اقبال کے بارے میں حوالہ جاتی ایک دستاویز
حیات و تصانیفِ اقبال کا معروضی جائزہ
از قلم
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ، ڈاکٹر عظمیٰ نورین

ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
حیات و تصانیفِ اقبالؔ معروضی جائزہ
ڈاکٹر محسن خالد محسنؔ، ڈاکٹر عظمیٰ نورین
انتساب
شاعرِ مشرق
ترجمانِ اسلام
سر علامہ محمد اقبال کے نام
جنھوں نے اپنے افکار و تصورات کے اظہار کے لیے
اُردو زبان کا انتخاب کر کے
اُردو کے وقار کو عزت دی
اور
اِس کے قد کو سارے جہان میں اُونچا کیا
پیش لفظ
برِّ صغیر کی فکری، ادبی اور تہذیبی تاریخ میں علامہ محمد اقبال ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر نمایاں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری، فلسفے اور فکری بصیرت کے ذریعے نہ صرف اُردو اور فارسی ادب کو نئی جہات عطا کیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کو خودی، حریتِ فکر اور بیداریِ شعور کا ایسا پیغام دیا جو آج بھی اسی قوت کے ساتھ زندہ و متحرک ہے۔ اقبال کی شخصیت شاعر، مفکر، فلسفی، مصلح اور رہنما کے متعدد پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ان کی فکر کا بنیادی مقصد انسان میں خود آگاہی پیدا کرنا اور اسے اپنی روحانی و اخلاقی قوتوں کا شعور دینا تھا۔
اقبال کی شاعری محض جذباتی اظہار یا ادبی تخلیق کا نام نہیں بلکہ ایک مربوط فکری نظام کی ترجمان ہے۔ ان کے ہاں شاعری فکر و فلسفہ کی آئینہ دار ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں فرد اور ملت دونوں کے مسائل کو موضوع بنایا اور مسلمانوں کو ماضی کی عظمت یاد دلا کر مستقبل کی تعمیر کی طرف متوجہ کیا۔ ان کے کلام میں جہاں ایک طرف روحانیت، عشق اور وجدان کی جھلک ملتی ہے وہاں دوسری طرف عمل، حرکت اور جدوجہد کا پیغام بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری محض ادبی لذت تک محدود نہیں رہتی بلکہ فکری اور عملی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اقبال کی اردو شاعری کے اہم مجموعوں میں بانگِ درا، بالِ جبرئیل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔ ان مجموعوں میں اقبال کی فکری ارتقا کی مختلف منزلیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ بانگِ درا میں ابتدائی دور کی نظمیں، حب الوطنی کے جذبات اور اصلاحی افکار نمایاں ہیں، جبکہ بالِ جبرئیل اور ضربِ کلیم میں اقبال کا فکری شعور اپنی پوری پختگی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ ارمغانِ حجاز اقبال کی آخری تخلیقی کاوشوں کا مظہر ہے جس میں ان کے روحانی اور عرفانی تجربات کی گہرائی نمایاں ہوتی ہے۔
اسی طرح اقبال کی فارسی شاعری بھی ان کی فکری عظمت کا ایک اہم باب ہے۔ فارسی زبان کو اقبال نے اس لیے اختیار کیا کہ وہ اپنے افکار کو زیادہ وسیع اور بین الاقوامی سطح پر پیش کرنا چاہتے تھے۔ ان کی فارسی تصانیف میں اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، پیامِ مشرق، زبورِ عجم اور جاوید نامہ جیسی اہم کتب شامل ہیں۔ ان تصانیف میں اقبال نے فلسفۂ خودی، ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی زندگی، روحانی ارتقا اور مشرق و مغرب کے فکری تقابل کو نہایت گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ خصوصاً جاوید نامہ کو اقبال کی فکری معراج قرار دیا جاتا ہے جس میں کائنات اور انسان کے باہمی تعلق کو علامتی اور تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اقبال کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان پر ہونے والا تحقیقی اور تنقیدی کام اردو ادب میں ایک مستقل شعبے کی صورت اختیار کر چکا ہے جسے اقبالیات کہا جاتا ہے۔ برصغیر کی متعدد جامعات میں اقبالیات کے شعبے قائم ہیں جہاں اقبال کی شاعری، فلسفہ، خطبات اور فکری نظریات پر مسلسل تحقیق ہو رہی ہے۔ اقبال کی شخصیت اور فکر پر بے شمار کتب، مقالات اور تحقیقی مقالے تحریر کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سوانحی، تنقیدی، فکری، اسلوبیاتی اور تقابلی مطالعے شامل ہیں جو اقبال کی فکر کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہیں۔
اقبال کی فکر کی یہی وسعت اور ہمہ گیری اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کے افکار اور تصانیف کو منظم اور جامع انداز میں طلبہ اور عام قارئین تک پہنچایا جائے۔ اسی ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے زیرِ نظر کتاب “حیات و تصانیفِ اقبال کا معروضی مطالعہ” ترتیب دی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد اقبال کی زندگی، شخصیت، تصانیف اور افکار کو ایک ایسے معروضی اور منظم انداز میں پیش کرنا ہے جس سے طلبہ، اساتذہ اور عام قارئین یکساں طور پر استفادہ کر سکیں۔
اس کتاب میں اقبال کی سوانح حیات، شعری و نثری تصانیف، اہم منظومات، شخصی نظمیں، کلامِ اقبال کے مآخذ، اقبال پر لکھی گئی اہم کتب و مقالات، اور اقبالیات سے متعلقہ تحقیقی مواد کو ایک مربوط ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ مزید برآں طلبہ کی سہولت کے لیے معروضی سوالات، امتحانی نوعیت کے نکات اور اہم حوالہ جاتی کتب بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ اقبالیات کے طلبہ کو اپنی علمی اور امتحانی تیاری میں رہنمائی حاصل ہو سکے۔
کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اقبال کے منتخب اشعار کو ان کے مآخذ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف طلبہ کو اصل کتابوں تک رسائی کا شعور ملتا ہے بلکہ تحقیق کے ابتدائی اصولوں سے بھی آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح اقبال پر لکھی گئی اہم کتب، مقالات اور تحقیقی مقالہ جات کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے جو آئندہ تحقیق کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
اُمید کی جاتی ہے کہ یہ کتاب طلبہ کے لیے اقبال شناسی کا ایک مفید ذریعہ ثابت ہوگی اور اقبال کی فکر کو سمجھنے میں ابتدائی مگر مستند رہنمائی فراہم کرے گی۔ اگر یہ کاوش نئی نسل میں اقبال کی شاعری اور فکر کے مطالعے کا ذوق پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہی اس کتاب کی اصل کامیابی ہوگی۔
محسن خالد محسنؔ/عظمی نورین
سوانحِ حیات
(09 نومبر 1877ء – تا 21 اپریل 1938ء)
- اقبال کے آباء و اجداد "سپرو” ہندو برہمن تھے۔
- اقبال کے جدِ اعلیٰ "بابا لول حج” نے ہندو سے مسلمان ہو کر زراعت کا پیشہ اختیار کیا۔
- باب لول حج کی آنکھیں بھیں گی اور پاؤں ٹیرھے ہونے سے مذاق اُڑا جس سے زِچ ہو کر سب کچھ چھوڑ کر گھر سے بھاگ گئے۔
- بارہ برس بعد بابا لول حج گھر واپس لوٹے۔
- کشمیر کے مشہور صوفی "بابا نصر الدین” کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان کے خلیفہ بنے۔
- بابا لول حج مرشد کی خدمت میں "چرار شریف” کی درگاہ "شیخ العالم” دفن ہوئے۔
- شیخ اکبر اقبال کے پڑ دادا تھے جن کی شادی سادات گھرانے میں ہوئی اور یہ بھی بابا لول حج کی طرح مرشد کے جانشین رہے۔
- شیخِ اکبر کی چوتھی پُشت میں "شیخ محمد رفیق” کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آ بسے۔
- شیخ محمد رفیق (اقبال کے دادا) کے بیٹے "عبد اللہ” نے ریاستِ حیدر آباد دکن ہجرت کی اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔
- شیخ محمد رفیق کے ہاں گیارہ بیٹے پیدا ہوا جس میں پہلے دس شِیر خواری میں فوت ہوئے جبکہ آخری گیارہواں بیٹا زندہ رہا جس کا نام "نور محمد” رکھا گیا۔
- شیخ نور محمد 1873ء میں میں پیدا ہوئے۔ یہ اقبال کے والدِ محترم ہیں۔
- شیخ نور محمد کو "نتھو” اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش کے وقت ان کے ناک میں "نتھ” ڈال دی گئی تھی تاکہ موت کا فرشتہ لڑکی سمجھ کر ٹل جائے۔ بہ حکمت خدا شیخ نور محمد زندہ رہے اور "نتھو” عرفیت سے پُکارے جاتے رہے۔
- شیخ نور محمد نے قرآن کے علاوہ کچھ نہ پڑھا۔ سادہ مزاجی، حلیم الطبعی کی وجہ سے "ان پڑھ فلسفی” کے لقب سے ملقب کیے جاتے تھے۔
- شیخ نور محمد کی شادی سیالکوٹ کے کشمیری گھرانے سمبڑیال میں "امام بی بی” سے ہوئی۔
- شیخ نور محمد "دھُسوں” اور "لوئیوں (شال) ” بناتے تھے اور "برقعوں کی ٹوپیاں” سِیا کرتے تھے۔
- حُسنِ اخلاق، عالی ظرف اور صلح جوئی کی بابت علاقہ میں "میاں جی” مشہور ہوئے۔
- شیخ نور محمد کے ہاں 25 برس بعد پہلا بیٹا "شیخ عطا محمد (1895ء۔ 1940ء) پیدا جس نے "رُڑکی انجینئرنگ کالج” سے ڈپلومہ کیا اور اقبال کی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے۔
- شیخ نور محمد نے ایک خواب دیکھا جس میں ایک خوبصورت کبوتر اُڑتے ہوئے اِن کی گود میں آ گِرا۔ چند دن بعد 09۔ نومبر 1877ء کو یہ خواب اقبال کی صورت سچ ثابت ہوا۔
- اقبال کی والدہ امام بی بی عرف "بے جی” ایک نیک اور پارسا خاتون تھیں جن کی عمر غریبوں اور محتاجوں کی مدد و دستگیری کرتے گزر گئی۔
- مولوی غلام حسین سیالکوٹی (معروف جیّد عالم۔ امام: مسجد شوالہ تیجا سنگھ) سے سرِ راہ ملاقات کے دوران مولوی میر حسن کی نظر اقبال پر پڑی تو مولوی صاحب اقبال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
- علامہ کی والدہ "امام بی بی” نے 78 برس کی عمر پائی۔ ان کا انتقال 1914ء میں ہوا۔
- مولوی میر حسن (1844ء۔ 1929ء) کے اصرار پر شیخ نور محمد نے اقبال کو اِن کے مکتب میں "ناظرہ قرآن” کے لیے بھجوا گیا تھا۔
- ناظرہ قرآن کی تحصیل کے بعد مولوی میر حسن "سکاچ مشن سکول” کے مدرس ہونے کی وجہ سے اقبال کو بھی اِسی سکول میں داخل کروا دیا گیا۔
- مولوی میر حسن نے ایک دن تاخیر سے آنے کی اقبال سے وجہ پوچھی تو فرمایا: "اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے”۔ اِس جملے سے مولوی صاحب بہت متاثر ہوئے تھے۔
- علامہ نے بچپن میں "گلستان و بوستان” کے علاوہ "سکندر نامہ” اور "انوار سہیلی” سلیبس کے طور پر پڑھیں۔
- مولوی میر حسن کے شاگردوں کو کبوتر پالنے کا شوق تھا۔ اقبال کے بچپن کے دوست "سید تقی شاہ” نے کبوتر جمع کیے جس پر اقبال نے غالباً پہلا "قطعہ” یعنی چند اشعار پر مشتمل "تُک بندی” کی تھی جو موزوں اور وزن میں تھی۔
- مولوی میر حسن خود کو مذہبی فرقے کے معاملے میں "میں مسلمان ہوں” کہہ کر جان چھڑا لیتے تھے۔
- سکاچ مشن سکول نے مولوی میر حسن کو ریٹائر منٹ کے بعد تا حیات پوری تنخواہ دی۔
- اقبال نے مولوی میر حسن کے لیے یہ شعر بطورِ خاص کہا تھا:
؎ مجھے اقبال، اِس سید کے گھر سے فیض پہنچا ہے
پلے جو اِس کے دامن میں ہیں، وہ کچھ بن کے نکلے ہیں
- اقبال بچپن میں پنجابی قصے شوق سے سنتے اور خرید کر پڑھتے اور خوش الحانی سے سنایا کرتے تھے۔
- اقبال نے 1890ء میں تخلص "اقبال” اختیار کیا اور مقامی مشاعرے میں شرکت کی جب یہ آٹھویں کلاس میں تھے۔
- 1891ء میں اقبال نے مڈل امتحان بدرجہ اول پاس کیا اور آرٹس طلبہ میں اول رہے۔
- اپریل 1892ء میں اقبال نویں جماعت میں داخل ہوئے۔
- ستمبر 1983ء کے دہلی کے رسالے "زبان” میں ان کی غزل چھپی ملی ہے۔ جس کا مشہور شعر یہ ہے:
ہاتھ دھو بیٹھ آبِ حیواں سے خدا جانے کہاں
خضر نے اُس کو چھپا کر اے سکندر رکھ دیا
- اقبال نے داغ دہلوی کی شہرت سے متاثر ہو کر ان کی شاگردی اختیار کی۔
- انٹر اور بی۔ اے کے دوران ان پر داغؔ اور امیر مینائیؔ کے رنگِ سخن کا اثر غالب نظر آتا ہے۔
- نومبر۔ 1893ء میں رسالہ "زبان” میں داغ کی شاگردی میں ان کی غزل چھپی۔ جس کے آخر میں ” تلمیذِ بلبلِ ہند حضرت داغ دہلوی” لکھا تھا۔
؎ کیا مزا بلبل کو آیا شیوۂ بے داد کا
ڈھونڈتی پھرتی ہے اُڑ اُڑ کر جو گھر صیاد کا
- لڑکپن تک آتے آتے اقبال میں کتب بینی، کبوتر بازی، پتنگ بازی، ورزش اور اکھاڑہ دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔
- اقبال نے گجرات کے قریب بنے امتحانی سنٹر میں مارچ 1893 میں پنجاب یونی ورسٹی کی طرف سے میٹرک کا سالانہ امتحان دیا۔
- سفرِ گجرات کے دوران اقبال اپنے والد کے دوست سول سرجن ڈاکٹر شیخ عطا محمد (1855ء1922ء) سے مِلے جو اقبال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی بیٹی "کریم بی بی (1874۔ء1947ء) سے اقبال سے شادی کر دی۔
- شادی کے وقت اقبال کی عمر 17 برس تھی۔ بارات کے دن (مئی۔ 1893ء) اقبال کا میٹرک کا نتیجہ آیا جس میں اقبال 670 میں 424 نمبر لے کر درجہ اول میں کامیاب ہوئے۔ اس کامیابی پر پنجاب یونی ورسٹی سے "بارہ روپے "ماہوار وظیفہ اور اسکول سے "تمغا” بطور انعام ملا۔
- اقبال جلد عمری کی شادی سے خوش نہ تھے تاہم رواج کے مطابق بقول جاوید اقبال اس شادی کو قبول کر لیا تھا۔
- اسکاچ مشن ہائی سکول کو کالج کا درجہ ملنے پر اقبال 05 مئی 1893ء کو ایف۔ اے سال میں داخل ہوئے۔
- ایف۔ اے میں اقبال کے اختیاری مضامین (انگریزی، ریاضی، عربی، فلسفہ) تھے۔ انگریزی اور فلسفہ پروفیسر واخ پڑھاتے تھے، ریاضی لالہ نرنجن اور عربی میر حسن پڑھاتے تھے۔
- اقبال نے ایف۔ اے کا امتحان اپریل 1895ء میں درجہ دوم میں پاس کیا۔
- اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا کی نوکری لگ جانے سے اقبال کو لاہور میں مزید تعلیم کے لیے بھیجنے پر سب نے رضا مندی ظاہر کی تھی۔
- ایف۔ اے کے بعد اقبال مزید تعلیم کے لیے ستمبر 1895ء کو لاہور پہنچے جہاں اندرون بھاٹی دروازہ کے پاس مقیم دوست شیخ گلاب دین کے ہاں کچھ عرصہ قیام کیا۔
- گورنمنٹ کالج لاہور میں بی۔ اے میں داخلہ (1896) ملنے پر اقبال کو "اڈرینگل ہوٹل” (موجودہ نام: اقبال ہوسٹل) میں کمرہ نمبر 01 الاٹ ہوا۔
- علامہ نے پہلے مشاعرے میں شرکت دسمبر 1895ء لاہور میں کی۔
- بی۔ اے میں اقبال کے اختیاری مضامین (انگریزی۔ فلسفہ۔ عربی) تھے۔
- اقبال نے 1897ء میں درجہ دوم میں بی۔ اے کا امتحان پاس کیا۔
- اقبال کو عربی مضمون میں اول آنے پر طلائی تمغا (منسوب: سید جمال الدین فقیر، خان بہادر) دیا گیا تھا۔
- بی۔ اے کے بعد اقبال نے فلسفہ میں ایم۔ اے کے لیے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔
- 11۔ فروری 1898ء کو پروفیسر آرنلڈ بہ حیثیت پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے اُستاد مقرر ہوئے۔
- 1898ء میں ایم۔ اے فلسفہ میں داخلہ ہونے پر اقبال پروفیسر آرنلڈ کی شخصیت و علم و حِلم سے متاثر ہوئے اور انھیں کے ہو کر رہ گئے۔
- پروفیسر آرنلڈ نے اقبال کے بارے میں مشہورِ زمانہ جملہ کہا تھا کہ "ایسا شاگرد اُستاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا دیتا ہے۔”
- پروفیسر آرنلڈ نے اقبال کو اقتصادیات پر کتاب (علم الاقتصاد) لکھنے پر تحریک دی تھی۔
- پروفیسر آرنلڈ نے ہی اقبال کو شاعری ترک نہ کرنے کی تلقین کی تھی۔
- اقبال نے بانگِ درا میں اپنے محبوب اُستاد کے لیے "نالہ فراق” نظم لکھ کر ان کے احسانات و کرم فرمائی اور فِراق کی اذیت کا اظہار کیا ہے۔
- پروفیسر آرنلڈ کی بیٹی” نینسی” کو اقبال گود میں اُٹھا کر جھولے دیا کرتے تھے۔
- 22۔ اپریل 1899ء کو اقبال نے ایم۔ اے فلسفہ کا امتحان درجہ سوم میں پاس کیا۔ ایم۔ اے کا امتحان اکیلے پاس کرنے والے واحد طالب علم کی حیثیت سے پنجاب یونی ورسٹی نے اقبال کو "طلائی تمغا” سے نوازا تھا۔
- اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا چاہتے تھے کہ اقبال وکالت کی ڈگری حاصل کر کے اونچے عہدے پر ملازمت حاصل کریں۔
- 1899ء میں اقبال نے وکالت کا امتحان دیا تاہم پرچہ "فقہ” میں عدم دلچسپی سے فیل ہوئے۔ 8 سال بعد لندن کے "لنکز ان” ادارہ سے "بار ایٹ” کی ڈگری لے کر یہ معرکہ بھی سر کر لیا۔
- وکالت کے امتحان کے دوران اقبال نے Extra Assistant Commissioner کا امتحان کی غرض سے معائنہ کروایا جس سے ان کی دائیں آنکھ (بچپن میں جونکیں لگوانے سے بینائی زائل ہو گی تھی) میں بینائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ میڈیکلی Disqualify کر دئیے گئے تھے۔
- ۔ ایم۔ اے کرنے کے بعد اقبال 13۔ مئی 1899ء کو اورینٹل کالج میں "میکلوڈ عربک ریڈر” مقرر ہوئے۔ تنخواہ 72 روپے 04 آنے اور 08 پائی تھی۔
- بطور "میکلوڈ عربک ریڈر” اقبال نے چار برس کام کے دوران ایڈیشنل پروفیسر، اسٹنٹ پروفیسر کی عارضی آسامی پر بھی کام کیا۔
- اسی دوران اقبال نے گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی اور فلسفہ بھی پڑھایا۔
- 1899ء سے 1905 تک اقبال نے متعدد تحریری کام بھی کیے جیسا کہ ایک تحقیقی مضمونThe Doctrine of Absolute Unity as Expounded لکھا جو ان کے پی ایچ ڈی مقالے میں شامل ہوا۔ ایک انگریزی کتابPolitical Economy اور Early Plantagents کا ترجمہ و تلخیص کی۔
- 1904ء میں اقبال نے پہلی نثری تالیف "علم الاقتصاد” تالیف کی۔
- رام تیرتھ سوامی (1873ء1906ء) اقبال کے کلاس فیلو تھے جو سنسکرت کے ماہر تھے۔ اقبال نے ان سے مولانا روم کی مثنوی کا مطالعہ کیا تھا۔ رام تیرتھ کی مصاحبت میں اقبال شنکر اچاریہ کے ویدانتی فلسفے سے متاثر ہوئے تھے۔ بانگِ درا میں اقبال نے "سوامی رام تیرتھ” نظم میں رام تیرتھ سے رفاقتِ خاص کا ذکر کیا ہے۔
- نومبر 1896 میں حکیم شجاع الدین محمد لاہوری کے مکان پر منعقدہ مشاعرے میں شریک میر نظام حسین اور مرزا ارشد گورگانی نے اقبال کے بطور شرکت مشاعرہ اول میں ان کی غزل سُنی جس کے ذیلی شعر سُن کر مرزا شد گورگانی نے خوب داد دی اور اقبال کے ایک عظیم شاعر بننے کی پشین گوئی کی:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
- لاہور میں باہر جانے سے قبل اقبال نے "انجمن کشمیری مسلمان” کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور فروری 1896ء میں ایک مجلس میں "فلاحِ قوم” کے عنوان سے 27۔ اشعار پر مشتمل نظم لکھ کر کشمیریانِ لاہور کے عزم و مقصد کو توانا کیا۔
- لاہور کی ایک انجمن "آسمانِ ادب کے درخشاں ستارے” کی وساطت سے اقبال نے 24۔ فروری 1900 کو سر عبد القادر، شاہ دین جسٹس ہمایوں، مولوی احمد دین اور منشی محمد دین فوق وغیرہ کی گزارش و فرمائش پر "انجمن حمایتِ اسلام” کے پلیٹ فارم پر اپنی طویل نظم” نالۂ یتیم” پیش کی جسے سُن کر ڈپٹی نذیر احمد نے فرمایا: "میں نے ان کانوں سے انیسؔ اور دبیرؔ کے مرثیے سُنے، مگر جس پائے کی نظم آج سننے میں آئی اور جو اثر اِس نے میرے دل پر کیا، وہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا”۔
- اس واقعہ کے بعد اقبال بے بیشتر نظمیں (یتیم کا خواب، ہلالِ عید سے [1901]، اسلامیہ کالج کا خطاب پنجاب سے [1902]، ابرِ گوہر بار یعنی فریادِ اُمت [1903] اور تصویرِ درد [1904]) انجمن حمایتِ اسلام میں تحت اللفظ پڑھ کر اپنی خوش الحانی اور ترنم کا سکہ بٹھا دیا۔
- 22۔ جنوری 10901ء کو ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر اقبال نے 110۔ اشعار پر مشتمل نظم "اشکِ خوں ” پڑھی تھی۔
- 1091ء میں سر عبد القادر نے رسالہ "مخزن” جاری کیا جس میں اقبال کی نظم "ہمالہ” شائع کی جو اقبال کی شہرت کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی۔
- زمانہ ملازمت کے آغاز یعنی مئی 1899ء سے انگلستان روانگی ستمبر 1905ء تک اقبال مختلف کرائے کے مکانات میں رہے۔
- 1896ء میں پہلی بیگم کریم بی بی سے معراج بیگم پیدا ہوئی۔
- 1898 میں آفتاب اقبال پیدا ہوئے جو 1979ء میں فوت ہوئے۔
- اقبال اور کریم بی بی میں دلی قُربت اور ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی۔ کریم بی بی بیشتر وقت اپنے میکے میں گزارنا پسند کرتی تھیں۔
- مولوی میر حسن کے بیٹے سید تقی حسن اقبال کی خانگی زندگی کی تلخیوں سے بخوبی آگاہ تھے۔
- علامہ کی دوسری شادی 1910ء میں کشمیری گھرانے کی لڑکی سردار بیگم سے ہوئی جو رخصتی سے قبل ٹوٹ گئی۔
- علامہ کی تیسری شادی 1913ء میں لدھیانہ کی مختار بیگم سے ہوئی جن کا 1924 میں زچگی سے انتقال ہوا۔
- علامہ کی تین بیگمات سے یہ اولاد ہوئیں: [کریم بی بی سے (آفتاب اقبال، معراج بی بی)۔ مختار بیگم سے اولاد نہیں ہوئی۔ سردار بیگم سے (جاوید اقبال، منیرہ اقبال]
- خانگی ناہمواری کے پیشِ نظر اقبال لاہور میں بھاٹی دروازے سے متصل "بازارِ عیش (ہیرا منڈی) میں ایک "امیر ” نامی کی گلوکارہ کی آواز و شخصیت سے متاثر تھے اور ان کے ہاں جایا کرتے تھے۔ اس بات کا تذکرہ مولوی میر حسن کے بیٹے سید تقی شاہ سے اقبال نے خط کے ذریعے کیا ہے۔ جاوید اقبال پِسر اقبال نے اِس بات کی تصدیق "زندہ رود” میں بھی کی ہے۔
- اقبال کی چار بہنیں (فاطمہ بی۔ طالع بی۔ کریم بی۔ زینب بی) ہیں۔ پہلی دو اقبال سے بڑی اور اواخر دو اقبال سے چھوٹی تھیں۔
- گرمیوں کی چھٹیوں میں پنجابی گھرانوں کی روایت کے پیشِ نظر کریم بی بی سُسرال آتی اور اقبال بھی گھر چلے جاتے اور سبھی بہن بھائی ہلا گُلا کرتے۔
- اقبال اپنے سُسر ڈاکٹر شیخ عطا محمد کے ہاں اِن کے کتب خانے سے استفادہ کرنے کبھی کبھی جایا کرتے تھے۔
- 1904ء میں اقبال اپنے بڑے بھائی عطا محمد کے پاس ایبٹ آباد ملٹری ورکس بھی چھٹیوں میں گئے تھے۔
- اقبال نے بڑے بھائی عطا محمد کو بانگِ درا میں شامل نظم "التجائے مسافر” میں "یوسفِ ثانی” لقب سے ملقب کیا ہے۔
- اقبال کے بھائی کو جھوٹے مقدمے میں کسی نے پھنسوا دیا تھا جس پر اقبال نے لارڈ کرزن وائسرائے کی سفارش سے مقدمہ ختم کروا کے رہائی دلوائی۔ اس واقعے کے دوران سفرِ کوئٹہ میں اقبال نے "بلبل کی فریاد” نظم لکھی تھی۔
- اقبال نے اِسی مقدمے کی خواری کی وجہ سے ولایت جا کر قانون پڑھنے کا ارادہ کیا تھا۔ جسے ان کے بھائی نے اخراجات برداشت کرنے کی صورت سراہا تھا۔
- 1904ء میں پروفیسر آرنلڈ کی ہندوستان سے واپسی نے اقبال کے لیے ولایت جانا، ناگزیر کر دیا۔
- 1904ء میں ہی اقبال کے دوست سر عبد القادر بھی انگلستان چلے گئے۔
- اقبال کے بھائی عطا محمد اقبال کو ولایت بھیجنے کے حق میں نہ تھے تاہم مولوی میر حسن کی سفارش سے وہ رضا مند ہو گئے۔
- یکم ستمبر 1905ء کو اقبال ریل کے ذریعے ہندوستان کے لاہور سے دہلی روانہ ہوئے۔
- 1905ء میں اقبال نے مسافر کی حیثیت سے دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری دی اور عالمِ تنہائی میں نظم "التجائے مسافر” لکھی۔
- 04۔ ستمبر کو دہلی سے ممبئی پہنچے۔ ممبئی شہر دیکھ کر بحری جہاز پر روانہ ہوئے۔
- اقبال نے ممبئی سے انگلستان تک بحری سفر کی رُوداد مولوی انشا اللہ خاں کے نام دو خطوط میں لکھی ہے۔
- 24۔ ستمبر کو اقبال لندن پہنچے جہاں شیخ عبد القادر نے اقبال کا پُر جوش استقبال کیا۔
- لندن دیکھ کر اقبال کی آنکھیں کھُلی کی کھُلی رہ گئیں۔ تین روز قیامِ لندن کے بعد اقبال کیمبرج چلے گئے۔
- 04۔ نومبر 1905ء کو اقبال نے قانونی تعلیم کے لیے "لنکز اِن” میں داخلہ لیے لیا۔
- ٹرنٹی کالج میں اقبال نے پوسٹ گریجوایٹ سکالر کی حیثیت سے Advanced Student کے لیے مقالہ لکھنے کی اجازت طلب کی جو انھیں مِل گئی۔
- کیمبرج میں اقبال کو تجربہ کار اساتذہ ملے جن میں پروفیسر نِکلسن، ڈاکٹر براؤن اور پروفیسر میک ٹیگرٹ سے اقبال بہت متاثر ہوئے۔
- قانون کی تعلیم کے دوران کیمبرج میں قیام کے وقت اقبال کو پی۔ ایچ ڈی کرنے کی تحریک پیدا ہوئی۔
- پروفیسر آرنلڈ کی مشاورت اور دیگر دوستوں کی کرم فرمائی سے اقبال نے جرمنی سے پی ایچ۔ ڈی کرنے کا ارادہ کیا۔
- لندن میں عطیہ فیضی سے اقبال کی پہلی ملاقات یکم اپریل 1907ء میں "مس بیک” کے ہاں ہوئی۔
- عطیہ فیضی ایک امیر گھرانے کی انتہائی ذہین لڑکی تھی جس سے اقبال کی ذہنی ہم آہنگی اَوج پر رہی۔
- 1905ء تا 1907ء دو سال کی سخت مشقت سے اقبال نے پروفیسر سورلی، ڈاکٹر رینولڈ نکلسن کی نگرانی میں اپنا مقالہ جمع کروایا تھا۔ 07۔ مئی کو سپیشل بورڈ آف مارل سائنسز نے اقبال کا مقالہ منظور کیا اور انھیں 13۔ جون 1907ء کو بی۔ اے کی ڈگری مل گئی۔ یہ وہ ڈگری ہے جس نے اقبال کے لیے پی ایچ۔ ڈی اور بارایٹ لا کے حصول کا سفر آسان کر دیا کیونکہ اس ڈگری کے بغیر پی ایچ ڈی اور بار ایٹ لا ممکن نہیں تھا۔
- بی۔ اے کی ڈگری کے حصول کے بعد اقبال پی ایچ۔ ڈی کے لیے جرمنی کی تیاری کر رہے تھے اور ساتھ لندن میں مقیم ہونے کی وجہ سے عطیہ فیضی کی دعوتوں میں شریک ہو کر ان کے مصاحبین سے ملاقات و گفتگو کا سلسلہ بھی جارے رکھے ہوئے تھے۔
- پی ایچ۔ ڈی کے لیے انھیں جرمن زبان سیکھنا ضروری تھی جسے اقبال نے مقالے کی تدوین کے ساتھ سیکھنا شروع کر دیا تھا۔
- 20۔ جولائی 1907ء کو اقبال لندن سے براہ راست میونخ (جرمنی) پہنچے۔
- میونح کی "لُڈوِگ میک ملین یونی ورسٹی” میں The Development of Metaphysic in Persia کے عنوان سے پی ایچ ڈی میں داخلہ کی درخواست دی۔ جسے پروفیسر آرنلڈ کی سفارش سے منظور کر لیا تھا۔
- جرمن زبان سیکھنے کی غرض سے اقبال تین ماہ جرمنی مقیم رہ کر ہائیڈل برگ چلے گئے جہاں دریائے نیکر کے کنارے ایک نجی ہوٹل میں اقامت اختیار کی۔
- ہائیڈل برگ میں اقبال کی ملاقات "ایما وِیگے نوسٹ” لڑکی سے ہوئی جو میونح کی تعلیم یافتہ تھیں اور جرمن زبان کی ٹیوٹر تھیں۔ اقبال کا ایما سے تعلق اس کی ذہانت اور جمال و حُسن کی وجہ سے یادگار رہا۔
- ۔ ایما کے ساتھ گزرے وقت (ایک ماہ) نے اقبال کو عمر بھر بے قرار کیے رکھا۔
- جس وقت اقبال نے عطیہ کے ساتھ دریائے نیکر کے کنارے زندگی کے سب سے حسیں پل گزارے تھے تب عطیہ بھی فیلوز کے ہمراہ ہائیڈل برگ آ پہنچی اور خوب ہلا گُلا کیا۔
- اقبال نے بانگِ درا میں نظم "ایک شام دریائے نیکر کے کنارے” لکھ کر اپنے جذبات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔
- یکم جولائی 1908ء کو اقبال کو "لنکزاِن” سے "بار ایٹ لاء” کی ڈگری ملی۔
- 04۔ نومبر 1908ء کو پانچ رُکنی ریویو کمیٹی نے اقبال کے نگران پروفیسر فریڈرش ہومل کی نگرانی میں اقبال کا زبانی امتحان (viva) لیا گیا جس کا اقبال نے کامیابی سے دفاع کیا اور قابلِ عزت الفاظ کے ساتھ انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کر دی گئی۔
- ڈگری لے کر واپس ہندوستان آتے ہوئے براستہ پیرس جب جہاز بحرۂ روم سے گزر رہا تھا تو اقبال کا دل بھر آیا اور مسلمانوں کی سِسلی جزیرے پر حجازی حکومت کے لیے انھوں نے نظم "صقیلہ” لکھی جو بانگِ درا میں شامل ہے۔
- اقبال آخری بار: ایما سے ملنا چاہتے تھے مگر ناکام رہے اور ساری باتیں دل میں حسرت بن کر رہ گئیں۔ ایما کے نام اقبال کے 27۔ خطوط اقبال اور ایما کے درمیان تعلق و قُرب کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
- 25۔ جولائی 1908ء کو اقبال ممبئی کے ساحل پر اُترے اور ذریعہ ریل دہلی سے 27۔ جولائی کو لاہور پہنچے جہاں شیخ گلاب دین کے آپ کے اعزاز میں استقبالیے کا اہتمام کیا تھا۔
- اقبال کے تین سالہ قیامِ یورپ نے اقبال کو پوری طرح بدل دیا گویا 1905ء سے پہلے والا اقبال کوئی تھا اور ولایت سے لوٹنے والا اقبال کوئی اور تھا۔
- اقبال نے قیامِ یورپ کے تین سالوں میں کُل 24 نظمیں اور چند غزلیں لکھی تھیں۔
- وطن واپسی کے بعد اقبال نے اگست 1908ء میں وکالت کی پریکٹس سیالکوٹ (محلہ موہن لال [موجودہ: اُردو بازار] شروع کر دی۔ سیالکوٹ میں جی نہ لگا تو لاہور میں ضلع کچہری سے متصل پریکٹس کا آغاز کیا اور دفتری معاملات میں "چندر” نامی منشی ملازمت پر رکھ لیا۔
- اقبال اپنی شاعرانہ سوچ اور لا اُبالی طبیعت اور آزاد منش رجحان کی وجہ سے وکالت میں چل نہ سکے اور بہت جلد اس شعبہ سے خود کو علیحدہ کر لیا۔
- ستمبر 1912ء کو اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد ملازمت سے سبکدوش ہو گئے تو اقبال پر گھریلو ذمہ داری آ پڑی۔
- ملازمت کی تلاش میں اقبال مہاراجہ الور کے ہاں بھی گئے تھے مگر کم تنخواہ (چھے سو روپے) کی وجہ سے واپس لوٹ آئے تھے۔
- حیدر آباد دکن میں ججی کی خالی اسامی تھی جہاں ملازمت ممکن ہونے کے باوجود اقبال نے دلچسپی نہ لی۔
- جامعہ عثمانیہ میں قانون کی پروفیسری کی پیش کش ہوئی مگر اقبال نے قبول نہ کی۔
- انارکلی میں موجود مکان میں اقبال بے روزگاری کے عالم میں رہے۔ چند مخلص دوست کی اعانت سے کاروبارِ زندگی کسی صورت چلتا رہا۔
- بے روزگاری کے اس عالم میں اقبال پر قسمت یوں مہربان ہوئی کہ گورنمنٹ کالج لاہور کے قائم مقام فلسفہ کے پروفیسر یاٹ جیمز یکم مئی 1909ء میں اچانک انتقال کر گئے۔ پرنسپل کالج "رابسن” نے اقبال کو جزوقتی لیکچرار ملازمت پر رکھ لیا۔
- اقبال کے دوست شاطر مدراسی نے موجود کلام کو چھپوانے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اقبال نے منع کر دیا۔
- آل انڈیا ممڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس دسمبر1910ء میں اقبال کو "انجمن کشمیری مسلمانان” کی بطور رُکن ممبر شپ مل گئی۔
- 18۔ مارچ1910ء کو اقبال نے نامور ادیب و شعرا کے ہمراہ حیدر آباد دکن میں سر اکبر حیدری کی دعوت پر سفر کیا جس میں اقبال کو بطور شاعر از حد تحسین ملی۔ بانگِ درا میں شامل نظم "گورستانِ شاہی” اسی سفر کی یادگار ہے۔
- یورپ سے واپسی کے بعد اقبال کی پہلی بیگم کریم بی بی سے باوجود کوشش کے تعلقات خوشگوار نہ ہو سکے اور ہمیشہ کے لیے اپنے میکے چلی گئی۔
- اقبال نے مخلص دوستوں کی تجویز اور والدین کی رضا مندی سے 1910ء میں لاہور میں مقیم ایک کشمیری گھرانے کی خاتون "سردار بیگم” سے نکاح کر لیا تاہم رخصتی سے قبل ایک گمنام خط (جس میں سردار بیگم کے کردار اور چال چلن کو مشکوک بتایا گیا تھا۔) کے ملنے سے اقبال نے پریشان ہو کر تنسیخِ نکاح کا سوچا۔
- 1913ء میں اقبال نے لدھیانہ کی "مختار بیگم” سے نکاح کر لیا۔ اسی دوران اقبال نے سردار بیگم کو خط لکھ کر معاملے سے آگاہ کیا جس پر تحقیق سے پتہ چلا کہ اقبال کا کوئی حریف وکیل ہے جس نے یہ جھوٹا خط لکھ کر شادی رُکوانا چاہی تھی جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ اقبال بخوشی سردار بیگم کو گھر لے آئے جہاں سردار بیگم اور مختار بیگم دونوں ایک ساتھ رہنے لگیں۔
- 1908ء سے 1913ء تک اقبال نے ملازمت کی خواری اور خانگی مسائل میں وقت گزارا۔
- اقبال نے 1911ء میں معرکہ آرا نظم "شکوہ” لکھی جو انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں 11۔ جولائی 1911ء کو پڑھی گئی۔
- نظم "شمع اور شاعر” (فروری۔ 1912ء) 16۔ اپریل۔ 1912ء کو انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں پڑھی گئی۔
- اقبال نے 1908ء سے 1914ء تک کُل 45 نظمیں لکھیں۔
- طرابلس پر اٹلی کے حملے نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جذباتی کر دیا تھا۔ اقبال نے نظم "حضورِ رسالتِ مآب میں” لکھ کر مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔
- 09۔ نومبر 1914ء کو والدہ کی وفات نے اقبال کو شدید صدمے سے دوچار کیا جس سے تخلیقی صلاحیت جز وقتی ماند پڑ گئی۔
- طرابلس کی لڑائی کے دوران شہید ہونے والی بچی فاطمہ پر اقبال نے "فاطمہ بنتِ عبد اللہ” نظم لکھی۔
- اقبال نے 1913ء میں "اَسرارِ خودی” لکھنا شروع کی جو ڈیڑھ برس میں مکمل ہو کر 1915ء میں چھپی۔
- 12۔ ستمبر 1915ء کو "اسرارِ خودی” چھپ کر منظر عام پر آئی۔
- اَسرارِ خودی کی تخلیق کا محرک اقبال نے والدِ محترم شیخ نور محمد کو بقول خطِ عطیہ فیضی ٹھہرایا ہے۔
- اَسرارِ خودی پر اقبال کے خلاف ایک محاذ کھڑا ہوا جس کے سرپرست خواجہ حسن نظامی تھے۔
- اقبال کے دفاع میں مولانا ظفر علی خان، عبد الرحمن بجنوری، مولوی سراج الدین پال ایڈوکیٹ تھے۔
- اَسرارِ خودی کے جواب میں کئی مثنویاں لکھی گئیں جن میں پیر زادہ مظفر الدین فضلی کی "رازِ بے خودی” معروف ہوئی۔
- اقبال کے دیرینہ دوست معروف شاعر اکبر الہٰ آبادی نے بھی "اَسرارِ خودی” کی مخالفت میں قلم اُٹھایا۔
- اقبال نے اُردو کی تنگ دامانی کا ذکر کیا ہے کہ "اُردو اشعار لکھنے سے دل برداشتہ ہوتا ہوں کہ دل کا غبار نہیں نکلتا اور طبیعت فارسی کی طرف مبذول ہو جاتی ہے”۔ اسی میلان کے پیشِ نظر 1918ء میں "رموزِ بے خودی” اور 1923ء میں "پیامِ مشرق” کے لیے مواد جمع ہو گیا۔
- پنجاب کے گورنر سر مائیکل اوڈو ڈائر کی جلیانوانہ باغ میں نہتے لوگوں پر سر عام گولی چلوانے سے حالات بہت کشیدہ ہو گئے جس کا اثر اقبال کے افکار پر براہ راست پڑا۔
- 1920ء میں گاندھی کی ترکِ موالات کی تحریک نے رہی سہی کسر نکال دی۔ اقبال ان حالات میں گوشہ نشین ہو کر رہ گئے۔
- 1922ء میں مسجد شب بھر کا واقعہ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں نے شاہ عالمی دروازے کے باہر ڈیڑھ مرلہ سرکاری خالی جگہ پر رات بھر میں مسجد بنا کر ہندوؤں کے مندر بنانے کی خواہش کو حسرت میں بدل دیا تھا۔
- 1922ء میں اقبال نے میکلوڈ روڑ لاہور (مکان نمبر 116) پر واقع ایک پرانی کوٹھی خرید کر مستقل رہائش اختیار کر لی تھی۔
- 1923ء میں اقبال کو "سر” کا خطاب ملا جس پر شدید مخالفت ہوئی۔ عبد المجید سالک نے اقبال کے نیاز مند ہونے کے باوجود حسداً ہجو لکھ ڈالی۔
کہتا تھا یہ کل ٹھنڈی سڑک پر کوئی گستاخ
سرکار کی دہلیز پہ سر ہو گئے اقبال
- عبد المجید سالک کے علاوہ میر غلام بھیک نیرنگؔ اور مولانا عبد الماجؔد دریا آبادی مخالفت میں پیش پیش رہے۔ "بندے ماترم” ہندو اخبار میں بھی تنقید کی گئی۔
- "سر” خطاب کی مخالفت کے دوران "پیامِ مشرق” 1923ء میں شائع ہوئی۔
- 1924ء میں چورا چوری کے واقعے کو ڈھال بنا کر گاندھی نے تحریکِ ترکِ موالات ختم کر کے تحریکِ خلافت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا۔
- 1924ء میں مصطفیٰ کمال پاشا نے سلطنتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کر کے تُرکی کی بساط لپیٹ دی۔
- پیام مشرق کی اشاعت کے بعد قارئین کے اصرار پر کسی نے بغیر اجازت اقبال کا اُردو کلام جمع کر کے "کلیاتِ اقبال” کے نام سے چھاپ دیا جسے سر اکبر حیدری کی کوشش سے دکن تک محدود کیا گیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ستمبر1924ء میں "بانگِ درا” باقاعدہ شائع ہوئی۔
- "بانگِ درا” کی اشاعت کے بعد شہرت کو نظر یوں لگی کہ اقبال کی تیسری زوجہ مختار بیگم کو زچگی کی حالت میں نمونیہ ہو گیا اور وہ جاں بر نہ ہو سکیں اور 21۔ اکتوبر 1924ء کو دُنیا چھوڑ کر اقبال کو ایک عظیم سانحے سے دو چار کر گئیں۔
- 31۔ جنوری 1924ء میں اقبال نے فارسی شعری مجموعہ "زبورِ عجم” مکمل کر لیا تھا۔
- 1925ء میں اقبال نے دوستوں کی تجویز پر پنجاب کی مجلس قانون ساز میں لاہور سے حصہ لیا۔ میاں عبد العزیز نے اپنا نام واپس لے کر اقبال کی تائید میں مہم چلانے کا اعلان کیا۔ انتخاب کا نتیجہ 06 دسمبر 1926ء کو ضلع کچہری میں سنایا گیا۔ اقبال نے اپنے حریف ملک محمد دین کو 2177 ووٹوں سے ہرا کر میدان مار لیا۔
- مئی 1927ء کی ہندو مُسلم فساد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اقبال نے اہم کردار ادا کیا۔
- یکم مئی1927ء کو مسلم لیگ کا ایک اجلاس برکت علی ممڈن ہال، لاہور میں منعقد ہوا جس میں میں مخلوط انتخاب کے خلاف اقبال کی پیش کردہ قرار داد منظور ہوئی۔
- جولائی 1929ء میں اقبال نے ہندو مُسلم تعلقات اور مسلمانوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک خطبہ لکھنا شروع کیا جو 29۔ دسمبر 1929ء کو محلہ یاقوت گنج میں سامعین کے سامنے انگریزی میں پڑھا گیا اور ترجمہ شدہ کاپیاں سامعین میں تقسیم کی گئی۔
- اقبال مجلس قانون ساز کی رُکنیت سے خوش نہ تھے کہ مزاج میں سیاسی عُنصر مطلق نہ تھا۔ 1929ء کے انتخابات میں اقبال نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔
- 1928ء میں مسلم ایجوکیشنل ایسوسی ایشن آف سدرن انڈیا نے اقبال کو علمی خطاب کی دعوت دی جس میں آپ نے بھر پور شرکت کی۔
- یکم جنوری 1929ء میں دہلی کی آل انڈیا پارٹیز مسلم کانفرس میں شریک ہوئے۔
- 1929ء میں اقبال نے تین خطبات مدراس یونی ورسٹی میں، ایک خطبہ میسور یونی ورسٹی اور تین علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں خطبے دئیے۔ ان خطبات کو The Reconstruction of Religious Thought in Islam کے نام سے چھاپا۔ اس تصنیف کا اُردو ترجمہ سید نذیر نیازی نے "جدید الٰہیات اسلامیہ” کے نام سے کیا۔
- 03۔ اپریل 1931ء کو اقبال آل انڈیا مسلم کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی گئے۔
- 10۔ مئی 1929ء کو نواب بھوپال کی دعوت پر بھوپال گئے۔
- دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے اقبال 12۔ ستمبر 1931ء کو "ملوجا” نامی بحری جہاز سے انگلستان روانہ ہوئے۔ اس سفر میں اقبال کے ہمراہ سید علی امام، نواب صاحب چھتاری، جسٹس سہروردی، مشیر حسین قدوائی وغیرہ شریکِ سفر تھے۔ 27۔ ستمبر کو انگلستان پہنچے۔ اقبال کی معیت میں یہ قافلہ 21۔ نومبر تک لندن میں "سینٹ جمیز پیلس” لندن میں مقیم رہا۔
- اقبال 23 سال بعد لندن دوبارہ آئے تھے۔ بطور فلسفی مشہور تھے اس لیے سارا وقت دعوتوں، ضیافتوں اور ملاقاتوں و تقاریر و گفتگو میں گزرا۔
- دوسری گول میز کانفرنس انگریزوں اور ہندوؤں کی باہمی منافقت اور ریشہ دوانیوں اور گاندھی کی غیر منصفانہ کڑی شرائط کی وجہ سے زیادہ سود مند ثابت نہ ہوئی۔
- 21۔ نومبر کو اقبال غلام رسول مہر کے ہمراہ لندن سے روم روانہ ہوئے جہاں سے پیرس سے براستہ جرمنی ستائیس گھنٹے کا سفر ویگے ناسٹ سے ملنے کے لیے کرنا پڑنا تھا تاہم اقبال باوجود خواہش کے ویگے ناسٹ سے ملنے کی خواہش دل میں لیے سیدھا روم جا پہنچے جہاں پروفیسر جینٹلی (انسائیکلوپیڈیا اطالیانہ) سے ملاقات ہوئی۔
- سابق شاہ افغانستان امان اللہ خاں سے روم میں ملاقات کی۔ 26۔ نومبر کو اقبال نے "رائل اکیڈمی” میں لیکچر دیا۔ عجائب گھر دیکھے اور شام کو "برنڈزی” روانہ ہو گئے۔
- اٹلی میں اقبال کی مطلق العنان حکمران مسولینی اور عظیم مفکر اسلام عالم پرنس کیتانی سے ملاقاتیں یادگار ہیں۔
- 29۔ نومبر کو اقبال غلام رسول مہر کے ہمراہ اٹلی سے مصر کی طرف روانہ ہوئے۔
- یکم دسمبر 1932ء کو اقبال اسکندریہ پہنچ گئے۔ مصر میں پانچ دن قیام رہا۔
- مصر میں پانچ دن قیام کے بعد اقبال مع دوستوں کے فلسطین جا پہنچے جہاں گرینڈ ہوٹل میں قیام کیا اور مفتی امین الحسینی سے ملاقات کی۔
- اقبال نے فلسطین میں دوسری موتمر کانفرس میں شرکت کے علاوہ پورا فلسطین گھوم پھِر کر دیکھا اور بہت کچھ اخذ کیا جسے بعد کو منظوم بھی کیا۔
- نظم "ذوق و شوق” سفرِ فلسطین کی رُوداد ہے۔
- فلسطین واپسی پر اقبال حجاز جاتے جاتے رہ گئے۔ 30۔ دسمبر 1931ء کو اقبال لاہور پہنچے جہاں بھر پور استقبال سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
- تیسری گول میز کانفرنس میں اقبال کی تردید کے باوجود انھیں لندن شرکت کے لیے بھیج دیا گیا۔ اقبال ممبئی سے بذریعہ بحری جہاز وینس پہنچے، وہاں سے بذریعہ ریل پیرس گئے۔ پیرس میں نپولین کے مقبرے میں گئے۔ بالِ جبرئیل میں نظم "نپولین کے مزار پر” اسی سفر کی یاد گار ہے۔ اقبال پیرس سے بذریعہ ریل لندن پہنچے جہاں دو ماہ قیام کیا اور تیسری گول میز کانفرس میں شرکت بھی کی۔
- اب کے بار اقبال ویگے ناسٹ کو دیکھنے اور ملنے کے لیے بے چین تھے اور اُسے خط لکھ کر اپنے آنے کی اطلاع دے چکے تھے کہ ہائیڈل برگ میں 18۔ جنوری کو ملاقات ہو گی۔ اقبال کی سپین دیکھنے کی خواہش تھی۔ یہ خواہش ان کی پوری ہوئی۔ سپین کی یونی ورسٹی "میڈرڈ” میں پروفیسر میگول سن پلے چوائد کی زیر صدارت ایک لیکچر تھا۔ اقبال نے سپین کے پانچ شہر ( میڈرڈ، قرطبہ، غرناطہ، اشبیلہ، طلیطلہ) دیکھے۔ بال جبرئیل میں نظم "مسجدِ قرطبہ” اسی سفر کی یادگار ہے۔
- اقبال ویگے ناسٹ سے 26 برس بعد ملنے کی خواہش لیے سپن سے ہائیڈل برگ جانے کی بجائے پیرس سے بذریعہ ریل وین پہنچے اور 10۔ فروری کو بحری جہاز سے ہندستان لوٹ آئے۔ اقبال ویگے ناسٹ کو کیوں نہیں مِلے۔ یہ ایک معمہ ہے۔
- وطن واپسی کے بعد اقبال نے یکم مارچ 1933ء کو اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ واقع ٹاؤن ہال لاہور میں ایک استقبالیے میں لیکچر دیا تھا۔
- مارچ 1933ء میں اقبال جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی لیکچر دینے کے لیے گئے تھے۔
- اقبال نے پیامِ مشرق (1923ء) کا انتساب شاہ افغانستان امیر امان اللہ کے نام کیا ہے۔
- ستمبر 1933ء میں بچہ سقہ کا تخت گِرا کر جنرل نادر خاں بادشاہ بنا تو اس نے اقبال کو کابل آنے کی دعوت دی۔
- اقبال 20۔ اکتوبر 1933ء کو لاہور سے پشاور پہنچے جہاں ڈین ہوٹل میں قیام کیا۔ چند روز بعد کابل تشریف لے گئے۔ اس سفر میں اقبال کے ہمراہ سر راس مسعود، پروفیسر ہادی حسین اور علی بخش اور غلام رسول خاں بیرسٹر بھی شریکِ سفر تھے۔
- سفرِ افغانستان کی رُوداد مثنوی "مسافر” میں منظوم کی گئی ہے۔ سیاحتِ افغانستان کے دوران اقبال نے سلطان محمود غزنوی کا مقبرہ دیکھا اور فاتحہ خوانی کی۔ اقبال نے حکیم سنائی اور احمد شاہ ابدالی کی قبورپر بھی حاضری دی اور فاتحہ کی۔
- 04۔ دسمبر 1933ء کو پنجاب یونی ورسٹی نے اقبال کو "ڈی لٹ” کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔
- نومبر 1933ء میں اقبال کو آکسفرڈ یونی ورسٹی نے لیکچر کی دعوت دی مگر طویل علالت کے باعث جا نہ سکے۔
- اقبال والد کی طرح سویوں میں دہی ڈال کر کھانے سے زکام میں پکڑے گئے۔ بہی دانہ کھانے سے زکام جاتا رہا لیکن گلا ایسا بیٹھا کہ جان لیوا ثابت ہوا۔
- جون 1934ء کو دہلی سے دوا لینے کی غرض سے جاوید کو ساتھ لیے دہلی روانہ ہوئے۔ وہاں شیخ احمد سرہندی کے مزار پر تا دیر گریہ زاری اور تلاوتِ قرآن میں محو رہے۔
- یکم جولائی 1934ء کو انجمن حمایت اسلام نے اقبال کو صدر منتخب کر لیا۔
- اقبال کی شہرت کے پیش نظر 1934ء میں ترکی اور جنوبی افریقہ سے بھی لیکچر کی دعوت ملی تاہم آپ نے جانے سے معذرت کر لی اور ارادہ ظاہر کیا کہ اب دُنیا سے جانے کو جی چاہتا ہے۔
- گلے کے علاج کے سلسلے میں اقبال، دہلی، بھوپال کے گئے تاہم افاقہ نہ ہو سکا۔
- میکلوڈ روڑ والے مکان کو جاوید منزل کا نام دے کر اس کی تعمیر کا کام شروع کروایا جو اپریل 1935ء میں مکمل ہو گا اور انارکلی والے مکان کو چھوڑ کر مستقل یہیں آ بسے۔
- سردار بیگم کی صحت روز بروز ایسی بگڑی کہ کھانسی کے دوروں نے 23۔ مئی 1935ء کو جان لے کر ہی چھوڑا۔
- اقبال کی دوسری اُردو تصنیف "بالِ جبرئیل” جنوری 1935ء میں چھپی جس کا نام انھوں نے "صورِ اسرافیل” تجویز کیا تھا۔
- اقبال نے قادیانیت کی تردید میں ایک طویل مضمون Qadianism & Orthodox Muslim لکھ کر 14۔ مئی 1935ء کو کلکتہ اخبار Statesman سے چھپوا کر قادیانیت کے خلاف بھر پور مخالفت کا آغاز کیا۔
- 1936ء میں اقبال نے "اسلام اور احمدیت” کے عنوان سے مضمون لکھ قادیانیت کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی۔
- 25۔ اکتوبر 1935ء کو اقبال پانی پت روانہ ہوئے جہاں مولانا حالی کے جشن ولادت میں شرکت کی۔
- 05۔ فروری 1935ء کو اقبال نے بھوپال میں حمیدیہ ہسپتال میں طبی معائنہ کروایا۔
- اقبال چھے ماہ بعد تیسری بار علاج کے سلسلے میں 02۔ مارچ 1936ء کو بھوپال گئے تھے۔
- اقبال کی مثنوی "پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق” پہلی بار اکتوبر 1936ء میں شائع ہوئی۔
- 06۔ مئی 1936ء کو اقبال سے قائد اعظم محمد علی جناح "جاوید منزل” لاہور میں ملنے گئے تھے۔
- 08۔ میں 1936ء کو پارلیمانی بورڈ نے اقبال کو صوبائی پارلیمانی بورڈ کا صدر منتخب کیا۔
- 13۔ جون 1937 کو اقبال نے سر اکبر حیدری کو خط لکھ کر زندگی کے مقصد کی تکمیل اور قریبِ مرگ کا اشارہ کیا تھا۔
- جولائی 1937ء میں اقبال کے انتہائی مخلص اور دیرینہ دوست سر راس مسعود کا انتقال ہونے سے اقبال بہت دُکھی ہوئے۔
- اقبال کی صحت کے پیشِ نظر جولائی 1937ء میں مس ڈورس احمد (جرمن خاتون) علی گڑھ سے لاہور آ کر "جاوید منزل” میں مقیم ہو کر گھر کی دیکھ بھال کرنے لگیں۔
- 07۔ جنوری 1938ء کو ڈاکٹر عبد الطیف کی کاوش سے حیدر آباد دکن میں "یومِ اقبال” منایا گیا۔
- 09۔ جنوری 1938ء کو پنجاب یونی ورسٹی نے اقبال کو لیکچر کی دعوت دی مگر بوجوہ خرابی صحت آپ شریک نہ ہو سکے۔
- مارچ 1938ء میں اقبال کی آنکھوں میں موتیا اُترنا شروع ہوا۔ موتیے کا آپریشن دمے کی شکایت کے پیشِ نظر ممکن نہ ہو سکا۔
- اپریل 1938ء میں اقبال کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ چلنا پھرنا اور کھانا پینا موقوف ہو گیا۔
- 20۔ اپریل کی درمیانی شب ڈاکٹر قیوم نے ٹیکہ لگایا کہ حالت کچھ سنبھل جائے مگر بیماری بڑھتی چلی گئی۔
- مس ڈورس احمد نے بیٹی منیرہ کو بُلا کر والد سے ملاقات کروائی جو آخری ثابت ہوئی۔
- 21۔ اپریل کی شب بارہ بجے تک سبھی احباب ایک ایک کر کے چلے گئے البتہ ڈاکٹر قیوم موجود رہے۔ علی بخش اقبال کے پاس بیٹھے تھے کہ حالت متغیر ہونے پر علی بخش ڈاکٹر قیوم کو بلانے کے لیے باہر کی طرف دوڑے۔ ڈاکٹر قیوم کے آنے تک روح پرواز کر چکی تھی۔
علامہ اقبال کی تصانیف
شعری تصانیف
01۔ "اسَرارِ خودی” [پہلی اشاعت: 1915ء۔ دوسری اشاعت: 1918ء]
02۔ "رموزِ بے خودی” [اپریل 1918ء۔ اسرارِ خودی +رموز خودی، کو یکجا کر کے "اسرار و رموز” کے نام سے 1923ء میں شائع کیا]
03۔ "پیامِ مشرق” [مئی1923ء]
04۔ "بانگِ درا” [پہلا اُردو مجموعہ کلام۔ 1924ء۔ پہلی نظم "ہمالہ”۔ دیباچہ: سر عبد القادر۔ کلام تین حصوں میں منقسم ہے۔]
05۔ "زبورِ عجم” [جون1927ء]
06۔ "جاوید نامہ” [1932ء۔ دیباچہ شامل نہیں۔ ڈیوائن کامیڈی کا تتبع۔ مولانا رومی کی راہنمائی میں افلاک بالا کی سیر کا احوال]
07۔ "مسافر” [سفر افغانستان کی مختصر منظوم روداد۔ نومبر 1934ء]
08۔ "بالِ جبریل” [دوسرا اُردو مجموعہ۔ 1935ء معروف نظمیں: ذوق و شوق (1931ء) ، مسجد قرطبہ (1933ء) ، ساقی نامہ (1935ء) لینن (خدا کے حضور میں)]
09۔ "پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق” [اپریل 1936ء۔ علاج کے سلسلے میں بھوپال میں لکھی]
10۔ "ضربِ کلیم” [1936ء۔ سرورق شہ سرخی: اعلانِ جنگ۔۔۔ دورِ حاضر کے خلاف]
11۔ "ارمغانِ حجاز” [1938ء (بعد از وفات)۔ اُردو + فارسی کلام۔ دیباچہ شامل نہیں۔ ترتیب و تدوین: چودھری محمد حسین، غلام رسول مہر۔ تین چوتھائی فارسی ایک چوتھائی اُردو کلام]
نثری تصانیف
01۔ "علم الاقتصاد” [معاشیات پر پہلی اُردو کتاب۔ زمانہ طالب علمی کے دوران تالیف کی۔ اشاعت: 1904]
02۔ ڈاکٹریٹ کا مقالہ: The Development of Meta physics in Persia (1907 میں جمع کروایا۔ 1908ء میں چھپا)
03۔ "انگریزی خطبات” لیکچرThe Reconstruction of Religious Thought in Islam [1930 سات خطبات 1930ء]
04۔ "Stray Reflections” [اپریل1910ء۔ مرتب و شائع۔ جاوید اقبال 1961]
05۔ "تاریخِ تصوف” [مرتب: ڈاکٹر صابر کلوری، اشاعت: 1985۔ نامکمل تصنیف]
06۔ "Bedil in the Light of Bergson” [مرتب: ڈاکٹر تحسین فراقی، اشاعت: 1988ء)
شعری مجموعوں میں اشعار کی تعداد
v اسرارِ خودی میں اشعار کی تعداد [820] ہے۔
v رموزِ بے خودی میں اشعار کی تعداد [1076] ہے۔
v پیام مشرق میں اشعار کی تعداد [1017] ہے۔
v زبورِ عجم میں اشعار کی تعداد [2234] ہے۔
v بانگِ درا میں اشعار کی تعداد [2465] ہے۔
v "تشکیل جدید الٰہیات” میں خطبات کی تعداد [07] ہے۔
علامہ اقبال نے کس شخصیت کو کیا کہا
Ø علامہ نے کس شاعر کو "شاعرِ افغان شناس” کہا تھا؟ [خوشحال خان خٹک]
Ø علامہ نے "بلبلِ شیراز” کس کو کہا تھا؟ [شیخ سعدی]
Ø علامہ نے "خاتونِ عجم” کس کو کہا تھا؟ [قرۃ العین طاہرہ]
Ø علامہ نے "شیطان کا پیغمبر” کسے قرار دیا تھا؟ [میکا ولی]
Ø علامہ عثمان علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش لاہوری کو کیا کہتے تھے؟ [مخدومِ اُمم]
Ø علامہ مولانا رومی کو کس لقب سے ملقب کرتے تھے؟ [خضرِ راہ]
Ø علامہ جمال الدین افغانی کو کس طرح پکارا کرتے تھے؟ [سید السادات]
Ø علامہ نے جرمنی کے مشہور فلسفی نِطشے کو کس خطاب سے نوازا ہے؟ [مجذوب فرنگی]
Ø علامہ نے اپنے بھائی شیخ عطا محمد کو نظم "التجائے مسافر” میں [یوسف ثانی] سے مخاطب کیا۔
Ø علامہ نے "افلاطون” کے لیے کو کیا کہا ہے؟ [راحبِ اول]
Ø علامہ نے سعد الدین فوق کے بارے میں کیا کہا تھا؟ [ آپ کی فوقیت اس قدر بلند ہے کہ نظر ہی سے اوجھل ہے]
Ø علامہ نے اپنے مسلمان ہونے کا اعتراف کس ملک کے سفر کے بعد کیا تھا؟ [سفرِ یورپ]
Ø علامہ نے فلسفہ اور شاعری کے بارے میں کیا کہا تھا؟ [فلسفہ بوڑھا کر دیتا ہے اور شاعری شباب کی تجدید کرتی ہے]
Ø علامہ شعرا کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ [دیدۂ بینائے قوم]
Ø علامہ اپنے کس دوست کو بایاں ہاتھ کہا کرتے تھے؟ [چودھری محمد حسین]
علامہ اقبال کو ملنے والے خطابات و القابات
o شبلی نعمانی نے علامہ کو "ملک الشعرا” کا خطاب کب دیا تھا؟ [1911]
o حکومتِ برطانیہ نے علامہ کو "سر” کا خطاب کب دیا تھا؟ [یکم جنوری 1923ء]
o شاہ سلیمان پھلواری نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا ہے؟ [فرزوقِ ہند]
o سر شادی لال نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا ہے؟ [خان صاحب]
o مسٹر میکلیگن نے علامہ کے حکومتِ برطانیہ سے کس خطاب کی سفارش کی [نائیٹ ہُڈ]
o مولوی میر حسن علامہ کو کس نام سے یاد کیا کرتے تھے؟ [روحانی بیٹا]
o مغربی مفکر گوئٹے نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا ہے؟ [حکیم حیات]
o قوم نے علامہ کو کن خطابات سے نوازا ہے؟ [شاعرِ مشرق۔ مصورِ پاکستان۔ ترجمانِ حقیقت۔ ترجمانِ اسلام]
o خواجہ حسن نظامی نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا؟ [حکیم الامت]
o مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا؟ [امام العصر]
o مولانا آزاد بلگرامی نے علامہ کو کون سا خطاب دیا تھا؟ [حسان الہند]
o غلام قادر بلگرامی نے علامہ کو کس خطاب سے نواز ہے؟ [مجددِ عصر]
o ڈاکٹر این میری شِمل نے علامہ کو کس ملک کا "معنوی فرزند” قرار دیا تھا؟ [جرمنی]
o مولانا جوہر نے علامہ کو کون سا خطاب دیا ہے؟ [مرشد لباسی]
o پروفیسر آرنلڈ نے علامہ کے بارے میں کون سے تاریخی کلمات کہے تھے؟ ["ایسا شاگرد اُستاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا دیتا ہے۔”]
o حکومتِ ہند نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا ہے؟ [شمس العلماء]
o علامہ پر فِسطائیت کا الزام کس نے لگایا تھا؟ [اختر حسین رائے پوری (گردِ راہ) والے]
o آلِ احمد سرور نے علامہ کے بارے میں کیا کہا تھا؟ [اقبال قرآن کا شاعر اور شاعر کا قرآن ہے۔]
o علامہ کو "سر” کا خطاب ملنے پر کس نے "ہجو” لکھی؟ [مولانا ظفر علی خاں]
o ڈاکٹر علی شریعتی نے علامہ کو کس خطاب سے نوازا؟ [غزالی ثانی]
o ارشد گورگانی نے علامہ کو "شہرہ آفاق شاعر” بننے کی نوید یہ شعر سُن کر دی تھی:
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
اشعارِ اقبال سے اخذ شُدہ عنوان کی حامل کُتب
® آئے عُشاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب اُنھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 195]
اب اُنھیں ڈھونڈ: خاکوں کی کتاب: ڈاکٹر علی محمد خاں
® چاک اس بلبل تنہا کی نَوا سے دل ہوں
جاگنے والے اِسی بانگِ درا سے دل ہوں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
بانگِ درا کا نام اِس سے ماخوذ ہے
® یاد عہدِ رفتہ میری خاک کو اکسیر ہے
میرا ماضی میرے اِستقبال کی تفسیر ہے
[نظم: مُسلم (جون 1912ء)۔ بانگِ درا۔ ص: 224]
یادِ عہدِ رفتہ: ڈاکٹر عبادت بریلوی کی آپ بیتی
® باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر
[غزل 03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 347]
کارِ جہاں دراز ہے: آپ بیتی: قرۃ العین حیدر
® عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
[غزل06۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 350]
مہ کامل: کتاب: غلام علی خان کامل
® نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کِشت ویراں سے
ذرا نَم ہو تو یہ مَٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
ذرا نم ہو تو: کتاب: قاسم علی شاہ
® تیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی [غزل 10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
میرے بھی صنم خانے: پہلا ناول: قرۃ العین حیدر
® وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جُنوں
خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں
[غزل 03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 364]
حرفِ راز: اوریا جان مقبول کے اخباری مکالمے کا عنوان
® اے طائرِلاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رِزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
[غزل 34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]
پرواز میں کوتاہی: ایوب خاں کی آپ بیتی کا اُردو ترجمہ
® تہذیبِ نوی کارگہ شیشہ گِراں ہے
آدابِ جُنوں شاعرِ مشرق کو سِکھا دو!
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437]
شاعرِ مشرق: عوام کا دیا ہوا خطاب
® آیۂ کائنات کا معنی دیر یاب تُو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440]
نکلے تری تلاش میں: مستنصر حسین تارڑ کا پہلا سفر نامہ 1971ء
® مَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440]
۱۔ آتشِ رفتہ کا سُراغ از مشرف عالم ذوقی (ناول)
۲۔ سرگزشت از سید ذوالفقار علی بخاری (سوانح عمری)
۳۔ کھوئے ہوؤں کی جستجو از شہرت بخاری (سوانح عمری)
® نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تُو نے
مجھے کیا گِلہ ہو تجھ سے، تُو نہ رہ نشیں نہ راہی [غزل 22۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم377]
نشانِ منزل: بالِ جبرئیل کا پہلا مجوّزہ نام
® اگر ہوتا مجذوبِ فرنگی اِس زمانے میں
تو اِقبالؔ اُس کو سمجھا تا کہ مقامِ کِبریا کیا ہے
[غزل 33۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]
مجذوب فرنگی: جرمنی کا فلسفی "نِطشے”
علامہ اقبال پر لکھی گئی مشہور کُتب و مقالات
اقبال کا تصورِ تاریخ ڈاکٹر راشد حمید
تصوراتِ عشق و خرد: اقبال کی نظر میں ڈاکٹر وزیر آغا
اقبال کا تصورِ اجتہاد (مرتب) ڈاکٹر ایوب صابر/محمد سہیل عمر
اقبال کا تصورِ بقائے دوم ڈاکٹر نعیم احمد
اقبال کا تصور خودی (مرتبین) ڈاکٹر سید عابد حسین/ڈاکٹر غلام عمر خاں
تصوراتِ اقبال صلاح الدین احمد
اقبال اور تصورِ اہلِ بیت اشتیاق احمد (مقالہ)
اقبال کی شاعری کا اصلاحی پہلو اعجاز اشرف شاہ
اقبال کا شعورِ جمہوریت اکرام الحق
اقبال کی شاعری میں عورت کا تصور خدیجہ طاہر (مقالہ)
اقبال کا تصورِ محنت سبحان الدین
اقبال کا تصورِ کشف (مقالہ) شاہدہ رسول (مقالہ)
شعرِ اقبال میں اہل بیت ابہار کا تذکرہ گلفام علی ناصر (مقالہ)
علامہ اقبال کا تصورِ ارتقا محمد آصف اعوان
اقبال کا تصورِ ولایت سید محمد افضل اللہ
اقبال اور تصورِ امامت محمد افضل
اقبال اور وجودیت ناہید گل (مقالہ)
اقبال کا تصورِ حقیقت مُطلق محمد قمر اقبال
افکارِ اقبال اور غلامی مسرت امیر
اقبال کی فطرت شناسی محمد شمیم بٹ
علا مہ اقبال کی مستقبل شناسی غلام یٰسین (مقالہ)
اقبال کی شاعری میں تصوف غلام نبی میر
فوق البشر کا تصور اور اقبال کا مرد مومن مسز پری بانو
اقبال کے کلام میں آزادی کی اہمیت تسنیم رضا (مقالہ)
اقبال کا تصورِ توحید انیلہ محمود
اقبال کی شاعری میں خودی کا تصور اشتیاق احمد
اقبال کا فلسفہ خودی اور اس کے مقاصد آصف جاہ کامرانی (مقالہ)
کلامِ اقبال میں فطرت نگاری سید منور ہاشمی
اقبالیات سے متعلقہ امتحاناتی سوالات
- س۔ ناقدین نے کلامِ اقبال کے کتنے ادوار متعین کیے ہیں؟ دورِ سوم کی خصوصیات مع شعری امثال تحریر کیجئے۔
- س۔ اقبال کی شاعری کے پہلے دور کی خصوصیات بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کن وجوہات کی بنا پر مغرب کے تصورِ وطنیت کو ترک کے کے ملت کے تصور کی پیش کش کی طرف آئے مدلل جواب دیجئے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ عشق و عق پر دینی اثرات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری کے فنی محاسن بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کی نظم گوئ کی بنیادی خصوصیات تحریر کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ فن کی وضاحت کیجیے اور مختلف فنون کے بارے میں ان کے نظریات کا جائزہ لیجیے
- س۔ اقبال کے تصورِ مردِ کامل کی وضاحت کیجیے۔
- س۔ استحکامِ خودی کے لیے اقبال نے کن مراحل کو ضروری قرار دیا ہے؟
- س۔ کلامِ اقبال پر رومی کی شاعری کے کیا اثرات مرتب ہوئے ؛دونوں شعرا کے فکری اشتراک کی روشنی میں جواب دیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی غزل گوئی کی نمایاں خصوصیات بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال نے مغرب کے تصورِ وطینت کی کیوں مخالفت کی؟ ان کے تصورِ ملت کے بنیادی نکات بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ عقل و عشق کی وضاحت تقابلی انداز میں کیجیے۔
- س۔ اقبال نے فنونِ لطیفہ کے بارے میں کن خیالات کا اظہار کیا، ان کے تصورِ فن کی روشنی میں جواب تحریر کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ انسانِ کامل پر جامع مقالہ لکھیئے۔
- س۔ "خودی” سے اقبال کی کیا مراد ہے؟ اقبال کے تصورِخودی کے عناصر و لوازم بیان کیجیے، نیز تربیتِ خودی کے مراحل کی نشاندہی کریں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ ملت کی وضاحت کریں، نیز اِن محرکات کی نشاندہی کریں جن کے باعث اقبال مغرب کے تصورِ وطنیت سے بیزار ہو گئے۔
- س۔ اقبال کی غزل پر تفصیلی نوٹ تحریر کیجیے۔
- س۔ اقبال کے نزدیک خودی سے کیا مراد ہے؟ اقبال کے تصورِ خودی کے لوازم و عناصر کی نشاندہی کریں اور تربیتِ خودی کے مراحل پر روشنی ڈالیں۔
- س۔ فنونِ لطیفہ کے بارے میں اقبال کے نظریے کی وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال کی سوانح، شخصیت اور تصانیف کا جامع جائزہ لیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی شاعری کو کتنے ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے؟ اقبال کی شاعری کے پہلے دور کی خصوصیات بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ فن کی وضاحت کریں اور مختلف فنونِ لطیفہ کے بارے میں ان کے نظریات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال نے تربیتِ خودی کے لیے کتنے مراحل تجویز کیے؟ ان کے تصورِ خودی کے لوازم و عناصر کی روشنی میں جواب دیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری کے فنی محاسن کی وضاحت شعری مثالوں کے ساتھ کیجیے۔
- س۔ کلامِ اقبال میں مغرب کے کن تہذیبی و سیاسی پہلوؤں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال نے مغرب کے تصورِ وطنیت میں کیا خرابیاں دیکھیں؟ ان کے تصورِ ملت کے بنیادی نکات سپردِ قلم کیجیے۔
- س۔ خودی سے کیا مراد ہے؟ اقبال کے تصورِ خودی کے بنیادی لوازم و عناصر کے ساتھ ساتھ تربیتِ خودی کے مراح پر روشنی ڈالیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری کو کتنے ادوا میں تقسیم کیا گیا ہے؟ ان کی شاعری کے دورِ اول کی خصوصیات شعری مثالوں کے ساتھ بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال اور مولانا روم کے کلام میں کون کون سے فکری و فنی اِشتراکات پائے جاتے ہیں؟ تفصیلاً بیان کریں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ عشق و عقل کی توضیح تقابلی انداز میں کیجیے۔
- س۔ اقبال کی غزل کی فکری و فنی جہات پر روشنی ڈالیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی شعری کے تیسرے دور کا موضوعاتی و شعری جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری پر قرآنی اثرات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال نے کلامِ رومی سے کیا فکری و شعری اثرات جذب کیے؟ شعری مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال کے نزدیک خودی کے عناصر و لوازم کیا ہیں؟ اور تربیت خودی کے لیے وہ کون کون سے مراحل تجویز کرتے ہیں۔
- س۔ اقبال کی شاعری کو کتنے ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے؟ ان کے ذہنی و فکری ارتقاء ان کی شاعری کے پہلے دور کی اہمیت سے واضح کیجیے۔
- س۔ تصورِ خودی سے کیا مراد ہے؟ استحکامِ خودی کے لیے اقبال نے کن مراحل کو ضروری قرار دیا ہے۔
- س۔ علامہ اقبال کے تصورِ مومن کی نمایاں خصوصیات قلمبند کیجیے۔
- س۔ قبال کے تصورِ عقل و عشق پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری پہ دینی اثرات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کے ذہنی و فکری ارتقاء میں ان کی شاعری کے دورِ اول کی کیا اہمیت ہے؟ اس دور کی خصوصیات شاعری کا مثالوں کے ذریعے احاطہ کیجیے۔
- س۔ شاعری کے آغاز میں اقبال قومیت کے حوالے سے کیا نظریات رکھتے تھے؟ کن وجوہات کی بنا پر وہ نظریۂ قومیت و وطنیت ترک کے نظریہ ملت کے حامی ہوئے؟ تفصیلاً لکھیے۔
- س۔ اقبال بالعموم عقل کے مقالبے میں عشق کو ترجیح دیتے ہیں؟ آپ کا کیا خیال ہے؟
- س۔ اقبال فن سے شاعری کی ترویج کا کام لیتے ہیں یا پیغام کی ترسیل کا؟ دلائل سے ثابت کیجیے۔
- س۔ کلامِ اقبال کا ایک مآخذ قرآن بھی ہے، اشعار کی مثالیں دیتے ہوئے واضح کیجیے۔
- س۔ موجودہ عالمی سیاسی و تہذیبی صورتِ حال میں فکرِ اقبال کی اہمیت اُجاگر کیجیے۔
- س۔ خطباتِ اقبال کی تاری، سماجی، مذہبی اور فلسفیانہ اہمیت پر جامع نوٹ لکھیے۔
- س۔ اقبال کے تصورات ان کے تصورِ خودی کے گرد گھومتے ہیں، بحث کیجیے۔
- س۔ فکرِ اقبال کی تفہیم میں ان کے تصورِ زمان و مکاں کو بڑی اہمیت حاصل ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟
- س۔ کلامِ اقبال سے مثالیں دیتے ہوئے ان کی شاعرانہ عظمت اور دنی محاسن پر جامع نوٹ لکھیے۔
- س۔ اقبال صحیح معنوں میں عاشقِ رسولؐ تھے۔ ان کے کلام سے مثالیں دیتے ہوئے واضح کیجیے۔
- س۔ اقبال کے خطبے "اسلامی ثقافت کی روح” کا اس انداز میں جائزہ لیجیے کہ اس کے تمام نکات نمایاں ہو جائیں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ فن پر سیر حاصل بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال کے فکرو فلسفہ کی تفہیم کے لیے ان کا تصورِ خودی نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ بحث کیجیے۔
- س۔ کیا اقبال تصورِ تقدیر کے قائل ہیں؟ تائید یا تردید کیجیے۔
- س۔ اقبال کے فکر و فلسفہ کا ایک اہم مآخذ ان کے انگریزی خطبات ہیں۔ بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال نے خودی کے علاوہ "بے خودی” کا بھی تصور دیا ہے۔ کیا خودی اور بے خودی کے تصورات متضاد ہیں؟ بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال کے عشق کا مفہوم وسیع اور گہرا ہے اور جا بجا عقل و عشق کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اشعار سے مثالیں دے کر وضاحت کیجیے۔
- س۔ تصوراتِ اقبال کی تفہیم میں ان کے انگریزی خطبات پر تفصیل سے نوٹ لکھیں۔
- س۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی تصنیف "اقبال سب کے لیے” پر مفصل نوٹ لکھیں۔
- س۔ "اپنا گریبان چاک” کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اسلامی ریاست کا تصور واضح کریں۔
- س۔ عصرِ حاضر کے تناظر میں خطبہ "اجتہاد فی السلام” کے مقام کا تعین کریں۔
- س۔ اقبال کی نظم "خضرِ راہ” کا فنی و فکری جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصور "مرد مومن” کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصور "خودی اور تربیتِ خودی کے مراحل” پر تفصیلی سے روشنی ڈالیے۔
- س۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کی تصنیف "زندہ رود” کا تنقیدی جائزہ پیش کیجیے۔
- س۔ 1910 سے لے کر1930ء تک اقبال نے بھر پور فنی اور فکری آثار پیش کیے ؛آپ اس دور کی نمایاں تصانیف کا تعارف کروائیں۔
- س۔ اقبال کی کردار سازی میں ان کے گھریلو ماحول کا کس حد تک اثر تھا۔ بحث کریں۔
- س۔ خودی کی تشکیل کے تین مراحل کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے بتائیے کہ خودی کا سماجی زندگی سے کیا تعلق ہے؟
- س۔ اقبال شاعری کو مقصود خیال کرتے ہیں یا ابلاغ؟ مدلل بحث کریں۔
- س۔ عقل و عشق کی آویزش اُردو شاعری کا دلچسپ موضوع ہے ؛اقبال کے ہاں یہ آویزش کیا صورت اختیار کرتی ہے اور اقبال کس کی برتری کے قائل ہیں۔ وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال کن دلائل کی بنیاد پر تہذیبِ مغرب کے احوال و نتائج کو یکسر مسترد کر دیتے ہیں۔ بحث کریں۔
- س۔ عشقِ رسول فکرِ اقبال کا بنیادی محرک ہے۔ تفصیلی وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال اور مولانا روم کو اپنا مرشدِ معنوی قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے رومی کے اقبال پر اثرات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ برصغیر میں مسلمانوں کی جداگانہ اور منفرد قومیت کی تشکیل کے لیے اقبال نے کیا دلائل فراہم کیے؟ تفصیل سے وضاحت کریں۔
- س۔ خواتین کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے علامہ اقبال خاص تصورات رکھتے تھے اور انھوں نے خواتین کی تعلیم کے لیے نصابی تجاویز بھی مرتب کی تھیں۔ روشنی ڈالیں۔
- س۔ بانگِ درا کا پہلا جامع اُردو مجموعہ کلام ہے۔ اس مجموعہ کلام کی نمایاں خصوصیات پر ایک جامع نوٹ لکھیں۔
- س۔ اقبال نے شاعری کا آغاز اُردو غزل اور نظم سے کیا اور فارسی زبان کو شعریا ظہار کا ذریعہ بعد میں بنایا۔ تفصیل سے بتائیں کہ اقبال کی اُردو ار فارسی شاعری میں کس قدر موضوعی مشترک موجود ہے؟
- س۔ ساقی نامہ ؛اقبال کی شاہکار نظم ہے۔ اس نظم کی روشنی میں اقبال کے شعورِ سیاست، شعور خودی اور نژادِ نو کے نام پیغام پر ایک جامع نوٹ تحریر کریں۔
- س۔ بانگِ درا کی نظم "طلوعِ اسلام” کے مطالب پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔
- س۔ اقبال کے اُردو مجموعہ ہائے کلام کا ترتیب وار تعارف پیش کریں۔
- س۔ بالِ جبرئیل کی غزلیات کی نمایاں خصوصیات پر مثالوں کے ساتھ تفصیلی بحث کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کے شعری و نثری سرمائے کی مدد سے ان کی فنی و فکری ارتقاء کا ایک خاکہ مرتب کریں۔
- س۔ علامہ اقبال نے نظم و غزل کو لفظیات و اسالیب اور خیالات و تصورات کے بارے کے اعتبار سے وسعت اور جدت عطا کی، آپ کی کیا رائے ہے؟
- س۔ خودی کا تصور اقبال کے فلسفیانہ نظام کا محور ہے۔ مدلل بحث کریں۔
- س۔ اقبال کی نعتیہ شاعری میں رسولِ خدا سے محبت کے بنیادی محرک کو تفصیل سے بیان کریں۔
- س۔ کیا علامہ مکمل طور پر تہذیب مغرب کے مخالف تھے؟ مدلل جواب دیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال اور رومی کے افکار میں جو گہری مماثلت موجود ہے۔ اس کی وضاحت مثالوں کے ساتھ دیجیے۔
- س۔ خطباتِ اقبال کی اہمیت پر تفصیلی مضمون تحریر کیجیے۔
- س۔ زبورِ عجم کی غزلیں فکری اور فنی حوالے سے فارسی شاعری کا وقار ہیں۔ اس رائے کا تجزیہ کیجیے۔
- س۔ اسرارِ خودی، علامہ اقبال کے فلسفیانہ نظام میں کیا مقام رکھتی ہے؟ نیز اس مثنوی کا رموزِ بے خودی کے مطالب سے کیا تعلق ہے؟ تفصیل سے واضح کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کی طویل نظم: مسجدِ قرطبہ” کے فکری اور فنی خصائص پر جامع نوٹ لکھیں۔
- س۔ علامہ اقبال کے تصورِ قومیت کا تجزیہ کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کے خطبے "ثقافتِ اسلام کی روح” کے اہم موضوعات کا جائزہ لیں۔
- س۔ اقبال کے تصور خودی کے تربیتی مراحل کیا ہیں۔ بحث کریں۔
- س۔ اقبال کا تصور عشق اردو شاعری کے روایتی تصورِ عشق سے کس طرح مختلف ہے؟
- س۔ اقبال کے تصورِ مردِ مومن پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
- س۔ اقبال کے کسی ایک انگریزی خطبے کا تفصیلی جائزہ لیں۔
- س۔ اقبال کے نعتیہ کلام پر نوٹ لکھیں۔
- س۔ اقبال کے ہاں تصورِ وطنیت و قومیت سے تصورِ ملت تک سفر کی مختلف کیفیات بیان کریں۔
- س۔ اقبال اور رومی کے افکار میں مماثلت پر نوٹ لکھیں۔
- س۔ بانگِ درا کی منظومات کا موضوعات جائزہ لیں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ تعلیم پر ایک شُذرہ قلم بند کریں۔
- س۔ اقبال کی فارسی تصانیف کا جائزہ پیش کریں۔
- س۔ اقبال کی اُردو غزل، جدید اُردو غزل کا نقشِ اول ہے۔ بحث کریں۔
- س۔ "مسجدِ قرطبہ” کا فکری و فنی جائزہ لیں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ قومیت کے اہم نکات کا احاطہ کریں۔
- س۔ زبورِ عجم کی غزلیات کا فکری و فنی محاکمہ کریں۔
- س۔ اقبال کی کردار سازی میں ان کے گھریلو ماحول کا کس حد تک اثر تھا؟ بحث کریں۔
- س۔ خودی کی تشکیل کے تین مراحل کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے بتائیے کہ خودی کا سماجی زندگی سے کیا تعلق ہے؟
- س۔ اقبال شاعری کو مقصودِ خیال تصور کرتے ہیں یا ابلاغ کو؟ مدلل بحث کریں۔
- س۔ عقل و عشق کی آویزن ؛اُردو شاعری کا دلچسپ موضوع ہے۔ اقبال کے ہاں یہ آویزشن کیا صورت اختیار کرتی ہے اور اقبال کس کی برتری کے قائل ہیں۔ وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال کن دلائل کی بنیاد پر تہذیبِ مغرب کے احوال و نتائج کو یکسر مسترد کر دیتے ہیں۔ بحث کریں۔
- س۔ عشقِ رسولِ فکرِ اقبال کا بنیادی محرک ہے۔ تفصیلی وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال مولانا روم کو اپنا مرشدِ معنوی قرار دیتے ہیں ؛اس حوالے سے رومی کے اقبال پر اثرات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری کے آخری دور کے نمایاں فکری و فنی رجحانات کی نشاندہی کریں۔
- س۔ نطشے کے فوق البشر اور اقبال کے مرد مومن کے اختلافی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالیں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ خودی کے مآخذ اور نمایاں نکات کی نشاندہی کریں۔
- س۔ اقبال کس سیاسی نظام کے موید تھے؟ اور کیوں؟ وضاحت کریں۔
- س۔ علامہ اقبال "مکتب کی کرامت” کے مقابلے میں "فیضانِ نظر” کے زیادہ قائل ہیں۔ ان کے تصوراتِ تعلیم اور تربیت کے تناظر میں جواب دیجیے۔
- س۔ بالِ جبرئیل اُردو شاعری کا شاہکا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کے فکری اور فنی محاسن پر نوٹ لکھیں۔
- س۔ ارمغانِ حجاز پر اس طرح نوٹ قلم بند کریں کہ اس مجموعے کے موضوعات اور فنی محاسن کا محاکمہ ہو جائے۔
- س۔ علامہ اقبال کی نظم ذوق و شوق پر تنقیدی نوٹ قلمبند کریں۔
- س۔ سہ سالہ قیامِ یورپ کی اقبال کے فکری ارتقاء میں کیا اہمیت ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔
- س۔ اقبال کے فلسفہ خودی کے معنی و مفہوم پر روشنی ڈالیے۔ نیز خودی کی تربیت کے مدارج سے بحث کیجیے۔
- س۔ کلامِ اقبال کے موثر حوالوں سے اقبال کے تصورِ فن پر ایک جامع مضمون لکھیے۔
- س۔ تصورِ فوق البشر کے حوالے سے نطشے اور اقبال کے اشتراکات اور اختلافات پر سیر حاصل بحث پیش کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال مولانا روم کو اپنا مرشدِ معنوی قرار دیتے ہیں اس حوالے سے رومی کے اقبال پر اثرات کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کی تنقیدِ مغرب کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کے خطبات پر ایک جامع نوٹ لکھیے۔
- س۔ علامہ اقبال کے تصورِ قومیت کے جملہ عناصر پر تفصیل سے لکھیے اور بتاییے کہ ہماری عملی زندگی میں اس تصور کی کیا اہمیت ہے؟
- س۔ تعلیمِ نسواں کے حوالے سے علامہ کے تصوراتِ کی وضاحت کیجیے۔
- س۔ بانگِ درا کی منظومات علامہ اقبال کے فکری ارتقاء کا مطالعہ کرنے کے لیے اہم ترین ذریعہ ہیں۔ ثابت کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی غزل میں اچھوتے خیالات اور نئے مضامین ملتے ہیں۔ ان کی اُردو غزل گوئی کے حوالے سے سیر حاصل بحث کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی فارسی تصانیف کا تعارف پیش کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی فارسی شاعری کی خوبیاں بیان کریں۔
- س۔ اقبال کا تصورِ خودی آج کے عہد میں بھی اپنی خصوصیت رکھتا ہے یا محض قصہ ماضی بن کر رہ گیا ہے؟ دلائل کے ساتھ جواب تحریر کریں۔
- س۔ مطالعہ فن سے کیا مراد ہے؟ اُردو شاعری کی تاریخ میں ایک شاعر کی حیثیت سے اقبال کی انفرادیت اور خصوصیت کیا ہے؟
- س۔ اقبال کی نعتیہ شاعری میں نبی کریمؑ کی محبت کس طرح جلوہ گر ہوئی ہے؟ مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔
- س۔ اقبال اور نطشے کے ذہنی اختلافات پر جامع نوٹ لکھیں۔
- س۔ "جاوید نامہ” میں جو فکری مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔ ان پر مفصل مضمون قلمبند کریں۔
- س۔ اقبال کی اُردو غزل گوئی کے فنی اور شعری محاسن پر نوٹ لکھیں۔
- س۔ اقبال کے متصوفانہ افکار پر مبسوط مضمون تحریر کریں۔
- س۔ ذہنی اور فکری ارتقاء پر ماحول اور تعلیم کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں؟ اقبال کے حوالے سے واضح کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کے افکارِ قرآن حکیم اور احادیثِ مبارکہ سے مستفاد ہیں۔ اس رائے کی روشنی میں ان کے تصورِ عقل و عشق کا جائزہ لیں۔
- س۔ علامہ اقبال اور دوسرے نعت گو شعرا کی نعتیہ شاعری میں کیا فرق ہے؟ مثالوں کے ساتھ وضاحت کریں۔
- س۔ علامہ اقبال اور مولانا رومی کے افکار میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے؟ دلائل کے ساتھ وضاحت کریں۔
- س۔ تہذیب سے کیا مراد ہے؟ علامہ اقبال کے ہاں مشرقی تہذیب کن حوالوں سے مغربی تہذیب پر فوقیت رکھتی ہے مثالوں سے واضح کریں۔
- س۔ اقبال کے نزدیک موجودہ صدی میں اسلام کو کس طرح عام کیا جا سکتا ہے؟ اقبال کے نعتیہ کلام کی روشنی میں وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال کے تمام افکار کی کلید قرآن و حدیث ہے۔ اقبال کے تصورِ عقل و عشق کو پیشِ نظر رکھ کر وضاحت کریں۔
- س۔ مردِ مومن کے بارے میں مشرق کے کون کون سے تصورات فکرِ اقبال کو راغب کر سکے۔ وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال کی کسی ایک طویل نظم کا مفصل تعارف کروائیں۔
- س۔ اقبال کے نظریہ فن پر مفصل روشنی ڈالیے۔
- س۔ یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ اقبال کا تصورِ مردِ مومن جرمن فلسفی نطشے کے سُپر مین کے تصور سے ماخوذ ہے؟ بحث کریں۔
- س۔ کیا علامہ اقبال کُلی طور پر مغرب کے مخالف تھے؟ مدلل جواب دیں۔
- س۔ اقبال تعلیم اور تربیت کے مابین کس قسم کا توازن دیکھنا چاہتے ہیں؟ اقبال کے تصورِ تعلیم کے حوالے سے وضاحت کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی اُردو تصانیف میں "بانگِ درا” کی منظومات کی کیا اہمیت ہے؟ تفصیل سے روشنی ڈالیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی فارسی شاعری کی نمایاں خصوصیات تحریر کیجیے اور کلام سے چند مثالیں بھی دیجیے۔
- س۔ تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ کا تعارف کرائیے اور بتائیے کہ علامہ اقبال کے فکر و فلسفے میں علامہ کے خطبات کو کیا اہمت حاصل ہے؟
- س۔ علامہ اقبال کا نظریہ فن کیا ہے اور اس نظریے نے جدید شعر و ادب پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ حوالوں کے ساتھ جواب لکھیں۔
- س۔ علامہ اقبال کے تصورِ عقل و عشق میں ان کے فلسفہ خودی کو کیا نسبت ہے؟ افکارِ اقبال کی روشنی میں جواب دیجیے۔
- س۔ تعلیمِ نسواں کے حوالے سے علامہ کے تصورات کی وضاحت کیجیے۔
- س۔ بطور فارسی غزل گو شاعر ؛علامہ محمد اقبال کے مقام و مرتبے کا تعین کیجیے نیز ان کے کلام سے چند مثالیں بھی دیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی فارسی تصانیف کا اختصار سے جائزہ لیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کے شعری سرمائے کی مدد سے ان کے ذہنی و فکری ارتقاع کا ایک خاکہ مرتب کیجیے۔
- س۔ کیا بانگِ درا کی تمام تر شاعری ایک ہی مزاج اور ایک ہی فکری روشنی کی حامل ہے؟ دلائل کے ساتھ واضح جواب تحریر کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ عقل و عشق کا انسانی شخصیت یا تصورِ خودی سے کیا تعلق ہے؟ وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال کے نزدیک شعر و ادب کو زندگی کا معاون ہو نا چاہیے کہ نہیں۔ بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال نے مولانا روم سے کس حد تک استفادہ کیا ہے؟ تفصیل سے لکھیں۔
- س۔ اقبال مغربی تہذیب کے کن اجزا کو سراہتے ہیں؟ تفصیل سے لکھیں۔
- س۔ علامہ اقبال اور مولانا روم کے مشترک فکری تصورات پر جامع نوٹ لکھیں۔
- اقبال کے ہاں تصورِ وطنیت سے تصورِ ملت کے سفر کی مختصر کیفیت کے بیان کے ساتھ تائیدی یا تردیدی مثالیں بھی دیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ اجتہاد کو اُن کے خطبات کی روشنی میں واضح کیجیے۔
- س۔ اقبال کے مطابق تربیتِ خودی کے کتنے مراحل ہیں؟ تفصیل سے بیان کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کا تصورِ قومیت دیگر مسلم زعمائے ملت کے تصورات سے کس حد تک مختلف ہے؟ اس اختلاف کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالیے۔
- س۔ علامہ اقبال کے تصورِ تعلیم اور تربیت پر جامع مضمون قلمبند کریں۔
- س۔ خطباتِ اقبال میں علامہ اقبال نے کن فکری موضوعات کا احاطہ کیا ہے؟ تفصیلاً ان موضوعات کی نشاندہی کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کے شعری شاہکار "جاوید نامہ” پر اس طرح نوٹ لکھیں کہ اس مجموعے کے تمام محاسن شعری اور فنی روئیے سامنے آ جائیں۔
- س۔ اقبال کے فکری ارتقاء میں قیامِ یورپ کا کس قدر حصہ ہے؟ تفصیل کے ساتھ جواب دیں۔
- س۔ خودی سے کیا مراد ہے؟ خودی کی ترقی کے مدراج کیا ہے؟ نیز یہ تصور کس حد تک مشرقی ہے یا مغربی؟
- س۔ اُردو شاعری کی تاریخ میں اقبال نے نظم و غزل میں فنی لحاظ سے کیا کیا کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔ مثالوں کے ساتھ واضح کریں۔
- س۔ نطشے، رومی اور اقبال کے اشتراکات "فوق البشر” کے حوالے سے کیا کیا ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال کی نعتیہ شاعری دیگر شعرا کی نعتیہ شاعری سے کس طرح ممتاز ہے؟ مثالوں کے ساتھ واضح کریں۔
- س۔ علامہ اقبال اور مولانا رومی کے فکری رشتوں کا مآخذ کیا ہے تفصیلی نوٹ لکھیں۔
- س۔ خطبہ الہٰ آباد کی روشنی میں علامہ اقبال کے تصورِ قومیت کی وضاحت کریں۔
- س۔ "بالِ جبرئیل” کی غزلیات کو فکری اور دنی طور پر کیا امتیاز حاصل ہے۔ مثالیں دے کر واضح کریں۔
- س۔ "علامہ اقبال کے فکری نظام میں ان کی پہلی نثری کتاب "علم الاقتدار” کو بنیادی حیثیت حاصل ہے”۔ اس رائے کا محاکمہ کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کی طویل نظم "ذوق و شوق” کے فکری اور فنی مباحث پر جامع مضمون قلمبند کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کے خطبے بعنوان "کیا مذہب کا امکان ہے” کا تجزیہ کریں۔
- س۔ اُردو شاعری کی تاریخ میں اقبال نے نظم و غزل میں فنی لحاظ سے کیا کیا کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔ مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔
- س۔ بانگِ درا کی منظومات کا موضوعاتی جائزہ لیں۔
- س۔ اقبال کے تصورِ تعلیم پر ایک شُذرہ قلم بند کریں۔
- س۔ اقبال کی اُردو غزل جدید اُردو غزل کا نقشِ اول ہے۔ بحث کریں۔
- س۔ زبورِ عجم کی غزلیات کا فکری و فنی محاکمہ کریں۔
- س۔ علامہ اقبال حرکت عمل کے شاعر ہیں۔ مثالوں سے وضاحت کریں۔
- س۔ علامہ اقبال کون کون سے فنون لطیفہ کے خلاف ہیں اور کیوں؟ تفصیل سے جواب دیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال عقل کی نسبت عشق کو ترجیح دیتے ہیں۔ دلائل کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
- س۔ نظم "طلوعِ اسلام” کا فکری و فنی تجزیہ کیجیے۔
- س۔ اقبال کے ذہنی و فکری ارتقا کا جائزہ ان کے شاعری کے ادوار کے تناظر میں لیں۔
- س۔ اقبال کا تصورِ مردِکامل مغرب سے مستعار نہیں ہے تائید تا تردید کیجیے۔
- س۔ اقبال اپنی شاعری کے فنی محاسن کی وجہ سے اُردو شاعری کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری کے فنی محاسن کا جائزہ لیتے ہوئے اقبال کی نظم گوئی پر جامع مقالہ تحریر کیں۔
- س۔ اقبال کا فلسفہ خودی در اصل خود شناسی کا عمل ہے۔ سیر حاصل بحث کریں۔
- س۔ اقبال تہذیب مغرب کے مخالف نہیں ہے۔ جامع تبصرہ کریں۔
- س۔ اقبال کی شاعری پر اسلامی تصورات کے اثرات کو رَد نہیں کیا جا سکتا۔ تائید یا تردید کریں۔
- س۔ اقبال کے مردِ کامل میں مشرق و مغرب کا امتزاج نظر آتا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
- س۔ خودی کیا ہے؟ اس کے بنا دی عناصر کون کون سے ہیں۔ کلامِ اقبال کو ذہن میں رکھتے ہوئے مفصل بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کی غزل نے اُردو غزل کو کن جہات سے آشنا کیا۔ جائزہ لیجیے۔
- س۔ تہذیبِ مغرب کے بارے میں اقبال کے نکتہ نظر پر روشنی ڈالیے۔
- س۔ اقبال کے نظریہ فن و ادب کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
- س۔ فکرِ اقبال کے بنیادی عناصر کیا ہیں اور کس تک حد دوسرے مفکرین سے ماخوذ ہیں؟
- س۔ "اقبال نے زندگی کو خودی کے ساتھ اس طرح مضبوط و مستحکم کیا ہوا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں کیا جا سکتا”۔ اس قول کی روشنی میں اقبال کے فلسفہ خودی کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کی فکر کا نصب العین نسائی تکمیل ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
- س۔ کلامِ اقبال میں ابلیس کی مدح سرائی کی وجوہات کیا ہیں۔ مفصل بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال نے بانگِ درا کے کلام کو کتنے ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ہر دور کی امتیازی خصوصیات بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کی نظم "شبنم” کے موضوع پر ایک مختصر تعارفی نوٹ لکھیے۔
- س۔ "در حقیقت شعر و اصلاح ادبیاتِ اسلامیہ” کی روشنی میں اقبال کے نظریہ فن کو اختصار کے ساتھ بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ عقل و عشق کی فلسفیانہ توجیہ پیش کیجیے۔
- س۔ نظم "نوائے مزدور” پر ایک مختصر شُذرہ لکھیے۔
- س۔ نظم "خضرِ راہ” کے بند "سلطنت” پر ایک تفصیلی نوٹ قلمبند کریں۔
- س۔ عزیز احمد کی کتاب "اقبال: نئی تشکیل” پر ایک تفصیلی نوٹ لکھیے۔
- س۔ اقبال کی نظم "ساقی نامہ” کا فکری و فنی تجزیہ کیجیے۔
- س۔ 1905ء تک اقبال کے نظریہ وطنیت کا شعری مثالوں کے ساتھ تجزیہ کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ مرد مومن کا تجزیہ پیش کیجیے۔
- س۔ اقبال کی نظم "خلافت و ملوکیت” کا فکری و فنی تجزیہ قلمبند کیجیے۔
- س۔ فلسفہ خودی اقبال کے نظامِ افکار میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال کی نظم "نوائے مزدور” کا فکری وفنی جائزہ اس طرح لیجیے کہ اقبال کا تصورِ محنت واضح ہو جائے۔
- س۔ یوسف حسین خاں کی کتاب "روحِ اقبال” کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
- س۔ اقبال کی نظم "دوزخی کی مناجات” کا تجزیہ اس طرح پیش کریں کہ اقبال کا تصورِ اسلام واضح ہو جائے۔
- س۔ شاعری کے مختلف ادوار میں علامہ اقبال کے افکار و خیالات میں برابر تغیر ہوتا رہا۔ اس تغیر کی نوعیت اور اس کے اسباب بیان کیجیے۔
- س۔ "بال جبرئیل علامہ اقبال کی اُردو شاعری کی معراج ہے”۔ اس رائے پر تفصیل سے روشنی ڈالیے۔
- س۔ نظم "مسجد قرطبہ” کا اس طرح تجزیہ کریں کہ اس کے فکری اور فنی محاسن نمایاں ہو جائیں۔
- س۔ کسی شاعر اور فلسفی کے ذہنی و فکری ارتقاع پر تاریخ اور ماحول کس حد تک اثر ہوتے ہیں۔ اقبال کے حوالے سے اس رائے کی تائید تا تردید کریں۔
- س۔ بالِ جبرئیل کو اُردو شاعری میں کیا اہمیت حاصل ہے نیز یہ مجموعہ اقبال کے فکر وفن کے مطالعے کے لیے کیوں اہم ہے؟ وضاحت کریں۔
- س۔ اقبال کی فکری اور مِلّی شاعری میں "طلوعِ اسلام” کی اہمیت متعین کیجیے اور جہاں ممکن ہو مثالیں بھی دیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کا تصورِ خودی کیا صرف مسلمانوں ہی کے لیے پیغامِ عمل ہے یا اس کے دامن میں دوسری اقوام کے لیے بھی گنجائش موجود ہے۔ تفصیل کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کا نظامِ تعلیم کی کن خامیوں کی بار بار نشاندہی کرتا ہے۔ انھیں مفصل اشعارِ اقبال سے واضح کیجیے۔
- س۔ جدید تنقید کی رو سے نظم کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟ اقبال کی نظموں میں یہ خصوصیات کس حد تک پائی جاتی ہیں۔ بیان کیجیے۔
- س۔ نظم: "ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں اقبال نے کیا پیغام دیا ہے؟ تحریری اظہار خیال کریں۔
- س۔ علامہ محمد اقبال نسلی اور وطنی تصورِ قومیت سے کیوں بیزار تھے؟ روشنی ڈالیے۔
- س۔ علامہ اقبال کے نعتیہ کلام کی کیا قدرو قیمت ہے۔ وضاحت کیجیے۔
- س۔ کیا علامہ اقبال فکری طور پر تہذیبِ مغرب کے مخالف تھے؟ مدلل جواب دیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصورِ حیات پر جامع نوٹ قلمبند کریں۔
- س۔ اقبال کے نزدیک عورت، تصویرِ کائنات کا رنگ ہے۔ اقبال کے تصورِ عورت کا شعرِ اقبال سے مفصل جائزہ لیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال نے شاہین کو ایک مثالی کردار کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ فاشزم کی تعلیم ہے۔ آپ اپنی رائے مع دلائل لکھیں۔
- س۔ اقبال کے چھٹے خطبے "اسلام میں اصولِ حرکت” پر مفصل نوٹ قلمبند کریں۔
- س۔ کلامِ اقبال میں موجود اشتراکیت کے فلسفہ پر اظہارِ خیال کریں۔
- س۔ اقبال کی غزل گوئی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ اپنی رائے کا تحریری اظہار کریں۔
- س۔ کلامِ اقبال کی روشنی میں عقل اور عشق کا مفہوم اور مقام و مرتبہ بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال کی شاعری میں مسلمان قوم اور ملت کا جو بین الاقوامی تصور موجود ہے اس کی وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال کے نزدیک عشق، خودی کا جزو ترکیبی ہے جو تخلیقِ مقصد سے کمال حاصل کرتا ہے۔ بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال کے انگریزی خطبات کا پس منظر بیان کیجیے۔
- س۔ اقبال تصوف کے حامی ہیں یا مخالف؟ دلائل سے ثابت کیجیے۔
- س۔ اقبال کی شعری علامتوں پر سیر حاصل بحث کیجیے۔
- س۔ تفہیمِ اقبال میں ان کی شاعری اہم ہے یا خطبات؟ بحث کریں۔
- س۔ اقبال تعلیمِ نسواں کے حامی تھے یا مخالف؟ دلائل سے ثابت کیجیے۔
- س۔ اقبال کے کلام سے مثالوں کے ساتھ کم از کم بیس صنائع شعری کی نشاندہی کیجیے۔
- س۔ اقبال کے تصور فقر پر روشنی ڈالیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی شاعری کے پہلے دو۔ ادوار کے مماثلات اور اختلافات کو واضح کیجیے۔
- س۔ اقبال کی نظم و نثر کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کے تصورِ جبرو قدر پر مفصل بحث کیجیے۔
- س۔ تصوراتِ اقبال کی تفہیم میں ان کے انگریزی خطبات کی ناگزیرت پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
- س۔ کیا اقبال تقدیر کے قائل ہیں؟ تائید یا تردید کیجیے۔
- س۔ اقبال کے فلسفے کا مرکز و محور نظریہ خودی ہے۔ بحث کریں۔
- س۔ تقدیر کے بارے میں اقبال کے خیالات پر روشنی ڈالیے۔
- س۔ خطباتِ اقبال کی مذہبی اور فلسفیانہ اہمیت واضح کیجیے۔
- س۔ فکرِ اقبال کی تفہیم میں ان کے تصور زمان و مکاں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
- س۔ کلامِ اقبال سے مثالیں دیتے ہوئے ان کی شاعرانہ عظمت اور فنی محاسن پر جامع نوٹ لکھیے۔
- س۔ موجودہ عالمی سیاسی و تہذیبی صورت حال میں فکرِ اقبال کی اہمیت اُجاگر کیجیے۔
- س۔ مکاتیبِ اقبال کی روشنی میں ان کی اُردو نثر کا جائزہ لیجیے۔
- س۔ تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے علامہ اقبال کے تصورِ تعلیم پر روشنی ڈالیے۔
- س۔ "اُردو غزل کو علامہ اقبال نے نیا آینگ عطا نہ بلکہ شعری علامتوں، استعاروں، بدیع و بیان اور تمثال سے بھی سجایا”۔ بحث کیجیے۔
- س۔ عہدِ حاضر میں علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس رائے کی تائید یا تردید کیجیے۔
- س۔ مغرب اور مغربی تہذیب کے مطابق علامہ اقبال کے تصورات کی وضاحت کیجیے۔
- س۔ "علامہ اقبال کا فلسفہ خودی محض شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ انفرادی زندگی کے لیے ایک لائحہ عمل ہے” بحث کیجیے۔
- س۔ علامہ اقبال کی شاعری نے نوجوانوں کو خودی کی تفہیم کی ترغیب دی۔ شعرِا قبال سے اس رائے کی تائید یا تردید کیجیے۔
- س۔ انیسویں صدی میں کلامِ اقبال کی اہمیت پر مضمون قلمبند کریں۔
- س۔ اقبال کے فکری افکار نے کس طرح مسلمانوں کو متاثر کیا۔ مفصل نوٹ تحریر کریں۔
- س۔ کیا اقبال کے اشعار میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس رائے کے اثبات یا نفی میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔
- س۔ علامہ اقبال دُنیائے اِسلام کے سب سے بڑے انقلابی ہیں۔ اس کی مخالفت یا حق میں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔
- س۔ اقبال نے صوفیوں کی جا بجا مذمت کی ہے اور ساتھ ہی فقر کو سکندری سے بہتر قرار دیا ہے۔ اس تضاد کی توجیہہ کیجیے۔
- س۔ اقبال علم کو خدا کی ذات کا ایک بنیادی جُزو قرار دیتے ہیں جو عین اسلامی تصورِ تعلیم کے مطابق ہے۔ اس بیان کی تائید یا تردید کیجیے۔
- س۔ مثنوی "رموزِ بے خودی” میں اقبال جن امور کو زیرِ بحث لائے ہیں۔ ان پر سیر حاصل بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال کی تلقینِ عشق رسولؐ محض جذباتی نوعیت کی حامل نہیں بلکہ فی الحقیقت یہ ایک اعلیٰ نصب العین اور انسانی معراج سے محب کا بے مثالی احتسابی اظہار ہے۔ بحث کیجیے۔
- س۔ اقبال کے خیال میں ایک مثالی ریاست کا تصور کیسا ہونا چاہیے۔ تصوراتِ اقبال کی روشنی میں وضاحت کیجیے۔
- س۔ نظم "خضرِ راہ” میں اقبال نے مقامی اور بین الاقوامی مسائل کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ کلامِ اقبال کی روشنی میں جائزہ لیجیے۔
- س۔ نظم "مسجدِ قرطبہ” کے تناظر میں اقبال کا نظریہ فن کن دیگر نظریات کے ساتھ اپنی تفہیم کرتا ہے۔ روشنی ڈالیے۔
- س۔ کیا آج کے عہد میں اقبال کے مردِ مومن کی تشکیل ممکن ہے؟ اس تناظر میں اقبال کے مردِ مومن کی وضاحت کیجیے۔
- س۔ اقبال فلسفی شاعر ہیں یا شاعرِ فلسفیَ مدلل جواب مطلوب ہے۔
- س۔ اقبال جدید نظامِ تعلیم سے کیوں نالاں تھے؟ وجوہات کلامِ اقبال کو مد نظر رکھ کر کیجیے۔
- س۔ اقبال مغربی جمہوریت کو آمریت کا ہی روپ قرار دیتے ہیں؟ تائید تا تردید کیجیے۔
- کیا اقبال کی غزل ان کے فلسفیانہ افکار کی ترجمان ہے۔
- فکرِ اقبال پر مرشدِ رومی کے اثرات کا جائزہ لیجیے۔
امتحاناتی جوابات کے لیے مجوزہ کُتب
روحِ اقبال یوسف حسین خاں
فکرِ اقبال ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم
اقبالِ کامل عبد السلام ندوی
اقبال: نئی تشکیل عزیز احمد
فلسفہ اقبال بزمِ اقبال (مرتبہ)
تصوراتِ اقبال مولانا صلاح الدین احمد
ذکرِ اقبال عبد المجید سالک
حکمتِ اقبال ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
سیرتِ اقبال محمد طاہر فاروقی
طیفِ اقبال ممتاز منگلوری (مرتبہ)
خیابانِ اقبال محمد طاہر فاروقی/خاطر غزنوی (مرتبین)
منشوراتِ اقبال بزمِ اقبال (مرتبین)
حیاتِ اقبال کا ایک جذباتی دور پروفیسر محمد عثمان
مقاماتِ اقبال ڈاکٹر سید عبد اللہ
اقبال: شاعر اور فلسفی ڈاکٹر سید وقار عظیم
قرآنی تصوف اور اقبال شاہ محمد عبد المغنی
آئینہ اقبال محمد عبد اللہ
قریشی (مرتبہ) جدید تشکیل الٰہیات اسلامیہ سید نذیر نیازی (مترجم)
اقبال کا ذہنی و فکری ارتقا پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار
زندہ رود (تین جلدیں) ڈاکٹر جاوید اقبال (جسٹس پِسرِ اقبال)
مطالعہ اقبال کے چند نئے رُخ ڈاکٹر سید عبد اللہ
اقبال اور مِلّی تشخص ڈاکٹر سید محمد اکرام
اقبال کا فلسفہ خودی ڈاکٹر آصف جاہ کامرانی
اقبال سب کے لیے ڈاکٹر فرمان فتح پوری
اقبال کا فنی ارتقاء جابر علی سید
اقبال: شخصیت اور شاعری پروفیسر حمید احمد خاں
مولانا رومی: حیات و افکار ڈاکٹر افضل حق اقبال
اقبال اور مشرق و مغرب کے مفکرین ڈاکٹر عشرت حسن انور
خطباتِ اقبال پر ایک نظر مولانا سعید احمد
تاریخ تصوف ڈاکٹر صابر کلوروی (مرتب)
اقبال کی طویل نظمیں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اقبالیات کے سو سال بزم اقبال اکادمی، لاہور (مرتبین)
علامہ اقبال کی اُردو تصانیف
بانگِ درا
(اشاعتِ اول: 1924ء)
منظومات۔ حصہ اول: [حصہ اول میں کل "49” نظمیات اور کل "13” غزلیات شامل ہیں[تفصیل: (۱۔ ہمالہ۔ ۲۔ گلِ رنگین۔ ۳۔ عہدِ طِفلی۔ ۴۔ مرزا غالب۔ ۵۔ ابرِ کوہسار۔ ۶۔ ایک مکڑا اور مکھی۔ ۷۔ ایک پہاڑ اور گلہری۔ ۸۔ ایک گائے اور بکری۔ ۹۔ بچّے کی دُعا۔ ۱۰۔ ہمدردی۔ ۱۱۔ ماں کا خواب۔ ۱۲۔ پرندے کی فریاد۔ ۱۳۔ خُفتگانِ خاک سے اِستفسار۔ ۱۴۔ شمع و پروانہ۔ ۱۵۔ عقل و دِل۔ ۱۶۔ صدائے درد۔ ۱۷۔ آفتاب (ترجمہ۔ شاعر۔ گایتری)۔ ۱۸۔ شمع۔ ۱۹۔ ایک آرزو۔ ۲۰۔ آفتابِ صبح۔ ۲۱۔ دردِ عشق۔ ۲۲۔ گلِ پژمُردہ۔ ۲۳۔ سیّد کی لوحِ تُربت۔ ۲۴۔ ماہِ نو۔ ۲۵۔ انسان اور بزمِ قدرت۔ ۲۶۔ پیامِ صبح۔ ۲۷۔ عشق اورموت۔ ۲۸۔ زُہداور رِندی۔ ۲۹۔ شاعر۔ ۳۰۔ دِل۔ ۳۱۔ موجِ دریا۔ ۳۲۔ رُخصت اے بزمِ جہاں۔ ۳۳۔ طِفلِ شِیر خوار۔ ۳۴۔ تصویرِ درد۔ ۳۵۔ نالۂ فراق۔ ۳۶۔ چاند۔ ۳۷۔ بلالؓ۔ ۳۸۔ سر گزشتِ آدمؑ۔ ۳۹۔ ترانہ ہندی۔ ۴۰۔ جگنو۔ ۴۱۔ صبح کا ستارا۔ ۴۲۔ ہندستانی بچوں کا قومی گیت۔ ۴۳۔ نیا شوالا۔ ۴۴۔ داغؔ۔ ۴۵۔ اَبر۔ ۴۶۔ ایک پرندہ اور جگنو۔ ۴۷۔ بچہ اور شمع۔ ۴۸۔ کنارِ راوی۔ ۴۹۔ اِلتجائے مسافر)
منظومات۔ حصہ دوم: [حصہ دوم میں کل "24” نظمیات اور کل "07” غزلیات شامل ہیں[تفصیل: (۱۔ محبت۔ ۲۔ حقیقتِ حُسن۔ ۳۔ پیام۔ ۴۔ سوامی رام تیرتھ۔ ۵۔ طلبہ علی گڑھ کالج کے نام۔ ۶۔ اخترِ صبح۔ ۷۔ حُسن و عشق۔ ۸۔۔۔۔۔۔ کی گود میں بِلّی دیکھ کر۔ ۹۔ کلی۔ ۱۰۔ چانداورتارے۔ ۱۱۔ وصال۔ ۱۲۔ سُلیمیٰ۔ ۱۳۔ عاشقِ۔ ہرجائی۔ ۱۴۔ کوششِ ناتمام۔ ۱۵۔ نوائے غم۔ ۱۶۔ عشرتِ امروز۔ ۱۷۔ انسان۔ ۱۸۔ جلوۂ حُسن۔ ۱۹۔ ایک شام۔ ۲۰۔ تنہائی۔ ۲۱۔ پیامِ عشق۔ ۲۲۔ فراق۔ ۲۳۔ عبد القادر کے نام۔ ۲۴۔ صقیلیہ)
منظومات۔ حصہ سوم: [حصہ سوم میں کل "70” نظمیات اور کل "08” غزلیات اور کل "29” ظریفانہ کلام ہے[ تفصیل (۱۔ بلادِ اسلامیہ۔ ۲۔ ستارہ۔ ۳۔ دو ستارے۔ ۴۔ گورستانِ شاہی۔ ۵۔ نمودِ صبح۔ ۶۔ تضمین بر شعرِ انیسی شاملوؔ۔ ۷۔ فلسفۂ غم۔ ۸۔ پھول کا تحفہ عطا ہونے پر۔ ۹۔ ترانہی ملّی۔ ۱۰۔ وطنیّت۔ ۱۱۔ ایک حاجی مدینے کے راستے میں۔ ۱۲۔ قطعہ۔ ۱۳۔ شکوہ۔ ۱۴۔ چاند۔ ۱۵۔ رات اور شاعر۔ ۱۶۔ بزمِ انجم۔ ۱۷۔ سیرِ افلاک۔ ۱۸۔ نصیحت۔ ۱۹۔ رام۔ ۲۰۔ موٹر۔ ۲۱۔ انسان۔ ۲۲۔ خطاب بہ جوانانِ اسلام۔ ۲۳۔ غّرہ شوال یا ہلالِ عید۔ ۲۴۔ شمع اور شاعر۔ ۲۵۔ مُسلم۔ ۲۶۔ حضورِ رسالت مآبؐ میں۔ ۲۷۔ شفا خانہ حجاز۔ ۲۸۔ جوابِ شکوہ۔ ۲۹۔ ساقی۔ ۳۰۔ تعلیم اور اس کے نتائج۔ ۳۱۔ قُربِ سلطان۔ ۳۲۔ شاعر۔ ۳۳۔ نویدِ صبح۔ ۳۴۔ دُعا۔ ۳۵۔ عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں۔ ۳۶۔ فاطمہ بنتِ عبد اللہ۔ ۳۷۔ شبم اور ستارے۔ ۳۸۔ محاصرہ اورنہ۔ ۳۸۔ غلام قادر روہیلہ۔ ۴۰۔ میں اور تُو۔ ۴۱۔ تضمین بر شعر ابو طالب کلیمؔ۔ ۴۳۔ شبلیؔ و حالیؔ۔ ۴۴۔ ارتقا۔ ۴۵۔ صدیقؓ۔ تہذیبِ حاضر۔ ۴۷۔ والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ ۴۸۔ شعاعِ آفتاب۔ ۴۹۔ عُرفیؔ۔ ۵۰۔ ایک خط کے جواب میں۔ ۵۱۔ نانک۔ ۵۲۔ کُفر و اسلام۔ ۵۳۔ بلالؓ۔ ۵۴۔ مسلمان اور تعلیمِ جدید۔ ۵۵۔ پھُولوں کی شہزادی۔ ۵۶۔ تضمین بر شعر صائبؔ۔ ۵۷۔ فردوس میں ایک مکالمہ۔ ۵۸۔ مذہب۔ ۵۹۔ جنگِ یرموک کا ایک واقعہ۔ ۶۰۔ مذہب۔ ۶۱۔ پویستہ رہ شجر سے، اُمیدِ بہار رکھ۔ ۶۲۔ شبِ معراج۔ ۶۳۔ پھُول۔ ۶۴۔ شیکسپیر۔ ۶۵۔ میں اور تُو۔ ۶۶۔ ایسری۔ ۶۷۔ دریوزہ خلافت۔ ۶۸۔ ہمایوں۔ ۶۹۔ خضرِ راہ۔ ۷۰۔ طلوعِ اسلام)
® بانگِ درا کی پہلی نظم[ہمالہ] اور آخری نظم[طلوعِ اسلام[ ہے۔
بانگِ درا میں شامل مشہور شخصی منظومات
- مرزا غالب۔ [مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ پر نظم۔ پانچ بند۔ 30۔ اشعار۔ مسدس ہیئت+ شخصی مرثیہ]
- سید کی لوح تُربت۔ [سر سید احمد خان پر نظم۔ 03 بند پر۔ کل اشعار 12۔ مربع ہیئت[
- نالۂ فراق۔ [پروفیسر آرنلڈ کی یاد میں۔ 05 بند۔ کل 15۔ اشعار۔ مثلث ہیئت[
- بلالؓ۔ [حصہ اول میں شامل۔ حضرت بلالؓ پر لکھی گئی نظم۔ 03 بند۔ کل 13۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت+ حصہ سوم میں شامل۔ "بلالؓ” عنوان سے لکھی دوسری نظم۔ 02 بند۔ کل10۔ اشعار]
- سرگزشتِ آدمؑ۔ [حضرت آدمؑ پر لکھی گئی نظم۔ کل18۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت]
- داغؔ۔ [ اُستاد مرزا خان داغ دہلوی پر لکھی گئی نظم۔ کل23۔ اشعار۔ شخصی مرثیہ]
- التجائے مسافر۔ [حضرت خواجہ نظام الدین اولیا معروف محبوب الٰہی دہلی پر لکھی گئی نظم۔ کل 21۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت]
- سوامی رام تیرتھ۔ [سوا می رام تیرتھ پر لکھی گئی نظم۔ کل 06۔ اشعار]
- ۔۔۔ کی گود میں بِلی دیکھ کر۔ [کل 11۔ اشعار۔ اس نظم میں وہ خاتون جس کی گود میں بلی بیٹھی ہے۔ اُس خاتون کے متعلق بہت سی رائے ہیں۔ کسی نے کہا ہے وہ عطیہ فیضی ہے، کسی نے کہا کہ وہ ایک جرمن خاتون ایما ہے وغیرہ وغیرہ. اس سلسلے میں ذیل میں ایک واقعہ پیش کر رہا ہوں کیونکہ اقبال کے حلقہِ احباب میں سے زیادہ لوگ اس واقعہ کو ہی اِس نظم کا سبب سمجھتے ہیں لہٰذا وہ واقعہ مختصر طور پر ملاحظہ فرمائیں۔ ایک دفعہ بمبا دلیپ سنگھ (مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی) نے شالامار میں چائے کا انتظام کیا، اس کی آسٹریلوی سہیلی کے علاوہ ایک یورپین خاتون بھی مدعو تھی۔ ایک نے علامہ کی خدمت میں باغ کا ایک پھول پیش کیا دوسری نے ایک خوبصورت بلی پال رکھی تھی جو اس کی گود میں بیٹھی تھی۔ علامہ کی کتاب "بانگ درا” کی دو نظمیں "پھول کا تحفہ عطا ہونے پر” اور "کسی کی گود میں بلی دیکھ کر” اسی موقع کی یاد میں لکھی گئی تھیں۔ (ذکرِ اقبال۔ عبد المجید سالک)
- سُلیمیٰ۔ [یہ مختصر نظم اگرچہ محض پ05۔ اشعار پر مشتمل ہے اس کے باوجود گوناگوں خوبیوں کی حامل ہے۔ نظم کی مرکزی کردار سلیمیٰ علامہ اقبال کی پسندیدہ خاتون ہے یا محبوبہ اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا. لیکن نظم کے اشعار میں باری تعالیٰ کی جو خصوصیات کائنات کے جملہ عناصر میں نظر آتی ہیں وہ اُن کے بقول سلیمیٰ کی نیلی آنکھوں میں محفوظ ہیں۔]
- عبد القادر کے نام۔ [سر عبد القادر (رسالہ "مخزن” والے) کے نام لکھی گئی نظم۔ کل 11۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت]
- فلسفہ غم۔ [میاں فضل حسین بیرسٹر لاہور کے نام۔ کل 06 بند۔ کل 32۔ اشعار]
- رام۔ [ہندو دھرم کے مرکزی خدا "رام” پر لکھی گئی نظم۔ کل 06۔ اشعار]
- حضورِ رسالتِ مآبؐ میں۔ [حضور اکرمِ کی شان پر نظم۔ کل 03 بند۔ کل 11۔ اشعار]
- فاطمہ بنتِ عبد اللہ۔ [عرب لڑکی پر لکھی نظم جو جنگِ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوئی۔ کل 03 بند۔ کل 12۔ اشعار۔ تحریر: 1912ء]
- غلام قادر روہیلہ۔ [غلام قادر روہیلہ پر نظم۔ کل 13۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت]
- شبلیؔ و حالیؔ۔ [علامہ شبلی نعمانی +مولانا حالیؔ نظم۔ 10۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت]
- صدیقؓ۔ [حضرت ابو بکر صدیق پر لکھی گئی نظم۔ کل 13۔ اشعار۔ مثنوی ہیئت]
- والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ [والدہ "امام بی بی” کے انتقال کے بعد لکھی گئی نظم۔ کل اشعار 86۔ مثنوی ہیئت]
- عُرفی۔ [ایران کے مشہور شاعر عُرفی شیرازی پر لکھی گئی نظم۔ کل 07۔ اشعار]
- نانک۔ [سکھ دھرم کے بانی گورو نانک پر لکھی گئی نظم۔ کل 08۔ اشعار]
- شیکسپئیر۔ [مشہور انگریزی شاعر پر لکھی نظم۔ کل 07۔ اشعار]
- ہمایوں۔ [مسٹر جسٹس شاہ دین مرحوم عرف ہمایوں پر لکھی گئی نظم۔ کل 05۔ اشعار]
بانگِ درا میں شامل ماخوذ (ترجمہ) منظومات
- ایک مکڑا اور مکھی۔ [بچوں کے لیے۔ کل 24۔ اشعار]
- ایک پہاڑ اور گلہری۔ [بچوں کے لیے۔ کل ا12۔ اشعار۔ ماخوذ "ایمر سن”]
- ایک گائے اور بکری۔ [بچوں کے لیے۔ کل 29۔ اشعار۔[
- بچے کی دُعا۔ [بچوں کے لیے۔ کل 06۔ اشعار]
- ہمدردی۔ [بچوں کے لیے۔ کل 08۔ اشعار۔ ماخوذ "ولیم کوپر”]
- ماں کا خواب۔ [بچوں کے لیے۔ کل 15۔ اشعار۔[
- پرندے کی فریاد۔ [بچوں کے لیے۔ کل11۔ اشعار]
- آفتاب [گایتری منتر کا ترجمہ۔ کل اشعار10۔ اشعار۔ گایتری منتر، ویدوں کا ایک اہم منتر ہے جس کی اہمیت تقریباً ’اوم‘ کے برابر مانی جاتی ہے۔ یہ یجروید اور رگ وید کی دو آیات کے میل سے بنا ہے۔ اس منتر میں سوتر دیو (خدائے واحد) سے دعا ہے، اس لئے اسے ساویتری بھی کہا جاتا ہے۔ ’گایتری‘ ایک چھند بھی ہے جو رگ وید کے سات مشہور چھندوں میں ایک ہے۔[
- پیامِ صبح۔ [ماخوذ "لانگ فیلو”۔ کل 09۔ اشعار]
- عشق اور موت۔ [ماخوذ "ٹینی سن”۔ کل 23۔ اشعار]
- رُخصت اے بزمِ جہاں!۔ [ماخوذ "ایمرسن”۔ کل 21۔ اشعار]
بانگِ درا میں شامل تضمین کی گئی منظومات
ü تضمین بر شعرِ انیسی شاملو۔ [ع ہمیشہ صورتِ بادِ سحر آوارہ رہتا ہوں]
ü تعلیم اور اس کے نتائج۔ [تضمین بر شعرِ مُلّا عرشیؔ۔ ع خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر]
ü تضمین بر شعرِ ابو طالب کلیم۔ [ع خوب ہے تجھ کو شعارِ صاحبِ یثربؐ کا پاس]
ü تہذیبِ حاضر۔ [تضمین بر شعرِ فیضیؔ۔ ع حرارت ہے بلا کی بادۂ تہذیبِ حاضر میں]
ü کفر و اسلام۔ [تضمین بر شعرِ میر رضی دانش۔ ع ایک دن اقبال نے پوچھا کلیمِ طُور سے]
ü مسلمان اور تعلیم جدید[تضمین بر شعرِ ملک قُمیؔ۔ ع مرشد کی یہ تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر]
ü تضمین بر شعرِ صائبؔ۔ [ع کہاں اقبال تو نے آبنایا آشیاں اپنا]
ü مذہب[تضمین بر شعرِ میرزا بیدلؔ۔ ع تعلیم پیرِ فلسفہ مغربی ہے یہ]
بانگِ درا میں شامل مشہور منظومات
(تعارف مع اول و آخر شعر)
ہمالہ۔ [کل آٹھ بند پر مشتمل نظم ہے جو اس مجموعہ کی پہلی نظم ہے۔ ہمالہ سے مراد: ہندستان کے ایک مشہور پہاڑ کا نام جو دُنیا کے سب پہاڑوں سے اونچا اور ہمیشہ برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ (ریختہ لغت)
اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھُک کر آسماں
ہاں دکھا دے اے تصور! پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
شمع اور پروانہ۔ حصہ اول کی نظم نمبر 14۔ آٹھ اشعار پر مشتمل ہے۔
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں
یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
پروانہ اور ذوقِ تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا اور تمنائے روشنی
تصویرِ درد۔ حصہ اول کی نظم نمبر 34 ہے جو آٹھ بند پر مشتمل طویل نظم ہے۔
نہیں منت کشِ تابِ شُنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
"نمگیرد ید کوتہ رشتہی معنی رہا کردم
حکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم”
نالۂ فراق۔ پروفیسر آرنلڈ کی یاد میں۔ حصہ اول کی نظم نمبر 35۔ پانچ بند پر مشتمل ہے۔
جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں
آہ! مشرق کی پسند نہ آئی نہ اس کو سرزمیں
"تابِ گویائی نہیں رکھتا دہن تصویر کا
خامشی کہتے ہیں جس کو سخن تصویر کا”
سر گزشتِ آدمؑ۔ حصہ اول کی نظم نمبر 38۔ کل 18۔ اشعار پر مشتمل ہے۔
سُنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھُلایا قصۂ پیمانِ اولیں میں نے
ہوئی جو چشمِ مظاہر پرست وا آخر
تو پایا خانۂ دل میں اُسے مکیں میں نے
نیا شوالا۔ حصہ اول کی نظم نمبر43۔ یہ نظم 02 بند اور 09۔ اشعار پر مشتمل ہے۔
سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پرانے
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے
کنارِ راوی۔ حصہ اول کی نظم نمبر 48۔ کل 12۔ اشعار پر مشتمل ہے۔
سکوتِ شام میں محوِ سرود ہے راوی
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کیفیت مرے دل کی
شکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا
نظر سے چھپتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا
التجائے مسافر۔ حصہ اول کی آخری نظم۔ کل21۔ اشعار پر مشتمل نظم ہے۔ یہ نظم درگاہِ حضرت محبوب الٰہی دہلی پر حاضری کے موقع پر کہی گئی۔
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری فیضِ عام ہے تیرا
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے
حُسن و عشق۔ حصہ دوم کی نظم نمبر 07۔ کل 09۔ اشعار اور تین بند پر مشتمل نظم ہے۔
جس طرح ڈوبتی ہے کشتیِ سیمینِ قمر
نورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سَحر
حُسن کے عشق کی فطرت کو ہے تحریکِ کمال
تجھ سے سر سبز ہوئے میری اُمیدوں کے نہال
صقیلیہ۔ حصہ دوم کی آخری نظم۔ یہ نظم علامہ نے جزیرہ سِسلی کے حوالے سے لکھی ہے۔ یہ نظم چار بند پر مشتمل کل 17 اشعار پر مشتمل ہے۔
رو لے اب دل کھول کے اے دیدۂ خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار
میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں اوروں کو وہاں رلواؤں گا
شکوہ۔ حصہ سوم کی نظم نمبر 13۔ یہ نظم کل 31 بند پر مشتمل ہے جو مسدس ہیئت میں لکھی ہوئی ہے۔ کل اشعار کی تعداد 186 ہے۔
کیوں زِیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
عجمی خُم ہے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لَے تو حجازی ہے مری
شمع اور شاعر۔ حصہ سوم کی نظم نمبر 24 ہے جو فروری 1912ء میں لکھی گئی ہے۔ اس نظم کے دو حصے شاعر (05 شعر) شمع (80 اشعار) ہیں۔ مثنوی ہیئت
دوش می گُفتم بہ شمع منزلِ ویرانِ خویش
گیسوئے تو از پرِ پروانہ دارد شانہ اے
شب گُریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے
جوابِ شکوہ۔ حصہ سوم کی نظم نمبر 28 ہے جس کے کل 36 بند ہیں۔ اس نظم میں اشعار کی کل تعداد 216 ہیں۔ یہ نظم مسدس ہیئت میں لکھی گئی ہے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
فاطمہ بنتِ عبد اللہ۔ حصہ سوم کی نظم نمبر 36۔ تحریر: 1912ء عرب لڑکی جو طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوئی۔ 02 بند 11۔ اشعار پر مشتمل
فاطمہ! تو آبروئے اُمتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
جن کی تابانی میں اندازِ کُہن بھی، نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتو بھی ہے
والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ حصہ سوم کی نظم نمبر 47۔ کل اشعار 86۔ مثنوی ہیئت
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیِ تقدیر ہے
پردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
خضر راہ۔ حصہ سوم کی نظم نمبر 69۔ اس نظم کے چھے حصے ہیں: (۱۔ شاعر۔ 15 اشعار، ۲۔ جوابِ خضر
[صحرا نوردی]08۔ اشعار، ۳۔ زندگی۔ 14۔ اشعار، ۴۔ سلطنت۔ 11۔ اشعار، ۵۔ سرمایہ و محنت۔ 14۔ اشعار، ۶۔ دُنیائے اسلام۔ 23۔ اشعار)۔ مثنوی ہیئت
ساحلِ دریا پہ میں اک رات تھا محوِ نظر
گوشۂ دل میں چھپائے اک جہانِ اضطراب
مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
ہر زماں پیشِ نظر لا خلفُ المیعاد دار
طلوعِ اسلام۔ حصہ سوم کی آخری نظم۔ اس نظم کے کل 67۔ اشعار ہیں۔
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تُنک تابی
اُفق سے آفتاب اُبھرا گیا دورِ گراں خوابی
"بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرحِ و دیگر اندازیم”
بالِ جبرئیل
یہ مجموعہ 1935 میں شائع ہوا ہے۔ اس مجموعے کا مجوزہ پہلا نام "نشانِ منزل” تھا۔ اس کے سرورق پر یہ شعر درج ہے۔ اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں /نفسِ سوختۂ شام و سحر تازہ کریں۔ بالِ جبرئیل کے حصہ اول میں 16 غزلیات، حصہ دوم میں 61 غزلیات+قطعہ، +41 رُباعیات+قطعہ، حصہ سوم میں 59 منظومات+02 قطعات شامل ہیں۔ بال جبرئیل کی پہلی نظم "دُعا” اور آخری نظم "چیونٹی اور عقاب” ہے۔
بالِ جبرئیل میں شامل منظومات
۱۔ دُعا۔ ۲۔ مسجدِ قرطبہ۔ ۳۔ قید خانے میں معتمد کی فریاد۔ ۴۔ عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت (سر زمینِ اندلس میں)۔ ۵۔ ہسپانیہ۔ ۶۔ طارق کی دُعا۔ ۷۔ لینن (خدا کے حضور میں)۔ ۸۔ فرشتوں کا گیت۔ ۹۔ ذوق و شوق۔ ۱۰۔ پروانہ اور جگنو۔ ۱۱۔ جاوید کے نام۔ ۱۲۔ گدائی۔ ۱۳۔ ملا اور بہشت۔ ۱۴۔ دین و سیاست۔ ۱۵۔ الارض اللہ۔ ۱۶۔ ایک نوجوان کے نام۔ ۱۷۔ نصیحت۔ ۱۸۔ لالہ صحرا۔ ۱۹۔ ساقی نامہ۔ ۲۰۔ زمانہ۔ ۲۱۔ فرشتے آدمؑ کو جنت سے رخصت کرتے ہیں۔ ۲۲۔ روحِ ارضی آدمؑ کا استقبال کرتی ہے۔ ۲۳۔ پیر و مرشد۔ ۲۴۔ جبرئیل و ابلیس۔ ۲۵۔ اذان۔ ۲۶۔ محبت۔ ۲۷۔ ستارے کا پیغام۔ ۲۸۔ جاوید کے نام۔ ۲۹۔ فلسفہ و مذہب۔ ۳۰۔ یورپ سے ایک خط۔ ۳۱۔ نپولین کے مزار پر۔ ۳۲۔ مسولینی۔ ۳۳۔ سوال ۳۴۔ پنجاب کے دہقان سے۔ ۳۵۔ نادر شاہ افغان۔ ۳۶۔ خوشحال خاں کی وصیت۔ ۳۷۔ تاتاری کا خواب۔ ۳۸۔ حال و مقام۔ ۳۹۔ ابو العلا مٰعری۔ ۴۰۔ سینما۔ ۴۱۔ پنجاب۔ کے۔ پیرزادوں۔ سے۔ ۴۲۔ سیاست۔ ۴۳۔ فقر۔ ۴۴۔ خودی۔ ۴۵۔ جدائی۔ ۴۶۔ خانقاہ۔ ۴۷۔ ابلیس۔ کی۔ عرضداشت۔ ۴۸۔ لہو۔ ۴۹۔ پرواز۔ ۵۰۔ شیخِ مکتب سے۔ ۵۱۔ فلسفی۔ ۵۲۔ شاہین۔ ۵۳۔ باغی مرید۔ ۵۴۔ ہارون کی آخری نصیحت۔ ۵۵۔ ماہر نفسیات سے۔ ۵۶۔ یورپ۔ ۵۷۔ آزادیِ افکار۔ ۵۸۔ شیر اور خچر۔ ۵۹۔ چیونٹی اور عقاب]
بالِ جبرئیل میں شامل مشہور منظومات
(تعارف مع اول و آخر شعر)
دُعا۔ مسجد قرطبہ کی زیارت پر نظم۔ اس نظم کے کل 11۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنا، جسے کہہ نہ سکیں رو برو
مسجدِ قُرطبہ۔ ہسپانیہ کی سرزمین قُرطبہ پر نظم۔ اس نظم کے کل 60۔ اشعار ہیں۔
سلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روز و شب، اصل حیات و ممات
نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
طارق کی دُعا۔ اندلس کے میدانِ جنگ میں۔ کل 10۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
یہ غازی یہ تیرے پُراسَرار بندے
جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!
لینن۔ خدا کے حضور میں۔ اس نظم کے کل 22۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
اے انفس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دُنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات!
ذوق و شوق۔ ان اشعار میں اکثر فلسطین میں لکھے گئے۔ اس نظم کے کل 30۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت۔ پہلا شعر فارسی میں ہے۔
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں
چشمۂ آفتاب سے نُور کی ندیاں رواں
گرمی آرزو فراق، شورشِ ہائے و ہو فراق
موج کی جستجو فراق، قطرے کی آبرو فراق
ساقی نامہ۔ اس نظم کے کل 99۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت۔ کلامِ اقبال کا ماحصل
ہوا خیمہ زن کاروانِ بہار
اِرم بن گیا دامنِ کوہسار
اگر یک سرِ موے برتر پرم
فروغِ تجلی بسوزد پرم
بالِ جبرئیل میں شامل مشہور شخصی منظومات
ü قید خانے میں معتمد کی فریاد [معتمد اشبیلہ کا بادشاہ عربی کا شاعر تھا جسے ہسپانیہ کے
حکمران نے شکست دے کر قید کر رکھا تھا۔ کل 04۔ اشعار]
ü عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا درخت۔ [یہ نظم عبد الرحمن اول پر لکھی گئی جنھوں نے مدینہ الزہرا میں کھجور کا درخت لگایا تھا۔ کل 10۔ اشعار]
ü طارق کی دُعا [طارق بن زیاد۔ اندلس کے میدان میں کشتیاں جلا کر مجاہدین کو متحرک کرنے والا جنگ جو۔ کل۔ 10۔ اشعار]
ü لینن [خدا کے حضور میں۔ ایک روسی اشتراکی ذہنیت پسند مصلح جن نے روس کے
افکار کو تازگی بخشی۔ کل 22۔ اشعار]
ü جاوید کے نام [اپنے بیٹے جاوید اقبال کے نام۔ کل 05۔ اشعار]
ü نپولین کے مزار پر [نپولین فرانس کا عسکری جنگ جو تھا جس کی شخصیت و فتوحات
پر علامہ نے نظم لکھی۔ کل 12۔ اشعار]
ü مسولینی [اطالوی سیاسی راہنما تھا جو انقلابی سوشلسٹ کا حامی تھا۔ کل 14۔ اشعار]
ü نادر شاہ افغان [خاندانِ افشا کی حکومت کا بانی، ایران کا بادشاہ، ایشیا کا نپولین،
ثانی سکندر۔ کل 08۔ اشعار]
ü خوشحال خان کی وصیت[نور الدین اکبر کے زمانے کا مشہور پشتون شاعر جس کی شاعری ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کل 06۔ اشعار]
ü ابو العلا معری [عربی زبان کا مشہور شاعر جو گوشت نہیں کھاتا تھا۔ 12۔ اشعار]
ضربِ کلیم
اس مجموعے کے سرِ ورق پر یہ الفاظ لکھے ہیں: افکار تازہ۔ "اعلانِ جنگ: زمانہ حاضر کے خلاف”۔ اس مجموعے کا پہلا مجوزہ نام "صورِ اسرافیل” تھا۔ اس مجموعے کو چھے مختلف حصوں یعنی نظموں کے عنوان کے ساتھ منقسم کیا گیا ہے۔ حصہ اول ؛عنوان "اسلام اور مسلمان” میں نظم "صبح” سے لے کر "قُم باذن اللہ” تک 68 نظمیں شامل ہیں۔ حصہ دوم؛ عنوان "تعلیم و تربیت” میں نظم "مقصود” سے "جاوید سے” تک کل 28 نظمیں شامل ہیں۔ حصہ سوم، عنوان "عورت” میں نظم "مردِ فرنگ” سے لے کر "عورت” تک کل 09 نظمیں شامل ہیں۔ حصہ چہارم؛ عنوان "ادبیات، فنونِ لطیفہ” میں نظم "دین و ہنر” سے لے کر "رقص” تک 43 نظمیں شامل ہیں۔ حصہ چہارم، عنوان "سیاسیات مشرق و مغرب” میں نظم "اشتراکیت” سے لے کر "نفسیاتِ حاکمی” تک کل 35 نظمیں شامل ہیں۔ حصہ پنجم، عنوان "محراب گُل افغان کے افکار” میں کل 20 غزلیات شامل ہیں۔]
ضربِ کلیم میں شامل منظومات
اعلیٰحضرت نواب سر حمید اللہ خاں فرماں روائے بھوپال کی خدمت میں۔ ناظرین سے۔ تمہید۔ حصہ اول بعنوان: "اسلام اور مسلمان”۔ ۱۔ صبح۔ ۲۔ لا الہٰ الا اللہ۔ ۳۔ تن بہ تقدیر۔ ۴۔ معراج۔ ۵۔ ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام۔ ۶۔ زمین و آسماں۔ ۷۔ مسلمان کا زوال۔ ۸۔ علم و عشق۔ ۹۔ اجتہاد۔ ۱۰۔ شکر و شکایت۔ ۱۱۔ ذکر و فکر۔ ۱۲۔ مُلائے حرم۔ ۱۳۔ تقدیر۔ ۱۴۔ توحید۔ ۱۵۔ علم اور دین۔ ۱۶۔ ہندی مسلمان۔ ۱۷۔ آزادیِ شمشیر کے اعلان پر۔ ۱۸۔ جہاد۔ ۱۹۔ قوت اور دین۔ ۲۰۔ فقر اور مُلوکیت۔ ۲۱۔ اسلام۔ ۲۲۔ حیاتِ ابدی۔ ۲۳۔ سلطانی۔ ۲۴۔ صوفی سے۔ ۲۵۔ افرنگ زدہ۔ ۲۶تصوف۔ ۲۷۔ ہندی۔ اسلام۔ ۲۸۔ غزل۔ ۲۹۔ دُنیا۔ ۳۰۔ نماز۔ ۳۱۔ وحی۔ ۳۲۔ شکست۔ ۳۳۔ عقل و دل۔ ۳۴۔ مستیِ کردار۔ ۳۵۔ قبر۔ ۳۶۔ قلندر کی پہچان۔ ۳۷۔ فلسفہ۔ ۳۸۔ مردانِ خدا۔ ۳۹۔ کافر و مومن۔ ۴۰۔ مہدیِ برحق۔ ۴۱۔ مومن۔ ۴۲۔ محمد علی باب۔ ۴۳۔ تقدیر۔ ۴۴۔ اے روح محمدؐ۔ ۴۵۔ مدنیتِ اسلام۔ ۴۶۔ امامت۔ ۴۷۔ فقر و راہبی۔ ۴۸۔ غزل۔ ۴۹۔ تسلیم و رضا۔ ۵۰۔ نکتہ توحید۔ ۵۱۔ الہام اور آزادی۔ ۵۲۔ جان و تن۔ ۵۳۔ لاہور و کراچی۔ ۵۴۔ نبوت۔ ۵۵۔ آدمؑ۔ ۵۶۔ مکہ اور جینوا۔ ۵۷۔ اے پیرِ حرم۔ ۵۸۔ مہدی۔ ۵۹۔ مردِ مسلماں۔ ۶۰۔ پنجابی مسلمان۔ ۶۱۔ آزای۔ ۶۲۔ اشاعتِ اسلام فرنگستان میں۔ ۶۳۔ لا و اِلآ۔ ۶۴۔ اُمرائے عرب سے۔ ۶۵۔ احکامِ الٰہی۔ ۶۶۔ موت۔ ۶۷۔ قُم باذن اللہ۔ حصہ دوم بعنوان "تعلیم و تربیت”۔ ۱۔ مقصود۔ ۲۔ زمانہ حاضر کا انسان۔ ۳۔ اقوامِ مشرق۔ ۴۔ آگاہی۔ ۵۔ مصلحین مشرق۔ ۶۔ مغربی تہذیب۔ ۷۔ اسرارِ پیدا۔ ۸۔ سلطان ٹیپو کی وصیت۔ ۹۔ غزل۔ ۱۰۔ بیداری۔ ۱۱۔ خودی کی تربیت۔ ۱۲۔ آزادیِ فکر۔ ۱۳۔ خودی کی زندگی۔ ۱۴۔ حکومت۔ ۱۵۔ ہندی مکتب۔ ۱۶۔ تربیت۔ ۱۷۔ خوب و زشت۔ ۱۸۔ مرگِ خودی۔ ۱۹۔ مہمانِ۔ عزیز۔ ۲۰۔ عصرِ۔ حاضر۔ ۲۱۔ طالب۔ علم۔ ۲۲۔ امتحان۔ ۲۳۔ مدرسہ۔ ۲۴۔ حکیم نطشہ۔ ۲۵۔ اساتذہ۔ ۲۶۔ غزل۔ ۲۷۔ دین و تعلیم۔ ۲۸۔ جاوید سے۔ حصہ سوم۔ بعنوان: "عورت”۔ ۱۔ مرد افرنگ۔ ۲۔ ایک سوال۔ ۳۔ پردہ۔ ۴۔ خلوت۔ ۵۔ عورت۔ ۶۔ آزادیِ نسواں، ۷، عورت کی حفاظت۔ ۸۔ عورت اور تعلیم۔ ۹۔ عورت۔ حصہ چہارم بعنوان "ادیبات، فنونِ لطیفہ”۔ ۱۔ دین و ہنر۔ ۲۔ تخلیق۔ ۳۔ جُنوں۔ ۴۔ اپنے شعر سے۔ ۵۔ پیرس کی۔ مسجد۔ ۶۔ ادبیات۔ ۷۔ نگاہ۔ ۸۔ مسجدِ قوت الاسلام۔ ۹۔ تیاتر۔ ۱۰۔ شعاعِ اُمید۔ ۱۱۔ اُمید۔ ۱۲۔ نگاہِ۔ شوق۔ ۱۳۔ اہلِ۔ ہنر۔ ۱۴۔ غزل۔ ۱۵۔ وجود۔ ۱۶۔ سرود۔ ۱۷۔ نسیم و شبنم۔ ۱۸۔ اہرامِ مصر۔ ۱۹۔ مخلوقاتِ ہنر۔ ۲۰۔ اقبال۔ ۲۱۔ فنونِ لطیفہ۔ ۲۲۔ صبحِ چمن۔ ۲۳۔ خاقانی۔ ۲۴۔ رومی۔ ۲۵۔ جدت۔ ۲۶۔ مرزا بیدل۔ ۲۷۔ جلال و جمال۔ ۲۸۔ مصور۔ ۲۹۔ سرود حلال۔ ۳۰۔ سرودِ حرام۔ ۳۱۔ فوارہ۔ ۳۲۔ شاعر۔ ۳۳۔ شعرِ عجم۔ ۳۴۔ ہنروانِ ہند۔ ۳۵۔ مردِ بزرگ۔ ۳۶۔ عالمِ۔ نو۔ ۳۷۔ ایجادِ معانی۔ ۳۸۔ موسیقی۔ ۳۹۔ ذوقِ نظر۔ ۴۰۔ شعر۔ ۴۱۔ رقص و موسیقی۔ ۴۲۔ ضبط۔ ۴۲۔ رقص۔ حصہ چہارم بعنوان "سیاسیات مشرق و مغرب”۔ ۱۔ اشتراکیت۔ ۲۔ کارل مارکس کی آواز۔ ۳۔ انقلاب۔ ۴۔ خوشامد۔ ۵۔ مناصب۔ ۶۔ یورپ اور یہود۔ ۷۔ نفسیاتِ غلامی۔ ۸۔ بلشویک روس۔ ۹۔ آج اور کل۔ ۱۰۔ مشرق۔ ۱۱۔ سیاستِ افرنگ۔ ۱۲۔ خواجگی۔ ۱۳۔ غلاموں کے لیے۔ ۱۴۔ اہلِ مصر سے۔ ۱۵۔ ابی سینیا۔ ۱۶۔ ابلیس کا فرمیان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام۔ ۱۷۔ جمعیتِ اقوامِ مشرق۔ ۱۸۔ سُلطانیِ جاوید۔ ۱۹۔ جمہوریت۔ ۲۰۔ یورپ۔ اور سُوریا۔ ۲۱۔ مسولینی۔ ۲۲۔ گِلہ۔ ۲۳۔ انتدان۔ ۲۴۔ لادین سیاست۔ ۲۵۔ دامِ تہذیب۔ ۲۶۔ نصیحت۔ ۲۷۔ ایک بحری قزاق اور سکندر۔ ۲۸۔ جمعیتِ اقوام۔ ۲۹۔ شام و فلسطین۔ ۳۰۔ سیاسی پیشوا۔ ۳۱۔ نفسیاتِ غلامی۔ ۳۲۔ غلاموں کی نماز۔ ۳۳۔ فلسطینی عرب سے۔ ۳۴۔ مشرق و مغرب۔ ۳۵۔ نفسیاتِ حاکمی۔ حصہ پنجم بعنوان "محراب گل افغان کے افکار”۔ اس حصہ میں 20 غزلیات شامل ہیں۔
ضربِ کلیم میں شامل مشہور منظومات
(تعارف مع اول و آخر اشعار)
سلطان ٹیپو کی وصیت۔ اس نظم کے کل 05۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت۔
تُو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
باطل دُوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکتِ میانۂ حق و باطل نہ کر قبول!
اشتراکیت۔ اس نظم کے کل 05۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت۔
قوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سود نہیں روس کی یہ گرمی رفتار
جو حرفِ قُل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!
ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام۔ قیامِ بھوپال میں شیش محل کی سیر میں لکھے گئے اشعار۔ اس نظم کے کل 05۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زُناریوں کو دیرِ کُہن سے نکال دو
اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو
مسولینی۔ 22۔ اگست 1935ء بھوپال شیش محل میں لکھے گئے اشعار۔ اس نظم کے کل 07۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت۔ کلامِ اقبال کا ماحصل
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!
بے محل بگڑا ہے معصومان یورپ کا مزاج
پردۂ تہذیب میں غارت گری آدم کُشی
کل روا رکھی تھی تم نے، میں روا رکھتا ہوں آج!
ضربِ کلیم میں مشہور شخصی نظمیات
ü اعلیحضرت نواب سر حمید اللہ۔۔۔ [نواب حمید اللہ ریاست بھوپال کا نواب تھا جس کی میزبانی کی خواہش پر علامہ نے بھوپال کا سفر کیا تھا۔ یہ نظم ضربِ کلیم کی پہلی نظم ہے گویا اس مجموعے کو علامہ نے نواب بھوپال کے نام انتساب کیا
ہے۔ نظم فارسی میں لکھی ہے۔ کل 03 اشعار ہیں۔
ü ایک فلسفہ زادہ سید زادے کے نام [اس نظم میں علامہ نے مشہور فرانسیسی فلاسفر برگساں کی رعایت سے ایک سید زادہ کو مخاطب کیا ہے۔ کل 15۔ اشعار]
ü مہدی [امام مہدی کے بارے میں تذکرہ۔ اس نظم میں مجذوب فرنگی کی نسبت سے مہدی کے تخیل سے بیزاری دکھائی گئی ہے۔ کل 08 اشعار]
ü سلطان ٹیپو کی وصیت [سلطان ٹیپو جنھوں نے انگریز کے خلاف لڑتے ہوئے سرنگا پٹم کے مقام پر 1799ء میں شہادت پائی۔ انھیں "میسور کا شیر” کہا جاتا ہے۔ کل 05۔ اشعار]
ü مرزا بیدلؔ [فارسی کے مشہور ہندستانی شاعر۔ کل 04۔ اشعار]
ü کارل مارکس کی آواز [کارل مارکس اپنی کتاب "داس کیپٹل” 1867ء کی وجہ سے مشہور جس میں سرمایہ داری کا تجزیہ اور مزدور کے حقوق کی بات اُٹھائی گئی ہے۔ کل 03۔ اشعار]
ارمغانِ حجاز
یہ مجموعہ علامہ اقبال کی وفات کے بعد 1938ء میں چھپا تھا۔ پہلی نظم "ابلیس کی مجلس شوریٰ” ہے اور آخری "حضرتِ انسان” ہے۔ حصہ اول میں کل 08 نظمیں ہیں۔ حصہ دوم میں کل 13 رباعیات ہیں۔ حصہ سوم بعنوان "مُلّا زاہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض” میں کل 19 غزلیات اور اواخر میں تین نظمیں بعنوان "سر اکبر حیدری، حسین احمد، حضرت انسان” شامل فہرست ہیں۔
ارمغانِ حجاز میں شامل اُردو منظومات۔ [۱۔ ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ۲۔ بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ۳۔ تصویر و مصور۔ ۴۔ عالمِ برزخ۔ ۵۔ معز ولِ شہنشاہ۔ ۶۔ دوزخی کی مناجات۔ ۷۔ مسعود مرحوم۔ ۸۔ آوازِ غیب۔ ۹۔ سر اکبر حیدری کے نام۔ ۱۰۔ حسین احمد۔ ۱۱۔ حضرتِ انسان]
ارمغانِ حجاز میں شامل مشہور منظومات
ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ یہ نظم 1936ء میں لکھی گئی۔ اس نظم میں ابلیس اور اس کے پانچ مشیر کی باہم گفتگو کا ذکر ہے۔ کل 64۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
یہ عناصر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں!
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اِسے
پُختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اِسے
بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ اس نظم کے کل 11۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
ہو تیرے بے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا
اخلاص عمل مانگ نیاگانِ کُہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!
حضرتِ انسان۔ اس نظم کے کل 06۔ اشعار ہیں۔ مثنوی ہیئت
جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی
کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی
اگر مقصودِ کُل میں ہوں، تو مجھ سے ماورا کیا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نَو بہ نَو کی انتہا کیا ہے
ارمغانِ حجاز میں شامل مشہور شخصی منظومات
ü ابلیس کی مجلس شوریٰ [ابلیس اور اس کے پانچ مشیروں کی گفتگو۔ کل 64۔ اشعار۔ تحریر۔ 1936]
ü معزول شہنشاہ [ سلطنتِ مغلیہ کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر پر لکھی گئی نظم۔ کل03۔ اشعار]
ü مسعود مرحوم [سر راس مسعود کی وفات پر شخصی مرثیہ۔ کل 21۔ اشعار]
ü حسین احمد [مولانا حسین احمد مدنی اور علامہ کے درمیان مذہبی نزاعات کے حوالے سے نظم۔ کل 03۔ اشعار]
متروک کلام اقبال کی تدوین
رختِ سفر [مرتب: حارث رشید، 1977]، باقیاتِ اقبال [مرتب: عبد الواحد معینی، 1952]، تبرکاتِ اقبال [مرتب: محمد بشیر الحق، 1959ء]، سرودِ رفتہ [مرتب: غلام رسول مہر وغیرہ، 1959ء]، نوادرِ اقبال [مرتب: عبد الغفار شکیل]، ابتدائی کلام اقبال [مرتب: گیان چند جین، 1988ء]، کلامِ اقبال [مرتب: ڈاکٹر اکبر حیدر کاشمیری) ، کلیاتِ باقیاتِ شعرِ اقبال [مرتب: ڈاکٹر صابر کلوروی، 2004۔ یہ کتاب باقیات اقبال کے حوالے سے مستند جامع انتخاب ہے]
اقبال کی فارسی تصانیف کا معروضی تعارف
اسرارِ خودی
اسرارِ خودی کے عنوانات
01۔ تمہید
02۔ رومی و تلاش انسان
03۔ در بیان اینکہ حیات حیات خودی از تخلیق و تولید مقاصد است
ترجمہ: (اس کے بیان میں کہ خودی کی زندگی کے مقاصد پیدا کرنا اور وجود میں لانا ہے)
04۔ در بیان اینکہ خودی از عشق و محبت استحاکم می پذیرد۔
ترجمہ: (اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مضبوط ہوتی ہے)
05۔ در بیان اینکہ خودی از سوال ضعیف می گرد
ترجمہ: (اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے)
06۔ در بیان اینکہ چوں خودی از عشق و محبت محکم می گردد قوای ظاہرہ و مخفیہ نظام عالم را مسخری ساز
ترجمہ: (اس بیان میں کہ جب خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہو جاتی ہے تو وہ نظام کائنات کی ظاہری اور خفیہ قوتوں کو اپنے تصرف میں لے کر مطیع کر لیتی ہے)
07۔ حکایت دریں معنی کہ مسئلہ نفی خوداز مخترعات اقوام مغلوبہ بنی نوع انسان است کہ بایں طریق مخفی اخلاق اقوام غالبہ را ضعیف می سازند
ترجمہ: (اس موضوع سے متعلق کہ خودی کی نفی کا مسئلہ بنی نوع انسان کے مغلوب قوموں کی اختراعات (ایجادات) میں سے ہے تا کہ وہ اس خفیہ طریقے سے غالب قوموں کے اخلاق کو کمزور کر دیں)
08۔ در منعی اینکہ افلاطون یونانی کہ تصوف و ادیبات اقوام اسلامیہ از اکار و اثر اعظیم پذیر رفتہ بر مسلک گوسفندی رفتہ است و از تخیلات و احتراز واجب است
ترجمہ: (اس بیان میں کہ یونان کا فلسفی افلاطون جس کے افکار سے مسلم اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا مسلک گوسفندی ہی پر چلا ہے، اس کے افکار و خیالات سے بچا رہنا ضروری ہے)
09۔ در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیہ
ترجمہ: (شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں)
10۔ در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیہ در بیان این کہ تربیت خودی راسہ مراحل است مرحلہ اول را اطاعت و مرحلہ دوم را ضبط نفس و مرحلہ سوم را نیابت الٰہیٰ نامیدہ اند
ترجمہ: (اس بیان میں کہ خودی کی تربیت کے تین مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلے کو اطاعت اور دوسرے مرحلے کو ضبط نفس اور تیسرے مرحلے کو نیابت الٰہی کا نام دیا گیا ہے)
11۔ در شرح اسرار اسماے علی مرتضیٰ۔
ترجمہ: (حضرت علی المرتضیٰ کے اسماء کے بھیدوں کی تشریح)
12۔ در شرح اسرار اسمائے علیٰ مرتضیٰ حکایت نوجوانی از مروکہ پیش حضرت سید مخدوم علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ از ستم اعدا فریاد کرد (مرو کے
ترجمہ: (ایک نوجوان کی داستان جو مخدوم حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور دشمنوں کے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی)
حکایت طایری کہ از تشنگی بیتاب بود
ترجمہ: (الماس اور کوئلے کی حکایت)
13۔ حکایت شیخ و برہمن و مکالمہ گنگا و ہمالہ در معنی اینکہ تسلسل حیات میلہ از محکم گرفتن روایات مخصومہ ملیہ می باشد
ترجمہ: (شیخ اور برہمن کی داستان اور دریائے گنگا و ہمالیہ کے مابین مکالمہ، اس حقیقت سے متعلق کی ملی زندگی کا تسلسل ملت کی مخصوص ملی روایات کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے پر موقوف ہے)
14۔ دربیان اینکہ مقصدِ حیات مسلم اعلای کلمتہ اللہ است وجہاد، اگر محرک اوجوع الارض باند در مذہب اسلام حرام است
ترجمہ: (اس موضوع کے بارے میں کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد کلمتہ اللہ کا بلند کرنا ہے اور ایسا جہاد جو تسخیر ممالک کا باعث بنے، اسلام کی رو سے حرام ہے)
15۔ اندرز میر نجات نقشبند المعروف بہ بابایی صحرائی کہ برای مسلمانان ہندوستان رقم فرمودہ است
ترجمہ: (باباے صحرائی کے لقب سے مشہور میر نجات نقشبندی کی نصیحت جو انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے تحریر فرمائی ہے)
16۔ الوقت سید
ترجمہ: (وقت تلوار ہے)
17۔ دُعا
رموزِ بے خودی
رموزِ بے خودی کے عنوانات کی فہرست:
01۔ پیش کش بحضور ملتِ اسلامیہ
ترجمہ: (تمہید در معنی ربط فرد و ملت)
02۔ در معنی این کہ ملت از اختلاط افراد پیدا می شود و تکمیل تربیت او از نبوت است
ترجمہ: (ملت اختلاطِ افراد سے بنتی اور اس کی تکمیل تربیت نبوت سے ہوتی ہے۔)
03۔ ارکان اساسی ملیہ اسلامیہ رکن اول: توحید
04۔ رکن دوم: رسالت
05۔ در معنی ایں کہ یاس و حزن و خوف ام الخبائث است و قاطع حیات و توحید از الہ ایں امراض خبیثہ می کند
ترجمہ: (یاس و حزن اور خوف ام الخباءث اور قاطع حیات ہیں ان امراض خبیثہ کا ازالہ (صرف) توحید سے ہو سکتا ہے)
06۔ محاورہ تیر و شمشیر
07۔ حکایت شیر و شہنشاہ عالمگیہ رحمۃ اللہ علیہ
08۔ در معنی ایں کہ مقصود رسالت محمدیہ تشکیل و تاسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است
ترجمہ: (بیان مقصود رسالتِ محمدیہ جو تشکیل و تاسیس حریت اور مساوات و اخوتِ بنی آدم کی بنیاد ہے)
09۔ حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیہ
ترجمہ: (بوعبید اور جابان کی حکایت اخوت اسلامیہ کی روشنی میں)
10۔ حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیہ۔ ترجمہ: (سلطان مراد اور معمار کی حکایت مساواتِ اسلامیہ کی روشنی میں)
11۔ در معنی حریت اسلامیہ و سر حادثہَ کربلا
ترجمہ: (بیان حریتِ اسلامیہ اور سرِ حادثہَ کربلا)
12۔ درمعنی این کہ چوں ملت محمدیہ موسس بر توحید و رسالت است پس نہایت مکانی ندارد
ترجمہ: (چونکہ ملتِ محمدیہ کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے اس لیے حدود مکانی سے بے نیاز ہے)
13۔ در معنی این کہ وطن اساس ملت نیست۔
ترجمہ: (وطن کی اِساس مِلّت سے نہیں ہے)
14۔ در معنی این کہ چوں ملت محمدیہ موسس بر توحید و رسالت است پس نہایت مکانی ندارد
ترجمہ: (چونکہ ملتِ محمدیہ کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے اس لیے حدود مکانی سے بے نیاز ہے)
15۔ در معنی این کہ ملت محمدیہ نہایت زمانی ہم ندارد کہ دوام این ملت شریفہ موعود است
ترجمہ: (ملت محمدیہ بربنائے وعدہ دوام حدود زمانے سے بھی آزاد ہے۔)
16۔ در معنی اینکہ نظام ملت غیر از آئین صورت نبندد و آئین ملت محمد یہ قرآن است
ترجمہ: (نظامِ ملت آئین کے بغیر صورت پزیر نہیں ہوتا۔ ملت محمدیہ کا آئین قرآن ہے۔)
17۔ در معنی این کہ در زمانہ انحطاط تقلید از اجتہاد اولیٰ تر است
ترجمہ: (زمانہ انحطاط میں تقلید اجتہاد سے بہتر ہے)
18۔ در معنی ایں کہ پختگی سیرت ملیہ از اتباع آئین الٰہیہ است
ترجمہ: (سیرت ملّی کی پختگی آئینِ الٰہیہ کے اتباع سے ہے)
19۔ در معنی ایں کہ حسن سیرت ملیہ از تادب بآداب محمدیہ است
ترجمہ: (حسنِ سیرت ملیہ کا بیان جو آداب محمدیہ سے درسِ ادب کے حصول میں مضمر ہے)
20۔ در معنی ایں کہ ملیہ مرکز محسوس میخواہد و مرکز ملت اسلایہ بیت الحرام است
ترجمہ: (بیان حیات ملیہ جسے مرکز محسوس کی ضرورت ہے اسی کو بیت الحرام کہتے ہیں)
21۔ در معنی ایں کہ جمیعت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیہ است و نصب العین امت محمدیہ حفظ و نشر توحید است
ترجمہ: (حقیقی جمیعت ملی نصب العین پر مضبوط گرفت کا نام ہے اور امت محمدیہ کا نصب العین توحید کی حفاظت و اشاعت ہے)
22۔ در معنی این کہ توسیع حیات ملیہ از تسخیرقواے نظام عالم است
ترجمہ: (توسیعِ حیاتِ ملی نظام عالم کی تسخیر قویٰ کا نام ہے)
23۔ در معنی ایں کہ کمال حیات ملیہ این است کہ ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل ایں احساس از ضبط روایات ملیہ ممکن گردد
ترجمہ: (حیات ملیہ کا کمال یہ ہے کہ ملت فرد کی طرح احساس خودی پیدا کرے اور اس احساس کی تولید و تکمیل ملی روایات کے ضبط ہی سے ممکن ہے)
24۔ در معنی ایں کہ بقاے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است
ترجمہ: (نوع انسانی کی بقا امومت (عورت کی مامتا) سے ہے اور امومت کا حفظ و احترام اسلام ہے)
25۔ در معنی ایں کہ سیدۃ النسا فاطمہ الزہراء اسوہ کاملہ ایست براے نساء اسلام
ترجمہ: (مسلمان عورتوں کے لیے سیدۃ النسا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسوۂ کاملہ ہیں)
26۔ خطاب بہ مخدرات (خواتین) اسلام
27۔ در تفسیر سورہ اخلاص قل ہو واللہ احد
28۔ اللہ الصمد
29۔ لم یلد ولم یلد
30۔ ولم یکن لہُ کُفواً احد
31۔ عرض حال مصنف بحضور رحمۃ العالمین
پیام مشرق
پیام مشرق کے عنوانات:
01۔ پیش کش بہ حضور اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان فرمانروای دولت مستقلہ افغانستان خلد اللہ ملکہ و اجلالہ
02۔ لالہ طور03۔ افکار۔ گلِ نخستین۔ 04۔ دُعا۔ 05۔ ہلالِ عید06۔ تسخیر فطرت07۔ بوئے گل08۔ نوائے وقت09۔ فصلِ بہار10۔ حیات جاوید11۔ افکارِ انجم12۔ زندگی13۔ محاورہ علم و عشق14۔ سرود انجم۔ 15۔ نسیمِ صبح16۔ پند بازیچہ خویش17۔ کِرم کتابی۔ 18۔ کِبر و ناز۔ 19۔ لالہ۔ 20۔ حکمت و شعر۔ 21۔ کرمک شبِ تاب۔ 22۔ حقیقت۔ 23۔ حُدی۔ 24۔ قطرہ آب۔ 25۔ محاورہ مابین خدا و انسان۔ 26۔ ساقی نامہ۔ 27۔ شاہیں و ماہی۔ 28۔ تنہائی۔ 29۔ شبنم۔ 30۔ عشق۔ 31۔ اگر خواہی حیات اندر خطر زی۔ 32۔ جہانِ عمل۔ 33۔ حکمت فرنگ۔ 34۔ حورو شاعر۔ 35۔ زندگی و عمل۔ 36۔ الملک اللہ۔ 37۔ جوے آب۔ 38۔ نامہ عالمگیر۔ 39۔ بہشت۔ 40۔ کشمیر۔ 41۔ عشق۔ 42۔ بندگی۔ 43۔ غلامی۔ 44۔ چیستان شمشیر۔ 45۔ جمہوریت۔ 46۔ بہ مبلغ اسلام در فرنگستان۔ 47۔ غنی کاشمیری۔ 48۔ خطاب بہ مصطفیٰ کمال پاشا۔ 49۔ طیارہ۔ 50۔ تہذیب۔ حصہ اول: غزلیات عنوان: مے باقی (45 غزلیں)۔ حصہ دوم: (نظمیات) 51۔ نقشِ فرنگ۔ پیام۔ 52۔ نقشِ فرنگ۔ جمعیت الاقوام۔ 53۔ محاورہ مابین حکیم فرنسوی اگسٹس کومٹ و مرد مزدور حکیم54۔ میخانہ فرنگ55۔ حکما۔ 56۔ خراباتِ فرنگ۔ 57۔ خطاب بہ انگلستان۔ 58۔ قسمت نامہ سرمایہ دار و مزدور۔ 59۔ آزادی بحر۔ 60۔ خردہ
زبورِ عجم
زبور، عجم کے عنوانات:
بخوانندہ کتاب زیور۔ دُعا۔ غزل 01 تا 05۔ غزل 06 تا 10۔ غزل 11 تا15۔ غزل16 تا20۔ غزل 21 تا25۔ غزل 26 تا30۔ غزل 31 تا35۔ غزل 36 تا40۔ غزل 41 تا45۔ غزل46تا50۔ غزل51تا56۔ حصہ دوم۔ ابتدا۔ غزل 01 تا05۔ غزل06تا10۔ غزل 11تا15۔ غزل16تا20۔ غزل21تا25۔ غزل26تا30۔ غزل31تا35۔ غزل36تا40۔ غزل41تا45۔ غزل46تا50۔ غزل51تا55۔ غزل56تا60۔ غزل61تا65۔ غزل66تا70۔ غزل71تا7۔ حصہ سوم۔ گلشن رازِ جدید[تمہید: پہلا بند۔ دوسرا بند۔ تیسرا بند۔
"سوال (01)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ جواب: (تیسرا بند)۔ "سوال (02)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ جواب: (تیسرا بند)۔ "سوال (03)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ جواب: (تیسرا بند)۔ جواب: (چوتھا بند)۔ "سوال (04)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ "سوال (05)”۔ جواب۔ "سوال (06)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ جواب: (تیسرا بند)۔ جواب: (چوتھابند)۔ "سوال (07)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ )۔ "سوال (08)”۔ جواب: (پہلا بند)۔ جواب: (دوسرا بند)۔ جواب: (تیسرا بند)۔ "سوال (09)”۔ جواب۔ غزل (زبورِ عجم)۔ نظم: بندگی نامہ۔ نظم: در فنون لطیفہ غلاماں (موسیقی مصوری)۔ نظم: در فن تعمیر آزاد مردان
جاوید نامہ
جاوید نامہ کے عنوانات:
01۔ مناجات۔
02۔ تمہید آسمانی۔
03۔ نخستین روز آفرینش: نکوہش آسمان زمین را
(کائنات کی تخلیق پیدائش کے پہلے دن آسمان کا زمین کو بُرا بھلا کہنا)
03۔ نغمہ ملائک
04۔ تمہید زمینی۔ آشکارا می شود روح حضرت رومی و شرح میدھد
ترجمہ: (حضرت رومی کی روح ظاہر ہوتی ہے اور معراج کے رازوں سے آگاہ کرتی یا ان کی شرح بیان کرتی ہے)
05۔ غزل (مولانا رومیؒ)
06۔ غزل۔ (جاوید نامہ)
07زروان کہ روح زمان و مکان است مسافر را بسیاحت عالم علوی می برد
ترجمہ: (زروان، جو زمان و مکان کی روح ہے، مسافر یعنی علامہ اقبال کو عالم بالا کی سیاحت کے لیے ساتھ لے جاتی ہے)
08۔ زمزمہ انجم
09۔ فلک قمر
10۔ عارف ہندی
11۔ جلوہ سروش
12۔ حرکت بہ وادی یرغمید کہ ملاءکہ اورا وادی طواسین می نامند
ترجمہ: (وادیِ یرغمید کی طرف جانا، جسے یعنی یرغمید کو فرشتے وادیِ طواسین کے نام سے یاد کرتے ہیں)
13۔ طاسین گوتم (گوتم بدھ کی تعلیمات
14۔ طاسینِ زرتشت آزمایش کردنِ اہرمن زرتشت را۔
ترجمہ: (اہرمن کا زرتشت کی آزمایش کرنا)
15۔ طاسین مسیح رویائے حکیم طالستائی (حکیم طالستائی کا خواب)
16۔ طاسینِ محمد ترجمہ: (حضور اکرم کی تعلیمات)
17۔ فلک عطارد۔ زیارتِ ارواح جمال الدین افغانی و سعید حلیم پاشا۔
ترجمہ: (جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کی روحوں کی زیارت)
18۔ اشتراکیت وملوکیت
19۔ سعید حلیم پاشا
20۔ زندہ رود
21۔ محکماتِ عالم قرآنی
22۔ حکومتِ الٰہیٰ
23۔ ارض ملک خداست
24۔ حخمت خیر کثیر
25۔ پپغام افغانی یا ملت روسیہ
26۔ پیر رومی بہ زندہ رود می گوید کہ شعرے بیار
27۔ مجلس خدایان اقوام قدیم۔
ترجمہ: (پرانے زمانے کی قوموں کے خداؤں کی مجلس)
28۔ فرو رفتن بدریاے زہرہ دیدن ارواحِ فرعون و کشنر را۔
ترجمہ: (دریائے زہرہ میں اترنا اور فرعون اور کچز کی روحوں کو دیکھنا)
29۔ نمودار شدن درویش سودانی۔ ترجمہ: (سوڈانی درویش کا نمودار ہونا)
30۔ فلک مریخ
31۔ برآمدن انجم شناس مریخی از رصدگاہ۔
ترجمہ: (مریخی ستارہ شناس (عالم فلکیات) کارصدگاہ سے باہر آنا)
32۔ گردش در شہر مرغدین۔ ترجمہ: (مرغدینِ شہر کی سیر)
33۔ احوال دوشیزہ مریخ کہ دعوائے رسالت کردہ۔
ترجمہ: (مریخ کی اس دوشیزہ کے حالات جس نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا)
34۔ فلک مشتری
35۔ نواے حلاج، مرزا غالب، طاہرہ
36۔ زندہ رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ میگوید۔
ترجمہ: (زندہ رود اپنی مشکلات ان ارواحِ جلیلہ کے سامنے پیش کرتا ہے)
37۔ حلاج
38۔ نمودرا شدن خواجہ اہل فراق ابلیس۔
ترجمہ: (اہلِ فراق کے سردار ابلیس کا ظاہر ہونا)
39۔ نالہ ابلیس
40۔ فلک زجل
41۔ قلزم خونیں
42۔ آشکارا می شود روح ہندوستان۔ ترجمہ: (ہندوستان کی روح ظاہر ہوتی ہے)
43۔ روح ہندوستان نالہ و فریاد می کند۔
ترجمہ: (ہندوستان کی روح نالہ و فریاد کرتی ہے)
44۔ فریاد یکے از زورق نشینان قلزم خونیں۔
ترجمہ: (خون کے سمندر کے کشتی نشینوں میں سے ایک کی فریاد)
45۔ آں سوے افلاک (آسمانوں کے اس طرف یا آسمانوں کے پار۔ ترجمہ: (مقام حکیم المانوی نطشہ (جرمن فلسفی نیٹشے کا مقام)
46۔ حرکت بجنت الفردوس۔ ترجمہ: (جنت الفردوس کی طرف روانگی)
47۔ قصرِ شرف النسا
48۔ زیارت امیر اکبر حضرت سید علی ہمدانی و ملا طاہر غنی کشمیری۔
ترجمہ: (امیر کبیر حضرت سید علی ہمدانی اور ملا طاہر غنی کشمیری کی زیارت)
49۔ در حضورِ شاہ ہمدان۔ ترجمہ: (شاہ ہمدان کے حضور میں)
50۔ غنی
51۔ صحبت با شاعر ہندی برتری ہری۔ ترجمہ: (ہندی شاعر بھرتری ہری کے ساتھ ملاقات)
52۔ حرکت بہ کاخ سلاطینِ مشرق نادر، ابدالی، سلطان شہید۔
ترجمہ: (مشرق کے بادشاہوں کے محل کی طرف روانگی)
53۔ نادر
54۔ نمودار می شود روح ناصر خسرو علوی و غزلے مستانہ سرائیدہ غائب میشود
ترجمہ: (ناصر خسرو علوی کی روح ظاہر ہوتی ہے اور ایک مستانہ غزل گا کر غائب ہو جاتی ہے)
55۔ ابدالی
56۔ سلطان شہید
57۔ پیغام سلطان شہید بہ رود کاویری۔
ترجمہ: (دریائے کاویری کے نام سلطان شہید کا پیغام)
58۔ زندہ رود رخصت می شود از فردوس بریں و تقاضاے حورانِ بہشتی
59۔ حورانِ بہشتی
60۔ حضور
61۔ ندائے جمال
62۔ افتادن تجلی جلال
63۔ خطاب بہ جاوید
مسافر (مثنوی)
مسافر کے عنوانات:
01۔ بخوائندہ کتاب
02۔ تمہید
03۔ خطاب بہ مہر عالمتاب
03۔ حکمت کلیمی
04۔ حکمت فرعونی
05۔ لا اِلہ الا اللہ
06۔ فقر
07۔ مردِ حُر
08۔ در اسرارِ شریعت
09۔ اشکے چند بر افتراق ہندیاں
10۔ سیاسیاتِ حاضرہ
11۔ حرفے بند با اُمتِ عربیہ
12۔ پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
13۔ در حضور رسالت مآب
14۔ مسافر مثنوی
15۔ خطاب بہ اقوام سرحد
16۔ مسافر وا رومی شود بہ شہر کابل و حاضری شودبہ حضور اعلیٰ حضرت شہیدبر مزار شہنشاہ بابر خلد آشیانی
17۔ سفر بہ غزنی و زیارت مزار حکیم سنائی
18۔ روح حکیم سنائی از بہشت بریں جواب می دہد
19۔ بر مزار سلطان محمود علہ الرحمہ
20۔ مناجات مرد شوریدہ در پروانہ غزنی قندھار و زیارت خرقہ مبارک
21۔ غزل
22۔ بر مزار حضرت احمد شاہ بابا علیہ الرحمۃ موسس ملت افغانیہ
23۔ بخطاب بہ پادشاہ اسلام اعلیٰ حضرت ظاہر شاہ
ایدہ اللہ بنصرہ
ارمغان حجاز (فارسی)
ارمغانِ حجاز (فارسی) کے عنوانات:
01۔ حضور حق
02۔ حضور حق
03۔ حضور رسالت
03۔ حضورِ رسالت
04۔ حضورِ مِلّت
05۔ حضورِ مِلّت (بحق دل بند راہ مصطفیٰ رہ)
06۔ خودی
07۔ انا الحق
08۔ صوفی و مُلا
09۔ رومی
10۔ پیام فاروق
11۔ شعرائے ادب
12۔ اے فرزند صحرا
13۔ توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
14۔ خلافت و ملوکیت
15۔ ترک عثمانی
16۔ دخترانِ ملت
17۔ عصرِ حاضر
18۔ برہمن
19۔ تعلیم
20۔ تلاش و رزق
21۔ نہنگ باچہ خویش
22۔ خاتمہ
23۔ حضور عالم انسانی (تمہید)
24۔ حضور عالم انسانی
25۔ دل
26۔ خودی
27۔ جبرو قدر
28۔ جبر و اختیار
29۔ موت
30۔ بگو ابلیس را
31۔ ابلیس خاکی و ابلیس ناری
32۔ بہ یارانِ طریق
33۔ بہ یارانِ طریق
اقبال پر مطبوعہ کتابیات
سوانح و شخصیت
اقبال درُونِ خانہ
(جلد اول) خالد نظیر صوفی اقبال دَرُونِ خانہ
(جلد دوم) خالد نظیر صوفی
اقبال کے حضور سید نذیر نیازی زِندہ رُود (تین جلدیں) ڈاکٹر جاوید اقبال
اقبال: ابتدائی دور (1904ء) خرم علی شفیق
اقبال: تشکیلی دور (1905ء تا 1911) خرم علی شفیق
اقبال: درمیانی دور (1914ء تا 1922) (خرم علی شفیق) نوادرِ اقبال
(پورپ میں) ڈاکٹر سعید اختر درانی
علامہ اقبال شخصیت اور فن ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
حیاتِ اقبال (عہد بہ عہد) سید سلطان محمود حسین
تنقیدی و فکری مطالعہ
اقبال کا تصورِ تاریخ ڈاکٹر راشد حمید
ایقانِ اقبال پروفیسر محمد منور
بیانِ اقبال: نیا تناظر ڈاکٹر ارشاد شاکر
میزان اقبال پروفیسر محمد منور
برہانِ اقبال پروفیسر محمد منور
قِرطاسِ اقبال پروفیسر محمد منور
تصوراتِ عشق و خِرد: اقبال کی نظر میں ڈاکٹر وزیر آغا
اقبال: مجددِ عصر ڈاکٹر سہیل بخاری
جہانِ اقبال ڈاکٹر معین الرحمٰن
اقبال: چند نئے مباحث ڈاکٹر تحسین فِراقی
اساسیاتِ اقبال ڈاکٹر وحید قریشی
مطالعہ تلمیحات و اشاراتِ اقبال ڈاکٹر اکبر قریشی
اقبال۔ شاعرِ فردا غلام صابر
اقبال کا تصورِ اجتہاد ڈاکٹر ایوب صابر/محمد سہیل عمر
اقبال: فکری تناظر اور عصری معنویت محمد سہیل عمر
معاصر تہذیبی کشمکش اور فکرِ اقبال ڈاکٹر حمید تنولی
اقبالیاتِ تاثیر افضل حق قریشی
استقرائی استدلال اور فکرِ اقبال خالد الماس
فکرِ اقبال کا عُمرانی مطالعہ ڈاکٹر صدیق جاوید
اقبال: ایک تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر ملک حسن اختر
اقبالیات: تفہیم و تجزیہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اقبال: عہد ساز ساز اور مفکر ڈاکٹر اسلم انصاری
فکرِ اقبال کے تحقیقی پہلو ڈاکٹر نذیر قیصر
اقبالِ بہ حیثیتِ مفکرِ تعلیم بختیار حسین صدیقی
کلام اقبال میں فطرت نگاری ڈاکٹر منور ہاشمی
علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد ڈاکٹر ندیم شفیق ملک
اقبال کا تصورِ بقائے دوام ڈاکٹر نعیم احمد
مطالعہ خطباتِ اقبال
خطباتِ اقبال (نئے تناظر میں) محمد سہیل عمر
خطباتِ اقبال (تسہیل و تفہیم) ڈاکٹر جاوید اقبال
موضوعاتِ خطاباتِ اقبال محمد شریف بقا
درِ آئینہ باز ہے محمد سہیل عمر
اقبال نامہ (مجموعہ مکاتیب اقبال) شیخ عطا اللہ
اقبال کے خطوط (جناح کے نام) محمد جہانگیر عالم
مکاتیبِ اقبال بنام نیاز الدین خان عبد اللہ شاہ ہاشمی
شعری اور اُسلوبیاتی مطالعہ
اقبال کی فارسی شاعری کا تنقیدی جائزہ ڈاکٹر عبد الشکور احسن
اقبال کا نظامِ فن ڈاکٹر عبد المغنی
اقبال کا ادبی نصب العین ڈاکٹر سلیم اختر
شکوہ اور جوابِ شکوہ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی
اقبالیات نذیر نیازی عبد اللہ شاہ ہاشمی
اقبال اور قرآن ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں
اقبال اور محبتِ رسولؐ ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی
اقبال اور قائد اعظم پروفیسر احمد سعید
اقبالیات اور قرۃ العین حیدر نسیم عباس چودھری
کلامِ اقبال میں انبیاء کرام کا تذکرہ زیب النساء سرویا
اقبالیات بحوالہ شخصیات
اقبالیاتِ اسد ملتانی پروفیسر جعفر بلوچ
شمس العلما مولوی میر حسن ڈاکٹر سلطان محمود حسین
اقبال: مولوی احمد دین
مشفق خواجہ پروفیسر محمد منور بطور اقبال شناس زبیدہ جبیں
حوالہ جاتی کُتب
اشاریہ مکاتیب اقبال ڈاکٹر صابر کلوروی
اشارہ اقبالیات و اقبال ریویو اختر النسا
اقبالیاتی ادب (1985ء تک) ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
تحقیقِ اقبالیات کے مآخذ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
پاکستان میں اقبالیاتی ادب ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اشاریہ کلیاتِ باقیاتِ شعرِ اقبال سمیرا نسرین
شعرِ دلاویز (اشعار بہ ترتیب حروفِ تہجی) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی
جوئے کارواں (اشاریہ کلیاتِ اقبال اُردو) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی
درسیات
پیام اقبال بنام نوجوانانِ مِلّت سید قاسم محمود
سلسلہ درسیاتِ اقبال پروفیسر عبد الرشید فاضل
حکایاتِ اقبال (بچوں کے لیے) محمد یونس حسرت
حکایاتِ اقبال (جوانوں کے لیے) محمد یونس حسرت
متفرق تحقیقی و تنقیدی کُتب
اقبال: شاعر اور فلسفی ڈاکٹر سید وقار عظیم اقبال: معاصر ین کی نظر میں ڈاکٹر سید وقار عظیم
اقبال اور اُس کا عہد جگن ناتھ آزاد اقبال اور جمالیات نصیر احمد ناصر
اقبال اور شولزم حنیف رامے
اقبال: پیامبرِ انقلاب شورش کاشمیری
تلمیحاتِ اقبال سید عابد علی عابد
شعرِ اقبال سید عابد علی عابد
اقبال کا فلسفہ خودی محمد عثمان
اقبال کا تصورِ عشق ڈاکٹر غلام عمر خاں
مقاماتِ اقبال ڈاکٹر سید عبد اللہ
اقبال کا تصورِ خودی سید عابد حسین
سیرتِ اقبال ڈاکٹر طاہر فاروقی
سیاحتِ اقبال حق نواز
تصوراتِ اقبال صلاح الدین احمد
اقبال سب کے لیے ڈاکٹر فرمان فتح پوری
اقبال مجنوں گورکھپوری
آثارِ اقبال غلام دستگیر رشید
نقوشِ اقبال سید ابو الحسن ندوی
آئینہ اقبال محمد عبد اللہ قریشی
نقدِ اقبال میکش اکبر آبادی
نذرِ اقبال محمد حنیف شاہد
ملفوظاتِ اقبال محمود نظامی
شُذراتِ اقبال ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی
اقبال نئی تشکیل عزیز احمد
کلیدِ اقبال محمد یونس حسرت
معاصرین: اقبال کی نظر میں عبد االلہ قریشی
فرہنگِ اقبال نسیم امروہوی
اقبال اور مُلّا ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم
روحِ اقبال یوسف حسین خاں
جدید تشکیل الٰہیات مترجم: نذیر نیازی
خطبات اقبال کے تراجم (فارسی) شہزاد احمد/ وحید عشرت
اقبال کا علم الکلام علی عباس جلال پوری
اقبال اور علم جدید ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
اقبال کا فنی ارتقا جابر علی سید
اقبال: ایک مطالعہ جابر علی سید
اقبال کی تیرہ نظمیں اُسلوب احمد انصاری
حکمتِ اقبال ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
جامعات میں اقبالیات پر تکمیل شُدہ مقالاجات (ایم فل/پی ایچ۔ ڈی)
اقبال اور شخصیات
اقبال اور ابنِ تیمیہ: افکار کا تقابلی جائزہ،ایم فل، سمیع اللہ
علامہ اقبال پر ابنِ خلدون کے عُمرانی و تاریخی اثرات،ایم فل، سراج الدین
اقبال اور ابن رُشد کے ذہنی روابط، ایم فل، غزالہ ہمایوں
مولانا احمد رضا خاں اور علامہ اقبال کے تعلیمی افکار کا تحقیقی جائزہ، ایم فل، عظیم اللہ
اقبال اور اِشپنگر کے تصورِ تاریخ کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل، رانا افتخار احمد
علامہ اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی: افکار کا تقابلی جائزہ، ایم فل، محمد یونس میو
اقبال اور افغان شخصیات، ایم فل،اکرام اللہ شاہد
علامہ اقبال اور سید جمال الدین افغانی، ایم فل۔ غلام مصطفی
اقبال اور افلاطون، ایم فل۔ مزمل حسن اکبر
اقبال کی تنقید مغرب: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل، محمد شمیم بٹ
امام غزالی، شاہ ولی اللہ اور اقبال کے تعلیمی افکار کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ بختیار معراج
غزالی: اقبال کی غزل کے تناظر میں، ایم فل۔ طارق احمد مسعود
کلام اقبال میں انبیاء کا تذکرہ، ایم فل۔ زیب النساء سرویا
اقبال اور ٹی ایس ایلیٹ، ایم فل۔ شاہدہ یوسف
کلام اقبال میں تاریخی شخصیات کے ساتھ اقبال کے ذہنی روابط کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد اکرام
اقبال اور جوش کی شاعری کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ رانا فضل الرحمان
اقبال اور جیمس وارڈ کی نغمی مماثلتیں، ایم فل۔ کنور ظفر اقبال
چودھری رحمت علی اور علامہ اقبال کے تصورِ پاکستان کا تقابلی جائزہ، (ایم فل)۔ نیلم ملک
حال: پیش رو اقبال، ایم فل۔ خادم حسین رضوی
حالی، اکبر اور اقبال کی پیامِ شاعری کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ نصرت بانو اندرابی
علامہ اقبال کی اُردو شاعری میں فطرت نگاری اور ہم عصر شاعر، پی ایچ ڈی۔ سید منور ہاشمی
اقبال اور حسرت موہانی کے لسانی و سیاسی نغمیات کا تحقیقی مطالعہ، ایم فل۔ کوثر اظہار
اقبال اور حفیظ جالندھری کی شاعری کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ رضیہ شیخ
علامہ اقبال اور خواجہ غلام فرید کے افکار و نغمیات کا تحقیقی و تقابلی جائزہ، ایم فل۔ شاہد مصطفی
خوشحال خٹک اور اقبال مردِ مومن کے تناظر میں، ایم فل۔ خورشید حسن خاں
اقبال اور سر راس مسعود، ایم فل۔ فتح خاں ملک
علامہ اقبال اور رشید احمد صدیقی کے ذہنی و فکری روابط، ایم فل۔ مسرت شاہین
علامہ اقبال اور مولانا روم کے تصور فقرِ کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ عزیز الرحمن
اقبال اور رومی کے تصورِ عشق کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ شبیر احمد
سرسید اور اقبال کے عُمرانی تصورات کا تقابلی جائزہ، ایم فل۔ بشریٰ خاں
سر سید احمد خاں اور علامہ اقبال کے ذہنی روابط، ایم فل۔ طاہر مسعود
تلسی، رحیم اور اقبال کے یہاں فکری ہم آہنگی کا تقابلی جائزہ، ڈی لٹ۔ عبد القیوم
اقبال اور شیخ سعدی کا فلسفہ اخلاق۔ ایم فل۔ شیر محمد بزدار
اقبال اور سیالکوٹ کی معاصر شخصیات۔ ایم فل۔ صوفیہ بٹ
علامہ شبلی نعمانی اور اقبال۔ ایم فل۔ شکیل احمد چودھری
اقبال اور شیکسپئر: شاعری کے حوالے سے تقابلی جائزہ، ایم فل۔ محمد اعجاز الحق
علامہ اقبال اور پنجاب کے صوفیا، ایم فل۔ نعمت علی کوکب
اقبال اور عاکف۔ ایم فل۔ مصباح شاہین
عبد الرحمن بابا اور علامہ اقبال کے افکار کا جائزہ۔ ایم فل۔ مشتاق علی عطیہ
فیضی، شبلی نعمانی، علامہ اقبال اور دیگر مشاہیر: روابط کی نوعیت، اثر پذیری کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، ایم فل۔ محمد یامین
اقبال اور علی شریعتیؒ فکری روابط کا تحقیقی مطالعہ، ایم فل۔ شبیر افضل خاں
غالب اور اقبال کے فکری روابط، ایم فل۔ نبیلہ سجاد
غالب کا فکر و فن اور اقبال۔ ایم فل۔ زاہدہ پروین
فرائڈ اور اقبال کی نغمیاتِ شخصیات کا تقابلی جائزہ۔ایم فل۔ خالد الماس
اقبال، فیض، راشد، مجید اور مختار صدیقی کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل۔ امبرین منیر
اقبال اور قائد اعظم کے روابط: تحقیقی جائزہ، ایم فل۔ محمد نذیر
اقبال اور مجدد الف ثانی: افکار و نغمیات۔ ایم فل۔ بابر بیگ
علامہ اقبال اور محمود شبتری۔ ایم فل۔ محمد الیاس چیمہ
اقبال اور مرتضیٰ مطہری کے افکار کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل۔ سکندر عباس
اقبال اور مِلٹن۔ ایم فل۔ احمد محمود الزماں
اقبال اور میاں محمد بخش کے افکار و نغمیات کا تقابلی جائزہ۔ ایم فل۔ عابدہ خاتون
میر ولی اللہ اور علامہ اقبال کے ذہنی و فکری روابط: تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ (ایم فل)۔ شاہ زیب
اقبال اور ورڈورتھ، ایم فل۔ شاہدہ لطیف
اقبال شناسی پر مشتمل مقالات
پروفیسر آلِ احمد سرور بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ ساجدہ پروین
پروفیسر آل احمد سرور کی اقبال شناسی: ایک مطالعہ۔ ایم فل۔ نصرت آرا
ابو اللیث صدیقی بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ خالد محمود
ابو الحسن علی ندوی کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ رفیق احمد
مولانا ابو الحسن علی ندوی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد اکرام
اُسلوب احمد انصاری کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ سفیرہ بیگم
افتخار احمد صدیقی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ملک ریحانہ
اکبر حسین قریشی کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ فرحت زہرہ
اے ڈی نسیم بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ نجف علی سید
بشیر احمد ڈار بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ شہزاد اسلام
غلام احمد پرویز کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ ارشاد حسین شاہ
جابر علی سید بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد حبیب اللہ خاں
اقبال شناسی کی روایت میں ڈاکٹر جاوید اقبال کا مقام۔ ایم فل۔ فرح عزیز خاں
جگن ناتھ آزاد کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ رافعہ وانی
چراغ حسن حسرت کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ نائیلہ ارم نیازی
اقبالیات: چودھری محمد حسین: اقبال شناسی کے تناظر میں۔ ایم فل۔ فریال ارشاد
حامدی کشمیری کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ ریاض احمد جٹ
خانوادہ اقبال کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ توکل حسین
خلیفہ عبد الحکیم بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ریاض احمد
خواجہ عبد الحمید بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ امان اللہ
راجا حسن اختر بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ طالب حسین بخاری
رفیع الدین ہاشمی کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ ظہور احمد مخدومی
سلیم احمد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ عبد الواحد
سید عبد اللہ کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ شمیم احمد
آغا شورش کاشمیری کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ عاشق حسین
(اقبالیات) شیخ عبد القادر۔ ایم فل۔ محمد اقبال گل
مولانا صلاح الدین احمد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ حلیمہ سعدیہ
سید عابد علی عابد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ثریا مسعود
حافظ عباد اللہ فاروقی بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ تنویر حسین
پروفیسر ڈاکٹر عبد المغنی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد سلیم
پروفیسر عبد المغنی کی اقبال شناسی: تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ پروینہ حبیب
عبد الوہاب عزام کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ مینر احمد
(اقبالیات) عرشی امرتسری، ایم فل۔ زاہد حسین چغتائی
عزیز احمد کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ محمد طاہر اشرف
اُردو اقبال شناسی کی روایت میں حسن انور کا مقام و مرتبہ۔ ایم فل۔ شکیلہ فیض
پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تاران بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ خالد مبین
غلام رسول بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ زفیل فردوس
ڈاکٹر غلام جلانی برق بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد سہیل سرور
سید خادم رضا سعیدی بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ سمیع اللہ
فتح محمد ملک بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ فارحہ ناز
ڈاکٹر فرمان فتح پوری بطور اقبال شناس: (بحوالہ: "اقبال سب کے لیے”)۔ ایم فل۔ آنسہ زیب النسا
فقیر سید وجہہ الدین کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ نسیمہ مسعود
محمد دین تاثیر بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد ارشد خاں
(اقبالیات) محمد دین فوق۔ ایم فل۔ افتخار احمد
ڈاکٹر رفیع الدین بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد شفیق عجمی
ڈاکٹر محمد ریاض بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ سعیدہ مہتاب
(اقبالیات) محمد شفیع: تدوین و تحقیق۔ ایم فل۔ محمد یوسف
(اقبالیات) محمد عبد اللہ چغتائی۔ ایم فل۔ محمد اسلم
پروفیسر محمد عثمان بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔ غلام یٰسین
ڈاکٹر ملک حسن اختر بطور اقبال شناس۔ ایم۔ فل۔ زبیدہ جبیں
ڈاکٹر ملک حسن اختر بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ محمد عتیق خاں
ڈاکٹر ممتاز احمد بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ امتیاز حسین
میر عبد الصمد کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ شہباز فیصل
پروفیسر نظیر صدیقی بطور اقبال شناس۔ ایم فل۔
سلیم تقی شاہ
سید وقار عظیم بہ حیثیت اقبال شناس۔ ایم فل۔ ثمرین اختر
یوسف حسین خاں کی اقبال شناسی۔ ایم فل۔ فوزیہ بتول
اقبال کے اثرات
اُردو شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ آفتاب احمد
اقبال اور جموں کشمیر کا ادب۔ ایم فل۔ اسد اللہ وانی
کلامِ فقیر پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ امیر حمزہ
اُردو غزل کو اقبال کی دین۔ ایم فل۔ انجم سلطانہ
اقبال کے مقلد اُردو شعرا۔ ایم فل۔ جمیل اصغر
میر غلام رسول ناز کی شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ جہاں آرا کاملی
بیسویں صدی کی اُردو شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ رئیسہ پروین
جدید اُردو شاعری اور اقبال۔ ایم فل۔ سبھاش چندر ایمہ
مابعد کی شاعری پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ شاہ نواز عالم
جدید اُردو غزل پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ صادق حسین گوہر
پشتو شاعری میں اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ عبد الرؤف رفیقی
بلوچی ادب پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ غلام قاسم مجاہد
کشمیری شعرا پر اقبال کا اثر۔ ایم فل۔ محمد شفیع سنبھلی
اُردو نظم پر اقبال کے اثرات۔ ایم فل۔ مظہر علی خاں
قرۃ العین حیدر پر اقبال کے اثرات کا جائزہ۔ ایم فل۔ نسیم عباس
نسیم حجازی پر اقبال کے اثرات کا جائزہ۔ ایم فل۔ طاہرہ ناز
اقبال کی تخلیقات پر مقالات
کلام اقبال کی اُردو بیاضوں میں لسانی ترامیم کا جائزہ۔ ایم فل۔ سید عابد حسین
اقبال کی اُردو نثر کا فکری و فنی مطالعہ۔ ایم فل۔ عبد الجبار شاکر
اقبال کی اُردو نظموں کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ محمد عبد الحفیظ
ارمغانِ حجاز: (حصہ سوم) حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ دبیر حسین دبیر
ارمغانِ حجاز کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ ریاض احمد شاہد
ارمغانِ حجاز (فارسی) حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ محمد طیب اللہ
اسرارِ خودی کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ رعنا مشتاق
اسرارِ خودی: نقد متن، حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ روزینہ انجم
اصلاحاتِ اقبال کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ اسفند یار
اصلاحاتِ اقبال کی تدوین۔ ایم فل۔ عبد الستار
اقبال نامہ کا تحقیقی جائزہ شبیر حسین خاں
انوار اقبال (خطوط) : ترتیب و تحشیہ۔ ایم فل۔ زیب النسا
باقیاتِ شعر اقبال کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پی ایچ ڈی صابر حسین کلوروی
باقیاتِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ پی ایچ ڈی۔ عبد المجید اندرابی
بال جبرئیل کی شرحوں کا توضیحی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ افشاں منیر بھٹی
بالِ جبرئیل: اسلامی تاریخ کے حوالے سے۔ ایم فل۔ سحر افروز
لفظیاتِ بالِ جبرئیل کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ فرحت ریاض
بال جبرئیل میں امیجری۔ ایم فل۔ توقیر احمد خاں
بال جبرئیل کی منظومات پر محققانہ حواشی و تعلقیات۔ ایم فل۔ محمد قاسم
بال جبرئل میں تاریخی حوالہ جات: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ میاں محمد صدیق
بالِ جبرئیل کی غزلیات، رُباعیات، قطعات پر محققانہ حواشی، تعلیقات (ایم فل)۔ نجیبہ ظفر
بانگِ درا (حصہ سوم) [نظم "ارتقا” کے بعد] ایم فل۔ محمد قمر اقبال
بانگِ درا کی منظوم نظمیں۔ ایم فل۔ صورت جہاں
بانگِ درا کی منتخب منظومات کا اُسلوبیاتی تجزیہ۔ ایم فل۔ حفیظ الرحمن
بانگِ درا (حصہ دوم) حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ عبد الوحید فیصل
اقبال کی امیجری (بانگِ درا کے حوالے سے)۔ ایم فل۔ فرودس جہاں
بانگِ درا کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ چودھری محمد بشیر
بانگِ درا مین آتش کا اعیانی پیکر۔ ایم فل۔ محمد علی رضوی
اقبال کے کلام کی تدوین۔ ایم فل۔ محمد یوسف
اعوان پس چہ باید کرد اے اقوام شرق: فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ نگہت پروین
پیامِ مشرق کے اُردو انگریزی تراجم کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ سید عنصر اظہر
تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ، پی ایچ ڈی۔ رفیع الدین ہاشمی
جاوید نامہ کا فنی جائزہ۔ ایم فل۔ فوزیہ اقبال
خطباتِ اقبال: نئے تناظر میں۔ پی ایچ ڈی۔ محمد سہیل عمر
خطبہ الٰہ آباد: مقدمہ، حواشی، تعلیقات۔ ایم فل۔ ندیم شفیق ملک
اقبال کا تصورِ انسان: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ نصرت حسین
رموزِ بے خودی کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ صفیہ صلاح الدین
زبورِ عجم کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ شگفتہ صابر
شذراتِ فکر اقبال: تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ طلعت کلثوم
ضربِ کلیم: ابتدائی تین حصے۔ حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ طفیل احمد گوہر
ضربِ کلیم کی امیجری۔ ایم فل۔ محمد ظہیر
لفظیاتِ ضربِ کلیم۔ ایم فل۔ مقبول حسین
ضربِ کلیم کا فکری و فنی جائزہ۔ ایم فل۔ حافظ منیر احمد
علم الاقتدار: مقدمہ، ترتیب و تحشیہ۔ ایم فل۔ عابدہ مبشر
علامہ اقبال کی غیر مدون نثر: حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ عبد الجبار شاکر
فلسفہ عجم کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ سید قمر الدین
قادیانیت پر اقبال کی تحریروں کی تدوین۔ ایم فل۔ محمد عاصم رشید
گفتارِ اقبال: متن کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ اختر النساء
مکاتیبِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ رحیم بخش شاہین
مکاتیب اقبال کے ادبی پہلو (ایم فل)۔ ایم فل۔ پروین شاہ نواز
مکاتیبِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ محمد امین اندرابی
ملفوظاتِ اقبال: تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ طالب حسین اشرف
اقبالیاتی ادب (جائزے اور تبصرے)
علامہ اقبال کے فارسی کلام کے پشتو تراجم کا تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ آدم خان مروت
تصانیف اقبال کے پنجابی تراجم: تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ ارشاد افضل احمد
شیخ عبد الماجد کی قادیانیت پر کتب کا جائزہ۔ ایم فل۔ ارشد خاتم
اقبال پر معاندانہ کتب اُردو کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد ایوب صابر
جامعہ پنجاب میں اقبال پر ایم اے کی سطح کے تحقیقی مقالات کا تنقیدی جائزہ (ایم فل)۔ بشریٰ ناہید
بانگِ درا کی شرحوں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ خضر حیات خان
علامہ اقبال کی سوانح عمریوں کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ خورشید احمد شکوری
جاوید نامہ کے اُردو تراجم و شروح کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ رشید احمد شاہ
اقبال اور بچوں کا ادب۔ ایم فل۔ زیب النساء
کلام اقبال کے پشتو تراجم۔ ایم فل۔ زینت الرحمان
اقبال پر مطبوعہ سوانحی کتب کا تحقیقی جائزہ۔ پی ایچ ڈی، سجاد حسین شاہ
اقبال کو منظوم خراجِ عقیدت: تنقیدی جائزہ۔ ایم فل۔ سعدیہ حسن
کلامِ اقبال کے منظوم پنجابی تراجم۔ ایم فل۔ سعدیہ نورین
اقبال: درسیات پاکستان میں: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ شاہد اقبال کامران
اقبال کی اسرارِ خودی پر تنقیدی کُتب و مضامین کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ شگفتہ شہناز
اسرارِ خودی کے انگریزی تراجم کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ شوکت حسین بھٹی
اقبالیات کا تنقیدی ادب۔ ایم فل۔ شوکت حیات خاں
اقبال بطور مصورِ پاکستان: کے کے عزیز کی تحقیق کا تنقیدی مطالعہ۔ ایم فل۔ ضیا الرحمان گُجر
اقبالیات کا تنقیدی مطالعہ (1956 تا 2000)، پی ایچ ڈی، طاہرہ منظور
اقبالیات کا تنقیدی جائزہ، پی ایچ ڈی۔ عبد الحق صدیقی
افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت۔ عبد الروف خاں رفیق
اسرار و رموز کی شرحوں کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ علی محمد ضیاء
تفہیمِ اقبال: ایک جائزہ غلام قدوس
فروغ اُردو کے سلسلے میں اقبال کی خدمات کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ گلشن طارق
اقبال اور قرآن کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا جائزہ۔ ایم فل۔ لبنیٰ کوثر
آپ بیتیوں میں ذکرِ اقبال: حواشی و تعلیقات۔ ایم فل۔ محمد ارشد چودھری
علامہ اقبال کے تعلیمی نغمیات پر مطبوعہ کتب۔ ایم فل۔ محمد اسلم تبسم
کلامِ اقبال کی خطاطی۔ ایم فل۔ محمد اقبال تغو
پنجابی میں اقبال شناسی کی روایت۔ ایم فل۔ محمد بشیر چودھری
پیامِ مشرق کے اُردو تراجم و شروح کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ محمد محمود
ناقدینِ اقبال کا تنقیدی جائزہ۔ پی ایچ ڈی۔ محمد وسیم
کلامِ اقبال کی شرحیں۔ ایک جائزہ۔ ایم فل۔ مدثر ماجد
اُردو میں ادبی تنقید میں اقبال شناسی کا مطالعہ۔ ایم فل۔ نذیر احمد بٹ
سندھی زبان میں اقبال شناسی۔ ایم فل۔ نُزہت جبیں
حوالہ جاتی مقالات
حیاتِ اقبال کا اشاریہ۔ ایم فل۔ زوبیہ لطیف
اقبال کا سوانحی اشاریہ۔ ایم فل۔ فرخ طاہرہ
اقبالیات کی وضاحتی کتابیات۔ ایم فل۔ مشتاق احمد
اقبال کے فروغ میں "امروز” کا کردار۔ ایم فل۔ اشفاق حسین بخاری
اقبال کا فن
علامہ اقبال کی اُردو نظم کا ارتقاء۔ ایم فل۔ افضال احمد انور اقبال کی شاعری میں تلمیحات، پی ایچ ڈی۔ اکبر حسین قریشی
اُردو نظم میں اقبال کا کارنامہ، پی ایچ ڈی۔ بلقیس سراج
اقبال کی شاعرانہ فنکاری: حیات و کلام۔ ایم فل۔ انیس فاطمہ فاروقی
علامہ اقبال کی شاعری میں امیجری۔ ایم فل۔ توقیر احمد خاں
اُردو نظم گوئی میں اقبال کا مقام۔ ایم فل۔ روبینہ رشید
اقبال کی شاعری میں ہیئت کے تجربات کی روایت۔ ایم فل۔ زاہدہ پروین
فارسی نظم گوئی میں اقبال کا مقام۔ ایم فل۔ عبد المغنی
اقبال کا فن: تشبیہات، استعارات اور علامات کی روشنی میں (اُردو کلام)۔ پی ایچ ڈی۔ عبید الرحمن ہاشمی
اُردو شاعری میں فطرت نگاری: علامہ اقبال کے خصوصی تناظر میں۔ پی ایچ ڈی۔ محمد فیاض ظفر
تشبیہات و استعاراتِ اقبال۔ پی ایچ ڈی۔ گوہر علی انعرری
اقبال کی لغوی اور لسانی بحثیں۔ ایم فل۔ لیاقت علی
قابل کی شاعری میں پیکر تراشی۔ پی ایچ ڈی۔ محمد شعیب قاضی
اقبال کی امیجری۔ ایم فل۔ محمد نعیم بزمی
اقبال بہ حیثیت اُردو فارسی شاعر۔ پی ایچ ڈی۔ محمد آفتاب ضیا
اقبال کی اُردو شاعری میں پرندوں کی علامتی معنویت۔ ایم فل۔ مدثر ماجد
زبورِ عجم میں تشبیہات کا جائزہ۔ ایم فل۔ سرفراز کوثر
دانائے راز کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ میمونہ ناز
اقبال کے افکار و تصورات
اقبال کا فلسفہ خودی اور اس کے مقاصد۔ ایم فل۔ آصف جاہ کامرانی
اقبال کے فکری سر چشمے۔ پی ایچ ڈی۔ آفاق فاخری
اقبال اور کمیونزم۔ ایم فل۔ ابو الحسنات
اسلامی تصوف اور اقبال۔ پی ایچ ڈی۔ ابو سعید نورالدین
اقبال کی شاعری میں اولیا اور مشائخ: ایک جائزہ۔ ایم فل۔ احسان الحق
اقبال اور دو قومی نظریہ: متونِ اقبال کی روشنی میں۔ ایم فل۔ ارشاد احمد شاکر
اقبال کی شاعری میں خودی کا تصور، پی ایچ ڈی۔ اشتیاق احمد
اقبال اور تصورِ اہلِ بیت۔ ایم فل۔ اشتیاق حسین وانی
اقبال کی شاعری کا اصلاحی پہلو۔ ایم فل۔ اعجاز اشرف شاہ
اقبال کا شعورِ جمہوریت۔ ایم فل۔ اکرام الحق گوہر
علامہ اقبال کا تصورِ توحید۔ ایم فل۔ انیلہ محمود
علامہ اقبال کے تصورِ اخلاق کا تحقیقی جائزہ۔ ایم فل۔ بابر جاوید
اقبال اور تصوف۔ ایم فل۔ بشیر احمد نحوی
اقبال کی شاعری میں کشمیری شعرا۔ ایم فل۔ بشیر احمد
اقبال اور ایران دوستی۔ ایم فل۔ بنتِ حیدر
اقبال کی شاعری۔ پی ایچ ڈی۔ بیگم فردوس جہاں
اقبال کی شاعری میں ارضی مقامات کی اہمیت و معنویت۔ پی ایچ ڈی۔ مسز پری بانو
اقبال کے کلام میں آزادی کی اہمیت۔ ایم فل۔ تسنیم رضا رضوی
فوق البشر کا تصور اور اقبال کا مردِ مومن۔ ایم فل۔ حاتم رامپوری
اقبال اور ترقی پسند تحریک۔ ایم فل۔ حامد اقبال بٹ
عالمِ اسلام کے زوال کا سبب: کلامِ اقبال کے تناظر میں۔ ایم فل۔ حمیرا خالد
اقبال پر ادبی تحریکوں کے اثرات۔ ایم فل۔ خالد اقبال یاسر
اقبال کی شاعری میں عورت کا تصور۔ ایم فل۔ خدیجہ طاہر
اقبال اور دعوتِ دین۔ ایم فل۔ دلاور خان
اقبال کا تصورِ تاریخ: تحقیقی جائزہ۔ پی ایچ ڈی۔ راشد حمید
مطالعہ اقبال: تاریخِ اسلام کی روشنی میں۔ ایم فل۔ رضوان الحق صدیقی
اقبال کی اُردو شاعری میں عورت کا مقام۔ ایم فل۔ رضیہ سلطانہ
اقبال کا تصورِ محنت۔ ایم فل۔ سبحان الدین
اقبال اور ہندو مذہب سینتا کماری
اقبال کا تصورِ کشف: تجزیاتی مطالعہ۔ ایم فل۔ شاہدہ رسول
کلام اقبال کے اعلام و مشاہیر، پی ایچ ڈی۔ شبیر احمد سعید
فکرِ اقبال اور ہم عصر فکری میلانات۔ ایم فل۔ شجاع الدین فاروقی
اقبال کی شاعری میں شخصیات، پی ایچ ڈی۔ شرافت علی ندوی
اقبال اور ہیومینزم۔ ایم فل۔ شفیقہ رسول
سامراجیت پر اقبال کی تنقید۔ ایم فل۔ شیراز علی زیدی
فکرِ اقبال کا عُمرانی مطالعہ، پی ایچ ڈی۔ صدیق جاوید
اقبال پر قادیانیوں کی تنقید۔ ایم فل۔ صغریٰ بی بی
اقبال بہ حیثیت شاعرِ فطرت۔ ایم فل۔ صورت جہاں
اقبال اور فنونِ لطیفہ۔ ایم فل۔ طلحہ افروز
اقبال کا فلسفہ زمان۔ ایم فل۔ طاہر حمید تنولی
اقبال اور سیاسیاتِ کشمیر۔ ایم فل۔ ظہور احمد
فارسی مثنوی گوئی میں اقبال کا مقام، پی ایچ ڈی۔ عابدہ مبشر
اقبال کے محبوب دیار و امصار۔ ایم فل۔ عبد الباسط خان
اقبال اور تحریک خلافت۔ ایم فل۔ عبد الحق
اقبال اور جدید ذہن۔ ایم فل۔ عرفان احمد ملک
اقبال کی شاعری میں طنز۔ ایم فل۔ نعد محمد ملک
اقبال کے اُردو کلام میں اصحابِ رسولؐ کا تذکرہ۔ ایم فل۔ عتیق الرحمان بٹ
اقبال اور رومانیت۔ ایم فل۔ عظمت رُباب
اقبال کا تصورِ قوت و مزاحمت۔ ایم فل۔ غزالہ توحید
اقبال کی شاعری میں تصوف، پی ایچ ڈی۔ غلام نبی میر
علامہ اقبال کی مستقبل شناسی۔ ایم فل۔ غلام یٰسین
اقبال کے معاشی افکار۔ ایم فل۔ فاروق عزیز
شعرِ اقبال کا سیاسی اور سماجی مطالعہ۔ ایم فل۔ فردوس جہاں
اقبال اور رسالت۔ ایم فل۔ فرزانہ ہُما
اقبال کا ذوقِ جمال۔ ایم فل۔ فقیر خان فقری
اقبال کی شاعری میں ہندوستانی تصور، پی ایچ ڈی۔ فہمیدہ بیگم
اقبال پر قرآن کا اثر۔ ایم فل۔ قمر جہاں
شعرِ اقبال میں اہلِ بیت اطہار کا تذکرہ۔ ایم فل۔ گلفام علی ناصر
اقبال اور احیائے علوم۔ ایم فل۔ مبشر حسین
علامہ اقبال کا تصورِ ارتقا۔ ایم فل۔ محمد آصف اعوان
اقبال کا سیاسی شعور۔ پی ایچ ڈی۔ محمد راشد
علامہ اقبال کا تصورِ وجود و شہود۔ ایم فل۔ محمد اشفاق چغتائی
علامہ اقبال پر برطانوی شعرا کے اثرات۔ ایم فل۔ شیخ محمد اقبال
اقبال اور مسئلہ جبر و قدر۔ ایم فل۔ محمد اقبال
اقبال کی نفسیاتِ مذہب۔ ایم فل۔ محمد انور صادق
کلام اقبال میں مقاماتِ ارضی کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد ذاکر اللہ
اقبال کی فطرت شناسی (بانگِ درا کے حوالے سے)۔ ایم فل۔ محمد شمیم بٹ
اقبال اور تصورِ ولایت۔ ایم فل۔ سید محمد افضل اللہ
اقبال اور تصورِ امامت۔ ایم فل۔ محمد افضل
اقبال اور مسئلہ آبادی۔ ایم فل۔ محمد فیاض
اقبال کا تصورِ حقیقتِ مطلق۔ ایم فل۔ محمد قمر
اقبال صورِ خیال اور شعر فارسی اقبال۔ ایم فل۔ محمد ناصر
افکارِ اقبال اور غلامی۔ ایم فل۔ مسرت امیر
کلام اقبال میں قرآنی آیات و احادیث اور مذہبی اصطلاحات کا جائزہ۔ ایم فل۔ محمد منظور عالم
اُردو شعرا اور اقبال۔ ایم فل۔ مسرت پروین نیلم
ملوکیت اور اقبال۔ ایم فل۔ مسرت پروین
اقبال اور اندلس کی اسلامی میراث۔ پی ایچ ڈی۔ مشتاق احمد
اقبال کی شاعری پر انگریزی رومانوی شاعری کے اثرات م ایم فل۔ ناظر اسد
اقبال اور وسط ایشیا۔ ایم فل۔ منظور حسین
اقبال کی دُعائیہ شاعری۔ ایم فل۔ منیر حسین
کلامِ اقبال میں اعلام و اماکن کی معنوی اہمیت۔ ایم فل۔ ناہید سلطانہ
اقبال اور وجودیت۔ ایم فل۔ ناہید گل
اقبال کا تصورِ بقائے دوام۔ ایم فل۔ نعیم احمد
کلام اُقبال اُردو کے کردار۔ ایم فل۔ یاسمین اقبال بٹ
مقالاتِ اقبالیات: (متفرق موضوعات)
اقبال اور اسلامیہ کالج لاہور۔ ایم فل۔ احمد سعید منہاس
اقبال بہ حیثیت وکیل۔ ایم فل۔ بشیر احمد بشیر
اقبال کا بر صغیر میں لاہور سے باہر قیام اور سر گرمیوں کا تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ رحیم بخش شاہین
دستاویزاتِ اقبال: انگلستان میں۔ ایم فل۔ حفصہ خالدی
کشمیری شخصیات سے اقبال کے ذاتی و فکری روابط۔ ایم فل۔ خالد محمود
حیات و شخصیت اقبال: خطوط کے آئینے میں۔ ایم۔ فل۔ خالدہ سلطانہ
اقبال اور سائمن کمیشن۔ ایم فل۔ خدیجہ یٰسین
تقسیم بر صغیر کی دستاویزات میں اقبال کی سیاسی خدمات کا جائزہ۔ ایم فل۔ راجا عبد القیوم
علامہ اقبال اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی۔ ایم فل۔ راشدہ نورین
اقبال کا جرمنی قیام۔ ایم فل۔ ریحانہ کوثر
1947ء تک اقبال پر مطبوعہ اہم کُتب میں شخصیتِ اقبال کا تحقیقی مطالعہ ایم فل زمرد کوثر
آفتاب اقبال۔ ایک مطالعہ۔ ایم فل۔ سخاوت خاں
علامہ اقبال کا دورہ جنوبی پنجاب۔ ایم فل۔ ظفر السلام
علامہ اقبال کی مسلم لیگ سے وابستگی۔ ایم فل عبد الرشید ملک
علامہ اقبال کے اساتذہ۔ ایم فل۔ عبد الکریم قاسم
علامہ اقبال بہ حیثیت ممبر لیجیسلٹو کونسل (ایم فل) محمد ارشد جاوید العزیز
علامہ اقبال کے بیرون برصغیر سفر: تحقیقی مطالعہ۔ ایم فل۔ محمد علی خاں
علامہ اقبال اور شیخ نور محمد کے روابط۔ ایم فل۔ محمد وقار چیمہ
اقبال کی سیاسی زندگی کا ارتقا۔ ایم فل۔ منظور حسین
اسلامیہ یونی ورسٹی بہالپور، شعبہ اقبالیات
اقبال و آفتاب از بیگم رشیدہ آفتاب اقبال سیّد ریاض ہمدانی
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شعبہ اُردو و اقبالیات میں تحقیق کی روایت۔ بشریٰ اکرم
اُردو اقبال شناسی کی روایت میں ڈاکٹر عشرت حسن انور کا مقام و مرتبہ۔ شکیلہ فیض
عنواناتِ بانگ درا (حصہ اوّل) کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔ رانا محمد اکبر
بانگ درا اور نسخہ حیدر آباد دکن کے متن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔ محمد رمضان
اُردو کلام اقبال اور عرب شاعر احمد شوقی بک کی فکری جہات کا موازنہ۔ سعیدہ نواب
ڈاکٹر سلیم اختر بطور اقبال شناس۔ رابعہ بی بی
کلامِ اقبال میں جغرافیائی حوالے۔ حمیرا اکرم
اقبال کے مقبول اشعار کا انتخاب مع مآخذات
(اِساسی نسخہ: کلیات اقبال، اقبال اکادمی لاہور)
v بانگِ درا [1924ء]۔ (1905ء تک)۔ حصہ اول۔ (منظومات)
- اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھُک کر آسماں
[نظم: ہمالہ۔ بانگِ درا۔ ص: 51]
- آتی ہے نّدی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
[نظم: ہمالہ۔ بانگِ دراص: 52]
- ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تُو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تو
[نظم: ہمالہ۔ بانگِ درا]
- ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشکِ جامِ جم مرا آئینہ حیرت نہ ہو
[نظم: گلِ رنگین۔ بانگِ درا۔ ص: 53]
- فکرِ انساں پر تری ہستی یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
[نظم: مرزا غالب۔ بانگِ درا۔ ص: 55]
- آہ! تو اُجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشنِ ویمر میں ترا ہم نوا خوابیدہ ہے
[نظم: مرزا غالب۔ بانگِ درا۔ ص: 56]
- گیسوئے اُردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی و دلسوزی پروانہ ہے
[نظم: مرزا غالب۔ بانگِ درا۔ ص: 57]
- نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قدرت کے کارخانے میں
[نظم: ایک پہاڑ اور گلہری۔ ماخوذ (ایمرسن) بانگِ درا۔ ص: 62]
- زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کا
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے خدا نہ کرے [نظم: ایک گائے اور بکری۔ بانگِ درا۔ ص: 63]
- یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
[نظم: ایک گائے اور بکری۔ بانگِ درا۔ ص: 64]
- ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
[نظم: ہمدردی۔ ماخوذ۔ ولیم کوپر۔ بانگِ درا۔ ص: 66]
- کیا بد نصیب ہوں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں، میں قید میں پڑا ہوں
[نظم: پرندے کی فریاد۔ بانگِ درا۔ ص: 69]
- آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے
میں بے زباں ہوں قیدی، تُو چھوڑ کر دُعا لے
[نظم: پرندے کی فریاد۔ بانگِ درا۔ ص: 69]
- تھم ذرا بے تابیِ دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے
[نظم: خُفتگانِ خاک سے استفسار۔ بانگِ درا۔ ص: 70]
- علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تُو خدا جُو، خدا نما ہوں میں
[نظم: عقل و دل۔ بانگِ درا۔ ص: 73]
- وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا
زیبِ درختِ طُور مرا آشیانہ تھا
[نظم: شمع۔ بانگِ درا۔ ص: 77]
- قیدی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں میں
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں
[نظم: شمع۔ بانگِ درا۔ ص: 77]
- دُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!
کیا لُطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ درا۔ ص: 78]
- شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ درا۔ ص: 77]
- پانی کو چھو رہی ہو جھُک جھُک کے گُل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ در۔ ص: 79]
- مہندی لگائے سورج جب شام کی دُلہن کو
سُرخی لیے سنہری پر پھول کی قبا ہو
[نظم: ایک آرزو۔ بانگِ درا۔ ص: 79]
- اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
[نظم: زُہد اور رِندی۔ بانگِ درا۔ ص: 93]
- نہیں منت کشِ تاب شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ 98]
- یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ 98]
- وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 100]
- نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندستان والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 100]
- جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 100]
- محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیچ سے پیدا ریاضِ طُور ہوتا ہے
[نظم: تصویرِ درد۔ بانگِ درا۔ ص: 102]
- جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
[نظم: بلالؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 107]
- اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اِک بہانہ بنی
[نظم: بلالؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 107]
- سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بُلبُلیں ہیں اِس کی یہ گُلستاں ہمارا
[نظم: ترانہ ہندی۔ بانگِ درا۔ ص: 109]
- جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
[نظم: جگنو۔ بانگِ درا۔ ص: 110]
- سچ کہہ دوں اے برہمن!گر تُو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بُت ہو گئے پرانے
[نظم: نیا شِوالا۔ بانگِ درا۔ ص: ص: 114]
- تنگ آکے میں نے آخر دَیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
[نظم: نیا شِوالا۔ بانگِ درا۔ ص: 115]
- پتھر کی مورتیوں میں سمجھا ہے تُو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
[نظم: نیا شِوالا۔ بانگِ درا۔ ص: 115]
- چل بسا داغؔ آپ! میّت اِس کی زیبِ دوش ہے
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے
[ نظم: داغ۔ بانگِ درا۔ ص: 116]
- لکھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خوابِ جوانی! تیری تعبیریں بہت
[نظم: داغؔ۔ بانگِ درا۔ 116]
- ایک ہی قانونِ عالم گر کیے ہیں سب اثر
بُوئے گُل کا باغ سے گلچیں کا دُنیا سے سفر
[نظم: داغؔ۔ بانگِ درا۔ ص: 117]
- شکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا
نظر سے چھُپتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا
[نظم: کنارِ راوی۔ بانگِ درا۔ ص: 121]
- وہ میرا یوسفِ ثانی وہ شمعِ محفلِ عشق
ہوئی ہے جس کی اخوت قرارِ جاں مجھ کو
[نظم: اِلتجائے مسافر۔ بانگِ درار۔ ص: 123] یوسف ثانی ( اقبال کے بھائی: عطا محمد)
v بانگِ درا [1924ء]۔ (1905ء تک)۔ حصہ اول۔ (غزلیات)
- گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
[غزل 01۔ بانگِ درا۔ ص: 124]
- مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
[غزل 01۔ بانگِ درا۔ ص: 124]
- نہ آتے ہمیں اِس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
[غزل 02۔ بانگِ درا۔ ص: 124]
- کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں
کہاں جاتا ہے آتا ہے کہاں سے
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 125]
- بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں
لرز جاتا ہے آوازِ اذاں سے
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 125]
- لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لیے
[غزل 04۔ بانگِ درا۔ ص: 125]
- دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
پھر یہ وعدہ حشر کا، صبر آزما کیوں کر ہوا
[غزل 05۔ بانگِ درا۔ ص: 126]
- انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- پھلا پھولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا
جگر کا خون دے دے کے یہ بُوٹے میں نے پالے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- اُمیدِ حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- مرے اشعار اے اقبال! کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 127]
- ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
[غزل 07۔ بانگِ درا۔ ص: 128]
- اَڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طُور پر کلیم
طاقت ہو دِید کی تو تقاضا کرے کوئی
[غزل 07۔ بانگِ درا۔ 128]
- جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 129]
- مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جُدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 129]
- تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- نہ پوچھ اِن خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ اِن کو
یدِ بیضا لیے پھرتے ہیں اپنی آستینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- خموش اے دل! بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں
[غزل 09۔ بانگِ درا۔ ص: 130]
- ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
[غزل 10۔ بانگِ درا۔ ص: 131]
- بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
[غزل 10۔ بانگِ درا۔ ص: 1131]
- ذرا سا تو دِل ہوں مگر شوخ اِتنا
وہی لن ترانی سُنا چاہتا ہوں
[غزل 10۔ بانگِ درا۔ ص: 131]
- بِٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ! خدا وہ کیا جو بندوں سے احتراز کرے
[غزل 11۔ بانگِ درا۔ ص: 131]
- بزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تُو نازاں نہ ہو
تُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں
[غزل 12۔ بانگِ درا۔ ص: 132]
- ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ! اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں
[غزل 12۔ بانگِ درا۔ ص: 132]
- مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کُشی
رَستہ بھی ڈھُونڈ اور خِضر کا سَودا بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- اچّھا ہے دِل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اِسے تنہا بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں
اقبالؔ کو یہ ضِد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
[غزل 13۔ بانگِ درا۔ ص: 133]
- بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ دوم (1905ء 1908ء تک)۔ (منظومات)
- اوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مندوں کا طرزِ کلام اور ہے
[نظم: طلبہ علی گڑھ کالج کے نام۔ بانگِ درا۔ ص: 140]
- کام اپنا ہے صبح و شامل چلنا
چلنا، چلنا، مدام چلنا
[نظم: چاند اور تارے۔ بانگِ درا۔ ص: 144]
- ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ
[نظم: چاند اور تارے۔ بانگِ درا۔ ص: 145]
- چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا کُچل گئے ہیں
[نظم: چاند اور تارے۔ بانگِ درا۔ ص: 145]
- جستجو کُل کی لیے پھرتی ہے اجزا میں مجھے
حُسن بے پایاں ہے، دردِ لا دوا رکھتا ہوں میں
[نظم: عاشقِ ہرجائی۔ بانگِ درا۔ ص: 149]
- مجھ کو پید اکر کے اپنا نُکتہ چیں پیدا کیا
نقش ہوں۔ اپنے مصور سے گِلا رکھتا ہوں ہوں [نظم: عاشقِ ہرجائی (۲)۔ بانگِ درا۔ ص: 149]
- اے دل! تُو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
[ایک شام (نظم: ہائیڈل برگ کے کنارے پر)۔ بانگِ درا۔ ص: 155]
- کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل! قُدرت تری ہم نَفس ہے اے دل
[نظم: تنہائی۔ بانگِ درا۔ ص155]
- اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اُجالا کر دیں
[نظم: عبد القادر کے نام۔ بانگِ درا۔ ص: 158]
- رَو لے اب دل کھول کے اے دیدۂ خُوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا مزار
[نظم: صقیلیہ (جزیرہ سِسلی)۔ بانگِ درا۔ ص: 159]
- میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں، اوروں کو وہاں رُلواؤں گا
[نظم: صقیلیہ (جزیرہ سِسلی)۔ بانگِ درا۔ ص: 160]
بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ دوم (1905ء 1908ء تک)۔ (غزلیات)
- زندگی اِنساں کی اِک دَم کے سِوا کچھ بھی نہیں
دَم ہوا کی موج ہے، رَم کے سوا کچھ بھی نہیں
[غزل 01۔ بانگِ درا۔ ص: 161]
- سِپاس شرطِ ادب ہے ورنہ
کرم ترا ہے سِتم سے بڑھ کر
ذرا سا اِک دِل دیا ہے، وہ بھی
فریب خوردہ ہے آرزو کا
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 163]
- میں نے اقبالؔ یورپ میں اُسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سیماؤں میں تھی
[غزل 05۔ بانگِ درا۔ ص: 165]
- جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔ
بُلا کے دَیر سے مجھ کو اِمام کرتے ہیں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 165]
- زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکارا ہو گا
[غزل 07۔ (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 166]
- گزر گیا وہ دور ساقی کہ چھُپ چھُپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں میخانہ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 166]
- نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سُنا ہے یہ قُدسیوں سے میں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- دیارِ مغرب کے رہنے والو!خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زر کم عیار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازُک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- چمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اِس دِکھاوے سے دل جلوں میں شُمار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 167]
- خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بَنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُس کا بندہ بنُوں گا؛ جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 168]
- میں ظُلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہو گی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہو گا
[غزل 07 (مارچ 1907)۔ بانگِ درا۔ ص: 168]
v بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ سوم (1905ء 1908ء تک)۔ (منظومات)
- جب تلک باقی ہے تُو دُنیا میں، باقی ہم بھی ہیں
صبح ہے تو اِس چمن میں گوہرِ شبنم بھی ہیں
[نظم: بلادِ اسلامیہ۔ بانگِ درا۔ ص: 173]
- غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے!
تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے
[نظم: ستارا۔ بانگِ درا۔ ص: 173]
- سکُوں مُحال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اِک تَغیّر کو ہے زمانے میں
[نظم: ستارا۔ بانگِ درا۔ ص: 173]
- زندگی اِنساں کی ہے مانندِ مُرغِ خوش نوا
شاخ پر بیٹھا کوئی دَم چہچہایا، اُڑ گیا
[نظم: گورستانِ شاہی۔ بانگِ درا۔ ص: 177]
- آہ! کیا آئے ریاضِ دہر میں ہم، کیا گئے
زندگی کی شاخ سے پھُوٹے، کھِلے، مُرجھا گئے
[نظم: گورستانِ شاہی۔ بانگِ درا۔ ص: 177]
- موت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہے
اِس سِتم گر کا سِتم انصاف کی تصویر ہے
[نظم: گورستانِ شاہی۔ بانگِ درا۔ ص: 177]
- عشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیں
روح میں غم بن کے رہتا ہے مگر جاتا نہیں
[فلسفۂ غم(نظم: میاں فضل حسین بیرسٹر ایٹ لاء لاہور کے نام)۔ بانگِ درا۔ ص: 183]
- مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں
[نظم: فلسفۂ غم۔ بانگِ درا۔ ص: 184]
- الٰہیٰ! پھُولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرے
کلی سے رشکِ گلِ آفتاب مجھ کو کرے
[نظم: پھُول کا تحفہ عطا ہونے پر۔ بانگِ درا۔ ص: 185]
- چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سُو بار کر چکا ہے تُو امتحان ہمارا
[نظم: ترانہ ملّی۔ بانگِ درا۔ ص: 186]
- اِن تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اِس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
[نظم: وطنیت۔ بانگِ درا۔ ص: 187]
- سُنے گا کون اِن کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سُنا رہے ہیں
[نظم: قطعہ۔ بانگِ درا۔ ص: 189]
- کیوں زِیاں کار، سُود فراموش رہوں
نالے بُلبُل کے سُنوں محوِ غمِ دوش رہوں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 190]
- ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 193]
- بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 193]
- دشت تو دشت، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 193]
- قہر تو یہ ہے کہ کافر کو مِلیں حور و قصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 194]
- ہم تو جیتے ہیں کہ دُنیا میں ترا نام رہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے! [نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 195]
- آئے عُشاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب اُنھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 195]خاکوں کی کتاب: ڈاکٹر علی محمد خاں
- بُوئے گل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
- ایک بُلبُل ہے کہ ہے محوِ ترنّم اب تک
اِس کے سِینے میں ہے نغموں کا طلاطم اب تک
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
- لطف مرنے میں ہے باقی، نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]
- چاک اس بلبل تنہا کی نَوا سے دل ہوں
جاگنے والے اِسی بانگِ درا سے دل ہوں
[نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 198]بانگِ درا کا نام اِس سے ماخوذ ہے۔
- عجمی خُم ہے تو کیا، مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لَے تو حجازی ہے مری! [نظم: شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 199]
- میں ترے چاند کی کھیتی میں گُہر بَوتا ہوں
چھُپ کے انسانوں سے مانندِ سَحر روتا ہوں
[نظم: رات اور شاعر۔ بانگِ درا۔ ص: 200]
- آئین نو سے ڈرنا، طرز کُہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
[نظم: بزمِ انجم۔ بانگِ درا۔ ص: 202]
- اِک عُمر میں نہ سمجھے اِس کو زمین والے
جو بات پا گئے ہم تھوڑی سی زندگی میں
[نظم: بزمِ انجم۔ بانگِ درا۔ ص: 202]
- کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیاتُو نے
وہ کیا گَردُوں تھا تو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا
[نظم: خطاب بہ جوانانِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 207]
- اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فَزُوں تر ہے وہ نظّارا
[نظم: خطاب بہ جوانانِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 207]
- مگر وہ علم کے موتی وہ کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں اِن کو یورپ میں تو دِل ہوتا ہے سِیپارہ
[نظم: خطاب بہ جوانانِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 207]
- تھا جنھیں ذوق تماشا، وہ تو رُخصت ہو گئے
لے کے اب تُو وعدۂ دیدارِ عام آیا تو کیا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 212]
- محفل سے وہ پُرانے شُعلہ آشام اُٹھ گئے
ساقیا! محفل میں تُو آتش بجام آیا تو کیا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 213]
- آخرِ شب دِید کے قابل تھی بِسمل کی تڑپ
صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 213]
- رو رہی ہے آج اِک ٹُوٹی ہوئی مینا اُسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 214]
- وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 214]
- کہہ گئے ہیں شاعری جُزویست از پیغمبری
ہاں سُنا دے محفلِ مِلّت کو پیغامِ سروش
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 216]
- زندگی قطرے کو سکھلاتی ہے اسَرارِ حیات
یہ کبھی گوہر، کبھی شبنم، کبھی آنسو ہوا
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 217]
- فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 217]
- آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا!
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تو
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 219]
- بے خبر!تُو جوہرِ آئینہ ایّام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 220]
- آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
[نظم: شمع اور شاعر (فروری 1912)۔ بانگِ درا۔ ص: 222]
- یاد عہدِ رفتہ میری خاک کو اکسیر ہے
میرا ماضی میرے اِستقبال کی تفسیر ہے
[نظم: مُسلم (جون 1912ء)۔ بانگِ درا۔ ص: 224] عبادت بریلوی کی آپ بیتی
- دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔۔ ص: 227]
- ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 228]
- ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دِکھلائیں کسے، رہرو منزل ہی نہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔۔ ص: 228]
- کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔۔ ص: 228]
- کس قدر تم پہ گِراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمھیں پیاری ہے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 229]
- تھے آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 230]
- تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں
جلوۂ طُور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 230]
- فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 230]
- رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالیؓ نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالیؒ نہ رہی
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 231]
- یوں تو سیّد بھی تو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 232]
- باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر از بر ہو
پھر پِسر قابلِ میراثِ پِدر کیونکر ہو!
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 232]
- وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 232]
- آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ حصہ سوم۔ ص: 234]
- ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں کو مل گئے کعبے کے صنم خانے سے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ حصہ سوم۔ ص: 235]
- وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 236]
- قّوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 236]
- کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
[نظم: جوابِ شکوہ۔ بانگِ درا۔ ص: 237]
- نشہ پِلا کے گِرانا تو سب کو آتا ہے ساقی
مزا تو جب ہے کہ گِرتوں کو تھام لے ساقی
[نظم: ساقی۔ بانگِ درا۔ ص: 237]
- ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ [نظم: تعلیم اور اِس کے نتائج۔ بانگِ درا۔ ص: 238]
- اہلِ زمیں کو نسخۂ زندگیِ دوام ہے
خونِ جگر سے تربیت پاتی ہے جو سخنوری
[نظم: شاعر۔ بانگِ درا۔ ص: 240]
- گلشنِ دہر میں اگر جوئے مے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
[نظم: شاعر۔ بانگِ درا۔ ص: 240]
- یارب! دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
[نظم: دُعا۔ بانگِ درا۔ ص: 241]
- میں بُلبُلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے!
[نظم: دُعا۔ بانگِ درا۔ ص: 242]
- فاطمہ! تو آبروئے اُمتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
[نظم: فاطمہ بنتِ عبد اللہ۔ بانگِ درا۔ ص: 243
- مگر یہ راز آخر کھُل گیا سارے زمانے پر
حمیّت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
[نظم: غلام قادر روہیلہ۔ بانگِ درا۔ ص: 247]
- ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرازِ بولہبی
[نظم: ارتقا۔ بانگِ درا۔ ص: 251]
- پروانے کو چراغ، بُلبُل کو پھول بس
صِدیق کے لیے ہے خُدا کا رسُول بس
[نظم: صِدیقؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 253]
- پھول بن کر تُربت سے نکل آتا ہے یہ
موت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہ
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 262]
- زندگی کی اَوج گاہوں سے اُتر جاتے ہیں ہم
صحبتِ مادر میں طِفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 256]
- کتنی مشکل ہے زندگی، کس قدر آساں ہے موت
گُلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 258]
- آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
[نظم: والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ بانگِ درا۔ ص: 266]
- پھر اُٹھی صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
[نظم: نانک۔ بانگِ درا۔ ص: 269]
- اقبالؔ! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رُومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے
[نظم: بلالؓ۔ بانگِ درا۔ ص: 271]
- اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
[نظم: مذہب۔ بانگِ درا۔ ص: 277]
- مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ
[نظم: پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ۔ بانگِ درا۔ ص: 278]
- نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیلؑ کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری تو قتیلِ شیوۂ آزری
[نظم: میں اور تُو۔ بانگِ درا۔ ص: 280]
- دَمِ زندگی، رَم زندگی، غمِ زندگی، سَم زندگی
غم رَم نہ کر، سِم غم نہ کھا کہ یہی ہے شان قلندری
[نظم: میں اور تُو۔ بانگِ درا۔ ص: 280]
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی صبح دوام زندگی
[نظم: ہمایوں (مسٹر جسٹس ہمایوں شاہ دیں مرحوم)۔ بانگِ درا۔ ص: 282]
- ‘کشتی مسکیں، و ‘جانَ پاک’، ‘دیوار یتیم’
علمِ موسیٰؑ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش
[نظم: خِضر راہ (جُز: شاعر)۔ بانگِ درا۔ ص284
- آگ ہے، اولادِ ابراہیمؑ ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے! [نظم: خِضر راہ (جُز: شاعر)۔ بانگِ درا۔ ص: 285]
- زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شِیر و تِیشہ و سنگِ گِراں ہے زندگی
[نظم: جوابِ خضر (جُز: زندگی)۔ بانگِ درا۔ ص: 288]
- خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سُلا دیتی ہے اُس کو حکمراں کی ساحری
[نظم: جوابِ خضر (جُز: سلطنت)۔ بانگِ درا۔ ص: 289]
- اُٹھ کہ بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
[نظم: جوابِ خضر (جُز: سرمایہ و محنت)۔ بانگِ درا۔ ص: 292]
- ربط و ضبط ملّتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اِس نُکتے سے اب تک بے خبر
[نظم: جوابِ خضر (جُز: دُنیائے اِسلام)۔ بانگِ درا۔ ص: 294]
- ایک ہوں مُسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کرتا بخاکِ کاشغر
[نظم: جوابِ خضر (جُز: دُنیائے اِسلام)۔ بانگِ درا۔ ص: 295]
- مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 297]
- کتابِ مِلّت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگِ و بر پیدا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 298]
- اگر عثمانیوں پر غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحر پیدا [نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 298]
- ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دِیدہ ور پیدا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 299]
- سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 300]
- بُتانِ رنگ وخوں کو توڑ کر مِلّتِ بیضا میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 300]
- مٹایا قیصر و کسریٰ کے اِستبداد کو کس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فَقرِ بوذر، صِدقِ سلمانیؓ
[ نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 301]
- غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 301]
- کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زورِ بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 301]
- یقیں مُحکم، عمل پَیہم، محبّت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 302]
- جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 303]
- تُو رازِ کُن فَکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا نوعِ انساں کو
اخوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَر فِشاں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سراسر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 304]
- نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھوٹے نَگوں کی ریزہ کاری ہے
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 305]
- عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
[نظم: طلوعِ اِسلام۔ بانگِ درا۔ ص: 305]
v بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ سوم (1905ء 1908ء تک)۔ (غزلیات)
- زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل
یہ سمجھ لے کہ کوئی مِینا خانہ بارِ دوش ہے
[غزل 02۔ بانگِ درا۔ ص: 310]
- بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
[غزل 03۔ بانگِ درا۔ ص: 310]
- مِل ہی جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ اقبالؔ!
کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر
[غزل 04۔ بانگِ درا۔ ص: 312]
- تُو جنسِ محبت ہے، قیمت ہے گِراں ہے تیری
کم مایہ ہیں سوداگراِس دیس میں، اَرزاں ہو
[غزل 05۔ بانگِ درا۔ ص: 312]
- کبھی اے حقیقتِ منتظر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 312]
- تُو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے، ترا ٓئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 313]
- نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شُوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خَم ہے زُلفِ ایاز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 313]
- جو میں سر بَہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
[غزل 06۔ بانگِ درا۔ ص: 313]
- عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
[غزل 08۔ بانگِ درا۔ ص: 314]
v بانگِ درا [1924ء]۔ حصہ سوم (1905ء 1908ء تک)۔ (ظریفانہ کلام)
- لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
یہ ڈراما کیا دکھائے گا سین
پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ انتہا بھی اِس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک
چھتریاں، رُومال، مفلر، پیرہن جاپان سے [ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 315]
- اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی
آئیں گے غسّال کابل سے، کفن جاپان سے
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 317]
- اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن، ممبری، کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادی کے پھندے میاں نجّار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 323]
- مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 324]
- اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گُفتار کا یہ غازی تو بنا، کِردار کا غازی بن نہ سکا
[ظریفانہ۔ بانگِ درا۔ ص: 324]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ حصہ اول۔ (غزلیات)
- اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں
نفسِ سوختۂ شام و سحر تازہ کریں
[سرِ ورق شعر۔ بال جبرئیل۔ ص: 327]
- پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
[بالِ جبرئیل کتاب کا سروق شعر جو "بھرتری ہری” شاعر کا ہے۔ ص: 345]
- میری نوائے شوق سے ہے شور حریمِ ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بُت کدۂ صفات میں
[بالِ جبرئیل کتاب کا پہلا شعر (حصہ غزلیات میں)۔ ص: 345]
- تُو نے یہ کیا غضب کِیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
[غزل 01۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 345]
- اگر کج رو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا
مجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟
[غزل02۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 346]
- ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
بتا، کیا تُو مرا ساقی نہیں ہے
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے [قطعہ غزل 01۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 246]
- عشق بھی ہو حجاب میں، حُسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکارا ہو یا مجھے آشکار کر
[غزل03۔ بالِ۔ جبرئیل۔ ص: 347]
- باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے، اب مرا انتظار کر
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 347] آپ بیتی: قرۃ العین حیدر
- کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی ہے جو سینے میں غمِ منزل نہ بن جائے
[غزل06۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 350]
- عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
[غزل06۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 350]کتاب: غلام علی خان کامل
- پھر اُٹھا پھر کوئی رومیؔ عرب کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گِل ایراں وہی تبریز ہے ساقی
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
- نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کِشت ویراں سے
ذرا نَم ہو تو یہ مَٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]کتاب: قاسم علی شاہ
- لا پھر اِک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
- شیر مَردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی
رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 351]
- ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دُنیا نہ وہ دُنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 352]
- گزر اُقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ذِلّت ہے کارِ آشیاں بندی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 353]
- یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 353]
- تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں
نہ گِلہ ہے دوستوں کا، نہ شِکایت زمانہ
[غزل11۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 353]
- وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی
مرے کام کچھ نہ آیا، یہ کمالِ نَے نوازی
[غزل13۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 354]
- اِسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوزو ساز رومیؔ، کبھی پیچ و تاب رازیؔ
[غزل13۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 354]
- عشق کی اِک جست نے طے کر دیا قِصّہ تمام
اِس زمین و آسماں کو بے کِراں سمجھا تھا میں
[غزل14۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 355]
- مجھ کو تو سِکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اِس دور کے مُلّا کیوں ننگِ مسلمانی!
[غزل15۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 356]
- تیرے بھی صنم خانے، میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی، دونوں کے صنم فانی
[غزل10۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]پہلا ناول: قرۃ العین حیدر
- فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہرِ ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
- اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلال کو کبھی کہہ نہ سکا قند
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
- چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اِس بندۂ گستاخ کا منہ بند!
[غزل 16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 357]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ حصہ دوم۔ (غزلیات)
- نِگہ پیدا کر اے غافل تجلّی عینِ فطرت ہے
کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا
[غزل01۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 359]
- اِسی دریا سے اُٹھتی ہی وہ موجِ تُند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا
[غزل02۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 361]
- عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 362]
- وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جُنوں
خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 364]اوریا جان مقبول کے اخباری مکالمے کا عنوان
- سبق مِلا ہے یہ معراجِ مُصطفیٰ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زَد میں ہے گَردُوں
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 354]
- یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون
[غزل03۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 364]
- اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 367]
- من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے ؛آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 367]
- پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن
[غزل07۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 367]
- مسلماں کے لہو میں ہے، سلیقہ دل نوازی کا
مُرّورت حُسنِ عالم گیر ہے مردانِ غازی کا
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 368]
- شکایت ہے مجھے یارب!خاوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 368]
- کہاں سے تو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا
[غزل08۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 368]
- ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
[غزل11۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 369]
- اگر ہو عشق تو ہے کُفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافرو زندیق
[غزل11۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 370]
- کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
[غزل12۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 370]
- خداوند یہ تیرے سادہ بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیّاری ہے، سُلطانی بھی عیّاری
[غزل14۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 372]
- تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھُونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چُکا میں صَدف صَدف
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 373]
- خِیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
[غزل16۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 373]
- زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی
[غزل17۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 373]
- جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
خُدا ہو دِیں سِاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
[غزل17۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 374]
- عقل گو آستاں سے دور نہیں
اِس کی تقدیر میں حضور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- دلِ بِینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- عِلم میں بھی سَرُور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حُور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں
ایک بھی صاحبِ سَرُور نہیں
[غزل20۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 375]
- یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
[غزل22۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم377]
- نہ دیا نشانِ منزل مجھے اے حکیم تُو نے
مجھے کیا گِلہ ہو تجھ سے، تُو نہ رہ نشیں نہ راہی
[غزل22۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم377]بالِ جبرئیل کا پہلا مجّوزہ نام
- گَلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا اِلہٰ اِلّا للہ
[غزل23۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 377]
- خِرد کے پاد خبر کے سِوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سِوا کچھ اور نہیں
[غزل23۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 378]
- بُتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خُدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
[غزل25۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- فقط نِگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دِل کا
نہ ہو نِگاہ میں شُوخی تو دلبری کیا ہے
[غزل25۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- خوش آ گئی جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے!
[غزل25۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- نہ تُو زمیں کے لیے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے
[غزل26۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 379]
- نِگہ بُلند، سُخن دلنواز، جاں پُر سُوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
[غزل26۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 380]
- مَیں تُجھ کو بتاتا ہوں کہ تقدیرِ اُمم کیا ہے
شمشیر و سَناں اوّل، طاؤس و رُباب آخر
[غزل29۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 382]
- ہر شے مُسافِر، ہر چِیز راہی
کیا چاند تارے کیا مُرغ و ماہِی
[غزل30۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 382]
- خودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
[غزل33۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 384]
- اگر ہوتا مجذوبِ فرنگی اِس زمانے میں
تو اِقبالؔ اُس کو سمجھا تا کہ مقامِ کِبریا کیا ہے
[غزل33۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]جرمنی کا فلسفی "نِطشے”
- جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھُلتے ہیں غلاموں پر اسَرارِ شہنشاہی
[غزل34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]
- اے طائرِلاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رِزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
[غزل34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 385]ایوب خاں کی آپ بیتی کا اُردو ترجمہ
- آئینِ جوانمرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی
[غزل34۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر
یہ ناداں گِر گئے سجدوں میں جب وقتِ نماز آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا
تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مُشکل مَقام آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- دِیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اِک مردِ تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- اِسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا
[غزل35۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 386]
- یقیں کر پیدا اے ناداں!یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری
[غزل38۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 388]
- عقل عَیّار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلّا نہ زاہد نہ حکیم!
[غزل39۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 389]
- سِتاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے اِمتحاں اور بھی ہیں
[غزل40۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 389]
- اگر کھو گیا اِک نشیمن تو کیا غم
مَقاماتِ آہ و فُغاں اور بھی ہیں
[غزل40۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 390]
- تُو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
[غزل40۔ بالِ جبرئیل۔ حصہ دوم390]
- عشق تری اتنہا، عشق میری انتہا
تُو بھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام
[غزل 41۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 391]
- عِلم کی حد سے پرے، بندۂ مومن کے لیے
لذّتِ شوق بھی ہے، نعمتِ دیدار بھی ہے
[غزل43۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 392]
- نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سِپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے
[غزل48۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 395]
- رِشی کے فاقوں سے ٹُوٹا نہ برہمن کا طِلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
[غزل50۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 396]
- کر بُلبُل و طاؤس کی تقلید سے توبہ
بُلبُل فقط آواز ہے، طاؤس فقط رنگ!
[غزل58۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 401]
- اندازِ بیاں گرچہ بہت شُوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
[قطعہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 403]
- سُن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بَتّر ہے بے یقینی
[رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 406]
- گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے
[رباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 409]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ (رُباعیات)
- جوانوں کو مری آہِ سَحر دے
پھر اِن شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے [رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 411[
- خِرد کی گُتھیاں سُلجھا ہوں
مرے مَولا مجھے صاحبِ جُنُوں کر
[رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 412]
- اگر کوئی شعیب آئے میسّر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
[رُباعیات۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 413]
v بال جبرئیل [1935ء]۔ (منظومات)
- ہے یہی میرا نماز۔ ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کالہو
[نظم: دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 417]
- راہِ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو
[نظم: دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 417]
- فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنّا جسے کہہ نہ سکیں رُوبرو
[نظم: دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 418]
- مردِ خُدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات، موت ہے اِس پر حرام
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 420]
- عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰؐ
عشق خدا کا رسُول، عشق خدا کا کلام
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 421]
- شوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہے
نغمہ ‘اللہ ہُو’ میرے رَگ و پَے میں ہے
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 422]
- ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کُشا، کارساز
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 424]
- نرم دم گفتگو، کرم دم جُستجو
رزم ہو یا بزم، پاک دل و پاک باز
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 426]
- کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں!
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 426]
- نقش ہیں سب ناتمام خُونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر
[نظم: مَسجدِ قُرطُبہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 247]
- مومن کے مقام کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے
[نظم: عبد الرحمن کے ہاتھ کا بویا ہوا کھجور کا درخت۔ بال جبرئیل۔ ص: 430]
- یہ غازی، یہ تیرے پُر اسَرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خُدائی
[نظم: مَسجدِ طارق کی دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 432]
- شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کُشائی
[نظم: مَسجدِ طارق کی دُعا۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 432]
- یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات
[نظم: لینن (خُدا کے حضور میں)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 434]
- یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُر، یہ حکومت
پِیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
[نظم: لینن (خُدا کے حضور میں)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 435]
- ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مُروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات
[نظم: لینن (خُدا کے حضور میں)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 435]
- اُٹھو! مری دُنیا کے غریبوں کو جَگا دو
کاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437]
- جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جَلا دو
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437]
- تہذیبِ نوی کارگہ شیشہ گِراں ہے
آدابِ جُنوں شاعرِ مشرق کو سِکھا دو
[نظم: فرمانِ خُدا (فرشتوں سے)۔ بال جبرئیل۔ ص: 437] عوام کا دیا ہوا خطاب
- آیۂ کائنات کا معنی دیر یاب تُو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440] مستنصر حسین تارڑ کا پہلا سفر نامہ 1971ء
- مَیں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سُراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440]
نوٹ۔ اس شعر سے آتشِ رفتہ کا سُراغ از مشرف عالم ذوقی (ناول) ، سرگشت از سید ذوالفقار علی بخاری (سوانح عمری) ، کھوئے ہوؤں کی جستجو ازشہرت بخاری (سوانح عمری) ماخوذ ہیں
- لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 440]
- شوق ترا گر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
[نظم: ذوق و شوق۔ بال جبرئیل۔ ص: 441]
- حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
[نظم: جاوید کے نام۔ بال جبرئیل۔ ص: 443]
- ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ
[نظم: جاوید کے نام۔ بال جبرئیل۔ ص: 443]
- مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے نہ مانے، میرو سلطاں سب گدا!
[نظم: گَدائی (ماخوذ: انوریؔ)۔ بال جبرئیل۔ ص: 444]
- ترے صوفی ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
[نظم: ایک نوجوان کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 447]
- عُقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوں
[نظم: ایک نوجوان کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 447]
- نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر
تُو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
[نظم: ایک نوجوان کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 448]
- ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام
سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی کا انگبیں
[نظم: نصیحت۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 448]
- جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پِسر!
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں
[نظم: نصیحت۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 448]
- اُٹھا ساقیا پردہ اِس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 451]
- بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 451]
- خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا اُستاد کر
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 452]
- پسند اِس کو تکرار کی خُو نہیں
کہ تُو میں نہیں، اور میں تُو نہیں
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 453]
- خودی کا نشیمن ہے ترے دِل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے
[نظم: ساقی نامہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 456]
- جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
قریب تر ہے نمود جس کی، اُسی کا مشتاق ہے زمانہ[نظم: زمانہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 458]
- کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھ
[نظم: فرشتے آدمؑ کو جنت سے رخصت کرتے ہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 460]
- گر کبھی خلوت میسّر ہو تو پوچھ اللہ سے
قِصۂ آدمؑ کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
[نظم: جبرئیل و ابلیس۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 474]
- میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو
[نظم: جبرئیل و ابلیس۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 451]
- دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
[نظم: جاوید کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 477]
- مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
[نظم: جاوید کے نام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 477]
- جاتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
[نظم: فلسفہ و مذہب۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 478]
- محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
[نظم: خوشحال خاں کی وصیت۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 484]
- پرواز ہے دونوں کی اِسی ایک فضا میں
کَرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
[نظم: حال و مقام۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 486]
- تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
[نظم: ابو العلا معریؔ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 487]
- کیا میں نے اُس خاکداں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
[نظم: شاہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 495]
- جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
[نظم: شاہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 495]
- پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں ہوں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
[نظم: شاہیں۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 495]
- میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تَصرّف میں عقابوں کے نشیمن
[نظم: باغی مرید۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 496]
- خود بخود گرنے کو ہے پکے ہُوئے پھل کی طرح
دیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ!
[نظم: یورپ (ماخوذ: نطشے)۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 497]
- زہراب ہے اُس قوم کے حق میں مئے افرنگ
جس قوم کے بچے نہیں خوددار و ہُنر مند
[نظم: قطعہ۔ بالِ جبرئیل۔ ص: 500]
v ضربِ کلیم [1936ء سرورق کلمات: (افکارِ تازہ: اعلانِ جنگ: دورِ حاضر کے خلاف]۔
جُز اول: اسلام اور مسلمان۔ (منظومات+غزلیات)
- زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی
[نظم: تمہید۔ ضرب کلیم۔ ص: 523]
- وہ سَحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
[نظم: صُبح۔ ضرب کلیم۔ ص: 526]
- یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا اِلٰہ اِلّا اللہ
[نظم: لا اِلٰہ اللہ۔ ضرب کلیم۔ ص: 527]
- خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
[نظم: اجتہاد۔ ضرب کلیم۔ ص: 534]
- قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اِس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام
[نظم: توحید۔ ضرب کلیم۔ ص: 537]
- زندگانی ہے صدف، قطرۂ نیساں ہے زندگی
وہ صَدف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے
[نظم: حیاتِ ابدی۔ ضرب کلیم۔ ص: 543]
- مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزا
د! [نظم: ہندیِ اسلام۔ ضرب کلیم۔ ص: 548]
- یہ ایک سجدہ جسے تو گِراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
[نظم: نماز۔ ضرب کلیم۔ ص: 550]
- وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رَگ و پَے میں فقط مستیِ کردار
[نظم: مستیِ کردار۔ ضرب کلیم۔ ص: 553]
- کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اِس میں ہیں آفاق
[نظم: کافرو مومن۔ ضرب کلیم۔ ص: 557]
- ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
[نظم: مومن (دُنیا میں)۔ ضرب کلیم۔ ص: 558]
- محکوم کے اِلہام سے اللہ بچائے
غارت گرِ اقوام ہے وہ صُورتِ چنگیز
[نظم: الہام اور آزادی۔ ضرب کلیم۔ ص: 567]
- ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گُفتار میں، کِردار میں، اللہ کی بُرہان
[نظم: مردِ مسلماں۔ ضرب کلیم۔ ص: 573]
- قہاری و غفّاری و قُدّوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
[نظم: مردِ مسلماں۔ ضرب کلیم۔ ص: 573]
- یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے۔ حقیقت میں ہے قُرآن
[نظم: مردِ مسلماں۔ ضرب کلیم۔ ص: 573]
- ہے مملکتِ ہند میں اک طُرفہ تماشا
اِسلام ہے محبوس، مسلمان ہے آزاد!
[نظم: آزادی۔ ضرب کلیم۔ ص: 575]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ دوم: تعلیم و تربیت۔ (منظومات+غزلیات)
- ڈھونڈے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکا
[نظم: زمانۂ حاضر کا انسان۔ ضرب کلیم۔ ص: 583]
- اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صُورتِ فولاد
[نظم: اسَرارِ پیدا۔ ضرب کلیم۔ ص: 585]
- شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا
پُر دم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد
[نظم: اسَرارِ پیدا۔ ضرب کلیم۔ ص: 586]
- محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صُورت گری و علمِ نباتات!
[نظم: ہندی مکتب۔ ضرب کلیم۔ ص: 592]
- پختہ افکار کہاں ڈھونڈے جائے کوئی
اِس زمانے کی ہوا رکھی ہے ہر چیز کو خام
[نظم: عصرِ حاضر۔ ضرب کلیم۔ ص: 594]
- مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
[نظم: عصرِ حاضر۔ ضرب کلیم۔ ص: 594]
- خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
[نظم: طالبِ علم۔ ضرب کلیم۔ ص: 595]
- کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کُہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پَیرو!
[نظم: اسَاتِذہ۔ ضرب کلیم۔ ص: 598]
- فطرت افراد سے اِغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں مِلّت کے گناہوں کو معاف
[نظم: دین و تعلیم۔ ضرب کلیم۔ ص: 599]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ سوم: عورت۔ (منظومات)
- وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اِسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دَرُوں
[نظم: عورت۔ ضرب کلیم۔ ص: 606]
- جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اُس علم کو اربابِ نظر موت
[نظم: عورت اور تعلیم۔ ضرب کلیم۔ ص: 608]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ چہارم: ادبیات، فنونِ لطیفہ۔ (منظومات)
- وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نَفَس سے کرے عُمرِ جاوداں پیدا
[نظم: تخلیق۔ ضرب کلیم۔ ص: 613]
- مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذر کر
فِطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سَحر کر
[غزل 3۔ ضرب کلیم۔ ص: 620]
- نگاہ شوق میسّر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی رُسوائی
[نظم: نگاہِ شوق۔ ضرب کلیم۔ ص: 623]
- فطرت کو دکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تُو نے
آئینۂ فطرت میں، دکھا اپنی خودی بھی
[نظم: مُصوّر۔ ضرب کلیم۔ ص: 636]
- ہر لحظہ نیا طُور، نئی برق تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے!
[نظم: شاعر۔ ضرب کلیم۔ ص: 639]
- ہند کے شاعر و صورت گرو افسانہ نویس
آہ، بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار!
[نظم: ہُنروارانِ ہند۔ ضرب کلیم۔ ص: 640]
- بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتا
روشن شر رِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!
[نظم: ایجادِ معانی۔ ضرب کلیم۔ ص: 643]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ پنجم: سیاسیاتِ مشرق و مغرب۔ (منظومات)
- قرآں میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار
[نظم: اِشتراکیت۔ ضرب کلیم۔ ص: 648]
- وہ قوم نہیں لائقِ ہنگامۂ فردا
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے!
[نظم: آج اور کل۔ ضرب کلیم۔ ص: 653]
- خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی
پختہ ہو جاتے ہیں جب خُوئے غلامی میں غلام
[نظم: خواجگی۔ ضرب کلیم۔ ص: 655]
- وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اِس کے بدن سے نکال دو
[نظم: اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام۔ ضرب کلیم۔ ص: 658]
- جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
[نظم: جمہوریت۔ ضرب کلیم۔ ص: 661]
- تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر
[نظم: نصیحت۔ ضرب کلیم۔ ص: 666]
- ہزار کام ہیں مردانِ حُر کو دُنیا میں
انھی کے ذوقِ عمل سے ہیں اُمتوں کے نظام
[نظم: غلاموں کی نماز۔ ضرب کلیم۔ ص: 670]
v ضربِ کلیم [1936ء]۔ جُز۔ ششم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ (20 نظمیں)
تعارف: محراب گل ایک افغانی کا نام ہے۔ یہ ناول اور افسانہ کے کرداروں کی طرح ایک فرضی کردار کا نام ہے۔ جس کے ذریعے علامہ نے پٹھانوں (افغانوں) کی خودی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر سرحد کے غیور افغان اپنی خودی کو پہچان کر اٹھ کھڑے ہوں تو برصغیر کو انگریزوں سے آزاد کرانا آسان ہو گا اس عنوان کے تحت اقبال نے بیس نظمیں لکھی ہیں۔
- تری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے
[نظم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ ضرب کلیم۔ ص: 676]
- تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی لاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین و ایمان
[نظم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ ضرب کلیم۔ ص: 681]
- فِطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی
[نظم: محراب گلِ افغان کے افکار۔ ضرب کلیم۔ ص: 691]
- کون کر سکتا ہے اِس کے آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 702]
- اِس میں کیا شک ہے کہ مُحکم ہے یہ اِبلیسی نظام
پُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 702]
- ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نِگر
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 704]
- تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 704]
- کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشُفتہ مغز، آشُفتہ مُو
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 709]
- ہے اگر مجھ کو خطر تو اُس اُمت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 70۹]
- جانتا ہوں میں یہ اُمت حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 70۹]
- مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اِسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اِسے
[نظم: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 712]
- غیرت بڑی چیز ہے جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
[نظم: بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
- افراد کے ہاتھوں میں ہے عوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارا
[نظم: بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
- یہ علم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ ملوکانہ کی ایجاد
[نظم: دوزخی کی مناجات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 722]
- حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگر کانٹے میں ہو خُوئے حریری
[رباعیات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 733]
v ضربِ کلیم [1938ء]۔ تین حصے:
([نظمیات+رُباعیات+ مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض]۔ حصہ اول: [منظومات])
- یہ عناصر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 701]
- کون کر سکتا ہے اُس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 702]
- اِس میں کیا شک ہے کہ مُحکم ہے یہ ابلیسی نظام
پُختہ تر اِس سے ہوئے خُوئے غلامیں عوام
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 702]
- یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 703]
- ہے طوائف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہو کر عہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 703]
- ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 704]
- تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 704]
- اِس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 705]
- ہے مرے دستِ تصّرف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسماں تُو بتُو
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 708]
- کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اِشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مُو
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 708]
- جانتا ہوں یہ اُمتِ حاملِ قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 709]
- مست رکھو ذکر و فکر و صبحگاہی میں اِسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اِسے
[نظم: ابلیس کی مجلس شوریٰ (1936ء)۔ ص: 712]
- غیرت ہے بڑی چیز جہانِ گت و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
[نظم: بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
- افراد کے ہاتھوں میں قوم کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارا
[نظم: بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 713]
v ضربِ کلیم [1938ء]۔ حصہ دوم: [رُباعیات]
- حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری
[رُباعیات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 733]
- ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
[رُباعیات۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 733]
v ارمغانِ حجاز (حصہ اُردو) [1938ء]۔ حصہ اول: [ مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض]
- آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
[مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 739]
- آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟
[مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 739]
- نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری[
مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 741]
- نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صُبح و شام بدلتی ہیں اِن کی تقدیریں
[ مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 747]
- خودآگاہی نے سِکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی
حرام آئی ہے اُس مردِ مجاہد پر زِرہ پوشی
[مُلا زادہ ضیغم لولائی کشمیری کی بیاض۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 751]
v ارمغانِ حجاز (حصہ اُردو) [1938ء]۔ متفرق منظومات
- یہ دُنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو
کہ ہر مَستُور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی
[نظم: حضرتِ انساں۔ ارمغانِ حجاز۔ ص: 755]
اہم معروضی سوالات مع جوابات
(LECTURER, SSS, SS, SSE, SESE, NTS, GAT etc)
o علامہ کے کس شعری مجموعہ میں امریکی اور برطانوی شعرا کی نظمیات کے تراجم ملتے ہیں؟ [بانگِ درا]
o علامہ نے کن مغربی شعرا کی نظمیات کو اُردو کے قالب میں ڈھال کر امر کر دیا؟ [ایمرسن، براؤنگ، ٹینی سن، سمویل راجرز، لانگ فیلو، ولیم کوپر]
o علامہ کے پہلے اُردو شعری مجموعے کی ابتدائیہ طویل نظم کون سی ہے؟ [تصویرِ درد۔ آٹھ بند]
o علامہ نے مسجدِ قرطبہ کے نماز کے بعد کون سی نظم بطور مناجات پڑھی تھی؟ [دُعا]
o عطیہ بیگم سے علامہ کا پہلا تعارف سفرِ حیدر آباد میں کس نے کروایا تھا؟ [سر اکبر حیدری]
o علامہ کی نماز جنازہ دو دفعہ پڑھائی گئی۔
o علامہ نے "بانگِ درا” میں کن دو عظیم شعرا کا ذکر مرثیہ ہیئت میں کیا ہے؟ [مرزا غالب+داغ دہلوی]
o ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم نے "فکرِ اقبال” میں علامہ کی کس نظم کو "اشتراکیت کا ترانہ” قرار دیا ہے؟ [فرشتوں سے فرمانِ خدا]
o علامہ نے اپنے شعری مجموعے "بالِ جبرئیل” میں ایک ہندو شاعر کا ذکر کیا ہے۔ نام بتائیے۔ [سوامی رام تیرتھ]
o علامہ نے "جاوید نامہ” میں سیرِ سلوک یعنی سفرِ افلاک کے لیے کس عظیم روحانی شخصیت کو اپنا راہنما بنایا ہے؟ [مولانا جلال الدین رومی]
o علامہ کی پہلی نظم "ہمالہ” ماہنامہ "مخزن” لاہور 1901ء میں چھپی۔ یہ بتائیے کہ علامہ کی پہلی غزل کب اور کس رسالے میں چھپی؟ [ماہنامہ "زبان” دہلی۔ 1893ء]
o 1933ء میں شاہ افغانستان یعنی نادر شاہ کی دعوت پر علامہ نے افغانستان میں مغل بادشاہ "ظہیر الدین بابر” کے علاوہ کس مشہور حکیم فلسفی کے مزار پر حاضری دی؟ [حکیم سنائی]
o اٹلی کے فلسفی مسولینی سے علامہ کی ملاقات ملک "روم” میں ہوئی۔ یہ بتائیے کہ ان دونوں فلسفیوں میں کس موضوع پر گفتگو ہوئی [اشتراکیت اور فاشزم]
o علامہ کے اُردو شعری مجموعے "بانگِ درا” میں ایک فارسی نظم بھی شامل ہے۔ نام بتائیے۔ [شمع اور شاعر۔ تحریر: فروری 1912ء]
o علامہ نے معاشیات پر اُردو میں پہلی کتاب "علم الاقتصاد” علامہ شبلی نعمانی کی راہنمائی میں کس اُستاد کی تحریک پر تالیف کی تھی؟ [پروفیسر آرنلڈ]
o نواب بھوپال نے علامہ کے لیے کتنا وظفیہ مقرر کیا تاکہ علامہ شاعری کرتے رہیں اور روزگار سے بے فکر ہو جائیں۔ [پانچ سو روپے]
o علامہ نے افغان قوم کے ترجمان یعنی خوشحال خان خٹک کے لیے کون سی نظم لکھ کر ان کے افکار کی ترجمانی کی تھی؟ [محراب گل خاں]
o بانگِ درا کی ابتدائی طویل نظم "تصویر درد” کو انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں سُن کر خوشی سے بطور انعام کس شخصیت نے علامہ کو دس روپے دیئے تھے؟ [مولانا حالیؔ]
o علامہ نے "بانگِ درا” میں اپنے ایک انگریز اُستاد کی یاد میں نظم "نالہ فراق” لکھی تھی۔ نام بتائیے۔ [پروفیسر آرنلڈ]
o علامہ کی انگریز خاتون اُستاد این میری شمل نے کن شعری مجموعوں کو جرمن زبان میں ترجمہ کیا؟ [جاوید نامہ+بال جبرئیل+پیام مشرق]
o پروفیسر نکلسن نے علامہ کی کس فارسی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا؟ [اسرارِ خودی۔ The Secret of the Self]
٭٭٭
کتابیات
(علامہ اقبال کی سوانحِ حیات اور تصانیف کا معروضی جائزہ لینے کے لیے ذیل میں دی گئی کُتب سے استفادہ کیا گیا ہے۔)
v غلام دستگیر (مرتب) ، سید عبد الرزاق آثارِ اقبال،، دکن، 1946
v جاوید اقبال، جسٹس، اپنا گریبان چاک، اقبال اکادمی، لاہور، 2006ء
v محمد باقر، ڈاکٹر، احوال و آثارِ اقبال، بزمِ اقبال، لاہور، 1988ء
v عطیہ بیگم، اقبال، مترجم، ضیا الدین، اقبال اکادمی، کراچی، 1956ء
v حسن ملک، ڈاکٹر، اقبال: ایک تحقیقی مطالعہ، یونیورسل بک، لاہور، 1988ء
v رفیع الدین ہاشمی، اقبال: شخصیت و فن، اقبال اکادمی، لاہور، 1994
v رفیع الدین ہاشمی، تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ، اقبال اکادمی لاہور، 1982ء
v خالد نظیر صوفی، اقبالِ درونِ خانہ، بزم اقبال، لاہور، 1971ء
v حمید احمد خان، پروفیسر، اقبال کی شخصیت اور شاعری، بزم اقبال، لاہور، 1983ء
v عاشق حسین بٹالوی، اقبال کے آخری دو سال، اقبال اکادمی، کراچی، 1961ء
v نذیر نیازی، سید، اقبال کے حضور، اقبال اکادمی، لاہور، 2000ء
v غلام رسول مہر، اقبالیات، مہر سنز، لاہور، 1988ء
v محمد عثمان، پروفیسر، حیات اقبال کا ایک جذباتی دور، مکتبہ جدید لاہور، 1975ء
v عبد المجید سالک، ذکرِ اقبال، بزم اقبال، لاہور، 1955ء
v جاوید اقبال، زندہ رُود، سنگِ میل، لاہور، 2004ء
v عبد السلام خورشید، ڈاکٹر، سرگذشتِ اقبال، اقبال اکادمی، لاہور، 1977ء
v سلیم اختر، ڈاکٹر، علامہ اقبال: حیات، فکر و فن، سنگ میل، لاہور، 2003ء
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں