اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


میری یادوں میں برلن ۔۔۔ عشرت ناہید

برلن کا ایک سفر نامہ

میری یادوں میں برلن

مصنفہ

عشرت ناہید

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

مکمل کتاب پڑھیں…..

میری یادوں میں برلن

(سفر نامہ)

عشرت ناہید

عمر رفتہ کی ہر اک طاق پہ جلتا ہے دیا
تم سے ملنے کا، بچھڑنے کا، سنبھل جانے کا

               (عشرت معین سیماؔ)

انتساب

عزیز دوست عشرت معین سیما و انور ظہیر رہبر صاحب

رب کی مہر بھائی نظر

نعمت خدا یان، رحمت رب مشا

کے نام

مقدمہ

پروفیسر خالد محمود

انسان فطرتاً مہم جو اور سفر پسند واقع ہوا ہے۔ وہ دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے۔ شوقِ سیاحت اس کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ سفر کی ایسی سہولیتیں میسر نہیں تھیں جیسی آج ہیں اس کے باوجود وہ اپنی جستجو اور خواہش کو دبا نہیں سکا۔ ساری مشکلات برداشت کیں، مصائب جھیلے، پریشانیاں اٹھائیں مگر پائے استقامت میں ذرا بھی لغزش نہیں آنے دی۔ بادِ مخالف اس کے اسپِ شوق کو تازیانہ ثابت ہوئی۔ جب قدم بڑھا تو بڑھتا ہی چلا گیا۔ پیچھے ہٹنا تو کجا ٹھہرنے کا بھی نام نہیں لیا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب جدید ٹیکنالوجی خصوصاً گوگل اور یوٹیوب کی مدد سے گھر بیٹھے ہی دنیا دیکھی جا سکتی ہے، پھر سیر و سیاحت کی کیا ضرورت ہے؟ لوگ کیوں سفر کی زحمت اٹھائیں گے؟ مگر یہ خیال خام ثابت ہو چکا ہے۔ آج صورت حال اس کے بر عکس ہے۔ انٹر نیٹ کی مدد سے موبائل یا ٹی وی پر دنیا کے حسین و جمیل مناظر اور حیران کن مقامات دیکھ کر شوق دید میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور سفر و حضر کی سہولتوں نے شوقِ سیاحت کو جنون کی حد تک بڑھا دیا ہے۔ موسمِ سفر میں ذرائع آمد و رفت سے لے کر قیام گاہوں تک ہر جگہ ایک ہجومِ عاشقاں نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر عشرت ناہید بھی اسی ذوق فراواں کے ساتھ سرگرم سفر ہیں۔ ان کا ’’جذبۂ بے اختیار شوق‘‘ بھی قابل دید ہے۔

عشرت ناہید کا سفرنامہ ’’میری یادوں میں برلن‘‘ جرمنی کے دارالحکومت برلن کی سیر کراتا ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے برلن نہیں دیکھا۔ اس سفرنامے کی مصنفہ ڈاکٹر عشرت ناہید مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کی لکھنؤ برانچ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ شخصی اعتبار سے محترمہ ایک مہذب، شائستہ، شیریں کلام، شگفتہ فطرت، ذہین اور مشرقی تہذیب سے مالامال شریف النفس خاتون ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اچھی افسانہ نگار بھی ہیں۔ ان کے سفر برلن کی پوری کہانی بڑی دلچسپ ہے جسے ان کے بے تکلف اور شگفتہ اسلوب نگارش نے مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ان کا یہ اسلوب سفرنامے کے بیانیہ سے زیادہ داستان، افسانہ، ڈرامہ اور رپورتاژ کے اسالیب سے مرکب ہے جس میں جا بجا اس کے خالق کی شوخ مزاجی اور کھلنڈرا پن بھی جھلک مارتا رہتا ہے۔ آغاز سے اختتام تک پورا سفرنامہ، سفر نگار کے طرزِ فکر و اندازِ تحریر کے جن شعوری اور غیر شعوری مراحل سے گذرتا ہے ان میں ’شعور کی رو کا پلہ‘ سب پر بھاری ہے۔ قدم قدم پر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی خصلت نے انہیں عظیم فکشن نگار قرۃ العین حیدر کا مقلد بنا دیا ہے۔ ’’میری یادوں میں برلن‘‘ میں سفر، سفرنامہ اور سفرنامہ نگار کے ذہنی، قلبی اور علمی اشتراک کے زیر اثر جن خوبیوں کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے اور جن سے لطف اندوز ہونے کے جا بجا مواقع حاصل ہوتے ہیں ان میں تکلم کی بے ساختگی، بیان کی شگفتگی، لہجے کی شائستگی، ممتا کا جوش اور خلوص کی تمام صورتیں اور ساری علامتیں متاثر کن ہیں۔

سفرنامہ نگاری میں مشاہدات اور مشاہدات میں باریک بینی کی بڑی اہمیت ہے۔ زیر گفتگو سفرنامہ نگار کا مشاہدہ گہرا اور مطالعہ وسیع تر ہے۔ طرزِ تحریر میں قاری کو جذب کر لینے کی صلاحیت ہے اور وہ مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔ ہندوستان سے باہر عشرت ناہید کا یہ پہلا سفری تجربہ تھا۔ اس پہلے سفر کا آغاز کس طرح ہوا یہ دلچسپ کہانی انہیں کی زبانی سنئے۔ لکھتی ہیں:

’’ہوا یوں کہ جون 2017 میں جرمنی کے دار الحکومت برلن کی اردو تنظیم ’اردو انجمن برلن‘ کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں درج تھا کہ ان کی تنظیم اس سال سر سید احمد خاں کی دو سری صد سالہ تقریب منعقد کر رہی ہے جس میں مجھ سے شرکت کی درخواست ہے۔ دعوت نامہ پڑھ کر میں دھیمے سے مسکرا دی۔‘‘

برلن کے دعوت نامے پر عشرت صاحبہ کا خوشی سے اچھل پڑنے کے بجائے دھیمے سے مسکرانا در اصل اپنے آپ پر طنز کے مترادف ہے ایسا طنز جو نا امیدی اور مایوسی کے بطن سے پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ وہ روایتی ماحول ہے جس میں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی۔ وہ وجہ انہوں نے اگلے ہی جملے میں بیان کر دی ہے کہ میں نے تو یہاں ہندوستان میں بھی کبھی کسی صوبے کا سفر اکیلے نہیں کیا تھا۔ بھلا کیسے یورپ جا سکتی تھی وہ بھی اکیلی!

مشرق کے قدیم معاشرے میں لڑکیوں کی تربیت اسی ڈھب سے ہوا کرتی تھی چنانچہ ان کے ذہن نے اس دعوت نامے کو قابل عمل نہیں سمجھا اور ان کے شوخ و چنچل مزاج نے اس خاموش مگر طنز آمیز تبصرے کے ساتھ کہ دعوت نامے کو بہت بابرکت سمجھ کر اٹھا کر رکھ دیا کہ ’’نہ دادا مریں گے نہ بیل کٹے گی‘‘ لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا دادا بھی زندہ رہے اور بیل بھی کٹ گئی بلکہ منڈھے چڑھ گئی۔ عشرت ناہید آغازِ سفر کے سارے مراحل طے کرتے ہوئے جہاز میں جا بیٹھیں اور ان کا جہاز فرینکفرٹ کی جانب پرواز کرنے لگا لیکن جہاز کے اندرونی معاملات میں انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ صرف یہ اطلاع دینے کے بعد کہ دہلی سے فرینکفورٹ کا فاصلہ ۶۱۳۴ کلومیٹر تھا جسے جہاز نے سات گھنٹے بیالیس منٹ میں طے کیا۔ شعور کی رو نے اپنا کام شروع کر دیا۔ اب جہاز آگے جا رہا تھا اور عشرت کا ذہن پیچھے کی جانب سفر کر رہا تھا۔ انہیں کے الفاظ میں ’’کبھی ابا شدت سے یاد آتے کہ کاش وہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے، امی کی دعائیں یاد آ رہی تھیں‘‘ آس پاس کے مناظر بھی انہیں اپنی جانب متوجہ نہ کر سکے بس ایک فلسفیانہ سوچ تھی جس نے انھیں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ خیالات کا یہ تسلسل جو دلی میں جہاز کے ٹیک آف سے شروع ہوا تھا فرینکفورٹ میں لینڈنگ کے ساتھ ختم ہوا۔ اپنے خاندان، گھر بار اور خصوصاً بچوں سے جو ابھی کم عمر ہی تھے، غیر معمولی وابستگی کی وجہ سے عشرت ناہید بار بار ان کیفیات سے گذری ہیں۔ بچوں سے پہلی طویل جدائی تھی اس لیے کئی مرتبہ جذباتی ہو گئیں اور کئی بار رقت طاری ہوئی۔ یوں تو مشرق کی تمام خواتین سفرنامہ نگاروں کا رویہ کم و بیش یکساں ہے۔ ان میں کئی باتیں اور کئی قدریں مشترک ہیں جو خواتین کے سفرناموں کو مردوں کے سرناموں سے واضح طور پر الگ کرتی ہیں۔ ان کے سفرناموں کا مطالعہ کرتے ہوئے فوری طور پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم کئی خاتون کو پڑھ رہے ہیں اور یہ معلوم ہونے میں بھی دیر نہیں لگتی کہ یہ خواتین نہ صرف مشرقی ہیں بلکہ مشرق کا مزاج بھی رکھتی ہیں۔ روشن خیال ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر عورت کی جنسی بے راہروی کو پسند نہیں کرتیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نہ تو مغرب سے مرعوب ہیں اور نہ اپنی تہذیب سے بے زار اور متنفر۔ انھیں مغرب کے اخلاق و معاملات اور حق گوئی و حق شناسی کا اعتراف بھی ہے اور ان کے سماجی سروکار و ترجیحات سے اختلاف بھی کرتی ہیں۔ ان کی اپنی زبان ہے، اپنا لہجہ ہے، اپنا محاورہ ہے، اپنے جذبات و احساسات ہیں، اپنی خواہشیں ہیں، اپنی مسرتیں ہیں۔ مسرتوں کے اظہار کا اپنا طریقہ ہے، ایثار پسندی ہے، رحم دلی ہے، اطاعت شعاری ہے، چاہت ہے، ممتا ہے اور وہ سب کچھ ان کا اپنا ہے جو ان کی مشرقیت اور نسائیت کی شناخت قائم کرتا ہے۔

عشرت ناہید کا سفرنامہ ’’میری یادوں میں برلن‘‘ سترہ چھوٹے بڑے ابواب پر مشتمل ہے۔ عنوانات پر کشش اور پر تجسس ہیں اور یہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ اس میں اپنے آپ کو پڑھوانے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ تاہم اس سفر بیتی کی طویل طویل نشستوں میں طولانی قصوں کے سیشن دیکھ کر کہیں کہیں سفر نامے پر حضر نامے کا گمان گزرتا ہے اور کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں برلن کم اور ہندوستان زیادہ ہے۔

دوسرا باب بعنوان ’’محبتوں کا سفر‘‘ عشرت ناہید کے میزبان انور ظہیر رہبر ان کی بیگم عشرت معین سیما اور دونوں بیٹیوں سارا اور مایا سے ملاقات کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ یہ دونوں مہمان نواز شریف ہستیاں عشرت ناہید کی میزبان اور دوست ہی نہیں اردو دوست بھی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ عشرت معین سیما شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ رہبر صاحب مصنف اور اور اردو تنظیم برلن کے فعال نائب صدر ہیں۔ والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی دونوں بیٹیاں آبائی تہذیب مین رچی بسی ہیں۔ گویا ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ شاید اسی خانہ خوش نہاد کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی باب سے منسلک تیسرے باب کی پہلی نشست میں عشرت ناہید اپنے میزبانوں کو گھر بیٹھے لکھنؤ اور اجین کی سیر کراتی ہیں۔ اب آپ اس سیر کو آن لائن کہیں یا آف لائن لیکن میرے نزدیک زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ محترمہ ایک فل ٹائم رہبر کی رہبری انھیں کے گھر میں بیٹھ کر فرما رہی تھیں۔

چوتھے باب میں اردو انجمن برلن کی جانب سے منعقد ہونے والی سر سید تقریب کا احوال ہے۔ یہی وہ تقریب ہے جس میں عشرت ناہید کو اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ اس باب میں انجمن کا تعارف اور اس کے پروگراموں کا مفصل بیان ہے جس سے اہل اردو فیضیاب ہو سکتے ہیں۔ اردو کی نئی بستیوں میں اس زبان کے بے لوث دوستوں اور خدمت گاروں کے کارناموں سے باخبر ہونا مسرت و شادمانی اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ عشرت ناہید نے پروگرام اور اس کے منتظمین کا نہایت خلوص سے تعارف کرایا ہے جو قرض بھی تھا اور فرض بھی۔ پروگرام کے بعد شیزاں ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے الماریوں میں رکھی ہوئی شراب کی بوتلوں کو عشرت ناہید نے بڑی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہے، لکھتی ہیں:

’’میری نظر سامنے کی الماریوں پر پڑی تو وہاں مختلف رنگوں اور خوبصورت بوتلوں میں سجی دھجی انگور کی ایک بیٹی نہیں کئی بیٹیوں کو موجود پایا بلوریں گلاس سے سجی ٹیبل بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ شیشے کی الماریاں وہ خوبصورت قد و قامت کی بوتلیں اور گلاس کسی کے لبوں کو چھو لینے کی معصوم تمنا لیے مایوس نظر آ رہے تھے۔‘‘

ہمارا خیال ہے کہ بوتلوں اور گلاسوں سے کہیں زیادہ وہ خود مایوس نظر آ رہی تھیں۔

پانچویں باب کا عنوان ’’افسانے کا افسانہ‘‘ ہے اس کا آغاز بچوں سے گفتگو کے ساتھ ہوتا ہے۔ عشرت نے اپنے بچوں کو ممتا کی آغوش میں لے کر سفر کیا ہے جیسے کوئی ماں چھوٹے بچوں کو کندھے سے لگا کر یا گود میں لے کر گھر کا کام کاج کرتی ہے اور یہ ماں ہی کر سکتی ہے۔ ابواب کے تمام عناوین برجستہ، برمحل اور سفرنامہ نگار کی تخلیقی ذہانت کا ثبوت ہیں۔ اس باب میں بھی ایک گھر ہے، گھر کے افراد ہیں اور کچھ مہمان ’’قصہ چہار درویش‘‘ کی طرح اپنی اپنی آپ بیتی سناتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ ان کی آپ بیتیاں ادب تک محدود ہیں۔ اندازِ گفتگو بے تکلفانہ اور حسبِ معمول شگفتہ ہے جو قاری کو باندھے رکھتا ہے۔ ان نشستوں کا فائدہ یہ ہے کہ آپ عاشقانِ اردو سے واقف ہو جاتے ہیں اور یہ فائدہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔ اسی دوران محفل افسانہ کا ذکر آیا اور یہ باب مختصر افسانے کی طرح پانچ صفحات میں سمٹ گیا۔

چھٹا باب ’’وقت کا بہتا دریا‘‘ بظاہر پانچویں باب سے بھی مختصر ہے مگر معنی خیز ہے۔ اس میں برلن زیادہ ہے۔ اس میں جرمنی کے مشہور و معروف قیصر ولہیم کی سیر کرائی گئی ہے جسے اب امن کا میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ یہ چرچ دوسری جنگ میں بم باری کے باوجود صحیح و سالم کھڑا رہا۔ کہیں کہیں سے یہ عمارت تھوڑی بہت منہدم ہوئی جو کہ ایک اہم بات ہے۔ اس میوزیم میں کئی چیزیں غیر معمولی ہیں۔ پاس میں ہی یوروپا سینٹر میں ایک پانی کی مدد سے چلنے والی لائق دید گھڑی بھی ہے جو شیشے کے فلاسک میں پانی دوڑا کر چلائی گئی ہے۔ یہاں سے نزدیک ہی برلن کا سینٹر، کوڈام ہے جہاں پہنچ کر عشرت ناہید کو ’’پیسہ‘‘ اخبار کے مالک اور ایڈیٹر منشی محبوب عالم، مبشر علی زیدی اور ابن انشاء یاد آ جاتے ہیں۔ جو ان علاقوں کی سیر کر چکے تھے اور جن کے سفرناموں نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔

اس باب کا اختتام ایک ماں کے جذبات اور ممتا کے جذباتی اظہار کے ساتھ ہوا ہے۔ لکھتی ہیں:

’’رات نو بجے تک ہم گھر پہنچ چکے تھے۔ گھر پہنچتے ہی بچوں کے میسیجز دیکھے ان کے اسکول ٹیسٹ چل رہے تھے، ان کے ڈیڈی نے وھاٹس ایپ پر ساری تفصیل لکھ چھوڑی تھی۔ جواب لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ رہی تھیں آج چوتھا دن تھا بچوں سے دور ہوئے مجھے ایان مشا بے طرح یاد آ رہے تھے۔ آج میرے صبر کا پیمانہ لبریز تھا، بہت سارے آنسو ضبط کا دامن چھوڑ آب رواں میں بدل گئے تھے۔‘‘

’’عشق نہ دیکھے ذات پات‘‘ سفرنامے کا ساتواں اور شاعرانہ عنوان ہے۔ اس شاعرانہ عنوان کا تعلق اظہار محبت کے ایک جذباتی منظر سے ہے جس میں بس اسٹینڈ پر ایک لڑکا اپنی گرل فرینڈ کو شدت جذبات کی مغلوبیت کے ساتھ گلے لگا کر رخصت کر رہا تھا۔ یورپ میں یہ مناظر عام ہیں مگر سفرنامہ نگار کو جس چیز نے متاثر کیا وہ انھیں سے سنئے:

’’لڑکا ایک دم گورا یوروپی اور لڑکی ایک دم کالی بھجنگ۔ افریقن کہوں کہ نائیجیرین، لیکن وہی بات ہے نا کہ محبت رنگ و نسل، ذات پات کہاں دیکھتی ہے۔ صحیح کہا ہے کسی نے

بھوک نہ دیکھے جھوٹا بھات

پیاس نہ دیکھے دھوبی گھاٹ

نیند نہ دیکھے ٹوٹی کھاٹ

عشق نہ دیکھے ذات پات

اسی فلسفیانہ اور شاعرانہ گفتگو کے ساتھ عشرت ناہید یہ خوش خبری سناتی ہیں کہ ’’اب ہمارا برلن کے سیاحت کا سفر شروع ہو رہا ہے‘‘ اور واقعی انہوں نے جو کہا تھا وہی ہوا یعنی ان کا برلن کی سیاحت کا سفر شروع ہو گیا۔ اس سیاحت کا آغاز انہوں نے فری یونیورسٹی سے کیا اور اس یونیورسٹی کے کلاس روم کی وسعت، طلبا کی تعداد اور کتابوں کے ذخائر سبھی کا تعارف کرایا۔ یہ دیکھ کر اور سن کر حیرت ہوئی کہ ایک کلاس روم شادی ہال سے بھی بڑا تھا اور فزکس کے ایک لکچر میں تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ شامل ہوتے ہیں۔ ہم سبھی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، بڑے بڑے درجات دیکھے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کی المینٹری اردو کلاس میں طلبہ اور طالبات کی تعداد سو سے زیادہ ہو جاتی ہے تو بہت زیادہ کہی جاتی ہے مگر اس تعداد کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ لیکن غور کیا جائے تو بنیادی فرق تدریس کے جدید و قدیم وسائل کا ہے۔ یونیورسٹی سے واپسی پر عشرت ناہید ایک دلچسپ اور خوش گوار صورت حال کے مقابل ہوتی ہیں جو انہیں حیرت و مسرت سے ہم کنار کر دیتی ہے لکھتی ہیں:

’’اب ہم یونیورسٹی سے واپسی کے راستے میں تھے راستے میں کئی جگہ سڑک کے کنارے ٹیلی فون بوتھ نظر آئے، ایسے ٹیلی فون بوتھ جہاں فون کی گھنٹی نہیں بجتی جب ان کے قریب گئے اور ٹیلی فون بوتھ کے دروازے پر جرمنی زبان میں جلی حرفوں میں کچھ لکھا ہوا تھا جس کا ترجمہ تھا ’’ایک کتاب دو اور ایک کتاب لو‘‘ دروازہ کھولنے پر اندر فون کے بجائے کتابوں کی چھوٹی سی الماری تھی جہاں قرینے سے تقریباً دو سو پچاس کتابیں رکھی ہوئی تھیں میرے استفسار پر رہبر صاحب نے رہبری فرمائی کہ یہ سمجھیے کہ یہ جرمنی کی سب سے چھوٹی لائبریری ہے جو کہ بچوں میں خاص طور پر مقبول ہے وہ بہت شوق سے اپنے گھر سے ایک کتاب لے کر آتے ہیں اسے یہاں رکھ کر دوسری لے جاتے ہیں۔ اس بات نے مجھے حیران کر دیا، اور جرمنوں کی علم دوستی نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا‘‘

آٹھویں باب کا عنوان ہے ’’کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے‘‘ محض چونتیس سطری ہے اس باب میں عشرت ناہید احسان شناسی کے جذبے سے سرشار ہیں اور اس کے عملی اظہار کا اخلاقی فریضہ ادا کرنا چاہتی ہیں چنانچہ یہ پورا باب اپنے میزبان (خصوصی) اردو انجمن برلن کے روحِ رواں اور اس کے بنیاد گزار جناب عارف نقوی کی نذر کر دیتی ہیں جو انھیں کے گھر کی ضیافت کے لیے وقف ہے۔ عشرت اگر چاہتیں تو کسی اور باب میں بھی اس دعوت کو ایڈجیسٹ کر سکتی تھیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا مجھے ان کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ ان کی نیک نفسی نے اپنے میزبان و محسن کو ان کے حسن سلوک کے شایان شان اہمیت دی۔ عارف نقوی صاحب کی اردو خدمات کو دیکھتے ہوئے وہ ہر اعزاز و اکرام کے مستحق ہیں۔ بحیثیت انسان بھی انتہائی خلیق، ملنسار اور علمی اعتبار سے لائق و فائق ہیں۔ ہندوستان میں ان کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ اس دعوت میں جرمن بیویوں کی یہ خوبی بطور خاص بیان کی گئی تھی کہ جرمن بیویاں با وفا ہوتی ہیں۔ واضح ہو کہ عارف صاحب کی اہلیہ جرمن ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ اطلاع بہم بھی پہنچائی گئی تھی کہ عارف صاحب نے ہندوستانی کھانے خود بنائے تھے۔ واضح ہو کہ عارف صاحب کی اہلیہ جرمن ہیں۔ اس باب میں اور کئی باتیں ہوئیں جو ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہیں۔ مثلاً برلن میں نہروں کا خوبصورت جال ہے۔ جرمن جھوٹ نہیں بولتے۔ (ہٹلر کے معتمد خاص گوبلز کو بھول جائیے) اور محترم عارف نقوی صاحب ایک ماہر کک ہیں۔ وغیرہ۔

نواں باب ’’آوازوں سے محروم شہر‘‘ کے عنوان میں لفظ محروم کی شمولیت سے یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ آوازیں چوں کہ زندگی کی علامت ہیں اور یہاں یہ مفقود و معدوم ہیں اس لیے لفظ محروم طنزاً استعمال کیا گیا ہے مگر نہیں۔ سفرنامے کے متن میں یہ لفظ سکون کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ در اصل اس میں صاحب خانہ یعنی عشرت سیما اور ان کے گھر کے دوسرے افراد اپنے کاموں سے باہر جا چکے تھے عشرت ناہید ان کے گھر میں تنہا تھیں انھیں یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ کہیں جائیں تو گھر کی چابی اپنے پاس رکھیں بصورتِ دیگر اندر آنا مشکل ہو گا۔ عشرت نے اس ہدایت پہ عمل کیا۔ لکھتی ہیں:

’’میں چابی لے کر باہر آ گئی دروازہ کھولتے ہی خوش گوار ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے استقبال کیا میں بھی اس پر مسرت فضا کو لبیک کہتے ہوئے چہل قدمی کو نکل پڑی، باہر بڑا سکون تھا۔‘‘

اس اقتباس کے بعد سفرنامہ نگار کو آوازوں سے محروم شہر میں خموشی سے محروم اپنے شہروں کی یاد آ جاتی ہے اور وہ اپنے شہروں کی چیخ پکار کو یاد کرنے لگتی ہیں انھیں کے الفاظ میں:

’’اپنے ملک اپنے شہر سے ایک لا شعوری موازنہ میرے ذہن میں چل رہا تھا جہاں صبح سے ہی "کباڑیی ی ی۔۔۔”، تو کبھی "آلو، میتھی تازی تازی سبزی لے لو” کی آواز سنائی دیتی‘‘

اس کے بعد یادوں کے جھروکے کھلتے ہیں تو کافی دیر تک کھلے ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ بیاسی سال کی ایک ضعیفہ کو نوجوان لڑکیوں کی طرح سائیکل چلاتے دیکھتی ہیں تو ان کا شاعرانہ تخیل جاگ اٹھتا ہے، انھیں اقبال یاد آتے ہیں جنھوں نے کہا تھا:

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

وہ اس میں اتنا اضافہ کر کے کہ ’’چاہے وہ کسی عمر کی ہو‘‘ اس ضعیفہ کا اپنے ملک کے ضعیفوں سے تقابل کرنے بیٹھ جاتی ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ جرمن بزرگ کی صحت کا راز در اصل تازہ ہوا، کھلی فضا، کھانے کی کوالٹی اور سائیکل کی سواری ہے، جو یہاں جملہ عوام کو میسر ہے۔

دسویں باب کا عنوان ’’شہر طلسماں ہے یہ‘‘ ایک قدرے طویل باب ہے۔ اس میں بہت سے لائق دید مقامات کی سیر کرائی گئی ہے جیسے ٹی وی ٹاور، خودکار دروازوں کی ٹرین، (جو اب عجوبہ نہیں رہی ) ٹرین میں چڑھنے اترنے اور نشست و برخاست کے آداب اور نظم و ضبط کا سلیقہ اور نظام توجہ طلب ہے۔ اس کے ساتھ اپنے ملک سے موازنے اور مقابلے کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہتا ہے جسے تضادات سے ابھار کر طنز بلیغ بنا دیا گیا ہے۔ مثلاً برلن کی ٹرین میں اپنی ٹرین کے سفر کا طنز آمیز تصوراتی بیان ملاحظہ ہو:

’’ارے بھئی یہ سفر بھی کوئی سفر ہے بھلا؟ کوئی کسی کو زور سے آواز نہیں دیتا کہ’جلدی آ جاؤ جگہ مل گئی، جگہ مل گئی‘ کہ سارے مسافر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں، نہ ہی کوئی سامان رکھ کر کسی کے لیے سیٹ روکتا ہے، ہمارے یہاں کی طرح چیخ چیخ کر چائے چائے کی آوازیں لگاتے دوڑتے چائے والے بھی نہیں تھے، نہ ہی بھیک مانگنے والے نہ ہی اخبار بیچنے والے۔ بس سب کچھ ایک مشین کی طرح اصولوں پر چل رہے ہیں۔ وقت کی ایک گردش ہے اور آدمی اس پر کاربند، اصولوں پر چلنے سے زندگی بہت آسان ہو جاتی ہے، سارا نظام درست چلتا ہے اور ترقی کی راہوں کی رفتار بھی تیز ہوتے ہوتے تیز تر ہو جاتی ہے لیکن اس کا ایک منفی اثر یہ بھی تو ہوتا ہے انسان بس وقت کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کو دیکھتے دیکھتے ہی بسر ہو جاتی ہے، یہاں کے لوگوں کا طرز حیات وقت کی پابندی کی وجہ سے ہی مشینی سا ہے‘‘

جرمنی میں بریڈ کی دکانیں بہت ہیں اس تعلق سے کچھ دلچسپ باتیں بھی ہیں جنھیں آپ براہ راست سفرنامہ نگار کی زبانی سنیں تو بہتر ہو گا لکھتی ہیں:

’’جرمن لوگ بریڈ کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اس لیے یہاں تقریباً تین سو سے زائد اقسام کے بریڈ دیکھنے کو اور کھانے کو ملتے ہیں۔ کچھ بہت نرم سے تو کچھ سخت سے ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں صبح کا ناشتہ، ظہرانہ، عصرانہ اور عشائیہ سب کے لیے الگ الگ طرح کی بریڈ ملتی ہے‘‘

عشرت ناہید نے لوکل ٹرین کے اندر ایک لڑکے کو نہ صرف سائیکل کے ساتھ سفر کرتے دیکھا بلکہ یہ منظر دیکھ کر حیرت زدہ بھی ہوئیں کہ وہ نوجوان گرد و پیش کے ماحول سے بے نیاز نہایت اطمینان سے اپنی سائیکل کی مرمت کرہا تھا اور مسافروں کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ ایک وائلن نواز کمسن فنکارہ کو دیکھا جو وائلن پر بڑی خوبصورت دھن بجا رہی تھی۔ آس پاس کھڑے لوگ اس کی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور سائڈ میں رکھے اس کے بوکس میں یورو (کرنسی) ڈال رہے تھے۔ عشرت سیما نے بتایا یہ کوئی پیشہ ور مانگنے والی نہیں ہے بلکہ طالب علم ہے۔ جب طلبہ کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ ہر کس و ناکس کے آگے دست طلب دراز نہیں کرتے، اپنے فن کو بیچ کر پیسہ کماتے ہیں۔ ایک عالی شان گھڑی دیکھی جو دس میٹر اونچائی پر نصب ہے اس میں 146 ملکوں کے نام اور تاریخوں کا اندراج تھا۔ یہ گھڑی سیاحوں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہ تھی۔ عشرت ناہید نے اس گھڑی میں دہلی کو تلاش کیا اور وقت دیکھا تو ہندوستانی وقت کے مطابق وہ گھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی جب کہ برلن میں اس وقت دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے۔ اس طرح سیر و تفریح سے لطف لیتے ہوئے عشرت ناہید اور ان کے میزبان ٹی وی ٹاور پہنچے۔ جس کی اونچائی 368 میٹر ہے اور اس کا ریوالونگ ریسٹورینٹ 207 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ دو سو افراد بیک وقت اس میں سما سکتے ہیں۔ لفٹ کے ذریعے ریسٹورنٹ کی بلندی پر پہنچ کر عشرت ناہید نے شیشے کی دیوار سے باہر کی دنیا پر نظر ڈالی تو انھیں اقبال کی نظم ’’روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے‘‘ یاد آنے لگے:

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اسی کے ساتھ خوش گفتاری کا سلسلہ بھی جاری رہا اور عشرت ناہید اپنی دوست عشرت معین سیما اور ان کے شوہر انور ظہیر رہبر کے ہمراہ ہنستے کھیلتے لافامیہ ریسٹورینٹ پہنچ گئے، کھانا کھایا اور قدم قدم پر ہر شے کا اپنے ملک سے کبھی خاموش اور کبھی با آواز بلند موازنہ کرتے ہوئے گھر واپس آ گئے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں اور پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ پردیس میں ہر چیز کا اپنے دیس سے موازنہ ایک فطری عمل ہے عشرت ناہید اس عمل کو دہراتے ہوئے بیک وقت دو ملکوں کے درمیان سفر کرتی ہیں۔ ایک کو چشمِ حیرت سے دیکھتی ہیں اور ایک چشم حسرت سے۔

گیارہویں باب ’’سلام اے خاتون اول‘‘ میں عشرت ناہید نے جرمنی کی چانسلر انجیلا میریکل کو ان کی جادوئی شخصیت کے شخصی اوصاف، بلندی فکر اور انتظامی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر ان کی خدمت میں سلام کا نذرانہ پیش کیا ہے جو ایک بہترین آغاز اور بہت اچھا خراج عقیدت ہے۔ اس باب میں سب سے پہلے برلن کی پارلیا مینٹ ’’روٹے راتھ ہاؤس‘‘ سے گزر ہوتا ہے یہ عمارت اور اس کے دفاتر اس قدر صاف ستھرے ہیں کہ آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اس پر مستزاد یہ کہ رہبر صاحب پوری پارلیامینٹ سے متعلق سرکاری کاموں کے تمام سالانہ مصارف کی مجموعی رقم بتا کر حیران کر دیتے ہیں۔ یہ رقم اس قدر قلیل تھی کہ یقین کرنا مشکل ہے۔ چنانچہ یہاں بھی موازنے کی صورت نکل آئی بلکہ یہاں تو موازنہ لازمی ہو گیا تھا تاہم اس کے بعد صرف شرمندگی ہاتھ لگی۔ جرمن خاتون اول یعنی جرمن چانسلر کی سادگی بے مثال تھی وہ ’’نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز‘‘ کا جیتا جاگتا نمونہ تھیں۔ ان کے حالات سن کر موصوفہ یقیناً واجب الاحترام ہو جاتی ہیں مثلاً یہی بات کہ وہ چانسلر ہاؤس میں رہائش پذیر نہیں بلکہ اپنے اسی عام فلیٹ میں رہتی ہیں جس میں چانسلر بننے سے پہلے رہا کرتی تھیں۔ ان کے گھر کے باہر صرف ایک سنتری ہے۔ انھوں نے اپنے ملک کے لیے بہت سے ترقیاتی کام کیے ہیں اس لیے عوام میں بہت مقبول ہیں۔ خاتون اول کی خوبیاں سن کر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ شعور کی رو عشرت ناہید کو تنہا چھوڑ دیتی۔ وہ آئی اور رضیہ سلطان اور اس کے عروج و زوال کی پوری داستان ساتھ لے کر آئی۔ اسی داستان میں خود کلامی، احتساب اور مختلف متصادم اور متحارب خیالات نے عشرت ناہید کو دنیا و مافیہا سے اس درجہ بے خبر کر دیا کہ عشرت معین سیما کو ان کا شانہ دبا کر بیدار کرنا پڑا۔ عشرت ناہید مناظر و واقعات کے ساتھ ماضی کی یادوں میں عموماً اسی طرح کھو جاتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر ہم سفر دوستوں میں اچانک شاعری کا شوق پیدا ہوا اور وہ ایک دوسرے کو مختلف شعراء کے یک موضوعی اشعار سنانے لگے۔ عشرت ناہید نے ایک جرمن خاتون کا سراپا بیان کرتے ہوئے اپنی خاکہ نگاری کمال بھی دکھایا۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

سرخ و سفید رنگت، چھوٹا قد، فربہی مائل جسم چہرے پر متانت، سفید شرٹ، کالی لمبی اسکرٹ اس پر کالا ہی کوٹ سر پر سفید ٹوپی، ہاتھ میں آبنوسی چھڑی ویسی ہی جیسی ہمارے یہاں بزرگ استعمال کرتے ہیں، اس شخصیت میں ایک کشش تھی اور وجہ کشش تھی ان کی مسکراہٹ۔‘‘

اس خاتون کو دیکھ عشرت ناہید ایک بار پھر دریائے حیرت میں غوطے کھانے لگیں کیوں کہ خاکے والی یہ جرمن خاتون بھکارن نکلیں لیکن ہمیں یاد آیا کہ ہم نے بھی یورپ امریکہ اور کنیڈا کے اسفار میں ہر جگہ اسی سج دھج کے فقیر دیکھے ہیں۔ آگے ایک بڑا چرچ دیکھا۔ عریانیت کے مناظر دیکھ کر انھوں نے ان مناظر کو عورت کی حرمت کو پامال کرنے والے مغربی ہتھکنڈے قرار دیا۔ ’’برانڈن بورگ‘‘ نامی عظیم الشان گیٹ دیکھا تو عشرت ناہید کو لکھنؤ کا رومی دروازہ یاد آ گیا۔ یہ معلوم ہونے کے بعد جرمن انجینئر نے ایک میوزیم کی عمارت کو ثابت و سالم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیا تھا اور ایک چرچ کو اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر دیا تو عشرت ناہید کو ایک بار پھر دریائے حیرت سے گزرنا پڑا، اطلاعات واقعی حیرت انگیز تھیں۔ بہر حال دوستوں کی یہ ایک چھوٹی سی منڈلی حیرتوں کی سیر کرتی قلم کاروں کی محفل میں جا پہنچی۔

بارہواں باب ’’شکست و ریخت کا گواہ شہر‘‘ پھر حیرتوں کو جگاتا ہے۔ یوں تو ہر سفرنامہ نگار نئی دنیا کی تلاش و جستجو کے دوران دریائے حیرت میں غوطہ زنی کرتا ہے اور تجربات و مشاہدات کے ہیرے جواہرات جمع کرتا ہوا مسرت انگیزیوں سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اس باب میں بھی یہ سب ہوا اور کثرت سے ہوا۔ پوٹس ڈام شہر کی، جو برلن سے محض سولہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، سیر کرائی گئی۔ برطانوی جاسوس ہمفرے کا تذکرہ کیا گیا جس نے سرد جنگ کے دوران مسلمانوں کے درمیان رہ کر ان میں تفرقہ ڈالنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ تہذیبی تاریخ کا بیان خاصہ معلومات افروز ہے۔ نیز لہجے کے ساتھ افسانوی رنگ اور فلسفیانہ انداز کچھ اور گہرا ہو گیا ہے۔ مثلاً یہ اقتباس:

’’یہ موسم خزاں کا تھا جو کہ علامت ہے تمام منفی خیالات کی، ہجر کی تاریکی کی لیکن کیا خزاں بھی اتنی خوبصورت ہو سکتی ہے یہ تو کبھی بھی تصور میں نہیں تھا۔ حد نگاہ تک پتے ہی پتے راہوں میں بکھرے تھے۔ پیڑ پتوں سے سے بظاہر پوری طرح بے نیازی برت رہے تھے لیکن ان کے ٹوٹ کر بکھر جانے پر افسردہ تو تھے لیکن ان کی افسردگی بھی انہیں خوشنما بنا رہی تھی کیونکہ گرنے سے پہلے ہی وہ پیڑوں پر تین رنگ لیے تھے ہرا، زرد اور لال رنگ۔ ہرا رنگ جہاں ایک نئی امید اور خوشی کا مظہر تھا تو زرد رنگ مایوسی کا اور لال رنگ تو ہے ہی نئے جوش و جذبے کا نام۔ یہ قدرت بھی نا کیسے کیسے فلسفے چھپائے رکھتی ہے اپنے ہر عمل میں، موسم ہے بدل جاتا یونہی، کیسے بدل جاتا بھلا قدرت کو تو اس سے اس پیکر گلِ کو ایک نیا سبق دینا بھی تو مقصود ہے، تب ہی تو ہر جگہ معرکہ بیم و رجا پیش کر دیا ہے۔‘‘

عشرت نے ایک مزار پر آلو دیکھے تو حیرت ہوئی کہ مزاروں پر تو پھول چڑھائے جاتے ہیں نہ کہ آلو۔ معلوم ہوا کہ بادشاہ فریڈریش دوئم کا مزار ہے۔ اس نے پہلی بار جرمن عوام کو آلو سے متعارف کرایا تھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں تین سو قسم کے آلو پائے جاتے ہیں۔ سینکڑوں قسم کے انگوروں کی بھی زیارت ہوئی۔ وہیں مرحوم بادشاہ کے گیارہ کتوں کی قبریں تھیں جنھیں وہ بہت عزیز رکھتا تھا۔ ایک جرمن خاتون کی بغیر اجازت تصویر کھینچ لی گئی تو اس نے اس بد اخلاقی پر خفا ہو کر اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا۔ یہ ایک اچھا سبق تھا جو اس کے ذریعے دیا گیا۔ قدیم بادشاہ کے محل سے متصل ایک پن چکی دیکھی جو پن چکی کے مالک نے بادشاہ وقت کے خلاف مقدمہ جیت کر حاصل کی تھی۔ اور اس دور کی عدالت نے اپنے اس جرات مندانہ عمل سے انصاف کو سربلند کیا تھا۔ اس قسم کے واقعات دہرانے سے انسانی عظمت کے ایقان میں پختگی آتی ہے۔ سفرنامہ نگار اگر قابل ذکر اور غیر قابل ذکر واقعات و مقامات کی اہمیت سے واقف ہو تو انھیں واقعات کا انتخاب کرتا ہے جن کی اخلاقی، معلوماتی، تفریحی، مادی یا عبرت آموز افادیت مسلم ہو۔ عشرت ناہید میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔

سفرنامے کا تیرہواں باب ’’یاد ماضی عذاب ہے یا رب‘‘ کا آغاز میر کے مشہور قطعے سے ہوا ہے۔

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا

عشرت ناہید نے اپنے سفرنامے کو جا بجا بر محل اشعار سے سجایا اور معنی خیز بنایا ہے۔ اشعار کے انتخاب سے صاحب انتخاب کے ادبی ذوق کے معیار کی تصدیق ہوتی ہے۔ انھوں نے کم و بیش سارے اشعار میں معیار کا پاس و لحاظ رکھا ہے۔ اس باب میں جرمنی کی نازی حکومت کے ظالم و جابر جنرل ہٹلر کا احوال ہے۔ اسی مناسبت سے ان کی ذہانت نے یہاں یہ قطعہ نقل کیا ہے مگر انھوں نے ہٹلر کی زندگی کے اسی تاریک پہلو کو اپنی گفتگو کا حصہ نہیں بنایا بلکہ اس سنگ دل انسان کی انسانیت سوز حیات کے دوسرے متضاد پہلو یعنی اس کی داستانِ عشق پر بھی خاصی تیز روشنی ڈالی ہے اور چوں کہ وہ افسانہ نگار ہیں اسی لیے اس میدان میں ان کے اشہب قلم کی جولانی اور طبیعت کی روانی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس باب میں عشرت ناہید سب سے پہلے ہٹلر کی مختصر سوانح حیات بیان کرتی ہیں اور اس کے بعد ہٹلر کی محبوبہ ایوا کا تعارف شروع ہوتا ہے اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر سفرنامہ غروب اور افسانہ طلوع ہو جاتا ہے۔ مثالیں ملاحظہ کیجیے:

۱۔ ’’ایوا اپنے آفس پہنچ چکی تھی۔ اس نے آہستگی سے میز کی دراز سے ایک لفافہ نکالا جس میں سے ایک تصویر تھی۔ وہ اس تصویر کو ایک ٹک نہارتی رہی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ تصویر کا شہزادہ آج بھی اس کے خواب میں آیا تھا اور اسے اپنے ساتھ وہاں لے گیا تھا جہاں کے لیے سفید گاؤن پہننے کی خواہش ہر جوان لڑکی کا سپنا ہوتی ہے۔ اس کا شہزادہ اس کے ہاتھوں کو تھام کر انگوٹھی پہنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر حیا کی سرخی تھی۔ سترہ سالہ ایوا کے جذبات مچل رہے تھے۔ اس کے خواب اسے مخمور کر رہے تھے۔ ابھی نجانے وہ کتنی دیر تک اپنے خیالوں کی دنیا میں گم رہتی کہ کسی نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اس نے آواز پر سر اٹھایا تو پلکیں جھپکنا ہی بھول گئیں، وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ نیلی نیلی چھوٹی مگر ذہانت سے بھری آنکھیں، بالائی لب کے اوپر چھوٹی کالی مونچھیں، گہرے بھورے بال۔ درمیانہ قد وہ اسی سے مخاطب تھا۔ یہ تو وہی ہے ایڈولف! اس نے دھیرے سے خود کلامی کی۔ اس کے چہرے پر مسرت تھی، وہ اپنے اندرونی جذبات چھپانا چاہتی تھی لیکن اس کے گالوں پر چھائی سرخی نے سب کچھ عیاں کر دیا تھا۔‘‘

۲۔ ’’ایوا بہت خوبصورت تھی۔ بیضوی چہرہ، روشن پیشانی، خم دار ابرو، محبت کے جذبے سے بوجھل پلکیں، سرخ و سفید رنگت، عارض پر ہلکی ہلکی لالی، صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم۔ حسن تو اس پر تمام تھا‘‘

۳۔ ’’سنہری بالوں میں نیلے رنگ کا چھوٹا سا کلپ، ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک، عارض پر ہلکی سی سرخی، ہلکے آسمانی رنگ کا گاؤن پہنے وہ قیامت خیز لگ رہی تھی۔ آنکھوں میں انتظار کے دئیے روشن تھے۔ وہ سراپا انتظار بن چکی تھی۔‘‘

اس سفرنامے میں کئی واقعات ہیں جن کا بیانیہ سفرنامے سے نکل کر من مانی کرتا ہے اور پھر سفرنامے میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایوا کی محبت کا انجام المیہ ہے۔ وصل محبوب کے بعد ایوا کی موت اور ہٹلر کی خودکشی کا بیان مفصل اور متاثر کن ہے۔ سفرنامہ نگار نے ہٹلر کی ایک زبردست مداح اور قوم پرستی کی علمبردار ساوتری دیوی سے بھی جو ایک برطانوی ماں اور اطالوی باپ کی اولاد ہے، ملاقات کروا دی ہے۔ مجموعی طور سے یہ باب پر از معلومات ہے۔

چودہواں باب ہمبولڈ یونیورسٹی کی سیر کراتا ہے اسی لیے سفرنامہ نگار نے اسے بجا طور پر ’’منبع علم و نور‘‘ کا نام دیا ہے۔ یوں ہر یونیورسٹی بلکہ ہر تعلیم گاہ منبع علم و نور ہوتی ہے لیکن اس کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں نظریۂ اضافیت کے نظریہ ساز البرٹ آئن اسٹائن نے بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دی ہیں اس کے علاوہ یہاں مجسموں کی بھیا یک دنیا آباد ہے۔ یوں تو پورا جرمنی بلکہ پورا یورپ مجسموں سے آباد ہے مگر بادشاہوں کے ذوق و شوق کی بدولت یہاں بھی مجسمہ سازی کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ عشرت ناہید چوں کہ خود ایک مرکزی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اس لیے تعلیمی نظام سے اچھی واقفیت رکھتی ہیں چنانچہ انھیں اس یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو سمجھنے سمجھانے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ انور ظہیر اور ان کی بیگم سے مکالمہ کرتے ہوئے پوری یونیورسٹی کی سیر کی۔

پندرہواں باب ’’محبت فاتح عالم‘‘ اگر چہ مختصر ہے مگر اس اعتبار سے بہت خوبصورت اور نہایت خوش کن ہے کہ اس میں دیوار برلن کی شکست و ریخت سے لے کر تعمیر و تشکیل تک پوری کہانی کا اولاً جاں سوز و دل شکن بعدہٗ پر جوش و مسرت بخش بیان ہے۔

سولھویں باب ’’سجدوں کی گواہ زمیں‘‘ مین برلن کے اس علاقے کی سیر ہے جسے کرائس برگ اور عرف عام میں ’’منی استنبول‘‘ کہتے ہیں اور جہاں ترک باشندے رہائش پذیر ہیں۔ یہ یہاں کیوں رہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی تعمیر نو کے موقع پر ترک مزدوروں کو بطور مہمان مزدور ( گیسٹ ورکر) ایک معینہ مدت کے لیے یہاں لایا گیا تھا لیکن کام ختم ہونے کے بعد بھی ان میں سے بیشتر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اب یہاں ان کی تیسری چوتھی نسل آباد ہے۔ یہ لوگ نوکری کے بجائے تجارت کرنا پسند کرتے ہیں، انھوں نے یہاں ایک خوبصورت مسجد بھی بنائی ہے جس میں پندرہ سو افراد ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہیں ان کا ایک قبرستان بھی ہے۔ مصنفہ نے اگر چہ یہاں کے ڈونر کباب کی بہت تعریف کی ہے مگر اسی وقت وطن کی محبت کے جوش میں انھیں ٹنڈے کے لکھنؤی کباب یاد آ جاتے ہیں۔ تاہم وہ یہ نہیں بتاتیں کہ اصل ٹنڈا مر چکا ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے کبابوں کا ذائقہ تا حال سوگ میں ہے۔

سترھواں باب ’’زاد راہ‘‘ جو کہ آخری باب بھی ہے، ایک صفحے سے کم ہے۔ عنوان زاد راہ بڑا معنی خیز اور تخلیقی ہے۔ زاد راہ کے لغوی معنی ہیں راستے کا خرچہ یا توشہ۔ عشرت ناہید نے سفر برلن کی خوش گوار یادوں کو مہکتی، گنگناتی رم جھم برساتوں جیسی یادوں سے تعمیر کیا ہے گویا ایسی یادیں جنھوں نے مشامِ جاں کو معطر کر دیا ہو، سارے وجود میں موسیقی اور اور نغمگی پیدا کر دی ہو اور رم جھم برسات کی خنکی سے روح میں محبت کی آگ بھر دی ہو۔ اپنے ان جذبات و احساسات کو سفر نامہ نگار عشرت ناہید نے شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے لکھتی ہیں:

اب کی بار زاد راہ تھیں، یادیں، مہکتی یادیں، گنگناتی یادیں، رم جھم برساتوں سی یادیں،

ہنستی مسکراتی یادیں،

مضبوط رشتوں کی یادیں،

ادب سے وابستہ یادیں،

ادبی محافل کی یادیں،

شفقتوں کی یادیں،

تتلی کے خوشنما پروں سی یادیں،

پھر آسمان سے زمین پر آتے ہی حقیقت کا غیر جذباتی پہلو ان کی نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے اور وہ ان خیالات کے ساتھ اپنے سفر کو منزلِ اول سے ہم کنار کر دیتی ہیں اور اس طرح اپنے گھر میں داخل ہوتی ہیں جیسے کوئی پرندہ لمبی اڑان کے بعد اپنے آشیانے میں داخل ہوتا ہے۔

کہ مسافر کو تو لوٹ آنا ہی ہوتا ہے

اپنے مکان و آشیانے پر

آشیانہ خوبصورت آشیانہ جہاں منتظر میرے دل کے مکین

میرا لخت جگر، میری نور نظر اور میرے دل کا سکون۔

یہیں سے اس سفر کا مسرت بخش آغاز ہوا تھا اور یہیں سفرنامے کا بصیرت افروز اختتام عمل میں آیا۔

سفر شرط ہے مسافر نواز بہتیرے۔ ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے۔

پروفیسر خالد محمود

جامعہ ملیہ یونیورسٹی، دہلی

٭٭٭

اظہار تشکر

جرمنی کے مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار شیلر نے کہا ہے

’’جب تم سے محبت کرنے والے تمہیں آواز دیتے ہیں تو یہ آواز وہ واحد آواز ہوتی ہے جو تمہیں نہ صرف نظر آتی ہے بلکہ تم اسے دل میں محسوس بھی کرتے ہو۔‘‘

یقین جانیے ایسی ہی آواز مجھے بھی سنائی دی تھی اور محسوس ہوئی تھی جب جرمنی کے شہر برلن کی تنظیم اردو انجمن برلن کے صدر عارف نقوی صاحب کی جانب سے مجھے دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔ وہ دعوت نامہ اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سر سید کے دو سو سالہ جشن میں شرکت کرنے کے لیے تھا۔ دعوت نامہ پا کر مجھے بے حد خوشی ہوئی، جانے کا خیال تو دل میں نہیں آیا تھا کیونکہ اس وقت تک میں نے ہندوستان میں ہی کسی شہر کا اکیلے سفر نہیں کیا تھا تو جرمنی تک جانا تو خیال و گمان سے بھی پرے تھا۔ دعوت نامہ کو بے حد متبرک چیز سمجھ کر سنبھال کر رکھ لیا لیکن جب دو تین دن کے بعد چچا جان پروفیسر صادق صاحب سے دہلی بات ہوئی اور باتوں باتوں میں دعوت نامہ کا ذکر کیا تو انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے برلن جانے کے لیے کہا۔ میں بہت حیران اور خوش ہوئی اور یوں ان کی حوصلہ افزائی ہی میرا رخت سفر بنی۔

دوسری طرف برلن سے میری دوست نرمی و حلاوت کا پیکر، خلوص کی مظہر میری نیم ہم نام عشرت معین سیما اور ان کے شوہر جو کہ اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں، دونوں کا پر خلوص اصرار۔ عشرت ہر وقت ہمت بندھاتی رہیں کہ بس آپ ہوائی جہاز میں بیٹھ جائیں اس کے بعد تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

لیکن میرے پیروں میں دو خوبصورت زنجیریں تھیں جو ذرا سی پیر کی جنبش پر چھن چھن کرنے لگتی تھیں اور یہ مدھر جھنکار قدم بڑھانے سے روک لیتی تھی لیکن جب ان سے بھی عشرت نے بات کی اور پیار سے سمجھایا کہ ممی کے ساتھ میں بہت سارے کھلونے اور تحفے بھیجوں گی وہ خوشی خوشی میرے جانے کی تیاری میں مدد کروانے لگے اور پھر عشرت نے بچوں سے کیا وعدہ نبھایا بھی۔

میرے دوست و احباب کی نیک خواہشات بھی ساتھ تھیں جن میں بطور خاص میرے مشفق و مربی علامہ اعجاز فرخ صاحب جنہوں نے سفر سے لے کر سفر نامہ تک شجر سایہ دار کی طرح دعائیں سایہ فگن رکھیں۔ راجہ یوسف صاحب، (کشمیر)، نصرت اعوان صاحبہ (کراچی) کا خلوص ساتھ رہا اور یوں ہم برلن پہنچ گئے۔

برلن میں میرا سات دن قیام رہا، خوب سیر کی۔ ہر دن برلن کے کئی چہرے نظر آتے رہے، کئی روپ دکھائی دیتے رہے۔ جو خوش رنگ بھی تھے تو بد رنگ بھی۔ کہیں قدیم شہر اپنی وراثت کو سنبھالے دامن سمیٹے تو کہیں نظریں چراتا نظر آیا تو کہیں جدید برلن اپنی پوری آب و تاب اور بڑے کر و فر کے ساتھ جلوہ گر ملا۔ اس دوران وہاں کے طریقہ تعلیم کو بھی سمجھا کہ ترقی یافتہ قومیں کس طرح اپنے نونہالوں کی آبیاری کرتی ہیں، کیسا طرز زندگی انہیں دیتی ہیں۔ وہاں کی تہذیب و ثقافت کو بھی ان چند دنوں میں جتنا کچھ سامنے نظر آتا رہا دیکھتی رہی۔ غیر ملکیوں کا اس دیار غیر کو اپنا مسکن بنا لینے کی وجوہات بھی واضح ہوئیں تو وہیں ان کے دلوں میں وطن کی محبت کا چراغ بھی روشن ملا۔ مشرقی اور مغربی تہذیب کا خوبصورت امتزاج بھی دیکھا۔ یہ سب ذہن میں محفوظ تھا جسے لکھنے کا کئی بار ارادہ کیا لیکن مصروفیات زندگی کچھ تساہل طبیعت وجہ بنتی رہی۔ آخر جب دنیا کے ایک بڑے حصے میں زندگی کی رفتار اچانک تھم گئی، ہم گھروں میں مقید ہو گئے، زمینی اور ہوائی راستے مسافروں کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے رہ گئے۔ کچھ وقت تو کرونا کی دہشت اور کسی بھی پل زندگی کے ہی سفر کر جانے کا خدشہ و خطرہ سر پر منڈلاتا رہا لیکن جب تھوڑے حواس بحال ہوئے تو اس وقت کو غنیمت جان سفر برلن کو یادوں کے پٹارے سے نکال صفحہ قرطاس پر اتارنے کے لیے قلم اٹھا ہی لیا۔ اور روداد سفر لکھ ڈالی۔

اس سفر کے لیے میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب اسلم پرویز صاحب کی دل کی گہرائیوں سے ممنون ہوں کہ انہوں نے نہ صرف اجازت نامہ مرحمت فرمایا بلکہ اپنی خصوصی نیک خواہشات بھی بطور رخت سفر دیں۔ لکھنؤ کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبد القدوس صاحب کا شکریہ ادا کرنا بھی میں اپنا اولین فرض سمجھتی ہوں کہ انہوں نے میرے سفر کے سلسلے میں یونیورسٹی سے متعلق ہر مرحلے میں میری بھر پور معاونت کی۔ لکھنؤ کیمپس کے تمام رفقائے کار کی بھی نیک خواہشات کے لیے ممنون ہوں۔

سفر نامہ اپنے تئیں مکمل کرنے کے بعد جب اس کا ذکر پروفیسر خالد محمود صاحب جو کہ میرے عم محترم کا درجہ رکھتے ہیں، سے کیا، وہ بہت خوش ہوئے تب میں نے اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ آپ اس پر اظہار خیال فر ما دیں تو تحریر کو اعتبار مل جائے گا۔ اور واقعی انہوں نے میری اس خواہش کو حقیقت میں بدل کر میرا سفر برلن مکمل کروا دیا۔

میرا سفر رب کی رضا اور ان ہستیوں کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا ایک تو میرا بھائی ڈاکٹر نظر محمود مدیر و ناشر روز نامہ نیا نظریہ۔ نظر نے میرے جانے کی پوری کاروائی کی، قدم قدم پر میرے ساتھ رہے، دوسری میری دوست عشرت معین سیما اور ان کے شوہر انور ظہیر رہبر صاحب جو اپنے نام کے مصداق رہبری فرماتے رہے۔ ان کے مشفقانہ رویہ کے باعث مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ یہ سفر اور سفر نامہ ان کی مدد کے بغیر نا ممکن تھا۔ ان کے لیے شکریہ کے الفاظ بے معنی ہیں پھر بھی رسماً ہی سہی ان کا شکریہ۔ تیسرے میرے بچے اگر وہ ضدی اور نا سمجھ ہوتے تو ممکن لفظ کے معنی ہی بدل جاتے۔ جن کے لیے ہر دم دعا ہے رب سے کہ ان کے نصیب میں

عروج لکھنا کمال لکھنا

کبھی نہ حرف زوال لکھنا۔

آمین

عشرت ناہید

ان دیکھے خواب نے مانگی تعبیر

راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ایسے میں ہم نے سفر کو وسیلہ ظفر بنانے کی ٹھانی ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ ٹھانی تو میں نے نہ تھی بس ٹھن گئی تھی ہوا یوں کہ جون 2017 میں جرمنی کے دار الحکومت برلن کی اردو تنظیم ’اردو انجمن برلن‘ کے صدر عارف نقوی اور نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کی جانب سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں درج تھا کہ ان کی تنظیم اس سال سر سید احمد خاں کی دوسری صد سالہ تقریب منعقد کر رہی ہے جس میں مجھ سے شرکت کی درخواست ہے۔ دعوت نامہ پڑھ کر میں دھیمے سے مسکرا دی۔ میں نے تو یہاں ہندوستان میں کبھی کسی شہر کا تنہا سفر نہیں کیا تھا، بھلا کیسے یورپ، جرمنی اور پھر برلن جا سکتی تھی وہ بھی اکیلے!! دعوت نامے کو بہت با برکت سمجھ کر اٹھا کر رکھ دیا اور سوچا کہ نہ دادا مریں گے اور نہ بیل کٹے گی۔ اور ویسے بھی نہ تو کبھی بند آنکھوں سے نہ ہی جاگتی آنکھوں سے، میں نے کبھی کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جو سامنے کھڑا تعبیر مانگ رہا تھا۔ جب یہ دعوت نامہ موصول ہوا ان دنوں موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے میں اپنی امی کے گھر اجین میں تھی۔ دعوت نامہ پا کر خوشی تو بہت تھی، گھر میں ذکر کیا سب نے خوشی کا اظہار تو کیا لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم جا سکتی ہو۔ نہ ہی میں نے سوچا، دوسرے دن میری ٹیلی فون پر اپنے چچا جان (پروفیسر صادق صاحب) سے بات ہوئی میں نے ان سے دعوت نامے کا ذکر کیا تو انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ’تم ضرور جاؤ۔‘

میں نے حیرانی سے کہا ’چچا جان کیا کہہ رہے ہیں۔ میں برلن! برلن جاؤں؟‘

’ہاں ہاں کیوں نہیں جاؤ گی؟ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے تیاری کرو اچھا سا پیپر لکھو جو وہاں پڑھنا ہو گا اور جانے کی تیاری کرو۔‘

’وہ تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔‘

’کیا لیکن‘

’چچا جان بچوں کو کیسے چھوڑ کر جاؤں گی؟‘

’جیسے یونیورسٹی جاتی ہو۔‘

’ارے چچا جان ایک ہفتے کا پروگرام ہے اور سفر کے دو تین دن الگ‘

’تو کیا ہوا تمہیں جانا چاہیے‘

چچا جان کا حوصلہ دینا تھا کہ سمجھئے میں تو جانے کے لیے تیار ہی ہو گئی۔

اب دوسرا مرحلہ شوہر صاحب سے اجازت کا تھا انہوں نے بخوشی اجازت دے دی کیونکہ بات چچا جان کی تھی اور چچا جان ہم دونوں کے بزرگ تھے ان کی کہی بات ہمارے لیے حرف آخر کا درجہ رکھتی تھی۔

دوسرے ہی دن میں نے یونیورسٹی میں اجازت نامے کی درخواست لکھنؤ کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبد القدوس صاحب کو بھیجی اور ساتھ ہی فون پر بھی بات کی۔ انہوں نے اس دعوت نامے پر از حد خوشی کا اظہار کیا، اپنی جانب سے ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیے بنا درخواست یونیورسٹی ہیڈ کوارٹر یعنی حیدرآباد فارورڈ کر دی۔ اب مرحلہ تھا یونیورسٹی سے جواب آنے کا، کچھ دن بعد وہاں سے ایک میل موصول ہوا جس کے ساتھ ایک پروفارما تھا جسے پر کرنے کے ساتھ ساتھ برلن میں پیش کیا جانے والا مقالہ بھی منسلک کرنا تھا، پروفارما میں یہ بھی بتانا تھا کہ میرے سفر کے مقاصد کیا ہیں؟ میرے کانفرنس میں شرکت کرنے سے یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو نیز یونیورسٹی اور ملک کو اور جس ملک میں جا رہی ہوں کیا فائدہ ہو گا؟ کس طرح کے اثرات مرتب ہوں گے؟ یعنی عالمی اثرات کے کیا امکانات ہیں؟ اس ساری کاروائی کے بعد بھی ایک طویل انتظار رہا پروگرام کی تاریخیں نزدیک آ رہی تھیں اور یونیورسٹی کے مراحل مکمل نہیں ہو رہے تھے پھر میں نے وائس چانسلر صاحب سے براہ راست رابطہ قائم کیا انہوں نے خصوصی دلچسپی لے کر فوری طور پر اس کام کو انجام تک پہنچوایا۔ اب ویزہ اپلائی کرنا تھا۔ جس کے لیے دہلی جانا تھا، چھوٹا بھائی نظر جو ان دنوں دہلی سے اجین گیا ہوا تھا وہ وہاں سے اور میں لکھنؤ سے دہلی کو روانہ ہوئے، دوسرے دن ۶ ستمبر کو دہلی پہنچے، ہم نے ایک ایجنٹ کے زریعے ویزہ فارم وغیرہ تیار کروا لیا تھا۔ دن میں ایک بجے سے پہلے ہمیں ویزہ آفس پہنچ جانا تھا، وقت کا اچھا خاصا مارجن لے کر ہم گھر سے نکلے بس خطا یہ کر بیٹھے کہ بجائے میٹرو کے اپنی گاڑی سے چل پڑے، سو سزا ایسی ملی کہ خدا ہی یاد آ گیا۔ دہلی کا ٹریفک اور پھر جام اس کا، دھواں تھا کہ مد ہوش کیے جا رہا تھا، اور وقت کی رفتار ہوش اڑا رہی تھی اور سچ پوچھیے تو اسی وقت ہمیں وقت کی اہمیت کا بھی صحیح طور پر اندازہ ہوا کہ وقت کی قیمت اس سے پوچھئے جس کی نظروں کے سامنے سے دو منٹ کی دیری میں ٹرین چھوٹ گئی ہو اور منزل زندگی دور بہت دور۔۔ ۔ خیر ہم ویزہ آفس پہنچے میں اندر کاؤنٹر کی طرف بڑھی۔ وہاں بیٹھی پیاری سی کامنی لڑکی نے میرے آنے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا شولڈر بیگ اٹھایا کاندھے پر لیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں تو کھڑی کے کھڑی ہی رہ گئی۔ پھر ہمت کر کے اپنی بات اس سے کہی۔ اس نازنین نے ایک نظر گھڑی کی طرف تو دوسری نظر میری طرف ڈالی، ایک بج کر پانچ منٹ ہوا چاہتے تھے۔ میں نے ملتجی نظروں سے پلیز کہا اس نے پاس کھڑے آفیسر سے آہستہ سے بات کی، جنہوں نے گردن ہاں میں ہلا کر کچھ جواب دیا۔ پھر اس پیاری سی لڑکی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کرسی پر بیٹھ کر ضروری کار روائی کر کے ایک سلپ میری طرف بڑھا دی جسے میں نے بڑی مضبوطی سے اپنی مٹھی میں دبا لیا۔ وہ ایک ٹوکن تھا۔ جسے لے کر میں اندر گئی، جہاں بہت سارے کاؤنٹر تھے، جن کے سامنے ڈیجیٹل ڈسپلے بورڈ لگے ہوئے تھے، جن پر ٹوکن نمبر آ رہے تھے۔ یہاں اچھی خاصی بھیڑ تھی۔ لوگ وہاں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے میں بھی خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئی، یہاں ایک بات کہنا چا ہوں گی کہ اس وقت مجھ پر بہت گھبراہٹ طاری تھی وجہ! وجہ وہی مشرقی ماحول، گو کہ میں ایک مرکزی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھی، لیکن زندگی کے معاملات میں بالکل صفر تھی، ہمیشہ بھائیوں پر منحصر رہی، ہر کام کے لیے، کہیں جانا ہو تب ہمیشہ ایک نہ ایک بھائی ساتھ ضرور ہوتے تھے شادی کے بعد یہ ذمہ داری کچھ کچھ میاں جی اٹھا لیتے تھے لیکن زیادہ تر اب بھی بھائی ہی دیکھتے تھے، دہلی میں بھی چھوٹا بھائی ساتھ تھا، لیکن چونکہ انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے یہاں اکیلی تھی۔ اب میں نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے پوری توجہ کاؤنٹرز کی جانب مرکوز کر دی تھی اور دھیان سے دیکھ اور سن رہی تھی کہ وہ دیگر لوگوں سے کس طریقے کے سوالات کر رہے ہیں کونسے کاغذات دیکھ رہے ہیں۔ میں نے اپنے کاغذات پر بھی نظر ڈالی انہیں ترتیب سے رکھا۔ کاؤنٹر پر جانے والوں سے سب سے پہلے ٹوکن والی سلپ ہی لی جا رہی تھی، میں نے سوچا اسے پہلے اوپر رکھ لوں، اسے ہاتھ میں پھر کاغذوں میں دیکھا ندارد، ارے یہ کہاں گئی، اپنے دائیں بائیں کرسی کے اوپر نیچے چاروں طرف دیکھ لیا وہ ننھا سا پرزہ نجانے کہاں ہوا ہو گیا اور میری تو جیسے ہوائیاں ہی اڑا گیا۔ میں پریشان پریشان بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اس پر لکھا نمبر تک تو یاد نہیں کیسے پتہ چلے گا کہ کس کاوئنٹر پر جانا ہے؟ میرے سامنے والے کاؤنٹر پر تقریباً آٹھ لوگوں کے بعد ایک نمبر ڈسپلے ہوا اس پر کوئی بھی اٹھ کر نہیں گیا، چند ثانیے انتظار کے بعد کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے نام پکار دیا۔ میں فوراً اٹھ کر گئی اس نے ٹوکن سلپ مانگی، میں نے کہا گم ہو گئی۔ اس نے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا کہیں کاغذوں میں ہے لیکن مجھے مل نہیں رہی۔ پھر اس نے مجھ سے جرمنی جانے کا مقصد پوچھا،

میں نے بتایا ’’کانفرنس میں جا رہی ہوں‘‘

’’کس قسم کی کانفرنس ہے؟‘‘

’’لٹریری‘‘

’’کہاں ٹھہریں گی آپ کے فارم میں یہ بات تو درج ہی نہیں ہے۔‘‘

میں ایک دم پریشان ہو گئی کہ میرے پاس عشرت کے گھر کا پتہ تو تھا لیکن اس وقت وہاں نہیں تھا۔

میں نے کہا ’’میری دوست کے گھر ٹھہروں گی۔‘‘

پھر مجھے خیال آیا کہ میرے دعوت نامے پر یہ بات لکھی ہوئی ہے میں نے فوراً ان کی توجہ اس طرف دلائی وہ مطمئن ہو گئے، کہنے لگے۔

’’بچے کتنے ہیں؟‘‘

میں چونکہ گھبرائی ہوئی تھی بول پڑی ’’مجھے نہیں پتہ کہ ان کے یہاں کتنے بچے پڑھتے ہیں۔‘‘

’’میں آپ کے بچے پوچھ رہا ہوں‘‘ وہ مسکرا دیا۔

’’جی دو ہیں۔‘‘

’’کتنی عمر ہے ان کی؟‘‘

’’6 سال اور 8 سال‘‘

’’کس کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہیں؟‘‘

’’بچے اپنے والد کے پاس ہیں‘‘

’’واپسی کب کی ہے آپ کی‘‘

’’جی 23 ستمبر‘‘

مجھے اس کے اتنے سوالوں سے الجھن سی ہونے لگی تھی۔

اس کاؤنٹر کے بعد مجھے دوسرے کیبن میں بھیجا گیا جہاں لڑکیاں تھیں انہوں نے بھی مجھ سے ذاتی سوالات ہی کیے اور باتیں کرتے کرتے میری پانچوں انگلیوں کے نشانات لے لیے۔

ان سب کار روائیوں کے بعد مجھے باہر جانے کے لیے کہا گیا۔

باہر آ کر میں نے اپنے بھائی نظر کو بتایا کہ ایسے ایسے سوالات کر رہے تھے۔

تب اس نے جواباً کہا کہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ کہیں آپ وزٹ ویزہ لے کر وہیں رک تو نہیں جائیں گی کیونکہ اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، جب تم نے کہا کہ بچے چھوٹے ہیں تب انہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ تم واپس آؤ گی ہی۔ اب تمہارا ویزہ جلدی آ جائے گا ان شاء اللہ۔

میں اسی رات ٹرین سے لکھنؤ کے لیے روانہ ہو گئی۔

دوسرے دن میں نے اپنے مشفق و مربی علامہ اعجاز فرخ صاحب کو حیدرآباد فون پر بتایا کہ مجھے جرمنی سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے، ویزہ کے لیے درخواست بھی دے دی ہے، وہ بہت خوش ہوئے اور حسب عادت ایسی دعائیں دیں کہ آنکھیں نم ہونے لگیں۔ پھر انہوں نے مجھے سفر سے متعلق چھوٹی چھوٹی کار آمد باتیں سمجھائیں، انہوں نے میرا مقالہ توجہ سے سنا۔ کچھ مفید مشورے دئیے، سفر کا حوصلہ دیا یہی حوصلہ میرا زاد راہ بنا۔

علامہ اعجاز فرخ صاحب حیدر آباد کی اس شخصیت کا نام ہے جو تعارف کی محتاج نہیں، جو ایک زندہ و جاوید تاریخ حیدرآباد کا مرقع ہیں۔ جن کے قلم کی ضو فشانیاں مرقع حیدر آباد کی شکل میں اپنے آپ کو منوا چکی ہیں اور انداز تحریر سے ہی نہیں انداز تقریر سے ایک عالم کو مبہوت کر اس دور کے تہذیب و تمدن کی سیر کروا دیتے ہیں۔ اس جہان میں لے جاتے ہیں جو اب صرف تاریخ کی کتابوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔ میرے مشفق سر پرست تجربات زندگی سے عرق کشید کر کے راہ حیات معطر کرنے کے ہنر سے آراستہ ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔

12 ستمبر کو ویزہ ملا اور پندرہ کی شام لکھنؤ سے دہلی کے لیے میری روانگی تھی جہاں سے رات دو بجے برلن کی فلائٹ تھی۔

لکھنؤ ائیر پورٹ کی جانب روانہ ہوتے ہوئے دل خوش بھی تھا اور اداس بھی، بچوں کو چھوڑ کر جانا بڑا سخت مرحلہ تھا گو کہ کوئی یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ میں نے ایان مشا کے بنا کہیں جانے کا ارادہ کیا تھا، اس سے پہلے 2016 میں ریفریشر کورس کے لیے دہلی گئی تھی تب بھی دونوں کو اپنی بہنوں کے پاس چھوڑا تھا لیکن اب میں تنہا ملک سے باہر جا رہی تھی شاید اس وجہ سے یہ کیفیت تھی۔

ائیر پورٹ پر ایک نیا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا لکھنؤ سے دہلی تک کی پرواز گھریلو اڑان کے زمرے میں آتی ہے جبکہ دہلی سے برلن بین الاقوامی۔ دونوں میں سامان کا وزن الگ الگ تھا، میں نے انٹرنیشنل کے فلائٹ کے مطابق وزن رکھا تھا پہلے ہی مرحلے پر ہی ڈیوٹی لگ گئی کہ میرا سامان پندرہ کلو سے زیادہ تھا، میں نے کاؤنٹر پر بیٹھے نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ’بھائی میرے مجھے دہلی سے آگے جانا ہے میرا ٹکٹ دیکھیے اس کے اعتبار سے معاملہ کیجیے‘ لیکن مجال ہے اس پر کچھ اثر ہوا ہو، آخر کار مجھے سامان کا ٹیکس ادا کرنا ہی پڑا۔ یہ نظام تو میری سمجھ سے تو بالا تر تھا، اور شاید یہاں کھلی دھاندلی ہو رہی تھی۔ خیر۔ جیٹ ائیر ویز کے ذریعے اب میں دہلی ائیر پورٹ ٹرمینل تین پر تھی جہاں لفتھانسا ائیر ویز سے مجھے اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ دہلی ائیر پورٹ اور بطور خاص ٹرمینل تھری دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ دیوار پر خوبصورت ہتھیلیاں، مخروطی انگلیاں جو رقص کی مختلف مدراؤں کو دکھا رہی تھیں وہ اتنی دلفریب تھیں کہ میرا خیال ہے کہ اس نظارے کو دیکھ کر ہر غیر ملکی سیاح کے قدم چند ثانیے کے لیے تو ضرور ٹھہر جاتے ہوں گے ویسے یہ میرا خیال ہی نہیں دعویٰ بھی ہے۔ ضروری کار روائیاں اور چیکنگ کے مرحلے سے گزر کر اب میں وہاں پہنچ چکی تھی جہاں سے مجھے برلن کی فلائٹ ملنا تھی یہاں رات میں بھی دن کا سا سماں تھا، روشنیوں کی جگمگاہٹ بہت بھلی لگ رہی تھی، وہیں لاؤنج کے بیچ میں راجکمار سدھارتھ (مہاتما بدھ) کا کانسے کا ایک بڑا سا مجسمہ نصب تھا، راجکمار کے لبوں پر وہی ازلی دلفریب مسکراہٹ سجی ہوئی تھی جو ان کی شخصیت کا خاصہ رہی تھی لیکن جانے کیوں مہاتما بدھ کے مجسمہ کو دیکھ کر عقیدت کے جذبات پیدا نہیں ہوئے بلکہ میانمار یاد آ گیا۔ میں نے مجسمے سے نظریں ہٹا لیں۔ چونکہ میری فلائٹ میں ابھی بہت وقت تھا اس لیے میں سکون سے تھی اور اپنے گھر والوں سے مستقل رابطے میں تھی، ادھر عشرت اور رہبر صاحب سے بھی رابطہ قائم تھا جو ہمت اور حوصلہ دے رہے تھے۔ اس وقت جذبات میں طغیانی ایک فطری عمل تھا جسے میں روک نہیں سکتی تھی، مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اس وقت میرے بھائی بہنوں کے دل کیا کہہ رہے ہوں گے۔ بڑے بھائی سب سے زیادہ فکر مند تھے کہ اکیلی جا رہی ہے، ظاہر ہے جب ایسے ماحول میں پرورش ہوئی ہو جہاں گھر سے اکیلے کہیں جانے کا رواج نہ رہا ہو ہر جگہ بھائی یا امی ابا ساتھ رہے ہوں وہ سات سمندر پار جا نے کی ٹھان لے، دل تو ہولائے گا ہی نا، بس ان کی تو دعائیں چل رہی تھیں ہدایتیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں جبکہ باقی سب ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ سب میرے ساتھ بشمول شوہر صاحب کے جاگ رہے تھے۔ بالکل ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سب مجھے خدا حافظ کہنے ساتھ آئے ہوئے ہوں۔ لکھنؤ میں میرے بچے دس بجے شب بخیر کہہ کر سو چکے تھے۔

لفتھانسا ائیر ویز اپنی بہترین کار کردگی کی وجہ سے مقبول ائیر ویز میں شمار ہوتی ہے اور مہنگی ترین بھی، اس کی مقبولیت کا سبب ہوائی جہاز کے اندر جانے کے بعد سمجھ میں آیا، زیادہ تر مسافر غیر ملکی تھے، ہندوستانی کم تھے، میں اپنے آپ میں گم زیادہ تھی اس لیے اس وقت جہاز کے اندر کے ماحول میں میری دلچسپی کم تھی لیکن پھر دہلی سے فرینکفرٹ کا فاصلہ 6134 کلو میٹر یعنی 3811 میل تھا۔ جسے جہاز نے سات گھنٹے بیالیس منٹ میں طے کیا۔ یہ پورا سفر سکون سے انجام پایا۔ سامنے مانیٹر پر جہاز اڑتا ہوا نظر آتا رہا۔ پیاری پیاری ائیر ہوسٹس تھوڑی تھوڑی دیر میں اپنی مختلف نوعیت کی ضیافت میں مصروف تھیں۔ ویج نان ویج کی پسند بھی پوچھ لیتی تھیں لیکن جانے کیوں حرام حلال کا ایسا خیال دل میں آیا کہ نان ویج تو ٹھیک ویج لینے کو بھی من نہ مانا اور اتنا لمبا سفر صرف جوس اور بریڈ کی دو سلائس پر اکتفا کرتے ہوئے پورا کر ڈالا۔ جہاز اپنی پرواز طے کر رہا تھا اور میرا ذہن اپنی۔

کبھی ابا شدت سے یاد آتے کہ کاش وہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے، امی کی دعائیں یاد آ رہی تھیں امی میری امی! ان کا ہی تو خواب تھا جسے میں پورا کر رہی تھی۔ میری امی نے ہی میری منزل کا تعین کیا تھا کہ میری بیٹی کسی کالج یا یونیورسٹی میں جائے گی۔ دوسری ان کی بڑی خواہش تھی کہ میں افسانے لکھوں، انہوں نے کبھی مجھے روایتی ماؤں کی طرح گھر کے کاموں کی تلقین نہیں کی۔ میرے ہاتھ میں کتابیں دیکھ دیکھ کر مانو ان کا خون بڑھ جایا کرتا۔ کیسی پیاری میری ماں۔ گھر کا پورا ماحول ادبی تھا۔ امی اجین کے حلقہ نسواں کی صدر تو ابا شاعر، ادیب اور صحافی کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت گار بھی۔ امی نے طنز و مزاح کا شعری مجموعہ مرتب کیا تو احمد جمال پاشا جن کا شمار اپنے وقت کے اہم ناقدین اور مزاح نگاروں میں ہوتا ہے امی کو تقریباً آٹھ صفحات کا خط لکھا۔ ابا کا ’اعتبار‘ کے نام سے شعری مجموعہ منظر عام پر آیا تو ساتھ ہی نثر میں ’ کالیداس ایک مطالعہ‘ نے ان کی ادبی حیثیت کو استحکام بخشا۔ بطور صحافی نیا سماج کے اجین ایڈیشن نے انہیں صحافت کی دنیا میں متعارف کروایا۔ گھر کا ماحول بھی کتنا خوبصورت تھا، شام مغرب کے بعد کھانا کھا لیا جاتا اس کے بعد چہل قدمی معمول تھی، ابا اقبال کے شعر پڑھتے اور امی ہمیں اس کے معانی و مطالب بتاتیں،

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

اقبال کی یہ پہلی غزل تھی جو مجھے اسی چہل قدمی میں یاد ہوئی تھی۔ جب ماحول والدین نے ایسا بنایا ہوا ہو تو امی کا یہ خواب تو تعبیر پانا ہی تھا نا۔ خیالوں کا سلسلہ ماں سے ہوتا ہوا اپنے ماں بننے تک پہنچا جا رہا تھا۔ ایان مشا کا خیال آنکھوں میں آنسو لا رہا تھا۔ میرے پیارے معصوم بچے کتنے صابر تھے۔ کتنے شوق سے انہوں نے ماں کو سفر پر روانہ کیا تھا، تیاریاں کروائی تھیں۔ بس ایک ہی بات تھی مما ہمارے لیے کیسے کھلونے لائیں گی۔ بس مشا نے آنے سے ایک دن پہلے میری جان مٹھی میں لا دی تھی۔ آخری دن اعلان کر دیا کہ مما کے ساتھ میں عشرت آنٹی کے یہاں برلن جا رہی ہوں، بس جا رہی ہوں! اس کا مخصوص تحکمانہ لہجہ جو اس کا خاص انداز ہے اور جس کے بعد ہماری یعنی ممی ڈیڈی کی مجال نہیں کہ ٹال دیں۔ میرے تو ہاتھ پیر ہی ٹھنڈے ہو گئے تھے کیونکہ اس نے نہ صرف اعلان کیا تھا بلکہ میری پیکنگ کے سامان میں اپنی فراکیں بھی رکھ دی تھیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کو کیسے سمجھاؤں بڑی مشکل سے اس سے کھلونوں کی پسند پوچھی کہ اسے برلن سے کیا منگوانا ہے؟۔ میں تو خود اپنی پسند سے لے لوں گی نا ابھی سے کیوں بتاؤں؟‘‘ اکیسویں صدی کی چالاک بچی۔

پھر میں نے اسے گود میں بٹھا کر بہت سارا پیار کر کے پاسپورٹ دکھایا سمجھایا کہ ’’بیٹا دیکھو اس میں آپ کی فوٹو نہیں ہے اس لیے آپ ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھ پائیں گی۔‘‘

’’تو کیا ہوا مما ابھی فوٹو کھینچ کر لگا دو نا۔‘‘

خیر بڑی مشکل سے وہ ایک کھیلنے والی رنگ لانے پر راضی ہوئی اور میری جان میں جان آئی۔ یہ سب منظر میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہے۔ میری سوچیں عورت کے ممتا کے روپ پر اٹک کر رہ گئی تھیں، شاید کسی مفکر نے کہا ہے کہ عورت مکمل ہی تب ہوتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ عورت تو ماں بننے کے بعد صرف ماں ہی رہ جاتی ہے، اس کے لیے یہ جہاں یہ کائنات زمین آسمان سب سمٹ کر صرف ماں کا وجود بن جاتے ہیں، اس کی تمام تر سوچیں صرف اولاد تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ مجھے بار بار امی کا اس وقت کا وہ جملہ یاد آ رہا تھا، جب میں کالج سے گھر پہنچنے والی ہوتی تھی اور امی اوپر کھڑکی کا پردہ ذرا سا سرکائے میرا انتظار کر رہی ہوتی تھیں اور اس وقت مجھے اس بات پر بہت غصہ آتا تھا اور میں ان سے کہتی تھی کہ ’’امی اب میں بچی نہیں ہوں کہ آپ یوں فکر مند کھڑی رہیں‘‘، وہ بڑے پیار سے کہتی تھیں کہ ’’بیٹا یہ بات تمہیں تب سمجھ میں آئے گی جب تم خود ماں بنو گی کہ تمہاری ماں کیوں ہر دن کھڑکی میں کھڑی تمہارا انتظار کرتی رہتی ہے۔‘‘ لیکن خدا کی قدرت کہ مجھے ماں بننے کا شرف ایک طویل عرصے کے بعد حاصل ہوا اور جب ایان اسکول جانے لگے تب مجھے سمجھ میں آیا کہ بچہ جب گھر سے جائے تو ماں کیسے سراپا انتظار بن جاتی ہے، اس کا وجود تو ساری کائنات چھوڑ صرف ماں میں ڈھل جاتا ہے، وہ تو ماں کے سوا کچھ رہ ہی نہیں جاتی یہی وجہ تھی کہ مجھے کیمپس میں آنے والے سب بچے اپنی اولاد سے محسوس ہوتے، کئی بار جب میں ان کی پانی کی بوتلیں چیک کر لیتی کہ وہ پانی برابر پی رہے ہیں یا نہیں یا وہ سارا دن یہاں کلاسز اٹینڈ کرتے ہیں تو لنچ ساتھ لائے یا نہیں تو وہ ہنس کر کہتے کہ ’’میم جب آپ ٹفن باٹل پوچھتی اور چیک کرتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی اسکول میں ہی ہیں کسی یونیورسٹی میں نہیں پہنچے۔‘‘

میرے خیالات کے تسلسل کو جہاز کے اعلان نے توڑا جو فرینکفرٹ ہوائی اڈے پر پہنچنے کا تھا۔

جہاز فرینکفرٹ پہنچ چکا تھا اور میں ایک نئی دنیا میں۔ فرینکفرٹ کا ائیر پورٹ بہت بڑا تھا لیکن ذرا بھی خوبصورت نہیں بس طویل طویل راہداریاں جو چلتے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی کہہ رہی تھیں، ان راہوں پر خوبصورت لڑکیاں اور خوش شکل لڑکے ضرور تھے جو مسافروں کو راہ دکھانے میں مدد کر رہے تھے۔

ائیر پورٹ نے مجھ پر کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کیا کیونکہ میں لکھنؤ اور دہلی کے ائیر پورٹ سے موازنہ کر رہی تھی۔ چلتے چلتے خیال آیا کہ یہاں کے مادہ پرست لوگ بھلا تہذیب اور ثقافت کی اہمیت کو کیا جانیں جو ائیر پورٹ سجاتے میرا ملک جو اپنی ایک الگ تہذیبی شناخت رکھتا ہے، جہاں قدم قدم پر گنگا جمنی تہذیب کے مناظر دل کو لبھاتے ہیں، بھلا یہ لوگ کیا اس کی برابری کریں گے، ایک فخر کا احساس میرے دل میں ابھرا اور جو ذرا مرعوبیت یورپ کے نام پر دل میں تھی یکسر غائب گئی۔

اب میرے قدموں میں ایک نیا اعتماد تھا۔ اس ائیر پورٹ پر بھی ایک مرتبہ پھر چیکنگ کا مرحلہ سامنے تھا اور اس بار تو دہلی سے زیادہ باریکی سے چیکنگ کی جا رہی تھی شاید یہ لوگ مسافروں پر اعتماد کم کرتے ہیں یا عدم تحفظ کا شکار ہیں لیکن ایک خاص بات ضرور تھی کہ وہ مسافروں کے ساتھ بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہے تھے تا کہ مسافر پریشانی محسوس نہ کریں۔ اب مجھے خوش شکل خوش مزاج جرمن متاثر کرنے لگے تھے، تندہی سے کام نپٹا رہے تھے اور ایک مسکراہٹ تھی کہ لبوں پر ٹھہری سی لگ رہی تھی جس میں پیشہ ورانہ انداز کم اور حقیقت زیادہ جھلک رہی تھی۔ شاید یہ محنتی قوم اپنے کام سے سچی محبت کرتی ہے اور یہ مسکراہٹ اسی کا شاخسانہ تھی اور شاید کہاں یہ تو یقین کرنے والی بات تھی کہ جرمنی ایک ایسا ملک تھا جس نے دونوں جنگ عظیم میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا تھا نتیجتاً شکست فاش سے بھی دوچار ہوا، ملک تباہی کی جو مار جھیل چکا تھا کہ اس کے بعد یوں اٹھ کھڑے ہونا کہ امریکہ اور چین کے بعد تیسرا امیر ترین ملک بن جانا معمولی بات تو نہیں تھی۔ اپنے ملک کی دوبارہ مثبت شبیہ دنیا کے سامنے پیش کرنا تو یہ سب اس قوم ہی کے ذریعے ہوا نا، یہ جفا کش قوم واقعی لائق تعظیم ہے۔ جس وقت پاسپورٹ چیک کرانے کا مرحلہ آیا تب کاؤنٹر پر بیٹھے نوجوان نے مسکراتے ہوئے گڈ مارننگ کہا۔ میں نے جواباً وش کرتے ہوئے پاسپورٹ اور ٹکٹ اس کی جانب بڑھا دیا اس نے مانیٹر پر کچھ اندراج کیا پھر مسکراتے ہوئے سوال کیا ’’آپ برلن کیوں جا رہی ہیں؟‘‘

’’ایک لٹریری کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے۔‘‘

’’ہندوستان کے کس شہر سے آئی ہیں؟‘‘

اس کے سوال کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ مجھ سے شرارتاً پوچھ رہا ہو، مجھے حیرانی بھی ہوئی کہ یہ سب تو اس کے مانیٹر پر آ رہا ہو گا پھر بھی سوال، خیر یہ ان کی ڈیوٹی تھی اور جواب دینا میرا فرض تھا۔

’’آپ کس سبجیکٹ کی ٹیچر ہیں؟‘‘

’’اردو لٹریچر‘‘

میرے اردو لٹریچر کہنے پر پھر ایک اچھی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی جو صرف چند ثانیے کے لیے تھی۔

اس نے مجھے ’بیسٹ آف لک‘ کہا اور پاسپورٹ میری طرف بڑھا دیا۔

اب میں اس گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں سے برلن کے لیے ہوائی جہاز ملنا تھا۔ وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ جہاز ایک گھنٹہ کی دیری سے نو پینتالیس کے بجائے دس پینتالیس پر پرواز کرے گا۔ موبائل تو دہلی سے اڑان بھرتے ہی بے وفائی کر چکا تھا۔ اس کا بنا روح کے جسد میرے پرس میں پڑا شدت سے منتظر تھا کہ کب اس کی سانسیں بحال ہو جائیں، کب اسے انٹر نیٹ نام کا آکسیجن میسر ہو جائے، اور وہ پھر سے جی اٹھے۔ میں یہ سوچ کر پریشان تھی کہ اپنے میزبانوں سے کیسے رابطہ کروں اور انہیں بخیر یہاں تک پہنچنے کی اطلاع دوں کیونکہ عشرت بہت اچھی طرح جانتی تھیں کہ کتنی بہادر خاتون کو انہوں نے بلایا ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ موبائل کسی طرح ائیر پورٹ کے انٹرنیٹ سے منسلک ہو جائے لیکن انسلاک بھی تو ایک کشش چاہتا ہے، جو دیار غیر میں محسوس نہیں ہو رہی تھی، میری ساری کوششیں ناکام رہیں سو خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی اور مسافروں کا جائزہ لینے لگی۔ زیادہ تر مرد عورتیں یوروپین ہی لگ رہے تھے شکل و صورت سے بھی اور لباس سے بھی۔ اب میری بیوقوفانہ سوچیں میرے ارد گرد ڈیرہ ڈال رہی تھیں کہ میں ایسی جگہ ہوں جہاں سے کہیں رابطہ نہیں کر سکتی تھی، کسی کو اپنے ہونے کا پتہ نہیں دے سکتی تھی، کیسی عجیب دنیا بنائی ہے اوپر والے نے، خدائی مخلوق ہر جگہ موجود مگر بھانت بھانت کی بولی بولنے والی۔ اگر میں کسی مشکل میں پھنس جاؤں تو؟ یہ خیال آتے ہی خدا سے رابطہ جڑ گیا دعائیں پڑھنے لگی۔ اسی دوران ایک ادھیڑ عمر کا جوڑا میری ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھا۔ ذرا بھی گورا نہیں نہ تھا، نہ ہی تیکھے نقوش تھے نہ ہی قد سرو سا، بس ہمارے ہندوستانی، پاکستانیوں سا عام جوڑا۔ مرد کا گندمی رنگ اور درمیانہ قد تھا۔ جبکہ خاتون کا چہرہ پر کشش تھا وہ برقعہ پہنے ہوئے تھیں، چہرہ کھلا ہوا تھا، خاتون کی رنگت مرد کی بہ نسبت قدرے صاف تھی لیکن چونکہ میری نظروں کے سامنے تو جرمن تھے اور سفید رنگ یا گوری رنگت کیا ہوتی ہے انہیں دیکھ کر سمجھ میں آ رہا تھا ہاں اگر وہ خاتون ہندوستان پاکستان میں ہوتیں تو انہیں گورا ہی کہا جاتا لیکن یورپ کے باشندوں کے لحاظ سے وہ گوری نہیں تھیں۔ ہلکے سلیٹی رنگ کا اسکارف گندمی رنگت پر بھلا لگ رہا تھا۔ میں خوش ہو گئی کہ یہ تو ضرور میری مدد کر سکتے ہیں۔ ’’السلام علیکم‘‘ میں نے سلام کیا جواب بھی ملا۔ ’’آپ اردو جانتے ہیں؟‘‘

جواب تو یقینی طور پر ہاں سوچے بیٹھی تھی لیکن انہوں نے انگریزی میں جواب دیا کہ ’’نہیں وہ اردو نہیں جانتے کیونکہ وہ ترکی ہیں۔‘‘

میں حیران ان کی شکل دیکھنے لگی کہ بھلا یہ کس زاویے سے ترکی ہیں، کہاں اتنی خوبصورت قوم اور کہاں یہ دونوں، یقیناً ملاوٹی سامان ہے خیر میں نے ان سے گزارش کی۔

’’کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟ مجھے ایک کال کرنا ہے میرا فون انٹر نیٹ سے منسلک نہیں ہو پا رہا ہے، آپ اس نمبر پر بات کروا دیجیے بڑی مہربانی ہو گی‘‘

ان جناب نے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فوراً نمبر ملا کر میری بات انور ظہیر رہبر صاحب سے کروا دی۔ جبکہ عورت بڑی دزدیدہ نظروں سے میرا جائزہ لیتی رہی جسے فی الوقت میں نے نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا۔

فون ملتے ہی مشفق میزبان نے مجھے تسلی دی اور بتایا۔

’’ہم نہ صرف آپ کے جہاز کو ٹریس کیے ہوئے ہیں بلکہ آپ کے گھر والوں سے بھی رابطے میں ہیں آپ بالکل پریشان نہ ہوئیے ہم وقت پر ائیر پورٹ پر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔‘‘

بات ختم کر کے میں نے ان مہربان مسافروں کا شکریہ ادا کیا، اتنی مروت، اتنا اخلاق مشرق میں ہی ہوتا ہے یہ میرا یقین تھا اور کہیں نہ کہیں اس ترکی کہنے والی فیملی کے جد امجد مشرقی ہی رہے ہوں گے۔ اس بات پر تو یقین کامل تھا۔

اب میں اطمینان سے بیٹھ گئی۔ ذہن پر سکون ہوا تو وحید قمر صاحب یاد آئے جو فرینکفرٹ میں رہتے ہیں، وحید قمر صاحب جن سے میرا تعارف فیس بک کے ذریعے ہی ہوا تھا، انہوں نے مجھے عالمی افسانہ فورم کے بارے میں بتایا اور وہاں ایڈ کیا تھا، جہاں سے میری افسانہ نگاری کی ایک بار پھر سے شروعات ہوئی۔ عالمی افسانہ فورم در اصل سوشل میڈیا پر کہانی کاروں اور افسانہ نگاروں کا ایک فورم ہے۔ جس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک افسانہ نگاروں کو عالمی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لانا ہے اور انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ وحید قمر صاحب اسی عالمی فورم کے ایڈمن ہیں، خود بھی ایک اچھے افسانہ نگار ہیں، خوش مزاج، خوش شکل سے وحید قمر سے جب میں نے لکھنؤ سے پوچھا تھا کہ ’’کیا آپ اردو انجمن برلن کے پروگرام میں جا رہے ہیں؟‘‘

’’جی دعوت نامہ تو موصول ہوا ہے۔‘‘

’’دیکھ لیجیے اگر پروگرام بنا سکیں تو شاید ہماری ملاقات ہو جائے۔‘‘

چند ثانیے کی خاموشی کے بعد ان کا بے حد حیران سا جملہ۔ ’’کیا!!!!!!

’’آپ کیا کہہ رہی ہیں، کیا آپ برلن آ رہی ہیں؟ کیا واقعی!!!!!!‘‘

’’جی میں برلن آ رہی ہوں۔‘‘

بے حد پر مسرت انداز میں انہوں نے خوش آمدید کہا۔

اسی طرح ہما فلک صاحبہ سے بھی بات ہوئی ہما فلک صاحبہ جو کہ جرمنی کے اسٹٹگارٹ شہر میں رہتی ہیں ایک اچھی افسانہ نگار ہی نہیں میری اچھی سی دوست بھی ہیں، جب میں نے انہیں بتایا کہ میں برلن آ رہی ہوں تو وہ بہت خوش ہوئیں لیکن ان کا پروگرام میں آنا کئی وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں تھا جس کا ہم دونوں کو ہی افسوس رہا۔

برلن کے طیارے کی پرواز کا اعلان ہونے لگا تھا، میں اپنے خیالات سے باہر نکل آئی تھی اور مسافروں کی قطار میں کھڑی ہو گئی، فرینکفرٹ سے برلن کی دوری زیادہ نہیں تھی۔ ائیر پورٹ پہنچ کر بے تابی تھی جلدی سے باہر نکلنے کی اور عزیز دوست سے گلے ملنے کی لیکن وہ کہتے ہیں نا ظالم سماج ہمیشہ سے محبت کی راہ میں حائل ہوتا آیا ہے، دو ملنے والوں کے ہجر کے لمحے طویل نہ کر دے تب تک اسے چین ہی نہیں ملتا، سو یہاں بھی وہی ہوا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ دو سہیلیوں کے درمیان ظالم سماج کون، کیوں اور کیسے حائل؟ جی وہ۔ ظالم سماج ہی کی شکل میں میرے سامنے گھومتا رہا سب کو ان کا رخت سفر دیتا رہا اور میں تہی دامن سی بڑی آس اور امید کے ساتھ کبھی اس کی راہ گزر کو دیکھتی تو کبھی مڑ کر باہر شیشے کے پار۔ جہاں پر اشتیاق عشرت نظر آ رہی تھیں تو وہیں اردو انجمن برلن کے صدر عارف نقوی صاحب کا ہنستا مسکراتا چہرہ دکھائی دے رہا تھا تو کبھی رہبر صاحب پر تشویش نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ افف یہ شیشے کی دیوار، دیوار تو دیوار ہے چاہے شیشے کی ہو یا اینٹوں کی چاہے دلوں میں ہو یا سرحدوں پر کھنچی ہوئی ہو دوریاں بنا ہی دیتی ہے، ملن کی راہیں وقتی طور پر ہی سہی روک تو دیتی ہی ہے۔ وقت گزرتا جا رہا تھا تقریباً سارے ہی مسافر جا چکے تھے، اب مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ وہ میرے ساتھ بے وفائی کر گیا ہے یا تو دہلی ہی میں رک گیا یا پھر ممکن ہے اسے فرینکفرٹ بھا گیا ہو۔ اب میں ان نمبروں کو تلاش کرنے لگی تھی جن پر ایسے وقت میں کال کی جاتی ہے اور گم ہونے والوں کا پتہ لگایا جاتا ہے کہ دفعتاً میری مسرت کا ٹھکانہ نہ رہا، وہ اکیلا نہ کوئی آگے نہ پیچھے خراماں خراماں چلا آ رہا تھا۔ میں نے ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈالی تیزی سے کیا سختی سے اس کو پکڑا ایک جھٹکے سے اٹھایا اور کھینچتی ہوئی باہر لے آئی۔ صاف شفاف فرش پر گھسیٹے جانے پر اس نے ذرا سی بھی چوں چرا نہیں کی کیونکہ اسے بھی علم ہو گیا ہو گا کہ اس کی خطا ناقابل معافی ہے اور سزا کے طور پر مزید سختی کی جا سکتی ہے۔ دروازے سے باہر آتے ہی رہبر صاحب نے ہاتھ بڑھ کر اس کا ہینڈل تھام لیا۔

سلام کے ساتھ ہی عشرت نے گرمجوشی سے گلے لگا لیا فرط مسرت سے آنکھیں نم ہونے کو تھیں کہ عارف نقوی صاحب نے پھولوں کا گلدستہ خوش آمدید کہتے ہوئے بڑھایا۔ رہبر صاحب نے سفر کے دوران کوئی پریشانی تو نہ ہوئی؟ سوال کیا، باتیں کرتے ہوئے ہم ان کی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلے رہبر صاحب نے کال ملا کر نظر سے بات کروائی یہ کہتے ہوئے کہ ’’بھئی آپ کے بھائی بڑے فکر مند ہو رہے ہیں دو مرتبہ کال آ چکی ہے پہلے اپنی آواز سے انہیں تسلی دے دیجیے کہ خیر سے آپ پہنچ چکی ہیں‘‘ میں نے نظر سے بات کی اور خود بھی پر سکون ہو گئی۔

برلن میں ان دنوں مئیر کے انتخابات کا موسم تھا۔ عارف صاحب اور رہبر صاحب کبھی مجھ سے لکھنؤ کی باتیں کرتے تو کبھی انتخابات کی باتیں کرتے ہوئے عشرت اور مجھے شریک گفتگو کر لیتے۔ برلن کا موسم بہت خوشگوار تھا مجھے تو ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈک محسوس ہوئی لیکن بقول میزبانوں کے ہلکا گلابی جاڑا تھا جس کا ذکر عارف صاحب فون پر کر چکے تھے ساتھ ہی تاکید بھی کی تھی کہ گو کہ یہاں موسم ہمارے لحاظ سے گلابی سردی والا ہے لیکن آپ کو یہ سرد لگے گا اس لیے گرم کپڑے رکھ لیجیے گا۔ جس پر میں نے عمل بھی کیا۔

٭٭٭

محبتوں کا مسکن

ہم عشرت کے دولت خانہ پر پہنچ چکے تھے جو کہ شہر سے تھوڑا دور پرسکون سے علاقے ٹیلٹو میں تھا اور گھر میں داخل ہونے پر پتہ چلا کہ گھر نہیں بلکہ بے حد نفاست اور سلیقہ کا منہ بولتا پیکر ہے جس کی ہر چیز مانو پکار پکار کر کہہ رہی تھی یہ گھر نہیں ہے یہ محبت کا آشیانہ ہے جہاں ہر ایک شے میں ایک داستان عشق پوشیدہ ہے اور یہ داستان نہ صرف آرائش و زیبائش اور نہ صرف تہذیب کی نمائندگی کر رہی تھی بلکہ محبت کا ایک ایک رنگ نمایاں کر رہی تھی۔ مکینوں کے ذوق کی گواہی دے رہی تھی۔ یہ ایک ایسا گھر تھا جو ہر دیکھنے والے کے دل میں خواہش پیدا کر دے کہ میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے۔

ہنستے مسکراتے برلن اور لکھنؤ کی باتیں کرتے کرتے ہم سب نے پر تکلف ظہرانہ لیا، اس کے بعد رہبر صاحب تو عارف صاحب کو ان کے گھر ڈراپ کرنے چل دئیے۔ اب میں اور عشرت گھر میں تھے اور تھیں ہماری باتیں۔

میری اور عشرت کی یہ پہلی ملاقات تھی، فیس بک پر ہم ایک عرصے سے ایک دوسرے کے دوست تھے، اکثر ہم ایک دوسرے کو ’میری نیم ہم نام دوست‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ سوئے اتفاق انور ظہیر رہبر صاحب جو کہ اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں 2016 میں لکھنؤ کانفرنس میں تشریف لائے ان کے ساتھ عشرت نے اپنا سفر نامہ ’گامزن‘ بھیجا تھا۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے میں بھی گئی تھی، اسی وقت عارف نقوی صاحب سے اور انور ظہیر رہبر صاحب سے بالمشافہ ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ عارف نقوی صاحب کو گو کہ میں جانتی تھی کہ آپ ہر سال برلن سے تشریف لاتے ہیں اور قلم کی روانی کچھ اس طرح سے ہوتی ہے کہ تقریباً ہر سال ہی ان کی ایک کتاب کے اجرا کی تقریب ہوتی ہے، ایک عرصے تک عارف صاحب کو میں شارب رودولوی صاحب کا بھائی ہی سمجھتی رہی کہ وہ اپنے بھائی کے یہاں آتے ہیں اور اسی دوران ان کی کتاب کا اجرا بھی ہوتا ہے۔ میں نے عشرت کا سفر نامہ لیا اور اپنی کتاب ’حیات اللہ انصاری: شخصیت اور ادبی کارنامے‘ انہیں دی۔ یہ عشرت کا سفر نامہ ’گامزن‘ ہی تھا جس میں انہوں نے نجانے کون سی خوشبو ڈال کر بھیجی تھی جو کشاں کشاں ان کی طرف اس طرح سے کھینچ لے گئی تھی کہ آج میں ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھی ان سے خوش گپیوں میں مصروف تھی۔

جہاں عشرت کے خلوص کے رنگ یوں جلوہ گر تھے کہ انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی مایا کا روم میرے لیے سیٹ کیا ہوا تھا جو ان کے خود کے روم کے برابر ہی تھا، مایا جو کہ دسویں کلاس میں تھی اور ان دنوں انگریزی زبان کا چھ ماہ کا کورس کرنے کے لیے آسٹریلیا گئی ہوئی تھی۔ اسی دن شام میں بڑی بیٹی سارہ بھی ہیمبرگ سے آ گئی تھی۔ سارہ بھی اپنی تعلیم برلن سے مکمل کر گریجویشن کی پڑھائی ہمبرگ سے کر رہی تھیں۔ سارہ خصوصی طور پر اردو انجمن کے پروگرام کے لیے برلن آئی تھی۔ میں سارہ کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہی تھی، سارہ جو برلن میں ہی پیدا ہوئی، جس کو ان کی ماما نے اپنی گود میں بٹھا کر جرمن زبان کی کلاسز اٹینڈ کیں، جس کی پرورش پورے جرمن ماحول میں ہوئی، وہ تو ایک دم مشرقی روایتی لڑکی نکلی۔ جس کے لیے میرا تصور تھا جینس ٹاپ میں منہ ٹیڑھا کر کے یا تو انگریزی بولے گی یا جرمن لیکن وہ اتنے پیار سے گلے ملی اور اردو میں ایان مشا کے بارے میں باتیں کرنے لگی پھر کچھ دیر بعد اجازت لے کر کچن میں کیک بنانے میں مصروف ہو گئی۔ رشک آیا مجھے عشرت کی تربیت پر۔ اور یاد آیا نیپولین کا قول ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا‘‘۔

باتیں کرتے کرتے میرے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ کر عشرت نے مجھے کچھ دیر آرام کرنے کے لیے کہا۔ میں نے کمرے میں جا کر پہلے بچوں سے باتیں کی پھر آنکھیں بند کرتے ہی نیند کی آغوش میں کچھ یوں سمائی کہ رات نو بجے عشرت کے آواز دینے پر جاگی۔ نیند اتنی گہری تھی کہ جاگنے پر کچھ دیر تک تو سمجھ ہی نہ آیا کہ دن ہے یا رات ہے نہ ہی خیال کہ میں خود کہاں ہوں؟ عشرت کی دوسری آواز پر چونکی اور اب سمجھ میں آیا کہ میں تو برلن میں اپنی دوست کے گھر ہوں۔ اب جب میں یہ سفر نامہ لکھ رہی ہوں تو خیال آ رہا ہے کہ روز محشر فرشتے پکاریں گے تو ایسا ہی کچھ حال ہو گا ہمارا۔

جب نیچے پہنچی تو سارہ ٹیبل پر کھانا چن رہی تھیں کہنے لگیں۔ ’’دیکھیے آنٹی کیک تیار ہے اور ڈنر بھی۔‘‘

ماشاء اللہ کہتے ہوئے میں نے دیکھا کہ سلیقہ مندی تو اس جرمن لڑکی پر ہی تمام ہو رہی تھی۔

ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان کھانا کھا کر عشرت اور رہبر صاحب تو اپنے روم میں چلے گئے انہیں کل کے پروگرام کی تیاریاں کرنا تھیں۔ میں اور سارہ باتیں کرنے لگے۔ مجھے تجسس تھا کہ یہاں اسکولوں میں کس طریقے کا نظام تعلیم رائج ہے اور مایا جو کہ ابھی دسویں جماعت ہیں وہ کس قسم کا کورس کرنے آسٹریلیا گئی ہیں۔ سارہ نے بتایا کہ ان کا گریجویشن چل رہا ہے۔ جبکہ مایا ابھی ہائی اسکول میں ہے، یہاں پر چونکہ مادری زبان جرمن ہے لیکن انگریزی زبان اگر بہت اچھی ہے تو آگے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے مایا چھ ماہ کا انگریزی زبان کا کورس کرنے کے لیے آسٹریلیا گئی ہوئی ہے۔ وہاں کا تعلیمی نظام مجھے خاصا متاثر کن لگا ساتھ ہی انگریزی زبان کی مقبولیت کا اندازہ بھی ہوا۔

٭٭٭

ذکر دوستاں اور ذکر ہندوستاں

دوسرے دن صبح فرینکفرٹ سے وحید قمر صاحب پروگرام میں شرکت کی غرض سے تشریف لے آئے تھے۔ عشرت، رہبر صاحب، وحید قمر صاحب اور میرے لیے یہ بڑا خوبصورت وقت تھا کہ ہم عالمی افسانہ فورم کے دوست ایک ساتھ ایک میز پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ جرمن اسٹائل میں ناشتہ لگایا گیا تھا۔ میں نے ٹیبل کا جائزہ لیا۔ ڈائیننگ ٹیبل پر جو ٹیبل میٹ رکھے گئے تھے وہ ذرا نئی قسم کے تھے چاپنگ بورڈ کی طرح لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تختے نما، براؤن بریڈ، مکھن، چاکلیٹ، ساس وغیرہ۔ اب میرا امتحان تھا کہ جرمن بریڈ میں کس طرح کھاؤں گی؟ سب مزے لے رہے تھے۔

وحید قمر صاحب کا اصرار تھا کہ ناشتے کی شروعات عشرت صاحبہ کریں۔

’’آپ بھی تو مہمان ہیں۔‘‘ میں نے کہا

’’آپ بڑی مہمان ہیں کیوں کہ آپ سمندر پار سے آئی ہیں۔‘‘

بڑی مہمان پر سب ہنس پڑے۔

جرمن بریڈ تھوڑا سخت ہوتی ہے اور اسے پہلے چھری سے کاٹا جاتا ہے۔ چاپنگ بورڈ کی طرح کے چھوٹے چھوٹے میٹ نما تختے رکھنے کا سبب سمجھ میں آ گیا تھا۔ باتوں باتوں میں رہبر صاحب اور وحید قمر صاحب اپنے ملک پاکستان کی باتیں کرنے لگتے جن میں وہاں کی خرابیوں کا بھی ذکر ہونے لگتا تو وحید قمر صاحب فوراً سنبھل کر یہ ضرور کہہ دیتے تھے کہ

’’دشمن ملک کی دوست ہمارے ساتھ بیٹھی ہیں۔ باتوں میں ذرا احتیاط لازمی ہے۔‘‘

آپ احتیاط کی بات کرتے ہیں جناب۔ ہم تو وہ دوست ہیں جو علی سردار جعفری کی بات پر عمل کرنا پسند کرتے ہیں کہ:

گفتگو بند نہ ہو

بات سے بات چلے

صبح تک شام ملاقات چلے

وہ جو الفاظ کے ہاتھوں میں ہے سنگ دشنام

طنز چھلکائے تو چھلکایا کریں زہر کے جام

تیکھی نظریں ہوں

ترش ابروئے خم دار رہے

گفتگو بند نہ ہو

بات سے بات چلے

’’واہ بھئی بہت خوب‘‘ عشرت نے ستائش کے انداز میں کہا یہ تو وہی نظم ہے نا جب آپ کے یہاں سے سمجھوتہ ایکسپریس چلنے کے وقت کہی گئی تھی۔

’’جی بالکل درست کہا‘‘ میں نے جواب دیا۔

یوں ہلکے پھلکے خوشگوار ماحول میں ناشتہ چلتا رہا۔

ناشتے کے بعد ہم سب ڈرائینگ روم کے صوفوں پر بیٹھ گئے جس کے سامنے شیشے کا دیوار نما دروازہ تھا جو خوبصورت ہلکے رنگوں کے پردوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ پردے ہٹاتے ہی باہر کا منظر سامنے تھا، وہ عشرت کے گھر کا عقبی حصہ تھا جہاں چھوٹا سا باغیچہ تھا، ان دنوں پھولوں کی بہار آئی ہوئی تھی یہ بہار بھی بتا رہی تھی کہ مکینوں کے یہاں خوش مزاجی ہی نہیں خوش رنگی بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وحید قمر صاحب کو ہندوستان کے بارے میں جاننے کا اشتیاق تھا وہ مجھے لکھنؤ کے حوالے سے جانتے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ

’’آپ کا وطن لکھنؤ ہی ہے؟‘‘

’’لکھنؤ میرا وطن ہے بھی اور نہیں بھی کیونکہ لکھنؤ سے میرے خاندان کا تعلق ضرور رہا ہے میرے ابا جان کی ممانی یہیں لکھنؤ کی تھیں‘‘

ابا کی ممانی جو میری دادی تھیں۔ بہت اچھی داستان گو تھیں، مجھے میرے بچپن کا زمانہ یاد آ گیا جب گرمی کے موسم میں سر شام چھت پر پانی کا چھڑکاؤ ہوتا، دن بھر کی تپش سہن کی ہوئی چھت پر جب پانی پڑتا تو وہ پہلے بھاپ کی شکل میں اپنا غصہ ظاہر کرتی، پھر اپنی فطرت سے مجبور ہو کر سوندھی سوندھی مٹی کی خوشبو سے فضا کو معطر کر دیتی، جب زمین پوری ٹھنڈی ہو جاتی تب اس پر صاف شفاف بستر لگائے جاتے، پانی کی صراحیاں رکھ دی جاتیں، کبھی بیلے کے پھولوں کو اس کے ڈھکنوں پر رکھ دیا جاتا تو خوشبو بہتی ہوا کے ساتھ مل کر گنگناتی جسے سن کر شب مالوہ اپنی تمام خوبصورتیوں کے ساتھ جلوہ گر ہونے لگتی۔ ذرا اسے کمی لگتی تو چاند کو ہمنوا بنا کر ستاروں کی کہکشاں سے خود کو سجا لیتی۔ جہاں سارا خاندان چھوٹے بڑے بچے بالے بہو بیٹیاں سب جمع ہو جاتے۔ تب دادی سے کہانی کی فرمائش ہوتی اور وہ لکھنؤ کی تہذیب کی نمائندہ دادی جن کے ہر انداز میں نفاست اور نزاکت تھی۔ کسی داستان کو چھیڑ دیتیں۔ دور دیس میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی جسے ایک دن ساعت بد میں دیونی اٹھا لے گئی۔۔۔۔

سب خاموش محو حیرت و تجسس کے ساتھ انہیں دیکھتے رہتے، سماعتیں ہر کردار کو پیکر کا رنگ دیتی رہتیں، کب چاند تھک کر بچوں کو نیند کی آغوش میں پہنچا دیتا اور پتہ ہی نہیں چلتا، کہانی آگے بڑھتی چلی جاتی شہزادہ پکارتا چاندنی او چاندنی بال کھول نیچے لٹکا تب میں اوپر آؤں، اور چاندنی کی زلفوں کے سہارے وہ اس تک پہنچ جاتا اور پھر ایک دن وہ شہزادی کو دیونی کے چنگل سے آزاد بھی کرا لیتا۔ رات کا دامن تنگ ہونے لگتا وہ کہتیں بس اب کل۔ نجانے کتنے خواب سننے والوں کی آنکھوں میں سج جاتے جس سے پلکی بوجھل ہو جاتیں اور سب اپنی اپنی جگہوں پر پہنچ محو خواب ہو جاتے۔ دو تین راتوں میں وہ داستان ختم ہو جاتی۔ دادی کی کہانیاں یاد رہ گئیں اور دادی اب خود ایک داستان بن گئی ہیں۔

’’کہاں کھو گئیں ڈاکٹر صاحبہ‘‘ وحید قمر صاحب نے کہا، میں نے چونک کر اپنی بات کو سنبھالا

’’دادی کے بعد ایک طویل عرصے تک ہمارا لکھنؤ سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ دوبارہ اس شہر سے اس وقت سلسلہ جڑا جب میرے بڑے بھائی مظہر محمود کی ملازمت لکھنؤ دور درشن میں ہوئی اور پھر 1912 میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سیٹیلائٹ کیمپس لکھنؤ میں میرا تقرر ہوا۔

’’تو پھر آپ کا وطن؟‘‘

’’میرا وطن تو بڑا تاریخی شہر ہے اجین۔‘‘

اجین یہ نام انہوں نے پہلی بار سنا تھا

’’اس کی کیا خاص تاریخ ہے؟‘‘

’’جناب اس شہر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کا شمار ہندوستان کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے، مذہب، ادب اور امن و آشتی کے حوالے سے یہ اپنی پہچان رکھتا ہے پھر اس کی عظمت راجہ وکرما دتیہ کے نام سے ہے۔ راجہ وکرم اپنی شجاعت، سخاوت اور انسان دوستی، عدل و انصاف کا پیکر۔ انہیں ہمارا داستانوی ادب آج بھی وکرم بیتال اور سنگھاسن بتیسی کے حوالے سے جانتا ہے۔ فورٹ ولیم کالج میں جب داستانوں کے تر جمے کروائے جا رہے تھے تب یہاں کاظم علی جوان اور للو لال جی نے سنگھاسن بتیسی کو بھی اردو کے قالب میں ڈھال کر راجہ وکرم کو امر کر دیا تھا۔

’’یعنی یہ تو ادبی کارناموں کے لیے اپنی بڑی پہچان رکھتا ہے۔‘‘

’’جی قمر صاحب سنسکرت کے عظیم شاعر کالیداس کی جنم بھومی بھی یہی شہر ہے۔ وہی کالیداس جس کے لیے مشہور ہے کہ ایک مرتبہ وہ پیڑ پر چڑھ کر ڈالی کاٹ رہا تھا، لیکن بیٹھا ہوا بھی اسی ڈالی پر تھا۔ نتیجہ تو آپ سوچ ہی سکتے ہیں۔ وہی کالیداس جو یوروپ میں ہندوستان کا شکسپئیر کہلایا۔ اس نے صنف ڈرامہ کو شہرہ آفاق ڈرامہ و کردار شکنتلا دیا۔ جس کا جرمن زبان میں فورسٹر نے 1791 میں اور ہر ڈر نے 1803 میں ترجمہ کیا اور آپ کے گوئٹے صاحب کے یہاں بھی شکنتلا کا ذکر ملتا ہے۔

ہندو عقیدے کے مطابق ایک روایت ہے کہ ان کے بھگوان کرشن نے بھی اجین ہی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ دنیاوی اور مذہبی دونوں علوم کا مرکز یہ شہر رہا ہے۔ اس کی مذہبی اہمیت بھی کم نہیں ہے، یہاں ہندو مذہب کے مطابق ایک بہت بڑا کمبھ کا میلہ جو کہ ہر بارہ سال کے بعد لگتا ہے۔ وہ بھی اس کی پہچان ہے۔

’’وہاں مسلم آبادی کتنی ہے اور ان کی کیا صورتحال ہے؟‘‘

’’18 فیصد مسلم ہیں۔‘‘

’’مسلمانوں کی حالت وہاں ٹھیک ہے؟‘‘

’’جی بالکل، بتایا نا میں نے بہت سکون کا شہر ہے یہاں خواجہ معین الدین چشتیؒ کا مزار ہے، وہ یہاں اسلام کی تبلیغ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے اسی شہر کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہاں ایک یونیورسٹی ہے جو کہ وکرم یونیورسٹی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ میری تعلیم بی اے، ایم اے سے لے کر بی ایڈ، پی ایچ ڈی سب اسی یونیورسٹی میں ہوئی ہے‘‘

’’ایسا ہے میرا وطن میں نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن میرا تعلق شہر اندور سے بھی ہے کیونکہ وہاں میرا سسرال ہے۔‘‘

’’ارے واہ اندور کو تو ہم جانتے ہیں راحت اندوری وہیں کے ہیں نا؟‘‘

’’جی ہاں راحت اندوری میرے ددھیالی عزیزوں میں سے ہیں۔‘‘

بڑے کمال کے شاعر ہیں، بڑے جرات مند، نڈر اور بے باک، منفرد لہجے کے شاعر ہیں۔

جب وہ گھن گرج کے ساتھ کہتے ہیں

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

تو یقیناً نفرتوں کی فصیلیں کھڑی کرنے والوں کے دل اس آواز سے کانپ اٹھتے ہوں گے۔

ہماری باتوں کا سلسلہ میرے وطن سے چلتا ہوا پھر لکھنؤ کی طرف آ گیا تھا۔

لکھنؤ کے ذکر میں رہبر صاحب کی خصوصی دلچسپی تھی کیونکہ وہ یہاں آ چکے تھے۔ شہر کو دیکھ چکے تھے۔ تلاش مزار میرؔ میں بھٹکے بھی تھے لیکن وائے ناکامی کہ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے اور زمیں والوں نے ان آسماں صفت لوگوں کی نشانیاں بھی کیسی پامال کیں کہ ڈھونڈے نہیں ملتے ان کے نشاں۔

جی ہاں لکھنؤ تو اب نہیں ملتا۔ بس ملتی ہیں اس کی پر چھائیاں امام باڑوں، عمارتوں، بازاروں میں۔

’’لکھنؤ کیا ہے بس اب تو عمارتوں کا نام ہی لکھنؤ رہ گیا ہے۔ لیکن یہ تو سچ ہے کہ آج بھی جو عمارتیں ہیں داستان سے کم نہیں، بڑے امام باڑے کی ہی تاریخ دیکھ لیں۔ 1784 لکھنؤ کی تاریخ کا تاریک سال تھا جسے لکھنؤ کے نواب آصف الدولہ کی دریا دلی کا یادگار سال بنا دیا۔ قحط سالی نے رعایا کو بھوکوں مار دیا تھا۔ آصف الدولہ اپنی رعایا کی خود داری برقرار رکھنا جانتے تھے، اس کے ہاتھوں میں کشکول نواب کو کسی طور پر منظور نہ تھا اور انہوں نے انوکھی تدبیر نکالی، ایک نایاب امام باڑہ تعمیر کرنے کا حکم دے دیا۔ ماہر معمار کفایت اللہ نے اس کی تعمیر کروائی۔ دن بھر مزدور کام کرتے شام انہیں اجرت مل جاتی۔ وہ خوشی خوشی گھر لوٹ جاتے۔ لیکن رات بھر میں امرائے شہر اسے توڑ دیتے۔ اس طرح دونوں کا بھرم قائم رہا اور یوں دس سال تک اس کی تعمیر کا سلسلہ چلتا رہا۔ امام باڑے کے اندر صرف ایک عمارت نہیں کئی عمارتیں ہیں۔ آصفیہ مسجد، بھول بھلیاں وغیرہ۔

لکھنؤ کی وجہ تسمیہ پر بھی بڑی دلچسپ باتیں ہوئیں۔ رہبر صاحب کا کہنا تھا کہ ’’انگریزی زبان سے اس کا نام ہے۔

تب میں نے بتایا کہ ’’جناب اس شہر کی قدامت کو دیکھئے پھر ان فرنگیوں کی آمد کو، بھلا وہ کیسے لکھنؤ کا نام رکھنے کی جسارت کر سکتے تھے۔ یہ تو اس کی گومتی ندی سے جڑی کہانی ہے کہ ایک وقت تھا جب آج غریب سی نظر آنے والی گومتی کے پاٹ اتنے چوڑے تھے کہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حد نگاہ جل ہی جل نظر آتا تھا اور اس میں لاکھ ناویں چلا کرتی تھیں سو اس کا نام لاکھ ناؤ بگڑتا ہوا لکھنؤ میں تبدیل ہو گیا اور انگریزی میں یہ لک ناؤ lucknow بن گیا۔‘‘

’’ہاں آپ نے اپنے ایک افسانے میں اس کا ذکر کیا ہے، اور کئی لوگوں نے کہا تھا کہ پہلی بار لکھنؤ کے نام کی یہ تاریخ معلوم ہوئی۔‘‘

’’جی لیکن آج اس گومتی کے کنارے اتنے سمٹ گئے ہیں یا یہ کہیے کہ اس نے بھی انسان کی بدلتی تہذیب کے ساتھ اپنے دامن کو بھی چھوٹا کر لیا ہے کہ نوابین کے اس شہر کے نام سے اس کا کتنا گہرا تعلق ہے کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔ گفتگو کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ سارہ بٹیا چائے بنا لائیں، بہترین سی چائے جو باتوں کا مزا دوبالا کر گئی۔ عشرت بھی ہمارے ساتھ آ چکی تھیں لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ وہ باتیں تو کر رہی ہیں مگر پھر بھی خاموش سی ہیں، کہیں کھو سی جاتی تھیں۔

آؤ چپ کی زبان میں ناصر

اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں۔

والا معاملہ تھا۔ لیکن پھر وہ کچھ دیر میں ایسے شگفتہ انداز میں باتیں کرنے لگیں کہ مجھے اپنے خیال کو وہم سمجھنا پڑا۔

وحید قمر صاحب کی باتوں میں لکھنؤ کو لے کر تجسس تھا کہ کیا لکھنؤ اب بھی ویسا ہی ہے جیسا قرۃ العین حیدر کی تحریروں میں ملتا ہے؟ انہوں نے ان کے ناول ’ آگ کا دریا کا ذکر کیا کہ اس میں انہوں نے لکھنؤ کی جس تہذیب و ثقافت کا ذکر کیا ہے، گلی کوچے دکھائے ہیں ان کی جھلک کیا آج بھی نظر آتی ہے؟‘‘

رہبر صاحب نے کہا ’’ہاں میں نے اس لکھنؤ کو دیکھا ہے، جب میں وہاں گیا تو عمار رضوی صاحب کے یہاں مجھے اس تہذیب کی جھلک نظر آئی تھی۔‘‘

’’جی آپ نے جس تہذیب کو دیکھا ہے وہ بہت کم جگہ نظر آتی ہے۔ جس کا ذکر قرۃ العین حیدر کے یہاں اور دیگر کتابوں میں ملتا رہا ہے، جس کی وجہ سے لکھنؤ کی اپنی خاص پہچان رہی ہے۔ وہ ڈیوڑھیوں پر چراغ جلتا رہے، سہاگ کی چوڑیاں کھنکتی رہیں، دعائیں دینے والے بزرگ نہیں رہے، بلکہ آج کی نسل تو ڈیوڑھی کو ہی نہیں پہچانتی کہ وہ کیا ہوتی ہے؟

’’آنٹی ویسے بتائیے نا کہ ڈیوڑھی کیا ہوتی ہے؟‘‘ سارہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

ڈیوڑھی در اصل یہ سمجھو کہ جس طرح آجکل اپارٹمنٹ میں چوکیدار کے لیے جو چھوٹا سا کمرہ ہوتا ہے جہاں بیٹھ کر وہ آنے والوں کی انٹری کرتا ہے اور پھر مکینوں کو اطلاع دیتا ہے کہ فلاں صاحب یا صاحبہ آپ سے ملنے آئے ہیں، اسی طرح حویلی میں داخل ہونے سے پہلے صدر دروازے پر چھوٹا سا احاطہ ہوا کرتا تھا جس میں ایک چراغ سر شام روشن ہوتا تھا جو کہ اس حویلی میں زندگی کی علامت بھی ہوا کرتا تھا وہاں گھر کا سب سے معتبر نوکر یا نوکرانی موجود رہتے تھے جو آنے والوں کا خیر مقدم کیا کرتے تھے۔‘‘

’’آنٹی آپ نے کوئی ڈیوڑھی دیکھی ہے؟‘‘

’’ہاں سارہ جس وقت میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہی تھی تب میرا لکھنؤ آنا ہوا تھا اور میں نے فرنگی محل میں ہی قیام کیا تھا تب وہاں ڈیوڑھی تھی۔ لیکن اب وہ بھی وہاں نہیں رہی کیونکہ فرنگی محل بھی اپنے ورثاء میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے اور وہ لوگ اب جدید طرز کے مکانات تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘

’’فرنگی محل کیا انگریزوں کا محل تھا؟‘‘ سارہ کی دلچسپی مزید بڑھ گئی۔

’’نہیں یہ انگریزوں کا محل نہیں تھا بلکہ یہ ایک فرنگی تاجر کی ملکیت تھی۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں موجودہ لکھنؤ کی آباد کاری شروع ہو چکی تھی اور یہ شہر تجارت کا مرکز بن گیا تھا۔ اس زمانے میں ایک فرانسیسی تاجر یہاں آیا اور حکومت مغلیہ سے پروانہ اقامت حاصل کر کے چوک سے متصل قیام کیا تھا۔ وہ گھوڑوں کا تاجر تھا اور بہت جلد اس نے تجارت میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ غالباً تین چار مکانات ملحق کر کے ایک کوٹھی نما شکل دے دی تھی اور اسی حویلی میں وہ رہا کرتا تھا۔ حویلی کا نام فرنگی محل اس نے خود رکھا تھا۔ اسی نام سے کوٹھی موسوم ہو گئی تھی۔ اس تاجر کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد حکومت نے اس تاجر کی املاک ضبط کر لی تھیں اور جب اپنے وقت کے بہت معتبر مولانا قطب الدین سہالی کو مقامی جاگیرداروں نے قتل کر دیا تب اورنگ زیب نے بطور تلافی فرنگی محل ان کے خاندان کو رہائش کے لیے دے دیا تھا۔ حیات اللہ انصاری اسی خاندان کے وارثین میں سے ہیں۔ اس لیے میرا فرنگی محل جانا ہوا تھا، آج بھی وہ جگہ موجود ہے اور وہاں پر حیات اللہ انصاری کے نام پر مدرسہ حیات العلوم ان کی بہو شہناز سدرت نے قائم کیا ہوا ہے۔ لیکن اس کی عمارت جدید طرز کی ہی ہے۔

پھر تو تہذیب بھی مٹ ہی گئی ہو گی؟ سوال کیا

جی ہاں وہیں کے ایک شاعر ہارون رشید صاحب نے اس کا نوحہ کچھ یوں بیان کیا ہے

بدل رہا ہے لکھنؤ بھی آج اپنا پیرہن

وہ پہلے آپ کی یہاں نشانیاں نہیں رہیں

جدید طرز کے مکانوں کا ہے ایک سلسلہ

حویلیاں وہ بام و در وہ برجیاں نہیں رہیں

ویسے بدلتے وقت نے یا یہ کہیے کہ اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو یہ تہذیب تو اسی وقت زوال پذیر ہونے لگی تھی جب انگریزوں کا تسلط اودھ پر ہو گیا تھا۔ واجد علی شاہ اپنے منصب سے معطل کر دئیے گئے تھے اور انہوں نے لندن جانے کے لیے کلکتہ کی جانب اپنا رخت سفر باندھ لیا تھا۔ آزادی کے بعد تو نئی تہذیب و تمدن نے اپنے پیر پوری طرح پھیلا لیے، طرز زندگی ہی بدل گیا لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں خال خال ہی سہی، چنندہ گھرانوں میں ہی سہی اس کا نظارہ دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے، وہ آداب و اطوار، وہ وضع، وہ انداز گفتگو، وہ رکھ رکھاؤ۔‘‘

’’لکھنؤ تو اردو کا مرکز رہا ہے کیا اب بھی وہاں ادبی محفلیں سجتی ہیں؟‘‘ وحید قمر صاحب نے سوال کیا

’’جی ہاں ادبی محفلیں خوب سجتی ہیں، مشاعرے تو آج بھی لکھنؤ کی پہچان ہیں، اور ادب کا فروغ بھی خوب ہو رہا ہے، سیمینارز اور دیگر ادبی پروگرامز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔‘‘

باتوں سے باتیں نکلتی چلی جا رہی تھیں بقول ندا فاضلی ’بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘ سلسلہ اور آگے بڑھتا کہ رہبر صاحب نے گھڑی کی طرف دیکھا، وقت کافی ہو گیا تھا عشرت کھانا لگانے اٹھ کھڑی ہوئیں، یوں ایک اچھی سی محفل برخاست ہوئی۔

٭٭٭

سر سید تقریب

آج وہ تقریب تھی جس کے لیے مجھے یہاں مدعو کیا گیا تھا۔ اردو انجمن برلن جس کا قیام 1996 میں عارف نقوی صاحب کی سر پرستی میں عمل میں آیا۔ عارف نقوی صاحب نے اپنے چند ہم خیال احباب جن میں ڈاکٹر بٹنیا رو بوتکا، کشور مصطفیٰ، فضل اختر، ناصر علی خان، مستعین خان وغیرہ کے ساتھ مل کر اردو انجمن برلن قائم کی اور۔ ان احباب نے مل کر اس کا لائحہ عمل تیار کیا، بعد میں اس کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب بھی اس کاروان میں شامل ہو گئے۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ اردو زبان کے حسن اور پیغامات کو جرمن عوام تک پہنچایا جائے۔ اسی خیال کے تحت اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام لا تعداد تقاریب کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ یہ انجمن کسی خاص مذہب اور قومیت تک محدود نہیں ہے اسی وجہ سے اس میں ہر مذہب و ملت اور قومیت کے دانشوران شرکت کرتے رہے ہیں۔

اس انجمن نے اپنا پہلا پروگرام ’یاد غالب‘ کے نام سے کیا اور پھر تو سلسلہ چل پڑا اردو سے وابستہ تقاریب کا جن میں یوم بہادر شاہ، یوم کیفی، یوم فراق، کے ایم اشرف، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر علیم، فیض کی صد سالہ سالگرہ، پروفیسر احتشام حسین، سعادت حسن منٹو، اسرار الحق مجاز کی یاد، سردار جعفری کی صد سالہ تقریب، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں تقریبات وغیرہ منائی گئیں۔ جن میں مختلف ممالک سے ادباء و دانشوران شرکت کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے پروفیسر مظفر حنفی، پروفیسر علی احمد فاطمی، ڈاکٹر خالد جاوید، پروفیسر راجم پلے، عمار رضوی صاحب وغیرہ تو پاکستان سے فتح محمد ملک، راحت سعید، مبشر زیدی اور قائم خانی وغیرہ۔ ہندوستانی پاکستانی ادیبوں کے علاوہ جرمن، ہندی، پنجابی، بنگالی، فارسی کے دانشور اور شعرا بھی اس بینر تلے تشریف لا چکے ہیں۔

آج ہم بھی اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ جس طرف ہم سے پہلے وحید قمر صاحب اور رہبر صاحب پروگرام ہال کے انتظامات دیکھنے کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ہال کے انتظام میں بینر لگانے سے لے کر مہمانوں کی ضیافت کا سامان ترتیب دینا تک شامل تھا۔ ہم لوگ خواجہ ذوالقرنین صاحب کے ساتھ تین بجے کے قریب روانہ ہوئے تاکہ وقت مقررہ پر وہاں پہنچ جائیں۔ خواجہ ذوالقرنین صاحب عشرت اور رہبر صاحب کے خاندانی دوست تھے جو کہ ایک عرصے سے برلن میں مقیم تھے۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں سوئے اتفاق ان کی بیگم اور بچے ان دنوں پاکستان گئے ہوئے تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا بڑا ملال رہا کیونکہ عشرت جس محبت سے ان کا ذکر کر رہی تھیں وہ بتا رہا تھا کہ دیار غیر کے رشتے کتنی مضبوط ڈور سے بندھے ہوتے ہیں۔ راستے میں خواجہ صاحب نے ایک پھول والے کے یہاں سے مہمانان کے لیے بڑے خوبصورت گلدستے خریدے۔ اب ہم برلن کی سیر کر تے ہوئے برلن کے ضلع شونے برگ کی طرف گامزن تھے۔ شونے برگ یعنی ’’خوبصورت پہاڑ‘‘ لیکن مجھے وہ علاقہ پہاڑ پر بسا ہوا تو نہیں لگ رہا تھا، راستے کا سبزہ، کشادہ سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں اور ان کے رنگ بتا رہے تھے کہ ترقی یافتہ ملک کیسے ہوتے ہیں، لوگوں کا اژدہام مفقود سب اپنی اپنی راہوں کے مسافر منزلوں کی طرف گامزن، رفتار تیز تر زندگی کی بھی اور گاڑیوں کی بھی کیونکہ ٹریفک نظام لائق تحسین تھا۔ پیدل چلنے والے مجال ہے جو ایک قدم بھی اپنی لین سے باہر نکالیں، ویسے ہی گاڑیاں بھی اپنی رفتار اور سائیڈ سے ذرا سا بھی انحراف گناہ عظیم سمجھتے ہوئے رواں تھیں اور میں سوچ رہی تھی ایسا ڈسپلن تو ہمارے یہاں چھبیس جنوری کی پریڈ میں ہی نظر آتا ہے۔

پروگرام ہال جس کا نام ’پلاسٹ‘ تھا اس کا اردو ترجمہ ’محل‘ ہوتا ہے، کے دروازے پر مشفق مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے لکھنؤ کی وہ ہستی کھڑی تھیں جنہوں نے جرمنی میں بطور خاص اس کے دار الخلافہ برلن میں اردو کی جوت جگائی تھی۔ جرمنوں کو اردو کی شیرینی سے واقف کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جی ہاں عارف نقوی صاحب موجود تھے۔ گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے خیریت پوچھی۔ ان سے باتیں کرتے ہوئے ہم ہال میں اندر داخل ہوئے۔ بڑا سا ہال تھا، جس میں داخل ہوتے ہی باہر والی ٹھنڈک ہلکی گرماہٹ میں تبدیل ہوتی محسوس ہوئی۔ اندر دائیں جانب گرم کوٹ ٹانگنے کے لیے اسٹینڈ رکھے ہوئے تھے جس پر مہمانان کے کوٹ ٹنگے ہوئے تھے۔ سامنے خوبصورت پھولوں سے سجا اسٹیج تھا۔ نیچے حاضرین کی نشستیں تھیں، جن پر اردو کے شائقین ہندوستانی، پاکستانی اور جرمن ایک بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انہیں دیکھ کر یک گونہ خوشی کا احساس ہوا۔ اس ملک میں اردو کی محبت اور پھر اس کے اظہار کے لیے یہاں جمع ہونا، حیرت انگیز بات تھی۔ جنہیں میں نے دل کے ایک اچھے سے گوشے میں یادوں کی پوٹلی میں چھپا لیا۔

اسٹیج روشن ہوا۔ ایک بڑے پردے پر سر سید نظر آنے لگے۔

پروگرام میں پہلے سر سید پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی جسے انجمن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب نے تیار کیا تھا۔ دستاویزی فلم میں سر سید کی زندگی کے مختلف رنگوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس دور کی زبوں حالی اور اس سے چھٹکارہ دلانے کے لیے ان کی انتھک محنتوں اور خدمات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ ان کے بارے میں اہم شخصیتوں کے خیالات و تاثرات کو بھی پیش کیا گیا تھا۔ اب فضا پوری طرح سر سید کے نظریات و خیالات اور ان کی خدمات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہو چکی تھی کہ بنگالی گلو کار دھیرج رائے کی خوبصورت آواز نے ہارمونیم کے تار چھیڑتے ہوئے سماں مزید خوبصورت بنا دیا تھا۔ انہوں نے چند گیت پیش کیے جس کے بعد پروگرام شروع ہونے کا اعلان کیا۔ انور ظہیر رہبر صاحب نے اردو میں اور مس جاریہ نے جرمن زبان میں نظامت کی۔ صدارت کے لیے عارف نقوی صاحب کو پھر وحید قمر صاحب کو اور بلجیم کی راجدھانی بروسلز سے تشریف لائے جیو ٹی وی کے بیورو چیف انچارج و ڈائریکٹر جناب خالد حمید فاروقی صاحب اور مجھے شہ نشین پر آنے کے لیے دعوت دی، میں نے آہستہ روی سے اپنے قدم شہ نشین کی طرف بڑھائے کہ یہ میری زندگی کے بہت ہی اہم ترین قدم تھے، وہ چھوٹی چھوٹی تین سیڑھیاں مجھے ایک نئی منزل کی طرف لے جا رہی تھیں، میں اپنے قدم سہج سہج کر رکھ رہی تھی ایک احساس خوشی کا جسے الفاظ کا پیرہن عطا کرنا نا ممکن ہے۔

الفاظ میں آتی ہے کہاں کیفیت دل

محسوس جو ہوتا ہے بتایا نہیں جاتا

ویسے تو میں دعوت نامے کے موصول ہونے سے لے کر یہاں تک پہنچنے اور ایک ان دیکھے خواب کی تعبیر پر ہی حیران اور مسرتوں کے جذبوں سے سرشار تھی۔ ساتھ ہی زندگی کی اس عطا پر خوش بھی تھی، شکر گزار بھی تھی اپنے رب کی، اپنے والدین کی کہ جن کی کاوشوں، جن کی تربیت نے مجھے اس مقام تک پہنچایا تھا، چند ثانیے تک مجھ پر اداسی کی کیفیت بھی چھائی۔ اپنے ابا کو یاد کر کے کہ آج وہ حیات ہوتے تو کتنا خوش ہوتے۔ اللہ مغفرت کرے میرے ابا کی۔ شکریہ کے جذبات ان کے لیے بھی موجزن تھے جن کی وجہ سے میں آج وہاں تھی، ہاں بھئی وہی میری عزیز ترین میری نیم ہم نام عشرت اور ان کے شوہر نامدار انور ظہیر رہبر صاحب کے لیے۔

عارف نقوی صاحب کی صدارت میں پروگرام کا آغاز ہوا۔ حاضرین میں نہ صرف ہندوستانی اور پاکستانی لوگ تھے بلکہ وہ جرمن بھی تھے جو اردو سیکھ رہے ہیں اور جو اردو نہیں جانتے ہیں وہ بھی یہاں موجود تھے۔

اور میرے خیال میں یہ بات قابل غور ہے کہ سائنسدانوں کا یہ ملک ادبی ذوق میں بھی کتنا آگے ہے۔

پروگرام کے حاضرین کو ذو لسانی نظامت نے باندھے رکھا تھا، پروگرام کا آغاز روایتی انداز میں ہوا مہمانان کا استقبال خوبصورت مہکتے پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا، جس وقت صدر عارف نقوی صاحب اور نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب نے مجھے ’ آنر آف اردو انجمن‘‘ برلن کا سرٹیفکٹ اور مومنٹو دیا اسے لیتے ہوئے پھر مسرتوں کی یلغار تھی، بے انتہا خوشی جنہیں کیمرہ مین چابکدستی سے کیمرے میں قید کر رہے تھے۔

محترم ظہور احمد صاحب کو، جو ایک انٹرنیٹ اخبار بھی چلاتے ہیں اور ایک اچھے فوٹوگرافر بھی ہیں۔ ان کو فخر اردو انجمن کے اعزاز سے نوازا گیا۔

پروگرام کے دوسرے مرحلہ کتب کے اجرا کا تھا، جس میں عارف نقوی صاحب کی کتاب ’راہِ الفت میں گامزن‘ کی رسم اجراء ناچیز کے ہاتھوں انجام پائی۔ جس پر محترمہ عشرت معین سیما نے مقالہ پڑھا، کتاب پر تبصرے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی صاحب کی اردو انجمن سے جذباتی اور عملی وابستگی کو بھی بیان کیا۔ دوسری کتاب ڈاکٹر عشرت معین سیما کا شعری مجموعہ ’جنگل میں قندیل‘ تھی، جس کی رسمِ اجراء محترم خالد حمید فاروقی نے ادا کی، عشرت کا شمار نئی نسل کی اہم شاعرہ کے طور پر کیا جاتا ہے ان کے اس مجموعے سے پہلے ایک افسانوی مجموعہ اور سفر نامہ منظر عام پر اچکے ہیں۔ تیسری کتاب میری دوست ڈاکٹر ریشماں پروین ایسوسیٹ پروفیسر کھن کھن جی گرلز کالج، لکھنؤ کی پروفیسر شمیم نکہت پر مرتب کی ہوئی ’’تاثر و تنقید‘‘ تھی، جسے میں پروفیسر شارب رودولوی صاحب سے بطور خاص لے کر گئی تھی، کا اجراء وحید قمر صاحب نے کیا۔ میری کتاب ’’حیات اللہ انصاری شخصیت اور ادبی کارنامے‘‘ کا اجرا بھی اسی محفل میں تالیوں کی گونج میں انجمن کے نائب صدر انور ظہیر صاحب کے ہاتھوں ہوا۔

میری کتاب کے اجرا پر صدر محترم عارف نقوی صاحب نے کہا کہ "’حیات اللہ انصاری۔ شخصیت اور ادبی کارنامے‘۔ مجھے ان کی کتاب دیکھ کر روحانی خوشی ہوئی، اس لئے ہی نہیں کہ یہ میری ہم وطن ناہید صاحبہ نے لکھی ہے بلکہ ایک ایسی اہم شخصیت کے بارے میں لکھی ہے جس کی میں بہت قدر کرتا ہوں۔ میں حیات اللہ انصاری اور ان کی اہلیہ سے ذاتی طور سے اچھی طرح واقف تھا۔ دیکھنے میں وہ دونوں نہایت ہی سیدھے سادے، محبت اور خلوص سے بھر پور، شرافت کا مجسمہ تھے۔ وہ اردو کی بقا اور فروغ کے لئے بہت اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ جس وقت بہت سے اردو کے ادیب مایوسی کا اظہار کر رہے تھے۔ حیات اللہ انصاری اور ان کی بیگم اردو کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ حیات صاحب بہت ہی اچھے افسانہ نگار بھی تھے اور ان کے مقالے بے مثال تھے۔ روزنامہ قومی آواز لکھنؤ، جس کے وہ چیف ایڈیٹر تھے، اس میں ان کے اداریے ہم نوجوانوں ہی نہیں، بلکہ بہت سے لوگوں کی رہنمائی کے لائق تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔ غرضیکہ ہزاروں خوبیوں کے مالک تھے۔، مجھے وہ دن بھی یاد آ گیا جب وہ لکھنؤ میں آل انڈیا ہندی اردو سنگم کے ایک جلسے میں میری ایک کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر بھی بولنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ بہت سے لوگ اس بات کو بھول گئے ہوں گے کہ حیات اللہ انصاری مغربی برلن اور مشرقی برلن میں بھی آ چکے ہیں۔ بہر حال عشرت ناہید صاحبہ قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے اس اہم شخصیت کی زندگی کو کتاب میں سمو دیا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں۔”

استقبال اور اجرا کے بعد سب سے پہلے بروسلز سے تشریف لائے محترم خالد حمید فاروقی صاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی انہوں نے سر سید کے حالات کو بیان کیا۔

وحید قمر صاحب نے سر سید کے تعلیمی نظریات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جسے شائقین ادب نے پسند کیا۔

جب مجھے بولنے کے لیے مدعو کیا گیا تو میں تو شدت جذبات سے مغلوب تھی، کچھ لمحے مجھے خود پر قابو پانے میں لگے، پھر صدر محترم اور شہ نشین پر تشریف فرما حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہنا شروع کیا۔

‘‘پروگرام کی صدارت فرما رہے محترم عارف نقوی صاحب

شہ نشیں پر جلوہ افروز محترم خالد حمید صاحب محترم وحید قمر صاحب، اعلیٰ ادبی ذوق کے حامل معزز حاضرین اکرام!

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ زندگی میں ایسے مواقع آ جاتے ہیں کہ جب جذبات و خیالات میں تلاطم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے شدت جذبات کے سامنے الفاظ بے معنی ہونے لگتے ہیں مسرت کے لمحے مغلوب کرنے لگتے ہیں تو پھر۔۔۔

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب سینے کے اندر متلاطم ہوں خیالات

کچھ ایسی ہی حالت سے اس وقت میں دوچار ہوں۔ بے حد خوشی ہے مجھے آپ سب کے درمیان اپنے آپ کو پا کر۔

شکر اس رب عظیم کا اس تخلیق کار کا جس نے ثقافت، سائنس، جدید فنون اور حروف سازندوں کے شہر میں مجھے پہنچایا۔ شکر رب کا یوں بھی کہ یہاں پہنچنے کا ذریعہ بنایا عشرت معین سیما کو، رہبر صاحب اور عارف نقوی صاحب کو۔

مجھے یہاں اس ہال میں ادب و ثقافت اور سنہری تہذیب سے جڑی ان ہستیوں میں سر سید احمد خاں کا وہ ویژن دکھائی دے رہا ہے جو سر سید نے ادب کے اسٹیج سے یا یوں کہیے کہ تہذیب الاخلاق کے صفحات سے سائنٹفک سوسائٹی کی شروعات کر کے دیا تھا جس کے ذریعے مسلمانوں کے کردار میں انقلابی تبدیلی لا کر ان کی سوچ و فکر کو نیا آسمان عطا کر دیا تھا۔ اقرا کی اہمیت کو جس طرح سر سید نے سمجھا تھا جس جنون کے ساتھ جدید نصاب تعلیم سے قوم کے نام نئی روشنی کی کرنیں لکھی تھیں، کچھ اسی طرح کا کام آپ سب یہاں کر رہے ہیں۔ آپ نے دیار غیر میں اردو کا ایک ایسا چراغ فروزاں کیا ہے جس کی تابانی اس کے بنیادی مراکز ہندوستان اور پاکستان کو بھی آج جلا بخش رہی ہے۔ اس کی ضیا ضامن ہے اس بات کی کہ اس قندیل کو یہاں روشن کرنے والی شخصیتیں اپنے آپ میں خود ایک انجمن کا سا کردار رکھتی ہیں۔

انجمن اردو برلن سے تھوڑا بہت غائبانہ تعارف کا موقع گاہے بہ گاہے مجھے ملتا رہتا تھا اس وقت جب انجمن کے صدر عارف نقوی صاحب لکھنؤ تشریف لاتے تھے۔ ان کی کتابوں کا اجرا ہوتا یا ان کی آمد کی خوشی میں کسی ادبی تقریب کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن انجمن سے صحیح طور پر متعارف ہونے کا موقع 3 مئی 2016ء کو اس وقت ملا جب تنظیم کے نائب صدر محترم انور ظہیر رہبر صاحب ایک کانفرنس میں لکھنؤ تشریف لائے اور انہوں نے وہاں ایک فلم کے ذریعے انجمن کی بیس سالہ کار کردگیوں سے واقف کروایا۔

میں اس موقع پر انجمن کے صدر عارف نقوی صاحب کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض عین سمجھتی ہوں کہ انہوں نے مجھے اس پروگرام میں شرکت کا موقع عنایت کیا۔

میں بطور خاص انجمن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کی ممنون ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے یہاں آنے کی پر زور دعوت دی بلکہ اپنے نام کے مصداق ہر وقت اس ضمن میں میری رہبری بھی فرماتے رہے۔

میری میزبان میری دوست، خلوص کا پیکر، نرمی و حلاوت کی مظہر عزیز از جان عشرت کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کیونکہ جب کبھی احساسات حاوی ہوتے ہیں تو یہ الفاظ ساتھ چھوڑ کر دور جا کھڑے ہوتے ہیں۔ میری چھوٹی سی پیاری سی میزبان سارہ کا بھی شکریہ، بہت محبتیں۔

ساتھ ہی اظہار مسرت آپ تمام اہل جرمن کے لیے بھی کہ آپ سب نے یہاں تشریف لا کر نہ صرف اردو دوستی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ آپ کے اس خلوص اس بھائی چارے کے جذبے نے پورے عالم کو ایک امن کا پیغام بھی دیا ہے جس کی اس وقت انتہائی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ ہم بلا تفریق مذہب و ملت ملک و زبان ایک جگہ جمع ہیں۔

اس موقع پر میں صمیم قلب سے اظہار ممنونیت پیش کرتی ہوں اپنی یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر محترم اسلم پرویز صاحب کے لیے جنہوں نے مجھے یہاں آنے کا اجازت نامہ نیک خواہشات کے ساتھ مرحمت فرمایا اور یونیورسٹی کی جانب سے نمائندگی کرنے کا موقع عنایت کیا۔

شکر گزار ہوں حکومت ہند اور حکومت جرمنی کی بھی کہ ویزہ دیا جو کہ وسیلہ بنا آپ کی اور ہماری ملاقات کا۔ معزز حاضرین رسم تشکر کے بعد سر سید کی دوسری صد سالہ تقریب کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش ہوئے میں ان کی شخصیت کی طرف آتی ہوں۔ میرے مقالے کا عنوان ہے ’’سر سید کے چند خواب‘‘

میری خوش بختی کہ میرے مقالے کو بھی پسند کیا گیا اور ادائیگی کو بھی۔ میرے مقالے کے بعد ناظم پروگرام نے جب یہ کہا کہ ایک خاتون جو کہ جرمن ہیں، ابھی اردو سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہیں، وہ بھی اس پروگرام میں تشریف لائی ہوئی ہیں، وہ جانا چاہ رہی تھیں لیکن ہماری مہمان کی آواز کے سحر نے انہیں یوں گرفتار کر لیا کہ انہوں نے مجھے میسیج کیا کہ میں جانا چاہ رہی تھی لیکن یہ جو خاتون بول رہی ہیں ان کی باتیں تو میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں لیکن ان کا بولنے کا جو انداز ہے وہ اتنا اچھا ہے کہ میں انہیں سننے کے لیے رکی ہوئی ہوں۔ ہال میں تالیوں کی گڑگڑاہٹ نے ان کے اس کمنٹ کی تائید کر ڈالی۔

میرے مقالے کا جرمن زبان میں ترجمہ عارف نقوی صاحب کی صاحب زادی نرگس نے بڑے اچھے انداز میں پڑھا۔ جس سے اہل جرمن زبان خاصے محظوظ ہوئے۔ میرا مقالہ بھی اس کتاب میں موجود ہے۔

پروگرام کے صدر عارف نقوی صاحب نے اردو انجمن برلن کا پورا تعارف کراتے ہوئے اس کی سر گرمیوں کا ذکر کیا، اسی دوران ہی ڈاکٹر صغیر افراہیم صاحب کی کال آئی اور انہوں نے فون پر ہی تمام حاضرین کو مخاطب کر کے اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔ اس پروگرام میں پروفیسر صغیر افراہیم صاحب ان کی اہلیہ سیما صغیر صاحبہ اور میرٹھ سے پروفیسر اسلم جمشید پوری صاحب تشریف لانے والے تھے لیکن پروفیسر صغیر افراہیم صاحب سیما صغیر صاحبہ کی علالت کی وجہ سے اور اسلم جمشید پوری صاحب بروقت ویزہ نہ مل پانے کی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے تھے۔

اس پروگرام کا دوسرا حصہ مشاعرہ تھا۔ جس میں ناچیز کو مہمان خصوصی بنایا گیا۔ مشاعرے کی شاندار نظامت ڈاکٹر عشرت معین سیما نے کی۔ جس میں عارف نقوی صاحب، علی حیدر وفا، عشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر، سرور غزالی، امرین سلیم، محمد ارشاد، ہندی کی شاعرہ سوشیلا شرما اور پنجابی کی پرم جیت کور نے اپنا کلام پیش کیا۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ شعراء کے مقابلے میں شاعرات کی تعداد زیادہ تھی۔ جو ان کے ادبی ذوق کی غماز تھی، ان کے شعری کاوشیں لائق داد تھیں۔ غزل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ نہ صرف اردو میں ہندی میں، بلکہ پنجابی میں بھی غزلیں سنائی گئیں اور پسند کی گئیں۔

یو این آئی کے دہلی کے نمائندے عابد انور صاحب نے اس خبر کی رپورٹنگ کی جسے ہندوستان کے تمام اردو اخبارات نے ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے اخبارات نے بھی اہمیت دی۔ جس کا اندازہ مجھے میری ایک مشفق دوست کوثر بیگ صاحبہ جو کہ جدہ میں مقیم ہیں، کی پوسٹ سے ہوا انہوں نے لکھا تھا کہ عشرت کے جرمنی جانے اور کانفرنس میں شرکت کرنے کی خبر جدہ کے ایک اخبار سے ملی۔

پروگرام کے ختم ہونے پر سلسلہ تھا ملاقاتوں کا۔ ہم وطن تو ہم وطن تھے یوں خلوص سے ملے کہ شدید احساس ہوا کہ یہ دیار غیر بھی کیا ہے، یہ ہجرتیں بھی کیسی محبتوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ ہجرتیں بھی تو کئی طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک تو وہی تھی جس کی وجہ سے یہ تمام لوگ جر منی میں رہائش پذیر تھے یعنی مسئلہ معاش۔ لیکن ایک ہجرت وہ بھی تو ہوتی ہے نا کہ ہم کہیں نا جائیں اور پھر بھی اپنے وطن وہاں کی گلیوں میں گھوم آئیں۔ علی حیدر وفا سے ملاقات کے وقت جس محبت سے انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق بھی اتر پردیش کے امروہہ سے ہے، ان کی آنکھوں کی چمک نے مجھے اسی ہجرت کا احساس ہی نہیں کروا دیا بلکہ اس چمک میں ہی کہیں ایک جھلک اس ہجرت کے تمام درد کو عیاں بھی کر گئی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک انجینئیر ہیں لیکن مزاج کے اعتبار سے شاعر۔ علی حیدر وفا صاحب بزم ادب برلن کے صدر ہیں۔

وہیں ملاقات ہوئی بالی ووڈ ہالی ووڈ اور جرمن فلموں کے اداکار جناب ارشاد پنجتن صاحب سے۔ ارشاد پنجتن صاحب کی جائے پیدائش حیدرآباد ہے۔ مائم آرٹسٹ بننے کا جنون انہیں حیدرآباد سے دہلی اور پھر جرمنی لے آیا تھا۔ جہاں انہوں نے اپنی اداکاری کا لوہا منواتے ہوئے مینی تاز شو، فری رینر جیسی فلمیں کیں۔ جب ان سے بات ہوئی تو انہوں نے کتاب زندگی کے اوراق پلٹتے ہوئے ہندوستان تھیٹر کا ذکر چھیڑ دیا کہ ہندوستان تھیٹر جو کہ قدسیہ زیدی کا قائم کردہ گروپ تھا اسی نے مجھے اپنے فن کے مظاہرے کا نہ صرف موقع دیا تھا بلکہ وہیں سے میری پہچان بھی قائم ہوئی تھی۔ پھر یادوں کے جزیروں کی سیر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس گروپ کو جوائن کرنے سے پہلے انہوں نے دہلی میں کتھک رقص کی با قاعدہ ٹریننگ بھی اس زمانے کے مشہور و معروف رقص کے ماہر استاد رگھو ون نائر اور نریندر شرما سے لی تھی اور یہ نریندر شرما جناب اودے شنکر جی کے شاگرد تھے، اپنے استاد کے ذکر نے ان کے لہجے کو فخر کا انداز دے دیا تھا آواز میں عقیدت و نیاز مندی جھلکنے لگی تھی۔ مجھے بے اختیار کبیر کا دوہا یاد آیا کہ

’گرو گووند دوؤ کھڑے کا کے لاگوں پاؤں

بلیہاری گرو آپ کی گووند دیو بتائے

استاد کو جب ایسے شاگرد مل جاتے ہیں تو ان کی عمر بھر کی ریاضتوں کا صلہ مل جاتا ہے۔

مائم آرٹ اداکاری کی وہ قسم ہے جس میں بنا کسی مکالمے کے خاموش اداکاری کے ذریعے پوری کہانی بیان کر دی جاتی ہے۔ اس میں چہرے پر سفید پینٹ لگا دیا جاتا ہے اور پر اثر میک اپ کر کے آرٹسٹ کو اسٹیج پر اتار دیا جاتا ہے جہاں وہ خاموش داستان بیان کرتا ہے۔ ان کے فن کو یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ارشاد پنجتن نے اپنا آخری سولو مائم اپنے وطن حیدرآباد میں ’واک آف لائف‘ کے نام سے پیش کیا تھا۔

ارشاد صاحب کی شخصیت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ رقص اور موسیقی کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوا کہ یہ دنیا بھی کتنی اچھی ہوتی ہے فن کار زبان سے کچھ نہ کہے لیکن حساس دلوں کے تار یوں چھیڑ دے کہ حاضرین اس کے سروں میں خود کو ڈھلا محسوس کرنے لگیں۔ اسی کی داستان کا حصہ بن جائیں۔ رقص و موسیقی کا ادب سے گہرا تعلق ویسے تو ڈرامے میں نظر آتا ہے لیکن فن کار تو فن کار ہوتے ہیں انہوں نے کیسے کیسے فن کے مظاہرے کیے ہیں، کتھا کلی کی معروف رقاصہ مایا کرشنا راؤ نے منٹو کے افسانے ’کھول دو‘ کو تنہا رقص کے ذریعے پیش کیا۔ اس مظاہرے کے ذریعے پہلی بار رقص، تھیئٹر، ڈرامہ اور اداکاری کو کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے سے مدغم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جو کہ کامیاب کوشش رہی۔

در اصل برلن میں جتنی بھی ہستیوں سے اس وقت ملاقات ہو رہی تھی سب ہی نابغہ روزگار شخصیات تھیں۔ وہ لوگ وہاں اپنی ایک مثبت شناخت کے ساتھ اپنے آپ کو منوا رہے تھے، چاہے وہ ہندوستانی ہوں یا پاکستانی۔

ٹی ایس فوڈ کے تاجر جناب طارق محمود اور سہیل انور صاحب جو کہ جرمنوں کو پاکستانی مسالوں کی خوشبو اور ذائقوں سے محظوظ کروا رہے ہیں۔ محفل میں موجود تھے۔ تو وہیں دیسی دھوم ریڈیو کے اردو پروگرامز کے روح رواں جناب توصیف نعمان صاحب بھی تھے۔ جنہوں نے دیسی دھوم کے لیے انٹرویو کی پیشکش کی جسے ہم نے بھی محبت کے ساتھ قبول کیا۔ در اصل یہ جو میری دوست ہیں نا عشرت، انہوں نے میرا سارا پروگرام طے کیا ہوا تھا کہ مجھے کب کہاں لے جائیں گی کہاں کی سیر کروائیں گی۔ ان کی محبتیں تو مجھے ہر پل مقروض کیے ہوئے تھیں۔

جب عشرت نے میرا تعارف سوشیلا جی سے کروایا تو انہوں نے بڑے پیار سے گلے لگایا۔ موصوفہ اردو ہی نہیں ہندی ادب کی شمع کو بھی وہاں روشن کیے ہوئے تھیں۔ جمشید پور کے رزاق صاحب جو کہ اسلامی جماعت کے رکن تھے موجود تھے، آفتاب صاحب، امرت کور صاحبہ اور بھی کئی لوگ ملے اور دل میں گھر کر گئے۔

سب سے ملاقات کرتے ہوئے جب ہم ہال سے نکلے ہیں تقریباً ۸ بج چکے تھے۔ وہاں سے ہم سب کو ایک شاندار ریسٹورینٹ شیزان میں لے جایا گیا جو کہ منسٹری آف فارن آفس کے قریب، ٹیلٹوا کینال کے کنارے پر تھا، ٹیلٹوا کنال پورے برلن سے گزرتی ہے۔ یہ کنال عشرت کے گھر کے قریب سے شروع ہوتی ہے اور پورے شہر میں گھومتی ہے۔ برلن مڈل (برلن مٹے) Berlin Mitte میں واقع اس ریسٹورینٹ شیزان کے مالک محمد عمر صاحب جو کہ پاکستانی ہیں، اس انجمن کو تعاون کرتے ہیں۔ ریسٹورنٹ بڑا ہی نفاست والا خوبصورت سا تھا۔ کھانے میں قورما، دال، سبزی، چاول سلاد تناول کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر گفتگو کبھی سنجیدہ رہی تو کبھی شگفتہ، گپ شپ کرتے ہوئے میری نظر سامنے کی الماریوں پر پڑی تو وہاں مختلف رنگوں اور خوبصورت بوتلوں میں سجی دھجی انگور کی ایک بیٹی نہیں کئی بیٹیوں کو موجود پایا، بلوریں گلاسوں سے سجی ٹیبل بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی، لیکن چونکہ ریسٹورنٹ کا وہ حصہ ہمارے لیے محفوظ تھا اس لیے دوسرے صارف اس طرف نہیں آ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ شیشے کی الماریاں، وہ خوبصورت قد و قامت کی بوتلیں اور گلاس کسی کے لبوں کو چھو لینے کی معصوم تمنا لیے مایوس سے نظر آ رہے تھے۔ ڈنر کر کے جب ہم گھر پہنچے تقریباً بارہ بج چکے تھے۔ گھر پہنچ کر جیسے ہی موبائل آن کیا بچوں کے وائس میسیجز تھے چونکہ وقت کا فرق زیادہ تھا اس لیے بات کرنا ممکن نہیں تھی۔ ایان مشا کی آوازیں سن کر دل بے چین ہو گیا اتنی شدت سے ان کی یاد آئی کہ بس آنسو ہی نکل پڑے، دن بھر کے پروگرام کی خوشی پر بچوں کی جدائی غالب آ چکی تھی۔ میں نے بچوں کے وائس میسیجز کا جواب دیا اور پھر آج کے گزرے دن کو سوچتے سوچتے تو کبھی بچوں کی یاد میں آنسو گراتے گراتے تکیہ بھیگتا رہا اور نجانے کس لمحے نیند کی دیوی نے مہربان ہو کر اپنی آغوش میں لے لیا۔

٭٭٭

افسانے کا فسانہ

دوسرے دن صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے میں نے اپنے بچوں سے بات کی، دونوں کی آواز میں فرق تھا، یاد کر رہے تھے۔

’’مما آپ واپس کب آئیں گی؟‘‘

’’بیٹا بہت جلد آ جاؤں گی۔‘‘

’’مما آپ کا پروگرام کیسا ہوا؟‘‘ ایان پوچھ رہا تھا

’’مما خوب اچھا لگ رہا ہے آپ کو وہاں؟‘‘

’’مما آپ نے کھلونے لے لیے ہمارے لیے؟‘‘ بہت سارے معصوم سوال تھے، جن کے جواب دیتے ہوئے آنکھیں برسنے کو تیار ہو رہی تھیں لیکن بات کر کے دل کو سکون ہوا۔ ناشتہ کرنے کے دوران ایک بار پھر میں نے محسوس کیا کہ عشرت ساتھ بیٹھ کر بھی ساتھ نہیں ہیں، وہ کچھ پریشان ہیں، مختصر سا ناشتہ کرتے ہی وہ اوپر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ مجھے اور وحید قمر صاحب کو رہبر صاحب اور سارہ کمپنی دے رہے تھے، ہمارا موضوع گفتگو پروگرام ہی تھا، یہ ہم دوستوں کی زندگی کا بے حد یادگار پروگرام تھا، ہم میں سے کسی نے بھی عالمی افسانہ فورم جوائن کرتے وقت کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ فورم یوں ایک دن ملاقات کا سبب بنے گا۔ بہت شکر گزار تھے ہم سب ایک دوسرے کے بھی اور عالمی افسانہ فورم کے بھی۔

گفتگو کا سلسلہ اب عالمی افسانہ فورم کی جانب مڑ گیا تھا۔

’’عالمی افسانہ فورم نہ ہوتا تو ہم لکھنؤ، برلن اور فرینکفرٹ میں بیٹھے کبھی ملنے کا تصور بھی نہیں کرتے آخر یہ فورم بنانے کا خیال آپ کو کیونکر آیا؟‘‘ میں نے وحید قمر صاحب سے پوچھا۔

’’در اصل میری بڑی خواہش تھی کہ میں کچھ ایسا کروں کہ تمام افسانہ نگار ملیں، میں کافی عرصہ العین ابو ظہبی میں رہا۔ وہاں ایک اچھا ادبی سرکل بن بھی گیا تھا جس میں ہندوستان کے مختلف شہروں کے لوگ شامل تھے ہم کچھ پاکستانی بھی تھے، ہماری ادبی محفلیں ہوتی تھیں ہم شاعری سنتے، افسانے سناتے۔ وہاں سے پھر میں انگلینڈ آیا۔ وہاں میری ملاقات ہندوستان کے بڑے ادیب مغنی تبسم صاحب کی بہن صدیقہ شبنم صاحبہ اور ان کے شوہر سے ہوئی۔ وہ خود ایک اچھی شاعرہ اور ان کے شوہر حبیب حیدرآبادی انشائیہ نگار تھے۔ ان کے یہاں ادبی محافل ہوتی تھیں۔ وہاں مجھے ساقی فاروقی صاحب اور شاہدہ احمد کے سامنے بھی افسانے پڑھنے کا موقع ملا، جہاں میرے ادب کے ذوق میں نکھار آیا۔ جب میں جرمنی آیا تب تک تو سوشل میڈیا کا وجود ظہور میں آ چکا تھا، یہاں اب میرے لیے اس خواب کو عملی جامہ پہنانا آسان تھا۔ سو میں نے اپنے چند ہم خیال ساتھیوں سے مشورہ کیا اور عالمی افسانہ فورم کی بنیاد 2015 میں رکھ دی اور اس فورم پر ہر سال آن لائن افسانہ میلہ کا انعقاد کرنا شروع کیا۔

اس کے کچھ مقاصد بھی تھے، جن میں سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ افسانہ نگاروں کو ایک عالمی سطح پر ایک دوسرے کے قریب لانا اور ایک پلیٹ فارم مہیا کرانا ہے۔ کتنی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ پاک و ہند کی حکومتوں کے درمیان ٹوٹتے بنتے غیر یقینی تعلقات اور سرحدوں پر نا مساعد حالات کے باوجود ہند و پاک کے افسانہ نگار باقاعدگی سے اس عالمی آن لائن میلے میں شامل ہوتے ہیں اور دیکھیے آپس میں کیسے اخوت محبت اور بھائی چارے کے رشتے استوار ہوئے ہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے۔ فورم کے ذریعے ہی دونوں اطراف کے افسانہ نگار ایک دوسرے سے متعارف ہوئے، اور دنیا بھر میں پھیلے قارئین تک ان کی تخلیقات پہنچیں، ایک دوسرے کو جانا، دوستیاں قائم ہوئیں۔‘‘

’’اور دیکھیے اعتماد و اعتبار کا یہ عالم کہ ہم اکیلے ہی صرف فورم کی دوستی کے دھاگے سے بندھے یہاں چلے آئے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’ہاں بھئی یہ آپ کا تاریخی قدم ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ عالمی افسانہ فورم کا مورخ اسے سنہری حرفوں میں تحریر کرے گا۔‘‘ وحید قمر صاحب نے کہا۔

’’نوازش جناب عالی‘‘

جس پر رہبر صاحب نے پرجوش انداز میں کہا ’’عالمی افسانہ فورم۔ زندہ باد

عالمی افسانہ فورم۔۔ زندہ باد‘‘

اس دوران عشرت بھی آ گئی تھیں۔

اب گفتگو کا سلسلہ افسانوں کی جانب مڑ گیا تھا اور بڑے دلچسپ تجربے ہم سب نے بیان کیے کہ کس نے پہلا افسانہ کب لکھا؟ شروعات رہبر صاحب سے ہوئی وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے گویا ہوئے ’’یہ اس زمانے کی بات ہے جب آتش جوان تھا، جوان نہیں تھا بلکہ جوان ہو رہا تھا اور کراچی کے معروف آدم جی سائنس کالج میں گیارہویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ اس وقت میرا پہلا افسانہ ’منزل‘ اخبار جنگ کے سنڈے میگزین میں چھپا تھا۔

اس سے پہلے کئی کالم بھی جنگ میں چھپ چکے تھے جو والد مرحوم بہت فخر سے عزیزوں کو دکھایا کرتے تھے۔ لیکن افسانہ نگاری تو دور افسانے ہی انہیں پسند نہیں تھے، اس لیے جب افسانہ چھپا تو میں نے انہیں نہیں دکھایا اور سوئے اتفاق ان کی نظر سے گزرا بھی نہیں، اس افسانے کی اشاعت کے کچھ دنوں بعد میرے خالو پنجاب سے تشریف لائے تو دوپہر کے کھانے پر ابو کے سامنے مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے ’’انور تمہارا افسانہ منزل پڑھا۔ بھئی تم نے تو بہت ہی اچھا لکھا ہے‘‘ ابو چونکے کہ افسانہ کب لکھ ڈالا، اب میں ابو کے سامنے سر جھکائے خاموش کھڑا تھا، پھر ابو نے کہا لاؤ مجھے دکھاؤ۔۔۔۔ خیر ڈرتے ڈرتے اسے ابو کے سامنے پیش کر دیا، خالو نے اخبار لے لیا کہ چلو میں سناتا ہوں‘‘ پھر ابو نے مجھے بلایا اور کہا کہ بہت اچھا لکھا ہے قلم کی حرمت کو کبھی مت بھولنا‘‘

اس دن کے بعد سے دوستوں کے علاوہ خاندان میں بھی خبر گردش کر گئی کہ میں افسانے لکھنے لگا ہوں۔ لیکن ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ میری شاعری اور افسانہ نگاری کی طرف توجہ میری بڑی بہن شاہین باجی کی مرہون منت تھی۔‘‘

بہت خوب جناب۔

وحید قمر صاحب گویا ہوئے۔

’’میرا تعلق پنجاب کے شہر ملتان سے ہے، لکھنے کا شوق امی کی بدولت رہا، وہ ہمیں کہانیاں لکھ کر دیتی تھیں، انہی سے شوق جاگا، جبکہ اردو نہ تو میری مادری زبان تھی نہ ہی میرے اجداد کی رہی تھی لیکن ذریعہ تعلیم اردو ہی تھی اس لیے لکھنا پڑھنا اردو ہی میں تھا، اور میں نے تیرہ چودہ سال کی عمر میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن بچوں کی کہانیاں لکھیں جو شائع بھی ہوئیں۔ تاہم جسے ایک مکمل اور بھر پور افسانہ کہا جا سکے وہ اٹھارہ انیس سال کی عمر میں لکھا تھا، جو پہلے پاکستان کے ایک مقامی ادبی رسالے میں شائع ہوا اور پھر بیسویں صدی میگزین میں شائع ہونے کے لیے بھیجا۔ اس کا نام ’’دھوپ‘‘ تھا۔ افسانہ بھیجنے کے بعد توقع یہ تھی کہ فوراً چھپ جائے گا لیکن ایک طویل عرصے تک شائع نہیں ہوا، مجھے مایوسی ہونے لگی لیکن جب شائع ہوا تو بے انتہا خوشی محسوس ہوئی تھی۔ اس زمانے میں بیسویں صدی ہی واحد رسالہ تھا جو ہندوستان اور بیرون ملک میں یکساں طور پر معروف تھا، اس میں افسانہ چھپ جانا بہت بڑی اور خوشی کی بات تھی۔‘‘ کچھ لمحے توقف کر کے مسکراتے ہوئے کہنے لگے:

’’ایک اور دلچسپ بات بتاؤں، جب میرا پہلے کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا افسانہ چھپا تو قارئین کی طرف سے خطوط بھی ملنے لگے، جو کہ کبھی کبھار ہی ملتے تھے۔ جب تیسرا افسانہ ’آئیڈیل‘ کے نام سے چھپا تھا تو اس افسانے کے بعد مجھے سعودی عرب کے ایک دور دراز شہر سے ایک لڑکی کے خط موصول ہونے لگے۔‘‘

’’اوہو، خوب‘‘ عشرت مسکرائیں

’’اب ان کا نام بتاؤں یا نہ بتاؤں؟‘‘ وحید قمر صاحب کی نگاہوں میں شرارت تھی۔

’’بتا ہی دیجیے ہم ہمہ تن گوش ہیں‘‘ رہبر صاحب نے حوصلہ بڑھایا۔

’’چلیے جانے دیجیے کیونکہ اب وہ کہاں ہوں گی میں کہاں، بس یہ ضرور تھا کہ ایک انتظار رہا کرتا تھا اور ان کے خطوط مہینوں میں ملا کرتے تھے اس میں میرے افسانے کی تعریف ہوتی تھی۔‘‘

’’صرف افسانے کی تعریف ہوتی تھی؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

وحید قمر صاحب کے چہرے پر یادوں کے گلاب کھلے ہوئے تھے، آنکھوں میں بھی خطوط کے الفاظ کی چمک صاف نظر آ رہی تھی جسے دیکھ کر ہم محظوظ بھی ہو رہے تھے۔

بات جاری رکھتے ہوئے وحید قمر صاحب نے کہا کہ ’’ایک وہ زمانہ تھا کہ ایک خط بھی موصول ہو جاتا تھا تو خوشی کی انتہا نہ ہوتی تھی اور آج یہ وقت ہے کہ افسانہ فورم پر پوسٹ ہوا اور چند گھنٹوں میں ڈھیروں قارئین اسے پڑھ لیتے ہیں اور سینکڑوں کمنٹس آ جاتے ہیں لیکن وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک خط کے ملنے سے ہوا کرتی تھی۔ وہ خطوط آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔‘‘

’’ظاہر ہے جب سرمایہ ہی ’’چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط‘‘ ہوں تو خوشی تو ہونا ہی تھی۔‘‘

وحید قمر صاحب کے ہونٹوں پر بھی دبی دبی سی مسکراہٹ تھی جو ان دنوں کے راز طشت از بام کر رہی تھی۔

اب میری باری تھی میں نے بتایا کہ ’’پہلا افسانہ میں نے گریجویشن کے دوران لکھا تھا گھر کا ماحول ادبی تھا، امی کی بڑی خواہش تھی کہ میں لکھوں کچھ بھی لکھوں۔ اس وقت ڈائجسٹ پڑھنے کا جنون تھا، پاکیزہ آنچل، مشرقی آنچل، سو اسی انداز میں پہلا افسانہ ’کچھ ایسے بہار آئی‘ لکھا اور وہ شائع ہونے کے لئے بھیج بھی دیا لیکن چونکہ افسانہ خالص رومانوی تھا اگر ابا امی نے دیکھا تو کیسا سوچیں گے، اس لیے اسے عشرت گل کے نام سے بھیجا اور وہ مشرقی آنچل میں شائع بھی ہو گیا۔ اس شمارے کو میں نے پہلے تو چھپا دیا۔ لیکن پہلی تخلیق شائع ہونے کی خوشی چھپائے نہ چھپے، چار دن بعد ہی امی کو بتایا انہوں نے دیکھا پڑھا اور بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ تب پھر دو افسانے اور لکھے جو مشرقی آنچل میں شائع ہوئے اور پھر افسانے لکھنے کا سلسلہ کچھ ایسا رکا کہ افسانہ فورم میں جا کر ہی دوبارہ شروع ہو پایا، جس کے لیے میں افسانہ فورم اور بطور خاص وحید قمر صاحب کی اور خورشید حیات صاحب کی ممنون ہوں جنہوں نے مجھے دوبارہ افسانے لکھنے کی طرف مائل کیا۔‘‘

میرے بعد عشرت نے اپنی دلچسپ کہانی سنائی۔

یوں گویا ہوئیں ’’پہلا افسانہ اور پہلی محبت کبھی نہ بھولنے والا تاثر رکھتے ہیں اور ہم تو آج تک اس پہلے افسانے اور پہلی محبت کو تھام کر زندگی کی گاڑی آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔‘‘

’’ارے واہ‘‘

’’ویسے میں نے بھی لکھنے کی شروعات بچوں کی کہانی سے ہی کی تھی، لیکن جب کالج میں داخلہ لیا اس وقت ہمارے پڑوس میں نگہت نسیم اور دلشاد نسیم سے ملاقات ہوئی، دلشاد نسیم خواتین ڈائجسٹ نکال رہی تھیں، انہی کے کہنے پر پہلا افسانہ لکھا جو شائع ہوا۔ اس میں نام صرف سیما لکھا، بعد میں سیما غزل کے نام سے لکھا لیکن جب معلوم ہوا کہ ایک معروف افسانہ نگار کا نام سیما غزل ہے تو پھر اپنے ہی نام پر آ گئی۔ لیکن مخفف کر کے ع۔ م۔ س لکھا۔‘‘

’’گھر میں کب پتہ لگا کہ آپ افسانے لکھنے لگی ہیں۔‘‘

’’یہ سارے نام اسی لیے تو تھے کہ گھر میں پتہ نہ چلے کیونکہ ہمارے گھر میں بھی روایتی ماحول تھا بس ابا ہی تھے جو بہت روشن خیال تھے، پھر بھی گھر میں افسانے لکھنا تو دور پڑھنا بھی منع تھا۔

پھر ہوا یوں کہ ڈائجسٹ میں تو عشرت سیما نام چلتا رہا کیونکہ وہ ابا اور گھر والے نہیں پڑھتے تھے، لیکن ایک افسانہ جب اخبار میں شائع ہوا تو گھر میں سب نے پڑھ لیا، خاص طور سے ابا نے، جانتے ہیں کیا ہوا؟‘‘

’’کیا ہوا ہو گا ڈانٹ پڑی ہو گی اچھی سی‘‘

’’ارے نہیں بھئی توقع کے بر خلاف ابا نے تو خوشی سے گلے لگا لیا، ابا ادب اور شاعری کو انسانی جذبات کا اظہار مانتے تھے، ابا کی شہ پر ہی میں نے آگے جا کر ابلاغ عامہ کا شعبہ اپنے لیے منتخب کیا اور تخصیص ادب کو بنیاد بنا کر اسی میدان میں آگے عملی دنیا میں قدم رکھا۔‘‘

’’اور پہلی محبت کا کیا ہوا؟‘‘

’’اس کا حال تو ہم سے سنیے، ان کی پہلی محبت کو بھی بڑی پذیرائی حاصل ہوئی کیونکہ بے دام گرفتار قفس تو ہم ہی ہوئے۔‘‘ رہبر صاحب نے بڑی مسکین سی شکل بنا کر کہا اور سب ہنس پڑے۔ یوں ہم سب نے بڑی اچھی یادوں کو سمیٹا اور محفل افسانہ میں شرکت کی تیاری کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کیونکہ گیارہ بجے ہمیں پہنچنا تھا۔

میں تیار ہو رہی تھی اور ایک بے چینی میرے اندر عشرت کو لے کر بھی تھی بس دل چاہ رہا تھا کہ عشرت سے بات کروں کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ وہ کیوں مجھے اداس سی لگ رہی ہیں؟ کیوں مسکراہٹ پھیکی پھیکی سی ہے؟ کیا مجھ سے کوئی خطا ہو گئی؟ کیا پریشانی ہے کیونکہ میں اندر سے بہت غیر مطمئن محسوس کر رہی تھی، آج عشرت کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ ٹھیک سے سوئی بھی نہیں ہیں۔ پھر میں نے ہمت کی اور عشرت سے پوچھ ہی لیا۔ انہوں نے جو بتایا میں ششدر سی کھڑی رہ گئی۔ ان کی بڑی بہن یاسمین باجی کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ رہی تھیں، ان کی حالت بہت تشویشناک تھی اور ان کا ایک بڑا آپریشن اس وقت کراچی میں چل رہا تھا۔ دوبئی سے ڈاکٹر آئے ہوئے تھے۔ یاسمین باجی نے ہی عشرت کی پرورش کی تھی کیونکہ عشرت محض چار سال کی ہی تھیں کہ ان کی امی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں تب سے باجی نے ہی انہیں ماں کا پیار دیا تھا، وہی باجی آج زندگی کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ یہ حوصلہ یہ ہمت افف! یہ عشرت ہی تھیں کہ اپنا درد اپنی پریشانی چھپائے مہمان نوازی میں مصروف تھیں، پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کام کر رہی تھیں۔ ذرا بھی کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا تھا کہ کہیں کوئی یہ نہ پوچھ لے ’کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو‘ اب میرا دل اور ذہن پریشان تھا میں نے دل سے دعا کی کہ اللہ باجی کا آپریشن کامیاب ہو اللہ انہیں زندگی دینا۔ آمین۔

محفل افسانہ کا انعقاد جس ریسٹورنٹ میں کیا گیا تھا اندر اخل ہوتے ہی سامنے استقبالیہ میز پر ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے بدھ کا چھوٹا سا مجسمہ رکھا ہوا تھا۔ مہاتما بدھ! سدھارتھ امن کی تلاش اور امن کا پیغام دینے والا، جس نے اشوک جیسے جنگ جو کا دل کلنگا کے میدان میں یوں پلٹا تھا کہ قتل و غارت گری سے تائب ہو گیا تھا۔ وہ اشوک جس نے اپنے ہی ۹۹ بھائیوں کا قتل کر کے بھی کف افسوس نہ ملا تھا، وہ جو لاکھوں افراد کو جنگوں کی نذر کر کے کبھی نہ ملول ہوا تھا، قتل و غارت گری سے توبہ کر امن کا پیامبر بن گیا تھا لیکن پھر!!! یہ لیکن پھر، لمحہ بھر میں میری سوچ کو میانمار لے گیا جہاں رہنے والے مہاتما بدھ کے سفاک بھگتوں نے انہیں شرمندہ کر ڈالا اور لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے مرتکب ٹھہرے، اب بدھ، میانمار لازم و ملزوم ہو گئے ہیں یعنی جب بھی بدھ کی مورت سامنے آئے گی ایک سفاک قوم اور درد کا سمندر بھی ساتھ لائے گی۔

آگے بڑھے تو سامنے ریسٹورنٹ کے مالک جاوید صاحب کھڑے تھے۔ مہمانوں سے بڑے تپاک سے مل رہے تھے، جسے دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ یوروپی ممالک میں بسنے والے مشرقی لوگ آپس میں کس قدر خلوص کا رشتہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ عشرت نے ان سے ملوایا تو انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ بھی ہندوستان ہی سے ہیں۔ جھارکھنڈ کا شہر جمشید پور ان کا آبائی وطن ہے۔ جرمنی آنے پر انہوں نے پہلے کسی دوسری جگہ کام کیا اور اب تقریباً پانچ سال سے وہ اپنے اس ریسٹورنٹ کو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز ان کی بیگم ہیں، جن کا نام ریا ہے۔ ریا کا تعلق دہلی سے ہے جاوید صاحب سے شادی کے بعد وہ بھی یہیں آ گئی ہیں۔ ا ٓج وہ اپنی بچی کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ریسٹورنٹ نہیں آ پائی تھیں۔ ریا آرٹسٹ ہیں ان کے آرٹ کے نمونے اس ریسٹورنٹ میں جگہ جگہ بطور خاص دیواروں پر نظر آ رہے تھے۔ ہم جہاں بیٹھے تھے اس کے بائیں طرف والی دیوار پر ایک گول دائرہ نما سورج بنا ہوا تھا جس کی کرنوں کو مختلف دالوں سے سجا کر پینٹ کیا ہوا تھا، اسی طرح سامنے کی دیوار بھی ان کے مصوری کے فن کی مظہر تھی ہم نے وہاں پر اپنی تصویریں بنوائیں۔ بزم ادب برلن کے سیکریٹری سرور غزالی صاحب تشریف لا چکے تھے اور اب محفل افسانہ کا آغاز ہو رہا تھا۔ جس کی نظامت کی ذمہ داری ایک بار پھر انور ظہیر رہبر صاحب انجام دے رہے تھے۔ عارف نقوی صاحب، سرور غزالی صاحب، وحید قمر صاحب، عشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر صاحب اور ناچیز نے افسانے سنائے تھوڑی داد تھوڑی تنقید کے ساتھ بہترین ظہرانہ تناول کیا۔

شکر خدا کہ کھانا کھانے کے فوراً بعد ہی ناصر اعظم بھائی کی کال عشرت کے پاس آ چکی تھی کہ یاسمین باجی کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور کامیاب رہا ہے گو کہ ابھی وہ ہوش میں نہیں آئی ہیں لیکن اب خطرے کی بات نہیں ہے، ابھی وہ انتہائی نگہداشت والے کمرے میں ہیں۔ ایک سکون اطمینان سب کے چہروں پر پھیل گیا۔ عشرت اب کافی حد تک مطمئن نظر آ رہی تھیں۔ اب دوران گفتگو ان کی مسکراہٹ بھی نظر آنے لگی تھی۔ وحید قمر صاحب کی روانگی کا وقت ہو رہا تھا۔ سرور صاحب عارف صاحب کو ڈراپ کرنے اور ہم وحید قمر صاحب کو بس اسٹاپ تک پہچانے کے لیے روانہ ہو گئے۔ وحید قمر صاحب سے یہ ملاقات یادگار رہی، انہوں نے فرینکفرٹ آنے کی دعوت دی یہ کہتے ہوئے کہ برلن سے زیادہ خوبصورت مناظر وہاں ہیں لیکن چونکہ میری مدت قیام مختصر تھی اس لیے جانا ممکن ہی نہیں تھا۔ اگلی بار جب بھی آئی تب کے لیے پکا وعدہ لے کر وہ رخصت ہوئے۔۔ فرینکفرٹ گوئیٹے کا شہر جہاں گوئٹے کی ہر چیز، مکان، اس کے استعمال شدہ سامان وغیرہ کو نوادرات میں شمار کر سہیج کر رکھا ہوا ہے۔ گوئٹے جرمن زبان کا عظیم شاعر جس کے یہاں کے فکر و فلسفہ کے اثرات اقبال کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔ اس شہر کو دیکھنے کی تمنا میری بھی تھی لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

وقت کا بہتا دریا

اسی شام ہمیں توصیف نعمان صاحب کے دیسی دھوم کے اسٹوڈیو بھی پہنچنا تھا اس لیے آج صرف ایک ہی جگہ سیر کے لیے جا سکتے تھے، سو ہم قیصر ولہیم میموریل چرچ دیکھنے نکل گئے۔ چرچ جانے کے لیے جہاں گاڑی پارک کی وہیں قریب میں یوروپا سینٹر (مال) تھا جس کے شیشے میں برلن کی فٹ بال ٹیم کا جھنڈا لگا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس ٹیم کا نام ہیرٹا برلن اسپورٹ کلب (Herrths BSC) ہے۔ ہم سیر کرتے ہوئے پہلے ولہیم چرچ گئے جسے اب امن کا یادگار میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ پہلی نظر میں یہ چرچ آثار قدیمہ کی عمارت لگ رہا تھا کھنڈر نما۔ اس چرچ کی 1891ء سے 1895 کے بیچ تعمیر ہوئی تھی۔

میں نے عشرت سے پوچھا کہ ’’یہاں بھی ہمارے ملک کی طرح پرانی عمارتوں کی حفاظت نہیں کی جاتی؟ اس کی مرمت نہیں کی گئی؟‘‘

تب انہوں نے بتایا کہ ’’یہ چرچ دوسری جنگ عظیم کے وقت بمباری کے باوجود صحیح و سالم کھڑا رہا بس کہیں کہیں سے عمارت تھوڑی منہدم ہوئی تھی۔ 1950 میں منہدم حصے کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا گیا اس کی مرمت کر دی گئی اور اسے ایک یاد گار کے طور پر سہیج کر رکھا گیا ہے۔ اس چرچ میں عبادت بھی نہیں ہوتی ہے۔ عبادت کے لیے اسی کے سامنے ایک دوسرا چرچ تعمیر کیا گیا، نیا اور پرانا دونوں کا ایک ہی نام ہے۔‘‘

چرچ کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں طرف حضرت عیسیٰ کا سفید مجسمہ سینے پر ہاتھ رکھے مغموم کھڑا تھا مانو انسان کی اس سفاکیت پر شرمندہ سا تھا، نوحہ کناں تھا اس انسانیت پر جس نے ایک عبادت گاہ کو پہلے بموں سے شکستہ کیا اور اب ایک علامت بنا دیا تھا۔ سامنے شیشوں کے شو کیس تھے جن میں دیواروں اور چھت کے بعض ٹکڑوں کو باقیات کے طور پر سنبھال کر رکھا گیا تھا۔

بائیں طرف دیوار پر فریم کی ہوئی تصاویر تھیں جن میں مذہبی پیشوا اپنی آن بان کے ساتھ کھڑے تھے ان میں کچھ ایک تصاویر وہ بھی تھیں جن میں اس چرچ کی پہلی عمارت ایستادہ تھی۔

چرچ کے بالکل ساتھ ہی یوروپا سینٹر ہے یہ بہت ہی خوبصورت جدید طرز کا مال ہے۔ اندر داخل ہوئے تو ایک فزکس کیمسٹری کی لیباریٹری سامنے آ گئی۔ کچھ لمبی تو کچھ چھوٹی ٹیوبز، کیمسٹری کے تجربہ کرنے والے چھوٹے بڑے فلاسک ان میں ہرے رنگ کا مرکب۔ جو ایک فلاسک سے دوسرے میں جا رہا تھا، کبھی یو ٹیوب کی طرف تو کبھی لمبی ٹیوب کی طرف پھر گول فلاسک میں۔ رہبر صاحب نے پوچھا کہ ’’یہ کیا ہے کچھ سمجھ میں آیا؟‘‘

میں نے کہا کہ ’’لیباریٹری کا ساز و سامان ہے کچھ بنایا جا رہا ہے یا تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن تجربہ کرنے والے سائنسداں مجھے کہیں نظر نہیں آ رہے۔‘‘ میرے تفصیلی جواب پر وہ مسکرا دئیے اور کہنے لگے۔

’’یہ گھڑی ہے اس میں یہ دیکھیے دائیں جانب یہ جو چھوٹے فلاسک ہیں یہ منٹ ہیں اور جو بائیں جانب بڑے فلاسک ہیں گھنٹے ہیں۔ سیکنڈز کے حساب سے پانی ٹیوبز میں دوڑ رہا ہے۔ جب گھنٹہ پورا ہو گا تو یہ ٹیوب اور چھوٹے فلاسک پورے خالی ہو جائیں گے اور یہ ہرا مرکب جو وقت ہو رہا ہو گا اس میں جمع ہو جائے گا محض ایک سیکنڈ کے لیے اور پھر دوبارہ رفتار پکڑ لے گا۔ ہے نا نئے انداز کی گھڑی۔‘‘ انہوں نے ستائشی انداز میں میری طرف دیکھا میں مسکرا دی اور کہا کہ

’’جی جناب لاجواب ہیں یہ وقت کی نلیاں بھی‘‘

میں توجہ سے اسے دیکھ رہی تھی بڑی پرکشش گھڑی تھی، وہی چوبیس گھنٹے جی وہی ساٹھ منٹ کا کھیل وہی ساٹھ سیکنڈ کی ٹک ٹک اور میں سوچ رہی تھی یہ وقت بھی نا ہر دم بس اپنی رفتار سے چلتا ہی رہتا ہے رکنے تھکنے کا تو نام ہی نہیں۔ انسان ہی ہے جو تھک تھک کر اس کے سامنے ہار ہی نہیں مان لیتا بلکہ جان تک دے دیتا ہے لیکن یہ وقت پھر بھی لمحہ بھر کو بھی نہیں ٹھہرتا۔

وہیں نیچے کے فلور پر بڑا پر کشش سا بھالو نظر آیا۔ بھالو جو کہ برلن کا قومی جانور اور قومی نشان بھی ہے۔ برلن کی سیر کرتے وقت جا بجا قومی نشان مختلف رنگوں میں کبھی مختلف جسامت میں سامنے آتا رہا جو وہاں کے باشندوں کی ملکی محبت کا اظہاریہ ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں ہمارے قومی جانور کو اتنی عزت نہیں ملی ہوئی ہے، مجھے یاد ہے کہ جب ہندوستان میں 1982 میں ایشین گیمز ہوئے تھے تب ہاتھی اپو کو اس کی علامت بنایا گیا تھا اور وہ اتنا زیادہ پسند کیا گیا تھا کہ یہاں کے لوگوں کے ذہن پر وہ ایک عرصہ چھایا رہا اور ایسا بھی ہوا کہ معلومات عام کے سوال قومی جانور کے جواب میں ہاتھی ہی لکھا جانے لگا تھا۔

وہیں سے کوئی آٹھ سو میٹر کے فاصلے پر کوڈام ہے۔ کوڈام برلن کا سینٹر مقام ہے۔ یہ اس وقت بھی مرکز تھا جب صرف مغربی برلن تھا، اُس وقت بھی یہ ایک با رونق مہنگا ترین علاقہ تھا۔ سیاحوں کے لیے بھی یہ ایک کشش رکھتا تھا آج بھی اس کی رونق اُسی طرح بر قرار ہے۔

یہ وہی علاقہ ہے جہاں اردو کے نامور مصنف ابن انشا ٹہل رہے تھے اور ان کے سفر نامے میں اس مقام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ابن انشا کے سفر نامے ’آوارہ گرد کی ڈائری‘ اور اس سے وابستہ واقعہ میں نے مبشر علی زیدی کی وال پر پڑھا تھا کہ کس طرح ابن انشا نے جب انہیں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 1967 میں یوروپ بھیجا تو وہ اپنے ساتھ منشی محبوب عالم ’پیسہ اخبار‘ کے ایڈیٹر و مالک کے سفر نامے ’پہلا سفر‘ کو ساتھ لے کر گئے اور اس میں بیان کردہ واقعہ کی تصدیق برلن کے مشہور اخبار بیرلیٹ ٹاگ بلٹ کے دفتر جا کر کی تھی اور پھر اپنے سفر نامے ’آوارہ گرد کی ڈائری‘ میں ایک باب ’برلن ہمارا اور منشی جی کا‘ نام سے ایک باب لکھا تھا۔ جب 1914 میں اسی اردو انجمن برلن کی دعوت پر مبشر علی زیدی وہاں پہنچے تو ان کے ذہن میں بھی وہ سفر نامہ رہا، اس کی تلاش میں وہ بھی لائبریری پہنچے کیونکہ اخبار 1939ء میں بند ہو چکا تھا اس لیے لائبریرین کو اخبار کا نام اور تاریخ 15 جولائی 1900 بتائی اور اخبار کا صفحہ نمبر 9 اسکین کروا لائے۔ سوئے اتفاق ان کی وال پر میری نظر پڑ چکی تھی اور آج جب ہم اس راستے سے گزر رہے تھے تو یہ واقعہ بھی مجھے کچھ کچھ یاد آ رہا تھا جسے سفر نامہ لکھتے وقت مبشر علی زیدی کی وال سے مدد لیتے ہوئے میں نے بھی لکھ ڈالا۔

مبشر علی زیدی نے ابن انشا کے سفر نامے سے پیسہ اخبار اور منشی محبوب عالم کی یاد ایک بار پھر تازہ کر دی تھی اور اخبار کے صفحات کو زندہ و جاوید کر دیا تھا۔ ان سے اجازت لے کر میں نے بھی وہ اخبار کی اسکین کاپی یہاں پیش کر دی ہے تاکہ صحافت سے وابستہ قارئین مستفید ہو سکیں۔[1]

منشی محبوب عالم کے سفر نامے سادہ بیانی میں بھی سحر انگیزی رکھتے ہیں، ان کے سفر نامہ ’’سفر نامہ یورپ‘‘ جو 1908 میں شائع ہوا تھا اسی کے سحر میں گرفتار ہو کر ایک ہندو نوجوان اپنے گھر سے پیسہ چوری کر کے یوروپ کے سفر پر نکل کھڑا ہوا تھا۔ اللہ اعلم یہ واقعہ سچ ہے یا نہیں کیونکہ اسے میں نے تو محمد برکت علی کے ایک مضمون ’سفر نامہ ادب کا ایک حصہ‘ میں پڑھا تھا۔

شام سات بجے ہم نعمان صاحب کے گھر طرف روانہ ہو گئے۔ نعمان صاحب کا گھر برلن کے علاقے پانکو میں ہے۔ جہاں پہنچنے کے لیے ہم ویڈنگ علاقے سے گزرے جو کہ برلن کے شمال مشرق میں ہے۔ ویڈنگ علاقہ وہ ہے جہاں ہندوستانی، پاکستانی، بنگلا دیشی، ترکی اور عربی بڑی تعداد میں رہتے ہیں یعنی یہ سمجھیے کہ غریب الدیار کالونی ہے۔ وہیں پاس میں شمال کی جانب ائیر پورٹ ہے اس لیے ہر تھوڑی دیر میں وہاں سے ہوائی جہاز اپنی پرواز کا منظر دکھاتے بلکہ اپنی گرجدار آواز سے ڈراتے بھی رہتے ہیں۔ نعمان صاحب پیشے سے انٹریپرینر (entrepreneur) ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے میں اور جدت کے حامی ہیں۔ پچھلے آٹھ سال سے جرمن میں مقیم ہیں اور یہاں کی قومیت حاصل کر چکے ہیں۔ آئی ٹی کمپنی اور جرمنی میں پہلے دیسی دھوم ریڈیو کے بانی ہیں اور اس ریڈیو کے ذریعے اردو بولنے والوں کی آواز بن کر جرمن ثقافت کی ہم آہنگی کے لیے کوشاں ہیں۔

نعمان صاحب کے اسٹوڈیو میں سرور غزالی صاحب انٹرویو کے لیے پہنچنے والے تھے لیکن کسی ضروری کام کی وجہ سے نہیں آ سکے اس لیے یہ ذمہ داری نعمان صاحب نے ہی نبھائی۔ نعمان صاحب کا اسٹوڈیو اور گھر ایک ہی جگہ تھے۔ نعمان صاحب نے انٹرویو بھی لیا اور ریکارڈنگ بھی کی۔ میرے وطن، میرے قائم مقام وطن لکھنؤ اور ادب کے متعلق بہت ساری باتیں، اردو افسانے کے عصری تقاضوں، اردو کے مستقبل کو لے کر پیدا ہونے والے خدشات وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یہ سلسلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک چلا، جسے یو ٹیوب پر دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ انٹرویو ختم ہوتے ہی نعمان صاحب اپنے ڈرائینگ روم میں لے گئے جہاں ان کی بیگم انیلا نے پر تکلف چائے کا اہتمام ترکی کے خاص بسکٹوں کے ساتھ کر رکھا تھا۔ نعمان صاحب اور ان کی بیگم کچھ دن پہلے ہی ترکی کا دورہ کر کے آئے تھے تھے اور بسکٹ وہ وہیں سے لائے تھے۔ نعمان صاحب کے اجداد کا تعلق تو ویسے ہندوستان ہی سے تھا لیکن ان کے والدین پاکستانی تھے۔ انیلا بھی آئی ٹی مینیجمنٹ سے وابستہ تھیں۔ دوران گفتگو ان کا دو سالہ بیٹا فارس نعمان اپنی شرارتوں سے ہمیں محظوظ کر رہا تھا اور مجھے اپنی بیٹی مشا اور ایان یاد آ رہے تھے کہ بچے کیا کر رہے ہوں گے۔ میرا دل اداس ہونے لگا۔ رات نو بجے تک ہم گھر پہنچ چکے تھے۔ گھر پہنچتے ہی بچوں کے میسیجز دیکھے ان کے اسکول ٹیسٹ چل رہے تھے، ان کے ڈیڈی نے وھاٹس ایپ پر ساری تفصیل لکھ چھوڑی تھی۔ جواب لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ آج چوتھا دن تھا بچوں سے دور ہوئے، ایان مشا بے طرح یاد آ رہے تھے۔ آج میرے صبر کا پیمانہ لبریز تھا، بہت سارے آنسو ضبط کا دامن چھوڑ آب رواں میں بدل گئے تھے۔

٭٭٭

عشق نہ دیکھے ذات پات

دوسرے دن صبح صبح وھاٹس ایپ آن کیا اور بچوں سے دیر تک بات کی تو دل پر سکون ہو گیا، پھر دوسرے پیغامات دیکھنے لگی جس نے مجھے بڑی خوشگوار حیرت میں لے لیا۔ امامہ کا میسیج تھا۔ امامہ میری قابل فخر شاگرد پوچھ رہی تھی ’’میم کیا آپ جرمنی آئی ہوئی ہیں؟‘‘ امامہ نے فیس بک پر میری پوسٹ اور تصاویر دیکھ لی تھیں۔

’’ہاں بیٹا میں برلن میں ہوں۔‘‘

’’میم تو پھر میم آپ میرے پاس بھی آئیے‘‘ بڑا ہی پیار بھرا اصرار تھا۔

’’تم تو انگلینڈ میں ہو نا؟‘‘

’’تو کیا ہوا‘‘ وہ بضد تھی۔

’’امامہ بیٹے میں کیسے آ سکتی ہوں؟‘‘

’’میم آپ کا ویزہ تو شینگن ویزہ ہو گا آپ آ سکتی ہیں میرے پاس۔‘‘

یوروپ میں شینگن ویزہ کی وجہ سے ایک ملک سے دوسرے یوروپی ملک میں جانا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ امامہ یہ بات جانتی تھی۔

میں نے جواباً کہا کہ ’’امامہ تم شاید بھول رہی ہو کہ انگلینڈ شینگن میں نہیں آتا۔‘‘

’’میم مجھے بہت اچھا لگے گا کہ میرے میکے سے میری امی آ گئیں ہوں جیسے۔‘‘

میں سوچ رہی تھی کہ یہ بیٹیاں بھی کیا ہوتی ہیں نا، بس میکہ ہی ان کی جان ہوتا ٰ ہے۔ سچ ہی ہے کہ ماں سے مائکہ، باپ سے مان اور بھائی سے شان۔ ا ور اب یہ ایک بیٹی کیسی معصومیت سے، کس مان سے بلا رہی تھی۔ پھر میں نے سمجھایا کہ ’’بیٹا میں صرف سات دن کے لیے آئی ہوں اور تمہیں پتہ ہے نا کہ ایان مشا کو بھی چھوڑ کر آئی ہوں اس لیے زیادہ نہیں رک سکتی، پلیز بیٹا۔ اچھا یہ بتاؤ کہ تمہیں وہاں کیسا لگ رہا ہے؟‘‘

میں نے اس کا ذہن دوسری طرف کرنے کی غرض سے موضوع بدلا۔

اور وہ بہل بھی گئی۔

امامہ اور حمنہ یہ دو بہنیں ہیں، دونوں نہایت ذہین اور خوبصورت ہیں، دونوں کیمپس کی شان تھیں حمنہ نے 2016 میں پوری یونیورسٹی میں اردو میں پہلی پوزیشن پر لا کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جس دن حمنہ کو میڈل ملنا تھا اسی دن امامہ نے اپنی نئی زندگی میں قدم رکھا اور انگلینڈ چلی آئی تھی۔

امامہ سے بات کر کے میں نیچے آئی۔ سارہ بٹیا ہمبرگ جانے کو تیار تھیں۔ تقریباً صبح نو بجے ہم انہیں ڈراپ کرنے بس بان ہوف یعنی سینٹرل بس اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ برلن کا مصروف ترین بس اسٹیشن ہے، یہاں سے جرمنی کے ہر شہر کے لیے ہی نہیں بلکہ یورپ کے تمام ملکوں کے لیے بھی بسیں ملتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں ہر دوسرے منٹ پر کوئی بس آ رہی تھی یا جا رہی تھی۔ ہمبرگ جانے کے لیے ہر بیس منٹ میں ایک بس موجود تھی اور اسی طرح ایک بس ہمبرگ سے برلن آ رہی تھی۔ بس انٹر نیٹ پر جائیے مطلوبہ شہر تلاش کیجیے ٹکٹ بک کیجیے۔ ای ٹکٹ بس پر چڑھتے وقت اسکین کروائیے اور اس آرام دہ بس کا جو کہ اندر سے ہوائی جہاز کی طرح لگتی ہے سفر کیجیے اور مزے کی بات یہ ہے کہ بسوں کا ٹکٹ حیرت انگیز طور پر نہایت سستا ہوتا ہے۔ وقت کے حساب سے ٹکٹ کی قیمت ہوتی۔ صبح جائیں گے تو ذرا مہنگا کچھ دیر ہوئی تو قدرے سستا ہو گا۔ بس میں وائی فائی کی سہولیت بھی مفت جوائن کریں اور اپنے دوستوں کو اچھی اچھی سیلفی بھیجیں، باتیں کریں یا گانے سنیں۔ آ مد و رفت کا یہ ذریعہ بھی کیا ہے نا! جدید سہولیات نے اسے کتنا حسین اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ ایک وہ دور تھا جب مہینوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچا جاتا تھا۔ راستوں کی دشواریاں اففف کہ بیان سے باہر۔ سارہ ہمبرگ کے لیے اپنی مطلوبہ بس میں بیٹھی تھی ابھی اس بس کی روانگی میں کچھ وقت تھا۔ ہم لوگ بس کے روانہ ہونے کے منتظر تھے۔ وہیں سامنے ایک جوڑا کھڑا تھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا کوئی آٹھ دس مہینے کا بچہ بھی پرام میں لیٹا ہوا مزے سے بسا سٹیشن کا معائنہ کر رہا تھا لیکن اس کے والدین عجب جذباتی کیفیت میں ایک دوسرے کو وداع کر رہے تھے، دنیا سے بے نیاز وہ ایک دوسرے کے کبھی گلے مل رہے تھے تو کبھی ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے، مجھے ان کی طرف جس بات نے متوجہ کیا تھا وہ تھا رنگوں کا تضاد، لڑکا ایک دم گورا یوروپی اور لڑکی ایک دم کالی بھجنگ، افریقن کہوں کہ نائیجیرین لیکن وہی بات ہے نا کہ محبت رنگ و نسل، ذات پات کہاں دیکھتی ہے، یہ تو وہ جذبہ ہے جو دلوں میں یوں اچانک جاگتا ہے کہ اصول و نظریات، ذات پات، رنگ و نسل سب منہ اٹھائے اسے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ صحیح کہا ہے کسی نے

بھوک نہ دیکھے جھوٹا بھات

پیاس نہ دیکھے دھوبی گھاٹ

نیند نہ دیکھے ٹوٹی کھاٹ

عشق نہ دیکھے ذات پات

عشق تو عشق ہے معشوق کی کس ادا پر عاشق جان پیش کر دے خود کو فنا کر دے، کب یہ بیج دل میں نمو پا کر تناور درخت بن جائے، پتہ ہی نہیں چلتا اور بندہ سب کچھ ہار کر محبوب کے قدموں میں سر نگوں ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ منظر میرے سامنے تھا۔ سارہ کی بس نے روانگی کا ہارن دیا اور میں سوچوں سے باہر نکل آئی۔

بس اسٹیشن سے باہر نکلنے کے بعد اب ہمارا برلن کی سیاحت کا سلسلہ شروع ہو رہا تھا۔ ہم فری یونیورسٹی کی طرف گامزن تھے، اس یونیورسٹی کا قیام اس وقت عمل میں آیا تھا جب برلن فرانس انگلینڈ اور امریکن سیکٹر میں منقسم تھا۔ ظاہر تھا کہ برلن کا مہنگا ترین علاقہ ڈالم ڈوروف اور سیلن ڈوروف امریکن سیکٹر کے حصے میں ہی آنا تھا، سو ایسا ہی یہاں بھی ہوا۔ اسی علاقے میں امریکنوں نے اس یو نیورسٹی کو قائم کیا۔ رہبر صاحب اور عشرت نے اپنی تعلیم وہیں حاصل کی تھی۔ تقریباً 55 ہزار طلبا یہاں علم سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ فزکس کے ایک لیکچر میں ہی تقریباً ڈیڑھ ہزار تک طلبا ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک کلاس روم کو جھانک کر دیکھا، کلاس روم کیا وہ تو ایک شادی ہال سے بھی بڑا ہال تھا یا یہ کہیے کہ پہلے کے زمانے کا سنیما ہال۔ انڈولجی کے شعبہ میں اردو ہندی کی بے شمار کتابیں دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔

اب ہم یونیورسٹی سے واپسی کے راستے پر تھے۔ راستے میں کئی جگہ سڑک کے کنارے ٹیلی فون بوتھ نظر آئے، ایسے ٹیلی فون بوتھ جہاں فون کی گھنٹی نہیں بجتی، جب ان کے قریب گئے تو ٹیلی فون بوتھ کے دروازے پر جرمنی زبان میں جلی حرفوں میں کچھ لکھا ہوا تھا جس کا ترجمہ تھا ’’ایک کتاب دو اور ایک کتاب لو‘‘ دروازہ کھولنے پر اندر فون کے بجائے کتابوں کی چھوٹی سی الماری تھی، جہاں قرینے سے تقریباً ڈھائی سو کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ میرے استفسار پر رہبر صاحب نے رہبری فرمائی کہ یہ سمجھیے کہ یہ برلن کی سب سے چھوٹی لائبریری ہے جو کہ خاص طور پر بچوں میں مقبول ہے۔ بچے بہت شوق سے اپنے گھر سے ایک کتاب لے کر آتے ہیں اسے یہاں رکھ کر دوسری لے جاتے ہیں۔ اس بات نے مجھے حیران کر دیا اور جرمنوں کی علم دوستی نے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔ عشرت بتا رہی تھیں کہ ’’یہ پہلے ٹیلی فون بوتھ تھے جب موبائل فون آ گئے تب ان کی اہمیت پوری طرح ختم ہو گئی تو ان کا استعمال یوں کیا گیا کہ انہیں چھوٹی سی لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا۔ جن لوگوں کے پاس فاضل کتابیں ہوتی ہیں، جنہیں وہ پڑھ چکے ہوتے ہیں، انہیں وہ یہاں لا کر رکھ دیتے ہیں اور دوسرے کتب کے شائقین انہیں لے جاتے ہیں، پڑھنے کے بعد وہ بھی کسی ایسے ہی بوتھ پر واپس رکھ دیتے ہیں۔‘‘

بہت ہی خوبصورت اور کار آمد بات تھی۔ ہمارے گھروں میں کتابیں اگر کوئی پڑھنے والا نہ ہو تو کباڑی کے ترازو میں چلی جاتی ہیں یا پھر دیمک کی غذا بن جاتی ہیں۔ ٹیلی فون بوتھ کے اس استعمال ہی کی طرح گھروں کا غیر ضروری سامان بھی سڑک کے کنارے رکھا ہوا نظر آیا۔ وہاں کے باشندے گھر کا وہ سامان جو ان کی ضرورت کا نہیں ہوتا اسے باہر کنارے رکھ کر نگر نگم کو اطلاع دے دیتے ہیں، نگر نگم چوبیس گھنٹے کا وقت دیتی ہے اس دوران اگر کسی کو اس سامان کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اسے اٹھا لے جاتا ہے وگرنہ چوبیس گھنٹے کے بعد نگر نگم کا عملہ اسے لے جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار مجھے تو بہت اچھا لگا۔

٭٭٭٭

کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے

آج ہمیں اردو انجمن برلن کے بنیاد گزار اس کے روح رواں عارف نقوی صاحب کے یہاں مدعو کیا گیا تھا، باوجود طبیعت کی خرابی کے وہ بضد تھے کہ ان کے یہاں عشائیہ کیا جائے۔ بہت کہا ہم نے کہ ہم ملاقات کے لیے آئیں گے ضرور لیکن مہربانی کر کے آپ کھانے کا اہتمام نہ کریں، وہ ہم سے اصرار کرتے رہے اور ہم انکار لیکن انہوں نے بھی اقرار کروا کر ہی چھوڑا۔

شام چار بجے کے قریب ہی ہم گھر سے روانہ ہو گئے تھے کیونکہ آج ہمارا شاپنگ کا بھی پروگرام تھا۔ ایک اچھا شاپنگ مال ’ٹیمپل ہوفر ہافن‘ جو کہ برلن کے کئی خوبصورت مال میں سے ایک ہے اسی راستے پر تھا۔ برلن میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ برلن میں نہروں کا ایک خوبصورت جال ہے، اس کی جو سب سے بڑی نہر ہے اسے ٹیلٹور کنال کہا جاتا ہے۔ یہ عشرت کے گھر کے قریب سے گزرتی ہے اسی لیے ان کے شہر کا نام کی مناسبت سے اس کا نام رکھا گیا ہے۔ یہ نہر آمد و رفت کے بحری ذرائع کے طور پر بھی اہم رہی ہے۔ مختلف مقامات پر اس کا نام بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور چونکہ جرمن زبان میں ہافن بندر گاہ کو کہا جاتا ہے اسی لیے اس مال کا نام ٹیمپل ہوفر ہافن ہے۔ یہ مال لب بندرگاہ ہے اور اس بندر گاہ کو 1901 سے 1908ء تک جہاز رانی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ اس بندر گاہ نے ٹیمپل ہوف میں معاشی اتار چڑھاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا اور یہ برلن کے ٹیمپل ہوف ایسٹ میں صنعتی علاقے کے لیے سامان کی در آمدگی اور بر آمدگی کا سب سے اہم مقام تھا لیکن اسے اب شاپنگ مال میں بدل دیا گیا ہے۔ وہاں سے ہم نے بچوں کے لیے کھلونے اور گرم کپڑے خریدے۔

عارف نقوی صاحب کی رہائش مغربی برلن کے علاقے فریڈ ریش ہائین میں ہے اور وہ اس علاقے میں اس وقت سے مقیم ہیں جب برلن مشرق و مغرب میں منقسم تھا۔ اب ہم ایک فلیٹ نما خوبصورت آشیانے میں تھے، آشیانہ کہاں! وہ تو دو تہذیبوں کا سنگم تھا، مشرق اور مغرب کے ملن کا آئینہ۔ مغرب مشرق کی زبان سے کچھ کچھ آشنا، لیکن کون کہتا ہے محبت کی زباں ہوتی ہے، یہ حقیقت تو نگاہوں سے عیاں ہوتی ہے، پھر ہم نے وہ کرشمہ بھی دیکھا کہ الفاظ کیسے بے معنی ہو جاتے ہیں اور کیفیت دل کیسے عیاں ہو جاتی ہے۔ جس پر کشش مسکراہٹ نے خیر مقدم کیا اس نے ایک ایسے راز کو منکشف کیا جو بتا رہا تھا کہ ایک نوجوان جو 24 نومبر 1961ء میں جرمن زبان سیکھنے اور جرمن ڈرامے پر ریسرچ کرنے کی غرض سے آیا تھا وہ اس مغرب کا اسیر بغیر بادہ و پیما کے کیونکر ہو گیا؟ کیونکر وہ جو غم ملا اسے غم جاناں بنا گیا کے مصداق دیار غیر کو دیار جاں بنا بیٹھا؟ عارف نقوی صاحب کی نصف بہتر ان گریڈ خالص جرمن خاتون ہیں۔ پڑھائی کے دوران دونوں کی ملاقات ہوئی جو ایک خوبصورت رشتے میں بدل گئی۔ انہیں دیکھ کر مجھے عشرت کی بتائی جرمنوں کی وہ تینوں خوبیاں یاد آئیں کہ

’’ایک تو یہ کہ جرمن جھوٹ نہیں بولتے، زندگی کے معاملات میں کھرے اور صاف دل ہوتے ہیں۔‘‘

’’دوسرے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی ہمدردی کے کاموں میں صف اول کی قوم ہیں۔‘‘

’’اور تیسرے یہ کہ جرمن بیویاں با وفا ہوتی ہیں‘‘

جس کا نمونہ سامنے تھا۔ عارف نقوی صاحب نے ہندوستانی کھانے خود بنائے تھے، میں تو حیران رہ گئی ان کی اس صفت کو جان کر کہ یہ وہی ہیں جو آج بھی برلن کے ایک لینگویج انسٹی ٹیوٹ میں اردو اور ہندی کی درس و تدریس میں مشغول ہیں، جو صدر ہیں اردو انجمن برلن کے، چلڈرین چیری ٹیبل سوسائٹی برلن کے اور سرپرستِ اعلیٰ ہیں یوروپین لٹریری سرکل کے، رکن بھی ہیں انڈو جرمن فرینڈشپ سوسائٹی برلن کے، اور لائف ممبر، انٹر نیشنل کیرم فیڈریشن، اور یوروپین کیرم کنفیڈریشن اور آنریری لائف پریسیڈنٹ، جرمن کیرم فیڈریشن کے ہیں وہ گھر میں اتنے ماہر کک بھی ہو سکتے ہیں؟ لیکن وہ تھے، یقین کرنا ہی تھا کیونکہ ہم نے ان کے ہاتھ کا بنایا ہوا ذائقہ دار کھانا جو تناول کیا تھا اور اس بات پر بھی یقین کیا کہ اس کامیاب مرد کے پیچھے خوبصورت خاتون ان گریڈ کی مسکراہٹ کا ہی ہاتھ ہے۔

کھانا کھانے کے بعد باتوں کا سلسلہ چل پڑا، بہت ساری باتیں لکھنؤ کی اور برلن کی ہوتی رہیں۔ اسی دوران عارف صاحب نے یادوں کے آئینے کی رونمائی کی اور ہم وہ تصاویر دیکھتے رہے، ان سے جڑی یادوں کا ذکر سنتے رہے جو کچھ ان سے اور کچھ اردو انجمن برلن سے وابستہ تھیں۔ عارف نقوی صاحب عمر کے اس دور میں ہیں جہاں ان کی زبان سے ادا ہونے والا ہر لفظ ساری عمر کے تجربات کا عرق کشیدہ ہوتا ہے، ایک ایک جملے میں کئی کئی معنی پنہاں ہوتے ہیں۔ ان سے گفتگو کا ایک الگ ہی لطف رہا۔ بہت سارا اور بہت اچھا وقت گزار کر بہت ساری یادوں کو سمیٹ کر ہم دیر رات گھر کو پہنچے۔

٭٭٭٭

آوازوں سے محروم شہر

شام عشرت کو آفس سے ضروری کال آ گئی تھی ویسے تو انہوں نے پورے ہفتے کی چھٹی لے رکھی تھی لیکن کسی ضروری کام کی وجہ سے ان کا آفس پہنچنا ناگزیر ہو گیا تھا۔ وہ بڑی پس و پیش میں تھیں رات جب ڈائننگ ٹیبل پر ذکر ہوا تو میں نے کہا کہ آپ آفس جائیے دو تین گھنٹے ہی کی تو بات ہے۔ میں گھر میں رہوں گی پھر بھی وہ پریشان ہو رہی تھیں، بہت کہنے پر وہ جانے کو راضی ہوئیں۔ صبح سات بجے یہ لوگ گھر سے روانہ ہو گئے تھے اس سے پہلے عشرت میرے لیے ناشتہ اور چائے سب تیار کر گئی تھیں اور بتا گئی تھیں کہ اگر باہر ٹہلنے کے لیے جانا چاہیں تو چابی ضرور ساتھ رکھیے گا کیونکہ یہاں تالے کی خاص بات یہ ہے کہ جب آپ دروازہ اندر سے کھولیں گی تو وہ بنا چابی کے کھل جائے گا لیکن جب آپ اسے باہر سے بند کریں گی تو وہ خود بخود لاک ہو جائے گا اور پھر بنا چابی کھل نہیں پائے گا۔ یہ کھل جا سم سم تو بڑا من مرضی کا ہے بھئی یہ کیا بات ہوئی! بنا چابی لاک ہو جائے اور بغیر چابی کھلے نا! خیر اس کی مرضی اور تالا بنانے والی کی خوبی۔ ہمارے یہاں تو علی گڑھ کے تالے مشہور رہے ہیں کتنی اچھی بات ہے نا کہ علی گڑھ ہی سے گھروں کے تالے اور چابی بنے جن سے گھروں کے بند دروازے کھلتے ہیں اور قوم کے اذہان پر لگے جہالت کے تالے بھی علی گڑھ ہی میں کھلنا شروع ہوئے اور چابی بنے سر سید۔ لیکن اب بھی گھروں اور اذہان میں تازہ ہوا کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے لیکن جو عشرت نے اپنے گھر کے تالے کی خوبی بتائی تھی وہ تکنیک تو یوروپ کا ہی خاصہ ہو سکتی ہے۔ میں نے ناشتہ کیا، پھر سکون سے گھر کا جائزہ از سر نو لیا۔ گھر کی چھت تکونی ہے جسے گلابی اینٹیں خوبصورت بنا رہی ہیں، چھتوں کی بناوٹ موسم کے مطابق ہے کیونکہ یہاں برف باری بہت ہوتی ہے اس لیے کھپریل کی چھتوں کا سا منظر نظر آتا ہے۔ گھر کے باہر بائیں جانب بہت چھوٹا سا گارڈن دو بائے دو میٹر کا ہو گا، سبزے اور پھولوں سے مہک رہا ہے۔ گھر کا صدر دروازہ کھلتے ہی دائیں جانب ایک الماری ہے جہاں آنے والے اپنے گرم جیکٹ اتار کر ٹانگ سکتے ہیں۔ اندر جاتے ہوئے ایک سیڑھی اوپر کی جانب جاتی ہے اور دوسری سیڑھی نیچے کی جانب۔ اندر داخل ہونے پر بائیں جانب کچن، ڈائننگ ٹیبل اور ڈرائنگ روم ہے اسی کے سامنے شیشے کی دیوار کے پرے خوبصورت لان ہے۔ گھر ویسے تو پہلی نظر میں تین ہی فلور کا نظر آتا ہے لیکن چونکہ ایک خوبصورت سا تہہ خانہ بھی اس میں ہے اس لحاظ سے وہ چار فلور کا ہوا۔ تہہ خانے میں ایک گیسٹ روم، اسٹور روم واشنگ روم ہے۔ اس کے اوپر کے فلور پر دو بیڈ رومز ہیں جس کے ایک روم میں میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہوں اس کی اوپری منزل پر پھر ایک کمرہ ہے۔ یہاں روشنی اور تازہ ہوا پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، اس لیے پیچھے والے حصے میں کھلا سا لان لازمی ہے۔ گھر کے اندر ہر چھوٹی سے چھوٹی جگہ پر کوئی نہ کوئی چھوٹا سا ہی سہی آرائش کا سامان ضرور تھا جسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ان کی صفائی کیسے ممکن ہوتی ہو گی؟ اس صورت میں کہ دونوں ہی ملازمت کرتے ہیں ایسے میں ان سب چیزوں کو دھول سے بچانا تو نا ممکن ہے اور چونکہ یہاں گھریلو ملازم یا ملازمہ کا تصور ہوتا نہیں ہے تو پھر صفائی؟ یہ بات میں نے عشرت سے پوچھی بھی تھی انہوں نے بتایا کہ یہاں مٹی گرد ہمارے ممالک کی سی ہوتی ہی نہیں ہے اس لیے روز روز ان سامانوں کو صاف کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خوبصورت مکینوں کے اس پیارے سے آشیانے سے میں نے باہر جھانک کر دیکھا دور دور تک سارے مکانات اسی طرح ایک جیسے نظر آئے۔ میں چابی لے کر باہر آ گئی، دروازہ کھولتے ہی خوشگوار ٹھنڈی ہو اکے جھونکے نے استقبال کیا۔ میں بھی اس پر مسرت فضا کو لبیک کہتے ہوئے چہل قدمی کو نکل پڑی۔ باہر بڑا سکون تھا، کبھی کبھی اکا دکا گاڑیاں ہلکی سی زن کی آواز کے ساتھ گزر جاتی تھیں تو سناٹے میں ایک ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوتا اور پھر سب کچھ ساکت سا ہو جاتا۔

عجب خاموشی کا راج تھا جب کہ دن کے ساڑھے دس بجے کا وقت تھا۔ اپنے ملک اپنے شہر سے ایک لا شعوری موازنہ میرے ذہن میں چل رہا تھا جہاں صبح سے ہی "کباڑی ی ی۔۔”، تو کبھی "آلو، میتھی تازی تازی سبزی لے لو” کی آواز سنائی دیتی، گو کہ لکھنؤ میں آگرہ کے نظیر اکبر آبادی کی لکھی نظموں کو گا کر ککڑیاں بیچنے والے تو اب نہیں تھے، جو کہتے تھے کہ لیلیٰ کی انگلیاں ہیں مجنوں کی پسلیاں ہیں پھر بھی کبھی نرم تو کبھی سخت آواز والے سبزی فروش محلوں کالونیوں کی رونق ضرور بنے رہتے ہیں لیکن یہاں تو سناٹا ہے صرف سناٹا۔ سردیوں میں ہمارے یہاں بزرگ گھر کے باہر لان میں بیٹھے اخبار پڑھتے دکھائی دیتے ہیں اور بزرگ خواتین سر جوڑے محلے بھر کی خبروں کی ترسیل انٹر نیٹ سے بھی تیز رفتار سے کر رہی ہوتی ہیں گو کہ اسی برق رفتاری سے ان کی انگلیاں میتھی کے پتوں کو ڈنڈیوں سے جدا بھی کر رہی ہوتی ہیں۔ دوران عمل نجانے کتنے رشتوں میں کدورتوں، کڑواہٹوں میں تو لا شعوری طور پر ہی محبتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہوتی ہیں۔ میری نظریں سڑک پر تھیں اور سڑک کیا تھی بالکل سیدھی، سونی بیوہ کی مانگ کی طرح، بڑی اداس اداس سی، سوگوار سی، کچھ ایسی کہ جیسے اس کا کوئی مونس نہ ہو کوئی غم خوار نہ ہو کہ دفعتاً بہار کا ایک جھونکا چلا آیا، خزاں رت نے انگڑائی سی لی، سونی مانگ میں سندور سا نظر آنے لگا، کلیاں چٹک گئیں، پھول کھلنے لگے، لگا میرے اطراف نقرئی گھنٹیاں سی بجنے لگیں ہوں، دور سے ایک سرخ رنگ کی سائیکل آتی نظر آئی، جب قریب سے وہ سائیکل گزری تو دیکھا کہ ایک نازنین سوار ہیں۔ نیلی جینز آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ اور اس پر ہلکے نیلے رنگ کا جیکٹ زیب تن کیے، پیروں میں جاگرز پہنے، تیزی سے پیڈل مارتی فراٹے سے میرے نزدیک سے گزر گئیں۔ میں تو حد نگاہ تک انہیں مڑ کر دیکھتی ہی رہ گئی، وہ ایک بزرگ خاتون تھیں، عمر ان کی تقریباً پچاسی سال مبالغہ آرائی سے گریز بھی کروں تو بیاسی تو ہو گی ہی لیکن جو انداز تھا اسے دیکھ کر میں تو انہیں نازنین ہی کہوں گی۔ سچ ہی تو کہہ گئے علامہ اقبال ’’وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘‘ چاہے وہ کسی بھی عمر کی ہو۔

یا کسی اور شاعر نے کہا ہے کہ ’’جو یہ نہ ہوں تو زمانے میں روشنی کیوں ہو‘‘ یہ تو میں تھی میری جگہ اگر کوئی شاعر حضرت ہوتے تو یہ واقعہ یقیناً کئی غزلوں کے وجود میں آنے کا باعث بن جاتا اور ان کا دل ناتواں سائیکل کے دوش پر نجانے کہاں کہاں کی سیر کر آتا۔

میں تو یہی سوچتی رہ گئی کہ یا خدا ہمارے یہاں تو اس عمر کے بزرگ اکثر گھٹنوں اور کمر کے درد سے جھکے جھکے آہ! اوہ! کرتے نظر آتے ہیں اور یہاں یہ سرخ و سفید خاتون اور یہ ادا بھئی واااہ ہی نکلا میری زبان سے تو۔ ویسے ان کی صحت کا راز کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا تھا یہ لوگ تازہ ہوا اور کھلی فضا میں جیتے ہیں، دوسرے ان کے کھانے کی اشیاء عمدہ کوالیٹی کی ملاوٹ سے پاک ہوتی ہیں، تیسرے سائیکل کی سواری جو کہ یہاں عام تھی۔ سائیکل یہاں غربت کی علامت نہیں تھی۔ صحت بھی چنگی اور ماحول بھی صاف کا صاف، ایک پنتھ دو کاج۔

٭٭٭٭

شہر طلسماں

عشرت اور رہبر صاحب دوپہر دو بجے تک گھر آ چکے تھے دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ہم آج ٹی وی ٹاور دیکھنے کے لیے الیگزینڈر پلٹس کی طرف جانے والے تھے۔ اس جگہ کا نام روسی زار الیگزینڈر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہاں جانے کے لیے ہم نے عوامی ٹرانسپورٹ کا انتخاب کیا۔ ٹیلٹو علاقہ برلن کے پہلو میں واقع چھوٹا سا شہر ہے جو کہ صوبہ برانڈن بورگ کا حصہ ہے۔ اس شہر اور برلن کے درمیان سے دیوار برلن گزرتی تھی۔ اب یہ چھوٹا سا شہر بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق 900 افراد ہر سال یہاں نئے بس رہے ہیں۔ اس لحاظ سے جرمنی بھر سے اس شہر کی طرف کوچ کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس شہر کے بہت ہی قریب اس صوبے کا دار الحکومت پوسٹ ڈام بھی ہے .

ان کے گھر سے کچھ دور انڈر گراؤنڈ ٹرین اسٹیشن تھا، وہاں تک تو ہم عشرت کی کار سے گئے پھر کار پارک کر کے ہم اسٹیشن کی طرف بڑھے۔ میں نے یہ دیکھا کہ وہاں کار پارکنگ میں بڑی پریشانی ہوتی ہے، پارکنگ آسانی سے نہیں ملتی۔ اس وقت بھی ایک لمبا چکر لگا کر بڑی دور گاڑی کھڑی کرنا پڑی۔ جگہ جگہ پارکنگ محفوظ کے چھوٹے چھوٹے بورڈ لگے ہوئے تھے۔ وہاں پارکنگ کی بکنگ بھی پہلے سے کر لی جاتی ہے کیونکہ کئی ایک بورڈ پر بکنگ کی تاریخ بھی لکھی ہوئی دیکھی تھی۔ لوگ اس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ غلط جگہ گاڑی پارک نہ ہو۔

ذہن نے پھر موازنہ کیا کہ ہمارے ملک میں تو ایسے نظام کا تصور ہی نہیں۔ جس جگہ نو پارکنگ لکھا ہو وہاں ضرور کوئی گاڑی کھڑی ہو گی۔ جس جگہ لکھا ہو گا کہ یہاں تھوکنا منع ہے وہاں کی دیواریں ضرور سرخی مائل ہوں گی۔ کاش میرے ملک میں بھی خود ساختہ معنی اخذ کرنے کے بجائے اس لفظ کو اسی معنی میں پڑھا جائے اور عمل کیا جائے جیسا کہ اس کے ظاہری معنی نظر آتے ہیں تو ملک کی شکل ہی بدل جائے۔

اسٹیشن پر بہت زیادہ لوگ نہیں تھے، جو لوگ تھے وہ اپنی اپنی راہوں کے مسافر بنے ادھر سے ادھر جا رہے تھے۔ ٹرینیں آتی تھیں، مسافر اپنی مطلوبہ منزل کی طرف جانے والی ٹرین کی طرف بڑھتے، خود کار دروازہ ان کی آہٹ پر وا ہوتا وہ اس میں چڑھ جاتے بس یوں سفر شروع ہوتا اور ختم بھی ہو جاتا۔ ارے بھئی یہ سفر بھی کوئی سفر ہے بھلا؟ کوئی کسی کو زور سے آواز نہیں دیتا کہ ’جلدی آ جاؤ جگہ مل گئی‘ کہ سارے مسافر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں، نہ ہی کوئی سامان رکھ کر کسی کے لیے سیٹ روکتا ہے، ہمارے یہاں کی طرح چیخ چیخ کر چائے چائے کی آوازیں لگاتے دوڑتے چائے والے بھی نہیں تھے، نہ ہی بھیک مانگنے والے نہ ہی اخبار بیچنے والے۔ بس سب کچھ ایک مشین کی طرح اصولوں پر چل رہے ہیں۔ وقت کی ایک گردش ہے اور آدمی اس پر کاربند، اصولوں پر چلنے سے زندگی بہت آسان ہو جاتی ہے، سارا نظام درست چلتا ہے اور ترقی کی راہوں کی رفتار بھی تیز ہوتے ہوتے تیز تر ہو جاتی ہے لیکن اس کا ایک منفی اثر یہ بھی تو ہوتا ہے انسان بس وقت کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کو دیکھتے دیکھتے ہی بسر ہو جاتی ہے، یہاں کے لوگوں کا طرز حیات وقت کے پابندی کی وجہ سے ہی مشینی سا ہے۔

اسٹیشن پر مختلف دوکانیں تھیں، سجی سجائی خوبصورت۔ ان میں سے جس نے خاص طور پر متوجہ کیا وہ بریڈ کی دوکانیں تھیں۔ جرمن لوگ بریڈ کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں اس لیے یہاں تقریباً تین سو سے زائد اقسام کے بریڈ دیکھنے کو اور کھانے کو ملتی ہیں۔ کچھ بہت نرم سی تو کچھ سخت سی ہوتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں صبح کا ناشتہ، ظہرانہ، عصرانہ اور عشائیہ سب کے لیے الگ الگ طرح کی بریڈ ملتی ہے۔ زیادہ تر میں گیہوں کے آٹے کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ کھانے میں بڑے ذائقے دار ہوتی ہیں۔

ہماری مطلوبہ ٹرین آ چکی تھی ہم اس میں بیٹھ گئے۔ ٹرین میں اندر بھی بہت بھیڑ بھاڑ نہ تھی۔ اس کی سیٹیں ہمارے یہاں کی بس کی سیٹوں کی طرح تھیں ہماری میٹرو ٹرین کی طرح نہیں کہ آمنے سامنے بیٹھیے اور بیچ میں کھڑے رہیے۔ دروازے کے نزدیک ایک ایک سیٹ تھی اور بیچ میں کافی جگہ تھی۔ جہاں ایک لڑکا اپنی سائیکل کی مرمت میں مصروف تھا، یعنی وہاں اتنی جگہ تھی کہ نہ صرف سائیکل رکھی ہی جا سکتی تھی بلکہ اسے لٹا کر اس کی مرمت بھی کی جا سکتی تھی۔ وہ اپنے کام میں اس قدر منہمک تھا کہ اسے اس بات سے کوئی مطلب ہی نہیں تھا کہ کون اسے دیکھ رہا ہے؟ کون اتر رہا ہے؟ کون سوار ہو رہا ہے؟ اس کی یہ بے نیازی اس کے کام کی لگن کا اظہار تھی اور باقی لوگ بھی جو اتر اور چڑھ رہے تھے، بیٹھ رہے تھے اسے فضول مشوروں سے نوازنا اپنا فرض بھی نہیں جان رہے تھے۔ اگر یہی ہمارے ملک میں ہو تو دو چار مشورے تو اس کے انہماک میں خلل ڈال ہی رہے ہوتے۔ جرمن لوگوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ بلا وجہ کسی کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرتے لیکن اگر کسی کو پریشانی میں دیکھتے ہیں تو آگے بڑھ کر مدد کرنا اپنا فریضہ بھی جانتے ہیں۔ خوش اخلاقی، رحم دلی اور خوش مزاجی یہاں کے لوگوں کی اہم خصوصیت ہے۔

الیگزینڈر پلٹس پہنچنے پر ہم ٹی وی ٹاور کی طرف بڑھے کہ وائلن کی آواز نے قدم روک لیے، اس خوبصورت موسیقی کے تعاقب میں نظریں اس فنکار کو تلاش کرنے لگیں جو اسے بجا رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی نظریں ہی نہیں چہرے پر بھی مسرت آمیز مسکراہٹ آ گئی کیونکہ وہ کوئی فنکار نہیں بلکہ ایک کم سن فن کارہ تھی، جس کی مخروطی انگلیاں بڑی مہارت سے وائلن کے تاروں کو چھیڑ رہی تھیں اور فضا کو خوشنما بنا رہی تھی۔ کچھ لوگ اس نازنین کے آس پاس کھڑے موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور کچھ یورو اس کے سائیڈ رکھے باکس میں ڈال بھی رہے تھے۔

میں نے عشرت سے پوچھا ’’یہ کیا ماجرہ ہے بھئی؟‘‘

ایک خاص بات بتا دوں کہ مجھے کبھی بھی کسی نئی بات کو دیکھ کر سوال پوچھنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی، یا میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ دوسرا میرے بارے میں کیا سوچے گا کہ مجھے اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی؟ اس بات کی پرواہ کیے بنا ہمیشہ سوال پوچھ لیتی ہوں کیونکہ علم میں اضافہ تو سوال ہی سے ہوتا، آدھا علم تو سوال ہی ہے۔

’’یہ لڑکی کوئی طالب علم ہے جب ان کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو یہ چندہ مانگنے یا مدد کی گہار نہیں لگاتے بلکہ اپنے فن کو بیچ کر پیسہ جمع کرتے ہیں‘‘

’’بھئی یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔‘‘

’’اور یہ جس جگہ کھڑی ہے وہ کیا ہے؟‘‘

’’یہ عالمی گھڑی ہے، اس میں 146 مقامات کے نام اور تاریخ درج ہیں۔‘‘

’’ارے واہ یہ تو کمال کی گھڑی ہے۔‘‘

دس میٹر کی اونچائی پر دائرہ نما گھڑی اتنے سارے ممالک کے اوقات بتا کر سیاحوں کے لیے بڑی دلچسپی کا سامان بنی ہوئی تھی۔ میں نے بھی جہاں دہلی لکھا ہوا تھا دیکھا تو وہاں وہ گھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی ساتھ ہی درجہ حرارت بھی دکھا رہی تھی جبکہ برلن میں اس وقت دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے، ہندوستان اور جرمنی کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے کا وقتی فاصلہ تھا۔

وہاں سے ہم آگے بڑھے پھر جس چیز نے میری توجہ اپنی جانب کھینچی ہے وہ تھا ٹی وی ٹاور۔

ٹاور کی اونچائی 368 میٹر ہے جبکہ ریسٹورنٹ 207.53 میٹر پر بنایا گیا ہے، ایک وقت میں اس ریسٹورینٹ میں دو سو لوگ آ سکتے ہیں۔ اس کے بعد کا حصہ نشریات کے اینٹینے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ٹاور کو دیکھنے کے لیے ایک تخمینے کے مطابق تقریباً ایک اعشاریہ دو ملین سیاح آتے ہیں۔ اس پر جانے کے لیے ٹکٹ کی بکنگ انٹر نیٹ سے پہلے ہی کرنا ہوتی ہے جو میرے میزبانوں کر رکھی تھی۔ ٹکٹ خاصا مہنگا رہا ہو گا لیکن میرے میزبانوں پر بھی تو دریا دلی ختم ہی تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اوپر پہنچ کر جو نظارہ سامنے آتا ہے وہ خطیر رقم کو حقیر بنا دیتا ہے۔ ٹاور میں ایک انتہائی تیز رفتار لفٹ تھی جس میں ہم سوار ہوئے۔ آناً فاناً میں اس نے ہمیں 207.53 میٹر کی اونچائی پر پہنچا دیا تھا۔ جہاں ریوالونگ ریسٹورنٹ ہے جو اپنے مدار پر بڑی آہستہ روی سے ایک طے شدہ رفتار سے گھومتا رہتا ہے۔ تقریباً 20 منٹ میں یہ اپنے محور کے گرد ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ یہ محور، مرکز اور مدار ساری کائنات کو چکر میں ڈالے ہوئے ہیں، اسی چکر چکر میں آپ ریسٹورینٹ میں بیٹھے بیٹھے پورے برلن کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ رفتار بھی کیا ہوتی نا اسی نے تو زندگی کو زندگی بنایا ہوا ہے، دوریوں کو صدیوں، دہائیوں، سالوں، مہینوں، دنوں، گھنٹوں منٹوں، اور پھر پلوں میں سمیٹ کر اس اشرف المخلوقات کو زندگی کے ماہ و سال عطا کر دئیے ہیں اور اس آدم خاکی نے بھی ان کا جب استعمال کیا تو ساری رفتار کو اپنے قابو میں کیسے کر ڈالا کہ نظر حیران، دل پریشان، کبھی ہواؤں کے دوش پر اڑا دیا تو کبھی تیز رفتار ٹرین میں بٹھا دیا۔ ابھی دیکھئے نا کیسے لمحوں میں اتنی اونچائی پر لا دیا، اتنی دوری تک تو انسان ہی انسان کو لے آیا فرشتوں کا کام کتنا آسان کر دیا اور واقعی غور کرنے کی بات ہے کہ فرشتے کتنا آسان کام کرتے ہیں، انہیں تو صرف روح ہی لے جانا ہوتی جسم تو وہ دنیا میں ہی چھوڑ جاتے ہیں، سوچ کر میں مسکرا دی کہ واقعی انسان ہی برتر ہے اور حضرت آدم کے سامنے فرشتوں کا سجدہ ریز ہونا بھی واجب ہی تھا۔

بلندی بھی واقعی بلندی ہی ہوتی ہے جو ہماری نظر کی وسعتوں میں اضافہ کرتی ہے، ہمیں ایک نئے انداز سے دنیا دکھاتی ہے، یہ بھی سچ ہے کہ نظر سارے نظریے بدل دیتی ہے۔ میرے سامنے بھی اتنا خوبصورت نظارہ تھا کہ اسے الفاظ کا جامہ پہنانا نا ممکن تھا، حد نگاہ تک بے کراں نیلا امبر، انسانوں کی بنائی بستی اور پھر اس میں بسے انسان اوپر سے بونے نظر آ رہے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی بونوں نے اس بلندی کو بھی تعمیر کیا ہے اور اسی ٹاور پر چائے کافی کا انتظام بھی کر دیا ساتھ ساتھ تفریح کا سامان بھی مہیا کر دیا۔ ریسٹورنٹ کی دیواریں شیشے کی تھیں جس کے پار کی دنیا صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اسی کے باہر ایک بالکونی بھی تھی جس کی دیواریں بھی شیشے کی ہی تھیں، صاف شفاف شیشے، اس کے پار کی دنیا پکار رہی تھی۔

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

اس جلوہ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ

ایام جدائی کے ستم دیکھ جفا دیکھ

بے تاب نہ ہو معرکہ بیم و رجا دیکھ

ہیں تیرے ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں

یہ گنبد افلاک یہ خاموش فضائیں

یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں

تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں

آئینہ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ

خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں

آباد ہے ایک تازہ جہاں تیرے ہنر میں

جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں

جنت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میں

اے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ

اے پیکر گل۔۔۔

اس وقت دل چاہ رہا تھا کہ بالکل خاموش رہا جائے کچھ نہ بولا جائے، بس اور بس خدا کی قدرت کو محسوس کیا جائے۔ اس ارض خاکی کے کارناموں کو سراہا جائے کیونکہ الفاظ کہیں نہ کہیں احساسات کو کم کر دیتے ہیں، احساس کی تو اپنی زبان ہوتی ہے جو کتنی کہی اور ان کہی داستانیں مسلسل رقم کرتی رہتی ہے۔ اس کی بھی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے جو اسی زندگی سے وابستہ ہوتی ہے جو اسے محسوس کرتی ہے اور اس کی بھی ایک روایت ہوتی ہے جو بہت آہستہ روی کے ساتھ دلوں سے دلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔

میں اپنے خیالات میں گم تھی کہ رہبر صاحب نے ایک سوال کر دیا کہ بتائیے کہ ’’یہ ٹاور جو کہ 368 میٹر اونچا ہے۔ کتنے زرافے ایک دوسرے پر کھڑے کیے جا سکتے ہیں؟‘‘

عجیب سوال تھا، میں ہنس پڑی کہ ماسٹر جی نے میری ریاضی کی کلاس کیوں لے لی؟

ہم بھی کم نہ تھے اور نہ ہی ریاضی میں کمزور بس یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ بھلا سا سیدھا سادہ سا جانور زرافہ آخر کتنا اونچا ہوتا ہے اگر یہ پتہ چل جاتا تو منٹوں میں ضرب تقسیم کر ڈالتے، میں نے جھٹ موبائل میں گوگل چچا سے مدد طلب کرنے کی کوشش کی، مگر انٹر نیٹ تو تھا نہیں گوگل چچا بے چارے منہ بسورے رہے۔

رہبر صاحب کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ رہی تھی۔ ایسے موقع پر عشرت بڑی سنجیدہ سی شکل بنا لیتی تھیں کہ کہیں میں ان سے آہستہ سے کچھ نہ پوچھ لوں، دوسری طرف دیکھنے لگیں، دونوں ہر بات میں ایک دوسرے کے ہم نوا بنے رہتے تھے، میں نے کہا۔

’’دیکھئے ہمارے ریاضی کے سر بھی ذرا سا اشارہ ضرور دیتے تھے۔ آپ بھی یہ تو بتا دیجیے کہ زرافہ کی اونچائی کتنی ہوتی ہے؟‘‘

کہنے لگے ’’چلیے جواب ہی بتا دیتا ہوں۔‘‘

’’77 زراف /زرافہ کے برابر ہوتی ہے اب بتائیے ایک زراف کی اونچائی کتنی ہو گی؟‘‘

عشرت ہنس پڑیں کتنا الجھا رہے ہیں میری دوست کو ‘

میں بھی سوچ رہی تھی کہ یا خدا آج کا پیپر کتنا مشکل بنا دے رہے ہیں۔

خیر ہم نے بھی فوراً 368 کو 77 سے تقسیم کیا اور جواب دےد یا چار اعشاریہ چھ سات۔

صحیح جواب پر عشرت نے ایک ٹافی انعام میں دی، یونہی ہنستے مسکراتے ہم لوگ ٹی وی ٹاور کی سیر کرتے رہے۔

عشرت اور انور ظہیر رہبر صاحب دونوں میں ہی ذوق مزاح بدرجۂ اتم موجود ہے، بات سے بات بڑھاتے چلنا، رہبر صاحب کے لہجے میں شگفتگی تو عشرت کے پاس سنجیدگی، رہبر صاحب سارا وقت میرے علم میں اضافہ کرتے رہنا فرض اولین بنائے ہوئے تھے اور عشرت انہیں دلچسپ بنانے میں ماہر. دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم۔ کبھی کبھی اوپر والا بھی کیسے ہم مزاج لوگوں کو ملوا دیتا ہے کہ رشک آنے لگتا ہے، عشرت اور رہبر صاحب کے ملن کی بھی بڑی دلچسپ داستان سنی لیکن چونکہ وہ ذاتی نوعیت کی باتیں تھیں تو انہیں قلم کی گرفت میں لانا مجھے مناسب نہیں لگا۔ سوائے عشرت کے ایک جملے کے کہ ’’اس گھر میں ایک ہی تو کام کے انسان تھے، اسی لیے انہوں نے ان پر قبضہ کر لیا یعنی آپ سمجھ ہی رہے ہوں گے کہ غلام بے دام، گرفتار عشق ناتمام، بندہ ہم مزاج، ہمراز، ہم خیال۔ بس دل سے ایک دعا نکلتی رہی اللہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ یونہی ہنستا مسکراتا سلامت رکھنا۔ (آمین)

ٹی وی ٹاور کے پاس ہی ایک ٹاؤن ہال ہے۔ واکنگ اسٹریٹ سا ماحول مختلف برانڈز کے شو روم، سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے میں پوری طرح کامیاب، کاروں کے بڑے بڑے شو رومز۔ جرمنی کاروں کی ٹیکنالوجی کے معاملے میں بھی اپنا مقام رکھتا ہے۔ یہاں مجھے آمد و رفت کے ذرائع میں دو ہی چیزیں نظر آئیں یا تو بندے کے پاس شاندار سی چار پہیہ ہو گی یا پھر وہ دو پہیہ سائیکل فخر سے چلاتا نظر آئے گا۔ زیادہ تر کاریں گھر کے سامنے سڑک پر ہی کھڑی نظر آتی ہیں اور بڑی بے فکری سے کھڑی ہوتی ہیں کیونکہ چوری کا ڈر نہیں رہتا، چوری کا معاملہ بھی دلچسپ ہے کہ کاروں کے کل پرزے چرا لینا تو آسان ہے لیکن انہیں فروخت کرنا مشکل امر کیونکہ یہاں جتنے بھی گیرج ہیں وہ گورنمنٹ کے منظور شدہ یعنی رجسٹرڈ ہوتے ہیں اس لیے وہاں چوری کا سامان بیچنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگی ترین کار کے مالکان گاڑیوں کو بھی سڑک پر کھڑا کر کے چین کی نیند سوتے ہیں۔ اب میں اس بات کا اپنے ملک سے کوئی موازنہ نہیں کروں گی یہ قاری کی فہم پر چھوڑ دیتی ہوں آخر وہ بھی تو ذرا دونوں ملکوں کو سمجھیں۔

اب ہم ایک بہترین سے ریسٹورینٹ میں تھے جس کا نام لافامیہ تھا۔ یہ ایک ترکی ریسٹورینٹ تھا۔ برلن میں لافامیہ نام کے کئی ریسٹورنٹ موجود ہیں جو کہ اسی کی شاخیں ہیں۔ تازہ باربی کیو اس کی خاص ڈش ہے۔ باربی کیو، عدنان کباب، سیخ کباب، جسے شیش کباب بھی کہا جاتا ہے، نان اور ترکی کے موٹے چاول یہاں کی خاص ڈشز ہوتی ہیں۔ کھانا بیحد ذائقہ دار تھا۔ کھانے کے دوران پودینے اور نیبو کا ایک شربت دیا گیا۔ اور پھر کھانے کے بعد شیشے کے چھوٹے چھوٹے بلوریں گلاسوں میں ایک مشروب جسے دیکھنے پر انگور کی بیٹی کا گمان ہو رہا تھا، پیش کیا گیا۔ بہت دیر تک اس جام کو لے کر میں پس و پیش میں رہی کہ یہ کیا ہے؟ عشرت اور رہبر صاحب سمجھ گئے تھے کہ میں اسے پہچان نہیں پا رہی ہوں۔

عشرت نے بتایا ’’یہ یہاں کی یعنی ترکی کی خاص چیز ہے چونکہ کہ یہاں کا موسم بہت سرد ہوتا ہے پارہ منفی تیس تک چلا جاتا ہے، ایسے میں یہاں اپنی صحت کو بنائے رکھنے کے لیے اس کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔ سو ہم لوگ بھی کبھی کبھی یہ لے ہی لیتے ہیں کیا کریں جیسا دیس ہو ویسا بھیس اختیار کرنا پڑتا ہے۔‘‘

رہبر صاحب فرمانے لگے ’’ارے آپ بھی ٹیسٹ کیجیے پہلے ایک چھوٹا سپ لیجیے پھر دوسرا بڑا بہت اچھا لگے گا اور ویسے بھی اتنی سی مقدار میں تو کوئی مضائقہ نہیں ورنہ یہ ہو گا کہ آپ یوروپ گئیں تو کیا گئیں اگر اسے نہ پیا‘‘

دونوں بڑی سنجیدگی سے باتیں کر رہے تھے اور میں حیران پریشان کہ کیا واقعی یہ لوگ یہاں کے رنگ اس انداز میں بھی رنگ چکے ہیں، یا اللہ میں کیا کروں کیسے بضد ہوئے جا رہے یہ دونوں، اسی دوران رہبر صاحب نے گلاس اٹھا کر پینا بھی شروع کر دیا۔ مجھے اندر ہی اندر عجیب سا محسوس ہونے لگا، میرے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے تھے کہ عشرت نے ہنس کر ان سے کہا۔

’’بس کیجیے عشرت حقیقتاً پریشان ہو گئی ہیں۔‘‘

اور ہنستے ہنستے بتایا ’’یہ یہاں کی خاص چائے ہے جو ایک خاص برتن جسے سماوار کہا جاتا ہے، میں بنائی جاتی ہے۔‘‘

میری جان میں جان آئی۔ سچ پوچھیے تو واقعی وہ بہت ذائقے دار چائے تھی اور لافامیہ کا ڈنر بھی ہمیشہ یاد رہنے والا تھا، کیونکہ بقول رہبر صاحب کہ ’’اتنے دنوں میں آج آپ کو بہت سارا کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

یہاں سے ہم ٹیئر گارڈن کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹئیر گارڈن علاقہ ایک بہت بڑا پارک ہے جو کہ برلن کے بالکل درمیان میں واقع ہے۔ یہاں لا تعداد درخت ہیں۔ عموماً بڑے شہروں میں یہ نہیں ہوتا کہ اتنا بڑا گارڈن شہر کے بیچ بنایا جائے لیکن فطرت اور قدرت سے محبت کرنے والے یہ سب کر گزرتے ہیں۔ اسے ’برلن کا پھیپھڑا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پورے شہر کی ہوا کی آلودگی صاف ہوتی ہے چونکہ درخت نہ صرف ہوا کی آلودگی دور کرتے ہیں بلکہ آوازوں کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اس لیے یہاں شور شرابہ کم محسوس ہوتا ہے۔ برلن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر درخت پر ایک رجسٹریشن نمبر درج ہے جس کے حوالے سے حکومت کے پاس اس کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں۔ کس درخت کو کب لگایا گیا تھا؟ اب اس کی عمر کتنی ہے؟ بہت زیادہ عمر ہونے پر یا خراب ہونے پر اس کے گرنے سے پہلے اسے وہاں سے کاٹ کر اسی کے پاس دوسرا درخت لگا دیا جاتا ہے۔ اور کاٹے ہوئے درخت کی لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے تنے کو تجریدی آرٹ کے نمونے میں ڈھال کر شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کر لیا جاتا ہے۔ کمال ہیں جرمن بھی ہر چیز میں ہنر مندی۔

٭٭٭٭

سلام اے خاتون اول

ٹی وی ٹاور کے عقب میں لال رنگ کی عمارت تھی جس کا نام ’روٹے راتھ ہاؤس‘ ہے جو کہ برلن کی پارلیمنٹ ہے، جہاں برلن حکومت کے اراکین اور برلن کے مئیر بیٹھتے ہیں۔ روٹ کے معنی ’لال‘ اور راتھ ہاؤس کے معنی ’میونسپل کمیٹی کا دفتر‘ لیے گئے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے رہبر صاحب نے بتایا کہ ’’جانتی ہیں یہاں کے پارلیمنٹ، سرکاری دفتر وغیرہ کے لوازمات یعنی دفتر میں استعمال کی اشیاء فائل، کاغذ، فوٹو کاپی، وغیرہ اور اس کی صفائی پر صرف سالانہ سینتالیس اعشاریہ تین ملین یورو خرچ کرتی ہے اور دیکھیے ان دفاتر کی چمک۔‘‘ ان کے لہجے میں ہلکا سا طنز کا شائبہ نظر آیا، یقیناً وہ یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ ہمارے ممالک میں باوجود کروڑوں کے اخراجات ہونے کے گندگی کا حال بھی بے حال ہوتا ہے۔ در اصل عشرت اور ان کے شوہر انور ظہیر رہبر صاحب کو یہاں رہتے ہوئے تقریباً بتیس سال ہو رہے ہیں، وہ لوگ پوری طرح اس ملک کے رنگ میں رچ بس چکے ہیں لیکن وہ پاکستان بھی برابر جاتے رہتے ہیں اور رہبر صاحب تو ہندوستان کی سیر بھی کر چکے ہیں، اکثر باتوں میں اپنے ملکوں کے حالات کا ذکر ہوتا رہا اور تقابل یوروپی ممالک سے جو کہ فطری عمل ہے۔

برلن پارلیمنٹ سے تقریباً تین سے چار کلومیٹر کی دوری پر جرمن پارلیمنٹ ہاؤس بھی ہے، اس کے قریب ہی چانسلر کا اپنا دفتر ہے جو کہ چانسلر ہاؤس کہلاتا ہے۔ اسی بلڈنگ میں اوپری منزل پر ایک گول خوبصورت سا گھر ہے جو چاروں طرف سے شیشے سے مزین ہے۔ یہ چانسلر کی رہائش گاہ ہے۔ یہاں چانسلر کا عہدہ وزیر اعظم کے برابر ہوتا ہے۔ جسے عوامی ووٹ کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، اس کی مدت چار سال ہوتی ہے۔ ا س وقت یہاں یعنی جرمنی کی چانسلر ایک خاتون، انجیلا میریکل ہیں جو کہ اسم با مسمیٰ ہیں۔ عشرت اور رہبر صاحب چلتے چلتے اس حسن کرشمہ ساز کا ذکر فخریہ انداز میں کر رہے تھے۔

’’یہ جو خاتون اول ہیں نا جرمنی کی انہوں نے تو بھئی اپنی شخصیت کا زبردست لوہا منوایا ہوا ہے، بس یہ کہیے کہ نام جو ان کا میریکل ہے تو سب پر جادو ہی کیا ہوا ہے اور جرمن ہی نہیں یہاں پر رہنے والے ہر شخص کے دل میں وہ بستی ہیں۔‘‘

میں نے عشرت کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ’’ذرا محترم کے آخری جملے اور لہجے پر غور پلیز خطرہ منڈلا رہا ہے۔‘‘

عشرت بے ساختہ ہنس پڑیں ’’ارے نہیں عشرت بندۂ بے دام جس قفس میں ہے وہاں ایسا کوئی روشن دان نہیں، رہائی کی کوئی امید ہی نہیں‘‘

ارے کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے‘‘

’’بس بس صحیح سمجھی ہو، یہی کیفیت ہے اس لیے چاہے چانسلر کی قصیدہ خوانی کریں چاہے ترکیوں کے حسن پر فریفتہ ہوتے رہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

رہبر صاحب مسکراتے رہے اور میں نے دل سے دعا کی اللہ اس ہنسوں کے جوڑے کو یونہی ہنستا مسکراتا صحت مند رکھنا (آمین)۔

’’ہاں تو ذکر ہو رہا تھا چانسلر صاحبہ کا ایک دلچسپ بات بتاؤں تمہیں کہ ہماری خاتون اول اس رہائش گاہ پر نہیں رہتیں، سوچو ذرا کیوں نہیں رہتی ہوں گی؟‘‘ عشرت نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

میں نے استفہامیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔

’’ان کا جواز ہے کہ ان کے اور ان کے شوہر، دو نفوس کے لیے یہ گھر بہت بڑا ہے اور اس کی دیکھ بھال کرنا ایک علیحدہ ذمہ داری ہو گی، جسے وہ قبول نہیں کرنا چاہتی ہیں۔‘‘

’’تو پھر کہاں رہتی ہیں وہ؟‘‘ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔

’’وہ اپنے اسی فلیٹ میں رہتی ہیں جہاں وہ چانسلر منتخب ہونے سے پہلے رہا کرتی تھیں‘‘ انہوں نے جواب دیا۔

ذکرِ پری رو کو آگے بڑھاتے ہوئے رہبر صاحب گویا ہوئے ’’اور سنیے حیرت انگیز بات ہو گی آپ کے لیے کہ جس جگہ وہ رہتی ہیں اگر بتایا نہ جائے تو کسی کو پتہ بھی نہ چلے کہ اس جگہ ملک کی چانسلر رہتی ہیں۔‘‘ رہبر صاحب نے علم میں اضافہ چونکانے والے انداز میں کیا۔

’’بالکل عام عوام کی طرح وہ ایک بلڈنگ کے فلیٹ میں مقیم ہیں، ان کے گھر کے باہر صرف ایک سنتری ہے جسے آپ حفاظتی دستہ کہیں یا صرف گارڈ کہہ لیں۔‘‘

’’کیا ان کی جان کو یہاں خطرہ نہیں ہوتا، ہمارے ملک میں تو وزیر اعظم ہوں یا صدر یا وزیر اعلیٰ یا کوئی بھی وزیر سب انتہائی حفاظت میں رہتے ہیں بلکہ جب ان کا قافلہ گزر رہا ہوتا ہے تو اس راستے کو بلاک کر دیا جاتا ہے اس وقت تک کے لیے جب تک کہ ان کی گاڑیاں وہاں سے گزر نہ جائیں۔‘‘

’’ایسا نہیں ہے اِن کی بھی حفاظت کی جاتی ہے۔ ان کی گاڑیاں بلیٹ پروف ہی ہوتی ہے لیکن طرز زندگی انتہائی سادہ ہوتا ہے۔‘‘

’اور ہاں ان کی دلوں میں بسنے کے اسباب پر بھی ذرا روشنی ڈال دیجیے‘‘ میں نے رہبر صاحب سے کہا۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ’’انجیلا میریکل نے 22 نومبر 2005 سے اپنے منصب کا آغاز کیا اور وہ اتنی اچھی سیاست داں ثابت ہوئیں کہ مستقل تیسری بار وہ یہاں کی چانسلر منتخب ہوئی ہیں۔ در اصل انہوں نے جرمنی کی ترقی پر اپنی تمام تر توجہ رکھی، جس وقت وہ پہلی بار منتخب ہوئی تھیں یہاں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 6 ملین لوگ بے روزگار تھے۔ انہوں نے اس طرف توجہ دی اور اب وہ تعداد گھٹ کر ایک ملین رہ گئی ہے۔ ظاہر ہے جب جاب کے مواقع بڑھے، لوگوں کو روزگار ملا خوشحالی، امن و چین تو ہونا ہی تھا اور انہی کی محنتوں کا نتیجہ یہ رہا کہ جرمنی کا شمار امریکہ اور چین کے بعد دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ممالک میں ہونے لگا اور مزید طرہ یہ بھی ہے کہ جرمنی یورپی سب سے امیر ملک ہے۔ جو روزگار دے اس کے حق میں فطری طور پر دعاؤں کے لیے بے شمار ہاتھ اٹھیں گے ہی نا۔‘‘

ان کے لیے دعا کے ہاتھ تو یوں بھی اٹھنا ہی تھے کہ یہ واحد ملک ہے اور یہ واحد عظیم خاتون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے غیر ملکی پریشان حال مسلم مہاجرین کے لیے اپنے ملک کے دروازے وا کیے۔ انہیں سیاسی پناہ دی اور مہاجرین کی جتنی مدد ممکن تھی وہ بھی کی۔

انجیلا میریکل جرمنی کی خاتون اول۔ میرے ذہن میں لفظ خاتون اول بازگشت کرتا رہا اور میری سوچوں کو خاندان غلاماں تک لے گیا۔ خاندان غلاماں کی وہ بیٹی بھی تو خاتون اول تھی جسے دنیا رضیہ سلطان کے نام سے جانتی ہے۔ جس نے اپنی فہم و فراست سے اپنے باپ سلطان التمش کا دل یوں جیتا کہ اس نے آٹھ بیٹوں پر اپنی ہونہار بیٹی کو ترجیح دے ڈالی اور اسے اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ سلطان کو اپنی بیٹی پر بہت اعتماد تھا، وہ اس کی صلاحیتوں کو بہت پہلے جان چکا تھا، اسی لیے اس نے اپنی بیٹی کی پرورش الگ ڈھنگ سے کی تھی، اسے تعلیم کے ساتھ گھڑ سواری، تلوار بازی اور دیگر ہنروں میں بھی ماہر کیا تھا۔ سلطان التمش نے جب اس ہو نہار بیٹی کو حکومت سونپنے کا فیصلہ کیا تو ترک اشرافیہ نے اسے قبول کرنے میں تردد کیا۔

دربار میں کھسر پھسر ہونے لگی، رعایا بھی حیران!

عالم پناہ نے یہ کیسا فیصلہ کیا، سب طرف بے چینی تھی۔

ایک عورت اور وہ بھی حکمراں! نا قابل قبول!!! لیکن لبوں کو جنبش دینے کی جسارت کسی میں نہیں تھی۔

سلطان التمش کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی اس کے فیصلے کو نظر انداز کر دیا گیا، پدری سماج مرد اساس سماج کہاں مانتا کہ ایک عورت حکومت کرے لہٰذہ شہزادہ رکن الدین کی تاجپوشی کر دی گئی لیکن جلد ہی شہزادے کی نا اہلی نے ثابت کر دیا کہ سلطان التمش کا فیصلہ درست تھا۔ نتیجتاً 1236 ء میں ہندوستان کی تاریخ نے اپنے پنوں پر ایک سنہری تاریخ رقم کی جس میں درج کیا گیا کہ اس عظیم الشان سلطنت کے بوجھ کو صنف نازک کے کاندھوں کی ضرورت ہے، اور کئی فیصلے اس کی مخروطی انگلیوں کی جنبش کے منتظر ہیں، یوں رضیہ سلطان دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہونے والی خاتون اول رہیں۔

اور پھر یوں ہوا کہ دربار میں رضیہ سلطان جب قدم رنجہ ہونے لگیں تو راہداریوں میں حاجب کی آوازیں گونجنے لگیں ’’با ادب با ملاحظہ ہوشیار، ملکہ عالیہ دیوان خاص میں تشریف لا رہی ہیں۔‘‘

حسن و جمال ذہانت و ذکاوت کے پیکر کے قدم پر وقار انداز میں دربار کی طرف بڑھ رہے تھے، دربار میں موجود لوگوں کی نگاہیں ورطہ حیرت میں ڈوب گئیں کہ یہ سامنے کیسا منظر ہے، کئی ایک نے تو آنکھیں مل ڈالیں۔ رضیہ کے چہرے کی نقاب ہٹی ہوئی تھی، حسنِ بے پایاں جلوہ افروز تھا، لباس مردانہ مگر پر وقار تھا، رعب ایسا کہ وزراء اور امراء کی نظریں قدم بوسی سے بلند ہونے کی جسارت نہ کر سکیں، تمام درباری کورنش بجا لائے، وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی تخت نشین ہوئیں اور فرمان جاری کیا کہ ’’انہیں سلطانہ کہہ کر مخاطب نہ کیا جائے بلکہ سلطان کہا جائے‘‘ دربار پر سکوت چھا گیا۔ کچھ نگاہوں میں تحیر، کچھ میں ستائش تو وہیں کچھ نظروں میں چبھن بھی محسوس ہوئی۔

رضیہ سلطان کا خیال تھا کہ سلطانہ چونکہ سلطان کی بیوی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور چونکہ وہ خود حکمراں ہیں تو وہ سلطانہ کیوں کہلائیں، دلیل معقول تھی۔

سیاسی سوجھ بوجھ اور اپنی ذکاوت سے رضیہ سلطان نے ملک میں پھیلی ہر بغاوت کو کچلا، سازشوں کو ختم کیا، امن و امان کو قائم کرنے کی بھی کوششیں کیں، اقتصادی طور پر بھی ملک کے حالات سدھارنے کی کاوشیں کیں لیکن جب ضرورت پڑی اور جنگ ناگزیر ہوئی تو جنگی لباس زیب تن کر تلوار بھالے لے کر میدان جنگ میں بھی اتر پڑیں۔ دشمنوں نے ان کی تلوار کی کاٹ پر دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں، کبھی فتح مقدر بنی تو کبھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس طرح یہ بہادر خاتون اول حکمراں نے رعایا کو نہ صرف اپنا گرویدہ بنا لیا بلکہ اپنا رعب بھی قائم کر لیا۔ رضیہ سلطان نے خود کو سلطان بھی کہلوا لیا، رعایا کے دل میں جگہ بھی بنا لی، حکومت کی عناں بھی سنبھال لی، لیکن دل کی عناں کسی اور کے ہاتھوں میں سونپنے کی خطا کر بیٹھی، کمزور لمحوں میں سلطان التمش کے سب سے قیمتی نگینے نے یاقوت کی تمنا کر ڈالی۔ کئی حکمراں جو اس کی رفاقت کے متمنی تھے ان پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔ انہی عاشقان کی فہرست میں بھٹنڈہ کا حاکم ملک التونیہ بھی شامل تھا۔ وہ تو جذبہ رقابت میں گھرِ گیا، اس کے لیے جمال الدین عرف یاقوت جو کہ ایک حبشی غلام تھا، رقیب رو سیاہ بن گیا تھا۔ اس نے دہلی پر حملہ کرنے کی ٹھانی۔ رضیہ سلطان بھی اپنے محبوب یاقوت کے ساتھ لشکر لے کر ملک التونیہ کا سامنا کرنے نکل پڑی اور اس معرکہ میں نہ صرف اپنی محبت گنوا بیٹھی بلکہ اس کی خود کی جان بھی خطرے میں پڑ گئی جس کی وجہ سے اس نے التونیہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی دوران دہلی پر اس کے بھائی نے قبضہ کر لیا۔ رضیہ سلطان نے ملک التونیہ کے ساتھ دہلی پر ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ حملہ کیا۔ اپنی کھوئی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرنا اس کا خواب تھا جو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ دوسری مرتبہ شکست کا سامنا کرنے کے بعد التونیہ اور رضیہ نے تھکے ہارے گھوڑوں کو اور خود کو آرام دینے کی غرض سے ایک سایہ دار شجر کے نیچے پناہ لی، ابھی وہ آرام کر ہی رہے تھے کہ ایک انجان شخص نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا، جسے تھکن اور بھوک سے نڈھال التونیہ اور رضیہ نے بلا کسی تردد و تکلف کے تناول کر لیا اور یہی کھانا ان کا رزق آخر بنا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ کھانا ہی ان کی موت کا سبب بنا۔

تیرھویں صدی کی خاتون اول اور اکیسویں صدی کی خاتون اول کا کوئی مقابلہ نہ تھا لیکن خاتون ہونے کی اہمیت بر قرار تھی۔ چانسلر جرمنی اور رضیہ سلطان۔ ایک نے وراثت میں تخت پایا تو دوسری نے ووٹوں سے۔ چانسلر جرمنی نے بھی اپنی فہم و فراست کا لوہا منوایا اور تخت شاہی پر بحیثیت حکمراں براجمان ہونے والی رضیہ سلطان نے بھی اپنی خوبیوں سے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ فرق صرف یہ رہا کہ فتح و کامرانیوں کے باوجود تیرھویں صدی کی یہ عورت سب سے بڑے عہدے پر پہنچنے کے باوجود اس مشرقی ذہنیت کو بدلنے میں ناکام رہی کہ مرد اساس معاشرہ ایک عورت کی حکمرانی کو قبول کر سکے لیکن اکیسویں صدی کے آنے تک یہ سوچ بدل گئی اور مرد نے کھلے ذہن کے ساتھ خاتون کی حکومت کو خندہ پیشانی سے قبول کر لیا۔

میری سوچ کا دائرہ پھیل رہا تھا کہ عورت کو نصف جہاں کیوں کہا جاتا ہے؟ وہ تو کل کائنات ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب وہ رب کائنات کے سب سے اہم کام یعنی تخلیق میں معاون ہے تو نصف جہان کیسے ہوئی؟ خدا نے جہان بنا دیا، اس میں آدم اور حوا کو بسا دیا، پھر کیا ہوا؟ اس کے بعد ساری دنیا میں اولاد آدم کی افزائش تو اس نے خواتین کے ذمے کر ڈالی یعنی اشرف المخلوقات کہہ کر عورت کو بر تری دے دی، دونوں میں سے عملی طور پر خود کے کاموں کے لیے تو عورت کو منتخب کیا یعنی رب نے اپنے اس عمل سے بتا دیا کہ عورت ہی ہے جو اس دنیا کی ترقی و ترویج کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی خوبصورت مثال جرمنی کی چانسلر انجیلا میریکل ہیں تو رضیہ سلطان بھی ہیں۔

’’کہاں کھو گئیں؟‘‘ عشرت نے میرا شانہ ہلایا تو میں چونک کر دہلی کے دربار، وہاں کی سازشوں، محبت کے انجام اور عورت کے مقام سے باہر نکل برلن میں حاضر ہو گئی۔

اب ہم لوگ ٹی وی ٹاور کے پاس ایک بڑے سے پارک میں تھے جہاں سے کلاک ٹاور اور ایک چرچ نظر آ رہا تھا۔ پارک کے بیچوں بیچ بڑے خوبصورت مجسمے بنے ہوئے تھے۔ مجسمہ سازی یہاں کی ہر عمارت کی خوبی تھی، کوئی بھی عمارت ایسی نہ تھی جہاں مجسمے نہ ہوں اور وہ بھی اتنے خوبصورت کہ دیکھتے ہی دل عش عش کر اٹھے۔ واقعی یہ حضرت انسان بھی کیا چیز ہے جہاں اس نے اپنے ہنر کو آزمایا ہے وہاں ایسا عروج بخشا ہے کہ دیگر دنیا انگشت بدنداں ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی شاید اسی کو کہتے ہیں کہ ہنر وہ جو مٹی کو سونا کر دے۔ بڑے بڑے مجسمے ہلکے ہرے رنگ کے یا پھر مٹی کے رنگ کے تھے۔ چرچ اسی طرز کا یعنی جھونپڑی نما چھت سا جس کے دائیں جانب ایک مینار تھا، اس کے نیچے کی طرف ہلکا پیلا یعنی سنہرا رنگ تو اوپری حصے پر ہلکا ہرا رنگ تھا جو بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ہم لوگ سیر کرتے ہوئے تھک گئے تھے، تھوڑا سستانے کی غرض سے درمیان کے فوارے کے آس پاس لگی بینچوں میں سے ایک پر بیٹھ گئے، یہاں ہمیں اپنے سامان پرس وغیرہ کا خاص خیال رکھنا تھا کیونکہ ذرا سی لاپرواہی ہمارے پرس کو نظروں سے اوجھل کر کے ہمارے لیے بڑی مصیبت کا پیش خیمہ بن سکتی تھی۔ سامنے ایک شخص پانی کے بلبلے بنا کر ہوا میں اڑا رہا تھا۔ یہ پانی کے بلبلے بہت بڑے بڑے تھے، وہ حباب جیسے ہی ہوا میں جاتے سورج کی شعاعیں ان پر پڑتیں اور قوس قزاحی رنگ ان میں نظر آنے لگتے۔ ان بلبلوں کو یوں ہوا میں اڑتا دیکھ کر مجھے ایان مشا بہت یاد آئے۔ ابھی وہ ہوتے تو کتنا خوش ہوتے اور ان اڑتے بلبلوں کو پکڑنے کے لیے دوڑتے کیونکہ یہ ان کا پسندیدہ کھیل ہے، ہم جب بھی حضرت گنج کی طرف جاتے یا کہیں بھی بچوں کو تفریح کی غرض سے لے کر جاتے تو چھوٹے بڑے بلبلے بیچنے والے ضرور مل جاتے اور ہم انہیں خریدتے بھی تھے کیوں کہ اسے اڑاتے ہوئے بچوں کے چہروں پر جو خوشی نظر آتی تھی وہ خون بڑھا دینے کے ٹانک کی طرح ہوتی تھی اور یہ بلبلے تو سائز میں بہت ہی بڑے تھے۔۔ عشرت میری کیفیت کو سمجھ رہی تھیں توجہ دوسری طرف مبذول کروانے کی غرض سے کہنے لگیں۔ ان پانی کے بلبلوں کو دیکھ کر میر یاد آ رہے ہیں

یاد ہے میر تقی میر ان بلبلوں کے لیے کیا خوب فر ما گئے ہیں:

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

مجھے بھی ان بلبلوں کو دیکھ کر امجد حیدرآبادی کی رباعی یاد آ گئی۔

کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے

مانند حباب ابھر کر اتراتا ہے

کرتے ہیں ذرا سی بات پر فخر خسیس

تنکا تھوڑی سی ہوا سے اڑ جاتا ہے

رہبر صاحب کہاں پیچھے رہنے والے تھے

سنیے مصحفی بھی کچھ یوں کہہ گئے ہیں

نازک ہے میرا شیشہ دل اس قدر کہ بس

مثل حباب پھوٹ گیا گر ہوا لگی (مصحفی)

وہاں کچھ دیر سستانے کے بعد ہم لوگ اس چرچ کو دیکھنے کے لیے چل پڑے جسے برلن ڈوم کہا جاتا ہے، یہ وہ چرچ ہے جس کی تعمیر کا سلسلہ صدیوں چلا ہے اور آج ایک شاندار شکل میں ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ چرچ کے گیٹ کے سامنے ایک بزرگ خاتون کھڑی تھیں، سرخ و سفید رنگت، چھوٹا قد، فربہی مائل جسم چہرے پر متانت، سفید شرٹ، کالی لمبی اسکرٹ اس پر کالا ہی کوٹ سر پر سفید ٹوپی، ہاتھ میں آبنوسی چھڑی ویسی ہی جیسی ہمارے یہاں بزرگ استعمال کرتے ہیں، اس شخصیت میں ایک کشش تھی اور وجہ کشش تھی ان کی مسکراہٹ۔ جب انہوں نے مسکرا کر جرمن زبان میں خوش آمدید کہا یوں لگا کہ اصغر گونڈوی نے انہی سی محبوبہ کو دیکھ کر کہا ہو گا۔

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی

یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

میں ابھی انہی کا جائزہ لے رہی تھی یا یہ کہیے کہ محو تھی سحر بزرگاں میں کہ عشرت نے پرس سے ایک یورو نکال کر ان کے ہاتھ میں جو ایک چھوٹا سا سفید گلاس نما برتن تھا اس میں ڈال دیا۔

میں نے ان کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔

انہوں نے کہا ’’یہ فقیر ہیں۔‘‘

’’فقیر!!!‘‘میں نے حیرانی سے کہا۔

’’جی میڈم‘‘

’’فقیر اتنے اچھے ہوتے ہیں کیا، اتنے صاف ستھرے، ان کے پہناوے کو دیکھیے اچھے اچھے سلیقہ مندوں کو مات دے دیں۔‘‘

’’فقیر کے نام پہ تمہیں اپنے یہاں کے فقیر یاد آ گئے ہوں گے؟‘‘

’’اور نہیں تو کیا۔ میں نہیں مانتی کہ یہ خاتون فقیر ہیں۔‘‘

فقیر یعنی کیا ہوتا ہے فقیر تو وہ ہوتے ہیں جن کے شانوں پر بکھرے گندے بال، میلے کچیلے پھٹے کپڑے، بے رونق چہرے، ہزاروں شکنیں، بھوک سے نڈھال، جسم مدقوق، نحیف و نزار، دیکھتے ہی رحم، نفرت اور نجانے کیا کیا خیالات آئیں، جب بھی کسی تفریحی مقام پر جاؤ ان کا جمگھٹ مل جاتا۔ اس لیے اتنی اچھی خاتون کو میرا دل کسی بھی طرح فقیرنی ماننے کو تیار نہیں تھا، مجھے میر امن کی باغ و بہار کا وہ دوسرا درویش جو کہ ملک فارس کا شہزادہ تھا، کے بتائے ’فقر‘ کے معنی یاد آ گئے جوا س نے اس فقیر کو کہے تھے جو اس کی سخاوت کا امتحان لینے نکل پڑا تھا۔ چالیس دروازوں سے خیرات لینے کے بعد جب وہ دوبارہ پہلے دروازے پر چلا آیا تھا تب درویش کا صبر جواب دے گیا اور اس نے اس فقیر کو ’فقر‘ کے معنی سمجھا دئیے تھے کہ ’ف ‘سے فاقہ، ’ق‘ سے قناعت اور ’ر‘ سے ریاضت۔ لیکن یہ تنومند خاتون اپنی مسکراہٹ کی وجہ سے ’ق ‘سے قناعت والے معنی پر تو اترتی نظر آئیں لیکن باقی دو حرف ان کی صحت اور گالوں کی سرخی کے سامنے اپنے معنی کی نفی کر تے نظر آ رہے تھے۔ رہبر صاحب نے لفظ فقیر کے معنی میں ’ی‘ لفظ یاد الٰہی بھی شامل کر کے اسے مکمل کر دیا خیر میں نے تو بڑی خوشی سے اس گریس فل لیڈی عرف فقیرنی کے ساتھ تصویر بنوائی جس پر وہ بھی بہت خوش ہوئیں اور موبائل میں تصویر دیکھنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ جب عشرت نے انہیں تصویر دکھائی تو انہوں نے جرمن زبان میں نجانے کیا کہا، وہ تو رہبر صاحب نے زور سے آمین کہا تب مجھے سمجھ میں آیا کہ دعائیں دی گئی ہیں۔

اور پھر میرا سوال کرنا تو لازم ہی تھا کہ ’’کیا دعائیں دیں ان محترم خاتون نے؟‘‘

’’وہی جو ہمارے یہاں بھی دی جاتی ہیں کہ ’’سلامت رہو، دونوں یونہی ہنستی رہو‘‘ میں نے بھی کہا آمین یا رب العالمین۔

اس صحت مند بزرگ خاتون کو چرچ کے گیٹ پر یوں کھڑا کر کے نجانے کونسی روایت کی پاسداری کی جا رہی تھی وگرنہ جرمنی میں کسی کا خیرات مانگنا نا ممکنات میں سے ہے بلکہ سختی سے منع بھی ہے۔ یہ تو وہ ملک ہے جس کی محنتی قوم نے اپنے دست و بازو پر ہی بھروسہ کیا ہے نہ کہ دست دراز کرنے پر۔ یہاں تو مہاجرین تک کو گورنمنٹ نہ صرف ماہانہ خرچہ دیتی ہے بلکہ ان کے مکانات کا کرایہ تک ادا کرتی ہے۔ یہاں مزدوروں، ریسٹورینٹ میں کام کرنے والے بیروں تک کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ان کے ساتھ محبت بھرا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ مالک اور مزدور کے حقوق بھی تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں۔ غریبی اور بھیک مانگنے جیسی حالت کا تو یہاں تصور ہی نہیں ہے۔ خیر ہمیں کیا ان کا ملک جو چاہے کریں، چرچ کے دوار پر فقیر کھڑا کریں چاہے امیر۔

چرچ کے اندر داخل ہوتے ہی نیا منظر سامنے تھا ایک وسیع و عریض ہال تھا۔ سفید اونچے اونچے محراب دار ستون، منقش در و دیوار، چھت پر عالیشان فانوس جگمگا رہے تھے، دونوں طرف بہت عمدہ لکڑی کی بے شمار بینچیں لگی ہوئی تھیں، سامنے پانچ سیڑھیاں جو شہ نشین کی طرف لے جا رہی تھیں، جہاں دائیں بائیں دونوں جانب لکڑی کی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، بیچ میں حضرت عیسیٰ کا سفید چھوٹا سا مجسمہ تھا عقب میں انہی کی تصاویر، دونوں جانب کی دیواروں پر بھی چھوٹے بڑے مجسمے آویزاں۔ بڑی بڑی موم بتیاں اسٹینڈ پر کھڑی تھیں۔ بائیں جانب گھماؤ دار چھوٹی سکڑی سیڑھیاں جو اوپر کی طرف جا رہی تھیں، ان کی خوبصورتی دیکھنے لائق تھی۔ یہ ہال جہاں اپنی خوبصورتی میں ثانی نہیں رکھتا وہیں جو کیفیت اسے دیکھ کر دل پر طاری ہوئی جا رہی تھی اسے بھی سپرد قلم کرنا مشکل ہوا جا رہا ہے، عجب روحانی فضا تھی۔ میرا خیال ہے کہ ہر وہ مقام جہاں بندہ تلاش خدا میں جاتا ہے وہ جگہیں مقدس تو ہوتی ہیں، وہاں نور کی بارشیں بھی ہوتی ہیں، تشنہ روحیں سیرابی پاتی ہیں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ خدا تو دل میں بستا ہے یہ جگہیں تو بس خود ہی کی تلاش کی مظہر ہیں۔ سچ ہی تو کہا ہے میر نے

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں

معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

ہم تینوں لکڑی کی بینچوں پر خاموش بیٹھے تھے یہ وہاں کی فضا کا اثر تھا۔ میں سکڑی سیڑھیوں اور وہاں پر ایستادہ مجسمے کو دیکھ رہی تھی۔ عبد الحلیم شرر نے اپنے کئی ابتدائی تاریخی ناولوں میں جو والٹر اسکاٹ کے ناولوں کے جواب میں لکھے ہیں، ان میں نن اور فادرس کے ذریعے ان مقدس مقامات کی بے حرمتی کی داستانیں رقم کی ہیں وہیں وحید قمر صاحب کا افسانہ قہر بھی یاد آیا جس میں ایک لڑکی جو چرچ میں فادر سے ملنے کے لیے آتی ہے اور اسی وقت تیز بارش ہونے کی وجہ سے اسے وہاں رکنا پڑتا ہے، اس کے ذہن میں فادر کے لیے عزت و احترام ہے لیکن فادر کی آنکھوں میں ہوس ہے، وہ اس کی عزت پر حملہ کرتا ہے، لڑکی اپنی جان اور عزت بچانے کے لیے بھاگ کر سیڑھیوں پر چڑھتی ہے لور اسی وقت قدرت جوش میں آتی ہے، سیلاب آ جاتا ہے اور فادر اس سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔ میرا ذہن چرچ کو لے کر کئی مثبت اور منفی خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ میں ماضی کے دھندلکوں میں کھوئی ہوئی تھی اور عشرت اپنے ہمزاد کی تلاش میں۔ اور یوں انہوں نے وہاں سے آنے کے بعد ایک افسانہ ’ہمزاد‘ لکھ ہی ڈالا۔

چرچ دیکھنے کے بعد ہم برانڈن بورگ گیٹ دیکھنے گئے۔ براڈنبرگر گیٹ برلن کی شان ہے، یہ برلن کی پہلی جگہ تھی جہاں میں نے بھیڑ بھاڑ دیکھی، سیاحوں کا ہجوم دیکھا۔ مقامی لوگ بھی یہاں بڑی تعداد میں تھے چونکہ موسم میں ہلکی گرمی تھی جو کہ یخ بستہ ممالک میں رہنے والوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی اس لیے یہاں مجھے یوروپ کا وہ انداز بھی نظر آیا جو ہمارے لیے معیوب ٹھہرتا ہے یعنی عریانیت۔ چست چست اور چھوٹے چھوٹے لباس، باریک جھینے جھینے سے بلاؤز، ایک دم جسم کو کس دینے والی ہاف پینٹ، چاروں طرف وہ نظارے تھے جو عورت کی حرمت کو پامال کرنے کے مغربی دنیا کے ہتھکنڈے ہیں۔

موسم بے حد خوشگوار تھا۔ ہلکے ہلکے ہوا کے جھونکے، نیلے آسمان پر سفید سفید بادل، ان بادلوں کو چھوتا یہ گیٹ جس پر وہی مخصوص ہلکے ہرے رنگ کی ایک گھوڑا گاڑی جس پر چار گھوڑے جتے ہوئے اس پر کسی بادشاہ کا مجسمہ سلامی لیتا ہوا اور اس کے عقب میں شاہی علامتی الم بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ گاڑی آسمان سے اتر آئی ہے۔ برانڈن بورگ گیٹ عظیم الشان گیٹ جس کی تعمیر 1788 سے 1791 کے درمیان پروشین بادشاہ فریڈرک ولیم دوئم نے کروائی تھی، جرمنی کی ایک طویل تاریخ کا گواہ رہا ہے۔ اس کے ستون، ستون پر کھڑی گھوڑا گاڑی اور اس پر سوار حکمراں یہ سب دیکھتے رہے خاموشی سے بدلتے وقت کے ہر خوشی اور غم کے نظاروں کو اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی معنویت بھی بدلتی گئی۔ جب اس گیٹ کی تعمیر کی گئی تب یہ امن، شانتی اور تحفظ کا علم بردار تھا۔ وقت بدلا اور نیپولین نے اسی دروازے سے داخل ہو کر فتح پائی تو یہ ’فتح کا دروازہ‘ کہلانے لگا لیکن یہ زمانہ بھی جلد ہی تاریخ کا صفحہ بن گیا۔ 1813ء میں جب جرمن حکومت قائم ہوئی تب یہ ’آزادی کا دروازہ‘ کہلایا اور پھر جب حیوانی حکمراں ہٹلر نے 1933ء میں اس شہر کے تقدس کو پامال کر کے شیطانی قوت اور سفاکیت کا مظاہرہ کیا تب یہ ’غلامی اور بے بسی کا دروازہ‘ بن کر رہ گیا۔ اُس وقت یہ انسان کی سنگ دلی پر خود کو سنگ کہے جانے پر شرمندہ سا تھا، اس کے ستون بے آواز رو پڑے تھے۔ اسی نے تو عوام کی غلامی کو بھی اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھا تھا، اس کی پتھر آنکھوں نے تو تقسیم بھی دیکھی اور پھر اس منقسم شہر کو پر مسرت نگاہوں سے ایک ہوتا بھی دیکھا، اس نے جرمنی کو دونوں جنگ عظیم میں شکست خوردہ زخمی بھی دیکھا اور پھر ایک نئے عزم کے ساتھ اسے دنیا کا تیسرا امیر ترین، ترقی یافتہ ملک بنتا ہوا دیکھ کر اب فخر سے سر اونچا کیے اتراتا بھی ہے۔ یہ کھڑا ہے صدیوں سے یونہی اپنی عظمت اور شان کے ساتھ اور نجانے کتنی صدیوں تک رہے گا اور ہم بھی اسے یوں سر اٹھا کر دیکھ کر اچھا ہی محسوس کر رہے تھے گو کہ اسے دیکھ کر یاد آ گیا تھا سلطنت عثمانیہ ترکی کے باب ہمایوں کی طرز پر تعمیر کیا گیا لکھنؤ کا وہ دروازہ، جی وہی دروازہ جسے آصف الدولہ نے 1784ء میں بنوایا تھا۔ بلند و عالی شان دروازہ جو ’رومی دروازہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے در و دیوار کی نقاشی، اس کی محرابیں، طاقیں جو اس کی اصل خوبصورتی ہیں اسے پر شکوہ بناتی ہیں۔ ویسے سچی بات بتاؤں اس برانڈن بورگ گیٹ سے زیادہ خوبصورت مجھے تو اپنا رومی دروازہ ہی لگا۔ یہ دروازے بھی نا کیسے کیسے نشان عظمت ہیں، ہر جگہ ان کی اپنی اہمیت ہے۔ ان کی اپنی قدریں ہیں یہاں دیکھ کر ایسا لگا کہ یوروپ ہو کہ بر صغیر انسان تو وہی ہے نا اپنی عظمت اور شان بتانے والا، اپنے منصب اور اقتدار کی علامتیں قائم کرنے والا۔ وہ چلا جاتا ہے تو یہ نشانیاں یاد رہ جاتی ہیں ورنہ تو یہ دنیا صرف عبرت کی ہی جگہ ہے جیسا کہ خدائے سخن میر کہہ گئے: ۔

لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو

قضاء کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو

برانڈن بورگ گیٹ کے قریب میں سونی سینٹر تھا جو کہ جدید تعمیر کے لحاظ سے دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اسے دیکھنا اس کے متعلق جاننا بھی دلچسپ لگا کیونکہ برلن ایک ایسا شہر ہے جسے قدیم و جدید عمارتوں کا سنگم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جو قدیم عمارتیں ہیں وہ اتنی قدیم تر ہیں کہ انہیں جاننے کے لیے تاریخ کے بہت سارے زرد اوراق پلٹنا ہوتے ہیں اور پورے عالم کا ذکر اس میں سما جاتا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا گواہ بھی تو یہی شہر ہے لیکن کیا خوب شہر ہے بھئی اتنا مضبوط قوام کا شہر کہ اس نے اپنے سینے پر کھائے ہر داغ کو بھی سہج کر رکھا ہے ورنہ ہوتا تو یوں ہے کہ زخم کے مندمل ہو جانے کے بعد اس کو بھلانے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ یہاں کی طرح اسے تازہ رکھا جاتا ہے۔ کسی زخم کے کھرنڈ کو بار بار کریدنے کی اذیت سے گزرنے کی طاقت ہر کسی میں نہیں ہوتی لیکن شاید یہاں کے مکین اسی سے نئی توانائی پا لیتے ہیں شاید ان کے خون جگر کو یہ ایک نیا جوش عطا کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں نظر آتی ہیں یہ جدید عمارتیں۔ ’’آباد ہے ایک تازہ جہاں تیرے ہنر میں‘‘ سونی سینٹر مجھے تو اقبال کے اسی خیال کا مظہر لگا۔

اب میرے میزبان مجھے اس کی تاریخ سے روشناس فرما رہے تھے کہ ’’یہ جو جگہ آپ کی نگاہوں کا مرکز بنی ہے یہ تقریباً 26000 اسکوئیر کے پلاٹ پر محیط ہے اور یہ شکاگو کے مشہور و معروف مرفی بلڈنگ کے مینیجنگ ڈائیریکٹر کا کارنامہ ہے انہوں نے سات عمارتوں پر مشتمل ایک کمپلیکس اس طرح تیار کیا ہے۔

’’واقعی یہ کمپلیکس تو بڑا خوبصورت ہے۔‘‘

’’جی ہاں، حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف تین سال میں اتنے بڑے پروجیکٹ کو تیار کر لیا گیا۔ اس کمپلیکس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک تفریح گاہ بھی ہے، رہائش گاہ بھی ہے اور اس میں مختلف دفاتر بھی ہیں۔‘‘

یہ کمپلیکس سہ رخی شکل میں تھا، اس مثلث میں سب سے اونچی عمارت ایک سو تین میٹر اونچی تھی جسے جرمن ریلوے ٹاور کہا جاتا ہے۔ وہیں پر جرمن ریلوے کا دفتر بھی تھا۔

اس سونی سینٹر میں بھی ہمیں فرش پر وہ علامات واضح نظر آئیں جو یہ بتاتی ہیں کہ پتھر دل لوگوں نے پتھر کی دیوار یہاں سے بھی گزاری تھی۔ حیرانی ہوتی ہے جرمنوں پر کہ انہوں نے اس دیوار کو یوں یاد رکھا ہوا ہے۔ آخر وہ اس تلخ حقیقت کو بھلا کیوں نہیں دیتے؟ کیا بھلانا ان کے لیے نا ممکن ہے؟ کیا وہ بے بس ہیں ندا فاضلی کی طرح؂

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ درد ٹھہر گیا ہے یا انہوں نے اسے ٹھہرا لیا ہے۔

ابھی میں یہ سوچ ہی رہی تھی کہ عشرت نے ایک بڑا دلچسپ واقعہ سنایا کہ ’’یہاں پر پہلے ایک تاریخی میوزیم بھی تھا۔‘‘

’’اوہ! تو کیا اسے مسمار کر کے یہ بلڈنگ بنائی گئی ہے؟‘‘ میرے لہجے میں تاسف اتر آیا تھا۔

’’نہیں یہی تو خاص بات ہے یہ تو وہ قوم ہے جو ایک درخت بھی اگر راہ میں حائل ہو تو اسے نہیں کاٹتی، بھلا ایک میوزیم کیا گراتی؟‘‘

’’پھر کیا ہوا اس میوزیم کا، کیا وہ اب بھی یہاں ہے؟‘‘

’’نہیں اس کے لیے ماہرین کا ایک پینل سر جوڑ کر بیٹھا اور حل ڈھونڈنے لگا کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘

’’پھر کیا ہوا سانپ کیسے مرا؟‘‘ میرے بیچ میں یوں تجسس سے سوال پوچھ لینے پر عشرت ہنس پڑیں اور میں جواب سن کر ان جرمنوں کی عقل پر عش عش کر اٹھی۔

’’وہ ایسی جدید تکنیک سے مرا جس کی مدد سے اس میوزیم کو کھسکا کر آگے بڑھا دیا گیا۔‘‘

’’آگے بڑھا دیا گیا پوری بلڈنگ کو!! ارے کوئی ٹیبل کرسی تھی کہ کھسکا دی گئی میں نہیں مانتی، آپ لوگ تو بس یونہی بے وقوف بنا رہے۔‘‘

’’اب اللہ نے جو آپ کو بنا دیا ہم اس میں دخل اندازی تھوڑی نہ کرنے کے‘‘ زیر لب ادا کیا گیا جملہ میرے کانوں میں پڑ چکا تھا، میں ہنس پڑی عشرت نے فوراً آنکھیں دکھائیں، آخر ان کی دوست کے لیے بھلا وہ کہاں کچھ برداشت کر سکتی تھیں۔

’’ارے سچ میں ایسا ہی ہوا ہے، جرمنی کے ایک دوسرے شہر میں تو ایک پورے چرچ کو اٹھا کر دوسرے مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔‘‘

میں سوچ رہی تھی لو جی میوزیم تک تو ٹھیک تھا چرچ بھی! یہ سب خاموشی سے ہو گیا ہمارے ملک میں تو نجانے کتنی جانوں کی قربانیاں دے دی جاتیں تب بھی کسی عبادت گاہ کو منتقل کرنا آسان نہ ہوتا، واقعی ترقی یافتہ قومیں کچھ منفرد سوچ رکھتی ہیں تب ہی تو وہ اتنا آگے ہیں۔

آج ہی شام ہم مدعو تھے سرور غزالی صاحب کے گھر۔ سرور غزالی صاحب ایک کہنہ مشق شاعر اور بہترین افسانہ نگار ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے اور دو ناول منظر عام پر آ کر ان کے قلم کو منوا چکے ہیں۔ سرور غزالی صاحب کی رہائش گاہ ویڈنگ علاقے میں تھی جہاں ایک بڑی تعداد میں غیر ملکی آباد ہیں اس لیے اس علاقے سے گزرتے وقت یہاں کی فضاؤں میں دوستی کی مہک زیادہ محسوس ہوئی۔ جب سب ہی غریب الدیار ہوں تو ایک دوسرے کی کیفیت دل اور مسائلِ زندگی بھی یکساں ہو جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ زندگی گزارنا بھی آسان ہو جاتی ہے۔ ویسے تو یہ پورا ملک ہی اس معاملے میں بہت بڑے دل کا مالک ہے کیونکہ جب بھی کہیں کسی بھی ملک نے کسی کو ہجرت پر مجبور کیا ہے تو سب سے پہلے اسی ملک کے حکمرانوں نے ان کے لیے دروازے کھولے ہیں اور یہاں کے مکینوں نے دل کے در وا کیے ہیں۔ اسی کا مظہر یہ علاقہ بھی ہے۔ سرور صاحب کے گھر جب ہم پہنچے ڈور بیل کی آواز پر ان کی بیگم نے دروازہ کھولا۔ پر تپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔ عشرت اور رہبر صاحب تو ان کے گھر ہی کے ممبر تھے لیکن مجھے بھی ایسا لگا کہ میں اپنے ایک گھر یعنی عشرت کے گھر سے نکل کر اپنے ہی کسی دوسرے عزیز کے یہاں آ گئی ہوں۔ پر تکلف عشائیہ بڑے خوش گوار ماحول میں تناول کیا، بعد ازاں باتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ سرور غزالی صاحب بھی یہاں ایک اردو تنظیم کے بانیوں میں سے ہیں۔ جس کا نام ’بزم ادب برلن‘ ہے۔ اس کے صدر تو حیدر علی وفا صاحب ہیں اور سیکریٹری یا یہ کہیے کہ روح رواں سرور غزالی صاحب ہی ہیں۔ یہ تنظیم انہی کی بدولت اردو کے فروغ میں پوری طرح فعال ہے۔ اس میں گاہے بگاہے ادبی پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ میں اپنی کتاب ’’حیات اللہ انصاری: شخصیت اور ادبی کارنامے‘‘ ساتھ لے کر گئی تھی جسے ان کی خدمت میں پیش کیا۔ انہوں نے مجھے اپنا افسانوی مجموعہ ’’بھیگے پل‘‘ عنایت کر کے ملاقات کے ان پلوں کو یادگار بنا دیا۔ یوں ہم بہت ساری محبتیں اور افسانے سمیٹ کر وہاں سے واپس ہوئے۔ ان کے بیگم کے خلوص نے متاثر ہی نہیں یوں کہیں کہ محبتوں سے مقروض ہی کر دیا۔ خدا سلامت رکھے ادب کے ان خدمت گزاروں کو۔

٭٭٭

شکست و ریخت کا گواہ شہر

آج پروگرام تھا اس تاریخی شہر کو دیکھنے کا جس کا نام ہے پوٹس ڈام، جس نے دوسری جنگ عظیم میں اپنے سینے پر بے شمار بم کے گولے برداشت کیے تھے جو کچھ اس طرح اس کے جسم میں پیوست ہو گئے تھے کہ آج بھی کئی مرتبہ وہ سر زمین انہیں اگلتی رہتی ہے اور اہل جرمن ان کی موجودگی کا علم ہونے پر ایک مرتبہ پھر اسی کیفیت میں چلے جاتے ہیں جس سے اُس وقت کے باشندے گزرے ہوں گے جب وہ برسائے گئے تھے۔ جب ان بموں کو ناکارہ بنانے کا عمل ہوتا ہے تب اس علاقے کو وقتی طور پر خالی کروا لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں ناکارہ بنایا جاتا ہے۔ یقیناً جب عوام اپنے گھروں کو لوٹتے ہوں گے تو کئی دنوں تک نفسیاتی طور پر ڈرے سہمے سے رہتے ہوں گے۔ انہیں وہ ہولناکیاں ضرور یاد آتی ہوں گی کہ کتنی جانیں ان کی نذر ہوئیں اور جو باتیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں پھر تازہ ہو جاتی ہوں گی۔

اسی شہر کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ یہاں 1945 یعنی دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین، برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور سویت رہنما جوزف اسٹالن کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ جنہوں نے دنیا کو امن و چین کا پیغام دیا تھا۔

شہر پوٹس ڈام صوبے برانڈن بورگ کا دار السلطنت ہے، وہاں جانے سے پہلے ہم نے جناب عارف نقوی صاحب سے بات کی تھی۔ ہماری بڑی خواہش تھی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ چلتے، وہ بھی جانا چاہتے تھے لیکن کمبخت نزلہ تھا کہ ان کا ساتھ چھوڑ ہی نہیں رہا تھا بلکہ اس کی شدت کی وجہ سے انہیں حرارت بھی ہو گئی تھی اور آج پھر ہمیں ان کے بنا ہی پوٹس ڈام کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ رہبر صاحب نے مجھے اور عشرت کو اپنی آرام دہ گاڑی اوڈی سے لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پوٹس ڈام شہر برلن سے تقریباً 16 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ صبح نو بجے ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے بعد ہم لوگ چل پڑے۔ راستے میں بہت ہی خوبصورت پل گلینکے برج تھا جو برلن اور پوٹس ڈام شہر کو جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ پُل تو ہوتے ہی اسی کام کے لیے ہیں کہ دو جگہوں کو یوں جوڑ دیں کہ وہ مل کر ایک ہو جائیں۔ جرمنی نے تو بے شمار پُل تعمیر کر کے قصبوں کے شہروں سے اور شہروں کو میٹرو شہروں سے جوڑ کر پورے جرمنی کو ایک جال کی طرح بن دیا ہے۔ اس کے شہر ہمبرگ میں تو تقریباً 2500 پل ہیں جس نے اٹلی کے شہر وینس جو اپنے خوبصورت پُلوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پوٹس ڈام کا یہ پُل جس پر سے ہم گزر رہے تھے اس لیے بھی اہم ہے کہ سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے جاسوسوں کا یہاں سے تبادلہ ہوا کرتا تھا۔ جاسوسوں پر مجھے یاد آیا برطانوی جاسوس ہمفرے جسے مسلمانوں کے درمیان رہ کر ان میں تفرقے ڈالنے کے اہم کام ہر مامور کیا گیا تھا، جس میں وہ کامیاب بھی ہوا، ہمفرے نے اس کام کے لیے جو حکمت عملی اپنائی تھی اور جو رپورٹیں اعلیٰ حکام کو بھیجی تھیں وہ کسی طرح سے جرمنوں کے ہاتھ لگ گئیں پھر کیا تھا جرمنی کے ایک مشہور اخبار spiegel اشپیگل نے انہیں قسط وار شائع کر برطانیہ کے اس اہم راز کو فاش کر دیا۔ ہمفرے کی یہ یاد داشتیں حقیقی ہیں یا داستان سرائی یہ تحقیق کا ایک الگ موضوع ہے لیکن جس طرح سے اس نے کام کیا وہ بہت کچھ سوچنے اور غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے، اگر اسے فکشن مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے کس کس قسم کے حربے استعمال کیے گئے اور کامیابی بھی حاصل کی گئی۔

اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جرمنی کے بعد ایک فرانسیسی اخبار میں یہ روداد چھپی۔ اس کے بعد تو اس کے ترجمے کا ایک سلسلہ ہی چل پڑا۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ ایک لبنانی نے کیا، تو انگریزی میں یہ ’’ایک برطانوی جاسوس کے اعترافات اور برطانیہ کی اسلام دشمنی confessions of a British spy and British Enmity against Islam کے نام سے شائع ہوئی۔ فارسی میں یہ تہران میں ’’خاطرات مستر ھمفر، جاسوس بریتانیا در خاورمیانہ‘‘ عنوان سے سامنے آئی۔ ترکی کے استنبول کے وقف اخلاص پبلیکشنز نے اسے ترکی اور انگریزی زبان میں چھاپا، اردو میں یہ ’’ہمفرے کے اعترافات‘‘ عنوان سے منظر عام پر آئی۔ میری نظر سے اس کا جو ایڈیشن گزرا وہ صاحبزادہ محمد عرفان توگیروی کا تھا جو کہ دس جون 2015 کو ایم نعمان پبلشر نے شائع کیا تھا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ رہی کہ اس کے جملہ حقوق مع حقوق ترجمہ کہیں محفوظ نہیں تھے۔ اس وجہ سے یہ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی۔ یہ کتاب گوگل پر آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ برطانیہ جس نے ہمفرے کو شیعہ سنی اور وہابیوں کے جھگڑے میں الجھایا اور مسلمانوں کو اپنی اصل دین سے بھٹکا کر اس راستے پر لگا دیا جہاں سے ان کے لیے پُل صراط سے گزرنے کا راستہ مشکل ہو گیا۔ سب اپنے آپ کو اپنے مسلک کو صحیح کہتے ہوئے دوسرے کو کافر اور جہنمی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ بھول ہی چکے ہیں کہ یہ شعبہ تو ان کا ہے ہی نہیں۔ اس کام کے لیے تو خدا کے پاس لا تعداد فرشتے ہیں جن کی مدد سے وہ روز محشر اس بات کو طے کرے گا کہ کسے مسلمان تو کس کو کافر مانا جائے۔ انسان کے اعمال ہی پُل صراط پر سے گزرنے کو آسان یا مشکل بنائیں گے۔ خیالات کی رو مجھے نجانے کدھر لے جا رہی تھی کہ عشرت نے میرے شانے پر ہولے سے ہاتھ رکھ کر کہا کہ پوٹس ڈام کی سیر کیجیے نہ کہ خیالات کی سیر میں کھو جائیے، ہم منزل پر پہنچنے والے ہیں۔ میں نے اپنے اطراف نظر دوڑائی بے انتہا خوبصورت راستہ، اس کے مناظر دل کو لبھانے والے تھے۔ ہم قدیم طرز کے انتہائی پرسکون اور دیدہ زیب شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ عشرت اور رہبر صاحب یہاں کی تاریخ بتاتے رہے۔ یہ شہر انتہائی جنوب مغرب میں واقع ہے جس سے متصل جھیلیں اس کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث ہیں۔

گلینکے پُل کے پہلو میں ہی گلینکے محل ہے۔ یہ محل 1018 تک جرمن قیصر کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ جگہ نہایت ہی پر فضا اورپر سکون تھی جو اس بات کی دلیل تھی کہ قیصر جرمن اپنی رہائش کا انتخاب یوں ہی نہیں کیا کرتے تھے۔

پوٹسڈام شہر محلوں کے شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جس محل میں ہم تھے اس کا نام سین سوسی پیلیس تھا۔ اس کی پہلی تعمیر 1787 سے 1791 کے درمیان بادشاہ فریڈریش ویلہیم دوئم نے کروائی تھی۔ در اصل یہ ایک بادشاہ کا بنایا ہوا محل نہیں ہے مختلف بادشاہوں نے مختلف اوقات میں اس کی عمارت میں توسیع کی تھی۔ یہ محل بھی زخم خوردہ تھا کیونکہ یہ دوسری جنگ عظیم کی ہولناکی کا چشم دید گواہ بھی ہے۔ اس نے بہت سے زخم بموں کی شکل میں کھائے ہیں جس کے نتیجے میں اس کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا، تب اسے بند کر دیا گیا تھا۔ اس کی مرمت کر کے 1993 میں سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا گیا۔

محل کے دروازے پر ایک روایتی لباس میں ملبوس دربان کھڑا نظر آیا لیکن جب پاس گئے تو وہ ایک فنکار نکلا۔ یہ میری نظروں کا قصور نہیں تھا کیونکہ دور سے دیکھنے پر وہ دربان ہی لگ رہا تھا اور محل کے ساتھ دربان تو لازم و ملزوم ہیں نا؟ وہ اسٹینڈ پر اپنے موسیقی کے نوٹس رکھے بڑی خوبصورت بانسری نما فلیوٹ بجا رہا تھا۔ شرٹ کی کالر اور آستین میں جھالر لگی ہوئی تھی، اس پر نیلے رنگ کا کوٹ جس پر سرخ کالر اور سرخ ہی دو جیب بنی ہوئی تھیں جن پر خوبصورت ایمبرائیڈری بھی تھی، سر پر بڑا سا اسٹائلش ہیٹ تھا۔ یہ شخص کوئی معمولی انسان نہیں تھا بلکہ یہ ایک تہذیب کا نمائندہ تھا، ایک وقار کے ساتھ اپنی موسیقی پیش کر رہا تھا، موسیقی بھی اسی دور کی پسندیدہ موسیقی تھی جس کا وہ نمائندہ تھا۔ اسے دیکھ کر ہمیں احساس ہونے لگا تھا کہ ہم ماضی کے ایک خوبصورت دور میں قدم رکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم لوگوں نے تصاویر بنوائیں اور محل میں داخل ہو گئے۔ وسیع و عریض خطے پر تعمیر کردہ یہ محل اپنی خوبصورتی میں ثانی نہیں رکھتا اور بادشاہ وقت کی فہم و فراست کی داد اب بھی وصول کرتا دکھائی دے رہا تھا کہ کس پر سکون مقام پر انہوں نے اسے تعمیر کروایا تھا، ان کے ذوق اعلی اور شوق فن تعمیر کا عکاس یہ محل مسحور کر رہا تھا۔ محل کی راہ گزر جو کہ اس وقت پتوں سے ڈھکی ہوئی تھی بے آواز قدم نہیں رکھنے دے رہی تھی۔ پتوں کے چرمراتی آواز اور راہ گزر اس وقت اتنی خوبصورت تھی کہ اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔ یہ موسم خزاں کا تھا جو کہ علامت ہے تمام منفی خیالات کی،، ہجر کی تاریکی کی لیکن کیا خزاں بھی اتنی خوبصورت ہو سکتی ہے؟ یہ تو کبھی تصور میں بھی نہیں تھا، حد نگاہ تک پتے ہی پتے راہوں میں بکھرے تھے، پیڑ پتوں سے بظاہر پوری طرح بے نیازی برت رہے تھے لیکن ان کے ٹوٹ کر بکھر جانے پر افسردہ بھی تھے۔ ان کی افسردگی بھی انہیں خوشنما بنا رہی تھی کیونکہ گرنے سے پہلے ہی وہ پیڑوں پر تین رنگ لیے تھے ہرا، زرد اور لال رنگ۔ ہرا رنگ جہاں ایک نئی امید اور خوشی کا مظہر تھا تو زرد رنگ مایوسی کا اور لال رنگ تو ہے ہی نئے جوش و جذبے کا نام۔ یہ قدرت بھی نا کیسے کیسے فلسفے چھپائے رکھتی ہے اپنے ہر عمل میں، موسم ہے بدل جاتا یونہی، کیسے بدل جاتا بھلا قدرت کو تو اس سے اس پیکر گل کو ایک نیا سبق دینا بھی تو مقصود ہے، تب ہی تو ہر جگہ معرکہ بیم و رجا پیش کر دیا ہے۔

ہم آگے بڑھے تو سامنے ایک سبز گول گنبد تھا جس کی باریک خوبصورت جالیوں پر سنہری نقاشی اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھی۔، اس میں اندر بیٹھنے کے لیے بین چز لگی ہوئی تھیں، چلتے چلتے تھک جانے پر کچھ دیر سستا لینے کو یہ جگہ بڑی مناسب تھی۔ یہی بات جب میں نے عشرت سے کہی تو وہ کہنے لگیں ’’بالکل یہی سوچ کر انہیں بنایا بھی گیا ہے کیونکہ بادشاہ جب چہل قدمی کو نکلا کرتے تھے تب وہ انہی مقامات پر بیٹھ کرتا زہ دم ہوا کرتے تھے۔

عشرت اور رہبر صاحب اس محل کے متعلق بہت ساری دلچسپ باتیں بتا رہے تھے، جنہیں سن سن کر حیران ہو رہی تھی کہ اچانک آگے چل کر ایک طرف میری نظر گئی تو دیکھا ایک احاطہ بنا ہوا ہے جس میں ایک سفید ستون پر مجسمے کی شکل میں ایک نوجوان جوڑا محو رقصاں ہے، وہیں نیچے گھاس کے درمیان ایک بڑے پتھر پر چھوٹے چھوٹے گول اور بیضوی پتھر سے رکھے نظر آ رہے تھے۔ میں نے عشرت سے پوچھا ’’وہاں کیا ہے؟‘‘

’’وہاں بادشاہ کا مزار ہے‘‘

’’چادر کے بجائے اس پر پتھر کیوں چڑھائے گئے ہیں؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا؟

’’محترمہ وہ پتھر نہیں ہیں آلو ہیں؟‘‘

’’آلو!!!!‘‘ میری حیرانی دیدنی تھی

مزار پر آلو کا چڑھاوا پہلی بار دیکھا۔

مزار اور مزار پرستی ہمارے ممالک میں تو عام بات ہے، وہاں ایک الگ ہی منظر ہوتا ہے۔ باہر پھول والوں کی دوکانیں، چپل رکھنے والوں کی آوازیں، اندر جاؤ تو قوالیوں کی گونج، اگر بتی اور پھولوں کی مہک، عقیدت مندوں کا ایک ہجوم، مجاوروں اور خدام کی بھیڑ، گو کہ ہمارے یہاں بھی مختلف قسم کے چڑھاوے مزاروں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ عموماً تو میں نے ہری چادر، پھول، اگر بتی اور عطر ہی دیکھے۔ کبھی کہیں ایسی چیز کا تو نہیں سنا تھا اس لیے حیران ہونا تو تھا ہی۔ ویسے انسان کی عقیدت اور خراج عقیدت کا سلسلہ بھی عجیب ہی ہے خیر۔

تب رہبر صاحب نے بڑی دلچسپ بات بتائی کہ ’’یہ جرمنی کے بادشاہ فریڈردیش دوئم کا مزار ہے جس نے پہلی بار جرمن عوام کو آلو سے متعارف کروایا تھا اور اب اس تعارف کے طفیل میں تقریباً تین سو قسم کے آلو یہاں پائے جاتے ہیں۔‘‘

باتیں کرتے ہوئے ہم اس جگہ کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں قریب جا کر دیکھا تو وہ واقعی پتھر نہیں بلکہ خراج عقیدت کے طور پر تازہ آلو ہی رکھے ہوئے تھے۔

وہیں گیارہ اور بھی پتھر کی چھوٹی سلیں نظر آئیں۔ ان کے بارے میں بھی رہبر صاحب نے ہی بتایا کہ

’’یہ اس بادشاہ کے گیارہ وفادار کتوں کی قبریں ہیں جنہیں وہ عزیز از جان رکھتا تھا۔‘‘

انسان اور کتے کا یہ پیار انوکھا تو نہیں۔ کتے تو وفادار ہوتے ہی ہیں لیکن کوئی انسان ان کے ساتھ اتنا وفادار ہو سکتا ہے۔ میں حیران تھی۔

اس جگہ پر مجھے کئی دوسرے لوگ بھی نظر آئے۔ وہیں ایک بینچ پر ایک ادھیڑ عمر جرمن خاتون بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے عشرت سے کہا کہ ذرا ان کے ساتھ تصویر لے لیجیے ورنہ تو ایسا لگے گا کہ جرمنی میں ہم تین ہی لوگ تھے۔ جیسے ہی عشرت نے موبائل کا اینگل ٹھیک کیا خاتون نے ایک ادائے بے نیازی سے رخ موڑ لیا۔ تصویر تو بن گئی لیکن اس سے صاف ظاہر تھا کہ جرمن خاتون اخلاق کی رد گردانی پر خفا ہیں۔ تب ہم نے ان سے اجازت طلب کی کہ ’فقط ایک تصویر کے طالب ہیں محترمہ‘، ان کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے ایک اچھا سا پوز دیا۔ ہم نے ان کا بہت سارا شکریہ ادا کیا۔

محل کے چاروں طرف انگوروں کی بیلیں لگی ہوئی تھیں۔ بادشاہ فریڈریش ویلہیم انگوروں کا بھی شوقین تھا اس نے الگ الگ جگہوں سے مختلف قسم کی انگور کی بیلیں منگوا رکھی تھیں جن کی آج بھی وہاں کئی سو قسمیں موجود ہیں جو اس کی رونق کو بڑھا رہی ہیں۔ محل کے سامنے نشیب میں ایک خوبصورت باغ ہے جس کے درمیان میں ایک بڑا سا فوارہ ہے۔ اس کے اطراف میں سنگ مر مر کی خوبصورت مورتیاں ہیں۔ باغ تک پہنچنے کے لیے بہت ساری سیڑھیاں ہیں اور جن کے اطراف کی دیواریں مختلف قسم کی انگوروں کی بیلوں سے لدی ہیں جو اس کو بہت خوشنما بنا رہی ہیں۔ یہ فطرت کی بکھری رنگینیاں بادشاہوں کے طرز عمل کی بھی غماز ہیں۔

نیچے فوارے کے ارد گرد بھی بیٹھنے کے لیے خوبصورت بینچیں لگی ہوئی تھیں، وہاں سے جب سر اٹھا کر محل کی جانب دیکھا تو سمجھ میں آیا کہ محل ایک پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ یہاں ہم لوگ کافی دیر بیٹھے۔ عوام اور سیاح بھی تھے لیکن ایک بات قابل توجہ تھی کہ کسی بھی مقام پر ہمیں لوگوں کا اژدحام نظر نہیں آیا لیکن اس رومینٹک جگہ پر رومانس کے سین ضرور نظر آ رہے تھے، نوجوان لڑکے لڑکیاں محبت کے پیمان بوسے لے کر باندھتے نظر آئے۔ وہ محبت کرنے کے لیے آزاد تھے اور محبت تو ہوتی ہی ہے آزادی طلب لیکن ہمارے یہاں اس آزادی کو اخلاقی طور پر پسند نہیں کیا جاتا ہے کہ یوں کھلے عام اس جذبے کی تشہیر کی جائے۔ اسی لیے ’لو جہاد‘ چھیڑا گیا۔ نتیجتاً پیار کرنے والوں کو کبھی ڈنڈے کھانے پڑتے ہیں تو کبھی اٹھک بیٹھک لگانا پڑتی ہے۔ یوں ان کی خفیہ محبت سر عام رسوا ہو جاتی ہے اور محبت کرنا جرم بن جاتا ہے۔

یہاں سے واپس اوپر آ کر ہم محل کی دوسری جانب چل دئیے۔ وہاں ایک خاص چیز نظر آئی، ایک پن چکی جس کا نچلا حصہ پوری طرح خوبصورت پھولوں کی بیلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے عشرت سے پوچھا کہ

’’یہ یہاں کیوں؟ اتنے خوبصورت محل کے ساتھ یہ پن چکی کیوں ہے؟ آلو کی طرح یہاں بھی کوئی دلچسپ داستان ہو گی؟‘‘

’’یہ سوال یہاں آنے والے ہر شخص کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کی بڑی دلچسپ تاریخ ہے۔‘‘ عشرت نے جواب دیا۔

ہم لوگ اب چکی کے سامنے خوبصورت پیڑ کی موٹی ٹہنیوں پر چڑھ کر بیٹھ چکے تھے۔ عشرت نے بالکل ایک داستان گو کی طرح پن چکی کی کہانی شروع کی۔

’’کسی زمانے میں یہاں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا، جس کا نام فریڈ رش ویلہیم تھا، اس نے اس محل کو تعمیر کروایا تھا اس غرض سے کہ جب موسم اپنی نیرنگی دکھائے گا، سورج اپنی تمازت پر اِترائے گا تب وہ اپنے آپ کو گرمیِ زمانہ اور گرمیِ آفتاب سے بچنے کے لیے اس محل میں پناہ لے گا۔ بادشاہ نے اپنے طور پر تدبیر تو بہت اچھی کر لی تھی۔ محل کی دیوار سے ملحقہ ایک غریب آدمی کورنیلیوس ولہیم کی ایک پن چکی وہاں موجود تھی جو کہ اس کا ذریعہ معاش تھی۔ ولہیم دن بھر چکی چلاتا اور رات کو سکون کی نیند سوتا۔ اس کی زندگی بڑے آرام اور چین میں گزر رہی تھی۔ پن چکی چونکہ محل کی حدود سے باہر تھی اس لیے نہ تو معماروں نے اور نہ ہی تعمیر کروانے والے وزیروں نے اس کی طرف توجہ دی۔ محل بن کر تیار ہوا۔ بادشاہ کی خواہش پر جگہ جگہ سے سینکڑوں اقسام کی انگور کی بیلیں منگا کر یہاں لگائی گئیں، محل کی اندر باہر ہر طرف سے آرائش کی گئی۔ جب محل تیار ہو گیا تب بادشاہ سلامت آرام کرنے کی غرض سے یہاں تشریف لائے۔ محل کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ایک دن وہ گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے کہ چکی کی گڑگڑاہٹ ہوئی جو عالم پناہ کی نیند میں خلل ڈال گئی۔ انہوں نے غیض و غضب کے عالم میں فرمان جاری کر دیا کہ ’’اس چکی کو یہاں سے ہٹایا جائے۔ کہا جائے کہ ما بدولت کا یہ حکم ہے جس کی تعمیل کی جائے۔ ’’اس گھڑگھڑاہٹ کے نظام کو جو ان کے آرام میں خلل ڈالنے کا باعث بن رہا ہے اُسے اکھاڑ کر کہیں اور لے جا یا جائے۔‘‘

پھر کیا تھا بادشاہ سلامت کے اہلکار جا پہنچے غریب چکی والے کے دروازے پر اور زور زور سے دستک دی۔ اس نے آہستگی سے کواڑ کھولے، باوردی پولیس کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا، ڈرتے ڈرتے سوال کیا۔

’’کہیے مجھ سے کیا کام ہے؟‘‘

انہوں نے بادشاہ کا حکم من و عن اس کے گوش گزار کر دیا، اس سے پہلے کہ وہ اپنے ہوش و حواس سے بے گانہ ہو جاتا اس نے خود کو سنبھال لیا۔ اس نے چند دن کی مہلت مانگی جسے منظور کر لیا گیا۔

وہ اندر گیا، اسے پریشان اور فکر میں ڈوبا دیکھ کر اس کی بیوی کو تشویش ہوئی، اس نے پانی کا گلاس اسے پکڑاتے ہوئے پوچھا کہ ’’کون آیا تھا اور کیا کہہ رہا تھا؟‘‘

اس نے درد بھرے لہجے میں روداد غم سنا دی۔ بادشاہ کا فرمان ان دونوں کے لیے روح فرسا تھا۔ بہت دیر تک دونوں پریشان رہے پھر انہوں نے ہمت اور صبر سے کام لیتے ہوئے اس کا حل ڈھونڈ نکالا۔

ادھر بادشاہ مطمئن تھا کہ ایک چکی جو اس کے لیے تکلیف کا باعث بن رہی تھی اسے ہٹا دینا اس کے لیے نا ممکن بھی نہیں تھا بلکہ اس کے ایک حکم پر یہ ہو جانا چاہیے تھا، ایسا اس کا خیال تھا، اسے اپنی بادشاہت پر غرور تھا لیکن یہ کیا ہوا؟ اس بادشاہ کی بادشاہی اور اس کے فرمان کو لے کر پن چکی مالک نے عدالت کے گھنٹے کو بجا ڈالا۔

یہاں داستان گو نے کچھ توقف کیا لیکن داستان سننے والوں کے اشتیاق نے صبر نہ کیا۔

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

داستان گو نے کہانی آگے بڑھائی مجمع پر سکوت طاری تھا اور وہ ہمہ تن گوش تھا۔

’’تو یوں ہوا کہ بادشاہ کو عدالت میں طلب کیا گیا، بادشاہ اب بھی اپنی حاکمیت کے زعم میں تھا، اس کے چہرے پر ایک اطمینان تھا لیکن پن چکی مالک بھی پوری طرح مطمئن تھا کیونکہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، وہ اپنے حق کی لڑائی لڑ رہا تھا اور اسے کامل یقین تھا کہ حق تو پھر بر حق ہے، اسے یہ بھی معلوم تھا کہ عدالت اس ملک کی رعایا کے ساتھ نا انصافی کی مرتکب کبھی نہیں ہو سکتی۔ دونوں کو یقین تھا کہ جیت اسی کی ہونا ہے‘‘

’’پھر کیا ہوا؟

’’پھر یہ ہوا کہ منصف نے مدعی اور دعوے دار کی باتیں سنیں، گواہوں کے بیانات سنے، دلائل پر غور کیا، اس دوران اس نے نہ تو بادشاہ کو نظر بھر کر دیکھا نہ ہی فریادی کو، اس نے جب بھی نگاہ اٹھائی تو اپنے سامنے انصاف کے طالب دو فریقوں کو پایا اور فیصلہ سنا دیا جو کہ پن چکی کے مالک کورنیلیوس ولہیم کے حق میں تھا۔‘‘

’’بادشاہ تو سخت برہم ہو گیا ہو گا؟‘‘

’’نہیں! جس وقت عدالت لگی ہوئی تھی وہاں بہت سارے وزراء اور امراء موجود تھے۔ انہیں بھی بادشاہ ہی کی طرح امید تھی کہ فیصلہ انہی کے حق میں ہو گا لیکن فیصلہ مخالف کے حق میں ہوتا دیکھ کر ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی نئی خطا کے مرتکب ہوتے بادشاہ وقت نے اپنی آنکھوں سے کچھ اشارہ کر کے انہیں روک دیا، وہ ایک رعایا پرور بادشاہ تھا۔ وہ عامریت کے اصولوں سے بھی واقف تھا، وہ عدالت کا بھی احترام کرنا جانتا تھا اور حکومت چلانا بھی، اس نے اس فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر کے اپنی عوام کا دل جیت لیا۔

داستان گو نے داستان ختم کرتے ہوئے دعا دی کہ جس طرح انصاف کی جیت ہوئی اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے خدا تمہیں ہمیں بھی یونہی ہنستا رکھے۔ اور پیڑ کی ٹہنی سے چھلانگ لگا کر مجمع کے سامنے کھڑی ہو گئیں کہ لائیے میرا نذرانہ۔ بالکل اسی انداز میں جس طرح عرب کے سامر سمر سنانے کے بعد کرتے تھے۔ شام ڈھلنے کے بعد جب رات اپنا تاروں بھرا آنچل پھیلا دیتی، چاندنی کی ٹھنڈک دن بھر کے دھوپ میں جھلسے ریت کے ذروں کو ٹھنڈا کر دیتی تب دن بھر کے کاموں سے فراغت پائے لوگ اس ریت کے فرش پر بیٹھ جایا کرتے۔ سامر داستان سناتا۔ اجرت میں وہ کھجوروں کا ایک حصہ پاتا لیکن یہ نئے زمانے کا سامر پیڑ پر بیٹھ کر قصہ سناتا ہے اور اجرت میں جھولی بھر کر محبت مانگتا ہے۔ روایتیں تو جامد نہیں ہوتیں نا وقت اور زمانے کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں تو سامر کے انداز پر چونکنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

اور پھر یوں ہنسی خوشی یہ چھوٹا سا قافلہ گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔

٭٭٭

یاد ماضی عذاب ہے یارب

کل پاؤں ایک کاسہ سر پر جو آ گیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا (میرؔ)

ایسا ہی ایک سر وہ بھی تھا جس پر غرور کچھ ایسا سر چڑھا تھا کہ انسانیت کو ہی بھول گیا اور تاریخ کو وہ کالے ابواب دے گیا جس پر انسانیت کی تاریخ بھی اور جرمنی کی تاریخ بھی آج تک شرمندہ ہے اور شرمندگی کی انتہا یہ ہے کہ اس ملک میں اس نام لینا بھی جرم مانا جاتا ہے۔ اس کا خراب ماضی زبان سے بے ساختہ کہلوا دیتا ہے کہ:

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

آج ہم اس جگہ آ گئے تھے جو برلن میں ہولو کاسٹ کی یاد گار ہے جو کہ یوروپ میں ہونے والے یہودیوں کے قتل عام کی یاد تازہ کرتا ہے اور اس وقت کی نازی حکومت کی سنگ دلی کا مظہر ہے یہ یادگار دو سال میں تیار ہوئی جو انیس ہزار مربع میٹر پر پھلی ہوئی ہے۔ یہاں سیمنٹ اور کنکریٹ کے چھوٹے بڑے 2711 ستون جرم عظیم کی دل سوز داستان سنا رہے ہیں۔ یہ کہیں بہت چھوٹے تھے، کہیں کچھ بڑے اور کہیں ہمارے قد سے بھی زیادہ اونچے۔ یہ جگہ ہمیں تاریکی کے اس دور میں لے جاتی ہے۔ جہاں انسان نے اپنے آپ کو حیوانیت کی سطح پر لا کر اسے اشرف المخلوقات کے درجے سے بہت نیچے بہت ہی نیچے پستی میں گرا دیا تھا اور گرانے والا شخص اپنی بلندی پر یوں نازاں تھا کہ جیسے اسے ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ وہ عبرت کی اس جا کو ابدی سمجھ بیٹھا تھا۔ جی ہاں میں ذکر کر رہی ہوں ایڈولف ہٹلر کا جو آسٹریا ملک میں 1889ء میں پیدا ہوا تھا۔ جہاں کی مٹی میں شدت پسندی تھی اور وہی شدت پسند عناصر ایڈولف ہٹلر کے خون کے ذرات میں شامل تھے۔ ہٹلر پہلے رنگوں سے زندگی کو ایک نیا انداز دینے کا خواہش مند تھا کیونکہ وہ مصوری کا شوقین تھا لیکن اپنے والد کی سخت مزاجی کے باعث اپنے شوق کی تکمیل نہ کر سکا۔ والد کی سخت گیری نے اس کے اندر نفرت کے جذبات پیدا کر دئیے تھے۔ یہاں تک کے جب اس کے والد کا انتقال ہوا تو وہ رسمی طور پر ہی ان کی قبر پر گیا اور جلد ہی یہ سلسلہ بھی بند ہو گیا، البتہ وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔ یہ سادہ سا انسان اپنے ذریعہ معاش کے لیے پریشان تھا۔ اس نے اپنی مالی پریشانیاں دور کرنے کی غرض سے مصوری بھی کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں اس نے فوج میں بھرتی ہونے کی کوشش کی۔ پہلی مرتبہ میں اسے وہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، دوسری بار پھر کوشش کی، اس مرتبہ وہ کامیاب ہو گیا۔ پہلی جنگ عظیم میں اس کی شمولیت ایک فوجی کی حیثیت سے رہی جس میں جرمنی نے شکست کا سامنا کیا لیکن اس شکست نے ہٹلر کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا اور ایک دن وہ آیا کہ ایڈولف ہٹلر ایک ناکام انسان کامیابی کی سیڑھیاں پر یوں چڑھتا چلا گیا کہ منزلیں اس کے قدموں تلے آ گئیں، وہ جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ فتح مندی کا نشہ اس کے سر پر سوار ہو گیا، وہ اقتدار کے نشے میں چور ہو گیا۔ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یہ نشہ کب سر چڑھ کر بولنے لگا اور اسے کامیاب انسانوں کی صف سے اٹھا کر مجرموں کے درمیان کھڑا کر گیا۔ واقعی انسان کی لغزشیں کیسے کیسے حادثوں سے دو چار کر دیتی ہیں، اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ دماغ جب راہ راست پر ہوتا ہے تو کتنے مثبت کام کروا دیتا ہے اور جب یہ ہی نفی پر اتر آتا ہے تو نجانے کتنی انسان سوز حرکات کا مرتکب ٹھہرا دیتا ہے۔ ہٹلر کی انسان سے انسان کی نفرت کے فروغ نے لاکھوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وہ مغرور انسان بھی اپنے انجام کو پہنچا۔ اس نے بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لینا بہتر سمجھا۔

ہٹلر مرگ انبوہ کا ذمہ دار، کیا ایک دھڑکتے ہوئے دل کا مالک بھی ہو سکتا تھا؟ کیا ا س کے اندر محبت کے جذبات کا دریا بھی موجزن ہو سکتا تھا؟ نہیں وہ تو سنگ دل تھا اس کے پاس سینے میں دل کہاں تھا؟ محبت اور ہٹلر یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے متضاد لگتے ہیں لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس نے بھی محبت کی، اس نے بھی کسی کو شدت سے چاہا، اس کے لیے بھی ہجر کے لمحے درد دینے والے رہے، وہ بھی وصل کا متمنی تھا۔ اس کی زندگی کا یہ پہلو تو بڑا ہی دلچسپ رہا۔

اکتوبر 1929ء اس دن موسم کا مزاج کچھ اور ہی تھا۔ ایوا اپنے آفس پہنچ چکی تھی اور حسب معمول اپنے باس فوٹو گرافر ہینرج ہوفمن سے کام سمجھ کر اپنی ٹیبل پر آ بیٹھی تھی۔ ہوفمن اپنے آفس کے اندرونی کمرے میں فلموں کی دھلائی کے کام میں مصروف ہو گیا تھا۔ ایوا نے آہستگی سے میز کی دراز سے ایک لفافہ نکالا جس میں سے ایک تصویر تھی۔ وہ اس تصویر کو ایک ٹک نہارتی رہی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ تصویر کا شہزادہ آج بھی اس کے خواب میں آیا تھا اور اسے اپنے ساتھ وہاں لے گیا تھا جہاں کے لیے سفید گاؤن پہننے کی خواہش ہر جوان لڑکی کا سپنا ہوتی ہے۔ اس کا شہزادہ اس کے ہاتھوں کو تھام کر انگوٹھی پہنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر حیا کی سرخی تھی۔ سترہ سالہ ایوا کے جذبات مچل رہے تھے۔ اس کے خواب اسے مخمور کر رہے تھے۔ ابھی نجانے وہ کتنی دیر تک اپنے خیالوں کی دنیا میں گم رہتی کہ کسی نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اس نے آواز پر سر اٹھایا تو پلکیں جھپکنا ہی بھول گئیں، وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔ نیلی نیلی چھوٹی مگر ذہانت سے بھری آنکھیں، بالائی لب کے اوپر چھوٹی کالی مونچھیں، گہرے بھورے بال۔ درمیانہ قد وہ اسی سے مخاطب تھا۔ یہ تو وہی ہے ایڈولف! اس نے دھیرے سے خود کلامی کی۔ اس کے چہرے پر مسرت تھی، وہ اپنے اندرونی جذبات چھپانا چاہتی تھی لیکن اس کے گالوں پر چھائی سرخی نے سب کچھ عیاں کر دیا تھا۔ ایڈولف اس لڑکی کو حیران ہو کر دیکھ رہا تھا جو اسے اندر آنے کی اجازت دینا بھول گئی تھی۔

اس نے دوبارہ کہا ’میں اندر آ سکتا ہوں؟‘

وہ شرمندہ ہو گئی ’جی جی ضرور‘

ایڈولف نے ہوفمن کا پوچھا، وہ اپنی جگہ سے اٹھی اس کی آنکھوں میں ہی نہیں چال میں بھی ایک خمار تھا۔ وہ الہڑ حسینہ جب ایڈولف کے قریب سے گزری تو اس کے ملبوس سے اٹھتی مسحور کن خوشبو نے ایڈولف کو لمحہ بھر کے لیے اس کی طرف متوجہ کیا۔ اسی دوران وہ ہوفمن کو بلا لائی۔ ایڈولف نے ہوفمن سے کچھ باتیں کیں اور چلا گیا۔ وہ کیا گیا ایوا کے چاروں طرف اندھیرا سا چھا گیا۔ وہ اب اپنے آپ پر غصہ ہو رہی تھی کہ اس نے ایڈولف سے کوئی بات کیوں نہ کی۔ در اصل یہ وہ دور تھا جب پورے جرمنی پر ہٹلر کی شخصیت کا جادو چلنے لگا تھا۔ وہ چالیس سالہ محنتی، جرمنی اور ہر جرمن سے بے انتہا محبت کرنے والا نوجوان ہر جوان دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ ہر لڑکی اسے پا لینے کی خواہش کر رہی تھی۔ ایسے میں اگر ایوا اس کے خواب دیکھ رہی تھی تو کچھ غلط نہ تھا لیکن ایوا اس سچائی کو بھی جانتی تھی کہ ایڈولف اس کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ میونخ کے ایک متوسط گھر میں 6 فروری 1912 میں پیدا ہونے والی لڑکی ایسے خواب دیکھ رہی تھی جن کی تعبیر ممکن نہ تھی۔ ایوا پڑھائی میں تو بہت اچھی نہ تھی مگر تیراکی اس کا جنون تھا۔ ایوا بہت خوبصورت تھی۔ بیضوی چہرہ، روشن پیشانی، خم دار ابرو، محبت کے جذبے سے بوجھل پلکیں، سرخ و سفید رنگت، عارض پر ہلکی ہلکی لالی، صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم۔ حسن تو اس پر تمام تھا۔

ایڈولف جب سے ہوفمن کے یہاں سے لوٹا تھا کچھ بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اسے کچھ کھو جانے کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ اپنی اس کیفیت کو کوئی نام بھی نہیں دے پا رہا تھا۔ اس نے کافی پی اور اپنی پارٹی کی میٹنگ میں چلا گیا لیکن وہاں بھی اس کا دل نہ لگا۔ وہ جلد ہی لوٹ آیا۔ رات جب بستر پر لیٹا کروٹیں بدلتا رہا، نیند اس سے روٹھ گئی تھی۔ اچانک ہی وہ مسکراتا چہرہ وہ حیرانی سے کھلی بڑی بڑی آنکھیں سامنے آ گئیں۔ وہ ایک دم اٹھ بیٹھا۔ اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ تھی۔ وہ اپنی بے چینی کا راز پا گیا تھا لیکن بے قراری تو کم نہ ہوئی تھی۔ صبح وہ دیر تک سوتا رہا۔ جاگا تو وہ موہنی صورت اس کی آنکھوں میں بسی تھی۔ ’مجھے تو اس کا نام بھی نہیں معلوم کون ہے وہ؟ کہاں سے آئی ہے؟ کہاں کی رہنے والی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ پہلے تو کبھی ہوفمن کے یہاں اسے نہیں دیکھا؟ یہودی تو نہیں؟ یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں کا رنگ بدلنے لگا۔ دل نے تمنا کی کاش نہ ہو، بہت سارے سوال تھے بہت سارے خدشات تھے ایڈولف ایک ہوشمند انسان تھا۔ اس کے اپنے نظریات اور اپنے خاص اصول تھے جن میں وہ جکڑا ہوا تھا۔ دل اور دماغ کی جنگ میں اس نے پہلے دماغ کو جیت جانے دیا۔ اپنے خاص اسسٹنٹ کو اعتماد میں لے کر اس کام پر لگایا کہ وہ ایوا کے بارے میں ساری معلومات لے کر آئے۔ جب اسے ہر طرح سے تسلی ہو گئی تو اس نے اپنے جذبوں کی لگام دل کے سپرد کر دی۔ اس نے اپنی کار ہوفمن کے آفس کی طرف موڑ دی۔

جلد ہی ان دونوں کی دوستی پیار میں بدل چکی تھی۔ چالیس سالہ ایڈولف اپنی سترہ سالہ کمسن محبوبہ کے پیار میں پوری طرح ڈوب چکا تھا۔ ایوا تو بنا اسے دیکھے ہی خوابوں میں بسا چکی تھی اب اس کا ساتھ پا کر تو پوری دیوانی ہو رہی تھی۔ محبت ابھی پوری طرح پروان بھی نہ چڑھی تھی کہ ایڈولف کی سیاسی سر گرمیاں بڑھتی چلی گئیں۔ وہ دن بہ دن اپنے سیاسی کاموں میں مصروف ہوتا چلا گیا۔ وہ لاکھ چاہتا لیکن ایوا سے ملنے کا وقت نہیں نکال پاتا۔ اسی دوران ایڈولف کے دل کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب اس کی اپنی بھانجی جیلی روبال کی موت واقع ہو گئی۔ اس کی بے وقت موت نے ایڈولف کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ وہ اپنے غم کی وجہ سے بھی ایوا سے دور ہوتا چلا گیا۔ ادھر ایوا کی دیوانگی تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے لیے ایڈولف سے دور رہنا سوہان روح تھا۔ اس نے کئی بار ایڈولف سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ اس کا صبر ختم ہو رہا تھا۔ آخر کار 11 اگست 1932 کو اس نے خود کو گولی مار لی۔

ایڈولف کو جیسے ہی یہ منحوس خبر ملی وہ دیوانہ وار دوڑتا ہوا اس کے پاس پہنچا۔

’’ایوا! ایوا! یہ کیا کر لیا تم نے؟ ایوا میں تمہارا ہوں! آنکھیں کھولو ایوا! ایوا سن رہی ہو نا تم میری آواز؟‘‘

وہ بے قرار ہو کر چلا رہا تھا چیخ رہا تھا۔

اس نے ڈاکٹروں کی ٹیم بلوا لی تھی وہ ان سے منتیں کر رہا تھا۔

’’کسی بھی طرح میری ایوا کو بچا لو‘‘

ڈاکٹر کوششیں کرتے رہے، خوش قسمتی سے ایوا کی جان بچ گئی۔

ایوا نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں، وہ خوشی سے پاگل ہو اٹھا۔

’’ایوا میں تمہارا ہوں تمہارا رہوں گا، ایوا مجھے معاف کر دو، میرا سارا وقت تمہارا ہے۔‘‘ ایوا کے ہونٹ مسکرا اٹھے۔

ایوا کے اس جان لیوا قدم نے ان دونوں کو بہت قریب کر دیا تھا۔ اب ایڈولف اس کی طرف سے ذرا بھی لا پرواہی نہیں کرتا تھا۔ اسے یہ خیال ہی لرزا دیتا تھا کہ ایوا اس سے دور بہت دور بھی جا سکتی ہے۔ ایڈولف کی دیوانگی عروج پر تھی۔ شدت پسندی اس کی سرشت کا حصہ تھی، یہ شدت پسندی اس کی محبت میں بھی جھلکنے لگی تھی۔ وہ نہ تو ایوا سے دوری برداشت کر سکتا تھا نہ ہی ایوا کی بے توجہی۔

وہ ایوا کو بس اپنی پلکوں تلے ساری دنیا سے چھپا کر رکھ لینا چاہتا تھا۔ ایوا کو کوئی دوسرا نہ چاہنے لگے۔ ایوا کے دل میں کوئی اور نہ بس جائے، عجب عجب خدشات اس کے دل میں گھر کرنے لگے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مشیر خاص گلوبلز سے بھی ایوا کے بات کرنے کو ناپسند کرتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا ایوا کسی اور سے ملے۔ یہ اس کے اندر کا احساس کمتری تھا کیا؟ ایوا کبھی سمجھ نہیں پائی۔ وہ تو بس اپنی پوری وفاؤں کے ساتھ اس کی تھی۔ اس کی ہر خوشی پر جان نثار کر دینے والی ایوا نے اپنے آپ کو ایڈولف کے رنگ میں رنگ لیا تھا۔ ایڈولف کو یہ بھی پسند نہیں تھا کہ وہ ایڈولف کا کوئی دوسرا روپ دیکھے جس سے اس کے دل میں ایڈولف سے نفرت پیدا ہو۔ اسی لیے اس نے ہمیشہ ایوا کو سیاست سے دور رکھا۔ ایوا نے بھی کبھی یہ نہیں جاننا چاہا کہ اس محبت سے باہر کی دنیا میں ایڈولف کا روپ کیسا ہے؟ کبھی کبھی کہیں نہ کہیں سے اس کی دوسرے روپ کی اسے سن گن مل بھی جاتی تو وہ اسے نظر انداز کر دیتی۔ اسے ایڈولف کا صرف محبوب والا چہرہ ہی پسند تھا اور وہ اپنے معشوق کے کسی سفاک چہرے کو دیکھنے سے ڈرتی تھی۔ وہ تنہائی پسند ہو گئی تھی۔ اس کی اپنی ایک الگ دنیا تھی۔ خیالوں کی دنیا جہاں صرف اس کا شہزادہ تھا اور وہ تھی۔ اس کی یہ ادا اور اس کی یہ دنیا ایڈولف کو بھی بہت پسند تھی۔

وقت آگے بڑھتا رہا۔ ایڈولف اب جرمنی کا چانسلر تھا۔ ساری دنیا کی سیاست رخ بدل رہی تھی۔ ایڈولف اپنی سفاکیت کا کھیل کھیل رہا تھا۔ وہ سنگ دلی کے ساتھ انسانیت سوز فیصلے لے رہا تھا۔ وہ پھر ایوا کی طرف سے غافل ہونے لگا تھا۔ ایوا اتنی حساس تھی کہ وہ لفظوں سے نہیں ابرو کے اشارے سے بھی ایڈولف کے دل کا حال جان جایا کرتی تھی لیکن اب تو کئی کئی دن ہو جاتے وہ ایڈولف سے ملنا تو دور دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی۔ ایڈولف پھر سیاست کو محبت پر ترجیح دینے لگا تھا، لیکن محبت یہ کج ادائی کہاں برداشت کر پاتی ہے۔ ایوا ایک بار پھر ہجر کے لمحوں کی زد میں تھی، وہ برہن ایک امید ایک آس لیے محبوب کی منتظر تھی۔

اس دن بھی ایڈولف نے اس سے ملنے کا وعدہ کیا تھا، وہ پہلے بھی ایسے کئی وعدے کر چکا تھا جنہیں وفا نہیں کر پایا تھا۔

سنہری بالوں میں نیلے رنگ کا چھوٹا سا کلپ، ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک، عارض پر ہلکی سی سرخی، ہلکے آسمانی رنگ کا گاؤن پہنے وہ قیامت خیز لگ رہی تھی۔ آنکھوں میں انتظار کے دئیے روشن تھے۔ وہ سراپا انتظار بن چکی تھی۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل کی بے چینیوں میں اضافہ کر رہا تھا۔ گھڑی کی سوئیاں اپنا کام کرتی رہیں اور اس کے دل کی دھڑکنیں اپنا۔ ہر آہٹ اسے کہتی! وہ آ گیا، میرا محبوب آ گیا! وہ دوڑ کر دروازے تک جاتی لیکن مایوس لوٹ آتی۔ صبح دوپہر میں، دوپہر شام میں اور شام اداس ہو کر رات میں ڈھلنے لگی تھی۔

آسمان نے بھی آج تاریکی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، نہ چاند مسکایا تھا نہ ستاروں نے آنکھ مچولی کھیلی تھی۔ ایوا کو قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ جو لمحہ بہ لمحہ قریب ہوتی جا رہی تھی، ہر قدم کی آواز پر پر اس کے دل کی دھڑکنوں کی بے تابی بھی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ وہ بے قرار دوڑتی ہوئی دروازے پر گئی لیکن یہ کیا وہاں تو کوئی نہ تھا۔

پھر کوئی آیا دل زار، نہیں کوئی نہیں

راہ رو ہو گا کہیں اور چلا جائے گا

ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار

لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ

سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار

اجنبی خاک نے دھندلا دئیے قدموں کے سراغ

گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ

اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

رات کے پچھلے پہر جب ایوا کی ساری امیدوں نے دم توڑ دیا ایک کار باہر آ کر رکی۔ ادھر ایوا کے ہاتھ شیشی کی طرف بڑھے، ادھر قدم بڑھتے گئے ادھر گولیاں پانی کے سہارے جسم میں گھلتی چلی گئیں۔

’’ایوا ایسے سو گئیں یوں بے حال؟ جانتا ہوں انتظار کے لمحے طویل ہوئے لیکن دیکھو وصل کا مزہ بھی تو تب ہی ہے نا جب ہجر صبر کا دامن چھوڑنے لگے۔‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے مسکراتا ہوا ایوا کے قریب آ گیا۔

ایوا کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے تھے۔ اس کے کانوں میں ایڈولف اپنے محبوب کی آواز سنائی دینے لگی۔ اس نے بڑی مشکل سے پلکوں کو اٹھایا ایک نظر ایڈولف کی طرف دیکھا اور پلکیں جھک گئیں۔ یہ پلکوں کا اٹھنا اور گرنا ساری داستان بیان کر گیا۔ سارے شکوے سنا گیا کہ

تیرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

ایڈولف ایک بار پھر اپنی محبت کو دور جاتا دیکھ رہا تھا۔ سفاک ایڈولف کے لیے اپنی محبوبہ سے جدائی کا تصور بھی سوہان روح تھا۔ اس کے تڑپتے دل سے بے شمار دعائیں نکلیں، تدبیریں پھر رنگ لائیں۔ محبت پھر جیت گئی، ہجر پھر ہار گیا وصل نے شادیانے بجا دئیے۔

ان دہشت زدہ لمحوں نے ایک بار پھر ایڈولف کو ایوا کے نزدیک لا دیا تھا۔

ادھر دوسری جنگ عظیم میں ایڈولف جرمنی کو جھونک چکا تھا۔ غلط فیصلوں کے نتیجے میں شکست تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ تب ایڈولف نے اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کیا۔ اس نے 29 اپریل 1945 کے دن کو اپنی زندگی کا یادگار دن بنا ڈالا۔ اس دن اس نے دھوم دھام سے اپنی معشوقہ کو بیوی کا درجہ دے دیا۔ شب وصل خوشیوں کی بارات لے کر آئی تھی۔ ایوا نے سفید گاؤن پہن رکھا تھا۔ محبت کو حقیقی معنوں میں پا لینے کی سرشاری اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔ وہ دنیا کی سب سے حسین عورت تھی، سب سے خوش قسمت تھی۔ عمر کے سترھویں سال میں اس کی بالی عمر نے پلکوں پر ایک سنہرا سپنا سجایا تھا جسے تعبیر 33 سال کی عمر میں ملی تھی۔ ایڈولف اسے لے کر کمرے میں چلا آیا۔ باہر جشن چلتا رہا۔

اب ایڈولف اس کے بہت قریب تھا۔ اس کی بہت ساری پیار بھری سرگوشیاں ایوا کے کانوں میں رس گھولتی رہیں۔ یہ ایڈولف کا انوکھا روپ تھا جو صرف اور صرف ایوا کے سامنے تھا۔ یہ وہ روپ تھا جسے اس نے ساری دنیا سے چھپا کر رکھا تھا۔ وہ کتنا نرم دل تھا، کیسا محبت کرنے والا تھا بس یا تو وہ جانتا تھا یا ایوا اس وارفتگی کی گواہ تھی۔

ایوا کو پیاس محسوس ہوئی۔ ایڈولف نے ہاتھ بڑھا کر مشروب اٹھایا اور ایوا کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ ایوا نے اس کی بانہوں میں سمائے سمائے پورا گلاس خالی کر دیا کہ اس کی پیاس میں شدت تھی۔ گلاس کے مشروب کے ختم ہوتے ہوتے ایڈولف کے ہونٹوں پر پُر اسرار مسکراہٹ رینگنے لگی تھی۔ ایوا نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی نظروں میں حیرانی تھی۔ سوال تھا، میرے محبوب یہ تم نے کیا کیا؟ لیکن کچھ کہنے کے لیے اس کے لب وا نہ ہو سکے اور اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔

رات گزرتی چلی جا رہی تھی۔ گھڑیال نے تین بجنے کا گھنٹہ بجایا۔ کلینڈر نے اپنی تاریخ بدل لی تھی 30 اپریل 1945۔ ابھی ایڈولف کی شادی کا جشن ختم بھی نہ ہوا تھا، رقص و سرور کی محفل زوروں پر تھی۔ دفعتاً گولی چلنے کی آواز سنائی تھی، رقص کرتے پیر جہاں تھے وہیں تھم کر رہ گئے، سارا مجمع اس سمت دوڑ پڑا جدھر سے وہ آواز آئی تھی۔

ایڈولف کے سر سے خون بہہ رہا تھا جبکہ ایوا کی زہریلے مشروب کی وجہ سے موت ہو چکی تھی۔ وہ دونوں شادی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی اپنی محبت کو امر کر دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔

ایک درد بھری آہ میرے لبوں سے بھی نکلی لیکن جلد ہی نفرت کا رنگ غالب آ گیا۔ میری سوچیں مجھے ہٹلر کے مختلف چہروں اور اس سے وابستہ کہانیوں کو بازگشت بنا رہی تھیں۔

ہٹلر کو دنیا نے ایک قاتل مرگ انبوہ مانا ہے۔ وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اسے عظیم انسان بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔ ایسی ہی ایک مداح ساوتری دیوی تھیں جن کی مداحی کا عالم یہ تھا کہا انہوں نے ہٹلر کو اوتار قرار دے دیا تھا۔ وشنو کا اوتار۔ اور اس بات کا ذکر باقاعدہ انہوں نے اپنی کتاب "The lightning and the sun” میں کیا ہے۔ در اصل ساوتری دیوی قوم پرستی کو لے کر ایک خاص سوچ رکھتی تھیں۔ انہیں یقین کامل بھی تھا کہ قوم پرست سوشلزم ضرور اپنے آپ کو منوائے گا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ساوتری دیوی ہندوستانی خاتون نہیں تھیں نہ ہی ہندوستانی نژاد۔ وہ تو ایک برطانوی ماں کے بطن سے اپنے اطالوی باپ کے نطفے سے وجود میں آئی تھیں۔ وہ 1905ء میں فرانس کے شہر لیون میں پیدا ہوئی تھیں۔

وہ سماج واد کی سخت مخالف تھیں انہوں نے 1978ء میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایک بد صورت لڑکی کبھی خوبصورت لڑکی کے برابر نہیں ہو سکتی۔

ہٹلر عورت اور مرد کے مساوی حقوق کو نہیں مانتا تھا اس کے باوجود اس نے خالص آرین نسل کو بچانے کے لیے ماں کے مرتبے کو اہمیت دی تھی گو کہ یہاں بھی اس کی یہود دشمنی ہی کار فرما تھی۔ وہ خالص آرین نسل چاہتا تھا۔ وہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماؤں کو تمغے سے نوازتا تھا۔ آٹھ یا دس بچے پیدا کرنے والی ماں اس کے لیے سب سے قابل انعام ہوتی تھی اسے سونے کا تمغہ honour cross جبکہ چھ پر چاندی کا اور چار بچوں پر تانبے کا تمغہ دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اگر کوئی عورت یہودی، پولینڈ یا کسی فرانسیسی مرد سے تعلق قائم کر لیتی تو سخت ترین سزا کی مجرم قرار پاتی۔ اس کے سر کو منڈوا کر چہرے پر کالک پتوا کر اس کے گلے میں ایک کارڈ ٹانگ دیا جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’میں نے قوم کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔‘‘

انہی خیالات کی وجہ سے ساوتری دیوی ہٹلر کے نظریات کی طرف مائل ہوئیں اور انہیں مثبت انداز سے دیکھا اور سمجھا۔ وہ جرمنی اور یونان کو مظلوم ممالک میں شمار کرتی تھیں۔ ہٹلر ان کی آئیڈیل شخصیت تھا کیونکہ اس نے آرین نسل کو بچانے کا عظیم کارنامہ انجام دیا تھا۔ ہٹلر کو وہ ایک زمانہ ساز انسان کے روپ میں بھی دیکھتی تھیں۔ وہ اپنی راہ بنانے والا مجاہد فطرت انسان تھا۔ زمانے کی رفتار کے برعکس وہ اپنی راہ بنا کر اس پر گامزن ہو جانے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ برائیوں کو ختم کرنے کا مستحکم عزم بھی اسی کے اندر تھا۔ ساوتری دیوی کے نزدیک اس کی عظمت کے کئی جواز تھے۔ وہ اس بات پر بھی یقین رکھتی تھیں کہ ایک دن آریوں کی حکمرانی کا سنہرا دور ضرور آئے گا۔

خالص آرین نسل کی تلاش انہیں ہندوستان لے آئی کیونکہ یہاں انہیں ذات پات کا ایک منظم نظام رائج ملا تھا۔ ایک ذات کے لوگ دوسری ذات میں شادی بیاہ نہیں کرتے تھے اس وجہ سے ان کی نسلیں خالص تھیں۔ انہوں نے یہاں ایک برہمن جو کہ ان کی نظر میں خالص آرین تھے، سے شادی کی۔

ساوتری دیوی نے نہ صرف اپنے کٹر خیالات و نظریات پر زندگی گزاری بلکہ ہندوستان میں قوم پرستی کے فروغ کے لیے بہت سے کام بھی انجام دئیے۔ قوم پرستی کی ان کی تبلیغ نے ہندوستان کی یکجہتی پر برے اثرات ڈالے۔ ان کی تحریک کے ذریعے ہندوتو تحریک کو طاقت و توانائی ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے۔ ہندو ہی آریوں کے اصل وارثین ہیں۔

زندگی کے آخری دور تک وہ دہلی میں رہیں۔ 1948 میں ساوتری دیوی یوروپ چلی گئیں اور جرمنی پہنچ کر نازی تحریک کی سر گرمیوں میں مصروف ہو گئیں لیکن عمر عزیز کا آخری حصہ انہوں نے پھر ہندوستان دہلی میں گزارا۔ 1982ء میں وہ انگلینڈ گئی ہوئی تھیں جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔

ہٹلر نے بیشتر لوگوں کی زندگی کے نظریات پر منفی اثرات ہی ڈالے ہیں، معدودے چند لوگوں کے۔ باوجود اس کے کہ وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اس کے اندر سے کچھ مثبت بھی نکال ہی لیتا ہے۔ جیسا کہ صادقہ نواب سحر کے ناول ’جس دن سے ‘ (2016) کا کردار جیتو بھی ہمیں ہٹلر کا فین ملتا ہے۔ ہٹلر کا فین ہونا بھی تو انسان کی کتنی بڑی خوبی شمار کی جا سکتی ہے کہ اس میں منفی سے مثبت نکالنے کا کتنا بڑا ہنر ہے۔ یقیناً یہ ہنر اس کی شخصیت کو پختگی عطا کرتا ہے۔ جیتو ہٹلر کی مستقل مزاجی کی خوبی کا قائل نظر آتا ہے۔ القصہ مختصر دنیا میں ہر شخص ایک طرح سے نہیں سوچتا اسی کو نیرنگی خیالات کہا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

منبع علم و نور ۔  ہمبولڈ یونیورسٹی

آج ہم وہاں جا رہے تھے جہاں جانے کی میری بڑی تمنا تھی، جہاں جا کر اپنے آپ پر فخر ہونا تھا۔ جی آج ہم ہمبولڈ یونیورسٹی دیکھنے کے لیے جا رہے تھے۔ یہ وہی عظیم یونیورسٹی ہے جس سے منسوب نام نے دنیا کی تاریخ کو نیا ا ٓیام دیا۔ جس میں البرٹ آئین اسٹائن نے بحیثیت پروفیسر کے اپنی خدمات انجام دی تھیں۔ وہی آئین سٹائن جس کی موت کے بعد اس کے دماغ کی چوری اس راز کو پانے کے لیے ہوئی کہ آخر وہ اتنا ذہین کیسے تھا۔ وہ آئین سٹائن جو دنیا کا واحد شخص تھا جس نے اپنے دماغ کا چھ سے سات فیصد حصہ استعمال کیا جبکہ عام آدمی محض ایک فیصد ہی استعمال کر پاتا ہے۔ البرٹ آئین اسٹائن جو کہ ماہر طبیعات تھا جس نے تاریخ انسانی میں بحیثیت سائنسدان طبیعات کی وہ تاریخ رقم کر دی جس پر علم طبیعات نے اپنی پوری ارتقائی منازل طے کیں۔ آئین اسٹائن نے نیوٹن کے مقلدین کو ایک بڑا جھٹکا دے کر گریوٹی کے قوانین کی وضاحت کر تے ہوئے ’’نظریہ اضافیت‘‘ پیش کر دیا۔ نیوٹن نے ایک سیب کے گرنے پر گریوٹی کے اصول کو سمجھا تھا اسی طرح آئین اسٹائن کی زندگی کا بھی ایک واقعہ جو بظاہر معمولی تھا لیکن سوچ کے نئے در وا کر گیا تھا۔ ایک روز وہ اپنے دفتر میں بیٹھا تھا، کھڑکی کھلی تھی اس کے دفتر کی بھی اور ذہن کی بھی۔ نظروں کے سامنے ایک بلند و بالا عمارت تھی، دفعتاً اس کے ذہن میں ایک خیال کوندا، ایک لمحہ تھا جس نے اس کی سوچ کو نئے زاویے دے دئیے کہ اگر کوئی شخص اس بلڈنگ سے نیچے گرے تو کیسا محسوس کرے گا؟ ہم ہوتے اس جگہ تو سوچتے کہ ڈر اور خوف محسوس کرے گا اور کیا کرے گا؟ مگر وہ تو بھئی آئین اسٹائن تھے جن کا دماغ ہی اعلیٰ نہیں بلکہ مختلف بناوٹ کا حامل تھا بھلا وہ ہماری طرح کیسے کام کرتا۔ ان کے دماغ میں یہیں سے وہ روشنی کوندی جس نے اسے ہوا کی رگڑ اور چیزوں کے ٹکرانے کے عمل پر کام کرنے کی ترغیب دے ڈالی۔ اب دیکھیے ایک سیب کا گرنا ایک آدمی کا گرنا کیسے کیسے خیال ہیں، اب سوچئیے گرنا بھی کیا کیا گل کھلاتا ہے۔ ہمارے شاعر حضرات تو کہتے ہیں کہ ’مزہ تو تب ہے کہ گرتے کو تھام لے ساقی‘ بس گرتے ہوئے کو سوچنا کمال ہو گیا۔ آئین اسٹائن کو ان کی بیش بہا خدمات کی وجہ سے فزکس کا نوبل انعام حاصل ہوا۔ یہی نہیں آئین اسٹائن کو اسرائیل کا صدر بننے کی بھی پیش کش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔

آئین اسٹائن کی جائے پیدائش جرمنی کا شہر الم Ulm ہے۔ ان کے والدین ہر مین آئین اسٹائن اور ماں پاؤلین کوچ۔ والد بزنس مین تھے۔ آئین اسٹائن کی ابتدائی تعلیم میونخ میں ہوئی لیکن وہ وہاں کے طریقہ تعلیم سے مطمئن نہیں تھے۔ وہاں بچوں کو رٹا لگوایا جاتا تھا۔ ظاہر ہے رٹا لگانا ذہین بچوں کے لیے ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اٹلی چلے گئے۔ اٹلی سے سویٹزرلینڈ گئے۔ وہ ہٹلر کے ہٹلری قانون اور یہود دشمنی کی وجہ سے اپنے وطن جرمنی سے ملک بدر ہونے پر مجبور ہوئے۔ ایک طویل عرصے کے بعد وہ دوبارہ جرمنی آئے اور برلن کی اس یونیورسٹی سے منسلک ہوئے۔

یہ یونیورسٹی میرے لیے اس لیے بھی اہم تھی کہ اردو انجمن برلن کے صدر جناب عارف نقوی صاحب کا بھی تعلق اسی یونیورسٹی سے رہا ہے۔ اسی وجہ سے مجھے یہاں کی فضا مانوس سی نظر آئی۔ عارف نقوی صاحب 26 نومبر 1961ء میں جرمنی آئے، یہاں آنے کا ان کا مقصد ویسے تو جرمن زبان سیکھنا اور جرمن ڈراموں پر ریسرچ کرنا تھا اور انہوں نے اپنے مقصد میں کامیابی بھی حاصل کی۔ پہلے لائپزگ میں جرمن زبان کا کورس مکمل کیا پھر 1962ء میں برلن آ کر ہمبولٹ یونیورسٹی میں تھئیٹر سائنس کے انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ شروع کی۔ تعلیم کے ساتھ ہی تدریس کو بھی انہوں نے اپنا لیا۔ 1962ء سے ہی اسی یونیورسٹی میں بطور استاد اردو اور ہندی پڑھانے کی ذمے داری سنبھال لی۔ پھر دو سال بعد مستقل لکچرر کی حیثیت سے ان کا یہاں تقرر ہو گیا۔ جہاں سے انہیں 1967ء میں ریڈیو برلن انٹرنیشنل (مشرقی برلن) سے ریڈیو پروگرام تیار کرنے کا دعوت نامہ ملا جسے وہ یونیورسٹی میں پڑھانے کے بعد وقت نکال کر تیار کرنے کے لئے جاتے تھے۔ اس یونیورسٹی سے ان کی وابستگی 1992 میں ریٹائر منٹ کے بعد تک رہی۔

یونیورسٹی کے گیٹ کے دونوں طرف لگے سفید مجسمے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے جن کی بلندی کہہ رہی تھی کہ علم نے ہی تو انسان کو اشرف بنا کر اسے پرواز دی ہے۔ قریب جا کر دیکھا تو اس پر کنندہ تھا الیگزینڈر فان ہمبولٹ (1769 -1859) یہ وہی ہستی ہیں جن کے نام پر یہ یونیورسٹی منسوب ہے۔ مجسمے کے چہرے پر متانت ہے ہلکی سی مسکان، بائیں ہاتھ کے نیچے گلوب ہے۔ الیگزینڈر فان ہمبولٹ ماہر فطرت، ماہر جغرافیہ، ریسرچ ٹریولر، فطرت کے تحقیق کار اور ایک فلاسفر کے روپ میں جانے جاتے ہیں۔ نباتات کے ذیل میں ان کی قابل قدر خدمات رہی ہیں۔ اندر داخل ہونے پر اینٹوں سے بنا پختہ راستہ ہے اور سامنے یونیورسٹی کی وسیع و عریض عمارت نظر آتی ہے، جس کے بیچ میں برمن فن ہیلم بولٹز (1894-1821) کا مجسمہ ایستادہ ہے۔ بولٹز ایک ماہر طبیعات اور جدید سائنس کا بانی تھا۔ اس نے جن شعبوں میں تحقیق کے کارنامے انجام دئیے ان میں جسمانیات اور طبیعاتی وقت پر توانائی کے تحفظ اور بنفشی روشنی کی طولانی شامل ہیں۔ ان کی اصل دریافت آنکھ کی روشنی کے عنصر اور عصبی ریشوں سے متعلق تھی۔

بولٹز کے مجسمے کی طرف نگاہ کیا اٹھی، بلند ہی ہوتی چلی گئی، جھکنا ہی بھول گئی کیونکہ نظارہ ہی اتنا خوبصورت تھا۔ چھت پر سفید جھنڈا لہرا رہا تھا اور اس کے دونوں طرف چھ مورتیاں تھیں۔ جنہیں دائیں طرف سے دیکھیے تو پہلا مجسمہ ایک خوبرو نوجوان کا تھا جو ایک چھوٹے ستون سے ٹکا کھڑا تھا، دوسرا مجسمہ ایک نازنین کا تھا جو ایک ادا سے قدرے مڑ کر اس نوجوان سے مخاطب نظر آ رہی تھی۔ تیسری بھی ایک کمسن سی لڑکی جس کا رخ اس کی بائیں جانب لگے نوجوان مجسمے کی طرف تھا۔ وہ نوجوان اس حسینہ کی طرف متوجہ تھا۔ اسی طرح پانچویں نازنین بھی اپنے ساتھی سے کچھ کہہ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اہم بات ہے جو وہ ایک دوسرے سے گوش گزار کر رہے ہیں۔ جب میں نے اس خیال کا اظہار کیا تو رہبر صاحب نے اس کی پوری تفصیل بتائی کہ ’’جی ہاں یہ مجسمے آپس میں باتیں ہی کر رہے ہیں یہ اپنے مکین کی شادی کی خوش خبری ایک دوسرے کو دے رہے ہیں‘‘۔

’’یونیورسٹی میں شادی!!!‘‘ میں نے حیران ہو کر کہا۔

یہ عمارت جب تعمیر ہوئی تھی اس وقت یہ شہزادہ بینرچ کے محل کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ بعد میں اس عمارت میں بادشاہ فیرڈرک دوئم نے مزید اضافہ کیا۔‘‘

’’خوب، تو یہ مجسمے کیا کہتے ہیں؟‘‘

’’یہ اٹاری کے مجسمے جوہان پیٹر بینکرٹ اور جوہن میتپاس گوٹلیپ ہیمولر نے تیار کیے تھے۔ ان مجسموں میں اشاروں سے بات چیت کرنے والے جوڑے مکین کی شادی کا اشارہ کر رہے ہیں۔‘‘

برلن میں جگہ جگہ خوبصورت اور بڑے بڑے مجسمے نظر آتے ہیں۔ مجسمہ سازی یہاں کے بادشاہوں کا شوق رہا ہے۔ اس کی شروعات اٹھارویں صدی کے وسط میں پوٹس ڈام کے بادشاہ فیرڈرک دوئم کے محل کی چھت پر ایک انتہائی خوبصورت مجسمے کے بننے سے ہوئی تھی جسے دوسری عالمی جنگ نے تباہ کر دیا۔

عشرت نے مزید بتایا کہ ’’پھر اس طریقے کے مجسمے تقریباً پچاس سال بعد ہیمبولٹ یونیورسٹی کی چھت پر بنائے گئے، یہ عمارت 1748 -53 کے درمیان تعمیر ہوئی، جسے پہلے شہزادہ بینرش نے پہلے محل کے طور پر استعمال کیا تھا۔‘‘

تب ہی تو دیکھیے اس کی کھڑکیوں کی محرابوں پر بھی کتنے خوبصورت مجسمے سے بنے ہیں۔‘‘

’’ہاں یہ اُس وقت کے شاہوں کے شوق کی نمائندگی کر رہے ہیں۔‘‘

اندر ایک اور گیٹ تھا جس میں داخل ہونے پر کالے پتھروں کی کشادہ لیکن چھوٹی چھوٹی نو دس سیڑھیاں تھیں۔ یہ وہی سیڑھیاں تھیں جو علم کی نئی روشنی کی طرف لے جاتی ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ان سیڑھیوں پر جو بھی قدم رنجہ ہوا ہو گا زندگی کی نئی تشریح کی طرف اس کی سوچ کے در ضرور وا ہوئے ہوں گے کیونکہ ان سیڑھیوں سے اوپر سامنے کارل مارکس کا مقولہ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

’’فلاسفروں نے دنیا کی صرف مختلف تشریح بیان کی ہے۔ صرف تشریح ضروری نہیں ہے۔ ضروری یہ ہے کہ اس دنیا کو تبدیل کیسے کیا جائے‘‘ کارل مارکس

اس مقولے تک پہنچتے ہی راہیں دو جانب بٹ جاتی ہیں ہم دائیں جانب مڑ گئے۔ پانچ سیڑھیاں چڑھ کر ایک راہ داری تھی دوسری جانب والی سیڑھیاں بھی اسی راہداری کو آتی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک دروازہ تھا جس کے بائیں جانب دیوار پر کالا پتھر نسب تھا جس پر رقم تھا کہ ’’الیکزینڈر فن ہیمبولڈ نے یہاں 1827-28 میں طلباء کو ’’دنیا کی نفسیات‘‘ کے موضوع پر انتہائی اہم یادگار لیکچر دیا تھا۔

اندر ایک بڑا سا ہال تھا جس میں بڑے بڑے فلاسفرز اور سائنس دانوں کی قد آور پینٹنگس لگی ہوئی تھیں۔ سامنے تھوڑا سا اونچا چبوترا تھا، جو شہ نشین کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ رہبر صاحب نے بتایا کہ وہ اس بار اردو انجمن برلن کا پروگرام یہیں کرنا چا ہتے تھے لیکن مطلوبہ تاریخ میں یہ ہال خالی نہیں مل پایا، سن کر مجھے بڑا افسوس ہوا۔ خیر۔

یہ یونیورسٹی ہمارے لیے تو یوں بھی اہم ہو گئی تھی کہ اس وقت جب ہم اس منبع نور کی کرنوں کو دیکھنے کی سعی کر رہے تھے کہ ہمارے میزبان رہبر صاحب نے رہبری کے فرض کو نبھاتے ہوئے بتایا کہ ’’محترمہ یہ جو ہستی آپ کے ساتھ سیر کر رہی ہیں یہ بھی اس یونیورسٹی سے وابستہ رہی ہیں۔‘‘

ہم نے پلٹ کر انہیں دیکھا وہ ایک شان بے نیازی سے مسکرا رہی تھیں۔ یہ مسکراہٹ بھی نا کیسے کیسے انداز رکھتی ہے اپنے آپ میں۔

محبوب کے لیے مسکرا دیں تو ’یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی‘

ہمیں دیکھ کر مسکرائیں تو دوستی کی مضبوطی میں ایک اور اضافہ۔

یونیورسٹی سے وابستگی پر مسکراہٹ ایک فخریہ انداز۔

’’آپ کی کیا وابستگی رہی یہاں؟‘‘

’’یہ یونیورسٹی جرمنی کی میری پہلی درسگاہ ہے، جب میں جرمنی آئی تو یہاں جرمنی زبان کا ایک سال کا کورس کیا‘‘ عشرت نے بتایا۔

’’اوہ ہاں یہاں آ کر تو سب سے پہلے آپ کو جرمن زبان ہی سیکھنا پڑی ہو گی کیا انگریزی سے گزارا ممکن نہیں تھا؟‘‘

’’شاید گزارا تو ہو جاتا لیکن مجھے میرا مستقبل جرمنی میں ہی دکھائی دے رہا تھا اور پھر آگے تعلیم بھی تو جاری رکھنا تھی اس لیے پہلے جرمن زبان ہی سیکھنا تھی نا۔‘‘

مجھے ایسا لگا جیسے مجھے کہہ رہی ہیں بدھو اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔

’’کیسا رہا اس یونیورسٹی کا تجربہ؟‘‘ اس سوال کے ذریعے میں یونیورسٹی کے ماحول کو سمجھنا چاہ رہی تھی۔

’’بہت اچھا کیونکہ یہاں مختلف ممالک سے تشنگان علم سیرابی کے لیے آتے ہیں، انہیں سب سے پہلے زبان دانی کے مرحلے سے ہی گزرنا پڑتا ہے۔ میں نے شعبہ جرمن زبان میں جرمن معاشرے کے اقدار اور روایات ہی کو نہیں سمجھا اور پہچانا بلکہ زبان کے حوالے سے جرمنی کی تاریخ کا بھی مطالعہ کیا۔ یہ زبان کہاں سے اور کیسے جرمنی کی قومی زبان بنی؟ جغرافیائی لحاظ سے خطے کی تقسیم کے بعد آسٹریا اور سوئٹزر لینڈ میں بھی یہ قومی زبان کا درجہ کیوں رکھتی ہے؟‘‘

’’ارے بھئی انہوں نے صرف زبان ہی نہیں سیکھی بلکہ زبان سکھائی بھی ہے اور تو اور آپ کے ملک کی زبان کی بھی ماہر ہیں ہماری بیگم‘‘

’’اب لگے ہیں آپ پاکستانی ورنہ تو آدھے تو کیا پورے ہی جرمن لگتے ہیں۔‘‘ انور ظہیر صاحب کی رنگت اور خد و خال کافی کچھ جرمنوں جیسی ہے۔

’’کیسے؟‘‘

’’بیگم کہہ کر جو پکارا‘‘

’’ہا ہا ہیں بھئی بیگم ہیں تو بیگم ہی تو کہیں گے۔‘‘

’’ویسے عشرت ہمارے ملک کی زبان کا مطلب؟‘‘

’’در اصل جرمنی میں یونیورسٹیز میں ایک ’زبان میلہ‘ اشپراخ بورزے کے نام سے ایک غیر نصابی شعبہ ہوتا ہے جہاں طلباء و طالبات کو دنیا بھر کی زبانیں سیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے، برلن کی تینوں جامعات یعنی ٹیکنیکل یونیورسٹی، فری یونیورسٹی اور ہمبولڈ یونیورسٹی میں یہ، اشپراخ بورزے موجود ہے۔ میں یہاں سے جرمن زبان سیکھ کر فری یونیورسٹی چلی گئی تھی جہاں شعبہ انڈو جرمانک میں اردو اور ہندی جنوبی ایشیائی زبانیں اور ادب پہلے سے موجود تھے، وہاں میں نے ہندی سیکھی اور اردو سکھائی۔‘‘

’’ارے واہ یعنی آپ کو ہندی بھی آتی ہے۔‘‘

’’ہندی کیا انہیں تو بہت ساری زبانیں آتی ہیں، ذرا سی خطا پر نجانے کون کونسی زبانوں میں نجانے کیا کیا سننا پڑتا ہے، بھئی ہمیں تو ڈر ہی لگا رہتا ہے ہمیشہ‘‘۔ رہبر صاحب ہنستے ہنستے کہہ رہے تھے۔

’’بتائیے تو کتنی زبانیں جانتی ہیں؟‘‘

’’یہ تو یونہی بات کرتے ہیں۔ اردو تو مادری زبان ٹھہری پھر انگریزی، جرمنی اور ہندی سیکھی۔ ان کے علاوہ عربی، فرانسیسی، فارسی اور اطالوی کی تھوڑی شد بد ہے یوں کہیے کہ سلام دعا ہے بس‘‘

’’اچھا آپ تو یہ بتائیے پھر آگے کیا ہوا؟‘‘

’’ہاں! تو وہاں میرے ایک پروفیسر ہیلمٹ نسپتال کے توسط سے زبان سیکھنے سکھانے کے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ ایک لسانی ادارہ یورو ایشیا میں اردو اور ہندی پڑھائی جہاں سے ہمبولڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے اپنے طلباء و طالبات کو میرے پاس اردو سیکھنے کے لیے بھیجا اور بعد میں اپنے یہاں اردو ادب پڑھانے کی پیش کش بھی کی۔

پھر آپ نے وہاں جوائن کر لیا؟‘‘

’’ارے نہیں بھئی، جوائن نہیں کر پائی در اصل میں اس وقت اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے میں لگی ہوئی تھی، اس لیے پورا وقت نہیں دے سکتی تھی۔‘‘

پھر کیا کیا؟‘‘

پھر یہ کیا کہ ان کے شاگردوں کو پرائیویٹ ٹیوشن دی اور ان کے امتحانات کی تیاری کروا دی۔ اور میرا یہ تجربہ بڑا کامیاب رہا‘‘

’’وہ کیسے‘‘

’’کیونکہ اس کے بعد مجھے فری یونیورسٹی سے ملحقہ ماکس پلانک انسٹی ٹیوٹ، برلن گریجویٹ اسکول آف مسلم کلچر اینڈ سوسائٹی اور سینٹر آف ماڈرن اورینٹ سے مستقل پڑھانے کا کانٹریکٹ ملتا رہا۔ یہ تمام ادارے برلن فری یونیورسٹی اور ہمبولڈ یونیورسٹی کے ساجھے دار علمی ادارے ہیں۔‘‘

خیر ہے تو واقعی فخر کی بات کہ اس یونیورسٹی کی فضاؤں میں سانس لینے پر ہی ایک غرور کا احساس ہو رہا تھا تو عشرت نے تو وہاں تعلیم پائی بھی اور درس دیا بھی، فخر کرنا تو واجب بنتا ہے۔ عشرت کے اپنے تجربے کی تفصیل سے بیرون ملک سے آنے والے ان لوگوں کے لیے مکمل معلومات حاصل ہو گئیں جو یہاں آنے کے بعد درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہونے کے متمنی ہوں۔

یونیورسٹی کے برابر ہی ایک بلڈنگ جسے اسٹیٹ لائبریری ہاؤس 2 کہا جاتا ہے۔ اس کی کچھ سال پہلے مکمل طور پر از سر نو تعمیر کی گئی ہے جبکہ اسی طرح کی ایک اور بلڈنگ پوسٹ ڈامر پلٹس سے متصل ہے۔ اسے اسٹیٹ ہاؤس لائبریری نمبر ایک کہا جاتا ہے۔ ان لائبریریوں میں نہ صرف اردو، ہندی اور فارسی کی بھی کئی کتابیں موجود ہیں بلکہ روزنامہ اخبارات کا کیٹلاگ بھی یہاں موجود ہے۔

اس یونیورسٹی کو میں دیکھ رہی تھی، اس کی تاریخ کو سن رہی تھی اور مستقبل کا ایک خوشنما خواب بھی پلکوں پر ٹھہرنے لگا تھا۔ ہاں ویسا ہی خواب جو ہر ماں کا اپنے بچوں کے لیے ہوتا ہے۔ ایک دن میں بھی علم کے حصول کی خاطر ایان مشا کو اس یونیورسٹی تک بھیجوں گی۔ پھر دوسرے خیال نے اسی دم ڈرایا اتنی دور؟ نہیں بابا! اتنی دور! نہیں بھیجوں گی۔

علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے کہیں سے حدیث کی بازگشت سنائی دی دوسرے خیال کو مسترد کرتے ہوئے مصمم ارادہ کیا کہ ایان مشا کو ضرور بھیجنا ہے اور میں مسکرا دی۔ یوں ایک اچھے پیارے سے مستقبل کے خواب کو پلکوں پر لیے ہم وہاں سے نکل آئے۔ دامن بہت ساری معلومات سے پُر تھا۔ دل سر شار دماغ کو نئی جلا ملی ہوئی تھی۔ آج میں بہت مسرور تھی۔

٭٭٭٭

محبت فاتح عالم

برلن ایک ایسا طلسماتی شہر ہے، جہاں کی فضائیں ماضی سے کچھ یوں پیوستہ ہیں کہ قدم قدم پر ہمیں ٹھہر جانے اور مڑ کر پیچھے دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس شہر طلسماں کی خاصیت یہ ہے کہ مڑ کر دیکھنے پر یہ ہمیں پتھر کا نہیں کرتیں بلکہ ساکت و جامد پتھر ہمیں ایک نیا جوش ہمت اور حوصلہ دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ پتھر کی سلیں جو برلن کی سیر کرتے وقت جا بجا نظر آتی ہیں انہیں دیکھ کر کہ قدم قدم پر ہمیں رک جانا ہوتا ہے اور ان سے ان کی کہانی سننا ہوتی ہے۔ یہ باقیات دیوار مجبور کرتے ہیں ان کی تاریخ جاننے کے لیے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کا مشرقی حصہ سوویت یونین کے پاس چلا گیا جبکہ مغربی حصے پر فرانس، برطانیہ اور امریکہ کا قبضہ ہوا۔ مشرقی جرمنی کے باشندے کمیونزم نظام کے عتاب سے تنگ آ کر مغربی جرمنی جہاں کیپٹلزم نظام رائج تھا، کی طرف تیزی سے ہجرت کر رہے تھے۔ مہاجروں کی یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مشرقی اتحاد کو اس پر کنٹرول کرنے کا کوئی طریقہ ہی سجھائی نہیں دے رہا تھا سوائے اس کے کہ مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان یہ آہنی پردہ حائل کر دیا جائے۔ سو یہ قدم اٹھایا گیا تاکہ ان کے مقبوضہ علاقوں میں عمل دخل نہ ہو سکے۔ تقریباً 155 کلو میٹر لمبی اس دیوار نے جرمن عوام کے دلوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ پہلے 1961ء میں خار دار تار لگائے گئے جنہوں نے ٹوٹے دلوں کو تقسیم کے گہرے زخم دئیے جس کی زد میں اچانک ہی کئی خاندان آ گئے تھے پھر 1962 سے 1965 تک ان خاروں کو مزید مضبوط کیا گیا اور اس کے بعد 1965 سے 1975 کے درمیان اسے سیمنٹ کنکریٹ کا بنایا دیا گیا۔ اس طرح اس دیوار کی تعمیر چار مراحل میں مکمل ہوئی تھی۔

’’جب اچانک یوں اس دیوار کو بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہو گا تو لوگوں پر کیا بیتی ہو گی؟ لوگ تو بہت بے چین رہے ہوں گے؟ اسے برداشت کرنا آسان تو نہ رہا ہو گا؟‘‘ میں نے عشرت سے پوچھا

’’ہاں! بڑا اذیت ناک دور تھا، کئی سو لوگوں نے اسے پھلانگنے کی کوشش کی اور اپنی جان گنوا بیٹھے۔‘‘

سن کر دل اداس ہو گیا۔ عشرت نے فضا کو خوشگوار بنانے کے لیے فوراً ہی ہمیں دیوار برلن کی ان دو سلوِں کی طرف متوجہ کرایا جن پر شوخ رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ ایک سلِ پر ایک نوجوان کا چہرہ تھا دوسری پر ایک لڑکی کا، بڑی اچھی پینٹنگ تھی جو بھلی لگ رہی تھی۔ اسے دکھاتے ہوئے دیوار برلن گرائے جانے کا واقعہ بھی انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں سنایا، در اصل عشرت اور رہبر صاحب دونوں ہی شاعر بھی ہیں، افسانہ نگار بھی اور کالم نویس بھی تو ان دونوں کے پاس گفتگو کا جو فن ہے وہ بہت متاثر کرتا ہے۔ یہ شہر کی تاریخ سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ جب کوئی تاریخی واقعہ بیان کرتے ہیں تو حقائق کے ساتھ وہ واقعات بھی زیر زباں ہوتے ہیں جو خصوصی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ میری خوش نصیبی یہ رہی کہ برلن کی سیر میں نے کسی گائیڈ کی رہنمائی میں نہیں بلکہ دو ادیبوں کے ساتھ کی اس لیے اس کا لطف کچھ الگ ہی رہا۔

تو بات ہو رہی تھی دیوار برلن کے انہدام کے خوش گوار واقعے کی جس کے راوی تھے اردو انجمن برلن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر صاحب کہنے لگے ’’جانتی ہیں الفاظ کے استعمال میں اگر ذرا سی بھی چوک ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟‘‘

میں نے کہا ’’کیا ہوتا ہے ذرا سی خطا صدیوں کی سزا بن جاتی ہے اور ایک نقطے کا غلط استعمال بھی خدا سے جدا کر دیتا ہے۔‘‘

’’بالکل درست جواب‘‘

’’لیکن اس کا دیوار برلن سے کیا تعلق؟‘‘ میں نے پوچھا

’’تعلق ہے، ہوا یوں کہ 9 نومبر 1989 کو شام کے ٹھیک چھ بج کر 53 منٹ پر مشرقی جرمنی کے کمیونسٹ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار گنٹر شاہ بوسکی نے ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ اب مشرقی جرمنی سے لوگ مغربی جرمنی کا سفر کر سکتے ہیں اور اس میں آہستہ آہستہ نرمی کی جائے گی۔ اس اعلان میں خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے اس میں کسی خاص مدت کا اعلان نہیں کیا۔ نتیجتاً اٹھائیس سال کا باندھ اب کہاں رکنے والا تھا۔ لوگوں کا سیلاب تھا کہ جس نے سالوں کا سفر منٹوں، گھنٹوں میں طے کر ڈالا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک ہی قوم کو اٹھائیس سال تک الگ رکھنے والا نظام کیسے درہم برہم ہوا۔‘‘

’’اوہ‘‘ میں دیوار کے بننے اور پھر اس کے گرنے کی داستان کو بڑے ہی انہماک سے سن رہی تھی۔

عشرت بتا رہی تھیں کہ ’’جس دن دیوار گرائی گئی اس دن کی یاد کو یہاں ہر سال بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے، بہت روشنی ہوتی ہے، بہت رنگا رنگ تقاریب ہوتی ہیں، ہزاروں غبارے ہر اس جگہ پر سجائے جاتے ہیں جہاں سے دیوار برلن گزرتی تھی۔ دیوار کا بننا بہت درد انگیز تھا، بہت سارے لوگ اپنوں سے ایسے بچھڑے کہ مل ہی نہ پائے، کچھ لوگوں نے دیوار پار کرنے کی کوشش کی تو انہیں زندگی سے ہی ہاتھ دھونے پڑے لیکن ایسا بھی ہوا کہ محبت جیتی بھی۔‘‘

’’وہ کیسے‘‘

’’ارے میڈم محبت دیواروں کے وجود کو کہاں مانتی ہے، وہ تو دلوں میں بستی ہے۔‘‘ رہبر صاحب گویا ہوئے۔

’’بجا فرمایا‘‘

’’ویسے تو اس دیوار تلے کئی کہانیاں دفن ہوئیں ہیں لیکن ایک کہانی تو بڑی دلچسپ ہے۔‘‘ عشرت کے پاس ہمیشہ بڑے اچھے قصے ہوتے ہیں۔

’’وہ کیا؟‘‘

’’وہ یہ کہ ایک سولہ سالہ دو شیزہ کو اپنے دوست سے محبت ہو گئی لیکن قبل اس کے کہ اس کی محبت کسی رشتے میں بندھتی اچانک 1961 میں ان دونوں کے درمیان ظالم حکومت نے سچ مچ کی دیوار ہی اٹھا دی، دو پیار کرنے والے دل اس آہنی دیوار نے جدا کر دئیے لیکن پھر بھی ’آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو‘ پر عمل کرتے ہوئے وہ امید کا دامن تھامے رہے اور اٹھائیس سال بعد یہ دنیاوی جب دیوار ڈھا دی گئی تب انہوں نے ایک دوسرے کو ڈھونڈ نکالا اور آج وہ ہنسی خوشی اپنے بیٹے کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں‘‘

واقعی یہ تو بہت اچھی داستان ہے، کہ یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم

٭٭٭

سجدوں کی گواہ زمین

آج ہم برلن شہر کے علاقے کرائس برگ سے گزر رہے تھے جسے منی استنبول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ منی استنبول کا علاقہ جہاں ترکی کے لوگ رہائش پذیر ہیں یہ بڑا پر رونق علاقہ ہے، ایسا لگ رہا تھا کہ ہم ترکی کے کسی شہر میں گھوم رہے ہوں، یہ علاقہ ان ہی کی تہذیب و ثقافت کی آماجگاہ ہے۔ وں سے ہم نے ایک ترکی اسٹور غازی گیدا سے بچوں کے لیے ٹافیاں، کھلونے خریدے۔ ترکی کے وہ لوگ جنہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کی دوبارہ تعمیر کے لیے گیسٹ ورکر کے طور پر لایا گیا تھا۔ جرمنی کی از سر نو تعمیر انہی کے ہاتھوں ہوئی تھی گو کہ ان لوگوں کو ایک معینہ مدت کے لیے لایا گیا تھا لیکن ان میں سے بیشتر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اب یہاں ان کی تیسری چوتھی نسل آباد ہے۔ اب یہ قوم نوکری کے بجائے تجارت کو پسند کرتی ہے۔ اس علاقے سے جب ہم گزر رہے تھے تو وہاں ایک مسجد نظر آئی، ہم وہاں رک گئے۔ صہت لک مسجد ہے، صہت لک ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’شہیدوں کا قبرستان‘ جو کہ اسی مسجد میں ہے۔ مسجد کا ایک بہت بڑا خوبصورت جالی دار دروازہ تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی سامنے ایک دائرہ نما شہر خموشاں تھا۔ جس کے مکین زندگی کے سفر کو مکمل کر دوسری دنیا میں منتقل ہو چکے تھے۔ اب خاموش مہر بہ لب اپنی آرام گاہوں میں یوں بے نیازی سے استراحت فرما رہے تھے جیسے اس فانی دنیا سے کبھی کوئی رشتہ ہی نہ رہا ہو۔ کیسے بے مروت لوگ تھے جو اپنی نئی دنیا بساتے ہی پرانے تعلقات یکسر بھلا گئے۔ چاروں طرف سناٹا تھا جو روح میں اتر رہا تھا، کیونکہ اس وقت نہ تو کسی نماز کا وقت تھا نہ ہی کسی نئے مکین نے رخت سفر باندھا تھا کہ احباب رخصت کرنے کے لیے آئے ہوتے تو کچھ چہل پہل ہوتی۔ رات کا وقت، جائے عبرت، ہلکی دھیمی دھیمی سی روشنی روح پرور منظر پیش کر رہی تھی۔ نظر اٹھائی تو بائیں جانب مسجد کے دو بلند مینار اور بیچ میں گنبد فروزاں دکھائی دیا۔ اس کے دونوں مینار اسی طرح کے تھے جیسے ہمارے یہاں کی مساجد کے ہوتے ہیں لیکن انہیں جو خوبصورتی عطا کی گئی تھی اور جس انداز سے سنہری روشنی ان میں سے پھوٹ رہی تھی وہ دل پر عجب کیفیت کا موجب بن رہی تھی۔ گنبد سے بھی وہی سنہری روشنی جالیوں سے چھن چھن کر آ رہی تھی، گہرا سیاہ آسمان تاریکی میں ڈوبا ہوا، نیچے جائے عبرت ان پر میناروں اور گنبد سے آتی روشنی کی کرنیں۔ کیسا منظر تھا جس نے ہمارے الفاظ چھین لیے تھے ہم تینوں خاموش با ادب تھے۔ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے آگے بڑھے تو بائیں جانب دو طرفہ تقریباً دس سیڑھیاں تھیں۔ اوپر دو نوجوان کھڑے تھے اور دھیمی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ جن میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رہبر صاحب نے آہستہ سے بتایا کہ یہ مسجد کے امام ہیں۔ امام اور بے ریش! حیرانی ہوئی خیر۔ مسجد کا دروازہ محرابی تھا جس کے اوپر کی محرابوں پر سفید اور کالے پٹے کا ڈیزائن بنا ہوا تھا۔ ہم مسجد میں داخل ہوئے، مسجد کیا تھی ترکی فن تعمیر کا نمونہ نہیں بلکہ شاہکار تھی۔ اونچی محراب دار چھت، چھت کیا فن کا ایسا نمونہ کہ نظر ہی نہ ہٹے، سنہرے نقش و نگار، آیتوں اور خدائے بزرگ و برتر کے اسمائے حسنیٰ، بیچ میں ایک نایاب و نادر بڑا سا جھومر، سامنے سنہری منبر، گہرا سبز دبیز قالین، اس پر سناٹا ایک روح پرور منظر، جو کہہ رہا تھا کہ ’’تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتیں جھٹلاؤ گے‘‘ کیا کیا نا عطا کر دیا اس نے اس آدم خاکی کو۔

ہم تینوں نے وہاں دوگانہ شکر کا ادا کیا کہ وہ شکر کو پسند فرماتا ہے پھر مجھے یاد آیا کہ میرے ابا کہا کرتے تھے جہاں بھی جاؤ اس جگہ سجدہ ضرور کرو، کیونکہ جب وقت حساب آئے گا زمین تمہارے سجدوں کی گواہی دے گی۔ ابا کی یاد آتے ہی میں نے ان کی مغفرت کے لیے بہت ساری دعائیں کیں۔ آنکھیں اشکبار ہو گئیں، شکر خدا ادا کرتی ہوئی پلٹی تو عشرت بھی اپنی نم آنکھیں خشک کر رہی تھیں کہ ہر خوشی ہر غم کا راز دار تو وہی ہے، ہر بندے کے دل کی پکار سنتا ہے اور عشرت تو ویسے ہی ان دنوں یاسمین باجی کی طبیعت کو لے کر بیحد فکر مند تھیں۔ مجھے پتہ تھا ابھی ساری دعاؤں کا مرکز یاسمین باجی ہی تھیں میں نے بھی ان کے لیے دل سے دعا کی کہ بہن بھی کیسی نعمت ہوتی ہے یہ مجھ سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔

یہ جو علاقہ ہے اس کا نام کولمبیاڈم ہے چونکہ یہ پورا علاقہ ترکوں کا ہے اس لیے ان کی جو اسلامی مذہبی یونین ہے اس نے اس قبرستان سے قریب ہی اس مسجد کو بنانے کا ارادہ کیا اور 1999سے 2005 کے درمیان اسے تعمیر کیا گیا۔ یہاں تقریباً پندرہ سو لوگ ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں جس جگہ ابھی ہم نے نماز ادا کی ہے اس کا ہی رقبہ 365 مربع میٹر ہے۔

اس سے متعلق بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ عشرت نے بتایا۔

’’ہوا یوں کہ جب اس مسجد کا افتتاح ہونے کو تھا تو پھر اصول کے مطابق ناؤکلون کے ڈسٹرکٹ آفس سے اس مسجد کی پیمائش کی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ مینار کی بھی پیمائش کی گئی تو پتہ چلا کہ اس کے میناروں کی اونچائی اتنی نہیں ہے جتنی طے کی گئی تھی اور تو اور گنبد کی پیمائش میں بھی تبدیلی تھی۔‘‘

’’پھر کیا کیا؟ اسے توڑا گیا؟‘‘

’’جی اسے منہدم کرنے کو کہا گیا؟ اور ساتھ ہی ڈیڑھ ملین یورو کا جرمانہ بھی عائد ہوا۔‘‘

’’ارےے ےے! جرمانہ بھی، حد ہے‘‘

’’پھر کیا ہوا؟ جرمانہ ادا کیا گیا۔‘‘

’’جی ہاں کیا گیا لیکن اسی ہزار یورو۔‘‘

’’کم کیسے ہوا؟‘‘

در اصل یہاں سے قریب ہی ایک ہوائی اڈا تھا، جس کی وجہ سے کوئی عمارت پیمائش سے اونچی نہیں بنائی جا سکتی تھی، پھر ہوا یوں کہ یہ ہوائی اڈا ہی بند ہو گیا۔ اس لیے مینار کو منہدم کرنے کی نوبت نہیں آئی لیکن چونکہ قانون کی خلاف ورزی ہوئی تھی اس لیے جرمانہ تو ہر حال میں جمع کرنا تھا۔ اس میں کچھ رقم کی رعایت کر دی گئی۔

’’یہ تو پھر ٹھیک کیا۔‘‘

میں سوچ رہی تھی واہ رے حضرت انسان، اس خدا کے لیے جس نے پوری کائنات تخلیق کی اس کی ہی بنائی دنیا میں اس ہی کے گھر کے لیے اصول بنا دئیے۔ اس کے مینار اتنے ہوں اس کے گنبد اتنے سے زیادہ بلند نہ ہوں۔ خدا بھی آسماں سے جب زمیں پر دیکھتا ہو گا تو اس حضرت انسان کی کارستانیوں پر بھلا کیا کیا سوچتا ہو گا کہ اس بندہ خاکی کی جسارت تو دیکھو، میری عبادت گاہ کے لیے ہی اصول طے کر رہا اور ہرجانے بھی وصول کر رہا۔ آنے دو اسے بھی ذرا اوپر، میں نے بھی صحیح انتظام کیا ہوا ہے۔

مسجد سے نکل کر ہم شونے بیرگ علاقے کے اس ترکی ریسٹورنٹ میں پہنچے جہاں بیٹھنے کا انتظام تو تھا لیکن بھیڑ بہت ہونے کی و جہ سے ہمیں جگہ ملنے کی امید نہیں تھی۔ ہم نے کھانا پیک کروا لیا۔ گھر آ کر سکون سے مزے لے لے کر کھایا۔ کھانے میں جو خاص چیز تھی وہ تھا ڈونر کباب۔ برلن کا مشہور ترین اور سب سے زیادہ بکنے والا ترکی کا خاص الخاص کباب۔ ویسے تو ڈونر کباب نے برلن میں اپنی شکل اور ذائقہ دونوں بدل لیے ہیں۔ اب اتنے ذائقے دار کباب ترکی میں بھی نہیں مل سکتے ایسا اس کے مالکوں کا دعویٰ ہے۔ ڈونر کے برلن میں کئی بڑے چھوٹے ریسٹورنٹ ہیں، کہیں بیٹھ کر کھانے کا انتظام ہے اور کہیں پر نہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر جگہ کباب کا ذائقہ ایک جیسا ہے اور برلن والوں کو یہ کباب بہت پسند ہیں۔

بات کباب کی ہو اور لکھنؤ کے کباب کا ذکر نہ ہو ممکن ہی نہ تھا، ویسے بھی نجانے کیوں میرے اندر ہندوستانی ہونے کا ایک احساس برتری نمو پایا ہوا تھا۔ میں کسی دوسرے ملک کی بہت زیادہ تعریف ہضم نہیں کر پائی جبکہ مجھے اس بات کا بہت اچھے سے علم بھی ہے کہ یوروپی ممالک ترقی یافتہ ملک ہیں اور بطور خاص جرمنی اپنی ایک قدیم ثقافت ہی نہیں اپنی مثبت منفی ہر طرح کی تاریخ سے بھی مالا مال ملک ہے، جدید ٹیکنالوجی کی بات ہو یا زندگی کے کسی بھی شعبے کی جرمنی کے سامنے ہندوستان کم ہی ہے پھر بھی جو ذرا سا بھی احساس کمتری مجھ میں آئے نا بابا نا! اب میں فخر سے لکھنؤ کے ٹنڈے کبابی کی تفصیل انہیں بتا رہی تھی تاکہ دونوں کے دلوں سے ترکی کباب کی عزت کم ہو جائے اور لکھنؤ کے کباب کے ذائقے کے لیے دل مچل جائے تاکہ وہ جلد ہی لکھنؤ آنے کا پروگرام میرے لیے نہ سہی کباب کے لیے ہی بنا لیں۔ اسی دوران عارف صاحب کا فون آ گیا کافی دیر تک ان سے بات ہوتی رہی۔ وہ پورے دن کی تفصیل پوچھتے رہے۔ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ ہمارے ساتھ کہیں جا نہیں پار ہے تھے لیکن شام میں روز لمبی گفتگو کرتے۔ زیادہ تر ذکر لکھنؤ کا ہی ہوتا۔

یہ حب الوطنی بھی کیا چیز ہے یہ مجھے وہاں پہنچ کر احساس ہوا جبکہ جس وقت میں اپنا یہ سفر نامہ لکھ رہی ہوں میرے اپنے ملک میں اقلیتوں کی شناخت، ان کا وجود ان کی وطن پرستی، ان کی اپنی مٹی کی محبت سب کچھ مشتبہ مان کر ان سے ثبوت طلب کیے جانے کے واقعات بھی رونما ہونے لگے ہیں لیکن وطن کی محبت تو خون میں سرایت کی ہوئی چیز ہے اور اس طرح حل ہوتی ہے کہ جسے خون کے نہ تو کسی گروپ میں ڈھونڈا جا سکتا ہے نہ ہی سفید اور لال ذرات میں پہچانا جا سکتا ہے۔ یہ تو محبت کا وہ الوہی جذبہ ہوتا ہے جو خاک وطن کے ہر ذرے کو دیوتا بنا دیتا ہے اور سچ میں خاک وطن کا ہر ذرہ کیسے دیوتا بنتا ہے اس کا صحیح احساس دیار غیر میں جا کر ہی ہوتا ہے۔

٭٭٭

زاد راہ

23 ستمبر کو صبح چھ بجے میری ہندوستان واپس آنے کی فلائٹ تھی۔ جس کے لیے صبح چار بجے ہم ائیر پورٹ کے لیے نکل پڑے۔ ایک بہت خوشگوار اور زندگی کا یادگار سفر اختتام پذیر ہو رہا تھا۔ دل پھر ملے جلے جذبات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ منزل چاہے کوئی سی بھی ہو ہے تو عارضی، سفر کوئی بھی ہو مسافر کو توگھر لوٹ کر جانا ہی ہوتا۔

اب کی بار زاد راہ تھیں، یادیں، مہکتی یادیں، گنگناتی یادیں، رم جھم برساتوں سی یادیں،

ہنستی مسکراتی یادیں،

مضبوط رشتوں کی یادیں،

ادب سے وابستہ یادیں،

ادبی محافل کی یادیں،

شفقتوں کی یادیں،

تتلی کے خوشنما پروں سی یادیں،

سب کو اپنے دامن میں سمیٹ کر بہت مضبوط سی گانٹھ باندھ کر میں بیٹھ گئی تھی نمناک آنکھوں کے ساتھ برلن سے پھر فرینکفرٹ ہوتے ہوئے دلی اور پھر لکھنؤ کے سفر کو۔

کہ مسافر کو تو لوٹ آنا ہی ہوتا ہے

اپنے مکان و آشیانے پر

آشیانہ خوبصورت آشیانہ

جہاں منتظر میرے دل کے مکین

میرا لخت جگر، میری نور نظر

اور میرے دل کا سکون۔

٭٭٭٭

تشکر: مصنفہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

[1] یہ اس ڈیجیٹل ایڈیشن میں شامل نہیں۔ اصل کتاب میں اس سفر سے متعلق کئی تصاویر بھی اس برقی نسخے میں شامل نہیں ہیں۔ ناشر

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید