سہ ماہی ‘سمت’ شمارہ ۵۱، جولائی تا ستمبر ۲۰۲۱ء

اردو تحریر میں اردو کے پہلے آن لائن جریدے

سَمت

مارہ ۵۱، جولائی تا ستمبر ۲۰۲۱ء

مدیر: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب

کنڈل فائل

نمونہ پڑھیں…….

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

کس کس کو یاد کیجیے، کس کس کو روئیے۔۔۔۔

فاروقی صاحب کی جدائی کا غم تو تازہ ہی ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا ہی، کرونا کی دوسری لہر نے مزید چرکے دئے ہیں۔ اس سہ ماہی میں مزید بڑے نام رخصت ہو گئے ہیں۔ کچھ کو ہی اس شمارے میں یاد کیا گیا ہےشمیم حنفی مئرے لئے شمیم بھائی تھے۔ وہ میرے استاد بھی رہ چکے تھے۔ جب وہ ایم اے کے فوراً بعد اندور میں ۱۹۶۶ء میں ہمارے اسلامیہ کریمیہ سکول/کالج میں استاد بن کر آئے۔ ایک آدھ شعری نشست میں بھی ملاقات رہی جہاں والد مرحوم صادقؔ اندوری کے ساتھ جانا ہوا۔ اور شمیم بھائی بطور شاعر ان نشستوں میں شریک ہوئے تھے، اور والد کے ساتھ وہ بھی بہت احترام سے پیش آنے لگے۔ اور مجھ سے بھی اس تعلق کی بنا پر رشتہ دہرا ہو گیا۔ حیدر آباد بھی جب ان کا آنا ہوتا تو کہیں نہ کہیں ضرور ملاقات ہو جاتی۔ کبھی مصحف اقبال توصیفی کے گھر طعام و … مزید پڑھیے

دکنی اور اردو

ڈاکٹر غلام شبیر رانا

کے تحقیقی مضامین

دکنی اور اردو

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

نحوی تقابل کے کچھ پہلو: اردو اور دکنی

جنوبی ایشیا کے وسیع علاقوں میں بولی جانے والی اُردو زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس کی علمی، ادبی تہذیبی و ثقافتی ثروت کا پوری دنیا میں اعتراف کیا جاتا ہے۔ اردو اور قدیم دکنی زبان کا ادبی سرمایہ اس خطے کے باشندوں کے لیے ہر اعتبار سے لائق صد افتخار ہے۔ اُنیسویں صدی عیسوی میں دہلی اور لکھنو میں زبان دانی پر توجہ دی جانے لگی۔ وہ زبان جس نے ہر عہد میں زندگی کی اقدار عالیہ اور درخشاں روایات کو پروان چڑھانے کی مقدور بھر کوشش کی اس کے قواعد اور وضاحتی لسانیات پر سائنسی انداز فکر کو ملحوظ رکھتے ہوئے توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اردو اور دکنی زبان کے مطالعہ کے لیے ان زبانوں کی توضیحی لسانیات کو پیش نظر رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہی وہ زادِ راہ ہے جو روشنی کے سفر میں منزل کی جانب رواں دواں رہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ عصری زبانوں کے علم … مزید پڑھیے

دہلی کی آخری شمع

ادبیات عالیہ واٹس ایپ گروپ کی پیشکش

دہلی کی آخری شمع

 ۱۲۶۱ھ میں دہلی کے ایک مشاعرے کی روداد

مرزا فرحت اللہ بیگ دہلوی

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

تمہید

 

نام نیکِ رفتگاں ضائع مکن

تا بماند نامِ نیکت برقرار

بقول غالبؔ مرحوم ’’انسان ایک محشرِ خیال ہے‘‘ لیکن خیال میں حشر بپا ہونے کے لیے کسی بیرونی تحریک کا ہونا لازمی ہے۔ دماغ خیال کا گنجینہ ہے، لیکن اِس گنجینے کے کھلنے کے واسطے کسی ظاہری اسباب کی کنجی کی ضرورت ہے۔ مجھے بچپن سے شعرائے اردو کے حالات پڑھنے اور سننے کا شوق رہا ہے، مگر کبھی کوئی ایسی تحریک نہیں ہوئی جو ان کے حالات کو ایک جگہ جمع کرنے کا خیال پیدا کرتی اور یہ خیالات الفاظ کی شکل میں ظاہر ہو کر ایک خوش نما چلتی پھرتی تصویر بن جاتے۔

جب کوئی بات ہونے والی ہوتی ہے تو اسباب خود بہ خود پیدا ہو جاتے ہیں۔ اتفاق دیکھیے کہ پرانے قدیم کاغذات میں مجھ کو حکیم مومن خاں مومنؔ دہلوی کی ایک قلمی تصویر ملی۔ تصویر کا ملنا تھا کہ یہ خیال پیدا ہوا کہ تو بھی محمد حسین … مزید پڑھیے

کرگسوں میں گھرا شاہین

حقیقت اور تصور کا امتزاج

پروفیسر غلام شبیر رانا

کا نیا ناول

کرگسوں میں گھرا شاہین

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

مستریاں والی بستی

جھنگ بھی ایک عجیب شہر ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوفے کے قریب ہو رہا ہے۔ دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع اِس قدیم شہر کے ایک نشیبی علاقے کی ایک بستی جہاں کا ماحول پتھر کے زمانے کی یاد لاتا ہے آج بھی اپنی داستانِ حسرت سناتی دکھائی دیتی ہے۔ کہرام ٹھگ کے آباء و اجداد گزشتہ کئی صدیوں سے اس علاقے میں رہتے تھے۔ سلطان جب اس طرف سے گزرتا تو کہرام ٹھگ کی بستی کو حیرت سے دیکھتا اور دیدۂ گریاں کی روانی چھُپانے کے لیے گل افشانیِ گفتار کا سہارا لیتا تھا۔ المیہ ہو یا طربیہ سلطان کی ہر بات کے پس منظر میں احساس کی تمازت اور جذبات کی شدت اس سے ملنے والوں کو مسحور کر دیتی تھی۔ حکیم کمال نے جب سلطان کوبستی مستریاں والا کے آسیب زدہ ہونے کے بارے میں بتایا تو سلطان نے اس کی بات خندۂ استہزا میں اُڑا دی اور کہا:

’’جس بستی میں کہرام ٹھگ اور تشفی مَل کنجڑے … مزید پڑھیے

سرِ کوئے عدم

پاکستانی مرحوم ادیبوں کے لئے خراج عقیدت

سرِ کوئے عدم

پروفیسر غلام شبیر رانا

کے قلم سے

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

اطہر شاہ خان جیدی: ہر رہ گزر پہ تیرے گزرنے کا حسن ہے

عالمی شہرت کے حامل مایہ ناز پاکستانی اداکار، صداکار، شاعر، ڈرامہ نویس اطہر شاہ خان جیدی نے ستتر (77) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ادب اور فنون لطیفہ کا وہ درخشندہ ستارہ جو یکم جنوری 1943ء کو رام پور (اُتر پردیش۔ بھارت) سے طلوع ہوا وہ دس مئی 2020ء کو کراچی میں غروب ہو گیا۔ کراچی کے سخی حسن شہر خموشاں کی زمین نے اردو ادب اور فنون لطیفہ کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھُپا لیا۔ اُن کے پس ماندگان میں ایک اہلیہ اور چار بیٹے شامل ہیں۔ پس نو آبادیاتی دور میں جب وطن عزیز کو آزادی نصیب ہوئی تو اطہر شاہ خان کے خاندان کے افراد نے پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا اور لاہور پہنچ گئے۔ پشاور اور لاہور میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد … مزید پڑھیے

گردبادِ حیات

حالیہ ہندوستانی مرحوم ادباء کے لئے خراج عقیدت

گرد بادِ حیات

ڈاکٹر غلام شبیر رانا

کی نئی کتاب

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

راحت اندوری: ہمارے منھ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

 

اَب نہ میں ہوں نہ باقی ہیں زمانے میرے

پھر بھی مشہور ہیں شہروں میں فسانے میرے

اُردو اَدب میں ترقی پسند تصور کی ترجمان ایک بے خوف آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ بھارت کا ممتاز شاعر راحت اندوری (راحت اللہ قریشی) گیارہ اگست 2020ء کو زینۂ ہستی سے اُتر گیا۔ فلمی شاعری کا قومی ایوارڈ حاصل کرنے والا شاعر اَپنی باری بھر کر اِس دنیا سے رُخصت ہو گیا۔ اَدبی محافل اور مشاعروں کی اِس روح رواں کو دیکھنے کے لیے کے لیے اَب آنکھیں ترسیں گی۔ حریتِ فکر کے جذبات، سادگی، سلاست، روانی اور سہل ممتنع کے ذریعے اپنی شاعری کو ساحری بنانے والا با کمال شاعر اَب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ دُنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے ایسے مشاعرے جن میں جہاں لاکھوں افراد اُس کا کلام سننے کے لیے اکٹھے ہوتے اَب اس شاعر کی یادوں کی کہانی سنائیں گے۔ اپنی طلسمی شخصیت اور مسحور … مزید پڑھیے

بیتی کہانی

ادبیات عالیہ، اراکین اردو محفل کی پیشکش، ایک دلچسپ سوانحی داستان

بیتی کہانی

شہر بانو بیگم (دختر نواب اکبر علی خاں رئیس پاٹودی)

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

تاریخ نکاح

۲۴ جمادی الاول ۱۲۶۹ھ کو صبح کی نماز کے بعد میرا نکاح ہوا، ایک لاکھ پچیس ہزار روپے کا مہر بندھا۔ قاضی کو ڈھائی سو روپیہ نقد اور ایک دو شالہ نکاح خوانی کا دیا۔ دہلی کے شُہدوں کو سوا سو روپیہ اور ایک شال انعام ملا۔ باقی گھر کے مکینوں کو ہزاروں روپیہ تقسیم کیے۔ دوپہر تک رخصت کا سامان ہوا۔ میرے ابا جان نے قریب ساٹھ ستر ہزار روپیہ کے جہیز دیا تھا۔ کیا نہ تھا، سب ہی کچھ تھا۔ ڈیڑھ سو دیگ بہوڑے کے کھانے کے ساتھ کیے۔

رخصت ہونا برات کا

بوا! جس وقت میں رخصت ہوئی ہوں، محل میں ایسا کہرام تھا کہ روتے روتے لوگوں کی ہچکیاں بندھ بندھ جاتی تھیں اور خاص کر میری اماں کی بے قراری اور دادی اماں کی آہ و زاری سے تو کلیجے کے ٹکڑے اڑتے تھے۔ اور محل سے لے کر تمام قلعے میں ایسا سناٹا تھا، یہ معلوم ہوتا تھا کہ … مزید پڑھیے

اختر انصاری دہلوی

معروف افسانہ نگار اور شاعر اختر انصاری دہلوی کی حیات و فن کا احاطہ کرتی ہوئی کتاب

اختر انصاری دہلوی

ڈاکٹر غلام شبیر رانا

کی ایک اور پیشکش

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

اقتباس

عالم افروز تپش سے لبریز اختر انصاری کے اسلوب کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کار کا غنچۂ دِل جب کھِلتے ہی مُرجھا جائے تو دِل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے۔ آرزوئیں جب حسرتوں میں بدل جائیں تو وہ روح اور قلب میں ایک درد لا دوا کا رُوپ دھار لیتی ہیں۔ ہجوم غم میں دِل کو سنبھالنے کی کوشش میں اختر انصاری بعض اوقات گردش مدام سے گھبرا جاتا مگر پیہم دُکھ سہنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ستم ہائے روزگار کے ساتھ نباہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اپنی شاعری کے وسیلے سے اُس نے اپنے درد و غم کا اظہار کیا یہی ضبط سوز و ساز کا انداز تھا جسے اُس نے زندگی بھر پیشِ نظر رکھا۔ الفاظ کو غنچوں، کلیوں اور شگوفوں کے مانند اپنے تصرف میں لانے والے اس حساس تخلیق کار کا لہجہ جب خنجر کا رُوپ دھار لیتا تو … مزید پڑھیے

حمایت علی شاعر … اک جسم تھا کہ روح سے مصروفِ جنگ تھا

حمایت علی شاعر … اک جسم تھا کہ روح سے مصروفِ جنگ تھا

مشہور شاعر حمایت علی شاعر کے بارے میں

ڈاکٹر غلام شبیر رانا

کی کتاب

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

منظوم آپ بیتی

عالمی ادب کا بہ نظر غائر جائزہ لینے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ ادب میں سوانح نگاری قدیم زمانے سے مروّج و مقبول رہی ہے۔ عالمی ادب کی سب سے پہلی سوانح عمری یونان سے تعلق رکھنے والے سوانح نگار پلو ٹارک (Plutarch: B: c. Ad 46,D. c.AD 120) نے لکھی۔ پلوٹارک نے دوسری صدی عیسوی میں لکھی گئی اپنی اس پہلی سوانح عمری (Parallel Lives) میں اہم رومن اور یونانی شخصیات کے بارے میں متعدد حقائق کو پیش کیا ہے۔ کسی بھی شخصیت کی کتابِ زیست کے اوراقِ ناخواندہ کی تفہیم کے سلسلے میں مطالعۂ احوال کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ محقق کے لیے شخصیت شناسی ایک کٹھن مر حلہ ہے جس کے لیے اہم ترین بنیادی مآخذ تک رسائی، شخصیت سے متعلق تمام دستاویزات کا حصول، شخصیت کی علمی، ادبی، سماجی اور معاشرتی فعالیتوں سے آگاہی، شخصیت کے احباب، رشتہ داروں اور معاصر ادیبوں سے روابط کے بارے میں … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید