یہی سچ ہے ۔۔۔ منو بھنڈاری/ اعجاز عبید

منو بھنڈاری کی مشہور ہندی کہانی

یہی سچ ہے

جس کا ترجمہ "سمت”، شمارہ 53، جنوری تا مارچ 2022ء میں شامل کیا گیا

رسم الخط کی تبدیلی اور ترجمہ: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

1

کانپور

سامنے آنگن میں پھیلی دھوپ سمٹ کر دیواروں پر چڑھ گئی اور کندھے پر بستہ لٹکائے ننھے ننھے بچوں کے جھنڈ کے جھنڈ دکھائی دیے، تو یکا یک ہی مجھے وقت کا احساس ہوا۔ گھنٹہ بھر ہو گیا یہاں کھڑے کھڑے اور سنجے کا ابھی تک پتہ نہیں! جھنجھلاتی سی میں کمرے میں آتی ہوں۔ کونے میں رکھی میز پر کتابیں بکھری پڑی ہیں، کچھ کھلی، کچھ بند۔ ایک پل میں انہیں دیکھتی رہتی ہوں، پھر بے مقصد سی کپڑوں کی الماری کھول کر سرسری سی نظر سے کپڑے دیکھتی ہوں، سب بکھرے پڑے ہیں۔ اتنی دیر یوں ہی بیکار کھڑی رہی، انہیں ہی ٹھیک کر لیتی۔ لیکن دل نہیں چاہتا اور پھر بند کر دیتی ہوں۔

نہیں آنا تھا تو بیکار ہی مجھے وقت کیوں دیا؟ پھر یہ کوئی آج ہی کی بات ہے! ہمیشہ سنجے اپنے بتائے ہوئے وقت سے گھنٹے دو گھنٹے دیری کر کے آتا ہے، اور میں ہوں، کہ اسی لمحے سے انتظار کرنے لگتی ہوں، اس کے بعد لاکھ کوشش کر کے بھی تو کسی کام میں اپنا من نہیں لگا پاتی۔ وہ کیوں نہیں سمجھتا کہ میرا وقت بہت قیمتی ہے، تھیسس پوری کرنے کے لیے اب مجھے اپنا سارا وقت پڑھائی میں ہی لگانا چاہیئے۔ پر یہ بات اسے کیسے سمجھاؤں!

2

میز پر بیٹھ کر میں پھر پڑھنے کی کوشش کرنے لگتی ہوں، پر دل ہے کہ لگتا ہی نہیں۔ پردے کے ذرا سے ہلنے سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور بار بار نظر گھڑی کے سرکتے ہوئے کانٹوں پر دوڑ جاتی ہے۔ ہر لمحے یہی لگتا ہے، وہ آیا! آیا!

تبھی مہتا صاحب کی پانچ سال کی چھوٹی بچی جھجکتی سی کمرے میں آتی ہے، ’’آنٹی، ہمیں کہانی سناؤ گی؟‘‘

’’نہیں، ابھی نہیں،بعد میں آنا!‘‘ میں رکھائی سے جواب دیتی ہوں، وہ بھاگ جاتی ہے۔ یہ مسز مہتا بھی ایک ہی ہیں! یوں تو مہینوں شاید میری صورت نہیں دیکھتیں، پر بچی کو جب، تب میرا سر کھانے کو بھیج دیتی ہیں۔ مہتا صاحب تو پھر بھی کبھی کبھی آٹھ دس دن میں خیریت پوچھ ہی لیتے ہیں، پر وہ تو بیحد اکڑو معلوم ہوتی ہیں۔ اچھا ہی ہے، زیادہ دلچسپی دکھاتی تو کیا میں اتنی آزادی سے گھوم پھر سکتی تھی؟

کھٹ کھٹ کھٹ وہی جانی پہچانی آہٹ! تو آ گیا سنجے۔ میں زبردستی ہی اپنا سارا دھیان کتاب میں مرکوز کر لیتی ہوں، رجنی گندھا کے ڈھیر سارے پھول لیے سنجے مسکراتا سا دروازے پر کھڑا ہے۔ میں دیکھتی ہوں، مگر مسکرا کر استقبال نہیں کرتی۔ ہنستا ہوا وہ آگے بڑھتا ہے اور پھولوں کو میز پر پٹک کر، پیچھے سے میرے دونوں کندھے دباتا ہوا پوچھتا ہے، ’’بہت ناراض ہو؟‘‘

رجنی گندھا کی مہک سے جیسے سارا کمرا مہکنے لگتا ہے۔

’’مجھے کیا کرنا ہے ناراض ہو کر؟‘‘ رکھائی سے میں کہتی ہوں، وہ کرسی سمیت مجھے گھما کر اپنے سامنے کر لیتا ہے، اور بڑے دلار کے ساتھ ٹھوڑی اٹھا کر کہتا، ’’تمہیں بتاؤ کیا کرتا؟ کوالٹی میں دوستوں کے بیچ پھنسا تھا۔ بہت کوشش کر کے بھی اٹھ نہیں پایا۔ سب کو ناراض کر کے آنا اچھا بھی نہیں لگتا۔‘‘

جی چاہتا ہے، کہہ دوں – ’’تمہیں دوستوں کا خیال ہے، ان کے برا ماننے کی فکر ہے، بس میری ہی نہیں!‘‘ پر کچھ کہہ نہیں پاتی، ایک ٹک اس کے چہرے کی سمت دیکھتی رہتی ہوں، اس کے سانولے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی ہیں۔ کوئی اور وقت ہوتا تو میں نے اپنے آنچل سے انہیں پونچھ دیا ہوتا، پر آج نہیں۔ وہ زیرِ لب مسکرا رہا ہے، اس کی آنکھیں معذرت طلب کر رہی ہیں، پر میں کیا کروں؟ تبھی وہ اپنی عادت کے مطابق کرسی کے ہتھے پر بیٹھ کر میرے گال سہلانے لگتا ہے۔ مجھے اس کی اسی بات پر غصہ آتا ہے۔ ہمیشہ اسی طرح کرے گا اور پھر دنیا بھر کا لاڑ دلار دکھلائے گا۔ وہ جانتا جو ہے کہ اس کے آگے میرا غصہ ٹک نہیں پاتا۔ پھر اٹھ کر وہ پھول دان کے پرانے پھول پھینک دیتا ہے، اور نئے پھول لگاتا ہے۔ پھول سجانے میں وہ کتنا ماہر ہے! ایک بار میں نے یوں ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے رجنی گندھا کے پھول بڑے پسند ہیں، تو اس نے معمول ہی بنا لیا کہ ہر چوتھے دن ڈھیر سارے پھول لآ کر میرے کمرے میں لگا دیتا ہے۔ اور اب تو مجھے بھی ایسی عادت ہو گئی ہے کہ ایک دن بھی کمرے میں پھول نہ رہیں تو نہ پڑھنے میں دل لگتا ہے، نہ سونے میں۔ یہ پھول جیسے سنجے کی موجودگی کا احساس دیتے رہتے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد ہم گھومنے نکل جاتے ہیں۔ یکایک ہی مجھے اِرا کے خط کی بات یاد آتی ہے۔ جو بات سننے کے لیے میں سویرے سے ہی بے چین تھی، اس غصے میں جانے کیسے اسے ہی بھول گئی!

’’سنو، اِرا نے لکھا ہے کہ کسی دن بھی میرے پاس انٹرویو کا بلاوا آ سکتا ہے، مجھے تیار رہنا چاہیئے۔‘‘

’’کہاں، کلکتہ سے؟‘‘ کچھ یاد کرتے ہوئے سنجے پوچھتا ہے، اور پھر یکایک ہی اچھل پڑتا ہے، ’’اگر تمہیں وہ جاب مل جائے تو مزہ آ جائے، دیپا، مزہ آ جائے!‘‘

ہم سڑک پر ہیں، نہیں تو ضرور اس نے جذبات میں آ کر کوئی حرکت کر ڈالی ہوتی۔ جانے کیوں، مجھے اس کا اس طرح خوش ہونا اچھا نہیں لگتا۔ کیا وہ چاہتا ہے کہ میں کلکتہ چلی جاؤں، اس سے دور؟

تبھی سنائی دیتا ہے، ’’تمہیں یہ جاب مل جائے تو میں بھی اپنا تبادلہ کلکتہ ہی کروا لوں، ہیڈ آفس میں۔ یہاں کی روز کی کچ کچ سے تو میرا من اوب گیا ہے۔ کتنی ہی بار سوچا کہ تبادلے کی کوشش کروں، پر تمہارے خیال نے ہمیشہ مجھے باندھ لیا۔ آفس میں شانتی ہو جائے گی، پر میری شامیں کتنی ویران ہو جائیں گی!‘‘

اس کے لہجے کی نمی نے مجھے چھو لیا۔ یکایک ہی مجھے لگنے لگا کہ رات بڑی سہانی ہو چلی ہے۔

ہم دور نکل کر اپنی پسندیدہ ٹیکری پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ دور دور تک ہلکی سی چاندنی پھیلی ہوئی ہے اور شہر کی طرح یہاں کا ماحول دھوئیں سے بھرا ہوا نہیں ہے۔ وہ دونوں پیر پھیلا کر بیٹھ جاتا ہے اور گھنٹوں مجھے اپنے آفس کے جھگڑے کی بات سناتا ہے اور پھر کلکتہ جا کر ساتھ زندگی بتانے کی اسکیمیں بناتا ہے۔ میں کچھ نہیں بولتی، بس ایک ٹک اسے دیکھتی ہوں، دیکھتی رہتی ہوں۔

جب وہ چپ ہو جاتا ہے تو بولتی ہوں، ’’مجھے تو انٹرویو میں جاتے ہوئے بڑا ڈر لگتا ہے۔ پتہ نہیں، کیسے کیا پوچھتے ہوں گے! میرے لیے تو یہ پہلا ہی موقع ہے۔‘‘

وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتا ہے۔

’’تم بھی ایک ہی مورکھ ہو! گھر سے دور، یہاں کمرا لے کر اکیلی رہتی ہو، ریسرچ کر رہی ہو، دنیا بھر میں گھومتی پھرتی ہو اور انٹرویو کے نام سے ڈر لگتا ہے۔ کیوں؟‘‘ اور گال پر ہلکی سی چپت جما دیتا ہے۔ پھر سمجھاتا ہوا کہتا ہے، ’’اور دیکھو، آج کل یہ انٹرویو وغیرہ تو سب دکھاوا ہوتے ہیں۔ وہاں کسی جان پہچان والے سے انفلوئینس ڈلوانا جا کر!‘‘

’’پر کلکتہ تو میرے لیے ایک دم نئی جگہ ہے۔ وہاں اِرا کو چھوڑ کر میں کسی کو جانتی بھی نہیں۔ اب ان لوگوں کی کوئی جان پہچان ہو تو بات دوسری ہے‘‘ مجبور سی میں کہتی ہوں۔

’’اور کسی کو نہیں جانتیں؟‘‘ پھر میرے چہرے پر نظریں گڑا کر پوچھتا ہے، ’’نشیتھ بھی تو وہیں ہے؟‘‘

’’ہو گا، مجھے کیا کرنا ہے اس سے؟‘‘ میں ایک دم ہی بھنا کر جواب دیتی ہوں، پتہ نہیں کیوں، مجھے لگ ہی رہا تھا کہ اب وہ یہی بات کہے گا۔

’’کچھ نہیں کرنا؟‘‘ وہ چھیڑنے کے لہجے میں کہتا ہے۔

اور میں بھبھک پڑتی ہوں ’’دیکھو سنجے، میں ہزار بار تم سے کہہ چکی ہوں، کہ اسے لے کر مجھ سے مذاق مت کیا کرو! مجھے اس طرح کا مذاق ذرا بھی پسند نہیں ہے!‘‘

وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتا ہے، پر میرا تو موڈ ہی خراب ہو جاتا ہے۔

ہم لوٹ پڑتے ہیں۔ وہ مجھے خوش کرنے کے ارادے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔ میں جھپٹ کر ہاتھ ہٹا دیتی ہوں، ’’کیا کر رہے ہو؟ کوئی دیکھ لے گا تو کیا کہے گا؟‘‘

’’کون ہے یہاں جو دیکھ لے گا؟ اور دیکھ لے گا تو دیکھ لے، آپ ہی کڑھے گا۔‘‘

’’نہیں، ہمیں پسند نہیں ہیں یہ بے شرمی!‘‘ اور سچ ہی مجھے راستے میں ایسی حرکتیں پسند نہیں ہیں چاہے راستہ ویران ہی کیوں نہ ہو، پر ہے تو راستہ ہی، پھر کانپور جیسی جگہ۔

کمرے میں لوٹ کر میں اسے بیٹھنے کو کہتی ہوں، پر وہ بیٹھتا نہیں، بس، بانہوں میں بھر کر ایک بار چوم لیتا ہے۔ یہ بھی جیسے اس کا روز کا معمول ہے۔

وہ چلا جاتا ہے۔ میں باہر بالکنی میں نکل کر اسے دیکھتی رہتی ہوں، اس کا جسم چھوٹا ہوتے ہوتے سڑک کے موڑ پر جا کر غائب ہو جاتا ہے۔ میں ادھر ہی دیکھتی رہتی ہوں۔ بے مقصد سی کھوئی کھوئی سی۔ پھر آ کر پڑھنے بیٹھ جاتی ہوں۔

رات میں سوتی ہوں، تو دیر تک میری آنکھیں میز پر لگے رجنی گندھا کے پھولوں کو ہی دیکھتی رہتی ہیں۔ جانے کیوں، اکثر مجھے شک ہو جاتا ہے کہ یہ پھول نہیں ہیں، مانو سنجے کی لا تعداد آنکھیں ہیں، جو مجھے دیکھ رہی ہیں، سہلا رہی ہیں، دلار رہی ہیں۔ اور اپنے کو یوں لا تعداد آنکھوں سے متواتر دیکھے جانے کے تصور سے ہی میں شرما جاتی ہوں۔

میں نے سنجے کو بھی ایک بار یہ بات بتائی تھی، تو وہ خوب ہنسا تھا اور پھر میرے گالوں کو سہلاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ میں پاگل ہوں، نری مورکھ ہوں!

کون جانے، شاید اس کا کہنا ہی ٹھیک ہو، شاید میں پاگل ہی ہوؤں!

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید