اہم

اعجاز عبید ۲۰۰۶ء سے اردو تحریر یعنی یونیکوڈ کو فروغ دینے کی نیت سے اردو کی مفت دینی اور ادبی برقی کتب فراہم کرتے رہے ہیں۔ کچھ ڈومین (250 فری ڈاٹ کام، 4 ٹی ڈاٹ کام ) اب مرحوم ہو چکے، لیکن کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام کو مکمل طور پر کتابیں ڈاٹ اردو لائبریری ڈاٹ آرگ پر شفٹ کیا گیا جہاں وہ اب بھی برقرار ہے۔ اس عرصے میں ۲۰۱۳ء میں سیف قاضی نے بزم اردو ڈاٹ نیٹ پورٹل بنایا، اور پھر اپ ڈیٹس اس میں جاری رہیں۔ لیکن کیونکہ وہاں مکمل کتب پوسٹ کی جاتی تھیں، اس لئے ڈاٹا بیس ضخیم ہوتا گیا اور مسائل بڑھتے گئے۔ ویسے وہ سارا ڈاٹا محفوظ ہے، سرور کو مکمل درست کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذمہ اردو ویب (اردو محفل) نے لے رکھا ہے۔ اس عرصے میں مفت کتب کی ویب گاہ بلاگسپاٹ پر بنا دی گئی اور برقی کتابیں اپ لوڈ کی گئیں، ورڈ فائل کے علاوہ اس بار ای پب اور کنڈل فائلیں بھی دستیاب کرائی گئیں۔ اور اب یہ نئی سائٹ ہے جس کا فارمیٹ 'برقی کتابیں‘ والا ہی ہے۔ اب آئندہ اپ ڈیٹ یہاں ہی ہوتی رہیں گی۔

کتابیں مہر نستعلیق فونٹ میں بنائی گئی ہیں، قارئین یہاں سے اسے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

مہر نستعلیق ویب فونٹ

کاپی رائٹ سے آزاد یا اجازت نامہ کے ساتھ اپنی کتب ان پیج فائل یا یونی کوڈ سادہ ٹیکسٹ فائل /ورڈ فائل کی شکل میں ارسال کی جائیں۔ شکریہ

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔


افسانچے کا فن ۔۔۔ مرتب: محمد علیم اسماعیل

افسانچے پر ایک حوالہ جاتی کتاب

افسانچے کا فن

مرتبہ

محمد علیم اسماعیل

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

افسانچہ کیا ہے؟ ۔۔۔ ڈاکٹر ایم اے حق

 

افسانچے کو سمجھنے سے پہلے ہمیں لازمی طور پر افسانے کو سمجھنا ہو گا۔ کیوں کہ جس قلمکار نے دانستہ و غیر دانستہ طور پر اس صنف کی ایجاد کی تھی وہ صحیح معنوں میں ایک افسانہ نگار تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اُنھوں نے ریڈیو ڈرامے، ذاتی خاکے، فلم اسکرپٹ رائٹنگ، مضامین وغیرہ پر بھی طبع آزمائی کی تھی۔ لیکن کامیابی اور شہرت اُنھیں افسانہ اور افسانچہ نگاری میں ہی ملی ہے۔

جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھے۔ میں سعادت حسن منٹو کی ہی بات کر رہا ہوں۔ لگے ہاتھوں میں یہ بات بھی ظاہر کر دوں کہ اُنھوں نے کسی منصوبہ بندی کے تحت افسانچہ نگاری (حالانکہ لفظ ’افسانچہ‘ عظیم افسانچہ نگار جوگندر پال کی دین ہے) کی بنیاد نہیں ڈالی تھی۔ تو پھر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آخر افسانچہ کیوں کر صفحۂ قرطاس کی زینت بنا۔ اس لیے میں یہاں اُن واقعات اور حالات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس سے متاثر ہو کر اُنھوں نے … مزید پڑھیے


پالتو ۔۔۔ عبد الصمد

ایک طویل کہانی

پالتو

از قلم

عبد الصمد

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

اس کے اچانک اور قدرے بے ہنگم قہقہے سے سبھی چونک پڑے اور اسے خوف زدہ نظروں سے گھورنے لگے۔ قہقہہ لگانے والا شرمندہ سا ہو گیا اور معذرت خواہ لہجے میں بولا۔

’’معاف کرنا۔۔۔ دراصل میرے ذہن میں اچانک ایک بات آ گئی تھی۔۔۔‘‘

 وہ رک گیا تو سبھی بے ساختہ دریافت کر نے لگے۔

’’کون سی بات۔۔۔؟ کون سی بات۔۔۔؟‘‘

 وہ تھوڑا جھجک کر بولا۔

 ’’آسیب کی۔۔۔ آسیب والی بات۔۔‘‘

 ’’آسیب۔۔۔؟؟؟‘‘

 وہ سب گویا اچھل پڑے اور اسے یوں دیکھنے لگے جیسے اسی میں کوئی آسیب سما گیا ہو۔ وہ مسکرایا اور دھیرے سے بولا۔

’’امکان کی بات ہے۔ آخر ہم لوگ بار بار غور و خوض کے لئے بیٹھتے ہیں اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا نا۔۔۔‘‘

وہ سب ابھی تک اسے ان نگاہوں سے دیکھ رہے تھے جنہوں نے اسے ان کے سامنے اچانک ایک مشکوک چیز بنا دیا تھا۔

ان میں سے ایک نے کچھ تیز لہجے میں دریافت کیا۔

یعنی اب یہ صورت حال ہو گئی … مزید پڑھیے


بیگ احساس کے تین افسانے ۔۔۔ بیگ احساس

دَخمہ مجموعے میں شامل تین کہانیاں

بیگ احساس کے تین افسانے

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

خس آتش سوار

 

سورج نکلنے میں دیر تھی۔ گرودیو نے آنکھیں موندے موندے سوچا وہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوں گے۔ دو گھنٹے بعد وہ میڈٹیشن ہال میں جمع ہو جائیں گے۔ آج انھیں لکچر دینا تھا۔ انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کہ ان کے پاس ایسے الفاظ ہیں جو سننے والوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ ان لفظوں میں باندھ کر وہ اپنے عقیدت مندوں کو جہاں جی چاہا پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ سن کر سب پر ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ان لفظوں کے سہارے وہ نئے نئے جہانوں کی سیر کرنے لگتے ہیں اس لیے وہ دیوانہ وار اس ہال میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ جادو بڑے گرودیو کے پاس بھی نہیں تھا وہ سب ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کی تپسیا کے قصے، ان کی عبادت کی کہانیاں سارے جگ میں مشہور تھیں وہ بہت بڑے گیانی تھے۔ رات دن دنیا سے بے خبر اپنی کٹیا میں بیٹھے بوسیدہ بوسیدہ پتروں … مزید پڑھیے


نمی دانم کہ ۔۔۔ بیگ احساس

"دَخمہ” مجموعے سے ایک طویل کہانی

نمی دانم کہ ۔۔۔

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

 

اقتباس

 

شہر کے اس علاقے میں آنے سے وہ گریز کرتا تھا۔ کافی بھیڑ ہوتی تھی۔ اکثر ٹریفک جام ہو جاتا، سواریاں رینگنے لگتیں۔ شہر کا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی اسی علاقے میں تھا۔ اسٹیشن پر تو ’’حیدر آباد‘‘ کے بورڈ لگے تھے لیکن وہ ’’نام پلی‘‘ کہلاتا تھا۔ اکثر باہر سے آنے والے کنفیوز ہو جاتے۔ ایک بار ابّا کے دوست نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا یہ کیا نام ہوا ’’نام پلی‘‘ … … …!!
’’یہ نام ہماری ملی جلی تہذیب کی علامت ہے‘‘ ابّا نے سنجیدگی سے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا۔ ’’عبد اللہ قطب شاہ کے دیوان سلطنت رضا قلی کا خطاب ’’نیک نام خاں‘‘ تھا۔ یہ علاقہ ان کی جاگیر تھا۔ عوام نے ان کے خطاب سے ’’نام‘‘ لیا اور تلگو کا لفظ پلّی جوڑ دیا۔ ’’نام پلی‘‘ … …..!! شہر میں ایسے کئی محلے ہیں۔ تاریخی شہروں کا اپنا ایک الگ کردار ہوتا ہے‘‘ ابّا کے دوست کھسیانے ہو گئے تھے انھوں نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ … مزید پڑھیے


شکستہ پر ۔۔۔ بیگ احساس

مجموعے "دَخمہ” سے ایک طویل افسانہ

شکستہ پر

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیںِ……

 

اقتباس

 

دس برس بعد سمیر اور سشما کی ملاقات ہوئی تو دونوں نے شادی کا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی اور ایک روز چپکے سے شادی بھی کر لی۔ ان برسوں میں دور رہ کر دونوں کافی کچھ کھو چکے تھے۔ سشما نے جب اپنی ممی کو شادی کی بات بتائی تو اُنھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ فوراً گھر چھوڑ کر سمیر کے پاس چلی جائے۔ ساتھ ہی سمن کو بھی لے جائے۔ جس کی اولاد اسی کے ساتھ رہے تو بہتر ہے۔ سشما کے پاپا نے ہمیشہ کی طرح خاموش تماشائی کا رول ادا کیا۔
اور سشما سمیر کے گھر آ گئی۔ لیکن سمن نے آنے سے صاف انکار کر دیا۔
’’میں سمجھاؤں گا اسے‘‘۔ پاپا نے کہا۔
سمیر کے گھر آ کر سشما کو ایک کھلی فضاء کا احساس ہوا۔ کتنے دنوں سے وہ گھٹ رہی تھی۔ زندگی اسے اس طرح واپس ملے گی، اس نے سوچا ہی نہ تھا۔ نہ یہ کہ وہ خود اپنی زندگی جیے گی۔
خواہشوں کے پرندوں نے ایک … مزید پڑھیے


دخمہ ۔۔۔ بیگ احساس

ساہتیہ اکادمی، حکومت ہند کا انعام یافتہ افسانوں کا مجموعہ

دَخمہ

از قلم

بیگ احساس

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

‌‌‌‌‌‌‌‌ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیںِ ……

سنگِ گراں

ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہوئی نیل پاش نے اسے چونکا دیا۔ اس نے کیلنڈر پر نظر ڈالی مہینہ ختم ہو رہا تھا لیکن اس نے ناخن رنگے ہی نہیں تھے۔ 

تو کیا؟

 ’’ناخن پر پالش لگانے سے وضو نہیں ہوتا‘‘۔ اس کی نانی نے اس سے کہا تھا اور اسی وقت ناخنوں سے پالش کھرچ دی تھی۔ نانی نماز کی پابند تھیں اسے بھی کوئی نماز قضا کرنے نہیں دیتیں تھیں۔ پھر بھی وہ موقع نکال کر رات میں ناخن رنگ لیتی پھر فجر سے قبل ناخن صاف کر دیتی۔ اس طرح اس کے ناخن خراب ہو سکتے تھے لیکن شوق!

ایک روز جب اس کا جسم اچانک ہی خون اُگلنے لگا تو وہ مارے خوف کے نانی کی گود میں گھس گئی۔ نانی نے بہت سی باتیں سمجھائیں پھر کہا کہ ایسی حالت میں وہ نماز نہ پڑھا کرے۔ تب اس نے ناخن رنگ لئے۔ نانی نے ڈانٹا نہیں مسکراتی رہیں۔ 

ایک طرف ناخن رنگنے کی خوشی تھی تو دوسری طرف مصیبت بھی۔ نماز نہ مزید پڑھیے


پھول کی قیمت

ایک بہترین افسانہ

پھول کی قیمت

از قلم

آغا بابر

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

پھول کی قیمت

لوگ بابا مراد کو اٹھا کر ادھر لے گئے جدھر بھیڑ کم تھی۔ منہ میں پانی ٹپکایا تو آنکھیں کھل گئیں۔ وہ پھول بیچنے والوں کی دکانوں کے قریب سڑک پر چت پڑا تھا۔

ایک پھول فروش نے کہا ’’پانی کا گلاس پی لے۔ لو لگ گئی ہے‘‘۔

مراد پانی کے چند گھونٹ حلق میں اتار کر کمر پر ہاتھ رکھ کر ہمدردی جتانے والے سے بولا ’’میں ہسپتال میں اپنا خون دے کر آ رہا تھا کہ چکر آیا۔۔۔۔‘‘

 ’’کوئی بات نہیں اٹھ بیٹھ‘‘۔

لوگوں نے اسے سہارا دے کر فیروز دین پھول فروش کے کھوکھے پر بٹھا دیا۔ فیروز دین کی ڈاڑھی اور چہرے کا رنگ بالکل موتیے کے ان پھولوں کا سا تھا، جن کی ڈھیریاں اس کے سامنے کیلے کے سبز پتوں پر دھری تھیں۔ فیروز دین کی آنکھوں میں ایک ایسی گھلاوٹ فہم اور دلداری تھی جو زندگی کا لیل و نہار دیکھنے سمجھنے اور پرکھنے سے میسر آتی ہے۔

کلیاں اور پھول رات بھر ستاروں کے گیت سنتے ہیں۔ ظلمت اور اجالے کی آنکھ مچولی … مزید پڑھیے


من کی ملکہ

ایک عمدہ طویل افسانہ

من کی ملکہ

از قلم

شہناز شورو

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

من کی ملکہ

 

گزشتہ چار دن کی بارش نے پورے شہر کو جل تھل کر دیا تھا۔ آسمان غریب کی چادر کی طرح جگہ جگہ سے پھٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ آج پہلا دن تھا کہ آسمان کے چھید رفو ہوتے محسوس ہوئے۔ آج صبح بھی بارش ہوئی تھی مگر مختصر سے وقت کے لیے۔ پھر سورج نے پلکیں جھپکائیں تو گویا زندگی جاگ اُٹھی۔ روز بہ روز پرانے ہوتے شہر کہاں اتنی شدت کی تاب لا سکتے تھے۔ شہر کی ہر گلی میں نکاسی کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا تھا۔

 ’’بھائی صاحب ذرا سنبھل کے، اس طرف سامنے گڑھا ہے، اُس میں نہ سائیکل سمیت گر جائیں۔ اس طرف سے آئیے راستہ صاف ہے۔‘‘ آسمانی کپڑے پہنے، کمر سے نیچے تک سیاہ لچھے دار بال پھیلائے، قدرے دل پذیر نقوش والی لڑکی ایک دروازے سے نمودار ہوئی۔ ایک پٹ کھلا، دوسرا بند۔ دونوں سائیکل سواروں نے اس پر ایک نگاہ ڈالی۔ سانولی کی سنجیدگی کو دیکھ کر ذرا زیادہ ہی ٹپ ٹاپ لڑکے کو خود کو … مزید پڑھیے


جوہرِ اخلاق

مجلسِ ادبیات عالیہ کی پیشکش

جوہرِ اخلاق

فورٹ ولیم کالج کے دور کی ایک درسی کتاب

جیمز فرانسس کارکرن

کے قلم سے

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں….

گیارھویں نقل

کسی گاؤں کے چوہے نے اپنے ایک شہری بھائی کی دعوت کی۔ گاؤں میں جو کچھ میسر ہوا جیسا کہ باسی روٹی کے سوکھے ٹکڑے اور پنیر کی کترن، اس نے حاضر کی۔ دونوں دسترخوان پر بیٹھے اور کھانے لگے۔ شہری چوہے کو اور ہی مزا پڑا ہوا تھا، اس طرح کی غذا اس نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ ہر چند اس سے جی اس کا گھبرایا، مگر مارے لحاظ کے کچھ نہ کہا۔ غرض طعنے مانے میں اس نے کہا کہ ایسی سنسان جگہ میں رہنا اور اس طرح کی خوراک کھانا آپ کی شان سے باہر ہے۔

جب رخصت ہوا تو بدلا اُتارنے کو شہری چوہے نے ایک روز دہقانی بھائی کی دعوت کی اور اپنے ساتھ اُسے شہر کے ایک عالی شان مکان میں لے گیا۔ وہاں پہنچ کر شہری چوہے نے نعمت خانے میں اسے لے جا کر ایک سے ایک نعمت دکھلائی۔ بعد اس کے دالان میں جا کے میز پر کیا دیکھتے ہیں … مزید پڑھیے


کرگسوں میں گھرا شاہین

حقیقت اور تصور کا امتزاج

پروفیسر غلام شبیر رانا

کا نیا ناول

کرگسوں میں گھرا شاہین

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں……

مستریاں والی بستی

جھنگ بھی ایک عجیب شہر ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوفے کے قریب ہو رہا ہے۔ دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع اِس قدیم شہر کے ایک نشیبی علاقے کی ایک بستی جہاں کا ماحول پتھر کے زمانے کی یاد لاتا ہے آج بھی اپنی داستانِ حسرت سناتی دکھائی دیتی ہے۔ کہرام ٹھگ کے آباء و اجداد گزشتہ کئی صدیوں سے اس علاقے میں رہتے تھے۔ سلطان جب اس طرف سے گزرتا تو کہرام ٹھگ کی بستی کو حیرت سے دیکھتا اور دیدۂ گریاں کی روانی چھُپانے کے لیے گل افشانیِ گفتار کا سہارا لیتا تھا۔ المیہ ہو یا طربیہ سلطان کی ہر بات کے پس منظر میں احساس کی تمازت اور جذبات کی شدت اس سے ملنے والوں کو مسحور کر دیتی تھی۔ حکیم کمال نے جب سلطان کوبستی مستریاں والا کے آسیب زدہ ہونے کے بارے میں بتایا تو سلطان نے اس کی بات خندۂ استہزا میں اُڑا دی اور کہا:

’’جس بستی میں کہرام ٹھگ اور تشفی مَل کنجڑے … مزید پڑھیے