اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


قرآن اور جدید سائنس ۔۔۔ نا معلوم

اردو وکیپیڈیا سے ماخوذ ایک اہم کتابچہ

قرآن اور جدید سائنس

از قلم

نا معلوم

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل 

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

قرآن اور جدید سائنس یا اسلام اور سائنس، در اصل اسلام اور جدید سائنس کی آپس میں وابستگی، ربط اور موافقت کو کہا جاتا ہے۔ اور مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اسلام اور جدید سائنس میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اور قرآن مجید میں ایک ہزار سے زیادہ آیات سائنس کے متعلق گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود آیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔ [۱][۲][۳][۴]

مجموعی جائزہ

جس وقت اور زمانے سے انسانی زندگی اس سیارے یعنی زمین پر نمودار ہوئی ہے انسان نے ہمیشہ سے فطرت، تخلیق کے اس عظیم منصوبے میں اس کی اپنی حیثیت اور خود زندگی کا مقصد سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ سچ کی اس تلاش میں صدیوں کی مدت میں اور مختلف تہذیبوں نے منظم مذہب کو زندگی کی شکل دی۔ اور بڑی حد تک (انسانی) تاریخ کا راستہ متعین کیا۔ جبکہ بعض مذاہب کی بنیاد لکھے ہوئی متن (یعنی کتابوں) پر ہے۔ جن کے پیرو کار اسے الہامی (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف) سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جبکہ باقی کا انحصار صرف انسانی تجربے پر ہوتا ہے۔ قرآن جو مذہب اسلام کا اہم ذریعہ ہے، اس کے پیرو کار یعنی مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ مکمل طور پر کلام الٰہی ہے مسلمان اس بات پر یقین کرتے ہیں۔ کہ اس (قرآن) میں تمام انسانیت کے لیے ہدایت موجود ہے۔ چونکہ قرآن کے پیغام کو ہر دور کے لیے مانا جاتا ہے اس لیے یہ ہر زمانے کے متعلق ہونا چاہیے۔ لیکن کیا قرآن اس امتحان میں کامیاب ہوتا ہے؟

اس چھوٹی سی کتاب میں میری کوشش اور ارادہ یہ ہے کہ میں خاص طور پر ثابت شدہ سائنسی دریافتوں کی روشنی میں قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک حقیقی جائزہ پیش کرو۔ تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی تھا کہ معجزہ کو یا جس چیز کو معجزہ سمجھا جاتا تھا، انسانی منطق اور دلیل پرسبقت حاصل تھی۔ عام تعریف معجزہ کی یہی ہے کہ ہر وہ چیز جو عام زندگی کے بر خلاف ہو اور جس کی انسان کے پاس کوئی تشریح نہیں ہوتی۔ تاہم ہمیں کسی چیز کو معجزہ ماننے میں بہت احتیاط برتنی چاہیے۔

۱۹۹۳ء میں ٹائمز آف انڈیا (اخبار کا نام) ممبئی میں ایک خبر شائع ہوئی کہ ایک پیر، جس کا نام بابا پائیلٹ تھا، نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مسلسل تین دن اور تین رات تک ایک پانی بھرے ٹینک (Tank) میں زیر آب (یعنی پانی کے اندر) رہا ہے۔ تا ہم جب رپورٹروں نے چاہا کہ وہ اس ٹینک کی تہ کا جائزہ لیں جس میں اس نے معجزانہ کرتب کرنے کا دعوی کیا تھا تو اُس نے انکار کر دیا اور جواب یہ دیا کہ کوئی کس طرح رحم مادر کا معاینہ کر سکتا ہے جبکہ وہ بچہ جننے والی ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پیر کچھ چھپا رہا تھا۔ اس نے یہ جھوٹا دعویٰ صرف اپنی شہرت کے لیے کیا تھا۔ یقینی طور پر کوئی بھی اس جدید دور کا آدمی جس کی سوچ کی صلاحیت بہت ہی کم ہو اس قسم کا معجزہ قبول نہیں کرے گا۔ اگر ایسے ہی معجزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے معیار ہو تو پھر ہمیں دنیا کے تمام مشہور جادوگر جو اپنی حیران کن جادوئی چالوں (شعبدہ بازی) اور بصری دھوکوں کے لیے جانے جاتے ہیں حقیقی خدائی نمائندے ماننے پڑیں گے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے)۔ ایک کتاب جو الٰہی کلام ہونے کا دعویٰ کرتی ہو تو خود بخود وہ ایک معجزہ ہونے کا دعویٰ بھی کر رہی ہوتی ہے۔ ایسا دعویٰ کسی بھی دور میں اُس دور کے معیار کے مطابق آسانی سے غلط یا صحیح ثابت ہونے چاہیے۔

مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری وحی اور کتاب ہے جو معجزوں کا معجزہ ہے اور یہ انسانوں کے لیے ایک رحمت نازل کی گئی ہے اسی لیے آئیے ہم اس عقیدے کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لیے تحقیق کریں۔

قرآن مجید کا چیلنج (Challenge)

تمام تہذیبوں میں ادب اور شاعری انسانی اظہار اور تخلیق کا ہتھیار رہی ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے جس طرح سائنس اور ٹیکنالوجی کو اب ایک خاص مقام حاصل ہے اسی طرح ایک دور میں یہ مقام ادب اور شاعری کو حاصل تھا۔ یہاں تک کہ غیر مسلم علما بھی ایک بات پر متفق ہے کہ قرآن عربی ادب کی نہایت عمدہ کتاب ہے۔ قرآن بنی نوع انسان کو یہ چیلنج کرتا ہے کہ اس جیسی کتاب بنا کر لاؤ۔

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۝۲۳

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ۝۲۴ (۵)

ترجمہ: ’’اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور (اس کام کے لیے بیشک) اللہ کے سوا اپنے (سب) حمایتیوں کو بلا لو اگر تم (اپنے شک اور انکار میں) سچے ہوo پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے o‘‘

قرآن کا چیلنج یہ ہے کہ قرآن میں موجود سورتوں کی طرح کوئی ایک دوسری سورت بنا لاؤ اور اسی چیلنج کو قرآن نے کئی مرتبہ دُہرایا ہے۔ قرآن کے ایک سورت بنانے کا چیلنج یہ ہے کہ وہ بنائی جانی والی سورت کی خوبصورتی، فصاحت، گہرائی اور معنی کم از کم قرآنی سورت جیسی ہونی چاہیے۔ تا ہم ایک جدید سوچ کا معقول آدمی کبھی بھی کسی ایسی مذہبی کتاب کو قبول کرنے سے انکار کر دے گا جو حتیٰ الامکان عمدہ شاعری میں کی گئی ہو کہ یہ دنیا (گول نہیں بلکہ) چپٹی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں انسانی دلیل، منطق (logic) اور سائنس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ قرآن کی غیر معمولی زبان کو اور اس کے کلام الٰہی ہونے کو نہیں مانتے۔ کوئی بھی کتاب جو کلام الٰہی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہو تو وہ منطق (logic) اور دلیل کے لحاظ سے بھی قابل قبول ہونی چاہیے۔

مشہور ماہر طبیعیات اور نوبل انعام یافتہ البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) کے مطابق:

’’سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے۔“

اسی لیے آئیے قرآن مجید کا مطالعہ کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ قرآن اور جدید سائنس میں مطابقت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے یا نہیں۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں کہ بلکہ یہ نشانیوں یعنی آیات کی کتاب ہے۔ قرآن مجید میں چھ ہزار چھ سو چھتیس آیات ہیں، جن میں ایک ہزار سے زیادہ سائنس کے متعلق ہیں، (یعنی ان میں سائنسی معلومات موجود ہیں)

ہم سب جانتے ہیں کہ کئی مرتبہ سائنس قہقرائی حرکت (یو ٹرن U turn) کرتی ہے (یعنی طے شدہ نظریات کے خلاف جاتی ہے) اس لیے قرآنی تعلیمات کے ساتھ موازنے کے لیے صرف تسلیم شدہ سائنسی حقائق کو ہی پیش کیا جائے گا۔ قیاسات، تخمینوں اور مفروضوں سے بحث نہیں کی جا سکتی جو خود سائنسی طور پر ثابت نہیں ہیں۔

فلکیات (Astronomy)

کائنات کی تخلیق: بگ بینگ (Big Bang):

فلکی طبیعیات کے ماہرین ابتدائے کائنات کی وضاحت ایک ایسے مظہر کے ذریعے کرتے ہیں جسے وسیع طور پر قبول کیا جاتا ہے اور جس کا جانا پہچانا نام ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہے۔ بگ بینگ کے ثبوت میں گزشتہ کئی عشروں کے دوران مشاہدات و تجربات کے ذریعے ماہرین فلکیات و فلکی طبیعیات کی جمع کردہ معلومات موجود ہیں۔ بگ بینگ کے مطابق ابتدا میں یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت کی شکل میں تھی، (جسے Primary nebula بھی کہتے ہیں) پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بگ بینگ ہوا، جس کا نتیجہ کہکشاؤں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر یہ کہکشائیں تقسیم ہو کر ستاروں، سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں۔ کائنات کی ابتدا اس قدر منفرد اور اچھوتی تھی کہ اتفاق سے اس کے وجود میں آنے کا احتمال صفر (کچھ بھی نہیں) تھا۔

قرآن پاک کی درج ذیل آیات میں ابتدائے کائنات کے متعلق بتایا گیا ہے:

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ؕ [۶]

ترجمہ: ’’اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘

اس قرآنی آیت اور بگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت سے انکار ممکن ہی نہیں! یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک کتاب جو آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے عرب کے ریگستانوں میں ظاہر ہوئی، وہ اپنے اندر ایسی غیر معمولی سائنسی حقیقت لیے ہوئے ہو۔

پھیلتی ہوئی کائنات:

۱۹۲۵ء میں امریکی ماہر طبیعیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہو کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن پاک میں کائنات کی فطرت اور خاصیت کے حوالے سے کیا ارشاد ہوتا ہے:

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۝۴۷ [۷]

ترجمہ: ’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘

عربی لفظ ’’موسعون‘‘ کا صحیح ترجمہ ’’ہم وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘ بنتا ہے اور یہ ایک ایسی کائنات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی وسعتیں مسلسل پھیلتی جا رہی ہوں۔ عصر حاضر کا مشہور ترین فلکی طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) اپنی تصنیف اے بریف ہسٹری آف ٹائم میں لکھتا ہے۔ یہ دریافت کہ کائنات پھیل رہی ہے، بیسویں صدی کے عظیم علمی و فکری انقلابات میں سے ایک ہے۔

غور فرمائیے کہ قرآن پاک کے کائنات کے پھیلنے کو اس وقت بیان فرما دیا ہے جب انسان نے دوربین تک ایجاد نہیں کی تھی، اس کے باوجود متشکک ذہن رکھنے والے بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں فلکیاتی حقائق کا موجود ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ عرب اس علم میں بہت ماہر تھے۔ فلکیات میں عربوں کی مہارت کی حد تک تو ان کا خیال درست ہے لیکن اس نکتے کا ادراک کرنے میں وہ ناکام ہو چکے ہیں کہ فلکیات میں عربوں کے عروج سے بھی صدیوں پہلے ہی قرآن پاک کا نزول ہو چکا تھا۔

علاوہ ازیں اوپر بیان کردہ بہت سے سائنسی حقائق، مثلاً بگ بینگ سے کائنات کی ابتدا وغیرہ سے تو عرب اس وقت بھی واقف نہیں تھے جب وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے عروج پر تھے لہٰذا قرآن پاک میں بیان کردہ سائنسی حقائق کسی بھی طرح سے فلکیات میں عربوں کی مہارت کا نتیجہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ در حقیقت اس کے برعکس بات سچ ہے، عربوں نے فلکیات میں اس لیے ترقی کی کیونکہ فلکیاتی مباحث کو قرآن پاک میں اہم مقام دیا گیا ہے۔ [۲]