نظم و غزل کی کلیات
موجزن احساس دریا
شاعر
اسلم عمادی

ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کا نمونہ پڑھیں…..
موجزن احساس دریا
کلیاتِ نظم و غزل
اسلم عمادی
حصار منبر و محراب
حمد
ہنستے رہیں گے لب یہ عنایت اسی کی ہے
برسیں گے ہم پہ پھول یہ الفت اسی کی ہے
میں کیا ہوں ایک قطرۂ بحر کمال شوق
ہوں آج موجزن تو یہ قدرت اسی کی ہے
مجھ سے تمام شہر میں ہے گرمیِ حیات
میرے بدن میں ساری حرارت اسی کی ہے
ہم کو بنا دیا ہے ہواؤں کا حکمراں
ہم پر اتر رہی ہے جو طاقت اسی کی ہے
ہم کیا تھے صرف رنگِ بصارت کا آئینہ
ہم میں جو آ گئی ہے بصیرت اسی کی ہے
٭٭٭
ایک ادھوری حمد
تجھی سے روشنی آنکھوں میں
رنگ بے زبانی میں
تماشا بے نشانی کا
لہو کا زاویہ گہرا
تجھی سے راکھ میں چنگاریاں
سوکھی ندی میں چیتے سوتے
کسی سنسان سی آہٹ
تجھی سے روشنی آنکھوں میں
وحشت سی بصیرت میں
زباں میں قوتِ آتش نشانی
تماشا بے نشانی کا
کہ ہر وسعت میں آبادی
لہو کا زاویہ گہرا
ستم کا مسئلہ گہرا
٭٭٭
ہوائیں کھول، خداوند
میں کتنی صدیوں سے خاموش دائرے میں ہوں
کہ ایک لفظ بھی تابِ نوا نہیں رکھتا
کہ کوئی سامعہ ذوقِ ندا نہیں رکھتا
میں کتنی صدیوں سے خاموش دائرے میں ہوں
کہ کوئی موج اٹھے، مجھ سے آ کے ٹکرائے
کہ میرے نور کا شیرازہ یوں بکھر جائے
کہ ہر سیاہ سے گرداب پر چراغ جلے
ہوائیں کھول، خداوند پھر دریچہ جگا
کہ کم صبائی سے ہر کشت میں ہے محرومی
کہ پودے آنکھوں کو موندے ہوئے پڑے ہیں یونہی
کہ غنچے خواب میں ہیں یعنی حرف نا پیدا
ہوائیں کھول، خداوند پھر دریچہ جگا
کہ میں بھی سانس لوں، دو باتیں اپنے آپ کروں
کہ اپنے آپ سے مل بیٹھوں خوب کھل کے ہنسوں
٭٭٭
سجدہ
میں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ اے خدا
میری روشنی نہ کھینچ لے
میں نے تو شرر شرر کو جمع کر کے
ایک روح ڈھالی ہے
جس میں تیری الفتوں کا عکس ہے
میری روشنی نہ کھینچ لے
ریزہ ریزہ کر نہ دے میرے وجود کا نشاں
کہ اس میں مٹیاں ہیں۔
بہتی ندیوں کے ساحلوں کی
اگتی کھیتیوں کے جسم کی
صفا مروہ کی ’تبوک ‘ کی ساحل فرات کی
کہ اس میں نقش ہیں تیری دلیل کے
ٹوٹتے ہوئے قمر کے رود نیل کے
ریزہ ریزہ کر نہ دے میرے وجود کا نشاں
بجھا نہ دے میری آرزو کی آگ کو
جو بھڑک رہی ہے موجۂ سخن میں
محشرِ خیال میں
بجھا نہ دے میری آرزو کی آگ کو
میں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ اے خدا
٭٭٭
نور ارض و سماوات
تو ہے نور دونوں جہان کا، تو کمال عزّ و جلال ہے!
تری سلطنت کو اے کبریا، نہ غروب ہے نہ زوال ہے
سبھی فرش و عرش کی منزلیں، سبھی شرق و غرب کی وسعتیں
ترے بس اشارے کا منتظر، وہ جنوب ہے کہ شمال ہے
ترے حرفِ کن سے ہر ایک شئے، کہ تو مستوی ہے چہار سو
سبھی ہوش ہو کہ حواس ہو، سبھی خواب ہے کہ خیال ہے
ہمیں رہبری کا کرم ملا، ہے تری عظیم کتاب سے
یہ کتاب اساسِ حیات ہے، یہی راز علم و کمال ہے
یہ تمام غیب و شہود کیجو ہیں ساعتیں، تری آیتیں
اسی لیَ پہ رقص میں روز و شب، یہ تماشۂ مہ و سال ہے
ترے پیارے سید الانبیأ، حضرتِ محمدِ مصطفی
وہ ہیں ایسے صاحبِ صد کرم، کہ شفیق ان کا جمال ہے
سبھی مومنوں کو نواز دے، تو فروغ و فتح و عروج سے
ملیں اہلِ دیں کو بلندیاں، یہی ایک تجھ سے سوال ہے
٭٭٭
نعت و منقبت
محمدﷺ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ منبعِ نورو مشام
کمال مدح و درود و سلام، ذکر ان کا
بیاں میں منبعِ نور و مشام، ذکر ان کا
انہیں کا نام تو ہے، فکر و علم و فن کی کلید
تمام سمتوں میں بس صبح و شام، ذکر ان کا
انہیں کے فیض سے ہے اہلِ حق کو جرأتِ شوق
کہ ارتقا کا ہے حرفِ دوام، ذکر ان کا
وہی ہیں سید کونین، شافعِ محشر
ہے مشکلات کا حل صبح و شام، ذکر ان کا
وہ تاجدار رُسل، خوب خوبیوں والے
مرے نبی، مرے سرکار رحمتوں والے
٭٭٭
محمد مصطفیﷺ
محمد مصطفیٰﷺ
ہم تو ٹوٹی راتوں میں جیتے ہیں
ہمارے ہاتھوں میں پتوار ہے اور کشتیِ ہستی میں
فتنہ ہے شکستوں کا۔
کہ دلدل میں چلا کرتے ہیں
دلدل۔
کچھ ایسا ہے کہ دل
تاب و تواں کو بھول جاتا ہے
قدم بھر جاتے ہیں
آنکھیں ہماری آنسوؤں میں ڈب ڈبا جاتی ہیں
تارے جھلملا کر۔ آسماں میں ڈوب جاتے ہیں
ہوا کے ساتھ گہرا ریت کا طوفان
سارے کاروانِ ہوش کو آغوش میں لے کر
زمیں میں ڈوب جاتا ہے۔۔ ۔۔
محمد مصطفیٰ
ہیں آپ ساری حاضر و پوشیدہ موجودات کے والی
صفات ایسی
کہ ہر پہلو زبانِ مصحفِ اعظم
خدا کے منتخب بندے!
مرے جسم اور میری روح کو
اپنی شفاعت کے مظہر سبز سائے میں
شفا دے دیں۔!
محمد مصطفی
بس آپ کا دستِ شفاعت۔ روشنی ہی روشنی
فرازِ کوہ سے وہ نور کا اک تیز رو دریا
مری مٹی کے پیکر پر اترتا ہے
مری مٹی کا زندہ شادماں پیکر
محمد مصطفی
کتابیں ہی کتابیں
روشنی ہی روشنی
٭٭٭
رسول اللہﷺ کے حضور
بزم ہستی میں جسم و جاں تجھ سے
وقت و آب و ہوا رواں تجھ سے
گہرے الجھے ہوئے اندھیروں میں
سبز سی روشنی نشاں تجھ سے
ٹمٹماتی ہوئی صداقت میں
شعلگی قائم و عیاں تجھ سے
منتظر اک اشارے کا مہتاب
مہر تاباں شفق فشاں تجھ سے
بوسہ گردِ پا کے آرزو مند
کس تمنا سے کہکشاں تجھ سے
ہے گلیمِ سیہ کے متمنی
وسعتِ دہر و لامکاں تجھ سے
ذکر سے تیرے رنگ و نورِ حیات
ہے فروزاں مرا جہاں تجھ سے
میری آنکھوں میں تیری خوشبو ہے
بے حجابانہ ہر نہاں تجھ سے
میرے ہونٹوں میں گرمیِ اظہار
میرے الفاظ میں بیاں تجھ سے
میرے دل میں ترے خیال کا حسن
ذہن میں نورِ بے اماں تجھ سے
میرے آقا زبانِ اسلم ؔ میں
عشق تیرا ہے ہم زباں تجھ سے
٭٭٭
نعت جدید
ذکر رسول کی جو سعادت نصیب ہے
یا رب ترا کرم کہ یہ نسبت نصیب ہے
ہم ان کے امتی ہیں جو قرآن لے کے آئے
خوش بخت ہیں کہ ہم کو تلاوت نصیب ہے
پڑھتے ہیں ان کی ذات پہ ہر پل درود ہم
عشاق ہیں سو ہم کو یہ دولت نصیب ہے
اللہ کے سوا نہ کہیں سر جھکائیں ہم
مسرور ہیں کہ شرک سے نفرت نصیب ہے
شیطاں عدو ہے فتنہ، فساد و ستم میں مست
ہم کو صفا و صدق و شرافت نصیب ہے
بس دل میں بھر گئی ہے مدینے کی روشنی
اسلمؔ درِ رسول کی الفت نصیب ہے
یا رب کرم! ہماری دعائیں قبول ہوں!!!
ہم کو ترے حبیب کی چاہت نصیب ہے
٭٭٭
عظمت امام حسینؑ
درجہ بہت اعلیٰ ہے حسین ؑ ابن علیؑ کا
وہ فاطمہؑ کا لال، نواسہ ہے نبی کا
وہ حق کے لئے سینہ سپر تا دمِ آخر
انصاف اور ایمان تو مسلک تھا اسی کا
دشمن کی غلط راہ کی تائید نہیں کی
قربان میں اس خوبی و ثابت قدمی کا
اشرار کے لشکر ہوئے پسپا، نہ جھکا وہ
سر کٹ گیا پر راستہ چھوڑا نہ نبی کا
کیا حوصلہ، کیا جذبہ، وہ بے خوفی و ہمت
تاریخ میں وہ عزم نہیں ہو گا کسی کا
وہ شوق شہادت! نہ رہ راست کو چھوڑا
ہر ظلم سہا، جنگ، جدل، تشنہ لبی کا
وہ سید شہدا، وہی بے مثل اتالیق
اسلم میں ہوں مشتاق اسی دلدارِ نبی کا
٭٭٭
توصیفِ مصطفیﷺ
زہے نصیب کے توصیف مصطفی لکھوں
ہو میرے خام کو توفیق گر عطا لکھوں
ملا جو حکم کہ پڑھ، آپ نے پڑھے سب اسم
تو کیوں نہ آپ کو دانا علوم کا لکھوں
مدثر ایسے اٹھے، سب کو راہ دکھلا دی
صفات ایسی کہ قرآں کا آئینہ لکھوں
ستم ہوئے، جہلا کی شرارتیں بھی سہیں
مگر نہ حق سے ہٹے، ان کی شان کیا لکھوں
گذارے غارِ حرا میں جنہوں نے غور کے دن
تلاشِ حق میں انہیں سب کا رہنما لکھوں
عزیزوں اور رفیقوں کے ساتھ ہجر سہا
مہاجرت کا انہیں درد آشنا لکھوں
وطن کو چھوڑ کے کتنے برس گزار دئیے
حضور آپ کی قربانیوں کو کیا لکھوں
عجیب فتح تھی، فاتح خمیدہ سر تھا جہاں
اس انکسار کو رحمت کا معجزہ لکھوں
نئی لغت، نئی ترکیبیں ان کی مدح میں ہوں
میں اپنی روح کو آقا کا نقش پا لکھوں
نئی زبان، نئے حرف و لفظ گر مل جائیں
میں یونہی مدحتِ سلطان انبیا لکھوں
ہر ایک پل ہو درود و سلام زیب زباں
جو با اثر ہو میں ایسی کوئی دعا لکھوں
٭٭٭
مناجات
(حج کی سعادت حاصل ہونے پر)
نگوں سر ہوں کہ حج کی یہ سعادت بخش دی تو نے مرے آقا! حضوری کی اجازت بخش دی تو نے
مجھے تابِ نظارہ کب کہ کعبے کی طرف دیکھوں مری آنکھوں کو یہ معصوم جرأت بخش دی تو نے
مرے قدموں میں کب طاقت طوافِ مرکز جاں کی یہ کیسی بے خودی، یہ کیسی قوت بخش دی تو نے
مقامِ ملتزم کے سامنے کیسے دعا پڑھتا
شکستہ شخص کو کہنے کی ہمت بخش دی تو نے
بھلا میں حجر اسود کی طرف تسلیم کیا کرتا؟
عجب تسکین سی دی، جو یہ نسبت بخش دی تو نے
مقامِ خاص ابراہیم ؑ پر اپنی عبادت کو
دوگانہ کیا دیا تکمیل نیت بخش دی تو نے
مرے ہونٹوں کو زم زم نے چھوا تو یوں لگا مجھ کو
کہ میری روح کو تطہیر و صحت بخش دی تو نے
مقابل جبلِ رحمت کے دعا کو کر دیا آقا۔!
سوالی کو یہ سوغاتِ اجابت بخش دی تو نے
شبوں کو آسماں پر نا مکمل چاند روشن تھا
کہ جس کو خوش نصیبوں کی رفاقت بخش دی تو نے
کرم تیرا کہ اک پتھریلی وادی کو بلندی دی
ہر اک ذرے کو جس کے جاہ و حشمت بخش دی تو نے
مرا احساس یخ بستہ تھا موجِ سرد مہری سے
اسے زندہ کیا، تازہ حرارت بخش دی تو نے
بہت کچھ تھا جو کہہ سکنے کی ہمت تھی نہ حالت تھی
مگر گھر پر بلاکر اس کی صورت بخش دی تو نے
بہت دن تک رہے بے سایہ غم کی دھوپ کو سہتے
بڑا احسان ہے جو عفو کی چھت بخش دی تو نے
بہت دشوار تھے جو مرحلے، آسان کر ڈالے
کٹھن راہوں کو انجانی سہولت بخش دی تو نے
سبھی احباب کی خاطر دعا کرنے کو دل بخشا
ہمارے یاد کے دامن کو وسعت بخش دی تو نے
مدینے کی فضاؤں میں ہمیں کچھ اس طرح رکھا
رسولِ پاک کی جیسے شفاعت بخش دی تو نے
نبیٌ جی رحمت اللعالمین و شافعِ محشر ہیں
ہم ان کے در پہ پہنچے، ان کی قربت بخش دی تو نے
ریاضِ جنہ میں گنجائشِ سجدہ عطا کر دی
کہ اِس دنیا میں اُس دنیا کی جنت بخش دی تو نے
نہ جانے کیا ہوا اسلمؔ پھرا کرتا ہے جو رقصاں
یہ کیسی سر خوشی، یہ کیسی الفت بخش دی تو نے
ایک درخواست
مرے آقا! بلانا پھر مجھے اور بارہا یوں ہی
کہ جیسے اس دفعہ اپنی عبادت بخش دی تو نے
٭٭٭
نظم کلیات
پہلا حرف
ابھی تو
میں نے اپنے نام کا
پہلا حرف ہی لکھا ہے
ابھی تو
میرا رنگ سنگِ شہرِ خواب
میں چھپا ہے
ابھی تو
نرم نرم ہونٹ پٹریوں کی وحشتوں سے
زخمِ ہائے دلخراش سے ملے نہیں
ابھی تو
پھول سی کٹوریوں میں شبنمی خبر ہے
صبح کی اداسیوں کی زردیاں نہیں
ابھی تو
خواب دیکھ لیں
اپنے نام کے ہر ایک حرف کو خوشنمائی سے لکھیں
٭٭٭
زمستاں میں: ساعتوں کے قوی منتظم سے دعا
برف سوتے درختوں پر
چادر بنی
کانپتے ہانپتے جانور
تھرتھراتے پرندے اور کپڑوں کے اندر چھپے
سارے انساں یونہی
دھوپ کے منتظر
رنگ گھلتے ہوئے
اور
اک دوسرے میں
کسی طرح ضم اور مانوس ہوتے ہوئے
آسمانی کتابوں کی ہر پیش گوئی
عیاں اور اعلان ہوتی رہی
ہواؤں میں خود ساختہ اجنبیت
مناظر سے ہر طرح سے آنکھ پھیرے ہوئے
ایک بادل تیز قدموں سے چلتے ہوئے
بوجھ اٹھا کر
رواں
اور اس طرف
جھیل پر برف کی سِل جمی نیند میں خواب میں
بے حس و بے خبر
سب کے سب، ایسا لگتا ہے اب
دھوپ کے منتظر
نیلی، کالی، ہری، سبھی روشنائی کی قسمیں
کھوکھلی ہو چکیں۔۔ ۔ رنگ اٹھتے نہیں
روشنی ایک سایہ بنی۔۔ ایک مدھم سا سایہ
سارے اجسام، ابعاد، ہیکل ہوئے منجمد
اس تمنا میں اب تک
یونہی دھوپ کے منتظر!!!!
تو اے ساعتوں کے قوی منتظم
وقت کی رہ گزر کو بدل دے
اور سیال کر بند لمحے
کبھی تو گلے برف کی سخت چادر
کبھی تو نکل آئیں مانوس چہرے
کبھی تو یہ مطلع کھلے۔۔
ایک دن گمشدہ سارے چہرے، سبھی رخ
مناظر کے مرکز میں آ جائیں، دید کے در کھلیں
٭٭٭
نیا جزیرہ
ٹوٹتی بارش میں
بادلوں میں ہے بہت گہرا دھُواں
اور اس گہرے دھوئیں میں ایک بھی قطرہ نہیں
نیم خوابیدہ سے بیجوں کی زبانیں چینے کی آرزو میں
منہ سے باہر آ گئی ہیں۔!!
٭٭٭
آگ پہلو میں جلے
آگ پہلو میں جلے
لہر اُٹھے، اُٹھ کے گرے اور چلی جائے سمندر میں کہیں
دھوپ جنگل میں پھنسے ایسے
کہ ہم لوگوں کو احساس کا اک پل نہ ملے
اور
جب رات کی سوئی ہوئی آنکھیں
____ جاگیں
چاند مٹی بنے ____ اور
بانس کی جھاڑی میں گرے یوں کہ کسی نوک میں جا کر پھنس جائے
چڑیاں
سب خوف سے پھر گانے لگیں
حمد و ثنا!!
آگ پہلو میں جلے
اور کوئی_____ اور کوئی اپنا ہم آواز نہ ہو
گم کنویں میں ہو۔ صرف سینہ مرا
میری تنہائی کے جنگل میں
نہ آئے کوئی۔
نہ کوئی سانس گرے سانپ درختوں سے کہیں
سارے جنگل میں گھنا شور مری تا زہ نئی پتیوں کا
گرچہ ہر سمت وہی آگ کا خوف
وصل کیسے ہو کہ جسموں میں رگڑ ہوتی ہے
(ذہن لٹکا ہے سمندر کے کنارے پہ کہیں چین کے ساتھ)
آگ پہلو میں جلے
اور ہوا بھڑکائے ____!!
٭٭٭
بے دیدۂ وا
مجھے کیا خبر __
نخل، آواز سے
کیسے
شعلوں کے جھونکے اُلجھ جاتے ہیں
مجھے کیا خبر ___
میرے کمرے کی دیوار پر
زعفرانی زبان میں
کوئی کیا منقش کرے ہے
روشنی کا ہرا بلب
ٹوٹا ہوا ہے ____
نہریں اُترتی چلی آ رہی ہیں
سپید و سیہ میز پر
مرا درد بکھرا پڑا ہے
٭٭٭
گھڑ سواروں سے کہو
گھڑ سواروں سے کہو پاؤں کی رنگت رکھیں
ان پہ کیوں زہر کے پنجوں کے نشاں ملتے ہیں
جبکہ ہم رزم پر آہستگی سے
رکھتے ہیں شیرازۂ احساس کا ٹوٹا ہوا عکس
ہم نے خود اپنے بدن ہی میں بسائے ہیں کئی ایسے قبیلے
جو کہ وحشی بھی ہیں اور خون میں ناخن کا مزہ لیتے ہیں
یہ قبلے ___
____ کہ جنھیں اپنے لباسوں میں چھپانا بھی کچھ آسان نہیں ___!
ہم میں اک کرب ہے ___
جو راتوں میں خاموشی کے اندھیارے کے سینے پہ
چلا کرتا ہے، کچھ ڈر ڈر کر___!
ہم میں متضاد قبیلوں کی لڑائی گم ہے
خود میں دیکھو تو ذرا___
___ گھڑ سواروں سے کہو پاؤں کی رنگت دیکھیں ___!!
٭٭٭
عبادت
اے کاشفِ رازِ دروں
میں بھی تو تیرا راز ہوں
لیکن
مرا اک قہقہہ___ تو بھی جنوں، میں بھی جنوں
ٹوٹتے پتھر لیے جزیروں میں
ہوا کی لہر نے
کچھ بھیانک گنجلک چہرے اُبھارے تھے
ہم ان میں ڈھونڈتے تھے تیری رنگت
تو مگر بے رُوح تھا___!
اے کا شف رازِ دُروں
پر سر جھکاتی شام
عریاں جسم ہوتی صبح میں
ہم نے اپنے جال بن کر
بے فنا گہرے سمندر میں
تجھے جھانکا___
مگر تو بے بدن تھا
اے کا شفِ رازِ دُرون
یا تو ہے کچھ___ یا میں نہیں
لے آج اپنے جسم کے دریافت کردہ شہر میں
تیری خبر کا ایک سایہ ڈھونڈتا ہوں
آ مرے نزدیک آ
آ مرے ہوئے ماتھے کو چوم
٭٭٭
وہ آنکھیں
جنھیں تم یاد کرتے ہو
وہ آنکھیں
دبابوں سے کچل کر
نئے صحرا میں پھینکی جاچکی ہیں
آنکھیں
جن کو جھوٹی آرزو تھی
کہ نیلے پھول پر شبنم کے قطرے پھر چمکتے ہوں
دھماکے، زلزلے، ہنگامے رُک جائیں
کبوتر، قمریاں، مینائیں آ کر گیت گائیں
نصابی ظلم سے معصوم بچے پاک ہوں
میدان میں کھیلیں ___!
وہ آنکھیں
اب ہوا کے تیز رَو جھونکوں سے بالکل گھس چکی ہیں
اُنھیں تم بھول جاؤ___!
٭٭٭
رزمیہ کا درد
سفیدی کے کاغذ پہ میں
رزمیہ کی کہانی تو لکھتا نہیں ہوں
مگر یہ بھی سچ ہے
کہ کل جب سویرے کی آنکھیں کھلی تھیں ___
تو ہر اک طرف
خون ہی خون تھا
ذہن کے گھونسلوں میں پرندے بہت ڈر گئے تھے
مکانوں کے سر پہ کفن سُرخ تھا
اندھیری ہواؤں کی آوارہ لہریں
ہر اک سبز پیکر پہ خونی فسانہ سنبھالے ہوئی تھیں
مگر آج جب
روشنی ٹوٹ کر آ گری ہے
تو اب عکس میں خوں کی رنگت نہیں ہے
تو اب خون آنسو بنا ہے ___!!
٭٭٭
بنی سنوری ہوئی شامیں
بنی سنوری ہوئی شامیں تمہاری منتظر ہیں
تم کبھی
ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے، اُلجھے ہوئے آنا
تو اس پھیلے ہوئے خاموش سائے میں ٹھہر جانا!
خلیج رنگ و بو میں پھر نیا طوفان آیا۔!
مگر شاید تمہیں لمحوں کی نا تاراج راہوں سے ادھر آنا پڑے گا
کہ دن کتنا طویل و مسترد ہے
یہ لمحہ۔ اور لمحہ۔ اور وہ لمحہ
کہ دن ڈھلتا نہیں، کٹتا نہیں، خاموش ہے، ویران ہے جیسے ہڑپا کا کھنڈر ہو
تم اک خاموش چہرے ہو کہ جیسے بارشوں کی روشنی شاموں میں آتی ہے
ہر اک ہوٹل میں جا کر چائے کو چکھتے ہو، پھر سڑکوں پہ چہرے سونگھتے ہو
اور پھر تھکے ماندے بنی سنوری ہوئی شاموں کی جانب لوٹ آتے ہو۔!
یہ مانا آج کا دن سخت ہے، اس میں نہ کوئی کام ہے، کوئی نہ چہرہ ہے
یہ دن بھی ٹوٹ کر پانی میں گھل جائے گا، بہہ جائے گا سیلابوں کے اندر
بنی سنوری ہوئی شامیں تمہاری منتظر ہیں
تم کبھی آنا۔ تو ان کے سانولے ہاتھوں پہ بوسوں کو سجا دینا۔!!
٭٭٭
یہ قافلے
کتنے دن کتنی عمر کتنے دور
اپنے اپنے نام کے چراغ لے کے
ناچتے رہیں گے سب
شب کی روح زرد آئینے میں خاک ہو چکی ہے
قہقہوں میں برف ہے
زم و عطر بیز ان ہواؤں میں
آخری نفس کی چیخ ہے
پریس کی دھڑدھڑاہٹیں
کچھ نہیں
آدمی کا سانس پانی کی طرح
جو بہہ رہا ہے
کتنے دن، کتنی عمر، کتنے دور
تختیوں پہ اپنے روز و شب
کھدائیں گے
صبح ہوتے ہوتے اپنے گھر کو
لوٹ آئیں گے
۔۔ ۔۔ یہ قافلے۔۔ ۔!
٭٭٭
ساحلی نظم
میرے سینے میں داخل ہو رہا ہے
کوئی تنہا تھرکتا بے تحاشا ناچتا تارہ۔!
سمندر دیکھ لڑ سکتا ہوں میں تیری اُچھلتی اضطراری کیفیت سے
مگر کچھ رحم آتا ہے
کہ تو جب ٹوٹ کر نیچے گرے گا۔ تو تیرے محل پنجے
زمین کے چپ ریتیلے جسم کو آلودہ کر دیں گے
سمندر! میں ترے ساحل پہ جب سائے چلاتا ہوں
تو گہرے نقش بنتے ہیں
مگر یہ تیری قسمت تجھ میں کوئی نقش، کوئی عکس، کوئی رنگ
بھی زندہ نہیں رہتا۔!
مری خاموش تنہائی سمندر۔ سمندر جسم۔ آوازیں سمندر
سمندر آنکھیں سائے، ہونٹ پنجے
سمندر رقص پیمانے تماشے
سمندر!
سمندر۔ تجھ میں کوئی جھیل بھی اک جم گئی ہے
یہ کیسی جھیل ہے جس پر کوئی سایہ گذرتا ہے تو رُک کر جذب ہو جاتا ہے
جیسے کوئی ٹی وی رُک گیا ہو۔!
مرے نیلے سمندر میں
وہ آئی۔ تو کیسی چیخ تھی۔؟
وہ آئی۔
۔ بوند بن کر اس طرح ٹپکی۔ سمندر کھو گیا!
اور دُور تک آتش فشانوں سے دھُواں اُٹھنے لگا۔!
سمندر تو کہاں جائے گا۔ رُک جا۔!
زمیں کا سرد ریتیلا بدن پی لے گا لاوے کو
ترا تو رنگ نیلا ہے
ترے اس جسم پر موسم اُبھرتے ہیں مگر نغمے نہیں آتے۔!
٭٭٭
جانے دو۔۔!
جانے دو۔
سب جھوٹے ہیں۔
یہی نہ تم کو کہنا ہے۔!
میں بھی چُپ رہ جاؤں گا پیارے
آتش میں جلتے رہنے سے دیواروں کی باتیں چبھ جاتی ہیں
ہونٹوں پر کھو جاتے ہیں سب کالے پہلے لال بدن۔!
یہ لمحہ کتنا پیارا ہے۔
آؤ اس لمحے میں شہر کی ساری رقاصاؤں کے ناچوں کا امرت پی لیں
آؤ اسی لمحے میں افسانوں کی جھوٹی وادی میں کچھ تارے جی لیں
پھر میں جا کہ آ نہ سکوں گا
جا کر آنا ایک بہت بے وزن حماقت ہے
تم اس لمبے پیڑ کے نیچے سایہ ڈھونڈتے بیٹھے رہنا
۔ میں تو بالکل اُوب چکا ہوں
اب جانے دو۔!
٭٭٭
کرسی
۔۔ ۔ پڑی ہے
اسی طرح
دیوان خانے میں ترچھی
گرد آلود، خاموش، ساکت
پرانے کئی سرد اور گرم جسموں کی
یادیں مٹاتی ہوئی
کئی قہقہوں، سسکیوں کی
صداؤں کو سمجھے بغیر
اپنے چوبی بدن میں
یونہی جذب کر کے
جانے کتنے برس یونہی جیتی رہے گی
یہ کرسی۔۔ ۔۔!
٭٭٭
موت ساحل ہے
ہونٹ کھل اٹھتے ہیں
آنکھوں میں چمکتی ہے گذشتہ خواہش
اور ماتھے پہ تڑپتی ہے ہوس
موت ساحل ہے اگر کوئی سفینہ ٹھہرے
منتظر بیٹھے ہیں سب مطلعِ انفاس سے
آئے کوئی سیل
اک سمندر ہو جو آغوش میں لے لے ہم کو
جب درندے نئے دروازے سے گھس آتے ہیں
ہونٹ کھل اٹھتے ہیں
٭٭٭
کرفیو
ایک دن بدھ نے کہا تھا
’’ایک پیتل ڈھونڈ لو
اپنے اندر چھپ رہو
اور باہر
ہر طرف کرفیو لگا دو!! ‘‘
٭٭٭
بلاوا
آؤ کالے سانپ
میں کب سے تمہارا منتظر ہوں
تم مری کھڑکی کے شیشے سے گزر کر
چپکے چپکے آ رہے ہو
تم غلط فہمی کے پانی میں رواں ہو
سوچتے ہو۔۔ تم مجھے پی جاؤ گے
میں تمہاری ہرزہ کاری، جعل سازی کو
چمکتا دیکھتا ہوں
پھر بھی میں انسان ہوں
میں نے دیکھے ہیں ہزاروں
بھوکے پیاسے اژدہے
آؤ کالے سانپ
میرے سر پہ بیٹھو۔۔ دل کو چاٹو
آؤ اپنی دم ہلاؤ
ہاں مگر اک روز مین
لہر کھاتی دم پکڑ کر جھٹکا دوں گا۔۔ تم مر جاؤ گے
اور پھر جب تم کبھی یاد آؤ گے
میں تمہاری لاش پر
دودھ کا تحفہ رکھوں گا اور تم۔۔!!
٭٭٭
آخری منظوم کے بعد
سنگ دل دلاں زہر ہوا پی کے چلے
چشم گل تازہ لئے
ریگ پر رکھی ہوئی فلسفہ آوازوں کو ان
سونگھتے حرفوں کا تماشہ
دیکھوں۔؟
چونکتی آنکھوں کو اعصاب کی لرزش کا سبب
قوس و تحریر سے ہنگامہ دری کا کوئی معیار
مقرر کر کے
مسکراہٹ کے نئے ناپ بنانے کے لئے
کس طرح لوگوں نے
ہنگامہ کیا۔؟
میں نے معصوم سے بچے کی طرح
چپکے سے پتھر کو اٹھایا، سامنے موٹر کے
چمکتے ہوئے شیشے کو ذرا چوم کے
آ جانے کو بھیجا تو کہا سب نے
کہ یہ ایک بہت غیر حقیقی سا عمل ہے تو
بھلا کون کہے۔۔؟
راہ انداز کر کے
فرطِ نگہ
چپ
کہ
یہ گلدستہ
رواں
پھول بھرا
لو اتر آئی بسنت۔۔!
جانے دو تم سناتے ہو وہی روندی ہوئی
ضابطہ آلودہ صدائیں
وہی پتے جو پرانے ہیں کہ گر چاہیں تو
تلواریں بنا لیں کبھی
جسموں کو چھپا لیں مگر ایسا نہیں ہوتا
کہ سبک ہاتھ پہ پتھر کا
جنوں ہونٹ نہیں، ہم تو یہ سب اسی
بچپن کے دریچے میں
سجا دیکھتے آئے ہیں۔۔!
میں نے پھر
اک نئی طرح سے
جلتے ہوئے تانبے پر
دعا مانگی
تو دیوار ہری
شاخ ہری
آنکھ ہری
جسم کہ
شاداب، سبک
نرم، عزی
پھر مرے سنگ دلاں زہر ہوا پی کے چلے
اور چمنی پہ لٹکتے رہے
صدیوں کے لئے
امر
رات کی خاموشیوں میں
وہ نہ جانے کس طرف سے آکے اس میدان میں
چیختا ہے
آؤ۔۔ میرے ہمنواؤں!
مجھ پہ اپنے اپنے تیروں سے کرو یورش کہ میں
درمیاں میں ہوں ابھی
ہم سب اپنی کھڑکیوں سے جھانک کر
دیکھتے ہیں
اس اندھیرے میں بسانِ شعلہ اس کا
جاگتا روشن بدن
ہم پھر اپنے دوستوں سے پوچھتے ہیں
(فرطِ حیرت، سوزِ غم میں مضمحل)
’’ہم نے کل ہی کر دیا تھا اس کو قتل
پھر کہاں سے آ گیا
٭٭٭
رفتار، رفتار
روشنی کے پرندے پہ بیٹھا ہوا
فاصلہ گن رہا ہوں
پاس، نزدیک، ہم جسم
روشنی کا پرندہ رواں
نیلی نیلی فضا
اور میں
کچھ زیادہ ہی محفوظ ہوں
فاصلے ڈوبتے جا رہے ہیں
ستارے بہت گرم ہیں
رات بہت گرم ہے
گرد بالکل نہیں، سانس بے صوت ہے
اب کہاں
اب کہاں
اب شعاعوں کا قابو نہیں
میں کہاں جا رہا ہوں
روشنی کا پرندہ
کہاں جا رہا ہے
کاش اگلی زمیں کو پکڑ کر
تند و بے راہ موجوں سے
بچ جاؤں، سائے میں چھپ جاؤں
مامن کہاں ہے، کدھر ہے؟
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں