مضامین و مقالاتِ جلالی حصہ دوم ۔۔۔ محمد برہان الحق جلالی

دینی نوعیت کے مضامین کا ایک مجموعہ

مضامین و مقالاتِ جلالی

حصہ دوم

از قلم

محمد برہان الحق جلالی

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

عدم برداشت کی وجوہات و نتائج

 

 معاشرے کی عمارت اخلاقیات، تحمل، رواداری اور پیار و محبت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ خصوصیات معاشرے سے چلی جائیں تو وہ معاشرہ تباہی و بربادی کی طرف سرعت سے گامزن ہو جاتا ہے۔ انسانی معاشرے میں بشر کی عزت و توقیر احترام قطعی طور پر لازم ہے۔ جب کسی شخص، قوم، نسل اور قبیلے کی تضحیک اور استہزا و مذاق کیا جاتا ہے عدم برداشت سے کام لیا جاتا ہے تو رد عمل کے طور پر وہاں نفرت، حسد، بغض و انارکی اور عناد و دشمنی جنم لیتی ہے جو معاشرتی زندگی کو لڑائی جھگڑے کی طرف گامزن کر دیتا ہے۔

غرور و تکبر دوسروں کی عزت نفس کو پامال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ متکبر شخص اپنی اصلاح پر توجہ منعطف کرنے کے عوض دوسروں کی اصلاح کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی انا کو شکست دینے کی بجائے دوسروں کی انا کو للکارنے میں مصروف رہتا ہے۔

اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے دوسرے کے گریبان کو پکڑنے اس کو تار تار کرنے میں مگن رہتا ہے اس طرح وہ معاشرے کو ٹھیک کرنے کی بجائے بگاڑنے کا موجب بنتا ہے۔

یہی گمبھیر ناگفتہ بہ صورت حال ہمارے معاشرے کو بھی درپیش ہے جہاں عدم برداشت کا رجحان اس تیزی سے فروغ پارہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ اس کے باعث تشدد پسند سرگرمیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ لوگوں میں قوت برداشت نہیں، محض چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد پہ اتر آتے ہیں۔ متشدد واقعات اکثریت میں دیکھنے میں آ رہے ہیں، اگر سوشل میڈیا کو دیکھا جائے تو سوشل میڈیا پر تو اس حوالے سے کئی وڈیوز بہت تیزی سے وائرل ہوتی ہیں۔

چند روز پہلے ایک چھوٹی سی بچی کو چائے میں پتی زیادہ ڈالنے پر خاتون نے جس بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اسی طرح ایک شہر میں ایک آدمی بازار کے بیچوں بیچ تقریباً دو سو افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا چاہے اس نے کوئی جرم کیا یا نہ کیا یہ کام اداروں کا ہے کہ وہ تحقیقات کریں۔

معاشرہ اس وقت زمانہ عدم برداشت اور سیاسی و معاشرتی اخلاقی اقدار سے عاری ہوتا جا رہا ہے لوگوں کے رویوں میں صبر و تحمل اور قوت برداشت نہیں ہے رویوں میں شدت پسندانہ رویہ اور عدم برداشت اس حد تک غالب آ چکے ہیں کہ ہمارے رویوں اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کے باعث احترام آدمیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔

ایک وقت تھا جب مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کے درمیان مناظرے اور مباحثے ہوا کرتے تھے لوگ ایک دوسرے کی بات کو تحمل مزاجی کے ساتھ سنتے، حسن ادب کے ساتھ اختلاف رائے بھی کرتے لیکن انسانوں کے عزت و احترام کو کبھی بھی اپنے رویوں اور اخلاقی اقدار کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کھونے نہیں دیا جاتا تھا۔

اب موجودہ صورتحال ماضی کے بالکل بر عکس ہے۔

اگر ہم عدم برداشت کی وجوہات کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اس سے اخلاقی، معاشی اور سماجی مسائل عدم برداشت کو جنم دے رہے ہیں ہر معاشرے میں مختلف مزاج کے حامل لوگ بستے ہیں کچھ لوگ جذباتی اور کچھ قدرے معتدل مزاج کے ہوتے ہیں بعض افراد فطرتاً انتہائی جذباتی واقع ہوتے ہیں اور کسی بھی صورت حال میں اپنے اندر اٹھنے والے غم و غصے کے جذبات کو قابو کرنا ان کے لیے انتہائی دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے اس کے برعکس ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں جو کسی مشکل سے مشکل ترین صورتحال میں بھی جذبات سے نہیں بلکہ صرف دماغ سے کام لیتی ہیں۔

اکثر یہ ہوتا ہے کہ جذباتی لوگ ذرا سی بات پر سیخ پا ہو جاتے ہیں اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں جس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہے۔

جب یہ دونوں رویے آمنے سامنے آ جائیں تو عین ممکن ہے کہ منفی جذبات رکھنے والا شخص مثبت سوچ رکھنے والے انسان کے اندر موجود روا داری کو بھی اپنے منفی رویہ سے ختم کر دے اور نتیجتا اس طرح عدم برداشت کا وائرس چھوت کی بیماری کی طرح ایک سے دوسرے کے ساتھ لگتے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں چھوت کی یہ بیماری اس حد تک پھیل چکی ہے کہ اس کی علامات آپ کو جا بجا نظر آئیں گی۔ ٹیلی ویژن کی اسکرین سے لے کر اصل زندگی کے مناظر تک اور اخبارات کے صفحات سے لے کر برقی صفحات تک جا بجا غیر شائستہ اور اکھڑ انداز گفتگو سے آپ کا واسطہ پڑے گا۔

مذکورہ بالا واقعات ہمارے سماجی رویوں میں در آئی عدم برداشت اور تشدد کی روش کی بھرپور عکاسی کرنے کے لئے کافی ہیں۔

بلاشبہ اخلاقی انحطاط کا یہ عالم، لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ تشویش ناک بھی ہے۔ ہمارے مہذب لوگ ان تمام واقعات پر صحے ح، غلط کی تمیز کرنے کی صلاحیت بخوبی رکھتے ہیں اور غلط کو نہ صرف غلط کہتے بلکہ اس کی بھرپور مذمت بھی کرتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب وہ خود کسی ایسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ بھی برداشت کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔

یہ معاشرتی دو عملی کیوں؟ یہ سوال، جواب کا متقاضی ہے۔

ہر معاشرے میں بسنے والے ارکان الگ الگ شخصیات کے مالک ہوتے ہیں۔ بعض افراد فطرتاً انتہائی جذباتی واقع ہوتے ہیں اور کسی بھی صورت حال میں اپنے اندر اٹھنے والے غصے کے جذبات کو قابو کرنا ان کے لیے انتہائی دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے اس کے برعکس ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں جو کسی مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی جذبات سے نہیں بلکہ صرف اور صرف دماغ سے کام لیتی ہیں۔

شاید ہی کوئی دن ایسا ہو، جب آپ روڈ پر سفر کریں دوران ایسا کوئی جذباتی مظاہرہ نہ دیکھیں۔ ہر آدمی ٹریفک کے قوانین ایک طرف پر رکھ کر آگے نکلنے کی کوشش میں نظر آئے گا دوسرے کو جگہ دینا گوارا نہیں کرے گا تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ٹریفک جام ہو جاتی ہے ہر کوئی غصہ میں نظر آتا ہے ایک دوسرے کو گھور کر دیکھنا آستینیں چڑھانا معمول بن گیا ہے۔

عدم برداشت کی ایک وجہ انصاف کی عدم فراہمی ہے اگر فوری انصاف ہو فوری سزائیں ہوں تو شاید ایسے واقعات میں کچھ کمی آ جائے۔ مشتعل ہجوم پر اگر فوری طور پر قابو پا لیا جائے یا معاشرے کے زندہ انسانوں میں کسی کا ضمیر زندہ ہو تو شاید ان واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اس کو نشان عبرت بنایا جائے معمولی جرائم میں ملوث لوگوں کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اگر مشورہ ہی ہجوم میں سے کوئی دے دے تو بھی پڑھے لکھے مشتعل ہجوم سے بہت سے لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ایک معاشرے میں بے حسی اور تشدد اس وقت جنم لیتا ہے جب اس معاشرے میں انصاف کا حصول نا ممکن، تشدد، عدم برداشت اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فرسٹریشنز بڑھ جایں تو قتل جیسے جرائم مرتکب ہوتے ہیں۔

اگر واقعہ شعب ابی طالب کا جائزہ لیں تو یہ سارا واقعہ صبر و تحمل اور برداشت کا نمونہ ہے اگر ہم خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی سیرت مبارکہ کا جائزہ لیں تو اس میں بردباری و برداشت کا عملی نمونہ ہے محسن انسانیت، قائد تمدن، امن عالم کے نقیب اعظم حضرت محمدﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ وہ واحد منبع ہے جس سے عالم اسلام بلکہ ساری دنیا کی زندگی اور انسانی معاشرے کی سعادت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔

آپﷺ کی ذات با برکات پر بے شمار درود و سلام ہوں۔ آپﷺ نے اپنے تحمل و بردباری اور بے پایاں شفقت و برداشت سے دنیا کو امن و امان کا خطہ بنا دیا۔ آپﷺ کی تعلیمات عالیہ اور لائے ہوئے نظام میں دنیا کی فلاح و بہبود پوشیدہ ہے۔ اسی پر چل کر ہم تباہی سے بچ سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں امن عالم تقریباً بالکل مفقود ہو چکا ہے۔ اخوت و بھائی چارہ، ایثار و قربانی اور تحمل و برداشت کے جذبے مجروح ہو رہے ہیں۔

فلسطین، بوسنیا، لبنان، کشمیر اور دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں کا لہو کتنا ارزاں ہے۔ بین الاقوامی دہشت گردی ہو یافرقہ واریت یا اسلحہ کا مقابلہ سب عدم برداشت کی ہی قبیح ترین شکلیں ہیں۔ قومی سطح پراور بین الاقوامی سطح پر عالمی طاقتوں کی طرف سے ظاہر ہونے والا عدم برداشت کا رجحان لاقانونیت اور انارکی کا سبب بنتا ہے۔ مختلف ممالک میں ان کی عسکری مداخلت و بربریت اور عدم برداشت کی شکل ہے۔

عدم برداشت کے اس رجحان کو ہم تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں روک سکتے ہیں۔

اسلام میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کا کوئی تصور نہیں، دینی تعلیمات سے ہمیں بلا تفریق و امتیاز احترام انسانیت کادرس ملتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں امن و امان کے قیام، ملک و مملکت کے استحکام اور پر امن بقائے باہم کے لیے ضروری ہے کہ تحمل و برداشت، عفو و درگزر، حلم و برد باری، رواداری اور اعتدال پسندی کو فروغ دیا جائے۔ معاشرے سے غربت، جہالت، بے روزگاری اور لا قانونیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے اسوہ نبویﷺ کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

٭٭٭

 

ماں کی عظمت

 

مامتا کی عظمت پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ ماں خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے مگر اپنے اندر ساری کائنات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ لفظ ماں دنیا کی جتنی زبانیں ہیں جس بھی زبان میں بولا جائے ماں کے لفظ میں پیار بھری مٹھاس ہے ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک اخلاص و محبت پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔

اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈے سائے کی مانند ہے۔ چلچلاتی تند و تیز دھوپ میں اس کا دستِ شفقت و محبت شجرِسایہ دار کی طرح ایک سائبان بن کر اولاد کو آرام و سکون کا احساس دلاتا ہے۔ ماں خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹ کر اپنے پھولوں کی مانند لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اِس سے زیادہ پیار و محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی، آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی نہ وہ کبھی احسان جتاتی ہے۔

انسانی معاشرے کا باہمی ربط و ضبط صرف ماں ہی کے طفیل ہے۔

ماں کی آنکھ سے چھلکا ہوا ایک آنسو بحر اوقیانوس سے گہرا ہوتا ہے: ۔ ٹوٹتے ہوئے پسماندہ معاشرے پوچھتے ہیں کہ جو حاکم سزا دیتے ہیں وہ ماں کی دعا کیوں نہیں دے سکتے؟ ماں نے تھپڑ مارا بچہ ماں سے لپٹ گیا ماں نے اٹھایا اور چوم لیا۔ جبکہ حاکم نے سزا دی تو رعایا باغی ہو گئی۔ باپ کی جائیداد کی وجہ سے آپس میں تنازعے اور نفرت پیدا نہ کرو اور ماؤں کے پیار و محبت کے وارث بن جاؤ، انسانیت سکھی ہو جائے گی۔

ماں کا کوئی نعم البدل نہیں جسطرح اللہ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں بچوں کے لئے توحید کا سمبل ہے بہت سے بچوں کی ایک ماں ہو یا پھر ایک ماں کے بہت سے بچے ہوں ماں تو ایک ہی رہے گئی۔ جو قیمتی کپڑے پہناتی ہیں وہ مائیں ہوتی ہیں جبکہ جو قیمتی کپڑے منگواتی ہیں وہ ہونے والی مائیں ہوتی ہیں۔ جو ماں کو نہ سمجھ سکا وہ مقام توحید کو نہ سمجھ سکا: ۔

جو ماں کا نافرمان ہو جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ اللہ رب العزت کا نافرمان ہو جاتا ہے۔

ویسے تو دنیا نے ماں کیلئے ایک خاص دن کا تعین کر دیا ہے چونکہ ہم حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ کے امتی ہیں اور اسلام ہی ہمارا مکمل مذہب ہے اس لئے یہاں یہ ذکر ضرور کروں گا کہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں اللہ کی طرف سے ماں دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے پوری زندگی، پوری زندگی کا ہر سال، سال کا ہر مہینہ، مہینہ کا ہر دن اور دن کا ہر ہر لمحہ ہر ہر منٹ ہر ہر سیکنڈ ماں کے نام ہونا چاہئے۔

مدرز ڈے تو اغیار کی روایت ہے جہاں نہ رشتوں کا تقدس ہے اور نہ ہی کوئی وقعت و اہمیت ہے۔ جہاں اولاد صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود اپنے ماں باپ کو بے وقعت سمجھنے لگتے ہیں ان کی کوئی تعظیم و توقیر نہیں کرتے اور ماں کی قربانیوں اور پر خلوص محبت کو ٹھوکر مار کر ’’اولڈ ہاؤسز‘‘ میں رکھ دیتی ہے اور سال میں ایک دن اپنی ماں اور باپ کے نام کر کے اپنے فرض سے منہ پھیر لیتے ہیں لیکن بحیثیت مسلمان ہماری یہ روایت نہیں۔

اللہ و رسول کی طرف سے ماں کی محبت و شفقت کے مجسم روپ کو عزت و تکریم دینے کی تلقین کی گئی ہے اور ماں کی محبتوں اور خلوص کی پاسداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں ماں باپ کے آگے اُف تک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

 ماں تو ایک ایسا پھول ہے جو رہتی دنیا تک ساری کائنات کو مہکاتی رہے گی۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ ماں کا وجود ہی ہمارے لئے باعثِ آرام و راحت، چین و سکون، مہر و محبت، صبر و رضا اور خلوص و وفا کی روشن دلیل ہے

 ایک آدمی رسول خداﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ کون زیادہ حقدار ہے جس کے ساتھ میں نیک سلوک کروں؟ تو آپ نے فرمایا: تیری ماں۔

اس نے دوبارہ پوچھا کہ ماں کے بعد؟ تو آپؐ نے جواب دیا تیری ماں۔ اس نے پھر پوچھا اس کے بعد؟ پھر بھی آپؐ نے جواب دیا کہ تیری ماں۔ اس نے وہی سوال پھر تکرار کیا تو آپﷺ نے فرمایا تیرا والد۔

حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ’’یعنی میں نے ’’مقام جِعِّرانہ‘‘ میں رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ گوشت بانٹ رہے تھے۔ اتنے میں ایک خاتون آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بالکل قریب چلی گئی۔

آپﷺ نے ان کیلئے اپنی چادر مبارک بچھا دی، میں نے لوگوں سے کہا! یہ صاحبہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی والدہ ہیں۔ انہوں نے حضور پاکﷺ کو دودھ پلایا تھا۔ اندازہ لگائیے کہ حضور اکرمﷺ اپنی رضاعی ماں کا احترام اور خدمت کا خیال کتنا رکھے ہیں۔

ایک تاجدار ختم نبوتﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! والدین میں سے کس کا حق بڑا ہے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اسی کا جس نے تجھے اپنے دونوں پہلوؤں کے درمیان اٹھائے رکھا ہے

 موجودہ عہد میں والدین سے بد سلوکی، بد زبانی، طعنے دل دکھانے والی باتیں تو ایک معمول بن چکا ہے۔

اولاد اتنی مصروف ہو گئی ہے ان کے پاس ماں باپ کے پاس بیٹھنے، باتیں کرنے کا وقت نہیں ہے۔ مغرب میں اولاد اپنے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں داخل کروا دیتے ہیں، مغرب کی پیروی میں ایسا اب پاکستان میں بھی کیا جا رہا ہے، پاکستان جو کہ ایک اسلامی ملک ہے اس میں بھی اولڈ ہوم بن چکے ہیں، جہاں بوڑھے اپنے دکھ درد، داستان حیات سنا سنا کر وقت گزاری کرتے ہیں

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا اور والدین سے نیکی کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو، اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو۔

اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو، اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو، اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرو، رسول اللہ نے باپ سے پہلے ماں کا ذکر کیا۔

(خوانساری، جمال‏ الدین محمد۔ شرح غرر الحکم و در الکلم۔ تہران: دانشگاہ تہران، 1373)

ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں جو اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کا حال بہت جلد جان لیتی ہے۔

اولاد کے دل میں کیا چل رہا ہے ماں سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔

ایک بار ایک صحابی حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ !میں نے اپنی ماں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے، کیا میں نے ماں کا حق ادا کر دیا؟ آپ نے فرمایا: نہیں، تُو نے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں کیا۔

ماں کا حق باپ کے حق سے زیادہ ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ سے عرض کیا: عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: شوہر کا۔ میں نے عرض کیا: اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا(بسند حسن حاکم نے اسے روایت کیا ہے)۔

ماں باپ دونوں کی تعظیم و توقیر اور خدمت کرنی چاہیئے اگر حالات نہ گفتہ بہ ہوں تو فتاویٰ عالمگیری میں ہے، جب آدمی کیلئے والدین میں سے ہر ایک کی رعایت مشکل ہو جائے مثلاً ایک کی اطاعت و فرمانبرداری سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے تو تعظیم و توقیر میں باپ مقدم ہے اور خدمت میں والدہ مقدم ہو گی حتیٰ کہ اگر گھر میں دونوں اس کے پاس آئے ہیں تو باپ کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جائے اور دونوں نے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پکڑا تو پہلے والدہ کو پانی پیش کرے۔

رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔ اور ہمیں اپنے ماں باپ کا فرماں بردار بنا اور ان کے لئے ہمیشہ دعا کرے۔ زندہ ہوں تو آسان زندگی کیلئے صحت و عافیت اور لمبی زندگی کیلئے اور اگر انتقال ہو گیا ہو تو مغفرت کی دعا کرے اور درجات کی بلندی کی دعا کرے۔ ماں جیسی عظیم نعمت کی ہمیشہ قدر کرنی چاہئے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں والدین کی تعظیم و توقیر اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔

٭٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید