چاند گیس پیپر ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

مجموعے "چاند کی گود میں” سے ایک اور مزے دار طویل مضمون

چاند گیس پیپر

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل 

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

 

اقتباس

 

اپریل ۱۹۹۰ء کے چاند میں ایک سوالنامہ شائع ہوا ہے ’’جنگلی کتب خانہ دھر پکڑی کے ناشرین نے اس کے عواقب و عوامل پر اس قدر غور کیا کہ قسمتِ عوام پر بے زار و قطار رونا آ گیا۔ سنبھلے تو عقل آئی کہ مفاد عامہ میں ضروری ہے۔ اس کا گیس پیپر شائع کر وا دیا جائے تاکہ چکورانِ چاند المعروف عاریان عقل کو اس کے حل میں چنداں مشکل و مصائب کا سامنا بزور قلم نہ کرنا پڑے۔ تو عاریان عقل و خرد پیارے چکوران چاند! اگر آپ اس پر چہ کو حل کرنا چاہیں تو ہمارے اس گیس پیپر سے جلد اور ضرور فائدہ اٹھائیں۔ دیری کی صورت میں خدشہ ہے کہ تاویلات و تفصیلات گیس بن کر اڑ جائیں گے۔ اور یہ گیس اس گیس سے کہیں زیادہ خطر ناک ہو گی جو پریشر ککر کی سیٹی والی گیس کی طرح پیٹ سے نکلتی ہے مگر کام اس کا بھی ان نازنینوں، حسینوں، مہ جبینوں جیسا ہے۔ … مزید پڑھیے

انار کلی ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

مجموعے "چاند کی گود میں” سے ایک طویل مضمون کی علیحدہ ای بک

انار کلی

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

 

اقتباس

 

عالم پناہ شہنشاہ جلال الدین اکبر اپنے آگرہ کے قلعہ میں محل کے پائیں باغ میں اداسی اور غم کی تصویر بنے، پشت پر ہاتھ باندھے، دھیرے دھیرے قدم اٹھا تے چہل قدمی کر رہے تھے۔ پھر وہ باغ کے وسط میں حوض کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ پاؤں کو جوتی اور شلوار سمیت حوض کے پانی میں لٹکا دیا اور ایک ہاتھ سے کنارے پر پڑے پتھر اٹھا اٹھا کر پانی ابلتے فوارے کو یوں مارنے لگے جیسے شیطان کو کنکریاں مار رہے ہوں۔ شہنشاہ صبح کی سیر کو محل سے نکلے تھے۔ ابھی تو منہ بھی نہیں دھویا تھا۔ اسی عالم میں دوپہر ہو گئی تھی۔

ادھر دربار میں نورتن اور وزیر اعظم بڑی بے چینی سے شہنشاہ کی آمد کا انتظار کر رہے تھے مگر ان کی آمد کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ ملکہ عالیہ سے دریافت کیا گیا تو پتہ چلا کہ آج صبح سیر کو گئے تھے اس کے بعد کچھ پتہ نہیں۔ … مزید پڑھیے

چاند کی گود میں ۔۔۔ محمد اشفاق ایاز

ہنستے مسکراتے مضامین کا مجموعہ

چاند کی گود میں

از قلم

محمد اشفاق ایاز

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

مسٹر لال بیگ

 

یہ میری پہلی نوکری تھی۔ اور دفتر میں حاضری کا پہلا دن تھا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی چھوٹے سے صحن کے ساتھ ایک لمبا برآمدہ شروع ہوتا تھا۔ میں سہمے سہمے انداز میں جب دفتر میں داخل ہوا تو برآمدے کے آخری کونے تک پہنچتے ہی ایک نادر الوجود شخصیت پر نظر پڑی۔ درمیانہ قد، جسم پتلا، سر اور مونچھیں سرخ مہندی سے رنگی ہوئی، رنگ تھوڑا سفید لیکن سرخ مہندی کے شیڈ نے اسے تانبا بنا رکھا تھا۔ وہ چھوٹے صاحب کے کمرے کے باہر ایک میز پر ڈھیر سارے خط اور لفافے رکھے، انہیں گوند سے بند کر کے ان پرسرکاری ٹکٹیں زبان پر رگڑ کر تھوک سے چسپاں کر رہا تھا۔ اس فلسفے کی وضاحت چند دن بعد خود اس نے کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ٹکٹوں کی پشت پر پہلے ہی گوند لگی ہوتی ہے پھر مزید گوند ضائع کرنے کا فائدہ؟ بچت کرنا چاہئے۔ پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے۔‘‘ اگلے دو چار روز میں ہی پتہ چل … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید