نثری نظموں کا ایک مجموعہ
مکتب
شاعر
حیدر علی
ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
مکتب
حیدر علی
نثری نظمیں
اُداس
اُداس بیٹھے ہو
کیوں مایوسی کو اپنا لیا؟
کیوں اپنے اطراف
دیواریں بنا لیں؟
کیوں کوئی روشن دان
نہ بنایا؟
کیوں دیواروں کے اُس پار
نہیں دیکھنا چاہتے؟
کیوں
ڈرتے ہو تم؟
کبھی دیکھا ہے
دریاؤں کے کناروں کو؟
ہمیشہ ساتھ چلتے ہیں
مگر
کبھی مل نہیں سکتے
نہ جانے
کتنے راستے طے کرتے ہیں
ایک ساتھ
مگر
اپنی اپنی حدوں میں رہتے ہیں
کیونکہ
جب دریا
اپنی حدیں بھول جائیں
تو کنارے
ٹوٹ جاتے ہیں
پھر پانی
ہر طرف پھیل جاتا ہے
اور سیلاب
اپنے ساتھ
سب کچھ
بہا لے جاتا ہے۔
اس لیے
کچھ فاصلے
بنے رہنے دو
کچھ دیواریں
قائم رہنے دو
ہر قربت
ملاپ نہیں ہوتی
اور ہر ملاپ
محفوظ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی
دور رہنا ہی
محبت کو
بچائے رکھتا ہے
٭٭
اک حسینہ
زلفیں جیسے
ناگن
جبیں جیسے
چاند
آنکھیں جیسے
غزال
رخسار جیسے
گلاب
لب جیسے
پنکھڑی
گفتار جیسے
شیریں
مسکرائے جیسے
بہار
افسردہ جیسے
خزاں
چلے جیسے
مورنی
بدلے جیسے
موسم
اک حسینہ جیسے
تم
٭٭
بے معنی
تیرے بغیر
یہ دنیا
یہ رنگ، یہ موسم
یہ دن، یہ رات
یہ مہینہ، یہ سال
یہ سیارے، یہ ستارے
یہ دریا، یہ سمندر
یہ بارش، یہ بادل
یہ ندیاں، یہ جنگل
یہ پیڑ، یہ پودے
یہ پھول، یہ کلیاں
یہ جگنو، یہ تتلی
یہ نظم، یہ غزل
یہ شعرو شاعری
میں اور یہ سب
بے معنی ہے
تیرے بغیر
٭٭
جنم دن
آج سے ۲۸برس پہلے
جب تم اس دنیا میں آئیں
کیا ہی عجب رات تھی
آسماں ستاروں سے
چمک رہا تھا
چاند بادلوں کے پیچھے
چھپ رہا تھا
آج سے ۲۸برس پہلے۔
جب تم اس دنیا میں آئیں
کبھی سوچا تھا تم نے
آج ۲۸ برس بعد
کوئی شاعر تم پر
نظمیں لکھے گا
کبھی سوچا تھا تم نے
کسی شاعر کا
تخیل ہو گی
کبھی سوچا تھا تم نے
۲۸ برس پہلے
جب تم اس دنیا میں آئیں
٭٭
میں تمہارے لیے کیا ہوں
اگر میں
"حیدر”
تم سے یہ پوچھوں
میں تمہارے لیے کیا ہوں
کیا کہوں گے تم؟
میں کہوں گا
تم میرے لیے
اوپر والے کی طرف سے
دی گئی ہے ایک نعمت ہو
جو قسمت والوں کو
عطا ہوتی ہے
تم
وہ خیال ہو
جس کو آنے کے بعد
میری نظمیں مکمل ہوئی
تم
وہ نظارہ ہو
جس کو دیکھنے کے بعد
کوئی نظارہ نہ دیکھا میں نے
تم
وہ آخری آواز ہو
جس کو سن نے کے بعد
کوئی آواز نہ سنی میں نے
تم
وہ آخری الفاظ ہو
جس کو لکھنے کے بعد
کوئی لفظ نہ لکھا میں نے
تم
وہ آخری کہانی ہو
جس کو پڑھنے کے بعد
کوئی کہانی نہ پڑھی میں نے
٭٭
میں نے چاہا تم کو
میں نے چاہا تم کو
مجنوں کی طرح
میں نے چاہا تم کو
رانجھا کی طرح
میں نے چاہا تم کو
فرہاد کی طرح
میں نے چاہا تم کو
چکور کی طرح
میں نے چاہا تم کو
پروانے کی طرح
میں نے چاہا تم کو
راج ہنس کی طرح
میں نے چاہا تم کو
زندگی کی طرح
٭٭
چپ
جب سے تم چپ ہوئی
پھول کھلنا بھول گئے
پنچھی اڑنا بھول گئے
ستارے چمکنا بھول گئے
دن آنا بھول گئے
شاعر لکھنا بھول گئے
٭٭
کچھ باتیں
کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں
شاید
کبھی نہیں کہنی تھی
ہمیشہ دل میں رہنی تھی
مگر
اب وقت آ چکا
لیکن
وہ باتیں کیسے کہوں میں؟
جو تم کو خفا کر جائیں
چلو
چلتے ہیں
پھر ماضی میں
یاد کرو
وہ باتیں سب
جو ہم نے کی تھیں
یاد کرو
وہ وعدے سب
جو ہم نے کیئے تھے
کیا
یاد نہیں؟
چلو
یاد کرو
وہ پہلا
لمحہ
جب تم آئی تھی مکتب میں
یاد آیا؟
وہ پہلا
لمحہ
ہمم۔۔ ۔۔
سن رہی ہوں میں سب
بولو اب آگے سب
کیا بولوں میں آگے سب
تم کو تو
پہلا
لمحہ یاد نہیں
خیر کوئی بات نہیں
کیا یاد کراؤں تم کو اب
وہ بیتی باتیں
وہ بیتی یادیں
اب بھول جاؤں تو بہتر ہے
کچھ باتیں کہنا چاہتا تھا
اب نہ کہوں تو بہتر ہے
٭٭
یاد ہے تم کو
یاد ہے تم کو
جب ہم پہلی بار ملے تھے،
ایک دوسرے سے انجان ملے تھے،
نہ مجھے تیری خبر تھی،
نہ تجھے میرا پتا تھا،
پر ہمارے دلوں کا رابطہ تھا۔
یاد ہے تم کو؟
ہچکچاتے رہتے تھے ہم،
کچھ نہ کہتے تھے،
ایک دوسرے کو
تکتے رہتے تھے۔
یاد ہے تم کو؟
میری زندگی میں آئے تھے جب تم
بہار کا موسم لائے تھے جب تم
گلشن میں
کھلتا ہوا
گلاب تھے جب تم
یاد ہے تم کو؟
میرے غم، میری خوشی کا
معیار تھیں تم۔
یاد ہے تم کو؟
تم کہتی تھیں
دن کو رات،
میں کہتا تھا-
ہاں۔
تم کہتی تھیں
صبح و شام،
میں کہتا تھا-
ہاں۔
یاد ہے تم کو؟
تم نے کہا تھا-
اپنی بات چلاتی ہوں میں،
سچ سننے کی عادی ہوں میں،
خود اپنی ہی کہانی ہوں میں،
اس کہانی کی شہزادی ہوں میں۔
یاد ہے تم کو
جب ہم پہلی بار ملے تھے
٭٭
کیا لکھوں تمہیں
نیلا آسماں لکھوں
جگمگاتے تارے لکھوں
صبح کی سحر لکھوں
سورج کی پہلی کرن لکھوں
دوپہر کا آفتاب لکھوں
صحرا میں برستا ابر لکھوں
پہاڑوں سے گرتا آبشار لکھوں
قافلے کا رہبر لکھوں
مسافر کی منزل لکھوں
لکھاری کی عبارت لکھوں
شاعر کی شاعری لکھوں
بتاؤ کیا لکھوں؟؟
٭٭
تیرے بن
زندگی یوں لگتی ہے
جیسے
زنداں میں
قیدی ہو۔
جیسے
گلشن میں
ویرانی ہو۔
جیسے
بہار میں
خزاں ہو۔
جیسے
ختم ہوتا ہوا
چاند ہو۔
جیسے
ڈھلتا ہوا
سورج ہو۔
جیسے
ٹوٹتا ہوا
سانسوں کا
بندھن ہو
٭٭
کچھ نہیں بدلہ
وہ ہی پہلو میں بیٹھی حسینہ
وہ ہی لائبریری
وہ ہی چاروں اطراف کتابیں
وہ ہی در
وہ ہی کھڑکی
وہ ہی ٹیبل
وہ ہی کرسی
وہ ہی پنکھا
وہ ہی گھڑی کی ٹک ٹک
وہ ہی کانٹوں کا بدلنا
سب کچھ تو وہ ہی ہے
کچھ بھی تو نہیں بدلہ
بدلے تو صرف ہم
٭٭
پچھلے برس
یاد ہے
آج ہی کے دن
پچھلے برس
اپنے مستقبل کی سر زمین پر
ایک ننھا سا پودا لگایا تھا
آج
پچیس جولائی دو ہزار پچیس
پھر اسی راستے سے گزرا
تو دیکھا
زمین بنجر پڑی تھی
ننھا پودا
آخری سانسیں لے رہا تھا
میں قریب گیا
تو یوں لگا
جیسے ابھی سانسیں باقی ہوں
آہستہ سی آواز میں
کہتا کیا ہے
جو ٹہنی
میرا سہارا تھی
جس کے بھروسے
میں طوفانوں سے لڑ جاتا
وہی
مجھ پر گر گئی
پتے بھی
مجھے بوجھ سمجھنے لگے
اور میری جڑیں بھی
مجھ سے کٹ کر چلی گئیں
جن بادلوں میں
میرے حصے کا پانی تھا
وہ اسی وادی میں جا برسے
جہاں سے
تم مجھے لائے تھے
٭٭
آج کا دن
کچھ خاص سا ہے
ایک عام سی تاریخ تھی
مگر یادگار بن گئی
آج تم ملے
تو یوں لگا
جیسے
مسافر کو راستہ مل جائے
جیسے
بیمار کو دوا مل جائے
جیسے
خاموش دعا کو
جواب مل جائے
تم آئے
تو لفظ کم پڑ گئے
دل نے کہا
یہ ملاقات نہیں
کوئی خوبصورت اتفاق ہے
ایک نیا رشتہ
ایک نئی خوشی
ایک نئی کہانی
اور پھر
ہر گزرتا دن
تیری یاد کا
ایک نیا صفحہ بن گیا
اب ہر تاریخ میں
سب سے عزیز
آج کا دن ہے
٭٭
میں تمہیں پہچان لوں گا
اگر کبھی جنموں کے بعد
ہماری پھر ملاقات ہوئی،
تو میں تمہیں پہچان لوں گا۔
جب کبھی بلند و بالا پہاڑ دیکھوں گا،
جب کبھی برستے ہوئے بادل دیکھوں گا،
جب کبھی لہراتے ہوئے کھیت دیکھوں گا،
جب کبھی چٹیل میدان دیکھوں گا،
جب کبھی ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھوں گا،
جب کبھی صحراؤں میں اڑتی ہوئی ریت دیکھوں گا،
جب کبھی دور سے آتا ہوا طوفان دیکھوں گا،
تو شاید تم سامنے نہ ہو،
مگر دل تمہاری موجودگی محسوس کر لے گا۔
اور پھر میرے دل کو یقین ہو جائے گا-
یہ وہی ہے …
جسے میں نے کبھی چاہا تھا۔
یہ وہی ہے …
جسے وقت بھی مجھ سے جدا نہ کر سکا۔
چاہے کتنے ہی جنم گزر جائیں،
چاہے زمانے بدل جائیں،
چاہے ہماری یادیں بھی دھندلا جائیں،
مگر جب کبھی تم میرے سامنے آؤ گے،
میری روح تمہیں پہچان لے گی۔
٭٭
تمہاری خواہش
تم نے بس اتنا مجھ سے کہا
"مجھے آج باہر جانا ہے”،
میں نے تمہاری اس خواہش کو
اپنا وعدہ جانا ہے۔
بس اتنی سی خواہش تھی تمہاری
کہ گھر سے باہر جاؤں گی۔
کچھ پل تمہارے ساتھ گزاروں
کچھ لمحے خوشی کے پاؤں گی
تمہاری خوشی کی خاطر میں نے ہر دل کو جیت لیا
تمہاری بہن سے بات کی
تمہاری ماں کو پیار سے سمجھایا۔
تمہارے بھائی کو بھی منایا،
تمہارا خواب سب کو سنایا۔
تم بس خواہش کرتی رہنا
میں راستے بناتا جاؤں گا۔
آج گھر والوں کو منایا ہے
کل دنیا کو مناتا جاؤں گا۔
٭٭
میں چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں
تو پھر سے آئے۔
میں چاہتا ہوں
ابر برس جائے۔
میں چاہتا ہوں
بہار آئے۔
میں چاہتا ہوں
قوس قزا آئے۔
میں چاہتا ہوں
تیرے چہرے پہ مسکان آئے۔
میں چاہتا ہوں
تجھے میری یاد آئے۔
میں چاہتا ہوں
تو میرے لیے گنگنائے۔
میں چاہتا ہوں
نظم میں غزل آئے۔
میں چاہتا ہوں
تو میری ہو جائے۔
٭٭
آپ
میری خوشی، میرا غم
آپ
میری چاہ، میری تمنا
آپ
میرا چین، میرا قرار
آپ
میری دیوانگی، میری بیگانگی
آپ
میری خزاں، میری بہار
آپ
میری جیت، میری ہار
آپ
میرا دن، میری رات
آپ
میرا شہر، میرا گاؤں
آپ
میرا گلشن، میرا باغ
آپ
میری دنیا، میرا جہاں
آپ
میرا جینا، میرا مرنا
آپ
میرا میں، میرے آپ بھی
آپ
٭٭
کوئی تو ہو
کوئی تو ہو
جو تم کو سمجھائے
کہ زندگی
ابھی ختم نہیں ہوئی
حیدر،
ابھی بھی
امید باقی ہے
جو وقت کے ساتھ
ختم بھی ہو جاتی ہے
مگر
پھر کسی کے لفظوں سے
واپس آ جاتی ہے
کوئی تو ہو
جو تمہارے خستہ حال میں
تمہارا ہاتھ تھامے
جو تمہاری کمزوریوں کو
تمہاری طاقت بنائے
جو تمہیں
آگے بڑھنے کی
امید دلائے
جو تم سے کہے –
ہم کر جائیں گے
ان طوفانوں سے
لڑ جائیں گے
کوئی تو ہو
جو تمہیں یہ بتائے
کہ ہر شکست
اختتام نہیں ہوتی
کچھ شکستیں
انسان کو
خود سے ملانے آتی ہیں
کچھ اندھیرے
روشنی کی قدر
سکھانے آتے ہیں
اور کبھی کبھی
زندگی ختم نہیں ہوتی-
بس
زندگی پر سے
یقین اٹھ جاتا ہے۔
تب…
کوئی تو ہو
جو تم پر
تم سے زیادہ
یقین کرے
کوئی تو ہو
جو تمہارے اندر
مرتی ہوئی امید کو
پھر سے آواز دے
اور کہے –
اٹھو،
ابھی سفر باقی ہے۔
ابھی
تمہیں بہت دور جانا ہے۔
٭٭
آہٹ
ان کے قدموں کی آہٹ سے
یوں دل کی دھڑکن کا
تھم جانا
ہائے!
وہ باتیں
وہ زمانہ
جب ہم ملے تھے
ایک دوسرے سے
جانا
آج ملے ہیں
تو یاد آتا ہے
وہ زمانہ
میرے روبرو آتے ہی
تیرا وہ
نظریں چُرانا
پھر
تیرا چپکے چپکے سے
دیکھے جانا
میری نگاہ پڑتے ہی
رخ کو
پھیر جانا
"حیدر ” کو یاد آتا ہے
آج بھی
وہ زمانہ
تیرا آتے ہی
دل کی دھڑکن کا
یوں تھم جانا
٭٭
تخیلاتی دنیا
میں نے تم سے
ایک دنیا تخلیق کی
میں نے تمہیں
اپنے بہت قریب پایا
تمہارا ہاتھ تھام کر
میں نے
نا ممکن منزلوں کو پا لیا
تمہارے ساتھ بیٹھ کر
میں نے
صدیوں کا سفر کر لیا
تمہاری آنکھوں سے
میں نے
وہ منظر دیکھے
جو ایک عام انسان کی
سوچ سے بھی
دور تھے
تمہارے ساتھ
میں نے
وہ سب کچھ سیکھا
جسے سیکھتے ہوئے
لوگوں کی عمریں
گزر گئیں۔
٭٭٭
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں