اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


سحابِ بہار ۔۔۔ کاشف عمران کاملؔ

ایک نئے شاعر کی کلاسیکی شاعری

سحابِ بہار

شاعر

کاشف عمران کاملؔ

 

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

سحابِ بہار

 

 

 

کاشف عمران کاملؔ

 

 

 

غزلیات

منفعل ہو کے برسنے کو نہ ٹھہرے بادل
دیکھ لے گر تری زُلفوں کے سنہرے بادل

گھیر لیتے ہیں مجھے آ کے سرِ شامِ فراق
چار جانب سے تری یاد کے گہرے بادل

گیسو و چہرۂ جاناں کی وہ چھب ہے کاملؔ
گردِ مہ جیسے اُمنڈ آئیں سنہرے بادل
٭٭٭

کیا چین سے بیٹھوں کہ سکوں دل کو نہیں ہے
آنکھوں سے تری فتنۂ محشر بہ کمیں ہے

یہ دل کہ ہے گُل چینِ سمن زارِ تمنّا
خارِ المِ ہجر سے آگاہ نہیں ہے

اے محوِ تغافل اثرِ خونِ جگر دیکھ
جو اشک بہا سو ترے خاتم کا نگیں ہے

آغاز و سر انجامِ وفا محملِ لیلیٰ
منزل گہِ مجنوں نہ فلک ہے نہ زمیں ہے

وہ کیوں کرے اصنامِ خود آرا کی پرستش
جو خاکِ درِ یار سے آلودہ جبیں ہے

کاملؔ بہ خیالِ رخِ زیبائے دل آرا
صحرا بھی مجھے غیرتِ فردوسِ بریں ہے
٭٭٭

نالۂ بلبل سے عاجز آ گیا
گل خود اپنے حال پر شرما گیا

شومیِ تقدیر اے دل کہ ہمیں
اس کا اندازِ تغافل بھا گیا

حالِ دل کہتا مگر اک رعب سے
اس نے دیکھا اور میں گھبرا گیا

کھِل گئے ہر سو تمنّا کے گلاب
سامنے سے وہ گزر کر کیا گیا

پھر نہ پلٹا واں سے وہ اے ہم نفس
کاملؔ اب کے سوئے دشت ایسا گیا
٭٭٭

سہہ پاؤں دردِ ہجر کہاں مجھ میں تاب ہے
ساقی کرم کہ حاجتِ جامِ شراب ہے

حاصل بہ گریہ کچھ نہیں صحرائے عشق میں
دریائے اشک جلوۂ موجِ سراب ہے

رحم اے شبِ فراق کہ نازک مزاج دل
پہلے ہی مبتلائے غم و اضطراب ہے

یوں نالہائے غم سے قیامت نہ کر بپا
اے عندلیب ضبط کہ گل محوِ خواب ہے

ڈرتا ہوں پھٹ نہ جائے جگر درد سے کہیں
کاملؔ یہ انتظار بھی کیسا عذاب ہے
٭٭

ہجر کا غم سہا نہیں جاتا
بن ترے اب رہا نہیں جاتا

تجھ سے دشمن کا بے وفا ہونا
کہہ تو دوں پر کہا نہیں جاتا

ہم سے اے دل بغیرِ چاکِ لباس
جوشِ گل ہے رہا نہیں جاتا

میں بھی روتا رہوں گا، یہ دامن
خوں میں جب تک نہا نہیں جاتا

اب غمِ ہجر مجھ سے اے کاملؔ
نا تواں ہوں سہا نہیں جاتا
٭٭٭

ہوائے وصل چلے گر تو رُت بدل جائے
بہارِ حسن سے دورِ خزاں نکل جائے

صدائے ناز سے تیری جو کسبِ فیض کرے
تو شورِ آہ و فغاں نغمگی میں ڈھل جائے

یہی ہے طرزِ تغافل جو ہم سے جانِ جہاں
تو کیوں نہ دل سے تری آرزو نکل جائے
٭٭٭

ہوں چمن میں مگر قرار نہیں
تابِ خوش خانیِ ہزار نہیں

ایک ضد ہے کہ وہ مجھے مل جائے
ورنہ اتنا بھی اس سے پیار نہیں

ہجر میں تیرے بے قرار ہے دل
لیکن اتنا بھی بے قرار نہیں

چشم کو دید کی طلب کیا ہو
دل ہی جب محوِ انتظار نہیں

قطعہ

میں تنزّل پہ شوق کے خوش ہوں
کاہشِ غم پہ شرمسار نہیں
کل کیا دل نے ترکِ نالۂ شب
آج آنکھیں بھی اشکبار نہیں

اے عجب دشت کے مکینوں کو
غم ہے گلشن میں کیوں بہار نہیں

اُس کی آمد کا سن کے خوش کیوں ہوں
جس کے وعدے پہ اعتبار نہیں

عشق ہے پر جنوں نہیں کاملؔ
آرزو ہے پر انتظار نہیں
٭٭٭

جو دل کو خواہشِ تسخیرِ جادۂ غم ہے
ہر ایک سانس طلبگارِ بادۂ غم ہے

ہماری منزلِ مقصود موت ہے ہمدم
کہ سجدہ گاہِ نِگہ خاکِ جادۂ غم ہے

بہ وجہِ صبر بہ باطن ازل سے ہوں مسرور
بدن پہ گرچہ بظاہر لبادۂ غم ہے

بہ راہِ عشق ترا ہمسفر بنوں کیونکر
کہ میرے پاؤں میں زنجیرِ جادۂ غم ہے

نہیں نصیب میں صہبا مرے مگر کاملؔ
صدائے خندۂ مینائے بادۂ غم ہے
٭٭٭

کس لیے آج وہ بیداد نہیں
کیوں تمھیں طرزِ جفا یاد نہیں

جان لیجیے کہ مِرا نالۂ دل
سعیِ لا حاصلِ فرہاد نہیں

ہاتھ مت کھینچ تظلّم سے کہ میں
تیری بیداد سے ناشاد نہیں

آہِ دل سینۂ گل چیرے گی
احتیاجِ نفسِ باد نہیں

غمِ دنیا کے سبب ہجر میں تم
یاد آئے کہ نہیں یاد نہیں
٭٭٭

سینۂ پُر ہوس اس طرح ستاتا کیوں ہے
جو حسیں بھی نظر آئے مجھے بھاتا کیوں ہے

ظلم کہتے ہیں اسے یہ کوئی انصاف نہیں
پاؤں جب دیتا نہیں راہ دکھاتا کیوں ہے

بے خودی ہی کے سبب آج ہوں زندہ ساقی
تجھ کو معلوم ہے پھر ہوش میں لاتا کیوں ہے

مجھ کو اے مرغِ سحر خیز صدا سے اپنی
محوِ خوابِ گلِ رعنا ہوں جگاتا کیوں ہے

شبِ تنہائی میں اے جانِ جہاں تیرا خیال
جی میں آتا ہے تو آئے پہ رلاتا کیوں ہے

کل تلک جس کے تھے دیوانے ہزاروں کاملؔ
سوئے صحرائے جنوں آج وہ جاتا کیوں ہے
٭٭٭

میں کب اپنی رضا سے آیا تھا
زندگی نے مجھے بلایا تھا

کیا جلاتی غموں کی دھوپ ہمیں
تیری زلفوں کا سر پہ سایہ تھا

کہہ رہی ہے شگفتگی گل کی
صبح دم تو چمن میں آیا تھا

بھول بیٹھے تھے آپ ہی مجھ کو
میں نے کب آپ کو بلایا تھا

یاد ہے تو نے اپنا گھر کامل ؔ
اپنے ہاتھوں سے خود جلایا تھا
٭٭٭

جادۂ راہ ہے منزل تو نہیں
موت بھی موج ہے ساحل تو نہیں

مجھ سے کہتے ہو کہ مر جاؤ تم
یہ بھی آسان ہے مشکل تو نہیں

روک مت اشک کو بہہ جانے دے
قطرۂ خوں ہی تو ہے دل تو نہیں

روز کرتا تھا تِرا ذکرِ جفا
چارہ گر ہی کہیں قاتل تو نہیں

جی کے بہلانے کو آ جاتا ہوں
ورنہ دل اب ترا مائل تو نہیں

کس لیے آئے ہو خنجر لے کر
دل نئے زخم کا سائل تو نہیں

جا رہا ہے کوئی صحرا کی طرف
جاؤ دیکھو کہیں کاملؔ تو نہیں
٭٭٭

نالۂ غم سے لبِ خشک چھڑا لے دامن
تو جو مِل جائے تبسّم سے سجا لے دامن

خود بھی انجام کو صد پارہ نہ کیونکر ہو جائے
کب تلک چاکِ گریباں کو سنبھالے دامن

میں بھی دامن کشِ ترکانِ جفا پیشہ ہوں
ہو سکے تو مری نظروں سے بچا لے دامن

گلشنِ مہر میں کانٹوں سے الجھتا کیوں ہے
ناز ہے خود پہ تو چل مجھ سے چھڑا لے دامن

تم جو کامل ؔ سے ملاقات کو آؤ، صحرا
صد گلِ ذوقِ تماشا سے سجا لے دامن
٭٭٭

گرچہ گلشن میں کھلا ہر سو گلابِ تازہ تھا
حیف زندانِ الم بے روزن و دروازہ تھا

کیا بتاؤں خستگی ہمدم تنِ رنجور کی
مشربِ خونِ جگر ہر بار زخمِ تازہ تھا

تیری آمد پر کیا ہے منعِ خوش رویانِ شہر
یہ دلِ حسن آشنا پہلے تو بے دروازہ تھا

جس گھڑی آیا بہ دستِ کاملِؔ رنگیں نوا
زورِ رفتارِ قلم از بسکہ بے اندازہ تھا
٭٭٭

نظر بہ مہر و وفا از سرِ ندامت ہے
وگرنہ ذوقِ ستم گستری سلامت ہے

نگار خانۂ وہم و گماں کا ہر پیکر
غزال چشم و گل اندام و سرو قامت ہے

درازیِ شبِ ہجراں بہ چشمِ غیض نہ دیکھ
کہ دل مقابلِ دعوائے استقامت ہے

مکینِ کوچۂ جاناں ہوا ہے طالبِ خلد
مقامِ سرزنش و موردِ ملامت ہے

اگرچہ راندۂ درگاہ ہوں مگر پھر بھی
خدا کا شکر ہے کاسہ ابھی سلامت ہے

کیا ہے خونِ تمنّا یہ سوچ کر کاملؔ
غمِ شکستِ تمنّا بھی اک قیامت ہے
٭٭٭

دعائے وصل بہ دشتِ وفا کہے کوئی
ترے کرم سے سوا مدّعا کہے کوئی

کہاں سے لاؤں ان آنکھوں میں ایک قطرۂ خوں
جسے کرشمۂ رنگِ حنا کہے کوئی

بہ قصدِ خونِ دل آزردگاں ہے جو کچھ ہے
نگہ چرنے کو تیرے حیا کہے کوئی

خرامِ ناز کو رشکِ صبا کہوں تو بنے
فروغِ عشوۂ و رنگِ حنا کہے کوئی

نہیں رہا تپشِ دل میں جوشِ سوزِ کہن
بلا سے میری اسے مبتلا کہے کوئی

بہ شہرِ لال زباناں عجب نہیں کاملؔ
مری غزل کو اگر معجزہ کہے کوئی
٭٭٭

کہتے ہو تم کہ حشر بپا ہو نہ جائے گا
دیکھو گے اس طرح سے تو کیا ہو نہ جائے گا

لا حاصلی کے غم سے تڑپتا رہے گا دل
جب تک ترے لبوں پہ فدا ہو نہ جائے گا

دور اس نگار سے تو رکھوں دل کو کیا مگر
یوں صیدِ دامِ نازو ادا ہو نہ جائے گا ؟

رازِ دل اس پہ کھول تو دوں پر وہ اس طرح
سر گرمِ ظلم و جور و جفا ہو نہ جائے گا؟

چھوٹا بھی دل اگر قفسِ عشق سے ترے
حبسِ دوامِ غم سے رہا ہو نہ جائے گا

اچھّا ہے چشمِ یار میں کاملؔ تو اے رقیب
تیرے برا کہے سے برا ہو نہ جائے گا
٭٭٭

تغافل سرخیِ خوں کے لئے وجہِ جفا کیوں ہو
نہ تم چاہو تو دستِ ناز محتاجِ حنا کیوں ہو

وہ دل جس کو قناعت پیشگی بخشے شہنشاہی
طلبگارِ کرم از سایۂ بالِ ہما کیوں ہو

بہت چاہا ہے لیکن کیوں پرستش بھی کروں اس کی
صنم کہتے ہیں سب جس کو وہی میرا خدا کیوں ہو

جسے آغوش پھیلائے بیاباں خود صدائیں دے
اسے زلفِ گرہ گیرِ صنم زنجیرِ پا کیوں ہو

نہ ہو گر طالبِ چشمِ کرم دل اس ستمگر سے
تغافل جاں ستاں ہم کو باندازِ جفا کیوں ہو

رکھوں کیا خیر کی امّید کاملؔ وہ بتِ ظالم
کرے جب کار فرمائی ستم کی انتہا کیوں ہو
٭٭٭

بننی تھی بات کیا بتِ صاحب جمال سے
آغازِ گفتگو تھا وفا کے سوال سے

تقدیر نے اسیرِ غمِ عاشقی رکھا
تھا ورنہ بے نیاز تمھارے جمال سے

عشرت کدے کو تیرے کہیں راکھ کر نہ دے
ڈرتا ہوں سوزِ آہِ دلِ پُر ملال سے

تابِ بیاں تو ہے مگر اک خوف ہے کہ وہ
ناراض ہو نہ جائے کہیں عرضِ حال سے

کاملؔ بہ فیضِ حسنِ دل آرامِ روئے یار
کیا کیا نہ گل کھلے مری خاکِ خیال سے
٭٭٭

موجِ مے گر رہے رواں ساقی
عیشِ رنداں ہو جاوداں ساقی

خون بن کر رواں ہے نس نس میں
زہرِ عشقِ پری رخاں ساقی

یہ زمیں آسماں تری جاگیر
میری منزل ہے لامکاں ساقی

کس کو دیں گے سزائے مے خواری
اپنی ہستی ہے بے نشاں ساقی

بر طرف کر بیک نگاہِ کرم
یہ جو پردہ ہے درمیاں ساقی

العطش العطش پکارے ہے
آج میرا رُواں رُواں ساقی

وہ قیامت انڈیل ساغر میں
گر پڑیں سات آسماں ساقی

کیوں نہ سن کر مری غزل ہو جائے
فلکِ پیر پھر جواں ساقی

کاملِؔ خستہ دل کدھر جائے
چھوڑ کر تیرا آستاں ساقی
٭٭٭

شکوۂ یارِ فتنہ خو کہیے
یا ستم گاریِ عدو کہیے

ہر مکینِ دیارِ اُلفت کو
کشتۂ تیغِ آرزو کہیے

کاش مل جائے حسن والوں میں
اک صنم جس کو نیک خو کہیے

میں نے چاہا ہے ایک بت کو جسے
ماہ و انجم کی آبرو کہیے

ذکر آ جائے جب محبّت کا
چشمِ گریاں کو آبجو کہیے

دل کو سو بار مبتلا لکھیے
اور جگر کو لہو لہو کہیے

ہجر کے بیقرار لمحوں کو
ثمرِ ذوقِ جستجو کہیے

آج کی شب بہ لطفِ غنچہ دہن
خامشی کو بھی گفتگو کہیے

غمِ ہجراں کا نام مت لیجے
داستانِ مے و سبو کہیے

میرے ایک ایک شعر کو کاملؔ
موجِ دریائے رنگ و بو کہیے
٭٭٭

وہ بتِ بیباک گر جلوہ نما ہو جائے گا
اہلِ دل کہتے ہیں اک محشر بپا ہو جائے گا

گر اسی انداز سے جھکتے رہے صورت پرست
بے تامّل ہر بتِ کافر خدا ہو جائے گا

دل بچا تو ہے فریبِ زلف سے پر خوف ہے
کشتۂ نیرنگِ چشمِ سرمہ سا ہو جائے گا

اے رقیبِ تنگدل کچھ ہوش کر وہ مہ جبیں
چاہنے سے تیرے کیا مجھ سے خفا ہو جائے گا؟

ہم نشینوں حسنِ بے پروا فسوں گر ہے تو ہو
غم بہ فیضِ عاشقی جادو رُبا ہو جائے گا

جب وہ رشکِ گل ادائے ناز سے کھینچے گا تیغ
فرقِ عاشق آپ گردن سے جدا ہو جائے گا

ہر عدو ہے دشمنِ جانِ حزیں اے نازنیں!
تیرے آنے تک نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے گا

بے سبب کاملؔ دیارِ عشق میں رکھّا قدم
کیا خبر تھی دل گرفتارِ بلا ہو جائے گا
٭٭٭

دل سے ترا خیال جدا ہو گیا ہے آج
یعنی مجھی سے خونِ وفا ہو گیا ہے آج

پہلے تو دل کا حال نہ ایسا ہوا کبھی
کیا ہے کہ بارِ عشق بلا ہو گیا ہے آج

کل تک جو تھا کنشت میں پتھّر کا بت وہ شوخ
کاملؔ بہ وہمِ خویش خدا ہو گیا ہے آج
٭٭٭

بے وفا آپ کو کہا صاحب
میرا کہنا بُرا لگا صاحب

ہو گئی مجھ سے کیا خطا صاحب
کیوں ہوے مائلِ جفا صاحب

چھوڑ بیٹھے ہیں دل وہ اہلِ ہوس
تھا جنھیں دعویِ وفا صاحب

میں نے تم کو صنم کہا تھا کبھی
اور تم بن گئے خدا صاحب

نام دشمن کا جب لیا میں نے
رو دیے آپ کیا ہوا صاحب

کہہ چکے ہیں جب آپ کو اپنا
کیا کریں آپ سے گلہ صاحب

اک ذرا سا ہی ترس کھا لیتے
دلِ کاملؔ تھا بے نوا صاحب
٭٭٭

جب سے آہِ دلِ مغموم اثر مانگے ہے
بسکہ خس خانۂ تاثیر شرر مانگے ہے

دیکھ لے آ کے ستم گار کہ دیوانہ ترا
وحشتِ دل کے سبب دشت میں گھر مانگے ہے

ہم جئیں خاک کہ بن تیرے چمن میں ظالم
خس و خاشاک تلک وصلِ شرر مانگے ہے

ہم وہ معصوم کہ اک وعدے پہ جاں دیتے ہیں
اور وہ یہ شوخ کہ دل دیجے تو سر مانگے ہے

حیف گر اب بھی نہ پوری ہوں تمنّائیں کہ آج
خود اجابت بھی دعاؤں میں اثر مانگے ہے

شعر کہنے کو نہ کہہ مجھ کو خدارا کاملؔ
شاعری سہل نہیں خونِ جگر مانگے ہے
٭٭٭

واسطہ کیا نشانِ منزل سے
غرقِ دریا ہوں دور ساحل سے

سو بلاؤں کے میزباں ٹھہرے
تنگ آئے فراخیِ دل سے

کوئی دریا ہی اب ملے تو بجھے
لے کر آئے ہیں پیاس ساحل سے

ایک اداسی سی چھا گئی ہر سو
کون اٹھا آج اپنی محفل سے

وقت ظالم ہے تیری یادیں بھی
محو ہو جائیں کی مرے دل سے

زندگی بھر لڑا کئے اے دوست
ایک کے بعد ایک مشکل سے

بیٹھے بیٹھے اداس ہو جانا
آپ بھی ہو گئے ہیں کاملؔ سے
٭٭٭

جذبۂ دل میں یہ کمال تو ہے
اسے میرا بھی کچھ خیال تو ہے

نہ سہی انتہائے شامِ فراق
آرزوئے شبِ وصال تو ہے

میرے گھر آئے ہو رقیب کے ساتھ
اِس میں پوشیدہ کوئی چال تو ہے

ان سے اک روز یہ کہا میں نے
مجھ کو اس بات کا ملال تو ہے

آپ کا حسن لازوال نہیں
ہنس کے بولے کہ بے مثال تو ہے

خوش ہوں کاملؔ اگرچہ کم ہی سہی
اسے میرا بھی کچھ خیال تو ہے
٭٭٭

پاتے نہیں چراغِ تمنّا سے سود ہم
لیتا ہے نور غیر سمیٹے ہیں دود ہم

عاجز ہوئے بہ ساحتِ کون و مکاں دریغ
گو چاہتے تھے کشفِ رموزِ وجود ہم

دے کر ادھار ہجر کو سرمایۂ حیات
پاتے رہے بہ رنگِ غم و درد سود ہم

خوش تھے بہت عدم میں، جہانِ خراب میں
لائے گئے بہ سازشِ چرخِ کبود ہم

نیرنگِ آرزو کو بعنوانِ بندگی
ڈھالا کیے بہ شکلِ قیام و سجود ہم

کاملؔ چلو لباسِ جنوں زیبِ تن کریں
کب تک رہیں گے وقفِ غمِ ہست و بود ہم
٭٭٭


رباعیات

شکوے سے وہ ہو جائے ہمارا مشکل
کیا کیجیے گلہ دے ہی چکے ہیں جب دل
قسمت میں ہماری نہیں گر بادۂ وصل
زہرِ غمِ ہجراں ہی سہی اے کاملؔ
٭٭

کیا آ گئی گلشن میں حریفِ بلبل
کانوں میں مرے آئے ہے صوتِ قُلقُل
پیغامِ طرب ہے کہ کوئی نالۂ زار؟
معشوقۂ رنداں ہے کہ ہے عاشقِ گل؟
٭٭

اُس وقت مجھے بھی کوئی انکار نہ تھا
دل لینے میں تم کو بھی کوئی عار نہ تھا
مت یاد دلاؤ وہ زمانہ کہ گیا
اس وقت میں نادان تھا ہشیار نہ تھا
٭٭

ہر لمحہ غمِ نو میں گرفتار نہ تھا
بے چارۂ و بے یارو مددگار نہ تھا
وحشت تو ہمیشہ سے ہے کاملؔ لیکن
دل اس قدر آ شفتہ و بیزار نہ تھا
٭٭

دل رنج سے بے حال ہو گیا ہے
رنجور تا حدِّ کمال ہو گیا ہے
قاتل ہمیں اس کا خیال ہو گیا ہے
یہ عشق تو اک وبال ہو گیا ہے
٭٭

دل درد کا پابند ہوا جاتا ہے
غم سینے میں دوچند ہوا جاتا ہے
اب اور نہیں تاب بس اے شدّتِ یاس
کر رحم کہ دم بند ہوا جاتا ہے
٭٭

اک لحظہ نہ تھا قرار کس سے کہتے
دکھ درد تھے بے شمار کس سے کہتے
نزدیک نہ تھا جو تو تو اے بے پروا
احوالِ دلِ فگار کس سے کہتے
٭٭

تجھ تک خبرِ یار آنے سے رہی
وہ بادۂ مشکبار آنے سے رہی
کاملؔ نہ کر آرزوئے گل کہ یہ دل
صحرا ہے یہاں بہار آنے سے رہی
٭٭

چاہت کو تری دل سے مٹایا کب تھا
ہم نے تری یادوں کو بھلایا کب تھا
پر خوف ترے کھونے کا ہوتا کیونکر
اک وہم سے زیادہ تجھے پایا کب تھا
٭٭

گر بحرِ بلائے عشق ساحل ہوتا
اور گامِ رہِ نگار منزل ہوتا
چاہت اگر اتنی ہی ہوتی آساں
ہر سنگ ترے کوچے میں اک دل ہوتا
٭٭

ہر گامِ رہِ نگار منزل ہوتا
گردابِ بلائے عشق ساحل ہوتا
مشہورِ جہاں ہم ہی ہوتے کیونکر
ہر کوئی اگر عشق کے قابل ہوتا
٭٭

اس طرح کے سوئے ظن میں کیا شاد رہوں
اپنے ہی گمان گا ظلم کس طور سہوں
صد حیف جو مجھ سے یار ملنے کو کہے
تو اِس کو بھی دشمن کی اک چال کہوں
٭٭

عکسِ رخِ محبوب سے خالی آنکھیں
قسمت میں ہماری ہیں سوالی آنکھیں
ہر وقت ستانے کے لیے اے کاملؔ
رہتی ہیں تصوّر میں وہ کالی آنکھیں
٭٭

مشکل میں ہوں کچھ کہوں یا خاموش رہوں
اس ظلم پہ چیخوں یا خاموش رہوں
پوچھے ہے وہ مجھ سے حالِ دشمن کاملؔ
حیراں ہوں جواب دوں یا خاموش رہوں
٭٭

ہر چند فغاں گیر ہوں مانندِ جرس
غربت میں یہ قید مجھ پر بھاری ہے زِبس
لیکن خبرِ یار اگر آ جائے
ہو گوشۂ گلشن سے سوا کنجِ قفس
٭٭

دل بجھ سا گیا ہے تیرے نہ آنے سے
یعنی وہی رسمِ ظلم دہرانے سے
ہر غنچۂ و گل اداس ہے جانِ جہاں
گلشن میں مرے اداس ہو جانے سے
٭٭

چہروں پہ جمی گرد ہے تو ہے میں ہوں
جذبوں کا لہو سرد ہے تو ہے میں ہوں
سب خواب ہوئی راحتِ ایامِ وصال
اب ہے تو فقط درد ہے تو ہے میں ہوں
٭٭

تجھ کو سببِ خونِ وفا سمجھیں گی
یا اس کو بھی میری ہی خطا سمجھیں گی
جب تیرے بغیر جادہ پیما ہوں گا
نہ جانے اداس راہیں کیا سمجھیں گی
٭٭

خاموش، اداس، تنہا، بھیگی آنکھیں
کیا مجھ کو نہ پیاری تھیں وہ پیاری آنکھیں
یہ ایک سوال خود سے پوچھوں گا ضرور
یاد آئیں گی جب کبھی وہ کالی آنکھیں
٭٭

عالم یہ ہوا کہ تنہا غم میں اکثر
جلتا ہوں بہ آتشِ دل میں خستہ جگر
دوپہر میں گرمیوں کی جیسے کاملؔ
بے سایہ سڑک پہ کوئی تپتا پتھّر
٭٭

لایا ہے بہ منزل گہِ غم جادۂ شب
پھر زہرِ دمِ صبح بنی بادۂ شب
کیا کیا نہ تھی امّید پر افسوس اسے
ہنگامِ سحر بھول گیا وعدۂ شب
٭٭

رس گھول رہے ہیں نغمہ ہائے بلبل
مد ہوش ہوئے ہیں آج سرو و سنبل
ہاتھوں میں لیے کھڑی ہے ہر شاخِ چمن
پُر بادۂ نوبہار صد ساغرِ گل
٭٭

اب کس سے کہیں کیا ہے اداسی کا سبب
ظاہر میں میسّر ہمیں آرام ہے سب
ہے یاس نے وہ دام بچھایا کاملؔ
رخصت ہوئی اس دل سے تمّنائے طرب
٭٭

کب واقفِ اسرار ہوا میرا دل
ہرگز نہ کھلے مجھ پہ رموزِ مشکل
ہر ناقصِ کم فہم کہے مجھ کو امام
میں اپنے کمال میں ہوں ایسا کاملؔ
٭٭

توڑے گا ہزار خواب جاتے جاتے
دے کر غم و اضطراب جاتے جاتے
کاملؔ مگر اب بھی وہ ہمیشہ کی طرح
کر جائے گا لاجواب جاتے جاتے
٭٭

غم خانۂ ہست و بود میں کیوں لے آئے
۱س دائرۂ شہود میں کیوں لے آئے
خوش تھا جو نہیں تھا مرے ہمدرد مجھے
وحشت کدۂ وجود میں کیوں لے آئے
٭٭

جب تک کہ نہ آیا تھا تہِ دامِ اجل
اس عقدہ کشائی میں رہا میں بے کل
پر اس سے سوا کچھ نہ سمجھ میں آیا
اک شعبدہ گر ہے کار فرمائے ازل
٭٭٭


متفرقات

ترسا ہے بے خودی کو مِرا دل بجائے خوں
آنکھوں سے آج کاشکے بہنے لگے شراب
کیا غم غلط کریں گے مرا شامِ ہجر میں
اک ساغرِ شکستہ و مینائے بے شراب
٭

نہ پوچھ لطفِ مے تند و تیز اے واعظ
زِدستِ ساقیِ صد فتنہ خیز اے واعظ
٭

چلی بادِ صبا آئی بہاراں تُم نہیں آئے
سبھی آئے مگر در بزمِ یاراں تُم نہیں آئے
کئی تصویرِ خوش رُویاں ہوئی جلوہ نما لیکن
نہیں آئے تو اے رشکِ نگاراں تُم نہیں آئے
٭

دل کیوں ہوا اسیرِ غم و رنج اب نہ پوچھ
ہم کس لیے ہیں خستہ جگر تشنہ لب نہ پوچھ
جاتی رہی ہے طاقتِ گفتار ساقیا
دینی ہے گر شراب تو لا دے سبب نہ پوچھ
٭

دورانِ سفر جب نہ رہا ساتھ تمھارا
مغموم سی لگنے لگی آوازِ جرس بھی
٭

ستم ہے ہم پہ جو مرہم بجائے ناخن ہے
کہ ریشہ ریشۂ دل آشنائے ناخن ہے
وہ بے نیاز تو سمجھا کہ ہے حنا مطلوب
سمجھ نہ پایا کہ خوں مدّعائے ناخن ہے

گرچہ وحشت کہ سبب گھر سے بہ صحرا نکلے
چلتے چلتے ترے کوچے کی طرف آ نکلے
ڈوب جائے غمِ ہر ظلمِ بتاں موجِ سرشک
کیا ہی اچھا ہو اگر صورتِ دریا نکلے

خوشی کو روٹھے تو مدّت ہوئی پہ آج کی رات
خبر نہیں کہ مرے دل میں غم سوا کیوں ہے

داغِ غمِ فراق مٹایا نہ جائے گا
تیرا خیال ہم سے بھلایا نہ جائے گا
لب تشنۂ جفا ہی سہی دل حریفِ خویش
دستِ ستم بھی تجھ سے اٹھا یا نہ جائے گا
٭٭٭

نظم


خاموشیِ شب

۱

کیا ہوا کیوں خموشیِ شب میں
آ رہی ہے صدا سسکنے کی
کس کے غم میں سیاہ پوش ہے رات
چاند نکلا ہے چودھویں کا مگر
روشنی کا نشاں نہیں ملتا
ڈھونڈتا ہوں مگر رگِ جاں میں
زندگی کا نشاں نہیں ملتا


۲

ہر طرف ہے سکوں کا راج تو پھر
بحرِ ہستی میں کیوں تلاطم ہے
خوں فشاں کس لیے ہے دیدۂ نم
کس کی یادیں برنگِ قوسِ قزح
جلوہ گر سامنے ہیں آنکھوں کے
کس کی باتوں کی بازگشت ہے یہ
جس نے ترسی ہوئی سماعت کو
اور ترسا دیا ہے اس پل میں
کیا یہ یادیں اسی کی ہیں جس نے
ہم سے باندھا تھا عہد الفت کا
کیا یہ باتیں اسی کی ہیں جس نے
ہم سے اک دن کہا تھا شام ڈھلے
کچھ بھی ہو ہم جدا نہ ہوں گے کبھی

۳

تم کہ تھے ہم سفر مرے جاناں
کیوں نئے راستے پہ چل نکلے
کیوں مجھے یوں بھٹکتے پھرنے کو
تشنہ لب، خستہ حال، آبلہ پا
زندگی کی ڈگر پہ چھوڑ گئے
ہاں مگر تم سے کیا گلہ کرنا
تم بھی تو میری طرح بے بس تھے!

۴

میں ہوں اب اور مری یہ تنہائی
اور ان ساعتوں کی یادیں ہیں
جو تمھاری حسین آنکھوں کے
ٹمٹماتے دیوں سے روشن تھیں
٭٭٭

تشکر: شاعر جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید