اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


چاند کی گود میں ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

ہنستے مسکراتے مضامین کا مجموعہ

چاند کی گود میں

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

مسٹر لال بیگ

 

یہ میری پہلی نوکری تھی۔ اور دفتر میں حاضری کا پہلا دن تھا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی چھوٹے سے صحن کے ساتھ ایک لمبا برآمدہ شروع ہوتا تھا۔ میں سہمے سہمے انداز میں جب دفتر میں داخل ہوا تو برآمدے کے آخری کونے تک پہنچتے ہی ایک نادر الوجود شخصیت پر نظر پڑی۔ درمیانہ قد، جسم پتلا، سر اور مونچھیں سرخ مہندی سے رنگی ہوئی، رنگ تھوڑا سفید لیکن سرخ مہندی کے شیڈ نے اسے تانبا بنا رکھا تھا۔ وہ چھوٹے صاحب کے کمرے کے باہر ایک میز پر ڈھیر سارے خط اور لفافے رکھے، انہیں گوند سے بند کر کے ان پرسرکاری ٹکٹیں زبان پر رگڑ کر تھوک سے چسپاں کر رہا تھا۔ اس فلسفے کی وضاحت چند دن بعد خود اس نے کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ٹکٹوں کی پشت پر پہلے ہی گوند لگی ہوتی ہے پھر مزید گوند ضائع کرنے کا فائدہ؟ بچت کرنا چاہئے۔ پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے۔‘‘ اگلے دو چار روز میں ہی پتہ چل … مزید پڑھیے