انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

سفر نامہ عمرہ ۲۰۱۶ء

انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک

از قلم

ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

اقتباس

 

’’اور اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج و عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۶)

اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی یقیناً بنیادی سبب۔۔۔ ثواب کی تمنا کہیں، روح کی طلب کا نام دیں، ہر مرتبہ کچھ کمی سی رہ جانے اور اس کمی کو دور کرنے کی آرزو کہیں، خون میں گردش کرتی خواہش، کانوں میں گونجتی مدھم سی سرگوشی، کوئی اپنے اور بلائے جاتا ہے اور دنیا داری میں گھرے ہم لوگ فرصت کے لمحات کے منتظر ہی رہتے ہیں۔۔۔۔ ’’ایک اور سفر کے لیے لوٹ آؤ سفر سے‘‘۔۔۔ میرے سفر نامہ عمرہ کے تاثرات پر مشتمل کتاب ’’عجب اک سلسلہ ہے‘‘ کے آخری باب کا عنوان بھی یہی ہے۔ اسلام آباد اور حاجی والا، گجرات کے درمیان مستقل حالتِ سفر میں رہنے کے ساتھ ساتھ ایک اور بلاوا بھی اپنے نصیب میں لکھا جا چکا تھا اور بہت بہت دعا ہے کہ ایسا نصیب ہر ایک کو نصیب ہو۔ ۲۲ نومبر تا ۱۳ دسمبر، اس مرتبہ صرف بیس بائیس دن کا پروگرام بنا جبکہ ارادہ حسب معمول مہینے بھر کا تھا، تفصیل اس احوال کی یہ ہے کہ حاجی والا، گجرات سے اسلام آباد گئے تو کاموں کی ایک طویل فہرست شاہد صاحب کے ہاتھوں میں تھی۔ ایک روز بلیو ایریا، الہدیٰ کے دفتر بھی جا پہنچے۔ حال احوال پوچھا تو توقیر صاحب کہنے لگے۔ بس عمرے کے ویزے کھلنے والے ہیں۔ آپ ہی کا انتظار ہے۔ مجھے شاہد صاحب کا فون آیا کہ کیا ارادہ ہے ؟ ظاہر ہے ارادہ تو بہت عرصے سے بن رہا تھا۔ میں نے کہا جاوید بھائی اور ثروت باجی ہمیشہ کہتے ہیں کہ تمھارے ساتھ عمرہ پر جائیں گے، انھیں پوچھ لیں۔ شاہد نے کراچی جا وید بھائی کو فون کیا انھوں نے بلا تامل اثبات میں جواب دیا، بس یہ کہا کہ ان دنوں مصروفیت بہت ہے، پندرہ روز کا پروگرام بناؤ، شاہد نے انھیں تین ہفتے کے لیے قائل کر لیا۔ یوں لمحہ بھر میں پروگرام نے حتمی شکل اختیار کر لی۔ کراچی سے ثروت باجی (بھابی) کا فون آ گیا۔ بہت خوش تھیں۔ کہنے لگیں دعائیں اتنی جلد قبول ہوتی ہیں۔ میں جاوید سے کتنے ہی دنوں سے کہہ رہی تھی کہ عمرے کے لیے چلیں۔ آخر ایک روز وہ بول ہی پڑے کہ ابھی عمرے کے لیے نہیں جا سکتا۔ مئی میں جائیں گے، سعودی حکومت نے تین سال سے پہلے عمرہ کرنے والے کے لیے اس پابندی کو لازم قرار دیا ہے کہ اگر کوئی جانا ہی چاہتا ہے تو دو ہزار سعودی ریال فیس ادا کرے، تب ہی جا پائے گا۔ تو میں پچاس پچپن ہزار روپے خواہ مخواہ سعودی حکومت کو دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔۔ میں یہ سن کر خاموش ہو گئی لیکن گذشتہ چار روز سے متواتر میں عمرے کے لیے دعا مانگ رہی تھی کہ ابھی معلوم ہوا کہ عمرے کا پروگرام طے پا گیا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں ابھی شکرانے کے نفل پڑھ کر اٹھی ہوں۔

میں بھی اس بات سے بہت خوش تھی کہ جاوید بھائی اور ثروت باجی کے ساتھ پروگرام بن گیا ہے کہ مجھے بہت احساس تھا کہ دو سال پہلے جاوید بھائی نے عمرے کے لیے کہا تو اپنی خود ساختہ مصروفیات کے حصار میں مقید ہم لوگ مثبت جواب نہ دے پائے تو ثروت باجی نے بھی جانے سے انکار کر دیا کہ طاہرہ اور شاہد کے ساتھ ہی جاؤں گی۔ بس بلاوا نہ تھا۔ جاوید بھائی اپنے گروپ کے ساتھ ہو آئے۔ توقیر صاحب نے بھی بتا دیا تھا کہ جاوید بھائی کو زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔ شاہد نے جاوید بھائی کو فون کیا کہ کیا تمھیں معلوم ہے تمھیں عمرے کے لیے زیادہ ادائگی کرنا ہو گی، رقم بہت زیادہ ہے تمھارا کیا ارادہ ہے ؟ کہنے لگے ہاں مجھے معلوم ہے میں اگلے سال کے انتظار میں رہوں اور اگلے سال جانے کیا ہو جائے تو میں اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا۔ جتنے بھی پیسے لگے میں دے دوں گا۔ توقیر بھائی کہنے لگے آپ بہت آسانی سے عمرہ و دیگر عبادات کر سکیں گے۔ ترکی اور مراکو وغیرہ نے سعودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔ ہم ایشیائی باشندوں نے تو اس فیصلے کو بے چون و چرا تسلیم کر لیا ہے اور عمرہ زائرین کو بھجوا رہے ہیں لیکن ترکی نہیں۔ اس لیے ابھی بھیڑ زیادہ نہیں ہو گی۔ میں ٹی وی پر دیکھتی اور خوش ہوتی کہ اس مرتبہ تو طواف میں بہت آسانی رہے گی، ان شا اللہ خوب طواف کریں گے۔

مباشر مکہ معظمہ اور السنۃ النبویہ مدینہ منورہ یہ دو ٹیلی ویژن چینل ایسے ہیں کہ آپ سارا دن، ساری عمر بھی دیکھتے رہیں تو لمحہ بھر کے لیے بھی چینل بدلنے کا خیال نہیں آتا اور اگر قدم قدم پر ماضی قریب اور ماضی بعید کی یادیں ہر منظر کے ساتھ وابستہ ہوں توسر خوشی کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی کی کشش ہر کلمہ گو کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ حضرت انس بن مالک راوی ہیں:

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو اپنے گھر میں نماز پڑھے اسے ایک نماز کا، جو قبائل کی مسجد میں نماز پڑھے اسے پچیس نمازوں کا جو جامع مسجد میں نماز ادا کرے اسے پانچ سو نمازوں کا، مسجدِ اقصیٰ اور میری مسجد (مسجدِ نبوی) میں نماز پڑھے اسے پچاس ہزار اور کعبۃ اللہ میں نماز ادا کرنے پر ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔‘‘

دو فرض عبادتیں ایسی ہیں کہ جن کا براہ راست تعلق کائنات کے مرکز بیت اللہ شریف سے ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی دور افتادہ کونے میں ہی کیوں نہ ہو بیت اللہ کی طرف رخ کر کے ہی نماز اد اکی جا سکتی ہے، ورنہ نماز ادا نہ ہو گی۔ دوسرا حج کا فرض بیت اللہ کے علاوہ کہیں اور ادا نہیں ہو سکتا۔

۲۲ نومبر ۲۰۱۶ء رات گیارہ بجے گھر سے روانگی۔۔ اور روانگی سے لمحہ بھر پہلے بہت ہی عزیز دوست کا بیٹا دو کلو مٹھائی کا ڈبہ لیے آ گیا کہ یہ خانۂ کعبہ میں عرفان صاحب کو دے دیجیے گا۔ حیرانی اس امر پر ہوئی کہ دو گھنٹے پہلے وہ خود مجھ سے مل کر گئی ہیں۔ ان کے شوہر بھی شاہد سے عشا کے وقت ملے ہیں۔ اگر ذکر ہی کر دیتے تو ہم ذہنی طور پر تیار ہوتے۔ اب تو سارا سامان باندھ لیا ہے، کیا پھر سے سارا سامان کھولیں اور اتنا بڑا ڈبہ تو میرے بیگ میں آئے گا نہ شاہد کے۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ذہن میں تھا کہ کھانے کی کوئی چیز نہیں لے جا سکتے۔ پچھلے تین اسفار میں ہم کبھی کچھ کھانے کے لیے لے کر نہ گئے تھے کہ ہر کتاب میں یہی لکھا ہوتا تھا۔ پھر شاہد ایر پورٹ پر کسی پچھلے سفر میں فضائی عملے کو مسافر کے سامان سے مٹھائی باہر نکال کر پھینکتے ہوئے دیکھ بھی چکے تھے۔ انھیں کس دل سے انکار کیا ہو گا۔ بتانا مشکل ہے۔ اب ہم ائر پورٹ جاتے تھے اور میں جو کہا کرتی ہوں کہ اے اللہ میری ذات کسی کے لیے باعثِ تکلیف نہ ہو اور آج میں نے مقدس سفر پر نکلتے ہوئے کیسے یہی کام کر دیا۔ تمام رستہ شاہد میرا واویلا سنتے رہے۔ ہم غیروں کے بھی کام آنا چاہتے ہیں اور انکار کیا تو بالکل اپنوں کو۔۔۔ کبھی شاہد تسلی بھی دے لیتے کہ دیکھو وہ مٹھائی ایر پورٹ پر پھینکی جاتی تو تم اس سے کہیں زیادہ پریشان ہوتیں۔ ائر پورٹ پہنچ کر جب شاہد نے ایک خاتون کو کیک لے جاتے دیکھا تب کہنے لگے، غلطی ہو گئی۔ دستی سامان میں لائی جا سکتی تھی۔ وہاں جا کر یاد آیا کہ عطیہ اور ثروت باجی بھی تو مٹھائی اور مہر بند کھانے لے کر جاتی رہی ہیں۔ بہرحال اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہے۔ اس شرمندگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جناب نعیم ستی و بیگم آسیہ نعیم اور ان کے اسلاف و اخلاف سبھی عمرہ ہو یا طواف، نماز ہو یا تسبیح، ہمہ وقت دعاؤں میں یاد رہے۔

تین بجے امارات ایر سے مکہ براستہ دوبئی پہنچنا تھا۔ دوبئی میں ہمارا قیام ایک گھنٹے کا تھا۔ سبھی کا مشورہ تھا کہ احرام اسلام آباد ائر پورٹ سے ہی باندھا جائے تو بہتر ہے۔ ہم دل میں ناراض تو ہوتے ہیں کہ ہمیں فلائیٹ کے وقت سے چار گھنٹے پہلے کیوں بلا لیتے ہیں لیکن ائر پورٹ پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ وقت بھی بمشکل پورا ہوا ہے۔ میرا خیال تھا اتنا پہلے جا رہے ہیں۔ ضروری کار وائی سے فارغ ہو کر میں تو مسجد میں چلی جاؤں گی۔ صلوۃ التسبیح پڑھوں گی۔ کچھ سونے کی کوشش کروں گی اور جب میری ڈھنڈیا مچے گی تو جہاز کی جانب چل دوں گی۔ لیکن ہوا یہ کہ تمام وقت کاروائیوں میں ہی نکل گیا۔ بس یہ ہوا کہ میں نے احرام کیا اور احرام و عمرہ کی نیت کے نوافل ادا کر لیے۔ تیزی سے باہر آئی کہ اب میں سامان پکڑتی ہوں اور شاہد وضو، احرام اور نوافل ادا کر لیں۔ شاہد کہنے لگے میں دوبئی جا کر احرام باندھوں گا کہ اب فلائٹ کی روانگی کے سندیسے سنائی دینے لگے تھے۔ ایمریٹ سے یہ میرا پہلا سفر تھا۔ کچھ دیر بعد ہی ناشتے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایوا من کی گولی کا اثر تھا یا ویسے ہی نیند کے جھونکے آ رہے تھے۔ لبیک الھم لبیک پڑھنے کی کوشش کرتی رہی۔ کافی دیر بعد کھانے کی ٹرالی ہم تک پہنچی۔ جو بھی کھانا فراہم کیا گیا، مزے کا نہ تھا لیکن قابل قبول تھا۔ ایک بھی شناسا پکوان نہ تھا۔ بہر حال کھانا کھا کر بلکہ ناشتا کر کے سونے کی کوشش بھی کی کہ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں کچھ بھی پڑھ نہیں پا رہی ہوں۔ اسی دوران میں معلوم ہوا کہ دبئی پہنچنے والے ہیں۔ دبئی جا کر ہمیں ایک ایسے دور افتادہ لاؤنج میں پہنچایا گیا کہ جہاں غسل خانے بھی تلاش بسیار کے بعد ملے اور مسجد کا دور دور تک پتا نہیں۔ انتہائی برق رفتاری سے وضو کیا اور نمازِ فجر ادا کی۔ شاہد نے احرام باندھ لیا اور کہنے لگے کہ روانگی کے اعلانات ہو رہے ہیں، میں جہاز میں ہی نماز ادا کر لوں گا، میں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا آپ پہلے احرام کے نوافل ادا کر لیں اور پھر نماز فجر بھی پڑھ لیں، وہیں ایک کونے میں کہ جہاں میں نے نماز پڑھی تھی۔ شاہد نے بھی نماز پڑھی کہ سبھی زائر اسی طرح جہاں جگہ ملی پڑھ رہے تھے۔ شکر ہے کہ میرے دستی سامان میں جائے نماز موجود تھا اور مجھے نہیں معلوم کیوں تھا، ہو سکتا ہے میں نے آخری لمحات میں اسے ساتھ رکھ لیا ہو، ورنہ فرش پر ہی نماز پڑھنا پڑتی۔ ائر لائن پر افسوس ہو رہا تھا کہ انھیں معلوم بھی تھا کہ اس جہاز میں عمرے کے زائر شامل ہیں تو انھوں نے مسجد تک مناسب رہنمائی کیوں نہ کی یا اس حصے میں مسجد تھی ہی نہیں۔ نہایت تیز رفتاری سے مراحل طے کرتے ہوئے جہاز تک پہنچے۔ کچھ دیر بعد ناشتے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ جو حسبِ توقع بے مزہ کھانے پر مشتمل تھا۔ وہی بات کہ کھانے تو اچھے تھے ہمارا ذائقہ ہی ان کھانوں کا نہ تھا۔ لبیک پڑھ رہی ہوں یا درود شریف، نیند میں ہوں یا جاگ رہی ہوں۔ سبھی کچھ گڈ مڈ ہو رہا تھا۔ مجھے بہت احساس ہو رہا تھا کہ پہلے تو دوران سفر میں بہت کچھ بہت ترتیب اور کبھی بے ترتیبی کے ساتھ پڑھا کرتی تھی اب تھکن ہے، طویل بے خوابی کا زور ہے یا ایوامن کا اثر، مجھ سے تو کچھ پڑھا ہی نہیں جا رہا، نہ میں سو پا رہی ہوں۔ اسی شش و پنج میں جدہ پہنچنے کے اعلان نے سست ذہنی کی کیفیت سے کچھ نجات دی۔ اتفاق کی بات ہے کہ سب سے پہلے ہم ہی کاؤنٹر پر پہنچے، سعودی کارکنان کا رویہ برداشت کرنا بھی حج و عمرہ کی تربیت کا حصہ ہے۔ وہ آپس میں خوش گپیوں بلکہ قہقہوں میں مصروف تھے، اس احساس سے عاری کہ زائر، ان کی نظرِ کرم کے منتظر ہیں۔ خیر میں اور شاہد تو جلد ہی وہاں سے فارغ ہوئے۔ سامان بھی جلد ہی مل گیا اور شاہد نے باہر آ کر سب سے پہلے سم خریدی۔ کہنے لگے تمھارے لیے بھی لے لیتا ہوں، میرا جواب کہ مکہ جا کر لے لیں گے، ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ جو کام وقت پر ہو جائے وہی بہتر ہوتا ہے۔ ہم البرکۃ کی بس کی جانب چلے، حسبِ معمول پہلی نشست ملی۔ کافی انتظار کے بعد باقی زائر آئے اور بس انھی جانی پہچانی راہوں پر دوڑنے لگی۔ نہ جانے کیوں جدہ پہنچتے ہی یہ خیال ذہن میں رہتا ہے کہ اب تو منزل قریب ہے۔ ہر چند علم بھی ہوتا ہے کہ جدہ سے مکہ ڈیڑھ دو گھنٹے تو لگیں گے ہی پر وہی وقت جسے پر لگے تھے، انتہائی سست رفتاری کا شکار ہو جاتا ہے۔ شدید انتظار کے بعد رحل والا پل نظر آیا۔ شاہد کہنے لگے کہ پہلے اسفار میں تو راستے میں آب زم زم کی ڈیڑھ لٹر والی بوتلیں دیتے تھے اب تو پوچھتے بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا، ساتھ کیک پیس بھی دیتے تھے اب سعودیہ غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور اس بات کا احساس سفر کے آغاز سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ یہ ویزا فیس میں اضافہ، یہ جرمانے۔۔۔۔ یہ مہمان نوازی کے اصول تو نہیں۔

آخر مکہ پہنچے، وہی سنابل ہوٹل، سنابل میں کچھ پرانے کچھ نئے چہرے، استقبال کرتے تھے۔ کمرہ نمبر ۱۰۲ کی چابی لے کر اوپر کمرے میں پہنچے۔ ذرا دیر بعد ہی عتیق حال احوال پوچھنے آ پہنچے۔ انھیں یہی کہا کہ اس وقت تو ہم عمرے کے لیے جا رہے ہیں۔ لبیک الھم لبیک۔ اے اللہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ تیرا شکر ادا کر سکیں تو جو دنیا داری میں پھنسے ہم جیسوں کو اذنِ باریابی بخشتا ہے۔ اپنی خطاؤں سے بھری عبادتوں کی قبولیت کی دعا کرتے حرم کی طرف روانہ ہوئے۔ وہی راہیں، لیکن بہت کچھ بدل چکا تھا۔ جہاں بلند و بالا عمارتیں تھیں وہاں اب عریض راستے، وہ سڑکیں جو بہت تنگ تنگ ہوا کرتی تھیں۔ اب اتنی کھلی ہو چکی تھیں کہ میدان کا گمان ہوتا تھا۔ کبوتر چوک بہت بڑا، بہت پھیل چکا تھا۔ جس ہوٹل، قصرِ جمعہ میں ۲۰۰۸ میں ٹھہرے تھے اب اس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ حرم کا بیرونی صحن بھی وسیع ہو چکا تھا۔ باب ملک عبد اللہ، جو ۲۰۱۲ ء میں بہت زور شور سے بنتا دکھائی دیتا تھا اب مکمل ہو چکا تھا، دور دور سے اسے دیکھا۔ با جماعت ظہر کا وقت نکل چکا تھا، باب فہد سے داخل ہوئے۔ حسبِ معمول اسلام آباد میں ہی نیت کر لی تھی۔

’’اے اللہ میں جتنی مرتبہ تیرے حرم میں داخل ہوں، جتنی دیر وہاں قیام کروں، تو میرے اعتکاف کی نیت قبول فرما۔‘‘

۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۲ء کے عمرے رات گئے کیے تھے، جمالِ کعبہ دیکھنا ہو تو رات کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ میرا خیال تھا جاوید بھائی اور ثروت باجی شام تک پہنچیں گے ان کے ساتھ عمرہ کریں گے، ان کی پرواز کا دبئی میں پڑاؤ بارہ گھنٹوں پر مشتمل تھا، شاہد کہنے لگے ہم ان کے ساتھ پھر آ جائیں گے، ابھی اپنا عمرہ کر کے احرام تو اتاریں۔ ظہر کی نماز پڑھی۔ طواف، میری پسندیدہ عبادت۔ میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ حرم پاک میں فرض نماز کے علاوہ جو بھی وقت میسر ہو وہ مطاف میں طواف کرتے گزاروں۔ ہر عبادت ہر مقام پر کی جا سکتی ہے کہ میرے رب نے اپنے محبوبﷺ کے امتیوں کے لیے سارا جہاں ہی حرم بنا دیا ہے، بس طواف صرف اور صرف خانہ کعبہ کا ہی جائز ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ اس کے علاوہ جو وقت بھی گزرا رائگاں گیا۔ اس خیال پر خود کو سرزنش بھی کرتی ہوں کہ صرف کعبہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے۔

’’اللہ تعالیٰ اپنے گھر کا حج کرنے والوں پر ایک سو بیس رحمتیں نازل کرتا ہے۔ ان میں سے ساٹھ رحمتیں طواف کرنے والوں کے لیے، چالیس رحمتیں نماز پڑھنے والوں کے لیے اور بیس رحمتیں ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہیں جو بیت اللہ شریف کو صرف دیکھ رہے ہیں۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ’’بیت اللہ شریف کے گرد طواف، نماز کی مثل ہے سوائے اس کے کہ تم اس میں گفتگو کرتے ہو، پس جو بھی اس میں کلام کرے وہ نیکی کی بات کرے۔‘‘

طواف کے سات شوط مکمل کیے وہی اپنا پرانا طریقہ کہ پہلے چکر میں پہلا کلمہ، دوسرے میں دوسرا، تیسرے میں تیسرا، چوتھے میں چوتھا، پانچویں میں پانچواں اور چھٹے میں شاہد چھٹا کلمہ اور میں دعائے یونس اور ساتویں میں آیت الکرسی پڑھا کرتے تھے۔ وہی کام اب کیا آدھ گھنٹے میں طواف سے فارغ ہو کر نواں استلام کرتے ہوئے سعی کے برآمدوں کی جانب چلے۔ کیا یہ عمرہ اتنا ہی آسان تھا جتنا میں میں نے اسے چار سطروں میں بیان کر دیا ہے۔ نہیں ایسا نہیں تھا۔ عمرے پر آنے سے پہلے ایک روز یونہی گجرات میں بیٹھے ہوئے خالدہ آپا سے بات کرنے کو بہت شدت سے جی چاہا۔ دل ہی دل میں تو میں اپنی اکثر دوستوں سے باتیں کرتی رہتی ہوں۔ فون ذرا کم ہی کرتی ہوں اور آنا جانا تو ویسے ہی بہت مشکل لگتا ہے۔۔ یاسرہ نے فون اٹھایا۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ امی کا حال احوال پوچھا تو کہنے لگی آپ کو خبر ہے؟ میں نے کہا کس بات کی۔ کہنے لگی خالد بھائی اچانک انتقال کر گئے، میرے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ ابھی کل کی بات معلوم ہوتی ہے، ہم ان کے ولیمے میں شریک تھے اور اس بات پر بہت حیران ہو رہے تھے کہ دلہن کے سامنے انھوں نے خوبصورت لکڑی کا سجا سجایا پارٹیشن لگا دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ کھانا لگنے والا ہے، بیرے وغیرہ بار بار گزریں گے بے پردگی ہو گی۔ اب معلوم ہوا خالدہ آپا اکثر اپنے ڈاکٹر بیٹے کی تبلیغی سرگرمیوں کا ذکر کرتی رہتی تھیں تو یہ بیٹا اسلامی تعلیمات پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہتا تھا۔ بلکہ ماں سے بھی اس امر پر تکرار ہو جا یا کرتی تھی۔ خالدہ آپا کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزر رہا تھا، مجھے یاد ہے ایک مرتبہ وہ مجھے ریڈیو پاکستان اسلام آباد بھی لے گئی تھیں، ہر چند جانتی تھیں کہ میں کہیں آنا جانا نہیں چاہتی لیکن ان کے اصرار پر رضا مند ہو گئی۔ ہم پہلے شبنم شکیل کے گھر گئے۔ شبنم آپا کی محبتوں کی داستان پھر کسی وقت، بہت پیاری خاتون تھیں۔ وہاں، فہمیدہ ریاض بھی موجود تھیں۔ ہم چاروں ریڈیو پاکستان اسلام آباد جانے کے لیے نکلے۔ ظاہر ہے کہ ایک ادبی پروگرام تھا جس میں فہمیدہ کو نظم گو، شبنم کو غزل گو، خالدہ آپا کو افسانہ نگار اور مجھے نقاد کی حیثیت سے مدعو کر کے ادب کی تازہ صورتِ حال پر بات کی گئی تھی۔ میں وہاں جا کر کچھ زیادہ خوش نہ تھی۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی خالدہ آپا کی۔ ایف ۶۔ ۲ کالج میں وہ وائس پرنسپل تھیں۔ کالج کا مجلہ اشاعت کے مراحل میں تھا۔ طاہرہ عبید غوری کا خیال تھا کہ خالدہ آپا سے انٹرویو کیا جائے۔ میں نے بہت محنت سے سوالنامہ تیار کیا اور وہ مکالمہ کالج میگزین کے علاوہ روز نامہ جنگ، سہ ماہی تسطیر اور ہند و پاک کے کئی جریدوں میں شائع ہوا اور بہت پسند کیا گیا اور مجھے ایک نئی راہ سجھا گیا کہ شعرا کے کلام کے تجزیاتی مطالعہ کا ایک سلسلہ ’’تجدیدِ نو‘‘ میں مسلسل آ رہا تھا اور افسانہ نگار کچھ رنجیدہ تھے کہ میں جدید شعرا پر تواتر کے ساتھ لکھ رہی ہوں اور راولپنڈی اسلام آباد جو افسانے کا شہر کہلاتا ہے، افسانہ نگاروں کو اہمیت ہی نہیں دے رہی۔ چنانچہ مکالمے کے اس سلسلے میں احمد ندیم قاسمی، رشید امجد، منشا یاد، رشید نثار، نیلو فر اقبال، عذرا اصغر وغیرہ اور بعد ازاں اس میں دیگر اساتذہ، دانشور، اور شعرا بھی شامل ہوتے گئے، یوں مکالموں کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہوا جس کی ابتدا خالدہ آپا سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں سنگِ میل پبلی کیشنز سے یہ مکالمے ’’سلسلے تکلم کے‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ خالہ آپا برصغیر پاک و ہند میں اردو علامتی افسانے کی بنیاد رکھنے والوں میں سرِ فہرست، ’’دروازے، پہچان، مصروف عورت، میں یہاں ہوں، کاغذی گھاٹ، جینے کی پابندی‘‘ وغیرہ کی بے مثل تخلیق کار، ادب کا تنقیدی شعور ان کے مقالات سے، جدید و کلاسیکی بین الاقوامی ادب کا غائر مطالعہ ہر تحریر سے عیاں ہے۔ وہی خالدہ حسین جو رات میں کافکا اور دن میں طلسم ہو شربا پڑھا کرتی ہیں۔۔۔ ترگنیف، ٹالسٹائی دوستو فسکی اور قرۃ العین حیدر جن کے پسندیدہ مصنف ہیں۔ دنیا میں جاری تمام ادبی تحریکوں سے آگاہی رکھتی ہیں۔ ان کے افسانے سریئلزم، رئیلزم، سمبلزم کے تانے بانے سے بنے جاتے ہیں۔ مابعد الطبعیاتی فضا، صوفیانہ رچاؤ، روحانی واردات اور خواب اور حقیقت کے درمیان زیست کرتا خوف و تشکیک کا شکار ابن آدم اور اس کی جذباتی و سماجی زندگی میں در آتی لامتناہی رکاوٹیں ان کی تخلیق کو منفرد اور قابلِ مطالعہ بناتی ہیں۔ پاکستان میں فکشن کے حوالے سے بھی حسین سرِ فہرست ہیں۔ عبد اللہ حسین، انتظار حسین، مستنصر حسین اور خالدہ حسین۔۔۔۔ ۔۔۔ اور میں اس وقت فون پر انھیں صرف اور صرف ایک ماں کے روپ میں محسوس کر رہی تھی۔ جدائی کا دکھ اور وہ بھی جوان خوبصورت لائق بیٹے کا دکھ، اسے فوت ہوئے دو ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا لیکن ان کی آہ و فغاں اور گریہ زاری اور تڑپ۔۔ ایسے لگتا تھا کہ بیٹے کا جسدِ خاکی ان کے سامنے پڑا ہے اور یہ حادثہ کوئی لمحہ بھر پہلے ہوا ہے۔ بار بار یہی کہتی تھیں۔

’’قرۃ میں اسے پہچان نہ سکی، وہ تو اس کے مرنے کے بعد مجھے لوگ بتا رہے ہیں کہ وہ کیا تھا، لوگ اس کا نام نہ لیتے تھے، ولی اللہ کہا کرتے تھے۔ کہاں کہاں سے لوگ نہ آئے اس کے جانے پر، اب تک آ رہے ہیں۔ مجھے تو پچھتاووں کے سمندر میں دھکیل گیا۔‘‘

میں ان کی حالت محسوس کر سکتی تھی، میں نے کہا کہ میں جس قدر جلد ممکن ہوا، اسلام آباد آ کر آپ سے ملتی ہوں اور پھر اسلام آباد پہنچتے ہی میں ان کے گھر گئی۔ یاسرہ نے کس ادب اور احترام سے دروازہ کھولا، ایک ایک فرد کو بتایا کہ میری میڈم قرۃ العین آئی ہیں۔ خالدہ آپا کتنے ہی سالوں سے اصرار کر رہی تھیں کہ کسی وقت میرے گھر آؤ بہت سی باتیں کریں گے اور میں خواہش کے باوجود نہ جا سکی۔ پچھلے سال عطیہ آئی ہوئی تھی اس کے ساتھ جانے کا ارادہ کیا، انھیں فون بھی کر دیا کہ ہم آ رہے ہیں لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس وقت ان کے گھر پر مہمان ہیں یا تمام اہلِ خانہ اکھٹے ہیں تو میں نے ارادہ ملتوی کر دیا کہ مزے سے بات چیت نہ ہو سکے گی اور انھیں فون پر اطلاع کر دی اور اب ایسے لمحوں میں ان سے ملنا، بہت دکھی کر دینے والا تھا۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہے، سب دل بہلاوے کی باتیں معلوم ہو رہی تھیں۔ یہاں تو گزرتا وقت اور بھی چرکے لگاتا دکھائی دیتا تھا۔ مجھے سمجھ میں نہ آتا تھا کہ حرف تسلی کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں۔ انھوں نے یاسرہ سے کہا:

’’بھائی کی تصویر دکھاؤ، یہ اس کی واحد تصویر ہے، ورنہ وہ کہاں کھنچواتا تھا تصاویر۔‘‘

ایک با ریش، با رعب شخصیت تھی جو اب پردۂ خاک میں نہاں تھی لیکن ماں کے دل میں دھڑکتی تھی۔ میں نے انھیں کہا کہ دو روز بعد میں عمرے پر جا رہی ہوں۔ پہلا عمرہ میں رسول پاکﷺ کے نام کا کیا کرتی ہوں اس مرتبہ ان کے اس پاک امتی ڈاکٹر خالد کا نام بھی اس میں شامل ہو گا۔ بلکہ میں آپ کے پاس بیٹھ کر ہی نیت کرتی ہوں کہ کہیں میں وقت پر ان کا نام لینا بھول نہ جاؤں۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ یہ بھولنے والی بات نہیں ہے اور پھر پہلا عمرہ ہی نہیں ہر عمرے، ہر طواف پر ان کا نام لینا یاد رہا۔ اس نام کے ساتھ ایک اور نام بھی نہ بھلا پائی۔ اپنی پیاری دوست شگفتہ عمر کا جواں سال بیٹا، عمر شاید بائیس برس تھی۔ اس کم عمری میں کتنی ہی ڈگریاں حاصل کر چکا تھا اور کتنی ہی اس کے احاطۂ خیال میں تھیں جنھیں اس نے ابھی پانا تھا لیکن وہ جانتا تھا نہ اس کے ماں باپ کہ باہر سے وہ صرف اس لیے آیا تھا کہ زندگی کے آخری لمحات اپنی ماں کے ساتھ گزار لے۔ شگفتہ عمر کے صبر و استقامت کو صرف سلام ہی پیش کیا جا سکتا ہے، تو خالد و احمد مجھے ہر پل یاد رہے اور ان کے متعلقین کے لیے صبر اور بہتر صلہ کی دعا ہر دم لبوں پر رہی۔

٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید