اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


نو طرزِ مرصّع ۔۔۔ عطا خاں تحسین

اردو محفل ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

نو طرزِ مرصّع

قصہ چہار درویش کا ایک اردو روپ

عطا خاں تحسین

1846ء کی مطبوعہ کتاب جسے ریختہ کی ای بکس سے گُلِ یاسمین نے ٹائپ کیا

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

ابتدائیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نظم:

کہاں تاب و طاقت کہ میری زبان

کرے حق تعالیٰ کی قدرت بیان

وہ صنعت ہے اس کی زمین تا فلک

کہ حیرت میں ہیں جملہ جن و ملک

زبان مو بمو ہو اگر تن میرا

سر مو نہ ہو حمد اس کی ادا

مگر اس گدا کی یہی ہے صدا

میں ہوں اس کا بندہ وہ میرا خدا

پھر اس کے سوا اور جو ہے کلام

نبیؐ و علیؓ پر درود و سلام:

پوشیدہ نہ رہے کہ سوائے تذکرہ الٰہی سب گفتگو واہی ہے مگر حکایات عشق انگیز اور روایات درد آمیز رسیدگان عالم امکان کو نیرنگی روزگار سے گوش گزار اور صنائع بدائع قادر برحق سے خبردار کرتے ہیں اس لئے اس خاک پائے درویشان حق بین محمدؐ عوض زریں نے قصہ چار درویش زبان فارسی میں ترتیب دیا اور عبارت شگفتہ سے گلدستہ مجالس کیا۔ … مزید پڑھیے

نثرِ بے نظیر ۔۔۔ میر بہادر علی حسینی

مجلسِ ادبیات عالیہ کی پیشکش

نثرِ بے نظیر

از قلم

میر بہادر علی حسینی

ڈاؤن لوڈ کریں 

 

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

حمد و نعت میں

قلم سے لکھوں پہلے نام خدا

وہ کیا ہے کہ ہو یہ کہانی تمام

کہ حاصل ہو دل کا مرے مدعا

بحقِ نبی سرورِ خاص و عام

حمد کی زیبائش لائق ہے ایسے خالق کو جس نے مجرد و مادی پیدا کیے۔ ادراک و حواس جو ان میں قابل تھے، ان کو دیے۔ انسان کو ان میں شریف تر بنایا، حسن و عشق اس کو عطا فرمایا۔ کون پا سکے اس کی صنعت کے راز، ان کو آپ ہی جانتا ہے وہ بے نیاز۔ رحمت کاملہ کی آرائش سزاوار اس نبی کے ہے، قرآن سا معجزہ جس کے لیے بھیجا اور قصہ ہر ایک پیغمبر کا اس میں بیان کیا۔ بشر کی تاب کیا جو اس کے مقطعات کے اشاروں کو سمجھے یا مرکبات کے معانی کی تہوں کو پاوے۔ تحفہ سلام کا قابل اس کے آل و اصحاب کے ہے جن کا رتبہ عرش سے اعلیٰ ہے اور علم فرشتوں سے بھی بڑا ؎

سراہا ہے حق نے انھیں بارہا… مزید پڑھیے

قصۂ گرو چیلہ ۔۔۔ ترتیب و تعارف: عبد الرشید

نا معلوم مصنف کی تحریر کردہ داستان جو ۱۸۴۵ء میں شائع ہوئی تھی

قصۂ گرو چیلہ

مرتبہ، ترتیب و تعارف

عبد الرشید

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل 

کنڈل فائل 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

 

قصۂ گرو چیلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

واقفانِ تواریخ قدیم اس قصۂ عجیب و غریب کو کتاب کلیلہ دمنہ سے انتخاب کر کے واسطے سمجھانے نا واقفوں زمانۂ حال کے بزبانِ اردو تختۂ قرطاس پر اس طرح لکھ گئے ہیں۔

قصہ گرو اور چیلے کا

کلیلہ نے کہا، یوں سنتے ہیں کہ ایک گرو کو کسی پادشاہ نے بہت بھاری خلعت دیا۔ جب اس کا چرچا شہر میں ہوا، ایک اٹھائی گیرے نے بھی خبر پائی، اس کا دل للچایا اور اس خلعت پر ایمان ڈگمگایا۔ رات برات چوری کے لیے کنَوٹھے پاس آتا، جاگنے کی آہٹ پا کے دبے پاؤں ہٹ جاتا۔ گرو جی تو جاپ تاپ میں ساری رات کاٹتے تھے، پر چور یہی جانتا تھا۔ بیت:

نہ ریاضت کو جاگتا ہے شیخ

ہے ڈرے چور آن مارے میخ [سودا] (۱)

دیکھو چوری اور سر زوری، دھِرا دھِرا جاتا تھا۔ بیت:

ہو گی کب تک چچا خبرداری

چور جاتے رہے کہ اندھیاری [سودا] (۲)

گرو جی یہ رات کی … مزید پڑھیے

محاکمۂ مرکزِ اردو ۔۔۔ سید احمد دہلوی

ادبیات عالیہ کی ذیل میں ایک اہم کتاب

محاکمۂ مرکزِ اردو

از قلم

سید احمد دہلوی

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

اقتباس

 

مرکز اردو کا محاکمہ بدیں ثبوت کہ ہر زبان کا مرکز اس کی جائے پیدا‌‌‎ئش ہے۔ قطعہ ؎

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل

ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

مرکز میں آ پڑی ہے مگر فلسفانہ بحث

مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے

جس طرح مرکز دائرہ کا وہ وسطی نقطہ ہے کہ اس سے محیط تک جس قدر خط کھینچیں وہ سب آپس میں برابر ہوں، اسی طرح زبان کا مرکز بھی وہ مقام ہے جہاں کسی زبان کے ایجاد یا پیدا ہونے کا مہر جہاں تاب طلوع ہوا ہو اور اس سورج کی کرنیں وہاں سے چاروں طرف پھیلی تو ہوں مگر قرب مرکز اور بعد مرکز میں وہی فرق ہو جو ہر ایک چیز کے قرب مخرج اور بعد مسافت میں ہوا کرتا ہے۔

پس اس سے ثابت ہے کہ ان کرنوں کی روشنی مقامات قریبہ میں بعیدہ کی نسبت زیادہ اثر کرے گی، یعنی جو اثر مرکز کے قریب ہو گا وہ بعید میں نہیں ہو … مزید پڑھیے

مذہبِ عشق عرف گلِ بکاؤلی

مجلس ادبیاتِ عالیہ کی پیشکش، قدیم داستانی ادب میں ایک اہم تصنیف

مذہبِ عشق معروف بہ گلِ بکاؤلی

از قلم

منشی نہال چند لاہوری

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

آغاز داستان

کہتے ہیں کہ پورب کے شہزادوں میں کسی شہر کا بادشاہ زین الملوک نام، جمال اس کا جیسے ماہِ منیر، عدل و انصاف اور شجاعت و سخاوت میں بے نظیر۔ اس کے چار بیٹے تھے۔ ہر ایک علم و فضل میں علامہ زمان اور جوانمردی میں رستم دوراں۔ خدا کی قدرت کاملہ سے اور ایک بیٹا آفتاب کی طرح جہاں کا روشن کرنے والا اور چودھویں رات کے چاند کی طرح دنیا کے اندھیرے دور کرنے والا پیدا ہوا۔

قمر اس کی جبین سے داغ کھائے

مہ نو پیش ابرو سر جھکائے

اگر چین جبین اس کی بنائے

مصور چین کا چیں بول جائے

بلا انگیز دو آنکھیں جادو آمیز

مئے گلرنگ سے دو جام لبریز

کبھی دیکھی تھی اس گلرو کی کاکل

پریشان آج تک ہے حال سنبل

جہاں مجروح ہو تیغ نظر سے

پلک سے پار ہو خنجر جگر سے

وہ مکھڑا مہر اگر دیکھے تو تھرّائے

قمر کے چہرے کا بھی رنگ اڑ جائے

عجب … مزید پڑھیے

ایڈیٹر کا حشر

مجلس ادبیات عالیہ اردو محفل کی پیشکش

ایڈیٹر کا حشر

ایک دلچسپ ڈرامہ از قلم

ظفر علی خاں

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

پہلا ایکٹ

(سین: لاہور میں ایک سجی ہوئی انگریزی وضع کی کوٹھی۔

وقت شام کے ساڑھے سات بجے۔)

نازلی بیگم (مسٹر عبد الواحد بیرسٹر کی ناز آفریں بیٹی جو اپنے بلند خیال باپ کی تہذیب پرستی کے تصدق میں انگلستان سے تعلیم کا پنج سالہ زمانہ ختم کر کے حال ہی میں وطن کو لوٹی ہے۔ لیمپ کی شعاعیں گلابی ساٹن کے فانوس میں سے چھن چھن کر دو چٹھیوں پر پڑ رہی ہیں جو اُس کے سامنے ایک تپائی پر رکھی ہیں اور وہ خود ایک پر تکلف کوچ پر بیٹھی ہوئی اپنے جی سے باتیں کر رہی ہے):

ایک دن میں دو پیغام! کسے قبول کروں اور کسے رد کروں۔ جس طرح اسلام نے مردوں کو چار چار بیبیاں کر لینے کی اجازت دی ہے کاش عورتوں کو اس سے آدھا ہی حق دیا ہوتا تاکہ میں ایک وقت میں ان دونوں کے ساتھ عقد کر سکتی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ میری گرویدگی پر حق رکھتے ہیں۔ ایک دولت مند اور ذی وجاہت ہے، … مزید پڑھیے

لکھنؤ کا عہدِ شاہی

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

لکھنؤ کا عہدِ شاہی

مجلس ادبیات عالیہ واٹس ایپ گروپ کا کارنامہ

عبد الروؤف عشرت لکھنوی

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

نصیر الدین غازی حیدر

شاہی محل کی عالیشان عمارت کے وسط میں صدر مقام پر ایک نفیس بارہ دری بنی ہوئی اور شیشہ آلات سے سجی ہوئی ہے۔ نفیس نفیس جھاڑ، نازک نازک دیوار گیریاں، قلمی تصویریں، خوشخط قطعے لگے ہیں۔ کمروں میں تمام کا فرش بچھا ہے۔ سنہری، روپہلی چلمنیں، زربفت کے پردے پڑے ہیں۔ بارہ دری کے سامنے پُر فضا چمن لگا ہے۔ سنگ مرمر کی نہریں جن میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ شہ نشین میں صدر مقام پر کارچوبی گاؤ تکیے لگائے ہوئے حضرت شاہ نصیر الدین حیدر بادشاہ غازی جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے پہلو میں بڑے تُزک و احتشام سے نواب ملکہ زمانیہ بیٹھی ہیں۔ گردا گرد خواصیں ماہتاب کے ہالے کی طرح، اردلی کی خواص چنور اور مورچھل جھل رہی ہے۔ ڈومنیاں مع سازندہ عورتوں کے بھاؤ بتا بتا کر سریلے سُروں میں گا رہی ہیں۔ کوئی چیخ کر بات نہیں کر سکتا۔ نظر سے نظر ملانے کا حکم نہیں ہے۔ کسی کو … مزید پڑھیے

نو طرزِ مرصع

ادبیات عالیہ کی ایک اور پیشکش

نو طرزِ مرصّع

اردو محفل کے اراکین مجلس ادبیات عالیہ کی طرف سے تحفہ

محمد حسین عطا خان تحسینؔ

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

دیباچہ

اوپر دانشوران شیریں سخن بزم درایت و رزانت کے اور عاقلان صاحب طبع انجمن بلاغت و متانت کے مخفی و پوشیدہ نہ رہے کہ یہ عاجز ترین خلق اللہ میر محمد حسین عطا خاں متخلص بہ تحسینؔ مخاطب بہ خطاب‘‘مرصع رقم‘‘ بعد رحمت والد بزرگوار حضرت میر محمد باقر خاں صاحب متخلص بہ شوقؔ کے کہ تمام ممالک ہندوستان میں نزدیک ارباب کمال کے کمالات دینی و دنیوی سے شہرہ آفاق تھے اور واقعی یوں ہے کہ بیچ میدان تشریح و توصیف ذات اس مفرد کائنات کے نسریں ہلال آہوئے قلم کا، اوپر صفحۂ گلشنِ افلاکِ چراگاہِ سفیدۂ کاغذ کے جلوہ نمائش کا پا کر نافہ ریز بہار عرصہ تحریر کا نہیں ہو سکتا۔ اگر ذات فائض البرکات ان کے تئیں طغرا منشور فراست عالی یا عنوان مثال بے مثالی کا کہوں، بجا ہے۔ ایزد تعالیٰ غریق رحمت کا کرے۔ برکت صحبت، فیض موہبت، سر حلقۂ سخن طرازانِ دقائق فصاحت و قابلیت، سر دفتر نکتہ پردازانِ حقائق … مزید پڑھیے

حیات ماہ لقا

اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ کی سوانح

حیاتِ ماہ لقا

سلطنت دکن کی ایک جھلک

غلام صمدانی خان گوہر

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…….

تمہید

ماہ لقا بائی کے نام سے کون واقف نہیں ہے اور چندا جی کا نام کون ہے جو سنا نہیں۔ اس کو انتقال کیے ابھی سو برس بھی پورے نہیں ہوئے، جس کا مقبرۂ عالیشان اور سرا کوہ شریف کے پائیں میں واقع ہیں، جہاں ہر سال عرس شریف کے موقع پر ہزاروں تماش بین اور زائرین فروکش ہوتے ہیں، جس کو حیدرآباد دکن کا ہر امیر فقیر اور برنا و پیر جانتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ ماہ لقا بائی لطیفہ گوئی، بذلہ سنجی، شاعری، مروت، اخلاق، فیاضی، دولت و ثروت، حکومت میں اپنے زمانہ میں یکتائے روزگار مانی جاتی تھیں۔ بارہ کم سو برس ۸۸ کے پیشتر ہزاروں اشخاص بلکہ لاکھوں مہ لقا بائی کے جمال جہاں آرا کے مشتاق اور اس کی نظر عنایت کے امیدوار رہتے تھے۔ افسوس ہے کہ اب وہ ماہ لقا بائی موجود ہے اور نہ اس کے چاہنے والوں کا وجود باقی ہے۔ امتداد زمانہ نے … مزید پڑھیے

جوہرِ اخلاق

مجلسِ ادبیات عالیہ کی پیشکش

جوہرِ اخلاق

فورٹ ولیم کالج کے دور کی ایک درسی کتاب

جیمز فرانسس کارکرن

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

گیارھویں نقل

کسی گاؤں کے چوہے نے اپنے ایک شہری بھائی کی دعوت کی۔ گاؤں میں جو کچھ میسر ہوا جیسا کہ باسی روٹی کے سوکھے ٹکڑے اور پنیر کی کترن، اس نے حاضر کی۔ دونوں دسترخوان پر بیٹھے اور کھانے لگے۔ شہری چوہے کو اور ہی مزا پڑا ہوا تھا، اس طرح کی غذا اس نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ ہر چند اس سے جی اس کا گھبرایا، مگر مارے لحاظ کے کچھ نہ کہا۔ غرض طعنے مانے میں اس نے کہا کہ ایسی سنسان جگہ میں رہنا اور اس طرح کی خوراک کھانا آپ کی شان سے باہر ہے۔

جب رخصت ہوا تو بدلا اُتارنے کو شہری چوہے نے ایک روز دہقانی بھائی کی دعوت کی اور اپنے ساتھ اُسے شہر کے ایک عالی شان مکان میں لے گیا۔ وہاں پہنچ کر شہری چوہے نے نعمت خانے میں اسے لے جا کر ایک سے ایک نعمت دکھلائی۔ بعد اس کے دالان میں جا کے میز پر کیا دیکھتے ہیں … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید