زخمی آدمی کو سہارا دے کر اس کے گھر پہنچایا گیا۔ بندوق برداروں نے بھاگتے ہوئے دو بندوقیں گرا دی تھیں جو کافی تلاش کے بعد اونچی جھاڑیوں سے ملیں۔

اب ہم شکار کردہ ہاتھیوں کی دمیں کاٹنے کو واپس لوٹے۔ میں نے چھ ہاتھیوں پر گولیاں چلائی تھیں اور سبھی شکار کر لیے تھے اور ہر ہاتھی مطلوبہ جگہ مرا ہوا ملا۔ ایک ہتھنی بہت بڑی تھی اور اس کے تھنوں میں دودھ تھا۔ ورٹلی اور مجھے شدید پیاس لگی تھی اور ہم نے جی بھر کر مردہ ہتھنی کا دودھ پیا۔ ہمراہی مقامی بندوں کو یہ دیکھ کر سخت کراہت ہوئی۔ اس ہتھنی کے ماتھے پر دو گولیاں ایک ساتھ لگی تھیں کہ جب میں نے دائیں نال چلائی تو بائیں نال بھی غلطی سے چل گئی تھی۔

ہماری بدقسمتی کہ میں نے اس پورے غول میں چھ جبکہ پلیسر اور ورٹلی نے مل کر ایک ہاتھی مارا تھا۔ اس کے علاوہ پلیسر نے ایک اور ہاتھی گرایا تھا جو مرا نہیں تھا۔ سو اب ہم اس ہاتھی کی جانب بڑھے۔

ہم اس جگہ پہنچے جہاں ہاتھی جنگل سے نکلے تھے کہ اچانک تیز بارش شروع ہو گئی۔ ہم نے اپنی رائفلوں کے لاک کو فوراً چوڑے پتوں سے ڈھانک کر ان پر رو مال باندھ دیے۔ برگد کا ایک بڑا درخت ہماری عارضی پناہ گاہ بن گیا مگر وہاں تک پہنچتے پہنچتے ہم پوری طرح بھیگ چکے تھے۔ پلیسر اونچی گھاس میں اپنے زخمی ہاتھی کو تلاش کر رہا تھا۔

جب وہ اس ہاتھی کے قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ ہاتھی اب اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا تھا۔ ہاتھی نے پلیسر کو دیکھتے ہی اس کا پیچھا کیا۔ پلیسر کی رائفل کا لاک بند تھا، سو وہ پوری رفتار سے بھاگتا ہوا ہماری جانب چلاتا ہوا آیا کہ ہاتھی آ رہا ہے۔

ہم نے درخت کے نیچے کھڑے پلیسر کی آواز سنی اور اگلے لمحے پلیسر اونچی گھاس میں سے جیسے اڑتا ہوا دکھائی دیا۔ شکر ہے کہ اونچی گھاس کی وجہ سے ہاتھی کو پلیسر نہ دکھائی دیا اور اس نے اپنا رخ بدل دیا۔ اگر ہاتھی اسی طرح ہماری جانب بھاگتا ہوا آتا تو ہماری رائفلوں کے مضبوطی سے بند لاک ہمیں اس کا آسان نشانہ بنا دیتے۔ چند منٹ بعد بارش ختم ہو گئی اور بادل چھٹ گئے۔ جب ہم اس مقام کو گئے جہاں ہاتھی گرا تھا تو وہاں خون کا بڑا تالاب سا دکھائی دیا۔

اب ہم گھوڑوں پر سوار ہو کر کیمپ کو لوٹے۔ ابھی ہم چوتھائی میل بھی نہ گئے ہوں گے کہ ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ ہم سمجھے کہ یہ وہی ہاتھی ہے جس نے پلیسر کا پیچھا کیا تھا، سو ہم اس کی جانب چل پڑے۔ پاس جا کر دیکھا کہ ایک نوجوان ہاتھی دریا میں کھڑا شور مچا رہا ہے کہ وہ اپنے غول سے بچھڑ گیا تھا۔ ورٹلی نے اسے ایک ہی گولی سے شکار کر لیا۔ یوں اس روز ہم نے آٹھ ہاتھی مارے۔

خیموں سے ایک میل کے فاصلے پر ایک بدمعاش ہاتھی راستے پر نمودار ہوا۔ میں نے اس کے شانے پر چار اونس والی رائفل سے گولی چلائی جو بندا اور دیگر مقامی افراد کے لیے باعث تسکین بنی۔ مگر گھنے اور خار دار جنگل کی وجہ سے ہم پیچھا کر کے اس گولی کا اثر نہ جان سکے کہ ہاتھی کب مرا ہو گا۔ جلد ہی ہم خیموں کو پہنچ گئے۔ اس روز ہم نے بہترین شکار کھیلا تھا مگر قسمت ہم سے روٹھی ہوئی تھی، سو ہم زیادہ ہاتھی نہ مار سکے۔

۲ دسمبر: پو پھٹنے پر ہاتھیوں کو تلاش کرنے کے لیے ہم نے آدمی بھیجے تھے جو جلد ہی لوٹ آئے کہ انہیں ہاتھیوں کا ایک اور غول مل گیا تھا۔ اس غول کی طرف جاتے ہوئے پلیسر نے ایک بدمعاش ہاتھی پر گولی چلائی مگر ہاتھی شکار نہ ہو سکا۔

جب ہم مطلوبہ جنگل پہنچے تو وہاں موجود نگرانوں نے بتایا کہ اس غول کے ساتھ ایک بدمعاش ہاتھی بھی موجود ہے۔ یہاں چونکہ بدمعاش ہاتھی غول کے آس پاس ہی ہوتے تھے، سو ہم نے انتہائی محتاط ہونے کا فیصلہ کیا۔

ہم نے اس غول تک چھپ چھپا کر جانے کی کوشش کی مگر بدمعاش ہاتھی سے سامنا ہو گیا۔ ورٹلی نے گولی تو چلائی مگر ہاتھی شکار نہ ہو سکا۔ چوتھائی میل دور غول بھی گولی کی آواز سن کر فرار ہو گیا اور ایسے جنگل میں جا پہنچا جہاں ان کا پیچھا کرنا ممکن نہ تھا۔ بدمعاش ہاتھی کے شکار کے لیے ہماری جماعت بہت بڑی تھی سو اس کے شکار میں کامیابی ممکن نہ تھی۔ ایسے ہاتھیوں کے شکار کی خاطر زیادہ سے زیادہ دو شکاری ہوں اور ان کے ساتھ دو بندوق بردار، جو دو بھری ہوئی اضافی رائفلیں لیے ہوئے ایک کھوجی کے پیچھے قطار میں چلیں۔ انتہائی احتیاط اور خاموشی سے ہوا کے مخالف رخ سے ہاتھی کی جانب پیش قدمی کی جائے اور ہاتھی کی لاعلمی میں اس سے دس بارہ گز دور پہنچ کر ایک ہی گولی سے ہاتھی کو ہلاک کر دیا جائے۔ ہمارے ساتھ بندوق بردار، کھوجی، چوکیدار اور ہم سب، کل ۱۶ افراد تھے۔ سو بدمعاش ہاتھی کے قریب پہنچنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔

واپسی پر "جیک” پر سوار رہتے ہوئے میں نے ایک چیتل پر گولی چلائی۔ یہ مادہ چیتل ہمیں میدان پر ملی تھی اور دوڑ میں جیک کو پیچھے چھوڑتی جا رہی تھی کہ میں نے ۱۰ بور کی رائفل سے دوڑتے گھوڑے کی پشت سے اسے شکار کر لیا۔ تاہم یہ ہرنی ہماری قسمت میں نہیں تھی کہ بری طرح زخمی ہونے کے باوجود بھی وہ ایسے خار دار جنگل میں گھس گئی جہاں ہم اس کا پیچھا نہ کر سکتے تھے۔

سارا دن بیکار گزرا۔ اس علاقے کے سبھی جانور پوری طرح خبردار ہو چکے تھے۔ ہم نے طے کیا کہ اگلے روز ہم "غار” کی جانب کیمپ لگائیں گے جو ہمارے منصوبے کے عین مطابق اگلا پڑاؤ بننا تھا۔

۳ دسمبر: خانساماں اور کھانے کے ساتھ ہم لوگ پو پھٹتے ہی نکل کھڑے ہوئے۔ ملازمین ہمارے بعد خیمہ وغیرہ اکھاڑ کر بعد میں ہمارے پیچھے آتے۔ اس طرح ہم جہاں چاہتے، ناشتہ کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ہمراہیوں کے شور سے بھی جان چھوٹ گئی تھی۔ اتنے انسان جب ایک جگہ جمع ہوں تو ہوا کے ساتھ ان کے جسموں کی بو کئی میل تک پھیل جاتی ہے۔ ہماری رائفلیں بھری ہوئی تھیں اور ہر شکاری کا بندوق بردار اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ بندا، مدیمہ اور دو کھوجیوں کے ہمراہ ہم ہر قسم کے شکار کے لیے تیار تھے۔

ہم اس طرح چلتے ہوئے چھ میل گئے ہوں گے کہ ایک گھاس والے نشیب میں ہمیں ہاتھیوں کے تازہ نشانات ملے۔ اس نشیب کے گرد چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔ ہم نے کھوجیوں کو ان نشانات کے پیچھے روانہ کیا اور خود اونچی چٹان پر بیٹھ کر ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگے۔ کھوجی پندرہ منٹ بعد لوٹ آئے اور بتایا کہ ہاتھی ہم سے نصف میل سے بھی کم فاصلے پر موجود ہیں۔

جب ہم مطلوبہ جگہ پہنچے تو دیکھا کہ ہاتھی اونچی لیمن گراس میں چھپے ہوئے تھے۔ گھاس اتنی اونچی تھی کہ ہاتھیوں کی پشت سے بھی کئی فٹ زیادہ اونچی تھی۔ یہاں شکار کرنا ایسے ہی تھا کہ جیسے ہم اندھیرے میں گولیاں چلا رہے ہوں۔ سو ہم نے ایک اونچی جگہ چڑھ کر جائزہ لیا۔ یہاں ہمیں گھاس سے بھرے نشیب و فراز دکھائی دیے اور جگہ جگہ پتھریلی پہاڑیاں اور جنگل کے چھوٹے قطعے بھی موجود تھے۔ وادی کے دوسری جانب ہمیں ہاتھی دکھائی دیے جو کافی پھیل گئے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ ہماری بو پا کر ہاتھی فرار ہونے لگے ہیں۔ ایسی جگہ تعاقب کا زیادہ فائدہ نہ تھا مگر ہم نے پیچھا کیا۔ سورج شدید گرم تھا اور جھلسی ہوئی گھاس میں حبس کی وجہ سے دم گھٹنے لگا۔ ہاتھی اتنی دور تھے کہ ان کا پیچھا کرنے کے لیے ہمیں پوری رفتار سے بھاگنا پڑا۔ الجھی ہوئی گھاس میں یہ کام بہت تھکا دینے والا تھا مگر خوش قسمتی سے ہاتھیوں نے ہمیں دیکھا نہ تھا۔ سو وہ رک رک کر چل رہے تھے۔

ہمیں چار ہاتھی ایک ساتھ دکھائی دیے اور جونہی وہ جنگل میں داخل ہونے لگے تو ہم ان کے قریب پہنچ گئے۔ میں نے سب سے پیچھے والے ہاتھی پر گولی چلا کر اسے مار لیا مگر دوسرے ہاتھیوں کی رفتار تیز تھی اور وہ پھیل کر ہم سے دور ہونے لگے۔ گرمی سے ہم نڈھال ہو رہے تھے۔

ہماری قسمت خراب تھی۔ ہم نے لوٹ کر غول کے دیگر ہاتھیوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ہم اونچی گھاس میں کچھ دور ایک ڈھلوان پہاڑی سے اترے تھے کہ ہمیں دو ہاتھی دکھائی دیے جو اسی پہاڑی کے کنارے پر جا رہے تھے۔ اگر ہم پہاڑی کے درمیان رکتے تو ان ہاتھیوں کا شکار بہت آسان ہو جاتا۔ ایک بڑی ہتھنی تھی جبکہ دوسرا اس کا بچہ ہو گا جو ماں کے نصف سے کچھ بڑا ہو گا۔

ان ہاتھیوں کو محتاط ہو کر چلتے ہوئے دیکھنا بہت دلچسپ تھا کہ ہم لیٹے ہوئے ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ ہاتھی ہم سے ۲۰۰ گز دور ہوں گے اور آہستگی سے چلتے آ رہے تھے۔ کئی مرتبہ وہ رکے اور سونڈ اٹھا کر ہماری بو سونگھنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہوا کا رخ موافق تھا، سو ہم آہستگی سے پہاڑی پر چڑھتے رہے تاکہ انہیں پہلو سے جا لیں۔ یہاں بڑی چٹانیں اور گھاس اگی ہوئی تھی۔ اگر ہم احتیاط نہ کرتے تو کسی گڑھے میں گر سکتے تھے یا کچھ نہ کچھ آواز پیدا ہوتی۔

میں سب سے آگے تھا اور ابھی ہمارے خیال میں ہاتھی کافی دور تھے کہ اچانک مجھے گھاس میں سرسراہٹ سنائی دی اور پانچ یا چھ گز دور سامنے ہتھنی دکھائی دی۔ میں نے بعجلت نشانہ لے کر گولی چلائی اور ہتھنی ایک گڑھے میں گری۔ اس کا بچہ اس کے عین پیچھے تھا اور وہ بھی ماں کے پیچھے گرتا گرتا بچا۔ ورٹلی نے بچے کو فوراً شکار کر لیا اور میں نے دوسری گولی چلا کر ہتھنی کو بھی ختم کر دیا۔

اس طرح ہم نے اس پورے غول میں تین ہاتھیوں شکار کیے اور مزید کوئی ہاتھی دیکھے بنا گھوڑوں کو لوٹے۔

واپس لوٹ کر ہم نے سیدھا اپنی منزل کا رخ کیا اور دو میل بھی نہ گئے ہوں گے کہ پھر ہاتھیوں کے تازہ نشان ملے۔ ہم نے کھوجیوں کو روانہ کیا اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے۔ ابھی ہم نے کافی کا آخری کپ پیا ہی تھا کہ کھوجی لوٹ آئے اور بتایا کہ انہوں نے ایک اور غول تلاش کر لیا ہے۔ ان کا فاصلہ ہم سے نصف میل تھا اور وہ کھلے جنگل میں بڑے اور چوڑے دریا کے عمودی کناروں پر موجود تھے۔

ہاتھی کے شکار کے حوالے سے ہماری تعداد کافی زیادہ تھی اور ہاتھیوں کے شکار پر سب ساتھ جانے سے ہماری کامیابی کی توقع کم تھی۔ حسب توقع ہاتھیوں نے ہماری بو پہلے سے ہی سونگھ لی۔ تیزی سے بھاگتے ہوئے جب ہم قریب پہنچے تو ہاتھی دریا کے کنارے سے اتر کر پانی میں داخل ہو رہے تھے۔ جب ایک ہاتھی نیچے اتر کر سیدھا ہوا ہی تھا کہ ورٹلی نے اسے گرا لیا جبکہ میں نے اس کا ساتھی مارا۔ ان دو ہاتھیوں کے گرنے سے راستہ بند ہوا سو چھ ہاتھیوں نے دریا کے بہاؤ کا رخ کیا۔ کنارے سے ہمیں ان ہاتھیوں کے سر اور پشت دکھائی دے رہے تھے۔ چار اونس والی رائفل سے میں نے ایک ہاتھی کی گدی میں گولی اتار دی اور وہیں بہاؤ کے درمیان الٹ کر مر گیا۔ یہاں دریا کا بہاؤ ساٹھ یا ستر گز رہا ہو گا۔

اس دوران ورٹلی اور پلیسر گولیاں چلاتے رہے مگر غول بہاؤ عبور کر کے دوسرے کنارے پر پہنچ کر چڑھنے لگا۔ میں نے چار اونس والی رائفل بھر لی تھی اور بھاری گولیاں کھاتے ہی چند ہاتھی گرے مگر پھر اٹھ کر دوسری جانب غائب ہو گئے۔ آخرکار ہم نے گولیاں چلانا بند کیں تو ہمارے سامنے ایک مردہ ہاتھی کنارے پر پڑا دکھائی دیا جبکہ دوسرا بہاؤ میں لیٹا اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک بار پھر گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی اور یہ ہاتھی بھی ختم ہو گیا۔ اب ہمارے شکار کردہ ہاتھیوں کی تعداد پانچ ہو گئی۔ ورٹلی اور والیس دریا عبور کر کے ہاتھیوں کی دم کاٹنے چلے گئے۔

ان کی واپسی پر ہم گھوڑوں پر سوار ہو کر منزل کو پہنچے اور یوں دن تمام ہوا۔

۴ دسمبر: سارا دن ہمیں محض ایک چیتل دکھائی دیا جو ہم سے اتنا دور رہا کہ اس پر گولی نہ چلا سکے۔ سو سارا دن خالی گزرا۔

۵ دسمبر: ہم جلدی روانہ ہوئے اور پانچ میل تک ہم نے کھلے علاقے میں ہاتھیوں کے ایک بڑے غول کا تعاقب جاری رکھا اور آخرکار ناقابل عبور جنگل نے ہماری پیش قدمی روک دی۔ پارک نما علاقہ یہاں ختم ہو رہا تھا۔ سو ہم نے ہاتھیوں کے نشانات کو وہیں چھوڑا اور واپس ۱۲ میل دور پتاپلار چل دیے۔

راستے میں ہم بہت خوبصورت علاقے سے گزرے اور مطلوبہ منزل سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر بندا نے ایک موڑ مڑتے ہی بدمعاش ہاتھی کو کچھ دور گھاس چرتے دیکھا۔ بندا ہم سے سو گز آگے تھا اور فوراً مڑ کر ہماری جانب آیا۔ چند منٹ قبل ورٹلی مدیمہ کے ساتھ ایک اور سمت گیا تھا کہ شاید کوئی ہرن مل جائے اور پلیسر اور میں نے اس ہاتھی سے دو دو ہاتھ کرنے کا سوچا۔ دو بندوق برداروں کے علاوہ ہم نے باقی سب افراد کو وہیں چھوڑا۔ میرے ہاتھ میں چار اونس والی جبکہ پلیسر کے ہاتھ میں دو اونس والی رائفل تھی۔ بندوق برداروں کے ہاتھ میں میری دو نالی رائفلیں تھیں۔

پیش قدمی کافی مشکل تھی کہ یہاں گھات لگانا آسان نہ تھا اور سارا علاقہ کھلا تھا۔ اس علاقے میں اونچی لیمن گراس تھی جسے حال ہی میں جلایا گیا تھا۔ تاہم گھاس کے تنے کئی جگہوں پر ابھی تک موجود تھے۔

پوری کوشش کے باوجود ہم ہاتھی سے پچاس گز سے زیادہ قریب نہ پہنچ سکے۔ میں نے چار اونس والی رائفل سے ہاتھی کی کنپٹی پر گولی چلائی مگر ہوا سے ہلتے ہوئے لیمن گراس کے تنوں نے الجھن پیدا کی اور گولی دو انچ اوپر جا کر لگی۔ ہاتھی لڑکھڑاتا ہوا نیچے کو بھاگا مگر پلیسر نے دو اونس والی رائفل سے بہت عمدہ نشانہ لگایا اور ہاتھی کو گرا دیا۔ میں نے ہاتھیوں کو گر کر مرتے دیکھا ہے اور ہاتھی آہستہ سے نیچے گرتا ہے مگر یہ والا ہاتھی اتنی تیزی سے چل رہا تھا کہ سر کے بل گرا۔

ہم اپنی منزل پر پہنچے اور خیمے نصب کرنے کے بعد ہم نے بندا اور ملازمین کو ان خیموں میں رکنے کا کہا اور خود مرحوم میجر راجرز کے بنائے ہوئے ۲۵ مربع فٹ کے کمرے پر قابض ہو گئے۔ یہ رہائش گاہ بہت آرام دہ تھی اور ہم نے یہاں چند دن رکنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ شکار کھیل سکیں۔

۶ دسمبر: ہم علی الصبح بندا اور کھوجیوں کے ساتھ نکلے اور ایک میل دور ہاتھیوں کے تازہ نشان دکھائی دیے جن کا تعاقب شروع کر دیا۔ ایک چھوٹے دریا کو عبور کرنے کے بعد یہ نشانات عمدہ اور کھلے جنگل میں داخل ہوئے۔ ہاتھیوں کا غول یہاں سے کچھ دیر قبل گزرا تھا۔ چوتھائی میل تک تعاقب کرنے کے بعد ہمارے سامنے چنار کا ناقابل عبور جنگل آیا جہاں ہاتھی گھسے تھے۔

اس غول کے ساتھ بدمعاش ہاتھی بھی تھا جس کے محل وقوع کے بارے میں ہمیں یقین نہ تھا۔ ہم جنگل سے چند فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھے اور ہمیں ہاتھیوں کے سانس لینے کی آوازیں آ رہی تھیں اور اگر ہم جھک کر دیکھتے تو ہاتھیوں کے پیر اور سونڈ کا سرا بھی دکھائی دے جاتا تھا مگر بالائی جسم نظروں سے اوجھل تھے۔ ہم نے نصف گھنٹہ انتظار کیا کہ شاید ہاتھی واپس نکلیں۔ دو ہاتھی نکلے مگر دونوں بچے تھے اور پانچ فٹ سے زیادہ قد نہ تھا۔ میں نے سبز رنگ کے لچکدار کپڑے کا لباس پہنا تھا جو کثرت استعمال سے اتنا بھورا ہو گیا تھا کہ اس کا رنگ میرے پیچھے درخت کے تنے کے عین مماثل ہو گیا۔ ان بچوں نے ہمیں نہ دیکھا اور ایک بچہ تو چلتا ہوا میرے اتنے قریب پہنچ گیا کہ میں رائفل کی نال سے اسے چھو سکتا تھا۔ میں نے گولی نہ چلائی کہ کہیں غول خبردار ہو کر فرار نہ ہو جائے۔ بدقسمتی سے دوسرے بچے نے پلیسر کو دیکھ لیا اور خطرے کی آواز نکالی۔ اب گولی چلائے بغیر گزارا نہ تھا۔ ہم نے گولیاں چلائیں۔ میرے والا ہاتھی کا بچہ وہیں گر کر مر گیا جبکہ پلیسر والا بچہ گولی کھا کر گرا اور پھر اٹھ کر گھنے جنگل میں بھاگ گیا۔

اب ہم ناشتہ کرنے کے لیے لوٹ گئے کہ اور کچھ ممکن نہ تھا۔ واپسی پر ہم نے گھنے جنگل کے ایک قطعے میں بدمعاش ہاتھی کو چھپا ہوا دیکھا تو اس طرح گھات لگائی کہ اگر وہ باہر نکلے تو ہم اس پر گولی چلا سکیں۔ ہانکے والے اس سے کافی خوفزدہ تھے اور ہاتھی اتنا مکار تھا کہ خود باہر نہ نکلا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد ہم چل پڑے۔

واپسی پر ہم ناشتے والے مقام سے کچھ دور تھے کہ ایک کالا تیتر اڑا اور ساٹھ گز پر میں نے اسے رائفل سے مار گرایا۔ خوش قسمتی سے تیتر کا پر گولی لگنے سے اڑ گیا مگر گوشت خراب نہ ہوا۔ نصف گھنٹے بعد ہمارے ناشتے میں یہی تیتر موجود تھا۔

کھانے کے دوران تیز بارش ہوئی جو دو گھنٹے تک جاری رہی۔

ہم سہ پہر کو نکلے اور فیصلہ کیا کہ جونہی بڑا شکار دکھائی دے، گولی چلا دیں گے۔ کئی دنوں سے ہم نے ہاتھیوں کے علاوہ کسی اور بڑے جانور کے شکار کی کوشش نہیں کی تھی کہ ہم ہاتھیوں کو خبردار نہ کرنا چاہتے تھے۔ اب صبح کے وقت اس علاقے میں گولیاں چل چکی تھیں، سو مزید گولیاں چلانے سے زیادہ فرق نہ پڑتا۔

ہم پانچ میل تک انتہائی خوبصورت علاقے سے گزرے مگر کوئی جانور نہ دکھائی دیا اور نہ ہی کسی جانور کے گزرنے کی علامات دکھائی دیں کہ بارش نے تمام پرانے نشانات مٹا دیے تھے۔ کافی دیر بعد ہمیں ایک جانب سے ہرن کی آواز سنائی دی اور اس سمت گئے تو ۳۰ ہرنوں کا ایک عمدہ غول دکھائی دیا جو ۱۰۰ ایکڑ پر محیط گھاس کے ایک قطعے پر کھڑا چر رہا تھا۔ یہاں زمین بالکل مسطح تھی اور جگہ جگہ درخت اگے ہوئے تھے۔ اس قطعے کے ایک جانب پتھریلا پہاڑ تھا جو کافی عمودی تھا اور اس پر خوبصورت اور کھلا جنگل اگا تھا۔

ہم ہرنوں کی جانب چھپتے چھپاتے جا رہے تھے کہ ایک نشیب میں جنگلی بھینسوں کا غول دکھائی دیا جو ہم سے زیادہ دور نہ تھا۔

پلیسر کو جنگلی بھینسے کا ایک سر درکار تھا، سو اس نے نشانہ لینے کی تیاری کی تو عین اسی وقت پہاڑ کے دامن سے ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ ہاتھی، جنگلی بھینسے اور ہرن، سبھی ایک دوسرے سے ۱۰۰ گز سے بھی کم فاصلے پر تھے۔ ہمیں شبہ ہوا کہ کہیں اس پہاڑ کی چوٹی پر حضرت نوحؑ کی کشتی تو موجود نہیں۔

ہاتھیوں کی آواز نے ہمیں ہرن اور جنگلی بھینسے بھلا دیے۔ پلیسر نے ہماری رہنمائی کا کام سنبھالا اور جب ہم پہاڑ کے دامن میں جنگل میں گھسے تو پتہ چل گیا کہ ہاتھی ہمارے قریب ہیں اور یہ جنگل ہاتھیوں کے شکار کے لیے بہترین ہے۔ عمدہ درختوں کے ساتھ ساتھ بڑے پتھر بھی جگہ جگہ موجود تھے اور یہ جنگل جھاڑیوں سے مکمل طور پر پاک تھا۔ ان پتھروں کی وجہ سے ہاتھیوں کے فرار کا کوئی امکان نہ تھا۔

جنگل میں داخل ہونے کے مقام سے چند گز دور ایک چھوٹے گھر کے برابر جسامت کی چٹان موجود تھی۔ یہ چٹان ٹوٹ کر دو حصوں میں منقسم تھی اور اس کے درمیان دو فٹ چوڑا راستہ بن گیا تھا جو کئی گز لمبا تھا۔ خوش قسمتی سے اسی راستے کی دوسری جانب ہاتھی کھڑا تھا۔ چونکہ پلیسر آگے تھا، سو اس نے ہمیں ہاتھی کے قریب پہنچا دیا۔

جب ہم دوسرے سرے پر پہنچے تو پلسیر نے تیزی سے دو گولیاں چلائیں اور دوسری رائفل لے کر اس نے ایک اور گولی چلائی۔ ہم اس تنگ راستے پر پلیسر کے پیچھے تھے اور ہمیں اندازہ نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ جب ہم باہر نکلے تو دیکھا کہ پلیسر تین ہاتھی مار چکا ہے اور مزید کوئی ہاتھی دکھائی نہ دیے۔

ابھی پلیسر نے رائفلیں بھری ہی تھیں کہ کچھ فاصلے پر جنگل سے ہاتھیوں کے بھاگنے کی آواز آئی۔ ہم اس جانب دوڑے تو دیکھا ہاتھیوں کا ایک غول ہماری جانب بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر ہاتھی ایک لمحے کو رکے تو پلیسر اور ورٹلی نے گولیاں چلائیں اور ہاتھی مڑ کر بھاگ نکلے۔ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی ہاتھی ہلاک نہ ہوا تھا۔

عمدگی سے تعاقب ہوتا رہا اور ہاتھیوں کا غول بھاگتا رہا۔ ان کی تیز رفتاری کی وجہ سے ہم جلد ہی پیچھے رہ گئے اور اونچی لیمن گراس کو جا پہنچے۔ یہاں غول سے الگ ہوا ایک ہاتھی دکھائی دیا جسے میں نے فوراً شکار کر لیا۔

ہاتھی تو تیزی سے لیمن گراس سے گزرے مگر ہمارا راستہ الجھ گیا اور ہم تھکنے لگے۔

میں نے ایک اونچے مقام پر رک کر دیکھا کہ لیمن گراس میں بائیں جانب چوتھائی میل دور کئی ہاتھی دکھائی دیے جبکہ باقی غول یعنی تین ہاتھی ہماری جانب بھاگتے ہوئے آ رہے تھے اور ۲۰۰ گز دور ہوں گے۔

ورٹلی نے کافی مشق بہم پہنچا لی تھی اور ہاتھیوں کا شکار عمدگی سے کر رہا تھا۔ اس نے پلیسر کے ساتھ ان تین ہاتھیوں کی جانب رخ کیا جبکہ میں باقی ہاتھیوں کی جانب بھاگا جو اونچی جگہ کھڑے چنگھاڑ رہے تھے۔

جب میں ہاتھیوں سے چند سو گز دور پہنچا احساس ہو گیا کہ میں پھنس گیا ہوں۔ بے خبر غول پر حملہ آور ہونا اور بات ہے اور اونچی جگہ پر کھڑے ہاتھیوں کی جانب کھلے میدان سے ہو کر جانا اور بات ہے کہ جہاں ہاتھی میری ہر حرکت کو دیکھ رہے تھے۔ لیمن گراس میرے سر سے بھی اونچی تھی اور جب میں کسی پتھر پر کھڑا ہو کر دیکھتا تو ہاتھی دکھائی دیتے تھے مگر ہاتھی میری آمد سے بخوبی واقف اور میری ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ان کی چنگھاڑ ایک لمحے کو بھی بند نہ ہوئی کہ ان کے ساتھ دو بچے بھی تھے جو اونچی گھاس کی وجہ سے مجھے دکھائی نہ دیے تھے۔ اس کے علاوہ رائفلوں کی آواز سے بھی وہ پریشان تھے۔ ہاتھیوں سے ۳۰ گز کے فاصلے پر کچھ اونچی زمین تھی۔ گھاس میں چھپے ہوئے میں نے اُدھر کا رخ کیا۔

اس دوران پلیسر اور ورٹلی کی رائفلیں مسلسل بول رہی تھیں جس کی وجہ سے میرے قریب موجود ہاتھی پریشان تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ دونوں اتنی گولیاں کس چیز پر چلا رہے ہوں گے۔

جب میں اونچی جگہ پہنچ کر رکا ہی تھا کہ دو بڑے ہاتھی مجھ پر حملہ آور ہوئے۔ ان کے کان سونتے ہوئے اور سونڈیں بلند تھیں۔

میں نے ایک یا دو لمحے ان کی سونڈیں نیچی ہونے کا انتظار کیا اور جونہی وہ نیچے ہوئیں، میں نے دو نالی ۱۰ بور کی رائفل سے گولیاں چلا کر دونوں کو وہیں گرا دیا۔ ایک ہاتھی فوراً اٹھا اور اس کے ماتھے سے خون کا فوارہ بہہ رہا تھا۔ اس نے رخ موڑ کر باقی غول کے ساتھ اونچی گھاس میں دوڑ لگا دی۔

تعاقب کا یہ فائدہ ہوا کہ ہم جلد ہی کھلی جگہ پہنچ گئے جہاں گھاس میرے شانوں تک بلند تھی اور میں دیکھ کر اپنا دفاع بخوبی کر سکتا تھا۔ میں نے چار اونس والی بھاری رائفل اٹھائی ہوئی تھی اور ہاتھیوں سے ۵۰ گز دور تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر کوئی ہاتھی مڑا تو اس رائفل کی گولی نے اسے وہیں ختم کر دینا ہے۔

کچھ فاصلے کے بعد ہاتھی رکے اور زخمی ہاتھی مجھ پر حملہ آور ہوا۔ اس کا سر اٹھا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس پر گولی چلانا بیکار ہوتا۔ تاہم چار اونس کی گولی نے اس کا رخ موڑ دیا اور وہ غول سمیت پھر بھاگا۔ اس کے ماتھے سے خون کا فوارہ بہہ رہا تھا۔

تیزی سے بھرنے کے لیے چار اونس والی رائفل بہترین ہے کہ اس میں گولی بھرنا انتہائی سہل ہے۔ میں نے چند لمحے میں رائفل بھر لی اور پھر ان کے تعاقب میں بھاگا۔ ۲۰۰ گز بھاگ کر غول پھر رکا اور ساٹھ گز کے فاصلے سے زخمی ہاتھی حملہ کرنے لوٹا۔ اس کا سر بلند اور خون سے لتھڑا ہوا تھا اور نشانہ لینا ممکن نہ تھا۔ پھر بھی چار اونس کی گولی اس کے سر میں گھسی تو وہ پھر لڑکھڑاتا ہوا غول کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا۔

اس مرتبہ میں نے کافی زیادہ بارود ڈال کر رائفل بھری اور ان کے پیچھے دوڑا۔ ہاتھی چکر کاٹ کر اسی جگہ پہنچ گئے تھے جہاں ہم نے انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ جب میں قریب پہنچا تو ہاتھی رکے اور زخمی ہاتھی پھر مجھ پر حملہ آور ہوا۔ بارود کی مقدار کافی زیادہ تھی اور گولی کھا کر ہاتھی وہیں گرا اور پھر اٹھ کر اتنی تیزی سے بھاگا کہ غول سے آگے نکل گیا۔ چند مٹ کی دوڑ کے بعد میں ان سے ۲۰ گز کے فاصلے پر پہنچ گیا۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جب تک میں زخمی ہاتھی کا قصہ پاک نہ کر لوں، کسی اور ہاتھی پر گولی نہیں چلاؤں گا۔

اب یہ ہاتھی جنگل کو پہنچ گئے تھے مگر زخمی ہاتھی نے جنگل میں گھسنے کی بجائے وہیں رک کر میرا انتظار کیا۔ باقی دو بڑے ہاتھی اور دو بچے جنگل میں گھس گئے۔

زخمی ہاتھی بہت بہادر تھا اور اس نے وہیں رک کر داخلے کے مقام کی چوکیداری سنبھال لی۔ میں ۲۰ گز دور تھا کہ ہاتھی نے حملہ کر دیا۔

میں لبلبی دبانے والا تھا کہ ہاتھی تھکن کی وجہ سے اچانک گرا مگر پھر اٹھ کر اس نے میری جانب رخ کیا مگر وہیں رکا رہا۔ اس نے غلطی یہ کر دی کہ اس نے اپنا سر نہیں اٹھایا تھا۔ نتیجتاً ۲۰ گز سے چلائی گئی گولی اس کی دماغ میں ترازو ہو گئی اور ہاتھی وہیں مر گیا۔

جب میں باقی غول کے پیچھے جانے لگا تو پلیسر اور ورٹلی بھی پہنچ گئے۔ غول کا پیچھا کرتے ہوئے ہم دوڑے مگر میں راستے میں ایک گرے ہوئے درخت سے ٹھوکر کھا کر گرا تو ٹانگ پر گہرا زخم بن گیا۔ خیر، ہم نے دوڑ جاری رکھی اور ہاتھیوں کے قریب پہنچے جو اب بہت پریشان ہو کر ایک چٹان پر کھڑے تھے۔ ہم نے چاروں کو گرا لیا۔ دو بڑے ہاتھی پلیسر کی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ ورٹلی اور میں نے بچوں کو گرایا۔

یہ میرے بہترین شکاروں میں سے ایک تھا۔ ہم نے ان کی پیچھے لگ بھگ ایک گھنٹہ صرف کیا تھا۔ غول میں ۱۳ ہاتھی تھے اور ہر ایک ہاتھی کو ہم نے دوڑ کر مارا تھا۔ ورٹلی نے انتہائی بہترین شکار کا مظاہرہ کیا اور اس نے تین ہاتھی مارے۔ ایک ہتھنی بہت زیادہ دوڑی اور کل ۱۵ گولیاں کھانے کے بعد مری۔ اس روز ہم نے ۱۴ ہاتھی مارے اور انتہائی خوش ہو کر واپس لوٹے۔

۷ دسمبر: اتوار کی وجہ سے سارا دن آرام کرنے اور اگلے روز کے شکار کی نیت سے ہتھیاروں کی صفائی میں گزرا۔

۸ دسمبر: ہم نے کئی میل کی تلاش کے باوجود بھی ہاتھیوں کا کوئی نشان نہ دیکھا۔ بظاہر ہمارے شکار کی وجہ سے یہاں سے سبھی ہاتھی بھاگ گئے تھے۔ سو ہم نے سوچا کہ کیمپ لوٹ کر ناشتے کے بعد دریا کی دوسری جانب دیکھتے ہیں۔

ابھی ہم کیمپ سے ایک میل دور تھے کہ ہرن کی آواز سنائی دی۔ سبھی ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر ہم محتاط انداز سے بڑھے۔ یہ علاقہ شکار کے لیے بہترین تھا اور ہوا بھی ہماری سمت چل رہی تھی۔ درختوں کے ایک جھنڈ میں چھپ کر ہم نے ۶۰ گز دور گھاس کے قطعے پر چیتل کا غول دیکھا۔ ورٹلی اور میں نے ایک ایک نر گرایا جبکہ پلیسر نے ایک مادہ کو زخمی کیا اور کافی دیر تک خون کے نشانات پر پیچھا کرنے کے بعد ہم نے اسے کھو دیا۔

ناشتے کے بعد ہم نے دریا عبور کر کے دوسری سمت موجود پارک والے علاقے کا رخ کیا۔

بائیں ہاتھ چلتے ہوئے ہم عمدہ جنگل میں داخل ہوئے اور پتھریلے پہاڑوں کے دامن سے گزرے۔ یہاں ہمیں ہرن اور جنگلی بھینسے دکھائی دیے مگر گولی چلانے کا موقع نہ مل سکا کہ یہاں ہمیں ایک بدمعاش ہاتھی کے تازہ نشانات ملے۔ اس کا پیچھا کرتے ہوئے گھنے جنگل میں ہمیں ایک ریچھ کی آواز سنائی دی۔ ہم نے اس کا پیچھا کیا مگر ریچھ جلد ہی ہماری پہنچ سے دور ہو گیا۔

ہم ایک چھوٹی ندی کی خشک تہہ میں چل رہے تھے اور دونوں کناروں پر بہت گھنا جنگل اگا ہوا تھا۔ اچانک ہمیں ہاتھیوں کے راستے بنانے کی آواز سنائی دی جو سیدھا ہماری جانب آ رہے تھے۔

یہ جگہ نامناسب تھی اور ہمارے پاس محض اتنا وقت تھا کہ رائفلیں اٹھا کر تیار ہو گئے۔ چند لمحے بعد ۶ ہاتھی بشمول بدمعاش ہاتھی جنگل سے نکل کر سیدھا ہم پر حملہ آور ہو گئے۔

بندا اگر جنگلی بیلوں کی مدد سے درخت پر نہ چڑھتا تو کچلا جاتا۔ وہ بندر کی سی پھرتی سے درخت پر چڑھا اور ایک ہاتھی کی پشت اس کی ایڑی کو چھوتی ہوئی گزری۔

اس دوران ورٹلی نے سب سے آگے والے ہاتھی پر گولی چلائی جو بندا کے نیچے سے گزر رہا تھا مگر ہاتھی کو کوئی فرق نہ پڑا۔ میں نے اس کی کنپٹی پر گولی چلا کر اسے گرا لیا۔ پلیسر ہماری دائیں جانب تھا اور اس نے دو ہاتھی شکار کیے اور تیسرا جو پوری طرح جوان نہ ہوا تھا، کو گرا لیا۔ مگر تیسرا ہاتھی جب اٹھنے لگا تو ورٹلی اور پلیسر نے بیک وقت گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔

ہماری بو پا کر ان ہاتھیوں نے مصیبت مول لی تھی۔ چار ہاتھی ایک دوسرے کے قریب مردہ پڑے تھے جبکہ بدمعاش ہاتھی آخری ہاتھی کے ساتھ فرار ہو گیا تھا۔ ہم نے فوراً ان کا پیچھا کیا۔

ایک گھنٹہ گزر گیا اور ان کے پیچھے پیچھے ہم جنگلوں اور کئی میدانوں سے گزرے اور آخرکار چنار کے گھنے جنگل کے پاس ہمیں ایک اور غول کے نشانات ملے۔ بدمعاش ہاتھی اور اس کا ساتھی دونوں اس نئے غول کے ساتھ مل گئے۔ گھنے جنگل سے گزر کر ہم اونچی لیمن گراس کو پہنچ گئے جو کافی رقبے میں پھیلی ہوئی تھی۔ جنگل کے کنارے پر موجود تالاب کے پاس ہاتھیوں کی تازہ لید بھی پڑی تھی اور تالاب کا پانی ابھی تک گدلا تھا کہ ہاتھی یہاں سے گزرے تھے۔

نسبتاً اونچی زمین سے گزرتے ہوئے ہم جنگل کے کنارے پر ہی رہے اور اونچی گھاس کے اوپر سے جھانک کر دیکھا۔

ہم بکھرے ہوئے غول کے عین وسط میں تھے۔ کافی وقت گزر چکا تھا اور اب شام کا دھندلکا چھانے والا تھا۔ ہم نے اونچی گھاس میں ۶۰ گز کے فاصلے پر چھ ہاتھی دیکھے اور بائیں جانب کے جنگل سے آنے والی آوازوں سے پتہ چل رہا تھا کہ دیگر ہاتھی ابھی باہر نہیں نکلے۔ ہمیں علم تھا کہ بدمعاش ہاتھی اسی غول میں ہی کہیں چھپا ہوا ہے اور چار ساتھی گنوانے کے بعد اب پہلے سے بھی زیادہ محتاط ہو چکا ہو گا۔

مناسب حکمت عملی یہی تھی کہ ہم پورا غول نکلنے کا انتظار کرتے مگر کم ہوتی روشنی کی وجہ سے یہ ممکن نہ تھا۔ میں نے تجویز پیش کی کہ ہم اپنی مرضی کے ہاتھی چن کر ان پر حملہ کر دیں۔ پلیسر نے کہا کہ ہمیں چھپ کر جنگل میں موجود ہاتھیوں کی طرف جانا چاہیے۔

مجھے یہ منصوبہ پسند نہ آیا کہ اونچی گھاس کی نسبت جنگل میں کہیں زیادہ تاریکی ہونی تھی۔ تاہم پلیسر جنگل میں گھس گیا۔

اس کے پیچھے جانے کی بجائے میں اس سے چند فٹ ہٹ کر اس کے برابر چلنے لگا کہ اگر وہ گولی چلاتا تو دھوئیں کی وجہ سے اس کے عین پیچھے موجود انسان کی بصارت بھی بیکار ہو جاتی۔ ہاتھی جنگل میں ۵۰ گز دور تھے اور چند ہی منٹ بعد ہم ان کے پاس پہنچ گئے۔ پلیسر نے ایک عمدہ ہاتھی پر ۸ گز سے گولی چلائی۔

ہاتھی ہم پر سیدھا حملہ آور ہو گیا۔ سارے بندوق بردار بھاگے اور والیس ہمارے ساتھ رہ گیا۔ پلیسر اور ورٹلی ایک جانب ہوئے کہ ان کے سامنے دھوئیں کے بادل نے پردہ سا تانا ہوا تھا۔ میں نے اس ہاتھی کو بڑھتے دیکھا تو اس کی کنپٹی پر گولی چلا کر اسے ختم کر دیا۔

بندوق بردار اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے کھلے میں پہنچ کر دم لیا۔

گولیوں کی آواز سن کر سبھی ہاتھی بھاگے اور ایک لمحے کو مجھے بدمعاش ہاتھی بھی دکھائی دیا جو جنگل میں گھس رہا تھا۔ پلیسر نے کافی فاصلے سے اس پر گولی چلائی مگر ہاتھی فرار ہو گیا اور یوں ہمارا شکار تمام ہوا۔ جب ہم واپس پہنچے تو چاندنی پھیل چکی تھی اور ہم نے پانچ ہاتھی اور دو ہرن مارے تھے۔

۹ دسمبر: ہمارے شکار کی وجہ سے سارا علاقہ خبردار ہو چکا تھا اور صبح کی گشت کے دوران ہمیں ایک بھی ہاتھی کے تازہ نشان نہ دکھائی دیے۔ ہم نے نیلگالا منتقل ہونے کا سوچا جو یہاں سے ۸ میل دور تھا۔ ہم نے سامان بندھوایا اور قلیوں کو سیدھے راستے سے بھجوا دیا جبکہ ہم لمبا چکر کاٹ کر وہاں پہنچتے کہ شاید راستے میں ہمیں کوئی بڑا جانور دکھائی دے جائے۔

چار میل کے سفر کے بعد ہمارا راستہ ایک پہاڑی کی ڈھلوان پر گھنے جنگل سے گزرا۔ یہاں تنگ سا راستہ تھا اور گھوڑوں کے لیے بہت مشکل چڑھائی تھی کہ یہاں بہت پتھر تھے اور چوٹی تک جانا بہت مشکل تھا۔ ہم نے گھوڑے سائیسوں کے حوالے کیے کہ وہ انہیں لے کر اوپر آئیں۔ ہم رائفلیں اٹھا کر چوٹی کو چل پڑے۔ چوٹی سے ذرا پہلے ہمیں راستے پر چند ادھ کھائی ٹہنیاں اور پتے دکھائی دیے جن پر ہاتھی کا تھوک لگا تھا۔ ساتھ موجود تازہ لید سے یقین ہو گیا کہ ہاتھی قریب ہے۔ یہاں راستہ بے ہنگم پتھروں کا ڈھیر تھا، سو قدموں کے نشانات دکھائی دینا ممکن نہ تھا۔ ہاتھی گھوڑوں اور ہمارے قدموں کی آہٹ سن کر چھپ گیا تھا۔

بندا ہم سے پچاس گز آگے تھا اور جب وہ چوٹی پر پہنچا تو اچانک مڑ کر ہماری جانب دوڑا۔ ہاتھی اس کے پیچھے لگا ہوا تھا۔

بندا ہرن کی سی پھرتی سے پتھروں پر کودتا ہوا آ رہا تھا۔ ہم نے اس کی جانب دوڑ لگائی۔ جب آدمی چٹان کے پیچھے چھپا تو ہم قریب پہنچ گئے تھے۔ پلیسر کی گولی نے ہاتھی کو گھٹنے کے بل جھکایا مگر اس نے فوراً اٹھ کر بڑی چٹان کا رخ کیا۔ میں دوسری جانب سے گیا اور چار قدم کے فاصلے پر سے گولی چلا کر اسے ختم کر دیا۔

اس درے کی دوسری جانب گھاس میں راستے کے بائیں جانب ایک اور بدمعاش ہاتھی دکھائی دیا مگر گھاس اتنی اونچی اور گھنی تھی کہ کئی بار کی ناکام کوشش کے بعد ہم نے اس کا خیال چھوڑ دیا۔ شام کو ہم نیلگالا پہنچ گئے۔ یہاں ہم نے چاول کے کھیت میں کئی سنائپ مارے جو رات کے کھانے کا حصہ بنے۔

۱۰ دسمبر: کئی میل تک علاقہ چھاننے کے بعد بھی ہمیں ہاتھیوں کی کوئی علامت نہ ملی مگر ایک جگہ ہمیں جنگلی بھینسوں کا غول مل گیا۔ بھینسے کھلے میدان میں کھڑے تھے جہاں درخت بھی تھے۔ ہمارا ان سے فاصلہ ۱۱۰ گز ہو گا۔ میں نے پلیسر کو اپنی بھاری رائفل دی کہ اسے جنگلی بھینسا شکار کرنے کا بہت شوق تھا۔ میں نے تماشائی کی حیثیت سے دیکھنے کا سوچا۔ چار اونس والی رائفل سے پلیسر نے عمدہ نشانہ لگایا اور سب سے آگے والے بھینسے کو گرا لیا۔ سارا غول مڑ کر بھاگا تو پلیسر نے ۱۰ بور کی رائفل سے دوسرے کی ٹانگ توڑ دی۔ ۲۰۰ گز کی دوڑ کے بعد وہ زخمی بھینسے کے قریب پہنچ گیا کہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کی وجہ سے بھینسا پانی سے نکل کر ڈھلوان کنارے پر نہ چڑھ سک رہا تھا۔ چند اور گولیوں کے بعد یہ بھینسا بھی شکار ہو گیا۔

اس روز اتنی گولیاں چلنے کے بعد ہمیں ہاتھیوں کے ملنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی مگر جب ہم گھوڑوں پر سوار ہونے لگے تو نصف میل دور سے ہاتھیوں کی آواز آئی جو پہاڑ کے دامن میں تھے۔ ہم جلد ہی مطلوبہ جگہ پہنچ گئے۔ یہاں جنگل بہت وسیع تھا اور پہاڑی نالے نے جنگل کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ دائیں جانب والا جنگل کھلا اور عمدہ تھا جبکہ بائیں والا چنار کا خار دار جنگل تھا۔ ہاتھی کھلے جنگل میں ندی کے قریب تھے۔

جب ہم اس پہاڑی نالے کے کنارے پر چڑھنے لگے تو ہاتھیوں کو ہماری خبر ہو گئی اور وہ اسے عبور کر کے خار دار جنگل میں گھسنے کے لیے بھاگے۔ بندا نے مجھے فوراً جنگل میں اس جگہ جانے کا کہا جہاں ہاتھی جنگل میں گھستے۔ پلیسر نے نالے کی نگرانی سنبھالی کہ اس جگہ ایک شکاری ہی سکون سے گولیاں چلا سکتا تھا۔

اس دوران پلیسر نے تین ہاتھی گرا لیے اور ہم جب مطلوبہ جگہ پہنچے تو دیکھا کہ جنگل اتنا گھنا ہے کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ ہم واپسی کا سوچ رہے تھے کہ اچانک سیدھا اپنی جانب آتے ہاتھی کی آواز آئی۔ اچانک کانٹوں، ٹہنیوں اور بیلوں کا ایک انبار مجھ پر گرنے لگا تو میں جست کر کے ایک طرف ہوا اور ہاتھی مجھے تقریباً چھوتا ہوا گزرا۔ اس دوران میں نے دونوں نالیں ہاتھی پر خالی کر دیں۔ پھر میں چند گز دوڑ کر ایک جانب کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ میری دو گولیاں سر پر کھا کر ہتھنی ایک طرح سے غشی کی حالت میں کھڑی تھی۔ پلیسر نے قریب پہنچ کر اس کو تین گولیاں ماریں مگر ہتھنی اتنی غشی کی حالت میں تھی کہ اسے پتہ بھی نہ چلا۔ میں پلیسر کی مدد کے لیے تیار تھا کہ ایک بندوق بردار نے میرے ہاتھ میں چار اونس والی رائفل تھما دی۔ اس پرانی رائفل کی گولی کھاتے ہی ہتھنی ختم ہو گئی۔ اس طرح یہ شکاری دورہ ختم ہوا۔

ہم نیلگالا لوٹے۔ اس روز کا تمام شکار پلیسر کا تھا۔ اس نے چار ہاتھی اور دو بھینسے مارے تھے۔ ہم نے اپنا سامان باندھا اور اگلی صبح سیدھا نیویرا ایلیا کو چل دیے۔ کینڈی سے روانہ ہونے والے دن سے لے کر اب تک تین ہفتوں میں ہم نے ۵۰ ہاتھی، ۵ ہرن اور ۲ جنگلی بھینسے مارے تھے جن میں ورٹلی نے ۱۰ ہاتھی اور دو ہرن، پلیسر نے ۱۶ ہاتھی اور دو جنگلی بھینسے، میرے بھائی نے ۲ ہاتھی مارے تھے۔

٭٭٭

باب ۱۳:  اختتام

 

اس طرح ہمارا دورہ ختم ہوا اور ہمیں ہاتھیوں کے بارے میں گراں قدر معلومات ملیں۔ تین ہفتوں کے تجربے سے نووارد کو ہاتھی کے شکار کی بنیاد سمجھ آ جانی چاہیے کہ سچے شکاری کی مانند شکار کھیلا جائے تو کتنا خطرہ ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ اس شکار کا سوچ کر خوش ہوتا رہوں گا۔ ایسے عمدہ شکار کی یادیں کبھی مدھم نہی پڑتیں اور ہاتھ پیر پر بے شک عمر کی وجہ سے ضعف طاری ہو جائے مگر جوانی کے شکار کی یادیں کبھی پژمردہ نہیں ہوتیں۔

شکار کے لطف کو دوبالا کرنے کے لیے عمدہ شکاری کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ ایک دوسرے پر اندھا اعتماد ہو کہ میں اس کے بغیر ایک دن بھی جنگل میں نہیں گزار سکتا۔ جنگلی علاقے میں موجودگی کے دوران چھوٹے موٹے ناخوشگوار واقعات کو نظر انداز کرنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ ہم لوگ بہت قانع تھے۔ دن بھر کے شکار کے بعد شام کو بہت لطف آتا تھا۔ عمدگی سے ترتیب دیا ہوا خیمہ، صاف ستھری میز، دیواروں کے پاس لگائے ہوئے بستر اور سامنے رکھی ہوئی عمدہ اور صاف رائفلیں اور بندوقیں ہمیشہ یاد آتی رہیں گی۔ ان کے سامنے انگلستان کا شکار بچوں کا کھیل دکھائی دیتا ہے کہ اس میں کوئی تجسس اور ہیجان نہیں ہوتا۔ جب جنگل میں قریب کسی بھاری جانور کے بھاگنے کی آواز آئے تو آپ رائفل کا گھوڑا چڑھا کر سامنا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مہذب دنیا میں بھاری رائفل بیکار ہوتی ہے۔ بیلٹ فالتو ہو جاتی ہے اور شکاری چاقو بھی لاپرواہی کی وجہ سے کند ہو جاتے ہیں۔ کتوں کے پٹے دیوار پر لٹکے ہوئے مگر بیکار ہوتے ہیں۔ یہ سب جنگلی علاقے میں کھیلے گئے شکار کی یادیں ہوتی ہیں۔

٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید