اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ اب اردو ویب انتظامیہ کی کوششیں کامیاب ہو گئی ہیں اور لائبریری فعال ہو گئی ہے۔ اب دونوں ویب گاہوں کا فارمیٹ یکساں رہے گا، یعنی مکمل کتب، جیسا کہ بزم اردو لائبریری میں پوسٹ کی جاتی تھیں، اب نہیں کی جائیں گی، اور صرف کچھ متن نمونے کے طور پر شامل ہو گا۔ کتابیں دونوں ویب گاہوں پر انہیں تینوں شکلوں میں ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب کی جائیں گی ۔۔۔ ورڈ (زپ فائل کی صورت)، ای پب اور کنڈل فائلوں کے روپ میں۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


بے نام سی زندگی ۔۔۔ خدیجہ مغل

ایک نو آمیز ادیبہ کی کاوش

بے نام سی زندگی

از قلم

خدیجہ مغل

جمع و ترتیب : اعجاز عبید اور محمد عظیم الدین

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل 

ٹیکسٹ فائل

مکمل کتاب پڑھیں……

بے نام سی زندگی

(ناول)

خدیجہ مغل

جمع و ترتیب: اعجاز عبید، محمد عظیم الدین

کمرے میں ہر سو اندھیرا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولنے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کوٹھری میں ہو۔ وہ اپنے آپ کو کسی گہری کھائی میں جاتا محسوس کر رہا تھا۔ اسے اپنے جسم میں بے حد درد محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے دائیں بائیں دیکھنے کی بہت کوشش کی لیکن اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اور ایک بار پھر اس نے پوری کوشش کر کے آنکھیں کھولیں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کہاں ہے؟ اس نے کروٹ بدلنی چاہی لیکن زبردست چکر نے اسے کروٹ بدلنے نہ دیا مجبوراً وہ سیدھا ہی لیٹا رہا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اسے بہت شدید قسم کے چکر آ رہے تھے۔ وہ کیا کرتا؟ جانے وہ کب تک ایسے ہی لیٹا رہا جب … مزید پڑھیے

اب گواہی دو ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

‘کتاب’ اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

اب گواہی دو

از قلم

سمیرا گُل ع‍ثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

اب گواہی دو

روشن رو پہلی معطر سی صبح کا آغاز ہو چکا تھا وہ بھی دروازے کی ٹھک ٹھک اور دھم دھم کرتے میوزک کے بغیر ہی، کہ یہ کھلی کھلی سی سحر رعنائیوں بھری شب کا آغاز تھا اس نے اپنا آنچل اٹھا کر اوڑھا تو کلائیوں میں کھنکتی چوڑیاں بج اٹھیں، شہریار کو بیڈ ٹی کی عادت تھی اور اس کے آنے سے قبل وہ یہ کام خود سرانجام دیتا تھا ان کے گھر کی مانند یہاں بھی کل وقتی ملازمہ کی کمی تھی جو دو تین تھیں وہ بھی اپنے ٹائم پر آتیں اور کام نمٹا کر چلی جاتی تھیں اور جو آج کل میرج ہال میں شادی کا رواج تھا تو قریبی احباب بھی وہیں سے اپنے اپنے گھروں کو سدھار جاتے تھے اور جس طرح شہریار نے اس کے حضور درخواست پیش کی تھی۔
’’اگر زحمت نہ ہو تو ایک کپ چائے مل سکتی ہے۔‘‘ وہ شرمگیں مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی … مزید پڑھیے

کبھی عشق کبھی جفا ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

"کتاب” اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

کبھی عشق کبھی جفا

از قلم

سمیرا گُل ع‍ثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

کبھی عشق کبھی جفا

’’سوری حریم میں تم سے محبت نہیں کرتا ہمارے درمیان جو بھی ہوا جسٹ ایک فلرٹ تھا تم اسے وقت گزاری یا پھر ٹائم پاس بھی کہہ سکتی ہو اور تم اس لسٹ میں کس نمبر پر تھی یہ میں بھی نہیں جانتا۔‘‘ کلائی کی رگ کاٹتے ہوئے اسے اتنا درد نہیں ہوا تھا جتنی اذیت ان چند جملوں پر ہو رہی تھی۔
’’ٹائم پاس، وقت گزاری، فلرٹ۔‘‘ اسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اوپر کہکشاؤں پرلے جا کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو وہ جیسے خلا میں معلق تھی جہاں ہوا کا وجود ناگزیر تھا وہ بمشکل سانس کھینچ رہی تھی۔
اس کا دم گھٹ رہا تھا اور حواس تاریکیوں میں ڈوب گئے تھے، کبھی کسی نے تاریکیوں میں اجالے دیکھے ہیں، مگر وہ دیکھ رہی تھی، لیکن وہ اجالا تو نہیں تھا اجالا تو روشنی ہے اور روشنی تو امید ہوتی ہے یہ آگ تھی، جو شمال کے کنارے سے زمین کی سمت لپک رہی تھی، … مزید پڑھیے

اک آرزو ہے تمہاری ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

"کتاب” اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

اک آرزو ہے تمہاری

از قلم

سمیرا گُل ع‍ثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

اک آرزو ہے تمہاری

آج چودھویں کی شب تھی، چاند کا حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، سیاہ اندھیری رات کا ہر منظر آج چاندنی میں بھیگا ہوا تھا، وہ اپنے بیڈ روم کی کھڑکی سے ٹیک لگائے بڑی محویت سے ٹکٹکی باندھے بظاہر چاند کو دیکھے جا رہی تھی لیکن در حقیقت وہ چاند میں اپنے محبوب کا جھلملاتا عکس ڈھونڈ رہی تھی، ہر طرف گہرا سکوت اور جامد خاموشی تھی، جیسے کائنات کی ہر شے، اپنا دم سادھے چاند کے حسن کا نظارہ کر رہی ہو بس اس کی سانسوں کا زیر و بم تھا جو سکوت زدہ فضا میں ارتعاش پیدا کر رہا تھا اور اک ہوا تھی جو پورے تسلسل سے چل رہی تھی۔

’’رات کا حسن تو چاند سے ہے اگر یہ چاند نہ ہوتا تو رات بھی اتنی حسین نہ ہوتی۔‘‘ اس نے جیسے پورے دل سے اقرار کیا اور پھر کسی خیال کے تحت اس کے لب دھیرے سے مسکرا دئیے۔
’’مریان! میرا اور آپ کا رشتہ … مزید پڑھیے

ہجر کا آخری کنارہ ۔۔۔ سمیرا گُل ع‍ثمان

"کتاب” اینڈرائیڈ ایپ سے حاصل کردہ ناولٹ

ہجر کا آخری کنارہ

از قلم

سمیرا گُل عثمان

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

پی ڈی ایف فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

ہجر کا آخری کنارہ

 

’’چلو نا یار کیفے ٹیریا چلتے ہیں۔‘‘ راہب نے قدرے جھنجھلا کر کوئی دسویں مرتبہ کہا تھا مگر وہ سر جھکائے کاغذ پر قلم گھسیٹے جا رہی تھی۔
اب کی بار اس کی نظریں تیزی سے چلتی مخروطی انگلیوں اور ریشمی پلکوں سے ٹکرائیں تو وہ دم بخود سا دیکھتا ہی چلا گیا تھا اسے اپنی بھوک اپنا جھنجلانا جیسے کچھ بھی یاد نہیں رہا تھا۔
جانے مزید کتنے پل بیت چکے تھے اس نے قلم پر کیپ لگانے کے بعد ایک گہرا سانس خارج کیا تو راہب جیسے ہوش میں آیا تھا۔
رعنا اس کے گھمبیر لہجے پر اپنے اسکارف کو اچھی طرح سے لپیٹتے اس کے ہاتھ گردن کے پاس ہی کہیں رک گئے تھے اور سیاہ آنکھوں پر سایہ فگن جھالر اب اس کی سمت اٹھی ہوئی تھی۔
’’مجھ سے شادی کرو گی۔‘‘ اس نے بلا کسی جھجک کے کہہ ڈالا تھا جس پر رعنا نے قدرے اطمینان سے اپنا اسکارف درست کرنے کے بعد … مزید پڑھیے

افسانچے کا فن ۔۔۔ مرتب: محمد علیم اسماعیل

افسانچے پر ایک حوالہ جاتی کتاب

افسانچے کا فن

مرتبہ

محمد علیم اسماعیل

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

افسانچہ کیا ہے؟ ۔۔۔ ڈاکٹر ایم اے حق

 

افسانچے کو سمجھنے سے پہلے ہمیں لازمی طور پر افسانے کو سمجھنا ہو گا۔ کیوں کہ جس قلمکار نے دانستہ و غیر دانستہ طور پر اس صنف کی ایجاد کی تھی وہ صحیح معنوں میں ایک افسانہ نگار تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اُنھوں نے ریڈیو ڈرامے، ذاتی خاکے، فلم اسکرپٹ رائٹنگ، مضامین وغیرہ پر بھی طبع آزمائی کی تھی۔ لیکن کامیابی اور شہرت اُنھیں افسانہ اور افسانچہ نگاری میں ہی ملی ہے۔

جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھے۔ میں سعادت حسن منٹو کی ہی بات کر رہا ہوں۔ لگے ہاتھوں میں یہ بات بھی ظاہر کر دوں کہ اُنھوں نے کسی منصوبہ بندی کے تحت افسانچہ نگاری (حالانکہ لفظ ’افسانچہ‘ عظیم افسانچہ نگار جوگندر پال کی دین ہے) کی بنیاد نہیں ڈالی تھی۔ تو پھر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آخر افسانچہ کیوں کر صفحۂ قرطاس کی زینت بنا۔ اس لیے میں یہاں اُن واقعات اور حالات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس سے متاثر ہو کر اُنھوں نے … مزید پڑھیے

پالتو ۔۔۔ عبد الصمد

ایک طویل کہانی

پالتو

از قلم

عبد الصمد

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

اس کے اچانک اور قدرے بے ہنگم قہقہے سے سبھی چونک پڑے اور اسے خوف زدہ نظروں سے گھورنے لگے۔ قہقہہ لگانے والا شرمندہ سا ہو گیا اور معذرت خواہ لہجے میں بولا۔

’’معاف کرنا۔۔۔ دراصل میرے ذہن میں اچانک ایک بات آ گئی تھی۔۔۔‘‘

 وہ رک گیا تو سبھی بے ساختہ دریافت کر نے لگے۔

’’کون سی بات۔۔۔؟ کون سی بات۔۔۔؟‘‘

 وہ تھوڑا جھجک کر بولا۔

 ’’آسیب کی۔۔۔ آسیب والی بات۔۔‘‘

 ’’آسیب۔۔۔؟؟؟‘‘

 وہ سب گویا اچھل پڑے اور اسے یوں دیکھنے لگے جیسے اسی میں کوئی آسیب سما گیا ہو۔ وہ مسکرایا اور دھیرے سے بولا۔

’’امکان کی بات ہے۔ آخر ہم لوگ بار بار غور و خوض کے لئے بیٹھتے ہیں اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نا۔۔۔‘‘

وہ سب ابھی تک اسے ان نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جنہوں نے اسے ان کے سامنے اچانک ایک مشکوک چیز بنا دیا تھا۔

ان میں سے ایک نے کچھ تیز لہجے میں دریافت کیا۔

یعنی اب یہ صورت حال ہو گئی … مزید پڑھیے

بیگ احساس کے تین افسانے ۔۔۔ بیگ احساس

دَخمہ مجموعے میں شامل تین کہانیاں

بیگ احساس کے تین افسانے

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

خس آتش سوار

 

سورج نکلنے میں دیر تھی۔ گرودیو نے آنکھیں موندے موندے سوچا وہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوں گے۔ دو گھنٹے بعد وہ میڈٹیشن ہال میں جمع ہو جائیں گے۔ آج انھیں لکچر دینا تھا۔ انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کہ ان کے پاس ایسے الفاظ ہیں جو سننے والوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ ان لفظوں میں باندھ کر وہ اپنے عقیدت مندوں کو جہاں جی چاہا پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ سن کر سب پر ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ان لفظوں کے سہارے وہ نئے نئے جہانوں کی سیر کرنے لگتے ہیں اس لیے وہ دیوانہ وار اس ہال میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ جادو بڑے گرودیو کے پاس بھی نہیں تھا وہ سب ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کی تپسیا کے قصے، ان کی عبادت کی کہانیاں سارے جگ میں مشہور تھیں وہ بہت بڑے گیانی تھے۔ رات دن دنیا سے بے خبر اپنی کٹیا میں بیٹھے بوسیدہ بوسیدہ پتروں … مزید پڑھیے

نمی دانم کہ ۔۔۔ بیگ احساس

"دَخمہ” مجموعے سے ایک طویل کہانی

نمی دانم کہ ۔۔۔

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

شہر کے اس علاقے میں آنے سے وہ گریز کرتا تھا۔ کافی بھیڑ ہوتی تھی۔ اکثر ٹریفک جام ہو جاتا، سواریاں رینگنے لگتیں۔ شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی اسی علاقے میں تھا۔ اسٹیشن پر تو ’’حیدر آباد‘‘ کے بورڈ لگے تھے لیکن وہ ’’نام پلی‘‘ کہلاتا تھا۔ اکثر باہر سے آنے والے کنفیوز ہو جاتے۔ ایک بار ابّا کے دوست نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا یہ کیا نام ہوا ’’نام پلی‘‘ … … …!!
’’یہ نام ہماری ملی جلی تہذیب کی علامت ہے‘‘ ابّا نے سنجیدگی سے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا۔ ’’عبد اللہ قطب شاہ کے دیوان سلطنت رضا قلی کا خطاب ’’نیک نام خاں‘‘ تھا۔ یہ علاقہ ان کی جاگیر تھا۔ عوام نے ان کے خطاب سے ’’نام‘‘ لیا اور تلگو کا لفظ پلّی جوڑ دیا۔ ’’نام پلی‘‘ … …..!! شہر میں ایسے کئی محلے ہیں۔ تاریخی شہروں کا اپنا ایک الگ کردار ہوتا ہے‘‘ ابّا کے دوست کھسیانے ہو گئے تھے انھوں نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ … مزید پڑھیے

شکستہ پر ۔۔۔ بیگ احساس

مجموعے "دَخمہ” سے ایک طویل افسانہ

شکستہ پر

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیںِ……

 

اقتباس

 

دس برس بعد سمیر اور سشما کی ملاقات ہوئی تو دونوں نے شادی کا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی اور ایک روز چپکے سے شادی بھی کر لی۔ ان برسوں میں دور رہ کر دونوں کافی کچھ کھو چکے تھے۔ سشما نے جب اپنی ممی کو شادی کی بات بتائی تو اُنھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ فوراً گھر چھوڑ کر سمیر کے پاس چلی جائے۔ ساتھ ہی سمن کو بھی لے جائے۔ جس کی اولاد اسی کے ساتھ رہے تو بہتر ہے۔ سشما کے پاپا نے ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی کا رول ادا کیا۔
اور سشما سمیر کے گھر آ گئی۔ لیکن سمن نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔
’’میں سمجھاؤں گا اسے‘‘۔ پاپا نے کہا۔
سمیر کے گھر آ کر سشما کو ایک کھلی فضاء کا احساس ہوا۔ کتنے دنوں سے وہ گھٹ رہی تھی۔ زندگی اسے اس طرح واپس ملے گی، اس نے سوچا ہی نہ تھا۔ نہ یہ کہ وہ خود اپنی زندگی جیے گی۔
خواہشوں کے پرندوں نے ایک … مزید پڑھیے

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید