اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


عشق اول ۔۔۔ عطیہ خالد

ایک عمدہ ناولٹ

عشق اول

از قلم

عطیہ خالد

 

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل
ورڈ فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل
کنڈل فائل

 

…. مکمل کتاب پڑھیں

عشق اول

عطیہ خالد

’’تو چاہے تو مجھے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔۔‘‘

”تو جو چاہتا تو میں مامن بھکاری کے گھر پیدا ہی نہ ہوتا۔۔‘‘

”مگر تو کیوں چاہتا۔۔۔۔ میں کوئی تیرا پیارا تھوڑی ناں ہوں!!‘‘

”پر، سن!! تیری مجھ سے دوستی ہو یا نہ ہو میں تو تجھی کو دوست کہتا ہوں۔

تو ہی ہے میرا۔۔ بس تو!!!!۔۔ تیرے سوا کوئی نہیں۔۔!!‘‘

تنہا رات آج کچھ زیادہ ہی تنہا تھی۔ جابر اور سرد اندھیرا دور دور تک ہر چیز کو چھپائے ہوئے تھا۔ گھور سیاہ آسمان پر جھلمل کرتے تاروں کو دیکھتا سجاول ریت کے بستر پر لیٹا تھا اپنے جھولے کا تکیہ بنائے۔ اس سے کچھ دور اس کے تمام ساتھی جھگی میں سو رہے تھے۔ ان میں سے کئی ایک کے خراٹوں کی آواز جھینگروں کی آواز سے مل کر ایک نیا ساز بن رہی تھی۔۔۔

"سب کو جھولی بھر بھر کے نیند دینے والے میرے حصے کی نیند کہاں ہے؟؟؟‘‘

"سب کو بے فکری عطا کرنے والا مجھے فکر میں ڈال کے … مزید پڑھیے

خاکِ دل ۔۔۔ اصغر وجاہت/ اعجاز عبید

ہندی ناول ’من ماٹی‘ کا اعجاز عبید کا تشکیل کردہ اردو روپ

خاکِ دل

مصنف

اصغر وجاہت

رسم الخط کی تبدیلی/ ترجمہ

اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل
ورڈ فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل
کنڈل فائل

 

…. مکمل کتاب پڑھیں

خاکِ دل

اصغر وجاہت

اصل ہندی ناول ’मनमाटी‘ کا ترجمہ/رسم الخط کی تبدیلی: اعجاز عبید

1

پتے کی بات سیدھی سچی ہوتی ہے۔ اسے بتانے کے لیے نہ تو زیادہ ہوشیاری کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ سو طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ سیدھی سچی بات دل کو لگتی ہے اور اپنا اثر کرتی ہے۔ میں یہاں ان اوراق میں آپ کے سامنے کچھ سچی باتیں رکھنے جا رہا ہوں۔ یہ باتیں گڑھی ہوئی نہیں ہیں، آپ کی اور ہماری دنیا میں ایسا ہوا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا رہیے گا۔ کچھ آپ بیتی ہے اور کچھ جگ بیتی ہے۔
ایک وقت کی بات ہے۔ کلکتہ کے پارک سٹریٹ علاقے میں ایک پادری سفید لمبا کوٹ پہنے، ٹوپی لگائے، ہاتھ میں پاک کتاب لئے جوشیلی آواز میں کچھ کہہ رہا تھا۔ لوگ اسے گھیرے کھڑے تھے۔ سن رہے تھے۔
اکرم کو کلکتہ آئے تین چار دن ہی ہوئے تھے۔ اس کے بڑے بھائی … مزید پڑھیے

انتر ہوت اداسی ۔۔۔ بانو قدسیہ

ایک طویل کہانی کی برقی کتاب

انتر ہوت اداسی

از قلم

بانو قدسیہ

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

ٹیکسٹ فائل

مکمل کتاب پڑھیں ……..

انتر ہوت اداسی

بانو قدسیہ

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

پھر تیسری بار ایسے ہوا۔  اس سے پہلے بھی دو بار اور ایسے ہوا تھا…بالکل ایسے۔  جب میرا بایاں پاؤں بانس کی سیڑھی کے آخری ڈنڈے پر تھا اور میرا دایاں پیر صحن کی کچی مٹی سے چھ انچ اونچا تھا تو پیچھے سے ماں نے میرے بال ایسے پکڑے جیسے نئے نئے چوزے پر چیل جھپٹتی ہے۔  میرا توازن بری طرح بگڑا اور میں کپڑے کی گڈی کی مانند اڑنگ بڑنگ کچی مٹی پر جا گری۔  ماں کو مجھے پٹخنی دینے یا دھپہ مارنے کی نوبت ہی نہ آئی کیوں کہ جب انسان کسی سے بچھڑ کر آ رہا ہو تو اس میں اتنی جان ہی کہاں ہوتی ہے۔  مجھے تو ایک گرم سانس اس وقت چاروں شانے گرا سکتا تھا۔  ماں نے تو پھر ہبکا مار کر میرے بال جھنجھوڑے تھے۔

 ’’بول بول۔  اس بھری دوپہر میں تو کہاں سے آ رہی ہے؟ گشتی الفتی کہاں تھی تو اس وقت…بول! … مزید پڑھیے

اب گواہی دو ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

‘کتاب’ اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

اب گواہی دو

از قلم

سمیرا گُل ع‍ثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

اب گواہی دو

روشن رو پہلی معطر سی صبح کا آغاز ہو چکا تھا وہ بھی دروازے کی ٹھک ٹھک اور دھم دھم کرتے میوزک کے بغیر ہی، کہ یہ کھلی کھلی سی سحر رعنائیوں بھری شب کا آغاز تھا اس نے اپنا آنچل اٹھا کر اوڑھا تو کلائیوں میں کھنکتی چوڑیاں بج اٹھیں، شہریار کو بیڈ ٹی کی عادت تھی اور اس کے آنے سے قبل وہ یہ کام خود سرانجام دیتا تھا ان کے گھر کی مانند یہاں بھی کل وقتی ملازمہ کی کمی تھی جو دو تین تھیں وہ بھی اپنے ٹائم پر آتیں اور کام نمٹا کر چلی جاتی تھیں اور جو آج کل میرج ہال میں شادی کا رواج تھا تو قریبی احباب بھی وہیں سے اپنے اپنے گھروں کو سدھار جاتے تھے اور جس طرح شہریار نے اس کے حضور درخواست پیش کی تھی۔
’’اگر زحمت نہ ہو تو ایک کپ چائے مل سکتی ہے۔‘‘ وہ شرمگیں مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی … مزید پڑھیے

کبھی عشق کبھی جفا ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

"کتاب” اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

کبھی عشق کبھی جفا

از قلم

سمیرا گُل ع‍ثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

کبھی عشق کبھی جفا

’’سوری حریم میں تم سے محبت نہیں کرتا ہمارے درمیان جو بھی ہوا جسٹ ایک فلرٹ تھا تم اسے وقت گزاری یا پھر ٹائم پاس بھی کہہ سکتی ہو اور تم اس لسٹ میں کس نمبر پر تھی یہ میں بھی نہیں جانتا۔‘‘ کلائی کی رگ کاٹتے ہوئے اسے اتنا درد نہیں ہوا تھا جتنی اذیت ان چند جملوں پر ہو رہی تھی۔
’’ٹائم پاس، وقت گزاری، فلرٹ۔‘‘ اسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اوپر کہکشاؤں پرلے جا کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو وہ جیسے خلا میں معلق تھی جہاں ہوا کا وجود ناگزیر تھا وہ بمشکل سانس کھینچ رہی تھی۔
اس کا دم گھٹ رہا تھا اور حواس تاریکیوں میں ڈوب گئے تھے، کبھی کسی نے تاریکیوں میں اجالے دیکھے ہیں، مگر وہ دیکھ رہی تھی، لیکن وہ اجالا تو نہیں تھا اجالا تو روشنی ہے اور روشنی تو امید ہوتی ہے یہ آگ تھی، جو شمال کے کنارے سے زمین کی سمت لپک رہی تھی، … مزید پڑھیے

اک آرزو ہے تمہاری ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

"کتاب” اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

اک آرزو ہے تمہاری

از قلم

سمیرا گُل ع‍ثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

اک آرزو ہے تمہاری

آج چودھویں کی شب تھی، چاند کا حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، سیاہ اندھیری رات کا ہر منظر آج چاندنی میں بھیگا ہوا تھا، وہ اپنے بیڈ روم کی کھڑکی سے ٹیک لگائے بڑی محویت سے ٹکٹکی باندھے بظاہر چاند کو دیکھے جا رہی تھی لیکن در حقیقت وہ چاند میں اپنے محبوب کا جھلملاتا عکس ڈھونڈ رہی تھی، ہر طرف گہرا سکوت اور جامد خاموشی تھی، جیسے کائنات کی ہر شے، اپنا دم سادھے چاند کے حسن کا نظارہ کر رہی ہو بس اس کی سانسوں کا زیر و بم تھا جو سکوت زدہ فضا میں ارتعاش پیدا کر رہا تھا اور اک ہوا تھی جو پورے تسلسل سے چل رہی تھی۔

’’رات کا حسن تو چاند سے ہے اگر یہ چاند نہ ہوتا تو رات بھی اتنی حسین نہ ہوتی۔‘‘ اس نے جیسے پورے دل سے اقرار کیا اور پھر کسی خیال کے تحت اس کے لب دھیرے سے مسکرا دئیے۔
’’مریان! میرا اور آپ کا رشتہ … مزید پڑھیے

ہجر کا آخری کنارہ ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

"کتاب” اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

ہجر کا آخری کنارہ

از قلم

سمیرا گُل عثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

ہجر کا آخری کنارہ

 

’’چلو نا یار کیفے ٹیریا چلتے ہیں۔‘‘ راہب نے قدرے جھنجھلا کر کوئی دسویں مرتبہ کہا تھا مگر وہ سر جھکائے کاغذ پر قلم گھسیٹے جا رہی تھی۔
اب کی بار اس کی نظریں تیزی سے چلتی مخروطی انگلیوں اور ریشمی پلکوں سے ٹکرائیں تو وہ دم بخود سا دیکھتا ہی چلا گیا تھا اسے اپنی بھوک اپنا جھنجلانا جیسے کچھ بھی یاد نہیں رہا تھا۔
جانے مزید کتنے پل بیت چکے تھے اس نے قلم پر کیپ لگانے کے بعد ایک گہرا سانس خارج کیا تو راہب جیسے ہوش میں آیا تھا۔
رعنا اس کے گھمبیر لہجے پر اپنے اسکارف کو اچھی طرح سے لپیٹتے اس کے ہاتھ گردن کے پاس ہی کہیں رک گئے تھے اور سیاہ آنکھوں پر سایہ فگن جھالر اب اس کی سمت اٹھی ہوئی تھی۔
’’مجھ سے شادی کرو گی۔‘‘ اس نے بلا کسی جھجک کے کہہ ڈالا تھا جس پر رعنا نے قدرے اطمینان سے اپنا اسکارف درست کرنے کے بعد … مزید پڑھیے

پالتو ۔۔۔ عبد الصمد

ایک طویل کہانی

پالتو

از قلم

عبد الصمد

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

اس کے اچانک اور قدرے بے ہنگم قہقہے سے سبھی چونک پڑے اور اسے خوف زدہ نظروں سے گھورنے لگے۔ قہقہہ لگانے والا شرمندہ سا ہو گیا اور معذرت خواہ لہجے میں بولا۔

’’معاف کرنا۔۔۔ دراصل میرے ذہن میں اچانک ایک بات آ گئی تھی۔۔۔‘‘

 وہ رک گیا تو سبھی بے ساختہ دریافت کر نے لگے۔

’’کون سی بات۔۔۔؟ کون سی بات۔۔۔؟‘‘

 وہ تھوڑا جھجک کر بولا۔

 ’’آسیب کی۔۔۔ آسیب والی بات۔۔‘‘

 ’’آسیب۔۔۔؟؟؟‘‘

 وہ سب گویا اچھل پڑے اور اسے یوں دیکھنے لگے جیسے اسی میں کوئی آسیب سما گیا ہو۔ وہ مسکرایا اور دھیرے سے بولا۔

’’امکان کی بات ہے۔ آخر ہم لوگ بار بار غور و خوض کے لئے بیٹھتے ہیں اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نا۔۔۔‘‘

وہ سب ابھی تک اسے ان نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جنہوں نے اسے ان کے سامنے اچانک ایک مشکوک چیز بنا دیا تھا۔

ان میں سے ایک نے کچھ تیز لہجے میں دریافت کیا۔

یعنی اب یہ صورت حال ہو گئی … مزید پڑھیے

نمی دانم کہ ۔۔۔ بیگ احساس

"دَخمہ” مجموعے سے ایک طویل کہانی

نمی دانم کہ ۔۔۔

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

شہر کے اس علاقے میں آنے سے وہ گریز کرتا تھا۔ کافی بھیڑ ہوتی تھی۔ اکثر ٹریفک جام ہو جاتا، سواریاں رینگنے لگتیں۔ شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی اسی علاقے میں تھا۔ اسٹیشن پر تو ’’حیدر آباد‘‘ کے بورڈ لگے تھے لیکن وہ ’’نام پلی‘‘ کہلاتا تھا۔ اکثر باہر سے آنے والے کنفیوز ہو جاتے۔ ایک بار ابّا کے دوست نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا یہ کیا نام ہوا ’’نام پلی‘‘ … … …!!
’’یہ نام ہماری ملی جلی تہذیب کی علامت ہے‘‘ ابّا نے سنجیدگی سے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا۔ ’’عبد اللہ قطب شاہ کے دیوان سلطنت رضا قلی کا خطاب ’’نیک نام خاں‘‘ تھا۔ یہ علاقہ ان کی جاگیر تھا۔ عوام نے ان کے خطاب سے ’’نام‘‘ لیا اور تلگو کا لفظ پلّی جوڑ دیا۔ ’’نام پلی‘‘ … …..!! شہر میں ایسے کئی محلے ہیں۔ تاریخی شہروں کا اپنا ایک الگ کردار ہوتا ہے‘‘ ابّا کے دوست کھسیانے ہو گئے تھے انھوں نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ … مزید پڑھیے

شکستہ پر ۔۔۔ بیگ احساس

مجموعے "دَخمہ” سے ایک طویل افسانہ

شکستہ پر

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیںِ……

 

اقتباس

 

دس برس بعد سمیر اور سشما کی ملاقات ہوئی تو دونوں نے شادی کا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی اور ایک روز چپکے سے شادی بھی کر لی۔ ان برسوں میں دور رہ کر دونوں کافی کچھ کھو چکے تھے۔ سشما نے جب اپنی ممی کو شادی کی بات بتائی تو اُنھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ فوراً گھر چھوڑ کر سمیر کے پاس چلی جائے۔ ساتھ ہی سمن کو بھی لے جائے۔ جس کی اولاد اسی کے ساتھ رہے تو بہتر ہے۔ سشما کے پاپا نے ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی کا رول ادا کیا۔
اور سشما سمیر کے گھر آ گئی۔ لیکن سمن نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔
’’میں سمجھاؤں گا اسے‘‘۔ پاپا نے کہا۔
سمیر کے گھر آ کر سشما کو ایک کھلی فضاء کا احساس ہوا۔ کتنے دنوں سے وہ گھٹ رہی تھی۔ زندگی اسے اس طرح واپس ملے گی، اس نے سوچا ہی نہ تھا۔ نہ یہ کہ وہ خود اپنی زندگی جیے گی۔
خواہشوں کے پرندوں نے ایک … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید