آنکھ کہاں تک جا سکتی ہے ۔۔۔ عارفہ شہزاد

ان لائن جریدے سہ ماہی "سمت” میں شائع شدہ نظموں کا برقی مجموعہ

آنکھ کہاں تک جا سکتی ہے

از قلم

عارفہ شہزاد

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

کچھ نظمیں

خواب گاہ کا آئینہ

 

آئینے نے

آئینے نے

عکس اپنے اندر سمو لیا

اور کیفیت

میری آنکھوں میں بھر دی

میں ساکت کھڑی ہوں

کہ

اب عکس مانگتا پے

مجھ سے

میری آنکھیں!

٭٭٭

میں اسے پہچانتی ہوں!

 

وہ میرے ساتھ رہتی ہے

وارفتگی سے لبریز

چمکتی ہوئی

اور کبھی

سلگتی۔۔ ۔

راکھ ہوتی ہوئی!

میں راکھ کریدتی ہوں

اور ایک چنگاری سے

سلگاتی ہوں

نئی آگ

پھر

اگا لیتی ہوں

ایک باغ

لہلہاتی ہوں

پھولوں کے ساتھ!

وہ میرے ساتھ رہتی ہے

کھلتی ہوئی

اور بکھرتی ہوئی

میں اسے

سمیٹ لیتی ہوں

ہتھیلیوں میں

اور

اچھال دیتی ہوں

فضا میں!

وہ میرے ساتھ رہتی ہے

رنگوں سے آمیز ہوا میں

تیز تیز قدموں

ہمراہ چلتی ہوئی

اور

بے رنگ

لمحوں میں

خاموش قدموں

پیچھے ہٹتی ہوئی!

٭٭٭

بد صورت لڑکیاں

 

بد صورت لڑکیاں

اچھی نظمیں نہیں لکھ سکتیں

وہ خود ایک نظم ہیں!

خدا کی کتاب میں

مگر کون سے ورق پر درج ہیں

زمانہ نہیں پڑھ سکتا

٭٭٭

اک دن۔۔۔!

 

چلتے چلتے ایس ایم ایس کی

بہکی نبضیں

تھم جائیں گی

جانے انجانے موڑوں پر

مڑتی گاڑی

رک جائے گی

دل سے دل تک

بہتی سرگوشی

لہروں میں

گم جائے گی

جھیلوں کی خاموشی

بڑھتے بڑھتے

اور بھی

بڑھ جائے گی

تارا ٹوٹے گا

اور تیری آنکھیں

دکھ سے

بھر جاؤں گی

اک دن

بالکل خاموشی سے

میں بھی

یونہی مر جاؤں گی!

٭٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید