شکاریات پر ایک اور کتاب
شیر دہاڑتا ہے
مصنف
کینیتھ اینڈرسن
اردو ترجمہ
محمد منصور قیصرانی
تدوین: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
شیر دہاڑتا ہے
کینیتھ اینڈرسن
اردو ترجمہ
محمد منصور قیصرانی
ترمیم و تدوین: اعجاز عبید
انتساب
قدیم ہندوستان کے نام جہاں میں بصد خوشی کئی سال رہا تھا اور نئے ہندوستان کے لئے جو آزادی اور جمہوریت اور ایک نئی راہِ زندگی کی تلاش میں سرگرم ہے۔
تعارف
دیباچے اتنے اہم نہیں اور انہیں شاید ہی کبھی پڑھا جاتا ہو۔ ظاہر ہے قاری پڑھنے کے لیے کتاب خریدتا ہے تاکہ اس سے لطف اندوز ہو اور کچھ نیا سیکھے۔ اس سلسلے میں اسے مصنف کی بات سے زیادہ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ قبل اس کے کہ میں جنوبی ہندوستان کے جنگلوں کے بارے میں اپنی چند داستانیں سناؤں، میں ان جنگلوں اور ان کی جنگلی حیات کی بقاء کے بارے میں درخواست کروں گا۔ اس سے نہ صرف ہم بلکہ آئندہ نسلیں بھی لطف اندوز ہو سکیں گی۔ وقت پہلے ہی ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے۔
حکومت ہند، ہر ریاست اور صوبے، ہر شکاری اور ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں موجود انمول جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔
پرندوں اور جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنی ہیں مگر یہ کافی نہیں۔ قوانین لکھے گئے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ جنگل کے محافظوں اور نگہبانوں کو مناسب معاوضہ نہیں ملتا اور رشوت بھی اہم وجہ ہے۔
میسور کی پوری ریاست میں اور مدراس ریاست میں سیلم ضلعے میں بالخصوص شیر اور تیندوے اب تقریباً معدوم ہو گئے ہیں۔ انہیں دیہاتیوں نے کیڑے مار زہر سے نیست و نابود کر دیا ہے۔ یہ زہر حکومت کی طرف سے فصلوں کے بچاؤ کے لیے مفت دیا جاتا ہے۔ دیہاتی تیندوے اور شیروں کے شکار کردہ جانور پر اس زہر کا چھڑکاؤ کر دیتے ہیں اور جب یہ درندے اپنے شکار کو دوبارہ کھانے آتے ہیں تو واپسی میں چند گز ہی چل کر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ نہ صرف شیر اور تیندوے بلکہ گیدڑ، لگڑبگڑ، گدھ اور کوے بھی اس زہر کا شکار ہوتے ہیں۔
پانی کے منابع پر موجود چور شکاری ہر سال سینکڑوں ہرنوں اور دیگر چرندوں کا شکار کرتے ہیں۔ چند روپے یا گوشت کا کچھ حصہ سرکاری اہلکار کو دے کر قصہ گول کر دیا جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہی سرکاری اہلکار حکومت کی طرف سے انہی جانوروں کے تحفظ کے لیے تنخواہ بھی لیتے ہیں۔
موت دبے پاؤں ہندوستان کی جنگلی مخلوق کا تعاقب کرتی رہتی ہے۔ اگر حکومتی اور انفرادی سطح پر انتہائی سنجیدگی سے اقدام نہ کیے گئے تو جنوبی ہندوستان کے جنگلوں سے بے شمار جانور معدوم ہو جائیں گے۔ اس وقت بھی پانی تقریباً سر کے اوپر سے گزر رہا ہے۔
مجھے ان داستانوں کو لکھتے ہوئے جیسے لطف ملا ہے، امید ہے کہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ آپ کو بھی انہیں پڑھتے ہوئے ملے گا۔ انہیں لکھتے ہوئے میرے ذہن میں ان بیتے دنوں کی یاد تازہ ہوئی ہے اور جنگل کے مناظر، خوشبوئیں، جنگلی آوازیں اور زندگی اور موت کی کشمکش بھی یاد آتی ہے۔
٭٭٭
۱۔ منچی کا نووارد
پر پیچ راستے کے اطراف میں بانس کے گھنے اور اونچے درخت تھے اور گھنی گھاس اگی ہوئی تھی۔ بانس کے درخت پر بیج اگ رہے تھے اور ہر گرہ سے اضافی پتے نکل رہے تھے جن میں ہزاروں بیج ہوتے تھے۔ یہ بیج شکل میں گندم کے بیج سے مشابہ لیکن کچھ چھوٹے ہوتے ہیں۔ چھوٹی جسامت کے باوجود ہزاروں بیجوں کی وجہ سے درخت کا تنا جھک جاتا ہے۔ جونہی ہوا چلتی، یہ جھکے ہوئے تنے عجیب عجیب آوازیں نکالتے تھے۔
یہ بیج بارش کی طرح زمین پر گرتے اور قالین کی طرح زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ اس تنگ راستے پر گرنے والے بیج زیادہ تر گل سڑ جاتے ہیں تاہم اِدھر اُدھر کسی نہ کسی بیج سے کونپل نکلتی دکھائی دے جاتی ہے۔ بیجوں کی یہ تہہ لکڑی کے برادے کی مانند لچک دار ہوتی ہے۔ اس پر حرکت کرتے جانور کی آواز چھپ جاتی ہے اور درندے ایک جھنڈ سے دوسرے جھنڈ کو شکار کی تلاش میں گھومتے ہیں۔ اوپر پرندے اپنی تیز چونچ سے بیج کتر کتر کر کھاتے ہیں۔ یہ پرندے شکل و صورت میں توتے سے ملتے جلتے لیکن مختصر جسامت کے ہوتے ہیں۔ ان کی جسامت گھریلو بجری گر توتوں سے دگنا زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے عجیب رنگ ہوتے ہیں۔
اس راستے پر چلنے والا اکیلا مسافر ان پرندوں کی بجائے اپنے سامنے، پیچھے اور اطراف میں بار بار دیکھتا چل رہا تھا۔ ہر جھنڈ کے نزدیک پہنچ کر وہ رکتا اور اس سے ہو کر گزرنے سے قبل اپنی تیز اور بے چین آنکھوں سے اچھی طرح جائزہ لیتا کہ کہیں کوئی جنگلی جانور تو نہیں چھپا۔ اس کے کان ان پرندوں کی بجائے کوئی اور آواز سننے کو بے چین تھے۔ اسے جن آوازوں کو سننے کی امید تھی ان میں بانس کی شاخ ٹوٹنے، اسے چبانے اور نگلنے کی آواز تھی یا پھر ان بیجوں کی تہہ پر کسی بھاری جسم والے جانور کے گزرنے کی آواز۔
اسے خوف تھا کہ کہیں اکیلے ہاتھی یا ہاتھیوں کے گروہ کا سامنا نہ ہو جائے۔ اس موسم میں امکانات تھے۔ اس کی سماعت قاتل کو سننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ایسا قاتل جو پرندوں یا ہاتھیوں کی مانند شور نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی سبزی خور تھا۔ یہ قاتل انتہائی بے رحم شکاری اور اس وقت انتہائی بھوکا تھا۔
یہ آدمی پُجاری ذات سے تعلق رکھتا تھا جو جنوبی ہندوستان کے ضلع سالم کے جنگلوں میں آباد ہیں۔ جس پگڈنڈی پر یہ آدمی چل رہا تھا وہ جنگلوں سے گزرتی ہوئی ائیور کی وادی سے ہو کر ۱۰ میل دور منچی جاتی تھی۔ منچی کی وادی پتھریلی پہاڑی ڈھلوانوں پر تھی۔ راستہ وادی میں نیچے اترتا ہے اور ایک پتھریلی ندی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ کئی دفعہ راستہ اس ندی سے ہو کر گزرتا ہے اور کہیں راستہ اور ندی پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔ دونوں اطراف اونچی اونچی پہاڑیاں ہیں اور راستہ گھنے اور قد آور بانس کے جھنڈوں کے درمیان گزرتا ہے۔
مکڑی کے مہین مہین جالے جو بمشکل ہی دکھائی دیتے تھے، بار بار اس کے منہ سے چپک جاتے کہ اس کی پوری توجہ جنگلی ہاتھیوں کی ممکنہ موجودگی پر مرکوز تھی۔ وہ جالوں کو بار بار نوچ کر پھینکتا تھا۔ یہ جالے راستے کے آر پار کے درختوں کے درمیان ۶ انچ بڑی مکڑیوں نے بنائے تھے۔ یہ جالے کم از کم ۱۰ فٹ چوڑے اور انتہائی مضبوط ریشوں سے بنتے ہیں۔ ان پر پڑی شبنم سورج کی روشنی سے چمکے تو ایسا لگتا ہے جیسے بے شمار موتی چمک رہے ہیں۔ ہر طرف خاموشی تھی اور صرف پرندوں کے دانے چگنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
اس پجاری کا نام کیرا تھا اور ہر بار جب گھنے بانسوں کو جھنڈ اس کے سامنے آتا تو وہ تسلی کرتا کہ اس کے پیچھے جنگلی ہاتھی نہ چھپے ہوں۔ بے چارہ کالی کھال والے قاتل کو نہ دیکھ سکا جو پلک جھپکائے بغیر زمین سے چپکا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔
کیرا نے دو بار شیر کی دہاڑ سنی، پھر شیر نے حملہ کر دیا۔
کیرا جونہی پیچھے مڑا، بڑے بڑے کھلے جبڑوں نے اسے دبوچ لیا۔ وہ ایک بار چلایا، ’ائیو‘۔ پھر وہ خاموش ہو گیا۔ ایک لمحے کو تمام پرندے چپ کر گئے کہ انہیں حادثے کا علم ہو گیا۔ چند لمحے گزرے تو انہوں نے دوبارہ سے چہچہانا اور دانا دنکا چگنا شروع کر دیا۔
پہاڑی کے ایک جانب لنگوروں کا غول پیٹ بھر رہا تھا۔ ان کی جانب سے ہومپ ہومپ کی آوازیں اور پہاڑی کی دوسری جانب سے ان کی بازگشت آ رہی تھی۔ اچانک چوکیدار لنگور نے دو بار شیر کی ہلکی سی دہاڑ سنی اور اس کے فوراً بعد اس نے آدمی کی اس سے بھی ہلکی چیخ سنی۔ اسے فوراً پتہ چل گیا کہ شیر نے شکار کیا ہے اور مخصوص آواز سے پورے غول کو خبردار کر دیا کہ قاتل نزدیک ہے اور پھر شور کرتا ہوا اوپری شاخوں پر پہنچ کر دیکھنے لگا کہ قاتل کہاں ہے۔
چوکیدار لنگور نے بار بار ہاہ، ہاہ، ہرر کی آوازیں نکالیں۔ تمام لنگوروں نے کھیل کود بند کر دی اور دہشت کے مارے اوپری شاخوں پر منتقل ہو گئے۔ نیچے زمین پر موجود ہرنوں وغیرہ نے پہلے شیر اور پھر بندروں کی آوازیں سنیں تو فوراً ہی پہاڑی کے اوپر کو بھاگے اور وادی سے دور نکل گئے۔
وقت گزرتا گیا اور جنگلی حیات اپنے معمول پر لوٹ آئی۔ پرندوں کو اسے بھولنے میں چند لمحے لگے جبکہ ہرنوں وغیرہ کو ایک گھنٹہ۔ اگر اس دوران پجاریوں کا دوسرا ساتھی بھی شیر کا شکار نہ ہو جاتا تو دور واقع منچی کی وادی کے پجاریوں کو اسے بھولنے میں ایک یا دو ماہ لگتے۔ لیکن ان کا ایک اور ساتھی دو ہفتوں بعد اور تیسرا ۱۰ دن بعد مارا گیا۔
ان باتوں کو بھلانا پجاریوں کے لیے ممکن نہ تھا۔ ان پر عجیب طرح کا خوف چھا گیا۔ ان کے گاؤں پر ایک آفت نازل ہو گئی۔ آدم خور شیر یہاں رہنے آ گیا تھا۔
ان کے قبیلے کا رہن سہن جنگل اور اس میں موجود اشیاء پر منحصر تھا۔ یہ لوگ موسم کے مطابق اونچے پتھروں اور درختوں پر لگے جنگلی شہد کے چھتے اکٹھے کرتے، گوہ پکڑ کر دیہاتی حکیم کو بیچ آتے جو اس کی دم سے نامردی کی اکسیر دوا تیار کرتا، مختلف ادویاتی تاثیر رکھنے والی نباتات جمع کرتے، جنگلی بانس، گھاس اور املی کے پھل کاٹ کر جمع کرتے۔ ان تمام افراد کی مجموعی آمدنی سے زیادہ رقم یورپ یا امریکہ کا باشندہ اپنے کتے کی خوراک پر خرچ کر دیتا ہے۔ ان کا کام، ان کی بقاء، سب جنگل پر منحصر تھے۔ اب اسی جنگل میں عفریت نے رہائش رکھ لی۔ ہر شخص جب اپنی گھاس پھونس کی جھونپڑی سے صبح نکلتا تو اسے شام کو بخیریت واپسی کا یقین نہ ہوتا۔ نہ ہی کوئی عورت اور نہ ہی کوئی بچہ محفوظ تھا کیونکہ آدم خور کا دوسرا شکار ۹ سالہ لڑکی اور تیسرا شکار ۱۴ برس کی حاملہ دلہن تھی۔
ان میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے کچھ نہ کیا۔ یہ واحد آدمی میرا پرانا دوست بیرا تھا جس نے مجھے جنگل کے طور طریقے سکھائے۔ پہلے بھی اس نے مجھے کمپی کاری کے قاتل کے شکار پر بلایا تھا جس کے بارے میں میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔ اب ایک بار پھر سے منچی کے لوگوں کو اس بلا سے بچانے کے لیے وہ مجھے بلانے جا رہا تھا۔
اس بار پیغام بھیجنے کی بجائے بیرا خود آیا۔ منچی سے ائیور تک ۱۰ میل چلنے کے بعد وہ مزید ۹ میل آگے دینکنی کوٹا پیدل ہی پہنچا۔ یہاں سے اس نے بس پکڑی اور بنگلور کا رخ کیا۔
اس کے بیان کردہ واقعات سے ظاہر تھا کہ یہ تینوں واقعات بالکل ہی کم وقت میں یعنی کل ۲۴ دنوں میں، منچی سے ۴ میل کے دائرے اور اس وادی میں ہی ہوئے تھے جسے مکڑیوں کی وادی کے نام سے میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔
ان واقعات سے پتہ چلا کہ یہ آدم خور شیر نا تجربہ کار ہے۔ ہو سکتا ہے یہ شیر نوعمر ہو جس نے کسی وجہ سے آدم خوری شروع کر دی ہو یا اپنے زخموں سے مجبور ہو کر بھوک کی وجہ سے انسانی شکار پر مائل ہو گیا ہو۔ یہ بھی ممکن تھا کہ یہ آدم خور شیرنی ہو جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے انسانی شکار کرنے لگی ہو۔ ان اطراف میں جنگلی جانور اور پالتو مویشی بکثرت ہونے کی وجہ سے تیسری صورت کے امکان بہت کم تھے۔
حقائق بتا رہے تھے کہ یہ ناتجربہ کار شیر ہے۔ تجربہ کار آدم خور شیر اتنے کم وقت میں ایک ہی جگہ اتنے شکار نہیں کرتا۔ تجربے کے ساتھ آدم خور شیر کی مکاری بڑھتی جاتی ہے۔ ایسے شیر کئی میل پر محیط علاقے میں شکار کرتے ہیں۔ اچانک ہی کسی جگہ آن پڑتے ہیں اور شکار کر کے لمبے عرصے کے لیے گم ہو جاتے ہیں۔ ایسے درندوں کا شکار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
بہتر تھا کہ میں فوراً اس شیر کا پیچھا کرتا اور علاقہ چھوڑنے سے قبل ہی اسے ہلاک کر دیتا۔ ایک بار یہ شیر تجربہ کار ہو گیا تو بہت محتاط ہو جاتا۔ جونہی دیہاتی اسے ہلاک کرنے کے لیے کوششیں کرتے تو اس کو ہلاک کرنا دشوار تر ہو جاتا۔ اس طرح یہ شیر خوف زدہ یا زخمی ہو کر مزید چالاک اور خطرناک ہو جاتا۔
یہ علاقہ میرا دیکھا بھالا تھا۔ بہت سالوں تک میں اس جنگل، بانس کے گھنے جھنڈوں، تنگ وادی، اس کے آس پاس موجود علاقے اور سوپاتھی کے مقام پر دریائے چنار تک گشت کرتا رہا تھا۔ مشرقی پہاڑی سلسلہ زیادہ بلند تھا اور گتھراین پہاڑی پر ختم ہوتا ہے۔ نزدیک ہی کوڈی کرائے کا خوبصورت فارسٹ بنگلہ تھا۔ کمپے کرائے کی وادی مغربی سلسلے کے دوسری جانب تھی۔ علاقہ بھی وہی تھا جہاں میں پچھلی بار کمپے کرائے کے آدم خور کے شکار پر آیا تھا۔ وہ شیر کافی تجربے کار اور وادی کے جنوب اور مغرب میں سرگرم تھا۔ موجودہ شیر وادی کے شمال میں منچی کی آبادی اور ائیور کے راستے پر سرگرم تھا۔ اس وجہ سے میں نے اس شیر کے شکار کو بہت سہل سمجھا۔
بیرا اور اپنے کیمپ کے ساز و سامان کو سٹڈبیکر پر لاد کر میں نے کم از کم ہفتے بھر کا آٹا بھی لے لیا۔ ڈبل روٹی، مکھن، سبزیاں بالخصوص آلو، چائے، کافی، چینی، اپنے بستر اور خیمے کو بھی لاد کر ہم دینکانی کوٹا اور ائیور کو چل دیے۔ ائیور سے ہمیں منچی تک پیدل ہی چلنا تھا۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ مجھے اور بیرا کو سارا سامان اٹھا کر ۱۰ میل آگے کا سفر طے کرنا ہوتا۔ خوش قسمتی سے یہاں چڑھائی کم اور زیادہ تر حصہ اترائی تھا۔
میں ڈبہ بند اغذیہ سے ہر ممکن گریز کرتا ہوں۔ ڈبوں سے سہولت رہتی ہے مگر مقامی لوگوں کی طرح میں بھی تازہ اور سادہ خوراک ہی پسند کرتا ہوں۔ اس وجہ سے میں ان بیماریوں سے بچا ہوں جو زیادہ مہذب لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔
میں نے خیمہ بیرا کے سر پر رکھا اور بستر اپنی کمر پر لاد لیا۔ کٹ بیگ اور آٹا وغیرہ میں نے بیرا کو تھمائے اور خود بقیہ اشیاء اور رائفلیں اٹھا لیں۔ ہم پر بہت وزن تھا لیکن بیرا پر ذرا بھی فرق نہیں پڑا۔ وہ ایسے چل رہا تھا جیسے وہ خالی ہاتھ ہو۔
وادی بہت گرم اور مرطوب تھی اور میرا بدن پسینے میں نہایا ہوا۔ آگے چلنے کی وجہ سے میرے ہمراہی کے لیے کسی جنگلی ہاتھی سے جا بھڑنے کا خطرہ زیادہ تھا لیکن پیچھے چلنے کی وجہ سے مجھے شیر کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا۔ آدم خور بالعموم راستے پر چلنے والے آخری آدمی پر حملہ کرتا ہے۔ شیر کا حملہ ہو یا ہاتھی کا، ہم پر اتنا وزن لدا تھا کہ شاید ہی کچھ کر پاتے۔ اس وقت میرے ذہن میں ہاتھی یا شیر نہیں تھے بلکہ میں سوچ رہا تھا کہ ہم کتنی جلدی منزل پر پہنچ کر اس وزن سے چھٹکارا پاتے ہیں۔
آخر ہم منزلِ مقصود پر پہنچ گئے۔ تالاب کے کنارے پہنچ کر میں نے رائفل کے سوا ہر چیز اتار پھینکی۔ یہ تالاب آگے چل کر ہماری داستان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں چائے درکار تھی، ڈھیر ساری چائے۔ میں نے بیرا سے کہا کہ وہ تالاب سے چائے کی کیتلی میں پانی بھر کر اور آگ جلائے۔ جلد ہی ہم دونوں چائے پی رہے تھے اور دنیا پھر سے نئی نئی لگنے لگ گئی تھی۔
اس وقت تک وادی سے بیرا کے دوست بھی پہنچ گئے۔ یہ سب پجاری تھے۔ خوراک کی کمی کا شکار اور دبلے پتلے لیکن فولاد کی مانند سخت جان۔ مردوں کے جسم پر صرف لنگوٹی جبکہ عورتوں نے باریک ساڑھیاں پہن رکھی تھیں جو چیتھڑوں کی شکل میں لٹک رہی تھیں۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو لڑکے اور لڑکیاں الف ننگے تھے۔
حسبِ معمول سلام دعا کے بعد بیرا نے بتایا کہ وہ صاحب کو لانے بنگلور پہنچا اور صاحب نے فوراً ہی مدد کی حامی بھر لی۔ ہر طرف حیرت بھری آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے فوراً ہی موقعے سے فائدہ اٹھایا اور بڑے لڑکوں کو لکڑیاں جمع کرنے بھیج دیا اور ایک مرد سے کہا کہ وہ میرے برتنوں میں پانی بھر دے۔ جتنی دیر میں یہ کام پورے ہوتے، میں نے بیٹھ کر بھنے گوشت اور مکھن سے چپڑی روٹیوں سے اپنا پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ میں نے لوگوں سے آدم خور کے بارے میں سوالات بھی شروع کیے۔
جو مجھے بیرا پہلے بتا چکا تھا، اس سے زیادہ معلومات نہ ملیں۔ ایک نئی بات پتہ چلی۔ جب بیرا مجھے لانے کے لیے بنگلور روانہ ہوا تو اسی دن سہ پہر ۴ عورتیں پانی بھرنے گئیں۔ آدم خور کے پیش نظر دن کو ۳ بجے کے بعد تالاب پر کوئی نہ جاتا تھا۔ یہ عورتیں ایک دوسرے سے قریب رہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ۴ عورتوں کو ایک ساتھ دیکھ کر آدم خور حملہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے پانی بھر کر واپسی کا رخ کیا کہ اچانک ایک بوڑھی عورت نے ۵۰ گز دور جنگل کنارے حرکت محسوس کی۔ اس نے مزید غور سے دیکھا۔ اس کی ساتھیوں نے جب اسے کسی چیز کو گھورتے دیکھا تو انہوں نے بھی توجہ ادھر کی۔ وہاں جھاڑی کے نیچے بہت بڑے شیر کا سر دکھائی دیا۔ یہ شیر انہیں بھوکی نگاہوں سے دیکھ کر غرا رہا تھا۔ چیخیں مارتے ہوئے انہوں نے اپنے گھڑے پھینکے اور بھاگ کر ۲۰۰ گز دور بستی کا رخ کیا۔ اس بار شیر نے ان پر حملہ نہیں کیا اور وہ بحفاظت گھروں کو پہنچ گئیں۔
ان ۴ عورتوں میں سے ۲ اس وقت یہاں تھیں۔ ایک نے اپنے ہاتھوں کو گز بھر پھیلا کر کہا کہ شیر کا سر اتنا بڑا تھا جبکہ دوسری جو نسبتاً نوجوان تھی، نے بتایا کہ شیر اتنا بڑا تھا کہ وہ ان چاروں عورتوں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بخوشی کھا جاتا۔ بات پوری کرنے پر اس کے چہرے پر دبی دبی ہوئی مسکراہٹ تھی جو شاید مجھے حوصلہ دے رہی تھی کہ جب ہم سب کھائے جا چکے ہوتے تو شیر کے پیٹ میں مجھے اچھے دوست ملتے۔
شیر کے بارے میں نئی خبر سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے بیرا کو بھی مسکراتے دیکھا۔ پرانا شکاری ہونے کے ناطے اسے پتہ تھا کہ کام نسبتاً آسان ہو چکا ہے۔ اگر شیر کل شام ادھر ہی تھا تو عین ممکن تھا کہ آج شام کو بھی ادھر آتا۔ عین ممکن تھا کہ وہ اب بھی ہمیں چھپ کر دیکھ رہا ہو۔
اس خبر کی وجہ سے میں نے اپنا خیمہ تالاب کے کنارے نصب کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ بستی کے اندر خیمہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ پجاری چاہے دیگر معاملات میں جتنے بھی اچھے ہوں، صفائی کے معاملے میں انتہائی لاپرواہ ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ میرا سامان اٹھا کر گاؤں کے دوسرے سرے پر جامن کے درخت کے نیچے لے جائیں۔ وہاں میں نے اپنا خیمہ لگا کر سامان اندر رکھ دیا۔
میں نے سوچا کہ تالاب اور شیر ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ بہت سال قبل کمپی کرائے کے آدم خور کے تعاقب میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی۔ یہ واقعہ چند میل دور بہت سال قبل پیش آیا تھا جب میں نے پوری رات ایک کنویں کے کنارے بسر کی تھی تاکہ آدم خور مجھ پر گھات لگا سکے۔ میرا انتظار بے کار گیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آدم خور اتنا تجربہ کار نہ ہو اور مجھے مایوس نہ کرے۔ تالاب کے آس پاس اپنا سفید خیمہ نصب کرنے سے پورا منصوبہ ہی بے کار ہو جاتا۔ تجربہ کار آدم خور خیمے کو دیکھ کر حملہ کرنے کی کوشش کرتا، نو وارد آدم خور اسے دیکھتے ہی غائب ہو جاتا۔ یہ محض توجیہ تھی جس سے بیرا نے بھی اتفاق کیا۔ رات کے واقعات نے ہم دونوں کو غلط ثابت کیا۔
سورج ڈوبتے ہی میں نے قبل از وقت کھانا کھا لیا اور سارا بھنا گوشت ختم ہو گیا۔ اس بار میں نے چائے نہیں بنائی اور پانی بھی بہت کم پیا۔ میرا تجربہ ہے کہ آدم خور کی تلاش میں رت جگا کرنا ہو تو کم سے کم پانی اور دیگر مشروبات پینے چاہیں۔ فطرت سے لڑا نہیں جا سکتا اور شکاری سے سرزد ہونے والی معمولی سی حرکت اس کی موجودگی کا راز افشا کر سکتی ہے۔
رات تاریک ہونے کی وجہ سے میں نے پرانے منصوبے کو ملتوی کر دیا۔ اُس بار چاندنی رات تھی اور میں نے جان بوجھ کر شور کرتا رہا تھا تاکہ آدم خور متوجہ ہو سکے۔ یہ رات انتہائی تاریک تھی اس لیے ایسی حماقت سوچنا ہی فضول ہوتی۔ شیر تو مجھے دیکھ اور سن سکتا لیکن میں اس کی موجودگی سے بے خبر ہی رہتا۔ اس کی آواز مجھے تب ہی سنائی دیتی جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔
اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اس بار میں تالاب کے کنارے سے ۲۰ گز کے فاصلے پر اگے ببول کے درخت سے ٹیک لگا کر اور جنگل کی طرف منہ کر کے بیٹھوں گا۔ بے حس و حرکت بیٹھنے کی وجہ سے مجھے امید تھی کہ آدم خور عقب سے مجھے نہیں دیکھ پائے گا۔ میری پشت پر درخت کی وجہ سے آدم خور کو حملہ کرنے کے لیے دائیں یا بائیں جانب سے آنا پڑتا۔ میں بے حس و حرکت بیٹھا ہوتا جس سے آدم خور الجھ جاتا۔ ہو سکتا ہے کہ اسے میری موجودگی کی بالکل بھی خبر نہ ہوتی۔ اگر وہ مجھے دیکھ بھی لیتا تو مجھے بے حرکت دیکھ کر وہ تفتیش کرنے میں کچھ وقت لگا دیتا۔ مجھے یقین تھا کہ اس دوران لازماً کچھ نہ کچھ آواز پیدا ہوتی۔
بیرا نے میرا منصوبہ سنا تو اسے بلا جھجھک حماقت کہا۔ عین ممکن تھا کہ شیر بغیر کسی آواز کے براہ راست حملہ ہی کر دیتا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ عقب سے حملہ کرتا۔ مجھے نہ تو کچھ دکھائی دیتا اور نہ ہی کچھ سنائی جبکہ آدم خور مجھے دیکھ اور سن رہا ہوتا۔ بیرا مجھے دوبارہ زندہ نہ دیکھ پاتا۔ ممکن تھا کہ آدم خور اس طرف کا رخ ہی نہ کرتا۔ آدھی رات کو وہ تالاب پر کیا کرنے آتا؟ اسے بخوبی علم تھا کہ سارے انسان محض دن کے اجالے ہی میں تالاب پر آتے ہیں اور رات کو نہیں۔
بولتے ہوئے اس کی نیت ظاہر تھی۔ وہ مجھے اس منصوبے سے روک رہا تھا۔
میں نے فوراً ہی اسے روکا۔ ’میں جانتا ہوں لیکن یہ واحد امید ہے‘۔
وہ مسئلہ گمبھیر بنانے پر تلا ہوا تھا۔
’میں آپ کو شیر کی خاطر بیٹھنے سے نہیں روک رہا۔ میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھوں گا اور ہم مل کر شیر کا انتظار کریں گے‘۔ اس نے تیزی سے کہا۔
’احمق۔ تمہارا دماغ چوہے کے دماغ سے بھی چھوٹا ہے۔ کیا تمہاری موجودگی سے تاریکی کم ہو جائے گی؟ کم از کم آج رات مجھے میرے منصوبے پر عمل کرنے دو۔ کل پھر دیکھیں گے کہ کیا کر سکتے ہیں‘۔ میں نے ہر ممکن رکھائی سے کہا۔
’اگر کل آپ زندہ ہوئے تو‘۔ اس کا جواب تھا۔
سورج ڈوبنے سے گھنٹہ بھر قبل میں اس تالاب کنارے اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ ببول کا درخت میری ٹیک بنا اور جنگل میرے سامنے تھا۔ جنگل سے چھوٹی ندی گزرتی تھی اور اس کے پیچھے وہ پگڈنڈی تھی جہاں سے ہم آئے تھے۔ مجھے امید تھی کہ آدم خور جلد ہی یہاں سے گزرے گا اور مجھے دیکھ لے گا۔ اس طرح مجھے بھی اسے دیکھنے کا موقع مل جاتا جیسا کہ اس نے ۴ عورتوں کو دیکھتے وقت خود کو ظاہر کیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ ایسا تاریکی چھانے سے قبل ہو جاتا۔ آدم خور نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
بستی کے سارے پجاریوں نے جھونپڑوں کے سامنے خاردار جھاڑیاں کاٹ کر جمع کر رکھی تھیں اور اندر گھس کر انہوں نے دروازوں کے سامنے جھاڑیوں کو اچھی طرح جما دیا۔ میں نے خود سنا کہ انہوں نے جھونپڑوں کے اندر گھس کر دروازوں کے سامنے ندی سے لائے پتھر بھی رکھ دیے۔ یہ لوگ حفاظت خود اختیاری کے قائل تھے۔ انہیں مجھ پر اتنا اعتبار نہیں تھا۔
سورج مغربی پہاڑوں کے پیچھے چھپ گیا۔ افق پر رنگ بدلتے رہے۔ میرا رخ شمال مشرق کو تھا، مجھے کسی حد تک غروب آفتاب کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہا تھا۔ آخر تاریکی چھا گئی۔
میں غروبِ آفتاب سے لطف اندوز ہونے کے دوران جنگل کی آوازیں بھی سنتا رہا۔ طلوع اور غروب آفتاب کے وقت جنگل میں گونجنے والی آوازیں موسیقی ہوتی ہیں۔ لنگوروں کے دو غول مخالف سمتوں کے پہاڑوں پر تھے اور ان کا شور سنائی دے رہا تھا۔
اچانک چوکیدار لنگور نے خطرے کی آواز بلند کی تو یہ آوازیں دہشت زدہ چیخوں میں بدل گئیں۔ یہ آواز وقفے وقفے سے آتی رہی۔
میرے قریب والے غول کی آوازیں رک گئیں لیکن چوکیدار لنگور کی آواز دونوں غولوں سے ہی سنائی دیتی رہی۔ میں یہ آوازیں سن کر جھومتا رہا۔
تجربہ کار شکاری کے کان لنگور کی عام آواز اور خطرے کی آواز کا فرق جانتے ہیں۔ ان آوازوں سے بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ دور والا لنگور خطرے کو دیکھ رہا ہے جبکہ نزدیک والے لنگور کی آواز محض اپنے ساتھی کے جواب میں تھی۔
دونوں لنگوروں کی آوازیں بتدریج کم ہوتی گئیں۔ اچانک ندی سے جنگلی مرغ کی آواز آنے لگی۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ اچانک مور نے خطرے کی آواز نکالی اور اس کا بھاری جسم پھڑپھڑاتا ہوا اڑا تاکہ کسی درخت پر پہنچ کر محفوظ ہو سکے۔
مجھے علم تھا کہ شیر آ چکا ہے۔ وہ مخالف سمت والے پہاڑ سے نیچے اترا جہاں لنگور نے اسے دیکھ لیا۔ ندی عبور کرنے کے دوران وہ جنگلی مرغوں اور مور کو خبردار کرتے ہوئے اب تالاب کی طرف آ رہا تھا جہاں میں اس کا منتظر تھا۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ کیا اب اسے قریبی لنگور دیکھ پائے گا؟ لنگور بلندی پر سہی لیکن بہت دور تھا۔ اناڑی آدم خور بھی اپنی موجودگی کو بغیر کسی وجہ کے ظاہر نہیں کرتا۔ اچانک نزدیکی لنگور نے خطرے کی آواز نکالی۔ اس کی آواز سے ظاہر تھا کہ اس نے آدم خور کو دیکھ لیا ہے۔ اس بار شیر میری توقع سے کہیں زیادہ قریب تھا۔
میں شیر کو دیکھنے اور سننے سے تا حال قاصر تھا۔ ہر طرف تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ جنگل کنارے والی جھاڑیاں اب ہیولہ بن گئی تھی۔ اچانک جنگل پر عجیب خاموشی چھا گئی۔ دور والا لنگور خاموش تھا جبکہ نزدیک والے لنگور کی آوازیں اب بھی وقفے وقفے سے آ رہی تھیں۔
میرے دائیں اور بائیں پہاڑوں کی چوٹیاں غیر واضح ہو گئیں۔ آسمان پر ستارے چمکنے لگے۔ میں نے ایک ستارے کو بغور دیکھنا شروع کیا۔ یہ ستارہ اپنا رنگ مسلسل بدل رہا تھا۔
اپنے سامنے تاریکی کو گھورنے کے ساتھ ساتھ میں بار بار دائیں اور بائیں جانب بھی دیکھ رہا تھا۔ میں نے احتیاطاً سانس لینا بھی آہستہ کر دیا تھا۔ بار بار میں نے سانس روک کر کچھ سننے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
اچانک ہی تالاب کے دوسرے کنارے سے سانبھر بولا۔ "دھانک دھانک”۔
پھر وہ سانبھر بھاگا تو اس کے سموں کی آواز چند لمحوں بعد گم ہو گئی۔ اس کی پکار دیر تک سنائی دیتی رہی۔
میں ان جنگلی جانوروں کا شکر گزار تھا کہ انہوں نے مجھے شیر کی آمد کا بتایا۔ یہ اتنی یقینی تھی کہ جیسے میں نے شیر کو اپنی آنکھوں سے چند گز کے فاصلے سے دیکھا ہو۔ سوال یہ تھا کہ کیا شیر نے مجھے دیکھ لیا ہے؟ کیا وہ مجھے دیکھ پائے گا؟
جنگل میں بے حس و حرکت بیٹھنے کی اہمیت سے میں بخوبی واقف ہوں۔ اس طرح میں بے حس و حرکت بیٹھ گیا تاکہ شیر کی فوری توجہ سے بچ سکوں۔
ایسا محسوس ہوا کہ لمحے منٹوں اور منٹ گھنٹوں میں بدلتے چلے گئے۔ اچانک میں نے دائیں جناب ہلکی سی آواز سنی جیسے پتہ الٹا ہو۔ یہ آواز تالاب سے آئی تھی۔ ہوا بالکل ساکن تھی اس لیے پتے کی حرکت کا موجب کوئی جانور ہی ہو گا جو آہستگی سے جھاڑیوں میں چل رہا ہو۔ اگلے چند ہی لمحوں میں یہ جانور میرے قریب سے گزرتا۔
سانس کو عارضی طور پر روک کر میں نے سننے کی کوشش کی لیکن مزید کوئی آواز نہ آئی۔ میری ہر حس بتا رہی تھی کہ شیر گزر چکا ہے اور اب میرے عقب والے ببول کے درخت کے پیچھے والی جھاڑیوں میں ہے۔ اچانک ہی میرے اندر یہ خواہش زور پکڑنے لگی کہ مڑ کر اپنے عقب میں موجود خطرے کا سامنا کروں۔ اگر میں مڑتا تو لازماً کچھ نہ کچھ آواز پیدا ہوتی۔ یہ آواز چاہے جتنی دھیمی ہوتی، شیر لازمی سن لیتا اور مڑ کر تحقیق کرنے آتا۔ اس لیے میں نے اپنی خواہش کو دبایا اور صرف سر کو موڑ کر عقب میں دیکھنے کی کوشش کی کہ کہیں شیر آ تو نہیں رہا۔ چند انچ دور مجھے محض درخت کا تنا ہی دکھائی دے رہا تھا۔
میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ تجسس کتنی دیر رہا۔ اچانک مجھے پیچھے گاؤں سے ایک کتے کی دہشت زدہ چیخ سنائی دی۔ پریشانی ختم ہو گئی اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔ دو باتیں واضح تھیں۔ اول یہ کہ شیر میری موجودگی سے آگاہ ہوئے بغیر گزرا اور دوسرا یہ کہ یہ آدم خور ہی تھا۔ ورنہ کوئی بھی شیر جان بوجھ کر انسانی آبادی کے قریب نہیں آتا۔
اسی وقت میرے ذہن ایک احمقانہ خیال میں آیا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں بیٹھا رہا تو فضول ہو گا۔ میں نے سوچا کہ آدم خور کو انسانی شکار نہ ملا تو اسی راستے سے اس کی واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے راستے سے نکل جائے۔ اگر وہ اسی راستے سے لوٹا بھی تو اس بار وہ میرے عقب سے آئے گا اور میں اسے دیکھ نہیں سکوں گا جبکہ وہ مجھے دیکھ سکتا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہیں رکنے کی بجائے بستی کو جانے کی حماقت کیوں کی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اٹھ کر بستی کی طرف چل پڑوں اور ٹارچ کی روشنی میں راستہ دیکھتا جاؤں۔ جب قریب پہنچوں گا تو ٹارچ کی روشنی میں شیر کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر اس پر گولی چلا سکوں گا۔ اس طرح کام آسان ہو جاتا۔
اس طرح میں نے یہ حماقت کر دی۔ اگر میں اسی جگہ بیٹھا رہا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ شیر پانی پینے تالاب کو لوٹتا اور درخت کے پیچھے محفوظ مقام سے میں اس پر گولی چلا سکتا تھا۔ میں خاموشی سے اٹھا اور جھکی ہوئی حالت میں بستی کو چل پڑا جو ۲۰۰ گز دور ہو گی۔
چند ہی قدموں میں مجھے اپنی حماقت کا اندازہ ہو گیا۔ پگڈنڈی براہ راست بستی کو جاتی تھی لیکن اس تاریک رات میں مجھے کچھ نہ دکھائی دیا اور میں ٹھوکریں کھانے لگا۔ اتنا شور ہو رہا تھا کہ آدم خور دور سے ہی خبردار ہو جاتا۔ پھر مجھے ببول کے درخت کا خیال آیا۔ میں نے پھر بھی پیش قدمی جاری رکھی۔ مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ آدم خور کسی بھی جھاڑی کے پیچھے مجھ سے ۵ گز دور بھی ہو سکتا ہے اور مجھے اس کی موجودگی کا بالکل بھی اندازہ نہ ہوتا۔
بستی والے کتے کے ساتھ اس کے دیگر ساتھی بھی بھونکنے لگے۔ کئی کتے جس طرح بھونک رہے تھے، اس سے نڈر سے نڈر آدم خور بھی فرار ہو جاتا۔ مجھے کم ہی امید تھی کہ شیر شکار کی تلاش جاری رکھے گا۔ اگر وہ واپس لوٹتا تو عین ممکن تھا کہ ہمارا سامنا ہو جاتا۔
اس خیال سے میں نے دوسری غلطی یہ کی کہ قبل از وقت ٹارچ جلا لی۔ تاریکی کاٹتی ہوئی روشنی نکلی تو آدم خور مجھے دکھائی نہ دیا۔ نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے اس نے دہاڑنا شروع کر دیا۔ مجھے جھاڑیوں سے اس کی نقل و حرکت کی آوازیں اور دہاڑیں آتی ہوئی سنائی دیں۔
اب مزید چھپنا ممکن نہ تھا۔ میرا شکار فرار ہو گیا اور میں نے مایوسی کی حالت میں واپس پجاریوں کے جھونپڑیوں کا رخ کیا اور حماقت پر خود کو برا بھلا کہتا آیا۔ وادی میں پہنچ کر میں نے بیرا کو بلایا جو فوراً ہی ایک جھونپڑے سے نکل آیا۔ وہ بیدار تھا اور سرِ شام سے ہی لنگوروں کا شور اور دیگر آوازیں سن رہا تھا۔ کتوں کے بھونکنے سے اسے حیرت ہوئی مگر شیر کی دہاڑ سے بات واضح ہو گئی۔ تب اسے علم ہوا کہ آدم خور گاؤں میں پہنچ چکا تھا۔ پھر مجھے دیکھ کر اسے اور بھی حیرت ہوئی۔
میں نے اسے تفصیل بتائی تو اس نے کچھ یوں طنز کیا: ’آپ کسی خرگوش کو تلاش کر رہے تھے؟ شاید عمر کی وجہ سے عقل متاثر ہوئی ہے‘۔
۸ بج چکے تھے اور چونکہ اور کچھ کرنے کو نہیں تھا، سو میں اپنے خیمے کی طرف گیا جو میں نے گاؤں کے باہر گاڑا تھا اور وہیں لالٹین جلا کر لٹکانے کے بعد اپنے لیے چائے تیار کرنے لگا۔ چائے سے فارغ ہو کر میں نے خیمے کا پردہ بند کیا اور زمین پر بستر بچھا کر لیٹ گیا۔ سونے سے قبل میں نے لالٹین بجھا دی کہ مجھے روشنی میں سونے کی عادت نہیں۔
اچانک میں بیدار ہو گیا۔ شہروں میں تو ہم آرام سے بستر پر اینڈتے ہوئے کئی منٹ بعد اٹھتے ہیں۔ جنگل میں بیدار ہونے کے ساتھ ہی آدمی کو پوری طرح خبردار ہونا چاہیے۔ ایک لمحے کی غفلت بھی آخری ثابت ہو سکتی ہے۔
آنکھیں کھولتے ہوئے مجھے خطرے کا ہلکا سا احساس ہو گیا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر رائفل تھام لی جو بھری ہوئی اور بستر کے پاس رکھی تھی۔ اس کے لمس نے مجھے نیا حوصلہ دیا۔ پھر میں بیٹھا تو مجھے پوری طرح احساس ہو رہا تھا کہ میں خطرے میں ہوں۔
ایک لمحے کو تو مجھے کچھ نہ سنائی دیا۔ پھر مجھے ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دی جو ایک یا دو لمحے کو رکتی اور پھر شروع ہو جاتی۔ پھر خیمے کا ایک کنارہ اوپر ہوا اور نیچے سے کوئی چیز داخل ہوئی۔ یہ چیز فرش کو ٹٹول رہی تھی۔ یہ کیا سانپ تھا؟
پھر یہ چیز میرے بستر سے ٹکرائی اور فوراً اسے باہر کو کھینچا۔ بستر، چادر، خیمہ، سب چِر گیا۔ یہ تو آدم خور کا پنجہ تھا جو باہر تھا۔
اس کو خیمے کے اندر انسان کی موجودگی کا علم ہو گیا تھا مگر خوش قسمتی سے اسے خیمے کی کمزوری کا علم نہ تھا۔ اس نے نیچے سے پنجہ گھسا کر ٹٹولنے کی کوشش کی کہ شاید انسان ہاتھ آ جائے۔ اس نے خاموشی سے ایسا کیا کہ شکار خبردار نہ ہو۔ اس کا شکار میں تھا۔ میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کر دیا۔
میں نے رائفل چھتیائی اور نال کا رخ اندازے سے شیر کی سمت پھیرا اور لبلبی پر انگلی رکھی۔
یاد رہے کہ اس وقت خیمے کے اندر مکمل تاریکی تھی اور مجھے شیر کے بارے میں کوئی علم نہ تھا کہ کدھر ہو گا۔ اندازے سے میں نے شیر کی اگلی حرکت کا انتظار کیا۔ شیر نے ایک بار پھر پنجہ اندر گھسایا اور بستر کو ٹٹولنے لگا۔
پھر میں نے لبلبی دبا دی۔
کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہوا اور رائفل میں نیا کارتوس بھرا۔ پھر میں نے فوراً دو اور گولیاں چلائیں۔
شیر کی طرف سے خاموشی رہی۔ کیا شیر مر گیا ہو گا؟ اگر ایسا ہوتا تو شیر مرتے ہوئے بھی کوئی نہ کوئی آواز ضرور نکالتا۔ کیا شیر زخمی ہو گا؟ اگر زخمی ہوتا تو دہاڑتا۔ کیا شیر فرار ہو گیا ہے؟ شاید میرا نشانہ خطا ہوا ہو گا۔ اس خاموشی کی یہی ایک وجہ ممکن تھی۔
میں نے ایک اور ناقابلِ تلافی غلطی کر دی۔ میری ٹارچ رائفل پر ہی لگی ہوئی تھی۔ میں نے گولی چلانے سے قبل اسے کیوں نہ جلایا؟ ایک یا دو سیکنڈ کی روشنی میں مجھے پوری طرح اندازہ ہو جاتا کہ شیر کہاں ہے۔ اس کی بجائے میں نے احمقوں کی مانند اندھیرے میں تین گولیاں اس طرح چلائیں کہ مجھے شیر کے بارے میں میں کوئی علم نہ تھا کہ کہاں ہو گا۔
میں نے ٹارچ کی روشنی میں خیمے کے پردے کھولے اور آدم خور کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ فرار ہو چکا تھا۔ مجھے اس کے فرار کی سمت کا اندازہ نہ ہو سکا۔
تین گولیوں نے منچی وادی کے پجاریوں کو بیدار کر دیا تھا اور بیرا وغیرہ اب مجھے پکار رہے تھے۔ اگر میں فوراً انہیں جواب نہ دیتا تو یہ لوگ یہاں آ جاتے۔ میں نے گاؤں کا رخ کیا اور سب کو بتایا کہ کیا ہوا۔
سب نے میرے ساتھ چل کر خیمے میں تینوں گولیوں کے سوراخ اور شیر کے پنجوں سے ہونے والی تباہی دیکھنے پر اصرار کیا۔ ساتھ ساتھ یہ لوگ بھگوان کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے مجھے آدم خور سے بچایا۔ جب میں انہیں چھوڑ کر واپس جانے لگا تو بیرا نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جھونپڑے ہی میں سو جاؤں اور دوبارہ خیمے میں جا کر خطرے کا شکار نہ بنوں۔
میں نے اس کی دعوت نرمی سے رد کی اور خیمے کو لوٹا۔ میں نے لالٹین اٹھائی ہوئی تھی جس کی روشنی کافی تھی۔ مایوسی اور حماقت نے مجھے دیر تک سلائے رکھا۔ پھر میرے خیمے کے باہر سے آوازیں آئیں۔ میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا تو پورے گاؤں کے پجاری باہر نیم دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ رات چلائی جانے والی ۳ گولیاں کالے جادو کی وجہ سے خالی گئیں۔ کسی نے مجھ پر اور میری رائفل پر کالا جادو کر دیا تھا۔ کس نے، کیوں اور کیسے کیا؟ انہوں نے بتایا کہ اس جادو کی کاٹ کے بغیر میری کامیابی ممکن نہیں۔
ہندوستانی جنگلوں میں رہنے والے لوگ اس طرح کے توہمات کا شکار رہتے ہیں اور شہروں کے باسی بھی اس سے پاک نہیں۔ مجھے علم تھا کہ میں جتنی بھی بحث کرتا، انہوں نے ہار نہیں ماننی۔ اگر میں ان کی بات نہ سنتا تو وہ تعاون چھوڑ دیتے اور سارا ملبہ کالے جادو پر ہی گرتا۔ سب سے آسان حل ان کی بات سے اتفاق کرنا تھا۔
میں نے بہ آواز بلند اس آدمی کو برا بھلا کہا اور پھر ان پجاریوں سے پوچھا کہ وہ اس کی کاٹ کر سکتے ہیں؟
سب سے معمر پجاری نے کہا کہ وہ پوجا سے جادو کی کاٹ کر دیتا ہے مگر اس پر ۵ روپے خرچ ہوں گے۔ اس نے بتایا کہ اس پیسے سے وہ ایک مرغا اور دیگر اشیا خریدے گا اور کچھ پیسے اس کا معاوضہ ہوں گے۔
میں نے اسے فوراً ۵ روپے دے دیے اور خود سونے کے لیے خیمے میں گھس گیا۔ مایوسی سے نیند نہ آئی۔ کچھ دیر بعد ذبح ہوتے مرغ کی آواز سنائی دی اور پھر دھوئیں اور اگربتی کی خوشبو سے اندازہ ہوا کہ پوجا شروع ہو چکی ہے۔
کچھ دیر بعد بیرا نے مجھے باہر سے آواز دی: ’جناب، اٹھیں اور باہر آ جائیں۔ جادو کا اثر ختم ہو چکا ہے۔ اب پھر سے شیر کو تلاش کرتے ہیں۔ شیر بھی مل جائے گا اور ایک ہی گولی سے آپ اس کو ہلاک بھی کر دیں گے‘۔
ابھی پوجا پوری نہیں ہوئی تھی۔ بوڑھے جادوگر پجاری نے میری رائفل مانگی۔ پھر رائفل کو زمین پر رکھ کر اس نے کندے کے دونوں جانب چونے اور کسی چیز سے سفید اور لال رنگ کے کئی نشان بنائے۔ پھر اس نے مرغے کی آنتوں کا دائرہ بنایا اور چھ مرتبہ رائفل کی نالی پر اوپر سے نیچے گھمایا۔ ساتھ ساتھ منتر بھی پڑھتا رہا۔ پھر اس نے دہکتے انگارے چاروں سمت بکھیرتے ہوئے شیر کو بہ آواز بلند بلایا تاکہ وہ آ کر گولی کھائے۔
اس دوران دن کافی چڑھ آیا تھا۔ اسی جادوگر کا ۲۰ سالہ نوجوان پوتا مُتّو اور بیرا میرے ساتھ آدم خور کی تلاش میں روانہ ہونے کو تیار تھے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ دن کے وقت کسی جنگل میں شیر اور بالخصوص آدم خور کی تلاش میں مارے مارے پھرنا بیکار بات ہے۔ بیرا کی مہارت پر مجھے اندھا اعتبار تھا مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ بھی ان خرافات کا شکار ہو گیا تھا۔
میری شکل سے بیرا کو اندازہ ہو گیا مگر اس نے اصرار کیا کہ فضول کی باتوں میں وقت نہ ضائع کروں بلکہ سیدھا اس کے ساتھ جنگل چلوں۔ اسے اپنے جادوگر پر پورا بھروسہ تھا۔ ہم روانہ ہوئے۔ بیرا سب سے آگے، پھر میں اور پھر نوجوان۔ جونہی ہم وادی سے نکلے تو میں نے ترتیب بدل دی اور مُتّو کو درمیان میں رکھا۔ اگر آدم خور ہمیں دیکھ لیتا تو دیگر آدم خوروں کی مانند ہمیشہ قطار کے آخری آدمی پر حملہ کرتا۔ اس صورت میں نہتے مُتّو کا مارا جانا یقینی تھا۔
ہم پہاڑ سے نیچے اتر کر ندی کو پہنچے جہاں ہم نے شیر کے پگ تلاش کرنے شروع کیے۔ نئے اور پرانے بے شمار پگ تھے جن میں فرق کرنا ضروری تھا۔ جلد ہی تالاب کو آنے کے شیر کے پگ مل گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں وہاں چھپا بیٹھا تھا۔ پھر ایک فرلانگ دور شیر کے مزید تازہ پگ ملے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا دوسرے پگ اس وقت بنے جب شیر نے ٹارچ کی روشنی دیکھ لی تھی یا پھر جب میں نے اس پر تین گولیاں چلائی تھیں۔ ان پگوں میں چاروں پیروں کے نشان الگ الگ تھے اور تلوے سے مٹی اکھڑی ہوئی تھی جو اس بات کی علامات ہیں کہ شیر نے اپنے فرار کو چھپانے کی کوشش نہیں کی اور ڈر کر بھاگا تھا۔ ظاہر ہے کہ شیر بہت خوفزدہ ہو کر بھاگا تھا۔ خون کی عدم موجودگی سے واضح تھا کہ شیر زخمی نہیں ہوا۔
کچھ دور پگ دائیں مڑ کر سیدھا ندی کے مشرقی کنارے پر چڑھے۔ عین اسی جانب جب گزشتہ شام کو شیر نیچے اترا تھا تو لنگور نے آواز دی تھی۔ اس بار بھی شیر اسی راستے پر چلا۔ شاید اس کی کچھار تھوڑی دور گتھراین پہاڑ پر کسی غار میں ہو۔
اب ہوا یہ کہ جونہی ہم نے چھوٹے بانسوں کا جھنڈ عبور کیا تو زمین پتھریلی ہو گئی اور پگ غائب۔ جگہ جگہ گھاس کے گچھے اگے ہوئے تھے۔
دونوں پجاری جنگل کے ماہر تھے مگر یہاں پہنچ کر چکرا گئے۔ پھر انہوں نے چھوٹے چھوٹے چکر کاٹ کر شیر کے پگ تلاش کرنا شروع کر دیے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے کسی نہ کسی کو گھاس کا کچلا ہوا پتہ یا الٹا ہوا پتھر دکھائی دے جاتا۔ جلد ہی یہ علامات بھی ختم ہو گئیں اور ہم رک گئے۔ شیر کے بارے میں میں یہ تو اندازہ تھا کہ وہ اوپر گیا ہے مگر مزید کچھ کہنا ممکن نہ تھا۔
ہم نے سرگوشیوں میں مشورہ کر کے طے کیا کہ پہاڑی پر چڑھ کر دیکھیں کہ کوئی غار تو نہیں۔ قطار کی بجائے ہم نے پھیل کر بڑھنے کا فیصلہ کیا تاکہ زیادہ جگہ دیکھی جا سکے۔ بیرا میری دائیں جانب سو گز اور مُتّو میری بائیں جانب سو گز گیا اور ہم نے انتہائی محتاط انداز سے پیش قدمی شروع کر دی۔ دونوں مجھے پوری طرح دکھائی دے رہے تھے۔
راستہ بہت پتھریلا اور سخت ہو گیا اور پتھروں کی تعداد اور جسامت بڑھتی گئی مگر غار نہ ملا۔ یہ پہاڑی ۵۰۰ فٹ اونچی تھی مگر جب ہم چوٹی پر پہنچے تو دیکھا کہ دوسری جانب سخت ڈھلوان اور سامنے ہری بھری وادی میں بانس کے بکثرت جھنڈ تھے۔ پھر سامنے ہی گتھراین پہاڑ کی چوٹی تھی۔
میرا اشارہ پا کر دونوں مجھ سے سو سو گز دور رہتے ہوئے نیچے کو چل پڑے۔ اس سمت زمین زیادہ زرخیز تھی۔ پتھر اور چٹانیں بھی کم تھیں اور جگہ جگہ اونچی اور گھنی گھاس کے جھنڈ کے علاوہ جھاڑیاں اور چھوٹے درخت بھی دکھائی دینے لگے جن کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور پھر بانسوں کا جنگل آ گیا۔ یہ ہرا جنگل اتنا گھنا تھا کہ پتوں سے کم ہی روشنی چھن کر زمین تک پہنچ رہی تھی۔ مجھے فوراً احساس ہوا کہ میرے ساتھی خطرے میں ہیں کہ اب وہ میری نظروں سے اوجھل تھے اور میں ان کی مدد کو نہ پہنچ سکتا تھا۔ جونہی میں نے یہ سوچا، مُتّو کی چیخ سنائی دی اور شیر کی غراہٹ بھی، جیسے شیر نے حملہ کیا ہو۔ فوراً ہی بیرا نے شور مچایا تو شیر کی آواز رک گئی۔ میں نے بھی شیر کو بھگانے کے لیے شور مچایا اور ہم نے اس سمت دوڑ لگا دی۔
فاصلہ اتنا نہیں تھا۔ ہم جلد ہی پہنچ گئے اور دیکھا کہ مُتّو منہ کے بل پتھروں کے ڈھیر کے قریب گھاس پر پڑا تھا اور اس کی گُدی پچکی ہوئی تھی۔ گردن اور دائیں کندھے پر شیر کے دانتوں کے نشان تھے۔ شیر نے پہلے اسے کاٹا اور پھر اس کے سر پر پنجہ مارا تھا۔ ہم نے اس کی جان بچانے کے لیے شور کیا تھا مگر شیر پر الٹا اثر ہوا اور اس نے مُتّو کو ختم کر دیا۔
پتھروں کے پیچھے لیٹی گھاس بتا رہی تھی کہ شیر وہاں چھپا تھا۔ جب مُتّو گزرا تو شیر نے جست لگا کر پیچھے سے حملہ کیا۔ ہم نے اس کی لاش سیدھی کی۔ شیر کے پنجے کی قوت سے اس کے ڈھیلے باہر نکل آئے تھے اور زبان دانتوں تلے آ کر تقریباً الگ ہو گئی تھی۔ لاش کے پاس خون کا چھوٹا تالاب تھا۔
میرا جی مالش کرنے لگا۔ بیرا کا سیاہ چہرہ سفید پڑ گیا مگر وہ خاموش رہا اور میں بھی کچھ نہ بولا۔ کہنے کو کچھ تھا جو نہیں۔ یہ میری غلطی تھی کہ نہتے نوجوان کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلا تھا۔
میری گھڑی پر ۱۱ بج رہے تھے اور سورج بہت گرم ہو چکا تھا۔
ہمیں سنبھلنے میں کچھ وقت لگا۔
پھر میں نے بیرا سے کہا: ’تمہیں تو یقین تھا کہ پوجا کے بعد شیر کی ہلاکت بچوں کا کھیل ہو گی۔ الٹا ہمارا ساتھی مارا گیا‘۔
بیرا کچھ دیر بعد بولا: ’احمق بڈھے کو مرغے کی قربانی دینی تھی مگر اس نے ایک روپیہ بچانے کے لیے مرغی خریدی۔ ایک روپے کے بدلے پوتے کی موت‘۔
میں نے اس پر توجہ نہ دی۔ میرے ذہن میں ایک منصوبہ بن رہا تھا۔ میں گھاس سے گزر کر پتھروں کے ڈھیر تک پہنچا اور ایک پتھر پر چڑھا۔ یہاں سے لاش بمشکل ۱۰ گز دور تھی۔ یہاں ۴ پتھر تھے جن میں سے سب سے بڑا ۳ فٹ اونچا تھا جس پر میں کھڑا تھا۔ باقی سب کافی چھوٹے تھے۔
پھر میں نے منصوبہ بنا لیا۔ یہاں کچھ پتھر پڑے تھے، اگر ہم یہاں کچھ اور پتھر لا کر رکھتے تو شیر کو شبہ نہ ہوتا۔
میں نے مڑ کر بیرا سے کہا: ’رات تاریک ہو گی اور شیر واپس لوٹے گا۔ ہمیں لاش یہیں چھوڑنی ہو گی۔ شیر بہت بھوکا ہے۔ اگر ہم یہاں کچھ اور پتھر لا کر رکھ دیں تو میرے چھپنے کے لیے کمین گاہ بن جائے گی۔ اتنے قریب سے ٹارچ کی روشنی میں شیر کو ہلاک کرنا مشکل نہ ہو گا‘۔
بیرا بولا، ’جناب، آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ جونہی شیر یہاں کمین گاہ دیکھے گا، اسے فوراً خطرے کا احساس ہو جائے گا۔ عین ممکن ہے وہ بھاگ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پتھروں پر جست لگا کر آپ کے سر پر پہنچ جائے اور آپ کو احساس بھی نہ ہو۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ جا کر اس کے کمینے دادے کو اس کے پوتے کی موت کی خبر دوں۔ پھر گاؤں والے آ کر اس کی لاش کو اٹھا کر رات تک جلا دیں گے۔ پھر اس کی روح کو سکون ملے گا۔ اگر اس کی لاش کو شیر کی خوراک بنانے کے لیے چھوڑ دیا گیا تو اس کی روح جنگلوں میں بھٹکتی پھرے گی اور ہمارے لیے مشکلات پیدا کرے گی‘۔
میں نے اس کی بات کاٹی، ’شیر اس کی لاش کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ میں یہاں اسی لیے بیٹھوں گا۔ کیا آدم خور کو مارنے یہ عمدہ موقع نہیں؟ اگر میں آج رات اسے ہلاک کر سکوں تو کتنی زندگیاں بچ جائیں گی۔ بطور شکاری، تم خود سوچو کہ ایسا عمدہ موقع ضائع کرنا عقلمندی ہے؟‘
بیرا کچھ دیر چپ رہا۔ لگ رہا تھا کہ میری بات اسے قائل کر رہی ہے۔ پھر اس نے معصومیت سے کہا، ’جناب، ہم نے اس کی لاش ہر طرف تلاش کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہے۔ اب میں جا کر سب کو بتاتا ہوں۔ کل صبح ہم پھر سے تلاش کریں گے۔ آج رات آپ یہاں بیٹھیں اور میں نظروں سے اوجھل مگر قریب کسی درخت پر بیٹھ جاؤں گا تاکہ آپ کو مدد کی ضرورت ہو تو پہنچ جاؤں‘۔
اس طرح بیرا نے اپنے ضمیر کو مطمئن کیا اور ہم منصوبے پر عمل کرنے کے لیے اٹھے۔
شیر کی توجہ سے بچنے کے لیے ہم نے ۲۰۰ گز دور جا کر ایک اور مقام سے پتھر اٹھا کر اس جگہ لانا شروع کیے۔ ۴ پتھر پہلے تھے اور ہم مزید ۶ پتھر لائے اور ایک دائرہ سا بنا دیا۔ پھر اس پر ہم نے چھوٹے پتھر رکھے اور ۳ فٹ اونچی چاردیواری بنا دی۔ زیادہ اونچی بناتے تو شیر کو شبہ ہو جاتا۔
پھر ہم نے پتھروں کے درمیانی خلا کو سخت گھاس سے بھرا جو ہم کچھ فاصلے سے توڑ کر لائے تھے۔ یہ سب کام بہت طویل اور مشقت طلب تھا کہ دھوپ شدید گرم تھی اور پتھر اور گھاس دور سے لانی تھیں۔
صبح جب ہم منچی سے نکلے تو جادوگر نے ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ ہم شیر کو ہلاک کر لیں گے۔ میں نے صرف رائفل اٹھائی تھی۔ پانی کی بوتل یا ٹارچ خیمے میں ہی رکھی تھیں۔ بیرا کو یہ سب سامان لانے کو اکیلا بھیجنا ظلم ہوتا۔
یہ سب بحث کر کے ہم نے طے کیا کہ ہمیں ابھی یہیں بیٹھ جانا چاہیے۔ میں اس ۳ فٹ اونچے ’قلعے‘ میں بیٹھتا جبکہ بیرا کچھ فاصلے پر نظروں سے دور ایک درخت پر بیٹھ جاتا۔ امید تھی کہ آدم خور کو لاش کا مقام یاد ہو گا اور وہ لوٹ آئے گا۔ ہماری خواہش تھی کہ شیر کہیں قریب چھپ کر ہمیں نہ دیکھ رہا تھا کہ پچھلے ۳ گھنٹے سے ہم کمین گاہ بنا رہے تھے۔ اگر وہ قریب چھپ کر ہمیں دیکھ رہا ہوتا تو اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں تھی۔ واحد امکان یہ تھا کہ شیر پانی کی تلاش میں پہاڑ پر چڑھ گیا ہو گا اور اس نے ہمیں نہ دیکھا ہو گا۔ نیچے وادی میں جانے کے امکانات نہیں تھے کہ ندی خشک ہو چکی تھی۔
ہم نے بیرا کی خاطر درخت تلاش کرنے کے لیے چکر لگایا اور نصف فرلانگ دور املی کا ایک بڑا درخت دکھائی دیا جس پر بیرا رات گزار سکتا تھا۔
سوا دو بجے جب دن انتہائی گرم تھا، میں نے بیرا کو املی کے درخت پر چڑھایا۔ بیرا نے مجھے بار بار کہا کہ خبردار رہوں اور سو نہ جاؤں۔ جب میں اپنی جگہ پہنچ کر بیٹھا تو زمین شدید گرم تھی۔ اکڑوں بیٹھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ مگر اس طرح بیٹھنے سے میرا سر دیوار کے اوپر ہوتا اور اس طرح زیادہ دیر بیٹھنا بھی ممکن نہ تھا۔ مجھے سر جھکا کر بیٹھنا تھا۔
جلد ہی مجھے احساس ہو گیا کہ جھکے ہوئے سر کی وجہ سے مجھے شیر کی آمد کا پتہ نہیں چل سکتا اور شیر میرے سر پر پہنچ جاتا۔
پھر میں اپنی پناہ گاہ سے نکلا اور کچھ دور جا کر گھاس کے کئی مٹھے توڑے اور اپنے ہیٹ کے اردگرد اٹکا دیے۔ اس پر کچھ وقت لگا۔ جب اسے کچھ دور سے دیکھا جاتا تو ہیٹ کی بجائے گھاس دکھائی دیتی۔
پھر ہیٹ پہن کر میں اپنی پناہ گاہ میں پہنچا اور پھر ساکت ہو کر اکڑوں بیٹھ گیا۔ میری آنکھیں دیوار سے ذرا اونچی تھیں۔ میں اپنے سر کو انتہائی آہستگی سے حرکت دے کر اپنے دائیں، بائیں اور عقب میں بھی دیکھ سکتا تھا۔ ہیٹ میں گھاس لگانے کا اضافی فائدہ یہ تھا کہ اگر شیر میرے سر کو ہلتا دیکھتا تو بھی اسے یہی لگتا کہ ہوا سے گھاس ہل رہی ہے۔
کچھ دیر بعد میرے ٹخنے دکھنے لگے اور پنڈلیاں سن ہو گئیں۔ مجھے وقفے وقفے سے ہلنا پڑتا تھا۔ ۴ بجے زمین اس قابل ہوئی کہ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ سکتا۔
اس دوران گرد و پیش انتہائی خاموش رہے۔ کسی جانور یا پرندے کی نہ تو آواز آئی اور نہ ہی کوئی حرکت دکھائی دی۔ شاید شیر بھی سورج کی گرمی سے بچنے کے چکر میں ہو گا۔ دو بار مجھے حرکت دکھائی دی۔ ایک بار ایک بڑی گوہ گزرتی دکھائی دی اور دوسری مرتبہ درخت سے لٹکتا چھوٹا اژدہا دکھائی دیا جب اس نے نیچے سے گزرتی گلہری کو پکڑا۔ مجھے گلہری پہلے دکھائی دی اور اژدھا تب دکھائی دیا جب وہ گلہری کو پکڑ کر مروڑ رہا تھا۔
۵ بجے ہوا کی گرمی دور ہو گئی۔ تب مجھے یاد آیا کہ میں نے صبح سے پانی نہیں پیا اور اگلی صبح منچی جانے تک مجھے پانی نہیں ملنا تھا۔
پھر پہاڑی کے کنارے سے تیتر بولا اور چند منٹ میں دوسری طرف سے دوسرا تیتر بولا۔ چند منٹ میں دونوں آمنے سامنے پہنچ کر لڑنے لگے۔ مجھے ان کی لڑائی تو نہیں دکھائی دی مگر آواز سے اندازہ ہو رہا تھا۔ ۱۰ منٹ کی لڑائی کے بعد ایک تیتر نے ہار مان لی اور اڑ گیا۔ دوسرا تیتر فتح یاب ہو کر بولتا رہا۔
اس لڑائی کی وجہ سے وقت تیزی سے گزرا۔ پانچ بج کر چالیس منٹ پر جنگلی مرغوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وقفے وقفے سے مور کی آواز بھی آتی۔ سینکڑوں بلبل بھی بولنے لگے۔ یہ خوشگوار آوازیں جس نے ایک بار سنیں، انہیں کبھی نہیں بھلا سکتا۔
تاہم ان پر زیادہ توجہ دینا میرے لیے مناسب نہ تھا۔ اب مجھے زیادہ توجہ دینی تھی کہ رات قریب آ رہی تھی اور آدم خور کے لوٹنے کا وقت ہو چلا تھا۔ اس وقت پہاڑ پر سے ایک لنگور بولا اور دوسری پہاڑی پر سے دوسرا لنگور بولا۔ پھر ان کے پورے غول درختوں پر اچھلنے کودنے، بولنے اور شور مچانے لگے۔ لنگور میری نظروں سے اوجھل تھے مگر میں چشمِ تصور سے انہیں دیکھ سکتا تھا۔
لنگوروں کی وجہ سے مجھے بہت مدد ملی۔ مجھے علم تھا کہ لنگوروں کے ہر قبیلے کا چوکیدار نگران بیٹھا ہو گا جس کی تیز نگاہ سے کچھ نہیں چھپ سکتا۔
سورج میری پشت پر پہاڑیوں کے غروب ہو گیا اور وادی پر تاریکی چھانے لگی۔ گھاس پھونس اور جھاڑیاں دھندلا گئے۔ فاصلوں کا تناسب بگڑ گیا۔ کچھ دیر بعد ہر طرف ملگجا سا اندھیرا تھا اور محض قریب والی چند جھاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ ہر چیز تاریکی میں چھپتی چھپتی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
میرے اپنے عقب سے پھڑپھڑاہٹ کی آواز اور پھر چوں چوں سنائی دی۔ بڑے کانوں والی چمگادڑ حشرات کی تلاش میں اڑ رہی تھی۔ چند مکھیاں مچھر میرے ہیٹ کے پاس تھے تو چمگادڑ ان سے پیٹ بھرنے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایک شب بیدار پرندہ میری بنائی ہوئی منڈیر پر آ بیٹھا۔ وہ اتنا قریب تھا کہ میں ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ سکتا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ پرندے کو میری موجودگی کا علم نہیں ہو پایا۔ پھر اس نے اپنی بھیرویں الاپنا شروع کر دی۔
جب اس پرندے کی نظر مُتّو کی لاش پر پڑی تو فوراً اڑ گیا۔ کچھ دیر بعد دور سے اس کی آواز دوبارہ آنے لگی۔
اب جھاڑیاں، گھاس، پتھر اور مُتّو کی لاش میری نظروں سے اوجھل ہو چکی تھیں۔ ہر طرف رات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ رات کو ستاروں کی روشنی مناسب حد تک منظر دکھا سکتی ہے۔ جب میں نے نظریں اٹھائیں تو آسمان پر چند ہی ستارے دکھائی دیے کہ بادل چھا رہے تھے۔
آدم خور کو میری موجودگی محسوس کر کے اپنی خوراک بنانے کے لیے یہ بہترین رات تھی اور مجھے اس کی آمد کی خبر بھی نہ ہو پاتی۔ اتنی تاریکی میں شیر بھلا کیسے دکھائی دیتا۔ ایک طرح سے میں آدم خور کے رحم و کرم پر تھا۔ اچانک مجھ پر شدید خوف طاری ہوا اور کپکپی شروع ہو گئی۔ میں نے بیرا کے عقلمندانہ مشورے کو چھوڑ کر کتنی حماقت کی تھی۔ میرا دل چاہا کہ میں چیخ کر بیرا کو بلاؤں یا بھاگ کر اس کے پاس املی کے درخت پر محفوظ ہو کر بیٹھ جاؤں۔ گھٹن کا احساس ہونے لگا۔ مجھ پر گھبراہٹ چھانے لگی اور سارے جسم سے پسینہ چھوٹنے لگا۔ دور فاصلے پر الو کی منحوس آواز سنائی دی۔
عین اسی وقت نیچے وادی میں ندی کے پاس کہیں سے دم توڑتے سانبھر کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز دوبارہ آئی اور پھر تیسری بار، پھر خاموشی چھا گئی۔
مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ نر سانبھر کی آواز ہے۔ مادہ سانبھر کی آواز باریک جبکہ چیتل کی آواز اس سے فرق ہوتی ہے۔ نر سانبھر کو مارنے والے تین ہی جانور ہو سکتے ہیں: جنگلی کتوں کا غول، تیندوا یا شیر۔ جنگلی کتے غول کی شکل میں شکار کرتے ہیں اور بہت شور کرتے ہیں۔ میں نے جنگلی کتوں کا امکان رد کر دیا۔ یا تو تیندوا ہو گا یا پھر شیر۔ کوئی اور جانور نر سانبھر کو نہیں مار سکتا۔ تیندوے کو سانبھر گرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔
زیادہ امکان شیر کا ہی تھا۔ مگر یہ شیر آدم خور تھا یا عام شیر؟ ممکن ہے کہ کوئی شیر ادھر سے گزر رہا ہو اور سانبھر کو دیکھ کر اسے مار لیا ہو؟ مجھے علم تھا کہ آدم خور محض انسانی گوشت پر زندہ نہیں ہے کہ اس کے شکار کردہ انسانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ شیر بہت بھوکا تھا اور کچھ وقت سے اسے کھانے کو کچھ نہ ملا تھا۔ امکان یہی تھا کہ آدم خور نے ہی سانبھر مارا ہو گا۔ شاید وہ مُتّو کی لاش کو آ رہا ہو گا کہ سانبھر راستے میں مل گیا۔
سانبھر مر چکا تو خاموشی چھا گئی۔ شیر نے بقیہ رات پیٹ بھرنے میں گزارنی تھی اور یہاں نہ آتا۔ رت جگا بیکار جاتا۔ یہ سوچ بہت مایوس کن تھی۔
تاہم فوری خطرے سے نجات کی کیفیت بھی تھی اور اپنی بزدلی پر مایوسی بھی کہ چند لمحے قبل میں اسی شیر کی آمد کے خوف سے لرز رہا تھا اور تاریکی میں آدم خور کا خیال ہی میرے اوسان خطا کرنے کو کافی تھا۔
بیرا نے بھی دم توڑتے سانبھر کی آواز سنی ہو گی اور میری طرح وہ بھی سوچ رہا ہو گا کہ آیا یہ آدم خور نے شکار کیا ہے یا کسی اور درندے نے۔ معلوم نہیں کہ بیرا نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہو گا۔ سانبھر کی موت سے فوری خطرہ تو ٹل گیا تھا۔ اب میں پرسکون تھا اور سوچ رہا تھا کہ آدم خور لوٹے گا یا نہیں۔
اگلا نصف گھنٹہ جنگل میں خاموشی رہی۔ جیسے جنگل کے باسیوں کو خبر ہو گئی ہو کہ موت ان کے تعاقب میں ہے اور جس نے آواز نکالی، وہ مارا جائے گا۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ ابھی ۱۰ بھی نہیں بجے تھے، پوری رات پڑی تھی۔
اس کے بعد جنگل کی زندگی پھر سے بیدار ہونے لگی۔ چند گز دور دائیں جانب کاکڑ گھاس چر رہا تھا۔ نیچے وادی میں ندی کے کنارے ہاتھی بانس کھا رہا تھا۔
جب وادی سے گرم ہوا اٹھی تو پہاڑ کی چوٹی سے سرد ہوا نیچے اترنے لگی۔ ہوا کے جھونکے چلنے لگے اور ایک جھونکے سے مُتّو کی لاش کی بو کاکڑ تک پہنچی۔ کاکڑ فوراً چند گز بھاگ کر رکا اور پھر بھونکنے لگا۔
اس کی آواز چند منٹ تک وقفے وقفے سے آتی رہی۔ اتنی چھوٹی جسامت کے جانور کی اتنی اونچی آواز سن کر حیرت ہوتی ہے۔ خاموش رات میں کاکڑ کی آواز ایک میل دور سے بھی سنائی دیتی ہے۔
کچھ دیر بعد ہاتھی ندی میں اوپر کی سمت چلا گیا۔ اس کے راستے میں سانبھر کی لاش پڑتی تھی جس پر تیندوا یا شیر موجود تھا۔ ہاتھی زور سے چنگھاڑنے لگا۔
پھر میں نے شیر کی غصیلی دہاڑ سنی۔ ہاتھی اسی طرح شور کرتا رہا اور ہاتھی بھی وقفے وقفے سے دہاڑتا رہا۔ میں اس منظر کو چشمِ تصور سے دیکھ سکتا تھا۔ شیر اپنا پیٹ بھر رہا تھا کہ ہاتھی آن پہنچا۔ اب یہ کہنا تو ممکن نہیں تھا کہ آیا ہاتھی اور شیر لڑائی شروع کریں گے یا راہِ فرار اختیار کریں گے۔
ہاتھی کی چنگھاڑ بدلنے لگی۔ خوف والی آواز بتدریج غصے والی آواز میں بدلتی گئی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہاتھی نر ہے اور اسے بانس کے جھنڈ کے قریب شیر کی موجودگی پسند نہیں۔ سو اس کا پارہ چڑھ رہا تھا۔
اب شیر کیا کرے گا؟ زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ شیر نے ہاتھی کا سامنا نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے شکار کردہ جانور سے ہٹ گیا۔ اچانک خاموشی چھا گئی اور ہاتھی شیر کو بھگا کر خاموش ہو گیا۔
مغرب کے بعد سے چھائے ہوئے بادل ایک گھنٹہ قبل جا چکے تھے اور اب ستاروں کی روشنی میں مجھے مُتّو کی لاش مناسب حد تک دکھائی دے رہی تھی۔ اب اگر آدم خور آتا تو مجھے کچھ نہ کچھ دکھائی دے جاتا۔ اب مجھے پھر خیال آیا کہ آیا ہاتھی سے جھگڑا کرنے والا شیر عام تھا یا آدم خور۔ اس کی بزدلی سے تو یہی لگا کہ آدم خور ہی ہو گا۔
اچانک مجھے شیر کی غراہٹ سنائی دی جو صرف ایک ہی بار آئی اور میں اندازہ نہ لگا سکا کہ کس سمت یا کتنے فاصلے سے آئی ہے۔ ایک اندازہ تھا کہ یہ میرے عقب میں کچھ نیچے سے آئی تھی مگر یقین سے کہنا ممکن نہ تھا۔
ہر ممکن خاموشی سے میں نے انتہائی آہستگی سے تھوڑا بائیں جانب رخ کیا۔ اب مجھے دائیں جانب لاش دکھائی دے رہی تھی اور اگر کوئی جانور بائیں جانب سے آتا تو وہ بھی دکھائی دے جاتا۔
ہاتھی نے شیر کا رخ جس طرح بدلا تھا، مجھے اس پر خوشی ہوئی۔ شیر کو اب شاید اپنا دن والا شکار یاد آ جائے۔ غصے کا اظہار کرتے ہوئے شیر اب اس جانب آ رہا تھا۔
میری قسمت ساتھ دے رہی تھی۔ نہ صرف شیر نے اپنی آمد کا اعلان کیا بلکہ غصے کی وجہ سے بھی وہ زیادہ محتاط نہ تھا۔ اتنی تاریکی میں شیر کی آمد کی پیشگی اطلاع ملنا بہت اہم تھا۔ شاید اسے میری موجودگی کا علم بھی نہ ہوتا۔
شیر دو بار مزید غرایا۔ پھر مجھے بائیں جانب تاریکی میں ایک متحرک سایہ سا دکھائی دیا جو اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ یہ سایہ دوبارہ کافی قریب دکھائی دیا۔ اس کا رخ میری جانب تھا۔
شیر پھر غرایا۔ ابھی تک اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔ یہ آواز اسی سائے سے آ رہی تھی اور سائے کا رخ میری جانب تھا۔
تاریک سایہ جھاڑی کے پیچھے غائب ہو گیا۔ چند لمحے بعد سایہ بائیں سے دائیں سیدھا مُتّو کی لاش پر پہنچا جو ۱۰ گز دور تھی۔ اس نے میری کمین گاہ کی طرف ذرا سی بھی توجہ نہ دی۔
شیر اتنا مشتعل تھا کہ لاش پر پہنچ کر بھی غراتا رہا اور لاش کی چیر پھاڑ شروع کر دی۔ ہاتھی کی وجہ سے اسے سانبھر کی لاش چھوڑنی پڑی تھی۔ اب اس کا غصہ مُتّو کی لاش پر نکل رہا تھا۔
مجھے احساس ہوا کہ مجھے شیر کو پہلی گولی سے ہلاک یا معذور کرنا ہے کہ وہ مجھ پر حملہ نہ کر سکے۔ وہ مجھ سے بمشکل ۱۰ گز دور تھا مگر مجھے محض دھبہ سا دکھائی دے رہا تھا۔ میرے پاس ٹارچ بھی نہیں تھی اور نہ ہی روشن دیدبان۔ میری پرانی اعشاریہ ۴۰۵ بور کی ونچسٹر کے عام دیدبان تھے۔
جتنی دیر شیر لاش کو بھنبھوڑتا، میں نے کچھ کرنا تھا۔ جونہی شیر ذرا پرسکون ہو کر پیٹ بھرنا شروع کرتا تو اس کو میری ہلکی سی حرکت بھی دکھائی دے جاتی اور فوراً حملہ کر دیتا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس نے سانبھر کو اتنا کھا لیا ہو کہ اب اسے بھوک نہ ہو۔ اس صورت میں اگر شیر چلا جاتا تو واپس نہ لوٹتا۔
میں نے اعشاریہ ۴۰۵ بور کی رائفل کا کندہ شانے سے لگایا اور پوری احتیاط کی کہ رائفل کی نال پتھر سے نہ ٹکرائے۔ رائفل کو سختی سے تھام کر میں نے اندازے سے شیر کے ہیولے پر نشانہ لیا۔
شیر پر مہلک نشانہ لینا ممکن نہ تھا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ نشانہ یکسر خطا جاتا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ شیر زخمی ہو کر مجھ پر ہی حملہ کر دیتا۔ شیر کی فوری ہلاکت کا امکان سو میں سے صرف ایک تھا۔
میں نے احتیاط سے سانس روکا اور لبلبی دبا دی۔
دھماکے کی آواز پہاڑیوں میں شدت سے گونجی اور شیر بھی دہاڑنے لگا۔ خوش قسمتی سے شیر کا رخ مخالف سمت تھا، اس نے سوچا کہ اس پر جھاڑیوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ شیر نے جست لگائی اور قریب ترین جھاڑی پر غصہ اتارنا شروع کر دیا۔ میرا اندیشہ درست نکلا اور شیر محض زخمی ہوا تھا۔ اس کا مزاج پہلے ہی ہاتھی کی وجہ سے برہم تھا، زخمی ہونے کے بعد اس کے غصے کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
میں نے غلطی کر دی۔ بجائے اس کے کہ میں خاموش رہتا اور شیر جھاڑی پر غصہ اتارنے کے بعد چلا جاتا، میں نے اس پر دوسری گولی چلا دی۔
اس کے بعد شیر کا رویہ انتہائی خوفناک ہو گیا۔ دوسری گولی کھا کر وہ ہوا میں اچھلا اور نیچے گر کر نیم دائرے میں گھوما اور اس کا رخ میری طرف ہو گیا۔
فوراً میں کھڑا ہوا اور شیر پر جب تیسری گولی چلائی تو وہ ۲ گز دور تھا۔ پھر میں نے اپنی پیچھے پتھروں کی دیوار سے جست لگائی۔ نیچے گرا تو جیسے پیروں میں ہزاروں سوئیاں چبھی ہوں۔ میں ۱۱ گھنٹوں سے آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا سو دورانِ خون رک گیا تھا۔
خوش قسمتی سے شیر پتھروں کے دوسری جانب رکا رہا۔ اس کی آوازوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شدید زخمی ہے اور شاید مرنے والا ہو۔
میں گھٹنوں کے بل اٹھا اور آہستہ آہستہ دیوار کی دوسری جانب دیکھا۔ شیر دوسری جانب پڑا تڑپ رہا تھا۔ چوتھی گولی سے اس کا خاتمہ ہو گیا۔
جب شور ختم ہوا تو مجھے بیرا کی آواز آئی جو چلا چلا کر پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا۔ میں نے اسے بتایا کہ شیر ختم ہو چکا ہے اور اسے اپنی طرف بلایا۔ چند منٹ بعد بیرا آن پہنچا اور میں نے اسے پوری تفصیل بتائی۔ نیچے ندی میں ہاتھی پھر چنگھاڑا۔
بیرا مجھے لے کر سیدھا منچی پہنچا۔ وہاں دوسری بار میں نے ساری تفصیل سنائی۔ ساری بستی والے ہمارے ساتھ لالٹینیں اٹھا کر شیر اور مُتّو کی لاشیں لانے روانہ ہو گئے۔
میری پہلی گولی شیر کے پیٹ میں لگی۔ دوسری گولی شانے کے پاس اس کی ریڑھ کی ہڈی پر لگی۔ دوسری گولی نے اس کو فرار ہونے سے روکا تھا۔ حسب توقع آدم خور جوان شیر تھا جو اس کی ناتجربہ کاری سے ظاہر تھا۔ پجاریوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم نے مُتّو کی لاش کو چارہ کیوں بنایا تھا۔ ہم نے پوچھا کہ ان کا جادوگر اتنا احمق کیوں تھا؟ پھر ہم نے انہیں بتایا کہ آدم خور اپنے انجام کو پہنچا۔
اس پر وہ خاموش ہو گئے۔
٭٭٭
۲۔ پیدّاچیرُوُو کا لنگڑا
اگر آپ گنتاکل سے میٹر گیج والی ٹرین پر مشرق کی طرف سفر کریں تو راستے میں بزوادہ (موجودہ نام وجے واڑا) آئے گا۔ یہاں آندھرا پردیش کے بہترین جنگلات پائے جاتے ہیں جو دروناچلم جنکشن اور نندیال کے بعد آتے ہیں۔ یہاں بسواپرم، چیلما، بوگوڈا اور دگوامیٹّا کے سٹیشن آتے ہیں۔
ریلوے کی پٹڑی کے دونوں جانب جنوبی ہندوستان کے بڑے اینٹلوپ نیل گائے بکثرت ملتے ہیں۔ ان جنگلوں میں چِنا منترالمنا کے فارسٹ ریسٹ ہاؤس کے آس پاس تو بہت ہی زیادہ نیل گائیں ہیں۔ کبھی ان کی تعداد ہر جگہ بہت زیادہ تھی مگر اب جنوبی ہندوستان کے اکثر جنگلوں میں نیل گائے لگ بھگ معدوم ہو چکی ہے۔
نیل گائے کے علاوہ یہاں جنگلی سور عام ہیں اور جانوروں کی کثرت کے سبب شیر اور تیندوے بھی بہت زیادہ ہیں۔ اگر کسی وجہ سے درندوں کی فطری خوراک کم پڑ جائے تو پھر ان کی توجہ پالتو مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کی طرف ہو جاتی ہے جنہیں مقامی چروا ہے گاؤں کے پاس چراتے ہیں۔ پھر وہ وقت آتا ہے کہ جب درندے اور انسان مقابل آ جاتے ہیں کہ چروا ہے اور دیہاتی حملہ آور درندوں کو نیزوں، پھندوں، گولیوں اور دیگر ذرائع سے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شیر اور تیندوے اور بھی کئی وجوہات سے زخمی ہو سکتے ہیں۔ جب زخمی درندے فطری خوراک پانے کے قابل نہ رہیں تو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے انسان سب سے آسان ذریعہ رہ جاتا ہے۔
کئی سالوں کے دوران یہاں کئی آدم خور پیدا ہوئے۔ میں ان میں سے ایک کے بارے میں میں ذکر کر چکا ہوں جو مندرجہ بالا سٹیشنوں کے آس پاس شکار کرتا رہا تھا۔ یہ کہانی ایک ایسے آدم خور کے بارے میں میں ہے جو یہاں سے چند میل دور شمال کی جانب ظاہر ہوا تھا۔
اس مقام تک پہنچنے کے لیے آپ دگوامیٹّا نہ اتریں بلکہ مزید ۴۰ میل کا سفر کر کے مرکاپور روڈ پہنچیں۔ وہاں اتر کر آپ سڑک سے شمال کی جانب مزید ۴۰ میل جائیں۔ یہاں سڑک بہت خوبصورت پہاڑوں سے اترتی ہے۔ اس جگہ کا نام سری سیلم ہے جو کسٹنا (موجودہ نام کرشنا) دریا کے اوپر ہے۔ پہلے یہ دریا مدراس اور حیدر آباد کے درمیان حدبندی کا کام کرتا تھا۔ برطانوی راج ختم ہو گیا اور نظام بھی چلے گئے اور یہ علاقہ اب آندھرا پردیش کا حصہ بن گیا ہے جو ہندوستان کی دوسری بڑی ریاست ہے۔ سری سیلم میں پہلے ایک مندر تھا مگر اب زراعت اور بجلی کے منصوبے کی وجہ سے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
گزرے برسوں میں جب حالات سازگار تھے تو سڑک مرکاپور ریلوے سٹیشن سے ۲۰ میل دوری سے لے کر کسٹنا دریا تک ایسے جنگل سے گزرتی تھی جہاں شیر رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ جنگل نہ تو بہت خاردار ہیں اور نہ ہی بہت گھنے۔ مناسب اونچی گھاس اور کم بلند درختوں کی وجہ سے شیروں کے لیے چھپنا آسان ہوتا ہے اور یہاں ہرن اور سور بہ آسانی پائے جاتے ہیں جو ان کا شکار بنتے ہیں۔ نیچی پہاڑیاں اور جگہ جگہ گزرتی ندیاں شدید گرمیوں میں بھی خنکی، سایہ اور پانی مہیا کرتی ہیں۔ جنوبی جنگلوں میں عذاب بننے والے پسو بھی یہاں نہیں پائے جاتے اور مغربی گھاٹ والی جونکیں بھی نہیں ہوتیں۔ جونکیں تو پھر بھی اکا دکا مل جاتی ہیں مگر پسو صرف بارشوں کے بعد عارضی طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
تیندوے اور بالخصوص شیر یہاں عام ملتے تھے۔ ان کا گزارا نیل گائے اور ہرنوں پر ہوتا ہے اور یہاں شکاری بھی کم ہی آتے ہیں۔ نیل گائے کو بعض شکاری پسند کرتے ہیں مگر ان کے شکار پر مکمل پابندی کی وجہ سے شکاریوں کو یہاں آنے کی کم ہی ضرورت پڑتی ہے۔ موسم بھی سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں شدید گرم ہوتا ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان جنگلوں میں زیادہ سڑکیں وغیرہ نہیں پائی جاتیں کہ جن پر گاڑی چل سکے۔ اگر آپ نے سڑک سے دور جانا ہو تو یا تو پیدل چلیں یا پھر بیل گاڑی پر۔ ان وجوہات سے سری سیلم کے جنگلات میرے لیے خصوصی دلچسپی کا سبب تھے۔ یہاں پہنچ کر میں شہری زندگی کی چہل پہل سے نجات پا لیتا تھا۔
یہاں ایک بستی کا نام پیدّاچیروُو ہے جو مرکاپور سے سری سیلم جانے والی سڑک کے مغرب میں واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کے لیے بیل گاڑی پر ۱۸ میل کا سفر کرنا پڑتا ہے اور سارا راستہ جنگل سے گزرتا ہے اور کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا۔ پیداچیروو چھوٹی بستی ہے جس کے جنوب میں خوبصورت جھیل ہے۔ بیل گاڑی کا راستہ اسی جھیل سے گزر کر جنوب کی سمت چند میل دور پہاڑی تک پہنچتا ہے۔ یہاں راستہ انتہائی دشوار چڑھائی سے ہوتا ہوا دوسری جانب رولاپینٹا بستی کو جاتا ہے۔ یہاں ایک اور دیہات ڈورنالا سے آتماکور جانے والی سڑک بھی اس سے آن ملتی ہے۔ مزید جنوب میں چنّامنترالامنا کا ریسٹ ہاؤس ہے جہاں نیل گائیں بکثرت ہیں۔
مندرجہ بالا چھوٹی جھیل ہر طرف جنگل سے گھری ہے اور جنگل میں شیروں کی کثرت ہے۔ شیر اتنے ہیں کہ وہ سبھی تیندوے کھا چکے ہیں۔ نومبر سے جنوری تک ہر سال ملاپ کے موسم میں مغرب کے بعد ہمیشہ اور دن میں بھی اکثر شیرنیوں کی آواز سنائی دیتی ہے جو شیروں کو تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات شیرنیوں کی خاطر لڑنے والے شیروں کی خوفناک آوازیں بھی آتی ہیں۔
میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں کہ جب درندوں کی فطری خوراک کم پڑ جائے تو ان کا رخ پالتو مویشیوں اور بھیڑ بکریوں کی طرف ہو جاتا ہے۔ جب درندے جنگلی یا پالتو جانوروں کو بھی مارنے کے قابل نہ رہیں تو آدم خور بنتے ہیں۔ میرے علم میں ایک کے سوا باقی ہر واقعے میں درندوں کی معذوری کا سبب انسان کے ہاتھوں لگنے والے زخم تھے جو گولی، چھرے یا پھندے سے لگے تھے۔ میں اس استثنائی واقعے کے بارے میں میں اب لکھ رہا ہوں۔
پیداچیروو کے آدم خور کے سلسلے میں انسان یکسر بے قصور تھا۔ جب میں نے اسے شکار کیا تو پتہ چلا کہ دوسرے شیر سے لڑائی میں اس کی دائیں آنکھ اور دائیاں کان ضائع ہو گئے۔ دوسرے شیر نے دائیں بازو پر بری طرح کاٹا کہ اس کے پٹھے کٹ گئے اور آدم خور لنگڑانے لگا۔ ان معذوریوں کے باعث شیر اپنی فطری خوراک حاصل کرنے کے قابل نہ رہا۔ شیر کے اگلے پنجے بالخصوص دائیاں پنجہ شکار کے دوران سب سے اہم ہوتا ہے۔ حملے کے دوران جب شیر جانور کی گردن یا گلا پکڑتا ہے تو بازوؤں کی مدد سے اسے گراتا ہے۔ گرتے ہی جانور کی گردن ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کی ڈھلتی ہوئی عمر بھی ایک وجہ تھی۔ جب دائیاں بازو بیکار ہوا تو شیر پساری (خرگوش کی جسامت کا ہرن) سے بڑا جانور پکڑنے کے قابل نہ رہا۔ جتنے مہینے زخم بھرتے رہے، اس کو بھوکا رہنا پڑا۔ پھر اس کو جو بھی انسان ملا، اس نے مار کھایا۔ سست رفتاری اور دیگر معذوریوں کے باوجود انسان اس سے بچ کر نہ جا سکتا تھا۔
پیداچیروو کے لوگوں نے مجھے بعد میں بتایا کہ انہیں کئی روز تک شیرنی کے بلاوے سنائی دیتے رہے۔ پھر مسئلہ شروع ہوا۔
کرسمس اور ملاپ کے موسم سے ذرا قبل ایسا ہوا کہ شیرنی کے لیے دو شیر جمع ہوئے اور لڑنے لگے۔ لڑائی مغرب کے وقت شروع ہوئی اور نصف شب تک جاری رہی۔ دونوں ہی شیر کافی زخمی ہوئے۔ ایک شیر جب پانی پینے جھیل کے کنارے پہنچا تو وہاں کیچڑ میں خون کا چھوٹا تالاب چھوڑ گیا۔ دوسرا شیر پیدّاچیروو سے رولاپینٹا والے ریتلے راستے پر چلتا ہوا ڈورنالا اور آتماکور گیا۔ نرم زمین پر اس کے تین پیروں کے پگ اور خون کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ ساتھ ہی چوتھا پیر گھسیٹنے کی لکیر تھی۔
وقت گزرتا رہا اور اکا دکا بکری یا بھیڑ غائب ہوتی رہی اور ساتھ لنگڑے شیر کے پگ دکھائی دیتے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس لڑائی میں کم از کم یہ شیر تو زندہ بچ گیا۔
گاؤں کے بوڑھے اس بارے میں میں سرگوشیوں میں بات کرتے تھے۔ کئی لوگوں نے پہلے بھی ایسے واقعات سنے تھے۔ چند ایک تو ایسے واقعات کا مشاہدہ بھی کر چکے تھے۔ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ بھیڑوں، بکریوں اور کتوں کی گمشدگی کا مطلب یہ تھا کہ مستقبل کا آدم خور تیار ہو رہا ہے۔ شیر عموماً ایسے چھوٹے شکار سے گریز کرتے ہیں اور ان پر تب ہی گزارا کرتے ہیں جب وہ فاقوں سے مرنے والے ہوں۔ ان کی فطری خوراک زیادہ بڑے جانور ہوتے ہیں۔
پہلا انسانی شکار جلد ہی ہوا اور پھر آدم خور کے بارے میں میں لوگ مزید سرگوشیوں میں بات کرنے لگے۔ یہ شکار ایک گاڑی بان تھا اور شام کو بستی لوٹ رہا تھا۔ گاڑی میں ۵ میل دور سے کاٹے بانس لدے تھے۔ گاڑی جھیل کے کنارے کنارے راستے سے گزری اور یہ آدمی اپنے بیلوں کو پانی پلانے کے لیے رکا۔ اس نے گاڑی نہیں کھولی کہ پھر اس کو اکیلا بیلوں پر نہ لاد سکتا۔
بیلوں کو پانی پلانے سے قبل یا فوراً بعد گاڑی بان بھی پانی پینے کو اترا ہی تھا کہ شیر نے اس پر حملہ کر دیا۔
شیر کو دیکھتے ہی بیل گاڑی سمیت فراٹے بھرتے غائب ہو گئے۔ ان کا رخ جنگل کی طرف تھا اور ڈھلوان پر گاڑی الٹ گئی۔ ایک بیل کی ران کی ہڈی ٹوٹ کر کھال پھاڑتی ہوئی پیٹ میں گھس گئی اور اس کا فرار ممکن نہ رہا۔ دوسرے بیل کی گردن سے گاڑی اتری تو وہ بھاگ کر دیہات کی سمت چلا گیا۔ گاؤں میں اکیلے بیل کی آمد سے ہلچل مچ گئی۔ رات ہونے والی تھی، سو گاڑی بان کی بیوی کے واویلے پر کسی نے توجہ نہ دی اور کوئی تلاش پر نہ نکلا۔
اگلے روز جب سورج کافی بلند ہو گیا تو گاؤں کے مرد تلاش میں نکلے۔ دو کے پاس چقماقی بندوقیں اور باقیوں کے پاس نیزے اور لاٹھیاں تھیں۔ جلد ہی انہیں الٹی ہوئی بیل گاڑی مل گئی اور زخمی بیل بھی۔ گاڑی بان غائب تھا۔
انہوں نے گاڑی کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے جھیل پر پہنچ کر لنگڑے شیر کے پگ تلاش کر لیے۔ کچھ لوگ گاڑی بان کی لاش تلاش کرنا چاہتے تھے مگر بندوقوں والے دونوں آدمی بزدل نکلے۔ ایک نے بہانہ کیا کہ اس کی بندوق ناکارہ ہے اور نہیں چلے گی۔ دوسرے نے سچ کہہ دیا کہ اس کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ نتیجتاً سب لوگ واپس لوٹ آئے اور گاڑی بان کی لاش نہ مل پائی۔
دوسرا شکار کنویں سے پانی بھرنے آنے والی ایک عورت تھی۔ یہ واقعہ بھی شام کو پیش آیا مگر یہ مقام گاؤں سے ۱۰۰ گز دور تھا۔ یہاں جنگل تو نہیں مگر قریب ہی پیپل کا جھنڈ تھا جس کے ساتھ ناریل کے درخت تھے۔ ان درختوں کے ایک جانب باڑ اور پھر دوسری جانب فالتو زمین تھی جس پر گھاس اور جھاڑیاں تھیں۔ اصل جنگل نصف میل دور سے شروع ہوتا تھا۔ کنواں کے مقام پر پچھلے ۱۰۰ سال سے کوئی شیر نہیں دیکھا گیا تھا۔
لنگڑا آدم خور اس روز وہاں آن پہنچا۔ جب متوفیہ نے شیر کے حملے پر شور مچایا تو دو عورتوں نے دیکھا کہ شیر اس عورت کو اٹھا کر لے جا رہا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر شیر کو لنگڑاتے دیکھا جو متوفیہ کو شانے سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا۔ اس کا رخ پیپل کے جھنڈ کی طرف تھا۔ دونوں عورتیں چلاتی ہوئی گاؤں کو بھاگیں۔
پھر انسانی شکاروں کا تانتا بندھ گیا۔ ایک روز مجھے اپنے پرانے تیلگو دوست باینّا کا خط ملا جو مرکا پور روڈ ریلوے سٹیشن کے پاس رہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ پیداچیروو گاؤں میں آدم خور شکار کر رہا ہے۔ اس نے مجھے شکار کی دعوت دی۔ اس نے کہا کہ وہ میرے ساتھ شکار پر چلے گا اور ہر ممکن سہولت کا بندوبست کرے گا اور یہ کہ اگر میں مرکاپور روڈ تک ٹرین پر سفر کروں تو باقی کا سفر اس کی لینڈ روور پر کر لیں گے۔
ایسی دعوت کون رد کر سکتا ہے۔ میں نے اسے تار بھیجا کہ میں اگلے روز رات کو ایکسپریس ٹرین سے روانہ ہو رہا ہوں۔ اس سے اگلے روز دوپہر کو میں مرکاپور روڈ ریلوے سٹیشن پر اترا۔
باینّا بہت مخلص انسان ہے اور اس کے لیے مہمان نوازی بہت اہم ہے۔ بعض اوقات تو وہ وہم کی حد تک چلا جاتا ہے۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گیا جہاں دو گھنٹے پہلے ہی گرم غسل کا انتظام ہو چکا تھا۔ پھر مرغ پلاؤ کی بہت بڑی طشتری میرے سامنے رکھ کر حکم دیا کہ اسے ختم کروں۔ مجھے کافی محنت کرنی پڑی کہ اگر ایک چاول بھی باقی بچ جاتا تو باینّا کو تکلیف ہوتی۔
جب یہ دعوت تمام ہوئی تو پھر ہم اس کے گھر کے عقب میں بنے گیراج کو گئے۔ وہاں باینّا کی لینڈ روور تھی۔ اس پر سپرنگ والی مسہریاں، کرسیاں، میز، کینوس باتھ ٹب، چلمچی، چھوٹا ریفریجریٹر، پنکھا (دونوں مٹی کے تیل سے چلتے تھے) اور خدا جانے کیا کچھ۔ اس کے علاوہ بوریوں میں کھانے پینے کا سامان بھر کر رکھا تھا جو ایک ماہ کے لیے کافی رہتا۔ چار چولہے تھے جن میں سے ایک ڈبل رینج کُکر تھا۔ برتن، ہانڈیاں، پانی کے ڈرم اور پتہ نہیں کیا کیا لدا تھا۔ ہم دونوں کہاں بیٹھتے، میری سمجھ میں نہیں آیا۔
باینّا نے کہا کہ اگر میں رات اس کے گھر سونا چاہوں تو ہم اگلے روز صبح کو روانہ ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ میں بالکل تازہ دم ہوں، سو روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس نے فوراً حامی بھر لی۔ ایک گھنٹے بعد پوری طرح لدی پھندی لینڈ روور سری سیلم روانہ ہو گئی۔
ہم نے دورانالا دیہات کے بعد سڑک چھوڑ دی اور ۱۸ میل کے مشکل راستے پر روانہ ہو گئے۔ یہ راستہ ہمیں سیدھا پیداچیروو لے آیا۔ راستے میں ہم تملابیالو سے گزرے جہاں میں نے ناتجربہ کاری کے دنوں میں ایک آدم خور سے دو دو ہاتھ کیے تھے۔ گاؤں پہنچ کر میں جیپ سے اتر کر ایک گھر کی دہلیز پر بیٹھ گیا جبکہ باینّا نے تیلگو جیسی مشکل زبان میں مقامی افراد سے بات شروع کر دی۔
جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ رہائش کے لیے مناسب جگہ تلاش کر رہا تھا۔ مجمعے میں مقامی سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی تھا سو اس نے ہمارے لیے اپنے سکول کا ہال مختص کر دیا۔
ہم نے جیپ وہاں لے جا کر خالی کی۔ جب سارا سامان اترا تو ہال بھر چکا تھا۔ آدھے سے زیادہ سامان ایک طرح سے بیکار ہی تھا۔
دیہاتیوں نے ہمارے لیے پانی بھر کر پہنچایا۔ ہمیں غسل خانہ اور لیٹرین بھی دکھائے گئے جو ایک اور عمارت میں تھے۔ کافی دیر بعد جا کر ہم اپنے ہمراہ لائے چاول اور سالن کھانے بیٹھے۔
ملگجا اندھیرا ہو رہا تھا مگر گاؤں کے لوگوں کی آمدورفت کم نہ ہوئی۔ لوگ آتے اور تیلگو میں سوالات کرتے اور باینّا انہیں جواب دیتا۔ پھر میں نے آدم خور کے بارے میں علم رکھنے والے تین یا چار افراد چنے اور اپنی رائفل اٹھا کر ان کے ساتھ باہر نکلا۔
چاندنی رات تھی۔ گاؤں کی گلی سیدھی گاؤں کے ساتھ واقع جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ نصف فرلانگ بعد جھیل شروع ہوتی تھی۔ چاندنی میں چمکتا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا۔
میں نے ہمراہیوں کے ساتھ گلی میں گشت شروع کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے باہر نکلنا خطرناک ہو گا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ میں کسی پرسکون جگہ بیٹھ کر ان سے بات کرنا چاہتا ہوں، شیر آیا تو میں سنبھال لوں گا۔ جلد ہی ہم جھیل کنارے جا پہنچے۔ خنکی کی وجہ سے بہت خوشگوار ماحول تھا۔ چاندنی چھٹکی ہوئی تھی اور ہم دور دور تک دیکھ سکتے تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھی بار بار ادھر ادھر دیکھتے تھے۔ جب ہم کھلے میں پہنچے جہاں شیر کے چھپنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ ان کے ڈر کی کوئی وجہ نہ تھی۔ آہستہ آہستہ میں نے ان سے آدم خور کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ میرے ہمراہی منتیں کرنے لگے کہ میں آدم خور کو ہر قیمت پر ختم کر دوں۔
باینّا کو میری روانگی پر حیرت ہوئی تھی اور وہ ۲۰ آدمیوں کے ساتھ مجھے تلاش کرتا آن پہنچا۔ میں نے اگلے روز کا خاکہ بنانے کے لیے بات شروع کی۔
عین اسی وقت شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ ہمارے عین سامنے اور جھیل کے دوسرے کنارے کے جنگل سے شیر کی دہاڑ وقفے وقفے سے آتی رہی۔ میرے لیے یہ آواز بہت خوشگوار تھی۔ آدم خور کی لنگڑاہٹ کے بارے میں مجھے اتنا علم ہو چکا تھا کہ میں اسے دیکھتے ہی پہچان لیتا۔ میرا پیٹ بھرا تھا اور معلومات بھی لے چکا تھا، سو مجھے شیر کی آواز میں دعوت سی محسوس ہوئی۔ چاندنی رات بہت روشن تھی۔
میں نے کھڑے ہو کر ساتھیوں کو بتایا کہ میں شیر کے پیچھے جا رہا ہوں۔ یہ سن کر وہ دم بخود رہ گئے۔ مگر ان کے بولنے سے قبل ہی میں روانہ ہو گیا۔ راستہ چکر کاٹ کر جھیل کے دوسرے کنارے پر پہنچتا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر کم از کم ایک میل یا اس سے کچھ زیادہ دور تھا۔ میں اس کے خاموش ہونے سے قبل شیر تک پہنچنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے شیر پانی پینے آ رہا ہو گا۔
میں ۱۵ منٹ سے بھی کم وقت میں مطلوبہ مقام پر پہنچ گیا۔ شیر ابھی تک بول رہا تھا مگر اب وقفے طویل تر تھے۔ اب وہ اتنا قریب تھا کہ اس کی دہاڑ سے زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ میں نے راستہ چھوڑ کر براہ راست جنگل سے گزر کر شیر تک جانے کا فیصلہ کیا جس سے مشکل شروع ہو گئی۔
مجھے بخوبی علم تھا کہ اگر میں راستہ چھوڑ کر جنگل سے گزرا تو جھاڑ جھنکار سے پیدا ہونے والے شور سے شیر کو میری آمد کا علم ہو جائے گا۔ اگر عام شیر ہوا تو بھاگ جائے گا اور اگر آدم خور ہوا تو مجھ پر ہی گھات لگا کر پہلو یا عقب سے حملہ کرے گا۔ از حد ضروری تھا کہ میں پگڈنڈی تلاش کر کے اس پر چلتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچ کر شیر کو پہلے دیکھ لیتا۔
خوش قسمتی سے مجھے پگڈنڈی مل گئی جو جنگلی جانوروں کی گزرگاہ تھی۔ اس پر چلنا آسان تو نہ تھا مگر وہ مطلوبہ سمت ہی جا رہی تھی۔ شیر ابھی تک اسی جگہ سے دہاڑ رہا تھا مگر وقفے اب طویل تر ہوتے جا رہے تھے۔
اس راستے پر چلتے ہوئے میں نے پیش قدمی جاری رکھی اور جگہ جگہ رک کر میں راستے کا جائزہ لیتا رہا کہ کہیں ٹھوکر نہ کھاؤں۔ میرے اندازے کے مطابق شیر ابھی ۲۰۰ گز دور تھا کہ خاموش ہو گیا۔ جونہی مجھے شیر کی خاموشی کا احساس ہوا، میں رک گیا کہ اب میرے پاس شیر کے مقام کا اندازہ لگانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ الٹا میرے قدموں کی آہٹ سن کر شیر خبردار ہو جاتا۔ عین اسی وقت مجھے ایک خیال سوجھا۔ راستے کے دائیں جانب کیکر کا درخت تھا۔ اس کا تنا اتنا موٹا تھا کہ میں اس کے پیچھے چھپ سکتا تھا۔ مجھے اس کے پیچھے بے حس و حرکت رہنا تھا ورنہ شیر دیکھ لیتا۔
میں اس درخت کے پیچھے چھپا اور طویل سانس لے کر میں نے شیر کی آواز نکالی۔ میں نے دو بار آواز دی اور پھر خاموش ہو گیا۔ میرے سامنے سے شیر کی انتہائی غصے کی آواز آئی۔ وہ طیش میں آ گیا کہ دوسرے شیر کو اس کے علاقے میں گھس کر دہاڑنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ شیر غصے سے پاگل ہو کر دہاڑتا ہوا میری طرف آ رہا تھا۔ درخت جس جگہ اگا تھا، وہاں راستہ کئی گز تک سیدھا تھا۔
جلد ہی شیر دکھائی دیا جو زقندیں بھرتا میرے پاس سے گزرا اور مجھے نہ دیکھ پایا۔ میں آہستہ سے کھانسا۔
شیر فوراً رکا اور میری سمت مڑ کر دیکھنے لگا۔ اسے علم ہو گیا تھا کہ یہ آواز دوسرے شیر کی نہیں بلکہ کسی انسان کی ہے۔ اب اس کے ردِ عمل سے اندازہ ہوتا کہ وہ آدم خور ہے یا عام شیر۔
میں درخت کے پیچھے بالکل ساکن کھڑا تھا۔ شیروں میں قوتِ شامہ بالکل نہیں ہوتی، مگر اسے علم ہو گیا کہ درخت کے پیچھے کچھ ہے۔ پھر اس نے چند لمحے رک کر بائیں جانب تین یا چار قدم اٹھائے اور مجھے دیکھ لیا۔
ہم دونوں نے ایک دوسرے کو فوراً پہچان لیا۔ اسے میری موجودگی اور مقام کے بارے میں علم ہوا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ آدم خور نہیں۔ اس کی چال میں لنگراہٹ کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہم ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔
اگلے تین یا چار لمحوں میں ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ اگر وہ مجھ پر حملہ نہ کرتا تو میں اس بے گناہ شیر کو مارنے کے ہرگز حق میں نہ تھا۔ میں نے پہلے شیر کی آواز نکال کر اسے غصہ دلایا اور پھر کھانسی کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔ غصے کی حالت میں شیر بے قابو ہو جاتے ہیں۔
شیر نیچے جھکا تو مجھے علم ہو گیا کہ وہ حملہ کرنے والا ہے۔ میں نے اس کا نشانہ لے کر لبلبی پر انگلی رکھی ہی تھی کہ اچانک شیر نے رخ بدلا اور فرار ہو گیا۔ شیروں کا یہی غیر یقینی رویہ ان کا شکار مشکل بناتا ہے۔
میں نے چند منٹ انتظار کیا تاکہ شیر دور چلا جائے اور میرے حواس بھی بحال ہو جائیں۔ پھر میں اسی راستے پر چل کر واپس گاؤں پہنچا جہاں میں نے باینّا اور دیگر لوگوں کو سارا واقعہ سنایا۔ انہوں نے بعد میں بتایا کہ انہیں میری زندہ واپسی کی کوئی توقع نہیں تھی۔
اگلے ۳ دن میں ہم نے چارے کے لیے ۴ جانور خریدے اور انہیں ایسی مناسب جگہوں پر باندھ دیا جہاں نالے اور راستے گزرتے تھے۔ یہ تمام مقامات جھیل سے ایک میل سے کم فاصلے پر تھے۔ ہر گارے کے ساتھ ہم نے درخت پر مچان بھی بندھوا دی۔
یہاں میری ملاقات ایک چنچو آدمی سے ہوئی جو انتہائی بہادر ثابت ہوا۔ چنچو قبائل جنگلوں میں رہتے ہیں اور اکثر تیر کمان سمیت دکھائی دیتے ہیں۔ چنچو محض غلیظ لنگوٹی پہنتے ہیں اور یہی ان کی ساری متاع ہوتی ہے۔ اس کا چنچو کا نام ’اپو‘ تھا۔ یہ آدمی ہمیشہ مسکراتا اور ہنسی مذاق کرتا رہتا۔
اپو نے مجھے مشورہ دیا کہ کہاں کہاں گارے باندھے جائیں اور اس نے مچانیں بھی خود ہی باندھیں۔ مجھے اس کی مسکراہٹ نے جیت لیا تھا۔ وہ مچان بنانے کا ماہر تھا۔ اس نے مچان کو اس طرح چھپایا کہ نیچے کھڑے ہو کر اور مچان کے مقام جانتے ہوئے بھی مجھے مچان تلاش کرنے میں دقت ہو رہی تھی۔
پہلی اور دوسری رات کچھ نہ ہوا۔ جہاں میری مڈبھیڑ شیر سے ہوئی تھی، اس سے چوتھائی میل دور میں نے ایک گارہ بندھوایا تھا۔ تیسری رات اسے مار کر آدھا کھا لیا گیا۔ چوتھی رات میں اس کی لاش پر بیٹھ کر قاتل کا انتظار کرنے لگا۔
یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ یہ لنگڑے آدم خور کی کارستانی تھی یا دوسرے عام شیر کی۔ بدقسمتی سے اس جگہ کسی قسم کے پگ دکھائی دینا ممکن نہ تھے۔ یہ شیر تاریکی چھانے سے قبل ہی پہنچ گیا حالانکہ شیر تاریکی چھانے کے بعد ہی آتے ہیں۔ تیندوے البتہ سورج ڈوبتے بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔ اس شیر نے اپو کی بنائی ہوئی بہترین مچان کی طرف دیکھے بغیر سیدھا لاش پر پہنچ کر ہی دم لیا۔
اس کی چال بالکل ٹھیک تھی۔ یعنی یہ آدم خور نہیں تھا۔
میں نے اپنی مچان کی عمدگی کا جائزہ لینے کی خاطر تیندوے کی آواز نکالی۔ شیر غصے سے بے قابو ہو گیا۔ اس نے تیندوے کو تلاش کرنا شروع کیا۔
میں نے دوبارہ آواز نکالی اور پھر خاموش ہو گیا۔
شیر دہاڑتا ہوا سیدھا میری مچان والے درخت پر چڑھ دوڑا۔ میں غلطی کر چکا تھا۔ شیر تیندوے کے پیچھے پاگل ہو رہا تھا اور میرا درخت کچھ ایسا تھا کہ اس پر چڑھنا بہت آسان تھا۔ میں ۱۵ فٹ کی بلندی پر بیٹھا تھا۔
جب شیر مچان کے نیچے پہنچا تو نظروں سے غائب ہو گیا۔ جب شیر جست لگا کر پہلے دو شاخے پر چڑھا تو درخت ہلنے لگا۔ مجھے اس کے پنجوں سے درخت کی چھال پر رگڑ اور دہاڑ صاف سنائی دے رہی تھی۔ یہ درخت اتنا بڑا نہ تھا، اور ہم دونوں کے مجموعی وزن سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ میری مچان لرز رہی تھی۔
معاملہ ہاتھ سے نکلنے والا تھا۔ چند لمحوں بعد وہ مچان پر چڑھ آتا۔ اسے مچان پر حملہ کر کے مجھے گرا دینا تھا اور پھر جا کر غور کرتا کہ میں تیندوا نہیں انسان ہوں۔
میں نے اسے ’شو شو‘ کی آواز نکال کر جھڑکا اور مچان پر کھڑا ہو گیا کہ جونہی شیر کا سر یا پنجہ دکھائی دے تو گولی چلا دوں۔ شیر کو جب تیندوے کی جگہ انسانی آواز سنائی دی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور اس نے پسپائی اختیار کی۔ چند روز قبل اس نے کیکر کے درخت کے سامنے میرا مقابلہ کرنے کی بجائے فرار کو ترجیح دی تھی۔
دہاڑ اچانک تھم گئی اور شیر نے زمین پر چھلانگ لگائی۔ رکے بغیر وہ جھاڑیوں سے بھاگتا ہوا گزرا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
کیمپ لوٹ کر میں نے اپنے ساتھیوں کو سارا واقعہ سنایا۔ سب حیران ہوئے مگر اپو ہنس ہنس کر بے حال ہو گیا۔ بار بار وہ اپنی رانیں پیٹتا اور پھر قہقہے لگاتا۔ پھر اس نے بمشکل کہا: ’شیر بیچارہ پتہ نہیں کیا سوچتا ہو گا۔ چند روز قبل شیر کی آواز سن کر جب پہنچا تو سامنے شیر انسان بن گیا تھا۔ آج تیندوے نے انسانی روپ دھار لیا۔ شیر خود کو پاگل سمجھ رہا ہو گا‘۔
اگلے روز میں نے مردہ بچھڑے کو ہٹوا کر ایک اور بچھڑا بندھوا دیا۔ اسی رات وہ بھی مارا گیا۔ ہم نے بچھڑے کو عین اسی جگہ اور اسی مچان کے ساتھ باندھا تھا، سو ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ پچھلی رات کے تجربے کے بعد عام شیر تو واپس نہ لوٹتا۔ جب اپو اور اس کے ساتھیوں نے لوٹ کر مجھے گارے کے مارے جانے کی اطلاع دی تو میرا حوصلہ بلند ہو گیا۔ اپو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جا کر ہر روز بچھڑوں کی خبرگیری کرتا تھا۔ مجھے یہ اطلاع صبح ۹ بجے ملی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بچھڑا آدم خور نے ہی مارا ہو گا۔
بلند حوصلے کے ساتھ میں سہ پہر کو ہی مچان پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نیولا آیا۔ شاید اسے بہت بھوک لگی ہو گی کہ اس نے جلدی جلدی پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ جب اس کا پیٹ اچھی طرح بھر گیا تو وہ چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی بٹیر نما پرندوں کا جھنڈ نمودار ہوا اور بچھڑے کی لاش کو چھونے کی بجائے اس کے قریب جمع ہونے والے حشرات اور کیڑوں کو کھانے لگا۔ ہزاروں مردار خور مکھیاں انڈے دے چکی تھیں جن سے جلد ہی سنڈیاں بنتیں۔ سنڈیاں گوشت کھاتیں اور پرندے ان سے پیٹ بھرتے۔ ۲۴ گھنٹے سے بھی کم وقت میں لاش کی جگہ محض ہڈیاں بچ جاتیں۔ اس کام کے لیے سنڈیاں کافی تھیں۔ اگر گدھوں، گیدڑوں یا لگڑبگڑ کو علم ہو جاتا تو لاش اندھیرا چھانے سے قبل ہی صاف ہو جاتی۔
میرا اندازہ تھا کہ ۸ بجے تک لنگڑا آدم خور پہنچ جاتا۔
اچانک جنگلی مرغ کی آواز سنائی دی اور گھڑی دیکھے بغیر ہی مجھے علم ہو گیا کہ ساڑھے پانچ بجنے والے ہوں گے۔ شام ہونے والی تھی اور مجھے آدم خور کے جلد آنے کی توقع تھی۔
عقب میں جھیل سے موروں کے دو غول بولنے لگے۔ پھر گولاموٹھی پرندے کی آواز آئی جو نروں کو بلا رہی تھی۔ اس آواز کو سننے والے تمام نر سورج غروب ہونے سے قبل اس مادہ تک پہنچ جائیں گے۔
جلد ہی جنگل پر ملگجا اندھیرا چھانے لگا۔ اس وقت نہ تو روشنی ہوتی ہے اور نہ اندھیرا، انسان کو فاصلے کا اندازہ نہیں رہتا اور ہر چیز کی شکل بدل جاتی ہے۔
میرے عقب میں پرندوں کے اڑنے کی آواز آتی رہی۔
اچانک کسی وجہ سے لال سر والے طوطے اڑے۔ میں سوچنے لگا کہ طوطے کیوں اڑے ہوں گے؟ کیا انہوں نے جنگلی بلی دیکھی ہو گی یا پھر شیر دیکھا ہو؟
وقت گزرتا رہا۔
پھر مجھے چمگادڑوں کی آواز آئی جو حشرات پکڑ کر کھا رہی تھیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ چمگادڑ کی آواز اتنی اونچی ہوتی ہے کہ انسانی کان اسے سننے سے قاصر رہتے ہیں۔
ایک شب بیدار پرندہ میرے سامنے سے ہوتا ہوا میرے پیچھے جا کر کہیں بیٹھا اور ’چک چک‘ کی آواز لگانے لگا۔
اچانک اس کی آواز بند ہوئی اور اس نے اڑان بھری۔ عین اسی وقت مجھے مچان کے نیچے سے گہرے سانس کی آواز آئی۔ مجھے علم ہو گیا کہ شیر آ گیا ہے۔
شیر عین میرے نیچے کھڑا اپنے شکار اور اطراف کا جائزہ لے رہا تھا کہ کوئی دشمن تو نہیں چھپا ہوا۔ کیا شیر اوپر مچان کو دیکھے گا؟ کافی دیر تک تجسس رہا اور پھر متواتر اور مدھم آواز آنے لگی۔ شیر پیشاب کر رہا تھا۔
میں خوش ہو گیا کہ یہ اس بات کی علامت تھی کہ شیر ہر طرح سے مطمئن ہے اور اسے کوئی خطرہ یا شبہ نہیں ہوا۔
اگلے لمحے شیر سیدھا لاش کی طرف چل پڑا۔ اندھیرا تو تھا مگر اتنا نہیں کہ میں شیر کی چال نہ دیکھ پاتا۔ شیر کی چال میں ذرا بھی لنگراہٹ نہ تھی۔ کل والا شیر پھر نازل ہو گیا۔
شیر چلتے ہوئے ایک بار رکا اور پھر سیدھا لاش پر پہنچا۔
ایک بار تو میں نے سوچا کہ اسے گولی مار ہی دوں کہ وہ پہلے ہی دو گارے مار چکا تھا۔ شاید اور بھی گارے مارتا۔ گارے خاصے مہنگے ہوتے ہیں۔
پھر میں نے رک کر سوچا کہ کیا یہی تو آدم خور نہیں؟ مجھے آدم خور کے لنگڑے ہونے کے بارے میں بتایا گیا تھا مگر کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تھا۔ شاید بتانے والے کو غلط فہمی ہوئی ہو۔
مگر پھر سابقہ دو مواقع پر اس کا رویہ یاد آ گیا۔ اگر وہ آدم خور ہوتا تو خرگوش کی مانند دم دبا کر ہرگز نہ بھاگتا۔ یہ شیر اب مسئلہ بن گیا تھا۔ میں نے رائفل اٹھائی اور اس کے پیٹ کے نیچے کا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔
اندھیرے کے باوجود مجھے گولی سے اڑنے والی دھول دکھائی دی اور شیر کی کمر پہلے کمان بنی اور پھر جست لگا کر وہ غائب ہو گیا۔
میں مچان سے نیچے اترا اور رائفل کو کاندھے سے لگائے ٹارچ روشن کر کے گاؤں چل پڑا۔
اگلے روز اس جگہ ایک اور گارا بندھوا دیا۔ امید تھی کہ رات والا شیر اسے ہاتھ نہیں لگائے گا۔ مگر میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر اس شیر نے اس گارے کو بھی مار دیا تو پھر میں اسے گولی مار دوں گا۔
اس بار شیر نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ مگر وہ آیا ضرور۔ رات کو دس بجے سے بارہ بجے تک اس کی دہاڑ سنائی دیتی رہی۔ اس نے گارا دیکھ لیا اور بہت بھوکا تھا۔ مگر اسے یاد تھا کہ ایک بار شیر انسان بنا، پھر تیندوا انسان بنا اور پھر تیسری بار اس کے عین نیچے دھماکہ ہوا تھا۔ اس کی ہمت جواب دے رہی تھی مگر گارے پر للچا بھی رہا تھا۔ وہ دو گھنٹے تک دہاڑتا رہا۔
اگلی صبح تمام گارے زندہ سلامت تھے۔ مگر اپو کے پاس ایک خبر تھی۔ اس نے ایک بچھڑے کے پاس لنگڑے شیر کے پگ دیکھے تھے۔ شیر نہ صرف اس کے پاس سے گزرا بلکہ اس کے قریب رک کر اس کا جائزہ بھی لیا۔ مگر اس نے شکار نہیں کیا۔ اپو کا خیال تھا کہ یہ آدم خور ہی تھا کہ اسے بچھڑے پسند نہیں۔ ہم جتنی کوشش کرتے، آدم خور انہیں نہ مارتا۔ اپو نے مشورہ دیا کہ میں بھینس کے بچھڑے کی جگہ گائے کے بچھڑے باندھوں۔
پھر اس نے بتایا کہ ایک اور کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیا۔ اپو بولا کہ کیوں نہ وہ اور میں ہر روز رات کو آدم خور کی تلاش میں نکلا کریں۔
میں نے جواب دیا کہ عمدہ خیال ہے مگر ایسا ہی ہے جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کی جائے۔
اپو کو مثال سمجھ نہ آئی۔ بھوسے کا ڈھیر تو اس نے دیکھا ہوا تھا مگر سوئی کیا چیز ہے؟ اس نے کبھی سلے ہوا لباس نہیں پہنا، سو اسے سوئی کی سمجھ نہ آئی۔ میں نے کئی بار سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔ پھر میں نے زمین سے ٹہنی اٹھائی اور اس سے کانٹا توڑ کر اسے دکھا کر کہا کہ اگر یہ کانٹا بھوسے کے ڈھیر میں ہو تو کتنی دیر میں ملے گا۔ اس بات پر وہ میرا مقصد سمجھ گیا۔
پھر میں نے اسے بتایا کہ عین اسی طرح میلوں پر محیط اس جنگل میں ایک لنگڑے شیر کی تلاش ایسا ہی بے مقصد کام ہو گا۔ میری بات سمجھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ پھر اس نے قہقہے لگانا شروع کر دیے۔
اس بحث میں ناشتے کو دیر ہو گئی۔ جونہی ناشتہ ختم ہوا، ہم روانہ ہو گئے۔ اپو جنوب مغرب کو جھیل کے راستے پر چل رہا تھا جو پہاڑ کے کنارے سے ہو کر دوسری جانب وادی میں اترتا ہے۔ یہاں خشک نالہ وادی سے گزرتا ہے۔ جہاں فائر لائن اس نالے سے گزرتی ہے، وہیں ہم نے گارہ باندھا تھا۔
اپو مجھے جس راستے سے لے کر آیا، وہ عین اسی مقام سے گزرتا تھا جہاں فائر لائن نالے سے گزرتی تھی۔ اسی راستے پر تین یا چار میل آگے جا کر چنچوؤں کی چھوٹی بستی تھی۔ ان کے دیہات نہیں ہوتے بلکہ جنگل کے بیچ ایک چھوٹا سا گول جھونپڑا ہوتا ہے جس میں آٹھ دس افراد کا خاندان رہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ دوسرا جھونپڑا پاس ہی ہو یا پھر کئی میل دور۔
ہم نے جان بوجھ کر یہ جگہ چنی۔ شیر نالے سے گزرتا، فائر لائن سے یا پگڈنڈی سے، اس کا یہاں سے گزرنا لازم تھا۔ اب ہمارے سامنے مخالف سمت سے آنے والے لنگڑے آدم خور کے پگ واضح تھے۔
میں نے ان کا بغور جائزہ لیا۔ تین پیروں کے پگ تو واضح تھے مگر چوتھے کا نشان غیر واضح تھا۔ عموماً جب شیر چلتا ہے تو چاروں پیروں کے الگ الگ نشان بنتے ہیں۔ اگر وہ گھات لگا رہا ہو تو پچھلے پیر اس کے اگلے پیروں کے نشان پر پڑتے ہیں تاکہ کوئی آواز نہ پیدا ہو۔ سو دو نشان دکھائی دیتے ہیں۔ یہ شیر تین پیروں پر چل رہا تھا اور چوتھے پیر میں کوئی نقص تھا۔
آخر آدم خور کے پگ دکھائی دے گئے۔ ان کا درمیانی فاصلہ برابر نہیں تھا یعنی چلتے ہوئے وہ بری طرح لنگڑاتا تھا۔ اس کا اگلا دائیں پنجہ بری طرح متاثر تھا۔ یعنی اس کا زخم ابھی تک ہرا تھا۔ شیر کے پنجے کا نقش زیادہ پرانا نہیں تھا۔
ہم نے ۲۰۰ گز مزید آگے تک دیکھا کہ شیر کہاں جنگل سے نکلا تھا۔ اس مقام پر اس نے ہمارا گارا دیکھا اور اس کی طرف آیا۔ قریب پہنچ کر شیر بچھڑے سے ۱۰ فٹ دور رک کر جائزہ لینے کے بعد آگے بڑھ گیا۔
مجھے کافی حیرت ہوئی۔ شیر کی معذوری سے تو لگتا تھا کہ شیر بہت بھوکا ہو گا کہ اس کے لیے شکار آسان نہیں ہو گا۔ اس نے بچھڑا کیوں نہیں مارا؟ شاید اسے بھوک نہیں ہو گی۔ بھوک کی حالت میں آدم خور کو انسانی یا حیوانی شکار کا موقع ملتا تو وہ کبھی نہ چھوڑتا۔
ہم نے بچھڑے کو وہیں چھوڑا اور پگوں پر چل پڑے۔ شیر پانچ یا چھ گز آگے جا کر مڑا اور جنگل میں گھسا اور نالہ عبور کر کے دوسری جانب جنگل کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر خشک پتوں کی وجہ سے ہمیں شیر کے پگ دکھائی دینا بند ہو گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ شیر کہیں جانے کے ارادے سے نکلا تھا اور گارے کو دیکھنے کے لیے راستے سے ہٹا اور پھر واپس اسی جانب چل پڑا۔
اپو اور میں نے سوچا کہ ہمیں بھی اسی سمت جانا چاہیے کہ پگ تو دکھائی نہیں دے رہے مگر سمت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ جلد ہی ہم جنگلی جانوروں کی پگڈنڈی پر پہنچ گئے۔ زمین یہاں بھی سخت ہی تھی اور پگ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ سانبھر اور ہرن کے سخت کھروں سے نشان دکھائی دیے۔ تھوڑا آگے چل کر ہم نے ریچھ کے پیٹ بھرنے کے نشانات دیکھے۔
اپو بولا کہ لنگڑا شیر اسی گزرگاہ پر ہی جا رہا تھا اور چونکہ نشانات نہیں تھے، میں نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔ یہاں سے جنگلی جانور بکثرت گزرتے تھے اور جلد ہی ہمیں سوروں کے ایک غول کے نشانات ملے جو مخالف سمت سے آ رہے تھے۔ شیر کا کوئی نشان ابھی تک نہیں ملا تھا۔
مزید آگے چل کر ہمیں شیر کے پگ ملے۔ یہاں راستہ ایک نالے سے گزرتا تھا۔ نالے کی نرم مٹی پر ہمیں لنگڑے شیر کے پگ واضح دکھائی دیے۔ ہم شیر کا درست پیچھا کر رہے تھے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے پیش قدمی جاری رکھی کہ شیر کہاں جا رہا تھا۔
ہم ایک میل سے زیادہ چلنے کے بعد چھوٹی پہاڑی پر جا پہنچے۔ چوٹی سے دوسری جانب دیکھا تو ہمارے نیچے چھوٹا صاف قطعہ تھا جس سے راستہ گزر کر چنچو لوگوں کی اس آبادی کو جا رہا تھا جس کے بارے میں میں پہلے بتا چکا ہوں۔ ہم جس گزرگاہ پر چل رہے تھے، وہ اس پہاڑی کو عبور کرنے کا مختصر راستہ تھی اور لنگڑے شیر کا رخ اسی آبادی کی طرف تھا۔
ہم نے سفر جاری رکھا اور نصف میل بعد ہمیں چنچو لوگوں کی بنائی پگڈنڈی ملی۔ یہاں شیر نے اسی پگڈنڈی کا رخ کیا اور اس کے پگ یہاں صاف دکھائی دیے۔ ہم مزید ایک میل ان کا پیچھا کرتے رہے کہ ہمیں سامنے سے آوازیں سنائی دیں۔ موڑ مڑنے کے بعد ہمیں ۱۰ چنچو دکھائی دیے جو تیز چلتے اور اونچی آواز میں بولتے آ رہے تھے۔ سبھی کے پاس تیر کمانیں تھیں اور کچھ کے پاس نیزے اور کلہاڑیاں بھی تھیں۔
انہوں نے ہمیں دیکھا تو فوراً ہماری جانب بڑھے۔ ہمیں فوراً معلوم ہو گیا کہ پچھلی رات ایک چنچو کو یہیں سے شیر لے گیا تھا۔
جب ہم ان سے ملے تو انہوں نے تفصیل سے بات بتائی۔ ان سب کو آدم خور کی موجودگی کا علم تھا اور جب بھی کہیں جاتے تو پوری جماعت بنا کر جاتے تھے۔ کالا ان کا ایک ساتھی تھا مگر وہ ہمیشہ آدم خور کو کمتر سمجھتا تھا کہ وہ شکاری تھا اور شیر اس کا شکار بنتے تھے۔ اس نے سب کو بتا رکھا تھا کہ شیر اس سے ڈرتے ہیں۔ پچھلے روز اس نے اپنی کلہاڑی اور تیر کمان سنبھالی اور جنگل میں شکار کو نکل گیا۔ دوپہر کو خالی ہاتھ لوٹا اور بیوی سے بولا کہ اسے کوئی شکار ہاتھ نہیں لگا۔ مگر اس نے بتایا کہ آبادی کے پاس ہی اسے شہد کا ایک چھتہ دکھائی دیا ہے جو وہ توڑ لائے گا۔
کھانے سے فارغ ہو کر کالے نے تیر کمان اور نیزہ وغیرہ وہیں چھوڑے اور کلہاڑی، ماچس اور کچھ سرکنڈے وغیرہ لے کر نکلا۔ ساتھ ہی اس نے شہد جمع کرنے کے لیے خالی ڈبہ اٹھا رکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد چنچو لوگوں نے کلہاڑی کی ضربوں کی آواز سنی اور حیران ہوئے کہ انہیں یہ چھتہ کیوں نہیں دکھائی دیا۔
عین اسی وقت انہیں کالا چیخا: ’شیر۔ شیر‘۔ پھر اس نے مدد کے لیے پکارا اور پھر خاموشی چھا گئی۔
کالا کو اس کی بیوی سمیت کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا، کسی کو عجلت نہ تھی کہ وہ اس کی مدد کو پہنچتا۔ انہوں نے کالا کی واپسی کا انتظار کیا مگر وہ کافی دیر تک نہ لوٹا۔ پھر سب لوگ جمع ہو کر اس کی تلاش میں نکلے۔ درخت، چھتہ اور کلہاڑی تو وہیں تھے مگر کالا غائب تھا۔ انہیں درخت کے تنے سے نکلنے والی گوند دکھائی دی جو شیر کے ناخنوں سے لگی خراشوں سے رس رہی تھی۔ شیر نے تنے پر پیر رکھ کر اپنے بائیں پنجے سے کالا کو گرایا تھا۔ شیر اتنی پھرتی نہ دکھا سکتا تھا، سو کالا کو چلا کر مدد مانگنے کا وقت مل گیا۔ شیر معذور نہ ہوتا تو کالا کو علم بھی نہ ہوتا اور شیر اسے لے جاتا۔ اگر درخت چند فٹ اور بلند ہوتا تو کالا بچ جاتا۔
آدم خور نے کالا کو جھاڑیوں میں گھسیٹا جہاں لنگوٹی کی دھجیاں اور خون کے نشان تھے۔ ان لوگوں نے نشانات کا پیچھا کیا اور کچھ دور جا کر رک گئے کہ کوئی بھی کالا کو پسند نہ کرتا تھا۔ وہ اس کی خاطر اپنی جان کیوں خطرے میں ڈالتے؟ انہیں علم تھا کہ کالا مر چکا ہے۔ اب پیچھا کرنے سے کیا فائدہ ہوتا؟ پھر انہیں خیال آیا کہ پاس والے گاؤں میں دو صاحب اسی شیر کو مارنے آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وہیں جانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم تاریکی چھا چکی تھی۔
اگلی صبح انہوں نے آرام سے ناشتہ کیا اور پھر ہمیں یہ خبر سنانے چل پڑے۔ اس طرح ہماری ملاقات ہوئی۔ گارے کے مقام سے ہمیں آدم خور کی منزل کا علم ہو چکا تھا، سو یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس نے بچھڑا کیوں نہ مارا تھا۔
بظاہر خوب پیٹ بھرنے کے بعد شیر واپس جھیل کو گیا۔ پانی پینے کے بعد اس نے واپسی کے لیے جو راستہ اختیار کیا، وہ بچھڑے کے قریب سے گزرتا تھا۔ اس لیے بچھڑے کو دیکھنے کے باوجود شیر کو اتنی بھوک نہیں تھی کہ وہ اسے ہلاک کرتا۔
شاید اس نے پچھلی رات چنچو سے اچھی طرح پیٹ بھرا ہو گا اور پانی پینے نکلا ہو گا۔ یہاں پہنچ کر اسے انسانی شکار یاد آیا ہو گا، سو اس نے واپسی کا رخ اختیار کیا ہو گا تاکہ پھر کھا سکے۔ واپسی پر ہی اس نے بچھڑا دیکھا مگر چنچو کے گوشت کا ذائقہ اسے بچھڑے سے بہتر لگا ہو گا حالانکہ چنچو میں اب کیا بچا ہو گا۔
ہم نے چنچوؤں کو اپنی کہانی سنائی تو وہ شیر کی تلاش میں ہماری مدد کو تیار ہو گئے۔ ہمیں کالا کی باقیات سے ہی شیر کا نشان ملنا تھا۔ چنچوؤں کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ان کو شیر کی ہلاکت مطلوب تھی کہ آدم خور کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں تھی۔ ۱۱ چنچو ہمارے ساتھ شیر کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ چند گز بعد شیر جنگل میں گھس گیا تھا۔ اس بار شیر کے گزرنے کے نشانات ۱۱ عدد چنچوؤں سے نہ بچ سکے اور جلد ہی ہم ایک چھوٹے اور خشک نالے تک جا پہنچے جہاں پہنچ کر شیر مڑا۔ ہم اس کے پگ دیکھنے لگے اور چنچو بولے کہ یہاں سے ان کی بستی چوتھائی میل دور ہے۔ جلد ہی ہمیں لاش کا تعفن محسوس ہوا اور کچھ دور چل کر گوشت خور مکھیوں کا شور سنائی دیا۔ ہمیں کالا کی لاش مل گئی۔ اس کا انجام وہی ہوا تھا جو اس سے پہلے بہت سے شکاریوں کا ہو چکا تھا اور آئندہ بھی بہت سے شکاریوں کا ہو گا۔ یہ انجام ان کا مقدر بنتا ہے جو ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
چنچو کی لاش پر بہت کم گوشت بچا تھا۔ سر، ہاتھ اور پیر سلامت تھے۔ آدم خور انہیں کم ہی کھاتا ہے۔ پنڈلی کی ہڈیاں اور پسلیاں بھی چبائی ہوئی تھیں اور ریڑھ کی ہڈی بھی بکھری ہوئی تھی۔
آدم خور بہت بھوکا ہو گا کہ اس نے اتنا گوشت کھایا۔ مجھے ایک بار پھر حیرت ہوئی کہ اتنی بھوک کے باوجود شیر نے بچھڑے کو کچھ نہیں کہا۔
تھوڑی دور ایک چنچو کو ران کی ایک ہڈی ملی۔ دوسری غائب تھی۔ شاید کوئی گیدڑ یا لگڑبگڑ لے گیا ہو گا۔
ہم نے سرگوشیوں میں مشورہ کیا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ میں مچان بنا کر رات کو بیٹھوں تو کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کام بیکار ہے کہ لاش پر گوشت نہیں بچا۔ ظاہر ہے کہ گیدڑ یا لگڑبگڑ تو آتے مگر شیر کا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ ویسے بھی شیر متعفن لاشیں نہیں کھاتے۔
اچانک مجھے یاد آیا کہ شیر بہت بھوکا تھا۔ میں نے مچان پر بیٹھ کر قسمت آزمانے کا سوچا۔ شیر کے آنے کا ہلکا سا امکان تھا۔ میں نے ہمراہیوں کو جب یہ بات کہی تو سبھی اس بات پر متفق ہو گئے۔ جلد ہی انہوں نے اپو کی زیرِ نگرانی مچان کی تیاری شروع کی اور جلد ہی بہترین مچان تیار ہو گئی۔
لاش سے ۳۰ گز دور اور بہت گھنے درخت پر اپو نے مچان بندھوائی۔ مچان زمین سے ۲۰ فٹ اونچی تھی تاکہ لاش صاف دکھائی دیتی رہے۔ ہم نے ران کی ہڈی بھی دیگر ہڈیوں کے پاس رکھ دی۔
اپو کو دیگر افراد کے ساتھ چھوڑ کر میں بعجلت پیداچیروو روانہ ہوا تاکہ کچھ کھا کر اور رات کے لیے سامان لا سکوں۔ باینّا کو جب ان واقعات کا علم ہوا تو بہت خوش ہوا اور نیک خواہشات ظاہر کیں۔
چار بجے میں واپس لوٹا اور اپو کو دو اور افراد کے ساتھ مچان پر بیٹھا دیکھا۔ انہوں نے بچی کھچی لاش کو پتوں سے ڈھانپ دیا تھا تاکہ گِدھوں کو دکھائی نہ دے۔ میری آمد پر وہ نیچے اترے، لاش سے پتے ہٹائے اور بستی چل دیے۔ اپو نے رات وہیں گزارنی تھی۔
اپو کی روانگی کے بعد میں نے شیر کے بارے میں سوچا کہ اس کی معذوری کی وجہ کیا ہو گی؟ آیا وہ دوسرے شیر سے لڑائی کے نتیجے میں معذور ہوا یا چور شکاری نے اس پر الٹی سیدھی گولی چلائی ہو گی؟ اس کی معذوری اتنی شدید تھی کہ اسے بچھڑے کو مارنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ فاقوں سے اس کی حالت بری ہو گی کہ چھوٹے موٹے جانور یا اکا دکا انسان ہی سے اسے اپنا پیٹ بھرنا پڑتا تھا۔
یہ سوچ حوصلہ افزا تھی کہ اتنا بھوکا شیر ہر ممکن طور پر واپس لوٹتا چاہے اس نے پچھلی رات خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا۔
شام نسبتاً خاموشی سے آئی۔ چند پرندے اور چھوٹے جانور جیسا کہ بندروں کی آواز آئی تھی ورنہ جنگل بہت خاموش تھا۔ اگر جانور اور پرندے بکثرت ہوتے تو وہ شیر کی آمد سے بروقت خبردار کر دیتے۔ ایک دو بار تیتر بولا مگر جنگلی مرغیاں اور مور غائب تھے۔ بہت سوچنے کے بعد مجھے وجہ سمجھ آئی۔ چنچو بستی ہی اس کی وجہ تھی۔ ان شکاریوں نے اپنی بستی کے آس پاس تمام پرندے شکار کر کے کھا لیے تھے۔
تاریکی چھانے لگی تو شب بیدار پرندے بولنے لگے۔ یہ پرندے دن کے وقت نہیں دکھائی دیتے اور ان کا شکار مشکل ہے۔ چنچو انہیں نہیں کھاتے اور ان کی جان بچی ہوئی تھی۔ ان کی آواز نے شام کی خاموشی توڑی۔ خشک نالے میں کہیں دور سے ایک شبینہ بگلا بولا۔ بہت دور گیدڑوں کا جوڑا بولنے لگا۔
آندھرا پردیش میں ایک خاص قسم کا ٹڈا ملتا ہے جو میں نے مدراس اور میسور میں کہیں نہیں دیکھا۔ اس کی آواز کافی بلند ہوتی ہے اور جب یہ بڑی تعداد میں بولیں تو دوسری ہر آواز غائب ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی آواز اتنی اونچی ہوتی ہے جیسے پاس ہی کوئی ٹریکٹر چل رہا ہو۔
سورج غروب ہوتے ہی یہ شور سنائی دینے لگا۔ وقت کے ساتھ یہ شور بڑھتا چلا گیا۔ اور کوئی آواز نہ سنائی دے رہی تھی۔ اچانک شور مدھم ہونے لگا۔ پہلے دور والے جھینگر چپ ہوئے اور چند ہی لمحوں میں میرے قریب والے جھینگر بھی خاموش ہو گئے۔ جیسے ٹریکٹر اچانک بند ہو گیا ہو۔
اچانک خاموشی چھا گئی جو اعصاب شکن تھی۔ پتہ نہیں کہ سب جھینگر اچانک ایک ساتھ کیوں چپ ہو گئے؟
دور شبینہ بگلے چلا رہے تھے کہ اچانک مجھے اس خاموشی کی وجہ سنائی دی۔ آدم خور وادی میں دہاڑ رہا تھا۔ اس کی دہاڑ تین بار سنائی دی۔
اب مجھے علم ہو گیا تھا کہ جھینگر کیوں چپ ہوئے۔ ان کے شور کی وجہ سے مجھے شیر کی دہاڑ سنائی نہیں دی تھی مگر انہوں نے سن لی۔ جب وہ خاموش ہوئے تو مجھے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ مگر جھینگروں کو آدم خور یا شیر سے کیا خطرہ ہو سکتا تھا کہ وہ چپ ہو گئے؟ میں اس بارے میں سوچنے لگا۔ یہ سوال مجھے اتنا تنگ کرنے لگا کہ بعد میں گھر پہنچ کر میں نے مدراس میں ایک ماہرِ فطریات سے رابطہ کیا اور اس کی وجہ پوچھی۔ اس کا جواب بہت سادہ تھا۔ کہانی کے اختتام سے قبل آپ کو پتہ چل جائے گا۔
آدم خور ابھی تک دہاڑ رہا تھا اور ہر بار اس کی آواز قریب تر آ رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ اسے کالا کی لاش کھینچ رہی تھی۔ مگر اس طرح دہاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ بات عجیب تھی کہ شیر اپنے شکار پر لوٹتے وقت بہت خاموشی سے اور محتاط ہو کر آتے ہیں۔ دہاڑ کر اپنی آمد کا اعلان کرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
اگلے نصف گھنٹے تک میں خاموشی سے شیر کے اگلے قدم کا منتظر رہا۔
شیر مچان سے ۵۰ گز تک پہنچا مگر وہیں رک گیا۔ اس جگہ وہ جھاڑیوں میں چھپ کر دہاڑ رہا تھا۔ اس نے ایک لمحے کو بھی اپنی پناہ گاہ سے نکلنے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ دیر بعد اس نے مچان کے گرد چکر کاٹنے شروع کر دیے اور اس کی دہاڑ کی شدت بڑھتی گئی۔
جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ آدم خور کو معلوم تھا کہ میں مچان پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ مگر اسے پتہ کیسے چلا؟ اسے مچان تو دکھائی نہیں دی ہو گی کہ وہ بہت دور سے دہاڑنے لگا تھا۔ واحد امکان یہی تھا کہ اسے مچان اور میرے بارے میں شروع سے ہی علم تھا۔ اس نے دہاڑ کر مجھے بھگانے کی کوشش کی۔
مچان بناتے وقت شیر کہیں قریب چھپا تھا۔ جب اس نے انسان کی موجودگی جان لی تو اسے معلوم ہو گیا کہ انسان کی موجودگی اس کی جان کا خطرہ بن سکتی ہے۔ ہر آدم خور کی مانند اسے انسان سے خطرہ محسوس ہوتا تھا مگر انسانی گوشت کی بھوک اسے واپس لے آئی تھی۔ اس کا خیال ہو گا کہ اس کے شور کی وجہ سے میں ڈر کر بھاگ جاؤں گا تاکہ وہ اپنا پیٹ بھر سکے۔ اس نے اپو اور اس کے ساتھیوں کو بستی جاتے دیکھا اور اب تسلی کر کے پیٹ بھرنے آ رہا تھا۔
آدم خور دہاڑتا اور چکر لگانا رہا۔ میں صبر سے منتظر رہا۔ میرا اندازہ تھا کہ اگلے آدھے گھنٹے تک علم ہو جائے گا کہ آدم خور کیا کرے گا۔ یا تو آدم خور میری موجودگی کو نظرانداز کر کے لاش پر آئے گا یا پھر میں بے صبرا ہو کر نیچے اتروں اور آدم خور کی تلاش میں نکل پڑوں۔ تیسرا امکان یہ بھی تھا کہ شیر بچ کر نکل جاتا۔ اس چیز سے مجھے ہر قیمت پر بچنا تھا۔
وقت گزرتا رہا۔ نصف گھنٹہ بیت گیا۔ پھر مزید دس منٹ گزرے۔ آدم خور ظاہر نہ ہوا۔ اب آدم خور چکر لگانے کی بجائے ایک بڑی اور گھنی جھاڑی کے پیچھے بیٹھ گیا تھا۔ یہ جھاڑی ستاروں کی مدھم روشنی میں دھبہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہاں بیٹھ کر شیر دہاڑ رہا تھا اور اسے توقع تھی کہ میں نیچے اتر کر چلا جاؤں گا۔
جب کچھ کرنے کا وقت آئے تو میں بہت بے صبرا ہو جاتا ہوں۔ میں نے خاموشی سے درخت سے اترنا شروع کیا۔ میں جتنی بھی احتیاط کرتا، میری حرکات آدم خور کو صاف سنائی دے رہی ہوں گی۔ کیا آدم خور مجھے درخت سے اتر کر کالا کی لاش تک جانے کا موقع دے گا؟ اصل خطرہ یہ تھا کہ میرے اترنے کے دوران آدم خور حملہ کر دیتا۔ یہ ایسا مرحلہ تھا کہ میں رائفل استعمال نہ کر سکتا۔ یہ سوچ کر خوف سے میں پسینے پسینے ہو گیا اور میرے ہاتھ پھسلنے لگے۔ مگر میں نے اپنے پیروں سے پوری مدد لی اور آرام سے نیچے اترا۔ اگر میں گرتا تو آدم خور کے رحم و کرم پر ہوتا۔
ابھی میں آدھا اترا تھا کہ دہاڑ رک گئی۔ شیر نے میری آہٹ سن لی تھی کہ میں اتر رہا ہوں۔ کیا وہ قریب آ کر تفتیش کرے گا؟ اسے کرنا تو یہی چاہیے تھا۔ شاید وہ تنے سے چند فٹ دور ہوتا۔
اس سوچ سے میرے ہاتھ پیر پھول گئے اور میں نے رفتار بڑھا دی۔ ایک دو بار تو میں پھسل کر گرنے بھی لگا تھا، پھر سنبھل گیا۔ ستاروں کی روشنی تو کافی تھی مگر گھنے درخت کی وجہ سے تنا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مجھے ہر پیر سنبھال کر رکھنا پڑتا تھا۔ جب پیر زمین سے لگے تو مجھے تسلی ہوئی۔ فوراً یہ میں نے کندھے سے بھری ہوئی رائفل اتاری اور تنے سے پشت لگا کر آدم خور کے حملے کا انتظار کرنے لگا۔
ہر طرف خاموشی تھی۔ جھینگر چپ تھے۔ آدم خور شاید گھات لگا رہا ہو۔ اس کی آمد کی کچھ نہ کچھ آواز تو ہونی تھی، جس سے سمت کا اندازہ ہو جاتا۔ کوئی بھی سرسراہٹ یا آواز نہ سنائی دی۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی تھی۔
پھر اچانک ہی شیر بے صبرا ہو گیا۔ اس نے دہاڑتے ہوئے حملہ کیا۔
شیر میرے سامنے نہیں بلکہ میرے عقب میں تنے کی دوسری جانب تھا۔
میں نے دہاڑ سنی تو مڑا۔ درخت کا تنا میرے سامنے کا منظر چھپائے ہوئے تھا۔ جونہی میں نے ٹارچ جلائی تو روشنی پلٹ کر میری آنکھوں میں پڑی۔
اپنے سامنے تیز روشنی دیکھ کر بھی شیر خود کو نہ روک پایا۔ دہاڑتا ہوا شیر اچانک تنے کے پہلو اور میری بائیں جانب سے نمودار ہوا۔ میں نے فوراً دائیں جانب جست لگائی تاکہ شیر کے اور میرے درمیان درخت کا تنا رہے اور ساتھ اس کی سر پر گولی چلا دی جو دو گز دور تھا۔
شیر نے دوڑ کے ساتھ مڑنے کی ناکام کوشش کی جب تک وہ واپس درخت تک پہنچتا، میں نے چلا ہوا کارتوس نکال کر نئی گولی بھر لی تھی۔ دوسری گولی میں نے فرار ہوتے ہوئے شیر کے پچھلے جسم پر چلائی اور شیر غائب ہو گیا۔
شیر خاموشی سے فرار ہوا اور ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ میں نے پوری توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ شاید شیر کے عالمِ نزع کی آواز آئے یا جیسے زخمی شیر دہاڑتا ہے۔ ہلکا زخمی شیر بھی کوئی نہ کوئی آواز تو نکالتا ہی ہے۔ جب شیر فرار ہوتا ہے تو اس کے فرار کی آواز آتی رہتی ہے۔
مکمل خاموشی رہی۔ میں نے دس یا پندرہ منٹ اور انتظار کیا اور ٹارچ کی روشنی اس جگہ مرکوز رکھی جہاں شیر غائب ہوا تھا۔
خاموشی نہ ٹوٹی۔ سانبھر یا چیتل کی آوازیں بھی نہ سنائی دیں کہ جو شیر کو دیکھ کر بولتے۔ کیا میری پہلی گولی مہلک ثابت ہوئی تھی؟ شاید آدم خور کی لاش چند گزد ور پڑی ہو۔
پھر مجھے ایک جھینگر کی آواز آئی۔ پھر دوسرے جھینگر بونے لگے۔ آخر سارا جنگل ان کی آواز سے گونجنے لگا۔ جیسے ٹریکٹر پھر چل پڑا ہو۔
ایک بات یقینی تھی کہ آدم خور آس پاس نہیں تھا۔
میں نے سکون کا سانس لیا۔ رائفل اور ٹارچ کو جھکا کر میں نے زمین کا جائزہ لیا کہ جہاں میں نے شیر کے سر پر گولی چلائی تھی۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے میں آگے بڑھا جس طرف شیر گیا تھا۔ اس دوران میں کالا کی لاش کے پاس سے گزرا اور وہاں دیکھا جس جگہ شیر غائب ہوا تھا۔ کوئی نشان نہ ملا۔
میں آگے بڑھ کر جھاڑیوں تک گیا اور پتوں کا جائزہ لیا۔ نہ تو خون کا نشان ملا اور نہ ہی کوئی اور نشان کہ شیر نے زخمی ہونے کے بعد جھاڑیوں کو چبایا یا کترا ہو۔
پھر یاد آیا کہ گولیاں چلنے کے بعد اچانک خاموشی چھا گئی تھی۔ شاید دونوں ہی گولیاں خطا گئی تھیں۔ پہلی گولی تو دو میٹر سے بھی کم فاصلے پر چلائی گئی تھی۔
چنچو بستی کا راستہ مجھے اندھیرے میں نہ ملتا، سو میں واپس مچان پر چڑھ گیا اور وہیں رات گزاری۔ آدم خور اب اور زیادہ محتاط ہو جائے گا اور کبھی شکار پر واپس نہیں لوٹے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ زیادہ بھوکا ہو گا اور زیادہ آدمی مارے گا۔ چنچو ہی اس علاقے کے واحد باسی تھے، سو ان کو قیمت ادا کرنا پڑتی۔ آدم خور کو میرے غلط نشانے کا بدلہ اب ان سے لینا تھا۔
۴ بجے جا کر مجھے نیند آئی اور پو پھٹتے ہی اپو اور دیگر چنچو آن پہنچے۔ انہوں نے رات دو گولیوں کی آواز سنی تھی اور جب میں نے انہیں تفصیل بتائی تو اپو نے کچھ نہ کہا۔ تاہم اس نے جس طرح مجھے دیکھا، اس کی مایوسی واضح تھی۔
اب اور تو کچھ کرنا ممکن نہ تھا، چنچو اپنی بستی اور ہم پیداچیروو لوٹ گئے۔ سارا راستہ اپو اور میں نے خاموشی سے کاٹا۔ بولنے کے لیے تھا ہی کیا۔
باینّا نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ انسان یا تو ہمیشہ ناکام رہتا ہے یا پھر کبھی کامیاب تو کبھی ناکام۔ ہمیشہ کامیابی ممکن نہیں۔ میں خاموشی سے سونے چلا گیا۔
اگلے دو روز کچھ نہ ہوا۔ پھر باینّا نے کہا کہ کھانے پینے کا سامان کم ہو رہا ہے اور وہ مرکاپور سے مزید سامان لاتا ہے۔ اتنا زیادہ سامانِ خورد و نوش ہم ختم کر چکے تھے۔ ذاتی طور پر میں بد دل ہو چکا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آدم خور بہت مکار نکلا۔
یہاں اپو کام آیا۔ اس نے باینّا سے کہا کہ وہ جا کر سامان لائے اور اس دوران وہ میرے ساتھ جنگل میں شیر کی تلاش جاری رکھے گا۔ باینّا نے کہا تو سہی کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں مگر پھر چپ کر کے چلا گیا۔
باینّا اگلے روز صبح چھ بجے مرکاپور کے لیے نکلا جبکہ اپو اور میں جنگل کو۔ اس بار اپو کے ساتھ کلہاڑی اور اس کا کتا بھی تھا۔ بیچارہ کتا مریل اور لاغر سا تھا اور اس کے کان بچپن میں ہی کاٹ دیے گئے تھے۔ ہندوستانی دیہاتوں میں پالتو کتوں کے کان کاٹنا عام بات ہے کہ اس طرح وہ ایک خاص قسم کی مکھیوں سے بچے رہتے ہیں۔ مجھے ان کا نام تو معلوم نہیں مگر یہ مکھیاں گھوڑوں اور کتوں کو تنگ کرتی ہیں اور ان کا تعلق افریقی سیسی مکھی کے خاندان سے ہے۔ اس کے ڈنک سے تکلیف تو بہت ہوتی ہے مگر کوئی بیماری نہیں ہوتی۔
اس کتے کا نام ادیپّا تھا اور لگ رہا تھا کہ اس نے ۶ ماہ سے کچھ نہیں کھایا۔ تیلگو زبان میں ادیاپا مردانہ نام ہے۔ میں نے پوچھا کہ انسانی نام کتے کو کیوں دیا ہے تو وہ بولا کہ اس کی اپنے ہمسائے سے نہیں بنتی۔ اس نے ہمسائے کے نام پر کتے کا نام ادیاپا رکھا۔ یہاں اپو ہار گیا کہ ادیاپا ذات کا دھوبی تھا اور اس نے اپنے ایک گدھے کا نام اپو رکھ دیا۔ ان گدھوں پر وہ میلے کپڑے دھونے لے جاتا تھا۔
اپو، اس کا کتا اور میں، ہم تینوں جھیل کے مشرقی کنارے کے گرد چکر کاٹ کر اس جگہ پہنچے جہاں پڈاچیروو سے آنے والا راستہ اتماکور اور دورانالا کو ملانے والی سڑک سے جڑتا ہے۔ جھیل کے سرے پر جھاڑیاں چھدری ہیں اور مور اور تیتر بکثرت ہیں۔ اس جگہ ہمیں کالے ہرن کے چھوٹے غول بھی دکھائی دیے، گھنے جنگل کی نسبت کالے ہرن مزروعہ علاقے کے قریب زیادہ ملتے ہیں۔ ایک پرانا نر دکھائی دیا جس کی کھال کالی سیاہ اور شاندار خوب پیچ دار سینگ تھے۔ وہ کھڑا ہو کر ہمیں دیکھتا رہتا۔ جب ادیپّا نے بھونک کر اس کا پیچھا کیا تو وہ ماداؤں کے ساتھ چوکڑیاں بھرتا غائب ہو گیا۔ کتا ہمیں ملامت بھری نظروں سے دیکھنے لگا کہ ہم نے اسے پیٹ بھرنے کا موقع نہیں دیا۔
ہندوستان میں اینٹلوپ نسل سے تعلق رکھنے والا کالا ہرن سب سے خوبصورت جانور ہے۔ کبھی ہزاروں کی تعداد میں کالے ہرن دکھائی دیتے تھے۔ تیر کمان، نیزوں، آتشیں ہتھیاروں، کتوں اور پھندوں سے اتنا شکار کیا گیا کہ اب کہیں کہیں کالے ہرن دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بچاؤ کے لیے حکومت نے قوانین وضع کیے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔ جب یہ ہرن معدوم ہو گئے تو پھر شاید لوگوں کو شعور آئے گا۔
کالے ہرن کی بدقسمتی دیکھیے کہ یہ جگالی کرنے والا جانور ہے۔ بعجلت چرنے کے بعد جگالی کرتا ہے۔ جگالی کے دوران ہرن نہ تو زیادہ تیز بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی دور تک جا پاتا ہے۔ اگر کچھ فاصلے تک پیچھا کیا جائے تو تھک کر گر جاتا ہے۔ مقامی شکاریوں کو یہ بات معلوم ہے۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ چرنے کے کتنی دیر بعد جگالی کا عمل شروع ہوتا ہے اور کتنی دیر جاری رہتا ہے۔ جب وہ کسی غول کو پیٹ بھرتا دیکھتے ہیں تو چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب ہرن جگالی کرنے بیٹھیں تو چند منٹ انتظار کرنے کے بعد شکاری کتوں، بندوقوں اور ہر قسم کے ہتھیار لے کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ہرن خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہیں مگر نوجوان ہرن اور ہرنیاں زیادہ دور نہیں جا پاتے۔ جب وہ تھک کر گرتے ہیں تو کتے ان کی تکا بوٹی کر ڈالتے ہیں یا انسان شکار کر لیتے ہیں۔
اپو اور میں تھوڑا دور گئے ہوں گے کہ ہمیں چار نیل گائے کے پگ دکھائی دیے۔ عموماً نیل گائے اکیلا چرتا ہے مگر یہ چاروں ایک ساتھ پچھلی رات پانی پینے جھیل پر گئے تھے۔ ان کے پگ سانبھر سے مشابہ ہیں مگر نیل گائے کے کھر زیادہ لمبے اور نسبتاً پتلے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ہمیں رکنا پڑا کہ ان پگوں کے اوپر ایک بڑے نر شیر کے پگ ثبت تھے۔
اپو اور میں نے ان کا بغور جائزہ لیا اور اس کا پیچھا شروع کر دیا۔ کچھ دور جا کر ہمیں یقین ہوا کہ یہ لنگڑے آدم خور کے پگ نہیں۔ اس کے چاروں پیروں کے پگ صاف دکھائی دے رہے تھے۔ یہ شاید وہی شیر تھا جو پہلے روز دکھائی دیا تھا۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔
دوپہر کو جھیل سے ۱۰ میل دور پہنچ گئے۔ ہمارا رخ جنوب کی سمت تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ آدم خور اس سے زیادہ دور نہیں جاتا ہو گا۔ ہم نے سرگوشیوں میں بات کر کے واپسی کا رخ کیا۔ ہمارا رخ ایسا تھا کہ پڈوچیرو کے پاس جھیل کے مغربی کنارے سے ہو کر گزرتے۔ اس مقام سے چنچو بستی دو میل دور تھی۔
مسئلہ یہ تھا کہ یہاں سے کوئی پگڈنڈی بھی سیدھی شمال کو نہیں جاتی۔ سبھی کا رخ جنوب مغرب یا شمال مشرق کی سمت تھا۔ ہمیں راستہ بنا کر جنگل سے گزرنا پڑا۔ ہماری رفتار کافی سست رہی۔ ہر چند قدم پر راستہ بنانا پڑتا۔ واپسی کا راستہ دُگنا ہو گیا اور جگہ جگہ قطب نما سے مدد لینی پڑی۔
تین بجے سورج شدید گرم ہو گیا اور ہم پسینے سے نہائے ہوئے ایک ٹیلے نما پہاڑی کے پاس پہنچے۔ اس پر ایک طرف چٹان نکلی ہوئی تھی۔ اس چٹان کے نیچے سرد اور صاف پانی ٹپک رہا تھا۔ اس پانی سے بمشکل دو فٹ چوڑا تالاب بن گیا تھا۔ پانی کی مقدار اتنی کم تھی کہ تالاب کی حد تک پانی تھا مگر بہنے کے قابل نہ تھا۔ صاف اور سرد پانی کا ملنا ہمارے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوا۔
یہاں نرم مٹی پر لنگڑے آدم خور کے پگ دکھائی دیے جیسے لنگڑا آدم خور باقاعدہ یہاں سے پانی پینے کا عادی ہے کہ پگ کافی زیادہ تھے۔ ہمارا حوصلہ بلند ہو گیا۔ نہ صرف پینے کو پانی مل گیا بلکہ آدم خور کا پتہ بھی۔ میں نے اعشاریہ ۴۰۵ کی رائفل زمین پر رکھی اور لیٹ کر پانی پینے لگا۔ میں نے اپو سے پوچھنے کا تکلف بھی نہ کیا کہ میرے ذہن میں یہی تھا کہ میں صاحب ہوں اور پہلا حق میرا ہے۔ اپو نے انتظار کیا۔
شکر ہے کہ اپو رک گیا کیونکہ آدم خور نے عین اسی وقت حملہ کیا۔ شاید اس روز میرا دماغ ٹھکانے نہیں تھا۔
آدم خور ’عوف عوف‘ کرتا ہوا ہم پر حملہ آور ہوا۔
رائفل کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر میں گھٹنے کے بل جھکا اور مڑ کر شیر کی طرف دیکھا۔ شیر ۱۵ فٹ دور سے پھدکتا ہوا آ رہا تھا۔ لنگڑاہٹ کی وجہ سے وہ دوڑ نہ سکتا تھا۔ اپو اپنی جگہ کھڑا کلہاڑی لہراتا رہا۔ کتا بری طرح بھونک رہا تھا۔ لاغر اور بھوک سے نڈھال کتا انتہائی بہادری سے آدم خور کا حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔
ظاہر ہے کہ شیر کو یہ سب منظر بہت عجیب لگا ہو گا کہ ابھی تک وہ دھوکے سے حملہ کرتا آیا تھا۔ اس کے شکار چلاتے تو تھے مگر کبھی مزاحمت نہیں ہوئی تھی۔ اب اس کے سامنے ایک آدمی کھڑا ہوا کچھ لہرا رہا تھا جبکہ حقیر کتا اس پر بھونک رہا تھا۔ ہاں میں جھکا ہوا اس کے لیے مناسب شکار تھا۔
یہاں پہنچ کر آدم خور لمحہ بھر رکا۔ یہ لمحہ اس کی موت کا لمحہ ثابت ہوا۔ میں نے جھکی ہوئی حالت میں نشانہ لے کر اس پر دو گولیاں چلائیں۔
بعد میں آدم خور کی لاش کا معائنہ کیا تو بات سچ نکلی کہ اس کی معذوری کا سبب دوسرے شیر سے لڑائی تھی۔ اس کی ٹانگ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس مرتبہ انسان بے قصور ثابت ہوا۔
اپو اور اس کے کتے کا شکریہ، جب باینّا لوٹا تو میں نے اسے اطلاع دی کہ اس کی تازہ خریداری ضائع جائے گی۔ اگر اپو اور اس کا کتا شیر کا سامنا کرنے کو نہ رکتے تو آدم خور بلا رکے مجھ پر حملہ کر دیتا۔
جھینگروں والی بات رہ گئی تھی۔ میرے مدراسی دوست نے بتایا کہ شیر کی دہاڑ سے زمین کانپتی ہے۔ جھینگر کے کان نہیں ہوتے مگر ان کو تھرتھراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ زمین کانپنے کی وجہ سے جھینگر خوفزدہ ہو کر چپ ہو جاتے ہوں گے۔
٭٭٭
۳۔ ناقابلِ فہم معاملات
جنگل کا رخ ہمیشہ ہی شکار کی نیت سے نہیں کیا جاتا۔ میں جوں جوں بوڑھا ہو رہا ہوں، مجھے معقول وجہ کے بغیر شکار کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔ ذیل میں آپ کو کچھ الگ قسم کے واقعات کے بارے میں بتاتا ہوں جو جنگل کے حوالے سے مجھے دیکھنے کو ملے۔
نیلگری پہاڑی سلسلے کے دامن میں مغرب کی سمت موجود علاقے میں گھنا جنگل ہے اور یہاں بارش بکثرت ہوتی ہے۔ جہاں کم بارش ہوتی ہے، وہاں جنگل نسبتاً چھدرا ہے۔ صدیوں سے یہ زمین کاشت ہو رہی ہے اور یہاں انسان آباد ہیں۔ جگہ جگہ اجڑے دیہات اور مندر دکھائی دیتے ہیں اور قلعے بھی پائے جاتے ہیں جن کے گرد اب جنگل اگا ہوا ہے۔ ماضی کی یہ یادگاریں بتاتی ہیں کہ یہاں کبھی تہذیب زندہ تھی۔
مجھے چیما ناتھ کی مویشی پٹی یاد ہے جہاں ۶ جھونپڑیاں ہیں اور یہ پٹی دو ایکڑ پر مشتمل ہے۔ بستی کے اردگرد خاردار کانٹوں کی ۳ فٹ اونچی باڑ ہے۔ اندر مویشیوں کے گوبر کا فرش ہے کہ یہاں کئی دہائیوں سے سینکڑوں مویشی رہتے آئے ہیں۔ گرمیوں میں جب چارہ ختم ہو جاتا ہے تو مویشی یہاں سے دور بھیج دیے جاتے ہیں اور گوبر کی تہہ سیمنٹ کی مانند سخت ہو جاتی ہے۔ بارشوں کے ساتھ ہی مویشی بھی لوٹتے ہیں۔ بارش، مویشیوں کے پیشاب اور سینکڑوں مویشیوں کے کھروں تلے یہ فرش کیچڑ بن جاتا ہے۔ مویشی بان اس کے وسط میں رہتے ہیں۔ آپ کو ان سے بات کرنی ہو تو اسی کیچڑ سے گزر کر جانا ہو گا۔
یہاں میں اس پٹی سے نصف میل دور بہت بڑے اور اجڑے ہوئے مندر کے بارے میں بات کروں گا۔ مندر کی دیواروں کے اندر انجیر کے درخت ہیں جبکہ اندرونی حصہ جہاں صرف برہمن جا سکتے ہیں، کافی حد تک اصلی شکل میں ہے۔ اس کے گرد چاردیواری ہے۔ اندر جگہ جگہ آڑے ترچھے چوبی ستون ہیں۔ آخر آپ لکڑی کے ۶ انچ موٹے دروازے تک پہنچتے ہیں۔ اس کو بند کرنے والی لکڑی ابھی تک موجود ہے۔ باہر تانبے کے کنڈے اور بیرم یعنی لیور لگے ہیں تاکہ دروازہ باہر سے بھی کھولا جا سکے۔ دروازے کو اپنی جگہ قائم رکھنے کے لیے فولادی چوگاٹھ استعمال ہوئے ہیں جو ابھی تک سلامت ہیں۔ دروازہ عجیب سی آواز سے کھلتا ہے۔ جب دروازے بند ہو جائیں تو فرار کا راستہ نہیں بچتا۔
مندر کی عمارت گرینائٹ یعنی سنگ خارا سے بنی ہے اور اس کے سامنے چند گز پر قدیم کنواں ہے جس پر بھی سنگ خارا لگا ہے اور لگ بھگ ۱۵۰ فٹ گہرا اور اتنا ہی چوڑا ہے۔ گرینائٹ کی کئی سلیں گر چکی ہیں اور کنواں خشک ہے۔
مندر سے ایک میل دور سنگی قلعہ ہے جس کے گرد خندق بنی ہے۔ اس میں بھی جنگل چھایا ہوا ہے۔ مقامی قبائل اس کے قریب بھی نہیں جاتے اور عام افراد کا جانا ویسے بھی محال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں چند روزہ وبا کے دوران مرنے والے ہزاروں افراد کی روحیں بھٹکتی ہیں۔ اصل بات کا کسی کو علم نہیں۔ روایت ہے کہ دو یا تین صدیاں یا اس سے بھی پہلے یہاں وبا پھیلی تھی۔
بخار کی بڑی وبا شروع ہوئی اور ہزاروں کی تعداد میں انسان مرنے لگے۔ بخار میں مبتلا ہونے والا فرد اگلے دن تک زندہ نہ بچتا۔ اس کا کوئی علاج نہ تھا اور نہ ہی ڈاکٹر۔ جہاں بیمار گرتا، وہیں مر جاتا اور اس کی لاش پڑی رہتی کہ دفنانے کو کوئی نہیں تھا۔ تعفن اتنا تھا کہ ۷ میل دور اور پہاڑ کی نصف بلندی پر واقع کل ہٹی کے لوگوں تک بو جا رہی تھی۔ جو چند لوگ بچے، وہ وادی سے فرار ہو گئے۔ سامان اٹھانے کے لیے بھی کوئی نہ رکا۔ اس طرح یہ آبادی ختم ہو گئی۔ سڑتے گوشت اور ہڈیوں سے مردارخور پورا سال اپنا پیٹ بھرتے رہے۔
کوئی نہیں جانتا یہ بخار کیا تھا۔ مگر تباہی سے سبھی واقف ہیں۔ یہ چھوت کا مرض تھا۔ خیال ہے کہ یہ طاعون کی انتہائی متعدی شکل ہو گی۔ یہ بات یقینی ہے کہ اس علاقے میں کوئی انسان نہ بچا اور نہ ہی کوئی وبا ختم ہونے پر واپس لوٹا۔
ماضی میں مندر کے اندرونی مقدس مقام پر اجنبی، ماس خور یا غیر ملکی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ قدیم پنڈت برہمن تھے اور اس مقام پر جانے سے قبل ننگے پیر اور محض دھوتی پہن کر جاتے تھے۔ جب آپ یہاں جوتوں سمیت چلتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے۔
اندر ایک طرف چبوترہ ہے جہاں پانچ سنگی بت ہیں۔ یہ سبھی بت ہندو مت کے مقدس ترین جانور بیل کے ہیں۔ روایتی طور پر بیل کو بیٹھا دکھاتے ہیں۔ سب سے بڑا بت ایک فٹ اونچا اور اڑھائی فٹ لمبا ہے اور سب سے چھوٹا بت چار انچ اونچا اور دس انچ لمبا ہے۔ ایک جانب چھ انچ اونچا تانبے سے بنا دیا رکھا ہے مگر اب اس کا رنگ خراب ہو چکا ہے۔ یہ دیا چھوٹے ستون پر رکھا ہے۔
میں آپ کو کئی سال پرانا واقعہ سناتا ہوں۔ میں چند سیاحوں کو ساتھ لے کر مندر گیا۔ یہ سیاح مجھے جنگل میں ملے اور یکسر اجنبی تھے۔ انہوں نے مندر کے بارے میں سن رکھا تھا اور مجھ سے پوچھا کہ مندر تک کیسے جائیں۔ مندر کا راستہ کافی دشوار تھا، میں ان کے ساتھ آیا۔ کل ۴ سیاح تھے۔ ہم اندرونی مقدس مقام پر رکے اور پتھرع کے بیلوں کو دیکھنے لگے جنہیں نندی کہا جاتا ہے۔ ایک سیاح جس کا نام کیپٹن نیڈ فرض کر لیتے ہیں، آسٹریلیا سے آیا تھا اور اس کی نظر تانبے کے دیے پر پڑی۔
اس نے فوراً کہا، ’یہ میں بطور یادگار لے جاتا ہوں‘۔ یہ کہہ کر اس نے دیا جیب میں ڈال لیا۔
میں نے اسے روکا۔ اس کی بیوی مارگریٹ نے میری ہاں میں ہاں ملائی۔
اس نے کہا کہ اسے اس دیے کی ضرورت ہے۔
اس کی جیب سے دیا جھانک رہا تھا۔ جب ہم نکلے تو مجھے افسوس ہوا کہ نجانے کتنی صدیوں بعد دیا اپنے مقام سے ہٹایا گیا ہو گا۔ میں اپنے کیمپ کو لوٹا جبکہ سیاح ۱۷ میل دور اووٹی کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ چار پانچ روز قیام کے بعد وہ لوگ واپس چلے جائیں گے۔
۴ روز بعد میں سڑک پر چل رہا تھا کہ ایک کالے اور پیلے رنگ کی ٹیکسی میرے پاس سے گزری اور رک گئی۔ جنگل میں ٹیکسی کی آمد انوکھی بات تھی۔ میں نے جھانکا تو یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ اندر کیپٹن نیڈ کمبل اوڑھے اور تکیے کی ٹیک لگائے لیٹا تھا اور اس کی بیوی ساتھ پریشان بیٹھی تھی۔
مجھے دیکھتے ہی وہ زور سے بولی، ’خدا کا شکر ہے مسٹر اینڈرسن کہ آپ مل گئے۔ جان کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے‘۔
اس نے تفصیل سے بتایا کہ جب شام کو وہ لوگ اوٹی پہنچے تو جان کو شدید بخار ہو گیا۔ ڈاکٹر نے دیکھا تو بتایا کہ اسے لو لگی ہے اور علاج کے لیے دوائیں دیں۔
رات کو نیڈ کا بخار ۱۰۶ ڈگری تک جا پہنچا اور وہ ہذیان بکنے لگا۔ اس کی بیوی اور دوستوں نے پھر ڈاکٹر بلایا۔ نیڈ کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے سوچا کہ اسے کالے بخار یا ملیریا کا شدید حملہ ہوا ہے۔ کونین کھلائی گئی مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ تیسرے روز اس کی بیماری مزید شدت اختیار کر چکی تھی۔ ہسپتال کے عملے نے بے بسی ظاہر کی کہ انہیں بخار کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔ نیڈ کو وقفے وقفے سے ہوش آتا تھا۔ ایک بار جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا، ’مجھے یہ دیا واپس اسی مندر میں لے جانا ہو گا۔ کار یا ٹیکسی منگواؤ اور فوراً میرے ساتھ چلو۔ اگر میں نے یہ دیا آج واپس نہ پہنچایا تو میں کل مر جاؤں گا۔ مجھے اپنے ہاتھ سے یہ دیا واپس لوٹانا ہے‘۔
پھر اس نے بتایا کہ اس نے خواب دیکھا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے دیا واپس مندر میں رکھ رہا ہے۔ جب مارگریٹ نے ڈاکٹر کو بتایا تو ڈاکٹر مسکرا کر بولا کہ یہ محض ہذیان ہے۔
مارگریٹ کو یقین تھا کیونکہ ہوٹل کے کمرے کی میز پر دیا رکھا تھا۔ وہ اس سے نظریں نہ ہٹا سکی۔ جیسے دیا اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہو۔
مارگریٹ نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی جان بچانے اسے ٹیکسی پر واپس لے جا رہی ہے۔
ڈاکٹر بولا کہ نیڈ کی طبعیت بہت خراب ہے اور اگر اس حالت میں لے جایا گیا تو وہ فوری مر سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے اجازت دینے یا ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔
مارگریٹ نے واپس جا کر نیڈ کو بتایا تو وہ بولا، ’میں نے آج ہی دیا لوٹا دیا تو ٹھیک، ورنہ کل تک مر جاؤں گا‘۔
بیوی نے کہا کہ وہ ٹیکسی پر جا کر دیا واپس رکھ آتی ہے۔ مگر اس نے اصرار کیا کہ وہ خود جائے گا۔ اس طرح یہ دونوں مجھے ٹیکسی میں ملے۔
میں فوراً ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر اسے راستہ سمجھانے لگا۔ ہم جلد ہی مندر کے قریب پہنچ گئے مگر ٹیکسی آگے نہیں جا سکتی تھی۔ نیڈ کو اب ہوش آ چکا تھا اور وہ بولا کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے دیا واپس رکھے گا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ مندر کی دیوی جانتی ہو گی کہ تم سچے دل سے توبہ کر کے دیا واپس لا رہے ہو۔ سو وہ تمہیں معاف کر دے گی۔ تم یہیں رکو، ہم واپس رکھ کر آتے ہیں۔
نقاہت سے اس کا برا حال تھا مگر اس نے سر ہلا کر ہماری بات سے اتفاق کیا۔ اس کی بیوی نے دیا اٹھایا اور میرے پیچھے چلنے لگی۔ ہم نے اندر پہنچ کر دروازہ کھولا اور پانچ بتوں کے پاس مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر دیا واپس رکھ دیا۔ روتے ہوئے اس نے دعا مانگی۔ پھر ہم خاموشی سے ٹیکسی کو لوٹے۔
نیڈ سو رہا تھا۔ اس کا ماتھا پسینے سے بھییگا ہوا تھا۔ میں نے ہاتھ لگایا تو محسوس ہوا کہ اس کا بخار اتر چکا ہے۔ ہم نے اسے کمبل اچھی طرح اوڑھایا اور کھڑکی کا شیشہ بند کر دیا تاکہ ٹھنڈی ہوا نہ لگے۔ میں نے ٹیکسی والے کو ہدایت کی کہ وہ سیدھا اوٹی ہوٹل جا کر ہی رکے۔
اب ہسپتال جانے کی کیا ضرورت تھی۔ نیڈ ٹھیک ہو چکا تھا۔ جب ٹیکسی روانہ ہوئی تو اس کی بیوی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ رہے تھے۔
معزز قارئین، یہ تمام واقعات عین اسی طرح پیش آئے۔ اس کی توجیہ پیش کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ آپ اپنی مرضی سے جو چاہیں سوچیں۔
٭
حال ہی میں ایک اور واقعہ ماون ہلّا سے نصف میل دور وادی میں پیش آیا تھا۔ یہ جگہ اوٹی سے ۱۵ میل دور تھی اور واقعہ بظاہر کالے جادو کا شاخسانہ تھا۔
اس وادی میں ایک خوش شکل لڑکی رہتی تھی جس کی شادی گروپلی کے ایک آدمی سے طے ہوئی تھی۔ ہندوستان میں لڑکا لڑکی اپنی شادی کا فیصلہ خود نہیں کرتے بلکہ یہ ان کے والدین کا کام ہے جو خوب بھاؤ تاؤ کر کے شادی طے کرتے ہیں۔ عموماً لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو شادی کے بعد دیکھتے ہیں۔ یہ معاملہ کچھ مختلف تھا کہ لڑکے اور اس کے والدین نے ماون ہالا کا چکر لگا کر لڑکی کو دیکھا تھا اور لڑکے نے جب لڑکی کو پسند کر لیا تو ان کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی۔
ان لوگوں کا تعلق ایریلا ذات سے تھا اور ان کا رواج تھا کہ لڑکے والے لڑکی کی والدین کو منہ مانگی رقم دیتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے یہ لڑکی کی قیمت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں عموماً لڑکی کی طرف سے جہیز دیا جاتا ہے۔
عین وقت پر لڑکے کے والدین نے کہا کہ وہ رقم نہیں دے سکتے۔ لڑکی کے والدین نے غصے میں منگنی توڑ کر مطلوبہ رقم دینے پر تیار ایک اور آدمی چن لیا۔
گروپلی والا آدمی سخت خفا ہوا اور اس نے جنگل کے راستے ۱۰۰ میل دور کولیگل قصبے کا رخ کیا۔ یہ قصبہ دریائے کاویری کے کنارے آباد ہے اور یہاں بہت مشہور کالا جادوگر رہتا تھا۔ اس آدمی کو خاصے پیسے خرچ کرنے پڑے کہ جادوگر نے بھینٹ چڑھانے کے لیے ایک بھیڑ مانگی تاکہ اس کا خون کسی بد روح کی نذر کر کے اس سے کام لے۔ پورے چاند کی رات کو ۳ بجے یہ تقریب ہوئی۔
۱۰۰ میل دور ماون ہلا میں یہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ گھر میں سو رہی تھی کہ عین ۳ بجے اس کے پیٹ میں زبردست مروڑ اٹھا۔ اس نے فوراً لوٹا اٹھایا اور باہر کا رخ کیا۔ عموماً ہر گھر کے پیچھے چند گز دور ہی گھر والے حوائجِ ضروریہ سے فراغت حاصل کیا کرتے تھے۔
لڑکی نے بتایا کہ جونہی وہ فارغ ہوئی تو اس کے سامنے دو نامعلوم آدمی اچانک نمودار ہوئے۔ انہوں نے لڑکی کو ساڑھی سے پکڑا اور اسے ساتھ گروپلی جانے کا کہنے لگے۔ لڑکی کو احساس ہوا کہ اس کا سابقہ منگیتر اسے بہانے سے بلوا رہا ہے، اس نے کہا کہ وہ دن نکلنے پر روانہ ہو جائے گی۔ اس پر آدمیوں نے اسے کہا کہ فوراً ساتھ چلے۔ جب لڑکی نے کہا کہ ۱۰۰ میل بہت طویل فاصلہ ہے تو یہ آدمی اسے اٹھا کر چلنے کو تیار ہو گئے۔
گفتگو یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکی کی نگاہ ان کے پیروں پر پڑی تو اس پر دہشت طاری ہو گئی۔ ان آدمیوں کے پیر زمین سے نہیں لگ رہے تھے۔ چاندنی رات میں اسے زمین تو صاف دکھائی دے رہی تھی مگر ان آدمیوں کے پیر ہی نہیں تھے۔
اس نے ڈر کر چیخ ماری۔ گھر والے فوراً بھاگے تو وہ آدمی ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ لڑکی نے جب ساری بات بتائی تو ہمسائیوں نے سوچا کہ اس نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہو گا کہ دور دور تک کوئی اجنبی نہ دکھائی دیا۔
لڑکی اتنی خوفزدہ تھی کہ اس نے دن بھر کچھ نہ کھایا۔ شام کو ساڑھے سات بجے رات کے کھانے کا وقت ہوا تو وہ بھی دال چاول کھانے بیٹھی۔ ہندوستان میں ہاتھ سے کھانا کھایا جاتا ہے، سو اس نے انگلیوں سے لقمہ اٹھایا اور منہ میں ڈالا۔ عین اسی لمحے اسے لگا کہ جیسے اس کے منہ میں آگ لگ گئی ہو اور لقمہ پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔ اس نے گھبرا کر لقمہ اگلا تو اس کے منہ سے نکلنے والا لقمہ در اصل پتھر تھا۔
یہ مسئلہ ۸ روز تک چلتا رہا۔ میں ان دنوں ماون ہلّا آیا ہوا تھا اور مجھے اس بارے میں پتہ چلا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ صبح کو یا دن کو کسی بھی وقت لڑکی آرام سے کھا سکتی تھی۔ یہ مسئلہ صرف سورج غروب ہونے کے پیش آتا تھا۔
مجھے ایسی عجیب باتوں سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے، سو میں نے فوراً اس وادی کا رخ کیا جہاں میں لڑکی اور اس کے والدین سے ملا۔ پھر میں نے ان کے ہمسائے اور بستی کے لگ بھگ سبھی لوگوں سے بات کی۔ وہ یہ سب دیکھ چکے تھے اور انہوں نے ان باتوں کی تصدیق کی۔ لڑکی کے باپ نے اس کے منہ سے نکلنے والے سبھی پتھروں اور دیگر چیزوں کو محفوظ کر رکھا تھا۔ میں نے اس سے یہ سب مانگ لیے اور اب یہ تحریر لکھتے وقت یہ سب میرے سامنے رکھے ہیں۔ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے: ۶ مختلف جسامت اور وزن کے پتھر جن میں سے سب سے بڑا ۳ اونس، پکی مٹی کے ۶ مختلف ٹکڑے، ۲ کوئلے اور شیشے کی بوتل کا ایک ٹوٹا ہوا ٹکڑا۔
یہ مسئلہ رات کے کھانے کے وقت ہوتا تھا، سو میں رات ۷ بجے لوٹا کہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔
لڑکی چٹائی پر غنودگی کی حالت میں لیٹی تھی اور آس پاس دس بارہ آدمی جمع تھے۔ اس کے چہرے پر پسینہ تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کا منہ ایسے چلتا جیسے کچھ چبا رہی ہو۔
میں وہمی آدمی ہوں۔ مجھے لگا کہ یہ لڑکی جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے کہ وہ خود سے اس آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ شاید اس نے دن کے وقت خود یا کسی اور کی مدد سے پتھر کا ٹکڑا پہلے سے ہی چھپا رکھا ہو گا۔ کھانا کھاتے وقت وہ جان بوجھ کر یہ پتھر منہ میں ڈال لے گی۔ میں نے فریب کا پول کھولنے کا سوچا۔
میں نے اسے منہ کھولنے کا کہا۔ اندھیرا چھا چکا تھا، میرے پاس ٹارچ تھی۔ میں نے اس کے کھلے منہ میں روشنی ڈالی مگر کچھ نہ دکھائی دیا۔ اچانک میں نے بتائے بغیر اس کے منہ میں انگلی ڈال کر اس کی زبان کے نیچے دیکھا۔ اس بیچاری نے خاموشی سے برداشت کیا۔ پھر میں نے اس کی گردن تھام کر اس کے مسوڑھوں اور گالوں کے درمیان انگلی پھیری کہ کہیں پتھر نہ چھپا ہو۔ اس کا منہ پوری طرح خالی تھا۔ اب اس کا منہ چلنا بند ہو گیا تھا۔
نصف گھنٹے بعد اس کے سامنے رات کا کھانا رکھا گیا۔ جب وہ کھانے کو بیٹھی اور لقمہ بنایا تو میں نے اسے روک دیا۔ پھر اس کی ماں کو بلا کر میں نے کہا کہ وہ اس کے ہاتھ میں موجود لقمے میں انگلی مارے اور چاولوں اور دال کو بھی دیکھے۔ مگر کوئی پتھر نہ ملا۔
لڑکی نے لقمہ بنایا تو میں نے اس کی انگلیوں کو اچھی طرح دیکھا کہ کہیں پتھر نہ چھپا ہو۔ جب اس نے لقمہ منہ میں ڈال کر چبانا شروع کیا تو میں بہت خوش ہوا کہ اب پتھر کہاں سے آئے گا۔ میں نے سوچا کہ لڑکی کا پول کھل گیا ہے۔
اگلے لمحے لڑکی کے دانتوں تلے کچھ سخت سا آیا اور مجھے بھی اس کی آواز سنائی دی۔ اس کے چہرے پر موجود دہشت اصلی تھی۔ ہلکی سی سسکی کے ساتھ اس نے لقمہ اگل دیا۔ تھالی میں ایک پتھر گرا۔
اسی وقت میں نے چلا کر لڑکی کو کہا کہ وہ منہ کھلا رکھے اور اسے گُدی سے پکڑ کر میں نے دائیں ہاتھ کی انگلی اس کے منہ میں ڈال دی۔ یقین کیجیے کہ اس کے منہ میں چاول یا دال کا ایک دانہ تک نہ تھا۔ پورا لقمہ غائب تھا۔
لڑکی کو نوالہ چبانے کا وقت نہ ملا تھا اور نہ ہی اس نے نگلا ہو گا کیونکہ میں اسے متواتر دیکھتا رہا تھا۔ اتنا بڑا لقمہ اگر وہ نگلتی تو اس کے حلقوم سے گزرتے وقت صاف دکھائی دیتا۔ جو پتھر اس نے اگلا، وہ تین اونس وزنی اور اس وقت میرے سامنے رکھا ہے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگلی شام میں نے پھر یہی دیکھا۔ میں نے اس بار بھی لڑکی کا منہ کھول کر اچھی طرح دیکھا کہ اس نے پہلے سے کچھ نہ چھپایا ہوا ہو۔ اس بار شیشے کا ٹکڑا نکلا۔ یہ بھی اس وقت میرے سامنے رکھا ہے۔ شیشے کے تیز کناروں سے اس کی زبان یا مسوڑھے زخمی ہونے سے کیسے بچے ہوں گے۔ پورا لقمہ غائب ہو چکا تھا۔ اس بار تماشائیوں کا زیادہ بڑا مجمع اکٹھا تھا۔
ان واقعات کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ اگلی صبح ایک سادھو آیا۔ یہ آدمی ہندوستانی، میرا ہم عمر، عیسائی اور سادہ سا تھا۔ اس شام میں لڑکی کے گھر یہ دیکھنے ذرا جلدی چلا گیا کہ یہ آدمی کیا کرے گا۔ یہ آدمی زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا اور مجھے دیکھ کر اٹھا اور مسکرانے لگا۔ صاف اور بے داغ انگریزی میں اس نے تعارف کرایا کہ وہ اوٹی سے آیا ہے۔ اس نے لڑکی کے بارے میں سنا اور سیدھا بس پکڑ کر مسینی گڈی پہنچا اور وہاں سے ۳ میل کا پیدل سفر کر کے یہاں آیا۔
اس نے بتایا کہ اسے خدا نے ان مسائل کو حل کرنے کی طاقت دی ہے۔ میں یہ سن کر حیران رہ گیا اور شاید کچھ تلخ بھی بول گیا۔
’سو تم یہاں اس لڑکی کے علاج کی کوشش کرنے آئے ہو؟‘
’نہیں جناب۔ میں اسے ٹھیک کرنے آیا ہوں۔ مجھے اوٹی سے یہاں اسی لیے بھیجا گیا ہے۔ خدا مجھے مایوس نہیں کرے گا۔ خدا ایسا نہیں کر سکتا‘۔
اس کے اعتقاد کے سامنے میں کچھ نہ بول سکا۔ پھر پٹاسوامی نامی یہ آدمی لڑکی اور اس کے والدین سے بات کرنے لگا۔ جلد ہی لڑکی، والدین اور مجمعے سے اسے پوری کہانی کا علم ہو گیا۔ آخر میں میں نے پچھلے ۲ روز کا ماجرا بھی اسے سنایا۔
اس دوران لڑکی کو پسینہ آنے لگا اور اس کا منہ چلنے لگا۔ پچھلے ۲ روز سے میں یہی دیکھ رہا تھا۔ پُٹّاسوامی خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اس نے کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ شاید دعا کر رہا ہو گا۔
ایک بار پھر میں نے لڑکی کا منہ کھول کر اس کے تالو، زبان کے نیچے اور حلق تک کا جائزہ لیا۔ اس کے منہ میں کچھ بھی نہ تھا۔
پھر رات کا کھانا اس کے سامنے لا کر رکھا گیا جو دال چاول پر مشتمل تھا۔ یہ مقامی لوگوں کی واحد خوراک ہے۔ لڑکی نے چاول اور دال کا لقمہ بنا کر منہ میں ڈالا اور چبانا شروع کیا۔ عین اسی وقت پٹا سوامی زور سے پکارا:
’نزراتھ کے یسوع مسیح کے نام پر، تم جو بھی ہو، میں حکم دیتا ہوں کہ اس لڑکی سے نکل جاؤ‘۔
ایک بار پھر لڑکی کے دانت پتھر سے ٹکرائے اور اس نے چیخ ماری اور اس پر دورہ پڑ گیا۔ اس نے بال نوچنے اور دانت پیسنے شروع کر دیے۔ پٹا سوامی اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں اور وہ چلایا۔
’نزراتھ کے یسوع مسیح کے نام پر، اسی لمحے نکل جاؤ‘۔
لڑکی کو ایک جھٹکا لگا اور اس کا جسم ایسے مڑا جیسے تشنج کا دورہ ہو۔ پھر اس نے چاول اور دال اگل دیے اور ذرا سا کانپ کر ساکت ہو گئی۔ چند منٹ بعد اس میں حرکت پیدا ہوئی۔ پٹاسوامی نے اسے سہارا دے کر بٹھایا۔ اب لڑکی کے منہ میں پتھر کی بجائے دال چاول تھے۔
پٹاسوامی نے نرمی اور خوشی سے کہا: ’شکریہ یسوع مسیح‘۔
لڑکی ٹھیک ہو گئی تھی۔ ہم سب اس سادہ سے آدمی سے نکلنے والی روحانی لہروں سے متاثر ہو گئے۔
میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں، سو مجھے اس پر پورا یقین ہے۔
٭
میں اب جس آدمی کے بارے میں بات کروں گا، وہ ایک چور، ڈاکو اور ۹ افراد کا قاتل تھا۔
یہ کہانی کئی سال پہلے شروع ہوئی۔ اس آدمی کا نام سلواراج تھا۔ پولیس کے مطابق: ’عمر ۳۶ سال، قد ۵ فٹ ۷ انچ، گہرا سانولا رنگ، بل کھائی مونچھوں کے سرے کنپٹی تک اٹھے ہوئے۔ باہر کو نکلا ہوا اوپری ہونٹ اور دائیں ابرو سے کان کی لو تک گہرے زخم کا نشان‘۔
ابتدا خاندانی جھگڑے سے ہوئی۔ سلواراج کے باپ کا جھگڑا ہمسائے سے ہوا۔ ہمسائے نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک رات سڑک پر گھات لگائی اور اس کے باپ کو قتل کر کے اس کی لاش کو درخت سے باندھ دیا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔
سلواراج اس وقت نوجوان تھا۔ اسے لڑائی کا علم تھا مگر اس نے چپ سادھ لی مگر باپ کے قتل کو بھلانا بھی نا ممکن تھا۔ اس نے اپنے بھائی اور دیگر ۵ افراد کو ملا کر قاتلوں کے گھروں پر ہلہ بول کر ۹ افراد کو ٹوکے کے وار کر کے قتل کر دیا۔
اس پر بہت شور ہوا کہ سبھی اس قتلِ عام کی وجہ اور قاتلوں کو بخوبی جانتے تھے۔ سلواراج کے ۳ رشتہ دار جو اس قتل میں شریک تھے، کو پکڑ کر مقدمہ چلانے کے بعد تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ سلواراج، اس کا بھائی اور ۲ ساتھی چھپ گئے۔
لڑائی پھیل گئی اور پولیس کچھ نہ کر سکی۔ مقتولین کے لواحقین نے ان چاروں کی تلاش شروع کر دی۔ حسبِ معمول مخبری ایک عورت کی وجہ سے ہوئی۔ سلواراج کے بھائی نے کسی کی بیوی کو ورغلا کر اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ اس کے شوہر نے انتقام لینے کے لیے ان کی کمین گاہ کی نشاندہی کر دی۔ حملہ آوروں نے جھونپڑی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ سلواراج کا بھائی اور عورت تو جل کر مر گئے مگر سلواراج اور دیگر دو ساتھ بچ نکلے۔
پولیس پھر آئی اور دو حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا اور دونوں کو پھانسی ہو گئی۔ دونوں فریق جنگل میں چھپ گئے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے اور پولیس سے بھی خطرہ تھا۔
تمام مال اسباب، زمین اور روزگار چھِن جانے سے سلواراج کو زندہ رہنے کے لیے جد و جہد کرنا پڑی۔ پولیس کی وجہ سے کہیں ملازمت کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ اس نے لوٹ مار شروع کر دی مگر اس میں بھی ہر ممکن طور پر انسانیت کے دائرے میں رہنے کی کوشش کرتا رہا۔
سلواراج ڈاکو بن گیا۔ اسے جنوبی ہندوستان کا رابن ہڈ کہہ لیجیے۔ اس نے امیروں کو لوٹ کر غریبوں کا پیٹ بھرنا شروع کر دیا۔ زمیندار، امیر تاجر، دکاندار اور بنیے اس کا نشانہ بنتے مگر وہ لوٹ مار کا بہت معمولی سا حصہ اپنے لیے رکھتا۔ باقی سب معذوروں، غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دیتا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ لوگ اس بارے میں دو دھڑوں میں بٹ گئے۔ امیر لوگ جو اقلیت تھے اور پولیس اس کو برا سمجھتے جبکہ غریبوں کی بڑی اکثریت اسے فرشتہ سمجھتی۔
نکلے ہوئے ہونٹ کی وجہ سے سلواراج کو ’ممپٹی واین‘ کی عرفیت ملی۔ اس کا مطلب ممپٹی کے منہ والا تھا۔ مقامی زبان میں بیلچے کو ممپٹی کہتے ہیں۔ اس نے جنگل میں ہی زندگی بسر کرنا شروع کی۔ اس کا دائرہ عمل کئی میل دور تک پھیلا تھا جو ضلع کولیگل کے مشرقی سرے کے دریائے کاویری کے کنارے سے لے کر ضلع سالم، دودا ہالا اور دریائے چنار سے آگے پناگرام کے قصبے تک تھا۔
سلواراج پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور اسے کوئی نہ پکڑ سکا۔ شمالی ہندوستان میں وادئی چنبل کے مان سنگھ کی مانند جنوبی ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔ لوگ اس کے بارے میں کبھی مخبری نہ کرتے بلکہ اسے پولیس کی نقل و حرکت کے بارے میں اطلاع پہنچا دیتے۔
ممپٹی واین کا طریقہ واردات بہت سادہ تھا۔ اس کے مخبر اسے امیر اور بڑے تاجروں کی آمدنی کے بارے میں اطلاع دیتے۔ پھر وہ رات کو ان کے دروازے پر جا پہنچتا اور قتل کرنے کی دھمکی دے کر ان سے کافی پیسے بٹور کر فرار ہو جاتا۔
وہ لکڑی چوروں سے بھی پیسے وصول کرتا۔ رات گئے جب چور جنگل کے کسی دور افتادہ گوشے میں جا کر درخت کاٹ کر لاری پر لادتے اور گاڑی کا انجن چلاتے تو عین اسی وقت ممپٹی واین نمودار ہوتا اور بندوق تان کر ۵۰ روپے کا مطالبہ کرتا۔ اسے مخبری سے روکنے کے لیے ۵۰ روپے مل جاتے۔
ایک بار ایسا ہوا کہ ڈرائیور نے گیئر بدل کر گاڑی بھگانے کی کوشش کی۔ ممپٹی واین نے ڈرائیور کو تو کچھ نہ کہا مگر گولی چلا کر لاری کے پچھلے دونوں پہیے پھاڑ دیے۔ ظاہر ہے کہ ڈرائیور کو رقم ادا کرنا پڑی اور اضافی نقصان یہ کہ اس کے پاس محض ایک اضافی پہیہ تھا، دوسرا پہیہ لاتے لاتے دن نکل چڑھ آتا۔ چوروں نے ساری لکڑی اتار کر چھپا دی مگر بچ نہ سکے۔ انہیں گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور پھر انہیں جیل ہوئی اور لاری بھی ضبط ہو گئی۔ ویسے بھی ایک پہیے کی قیمت ۶۰۰ روپے تھی جبکہ ممپٹی واین محض ۵۰ روپے مانگ رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد ممپٹی کو بہت شہرت ملی جبکہ چوروں کو افسوس ہوا۔
پولیس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ممپٹی واین نے اوسطاً ہر سال ۲۵۰۰۰ روپے کمائے مگر شاید اس سے دگنی رقم پولیس کو رپورٹ ہی نہ ہوئی ہو گی۔ ممپٹی عموماً مشکوک ذرائع آمدنی والے افراد کو لوٹتا تھا جو پولیس کے پاس جانے سے گھبراتے تھے۔
وہ ہمیشہ تنہا واردات کرتا۔ اس نے خاکی قمیض اور خاکی پتلون پہنی ہوتی تھی اور ایک پہلو سے بڑا چاقو اور دوسرے سے خنجر لٹکتا تھا۔ بارہ بور کے کارتوسوں کی پیٹی اس کے شانے پر ہوتی تھی جن میں گراپ اور گولی، دونوں شامل تھے۔ اس کے پاس ۱۲ بور کی چوری شدہ گیکو بندوق تھی جس کا وہ خاص خیال رکھتا تھا۔ بعض اوقات وہ پٹکا بھی باندھتا تاکہ دور سے جنگل کا چوکیدار لگے، مگر عموماً ننگے سر رہتا تھا۔
ممپٹی واین عورتوں کا خاص خیال کرتا تھا اور بدقسمتی سے ان کا شوقین بھی تھا۔ اس کی بیوی میچری گاؤں میں رہتی تھی جو میٹّور ڈیم سے ۱۰ میل دور ہے۔ جنگلوں میں جگہ جگہ اس کی داشتائیں تھیں مگر اسے اپنی بیوی ہمیشہ یاد رہی۔ اس کے فرار کے بعد چھ ماہ تک پولیس نے اس کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا مگر ممپٹی واین اپنی بیوی سے ملنے آتا رہا۔ ایک بار اس نے برقع پہن کر چکر لگایا اور اس کے جانے کے بعد پولیس کو خبر ہوئی۔
ایک ماہ بعد ایک اور برقع پوش عورت اس کے گھر آئی تو پولیس نے اسے دبوچ کر اسے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دیں۔ بدقسمتی سے یہ اصلی عورت تھی اور اس نے واویلا کر کے پورا گاؤں جمع کر لیا۔ گاؤں والے بھی پولیس کا مذاق اڑانے کو تیار بیٹھے تھے۔ بعد میں اس عورت نے مسکراتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ وہ ممپٹی واین کے کہنے پر ہی آئی تھی تاکہ پولیس کی بھد اڑے۔
اس واقعے کے بعد ممپٹی واین کا حوصلہ اور بلند ہو گیا اور وہ پولیس کو حقیر سمجھنے لگا۔ اس نے رات کو تھانے کے باہر لکھوا دیا کہ وہ فلاں روز اس گاؤں کا چکر لگائے گا۔ سپاہیوں سے بھری دو ویگنوں کو مچیری بھیج دیا گیا اور ہر سپاہی کو ممپٹی واین کا حلیہ زبانی یاد کرا دیا گیا۔
اس حلیے کا کوئی آدمی ظاہر نہ ہوا۔ دوپہر کو جب سپاہی کھانا کھا رہے تھے تو ایک صفا چٹ آدمی آیا جس کی دائیں آنکھ نہیں تھی۔ اس نے پولیس والوں سے کھانا مانگا۔ چند نرم دل سپاہیوں نے اسے کچھ کھانا دیا۔
کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ المونیم کا ٹفن غائب ہے۔ سب کا شک اسی فقیر پر گیا کہ سبھی فقیر چور سمجھے جاتے ہیں۔ دو روز بعد علی الصبح ایک سپاہی کو تھانے کے دروازے پر وہی ٹفن کیریئر ملا جس میں کاغذ پر درج تھا کہ ممپٹی واین ٹفن کے لیے مشکور ہے۔
پولیس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انہوں نے ۳۰۰ پولیس والوں کو پچاس پچاس کے گروہ بنا کر جنگل چھاننے اور ممپٹی واین کو لانے کے لیے بھیج دیا۔ انہیں محتاط رہنے کا حکم دیا گیا کہ چند روز قبل ہی ممپٹی واین نے ایک آدمی کے گھر ڈکیتی کے دوران رائفل چوری کی تھی۔ رائفل کے ساتھ گولیاں نہیں تھیں مگر پھر بھی پولیس والوں کو محتاط رہنے کا کہا گیا۔
جب پولیس جنگل کو چھان رہی تھی تو ممپٹی واین پناگرام پہنچا کہ وہاں ایک سینما والے آئے ہوئے تھے جو گاؤں گاؤں میں فلم دکھاتے تھے۔۔ اس نے آرام سے آدھا شو دیکھا اور پھر سیدھا کیشیئر کے پاس پہنچا اور اسے دھمکا کر پیسے لے لیے۔ وہ آدمی بیچارہ سٹپٹایا کہ اس طرح مالکان چوری کا الزام اس کے سر لگائیں گے۔ ممپٹی واین نے فوراً اسے کاغذ پر لکھ کر دیا کہ ڈکیتی کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ جانے سے پہلے اس نے کیشیئر کو ۵ روپے دیے تاکہ وہ کسی مناسب ہوٹل سے کھانا کھا لے۔ جب مالکان کو اطلاع ملی تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
اگلی صبح ممپٹی واین نے اوتاملائی کی سب سے بڑی دکان کا رخ کیا۔ اس نے کالا مفلر پہن رکھا تھا اور کالا کوٹ بھی۔ کوٹ کے نیچے سے اس نے دو دھاری خنجر نکالے اور دکاندار کو دھمکا کر اس سے ۶۳ روپے وصول کر لیے۔
انہی دنوں پناگرام کا رہنے والا سیلم جیل کا ایک اہلکار ملازمت سے برطرف ہو کر بہت مایوس اور پریشان گھر واپس آیا۔ جب اسے ممپٹی واین کی تازہ واردات کا علم ہوا تو اس نے سوچا کہ وہ پہلے ممپٹی واین کا اعتماد حاصل کرے اور پھر اسے گرفتار کروا کے نوکری پر بحال ہو جائے۔
اس نے ہوشیاری سے اپنے منصوبے پر عمل شروع کیا۔ اس نے خبر پھیلا دی کہ وہ حکومت سے بہت مایوس ہے اور اب ممپٹی واین کے لیے مخبری کا کام کرے گا اور اسے ضلع سیلم کے تمام امیر افراد کے بارے میں اطلاعات دے گا۔ جلد ہی یہ خبر ممپٹی واین تک پہنچ گئی۔ اس نے ایک آدمی کے ذریعے بات چیت شروع کی اور پھر طے پایا کہ وہ اگلے روز ایک مخصوص درخت کے نیچے رات کو ۱۰ بجے ملنے آئے گا۔ اس آدمی نے فوراً پولیس کو جا کر خبر دی کہ پناگرام سے محض ۸ میل دور یہ ملاقات طے ہوئی تھی۔ طے پایا کہ پولیس ساڑھے دس بجے چھاپہ مارے گی اور سابقہ جیل اہلکار کا کام ہے کہ وہ ممپٹی واین کو گرفتار کر کے پولیس کا انتظار کرے۔ بدلے میں اس کو جیل کی ملازمت پر بحال کر دیا جائے گا۔
اگلی رات ۱۰ بجے دونوں مطلوبہ مقام پر ملے اور بیٹھ گئے۔ بدقسمتی سے بیٹھتے وقت اس سابقہ ملازم کی بے احتیاطی سے ہتھکڑیاں پتھر سے ٹکرائیں اور آواز پیدا ہوئی جو ممپٹی واین نے فوراً سن لی۔
اس نے پوچھا: ’یہ ہتھکڑیاں کاہے کو لائے ہو؟‘
اس آدمی کو معلوم ہو گیا کہ اس کا راز کھل گیا ہے۔ سو اس نے جست لگا کر ممپٹی واین کو دبوچ لیا۔ دونوں ہی ہٹے کٹے اور مضبوط آدمی تھے، سو خاموش جد و جہد شروع ہو گئی۔ اس آدمی نے ممپٹی واین کو نیچے گرا کر اس کا گلا دبوچا ہوا تھا کہ ممپٹی واین کے ہاتھ وہی پتھر آ گیا اور اس نے اس آدمی کی کنپٹی پر زور سے مارا۔ چند لمحے کے لیے پولیس والا سن ہو گیا اور اتنی دیر میں ممپٹی واین نے اپنا خنجر نکال لیا۔ جب پولیس والا دوبارہ اس کے قریب پہنچا تو تیز دھار خنجر سے ممپٹی واین نے اس کی تین انگلیاں اڑا دیں۔ زخمی ہو کر وہ آدمی چلایا اور اسے یقین ہو گیا کہ اب دھوکے کی وجہ سے ممپٹی واین اس کی جان لے لے گا۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے ممپٹی واین کی منت سماجت شروع کر دی۔
اتنی دیر میں پولیس وین کی آواز سن کر ممپٹی واین خبردار ہو گیا۔ اس نے جنگل سے نکل کر تین یا چار ماہ کا وقت خاموشی سے گزارا۔ پھر جب اس نے دوبارہ وارداتیں شروع کیں تو دھرماپوری اور کرشناگیری میں اس کا نام سنا گیا۔ اس دوران اس نے دھرماپوری سے ۳ میل دور ایک کار والے کو لوٹا تو ایک دوربین بھی ہاتھ لگی۔ پھر اس نے واپس پرانے جنگلوں کا رخ کیا۔ اس کی واپسی کافی ڈرامائی تھی۔
انہی دنوں اتوار کے روز پولیس سپرنٹنڈنٹ نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوگینائکل آبشار پر پکنک مننے کا سوچا۔ انہوں نے جیپ ۱۰۰ گز دور چھوڑی۔ آبشار میں نہانے اور کھانے پینے کے بعد جب یہ لوگ واپس لوٹے تو جیپ میں موجود کیمرہ غائب تھا اور جیپ پر ۵ جگہ پر چاک سے تامل زبان میں درج تھا: ’ممپٹی واین، ڈاکوؤں کا راجہ‘۔
میں ان علاقوں میں اکثر آتا جاتا تھا اور کئی بار اس کے بارے میں سنا بھی۔ شروع میں اس کی داستان سن کر مجھے اس سے ہمدردی ہوئی مگر پھر اس کی وارداتوں کا سن کر ہمدردی دور ہو گئی۔ میں نے اسے بدمعاش سمجھنا شروع کر دیا۔ جب پولیس والی مندرجہ بالا واردات کا سنا تو بہت ہنسی آئی اور سوچا کہ اس سے ملا جائے۔
ایک روز میں کئی دوستوں کے ہمراہ ہوگینائکل آبشار پر مچھلی کے شکار پر آیا۔ ہم سب کو بہت مزہ آیا۔ ممپٹی واین نے ایک اور واردات کر دی۔
مدراس سے آئے انجینیر کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ آبشار کے اوپر دریا پر ڈیم بنانے کے امکانات کا جائزہ لے۔ سروے کا کام زور و شور سے جاری تھا۔ ایک میل اوپر جہاں تعمیر کے مجوزہ مقام پر کیمپ لگا کر ۱۰۰ مزدور بھرتی کیے گئے۔ ان کا کام سڑک بنانا، سوراخ کرنا اور سروے میں مدد کرنا تھا۔ انجینیر اور اس کے ساتھیوں کے لیے ایک عارضی رہائش گاہ بنائی گئی۔ ایک اور جھونپڑا بنا کر وہاں ایک کلرک تعینات کیا گیا جو ہر ہفتے مزدوروں کو مزدوری دیتا۔
دو روز قبل ممپٹی واین آیا اور اس نے اگلے ہفتے کی تنخواہ کے ۳۵۰ روپے لوٹ لیے۔ پچھلے ہفتے کا کام ہو چکا تھا اور اس ہفتے کی تنخواہ کو اس نے ہاتھ بھی نہ لگایا کہ وہ اسی روز دی جانی تھی۔
پھر اس نے فشریز انسپکٹر کے بنگلے پر دستک دی جو ایک میل دور وادی اتائی ملائی میں رہتا تھا۔ اس نے دستک دے کر کہا کہ وہ جنگل کا چوکیدار ہے اور چور شکاریوں کے بارے میں مطلع کرنے آیا ہے۔ انسپکٹر نے جب دروازہ کھولا تو سامنے ممپٹی واین کھڑا تھا۔ ایک لمحے میں اسے بات سمجھ میں آ گئی مگر دروازہ بند کرنے سے قبل ہی ممپٹی واین اندر گھس آیا۔ حسبِ معمول دو خنجر نکال کر اس نے دھمکایا۔ خوش قسمتی سے گھر پر محض ۵۱ روپے ہی تھے، ممپٹی واین انہیں لے کر چلا گیا۔
میں فشریز انسپکٹر سے ملا اور پھر انجینیر سے بھی، جس نے مجھے کلرک سے ملوایا۔
اس وقت مجھے ڈاکو کی سرگرمیوں سے زیادہ ڈیم کی فکر تھی۔ ڈیم کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ جنگل زیر آب آ جاتا۔ یہاں شہر آباد ہو جاتا۔ اوتائی ملائی کی پوری وادی بشمول میرے جھونپڑے کے، سب کے سب ہی پانی میں غرق ہو جاتے۔ یہ جھونپڑا میں نے ۲۰ سال قبل زمین کا ٹکڑا خرید کر بنایا تھا۔
میں نے اس بارے میں جب انجینیر سے تفصیلی بات کی تو اس نے کہا کہ وہ مجھے اپنی جیپ پر ساتھ لے جا کر تعمیر کا مقام دکھاتا ہے۔ میں فوراً تیار ہو گیا۔ ایک اور آدمی بھی ہمارے ساتھ ہو لیا۔ اس کے پاس سرکاری رائفل تھی۔ اس کا سر ننگا اور اس نے سفید دھوتی اور خاکی قمیض پہن رکھی تھی۔ اس نے جرابوں کے بغیر سرکاری بوٹ پہن رکھے تھے۔
جب ہم روانہ ہوئے تو میں نے انجینیر سے پوچھا کہ اس آدمی کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مسکرایا اور بولا کہ یہ پولیس کا سپاہی ہے اور جہاں بھی اسے جانا ہو، یہ آدمی ساتھ جاتا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ممپٹی واین اسے لوٹ نہ لے یا تاوان کے لیے اغوا نہ کر لے۔ انجینیر اس بات سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
جلد ہی ہم مطلوبہ مقام پر پہنچ گئے اور وہاں ہم دریا کے کنارے چلنا شروع ہو گئے۔ انجینیر کو اشارہ کر کے میں نے سپاہی سے گفتگو شروع کر دی اور ڈاکو کے بارے میں پوچھا۔ اس نے فوراً بتایا کہ وہ سرکاری ملازم ہے مگر سبھی حکومتی اہلکار احمق ہیں کہ انہوں نے اکیلے سپاہی کو اس بیکار ہتھیار کے ساتھ اتنے بڑے انجینیر کو ممپٹی واین جیسے ڈاکو کے ہاتھوں بچانے کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔
میں نے پوچھا کہ رائفل میں کیا خرابی ہے تو اس نے شانے سے رائفل اتار کر مجھے تھما دی۔
’یہ رائفل نہیں، بندوق ہے۔ اس کی شکل ایسی بنائی گئی ہے کہ رائفل لگتی ہے‘۔ اس نے بتایا۔
میں نے بھی اس ہتھیار کو دیکھا تو یہ اعشاریہ ۴۱۰ کی بندوق تھی جس کا کندہ ایسے بنایا گیا تھا کہ دور سے تھری ناٹ تھری رائفل لگتی تھی۔ پھر اس نے کارتوسوں کا تھیلا کھول کر مجھے دکھایا تو اس میں اعشاریہ ۴۱۰ کی بندوق کے کارتوس تھے۔
’اس چڑی مار بندوق سے اب میں کیسے انجینیر صاحب کو بچاؤں گا جبکہ ممپٹی واین پکا نشانچی ہے۔ میری بندوق کی گولی ۵۰ گز بھی نہیں جاتی۔ ممپٹی واین ۶۰ گز دور بیٹھ کر میرا مذاق اڑاتا رہے گا اور چاہے تو مجھے گولی مار کر انجینیر صاحب کو بھی چھلنی کر دے‘۔ یہ کہہ کر سپاہی نے تھوک پھینکی۔
میں نے سنجیدہ شکل بناتے ہوئے سپاہی سے پوچھا: ’اگر ممپٹی واین اس چٹان یا ان درختوں کے پیچھے سے نکل آئے تو تم کیا کرو گے‘۔
سپاہی نے یہ سنتے ہی جھرجھری لی اور خوفزدہ نظروں سے ۷۰ گز دور چٹان اور اس سے پرے درختوں کو دیکھتے ہوئے بولا: ’جناب، میں بیوی بچوں والا آدمی ہوں۔ ۶ بچے ہیں اور سب سے چھوٹا ابھی پالنے میں ہے۔ اگر ممپٹی واین سامنے آیا تو میں اس کھلونے کو پھینک کر فرار ہو جاؤں گا‘۔
ہم اس کی بات سن کر ہنسے تو سپاہی کو احساس ہوا کہ اس نے غلط بات کر دی ہے۔ پھر میں نے اسے کہا: ’تم ممپٹی واین تک یہ بات پہنچا دو کہ دورائی اینڈرسن اس سے ملنا چاہتا ہے‘۔
تین چار ماہ گزر گئے۔ پھر چند دن سکون سے گزارنے کی نیت سے میں دریائے چنار کے کنارے اپنی ۱۲ ایکڑ زمین کی طرف گیا۔ یہ جگہ ہوگنائکال سے ۱۲ میل دور ہے جہاں دریائے چنار اور دریائے کاویری ملتے ہیں۔ اس زمین پر میرا پرانا دوست اور ملازم رنگا رہتا اور کاشتکاری کرتا تھا۔ اس نے ایک سرے پر ایک جھونپڑا بھی بنایا ہوا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں دوسرے سرے پر خیمہ لگا کر رہوں گا مگر رنگا نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ رہوں۔
اس نے بتایا کہ یہاں ایک پاگل ہاتھی ہے جو خیمہ دیکھتے ہی وہ چڑھ دوڑے گا اور مجھے سوتے میں کچل دے گا۔
’پاگل ہاتھی؟ محکمہ جنگلات نے تو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا‘۔ میں نے کہا۔
موسمِ گرما کا وسط تھا اور سارا جنگل اور دریائے چنار، دونوں ہی پوری طرح خشک تھے۔ ایسی جگہ ہاتھی کا پایا جانا ممکن نہ تھا کہ کئی میل تک پانی نہیں تھا۔ اس موسم میں محض دریائے کاویری میں ہی پانی ہوتا ہے۔
’واقعی پاگل ہاتھی ہے؟‘ میں نے مشکوک ہو کر پوچھا۔
میری نظروں کی تاب نہ لا کر رنگا نے اپنی آنکھیں جھکا لیں اور سرگوشی میں بولا: ’ممپٹی واین آیا ہوا ہے۔ وہ میرا جاننے والا ہے اور کل رات چاندنی میں مجھ سے ملنے آیا تھا۔ جب وہ آپ کو میرے ساتھ دیکھے گا تو کچھ نہیں کہے گا۔ اگر آپ اکیلے خیمے میں ہوئے تو کیا پتہ وہ آپ کو قتل بھی کر دے‘۔
میں نے خوش ہو کر کہا: ’اسے کہو کہ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ کہنا کہ آج رات کو میرے خیمے میں آ کر مل لے‘۔
رنگا نے دہشت زدہ ہو کر کہا: ’میں کہوں؟ کیا میں اس کا دوست ہوں؟‘
میں نے جواب دیا: ’میں جانتا ہوں کہ تم اس کے دوست ہو۔ مگر میں کسی سے نہیں کہوں گا‘۔
سو میں نے ایک کونے پر خیمہ گاڑا۔ اس رات ۱۰ بجے میں رنگا کے ساتھ الاؤ کے سامنے بیٹھا اور طویل گپ شپ کے بعد سونے چلا گیا۔ رنگا اپنے جھونپڑے کو گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے لالٹین بجھا دی تھی ورنہ پتنگے اور مچھر تنگ کرتے۔ چاندنی رات تھی اور منظر بہت روشن تھا۔ چوتھائی میل دور مجھے درختوں کا ذخیرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس جگہ دریائے چنار بہتا ہے۔ میں ڈاکو کے بارے میں سوچتے سوچتے سو گیا۔
اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ کوئی آواز سنائی نہ دی تھی مگر مجھے معلوم ہو گیا کہ میں اکیلا نہیں۔ میرے خیمے کے سامنے کوئی کھڑا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں ایک بندوق تھی اور اس کا رخ میری جانب۔ خاکی قمیض، پہلوؤں سے بندھے دو خنجر، ایک شانے پر بارہ بور کے کارتوسوں کی پٹی اور دوسرے پر دوربین لٹک رہی تھی۔ اس کے سر پر پگڑی تھی اور اس کی مونچھیں بل کھاتی ہوئی کنپٹی تک جا رہی تھیں۔ اس نے بھورے جوتے پہن رکھے تھے۔
میں نے آنکھیں مسل کر دیکھا مگر وہ آدمی موجود تھا۔ گھڑی پر دو بج رہے تھے۔
میں اٹھا اور مسکراتے ہوئے بولا: ’خوش آمدید ممپٹی ویان۔ میں بہت دنوں سے تم سے ملنا چاہ رہا تھا‘۔
’بکواس بند کرو گورے۔ میں کام سے آیا ہوں۔ باہر نکلو اور میرے سامنے کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تم پر نگاہ رکھ سکوں۔ اگر تم نے شور کرنے یا بھاگنے کی کوشش کی تو گولی مار دوں گا۔ میں یہاں تمہاری رائفل، بندوق اور پیسے لینے آیا ہوں‘۔ اس نے کہا۔
مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ میں اس آدمی سے ملنے کو بے تاب تھا اور وہ مجھے لوٹنے پہنچ گیا۔ خیر، میں اسے روک بھی تو نہ سکتا تھا۔
میں نے بیٹھے بیٹھے کہا، ’ممپٹی ویان، میں تم سے دوست بن کر ملنے کو بے تاب تھا۔ میں نے تمہارے کارنامے سنے اور ان کا معترف ہوں، چاہے کچھ سے مجھے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ تم بہادر انسان ہو۔ اب مجھے شدید مایوسی اور افسوس ہو رہا ہے کہ تمہارا رویہ تمہیں بزدل، شیخی خورا اور جھوٹا ثابت کر رہا ہے‘۔
اس بات پر اسے شدید غصہ آیا اور بولا، ’مجھے غصہ نہ دلاؤ گورے، ورنہ۔۔ ۔‘
خوفزدہ ہوتے ہوئے بھی میں میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، ’دیکھو ممپٹی واین، تم جانتے ہو کہ کیا ہو گا۔ اگر تم نے ایک گورے کو گولی ماری یا اس کو لوٹا تو حکومت تمہارے پیچھے لگ جائے گی۔ تمہارے پیچھے پلٹن والے (فوجی) آئیں گے اور سارے جنگل چھان کر تمہیں چوہے کی طرح پکڑ کر گولی مار دیں گے۔ ویسے بھی میں تمہارا دوست بننا چاہتا تھا مگر تمہیں عقل ہی نہیں‘۔
ہم دونوں ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے تھے۔ مگر میں اندر سے کافی خوفزدہ تھا۔ یہ آدمی کئی قتل کر چکا تھا۔ کیا وہ مجھے بھی گولی مارے گا یا خنجر استعمال کرے گا؟ جثے سے کافی طاقتور لگ رہا تھا۔
وہ بھی جانتا تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں مگر مجھے یہ علم نہ تھا کہ وہ کتنا جھوٹ بول رہا ہے۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ میں اس کا جھوٹ پکڑ چکا ہوں۔ اگلے لمحے اس کی بندوق کی نال جھک گئی۔ اس نے بدلی ہوئی آواز میں کہا:
’دورائی، تم عجیب انسان ہو۔ تم نے رحم کی بھیک نہیں مانگی۔ سچ بتاؤ کہ تم یہاں مجھے پکڑنے یا نقصان پہچانے نہیں آئے؟ وعدہ کرو کہ تم کسی کو، حتیٰ کہ رنگا کو بھی نہیں بتاؤ گے کہ ہم آج ملے ہیں؟‘
میں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا، وعدہ، ممپٹی ویان۔ چلو ہاتھ ملاؤ‘۔ پھر میں نے اٹھ کر باہر نکلتے ہوئے کہا۔
ڈاکو نے اپنی بندوق زمین پر رکھ دی اور گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ پھر ہم وہیں زمین پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ مجھے معلوم تھا کہ اسے بہت عرصے سے کسی سے بات کرنے کی خواہش ہے۔ اس نے اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ اس نے اپنی زندگی کی ہر بات تفصیل سے سنائی۔ جب ہماری بات شروع ہوئی تو اس کا لہجہ فخریہ اور شیخی بھرا تھا۔ تاہم بتدریج مایوسی آتی گئی۔ اس کی گفتگو سے واضح ہوتا گیا کہ اسے گزرے دنوں پر افسوس ہے۔ وہ اب اس چکر سے نکلنا چاہتا ہے۔ مجھے اس پر بڑا ترس آیا اور اس کی مدد کرنے کو دل چاہا۔
آخر اس کی کہانی ختم ہوئی اور کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر چاندنی میں اس کی طرف دیکھ کر میں بولا:
’دو غلط باتیں مل کر صحیح بات نہیں بناتیں۔ اگر کسی نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم انہیں قتل کرو۔ خیر، جو ہوا، سو ہوا‘۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
میں نے بات جاری رکھی، ’میرا مشورہ تو یہ ہونا چاہیے کہ تم خود کو پولیس کے حوالے کر دو۔ مگر شاید تمہیں پھانسی ہو جائے۔ اگر میں تمہیں کہوں کہ اسی طرح مفرور زندگی گزارتے رہو تو یہ بھی غلط ہو گا۔ ہر آدمی تمہارے خلاف ہے‘۔
یہاں اس نے میری بات کاٹی، ’میرے دوستوں کا کیا ہو گا؟ میرے اتنے مخبر ہیں جو مجھے پولیس کی نقل و حرکت اور دیگر باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں؟ انہوں نے تمہارے بارے میں بھی بتایا تھا‘۔
پھر اس نے بتایا کہ انجینیر کے ساتھ موجود پولیس کے سپاہی نے اسے بتایا تھا کہ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس سپاہی کا باپ اس کا دوست تھا۔ ’وہ مجھے دیگر پولیس والوں کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ رنگا بھی میرا دوست ہے‘۔
میں نے ایک اور طرح سے بات کی، ’تمہیں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا؟ تمہیں کسی دوست کی تلاش نہیں؟ کوئی ایسا تو ہو کہ تم جس سے بات کر سکو، جس سے دل کا بوجھ ہلکا کر سکو؟ ایسے کتنے آدمی ہوں کہ جن سے تم اس طرح کھل کر بات کر سکو جیسا اب کر رہے ہو؟‘
اس نے جواب دیا کہ ہاں اسے تنہائی ستاتی ہے اور اسے دوست بھی درکار ہیں مگر کرے تو کیا کرے؟
مجھے اس کی حالت پر بہت ترس آیا کہ اس کے مسائل بہت گمبھیر ہیں۔ پھر مجھے ایک خیال آیا۔ میں نے اس سے کہا:
’تم ایسا کرو کہ رات کے اندھیرے میں دریائے کاویری پر جاؤ اور آبشار کے نیچے والے تالاب میں اپنی رائفل، بندوق، کارتوس، خنجر اور دوربین، سب پھینک دو۔ وہاں پانی ۲۰۰ فٹ گہرا ہے۔ سب چیزیں ڈوب جائیں گی اور پھر کبھی نہیں دکھائی دیں گی۔ اپنے کپڑوں سے بھی چھٹکارا پاؤ۔ سب کچھ وہیں پھینک دو۔ اپنی مونچھیں منڈوا دو۔ اور ہاں اپنے کپڑے پانی میں پھینکو گے تو وہ تیرنے لگیں گے۔ انہیں جلا دو۔ پھر بلیگنڈو سے ہوتے ہوئے دودا ہالا جاؤ۔ جہاں یہ ندی کاویری سے ملتی ہے، اس سے ۳ میل اوپر کی جانب ندی عبور کرو اور تگاٹی کے جنگل سے ہوتے اوریگام جاؤ۔ وہاں سے سیدھا چلتے ہوئے مدراس کو چھوڑ کر میسور ریاست میں گھس جاؤ۔ وہاں پولیس کو تمہارے بارے میں کوئی خبر نہیں ہو گی۔ جب تم شاہراہ پر پہنچ جاؤ تو دائیں مڑ کر کنکن ہلی کا راستہ پوچھ کر اس طرف چل پڑو۔ کنکن ہلی سے ۳۳ میل دور بنگلور ہے جہاں میں رہتا ہوں۔ بنگلور پہنچ کر مجھ سے ملو تو میں تمہاری مزید مدد کروں گا۔ پیدل یہ سفر طے کرنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ کوشش کرو کہ اس دوران تمہاری داڑھی مونچھ اور سر کے بال نہ بڑھنے پائیں ورنہ پہچان لیے جاؤ گے۔ راہ چلتے ہوئے کام بھی کرتے جاؤ تاکہ کچھ پیسے بھی ملتے رہیں۔ اگر تمہارے پاس زیادہ رقم ہوئی تو لوگوں کو شک پڑے گا۔ میں تمہیں بنگلور کا پتہ دیتا ہوں‘۔
اس نے مجھے یقین دلایا کہ اس کے پاس پیسے کافی ہیں مگر اس نے کہا کہ میں اسے اپنا پتہ کاغذ پر لکھ کر دوں۔
میں نے انکار کیا اور بولا، ’نہیں ممپٹی واین، تم پکڑے گئے اور میرا پتہ تمہاری جیب سے نکلا تو میں مشکل میں پڑ جاؤں گا۔ میں آسان کر کے بتاتا ہوں، یاد کر لو‘۔
ممپٹی نے سر ہلایا اور میں اسے پتہ بتانے لگا۔
’میرا نام اینڈرسن ہے، دورائی اینڈرسن۔ روز میرا نام کئی بار دہراتے رہو تاکہ یاد رہے‘۔ اس نے میرا نام کئی بار دہرایا۔ پھر میں بولا، ’میں تماشہ بنگلے (عجائب گھر) کے پاس رہتا ہوں جو گوری ملکہ (کوئین وکٹوریا) کے بت کے پاس ہے۔ یاد رکھو۔ جب تم بنگلور پہنچو گے تو وہاں تم گوری ملکہ کے بت اور تماشہ بنگلے کا پتہ پوچھو گے۔ بت اور بنگلے کے درمیان لال رنگ کا ایک بڑا گھر ہے۔ یہ میرا گھر ہے۔ اینڈرسن دورائی۔ اب یہ سب ہدایات ہر روز کئی بار دہراتے رہو‘۔
ہم زمین پر بیٹھے تھے۔ پھر اس نے جھک کر میرے پاؤں چھوئے تو وہ بلک بلک کر رو رہا تھا۔
’دورائی، تم میرے مائی باپ ہو۔ اس پوری دنیا میں تم ہی میرے واحد دوست ہو۔ کچھ دیر قبل میں تمہیں قتل کرنے آیا تھا۔ اب میں وہی کروں گا جو تم نے بتایا ہے‘۔
مجھے اپنے حلق میں کچھ پھنستا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے اس کا سر تھپک کر اسے اٹھایا۔ اس کی پگڑی کھل کر زمین پر گر گئی تھی۔
جب اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو میں نے اسے کہا، ’اب تم جاؤ۔ پانج بچ رہے ہیں۔ جنگلی مرغ بولنے لگے ہیں اور کچھ دیر میں پو پھٹنے والی ہے اور چاندنی کی جگہ سورج کی روشنی آ جائے گی۔ مگر ہمت رکھو اور میری ہدایات پر عمل کرو۔ بھگوان کرے کہ ہماری ملاقات جلد ہو‘۔
پھر اس نے جھک کر میرے قدم چومے اور پھر بندوق اٹھا کر میری نظروں سے دور ہو گیا۔ دو منٹ میں ہی رنگا آن پہنچا۔
’لگتا ہے کہ دورائی ساری رات نہیں سوئے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے ہیں۔ شاید ہاتھی نے تنگ کیا ہو گا یا پھر مچھر بہت تھے؟‘
بعض اوقات رنگا بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ سو میں نے سختی سے کہا، ’میں رات بھر آرام سے سویا، تم جانتے ہو کہ میں صبح کو جلدی اٹھتا ہوں‘۔
رنگا معنی خیز انداز سے کھانسا اور پھر عام لہجے میں بولا، ’شاید رات کے پچھلے پہر مجھے خواب دکھائی دیا کہ دو آدمی چاندنی میں زمین پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک تو جناب آپ خود تھے جبکہ دوسرے آدمی نے خاکی کپڑے پہنے تھے اور ہاتھ میں بندوق پکڑے تھا۔ آپ دونوں رات بھر باتیں کرتے رہے۔ کیوں جناب، بہت عجیب خواب ہے نا؟‘
میں سختی سے بولا، ’رنگا، یہ خواب چاہے جتنا عجیب ہی کیوں نہ ہو، خواب ہی تھا۔ یاد رکھو کہ دوبارہ اس خواب کی بات کسی سے نہ کرنا، مجھ سے بھی نہیں۔ ورنہ ہماری ۳۵ سال پرانی دوستی اسی وقت ختم ہو جائے گی‘۔
رنگا نے فوراً بدلے ہوئے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا، ’ارے نہیں جناب، رات تو میں بہت سکون سے سویا۔ پیٹ اتنا بھر گیا تھا کہ خواب نہیں آئے‘۔
میں نے مسکرا کر اس سے ہاتھ ملایا۔ اس نے بھی مسکرا کر میرا ہاتھ تھام لیا۔ ہماری دوستی قائم تھی۔
اس کے بعد مجھے اکثر ممپٹی واین کا خیال آتا رہا اور ۳ ماہ گزر گئے۔ ایک روز میں نے گھر میں دوپہر کا کھانا کھایا ہی تھا کہ کتے بھونکنے لگے۔ میرا السیشن اور دوسرا دیسی کتا عقبی دروازے کی سمت بھونکتے ہوئے لپکے۔ ان کے سامنے فقیر تھا۔
فقیر نے ہاتھ میں لاٹھی پکڑی ہوئی تھی اور داڑھی مونچھیں صفا چٹ۔ اس نے میلی لنگوٹی، ٹوٹے چپل اور گول چشمہ لگا رکھا تھا۔ اس کی گردن میں لکڑی کے منکوں کی مالا تھی۔ ماتھے پر ذات کو ظاہر کرنے والی لال اور سفید لکیریں تھیں۔
اس کی کالی بھور آنکھیں مجھے لاتعلقی سے دیکھ رہی تھیں۔ عجیب سے لہجے میں اس نے کہا، ’کیا گورے کے گھر سے کچھ خیرات مل سکتی ہے؟‘
مجھے اس پر بہت غصہ آیا اور جی چاہا کہ برا بھلا کہوں اور گریبان سے پکڑ کر باہر دھکیل دوں۔ جب میں قریب پہنچا تو اچانک اس کی دائیں آنکھ سے کنپٹی تک پھیلے مندمل زخم کے نشان پر نگاہ پڑی۔
یہ تو ممپٹی واین تھا۔ اسے بھی پتہ چل گیا کہ میں اسے پہچان چکا ہوں۔ اس کی ساری اکڑفوں غائب ہو گئی۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
میرا بیٹا ڈونلڈ کام پر تھا۔ بیوی باہر گئی ہوئی تھی۔ کام والا چھوکرا موجود تھا۔ میں نے ممپٹی واین سے رکنے کا کہا اور پھر چھوکرے کو آواز دے کر بلایا اور اسے ۲ میل دور ٹرین سٹیشن سے ٹرینوں کا نظام الاوقات لانے کے لیے بھیج دیا۔ اس کی واپسی ڈیڑھ گھنٹے سے قبل ممکن نہیں تھی۔
جب چھوکرا چلا گیا تو میں نے ممپٹی واین کو اندر بلایا اور اسے چائے اور بسکٹ اور پتہ نہیں کیا کیا پیش کیے اور پھر پوچھا کہ اتنے دن کہاں اور کیسے گزرے۔
اس نے بتایا، ’جناب، میں نے آپ کی ہدایات پر بعینہٖ عمل کیا تھا۔ اسلحہ اور کارتوس پھینکتے وقت میرا دل بہت دکھا مگر میں نے پھینک دیے۔ باقی کام آسان تھا۔ میں میسور ریاست کی حدود میں پہنچ کر کنکن ہلی پہنچ گیا۔ وہاں مزدور کے طور پر امیر تاجر کے ہاں کام مل گیا۔ دورائی، کاش کہ میں بتا سکتا کہ وہ اپنے ملازموں کے ساتھ کیسا ناروا سلوک رکھتا ہے۔ کاش کہ میں پرانا ممپٹی واین ہوتا تو اس کا ٹینٹوا دبا دیتا۔ اس کے رویے سے میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب کسی آدمی کے لیے کام نہیں کروں گا۔ میں دیکھ چکا تھا کہ سڑک پر بہت سارے فقیر رہ رہے تھے۔ اکثر نے سادھو کا روپ دھارا ہوا تھا۔ سب کے پیٹ بھرے تھے۔ ان کو کھانا مل ہی جاتا تھا۔ میں بھی سادھو بن گیا۔ میرا نام اوم کرشنا ہے۔ اچھی خاصی کمائی کر لیتا ہوں۔ ابھی میں جنوب کو جا رہا ہوں اور امید ہے کہ جلد ہی مدراس پہنچ جاؤں گا جہاں مستقل قیام پذیر ہو جاؤں گا‘۔
میں نے فوراً اس کی بات کاٹی اور کہا، ’مدراس مت جانا ممپٹی، میرا مطلب ہے اوم کرشنا۔ وہاں تمہیں آسانی سے پہچان لیا جائے گا۔ میں تمہیں شمال کو جانے کا مشورہ دوں گا کہ تم حیدر آباد ریاست کو چلے جاؤ۔ اپنے علاقے سے جتنا دور رہو گے، اتنا ہی بہتر ہو گا‘۔
اس نے ایک لمحے کو سوچا اور پھر بات مان لی، ’آپ صحیح کہتے ہیں دورائی‘۔
پھر وہ جانے کے لیے اٹھا۔ میں نے اسے پیسے دینے چاہے تو اس نے انکار کر دیا اور بولا، ’آپ نہیں بلکہ میں آپ کا مقروض ہوں۔ ہاں، یاد آیا۔ میں آپ کے لیے کچھ لایا ہوں۔ پرانے دنوں کی یہ واحد نشانی باقی ہے‘۔
پھر اس نے اپنی لنگوٹی سے سونے کی ایک انگوٹھی نکالی۔
میں نے سختی سے پوچھا، ’کہاں سے چرائی ہے؟‘
اس نے جواب دیا، ’میں نے چرائی نہیں۔ اوتائی ملائی پر ڈیم بنانے والے انجینیر صاحب نے دی تھی۔ وہ اس روز اپنے محافظ کے ساتھ گشت پر تھا۔ اس احمق محافظ کے پاس کھلونا بندوق تھی جس کی شکل رائفل سے مشابہ ہے۔ انہیں علم نہیں تھا کہ میں اس بندوق کی اصلیت جانتا ہوں۔ میں نے ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر پولیس والے کو دھمکایا کہ اگر اس نے کوئی حرکت کی تو میں اسے گولی مار دوں گا۔ یہ سنتے ہی پولیس والے نے اپنی بندوق پھینکی اور فرار ہو گیا‘۔
اوم کرشنا اس بات پر خوب ہنسا اور پھر بات جاری رکھی۔ ’میں نے پولیس والے کی بندوق اٹھا کر دریا میں پھینک دی اور پھر انجینیر کے پاس گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ بہت پرسکون اور سپاہی کے فرار پر ہنس رہا تھا۔ میں نے پاس جا کر سختی سے اسے پیسے دینے کو کہا۔ انجینیر نے مجھے عجیب بات کہی، "ممپٹی ویان، دھمکی مت دو۔ نرمی سے مانگنا سیکھو”۔ پھر اس نے جیب سے ۱۰ روپے نکال کر مجھے دیے اور اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر دی۔ میں نے اسے رقم اور انگوٹھی واپس کرنا چاہی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ بے شک وہ بہت اچھا اور بہادر انسان تھا۔ میں نے کچھ عرصہ تو انگوٹھی پہنے رکھی۔ پھر میں نے سوچا کہ اگر میں اسے بیچتا ہوں تو پکڑا جاؤں گا۔ مگر یہ ہماری ملاقات سے پہلے کی بات ہے دورائی۔ اس ملاقات کے بعد میں نے کوئی بھی غیر قانونی حرکت نہیں کی۔ اب یہ آپ کے لیے میری جانب سے تحفہ ہے‘۔
چمتکار ہو ہی گیا۔ ممپٹی واین جیسا قانون شکن سدھر گیا تھا۔
کچھ دیر بعد اوم کرشنا چلا گیا اور دوبارہ کبھی نہ دکھائی دیا۔ ایک سال گزر گیا۔ میں نے اس کے بارے میں کئی بار سوچا مگر اس کی کوئی اطلاع نہ ملی۔ کئی بار میں ہوگینائکال اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گیا مگر کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔ شاید وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا تھا۔ دو ماہ بعد اچانک خبر پھیل گئی۔ ممپٹی واین مارا گیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے اسے قتل کر کے حکومت کے مقرر کردہ انعام کو حاصل کر لیا تھا۔ ممپٹی واین پر ۲ سال قبل مدراس کی حکومت نے ۵۰۰ روپے اور ۵ ایکڑ زمین کا انعام رکھا تھا، چاہے زندہ پیش کیا جائے یا مردہ۔
اس بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں کہ ممپٹی واین کیسے مرا۔ ایک کے مطابق وہ اپنی بیوی سے ملنے آیا تھا جبکہ دوسری کے مطابق وہ اپنی ایک داشتہ کے پاس لوٹا جسے وہ بہت پسند کرتا تھا۔ خیر، بیوی ہو یا داشتہ، عورت ہی اس کی تباہی کا سبب بنی۔ اس عورت کا بھائی مقروض تھا۔ اس عورت نے ممپٹی واین کا پسندیدہ کھانا بنایا اور اس میں بہت طاقتور کیڑے مار دوا ملا دی۔ ممپٹی نے جونہی کھانا کھایا تو چند منٹ میں طبعیت بگڑ گئی۔ اسی وقت عورت کا بھائی پہنچا اور اسے گولی مار دی۔ ممپٹی واین پر انعام کی شرط یہ تھی کہ اسے زندہ گرفتار کیا جائے یا دفاع میں ہلاک کیا گیا ہو۔ زہر خورانی کے بارے میں قانون خاموش تھا۔
کہانی کا انجام یہ ہوا کہ اس آدمی کو انعام مل گیا۔ ممپٹی واین کی لاش کو دھرماپوری کے تھانے لا کر رکھ دیا گیا اور کچھ دیر بعد اس کی تدفین ہو گئی۔
٭
اگلی کہانی میں نہ تو جادو ٹونا ہے اور نہ ہی برے آدمی۔ یہ کہانی ایک عجیب نر ہاتھی سے متعلق ہے۔
پہلی بار اس ہاتھی سے شام ساڑھے چار بجے میرا سامنا ہوا جب میں گاڑی پر جنگل سے گزر رہا تھا۔ یہ مقام انائی کتی کے فارسٹ لاج سے ۲ میل جبکہ اس باب کے شروع والے مندر سے ۱۰ میل دور تھا۔ یہ ہاتھی جنگل میں ہمارے دائیں جانب ۵۰ گز دور اطمینان سے چر رہا تھا۔
کار میں سیاح اور شوقیہ فوٹوگرافر سوار تھے جو بیرون ملک سے یہاں فطرت کا مشاہدہ کرنے آئے تھے۔ ہاتھی نے ہمیں ایسے نظرانداز کیا جیسے دور دور تک کوئی ذی حس موجود نہ ہو۔
میں کار کی عقبی نشست پر تھا اور میرا دوست کار چلا رہا تھا۔ ایک سیاح نے اس سے پہلے ہاتھی محض چڑیا گھر میں دیکھا تھا، وہ میری سرگوشی کو نظر انداز کر کے نیچے اترا اور کار سے ہاتھی کی جانب نصف فاصلے تک چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر وہ رکا اور ہاتھی کی کئی تصاویر لیں۔ پھر اس نے ہاتھ ہلانا اور شور مچانا شروع کر دیا۔ ہاتھی نے توجہ نہ دی۔ اس پر اس آدمی نے پتھر اٹھا کر ہاتھی کو مارنے شروع کر دیے۔ ایک پتھر خطا گیا، دوسرا درخت کی ٹہنی سے ٹکرا کر نیچے ہاتھی پر گرا۔ تیسرا پتھر ہاتھی کے چہرے پر لگا۔
اس پر بھی ہاتھی نے کوئی ردِ عمل نہ دیا بلکہ رخ پھیر کر درخت کی دوسری جانب چلا گیا۔
ہاتھی کا یہ رویہ انتہائی عجیب تھا۔ اس سلوک کے بعد تو کوئی بھی ہاتھی کبھی بھی اتنا پرسکون نہیں رہ سکتا۔ عام ہاتھی تو کار کو دیکھتے یا اس کی آواز سنتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ اتنے پتھر کھا کر تو ہاتھی غصے سے پاگل ہو جاتا۔ مجھے یقین تھا کہ ہاتھی اس پر ہلہ بول دے گا۔ یہ آدمی انتہائی حماقت کی حد تک دلیر تھا۔ اس کی اس حرکت کے نتیجے میں اس کی یا ہماری سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ جنگلی ہاتھیوں کو چھیڑنا، ان کا شکار کرنا یا ان پر پتھراؤ کرنا، خلاف قانون ہیں۔
بڑی مشکل سے ہم اسے واپس کار میں لائے اور چل پڑے۔ ۶ بجے ہماری واپسی اسی راستے سے ہوئی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ آیا ہاتھی دکھائی دے گا یا نہیں۔ ابھی ہم اس مقام سے ایک فرلانگ دور تھے کہ ہمیں ہاتھی دکھائی دے گیا۔ اس بار وہ سڑک کی دوسری جانب اور نسبتاً قریب تر تھا۔ اس کا رخ ہماری ہی جانب تھا۔ ہم اسے دیکھنے کو رکے تو ہاتھی ہماری پروا کیے بغیر اپنی خوراک چباتا رہا۔
ہم نے بغور اس کا مشاہدہ کیا۔ ہاتھی کی صحت اچھی تھی۔ کوئی زخم یا کسی قسم کی بیماری کی علامات بھی دکھائی نہ دیں۔ یہ کافی بوڑھا نر تھا کہ اس کے کانوں کے اوپری سرے جھک گئے تھے اور ماتھے پر گڑھے تھے۔
ایک بار پھر وہی آدمی نیچے اترا اور پتھر پھینکنے لگا۔ ہاتھی ہم سے محض ۲۰ فٹ دور اور ہماری ہی جانب دیکھ رہا تھا۔ یہ خطرے کی بات تھی۔
ہاتھی رخ بدل کر پیٹ بھرتا رہا۔ اس کا رویہ بہت عجیب تھا۔ پالتو ہاتھی بھی اس طرح کا سلوک برداشت نہیں کر سکتے۔ اس آدمی نے چلا کر کہا کہ وہ اس ہاتھی کو ہاتھ لگانے جا رہا ہے۔ اس پر ہم سب گاڑی سے نکل کر اسے زبردستی واپس کھینچ لائے۔
اس نے کار میں بیٹھ کر کہا، ’لعنت ہو ہندوستانی ہاتھیوں پر، یہ تو خرگوش نکلے‘۔
رات کو کھانے کی میز پر مجھ سے ایسے سوالات کیے گئے جن کے جواب میرے پاس نہیں تھے۔ آخر ہاتھی اتنا بزدل کیوں تھا؟ سوچتے سوچتے مجھے نیند آ گئی۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد میں نے دو کرومبا شکاری پکڑے اور اپنی رائفل سمیت ان کے ساتھ ہاتھی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ہم نے کل والی جگہ پر کار ٹھہرائی اور جنگل میں گھس گئے۔ کرومبا کے لیے ہاتھی کا پیچھا کرنا بہت آسان تھا۔ نصف میل دور دریائے انائی کتی کی سمت ہمیں ہاتھی مل گیا۔ دریا یہاں سے ڈیڑھ میل مزید آگے تھا۔ وہ درخت کے نیچے سکون سے کھڑا تھا۔
کرومبا بہت محتاط تھے مگر میں کل کے تجربے کے پیشِ نظر کافی نڈر تھا۔ میں سیدھا ہاتھی کی جانب بڑھا جبکہ میرے ساتھی مناسب فاصلے پر ٹھہر گئے۔ میں بہت قریب پہنچ گیا مگر ہاتھی نے توجہ نہ دی۔
میں نے اس کے گرد چکر لگایا کہ شاید کہیں زخم یا بیماری کی کوئی علامت دکھائی دے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہاتھی اندھا ہو یا پھر بہرہ۔ یا اس کی قوتِ شامہ بیکار ہو۔ ظاہر ہے کہ اس کا رویہ غیر معمولی تھا۔
جب میں نے اس کے گرد دوسرا چکر لگایا تو محسوس کیا کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ آنکھیں بالکل عام تھیں اور سوجن یا سرخی کی کوئی علامت نہ دکھائی دی۔ ہاتھی مست بھی نہیں تھا اور نہ اندھا۔ اس نے سونڈ میری طرف بڑھا کر سونگھا۔
پھر اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ آہستگی سے اس نے سونڈ بڑھا کر ایک ٹہنی توڑی اور کھانے لگا۔ اگر وہ زخمی یا بیمار ہوتا تو اتنی آسانی سے ٹہنی توڑ کر نہ کھاتا۔ اس کے بڑھاپے کی علامت کے طور پر اس کے ماتھے اور کنپٹی پر گڑھے سے تھے اور کانوں کے اوپری سرے جھکے ہوئے۔ بیرونی دانتوں کی جڑیں بھی سیاہ پڑ چکی تھیں۔
دونوں کرومبا فاصلے پر کھڑے مجھے چکر لگاتے دیکھتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک بولا، ’دورائی، بزرگ (یہ لوگ ہاتھی کو ہمیشہ بزرگ یا دانش مند کہتے ہیں) کی عمر بہت ہو چکی ہے۔ اب وہ پانی کے قریب رہ کر سکون سے مرنا چاہتا ہے‘۔
ہم لوگ کیمپ کو لوٹے۔ اگلے روز میں ایک کام سے ۱۹ میل دور گڈالور گیا۔ وہاں مجھے گنے سے لدی کئی بیل گاڑیاں دکھائی دیں۔ میں نے ہاتھی کا سوچ کر ایک درجن گنے خرید لیے۔ ہر گنا ۶ فٹ لمبا تھا۔
اگلی صبح میں انائی کتی گیا اور میرے ساتھ ۳ کرومبا گنے اٹھائے ہوئے تھے۔ ہم نے ہاتھی کو مٹھی کے ایک بڑے درخت کے نیچے کھڑا دیکھ لیا۔
میں نے محتاط ہو کر پیش قدمی کی اور قریب جا پہنچا۔ ہاتھی نے مڑ کر ہمیں دیکھا۔ میں نے ایک ساتھی کے ہاتھ سے دو گنے لے کر اپنے بائیں ہاتھ سے ہاتھی کی جانب بڑھائے۔ رائفل میرے دائیں ہاتھ میں تھی۔
جب میں چند فٹ دور رہ گیا تو ہاتھی نے اپنی سونڈ دہری کر لی۔ اس کے کان ہلے۔ پھر اس نے کان اپنے سر سے جوڑ لیے۔ یہ بری علامت تھی۔
میں رکا مگر گنے اسی کی جانب بڑھائے ہوئے خاموش رہا کہ انسانی آواز سے جنگلی جانور گھبراتے ہیں۔ ہاتھی نے سونڈ لہرا کر میرے ہاتھ سے گنا چھین لیا۔ پھر اس نے گنا زمین پر کئی بار مارا۔ پھر رک کر اس نے سوچا کہ اسے منہ میں رکھنا ہے، پاؤں تلے کچلنا ہے، پھینکنا ہے یا اس منحنی سے انسان پر حملہ کرنا ہے۔
بہت احتیاط سے اس نے پھر گنا اپنے منہ میں رکھا اور چبانا شروع کیا۔ جونہی رس اس کے منہ میں گیا تو اس کا رویہ بدل گیا۔ شاید اس نے پہلے گنا کبھی نہیں چکھا تھا کہ اس علاقے میں دور دور تک گنے کی کاشت نہیں ہوتی یا شاید اس کی پیدائش کہیں دور ہوئی ہو جہاں گنا ہوتا تھا۔ خیر جو بھی ہو، گنا کھاتے ہوئے مجھے دیکھتا رہا۔
جب پہلا گنا ختم ہو گیا تو میں نے اسے دوسرا گنا دیا۔ اس بار اس نے فوراً گنا لے کر کھانا شروع کیا۔
کرومبا لوگوں کے پاس باقی گنے تھے جو کچھ دور کھڑے تھے۔ مجھے علم تھا کہ وہ مجھے پاگل سمجھ کر میرے قریب نہیں آئیں گے۔ میں اپنی رائفل نیچے رکھنا نہیں چاہتا تھا، سو میں نے مزید چکر لگا کر باقی ۴ گنے لا کر ہاتھی کو کھلائے۔ اس طرح اس ہاتھی کا اور میرا باہمی تعلق بن گیا۔
اگلے روز میں ۲۱ میل دور گنڈلوپیٹ گیا اور وہاں گنے ملتے ہیں۔ میں نے کافی گنے خریدے۔ واپسی پر میں اپنے دوست چندرن سے ملا جو مداملائی کا فارسٹ رینج افسر ہے۔ اس کے زیرِ انتظام علاقہ ہاتھی کے موجودہ مقام کے پاس ہی ہے۔ اسے میں نے پوری کہانی سنائی اور پوچھا کہ اس نے ایسا پہلے کبھی سنا ہے؟ اس نے حیران ہو کر کہا کہ اس نے پہلے کبھی کسی ہاتھی کا ایسا رویہ دیکھا نہ سنا۔ پھر چندرن نے مجھے دو سال پہلے کے ایک واقعے کے بارے میں یاد دلایا جس میں وہ اور میں اس کی سرکاری جیپ پر ایک جرمن دوست کے ساتھ محفوظ جنگل میں گئے تھے۔
اُس موقعے پر جیپ ایک تنگ سے راستے سے پہاڑی سے اتر رہی تھی اور موڑ مڑتے ہی اس کے سامنے ایک ہاتھی نظر نظر آیا جو بانس گرا کر ان سے پیٹ بھر رہا تھا۔ بانسوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ ہاتھی نے ہمیں دیکھا تو سیدھا ہماری جانب بڑھا۔ ہم سب نہتے تھے۔ خوش قسمتی سے ڈرائیور ماہر تھا اور اس نے اپنے اوسان بحال رکھے اور جیپ کو کھائی میں نہ گرنے دیا۔ دوسری جانب عمودی پہاڑی تھی۔ فرار کا راستہ نہ تھا۔
جب جیپ رکی تو ہاتھی سیدھا اس کے بونٹ کی طرف بڑھا اور ریڈی ایٹر کو سونگھ کر اس نے بونٹ پر سونڈ ماری۔ ڈرائیور نے جیپ کو ریورس کیا اور جلد ہی موڑ مڑ کر ہم ہاتھی کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ۱۰ منٹ بعد ہم آگے بڑھے تو ہاتھی جا چکا تھا مگر بانس راستے پر پڑے تھے۔ ہم نے نیچے اتر کر بانسوں کو کاٹا تو ہاتھی واپس لوٹ آیا۔
ہم سب فوراً جیپ میں بیٹھ کر ریورس ہوئے اور ایک فرلانگ دور جا کر راستہ اتنا چوڑا ہوا کہ ہم جیپ موڑ سکیں۔
چندرن نے ایک اور حالیہ واقعہ بھی بتایا۔ وہ اسی جیپ اور اسی ڈرائیور کے ساتھ سیاحوں کو سیر کرانے گیا تھا۔ ایک پونچی یعنی ہاتھی کا بچہ سامنے آیا اور جیپ کی آواز سے ڈر گیا۔ اس کی ماں ساتھ ہی تھی اور اس نے جیپ دیکھی تو اسے دشمن سمجھی۔ اس نے سیدھا جیپ پر حملہ کر کے اسے الٹایا اور پھر بچے کو ساتھ لے کر چلی گئی۔ خوش قسمتی سے ہتھنی کو بچے کی اتنی فکر تھی کہ اس نے جیپ پر سوار انسانوں کو کچھ نہ کہا۔ جیپ کو کافی نقصان پہنچا اور کئی سیاح زخمی بھی ہوئے۔
ان واقعات کی روشنی میں انائی کتی کا ہاتھی انوکھا تھا۔
اگلے روز پھر میں اسے گنے کھلانے جا پہنچا۔ اس بار اس نے فوراً ہی گنے قبول کر لیے مگر اتنا بھوکا نہیں تھا۔ اس نے محض دو گنے کھائے۔ باقی دو گنے اس نے سونڈ سے چھو کر رد کر دیے۔
اس سے اگلے روز ہم پھر اس جگہ پہنچے تو ہاتھی نے گنے چکھنے سے بھی انکار کر دیا۔ وہ محض کھڑا سونڈ سے گنوں کو چھوتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور اداس لگ رہا تھا۔ جب میں جانے لگا تو اس نے منہ موڑ لیا۔
اگلے روز میں کچھ مصروف تھا۔ چوتھے روز میں صبح ۹ بجے پہنچا تو میرے ساتھ گنے اور کرومبا بھی تھے۔ ہاتھی غائب تھا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ ہاتھی کہاں مل سکے گا۔ ہم اس بڑے تالاب کی جانب روانہ ہو گئے جہاں کرومبا کے مطابق ہاتھی مرنے آتے ہیں۔
وہاں ہمیں ہاتھی کی لاش ملی۔ اس خشک موسم میں تالاب میں محض ۴ فٹ گہرا پانی تھا۔ اس نے پہلو کے بل لیٹ کر اپنا سر اور سونڈ پانی میں ڈبو رکھی تھی، دوسرا پہلو پانی کے اوپر تھا۔
اس طرح ہمیں جواب مل گیا کہ ہاتھی جب بہت بوڑھے ہوتے ہیں تو کہاں جاتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں۔ وہ خود کو دریا یا پانی میں ڈبو دیتے ہیں۔ نہ صرف میں نے اس پہیلی کو بوجھ لیا بلکہ اس ہاتھی سے عجیب سا تعلق بھی بنا لیا جو نہایت مختصر ثابت ہوا۔
٭٭٭
۴۔ تلواڈی کا خاموش آدم خور
وقت کے ساتھ میرا واسطہ بہت سے عجیب کرداروں سے پڑتا رہا ہے جن میں جنگل کے باسی، بھارتی اور اینگلو انڈین اور یورپی بھی شامل ہیں۔ جنگل انسان کے کردار کو نکھارتا ہے۔ انسان جتنا وقت جنگل میں گزارتا ہے، اتنا ہی اس کا کردار پختہ ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک آدمی میرا دوست ہفی ہیل سٹون ہے جو مویار ویلی رینچ میں رہتا ہے۔ یہ جگہ تلائی ملائی کے قریب مدیانور نامی مقام پر شمالی کویمبتور کے جنگل میں واقع ہے اور مویار دریا بھی قریب سے گزرتا ہے۔ مویار دریا شمالی کوئمبتور کے جنگلات کو نیلگری کے فارسٹ ڈویژن سے الگ کرتا ہے۔
ہفی پورا نمونہ ہے۔ ہم ایک ہی سکول میں پڑھے مگر وہ مجھ سے پہلے سکول ختم کر گیا۔ پھر اس نے مختلف کام کیے۔ وہ ذہین تھا اور جس چیز کو ہاتھ لگایا، وہ سونا بنی۔ کچھ پیسوں سے اس نے جنگل کا ایک بڑا حصہ خرید لیا اور اس میں مویار ویلی رینچ بنائی۔
ہفی کے پاس بہترین ہتھیار تھے۔ تاہم اس کی پسندیدہ رائفل اعشاریہ ۰۲۳ ماؤزر تھی۔ ہفی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اس رائفل سے ۹ ہاتھی اور ۲۰ سے زائد شیر مار چکا تھا۔ اس کی نالی ہشت پہلو تھی۔ بعد میں ہفی کی ملاقات جب میرے بیٹے سے ہوئی تو اسے بہت پسند کرنے لگا اور ایک روز اسے یہ رائفل تحفتاً دے دی۔ ڈونلڈ کو یہ رائفل بہت پسند آئی۔ ذاتی طور پر مجھے اپنی اعشاریہ ۴۰۵ بور کی پرانی رائفل بہت پسند ہے اور اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ رائفل ۴۰ برس سے میری رفیق ہے۔
کہانی کی ابتدا کچھ ایسے ہوئی: ہفی کو کہیں سے ایسی گھاس کا علم ہوا کہ جو خشک ہونے کے بعد عام دیا سلائی سے زیادہ مضبوط ہونے کے باوجود آسانی سے ٹوٹتی نہیں تھی اور آسانی سے جلتی تھی۔ ہفی نے فوراً مویار ویلی رینچ میں بہت بڑے رقبے پر اس گھاس کی کاشت کا سوچا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ماچس فیکٹری لگائے گا اور اسے عام ماچس کی نسبت آدھی قیمت پر بیچے گا اور مال بھی عمدہ ہو گا۔
اس نے بڑی مقدار میں بیج خریدے اور مون سون کی پہلی بارش کے ساتھ ہی اس نے بیج بو دیے۔ جلد ہی گھاس اگ آئی۔ کل رقبہ کئی ایکڑ پر مشتمل تھا۔ زمین بہت زرخیز تھی اور جلد ہی گھاس ۵ فٹ لمبی ہو گئی۔ جب ہوا چلتی تو یہ گھاس لہراتی رہتی۔ قبل اس کے کہ ہفی اس گھاس سے ماچسیں بناتا، ہرنوں کے غول بالخصوص چیتل اور سور اسے کھانے آن پہنچے۔ ہرن تو محض کھاتے مگر سور کھانے کے ساتھ ساتھ زمین بھی کھودتے جس سے اور بھی نقصان ہوتا۔ جگہ جگہ خندقیں سی بن گئیں جن میں سور مستقل رہنے لگے اور نقصان بڑھتا چلا گیا۔ سوروں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ہفی کو فیصلہ کرنا پڑا کہ آیا وہ ماچس فیکٹری بنائے یا بیکن اور ہیم فیکٹری بنائے۔
ہرنوں اور سوروں کے پیچھے شیر اور تیندوے بھی آن پہنچے۔ شیروں کی تعداد زیادہ تھی کہ وہ سور اور ہرنوں کے علاوہ تیندوے بھی کھا جاتے تھے۔
ہفی نے مغربی گھاٹ میں منگلور سے ایک آدمی سویزا ملازم رکھا۔ سویزا بہت کام کا آدمی تھا۔ وہ ہفی کا ہر کام کرتا تھا اور مشکلات کو نہ صرف حل کرنے بلکہ ان کو پہلے سے جان لینے کا ماہر تھا۔
سویزا نے ایک بار مجھے ہفی کے بارے میں کچھ یوں بتایا: ’پتہ نہیں آقا کو پیسے خرچ کر کے پیسے کمانے میں کیا مزہ آتا ہے۔ ان کے پاس پہلے سے ہی کافی پیسے ہیں۔ پھر بھی وہ ماچس بنانا چاہتے ہیں، ببول کی چھال سے دانت مانجھنے کا پاؤڈر بنانا ہو، جنگلی بیجوں اور ہاتھی کے گوبر سے کھاد بنانا ہو، زیرِ زمین پانی کی تلاش اور زمین کھود کر اس سے لوہا رکھنے والے پتھر نکالنا چاہتے ہیں۔ فائدہ ایسے فضول کاموں پر پیسہ خرچ کرنے کا؟ آقا کو زندگی کے مزے لینے چاہیں۔ یہاں بہت ساری لڑکیاں ہیں، جوان لڑکیاں، یہاں مردوں کی تعداد کم ہے۔ میں نے ایک بار آقا سے یہ بات کہی تو وہ الٹا خفا ہو گئے اور کہتے تھے، "سویزا بدمعاش، تیری پہلے ایک بیوی اور تین محبوبائیں ہیں۔ اگر میں تجھے نہ بچاتا تو مزید عورتیں تیرا بیڑا غرق کر دیتیں۔ اب تو الٹا مجھے مصیبت میں ڈالنا چاہتا ہے”۔
سویزا اچھا آدمی تھا۔ کھانے کا بہت شوقین ہونے کی وجہ سے فربہی مائل تھا۔
ایسٹر کے موقعے پر سویزا نے سوچا مالک اور اپنے لیے سور یا ہرن بھوننے کا سوچا۔ اس نے ہفی کی چھوٹی رائفل اٹھائی اور اسے بتا کر گھاس میں گھس گیا۔ گرمی کی شدت سے گھاس کچھ کمھلا گئی تھی۔ جلد ہی اسے سور کی تھوتھنی دکھائی دی جو اسے ہی گھور رہا تھا۔ اس نے گولی چلائی۔ سور گرا مگر پھر اٹھا اور غائب ہو گیا۔ سویزا نے اس کا تعاقب شروع کیا۔
جہاں سور غائب ہوا تھا، وہاں سے کسی جانور کے گزرنے کی آواز سنائی دی، پھر دہاڑ اور پھر کسی جانور کے مرنے کی آواز آئی۔ سویزا فوراً لوٹا اور اپنے مالک کو خبردار کیا۔
ہفی اپنی بھاری رائفل لے کر اس کے ساتھ پہنچا۔ سب سے پہلے انہوں نے اس جگہ کو دیکھا جہاں سور کو گولی لگی تھی۔ وہاں سے نشانات کا تعاقب آسان کام تھا۔ ہفی آگے آگے اور سویزا پیچھے پیچھے۔ ہفی کو خطرے کا احساس ہو گیا کہ اس کے پیچھے سویزا بھری رائفل لیے آ رہا تھا۔ سو اس نے سویزا کو کہا کہ وہ جا کر کھلے میدان میں انتظار کرے۔
پھر ہفی نے اس جگہ کا رخ کیا جہاں سور زخمی ہوا تھا۔ شیر اسے اٹھا کر لے گیا تھا۔ کچلی ہوئی گھاس پر نشانات کا پیچھا کرتے ہفی چل پڑا۔ سو گز دور جا کر اسے شیر کی غراہٹ سنائی دی۔ یعنی شیر وہاں بیٹھا پیٹ بھر رہا تھا اور اسے ہفی کی آمد ناگوار گزری تھی۔ ہفی اتنے شیر مار چکا تھا کہ اسے کوئی فرق نہ پڑا اور اس نے خاموشی سے پیش قدمی جاری رکھی اور شیر کی غراہٹ بلند ہوتی گئی۔ ہفی جانتا تھا کہ حملہ کسی وقت بھی متوقع ہے۔
تھوڑی دیر بعد شیر نے حملہ کر دیا۔ خشک گھاس میں شیر زقندیں لگاتا ہوا آیا۔ ہفی نے انتظار کیا کہ شیر کا منہ دکھائی دے۔ جب شیر بہت قریب پہنچا تو ایک جست کے فاصلے سے ہفی نے اس پر گولی چلائی۔ اس طرح تلواڈی کا یہ آدم خور پیدا ہوا۔ ہفی کی گولی شیر کے منہ پر لگی اور شیر نے قلابازی کھائی۔ ہفی نے بولٹ چلا کر دوسری گولی بھرنے کی کوشش کی مگر گولی پھنس گئی۔
اب ہفی کے پاس ایک ہی راستہ تھا یعنی فرار۔
شیر اتنا زخمی تھا کہ وہ تعاقب نہ کر سکا۔ اس نے غصے اور تکلیف سے زمین کھودنا شروع کر دی اور مٹی کو چباتا رہا۔
ہفی بنگلے میں پہنچا تو اس نے فوراً دوسری رائفل اٹھائی۔ سویزا اس کے پیچھے پیچھے تھا اور پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا۔ جب ہفی واپس اس جگہ پہنچا تو اس نے بہت محتاط ہو کر شیر کے خون کے نشانات کا پیچھا شروع کیا۔ مگر شیر غائب ہو چکا تھا۔ خون کے ساتھ تھوک کے نشانات بھی تھے جو ظاہر کرتے تھے کہ گولی منہ پر یا گلے پر لگی تھی۔
بعض شکاری یہ سمجھتے ہیں کہ زخمی جانور کا پیچھا فوری طور پر نہیں کرنا چاہیے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر جانور زیادہ زخمی ہوا تو جریانِ خون سے مر جائے گا اور اگر وہ زیادہ زخمی نہ ہوا تو اس کا زخم اسے دور جانے سے روکے گا۔ دوسری جانب کچھ شکاری یہ سمجھتے ہیں کہ زخمی جانور کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہیے اور اس کا فوری پیچھا کرنا چاہیے۔ جتنا انتظار کیا جائے گا، تکلیف کی وجہ سے اتنا ہی اس کا غصہ بڑھتا جائے گا۔ زخمی ہونے کے فوراً بعد جانور محض فرار پر توجہ دیتا ہے۔ رحم دلانہ پہلو یہ ہے کہ اس طرح زخمی جانور کی تکلیف کو ختم کر دیا جاتا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ان میں سے کون سا طریقہ ٹھیک ہے اور کون سا غلط، البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ دونوں کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں۔ ہر جانور کی اپنی عادات اور خصائل ہوتے ہیں، ایک ہی اصول ہر زخمی جانور پر لاگو کرنا ممکن نہیں۔ ہفی فوری تعاقب کرنے کے حق میں تھا۔
خشک گھاس میں خون کے نشانات واضح تھے۔ یہ نشانات ہفی کی زمین سے ہو کر جنگل میں داخل ہوئے تو مشکلات شروع ہو گئیں۔ ہفی اور سویزا دونوں نے اپنی سی کوشش جاری رکھی کہ وہاں کھوجی نہیں تھے۔ انہوں نے نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے ایک خشک کھائی عبور کرنے سے قبل وہاں شیر کے رکنے کے نشانات دیکھے جس کے دوسری جانب میدان تھا۔ اگر ہفی نے فوری پیچھا کیا ہوتا تو شیر اتنی دور نہ جا سکتا۔ شاید اس نے ہفی اور سویزا کے قدموں کی آہٹ سن لی تھی اور جھاڑیوں میں چھپ گیا تھا۔ یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ یہ جانور بزدل ہے ورنہ چھپ کر حملہ کرنے کے لیے وہاں بہت مناسب مواقع تھے۔
خون کے نشانات کم ہو رہے تھے اور میدانی علاقہ عبور کرتے ہی یہ نشانات پہاڑی سے نیچے اترنے لگے اور زمین پتھریلی ہونے لگی۔ یہاں پہنچ کر پیش قدمی سست ہو گئی کہ خون کے نشانات بہت کم ہو گئے۔ جلد ہی نشانات رک گئے تو پیش قدمی بھی رک گئی۔ سخت زمین پر پگ بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
مدیانور کے جنگلات میں مقامی قبائل نہیں پائے جاتے۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں مسلمان بادشاہ ٹیپو سلطان نے اس علاقے پر جب حملہ کیا تو مقامی قبائل کو ختم کر دیا تھا۔ ہفی کے پاس اب اس شیر کا پیچھا کرنے کا کوئی امکان نہ بچا تھا کہ اس کے پاس کھوجی نہ تھا۔
مدیانور کے جنوب میں ہفی کے رینچ سے ۲ میل دور تلائی ملائی کا گاؤں آباد ہے۔ یہ چھوٹی سی آبادی ہے اور زمین زرخیز۔ لگ بھگ ۲ ماہ بعد یہاں کے ایک آدمی نے اپنے ہمسائے سے زمین کا ٹکڑا خریدنے کا ارادہ کیا اور طے ہوا کہ ۷ میل دور تلواڈی کے قصبے جا کر سب رجسٹرار کے سامنے قیمت کی ادائیگی اور ملکیت کی منتقلی کا کام ہو گا۔ خریدار اور بیچنے والا دونوں پیدل روانہ ہو گئے اور خریدار کے پاس زمین کی قیمت اور سرکاری فیس وغیرہ کے لیے ۴۰۰ روپے تھے۔
دو تہائی فاصلہ طے کرنے کے بعد دونوں نے ندی کے کنارے گھنے درخت تلے رک کر کھانا کھانے اور پانی پینے کا سوچا۔ کھانا کھانے کے بعد خریدار پانی پینے کے لیے ندی میں اترا جبکہ اس کا ساتھی اسے غنودگی کی حالت میں دیکھ رہا تھا۔
اچانک ندی کے دوسرے کنارے سے کوئی چیز اس کے ساتھی پر جھپٹ کر پھر واپس اسی کنارے پر لوٹ گئی۔ خریدار غائب ہو گیا۔ شاید وہ چیز خریدار کو اٹھا لے گئی۔
فروخت کنندہ اب پوری طرح خبردار ہو گیا اور فوراً ۳ میل دور تلواڈی کی جانب بھاگا۔ وہاں سب رجسٹرار اور دیگر عملے کے سامنے پہنچ کر اس نے پھولی سانس کے ساتھ ساری روداد سنائی۔ یہ سب غیر متوقع تھا، اس لیے سب رجسٹرار نے پولیس بلوا بھیجی۔ اس آدمی نے پولیس کو بھی ساری کہانی پھر سنائی۔
کانسٹیبل کے خیال میں ایک آدمی زمین بیچنے کے لیے تیار تھا اور دوسرا خریدنے کو۔ خریدار کے پاس ۴۰۰ روپے بھی تھے۔ اب فروخت کنندہ کہتا ہے کہ جنگل سے کوئی چیز آئی اور خریدار کو بمع ۴۰۰ روپے اٹھا لے گئی۔ فروخت کنندہ غنودگی کی حالت میں تھا، سو اسے یہ بھی علم نہیں ہو سکا کہ خریدار کو کس چیز نے اٹھایا ہو گا۔ بیچی جانے والی زمین ابھی بھی اس کے پاس تھی۔
کانسٹیبل نے فوراً اس آدمی کو گرفتار کر کے حوالات میں قید کر دیا۔ پھر اس نے طویل رپورٹ لکھی جس میں اس نے اس آدمی کو ملزم قرار دیا۔ ملزم ستیامنگلم کے سب انسپکٹر کے پاس بھیجا جانا تھا، سو کانسٹیبل نے اپنی ترقی کی درخواست بھی ساتھ لف کر دی۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ وہ سب انسپکٹر کی عمر، صحت اور خوشحالی کے لیے دعاگو ہے۔
اس چوکی کا چوتھا سپاہی چھٹی پر تھا اور ایک ہفتے بعد لوٹا۔ پھر جا کر ہیڈ کانسٹیبل نے فیصلہ کیا کہ دو سپاہی متذکرہ بالا ملزم کو لے کر ستیامنگلم جائیں گے جبکہ وہ باقی دو سپاہیوں کے ساتھ پولیس چوکی سنبھالے گا۔ ستیامنگلم ۴۰ میل دور تھا۔ دونوں سپاہی اور ملزم ۴۰ میل کا سفر پیدل چل کر ۳ دن میں طے کرتے۔
تلواڈی سے ستیامنگلم جانے والا راستہ ہفی کے رینچ کے قریب سے گزرتا ہے اور ہفی وہیں کھڑا تھا کہ دونوں سپاہی اور ملزم گزرے۔ ہفی نے پوچھا کہ اس آدمی کو کس قصور پر گرفتار کیا گیا ہے؟ پولیس والے دم لینے کو رک گئے اور ایک سپاہی نے بتایا کہ وہ قاتل کو جیل لے جا رہے ہیں۔ ملزم بیچارہ رونے لگا اور اپنی بے گناہی کے لیے دہائیاں دینے اور ساری بات بتانے لگا۔
ہفی کے کان کھڑے ہوئے۔
اس نے ملزم سے کہا، ’شور بند کرو، اگر میری مدد چاہیے تو ایک سوال کا جواب دو۔ تمہارے ساتھی کو لے جانے والی کیا چیز تھی؟ یا کیسی دکھائی دیتی تھی؟‘
اس آدمی نے جواب دیا، ’دورائی، میرا دوست پانی پینے کے لیے جھکا تھا۔ عین اسی وقت میری آنکھ لگ گئی۔ مجھے کچھ سنائی تو نہیں دیا مگر ایسا لگا کہ کوئی لمبا سا جسم ندی کے دوسرے کنارے جنگل سے نکل کر اس پر جھپٹا اور پھر اسے اٹھا کر واپس لے گیا۔ پھر میں اتنا ہوشیار ہوا کہ مجھے اس آدمی کی عدم موجودگی کا علم ہوا۔ میں وہاں سے سیدھا تلواڈی کی جانب بھاگا۔ اب یہ پولیس والے کہتے ہیں کہ میں نے رقم بھی ہتھیا لی اور آدمی بھی مار دیا‘۔
وہ پھر سے رونے لگا۔
ہفی کو یاد تھا کہ دو ماہ قبل اس نے ایک شیر کو زخمی کیا تھا اور تب سے مستقل سوچ رہا تھا کہ آیا شیر بچ گیا ہو گا یا مر گیا ہو گا۔ اگر شیر بچ گیا تو ہفی کو جلد یا بدیر اس کی اطلاع ملنی تھی۔ کیا یہی وہ اطلاع ہو سکتی ہے؟
اس نے پوچھا، ’کیا وہ شیر لگ رہا تھا؟‘
پولیس والے طنز سے مسکرانے لگے مگر اس آدمی نے جواب دیا، ’دورائی، آپ کی بات سے مجھے احساس ہو رہا ہے کہ وہ شیر ہو سکتا ہے۔ میں غنودگی کی حالت میں تھا اور یہ سب بہت تیزی سے ہوا۔ مگر یہ تو مجھے یقین ہے کہ میرے دوست کو اٹھا کر لے جانے والی مخلوق کوئی انسان نہیں بلکہ بڑی اور لمبوتری چیز تھی‘۔
ہفی نے سپاہیوں سے کہا، ’اسے ستیامنگلم نہ لے جاؤ۔ مجھے علم ہے کہ قاتل یہ نہیں بلکہ کوئی اور ہے‘۔
سپاہی قانون کے محافظ تھے اور انہوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا۔ سپاہی ملزم کے ساتھ ستیامنگلم روانہ ہو گئے جبکہ ہفی اپنی کار میں تلواڈی چل دیا۔ وہاں ہیڈ کانسٹیبل سے پتہ چلا کہ اس واردات کے مقام کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ پولیس نے ذرا بھی تفتیش یا جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس آدمی کی بات سنتے ہی اسے قید کر کے سب کچھ خود ہی فرض کر لیا۔
ہفی نے سوچا کہ وہ ہیڈ کانسٹیبل کو بتائے کہ اس نے دو ماہ قبل شیر کو زخمی کیا تھا مگر سوچا کہ اس خر دماغ آدمی کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ وہ تو اسے بھی گرفتار کر لے گا۔ ہفی وہاں سے نکلا اور سیدھا ستیامنگلم کو چل دیا۔ ۱۰ میل دور اسے دونوں سپاہی اور قیدی بھی مل گئے جنہیں اس نے کار میں بٹھا لیا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ لوگ سب انسپکٹر کے پاس پہنچے۔
سب انسپکٹر نے پہلے ہیڈ کانسٹیبل کی رپورٹ پڑھی اور پھر ہفی کی بات سنی۔ ہفی کی بات سننے کے بعد سب انسپکٹر غصے سے بولا کہ پھر بھی اس احمق ہیڈ کانسٹیبل کو ترقی چاہیے حالانکہ اس نے جائے وقوعہ کا معائنہ تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔ لگتا ہے کہ ترقی کی بجائے اس کی تنزلی کرنی پڑے گی۔ پھر اس نے ہفی سے کہا کہ وہ اسے اپنے ساتھ تلواڈی لے چلے۔
پانچوں افراد روانہ ہو گئے اور ہیڈ کانسٹیبل کو کچھ دیر بعد خوب ڈانٹ پڑی۔ سب انسپکٹر نے ہیڈ کانسٹیبل ساتھ لیا اور جائے وقوعہ کی طرف چل پڑا۔
اگرچہ واردات کو ہفتہ گزر چکا تھا مگر جائے وقوعہ پر اس جگہ شیر کے پگ واضح تھے جہاں اس نے متوفی کو دبوچا تھا۔ دوسرے کنارے پر بھی شیر کے مدھم پگ دکھائی دیے جہاں سے اس نے حملہ کیا تھا۔
ہفی کی رائفل ہمراہ نہ تھی۔ سب انسپکٹر نے پریشان ہو کر پوچھا کہ آیا شیر یہیں کہیں موجود ہو گا؟ ہفی نے تسلی دی اور پھر سب نے مل کر تلاش شروع کر دی۔ ملزم کی ہتھکڑی کھل چکی تھی اور شومیِ قسمت، اسی نے سب سے پہلے متوفی کی باقیات دریافت کیں۔ چند ہڈیاں، کپڑے کی کچھ دھجیاں اور دس دس روپے کے نوٹ بکھرے پڑے تھے۔ زیادہ تر ہڈیاں تو مردار خور جانور اور گدھ کھا چکے تھے مگر چند بڑی ہڈیاں باقی تھیں۔
ایک ماہ بعد آدم خور نے دوسری واردات کی۔ اس بار آدم خور کا نشانہ نگلور گاؤں بنا جو ہفی کے رینچ اور ضلع نیلگری کی حد کا کام دینے والے مویار دریا کے وسط میں واقع ہے۔ تیسرا شکار تلائی ملائی سے دو میل پیچھے سڑک پر اپنے دو بیٹوں کے پیچھے پیچھے چلنے والا آدمی بنا۔ یہ واردات دن دیہاڑے عین دوپہر کے وقت ہوئی۔
یہ تین افراد تلائی ملائی سے نگلور جانے کو نکلے تھے۔ اس سڑک پر کچھ فاصلے کے بعد ٹیپو سلطان کی ایک یادگار بنی ہوئی ہے۔ اس سے کچھ مزید آگے سڑک کے کنارے جنگلی آم کا بہت بڑا درخت ہے۔ بندروں نے اپنا پیٹ بھرنے کے دوران بہت سے آم نیچے بھی گرا دیے تھے۔ جب یہ لوگ پہنچے تو کچھ دیر رک کر آم کھانے لگے۔ پھر جب روانہ ہونے لگے تو ان کا باپ پیچھے تھا اور آگے دونوں بیٹے کام کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
ان کے باپ نے پیچھے سے یاد کرایا کہ انہیں دیر ہو رہی ہے، سو انہیں تیز چلنا چاہیے۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ بیٹوں کو پیچھے باپ کے دم گھٹنے کی آواز آئی۔ جب وہ مڑے تو پیچھے شیر باپ کو گلے سے دبوچ کر جھاڑیوں میں غائب ہو رہا تھا۔ اس مقام پر سڑک کے دونوں طرف قریب جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔
درندہ کہاں سے آیا تھا، اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ اس نے کوئی آواز نہیں نکالی اور خاموشی سے شکار کو دبوچ کر فرار ہو گیا۔ عموماً آدم خور دہاڑ کر یا غرا کر اپنے شکار کا حوصلہ ختم کر دیتا ہے۔ اس بار اس کے شکار کے دم گھٹنے کی آواز ہی آئی۔ جونہی شیر نظروں سے اوجھل ہوا، دونوں بیٹوں نے سر پر پیر رکھ کر تلائی ملائی کا رخ کیا۔
گاؤں والوں نے اس بارے میں سنا تو پریشان ہو گئے اور آدم خور کو جیسے علم ہو گیا ہو کہ اب لوگ اس سے ڈر گئے ہیں تو اس نے مزید شکار پر کمر باندھ لی اور زیادہ بڑے علاقے پر حملے کرنے لگا۔ اس کی حد شمال میں ستیامنگلم کو ریاستِ میسور کے قصبے چمراج نگر سے ملانے والی سڑک سے شروع ہوتی تھی۔ وہ مشرق میں ڈیم بیم تک جاتا تھا جو ستیامنگلم کے میدان کے اوپر واقع تھا۔ وہ دریائے مویار عبور کر کے ضلع نیلگری میں بھی چلا جاتا تھا جو جنوب میں واقع ہے۔ وہ میسور ریاست میں بنڈی پور کا بھی چکر لگاتا تھا۔
بدقسمتی سے عین اسی وقت ہفی شدید بیمار ہو گیا۔ بیماری شدید اور اچانک ہوئی تھی، اس کو مزید افسوس ہوا کہ یہ سارا سلسلہ اسی کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ اس نے مجھے خط لکھ بھیجا کہ میں اس کی مدد کروں۔ میں سٹڈ بیکر پر سوار ہو کر اس کے مویار ویلی رینچ جا پہنچا۔
سویزا مجھے دروازے پر ہی ملا جبکہ ہفی برآمدے میں کینوس کی کرسی پر سو رہا تھا۔ اسے میری کار کی آواز بھی نہ سنائی دی۔ اس کی حالت بہت بدل چکی تھی اور جیسے آدھا رہ گیا ہو۔ اس نے مجھے اس طرح تکلیف دینے پر معذرت چاہی۔ میں اس کے ساتھ بیٹھ کر چائے اور لذیذ آموں سے لطف اندوز ہونے لگا تو اس نے مجھے ساری کہانی تفصیل سے بتائی جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ بار بار وہ خود کو برا بھلا کہتا جاتا کہ اس کی وجہ سے یہ سب مسئلہ پیدا ہوا ہے۔
میں نے اسے تسلی دی، ’ہفی، فکر نہ کرو۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اب تم ہمت کرو اور میرے ساتھ مل کر اس آدم خور کا شکار کرو‘۔
اس نے مجھے بڑی تکلیف سے دیکھا اور بولا، ’کینیتھ، میرا شکار کا دور ختم ہو چکا۔ اب میں اگلے جہاں پہنچ کر ہی شکار کروں گا، اگر کوئی ایسی جگہ واقعی ہوئی‘۔
سچ مچ اس نے پھر کبھی شکار نہ کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد وہ ہوائی جہاز سے انگلینڈ چلا گیا۔ اس نے وہاں دیہات میں گھر خریدا تھا۔ بدقسمتی سے وہ زیادہ عرصہ وہاں نہ رہ سکا کہ کچھ دن بعد سیڑھیوں سے نیچے گرا اور شدید زخمی ہوا۔ کچھ دن بعد دل کے دورے سے اس کا انتقال ہو گیا۔
اصولی طور پر اب تلائی ملائی اور نگلور جانے کا کوئی فائدہ نہ تھا کہ آدم خور کے بارے میں ہفی کو پوری معلومات تھیں۔ ہفی نے مجھے یہ سب باتیں پوری تفصیل سے بتائیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہ تھا کہ آدم خوری کی ابتدا ہفی کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد ہوئی تھی۔ جن چند افراد نے آدم خور کو دیکھا تھا، وہ سبھی یہی کہتے تھے کہ جب انہوں نے دیکھا تو آدم خور کا منہ عجیب سا دکھائی دیا تھا جیسے زخمی اور بگڑا ہوا ہو۔ دوسرا جب بھی یہ آدم خور حملہ کرتا تو کوئی آواز نہ پیدا کرتا تھا۔ اب یہ اس کی عادت تھی یا کہ اس کے گلے میں مسئلہ تھا کہ آواز نہ نکال سکتا تھا۔ ویسے بھی اس شیر کی دہاڑ کسی نے نہیں سنی تھی۔
شیر تو اس علاقے میں عام ملتے تھے اور ان کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ مگر انسانی شکار کے آس پاس سے کبھی شیر کی دہاڑ نہ سنائی دی تھی اور نہ ہی انسانی شکار سے چند روز پہلے یا بعد میں۔ اسی وجہ سے لوگ کہتے تھے کہ شیر گوں گا ہے۔
آدم خور مارنے کا عام طریقہ یہ ہے کہ تین یا چار بچھڑے یا کم عمر بیل خرید کر مناسب جگہوں پر باندھ دیے جاتے ہیں تاکہ آدم خور انہیں شکار کر سکے۔ جب جانور کو ہلاک کرنے کے بعد شیر اسے جزوی طور پر کھا کر جاتا ہے تو اگلے روز اس کی واپسی سے قبل قریب ہی کسی درخت پر مچان باندھ کر شکاری بیٹھ جاتا ہے۔
اب آپ شاید حیران ہوں کہ جب آدم خور انسانوں کو ہی کھاتا ہے تو پھر گارے کے لیے جانور کیوں باندھے جاتے ہیں؟ کیا آدم خور انہیں مارتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ آدم خور محض انسانی گوشت پر ہی زندہ نہیں رہتا۔ وہ اس لیے انسان شکار کرتا ہے کہ اس کا شکار آسان ہوتا ہے یا پھر اسے انسانی گوشت کا ذائقہ پسند آ جاتا ہے۔ اب انسان کو تو آپ گارے کے طور پر نہیں باندھ سکتے۔
ہفی اور سویزا کی مدد سے میں نے تلائی ملائی سے ۴ کم عمر بیل خریدے۔ جن لڑکوں کا باپ آدم خور کا شکار ہوا تھا، وہ میرا مددگار بننے کو تیار ہو گئے۔ میں نے دو اور افراد ملازم رکھے تاکہ مچان باندھنے اور گارے کے جانوروں کا خیال رکھنے میں آسانی ہو۔ پھر ہم ساتوں افراد (ہفی، سویزا، میں اور میرے چاروں ملازم) نے مل کر سوچا کہ گارے کہاں باندھے جائیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جہاں آدم خور نے شکار کیا ہو، ان مقامات کے آس پاس گارے باندھے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ مجھے معلوم نہیں۔ یہ فرض کرنا غلط ہے کہ آدم خور کو احساس ہو گا کہ وہ قاتل ہے اور چھپتا پھرتا ہو گا۔ آدم خور کے لیے گوشت ہی اس کی خوراک ہے، چاہے وہ انسانی ہو یا حیوانی۔
میں خود بھی سابقہ وارداتوں والی جگہوں پر گارا باندھتا تھا۔ اب سوچتا ہوں تو ہنسی آتی ہے کہ آدم خور کو بخوبی احساس ہوتا ہو گا کہ اس کی واردات کے بعد بہت سے انسان جائے وقوعہ کا چکر لگاتے ہیں، سو وہ اس مقام سے جان بوجھ کر دور رہتا ہو گا۔
آدم خور کی وارداتوں کا نقشہ بمع تواریخ بنانا چاہیے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آدم خور کا اگلا متوقع شکار کب اور کہاں ہو سکتا ہے۔ جب آدم خور کافی عرصے سے سرگرم ہو تو اس طرح کے نقشے کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آدم خور ایک مخصوص راستے اور مخصوص دورانیے کے ساتھ شکار کرتا ہے۔ اس طرح وہ مخصوص مقام پر مخصوص وقت کے بعد واپس لوٹتا ہے جو عین جائے وقوعہ تو نہیں مگر اس کے آس پاس کا مقام ہوتا ہے۔ آدم خور کے دائرہ عمل کے رقبے کی مناسبت سے یہ ہر چند ہفتے یا چند ماہ بعد ہو سکتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ آدم خور کے شکار کردہ جگہ کے قریب ہی گارا کیوں باندھنا چاہیے۔ شکاری کا خیال ہوتا ہے کہ شاید آدم خور اس جگہ لوٹے گا کہ وہ پہلے بھی یہاں سے گزرا تھا۔ ایسا کئی ہفتے یا کئی ماہ بعد بھی ہو سکتا ہے کہ ہر آدم خور مخصوص راستے پر نہیں چلتا۔ یہ طریقہ محض پرانے آدم خور کے لیے کارگر ہے۔ ابھی میں جس آدم خور کے لیے آیا تھا، اسے آدم خوری شروع کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا سو اس کی وارداتوں میں کوئی ترتیب نہیں تھی۔
مسئلہ یہ تھا کہ گارے کہاں باندھے جائیں کہ ہر آدمی کا اپنا نظریہ تھا۔ آدم خور کے شکار متوفی کے بیٹوں کا خیال تھا کہ جہاں ان کے والد کو آدم خور نے ہلاک کیا تھا، وہاں گارا باندھنا چاہیے۔ باقی دو افراد کا خیال تھا کہ تلواڈی سے تلائی ملائی جانے والے راستے پر باندھنا بہتر رہے گا کہ وہاں ہر روز شیر کے پگ دکھائی دیتے ہیں۔ ہفی نے تلائی ملائی سے دو یا تین میل جنوب میں چاروں کو قطار میں ایک ایک میل کے فاصلے پر باندھنے کا کہا۔ سویزا نے کہا کہ انہیں ہفی کی گھاس میں باندھنا چاہیے کہ پہلے بھی شیر وہیں ملا تھا اور پھر وہاں چیتل اور سور وغیرہ عام ملتے ہیں، سو آدم خور ضرور آتا ہو گا۔
آخر ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک بچھڑا سڑک پر باندھا جائے، دوسرا تلواڈی سے تلائی ملائی کے راستے پر، تیسرا اور چوتھا گارا ہم نے تلائی ملائی کے پہاڑی کنارے پر اس جگہ بندھوائے جہاں سے دریائے مویار دکھائی دیتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ آخری دونوں گاروں کے مارے جانے کا زیادہ امکان ہے کہ اس مقام سے نیلگری اور تلائی ملائی کے محفوظ جنگل کو آنے جانے والے شیر گزرتے ہیں۔ اس علاقے میں کئی شیر تھے، سو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ گارا عام شیر مارے گا یا آدم خور۔ ہم گارے کو مارنے والے شیر کو شکار کرتے اور امید یہی تھی کہ وہ آدم خور شیر ہو گا۔
میں نے اپنے چاروں ملازمین سے کہا کہ وہ صبح کو ۸ دیگر افراد کے ساتھ جا کر پہلے مچانیں بنائیں اور پھر گارے باندھیں۔
مچان پہلے بنانے کی ضرورت یوں پڑتی ہے کہ بعد میں گارے کو باندھتے وقت گولی چلانے کے لیے مناسب موقع سامنے رکھا جاتا ہے۔ گارا مارا جائے تو شکاری آ کر مچان پر بیٹھ جاتا ہے۔ اگر گارا ہونے کے بعد مچان باندھی جائے تو بہت شور ہوتا ہے اور اگر شیر قریب ہی کہیں سویا ہو تو خبردار ہو جاتا ہے۔
مچان کے لیے میں عام چارپائی کو ترجیح دیتا ہوں۔ میں نے اس کے پائے کاٹ دیے ہیں۔ یہ ۶ فٹ لمبی اور ۳ فٹ چوڑی ہے۔ بھارت میں زیادہ تر دیہاتی زمین پر سوتے ہیں مگر جہاں سانپ بچھو کا ڈر ہو، وہاں چارپائی کو ترجیح دی جاتی ہے اور ۵ روپے میں مل جاتی ہے۔ جہاں بان کی جگہ سوت استعمال ہوا ہو تو اس کی قیمت دگنی ہو جاتی ہے کہ یہ بہت آرام دہ ہوتی ہے۔
میری مچان سوت والی چارپائی ہے۔ اس کے پائے ایک فٹ لمبے ہیں جن سے رسی باندھ کر درخت پر سہولت سے لٹکایا جا سکتا ہے۔ اس کو درمیان سے کاٹ کر جوڑا ہوا ہے تاکہ دہری کرنے میں آسانی رہے۔ اس طرح مچان کا وزن بہت کم مگر آرام دہ ہے۔
ہفی کو کینوس سے بنی کرسی پسند ہے جس کے نیچے پیروں کے لیے پائیدان بنا ہے مگر مجھے اس پر بیٹھنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہیں گر نہ جاؤں۔ ہفی نے ایک گارے کے لیے اپنی کرسی والی مچان مجھے دے دی۔ دوسرے پر چارپائی والی مچان تھی۔ باقی دو جگہوں پر بانس اور لکڑی سے مچان بنائی جانی تھی۔
اگلی صبح کام شروع ہو گیا۔ ۱۲ آدمی تیز دھار چاقو لے کر آئے اور ہفی نے ہمیں رسی دی۔ چاروں بھینسوں کے ساتھ ہم جلد ہی تلائی ملائی سے تلواڈی جانے والی سڑک پر روانہ ہو گئے جہاں پہلی مچان بنائی جانی تھی۔
چوتھائی میل دور گئے ہوں گے کہ ہمیں نرم مٹی پر نر شیر کے تازہ پگ دکھائی دیے۔ اس جگہ سڑک ایک چھوٹے نالے سے گزرتی تھی۔ شیر یہاں سے علی الصبح گزرا تھا کہ نشان بالکل عمدہ حالت میں تھے۔ اگلے چند گھنٹوں تک ہوا کی وجہ سے یہ نشانات مٹنے لگتے۔ عموماً ایسا ۶ گھنٹے بعد ہوتا ہے۔
نالے میں چلتے ہوئے سڑک کے دائیں اور بائیں جانب ہمیں جگہ جگہ شیر کے پرانے پگ بھی دکھائی دیے۔ اب یہ کہنا تو ممکن نہیں تھا کہ یہ نشانات آدم خور شیر کے تھے یا دوسرے شیر کے، کیونکہ وہ کافی پرانے تھے۔ تازہ پگ واضح طور پر نسبتاً بڑے اور جوان نر شیر کے تھے۔
جہاں سڑک نالے سے گزرتی تھی، اس جگہ کنارے پر برگد کا ایک بڑا درخت تھا۔ ہم سب یہاں پہلی مچان باندھنے کے لیے متفق ہو گئے۔ یہ درخت کافی پرانا تھا اور جگہ جگہ اس کی جڑیں زمین تک پہنچی ہوئی تھیں اور ہمیں مچان چھپانے کے لیے کوئی دشواری نہ ہوتی۔ میں نے سوچا کہ چارپائی مچان اور ہفی کی کرسی کو دیگر جگہوں کے لیے چھوڑ دوں کہ شاید وہاں مچان باندھنا ممکن نہ ہو۔ ڈیڑھ گھنٹے میں مچان تیار ہو گئی اور پھر مناسب جگہ پر ہم نے بچھڑا باندھ دیا۔ پھر ہم دوسرے گارے کے لیے مناسب مقام کی تلاش میں چل پڑے۔
متوفی کے بیٹوں نے ہمیں وہ جگہ دکھائی جہاں ان کے باپ کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس مقام سے دو فرلانگ دور سڑک ایک بار پھر نالے سے گزری اور وہاں مناسب جگہ تلاش کر کے ہم نے دوسری مچان باندھی۔ یہ مچان بھی ہم نے وہیں تیار کی مگر اس پر ہمیں زیادہ وقت لگ گیا اور دوپہر کو ہم لوگ دو میل دور پہاڑی کی طرف روانہ ہوئے جہاں سے نیلگری اور مویار وادی صاف دکھائی دیتی تھی۔
میرے رہنما ساری عمر اسی علاقے میں رہے تھے، انہوں نے مجھے ایک اور پگڈنڈی دکھائی جو ہمارے جنوب میں تھی اور وہاں سے دریا کی گزرگاہ کی علامت کے طور پر سبز پٹی دکھائی دے رہی تھی۔ اس بلندی سے دریائے مویار سبز رنگ کا اژدہا لگ رہا تھا جو بل کھاتا ہوا وادی سے گزر رہا ہو۔
باقی دو مچانیں بھی ہم نے مناسب جگہوں پر باندھیں جن میں سے تیسری مچان میری چارپائی اور چوتھی ہفی کی کرسی تھی۔ کام پورا ہونے پر ہم ہفی کے فارم کی جانب ۵ میل دور چل پڑے۔ دن بہت طویل اور تھکا دینے والا تھا مگر کام اچھے طریقے سے ہو گیا۔ اب ہمیں ہر سمت میں جنگل چھانتے رہنا تھا تاکہ شیر سے اتفاقیہ مڈبھیڑ ہو جائے۔ اس دوران رات کو میں ہفی کے گھر پر سوتا اور گارے کے مارے جانے کا انتظار کرتا۔
مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
آدم خور کے شکار کردہ آدمی کے بیٹے ہر روز صبح صبح ان چاروں گاروں کا چکر لگا کر جب تک کہ وہ مارے نہ جاتے، بچھڑوں کے چارہ اور پانی کا انتظام کرتے۔ سب سے دور والے بھینسے سے شروع کر کے وہ قریب والوں کے پاس آتے۔
اگلی صبح ساڑھے دس بجے میں نے ان کی ہیجانی آوازیں سنیں اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ گارا ہوا ہو گا۔ مگر انہوں نے بتایا کہ پہلا اور چوتھا، دونوں گارے مارے اور آدھے کھائے جا چکے ہیں۔
ایک ہی رات میں ۵ میل کی دوری پر دو گارے ہونے کا مطلب ہے کہ دو الگ الگ شیر ہوں گے۔ یہ کہنا ممکن نہیں کہ ان میں سے کون سا آدم خور ہے اور کون سا عام شیر۔
ایک بار پھر مشورہ ہوا اور متفقہ فیصلہ ہوا کہ فارم کے قریب تر والا گارا آدم خور نے کیا ہو گا کہ اس جگہ انسانی آمد و رفت زیادہ ہے اور پہلے بھی اس کے قریب واردات ہو چکی تھی۔ آخری بچھڑا جس جگہ باندھا گیا تھا، وہاں نیلگری سے آنے اور جانے والے شیر ہی گزرتے تھے جبکہ انسانی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ وہاں آدم خور کی آمد متوقع نہیں تھی۔ مجھے پہلے گارے پر بیٹھنا چاہیے۔
اس طرح یہ مسئلہ حل ہوا اور میں چند گھنٹے مزید سونے کے لیے لیٹ گیا۔
ہفی نے مجھے ایک بجے جگایا اور میں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ سویزا نے رات کے کھانے کے لیے سینڈوچ بھی دے دیے۔ اڑھائی بجے میں مچان پر بیٹھ گیا۔ سامنے بچھڑے کی ادھ کھائی لاش پڑی تھی۔ میرے ساتھیوں نے اسے گِدھوں سے بچانے کے لیے اس پر جھاڑیاں رکھ دی تھیں جو اب انہوں نے ہٹا دیں۔
ان لوگوں کے جانے کے بعد خاموشی چھا گئی کیونکہ اس جگہ سے کوئی انسان نہیں گزرتا تھا اور آدم خور کی موجودگی سے لوگ بہت گھبراتے ہیں اور شام کو سفر نہیں کرتے اور اس علاقے میں تو آدم خور واردات بھی کر چکا تھا۔ ۵ بجے کے بعد جب تلائی ملائی سے آنے والی انسانی آوازیں سنائی دیں تو مجھے بہت حیرت ہوئی۔ میرے اپنے چاروں ملازم اور بندوق اٹھائے سویزا ان کے ساتھ تھا۔ وہ مجھے بتانے آئے تھے کہ ۱۷ میل دور ستیامنگلم اور چمراج نگر والی سڑک پر ڈیم بیم سے پانی بھرنے والی ایک عورت کو آدم خور اٹھا کر لے گیا ہے۔ ہفی نے فوراً مجھے بلوا بھیجا ورنہ ساری رات ضائع جاتی۔ آدم خور ایک رات آدھا بچھڑا کھانے کے بعد اگلے روز ۱۷ میل کا سفر طے کر کے انسانی شکار نہیں کرتا۔
میں فوراً مچان سے اترا اور گارے کو عام شیر کے لیے چھوڑ دیا۔ ہفی کے پاس پہنچا تو اس نے بتایا کہ اگر میں فوراً ڈیم بیم چلا جاؤں تو وہاں کنویں یا کسی مناسب جگہ کو دیکھ کر وہاں بیٹھ سکتا ہوں۔ متوفیہ کے لواحقین نے اس کی لاش کو تو ہٹا دیا ہو گا مگر آدم خور دوسرے شکار کی تلاش میں وہاں آ سکتا ہے۔ میں نے ہفی سے اتفاق کیا اور اپنے چاروں ملازمین کے ساتھ فوراً روانہ ہو گیا۔
جب ہم تلائی ملائی سے نکلے تو اندھیرا چھا چکا تھا، سو میں نے گاڑی کی بتیاں جلا دیں۔ ایک میل آگے جا کر راستہ کئی گہرے نالوں سے گزرتا ہے اور اس موسم میں یہ سب خشک تھے۔ جب ہم پہلے نالے سے گزرے تو دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی روشنی میں ہمیں جنگلی سور کے ریوڑ کی چمکتی آنکھیں دکھائی دیں۔ گاڑی کے گیئر بدلنے کی آواز سن کر سارا ریوڑ بھاگ نکلا مگر اس کا سربراہ بڑا نر سڑک کے عین درمیان میں کھڑا رہا۔ اس نے سر جھکا کر اگلے کھروں سے زمین کریدنی شروع کر دی جو دھمکی آمیز رویہ ہے۔
جنگلی سور بے ضرر جانور ہیں اور انسان کو دیکھ کر یا انسانی آواز سن کر بھاگ جاتے ہیں۔ سامنے کھڑا نر مختلف تھا۔ شاید اسے لگا ہو کہ کار سے اس کے ریوڑ کو خطرہ ہو گا یا پھر کار کی بتیوں سے اسے اندازہ نہ ہوا ہو کہ اس میں انسان بیٹھے ہیں۔ جو بھی ہو، میں اس کے حملے کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتا تھا کہ اس طرح مجھے اس نر کو گولی مارنی پڑتی۔ یہ واضح تھا کہ اگلے چند لمحوں میں جنگلی سور حملہ کر دیتا۔ اس حملے کے نتیجے میں کار کے علاوہ انسانی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ ایک بار میں نے خود نیلگری کے جنگلات میں ٹپّاکاڈو سڑک پر جنگلی سور کو حملہ کر کے ایک لاری الٹاتے دیکھا۔ ڈرائیور تو اسی وقت مر گیا جبکہ اس کے ساتھی اور کلینر کو جنگلی سور نے سینگ گھونپ اور کھروں تلے کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔
یہ سب سوچیں تیزی سے میرے ذہن سے گزر گئیں۔ میں نے گولی چلانے سے قبل ہارن بجانے کا سوچا۔ یہ ہارن بہت شور کرتا تھا اور ہاتھی بھی اس کی آواز سن کر بھاگ جاتے تھے۔ میں نے ہارن بجایا۔ اس کی خوفناک آواز سن کر جنگلی سور نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ پھر اس نے جنگل کو فرار پر ترجیح دی اور نظروں سے غائب ہو گیا۔
سارا راستہ ہمیں بہت سے جنگلی جانور دکھائی دیتے رہے حالانکہ اس وقت اتنے جانور باہر نہیں نکلتے۔ شکاری توہم کے مطابق تو یہ اچھا شگن تھا۔ چیتل اور دو سانبھر بھی سامنے سے گزرے، ایک ریچھ بھی سڑک کنارے پیٹ بھرتا دکھائی دیا اور ایک تیندوا بھی سڑک کے بائیں سے دائیں جانب گزرا۔
ہم ۸ بجے منزلِ مقصود پر پہنچ گئے حالانکہ راستہ کافی مخدوش اور اونچی نیچی جگہوں اور بلند گھاس سے گزرتا ہے۔ اونچی گھاس میں جگہ جگہ پتھر پڑے تھے جو کار کو کافی نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ایسی جگہوں پر میں کار کی رفتار بہت آہستہ کر دیتا اور دو ساتھی کار کے آگے چلتے ہوئے راستہ بتاتے جاتے تھے۔ جب کوئی پتھر راستے پر آتا تو ہم سب مل کر اسے ہٹا دیتے تھے۔ اگر پتھر بہت بڑا ہو تو ہم اس کے گرد چکر کاٹ کر گزرتے تھے۔
میسور شہر سے آنے والے راستے پر چمراج نگر کے بعد اور ستیامنگلم سے قبل ڈیم بیم کی وادی آتی ہے۔ ستیامنگلم میں پولیس اور محکمہ جنگلات کے علاقائی دفاتر ہیں۔ کوئمبتور کا شہر یہاں سے ۵۰ میل دور ہے۔
ڈیم بیم میں چند جھونپڑے اور چائے کا ایک ڈھابہ ہے جس کا مالک موپلا (عرب نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مقامی اصطلاح) ہے۔ کئی صدیاں قبل عرب تاجر ہندوستان کے مغربی ساحل پر پہنچے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے اور مقامی ہندو ملیالی خواتین سے شادیاں رچا لیں۔ یہ لوگ ہر پیشے میں کامیاب ہیں۔ ڈیم بیم میں موپلا کا ڈھابہ ہے جسے چلانے میں اس کی ۳ بیویاں مدد کرتی ہیں۔ سخت پہاڑی چڑھائیوں سے آنے والی لاریوں کے تھکے ہارے ڈرائیور دن ہو یا رات، جب بھی پہنچتے ہیں تو انہیں چائے، کافی اور گرما گرم دال چاول ہمیشہ تیار ملتے ہیں۔ گاڑیوں کے ابلتے ہوئے انجن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سرد پانی مفت ہے۔
یہاں مسافروں کے لیے ریسٹ ہاؤس بھی ایسے مقام پر بنایا گیا ہے جہاں سے کئی ہزار فٹ نیچے وادی کا بہت خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے اور بل کھاتی سڑک بھی۔ کافی دور ستیامنگلم دکھائی دیتا ہے اور اس سے بہت دور، افق کے قریب کوئمبتور ہے۔
میں نے پہاڑی کے دامن کے جنگلات میں راج نگر کے شیر کے بارے میں لکھا تھا جس کے پیچھے میں کئی روز ناکام کوشش کرتا رہا تھا۔
ریسٹ ہاؤس کے نیچے میدان کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جادوئی دنیا پہنچ گئے ہوں۔ اندھیرے میں جگہ جگہ جگنو ٹمٹماتے دکھائی دیتے ہیں جو در اصل برقی روشنیاں ہیں۔ فاصلے پر جنوب مغرب کی سمت افق پر دھندلی روشنی دکھائی دیتی ہے جو کوئمبتور کی روشنیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ روشنیاں براہ راست نہیں دکھائی دیتیں۔
میں سیدھا موپلا کے ڈھابے پر پہنچا جہاں سے مجھے ہر قسم کی معلومات مل سکتی تھیں۔ اس کا مالک عبد الغنی تھا۔ میں ہفی کی طرف جاتے ہوئے یہاں چائے پینے رکا تھا اور اسے اپنی آمد کے مقصد کے بارے میں بتا دیا تھا۔ اس بار اس نے اپنی باریک آواز میں مجھے خوش آمدید کہا اور ساتھ ہی خبریں سنانا شروع کر دیں۔
’صاحب آپ تلائی ملائی کیوں گئے جبکہ آدم خور تو یہیں ہے۔ آج صبح اس نے میری دکان کے پیچھے ہی کنویں سے پانی بھرتی عورت کو مارا ہے۔ بڑی مشکل ہو گئی ہے۔ ہمیں چائے اور ہر روز آنے والی ۱۰۰ سے زیادہ گاڑیوں کے ریڈی ایٹروں میں ڈالنے کے لیے مستقل پانی کی ضرورت رہتی ہے۔ ہمیں ہر روز کئی بار چکر لگا کر پانی بھرنا پڑتا ہے۔ میری تینوں بیویاں اب پانی بھرنے سے انکار کرتی ہیں، تینوں ہی نکمی اور ذلیل عورتیں ہیں۔ کاش کہ ان سے میری جان چھوٹ سکتی۔ میں نے انہیں دھمکی بھی دی، مارا پیٹا بھی مگر تینوں ایک زبان ہو کر کہتی ہیں کہ میں خود چلا جاؤں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ میں چائے کی دکان چھوڑ کر پانی بھرتا اچھا لگوں گا؟ اس مقصد کے لیے مجھے ایک ملازم رکھنا پڑا ہے۔ اس پر پیسے خرچ ہوتے ہیں اور یہ ملازم عورت بھی کمینی ہے۔ اب دیکھیں صاحب، بطور مسلمان میں اپنی بیویوں کو اجنبی افراد سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر آپ میرے معزز دوست ہیں۔ براہ کرم میری بیویوں کو سمجھائیں کہ وہ کنویں سے پانی بھرنا شروع کر دیں‘۔
میں اس صورتحال میں کیا کر سکتا تھا۔ ویسے بھی اس کی بیویوں کو خود کشی کا مشورہ دینے کے علاوہ بھی میرے پاس کرنے کے لیے بہت سے کام تھے۔ جب آدم خور آس پاس ہو تو کنویں پر جانا جان سے ہاتھ دھونے کے برابر تھا۔ ظاہر ہے کہ اس میں عبد الغنی کی بیویوں کا کوئی قصور نہیں تھا مگر اسے بیویوں کی جان سے زیادہ پیسوں بچانے کا خیال تھا۔ عبد الغنی کو یہ سب بتانا ممکن نہیں تھا۔
میں نے اسے کچھ یوں کہا، ’عبد الغنی، میں یہاں آدم خور کو مارنے آیا ہوں۔ اگر تم ساتھ دو تو یہ کام ہو سکتا ہے۔ اب وقت ضائع کیے بغیر یہ بتاؤ کہ عورت کیسے ماری گئی تھی؟‘
’بتانے کو کیا ہے صاحب؟ وہ پانی بھرنے گئی تھی۔ پانی بھر کر لوٹ رہی تھی کہ شیطان جھاڑیوں کے پیچھے سے اس پر جھپٹا اور اسے اٹھا کر لے گیا۔ اس نے شور مچایا مگر اس کی آواز شیر کی غراہٹ تلے دب گئی۔ ایک اور عورت پانی بھرنے جا رہی تھی جس سے چند گز دور یہ واردات ہوئی اور وہ اس کی عینی شاہد تھی۔ وہ بھاگ کر واپس آئی اور ساری کہانی تفصیل سے سنائی۔ اس وقت دکان میں پانچ چھ گاہک موجود تھے۔ ہم نے بھاگ کر دروازہ بند کر دیا اور دو گھنٹے تک قید رہے۔ دو گھنٹوں میں کاروبار کا کافی نقصان ہوا۔ جب دوسرے ڈرائیور پہنچے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ہم نے دروازہ کھولا۔ پھر ہم سب مل کر کنویں کو گئے مگر عورت کا کوئی نشان نہ ملا۔ اس کے ہاتھوں سے گرنے والے گھڑے کے ٹکڑے وہیں پڑے تھے۔ بتانے کو اور کچھ نہیں‘۔ اس نے کہا۔
’عبد الغنی، یہ بتاؤ کہ اس علاقے میں پہلے بھی کبھی شیر کی اطلاع ملی ہے؟ کسی نے شیر دیکھا؟ کسی نے شیر کی کوئی عجیب بات محسوس کی؟‘ میں نے پوچھا۔
عبد الغنی ہنسا اور بولا، ’شیر میں بھلا کیا عجیب بات ہو سکتی ہے؟ سبھی شیر ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ایک سر، ایک دم اور چار ٹانگیں۔ ویسے بھی آپ یہ احمقانہ سوالات مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ ابھی تو آپ کو بتایا ہے کہ واردات کی گواہ ایک عورت ہے۔ اس نے بس یہی بتایا تھا کہ بہت بڑا شیر تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے شیطان مجسم ہو کر سامنے آیا ہو‘۔
’ایک اور سوال عبد الغنی، عورت کی لاش ملی؟‘ میں نے اس سے پوچھا تاکہ مچان باندھنے کا سوچ سکوں۔
عبد الغنی کی طنزیہ مسکراہٹ اور پھیل گئی، ’لاش کو کون تلاش کرتا صاحب؟ کیا ہم سب پاگل دکھائی دیتے ہیں؟ ہم زندہ ہیں اور وہ مر چکی ہے۔ اب اگر اس کی لاش ڈھونڈنے جائیں اور شیر ہمیں ہی لقمہ بنا لے تو؟ متوفیہ کو تو کوئی فائدہ ہونے سے رہا‘۔
یہ الفاظ میں بہت عرصے سے سنتا آ رہا ہوں، چاہے زبان جو بھی ہو، اور مقام جو بھی ہو۔
موپلا سے مجھے اور کوئی مدد نہ مل سکتی تھی۔ مجھے خود ہی کوئی منصوبہ بنانا اور اس پر عمل کرنا تھا۔ میں نے اپنے لیے چائے کے دو اور ہمراہیوں کے لیے ایک ایک مگ خریدا اور پھر کونے میں ایک میز پر بیٹھ کر پائپ نکال کر سلگانے کے بعد سوچنے لگا۔
سب سے پہلا کام تو عبد الغنی سے پیچھا چھڑانا تھا کہ اس کی بکواس پھر شروع ہو گئی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ میں چپ رہ کر سوچنا چاہتا ہوں۔
اس روز عبد الغنی انتہائی تکلیف دہ ہو رہا تھا۔ اس نے طنزیہ انداز میں کہا، ’اگر آپ کو شیر کی تلاش ہے تو اسے خود ہی بلا لیں‘۔ وہ گاہکوں کو چائے دینے چلا گیا۔
ڈیم بیم سے ۴ راستے لگ بھگ اسی دکان کے سامنے سے گزرتے تھے۔ دو محض پگڈنڈیاں تھیں تو دو باقاعدہ سڑکیں۔ ایک سڑک شمال کو میسور دوسری جنوب کو ستیامنگلم کو جاتی تھی۔ یہ سڑک ایک ہی ہے مگر میں نے شیر کی تلاش کی نیت سے اس کو دو الگ الگ سڑکیں شمار کیا ہے کہ دونوں الگ سمتوں میں ہیں۔ تیسرا راستہ وہی تھا جس پر سے گزر کر میں یہاں آیا تھا۔ یہ راستہ تلواڈی اور تلائی ملائی سے ہو کر آتا ہے۔ چوتھا راستہ جنگل میں جاتا تھا اور بمشکل دکھائی دیتا تھا۔ یہ راستہ ریسٹ ہاؤس کے پیچھے سے شروع ہو کر مشرق کو جنگل میں ۱۰ میل سے زیادہ دور تک جاتا ہے اور اس جگہ پہنچتا ہے جہاں سے ۵۰ میل دور دریائے کاویری دکھائی دیتا ہے۔
یہ راستہ باقیوں کی نسبت کم استعمال ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس پر سب سے زیادہ جنگلی جانور بالخصوص جنگلی سور اور سانبھر دکھائی دیتے ہیں۔ اس جگہ بہت سے ریچھ اور شیر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس پگڈنڈی پر جنگلی جانوروں کی دیگر گزرگاہیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سے جنگلی جانوروں کی کئی گزرگاہیں اونچے نیچے پہاڑی علاقے اور گھنے جنگلات سے گزر کر ۵۰ میل دور کاویری کو جاتی ہیں۔ ۱۰ میل بعد یہ راستہ بہت دشوار گزار اور محض پگڈنڈی نما ہی رہ جاتا ہے اور بانس کے بہت گھنے جنگلات سے گزرتا ہے جہاں شیروں کی نسبت ہاتھی اور جنگلی سور زیادہ ملتے ہیں کہ یہاں پسو بکثرت ہوتے ہیں اور شیروں کو پسو ہرگز پسند نہیں۔
اب باہر مکمل تاریکی چھا چکی تھی اور ایسی تاریکی میں سپاٹ لائٹ سے جنگلی جانور تلاش کرنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔
میں میسور والی سڑک پر ۵ میل دور تک گاڑی پر سپاٹ لائٹ جلائے گزرتا تو امکان تھا کہ شیر دکھائی دے جاتا۔ یہی کام میں گھاٹ والی سڑک پر مخالف سمت میں بھی کرتا۔ میں تلائی ملائی تک بھی جا سکتا تھا۔ چوتھی اور جنگل کو جانے والی پگڈنڈی پر گاڑی چلانا ممکن نہ تھا۔ یہاں پیدل چلنا پڑتا۔ کم استعمال کی وجہ سے نہ صرف اس کی حالت خراب تھی بلکہ اس پر جگہ جگہ بڑے پتھر اور گڑھے بھی تھے۔ راستہ بل کھاتا دشوار چڑھائیوں سے گزرتا ہے۔ اس پر گاڑی چلانا انتہائی دشوار کام تھا اور اتنا شور پیدا ہوتا کہ آدم خور تو دور کی بات ہے، تمام جنگلی جانور بھی بھاگ جاتے۔
اب کہاں سے شروع کرتے، یہ ہماری مرضی تھی۔ میں نے مشرقی راستے کو پہلے چنا کہ یہ سب سے طویل تھا اور میں تازہ دم۔
چائے ختم کر کے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں جتنی دیر اس راستے پر جاتا ہوں، اتنی دیر وہ سو لیں۔ وہ مجھے نہیں جانتے تھے، انہوں نے مجھے دیوانہ گردانا۔ عبد الغنی نے میری بات سن لی تھی اور بولا، ’تمہارا خیال ہے کہ صاحب دیوانہ ہے؟ میں اتنے برسوں سے جانتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ صاحب کی دیوانگی کوئی نئی بات نہیں‘۔
عبد الغنی انتہائی کمینہ تھا۔ خیر میں نے اپنی اعشاریہ ۴۰۵ کی رائفل سے لگی ٹارچ اور دوسری ۵ سیل والی ٹارچ کا بھی جائزہ لیا۔ میں نے رائفل کی نال والی ٹارچ کی بجائے دوسری کو زیادہ استعمال کرنا تھا کہ رائفل کو مسلسل اٹھائے رکھنا آسان نہیں۔ پھر میں ریسٹ ہاؤس کی سمت گیا اور اس کے برآمدے کے ساتھ ستون سے ٹیک لگا کر چند منٹ کو ٹھہر گیا۔ نیچے ستیامنگلم کی روشنیاں ٹمٹما رہی تھیں۔ پھر میں نے بنگلے کے پیچھے مشرقی راستے پر چلنا شروع کیا۔ چند گز دور پہلے موڑ پر چائے خانے کے باہر لگے پیٹرومیکس لالٹین کی روشنی اور اس سے آنے والی آوازیں ختم ہو گئیں۔
آدم خور لاش کو اٹھا کر غائب ہوا تھا، سو اس کے فرار کی سمت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ آدم خور انسانی لاش کو آدھا میل یا اس سے بھی دور لے جا سکتے ہیں مگر اکثر آدم خور قریب ہی بیٹھ کر پیٹ بھرنے لگتے ہیں۔ اس نے صبح عورت کو ہلاک کیا تھا اور اس سے پیٹ بھرا ہو گا۔ اب اندھیرا چھانے کے بعد وہ باقی لاش سے پیٹ بھرنے آتا۔ ساڑھے نو ہو چکے تھے اور یہی وقت ہوتا ہے کہ جب شیر اپنے شکار پر لوٹتے ہیں۔ آدم خور سے بھی یہی توقع تھی۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت آدم خور بقیہ لاش کھا رہا ہو یا اسے ختم کر چکا ہو کہ ادھ کھائی انسانی لاش میں کتنا گوشت باقی ہو گا۔
اگر آدم خور اپنا پیٹ بھر چکا ہو تو پھر وہ پانی پینے جائے گا۔ اس علاقے میں ۳ مقامات پر پانی تھا۔ قریب ترین پانی اسی راستے کے قریب اور ایک فرلانگ دور تھا۔ دوسرا مقام باقاعدہ ندی تھی جو میسور والی سڑک کو ۲ میل آگے جا کر عبور کرتی ہے۔ تیسرا مقام بھی ندی ہے اور ڈیم بیم سے آتے ہوئے یہاں سے ۳ میل دور میں اس ندی سے گزرا تھا۔ پہلے مقام کے علاوہ باقی دونوں ندیاں ایسی تھیں کہ آدم خور ان سے کسی مقام پر بھی اپنی پیاس بجھا سکتا تھا اور اس کی تلاش بیکار ثابت ہوتی۔
میں یہ سب سوچتے ہوئے پہلے مقام کے قریب پہنچ گیا۔ اس کی پہلی علامت یہ تھی کہ سبزی مائل نیلے رنگ کی روشنیاں جوڑوں کی شکل میں دکھائی دینے لگیں جو اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ چیتلوں کا غول پانی پینے آیا تھا اور اب میری ٹارچ کی روشنی سے پریشان ہو رہا تھا۔
میں نے اچانک رک کر ٹارچ بجھا دی تاکہ چیتل سکون سے چلے جائیں۔ اگر کسی کو انسانی بو آ جاتی تو خطرے کا اعلان کر کے پورے غول کو خبردار کر دیتا اور پھر غول کی آوازیں سن کر اگر آدم خور قریب ہوتا تو فرار ہو جاتا۔
چیتل خاموش رہے۔ رات انتہائی تاریک اور خاموشی اتنی کہ جھینگر کی جھائیں جھائیں بھی سنائی نہ دے رہی تھی۔ چند منٹ رک کر میں نے ٹارچ جلائی تو چیتل غائب تھے اور میں چلنے لگا۔ اگلے موڑ کے بعد بائیں جانب تالاب تھا۔
جب میں وہاں پہنچا تو پانی پینے اور کلیلیں کرنے کی آوازیں آئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ہاتھی نہا رہا تھا۔ میں پھر رک گیا۔ ہاتھیوں کو غسل بہت پسند ہے اور مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر ان کا دل چاہے تو پورا گھنٹہ پانی میں ہی گزار دیتے ہیں۔ میں ایک گھنٹہ ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اور دوسری جانب اگر اسے بھگانے کی کوشش کرتا تو مجھے دیکھ کر یا میری بو محسوس کر کے ہاتھی خطرے کی گھنٹی بجا دیتا جو آدم خور کو خبردار کر سکتی تھی۔ ہاتھی کو خبردار کرنا ممکن نہ تھا۔
پھر مجھے ایک خیال آیا۔ میں نے ٹارچ کی روشنی درختوں کی پھننگ پر ڈالی تاکہ ہاتھی کی نظر پڑے اور وہ خاموشی سے چلا جائے۔ مگر کچھ نہ ہوا۔ شاید میں کافی دور تھا اور ہاتھی نے روشنی نہیں دیکھی ہو گی۔ میں مزید آگے بڑھا اور موڑ پر پہنچ کر پھر ٹارچ جلائی۔ اس بار کامیابی ہوئی اور آوازیں فوراً تھم گئیں۔
پھر ہاتھی کیچڑ میں اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے تالاب کے کنارے کو جانے لگا۔ جانے سے قبل اس نے تالاب کے کنارے اپنے جسم پر ریت چھڑکنا ضروری سمجھی۔
میں نے زیادہ جلدی نہیں کی اور ٹارچ کی روشنی درختوں کی پھننگوں پر لہراتا رہا تاکہ ہاتھی مطمئن نہ ہو جائے۔ آخر اس نے ریت چھڑکنا بند کی اور پھر جھاڑیوں سے اس کے گزرنے کی آواز آئی۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ ہاتھی چلا گیا تھا مگر پھر اس نے اچانک ایک درخت کی شاخ توڑی اور کھانا شروع کر دی۔ اب وہ اتنی دور تھا کہ اسے میری آمد کی خبر نہ ہوتی۔
میں موڑ سے گزرا اور تالاب پر پہنچ گیا۔ تالاب سے بخارات اٹھ رہے تھے مگر کوئی جانور نہ دکھائی دیا۔ تالاب کے کنارے سے مجھے سینکڑوں کی تعداد میں ننھی ننھی سرخ رنگ کی روشنیاں دکھائی دیتی رہیں جو کہ مینڈک تھے۔ پھر ان کی ٹرٹراہٹ شروع ہو گئی۔ میری آمد سے خبردار ہو کر مینڈک چھلانگیں لگا کرتا لاب کے وسط کو جانے لگے۔ وہاں پہنچ کر پھر انہوں نے میری سمت رخ کیا اور مجھے ان کی آنکھیں ٹارچ کی روشنی منعکس کرتی دکھائی دینے لگیں۔
میں نے اتنی احتیاط سے ہاتھی کو بھگایا تھا مگر مینڈکوں سے مار کھا گیا۔ ان کی ہلچل کی آواز آدم خور نے لازمی سنی ہو گی کہ وہ وہیں تھا۔ اس نے مجھے اور ٹارچ کی روشنی بھی دیکھی ہو گی۔
خوش قسمتی سے شیر تالاب کے دوسرے کنارے پر تھا۔ اگر وہ راستے سے آتا تو صورتحال کافی مختلف ہوتی۔ عام شیر ایسی صورتحال میں اتنی خاموشی سے چلے جاتے ہیں کہ خبر بھی نہیں ہوتی۔ مگر آدم خور نے زور سے غرا کر اپنی موجودگی ظاہر کی اور میں وہیں رک گیا۔
مینڈکوں کی آنکھیں اچانک ہی غائب ہو گئیں کہ وہ سب پانی کے اندر چلے گئے تھے۔ دوسرے کنارے پر جہاں سے غراہٹ سنائی دی، وہاں سے مینڈکوں نے جست لگا کرتا لاب کے وسط کا رخ کیا۔
غراہٹ اچانک ہی رک گئی۔ مینڈک بھی چپ ہو گئے۔ میں نے دوسرے کنارے پر ٹارچ کی روشنی پھینکی تاکہ جھاڑیوں میں چھپے ہوئے شیر کی آنکھیں دکھائی دیں۔ مگر مجھے کچھ نہ دکھائی دیا اور تالاب کا دوسرا کنارہ خاموش رہا۔
شیر اچانک ہی غائب ہو گیا۔ کیا وہ فرار ہو گیا ہو گا؟ عام شیر تو ایسے مواقع پر فرار ہو جاتے ہیں۔ مگر عام شیر ٹارچ کی روشنی دیکھ کر غراتے نہیں۔ اس شیر کو انسان سے ڈر نہیں لگا اور شاید غصے میں تھا۔ کیا یہ شیر آدم خور تھا؟
میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ سامنے سے تو شیر کا حملہ ممکن نہیں تھا۔ البتہ شیر تالاب کے کنارے یا پیچھے سے آ کر حملہ کر سکتا تھا۔ میرے پیچھے دو گز دور جنگل شروع ہو رہا تھا۔ اگر شیر اس مقام سے حملہ کرتا تو بچاؤ ممکن نہ ہوتا۔
اب میرے سامنے ایک ہی راستہ تھا جس پر میں نے عمل کیا۔ میں نے تیزی سے تالاب کا رخ کیا اور تالاب کے وسط میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ تالاب گہرا نہیں تھا اور اب میں ہر سمت سے محفوظ ہو گیا تھا۔ میرے تجربے کے مطابق کوئی بھی شیر چاہے وہ آدم خور ہی کیوں نہ ہو، پانی میں گھس کر حملہ نہیں کرتا۔ اگر وہ حملہ کرتا تو مجھے کوئی مشکل نہ ہوتی اور قریب پہنچنے سے قبل ہی اسے ختم کر دیتا۔
جب پانی میرے گھٹنوں تک پہنچا تو شیر پھر غرایا۔ اس بار غراہٹ کافی بلند اور تقریباً دہاڑ محسوس ہوئی۔ اس کا مقام عین وہی تھا جہاں میں چند لمحے قبل موجود تھا۔ اگر میں بروقت تالاب میں نہ اترتا تو شیر میرا ٹینٹوا دبا چکا ہوتا۔ شیر اب مجھے پہنچ سے دور دیکھ کر غصے سے دہاڑ رہا تھا۔
اب شیر کیا کرے گا؟ اس بات میں تو کوئی شک نہیں رہا تھا کہ یہی آدم خور ہے۔ ہفی کی گولی سے یہ درندے عفریت بن گیا تھا۔
میرا انتظار بے کار رہا۔ شیر نے حملہ نہیں کیا۔ دہاڑ تھم گئی اور میں ہر سمت ٹارچ کی روشنی پھینکتا رہا مگر شیر کی آنکھیں نہ دکھائی دیں۔
مینڈک اب بالکل خاموش تھے کہ پہلے ہاتھی، پھر میں اور اب شیر کی وجہ سے انہوں نے پانی کے اندر ہی رہنا مناسب سمجھا۔ انہیں جلد ہی سانس لینے کے لیے اوپر آنا پڑتا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے مینڈکوں کی آنکھیں ہر سمت دکھائی دینے لگیں جو خوف سے مجھے گھور رہی تھیں۔
ایسا لگ رہا تھا کہ قہوہ خانے سے نکلے بہت وقت ہو چکا ہو گا مگر گھڑی دیکھی تو ابھی ساڑھے دس ہوئے تھے۔ اب مجھے یہاں کتنی دیر مزید رکنا پڑتا؟
پانی میں کھڑے کھڑے مجھے سردی لگنے لگی اور بخارات بھی اتنے ہونے لگے کہ ٹارچ کی روشنی انہیں عبور کرنے سے قاصر تھی۔ مجھے احساس تھا کہ اگر میں واپس جانے کی کوشش کرتا تو آدم خور کے رحم و کرم پر ہوتا۔ مجھے یقین تھا کہ آدم خور میرا انتظار کر رہا تھا کہ میں پانی سے کب نکلوں گا۔
نصف شب کو سردی شدید تر ہو گئی۔ اب مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنی ٹارچ مستقل نہیں جلائے رکھنی چاہیے کہ سیل جلد ہی ختم ہو جاتے اور پھر مجھے رائفل کی نال سے لگی ٹارچ سے کام لینا پڑتا۔ میں نے اپنی بڑی ٹارچ بجھائی تو اچانک تاریک چھا گئی۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ مطلع ابر آلود تھا اور ستاروں کی روشنی کا کوئی امکان نہ تھا۔
جب تک میں پانی میں رہتا، میرے لیے خطرہ نہیں تھا کہ کوئی بھی جانور پانی میں گھستا تو مجھے آواز سنائی دے جاتی۔
جلد ہی ہاتھی پہنچ گیا۔ میں پانی میں ساکت کھڑا تھا، سو اس نے نہ تو مجھے دیکھا اور نہ ہی میری بو محسوس کی۔ ہوا ہاتھی سے ہو کر میری جانب آ رہی تھی۔ ہاتھی کی نگاہ بہت کمزور ہوتی ہے، تالاب سے اٹھتے بخارات کی موجودگی میں وہ مجھے کبھی نہ دیکھ پاتا۔
پھر مجھے آواز آئی کہ جیسے وہ اپنی سونڈ میں پانی بھر رہا ہو۔ آواز بتدریج قریب آ رہی تھی کہ ہاتھی پانی میں گھس آیا تھا۔ جلد ہی وہ قریب پہنچ جاتا۔ میں نے ٹارچ جلا کر روشنی اس کے منہ پر ڈالی۔
اس رات میری قسمت میں سبھی عجیب جانور لکھے تھے۔ رات کے وقت ایسی صورتحال میں ہاتھی پر ٹارچ کی روشنی ڈالی جائے تو وہ فرار ہو جاتے ہیں۔ اس ہاتھی نے چنگھاڑ کر سونڈ موڑی اور حملہ کر دیا۔
میں نے حیران ہو کر بڑی ٹارچ کو جیب میں ڈالنے کی کوشش کی تو وہ جیب کی بجائے سیدھا پانی میں جا گری اور گرتے ہی بجھ گئی۔
میرے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا، سو میں نے فوراً اعشاریہ ۴۰۵ کی رائفل شانے سے لگائی اور نال پر موجود ٹارچ جلا لی۔ روشنی سیدھا ہاتھی کے سر پر پڑی اور میں نے ہاتھی کے سر سے ایک فٹ گولی چلا دی۔
محکمہ جنگلات کی جانب سے اس جنگل میں کسی ہاتھی کے پاگل ہونے کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی سو میں اسے ہلاک نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے پہلے ہی اس کی آنکھوں میں ٹارچ ڈال کر غلطی کر دی تھی اور اسی وجہ سے ہی ہاتھی اتنا قریب پہنچ گیا تھا۔
یہ سب سوچتے ہوئے میں نے امید رکھی کہ ہاتھی اس گولی سے گھبرا جائے گا۔ اگر اس کی پیش قدمی نہ رکتی تو مجھے اس ہاتھی کو ہلاک کرنا پڑتا۔ ورنہ میری جان کو خطرہ ہوتا۔
خوش قسمتی سے ہاتھی گھبرا گیا۔ اس نے فوراً رکنے کی کوشش کی مگر پھسل کر پانی میں گر گیا۔ اسے ڈرانے کے لیے میں نے دوسری گولی بھی چلا دی۔ ہاتھی وقت ضائع کیے بغیر اٹھا اور فرار ہو گیا۔
جب ہاتھی کا شور ختم ہوا تو مجھے کچھ سکون ہوا۔ آدم خور بھی بچ کر نکل گیا تھا۔ اب میرے لیے پانی سے نکلنا محفوظ تھا۔
سردی سے کپکپاتے ہوئے میں ڈیم بیم کی جانب چل پڑا۔ فاصلہ کم تھا مگر آدم خور کی موجودگی کا دھڑکا لگا تھا۔ دو گولیوں کے شور کی وجہ سے آدم خور کے قریب ہونے کا امکان کم ہی تھا۔
آخر ستیامنگلم کی روشنیاں دکھائی دیں جو میرے سامنے اور نیچے دمک رہی تھیں۔ میں نے ریسٹ ہاؤس پہنچ کر پتلون اتاری اور سو گیا۔
دروازے پر ہونے والی دستک سے میری آنکھ کھل گئی۔ سونے سے قبل میں نے تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے تھے، سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو ساڑھے نو بج رہے تھے۔
میں نے دوبارہ پتلون پہنی جو ابھی تک گیلی تھی۔ دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ اس بار مجھے باہر سے انسانوں کے بولنے کی آواز بھی آئی۔
دروازہ کھولا تو سامنے عبد الغنی، اس کی تینوں بیویاں اور چار یا پانچ آدمی ہیجان کا شکار کھڑے دکھائی دیے۔ ظاہر ہے کہ قہوہ خانہ بند ہو چکا تھا۔ ضرور کوئی خاص بات تھی۔
موپلا چلایا، ’صاحب، جلدی چلیں۔ شیر میری ملازم لڑکی کو اٹھا لے گیا ہے‘۔
رائفل اور گولیاں اٹھا کر میں ان کے ساتھ قہوہ خانہ کو چل پڑا۔ عبد الغنی ساتھ ساتھ تفصیل بتاتا رہا۔
بمشکل ۱۰ منٹ قبل لڑکی برتن دھونے کے لیے دکان کے پیچھے کنویں پر گئی۔ بجائے اس کے کہ ایک یا دو گھڑے بھر کر دکان میں برتن دھوتی، اس نے کنویں پر ہی برتن دھونے کا فیصلہ کیا۔ عبد الغنی کی ایک بیوی پچھلے دروازے سے اس کو دیکھ رہی تھی کہ کہیں وہ بیکار نہ بیٹھ جائے۔ یہ ۱۸ سالہ لڑکی جھک کر برتن دھو رہی تھی کہ اچانک مالکن کو لڑکی کے عقب میں حرکت دکھائی دی۔ جب اس نے غور کیا تو دیکھا کہ شیر جھک کر لڑکی پر گھات لگا رہا ہے۔ مالکن کی چیخ سن کر لڑکی کھڑی ہوئی تو شیر نے اسی وقت حملہ کر کے لڑکی کو دبوچا اور واپس جھاڑیوں میں گھس گیا۔ لڑکی ابھی تک زندہ تھی اور چلاتی جا رہی تھی۔ دونوں فوراً ہی جھاڑیوں میں غائب ہو گئے۔
بیوی کی چیخیں اور لڑکی کا شور سن کر جب عبد الغنی وغیرہ وہاں پہنچے تو اصل بات پتہ چلی۔ انہوں نے فوراً ہی ریسٹ ہاؤس کا رخ کیا۔ آدم خور نے ایک بار پھر صبح ۹ بجے شکار کر لیا تھا۔ ایک روز قبل اس نے عین اسی وقت اور اسی جگہ شکار کیا تھا۔ ایسا کبھی دیکھا نہ سنا۔
سب کو اندر بیٹھنے کا کہہ کر میں کنویں کی جانب گیا۔ وہاں برتن بکھرے پڑے تھے، کچھ دھلے ہوئے تو کچھ میلے۔ جہاں آدم خور نے رک کر لڑکی کو دبوچا تھا، وہاں کیچڑ پر پھسلنے کا نشان دکھائی دیا۔ اور کوئی نشان نہ دکھائی دیا کہ زمین سخت تھی اور نہ ہی خون کا کوئی نشان ملا۔
عبد الغنی کی دوسری بیوی نے یہ سب دیکھا تھا اور اس نے دروازے پر کھڑے ہو کر مجھے اشارے سے آدم خور کے فرار کی سمت بتائی۔ میں اسی جانب چل پڑا۔ کنویں کے پاس جہاں جنگل شروع ہوتا ہے، وہاں امبل کی خاردار جھاڑیوں کی دیوار کھڑی تھی۔ کوئی بھی شیر اپنا شکار لے کر اس طرح کی جھاڑیوں سے نہیں گزر سکتا۔ کہیں نہ کہیں راستہ ضرور ہو گا۔ آخر مجھے زمین کے قریب ایک سوراخ سا دکھائی دیا جہاں سے جنگلی جانور گزرتے تھے۔ یہاں سرنگ سی تھی۔ شاید برسات کے موسم میں جنگلی سور یہاں سے گزرتے ہوں گے۔ سرنگ اتنی تنگ تھی کہ شیر کو رینگ کر گزرنا پڑا ہو گا۔ میں بھی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے گزرا۔
چند گز بعد مجھے اس لڑکی کی ساڑھی کی کچھ دھجیاں ملیں۔ یہاں پتوں پر خون کے نشانات بھی تھے۔ شاید لڑکی خود کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی کہ شیر نے اسے ہلاک کر دیا۔
ہلاکت کے مقام سے خون کے نشانات واضح ہو گئے اور ساڑھی کی دھجیاں بھی۔ پھر ایک موڑ آیا جہاں آدم خور نے لاش کو نیچے رکھ کر کپڑے نوچے ہوں گے۔ وہاں دھجیاں کانٹوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔
اب یہ تو کہنا ممکن نہیں تھا کہ شیر لاش کو کتنی دور لے گیا ہو گا۔ شاید قہوہ خانے میں ہونے والے ہنگامے سے شیر خبردار ہو گیا ہو گا۔ مجھے توقع تھی کہ شیر کافی دور جا کر پیٹ بھرنا شروع کرے گا۔ اگر وہ کہیں قریب ہوتا یا پیچھے سے حملہ کرتا تو میرے لیے بچاؤ ممکن نہ رہتا۔
اس وجہ سے میں بار بار رک کر آواز سننے کی کوشش کرتا۔ جب شیروں کا پیچھا کیا جائے تو وہ غرا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سے تنبیہ بھی ظاہر ہوتی ہے۔ مگر اس طرح شیر خود کو ہمت دلاتے ہیں کہ ساری زندگی ان کی دہاڑ سے ہر مخلوق ڈر کر بھاگتی ہے اور جب شیر کا پیچھا کیا جائے تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔ میرے اردگرد مکمل خاموشی رہی۔
امبل ختم ہوئی تو جنگل شروع ہو گیا۔ سرنگ سے نکل کر میں سیدھا کھڑا ہوا۔ میرے سامنے گھاس کا قطعہ تھا جس سے خون کی لکیر گزر رہی تھی۔ پھر ببول کے درختوں اور جھاڑیوں پر مشتمل جنگل شروع ہو گیا۔ میرا اندازہ تھا کہ شیر اب کہیں قریب ہی پیٹ بھر رہا ہو گا۔ اگر آدم خور کو تعاقب کا شبہ ہو جاتا تو یا تو وہ مجھ پر گھات لگاتا یا فرار ہو جاتا۔
پھر مجھے کچھ دور کوے کی آواز سنائی دی۔ کوا مسلسل بولتا رہا یعنی شیر اس کے سامنے تھا۔ اب کوا دوسرے کوؤں کو بلا رہا تھا۔
جنگل میں دور سے آنے والی آوازوں کا درست مقام معلوم کرنا کافی مشکل کام ہے۔ ہوا کی لہریں، درختوں کی موجودگی اور زمین کی کیفیت سے فرق پڑ جاتا ہے۔ مسطح مقام پر کام آسان ہوتا ہے مگر پہاڑی علاقے جیسا کہ یہ مقام، کافی مشکل ہو جاتا ہے۔
میں نے اندازہ لگایا کہ کوا یہاں سے ۶۰ یا ۷۰ گز دور ہے۔ یہاں سے میں نے انتہائی محتاط ہو کر چلنا شروع کر دیا کہ کہیں کسی خشک ٹہنی یا پتوں پر نہ قدم رکھ دوں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مجھے اس طرح چلتے ہوئے کتنی دیر ہوئی، آخر مجھے شیر کے پیٹ بھرنے کی آواز سنائی دی۔ ہڈی ٹوٹنے اور پھر اسے چبائے جانے کی آواز پہچاننے میں مجھے کوئی دقت نہ ہوئی۔
کوا ابھی تک کائیں کائیں کر رہا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ وہ ۳۰ گز یا اس سے بھی کم ہو گا۔ میں نے رک کر سوچا۔
درخت پر بیٹھا کوا اس وقت میرے لیے شیر سے زیادہ خطرناک تھا۔ اگر وہ مجھے دیکھتا تو ایک دم چپ کرتا اور شیر خبردار ہو جاتا۔ آدم خور کو کوے کی آواز سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوے کے اچانک چپ ہونے سے آدم خور خبردار ہو جاتا۔ کوے جنگلی جانوروں سے نہیں بلکہ انسان سے ڈرتے ہیں۔
ابھی تک کوا مسلسل بولے جا رہا تھا۔ کینچوے کی رفتار سے میں جھک کر چلتا رہا اور بار بار رک کر نہ صرف سامنے کا جائزہ لیتا بلکہ اگر آدم خور کے پیٹ بھرنے کی آواز کچھ دیر تک نہ آتی تو عقب کو بھی دیکھ لیتا۔
اچانک ہر طرف عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ پہلے پہل تو مجھے پتہ نہ چلا۔ پھر احساس ہوا کہ کوا چپ ہو گیا ہے۔ جونہی میں نے کوے کو دیکھا تو وہ بھی مجھے دیکھ چکا تھا۔ اس کے بعد وہ درخت سے اڑ کر دوسرے درخت پر بیٹھ گیا۔
میرا خیال درست تھا۔ آدم خور کو خطرے کا احساس ہو گیا تھا۔ اب وہ کیا کرے گا؟ کیا عقب سے آ کر مجھ پر حملہ کرے گا یا بھاگ جائے گا؟ اچانک مجھے آنکھ کے گوشے سے کوا پھر اڑتا دکھائی دیا۔ اس بار وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
میں وہیں رک گیا مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ کوا واپس لوٹ کر تفتیش کرنے آیا تھا اور اپنی تسلی کر کے شور مچاتے ہوئے غائب ہو گیا۔ اسے احساس تھا کہ میں اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہوں۔
میں نے اپنے اردگرد کا جائزہ لینا شروع کر دیا اور رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ میرے بدن کا رواں رواں خطرے کا احساس کر چکا تھا۔ مجھے علم تھا کہ آدم خور کسی وقت بھی جست لگا سکتا ہے۔
مگر وہ مجھے دکھائی نہ دیا۔ شاید جھاڑیوں میں چھپا ہوا ہو۔ نہ کوئی ٹہنی ہلی نہ کوئی پتہ۔ پرندے اور حشرات بھی چپ تھے۔ جھاڑیاں بہت گھنی تھیں۔
ہر طرف خاموشی رہی اور کوئی حرکت نہ دکھائی دی۔ مجھے علم تھا کہ آدم خور پوری مکاری سے کام لے کر حملہ کرے گا۔
اچانک مجھے کئی برس پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ جنگل میں دور افتادہ تالاب پر مادہ سانبھر پانی پینے آ رہی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی اور اچانک مادہ سانبھر رک کر واپس دوڑی۔ شیر چند گز آگے گھات لگائے بیٹھا تھا۔ سانبھر کو بھاگتے دیکھ کر اس نے حملہ کر دیا۔ مگر سانبھر اس کی پہنچ سے دور پہنچ چکی تھی۔
اب میں نے بھی وہی کام کیا۔ مڑ کر بھاگنے کی بجائے میں شور کرتے ہوئے آگے کو بھاگا کہ مجھے علم تھا کہ آدم خور پیچھے موجود ہے۔ مگر چار قدم بعد میں رک گیا۔
یہ داؤ کام کر گیا۔ آدم خور نے دہاڑ لگا کر حملہ کر دیا۔ دو جست لگائیں اور پھر مجھے کھڑے دیکھ کر وہ بھی حیرت سے رک گیا۔ میں نے تیزی سے گولیاں چلائیں۔
شیر کو علم نہ ہو سکا کہ کیا ہوا۔ میری گولیاں اس کو ہلاک کر چکی تھیں۔ اگر میں پیچھے کی جانب بھاگا ہوتا تو اس وقت شیر کی بجائے میری لاش پڑی ہوتی۔
٭٭٭
۵۔ وائناڈ کا قاتل
میسور سے جنوب مغرب میں کاکن کوٹے کے گھنے جنگل ہیں جہاں صدیوں سے جنگلی ہاتھیوں کے کئی غول ہیں جنہیں ایسا جنگل بہت پسند ہے۔ یہاں کافی بارش ہوتی ہے اور ہر طرف ہریالی رہتی ہے۔ عظیم الجثہ بانس، اونچی گھاس اور دیو قامت درخت اتنی کثرت سے ہیں کہ جنگلی ہاتھی اور جنگلی سور کے سوا کسی دوسرے جانور کے لیے یہاں سے گزرنا مشکل ہوتا ہے۔ نسبتاً چھدرے علاقوں میں سانبھر اور کاکڑ پائے جاتے ہیں۔ جوں جوں جنوب مغرب کی سمت بڑھتے جائیں تو جنگل گھنا اور بارش کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سانبھر اور کاکڑ کم ہوتے جاتے ہیں جبکہ یہ سارا علاقہ ہاتھیوں اور جنگلی سور کی آماج گاہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس جنگل سے گزرنے والی تنگ سڑک پر سفر کریں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ سارا جنگل جیسے ان چھوا ہو۔
مزید آگے کبّنی دریا آتا ہے جو انتہائی جنوب مغرب میں میسور اور کیرالہ ریاستوں کی قدرتی سرحد ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان کی سب سے جنوبی ریاست کیرالہ ہمالیہ کے بعد دوسرا خوبصورت ترین علاقہ ہے۔ ہمالیہ اور کیرالہ کے مناظر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کیرالہ کی زرخیز زمین میں گھنے جنگل، چائے کے باغ، کافی، دار چینی اور ربر وغیرہ اگتے ہیں۔ سمندر کے قریب زمردی سبز گھاس ملتی ہے، آہستہ آہستہ بہتے دریا اور بے شمار آبی گزرگاہوں میں آہستہ چلنے والی ناریل کے پتوں سے ڈھکی کشتیاں کچی گریاں منتقل کرتی ہیں۔ جنوبی سرے پر راس کماری ہے۔ اس کے ساحل کی خوبصورتی کا کوئی مقابلہ نہیں۔
میسور کے ساتھ کیرالہ کی سرحد کی دوسری جانب مانن ٹوڈی کا قصبہ مغربی گھاٹ پر واقع ہے۔ مغربی گھاٹ کا پہاڑی سلسلہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر لگ بھگ بمبئی سے شروع ہو کر انتہائی جنوب تک پھیلا ہے اور سطح سمندر سے اوسط بلندی تقریباً ۴۰۰۰ فٹ ہے۔ اس علاقے کو شمالی وائناڈ کہا جاتا ہے اور چند میل جنوب کے علاقے سے بہت فرق ہے جو نیلگری پہاڑی سلسلے سے جا ملتا ہے۔ دونوں علاقے بہت زرخیز ہیں اور بہت سی پلانٹیشنیں موجود ہیں جہاں بہت عمدہ فصلیں اگتی ہیں۔
دیگر ہر اعتبار سے یہ علاقے جتنے عمدہ کیوں نہ ہوں، یہاں جونکیں بکثرت ہیں اور موسمِ برسات میں ان کی تعداد ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتی ہے۔ یہاں پسو بھی عام ہیں جن سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ جب پسو خون چوستا ہے تو متاثرہ مقام پر چھوٹا سا پھوڑا بن جاتا ہے۔ پسو سینکڑوں کی تعداد میں خون چوستے ہیں، پورا بدن سوج جاتا ہے اور کھجا کھجا کر جان عذاب ہو جاتی ہے۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہتا ہے۔
جونک ہو یا پسو، انسان کے علاوہ جانوروں کا بھی خون چوستے ہیں۔ جنگلی سور بھی پسو کے ہاتھوں تکلیف اٹھاتے ہیں جبکہ شیر، تیندوؤں اور ہرنوں کی تو جان عذاب میں رہتی ہے۔ لگتا ہے جیسے ان کے جسموں سے چھوٹے چھوٹے انگور لٹک رہے ہوں۔
اسی وجہ سے وائناڈ کے جنگلوں میں درندوں اور ہرنوں کی تعداد کافی کم ہے۔ گرمیوں میں خشک سالی کے دوران اکا دکا جانور بھٹکتے ہوئے آ جاتا ہے مگر بارشیں شروع ہوتے ہی سبھی جانور مغربی گھاٹ کے اونچے پہاڑوں یا مشرقی کاکن کوٹے کے خشک علاقے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ بارشیں تھمنے لگتی ہیں اور جانور لوٹ آتے ہیں۔
ایک بار ایسا ہوا کہ کاکن کوٹے سے منن ٹوڈی جاتے ہوئے آدمی کو منن ٹوڈی سے چند سو گز قبل ایک شیر نے اپنا لقمہ بنا لیا تو یہ بات سب کے لیے حیرت کا سبب بنی۔ یہاں شیروں کی تعداد بہت کم ہے اور آج تک کسی انسان کو شیر نے نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ جلد ہی یہ واقعہ بھلا دیا گیا۔
پھر ریاست میسور کی حدود میں کھیدا کی تیاریاں شروع ہوئیں جس میں بہت سے جنگلی ہاتھی پکڑے جاتے ہیں۔ سینکڑوں قلی جمع ہو کر درختوں کے تنوں سے مضبوط احاطے بنانے لگے جہاں جنگلی ہاتھیوں کو گھیر کر لایا اور پکڑا جانا تھا۔ یہ کافی طویل کام ہے کہ بہت سارے درخت کاٹ کر، جنگل صاف کر کے، بانس جمع کرنے کے بعد مطلوبہ جگہوں پر لا کر احاطے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ یہ کام کافی مہارت طلب ہے اور تجربہ کار قلی درکار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جنگلی قبائل کرومبا اور شلوگا سے قلی مل جاتے ہیں کہ انہیں درخت کاٹنے، بانس جوڑنے اور ہاتھیوں کے طور طریقوں کا علم ہوتا ہے۔ وہ ہاتھیوں کو احاطوں تک لانے، رسیوں سے جکڑنے اور پالتو بنانے کا فن بھی بخوبی جانتے ہیں۔
عین اس وقت آدم خور نے دوسرا اور پھر تیسرا شکار کیا۔ اب لوگوں کو علم ہو گیا کہ آدم خور پہنچ چکا ہے۔
تین دن میں دو کرومبا اس کا شکار ہوئے اور پہلے شکار کی ادھ کھائی لاش سے صاف پتہ چل گیا کہ اسے شیر نے کھایا ہے۔ دوسرے کرومبا اور منن ٹوڈی والی مسافر کی لاشیں نہ مل سکیں۔
میسور شہر سے منن ٹوڈی جانے کا دوسرا راستہ کورگ سے ہو کر جاتا ہے۔ کورگ کئی سال علیحدہ ریاست رہنے کے بعد اب ریاست میسور کا حصہ ہے۔ راستہ تو کافی لمبا ہے مگر مناظر بہت خوبصورت ہیں۔ کاکن کوٹے والی سڑک کی مانند اس راستے کے دونوں طرف گھنا جنگل ہے اور ہاتھی اور جنگلی سور کے علاوہ شیر بھی دکھائی دیتے ہیں۔
کورگ کے لوگ بہت چست اور سخت جان ہیں۔ برطانوی راج نے اس ریاست کے باشندوں کو عجیب سہولت دی تھی کہ انہیں ہتھیار کے لیے کسی اجازت نامے یا لائسنس کی ضرورت نہیں، چاہے کسی آدمی کے پاس کتنے ہی آتشیں ہتھیار کیوں نہ ہوں۔ یہ رعایت ہندوستانی حکومت کی طرف سے آج بھی موجود ہے۔ ان لوگوں نے کبھی اپنے ہتھیار کو کسی دوسرے انسان کے خلاف استعمال نہ کیا اور نہ ہی لوٹ مار کی۔ بدقسمتی سے ان کے ہتھیاروں کا رخ جنگلی حیات کی طرف رہا اور اس خوبصورت مقام سے ہرن یکسر ختم ہو چکے ہیں۔
میں اس ریاست کے بہت سارے افراد کو جانتا ہوں اور ان کی اکثریت کافی کاشت کرتی ہے اور ثانوی فصل کے طور پر سنترے بھی اگاتے ہیں جو کافی منافع بخش ثابت ہوتے ہیں۔ ایک بار میں اس ریاست میں ایک آدمی کا مہمان بنا ہوا تھا کہ آدم خور کی خبر ملی۔
جہاں میں مقیم تھا، وہ جگہ سید پور اور وراج پت قصبوں کے درمیان جبکہ منن ٹوڈی اور کاکن کوٹے سے کافی فاصلے پر تھی اور وارداتیں یہاں سے کافی دور ہوئی تھیں۔ چونکہ مجھے معلوم تھا کہ میری مطلب کا شکار یہاں نہیں ہو گا، میں اپنی رائفل بھی ساتھ نہ لایا تھا۔ جب ناشتے پر دوست نے آدم خور کی خبر سنائی تو میں حیران تھا کہ آدم خور یہاں کیا کرنے آیا ہے کہ یہاں شیر یا تیندوے کبھی کبھار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر میرا دوست کافی پر جوش تھا اور اس نے تجویز دی کہ ہمیں آدم خور کے پیچھے جانا چاہیے۔
میں نے اسے بتایا کہ ایسا ممکن نہیں۔ اول تو یہ کہ شیر کے آدم خور ہونے کی بات مصدقہ نہیں ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ کوئی زخمی یا بیمار شیر ہو یا پھر کسی سرکس سے نکلا جانور ہو۔ میرا خیال تھا کہ یہ بیماری یا زخموں کی وجہ سے جلد ہی مر جائے گا یا اس نامہربان جگہ سے فرار ہو جائے گا۔ میرے پاس رائفل بھی نہیں۔
میرے دوست کا نام تمیّا تھا اور وہ فوراً شرط لگانے کو تیار ہو گیا کہ جلد ہی آدم خور اگلی واردات کرے گا۔ جہاں تک رائفل کا تعلق ہے تو اس کے پاس پانچ رائفلیں ہیں۔ میں اپنی مرضی کی رائفل لے سکتا ہوں۔
میں نے اسے بتایا کہ لائسنس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے میرے لیے یہ بات غلط ہو گی کہ میں کسی اور کی رائفل چلاؤں۔ کورگ کے باشندوں کو اسلحے کی رعایت اس شرط پر دی گئی تھی کہ وہ کورگ کے علاوہ کسی باشندے کو اپنے ہتھیار نہیں دیں گے۔
تمیّا میری بات سن کر ہنسا اور بولا، ’بکواس۔ میں ۱۰ روپے کی شرط لگاتا ہوں کہ ایک ہفتے میں آدم خور کی اگلی واردات ہو گی‘۔ میں نے بھی جل کر حامی بھر لی۔
تمیّا شرط جیت گیا کہ تیسرے روز ہی آدم خور نے ایک اور واردات کی۔ اس بار اس کا شکار دریائے کابینی کے دوسرے کنارے پر کپڑے دھوتی ایک عورت بنی۔ یہ مقام کیرالہ ریاست کا حصہ ہے۔ تمیّا کے ہتھیار کیرالہ لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔
تمیّا اس شیر کے پیچھے جانے کو بے چین ہو رہا تھا۔ اس نے زبردستی مجھے ساتھ شامل کر لیا۔
ذاتی طور پر مجھے دلچسپی نہیں تھی۔ مگر مسلسل انکار کرتا تو ہمارے تعلقات خراب ہو جاتے۔ میں تمیّا کو سکول کے دور سے جانتا ہوں کہ وہ کتنا ضدی ہے۔ یہ اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔ جب اس نے کافی کی یہ جگہ خریدی تو ہر کوئی اسے منع کر رہا تھا کہ زمین خراب ہے، کافی کا معیار اچھا نہیں، سایہ دار درخت خراب ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس نے یہ زمین خریدی، دل لگا کر محنت کی اور اسے پوری طرح کامیاب بنایا۔
سو میں نے اسے شرط پیش کی۔ وہ میرے ساتھ بنگلور جائے گا اور وہاں میں اپنی اعشاریہ ۴۰۵ بور کی رائفل اور ساتھ اعشاریہ ۴۵۰/۴۰۰ کی اضافی رائفل بھی لوں گا۔ وہاں سے ہم میسور جائیں گے اور پھر وہاں سے کاکن کوٹے سے ہو کر کیرالہ۔ ۲۴۰ میل کا سفر اضافی سہی، مگر مجھے دو ریاستوں کی پولیس اور بغیر اجازت کے ہتھیاروں سے نجات مل جاتی۔
تمیّا فوراً تیار ہو گیا اور اپنے ہتھیار گھر چھوڑ کر رات کو میرے ساتھ بنگلور آیا۔ اگلا دن ہم نے اپنی مہم کے لیے کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر ساز و سامان خریدنے میں گزارا۔ تمیّا کے پاس جونکوں اور پسوؤں کے خلاف استعمال کے لیے ایک مخصوص کریم اور ڈی ڈی ٹی کا بڑا ڈبہ بھی تھا۔ ہم نے مچھر دانیاں اور چھوٹا خیمہ بھی لے لیا۔ چارپائی مچان، ٹارچیں، سیل اور میری دونوں رائفلیں بھی ساتھ تھیں۔ تمیّا نے واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ تماشائی رہنا پسند کرے گا۔ میں اسے بخوبی جانتا تھا کہ وہ جو کہہ رہا ہے، کرے گا اس کے برعکس۔
ہم لوگ دوسرے دن دوپہر کے بعد کاکن کوٹے پہنچے اور وہاں سے ہم شیر کے بارے میں معلومات لینے کھیدا کے مقام کو گئے۔ توقع کے عین مطابق ہمیں زیادہ معلومات نہ مل سکیں۔ وہاں بہت زیادہ قلی تھے مگر وارداتوں کے بارے میں کسی کو پورا علم نہ تھا۔ ہر طرف افواہیں اور خوف پھیلا ہوا تھا۔ دونوں آدمی غائب ہوئے تو دو روز بعد ان کی گمشدگی کا احساس ہوا۔ محض اتفاق تھا کہ چند مسافروں نے گزرتے ہوئے تعفن محسوس کیا تو دیکھنے گئے اور تھوڑی بہت انسانی باقیات پائی گئیں۔
بہت سارے لوگوں نے اس بارے میں رائے قائم کی تھی کہ آدم خور یہاں کیوں آیا مگر کسی نے بھی آدم خور کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔ نچوڑ یہی تھا کہ شیر کے بھیس میں بدروح ہے۔ اس وہم کی وجہ سے قلیوں میں زیادہ دہشت پھیلی ہوئی تھی۔ ہم جانتے تھے کہ اگر آدم خور ہلاک نہ ہوا تو اس برس کا کھیدا منسوخ ہو جائے گا۔ کھیدا منسوخ یا ملتوی ہو جاتا تو بہت مشکل ہوتی کہ مقامی حکومت نے کئی اہم غیر ملکی شخصیات کو کھیدا کے لیے مدعو کیا تھا۔
اگلی صبح ہم کار پر سوار ہو کر کیرالہ کی حد میں اس جگہ گئے جہاں عورت ہلاک ہوئی تھی۔ کسی نے شیر کو نہ دیکھا تھا۔ البتہ جائے واردات پر شیر کے پگ، گھسیٹنے کے نشانات اور خون کی اکا دکا بوندیں دکھائی دی تھیں۔
ہم منن ٹوڈی بھی گئے جہاں پہلا شکار ہوا تھا۔ یہاں بھی کسی کو علم نہ تھا کہ واردات کیسے ہوئی۔ فارسٹ رینج دفتر سے لوٹنے والے چوکیدار کو راستے پر ایک جوتا ملا۔ جوتا عمدہ حالت میں تھا اور ایسی حالت کا جوتا پھینکا نہیں جاتا، سو چوکیدار اسے دیکھنے رکا۔ اسے سڑک کے پاس سے گزرنے والی ندی کے کنارے دوسرا جوتا بھی پڑا ملا۔ جب وہ دوسرے جوتے کے قریب پہنچا تو اسے جھاڑیوں میں اٹکی پگڑی دکھائی دی۔ پھر اسے گیلی زمین پر شیر کے پگ دکھائی دیے۔ پگ بہت گہرے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ شیر نے کوئی وزنی چیز اٹھائی ہوئی ہو گی۔ ساتھ ہی کچھ خاکستری مائل دھبے بھی تھے۔
یہ دھبے خون ثابت ہوئے۔ شیر نے پگڑی اور جوتوں کا مالک شکار کیا تھا۔
ہم نے چوکیدار سے مل کر اس کی زبانی واقعہ سنا۔ یہاں پہنچ کر ہمیں رکنا پڑا کہ ہمیں مزید کوئی معلومات نہ ملیں کہ کہاں سے کام شروع کریں۔ تمیّا کو بھی افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے مجھے آدم خور کی بیکار تلاش پر لگا دیا ہے۔
منن ٹوڈی خوبصورت مقام ہے اور ہم نے رات وہیں انسپکشن بنگلے میں گزاری جو خالی تھا۔ دیگر ریاستی بنگلوں کے برعکس یہاں فرنیچر، بستر، بتیاں اور برقی پنکھے بھی تھے۔ بنگلا پہاڑی ڈھلوان پر بنایا گیا تھا۔ سامنے والی پہاڑی پر ایک خستہ حال مکان اور چھوٹا سا قبرستان بھی دکھائی دیتے تھے۔
یہاں ہر شام ہزاروں جگنو دکھائی دیتے ہیں۔ بے شمار مینڈکوں کے ٹرٹراہٹ اور رات کی رانی کی مسحور کن خوشبو بھلائی نہیں جا سکتیں۔ ہم دیر تک آرام کرسیوں پر بیٹھے تمباکو پیتے رہے۔ اکا دکا جگنو کھلی کھڑکی سے اندر آ جاتا تھا۔
اگلی صبح ہم نے آرام سے کام شروع کیا۔ ارادہ تھا کہ کورگ ریاست میں وراج پت جائیں اور پھر تمیّا کی زمینوں کو۔ وہاں تمیّا کو چھوڑنے کے بعد ایک روز وہیں گزار کر میں میسور سے ہوتا ہوا بنگلور لوٹ جاؤں گا۔
منن ٹوڈی سے ۱۰ میل دور پہنچے تو گھنا جنگل شروع ہو گیا جہاں بانس کثرت سے اگے تھے۔ یہاں ہمیں کچھ آدمی آتے دکھائی دیے جو کسی کو اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے کہ انہوں نے کمبلوں میں ایک خون آلود آدمی اٹھایا ہوا تھا۔
ان لوگوں نے بتایا کہ وہ لکڑہارے ہیں اور یہاں سے ایک میل دور درخت کاٹنے کے لیے جمع تھے۔ پو پھٹنے کے فوراً بعد اچانک شیر نے دو آدمیوں پر جست لگائی اور ایک کو گرانے کے بعد اسے گھسیٹ کر لے جانے لگا۔
دوسرا آدمی اس کا بھائی اور بہت بہادر تھا۔ اس نے فوراً لکڑی کاٹنے والا داؤ اٹھایا اور اس کے پیچھے بھاگا۔
جب آدم خور کو احساس ہوا کہ اس کا تعاقب ہو رہا ہے تو اس نے رفتار تیز کر دی۔ جب اس آدمی کو لگا کہ شیر اس کی پہنچ سے نکلنے والا ہے تو اس نے داؤ پھینک کر مارا جو شیر کے پہلو پر لگا۔ تکلیف یا خوف کی وجہ سے شیر نے اپنا شکار پھینکا اور خود فرار ہو گیا۔
یہ بہادر شخص زخمی کو اٹھانے والوں میں شامل تھا اور اسی نے دیگر لکڑہاروں کو جمع کر کے بھائی اٹھایا اور سب مل کر منن ٹوڈی ہسپتال چل پڑے۔
میں نے فوراً گاڑی میں زخمی اور اس کے دو ساتھیوں کو بٹھایا اور تمیّا سے کہا کہ وہ انہیں ہسپتال چھوڑ کر واپس آ جائے۔ میں پیدل ان لوگوں کے ساتھ جا کر آدم خور کو دیکھتا ہوں۔
ابھی تمیّا کار موڑ رہا تھا کہ ہم کیمپ کو دوڑ پڑے۔ زخمی کا بہادر بھائی ییگا بھی میرے ساتھ دوڑ رہا تھا۔ جلد ہی کیمپ پہنچے اور رکے بنا ہم سیدھا جائے وقوعہ کو بڑھ گئے۔ عین ممکن ہے کہ آدم خور کئی میل دور جا چکا ہو مگر یہ بھی ممکن تھا کہ وہ انسانی شکار کی تلاش میں کہیں قریب ہی ہو۔
ہم لوگ جلد ہی اس جگہ پہنچ گئے جہاں آدم خور نے اپنے شکار کو چھوڑا تھا۔ اس جگہ گھنی جھاڑیاں تھیں اور گھاس وغیرہ تھی اور پگ دکھائی دینا ممکن نہ تھا۔ چوڑے پتوں پر خون کے تازہ نشان تھے۔ یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ نشانات زخمی آدمی کے خون کے تھے یا داؤ سے زخمی ہونے کے بعد آدم خور کے۔
یہاں میں نے سرگوشی میں ہمراہیوں کو کہا کہ وہ اپنے کیمپ لوٹ جائیں جبکہ ییگا اور میں آدم خور کا پیچھا کرتے ہیں۔ اگر آدم خور قریب ہی ہوتا تو کئی آدمی دیکھ کر فرار ہو جاتا۔
گھاس اور جھاڑیوں کے جھکے سرے ہمیں آدم خور کے فرار کی راہ دکھا رہے تھے۔ ییگا جھک کر انتہائی خاموشی سے چلتا نشانات کا پیچھا کر رہا تھا۔ اسے اپنے چاقو کی بھی تلاش تھی کہ اسے دیکھ کر ہمیں پتہ چلتا کہ شیر زخمی ہوا ہے یا نہیں۔ زخمی شیر کا رویہ عام شیر سے کافی فرق ہوتا ہے۔ زخمی شیر زیادہ فاصلے سے بھی حملہ کر سکتا ہے جبکہ عام آدم خور بہت قریب آنے کا موقع دیتا ہے یا پھر چھپ کر فرار ہو جاتا ہے۔
میرا کام جنگل کو غور سے دیکھتے بھالتے چلنا تھا اور زیادہ توجہ اپنے اطراف اور عقب کی طرف مرکوز رکھنی تھی جبکہ ییگا کا کام کھوج لگانا تھا۔
پھر ہمیں داؤ مل گیا۔ اس کے دونوں پھل صاف تھے۔ یعنی شیر زخمی نہیں ہوا بلکہ یہ خون انسانی تھا۔
اسی طرح چلتے ہوئے ہم کچھ آگے جا کر رک گئے۔ ییگا نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا۔ یہاں شیر نے بھاگنا چھوڑ کر چلنا شروع کر دیا تھا۔
ایک فرلانگ آگے شیر کے پگ ختم ہو گئے۔ یہاں شیر لیمن گراس سے گزرا۔ گھاس کافی لمبی اور سخت تھی اور آدم خور کے گزرنے کے بعد واپس اپنی اصل شکل پر لوٹ آئی تھی۔ آدم خور کے جانے کی علامات مٹ گئی تھیں۔ گھاس کے نیچے زمین پر مردہ گھاس اور پتے تھے جس کی وجہ سے پگ ملنا ممکن نہ تھا۔ گھاس کا قطعہ چوتھائی میل چوڑا تھا۔ ہم نے تیز قدموں سے اسے عبور کیا مگر دوسری جانب ہمیں شیر کے پگ نہ مل سکے۔ ہمیں آدم خور کا تعاقب چھوڑنا پڑتا۔
بہادری اور ہمت کے علاوہ ییگا ثابت قدمی بھی نکلا۔ اس نے شکست ماننے سے انکار کر دیا اور سرگوشیوں میں بولا کہ ہمیں تب تک نہیں رکنا چاہیے جب تک شیر کے پگ نہ مل جائیں۔ اس کے اصرار پر میں نے حامی بھر لی اور ہم نئے جوش سے پیچھا کرنے لگے۔ دن کا بقیہ حصہ ہم نے کئی میل کا سفر طے کیا اور اس دوران جنگلی سور کے دو ریوڑ دکھائی دیے اور ہاتھیوں کے ایک خاندان سے بھی ملاقات ہوئی۔ تین بجے کے بعد ہم واپس کیمپ کو چل پڑے۔ کیمپ پہنچے تو ساڑھے سات بج رہے تھے اور میرے جسم پر بے شمار جونکیں اور پسو چمٹے ہوئے تھے۔ میں بہت تھک چکا تھا مگر یہ بھی خوشی تھی کہ آدم خور کا لقمہ نہیں بنا اور ییگا جیسا قابلِ اعتبار ساتھی مل گیا۔
تمیّا کئی گھنٹے قبل لوٹ کر ہمارا منتظر تھا۔
ہم نے فیصلہ کیا کہ رات ہم ۱۱ میل دور انسپکشن بنگلے میں گزار کر صبح لوٹ آئیں گے۔ رات کو کیمپ میں ہمیں زمین پر مچھروں اور ہر قسم کے حشرات کے ساتھ سونا پڑتا۔
یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ ہم اگلی صبح لوٹے تو دیکھا کہ سبھی لکڑہارے ایک جھونپڑے میں جمع تھے۔ وہ ہمارے کہنے پر باہر نکلے اور بتایا کہ آدم خور رات گئے لوٹا اور اس نے ان کے ایک ساتھی کو جھونپڑے کی دیوار کے نیچے سے پکڑ کر گھسیٹ لیا تھا۔
آپ حیران ہوں گے کہ دیوار کے نیچے سے آدمی کیسے گھسیٹا جا سکتا ہے۔ مگر میں وضاحت کرتا ہوں۔ لکڑہاروں کے یہ جھونپڑے عارضی رہائش گاہیں تھیں کہ چند دن میں ان کا کام پورا کر کے چلے جاتے۔ چرے ہوئے بانسوں اور پتوں سے جھونپڑا بنایا جاتا ہے۔ یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ جھونپڑے کی دیواریں کسی بھی قیمت پر زمین سے نہ لگیں ورنہ ان پر دیمک چڑھ جاتی ہے اور چند گھنٹے بعد جھونپڑا گر جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے بانسوں کو مضبوطی سے زمین میں گاڑ کر ان پر کولتار لگا دیا جاتا ہے۔
آدم خور بہت بھوکا ہو گا کہ گزشتہ روز اس کا شکار اس کے منہ سے چھین لیا گیا تھا۔ رات کے پچھلے پہر جب وہ آیا تو ہر طرف خاموشی تھی اور لکڑہارے سو رہے تھے۔ اس نے چاروں جھونپڑوں کے گرد گھوم کر جائزہ لیا۔ پھر اس نے دیوار کے نیچے رخنوں سے جائزہ لے کر ایک آدمی چنا اور پھر اپنا پنجہ اندر گھسا کر اسے دبوچ لیا۔ بدقسمت لکڑہارے نے چیخیں ماریں مگر کسی کو سمجھ نہ آئی کہ کیا کرنا چاہیے۔ آدم خور اپنے شکار کو رخنے سے نکال کر لے گیا اور اس دوران دیوار کا نچلا حصہ بھی تباہ ہو گیا۔
متوفی کی بدقسمتی دیکھیے کہ ییگا جیسا بہادر آدمی جو اس کی مدد کر سکتا تھا، وہ دوسرے سرے پر آخری جھونپڑے میں سو رہا تھا۔ شیر اپنے شکار کے ساتھ فرار ہو گیا۔ لکڑہارے کافی دیر تک اس کی چیخ و پکار سنتے رہے کہ آدم خور نے اسے فوراً ہلاک نہ کیا۔ عموماً جب شکار شور مچائے تو آدم خور اسی وقت ہلاک کر دیتا ہے۔ چیخیں مدھم ہوتے ہوتے آخرکار غائب ہو گئیں۔
ییگا فوراً میرے ساتھ جانے کو تیار ہو گیا جبکہ اس کے ساتھی بہت ڈرے ہوئے تھے۔ وہ ایک ساتھ کھڑے ہو کر بھگوان سے مدد مانگتے اور شیر پر لعنت ملامت کرتے رہے۔ ییگا کے علاوہ ۹ لکڑہارے تھے۔ میں نے تمیّا سے کہا کہ وہ انہیں کسی نہ کسی طرح کار میں بٹھا کر فوراً سے بیشتر منن ٹوڈی لے جائے۔ اگر وہ اندر نہ پورے آئیں تو ایک آدھ آدمی کو فٹ گارڈ پر کھڑا کر کے لے جائے۔ پھر واپس آ کر کیمپ میں گاڑی میں ہی بیٹھ کر میرا انتظار کرے۔ اس کے پاس میری اعشاریہ ۴۵۰/۴۰۰ کی رائفل تھی۔
ییگا اور میں فوراً کھوج میں چل پڑے۔
جھونپڑوں کے گرد زمین نرم تھی اور لکڑہاروں نے پسو اور جونکوں سے بچنے کے لیے گھاس پھونس اور جھاڑیاں بھی کاٹ دی تھیں۔ ہمیں آدم خور کے آنے اور جانے کے نشانات واضح نظر آئے۔ آدم خور نے اس آدمی کو ایسی جگہ سے پکڑا تھا کہ وہ کافی دور تک لاتیں چلاتا گیا جس کے نشان ہمیں واضح دکھائی دیے۔ ایک جگہ اس آدمی نے ایک چھوٹے درخت کا تنا مضبوطی سے پکڑا تھا اور جب آدم خور نے اسے کھینچا تو اس کی ہتھیلی کی کھال تنے پر لگی رہ گئی۔ یہاں سے خون کے نشانات اور زیادہ دکھائی دینے لگے۔ جہاں سے آدم خور نے اسے پکڑا تھا، شاید وہ زخم چر گیا ہو گا۔
اب ہمیں تعاقب میں آسانی ہو رہی تھی۔ بدقسمت آدمی سے بہت زیادہ خون بہنے لگا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ رات کے اندھیرے میں جب بدقسمت انسان آدم خور کے منہ سے لٹکا ہوا جا رہا ہو گا تو اسے کیا محسوس ہو رہا ہو گا۔ وہ بخوبی جانتا ہو گا کہ کچھ دیر بعد آدم خور اس کی بوٹیاں نوچ رہا ہو گا۔ اسے اپنے بیوی بچوں کا خیال آیا ہو گا۔
پھر ہم اس جگہ پہنچے جہاں آدم خور نے اس آدمی کو نیچے رکھ کر اسے ہلاک کیا تھا۔ اس جگہ خون کا تالاب سا بنا تھا۔ پھر آدم خور اسے اٹھا کر چل پڑا۔
ہم مزید ایک فرلانگ بڑھے جہاں آدم خور پیٹ بھرنے بیٹھا۔ یہاں اس نے اس تنگ سی گزرگاہ کو چھوڑ کر جھاڑیوں کا رخ کیا اور وہیں بیٹھ کر متوفی کو کھانے لگا ہو گا۔ آدم خور بہت بھوکا ہو گا کہ سر، ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ اس کے سینے کا تھوڑا سا حصہ بچا تھا۔ پسلیاں ننگی اور آنتیں ایک طرف پڑی تھیں۔ کولہے اور رانوں کی ہڈیاں بچی ہوئی تھیں۔
اس آدمی کا چوتھائی سے بھی کم جسم بچا تھا مگر اتنا ضرور تھا کہ آدم خور دوبارہ لوٹتا۔ اب ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا تھا۔
ییگا اور میں نے آس پاس کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کم از کم ۸۰ گز تک کوئی درخت نہیں۔ اتنی دور سے ٹارچ کی مدد سے گولی چلا کر آدم خور کو ہلاک کرنا کارِدارد ہوتا۔
دن کی روشنی میں ۸۰ گز بہت معمولی فاصلہ لگتا ہے مگر رات کو مچان پر بیٹھ کر ٹارچ کی روشنی میں دیکھا جائے تو ۸۰ گز بہت زیادہ ہے۔ شاخیں، ٹہنیاں، جھاڑیاں، گھاس، سب ٹارچ کی روشنی روکتی ہیں۔ ان رکاوٹوں کو کاٹنا ممکن نہیں کہ آدم خور مشکوک ہو جاتا ہے۔ دوسرا مجھے گولی اس وقت چلانی تھی جب شیر کی ہلاکت یقینی ہوتی۔ زخمی کرنے سے مشکل بڑھ جاتی۔
شیر ہوں یا تیندوے، بالخصوص آدم خور درندے بہت محتاط ہو کر اپنے شکار پر لوٹتے ہیں۔ آنے سے قبل وہ لمبا چکر کاٹ کر ماحول کا جائزہ لیتے ہیں اور اگر کٹی ہوئی شاخیں، جھاڑیوں کے ساتھ کی گئی چھیڑ چھاڑ یا کچھ اور مشکوک دکھائی دے تو واپسی کا خیال ترک کر دیتے ہیں۔ شیروں میں قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی صلاحیت بالکل نہیں ہوتی سو شیر کا ذہن شکاری کی مانند سوچتا ہے اور شکاری کے افعال کی پیش بندی بھی کر سکتا ہے۔
ایک متبادل سامنے تھا۔ جہاں شیر نے اپنا شکار کھایا، اس سے محض ۱۵ فٹ دور ٹائے گر گھاس تھی۔ اگر میں اس گھاس میں چھپ جاتا تو آدم خور پر انتہائی قریب سے گولی چلانے کا موقع مل جاتا۔ چاند جلدی نکلنا تھا، سو صورتحال میرے حق میں ہوتی۔ تاہم شیر کو میری موجودگی کا علم نہیں ہونا چاہیے۔ مگر کیا ایسا ممکن ہو گا؟ شیر کو میری موجودگی کا علم ہو جاتا تو میرے لیے مہلک خطرہ بن جاتا۔
مجھے بخوبی علم تھا کہ شیر اور بالخصوص آدم خور جب اپنے شکار پر لوٹتے ہیں تو ہر ممکن آڑ لے کر چلتے ہیں۔ گھاس کا یہ قطعہ شیر کی آمد کے راستے پر ہی تھا اور مجھے یقین تھا کہ شیر اس کی آڑ لے کر آئے گا۔ میں جتنی بھی خاموشی سے بیٹھتا، شیر مجھ سے زیادہ خاموشی سے آتا۔ اگر اسے میری موجودگی کا علم ہو جاتا تو لکڑہارے کی لاش کے پاس ایک اور لاش کا اضافہ ہو جاتا۔ تاہم یہ جوا تھا جسے کھیلنا یا نہ کھیلنا میری مرضی پر تھا۔
گھاس کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے پہلے میں نے اس کے گرد چکر لگایا اور ہر پہلو سے اسے جانچا۔ اگر میں گھاس میں چھپتا تو مجھے دو اطراف کا دھیان رکھنا پڑتا کہ سامنے لکڑہارے کی لاش پڑی ہوتی اور عقب سے شیر کی آمد کی توقع۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ بیک وقت دو مخالف سمتوں کی نگرانی کرتا۔ چاہے میرا جسم ساکت رہتا، مگر میرا سر حرکت کرتا اور زمین پر بیٹھ کر آدم خور پر گھات لگاتے ہوئے حرکت مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
جونہی آدم خور کو میری موجودگی کا علم ہوتا تو وہ یا تو غائب ہو جاتا یا پھر مجھ پر ہی گھات لگاتا۔ دونوں صورتوں میں مجھے اس کی آمد کا علم تک نہ ہو پاتا۔
اس مرحلے پر ییگا نے عمدہ خیال پیش کیا۔ اس نے کہا کہ وہ میرے ساتھ پیٹھ سے پیٹھ ملا کر بیٹھ جاتا ہے تاکہ ہم دونوں اطرف پوری توجہ سے دیکھ سکیں۔ جہاں ہم بیٹھتے، وہاں سے گھاس کا کنارہ پانچ یا چھ فٹ دور تھا۔
آگے کیا ہوتا، اس کا انحصار ہمارے رخ پر تھا۔ اگر میں لاش کی سمت اور ییگا شیر کی آمد والی سمت دیکھتا اور شیر کو آتے دیکھ کر مجھے کہنی مارتا تو میرے پاس محض ایک لمحہ بچتا جس میں مڑ کر مجھے گولی چلانا اور شیر کو ہلاک کرنا تھا۔ دوسری جانب اگر میں شیر کی آمد کو دیکھتا اور ییگا لاش کو تو صورتحال اتنی بری نہ ہوتی کہ مجھے آرام سے مڑنے اور نشانہ لے کر گولی چلانے کا موقع مل جاتا کہ آدم خور کم از کم ۱۵ فٹ دور ہوتا۔
مجھے نہ تو ییگا کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا شوق تھا اور نہ ہی اپنی جان۔ مگر یہ واحد امکان تھا، سو مجھے قبول کرنا پڑا۔
عجیب بات دیکھیے کہ جنوبی ہندوستان کے خشک جنگلوں کے برعکس وائناڈ کے جنگلوں میں گِدھ اتنے زیادہ نہیں۔ پھر بھی ییگا نے لاش پر چند جھاڑیاں کاٹ کر ڈال دیں تاکہ گِدھ انہیں نہ دیکھ سکیں۔ پھر ہم کیمپ کو لوٹ آئے۔
تمیّا منن ٹوڈی سے ۱۵ منٹ بعد واپس لوٹا۔ میں نے اسے ساری تفصیل بتائی۔ اب تمیّا مصر ہو گیا کہ وہ ییگا کی بجائے میرے ساتھ بیٹھے گا۔ مجھے قبول نہ تھا کہ میں اپنے دوست کی جان خطرے میں ڈالتا۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ ییگا نے ساری زندگی جنگل میں گزاری تھی اور اس کے لیے پوری طرح محتاط ہو کر بیٹھنا آسان تھا مگر تمیّا پر مجھے پورا بھروسہ نہ تھا۔ ہر ممکن کوشش سے میں نے اسے روکنے کی کوشش کی تو تمیّا الٹا غصے ہونے لگا۔
’میں جنگل کا باشندہ ہوں، تمہاری طرح شہری بابو نہیں۔ آخر تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟ اگر تم میرے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے تو اپنی اعشاریہ ۴۵۰/۴۰۰ بور کی رائفل مجھے دو اور خود دفع ہو جاؤ۔ میں آدم خور کو دیکھ لوں گا‘۔ اس نے کہا۔
اس کی آنکھوں سے کمینگی جھلک رہی تھی۔
مجھے چار و ناچار اس کی بات ماننی پڑی۔ اس کی آنکھوں سے کمینگی کی جگہ اب مسرت اور جوش جھلکنے لگا۔
اب ییگا مجھے نا امیدی سے دیکھنے لگا مگر میں اسے نظرانداز کر کے کار کے پہیے کو دیکھنے لگا۔
پھر ہم ییگا کے ساتھ منن ٹوڈی آئے اور دوپہر کا کھانا کھا کر ہم نے کچھ دیر سوئے تاکہ رات بھر آرام سے جاگ سکیں۔ ۳ بجے ہم تیار ہو گئے۔ تمیّا نے کہا کہ ہمیں سینڈوچ اور چائے ساتھ لے لینی چاہیے۔ ہم نے چائے اور سینڈوچ خرید لیے۔ یہ سب اگلی صبح ہی ہمارے کام آتا کہ آدم خور پر گھات لگاتے وقت کسی قسم کی حرکت ممکن نہیں۔
ہم نے ییگا کو وہیں منن ٹوڈی چھوڑا کہ اب اس کی ضرورت نہ رہی تھی۔ ساڑھے تین بجے ہم لکڑہاروں کے کیمپ میں تھے جہاں ہم نے کار روکی اور ۴ بجے سے قبل ہم گھاس میں بیٹھ چکے تھے۔
بیٹھنے سے قبل میں نے لاش سے جھاڑیاں ہٹا کر کچھ فاصلے پر ڈال دیں۔ دھوپ شدید اور دن گرم تھا، لاش سے اب بو آنے لگی تھی۔
ہم نے طے کر لیا کہ میں شیر کی آمد کے رخ منہ کیے رکھوں گا جبکہ وہ لاش کو دیکھتا رہے۔ خوش قسمتی سے اس نے فوراً بات مان لی۔ ہم اپنے ساتھ فوم کے دو تکیے لائے تھے تاکہ بیٹھنے میں آسانی رہے اور حرکت کرنے پر زیادہ آواز نہ ہو۔ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھا کہ برسوں کی عادت کے بعد اب اس حالت میں کئی گھنٹے تک بیٹھ سکتا ہوں۔ تمیّا نے سرگوشی میں بتایا کہ وہ اس طرح نہیں بیٹھ سکتا، سو اس نے ٹانگیں پھیلا لیں۔ فوراً ہی مجھے یہ خوفناک احساس ہوا کہ تمیّا زیادہ دیر اس طرح نہیں بیٹھ پائے گا۔
وائناڈ اور مغربی گھاٹ کے جنگلوں میں جنگلی حیات خشک علاقوں کی نسبت فرق ہے۔ جانور اور خزندے نسبتاً کم ہیں مگر پرندے اور حشرات بہت زیادہ۔ جلد ہی ہمیں اس کا احساس ہوا کہ بیٹھنے کے چند منٹ بعد ہی ہمیں پرندوں اور جھینگروں کی آوازیں ہر سمت سے آنے لگیں۔ میدانی علاقے کے جھینگروں کی آواز متواتر اور ایک جیسی لے میں ہوتی ہے مگر یہاں کے جھینگروں کی آواز میں باقاعدہ اتار چڑھاؤ آتا ہے۔
شام ہوئی تو جنگلی مرغ اور دیگر پرندے بولنے لگے اور وقفے وقفے سے مور کی آواز بھی سنائی دے جاتی۔ ہمارے اردگرد گھاس میں حشرات کے چلنے کی سرسراہٹ آتی رہی۔ ٹڈے بھی عام تھے جن کی ٹانگیں ۸ انچ لمی تھیں اور اس کا رنگ گرد و پیش سے اتنا مماثل تھا کہ اگر وہ میرے گھٹنے پر نہ چڑھتا تو مجھے اس کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوتا۔ میں اسے خشک ٹہنی سمجھتا۔ یہی بے ضرر قسم کا جانور اپنے شکار کے لیے اتنا ہی خطرناک تھا جتنا کہ میرے لیے آدم خور شیر۔
تاریکی تیزی سے چھا گئی اور فوراً ہی پرندوں کی آواز بھی تھم گئی۔ گھاس میں حشرات کی سرگرمیاں اور آوازیں تیز ہو گئیں۔ یہ کیڑے مکوڑے نہ صرف ہمارے اردگرد بلکہ ہمارے جسم پر بھی چڑھے اور کپڑوں میں بھی گھسے اور ایسی کھجلی پیدا کی کہ خود پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔
مجھے میدانی علاقے کے شب بیدار پرندوں کی یاد آئی کہ وہ ملگجے اندھیرے میں سرگرم ہوتے ہیں۔ میں کچھ دیر اسی طرح کی سوچوں میں گم رہا کہ اچانک مجھے ہوش آ گیا کہ میں کافی دیر سے آدم خور کی آمد سے غافل ہوں۔
پھر مجھے لاش کی بو آئی۔ اس سے مکھیاں پیٹ بھرنے کے بعد انڈے دے چکی تھیں۔
مردار خور مکھیوں کو ہمیشہ برا اور کمتر سمجھا جاتا ہے کہ یہ غلاظت اور مردار کی علامت ہیں مگر رات کو شکار کرنے والے شکاری کے لیے ان کی بہت اہمیت ہے۔ رات کے وقت یہ لاش پر ہزاروں کی تعداد میں بیٹھی ہوتی ہیں۔ جونہی کوئی جانور قریب آئے تو ان کے اڑنے سے کافی آواز پیدا ہوتی ہے۔ اگر شکاری زیادہ دور نہ ہو اور اس کی سماعت ٹھیک ہو تو اس بھنبھناہٹ کو سن لیتا ہے۔ ابھی مکھیاں خاموش تھیں اور ہم سکون سے بیٹھے تھے۔
تمیّا کی پشت میری پشت سے ملی ہوئی اور پسینے میں بھیگی تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ تمیّا کافی گھبرایا ہوا ہے۔ شاید وہ پہلی بار شکار کی نیت سے زمین پر تاریکی میں بیٹھا تھا۔ ۱۵ منٹ یا زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے تک تاروں کی روشنی اتنی بڑھ جاتی کہ ہمیں کافی حد تک دکھائی دینے لگتا۔
سب سے زیادہ خطرہ اسی جانب تھا جہاں میں نگران تھا۔ اگر آدم خور یہاں سے آتا تو کچھ فاصلے سے ہی اس کی نظر تاریکی میں بھی ہمیں واضح دیکھ لیتی۔ پھر اس کی مرضی تھی کہ وہ وہیں سے مڑ جاتا یا حملہ کر دیتا۔ ہر شیر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر وہ ۱۵ فٹ سے بھی جست لگاتا تو پلک جھپکتے میں ہمارے سر پر ہوتا۔ اگر وہ بزدل ہوتا تو وہیں سے مڑ جاتا۔
اس آدم خور کو ہم بزدل نہیں کہہ سکتے کہ چند گھنٹے قبل ہی وہ انسانوں سے بھرے جھونپڑے سے ایک آدمی کو گھسیٹ کر لے گیا تھا۔ میں نے پوری توجہ سے دیکھنے اور سننے کی کوشش کی مگر نہ تو کچھ دکھائی دیا اور نہ ہی کچھ سنائی دیا۔ جونہی خطرے کا وقت ٹلا، ۳ چیزیں ایک ساتھ وقوع پذیر ہوئیں۔ میری آنکھیں تاریکی میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں، ستارے چمکنے لگے اور وائناڈ کے جگنو چمکنے لگے۔
ہمارے گرد چند گز کے دائرے میں ان کی تعداد شاید ہزاروں میں ہو گی کہ وقفے وقفے سے یہ سب ایک ساتھ چمکتے تو روشنی سی ہو جاتی اور پھر تاریکی چھا جاتی۔
تاریکی میں کوئی آواز نہ آئی۔ جنگل جیسے جنگلی حیات سے خالی ہو گیا ہو۔ سانبھر اور ہرن تک خاموش تھے۔ شب بیدار پرندے بھی خاموش تھے۔ دیگر حشرات کے ساتھ ساتھ مچھروں نے بھی ہم پر حملہ کر دیا۔ ہم ذرا سی حرکت یا آواز کرتے تو آدم خور سن لیتا۔ تمیّا پھونک مار کر مچھر بھگانے کی کوشش کر رہا تھا جو مجھے صاف سنائی دی۔
عین اسی وقت مجھے لاش کی جانب سے مکھیوں کی بھنبھناہٹ سنائی دی جو کافی مدھم تھی۔ ظاہر ہے کہ کوئی چیز لاش کے قریب پہنچی تھی۔ تمیّا نے بھی یہ آواز سنی اور مجھے ٹہوکا دیا اور اعشاریہ ۴۵۰/۴۰۰ بور کی رائفل اٹھا لی۔
مکھیاں دوبارہ اڑیں اور پھر بیٹھ گئیں۔ لاش کی دوسری جانب سے مدھم آوازآئی۔ پھر ایسا لگا کہ جیسے کوئی پتھر الٹا ہو۔ آدم خور پہنچ چکا تھا۔ اب وہ قریب آنے سے قبل جائزہ لے رہا تھا۔
کیا وہ ہم پر جست لگائے گا؟
ہرچہ باداباد کہہ کر میں نے رخ موڑا اور ایک لمحے میں رائفل کو لاش کی سمت لا کر میں نے ٹارچ جلائی۔ تیز روشنی میں سامنے مجھے دو سرخی مائل سفید رنگ کی آنکھیں دکھائی دیں جبکہ انہیں سفیدی مائل سرخ ہونا چاہیے تھا۔ ان آنکھوں کا باہمی فاصلہ بھی کافی کم تھا۔
کتے کی طرح پچھلی ٹانگوں پر بیٹھا تیندوا اپنے ہونٹ چاٹ رہا تھا۔
کیا آدم خور تیندوا ہو سکتا ہے؟ فوراً ہی میں نے اس خیال کو جھٹک دیا کہ میں نے آدم خور کے پگ اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ ییگا اور دیگر لکڑہاروں نے بھی اپنی آنکھوں سے جو آدم خور دیکھا تھا اور وہ شیر تھا۔ شاید یہاں سے گزرتے ہوئے تیندوے کو لاش دکھائی دی تو وہ پیٹ بھرنے کے خیال سے رک گیا ہو گا۔
عین اسی لمحے تیز روشنی کی وجہ سے تیندوے کو ہماری موجودگی کا علم ہو گیا اور وہ غراتے ہوئے اٹھا اور مڑ کر چل دیا۔ اس کی چال سے مایوسی واضح تھی۔ میں نے فوراً ٹارچ بجھا دی۔ سوال یہ تھا کہ آیا آدم خور قریب تھا کہ نہیں۔ اگر وہ قریب ہوتا تو روشنی دیکھ چکا ہو گا۔ شاید وہ فرار ہو جائے یا ہم پر حملہ کر دے۔ تیندوے کے رویے سے ہمیں حوصلہ ملا۔ اپنے ازلی دشمن شیر کی موجودگی میں تیندوا اتنے آرام سے نہ جاتا۔
مکھیاں پھر بیٹھ رہی تھیں اور ہم بھی سکون سے بیٹھ گئے۔ رات سرد ہونے لگی۔ زمین پر ہمارے پاس موجود حشرات بھی خاموش ہو گئے۔ شاید انہیں سردی لگ رہی ہو گی۔ مچھر بھی نسبتاً پرسکون ہو گئے اور جگنو ایک ایک کر کے غائب ہونے لگے۔
شیر کافی پہلے واپس آ جانا چاہیے تھا۔ اس کی آمد کا وقت تو تیندوے سے بھی پہلے تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ شاید آدم خور نے واپسی کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
وقت گزرتا رہا اور مجھے نیند آنے لگی۔ شاید میں کچھ لاپروا ہو گیا تھا کہ مجھے ایک یا دو بار ہلکی آواز آئی مگر میں نے فوری توجہ نہ دی۔ پھر اچانک میں پوری طرح خبردار ہو گیا۔
کوئی جانور عین اسی گھاس کے قطعے کے پاس تھا۔ یہ جانور براہ راست سیدھا آنے کی بجائے ذرا سا بائیں جانب سے آ رہا تھا۔ پھر مجھے ہلکی سی چاپ اور پھر سرسراہٹ سنائی دی۔ پھر یہ آواز تھم گئی۔ کیا آدم خور کو ہماری موجودگی کا علم ہو چکا ہے؟ کیا وہ جست لگانے کے لیے جھکا ہے؟ اگلے لمحے جب شیر دہاڑا تو مجھے کوئی شک نہ رہا۔ شیر بمشکل ۱۰ فٹ دور تھا۔
میں نے ٹارچ جلائی۔ میرے سامنے جھولتی ہوئی گھاس دکھائی دی۔ جھلک سی دکھائی دی کہ بھورے رنگ کی کوئی چیز قلابازی کھا کر مڑی اور غائب ہو گئی۔ پھر سماعت شکن دہاڑ سنائی دی۔
میں نے ٹارچ بجھائی اور آدم خور نے دہاڑنا شروع کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ نہ صرف غصے میں بلکہ خوفزدہ بھی ہے۔ میں ٹارچ جلانے میں ایک ثانیے کی بھی تاخیر کرتا تو آدم خور مجھے دبوچ چکا ہوتا۔ شاید میں نے ذرا جلدی ٹارچ جلا کر شیر کو خبردار کر دیا تھا۔
تمیّا بھی مڑا اور اسی سمت دیکھ رہا تھا جہاں سے آدم خور کی دہاڑ سنائی دے رہی تھی۔ اب آدم خور نے ہمارے گرد چکر لگانا شروع کر دیے اور دہاڑتا رہا۔ اب یہ ہمت کی بات تھی۔ اگر شیر اتنی ہمت کر لیتا کہ ہم پر حملہ کر دیتا۔ بصورتِ دیگر وہ ہمیں یہاں سے بھگا دینے کی کوشش کرتا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں بھگانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہم نے کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید شیر حملہ کرے۔ مگر اس نے حملہ نہ کیا۔ اب اس کی دہاڑ محض غراہٹ بن گئی تھی مگر ابھی تک اس نے چکر لگانا بند نہیں کیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ہماری تعداد جاننا چاہ رہا ہے کہ آیا اس کا مقابلہ ایک آدمی سے ہے یا ایک سے زیادہ آدمیوں سے۔
اسی طرح ۱۵ منٹ گزر گئے۔ کچھ نہ ہوا۔ شیر نے نہ تو حملہ کیا اور نہ ہی چکر کاٹنا بند کیا۔ اس بارے میں شیر نے مجھے ہرا دیا۔
میں نے آدم خور کو حملے کی دعوت دینے کا سوچا۔ میں نے تمیّا کو سرگوشی میں وہیں رکنے کا کہا اور خود کیمپ کی طرف چل پڑا۔ شیر میرے پیچھے آتا۔ دوسری جانب یہ بھی ممکن تھا کہ وہ لاش پر لوٹ جاتا اور تمیّا کو گولی چلانے کا موقع مل جاتا۔
تمیّا نے سرگوشی میں کہا کہ یہ کیا حماقت ہے؟
میں نے چلتا رہا اور زور زور سے پیر زمین پر مارتا گیا۔
آدم خور پر فوری اثر ہوا۔ اس نے پھر سے دہاڑنا شروع کیا اور میرے پیچھے چل پڑا۔ اب یاد رکھیں کہ تاروں کی روشنی کے سوا محض تاریکی تھی۔ جان بوجھ کر میں نے ٹارچ نہ جلائی تاکہ آدم خور کو ڈر نہ لگے۔ تاہم صورتحال بگڑ گئی۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے ابھی ۲۵ گز کا فاصلہ طے کیا ہو گا کہ آدم خور نے ہمت کر کے حملے کا فیصلہ کر لیا۔ خوش قسمتی سے اس نے خاموش حملے کی بجائے بول کر حملہ کیا۔
عوف عوف کرتا شیر حملہ آور ہوا۔ میں نے فوراً مڑ کر رائفل شانے سے لگائی اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ٹارچ روشن کی۔ روشنی سیدھی دوڑتے ہوئے شیر کی آنکھوں پر پڑی جو سیدھا میری جانب آ رہا تھا۔
ابھی میں رائفل سے نشانہ لینے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اچانک میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ تمیّا نے اپنی ٹارچ روشن کر کے سیدھی میری آنکھوں میں ڈال دی تھی۔ شیر سمیت ہر چیز میری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
میں نے فوراً ایک ہاتھ سے آنکھوں کو چھپایا اور پیچھے کو جست لگائی۔ اسی وقت ہر طرف تاریکی چھا گئی کہ میری ٹارچ بجھ گئی تھی اور تمیّا نے ٹارچ کا رخ موڑ دیا تھا۔
آدم خور ٹارچ کی روشنی میں محض ۴ فٹ دور مضحکہ خیز انداز میں بیٹھا دکھائی دیا۔ اس کا سر نیچے جھکا ہوا اگلے پنجوں میں زمین کو چھو رہا تھا جبکہ پچھلا حصہ اٹھا ہوا اور دم ہل رہی تھی۔ تمیّا کی ٹارچ کی وجہ سے شیر کی پیش قدمی رک گئی تھی۔
تمیّا اگر ایک لمحے کی بھی تاخیر کرتا تو شیر مجھ پر جست لگا چکا ہوتا۔
عین اسی لمحے رائفل کا دھماکہ سنائی دیا اور شیر وہیں بیٹھ گیا۔ تمیّا کی چلائی ہوئی اعشاریہ ۴۵۰/۴۰۰ بور کی گولی اس کے پہلو میں کہیں لگی تھی۔ عین اسی لمحے میں اس کے راستے پر اور قریب تر تھا۔ شیر نے سیدھا مجھ پر جست لگائی۔ میری ٹارچ نے اسے اندھا کر دیا اور میں نے اس کے کھلے منہ میں یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں اور خود ایک طرف ہو گیا۔
عین اسی لمحے تمیّا نے دوسری گولی چلائی جو شیر کی بجائے میرے پیروں کے قریب زمین پر لگی۔ شیر اب زمین پر لوٹ رہا تھا اور میں اس سے دور بھاگا۔
تمیّا نے آدم خور کو شکار کر لیا۔ اس کی پہلی گولی آدم خور کے پہلو پر لگی مگر اس سے قبل اس نے ٹارچ جلا کر آدم خور کو روک کر میری جان بچائی تھی۔ دوسری گولی جو اس نے چلائی، وہ شیر کے بائیں شانے کے پیچھے لگی تھی اور میں نے اس کی آواز تک نہ سنی تھی۔ میری پہلی گولی شیر کے منہ سے ہوتی ہوئی اس کے سر کے پرخچے اڑا گئی تھی۔ دوسری گولی خالی گئی تھی۔
تمیّا خوشی سے پھولے نہ سمایا اور اس نے فوراً جنگلی رقص شروع کر دیا۔ میری دونوں طاقتور رائفلوں سے نکلی گولیوں سے شیر کی کھال اور اس کا سر محفوظ کرنے کے قابل تو نہ رہا تھا مگر تمیّا خوش تھا کہ آج تک کوئی آدم خور اس طرح نہیں مارا گیا اور بار بار یہی بات کہتا رہا۔
مجھے تمیّا جتنی خوشی تو نہیں تھی مگر مجھے اس کے جذبات کا احساس تھا۔ اب یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ اگر دوبارہ ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو میں تمیّا کی جگہ رہنا زیادہ پسند کروں گا۔
٭٭٭
۶۔ تلائی نووو کا آدم بیزار
کولیگل تعلق میں سابقہ کوئمبتور کا ضلع برطانوی راج کے دور میں مدراس پریزیڈنسی میں شامل تھا۔ اس کی ایک وادی کا نام تلائی نووو ہے۔ اب برطانوی دور تو ختم ہو چکا اور مدراس پریزیڈنسی بھی نہیں رہی۔ اس کی جگہ اب مدراس کی ریاست بن گئی ہے تاہم اس کا رقبہ مدراس پریزیڈنسی کا نصف ہے جبکہ بقیہ رقبہ پڑوس کی ریاستوں آندھرا، میسور اور کیرالہ میں بانٹ دیا گیا ہے۔
کولیگل تعلق کے بانٹے ہوئے ایک ایسے ہی علاقے میں ایک وادی تلائی نووو ہے جو اب ریاست میسور کا حصہ ہے۔ پہاڑوں سے ہوتے ہوئے دریائے کاویری تک پھیلے اس کے خوبصورت جنگلات کو متواتر کاٹ کر زراعت اور تعمیرات جاری ہیں۔ بچنے والے جنگلات میں جنگلی حیات کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔
میں دو وجہوں سے تلائی نووو کو جانتا ہوں اور ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ تامل زبان میں تلائی نووو کا مطلب ’سر درد‘ ہے۔ دوسرا یہ کہ دریائے کاویری کے کنارے ایک عجیب تیندوے نے ۱۰ میل دور بہت ڈھلوان وادی میں رہائش اختیار کی اور میرے لیے سر درد بنا رہا۔
جنوبی ہندوستان میں ہمیشہ سے آدم خور تیندوے نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔ یہ تیندوا حقیقی معنوں میں تو آدم خور نہیں تھا۔ اسے آپ مردم بیزار کہہ سکتے ہیں کہ اسے نسلِ انسانی سے نفرت تھی اور مرتے دم تک انسانوں سے انتقام لیتا رہا۔
اس کی ابتدا کچھ یوں ہوئی۔ تلائی نووو کے جنوب میں ۱۰ میل دور جنگل سے بھری پہاڑی کی چوٹی پر مادہ تیندوا رہتی تھی۔ شمال میں ۶ فرلانگ دور ایک گہری وادی ہے جو سیدھی دریائے کاویری کو جاتی ہے۔ مشرق میں یہ جنگل میل ہا میل تک پھیلا ہوا اور ضلع سالم دریائے کاویری کے ساتھ بل کھاتا ہوا جاتا ہے۔ مغرب میں یہ جنگل محض ۶ میل دور چھدرے اور جھاڑیوں والے جنگل میں بدل جاتا ہے جو کولیگل تک پھیلا ہے۔
مادہ تیندوا نوجوان تھی اور اس نے پہلی بار تین بچے پیدا کیے۔ اسے اپنے بچوں سے بے انتہا محبت تھی اور اس نے پوری توجہ سے ان کی پرورش شروع کی۔ شاید کسی وجہ سے اسے غار سے اپنے بچے نکالنے پڑے۔ مگر بچے ابھی اتنے چھوٹے تھے کہ وہ چھپ کر نقل و حرکت کرنے کے قابل نہ تھے۔ شاید ان کا باپ انہیں کھانے کے چکر میں تھا کہ شیر اور تیندوے اکثر اپنے بچوں کو کھا جاتے ہیں۔ شاید کوئی ریچھ غار کے قریب سے گزرا ہو۔ شاید اس علاقے میں خوراک کی کمی ہو۔
خیر، مادہ تیندوا اپنے بچوں کو لے کر پہاڑی سے نیچے اتری اور دریائے کاویری کے کنارے انہیں بانس کے ایک جھنڈ میں چھپا دیا۔ عموماً تیندوے دوسرے غار کی تلاش میں ایسا کرتے ہیں۔ بچوں کی قسمت خراب تھی۔ مادہ انہیں چھوڑ کر شاید رات بھر شکار کرتی رہی۔ جب دن نکلا تو مادہ تیندوا بچوں تک نہ پہنچی تھی۔
ابھی وہ میل بھر دور ہو گی کہ اسے دور سے لکڑیاں کاٹنے کی آوازیں سنائی دیں۔ اسے معلوم ہو گیا کہ انسان اس جگہ پہنچے ہوئے ہیں جہاں اس کے بچے تھے۔
اس نے دوڑ لگائی تاکہ بچوں کو چھپا سکے۔ مگر ابھی وہ کچھ دور ہی تھی کہ اسے بچوں کی آوازیں سنائی دیں۔ انسانوں نے بچوں کو دیکھ لیا تھا۔
جب وہ پہنچی تو سامنے ۷ آدمی پسینے سے لشکتے بدن کے ساتھ کھڑے اس کے بچوں کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بانس کاٹنے والے تیز دھار داؤ تھے۔ کسی کو بھی ان بچوں پر ترس نہ آیا۔
ماں کی آنکھوں کے سامنے ایک لکڑہارے نے اپنا داؤ اٹھایا اور ایک بچے پر وار کیا۔ بچہ اچھل کر کئی فٹ دور گرا اور اس کا جسم دو ٹکڑے ہو چکا تھا۔ اس کے خون سے زمین سرخ ہونے لگی۔
پھر باقی لکڑہاروں نے دیگر دو بچوں پر وار شروع کیے اور چند لمحوں بعد وہاں ۳ بچوں کی لاشیں خاک و خون میں لتھڑی پڑی تھیں۔
جنگلی جانور چاہے ہاتھی ہو، آدم خور شیر یا تیندوا، انسان کا سامنا نہیں کرتے۔ بچوں کی لاشیں دیکھ کر ماں کو حوصلہ ملا اور اس نے غراتے ہوئے حملہ کر دیا۔
پہلے پہل تو کسی کو علم بھی نہ ہوا اور مادہ نے ایک ہی وار سے ایک لکڑہارے کی آنکھیں نوچ لیں۔ جب وہ زمین پر گرا تو مادہ نے دوسرے آدمی کے سینے پر دانت گاڑ دیے۔ باقی سب لکڑہارے خوفزدہ ہو کر بھاگے۔ پہلے مادہ نے ان کا پیچھا کرنے کی کوشش کی مگر پھر لوٹ کر اس نے زمین پر پڑے دونوں آدمیوں کے چیتھڑے اڑا دیے۔ اس کے بعد اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا کر مادہ چلی گئی۔
جب لکڑہارے گاؤں پہنچے تو انہوں نے سب کو جمع کر کے بتایا کہ بغیر کسی وجہ کے ایک بہت بڑے تیندوے نے حملہ کر کے ان کے دو ساتھیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ انہوں نے معصوم بچوں کی ہلاکت والے حصے کو سرے سے چھپا لیا۔ یہ حصہ بعد میں سامنے آیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی کہانی سن کر سبھی لوگ غصہ ہوئے اور بعجلت بندوقیں اور کلہاڑیاں لے کر بہت سے لوگ نکل پڑے۔
مادہ تیندوا کئی ہفتے نہ دکھائی دی اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات ملیں۔ جلد ہی لوگ یہ واقعہ بھول گئے اور ہتھیار چھوڑ کر جنگل جانے لگے۔ لکڑہارے، ٹھیکیدار اور لکڑی چور بھی جنگل میں پہلے کی طرح آنے جانے لگے۔ لکڑی چور چاندنی راتوں کو بانس کاٹتے اور دریا میں بہا کر دور جا کر نکال لیتے تھے۔
مادہ تیندوہ اس واقعے کو نہ بھولی۔ جونہی اسے موقع ملا، اس نے دوسرا وار کیا۔
صندل کی لکڑی کا ایک بہت بدنام چور کہ جس کے بارے میں پولیس اور محکمہ جنگلات بخوبی جانتے تھے مگر کبھی پکڑ نہ سکے، اپنے بیٹے کے ساتھ ایک چاندنی رات کو جنگل گیا۔ ان کا خیال تھا کہ صندل کے چند درخت کاٹ کر وہ دریا میں بہا دیں گے اور میل بھر نیچے جا کر جہاں پانی نسبتاً پرسکون ہو جاتا ہے، وہاں انہیں نکال لیں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بانس اور بھینس کی کھال سے بنی ہوئی ایک گول کشتی بھی چھپا رکھی تھی۔ ایک بار میسور کی حد میں پہنچ گئے تو پھر انہیں مدراس کے حکام سے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
دونوں چوروں نے صندل کے کم عمر پودے کاٹنا شروع کر دیے جو وہ پہلے ہی چکر لگا کر منتخب کر چکے تھے۔ مادہ تیندوے کو لکڑی کاٹنے کی آواز پہنچ گئی۔ اسی طرح کا شور اسے اپنے بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے یاد تھا۔ نفرت نے اس پر غلبہ پایا اور ان چوروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے ان کی سمت چل پڑی۔
جونہی مادہ تیندوے نے باپ پر جھپٹ کر اس کے گلے میں دانت گاڑے تو اسے خبر تک نہ ہوئی کہ کیا ہوا۔ کمر پر تیندوے کے وزن کی وجہ سے وہ زمین پر گرا اور آواز تک نہ نکال سکا۔ اس کا ۱۸ سالہ بیٹا اس کا شاہد تھا اور اس نے باپ کو بھلا کر اپنی کلہاڑی چھوڑی اور بھاگ کھڑا ہوا۔
چند ہی لمحوں میں مادہ تیندوے نے اس آدمی کو ہلاک کر دیا۔ اس کا بیٹا بھاگتے ہوئے کشتی تک پہنچا اور سیدھا اس میں بیٹھ کر چپو چلاتا دوسرے کنارے پر چلا گیا۔ وہاں سے جھونپڑے میں پہنچ کر اس نے اپنی ماں کو ساری کہانی سنائی۔
اس دوران سارا گاؤں سو چکا تھا مگر ماں بیٹے کی آہ و بکا نے سب کو جگا دیا۔ سب نے جمع ہو کر سب واقعات سنے مگر طے کیا کہ اگلے روز دن کی روشنی میں ہی سب مل کر جائیں گے۔ سب جانتے تھے کہ باپ بیٹا پکے چور ہیں۔
اگلے روز دن کافی چڑھنے کے بعد دیہاتیوں نے بندوقیں، کلہاڑیاں، نیزے اور چاقو اٹھائے اور لڑکے کے ساتھ متعلقہ مقام جا کر دیکھا کہ بڈھا چور زمین پر اپنے ہی خون میں لت پت پڑا تھا اور اس کا حلقوم تیندوے نے نوچ لیا تھا۔ اس کے جسم پر جگہ جگہ دانتوں اور ناخنوں کے نشان تھے۔ لاش سے گوشت کھایا نہیں گیا تھا۔ سو اس مادہ تیندوے کو آدم خور کہنا ممکن نہ تھا۔ ان لوگوں کے خیال میں مادہ تیندوے نے اس چور پر بغیر کسی وجہ کے حملہ کیا تھا کہ اُس وقت بہت کم لوگوں کو اصل واقعے کی معلومات تھیں۔
ایک بار پھر عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے پھر سے مسلح رہنا شروع کر دیا۔ اس بار لوگ زیادہ عرصہ محتاط رہے مگر آخرکار اسے بھول کر اپنے کام کاج میں لگ گئے۔
ایک بار پھر کئی ہفتے گزر گئے اور چاندنی راتیں شروع ہو گئیں۔ ہندوستانی جنگلات میں چاندنی راتوں میں ہی گڑبڑ ہوتی ہے۔ انہی راتوں میں چور شکاری پانی اور چاٹن کے قریب چھپ کر سانبھر، چیتل اور جنگلی جانور شکار کرتے ہیں۔ بیچارے جانور پیاس بجھانے یا نمک چاٹنے آتے اور موت کا شکار ہوتے ہیں۔ درخت چور بھی صندل، ساگوان، مُٹھی اور بڑے بانس وغیرہ چوری کر کے آبی گزرگاہوں یا بیل گاڑیوں اور لاریوں کی مدد سے لے جاتے ہیں۔
تیسری قسم کے چور چاندنی رات کا فائدہ اٹھا کر مچھلیاں چوری کرتے ہیں۔ جال یا بنسی سے مچھلی کا شکار کیا جائے تو کم مچھلی ہاتھ لگتی ہے اور وقت بھی کافی صرف ہوتا ہے۔ یہ لوگ دریاؤں پر بنے تالاب میں مناسب مقام تلاش کرتے ہیں جہاں بڑی مچھلیاں رات کو آرام کرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں اور وہاں دیسی بم چلاتے ہیں۔ ان کے پاس بھی بھینس کی کھال سے بنی گول کشتیاں ہوتی ہیں اور دریا کے بہاؤ کے ساتھ ۵ میل تک یہ لوگ وارداتیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ بم جلا کر پانی پر چھوڑ دیتے ہیں جس کا دھماکہ تو کافی زوردار ہوتا ہے مگر آبی حیات کے سوا کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ ایک مخصوص رقبے میں موجود چھوٹی بڑی سبھی مچھلیاں دھماکے سے بے ہوش ہو کر سطح پر تیرنے لگتی ہیں جنہیں بانس پر جال لگا کر یہ چور بہ آسانی کشتی میں لادتے ہیں۔ ہزاروں چھوٹی مچھلیاں اور ان کے بچے مفت میں مر کر بہاؤ کے ساتھ بہہ جاتے ہیں جنہیں دوسرے مچھلیاں اور مگرمچھ کھاتے ہیں۔ ایک تالاب سے دوسرے تالاب کو جاتے ہوئے یہ لوگ وارداتیں کرتے جاتے ہیں۔ جب کشتی پوری طرح بھر جائے تو پھر یہ لوگ کنارے کو لوٹتے ہیں۔ اب آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ چور کس طرح مچھلیوں کو نیست و نابود کرتے ہیں۔
کئی لوگ دو کشتیوں میں بیٹھ کر یہ وارداتیں کرتے ہیں۔ پہلی کشتی بم پھینکتی ہے اور دوسری مچھلیاں جمع کرتی ہے۔ دوسری کشتی جب ڈوبنے کے قریب ہو تو چور شکاری کنارے کا رخ کرتے ہیں۔ یہ لوگ باہمی معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے علاقے میں نہیں جاتے۔ اگر دوسروں کے علاقے میں چوری کی جائے تو ان کی باہمی لڑائی شروع ہو جاتی ہے اور کوئی نہ کوئی فریق محکمہ جنگلات یا پولیس کو چغلی کر دیتا ہے۔ باہمی معاہدے کی وجہ سے یہ لوگ آپس میں ہی خوش رہتے ہیں۔ اگر کوئی چور پکڑا بھی جائے تو وہ پانچ چھ مچھلیاں متعلقہ افسر کو دے کر اپنی جان چھڑا لیتا ہے۔
۵ میل بعد یہ لوگ کنارے پر اترتے اور مچھلیوں کا پیٹ صاف کر کے تھیلوں میں بھرتے ہیں۔ دو افراد مل کر ایک کشتی اٹھاتے ہیں جبکہ باقی افراد مچھلیوں سے بھرے تھیلے۔ ایک آدمی ہلکے چپو اٹھا لیتا ہے اور یہ لوگ پیدل چل کر ۵ میل دور اپنی بستی پہنچتے ہیں کہ کشتی کو مخالف سمت چلانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یہ مرحلہ سب سے مشکل ہوتا ہے۔
جب تک چاندنی رہے، ایسا متواتر ہوتا رہتا ہے اور جب تاریک راتیں آتی ہیں تو چور شکاری دو ہفتے کے لیے اپنا دھندہ بند کر دیتے ہیں۔
ایسے دور افتادہ مقامات جہاں سرکاری عملہ نہیں پہنچ پاتا، یہی کام دن دیہاڑے ہوتا ہے۔ جس دور کے بارے میں میں لکھ رہا ہوں، اس دور میں یہ کام کافی کم ہوتا تھا کہ محکمہ جنگلات میں برطانوی عملہ زیادہ تھا۔ اب وہ دور گزر گیا اور چور شکاری دن ہو یا رات، کسی وقت بھی وارداتیں کرتے ہیں۔
خیر، کہانی کی طرف لوٹتے ہیں: چاندنی راتیں آئیں تو چور شکاریوں کا گروہ پھر واردات کے لیے نکل پڑا۔ دوسری کشتی پر صرف ایک آدمی سوار تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ مچھلیاں بھری جائیں۔ نصف شب کے بعد ان لوگوں نے کنارے پر رک کر کھانا کھانے کا سوچا۔
جب مچھلیوں والی دوسری کشتی کنارے کے قریب پہنچی تو ساتھیوں نے کہا: ’بھائی، کنارے پر آ جاؤ۔ ہم نے کافی محنت کر کے اتنی مچھلیاں پکڑ لی ہیں اور اب کچھ کھا پی لیتے ہیں‘۔
اس آدمی نے فوراً کشتی کو کنارے پر لگانے کی کوشش شروع کر دی۔ اسے کچھ مشکل ہوئی کہ بارشوں کی وجہ سے پانی کا بہاؤ کافی تیز تھا۔
آخر یہ آدمی کنارے پر پہنچ کر اترا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کشتی سے بندھی رسی تھی تاکہ اسے کسی درخت سے باندھ دے۔ عین اسی وقت اس کے ساتھیوں نے کنارے پر موجود مہندی کی جھاڑیوں کے پیچھے کوئی لمبا اور بھورا سا جسم دیکھا۔ پھر انہوں نے تیندوے کی غراہٹ سنی اور اس پر کالے رنگ کا ایک جسم جھپٹا۔ پھر انہیں اپنے ساتھی کی چیخ سنائی دی اور کشتی کی رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر بہاؤ کے ساتھ جانے لگی۔
ملاحوں نے کشتی پکڑنے کے لیے جلدی جلدی اپنی کشتی چلائی۔ دوسری کشتی کی رفتار تیز ہوتی گئی اور بہاؤ کے وسط میں پہنچ گئی جہاں بھنور تھے۔
دوسرا آدمی بنا سوچے سمجھے اپنی کشتی بھنور میں ڈالنے ہی لگا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے روک دیا۔ پھر وہ لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے دوسری کشتی کو پہلے ہچکولے کھاتے اور پھر ڈوبتے دیکھا۔ ساری مچھلیاں پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔ اب انہوں نے کنارے کا رخ کیا تاکہ جا کر اپنے ساتھی کو لعن طعن کریں کہ اس کی غفلت سے اتنی مچھلیاں ضائع ہوئیں۔ کشتی بنانے پر کم از کم ۱۰۰ روپے جبکہ بنی بنائی خریدنے پر اور بھی زیادہ پیسے لگتے تھے اور اس پر لدی مچھلیوں کی قیمت الگ۔ ان کا ارادہ تھا کہ جا کر اس کی اچھی خاصی مرمت کرتے۔
مگر کنارہ خالی تھا۔ پھر انہیں یاد آیا کہ بھورے رنگ کی کوئی چیز ان کے ساتھی پر جھپٹی تھی اور وہ چیخ مار کر گرا تھا۔ تب انہیں کشتی کی فکر تھی، سو انہوں نے اپنے ساتھی کو بھلا دیا تھا۔ اب انہیں یاد آ گیا۔
اب ان لوگوں نے ملاح کو کنارے پر جانے سے روکا کہ شاید کوئی بد روح ان کے ساتھی کو کھانے کے بعد ان کی منتظر ہو۔ کافی دیر تک کسی کو تیندوے کا خیال نہ آیا۔ پھر کسی نے یاد دلایا تو سب کو احساس ہوا کہ شاید ان کے ساتھی کو تیندوے نے پکڑا ہو گا۔ ان کا خیال تھا کہ اب تیندوا ان کے ساتھی کو مارنے کے بعد اس کے گوشت سے پیٹ بھر رہا ہو گا۔
پھر اکیلے چپو کی مدد سے باری باری کشتی کھیتے یہ لوگ بمشکل نصف میل اوپر تک جا سکے۔ پھر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ پہلے اترتا۔ پھر سبھی ایک ساتھ نیچے اترے اور کشتی اٹھا کر کنارے پر رکھ دی اور خود لشٹم پشٹم گاؤں روانہ ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ خوب شور مچاتے گئے۔
اگلے روز دن خوب چڑھ آیا تو سارا گاؤں ان کے ساتھ آیا۔ ہر آدمی مسلح تھا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ لاش کے چیتھڑے اڑ چکے تھے اور وہ مہندی کی جھاڑی کے پیچھے پڑی تھی۔ اس کا گوشت نہیں کھایا گیا تھا۔
یہ سلسلہ جاری رہا۔ جب مادہ تیندوے کو موقع ملتا، حملہ کر کے آدمی ہلاک کرتی مگر کبھی گوشت نہ کھاتی۔ ہر لاش پر دانتوں اور پنجوں کے نشان ملتے مگر اپنے شکار کو ہلاک کر کے وہ فرار ہو جاتی۔ شاید اسے انسانی لاش کا مثلہ کرنا پسند تھا۔
اتفاق دیکھیے کہ یہ سب وارداتیں اسی جگہ ہوئیں جہاں مہاشیر بکثرت ملتی ہے۔ چور شکاریوں کے باوجود مہاشیر کی تعداد کافی ہے اور اس مچھلی کو ہندوستانی مچھلیوں کی سردار کہا جاتا ہے۔ مجھے مچھلی کے شکار سے زیادہ دلچسپی نہیں کہ مجھ سے اتنا صبر نہیں ہوتا۔ میرے بہت سے دوست مچھلیوں کے ماہر شکاری ہیں اور کبھی کبھار میں ان کے ساتھ ایک دو دن کے لیے اس مقام پر آتا ہوں۔
ایسے چکر کبھی کبھار ہی لگتے ہیں کہ راستہ بہت خستہ اور اتار چڑھائی سے بھرا ہے اور موڑ اتنے تنگ کہ سٹڈبیکر عبور کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ میرے زیادہ تر دوستوں کے پاس برطانوی کاریں ہیں سو وہ بھی یہاں کام نہیں دیتیں۔ جب ہمیں کسی کی جیپ مل جاتی تو ہم یہاں آتے تھے۔
ایک بار ایسا ہوا کہ میرے بیٹے ڈونلڈ نے ایک پرانی جیپ خریدی۔ یہ جیپ ریاست آندھرا کی ملکیت تھی اور اس کا رنگ شوخ نیلا تھا۔ اس کا لگ بھگ ہر پرزہ ہی قابلِ مرمت تھا۔ ڈونلڈ نے خوب محنت اور کافی پیسہ لگا کر اسے سفر کے قابل بنایا۔
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ہم سب تلائی نووو مچھلیاں پکڑنے روانہ ہوئے اور ڈونلڈ اپنی جیپ چلا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ٹائنی سڈن بیٹھا تھا جو مہاشیر کا مشہور شکاری اور کافی لمبا چوڑا انسان ہے۔ پچھلی سیٹ پر میں، ڈونلڈ کا لنگوٹیا یار مروان چمار باغ والا اور تنگاویلو بیٹھے تھے۔ تنگاویلو کبھی میرا شکاری ہوتا تھا اور اب ہمارے گھر ملازمت کر رہا تھا۔ چھوٹے موٹے کام اس کی ذمہ داری تھے اور ہمارے پالتو جانوروں کو بھی وہی سنبھالتا تھا۔ اس بار وہ ہمارا خانساماں تھا۔
بنگلور ہمارے گھر سے تلائی نووو کا فاصلہ ۸۹ میل اور دریائے کاویری کا یہ کنارہ ۱۰ میل مزید آگے تھا یعنی کل فاصلہ ۹۹ میل بنتا ہے۔ بنگلور سے نکلتے ہوئے ہمیں کافی دیر ہو گئی اور سفر کے اختتام تک سورج غروب ہونے والا تھا۔ دریا کے کنارے سے چند گز دور مُٹھی، املی اور جامن کے درختوں کا جھنڈ تھا اور ہمیشہ اسی جھنڈ کے نیچے ہم کیمپ لگاتے تھے۔
پہنچے ہی ہمیں ۳ کام کرنے تھے اور ڈونلڈ، تنگاویلو اور میں جیپ سے اترتے ہی کام پر لگ گئے۔ ڈونلڈ نے ہاتھی کے قدموں کے تازہ نشان تلاش شروع کیے تاکہ ہمیں تسلی ہو کہ رات کو ہاتھی تنگ نہیں کریں گے۔ میں نے اپنے پیروں سے زمین سے پتے وغیرہ ہٹانے شروع کر دیے اور چھ یا سات گز کا دائرہ صاف کر دیا۔ پتھر اور لکڑیاں بھی ہٹا دیں تاکہ کوئی بچھو نہ چھپ سکے۔ اس علاقے میں لال رنگ کا بچھو ملتا ہے جس کا ڈنک ۸ سے ۱۰ گھنٹے تک انسان کو شدید درد کا عذاب دیتا ہے۔ تنگاویلو آگ جلانے کے لیے خشک لکڑیاں جمع کرنے لگا۔ جلد ہی ڈونلڈ نے بھی مدد کی کہ رات بھر جلنے کے لیے کافی مقدار میں لکڑیاں جمع ہو جائیں۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ ہمارے سونے کے بعد اگر ہاتھی آ بھی جاتے تو آگ کے ڈر سے قریب نہ آتے۔
ٹائنی سڈن پانی سے ابھرے پتھر پر جست لگا کر بیٹھا اور بہاؤ دیکھنے لگا۔ شاید وہ اگلے روز مچھلی کے شکار کے مناسب مقام کا تعین کر رہا تھا۔ مروان چمار باغ والا زمین پر لیٹ کر جیپ کے سفر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے لگا۔
ہم میں سے کسی نے تیندوے کا نہ سوچا کہ ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ چاند کافی دیر سے نکلنا تھا۔ مروان اپنے ساتھ مرغ بریانی اور سور کا ونڈالو لایا تھا جو ہم نے خوب مزے لے کر کھایا۔ پھر تنگاویلو نے چائے بنائی۔ پینے کا پانی ہم دریا سے لائے تھے۔ ٹائنی کا خیال تھا کہ دریا کے پانی میں ہیضے، تپ محرکہ یعنی ٹائفائیڈ اور دیگر بیماریوں کے جراثیم ہوتے ہیں۔ اس نے چائے کا انتظار کیا۔ پھر تنگاویلو نے رات بھر جلنے کے لیے الاؤ روشن کیا اور ہم سکون سے نیم دراز ہو کر تمباکو نوشی کرنے اور شکاری واقعات سننے اور سنانے لگے۔ ہمارے اوپر پتوں سے آسمان اور ستارے دکھائی دے رہے تھے۔ ایسی پرسکون تفریح ہمارے لیے نعمت سے کم نہ تھی کہ بے شمار لوگ ساری زندگی بڑے شہروں میں گزار دیتے ہیں اور انہیں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہو پاتا۔ پھر ہم سو گئے۔
پتہ نہیں کیسے، میری آنکھ کھل گئی۔ گھڑی پر ۳ بجے تھے۔ الاؤ بجھ گیا تھا اور اب محض انگار دہک رہے تھے۔ الاؤ کو جلائے رکھنے کی ذمہ داری تنگاویلو کی تھی جو مزے سے سو رہا تھا۔ ڈونلڈ میرے بائیں جانب خراٹے لے رہا تھا۔ دائیں جانب مروان اور ٹائنی سو رہے تھے۔ سب نے مچھروں اور شبنم سے بچاؤ کے لیے اپنے سر پر چادریں لپیٹی ہوئی تھیں۔
میں سوچنے لگا کہ میری آنکھ کیوں کھلی ہو گی۔ شاید جنگل سے کوئی آواز آئی ہو۔ شاید ہاتھی نے کوئی ٹہنی توڑی ہو۔ میں نے توجہ سے سنا مگر ڈونلڈ کے خراٹے اتنے اونچے تھے کہ مجھے کچھ نہ سنائی دیا۔
پھر مجھے معلوم ہو گیا کہ میں کیوں جاگا۔ قریب سے ہی بھوکے تیندوے کی آرا کشی کی آواز آنے لگی۔
جنگل میں تیندوے بالکل بے ضرر ہوتے ہیں۔ جب تیندوے آدم خور بن جائیں یا زخمی ہوں تو ان کی موجودگی عذاب بن جاتی ہے۔ یہ تیندوا کافی قریب تھا۔ اس نے شاید انگارے نہیں دیکھے۔ جونہی اسے آگ یا انگارے دکھائی دیتے تو وہ فرار ہو جاتا۔ یہ غنودگی کے عالم میں سوچنے لگا۔
پھر تیندوے کی آواز اور بلند اور زیادہ قریب سے آئی۔ اب تو اس نے انگارے دیکھ لیے ہوں گے۔ میں سونے ہی والا تھا اور سوچنے لگا کہ تیندوا ہمیں سونے کیوں نہیں دے رہا؟
پھر مجھے تیندوے کی غراہٹ سنائی دی۔ شاید اس نے ہمیں دیکھ لیا ہو گا اور اب غائب ہو جائے گا۔ مگر تیندوا پھر غرایا اور اس بار واضح پیغام تھا کہ اس کے ارادے ٹھیک نہیں۔
نیند سے بند ہوتی آنکھوں سے میں نے سوچا کہ عجیب تیندوا ہے۔ شاید ہمیں قریب سے دیکھنے آیا ہے یا پھر ویسے بہت نڈر ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ میں عین وسط میں سو رہا ہوں، سو مجھے اس سے کیا خطرہ۔
تیندوا پھر غرایا اور اس بار آواز نیچی اور لمبی تھی۔ میں اچانک اٹھ بیٹھا اور نیند سے بوجھل آنکھیں جھپکاتے ہوئے میں نے پاس رکھی ٹارچ اٹھا کر جلائی۔
ٹارچ کی روشنی میں تنگاویلو سے چند فٹ دور تیندوا جست لگانے کی حالت میں تیار دکھائی دیا۔ اس کا نشانہ تنگاویلو بنتا۔ میں نے فوراً پاس رکھی رائفل اٹھائی جو میں ہمیشہ بھر کر ساتھ رکھتا ہوں کہ تنگاویلو نے کام بگاڑ دیا۔
چھٹی حس نے دیر سے سہی، مگر اسے خبردار کر دیا۔ جونہی وہ اٹھا، اس کے پیر دیگچی سے ٹکرائے۔ شاید تنگاویلو کو اٹھتا دیکھ کر اور پھر دیگچی کی آواز سن کر تیندوے کو خطرے کا احساس ہوا اور اس نے فوراً پاس موجود جھاڑی کو جست لگائی اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ میرے ایک ہاتھ میں ٹارچ تھی اور دوسرے میں رائفل، سو میں گولی نہ چلا سکا۔
تنگاویلو خطرے سے بے خبر تھا۔ اس نے نہ تو تیندوا دیکھا اور نہ ہی اس کی آواز سنی۔ پھر میں نے سب کو جگا کر تیندوے کے بارے میں بتایا۔
پہلے سب حیران ہوئے۔ پھر ڈونلڈ بولا، ’ڈیڈی، آپ نے ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔ مروان کی مرغ بریانی سے آپ کا پیٹ خراب ہو گیا ہے۔ مجھے تو کچھ نہیں سنائی دیا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ قریب ترین تیندوا بھی کئی میل دور ہو گا‘۔
سب مجھ پر ہنسنے لگے اور مجھے شرمندگی ہونے لگی۔ ڈونلڈ اتنے اونچے خراٹے لے رہا تھا کہ اسے کچھ سنائی دینا ممکن ہی نہ تھا۔ میں اٹھا اور ٹارچ اور رائفل سمیت تنگاویلو کی طرف گیا اور ڈونلڈ سے کہا کہ وہ خود آ کر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس جگہ زمین سخت تھی اور کوئی نشان نہ ملا۔ ڈونلڈ الٹا طنزیہ لہجے میں بولا کہ دیکھنا کیا ہے؟ مروان بھی کہنے لگا کہ بغیر وجہ کے اسے کیوں اٹھایا گیا۔
پھر سب اپنی اپنی جگہ سو گئے اور کسی کو میری بات پر یقین نہ آیا۔ مگر مجھے معلوم تھا کہ ہمیں حقیقی خطرہ پیش آیا تھا اور سب سے زیادہ تنگاویلو کو خطرہ تھا کہ تیندوا اسی پر گھات لگا چکا تھا۔
میں نے دوبارہ آگ جلائی اور مزید لکڑیاں ڈال دیں۔ پھر رائفل اور ٹارچ کو ہاتھ تھامے میں بستر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ تیندوا آدم خور ہے اور تنگاویلو کی جان بروقت بچی تھی۔ تیندوے کے بولنے سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بھوکا ہے اور اس کی واپسی کے امکانات تھے۔
ایک گھنٹہ بعد نصف میل دور پہاڑ سے سانبھر کی آواز سنائی دی۔ سانبھر کے چند بار بولنے کے بعد چیتل بھی بول پڑے۔ شاید خطرے کا سبب ان کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ تیندوا چلا گیا تھا۔
چاند نکل آیا اور آس پاس کچھ مناظر دکھائی دینے لگے۔ دریا کا بہاؤ معمول کے مطابق جاری تھا۔ مجھے نیند آنے لگی۔ آخر صبح ہوئی اور سب سے پہلے ٹائنی اٹھا۔ اس نے مجھے دیکھا اور بولا: ’تم ساری رات اسی طرح بیٹھے تھے؟‘
میں نے محض اتنا کہا وہ تنگاویلو کو جگا کر چائے کا کہہ دے۔ پھر میں سو گیا۔
ٹائنی سارا دن مچھلیاں پکڑتا رہا۔ اس نے ۴ کلو وزنی مہاشیر پکڑی، ۲ تین تین کلو اور کچھ چھوٹی بھی۔ ڈونلڈ نے بھی کوشش کی مگر بے صبرا ہونے کی وجہ سے کچھ نہ پکڑ سکا۔ مروان نے کہا کہ وہ غسل کرے گا اور مچھلیوں کو تنگ نہ کرنے کے خیال سے تولیہ لے کر دریا کے بہاؤ کے ساتھ چل دیا۔ مجھے آدم خور تیندوے کا خیال آیا جس پر کسی نے یقین نہ کیا تھا۔ پھر میں نے اسے رکنے کا کہا اور بولا کہ میں ساتھ چلتا ہوں۔ رائفل اور تولیہ اٹھا کر میں اس کے ساتھ چل پڑا۔
سہ پہر کو ہم سب تھک گئے اور مجھے سخت نیند آ رہی تھی۔ ایک بار پھر کیمپ پر خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد ہمیں عجیب سے دھماکے سنائی دینے لگے۔
چور شکاری دن دیہاڑے اور بغیر کسی خوف کے مچھلیاں چوری کرنے نکل آئے تھے۔ جلد ہی موڑ مڑتی ہوئی دو کشتیاں دکھائی دیں جن میں سے ایک پر آدمی اور دوسرے پر مچھلیاں لدی تھیں۔
انہیں دیکھتے ہی ڈونلڈ نے ہوائی فائر کیا۔ پھر اس نے چلا کر کہا، ’ادھر آؤ، ورنہ دوسری گولی تمہیں لگے گی‘۔
ان لوگوں نے چپو چلانا بند کر دیے اور کشتیاں بہاؤ کے ساتھ بہنے لگیں۔ لگ رہا تھا کہ وہ آپس میں بحث کر رہے تھے کہ ہماری بات مان لیں یا فرار ہو جائیں۔ مروان نے انگریزی میں کہا، ’بدمعاشو، ادھر آؤ، ورنہ وہیں تمہیں وہیں ڈبو دوں گا‘۔ ظاہر ہے کہ اس کی بات کسی نے نہ سمجھی۔
آہستہ آہستہ یہ لوگ ہماری جانب آنے لگے۔ مگر کنارے سے چند گز دور رک گئے۔ ہم کچھ بلندی پر تھے سو ہمیں کشتی پر سینکڑوں مچھلیاں پڑی دکھائی دیں۔ ڈونلڈ نے انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ وہ ان کے جرم کے بدلے انہیں ابھی ڈبو دے گا۔ ان آدمیوں نے جواب دیا کہ انہیں تو اس میں کوئی جرم نہیں دکھائی دیتا۔ مچھلیوں کا کوئی مالک نہیں، انہیں کوئی بھی پکڑ سکتا ہے تو حکومت کیوں اجازت نامے بیچتی ہے؟ ہم کیوں انہیں دھمکا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
تنگاویلو نے عقلمندی کا ثبوت دیا اور انہیں کہنے لگا، ’ہمیں دو مچھلیاں دے دو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ‘۔
اس دوران میں نے پوچھا، ’تمہیں آدم خور تیندوے کے بارے میں کچھ علم ہے؟‘
میری بات سنتے ہی چور شکاریوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ آخر ایک آدمی نے مدھم آواز میں کہا، ’بے شک دورائی، ہم نے سنا ہے۔ اس نے بہت آدمی ہلاک کر دیے ہیں۔ چند روز قبل اس نے ہمارے ایک ساتھی بالو کو ہلاک کیا تھا۔ اسی لیے ہم دن کی روشنی میں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں ورنہ تو ہم یہ کام چاندنی رات میں ہی کرتے تھے۔ اب سورج ڈوبنے کے بعد کوئی آدمی گھر سے باہر نہیں نکلتا‘۔
سو میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔
ڈونلڈ کو جوش چڑھ گیا، ’ادھر کنارے پر آؤ۔ مچھلیوں کو گولی مارو۔ ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ اب ہمیں تیندوے کے بارے میں بتاؤ۔ ہم شکاری ہیں اور اس تیندوے کو ماریں گے‘۔
چور شکاریوں نے ہماری طرف رسی پھینکی اور ہم نے انہیں کنارے پر کھینچ کر کشتیوں کو درختوں سے باندھ دیا۔ جب یہ لوگ نیچے اترے تو ہمارے ساتھ دائرے کی شکل میں بیٹھ گئے۔ ڈونلڈ اور میں نے سوالات جاری رکھے اور ان کے جوابات سے ہمیں جو کہانی پتہ چلی، وہ میں اوپر بتا چکا ہوں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ تیندوا مادہ ہے اور آدم خور نہیں۔ وہ صرف حملہ کر کے اپنے شکار کو ہلاک کر کے چلی جاتی ہے۔ مگر جانے سے قبل لاش کو بری طرح بھنبھوڑتی ہے۔ اس کی یاداشت بھی بہت اچھی تھی کہ عام طور پر جنگلی جانور ایسے واقعات زیادہ دیر یاد نہیں رکھ پاتے۔ انسان کے ہاتھوں بچوں کی ہلاکت کو وہ نہیں بھول پائی تھی۔ یہ سب سن کر ہماری ہمدردیاں مادہ تیندوے کے ساتھ ہو گئیں۔
پھر ان لوگوں نے اجازت چاہی۔ سورج گرم ہو رہا تھا اور مچھلیوں کا شکار مشکل تر ہو جاتا کہ وہ گہرے پانی میں چلی جاتی ہیں۔ مجبوراً ہم نے انہیں جانے دیا۔ مگر ان کے جانے سے قبل تنگاویلو نے سب سے بڑی اور بہترین دو مچھلیاں اٹھا لیں۔
کشتیوں کے روانہ ہوتے ہی میں بولا، ’دیکھا، میں خواب نہیں دیکھ رہا تھا‘۔ ٹائنی کو مچھلی کا شکار سوجھ رہا تھا۔ ہم سب مل کر تیندوے کے شکار کا سوچنے لگے۔ ڈونلڈ اور مروان کافی پرجوش ہو رہے تھے۔ میرے خیال کچھ مختلف تھا۔
ان کا خیال تھا کہ مادہ تیندوا آدم خور نہیں تھی سو اس کو مارنا مناسب نہیں۔ میرا خیال تھا کہ اگر موقع ملتا رہا تو ایک روز اس نے آدم خوری شروع کر دینی ہے۔ چاہے اس کی وجہ بھوک ہو یا کوئی اور۔ میرا خیال تھا کہ ہمیں الگ الگ اس کے شکار کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا اکیلے آدمی پر حملے کا زیادہ امکان تھا۔ ویسے چور شکاریوں کے بقول وہ جماعت پر بھی حملہ کرنے سے گریز نہ کرتی تھی۔ تنگاویلو کا خیال تھا کہ ہم تلائی نووو سے جا کر دو بچھڑے خرید لائیں۔ میرا خیال تھا کہ بچھڑوں کی بجائے انسان پر حملے کے بہت زیادہ امکانات تھے۔
ڈونلڈ کے پاس اس کی اعشاریہ ۴۲۳ بور کی ماؤزر رائفل کے علاوہ ۱۲ بور کی بندوق بھی تھی۔ میرے پاس اعشاریہ ۴۰۵ بور کی رائفل کے علاوہ ۱۲ بور کی بندوق بھی تھی۔ سو اب ہمارے پاس ۲ رائفلیں اور ۲ بندوقیں ہو گئیں۔
طے ہوا کہ ہم دوپہر کا کھانا جلدی کھا لیں گے اور پھر میری بندوق میں گولی کے کارتوس ڈال کر ٹائنی دریا کے کنارے بہاؤ کی سمت دو گھنٹے مٹر گشت کرے گا۔ مروان ڈونلڈ کی بندوق کے ساتھ بہاؤ کی مخالف سمت چہل قدمی کرے گا۔ ڈونلڈ اور میں اپنی رائفلوں سمیت جنگل میں مختلف سمتوں کو جائیں گے۔ تنگاویلو ایک اونچے درخت پر چڑھ کر ہمارا انتظار اور کیمپ کے ساز و سامان کی نگرانی کرتا رہے گا۔ ۵ بجے تک سب نے لوٹ کر آ جانا تھا۔
ہم نے ایسا ہی کیا اور ہر آدمی پوری طرح محتاط ہو کر تیندوے کو تلاش کرتا رہا۔ ہم چاروں خود کو اگلے ۴ گھنٹے چارہ بنا کر پیش کرتے رہے۔ جنگل میں تیندوے سے زیادہ ماہر شکاری کوئی نہیں۔
میں نے اس سمت کا رخ کیا جہاں گزشتہ رات کو سانبھر اور چیتل کی آوازیں آئی تھیں۔ شاید اس سمت تیندوے کی کھوہ یا کچھار ہو۔ جنگل میں بے مقصد پھرنے سے تو بہتر ہی تھا۔ دریا کے کنارے چلتے ہوئے چند منٹ بعد مجھے جنگلی جانوروں کی گزرگاہ دکھائی دی جو شمال مشرقی سمت والی ڈھلوان کو جا رہی تھی۔ تلائی نووو کو جانے کا راستہ بھی اسی سمت تھا۔ یہ راستہ سانبھروں اور دیگر جانوروں کے استعمال میں تھا اور گرمیوں میں اس پر چل کر وہ دریا سے پانی پینے آتے تھے۔ اس پر ہرنوں اور ریچھ کے پگ بھی موجود تھے حالانکہ پچھلی رات کافی خاموش گزری تھی۔
یہ راستہ ترچھا ہو کر پہاڑ کے اوپر جا رہا تھا اور ہر ممکنہ رکاوٹ جیسا کہ پتھر، جھاڑی اور گھاس وغیرہ سے مناسب فاصلے سے ہو کر گزرتا تھا۔ ہرن کے خاندان کے جانور اسی طرح محتاط ہو کر چلتے ہیں تاکہ کسی آڑ کے پیچھے چھپے ہوئے درندے سے بچ سکیں۔ یہ بات میرے حق میں تھی۔ تیندوا کسی بھی چھوٹی سی رکاوٹ کے پیچھے چھپنے کے قابل ہوتا ہے۔ میں یہی سوچتا جا رہا تھا اور کچھ دیر بعد مجھے ڈونلڈ اور دیگر افراد کے بارے میں تشویش ہونے لگی۔ مجھے امید تھی کہ وہ بھی میری طرح محتاط ہو کر جا رہے ہوں گے۔
گرمی اتنی تھی کہ پرندے چپ کر گئے تھے اور میری پیش قدمی خاموشی سے جاری تھی۔ مجھے اپنے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے ہر ممکن رکاوٹ کا جائزہ لیتے ہوئے چلنا تھا کہ کوئی بھی درندہ چاہے جتنا پرانا آدم خور ہو، انسان سے کسی نہ کسی حد تک ضرور ڈرتا ہے اور اکثر عقب سے حملہ کرتا ہے۔
میں بار بار رک کر پیچھے بھی دیکھتا کہ کہیں گھاس یا کوئی ٹہنی ہلتی دکھائی دے تو تیندوے کی موجودگی کا علم ہو سکے۔ کئی بار غلط فہمی ہوئی کہ ٹہنی ہلتی دکھائی دیتی یا گھاس کھڑی ہوتی دکھائی دیتی تو کبھی سرسراہٹ کی اواز آتی تو کبھی کوئی خشک ٹہنی ٹوٹتی۔ جب بھی ایسا ہوتا تو میں اپنی اعشاریہ ۴۰۵ بور کی رائفل چھتیا کر اس جانب غور کرتا مگر خاموشی چھائی رہتی۔ مشکوک حرکت دوبارہ نہ ہوتی اور جنگل پر عجیب سی خاموشی چھا جاتی۔ ایسا کئی بار ہوا۔
مجھے احساس ہوا کہ میں اناڑیوں کی طرح گھبرا رہا ہوں۔ تیندوا شاید کئی میل دور ہو۔ کچھ دیر بعد مجھے لگا کہ شاید معاملہ اتنا سنجیدہ بھی نہیں جتنا چور شکاریوں نے بتایا تھا۔ عام دیہاتیوں کی مانند انہوں نے بھی مبالغہ آرائی کی ہو گی۔
میں پہاڑی کے کنارے تک پہنچ گیا اور پھر دوسری جانب نیچے اترنے لگا۔ میرے سامنے بانس کا گھنا جنگل تھا۔ اچانک ہلکی سی سرسراہٹ اور پھر بانس ٹوٹنے کی آواز آئی۔ میرے سامنے جنگل میں ہاتھی تھا۔
میں رک کر اس مقام کو دیکھنے لگا۔ اکیلے اور غول کی شکل میں ہاتھی کے رویے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اکیلا ہاتھی ہو اور میں بہت قریب چلا جاتا تو مسئلہ بن سکتا تھا۔ اگر غول ہوتا تو یہ بات لگ بھگ یقینی تھی کہ میری موجودگی کا علم ہوتے ہی وہ فرار ہو جائیں گے۔ میں جس راستے پر چل رہا تھا، وہ سیدھا اسی آواز کے مقام کو جا رہا تھا۔ اگر میں ہاتھی سے بچنے کی خاطر راستہ چھوڑ دیتا تو بانس کے گھنے جنگل سے گزرنا میرے لیے ممکن نہ ہوتا اور اگر ایسے کسی مقام پر تیندوا یا ہاتھی حملہ کرتا تو میرے لیے بچاؤ کا کوئی امکان نہ تھا۔ میں نے راستہ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ہوا میرے عقب سے چل رہی تھی۔ سامنے بانس کے جنگل سے مجھے کوئی آواز نہ سنائی دی۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا مگر خاموشی ہی رہی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہاتھی میری موجودگی کو بھانپ چکا ہے۔ اب وہ یا تو چلا گیا ہو گا یا قریب آنے کا منتظر ہو گا۔
نہیں۔ اگر ہاتھی فرار ہوا ہوتا تو مجھے اس کی آواز سنائی دے جاتی کہ ویسے تو ہاتھی اپنے بھاری بھرکم جثے کے باوجود بے آواز چلتے ہیں مگر بانس کے خشک پتوں پر چلنے کی وجہ سے آواز آ جاتی۔ میں نے یہ سوچا کہ ہاتھی میرا منتظر ہو گا۔ میں مزید ۱۰ منٹ رکا کہ شاید ہاتھی چلا جائے۔ اس نے حرکت نہ کی۔ شاید وہ بھی میری نقل کر رہا تھا۔
مجھے زیادہ دیر رکنا چاہیے تھا مگر میں بے صبرا ہو کر چل پڑا۔ یہ غلط حرکت تھی اور اس کا نتیجہ بہت برا نکل سکتا تھا۔
میرا خیال تھا کہ میں عام انداز سے چلتا اور خود سے باتیں کرتا ہوا جب قریب پہنچوں گا تو ہاتھی بھاگ جائے گا۔ میں زور سے سیٹی بجاتا اور باتیں کرتا چل پڑا۔ ہاتھی نے فوراً حملہ کر دیا۔ چنگھاڑتا ہوا ہاتھی سیدھا میری جانب لپکا۔ اس کی آمد سے جھاڑیاں لرز رہی تھیں۔ اس کی سونڈ مڑی اور کان کھوپڑی کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔
اس علاقے میں پاگل ہاتھی کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اگر میں اسے مارتا تو محکمہ جنگلات مسئلہ کھڑا دیتا۔ فرار کا مطلب یقینی موت تھا۔ اگر میں گولی چلا کر اسے زخمی کرتا تو یہ بے رحمی ہوتی۔
میں نے چلاتے ہوئے رائفل اٹھائی اور اس کے سر کے اوپر ہوا میں گولی چلا دی۔ اگر وہ نہ رکتا تو دوسری گولی اس کے ماتھے پر لگتی۔
گولی کی آواز سن کر ہاتھی نے فوراً رکنے کی کوشش کی کہ اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ میں نے تین چار قدم بھاگ کر دوسری گولی بھی ہوا میں چلا دی۔
ہاتھی مڑ کر بھاگا۔ اس کی آواز میں غصے کی بجائے دہشت تھی۔ جب ہاتھی نظروں سے اوجھل ہوا تو میں قریبی پتھر پر بیٹھ کر خود کو لعن طعن کرنے لگا کہ اتنا بے صبرا نہیں ہونا چاہیے۔ گولیوں کی آواز پہاڑیوں میں بہت زور سے گونجی تھی اور تیندوا دکھائی دینے کے امکانات ختم ہو گئے۔ کیمپ سے نکلے مجھے نصف گھنٹہ ہوا اور میں سوچنے لگا کہ مزید ڈیڑھ گھنٹہ مٹرگشت کروں یا نہ کروں۔
چند منٹ سوچ بچار کے بعد میں نے سوچا کہ اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اٹھ کر میں چل پڑا۔ اب دس پندرہ منٹ تک تو تیندوے کے حملے کا کوئی خطرہ نہ تھا کہ گولیوں کی آواز نے دور دور تک جانور بھگا دیے ہوں گے۔ میں بانس کے جنگل سے گزرا اور اونچائی کے ساتھ ساتھ بانس کم ہوتے گئے۔ بانس کی جگہ ببول اور املی کے کم بلند درخت دکھائی دینے لگے اور اونچی گھاس بھی۔ اس جگہ پہنچ کر راستہ ختم ہو گیا۔ یہاں بے شمار گزرگاہیں تھیں کہ یہاں ہرن ہر جگہ گھاس چرنے لگتے تھے۔
جگہ جگہ سانبھر اور چیتل کی مینگنیوں کے ڈھیر دکھائی دیے۔ میرے دائیں جانب انجیر کا اونچا درخت تھا جس کا پھل پکا ہوا تھا۔ دن بھر بندر اور رات کو چمگادڑیں اپنا پیٹ بھرتیں تو کافی پھل نیچے گرتا جسے کاکڑ کھانے آتے تھے۔
کاکڑ چھوٹی بھیڑ کی جسامت کا کافی نازک جانور ہے۔ اس کے جسم کا رنگ یکساں سرخی مائل بھورا اور نر کے سر پر چھوٹے سینگ ہوتے ہیں۔ انہیں انجیر اور دیگر جنگلی پھل بہت پسند ہوتے ہیں۔ وہ ہر دوسرے روز ہمیشہ ایک ہی مقام پر آ کر مینگنیاں کرتے ہیں۔ ان کی یہ عادت اس کے شکاری انسان اور درندے بخوبی جانتے ہیں اور مطلوبہ جگہ چھپ کر صبر سے بیٹھنے سے اس کا شکار آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
درندوں کو ہرن وغیرہ کی عادات و سکنات سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے کہ یہ ان کی خوراک ہیں۔ جہاں ہرن عام ہوں، وہاں درندے بھی چھپ کر شکار کے لیے موجود ہوتے ہیں۔
تھوڑی دور پہنچا تو تھوڑا دائیں اور سامنے سے پرندوں کی آوازیں آتی سنائی دیں جو تیزی سے بلند ہوتی جا رہی تھیں۔ یہ جنگلی کتوں کا غول تھا جو سیدھا میری ہی جانب آ رہا تھا۔ میں فوراً پاس املی کے درخت کے پیچھے چھپ گیا۔
ہندوستانی جنگلوں میں جنگلی کتے سے زیادہ چالاک شکاری کوئی نہیں۔ ہر زندہ چیز اس کا شکار ہے۔ جب یہ غول کسی جانور کے پیچھے لگ جائے تو اس کی قسمت پر مہر لگ جاتی ہے۔ یہ اس کا پیچھا بے رحمی اور ذہانت سے کرتے ہیں۔ جب غول کا بڑا حصہ کسی جانور کا پیچھا کرتا ہے تو پرندوں جیسی آوازیں نکالتا جاتا ہے۔ چند کتے پہلے ہی دوڑ کر متوقع راستے کے اطراف میں چھپ جاتے ہیں اور جب جانور بھاگتے ہوئے قریب پہنچے تو حملہ کرتے ہیں۔ اگر وہ جانور کو نہ گرا سکیں تو بھی اتنی دیر روک لیتے ہیں کہ باقی کتے پہنچ جاتے ہیں۔ ایک بار میں نے مادہ سانبھر کو ان کتوں کی دہشت سے خشک دریا کی تہہ میں بھاگتے دیکھا تھا۔ اس کی آنتیں کئی گز پیچھے تک لٹک رہی تھیں اور آنکھیں نوچی جا چکی تھیں۔ کئی کتے اس کے گلے اور اطراف سے لٹکے ہوئے تھے۔
سامنے سے مجھے کسی جانور کے بھاگنے کی آواز آئی اور پھر میں نے نر سانبھر دیکھا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں اور اندھا دھند بھاگ رہا تھا۔ اگلے لمحے ایک زوردار دہاڑ سنائی دی اور ایک دھاری دار جانور اس کی پشت پر سوار ہو گیا۔
میرا اندازہ درست نکلا۔ شیر اسی میدان میں شکار کی تلاش میں تھا۔ جب اس نے کتوں کی آوازیں سنیں تو اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ کسی جانور کو بھگا رہے ہیں۔ عام طور پر شیر جنگلی کتوں سے کتراتے ہیں کہ جنگلی کتے بہت ذہین، بے رحم اور تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں۔ کتے اور سانبھر سیدھے شیر کی جانب آ رہے تھے، سو اس نے سوچے سمجھے بنا سانبھر پر حملہ کر دیا۔
شیر ان کتوں کی آوازیں سن رہا تھا، اس نے میری آہٹ پر توجہ نہ دی تھی۔
جب شیر سانبھر کی پشت پر سوار ہوا تو سانبھر بیچارہ وہیں بیٹھ گیا اور زور سے چلایا۔ اونچی گھاس میں سانبھر اور شیر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ پھر مجھے سانبھر کی گردن ٹوٹنے اور کھر چلانے کی آواز آئی۔ اگلے لمحے اس مقام پر جنگلی کتے غراتے ہوئے پہنچ گئے۔
اپنے سامنے شیر کو دیکھ کر پہلے تو کتے چکرا گئے مگر اگلے ہی لمحے انہوں نے شیر اور سانبھر کو گھیر لیا۔ میں نے ۹ کتے شمار کیے۔
اب کتوں نے لمبی لمبی چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ میں نے کئی برس پہلے یہاں سے بہت دور چملا وادی میں اسی طرح کی آواز سنی تھی جب جنگلی کتوں نے شیر کا پیچھا کر کے اسے گھیر لیا تھا۔ ان چیخوں کا مطلب تھا کہ ان کتوں کو کمک درکار ہے۔ کئی میل تک موجود ہر جنگلی کتا یہ آواز سنتے ہی ان کی مدد کو دوڑتا۔ شاید یہ ان کی نسل کا قانون ہے جس سے کوئی جنگلی کتا انحراف نہیں کرتا۔
شیر دھمکی آمیز انداز میں اٹھا اور مجھے صاف دکھائی دینے لگا۔ اس نے چکر کاٹ کر دیکھا کہ کل کتنے کتے تھے۔ وہ پوری قوت سے غرا رہا تھا اور اس کی دم مسلسل حرکت کر رہی تھی اور غصے سے چہرہ بگڑا ہوا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ شیر غصے کے ساتھ ساتھ گھبراہٹ اور دہشت کا بھی شکار ہے۔
تمام کتے اپنی جگہ ثابت قدم رہے اور مسلسل چلاتے رہے۔ شیر کی غراہٹ اور کتوں کی چیخیں عجیب تماشا لگ رہی تھیں۔ پورا جنگل ان کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔
شیر کو احساس تھا کہ ہر گزرتا لمحہ اس کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔ اس نے ایک کتے کی طرف جست لگائی تو وہ آرام ایک طرف ہو گیا جبکہ دیگر کتوں نے پیچھے سے شیر پر حملہ کیا۔ شیر کو علم تھا کہ ایسا ہو گا، سو اس نے فوراً گھوم کر پنجے چلائے۔ ایک کتا اس کے پنجے کی زد میں آ کر اچھلا اور دور گرا۔ اس کی پچھلی ٹانگ جیسے جسم سے الگ ہو گئی ہو۔ اتنی دیر میں باقی کتے شیر کے پہلو کو بڑھے۔ شیر نے پھر چکر کاٹا تو کتے دائرے کی شکل میں کھڑے ہو گئے۔ جونہی کسی کتے کو موقع ملتا، وہ شیر کے پیچھے سے بوٹی نوچنے کی کوشش کرتا۔
شیر غصے سے پاگل ہو رہا تھا اور اس نے دو چکر کاٹے تو دو کتے جو اس پر حملہ آور ہو رہے تھے، بچ نہ سکے اور اس کے پنجوں کا شکار ہو گئے۔ ایک کتا رینگ کر دور ہونے لگا تو شیر نے غلطی کر دی اور اس کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ اس نے لپک کر کتے کے جسم میں اپنے دانت گاڑ دیے۔
عقب اور پہلو سے کتوں نے سیدھا حملہ کر کے اس کی بوٹیاں نوچنا شروع کر دیں۔ شیر دہاڑنے لگا مگر اس کی دہاڑ میں خوف کا عنصر واضح تھا۔
کتے اسے چھوڑ کر الگ ہوئے تو شیر کو سانس لینے کا موقع ملا۔ اب ۶ کتے باقی تھے اور ان میں سے بھی کئی زخمی تھے مگر شیر بھی زخمی ہو چکا تھا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ کتوں بھونکتے اور وقفے وقفے سے اسے کاٹتے رہے۔ شیر دہاڑا مگر اس کے جسم سے کافی خون بہہ رہا تھا۔
اب میں نے دور سے دوسرے جنگلی کتوں کی آوازیں سنیں جو کئی سمتوں سے آ رہی تھیں۔ کمک پہنچنے والی تھی۔
شیر نے جونہی یہ آواز سنی تو اس نے لڑائی کو بھلا کر دوڑ لگائی۔ زخمی کتے بھی اس کے پیچھے دوڑے۔
ایک منٹ بعد دوسرے کتے پہنچ گئے۔ پہلے تین کتے پہنچے، پھر ایک، پھر دوسرا۔ ہر کتا چند لمحے رک کر جائے وقوعہ کا جائزہ لیتا اور پھر خون کے نشانات پر بھاگتا۔ ایسا لگتا تھا کہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھ کر ان کو مزید جوش چڑھ جاتا تھا۔ ان کا رخ زخمی شیر اور چھ کتوں کی سمت تھا۔
پھر ۱۲ کتے پہنچے۔ چند لمحے بعد وہ بھی شیر کے پیچھے دوڑ پڑے۔ یعنی شیر کے پیچھے ۶، پھر ۵ اور اب ۱۲ مزید کتے لگے تھے۔ اس کی قسمت پر مہر لگ گئی کہ لگ بھگ ۲۴ کتے اس کے پیچھے تھے۔ جب تک شیر کی بوٹی بوٹی نہ ہو جاتی، کتے اس کا پیچھا نہ چھوڑتے۔
جلد ہی سب شور دور جا کر خاموش ہو گیا۔ میں املی کے درخت کے پیچھے سے نکلا اور تینوں کتوں کو دیکھنے لگا۔ سانبھر کی لاش بھی وہیں پڑی تھی۔ شیر کو مارنے کے بعد کتے آ کر سانبھر کو بھی کھاتے۔
جب میں کیمپ پہنچا تو ٹائنی واپس آ چکا تھا اور میرے بعد مروان بھی پہنچ گیا۔ انہیں نہ تو کچھ دکھائی دیا تھا اور نہ ہی کچھ سنائی دیا۔ ڈونلڈ کافی دیر سے پہنچا۔ اسے تیندوے کے پگ دکھائی دیے تھے اور وہ پیچھا کرتے کرتے غار تک جا پہنچا۔ اس نے اندر پتھر پھینکے تاکہ تیندوے کو باہر نکالے مگر اندر سے ایک ریچھنی اور اس کی پشت پر سوار دو بچے باہر نکلے۔ شکر ہے کہ ریچھنی کو ڈونلڈ نہ دکھائی دیا ورنہ وہ حملہ کر دیتی۔ ایک ہی غار میں ریچھنی، اس کے بچے اور تیندوا نہیں رہ سکتے۔ سو ڈونلڈ آگے بڑھا۔
عجیب بات دیکھیے کہ میری چلائی ہوئی دونوں گولیوں کی آواز کسی نے نہ سنی تھی۔ البتہ اب ہر آدمی شیر کا انجام جاننے کے لیے بے چین تھا۔
اس مرتبہ ہم سب نے مل کر آگ کے لیے لکڑیاں جمع کیں اور باری باری دو دو گھنٹے جاگنے کا فیصلہ کیا۔ کھانا کھا کر ہم نے تمباکو نوشی کی اور گپیں لگائیں۔ پھر یکے بعد دیگر سب سوتے چلے گئے۔ نو بجے تنگاویلو تنہا جاگ رہا تھا۔ پہلی باری اسی کی تھی۔ مروان کی دوسری باری تھی، پھر میں اور پھر ڈونلڈ اور پھر ٹائنی جاگتا۔ مروان نے ٹائنی کے ساتھ باری بدلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔
جونہی میں سویا، مجھے پہاڑی کے اوپر سے شیر کی دہاڑ سنائی دی۔ شاید وہ کتوں کا شکار بننے والے شیر کا جوڑا ہو گا۔
جب تنگاویلو نے مروان کو گیارہ بجے جگانے کی کوشش کی تو اس نے سنی ان سنی کر دی۔ میں نے تنگاویلو سے کہا کہ وہ اس پر پانی انڈیل دے۔ تنگاویلو نے سوچا کہ ملازم کے ہاتھوں مروان پر پانی پڑا وہ کافی غصے ہو گا۔ نتیجتاً مجھے اٹھ کر پانی ڈالنا پڑا۔ مروان اٹھ گیا اور ایک بجے اس نے مجھے جگانے کی بجائے مجھ پر پانی انڈیل کر بدلہ اتارا۔
سونے سے قبل اس نے بتایا کہ نصف شب کے بعد اس نے مسلسل کئی منٹ تک پہاڑی پر تیندوے کی آواز سنی۔ پھر اس نے اہم بات بتائی کہ ابھی چند منٹ قبل ایک جنگلی مرغ چلاتا ہوا اڑ گیا۔ یہ آواز ہمارے کافی قریب سے آئی تھی۔ مروان نے اسے اہم نہ سمجھا مگر میں سمجھ گیا کہ تیندوا قریب ہو گا۔
میں نے مروان کو کچھ نہ کہا اور وہ سونے کو لیٹ گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کی اطلاع اہم ہے۔ جب پرندے رات کو سونے کے لیے جگہ چنتے ہیں تو بغیر کسی وجہ کے اسے نہیں چھوڑتے اور اندھیرے میں اڑنے سے کتراتے ہیں۔ یہ جنگلی مرغ کسی خطرے کی وجہ سے اڑا تھا۔ اب یہ خطرہ اژدہے سے بھی ہو سکتا ہے اور تیندوے سے بھی یا کوئی جنگلی بلی سے بھی۔
میں اس بارے میں جتنا سوچتا، اتنا ہی احساس بڑھتا چلا گیا کہ یہ مادہ تیندوا ہی ہو گی جو حملہ کرنے آ رہی ہو گی۔ میں نے آگ کو اس طرح چھیڑا کہ روشنی تیز ہو جائے۔ پھر میں نے قریب موجود مُٹھی کے درخت سے پیٹھ لگائی اور بیٹھ گیا۔ اس طرح میں عقب سے حملے سے محفوظ ہو گیا جبکہ میرے ساتھی سامنے اور دائیں سمت سوئے ہوئے تھے۔ میں نے پوری توجہ سے جنگل کی آوازیں سننا شروع کر دیں۔
دو بجے تک سکون رہا۔ دریا کے بہاؤ کی آواز آتی رہی جو اتنی بلند تھی کہ جنگل کی دیگر آوازیں دب کر رہ گئی تھیں۔ کبھی کبھار پانی سے کوئی مچھلی ہوا میں اچھلتی اور پھر واپس پانی میں گرتی تو اس کی بھی آواز سنائی دیتی۔ دریا کے دوسرے کنارے سے بگلا بول رہا تھا۔ اچانک مجھے آسمان پر الو کا ہیولا دکھائی دیا۔ یہ الو جنگل میں ملتا ہے اور خرگوش وغیرہ سے پیٹ بھرتا ہے۔
پھر مجھے مدھم سی آواز سنائی دی۔ پانی کے شور میں اس آواز کا سننا مشکل تھا مگر یہ واضح اور قریب تر ہو رہی تھی۔ یہ آواز میرے پیچھے جھاڑیوں کے جھنڈ سے آ رہی تھی جو بہت گھنی اور تاریک تھیں۔ جونہی میں نے یہ آواز سنی، میں نے فوراً پہچان لی۔
مجھے علم ہو گیا کہ مادہ تیندوا چھپی ہوئی ہے جہاں سے اسے ڈونلڈ وغیرہ سوئے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب وہ حملہ کرنے کے لیے حوصلہ جمع کر رہی ہے۔ چند لمحے بعد وہ جست لگا دیتی۔
مجھے مادہ تیندوا دکھائی نہ دے رہی تھی۔ اس سمت محض اندھیرا تھا۔ اگر میں ٹارچ جلاتا تو روشنی ہو جاتی۔ اگر مادہ تیندوا جھاڑی کے پیچھے چھپی ہوتی تو خبردار ہو کر فرار ہو جاتی۔ سو میں نے صبر کیا۔
مادہ تیندوا صبر نہ کر سکی، اس نے حملہ کیا۔
مختصر مگر تیز غراہٹوں کے ساتھ مادہ تیندوا جست لگا کر میرے ہمراہیوں سے چند فٹ دور پہنچ گئی۔ اگلی چھلانگ میں وہ ان پر ہوتی۔
میں منتظر اور رائفل شانے سے لگا کر ٹارچ پر انگلی جمائے ہوئے تھا۔
میری ٹارچ سے روشنی کی شعاع نکلی اور سیدھا مادہ تیندوے پر پڑی۔ روشنی دیکھتے ہی وہ ایک لمحے کو رکی۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔
میں لبلبی دبانے والا تھا کہ کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور پھر دوسرا دھماکہ سنائی دیا۔
’وہ مارا‘۔ اٹھتے ہوئے ڈونلڈ خوشی سے چلایا۔ لیٹی حالت میں وہ نیند سے بیدار ہو کر دو گولیاں چلا چکا تھا۔
پھر باقی لوگ بھی اٹھ گئے اور حیران ہونے لگے۔ تنگاویلو چلایا تو ٹائنی ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ مروان اس طرح لوٹنیاں مارتا رہا جیسے گولی لگی ہو۔
پھر ان کی نظر مرتی ہوئی مادہ تیندوے پر پڑی۔ وہ سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کی آنکھیں ٹارچ کی روشنی میں متحرک تھیں۔ اس کی آنکھیں ایک جگہ رک گئیں اور ان کا رنگ بدل کر ہلکا نیلا ہو گیا۔ مجھے علم ہو گیا کہ وہ مر چکی ہے۔
پھر ہم نے جمع ہو کر اس کا معائنہ کیا۔ مادہ تیندوا بہت خوبصورت اور بہترین حالت میں تھی۔ مجھے اس کی ہلاکت پر افسوس ہوا مگر اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ پھر میں نے ڈونلڈ کو اس کی مہارت پر مبارکباد دی۔
۷۔ شیر خان اور بیٹّا مُگالم کا آدم خور
بہت برس قبل ایک ریٹائرڈ برطانوی منتظم (کلکٹر) نے ضلع سالم میں گتھراین کے پہاڑی سلسلے کے شمالی جانب ۳۰۰ ایکڑ جنگلی زمین خریدی۔ پھر اس نے یہاں بہت خوبصورت سنگی بنگلا بنوایا جو قلعہ لگتا تھا۔
اس کو جنگل سے محبت تھی اور اس نے اپنی زمین پر جنگل کا بہت خیال رکھا اور امبل اور دیگر خاردار جھاڑیوں کو کاٹنے کے لیے قلی بھرتی کیے۔ امبل وغیرہ جنوبی ہندوستان کے جنگلوں میں اس وقت پھیلنا شروع ہوئی تھیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ امبل کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھتی گئی اور اب محفوظ جنگل کے ہزاروں ایکڑ تک پھیل چکی ہے۔ محکمہ جنگلات سمیت کئی حکومتی محکموں نے اس لعنت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی ہے۔ محدود مقامات پر زہریلے سپرے کیے گئے ہیں۔ ایک مخصوص قسم کا سفید کیڑا امبل پر پلتا اور اسے مار دیتا ہے۔ اس کی پرورش کی گئی مگر ایک یا دو ایکڑ سے امبل مٹانے کے بعد پتہ نہیں کیوں یہ کیڑے خود ختم ہو جاتے ہیں۔ شاید امبل کی جھاڑیاں زہر پیدا کرتی ہیں یا کوئی اور وجہ ہو۔
جنگل کی آگ بھی باقاعدگی سے لگتی ہے۔ امبل بھی جل جاتی ہے مگر پھر جلی ہوئی جڑوں سے پھر اگ آتی ہے۔
عجیب بات دیکھیے کہ امبل کے چند پتوں کو مسل کر ان کا رس جلد کی خراش یا عام زخم پر لگایا جائے تو زخم بہت جلد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں یہ ٹنکچر آئیوڈین جتنی مفید ہے مگر اس سے تکلیف نہیں ہوتی۔
اس آدمی نے اپنی زمین کو بیٹّا مُگالم کا نام دیا کہ اس تعلق کا یہی نام تھا۔ اس قلعے کا نام جنگلی قلعہ تھا۔ جب امبل ختم ہوئی تو جنگل بڑھنا شروع ہوا اور درختوں کی درمیانی جگہ پر گھاس اگ آئی۔ گھاس کے اتنے عمدہ قطعے دیکھ کر ہرن اور جنگلی سور بھی پہنچ گئے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے فطری دشمن شیر، تیندوے اور جنگلی کتے بھی دکھائی دینے لگے۔
پھر حالات بدل گئے۔ کلکٹر کی موت واقع ہو گئی اور بیٹّا مُگالم کی زمین اور جنگلی قلعے کو اینگلو انڈین آدمی نے خرید لیا جس میں اس کی دیکھ بھال کی استطاعت نہ تھی۔ ایک بار پھر سے امبل زور پکڑنے لگی اور گھاس کم ہوتی گئی۔ نتیجتاً جنگلی سور اور ہرن کم ہوتے گئے مگر درندے باقی رہے اور ان کی بھوک بڑھتی گئی۔
ایک روز اینگلو انڈین آدمی بھی مر گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا۔ نتیجتاً جنگلی قلعہ غیر آباد ہو گیا۔ چاندنی راتوں کو دیہاتی آ کر دیواریں گرا کر گرینائٹ یعنی سنگِ خارا کی سلیں لے جاتے۔
جنگلی سور یکسر جبکہ ہرن زیادہ تر ختم ہو گئے۔ شیر، تیندوے اور جنگلی کتے ان کے پیچھے جانے لگے۔ مختلف اقسام کے جنگلی مرغ اور مور یہاں رہنے لگے۔ پورے علاقے کی ہیئت بدل گئی۔ کبھی شیر یا تیندوے کا ادھر سے گزر ہوتا تو اکا دکا چیتل یا کاکڑ اس کے پیٹ کی آگ بجھاتے۔ یہاں رہنے والے درندے عموماً بھوکے ہی رہتے۔
یہاں سے ۴ میل دور ائیور کا گاؤں ہے جہاں ۲۵ سالہ آدمی گراپّا رہتا تھا۔ گراپّا نے اپنی ذات اور حیثیت کے اعتبار سے شادی میں بہت دیر کی کہ یہ لوگ عموماً ۱۷ یا ۱۸ سال کی عمر کے لڑکے کو ۱۳ یا ۱۴ سال کی لڑکی سے بیاہ دیتے ہیں۔ گراپّا کا باپ بہت غریب تھا، سو وہ اپنے بیٹے کی شادی جلدی نہ کر سکا کہ اس کے پاس جہیز میں دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ اب ایسے غریب آدمی کے غریب بیٹے سے کون شادی کرتا۔
آخر لڑکی مل گئی۔ پتہ چلا کہ وہ لڑکی بہری اور پیدائشی لنگڑی ہے۔ شاید اس لیے اس کے باپ نے گراپّا کو اپنا داماد بنانا منظور کر لیا۔
اب مسئلہ یہ ہوا کہ دلہے کے پاس اپنا گھر نہیں تھا۔ اس کے باپ نے اپنا جھونپڑا بیچ دیا تھا۔ ہندوستان میں بھی اس بات کا تصور ممکن نہیں کہ دلہا اپنی نوبیاہتا بیوی کو گھر کے علاوہ کہیں اور لے جائے۔
اس لیے گراپّا نے جلدی سے گھر بنانے کا سوچا۔ اس کے پاس پیسے تو نہیں تھے مگر جنگلی قلعے میں ابھی کافی پتھر باقی تھے۔ ان میں سے بڑے اور بہترین پتھر پہلے ہی چوری ہو چکے تھے۔
چاندنی رات کا انتظار کرنے کی بجائے اس نے گاؤں کے مکھیا سے بیل گاڑی ادھار مانگی۔ مکھیا نے یہ سوچ کر کہ جب فصل کی کٹائی کا وقت آئے گا تو گراپّا سے بیگار لے گا، اس نے خوشی سے بیل گاڑی دے دی۔
گواہوں سے بچنے کے لیے گراپّا نے یہ چوری اکیلے کرنے کی ٹھانی۔ دوپہر کے کھانے کے وقت وہ بیل گاڑی لے کر نکلا تاکہ کافی پتھر جمع کر کے مغرب تک لوٹ آئے۔ اکیلے آدمی کے لیے یہ بہت مشقت والا کام ہے۔ چھوٹے اوزار سے پتھروں کو دیوار سے نکالنا اور پھر بیل گاڑی تک لے جانا بہت مشکل کام ثابت ہوا اور جب سورج ڈوب چکا تھا اور شب بیدار پرندے بولنے لگے تو اس نے گھر لوٹنے کا سوچا۔ اگلے روز وہ کسی اور کی بیل گاڑی ادھار لے آتا۔
اس نے بیل کو مار مار کر چلایا۔ بیل بھی کافی بیزاری سے گھر کو چل پڑا کہ سارا دن اسے نہ تو کچھ کھانے کو ملا تھا اور نہ ہی پینے کو۔ الٹا یہ اجنبی آدمی مار بھی رہا تھا۔ گراپّا اس کے پیچھے پیچھے آرام سے چلتا آ رہا تھا۔ ابھی تک ہر طرف سکون تھا۔
اس کے انتظار میں بیٹھا شیر بہت بھوکا ہو گا۔ شاید وہ بیمار یا زخمی ہو گا اور جنگلی جانوروں سے پیٹ نہ بھر سکتا ہو گا۔ مگر وہ آدم خور نہ تھا کہ اس علاقے میں کسی انسان پر حملہ ہوئے بہت عرصہ گزر چکا تھا۔
بیل گاڑی ببول کے درخت کے پاس سے گزری جس کے نچلے حصے پر امبل کی بیل چڑھی ہوئی تھی۔ شیر اسی جھاڑی کے اندر چھپا تھا اور وہیں سے جست لگائی۔ اگلے روز میں فارسٹ رینج افسر، کئی چوکیداروں، سب انسپکٹر اور سپاہی کے ساتھ آیا تو امبل کی کئی شاخیں ابھی تک مڑی ہوئی تھیں۔
گراپّا کو علم نہ ہوا کہ اس پر کیا بیتی مگر اس نے خود کو اچانک شیر کے منہ میں پایا ہو گا۔ اس کا شور سن کر بیل بھاگ کھڑا ہوا۔ گاڑی پر کافی پتھر لدے تھے اور اگلے ہی موڑ پر بیل اور گاڑی، دونوں ہی کھڈ میں جا گرے۔
عجیب بات دیکھیے کہ گاڑی تو تباہ ہو گئی مگر بیل کو خراش تک نہ آئی۔ گاڑی سے آزاد ہو کر بیل نے سیدھا ائیور کا رخ کیا اور جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اندھیرا چھائے بہت دیر ہو چکی تھی۔
ائیور کے ساتھ ہی محکمہ جنگلات کا سکول ہے جہاں سرکاری افسران رنگروٹوں کو عملی تربیت دیتے ہیں۔ اس سکول میں ایک رینج افسر مستقل متعین ہے اور محکمے کی عمارات اور نرسریوں کی دیکھ بھال کی خاطر دو یا تین بزرگ فارسٹر اور کئی چوکیدار بھی رہتے ہیں۔
مکھیا نے جب اپنے بیل کو بغیر گاڑی کے دیکھا تو اسے شک ہوا کہ کسی جنگلی ہاتھی نے حملہ کر کے گاڑی کو تباہ اور گراپّا کو ہلاک کر دیا ہو گا۔ وہ آدھے گاؤں کو ساتھ لے کر سیدھا رینج افسر کے پاس پہنچا تاکہ اس کی اجازت سے وہ گراپّا کی تلاش کو نکلے۔ اجازت تو فوراً مل گئی مگر جانے کے لیے لوگ ہچکچانے لگے۔ آخر چار یا پانچ آدمی تیار ہوئے مگر تاریکی اتنی گہری ہو چکی تھی کہ جانا بیکار تھا۔ دن دیہاڑے بھی پاگل ہاتھی کا سامنا کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا تو رات کے اندھیرے میں کیا ہو پاتا۔ طے یہ ہوا کہ تلاش کا کام اگلی صبح شروع جائے گا۔ مکھیا اپنی گاڑی کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہوتا اور گراپّا کو برا بھلا کہتا رہا۔
اگلی صبح کھوجی جماعت نکلی۔ جلد ہی انہیں کھڈ میں پڑی گاڑی کی باقیات دکھائی دیں مگر گراپّا غائب تھا۔ زمین پر نشانات سے اندازہ ہوا کہ بیل گاڑی بہت تیزی سے موڑ پر پہنچی تھی مگر اس کی وجہ کیا ہو گی؟
ابھی تک ان لوگوں کے ذہن پر ہاتھی سوار تھا، انہوں نے سڑک پر نشانات کا پیچھا جاری رکھا اور جلد ہی اصل وجہ کا علم ہو گیا۔ پوری کہانی خشک اور نرم مٹی پر ثبت تھی۔ خون کے ساتھ ساتھ شیر کے پگ دکھائی دیے اور پھر گھسیٹنے کی علامات بھی۔ ان پر خوف طاری ہو گیا۔ آدم خور شیر کا پیچھا کرنا تو پاگل ہاتھی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ پاگل ہاتھی زیادہ لوگوں پر حملہ کرنے سے کتراتا ہے جبکہ آدم خور شیر تو حملہ کر دیتا ہے۔
فوراً ہی ان لوگوں نے ائیور کا رخ کیا۔ گراپّا کی موت کے بارے میں کوئی شبہ نہ تھا۔ اب اس کی تلاش سے کیا فائدہ ہوتا؟
اتفاق سے اسی روز میں سوانی پلی میں آیا ہوا تھا۔ یہ چھوٹا سا دیہات ائیور سے مغرب میں ۵ میل دور ہے۔ مجھے سوانی پلی بہت پسند ہے اور بنگلور سے محض ۵۰ میل دور ہونے کی وجہ سے میں اکثر اختتامِ ہفتہ یہیں گزارتا ہوں۔ یہاں میں نے سیاہ تیندوا بھی شکار کیا تھا۔
سوانی پلی کے جنگل کا چوکیدار ائیور اپنے افسر سے ملنے گیا تھا، اس نے واپس آ کر مجھے گراپّا کی کہانی سنائی۔ ٹارچ، سوئیٹر، بسکٹ، چائے کی تھرماس اور رائفل اٹھا کر میں ۱۵ منٹ میں ائیور پہنچ گیا۔ ڈینکانی کوٹا کے محکمہ جنگلات کے دفتر کو اطلاع کر دی گئی تھی۔ ڈینکانی کوٹا یہاں سے ۸ میل دور شمال میں ہے۔ میری آمد کے فوراً بعد ہی سب انسپکٹر ایک سپاہی کے ساتھ موٹر سائیکل پر پہنچ گیا۔ رینج افسر، دو پولیس والے اور محکمہ جنگلات کے کئی اہلکاروں کے ہمراہ میں جائے واردات پر پہنچا۔
اس کہانی کی بنیادی معلومات میں نے دونوں افسران اور ان کے ماتحتوں سے سنی تھیں جو بیان کر چکا ہوں۔ سب انسپکٹر برہمن اور قسمت پر یقین رکھنے والا تھا۔ اس نے طویل گفتگو کر کے مرحوم برطانوی کلکٹر، اس کی جائیداد اور موت کو گراپّا کی موت سے آن جوڑا۔ مجھے اس کی بات سمجھ نہ آئی۔ میں نے شغل سے کہا کہ شاید قسمت نے گراپّا کو مردہ آدمی کے گھر چوری کرنے کی سزا دی ہو۔ حیرت کی بات یہ کہ دونوں نے اس بات کو سنتے ہی پوری طرح قبول کر لیا اور حیران ہونے لگے کہ انہوں نے پہلے ایسا کیوں نہ سوچا تھا۔
گراپّا کی باقیات کی تلاش کسی کو نہیں تھی۔
میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں نے شیر کے گھات لگانے کے مقام کو دیکھ لیا تھا۔ آدم خور کے پگ ادھ مٹے سے تھے۔
خیر، ہم نے ان نشانات کا پیچھا کیا تو ۱۰۰ گز دور ایک درخت دکھائی دیا۔ اس درخت کے تامل نام کا ترجمہ ہوائی جہاز درخت بنتا ہے۔ اس درخت کے بیجوں کے ساتھ دو پنکھے سے لگے ہوتے ہیں جو ہوا کی مدد سے بیجوں کو دور تک لے جاتے ہیں۔ اس درخت کے نیچے گھاس ابھی تک سبز تھی اور اسی گھاس پر ہمیں انسانی بازو دکھائی دیا۔
یہاں ہمیں گراپّا کی لاش کی باقیات ملیں۔
عجیب بات دیکھیے کہ سینے سے سر تک کا سارا بالائی جسم ثابت تھا۔ دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اس طرح منہ میں دبی تھیں جیسے چیخ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔ آنکھیں کالی چیونٹیاں کھا چکی تھیں۔ سرخ چیونٹیاں بھی آ چکی تھیں اور چہرے اور کھال کو کھا رہی تھیں۔ کئی جگہوں پر بالائی کھال غائب تھی اور اندر سے سرخ و سفید گوشت دکھائی دے رہا تھا۔ گیدڑوں اور لگڑبگڑ کو لاش سے بھگانے کے لیے لال چیونٹیاں کافی ہیں کہ ان کا ڈنک بہت تکلیف دہ ہے۔
سینے سے نیچے لاش کا زیادہ تر حصہ غائب تھا کہ شیر نے پیٹ بھر کر کھایا تھا اور اس کے بعد دیگر مردار خور بھی ہاتھ صاف کر گئے تھے۔
درخت کی شاخیں اتنی گھنی تھیں کہ اڑنے والے گدھوں سے لاش بچی رہی تھی۔ اگر لاش دکھائی دے جاتی تو چند منٹوں میں ہی وہ اسے صاف کر جاتے۔
تعفن کافی ہو چکا تھا۔ مکھیاں لاش کے اردگرد گھاس پر بیٹھی تھیں کہ سرخ چیونٹیاں کسی کو آنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔ یہاں کافی تعداد میں سرخ اور کالی چیونٹیوں کی لاشیں بھی پڑی تھیں جو لڑائی کی علامت ہے۔
اس بچی ہوئی لاش کے لیے شیر تو واپس نہ آتا۔ مگر شیر اسے چھوڑ کر ہی کیوں گیا تھا؟ شاید سرخ چیونٹیاں اس کے لیے بھی تکلیف دہ رہی ہوں۔
سب انسپکٹر نے اپنے ماتحت کو باقیات کو ہٹوانے کا انتظام کرنے کو کہا اور خود اس نے طویل رپورٹ لکھی اور مجھ سے بطور گواہ دستخط کرائے۔ جب ہم ائیور کے فارسٹ ریسٹ ہاؤس پہنچے تو تاریکی چھا رہی تھی۔ رینج افسر نے مجھے اپنے بنگلے میں رات گزارنے کی دعوت دی مگر میں نے سوچا کہ رات بھر بسکٹ کھانے سے بہتر ہے کہ سوانی پلی جا کر مناسب کھانا کھاؤں۔ ویسے بھی ٹارچ میرے پاس تھی اور شاید یہ شیر مصدقہ آدم خور بھی نہیں تھا۔
جب میں روانہ ہوا تو دونوں افسران مجھے روکنے کی کوشش کرتے رہے کہ میں کبھی بھی سوانی پلی نہ پہنچ پاؤں گا۔ ڈھلوان راستہ زیادہ تر امبل اور دیگر جھاڑیوں اور بیلوں کے علاوہ درختوں سے بھرا ہوا ہے۔ بانس بھی جگہ جگہ ہیں۔ تاریکی بہت گہری تھی اور ٹارچ اس میں تنگ سا راستہ بنا رہی تھی۔
اچانک مجھے بے چینی ہونے لگی بلکہ بے چینی سے زیادہ مجھے شدید خطرے کا احساس ستانے لگا جس کی وجہ مجھے سمجھ نہ آئی کہ ہر طرف خاموشی ہی تھی اور کسی بھی جانور یا پرندے سے مجھے خطرے کی اطلاع نہ ملی تھی۔ البتہ میرے ربر سول کے جوتے چلتے ہوئے پیدا کر رہے تھے۔
میں نے اچانک رک کر اپنے عقب میں دیکھا کہ شاید شیر گھات لگا رہا ہو۔ مگر کچھ نہ دکھائی دیا، جگنو اور جھینگر تک غائب تھے۔
پھر مجھے اپنے خوف کی وجہ سمجھ آ گئی۔ میں تنہائی سے پریشان تھا کہ قریب یا دور تک کوئی بھی زندہ جانور یا پرندہ نہ دکھائی دے رہا تھا اور نہ ہی سنائی۔ میرے ساتھ جو بھی ہوتا، کوئی بھی مدد کو نہ آتا۔ مجھے شیر دکھائی تو نہ دیا اور نہ ہی کچھ سنائی دیا مگر مجھے اس کی موجودگی کا پورا یقین تھا۔
جنگل میں مشکل کے وقت انسانی حواس یا تو اسے ایک دم بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں یا پھر اسے بت بنا کر ساکت کھڑا کر دیتے ہیں۔ خطرہ چاہے حملہ آور پاگل ہاتھی کی شکل میں ہو، تیندوے یا شیر کی شکل میں۔ اس وقت سوچنا ممکن نہیں رہتا کہ وقت ہی نہیں ملتا۔
ابھی تو میرے سامنے چنگھاڑتا ہاتھی تھا، نہ حملہ کرتا تیندوا یا شیر۔ ابھی صرف خاموشی تھی اور یہ علم کہ آدم خور موجود ہے۔ میرے حواس نے مجھے بھاگنے کا مشورہ دیا جو میں نے بڑی مشکل سے رد کیا۔ اگر میں بھاگتا تو شیر کی مرضی کے مطابق ہی بھاگتا۔ سبھی شیر بشمول آدم خور، جانتے ہیں کہ ان سے ہر مخلوق ڈرتی ہے، اسی اعتماد کے سہارے وہ کامیاب شکار کرتے ہیں۔
مجھے علم تھا کہ میرا نہ دوڑنا ہی آدم خور کا حملہ روکے ہوئے ہے۔ وہ کہیں چھپا ہوا میرا منتظر ہے۔ پیچھے، دائیں، بائیں یا سامنے بھی منتظر ہو سکتا ہے۔ شاید میری ٹارچ کی روشنی سے وہ اتنا محتاط ہو گیا تھا کہ ابھی تک اس نے حملہ نہ کیا تھا۔ اگر میں ٹارچ بجھا کر بھاگتا تو آدم خور اسی وقت حملہ کر دیتا۔
میں نے تیزی سے سوچا۔ اگر میں اسی طرح چلتا اور ٹارچ کو آگے پیچھے، دائیں بائیں گھماتا رہا۔ راستہ تنگ اور ۶ فٹ سے کم ہی چوڑا ہو گا۔ راستہ مڑا تو مجھے لگ بھگ ۱۰۰ گز آگے چٹان دکھائی دی جو راستے کے بائیں جانب اور چھ یا آٹھ فٹ اونچی ہو گی۔ اس پر چڑھنا آسان تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس پر دوڑ کر چڑھنا آسان ہے۔ مجھے آدم خور سے چند لمحے پہلے بھاگنا ہو گا۔ یہ سوچ خاص منصوبے کے تحت کام آتی۔ اس طرح آدم خور کو ظاہر ہونے کا موقع مل جاتا۔
۱۰۰ گز تک دوڑنا ممکن نہ تھا کہ شیر برق رفتاری سے دوڑتے ہیں۔ سو میں آرام سے چلتا گیا اور جب چٹان ۵۰ گز دور رہ گئی تو میں نے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔
میں نے رائفل پوری طرح تیار کر کے چٹان کا مقام اچھی طرح دیکھا اور ٹارچ بجھا کر دوڑ لگا دی۔
ٹارچ بجھتے ہی تاریکی بہت گہری محسوس ہوئی اور مجھے کچھ نہ دکھائی دیا۔ اسی لیے میں نے ٹارچ بجھانے سے قبل چٹان کا مقام اچھی طرح ذہن نشین کر لیا تھا۔
شیر کو چند لمحے بعد احساس ہوا کہ کیا ہوا ہے۔ بھاگتے ہوئے میں نے ایک بار سوچا کہ شاید شیر موجود نہ ہو مگر اگلے ہی لمحے اپنے پیچھے کان پھاڑ دہاڑ سنی۔
میں جب چٹان تک پہنچا تو شیر سے چند فٹ آگے تھا۔ میں نے اس پر چڑھ کر رخ موڑا، ٹارچ جلائی اور رائفل اس سمت کی۔ چٹان کے نیچے مجھے جست کو تیار آدم خور شیر دکھائی دیا۔ اسی لمحے رائفل چلی اور آدم خور پیچھے کو گرا۔ میں نے اعشاریہ ۴۰۵ میں دوسری گولی بھری اور لبلبی دبائی تو گولی نہ چلی۔
اگلے لمحے دہاڑ کے ساتھ شیر نے اپنے بائیں جانب لمبی گھاس میں جست لگائی۔ اس دوران میں نے نہ چلنے والی گولی نکال کر تیسری بھری اور گھاس میں اس مقام پر گولی چلا دی جہاں شیر غائب ہوا تھا۔
پہلی گولی چلاتے ہوئے تو میں دہشت زدہ تھا مگر دوسری گولی کی گمک میں نے ایک میل دور گلہٹی کی پہاڑی سے ٹکرا کر آتی سنی۔
شیر کی غراہٹ اب تھم گئی۔ دوسری گولی بھی نشانے پر لگی؟ کیا شیر پہلی گولی سے نڈھال ہو گیا ہو گا؟ شاید دونوں گولیاں لگی ہوں یا پھر دونوں ہی خطا گئی ہوں؟ یہ بھی ممکن ہے کہ آدم خور محض زخمی ہوا ہو۔
جہاں آدم خور گھاس میں غائب ہوا، ٹارچ کا رخ اسی جانب رکھے ہوئے میں بیٹھ گیا تاکہ حواس بجا ہوں اور کچھ سوچ سکوں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ میں کتنے بڑے خطرے سے بال بال بچا ہوں۔ اگر شیر مجھ سے ذرا سا بھی قریب تر یا عقب کی بجائے سامنے ہوتا تو کافی پہلے ہی میرا ٹینٹوا دبا چکا ہوتا۔ پھر یہ بھی سوچا کہ جو گولی نہیں چلی، اگر وہ پہلی گولی ہوتی تو کیا ہوتا؟ آدم خور جست لگا چکا ہوتا۔
جب کچھ سکون ہوا تو سوچا کہ آدم خور کا کیا بنا ہو گا۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اتنے قریب سے میری گولی خطا گئی ہو گی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ خوف، ہیجان اور ہانپنے کی وجہ سے ممکن ہے کہ پہلی گولی شیر کو لگی ہی نہ ہو یا وہ محض ہلکا زخمی ہوا ہو۔
اس تاریکی میں آدم خور کا پیچھا کرنا ممکن نہ تھا۔ اگر گولیاں اسے نہیں لگیں تو وہ ڈر کر کہیں سے کہیں پہنچ چکا ہو گا۔ اگر زخمی ہوا تو اتنی جلدی سوانی پلی جانے کے لیے وہ میرا پیچھا نہ کرتا۔ میں نے سوانی پلی جانے اور اگلی صبح آدم خور کو تلاش کرنے کا سوچا۔
سوانی پلی تک بخیریت پہنچا اور اپنے خیمے میں لیٹ کر سوچنے لگا کہ اگلی صبح کیا کرنا ہو گا۔ جیب میں پڑے بسکٹ چرمرائے تو یاد آیا کہ مجھے بھوک لگی ہے اور اسی بھوک کی وجہ سے ہی یہ سب ہوا تھا۔ سو میں نے چائے بنا کر گوشت کا ڈبہ کھول کر پیٹ بھرا۔
سوانی پلی میں پجاری قبیلہ نہیں مگر شیر خان تو ہے۔ شیر خان عجیب و غریب کردار ہے اور تب اس کی عمر ۴۰ کے لگ بھگ تھی۔ یہ آدمی مسلمان تھا اور چور شکاری بھی، لکڑیاں بھی چراتا اور دینکانی کوٹا سے انچیٹی جانے والی کئی بیل گاڑیوں کو رات کے وقت لوٹنے کا شبہ بھی اسی پر تھا۔ اس کا طریقہ واردات کچھ یوں تھا:
بیل گاڑیاں وقت بچانے کی خاطر رات کو سفر کرتی ہیں۔ عموماً پانچ یا چھ گاڑیاں ایک ساتھ چلتی ہیں کہ جنگلی جانور حملہ نہ کریں۔ بد روحوں کا بھی دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ڈکیتی کا اس دور میں کسی کو خیال تک نہ تھا۔
پولیس کو پہلی اطلاع یہ ملی کہ ۵ گاڑی بان انچیٹی سے ڈینکانی کوٹا جاتے ہوئے لوٹے گئے۔ یہ سب گھاٹ کی سڑک پر تھے اور دشوار چڑھائی پر ان کے بیل آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ گاڑی بان گاڑی پر سوار اور غنودگی کی حالت میں تھے۔ اچانک سڑک کے کنارے تاریکی سے سرد اور بھاری آواز آئی۔ انہیں کوئی انسان نہ دکھائی دیا مگر اس آواز سے انہیں اطلاع ملی کہ ان کے چاروں طرف ڈکیت موجود ہیں۔ ان کے پاس بھری ہوئی بندوقیں ہیں۔ ان کے احکامات پر من و عن عملدرامد کی صورت میں انہیں کوئی نقصان نہ ہو گا۔ احکامات سادہ تھے:
’تم سب گاڑیوں سے اترو اور پورا ایک میل چل کر پیچھے جاؤ۔ جب دسویں سنگِ میل پر پہنچو تو وہاں بیٹھ جاؤ۔ آگ جلا کر ہاتھ تاپو اور صبح کا انتظار کرو۔ جب روشنی ہونے پر واپس لوٹو۔ یاد رکھو کہ ہمارا ایک ساتھی تمہارا پیچھا کرے گا اور اس کے پاس بندوق ہے۔ اگر کسی نے بھی ذرا سی حکم عدولی کی تو اسے فوراً گولی مار دے گا۔ ہم تمہاری گاڑی یا بیلوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ تم غریب آدمی ہو۔ ہم امیروں کے سامان کو ساتھ لے جائیں گے جو تمہاری گاڑیوں پر لدا ہے‘۔
گاڑی بانوں نے ہدایات پر عمل کیا۔ وہ خوش تھے کہ ان کی جان بچ گئی۔ اگلی صبح ان کی گاڑیاں اسی مقام پر کھڑی ملیں جہاں وہ چھوڑ گئے تھے۔ کچھ سامان چوری ہو گیا تھا مگر کافی کچھ موجود تھا۔ زیادہ قیمتی چیزیں غائب تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈاکو زیادہ نہیں تھے، ورنہ سارا سامان ساتھ لے جاتے۔
پھر اسی سڑک پر تین مزید وارداتیں ہوئیں تو رات کو بیل گاڑیوں کی آمدورفت رک گئی اور پولیس نے گشت شروع کر دی۔ کئی مشکوک آدمی بشمول شیر خان پکڑے گئے اور ان کی چھترول ہوئی، قید رکھا گیا مگر کسی نے قبول نہ کیا اور ہر آدمی کے پاس بے گناہی کے ثبوت تھے۔
اس طرح شیر خان سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ چھترول کے بعد سوانی پلی سے واپس لوٹ رہا تھا اور دنیا کی نا انصافی پر کھلے عام بول رہا تھا۔ مگر بولتے وقت اس کی آنکھوں میں عجیب کیفیت تھی۔
شیر خان مسلمان تھا اور اس کے نام کا مطلب ’شیروں کا سردار‘ تھا۔ یہ آدمی ٹھگ تھا مگر پسند کیے جانے کے قابل۔ جلد ہی ہم دوست بن گئے۔ جب بھی میں سوانی پلی جاتا تو اس کے گھر چائے پینا کبھی نہ بھولتا اور جب بھی مجھے اس کی ضرورت پڑتی، شیر خان ہمیشہ ساتھ دیتا۔
اگلی صبح میں شیر خان کے پاس گیا اور اس سے مدد مانگی۔ مجھے یقین تھا کہ اتنے قریب سے چلائی گئی گولی خطا نہیں ہوئی ہو گی۔ مجھے یقین تھا کہ گولی شیر کو کہیں نہ کہیں لگی ہو گی۔ اب جنگل میں زخمی شیر کی تلاش کا کام تھا جس کے لیے دو آدمی درکار تھے۔ ایک آدمی جھاڑیوں اور پتوں پر خون کے نشان تلاش کرنا تھا اور دوسرا آدمی اپنی اور پہلے آدمی کی حفاظت کرتا کہ زخمی شیر کہیں بھی ہو سکتا تھا۔ اکیلا آدمی یہ سب ایک ساتھ نہیں کر سکتا کہ کھوج کا کام کافی توجہ طلب ہے اور ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ زخمی شیر کے حملے کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔
شیر خان نے فوراً حامی بھر لی مگر اصرار کیا کہ پہلے ایک کپ چائے پینی ہو گی۔ پھر اس نے تالی بجائی تو ایک بیوی حاضر ہو گئی۔ اس نے حکم جاری کیا، ’اچھا، فرسٹ کلاس چائے لاؤ صاحب کے لیے‘۔
مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے ۴ شادیوں کی اجازت تھی اور اس نے ۴ ہی شادیاں کر رکھی تھیں۔ ہم تو ایک بیوی کو سنبھال نہیں سکتے جبکہ اس نے چاروں کو سنبھالا ہوا تھا۔ اس کا طریقہ کار کچھ یوں تھا:
شیر خان ہر بیوی کے ساتھ یکساں سلوک کرتا تھا چاہے وہ سب سے خوبصورت ہو یا سب سے بوڑھی یا سب سے نئی۔ گھر سے باہر جاتے وقت انہیں برقعہ پہننا پڑتا تھا تاکہ کوئی انہیں نہ دیکھ سکے۔ میں خاص دوست تھا، اس لیے مجھے ان کو دیکھنے اور ان سے ایک آدھ بات کرنے کی اجازت تھی۔
شیر خان نے گھر کے کام ہفتہ وار بنیاد پر بیویوں میں بانٹ رکھے تھے۔ ایک بیوی ایک ہفتے کے لیے کھانا پکاتی تو دوسری اس کی مدد کرتی، تیسری کا کام برتن دھونا تھا جبکہ چوتھی جھاڑو پونچھا، کپڑوں کی مرمت اور کپڑے دھونے وغیرہ جیسے کام کرتی تھی۔ اس سے اگلے ہفتے ان کی ذمہ داریاں بدل جاتیں۔ شیر خان خود گھر کے کاموں کے لیے انگلی تک ہلانے کا قائل نہ تھا۔ اس کے ذمے محض گھر گرہستی کے لیے پیسے کمانا تھا جو وہ مختلف ذرائع سے پورا کرتا تھا۔ ایک طریقہ تو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ سب سے زیادہ محنت کرنے والی بیوی یعنی کھانا پکانے والی بیوی اس ہفتے دو راتیں اس کے ساتھ سوتی۔ باقی ہر بیوی کے لیے ایک ایک رات مخصوص تھی۔ جمعہ اور اتوار کو وہ الگ سوتا تھا۔
ان کا خاندان غریب سہی مگر خوش اور مطمئن زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی بیویاں آپس میں نہ لڑتی تھیں کہ ہر بیوی کو اس کی غلطی کے اعتبار سے سزا ملتی۔ بدقسمتی سے اس کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہ تھی۔
چائے پیتے ہی ہم نکل کھڑے ہوئے۔ شیر خان نے بتایا کہ اس کے پاس بندوق تو نہیں، وہ اپنی تلوار ساتھ لائے گا جو اس کے باپ نے اسے دی تھی۔ یہ اس کی خاندانی تلوار تھی۔ اس کے بزرگوں میں سے کوئی ٹیپو سلطان کا فوجی تھا تو یہ تلوار اسی سے آ رہی تھی۔ اب اس بزرگ کی تاریخ پیدائش ٹیپو سلطان کے دور سے ملتی تھی یا نہیں، اس بارے میں میں نے کبھی نہیں پوچھا۔ جب ہم کچھ دور نکل آئے تو میں نے جیسے خود سے سوال کیا، ’رات کو تاریکی میں آواز آتی ہے کہ گاڑی بان اگر حکم عدولی کریں گے تو گولی مار دی جائے گی۔ مگر بندوق تو ہے ہی نہیں۔ پھر گولی کیسے ماری جائے گی شیر خان؟‘
ایک لمحے کو شیر خان خاموش ہوا۔ پھر بولا، ’آپ مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہیں مگر میرے پاس کبھی بندوق نہیں رہی۔ میں اور میری ۳ بیویاں مل کر یہ وارداتیں کرتے ہیں کہ چوتھی بوڑھی ہو گئی ہے۔ مگر یہ خیال اسی کا تھا‘۔
میں نے اس کی بات مان لی۔
ہم منزل پر پہنچ گئے۔ ہمارے سامنے چٹان آ گئی جہاں سے میں نے گولی چلائی تھی۔ اس طرف سے آتے ہوئے چٹان میرے دائیں جانب تھی۔ محتاط انداز سے ہم وہاں پہنچے مگر خون کا کوئی نشان نہ ملا۔ زمین اتنی سخت تھی کہ پگ ملنا ممکن نہ تھے۔ میں نے خاموشی سے اس جگہ اشارہ کیا جہاں شیر غائب ہوا تھا۔
یہاں میں آگے بڑھا اور شیر خان پیچھے تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ کوئی بھاری جانور یہاں سے گزرا ہے۔ کچھ ٹہنیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ایک یا دو گز آگے جا کر اچانک ہم دونوں نے بیک وقت خون کا نشان دیکھا۔
شوخ لال رنگ کا خون بھورے پتوں پر چمک رہا تھا۔ میں نے انگلی سے چھوا تو پتہ چلا کہ کافی گاڑھا ہے۔ رات والی گولی سے شیر کو گہرا زخم لگا تھا۔
اب شیر خان آگے آ گیا۔ اس نے پوری توجہ سے نشانات کا پیچھا کرنا شروع کیا جبکہ میں اردگرد کی نگرانی کرتا رہا۔ شیر خان کھوجی نہیں تھا مگر جہاں اس کی صلاحیت جواب دیتی تو اس کی ذہانت اس کی مدد کرتی۔ ہمیں وقت تو کافی لگا مگر شیر خان نے کامیابی سے پیچھا جاری رکھا۔
توقع سے زیادہ شیر کا خون بہا تھا۔ شاید وہ زخم کی وجہ سے تھک گیا ہو۔ خون کے نشان اور چھوٹے چھوٹے تالاب جگہ جگہ تھے جن کی مدد سے پیچھا آسان تھا۔
اچانک مجھے سامنے ہلکی سی حرکت دکھائی دی۔ میں نے فوراً شیر خان کا کندھا چھوا اور ہم دونوں وہیں رک گئے۔ رائفل کو شانے سے لگا کر میں نے نہ صرف حرکت والی جگہ بلکہ آس پاس اور پیچھے کا بھی جائزہ لیا کہ زخمی شیر گھات لگانے کے لیے بہت ماہر ہوتے ہیں۔
حرکت دوبارہ ہوئی تو پتہ چلا کہ چھوٹی ٹہنی ہلی ہے۔ میں حملے کے لیے تیار ہو گیا اور شیر خان کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پیچھے کر لیا۔
شاخ پھر ہلی۔ میں نے ایک منٹ تک جائزہ لیا اور مطمئن ہو گیا۔ اس ٹہنی کے پتے الٹے تھے۔ شاید کسی ہاتھی نے اسے توڑا ہو گا مگر چھال الگ نہیں ہوئی۔ اب ہوا سے ٹہنی ہل رہی تھی۔
ایسے مواقع پر بات کرنا ممکن نہیں۔ میں نے شیر خان کو ہاتھ سے پکڑ کر سامنے بلایا اور اشارے سے اسے چلنے کو کہا۔ پیش قدمی شروع ہو گئی۔
جھاڑی کے نیچے خشک گھاس پر خون ہی خون دکھائی دیا جو جھاڑیوں پر بھی پھیلا تھا۔ شیر نے یہاں لوٹنیاں لگائی ہوں گی۔ لگتا تھا کہ اس کے منہ پر زخم تھا۔
میں نے شیر خان کو چھو کر اسے رکنے کا اشارہ کیا اور ۵ منٹ تک ہم لوگ آوازیں سنتے رہے مگر خاموشی رہی۔ پھر ہم خاموشی اور احتیاط سے آگے بڑھے۔ ہم پوری طرح خاموش تھے مگر خشک زمین اور جھاڑیوں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ آواز پیدا ہو رہی تھی۔ اگر شیر قریب ہوتا تو سن لیتا۔ وہ آواز سنتا تو دہاڑ کر حملہ کرتا یا خاموشی سے فرار ہو جاتا۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔
خون کے نشان بائیں مڑے تو اندازہ ہو گیا کہ شیر وادی میں ندی کو جا رہا ہے۔ شاید زخم کی شدت اور تکلیف سے شیر بہت پیاسا ہو گا۔ خشک موسم میں ندی سوکھ جاتی ہے اور کہیں کہیں پانی کے تالاب ملتے ہیں۔ شیر ایسے ہی کسی تالاب کو جا رہا ہو گا کہ پیاس بجھا کر وہیں گھنے سائے میں سو جائے۔ اگر اس کا زخم بہت گہرا ہوتا تو شیر بھوک اور تکلیف سے تڑپ تڑپ کر مر جاتا۔
مجھے جانور زخمی کرنے سے سخت نفرت ہے اور ہر ممکن کوشش کر کے اس کی تکلیف ختم کرتا ہوں۔ خون کی مقدار سے ایسا لگ رہا تھا کہ میری گولی سے لگنے والا زخم کاری تھا اور اس شیر کے بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک بار پھر میں نے شیر کی تکلیف کے بارے میں سوچا۔
یہاں چند منٹ رک کر ہم نے سرگوشی میں بات کی۔ مجھے علم تھا کہ دو میل دور تالاب ہے مگر شیر خان نے بتایا کہ یہاں سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر چھوٹا تالاب ہے جہاں سارا سال پانی ملتا ہے۔ ہم نے خون کے نشان کا پیچھا شروع کیا جو کچھ دور جا کر اسی جانب مڑ گئے۔
زمین ڈھلوان ہو رہی تھی اور جلد ہی ہمیں جنگلی مرغوں اور دیگر پرندوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں جو خشک موسم میں تالاب کے کنارے درختوں پر ہوتے ہیں۔ تھوڑا آگے جا کر ہمیں ہری گھاس دکھائی دینے لگی۔ ہمیں معلوم ہو گیا کہ ہم نالے کے کنارے ہیں۔
خون کے نشان سیدھے آگے گئے اور ہمیں دائیں بائیں خشک نالہ ہی دکھائی دے رہا تھا۔ مجھے آدم خور پر بہت ترس آیا کہ وہ رات یا علی الصبح پانی پینے آیا تو غضب کی پیاس لگی ہو گی مگر پانی ندارد۔
شیر خان نے سرگوشی کی کہ پانی کا تالاب ہمارے بائیں جانب والے موڑ کے بعد ہے جو زیادہ دور نہیں۔ خون کے نشانات بھی اسی جانب مڑ گئے تھے۔ ایک بار پھر میں آگے ہو گیا کہ زخمی شیر تالاب کے پاس ہی ہو گا۔ ہم نے موڑ کاٹا مگر پانی نہ دکھائی دیا۔ شیر خان نے اشارے سے بتایا کہ سامنے والے کنارے کے نیچے ایک چٹان نکلی ہوئی ہے اور پانی وہیں ہے۔
عین اسی وقت وہاں سے قمری اڑی۔ یہاں نالہ تنگ ہو گیا اور جھاڑیاں بہت گھنی تھیں۔ جنگل بہت قریب تھا۔
ہم پھر رکے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ شیر موجود نہیں۔ میں نے نیچے رک کر خون کے نشان دیکھے تو وہ غائب تھے۔ شیر نے براہ راست پانی کی طرف جانے کی بجائے کنارے کی جھاڑیوں سے چھپ کر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہم پھر آگے بڑھے۔ اس بار ہمیں بہت تکلیف دہ منظر دکھائی دیا۔ اس چھوٹے سے تالاب کا پانی سرخ تھا۔ شاید شیر اپنا سر پانی میں ڈبوئے لیٹا رہا تاکہ پیاس بجھ سکے۔ وہ پھر اٹھا اور کنارے پر سائے میں لیٹ کر اپنے انجام کا منتظر ہو گا۔
پھر میں نے سوچا کہ اس نے بغیر کسی وجہ کے ایک انسان مارا تھا۔ اگر اسے ہلاک نہ کیا جاتا تو جلد ہی اس کی خون آشام سرگرمیاں اور بڑھ جاتیں۔ میں نے شیر خان کو وہیں رکنے کا اشارہ کر کے پیش قدمی شروع کی۔
مجھے پیچھے سے ہلکی سی آواز آئی تو مڑ کر دیکھا کہ شیر خان میرے ساتھ تھا۔ شاید اکیلا رہنے سے ڈر رہا ہو گا یا شیر کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہو گا۔ خیر ہم آگے بڑھے۔
اچانک خاموشی کو شیر کی زوردار دہاڑ نے توڑ دیا۔ ایسا لگا کہ جیسے آواز ہمارے قدموں کے نیچے سے آئی ہو۔ جھاڑیاں ہلیں اور ایک جسیم جانور اچھل کر میرے اوپر سے ہوتا ہوا شیر خان کے قریب گرا۔
شیر خان نے چلا کر اپنی زنگ آلود تلوار گھمائی۔ تلوار شیر کے جسم میں گھسی اور شیر تلوار کے مالک پر گرا۔
خوش قسمتی سے شیر خان نے بازوؤں سے اپنا سر اور چہرہ چھپا لیا۔ جھک کر میں نے رائفل کی نال شیر کے گردن پر ایسے انداز سے رکھی کہ گولی شیر خان کو نقصان نہ دے اور گولی چلا دی۔
پھر میں نے دوسری گولی چلائی اور شیر خان مرتے ہوئے شیر کے نیچے سے بروقت نکل آیا۔ شیر مر چکا تھا۔
عجیب بات دیکھیے کہ شیر خان کو محض چند خراشیں آئیں۔ وجہ یہ تھی کہ پچھلی رات والی گولی شیر کے تالو میں لگی اور ناک کے اوپر سے نکلی۔ ناک اور بالائی جبڑے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی لٹک رہی تھی۔ اس زخم سے شیر کا بچنا ممکن نہ تھا۔
خوش قسمتی سے جب شیر خان نے تلوار چلائی تو اس کا وار خالی نہ گیا۔ اگر شیر کو نہ لگتی تو مجھے لگ جاتی کہ شیر خان مجھ سے محض ۲ فٹ دور تھا۔
جب میں نے اسے یہ بات بتائی تو وہ ہنسا اور بولا کہ میری گولی بھی اس کے سر سے چند انچ دور لگی تھی۔ پھر اس نے مجھ سے شیر کی کھال مانگ لی جو میں نے بخوشی دے دی۔ تمام تر خامیوں کے باوجود شیر خان بہادر اور قابلِ پسند آدمی تھا۔ چار بیویوں کو سنبھالنے کا اس کا طریقہ بھی قابل تعریف تھا۔
رات کو ہم الاؤ کے پاس بیٹھے اور گپیں لگاتے رہے۔ اس نے اپنے کچھ واقعات سنائے اور کچھ میں نے سنائے۔ آگ کی روشنی سے کچھ منظر دکھائی دے رہا تھا جبکہ باقی سارے گرد و پیش پر تاریکی چھا چکی تھی۔
پھر جھونپڑے کے پیچھے گیدڑوں کا غول چلانے لگا۔ ایک منٹ بعد سب اچانک چپ ہو گئے جس پر ہمیں حیرت ہوئی۔ اچانک نیچے دور وادی میں کہیں سے شیر کی دہاڑ سنائی دینے لگی جو اپنی سلطنت کے دورے پر نکلا تھا۔
٭٭٭
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں