نثری نظموں کا ایک مجموعہ
مکتب
شاعر
حیدر علی
ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
مکتب
حیدر علی
نثری نظمیں
اُداس
اُداس بیٹھے ہو
کیوں مایوسی کو اپنا لیا؟
کیوں اپنے اطراف
دیواریں بنا لیں؟
کیوں کوئی روشن دان
نہ بنایا؟
کیوں دیواروں کے اُس پار
نہیں دیکھنا چاہتے؟
کیوں
ڈرتے ہو تم؟
کبھی دیکھا ہے
دریاؤں کے کناروں کو؟
ہمیشہ ساتھ چلتے ہیں
مگر
کبھی مل نہیں سکتے
نہ جانے
کتنے راستے طے کرتے ہیں
ایک ساتھ
مگر
اپنی اپنی حدوں میں رہتے ہیں
کیونکہ
جب دریا
اپنی حدیں بھول جائیں
تو کنارے
ٹوٹ جاتے ہیں
پھر پانی
ہر طرف پھیل جاتا ہے
اور سیلاب
اپنے ساتھ
سب کچھ
بہا لے جاتا ہے۔
اس لیے
کچھ فاصلے
بنے رہنے دو
کچھ دیواریں
قائم رہنے دو
ہر قربت
ملاپ نہیں ہوتی
اور ہر ملاپ
محفوظ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی
دور رہنا ہی
محبت کو
بچائے رکھتا ہے
٭٭
اک حسینہ
زلفیں جیسے
ناگن
جبیں جیسے
چاند
آنکھیں جیسے
غزال
رخسار جیسے
گلاب
لب جیسے
پنکھڑی
گفتار جیسے
شیریں
مسکرائے جیسے
بہار
افسردہ جیسے
خزاں
چلے جیسے
مورنی
بدلے جیسے
موسم
اک … مزید پڑھیے

ڈاؤن لوڈ کریں
ڈاؤن لوڈ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں
