نسائی آہنگ کے افسانے
بین کرتی آوازیں
مصنف
نسترن احسن فتیحی

ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
بین کرتی آوازیں
نسترن احسن فتیحی
کوئی کہانی زندگی کا واضح اور مکمل چہرہ نہیں دکھا سکتی۔ یہ بکھرے ہوئے ریزوں میں اپنی موجودگی درج کراتی رہے گی اور زندگی کی گزرگاہ پر اپنے اپنے حصوں کی کرچیاں سمیٹ کر ہم اپنا وجود زخمی اور روح روشن کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ تاکہ آنے والے زمانوں کے لیے اس راہ گزر پر انسانیت کے ادراک کا جو دیا روشن ہے وہ ہمیشہ روشن رہے۔
نسترن
مصنفہ کا تعارف
نام/ قلمی نام: نسترن احسن فتیحی
والد: مرحوم سید محمد احسن
والدہ: مرحومہ حمیدہ احسن
تاریخ پیدائش: ۱۷ جنوری ۱۹۶۳ء
مقام پیدائش: سمستی پور، بہار (انڈیا)
تعلیم: ایم اے اردو (گولڈ میڈلسٹ)، ۱۹۸۶ء
پی ایچ ڈی پنجاب یونیورسٹی (چنڈی گڑھ)۱۹۹۱ء
مستقل سکونت: علی گڑھ (یو پی) انڈیا
شوہر کا تعارف: سابق پروفیسر علی رفاد فتیحی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
بیٹیاں: ڈاکٹر سنبل فتیحی، ڈاکٹر سمن فتیحی
اعزازات: یوپی اردو اکیڈمی سے ’’ایکوفیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ‘‘ کو پہلا انعام حاصل ہوا اور بہار اردو اکیڈمی سے ’’ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ‘‘ کو دوسرا انعام ملا۔
ناول: ۔
لفٹ۔ (پہلا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۰۳ء، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ۔
لفٹ (دوسرا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۱۷ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
نوحہ گر۔ مطبوعہ ۲۰۲۱ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
تنقید و تحقیق: ۔
’’ایکو فیمینزم اور عصری اردو تانیثی افسانہ‘‘۔ (پہلا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۱۶ء ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
’’ایکو فیمینزم اور عصری اردو تانیثی افسانہ‘‘۔ (دوسرا ایڈیشن) مطبوعہ ۲۰۱۸ء۔ عکس پبلیکیشن کراچی پاکستان۔
’’قانونی فرہنگ‘‘ این سی پی یو ایل کے لیے ایک پروجکٹ ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۸ء۔
دیگر ادبی سرگرمیاں: ۔
آن لائن اردو جریدہ ’’دیدبان‘‘ کی مجلسِ ادارت کے ساتھ ساتھ کتابی سلسلہ کی تزئین، ترتیب اور اشاعت میں سلمیٰ جیلانی اور سبین علی کے ساتھ شامل۔
کتابی سلسلہ: ۔
(۱)دیدبان۔ جلد۔ ۱۔ ’عالمی ادب سے انتخاب ‘ مطبوعہ ۲۰۱۷ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
(۲) دیدبان۔ جلد۔ ۲۔ ’عالمی ادب سے انتخاب‘ مطبوعہ ۲۰۱۸ء، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
(۳)دیدبان۔ جلد۔ ۳۔ ’عالمی مزاحمتی ادب‘ مطبوعہ ۲۰۲۱ء،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
https: //www.deedbanmagazine.com/
بلاگ نوحہ گر: ۔
nauhagerblogspot.com
ای میل ایڈریس: ۔
fatihi.nastaran@gmail.com
٭٭٭
انتساب
والد محترم محمد احسن اور امی حمیدہ احسن
خسر محترم علی عباد فتیحی اور ممی زاہدہ خاتون
کے نام
کہ جن کی شفقت، محبت، تربیت اور دعائیں۔۔۔
زندگی کے سخت ترین سفر میں سائبان کی طرح ہر سرد گرم سے بچاتی رہیں۔
پیش لفظ
ادب انسانی ذہن کی اعلیٰ ترین تخلیقی کارگزاری ہے۔ ادب کے ذریعے انسان نے اپنے اندر چھپے رموزِ فطرت کو اپنے تخیل، ماحول اور گرد و پیش کے انسلاک سے ایسے طور بیان کیا کہ سامع و قاری اسی تجربے، لطف و انبساط اور کرب سے ہم آشنا ہوئے جس سے اس معاشرے کا ایک اہم اور حساس فرد (ادیب) گزرتا ہے۔ اسی تخلیقی تجربے نے انسانی قوتِ اظہار و قوتِ مخترع کو ارتقاء کی ایسی سیڑھی پہ چڑھایا جس کا عمل ہنوز جاری و ساری ہے۔ جب تک انسان ہر نئے وقت و ماحول میں نئے تجربے، نئی بصیرت سے گزرے گا وہ دوسروں کو ادب کے واسطے اُس آگہی میں شامل کرتا رہے گا۔ قیاس ہے کہ انسان نے ازمنہ قدیم میں ادب سے ناطہ آگہی کے عذاب سے گزرنے کے بعد ہی جوڑا ہو گا۔
آگہی کی روشنی جہاں انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے وہیں اس کی تپش انسانی ذہن کے درون کو مسلسل سلگائے رکھتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہوتی ہے کہ ایک انسان جو اچھا بھلا اپنی زیست کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے، قلم سے ناطہ اس کی معاشی ضرورت بھی نہیں وہ لکھنے لگ جائے اور لکھے بھی وہ کہانیاں، وہ آوازیں جنھیں عام لوگ سنیں تو یوں سنیں گویا خاموش صدائیں ہوں۔ کسی اخبار کے اندرونی صفحات میں لگی دو کالمی مختصر خبر جو کبھی مرکزی صفحات پہ آویزاں چکا چوند تصاویر اور چٹ پٹی خبروں جیسی اہمیت حاصل نہیں کر سکتی، انسانی رویوں کے تضادات اور نئے نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچے میں جکڑے بمشکل سانس لیتے لوگ، یہ کہانیاں جب افسانوں میں ڈھلتی ہیں تو متن اور بین المتن سماج کے وہ تضادات سامنے لاتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کا پروان چڑھایا ہوا مشتہر بیانیہ ہرگز نہیں ہوتا۔
نسترن فتیحی بنیادی طور پہ ناول نگار ہیں۔ اس سے قبل ان کے دو ناول ’’لفٹ‘‘ اور ’’نوحہ گر‘‘ منظرِ عام پر آ چکے ہیں لیکن جب وہ افسانہ لکھتی ہیں تو اس میں ناول نگاری کا شائبہ تک نہیں ملتا۔ ان کے کردار اور واقعات بڑی مہارت سے مختصر بیانیے میں سموئے ہوتے ہیں اور اکثر افسانوں میں کسی ایک احساس، واقعے یا ایک کیفیت کو لے کر بُنی گئی کہانی میں وحدتِ تاثر و حسنِ اظہار کا عمدہ نمونہ ملتا ہے۔ ان کے تخلیقی وفور و اسلوب کی بات کی جائے تو نسترن فتیحی کی تحریروں میں سب سے نمایاں خصوصیت معاشرتی اور انسانی فطرت کے تضادات ہیں۔ خواہ وہ انفرادی و داخلی سطح پہ کوئی کہانی لکھیں یا سماج کے بڑے گروہ کو لے کر کوئی موضوع منتخب کریں، کردار کوئی بھی ہوں وہ تضادات کو نشان زد کیے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہی تضادات حساس ذہن کی آگہی کا سامنا ہونے پہ مصنفہ کی میوز muse بنتے ہیں۔ ان کے سامنے چیختا چلاتا نعرے لگاتا ہجوم میوٹ mute ہو جاتا ہے اور پس منظر میں کسی این فرینک کی پرانی ڈائری بلند آہنگ میں اپنا احتجاج رقم کروانے لگ جاتی ہے۔ کئی بار ایسا لگتا ہے کہ کہانی میں محض مصنفہ کی ذات اظہار نہیں پا رہی بلکہ اس میں پورا سماج ایک اکائی بن کر اظہار پا رہا ہے۔
ان کے کرداروں میں وہ خبریں سانس لیتی ہیں جنھیں کمرشل مفادات کے لیے اخبار پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ ان میں پسے ہوئے دیہی طبقات کی صدائیں ہیں اور تیز تر شہری ثقافت میں زندگی کے ساتھ دوڑتے بھاگتے بچھڑ جانے والے، سانس بحال کرنے کی تگ و دو کرتے محنت کش ہیں۔ جو چاہ کر بھی اپنی کہانی خود بیان نہیں کر سکتے مگر نسترن فتیحی کا حساس قلم ان کی آواز بنتا ہے۔
’’ڈائل ٹون‘‘ سے لے کر ’’انگلی کی پور پہ گھومتا چاند‘‘ یہ دو افسانے اصل میں ماضی سے حال کا وہ تیز ترین سفر ہے جس میں کبھی رشتے پاس تھے تو بد عنوان معاشرے میں اصول پرست انسان کے اصول شکست خوردہ ہوتے رہے اور جب ٹیکنالوجی کی ترقی نے ڈائل ٹون والے فون سے چھٹکارہ دلایا تو اپنے پیارے فون کے میسینجر میں چیٹ ہیڈ کی صورت گھومتے ہوئے چاند دکھائی دیتے ہیں۔ وہ چاند جو کردار کے لیے بہت اہم اور عزیز ہیں، کیسے ٹیکنالوجی انھیں قریب تو لے آئی ہے مگر یہ ایسی قربت ہے جس میں فاصلے ایک آنسو کی صورت آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہیں۔
’’کال بیلیا‘‘ ایک تانیثی مزاحمتی افسانہ ہے جس میں مرکزی کردار، خانہ بدوش اور نیچ سمجھی گئی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ باہر کی دنیا میں وہ پرفارمنگ آرٹ میں بطور رقاصہ بڑا نام کما کر بھی اپنے علاقے میں ایک محکوم اور نچلی ذات کی عورت ہو کر ظلم سہتی اور پھر مزاحم ہو جاتی ہے۔ یہ عورت تانیثیت کا استعارہ ہے۔ ’’نسل‘‘ افسانے میں جنگلات کے قریب رہنے والے پسماندہ لوگوں کی حالت زار بیان کی گئی ہے اور کیسے ایک نایاب نسل کے شیر کی مادہ کو بچانے کی خاطر تمامتر سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے مگر ایک انسانی عورت اسی دوران نقل و حرکت پہ پابندی سے کس طرح تن تنہا دردِ زہ کی شدت برداشت کرتی ہے۔ یہ افسانہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں اپنی اپنی نسل کے تحفظ کے لیے جبلت کے کیا مطالبات ہیں۔ اس کے علاوہ یہ افسانہ بین السطور مفاہیم کے کئی در وا کرتا ہے۔
پرچھائیں، پروا کسے ہے، ایڈہیسیو اور سادہ اوراق مابعد جدے دیت کے رنگ میں شہری زندگی کے پسِ منظر میں انسان کے اندر دھیرے دھیرے سلگتے وہ احساسات ہیں جنھیں ترقی کی چکا چوند میں بڑی سہولت سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انسان ترقی تو کر رہا ہے مگر اس ترقی کا جو خراج اسے ادا کرنا پڑ رہا ہے وہ بھی معمولی نہیں۔
نسترن فتیحی کے افسانے کسی بھی قاری پہ الگ الگ طور پہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان افسانوں کے بارے میں بجا طور پہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مراعات یافتہ کو بے چین کرنے کے ساتھ ساتھ اسی وقت پسماندہ اور بے چین افراد کے احساسات پر نرم پھائے جیسے ہیں۔
سبین علی
25 اپریل 2023ء
لاہور
٭٭٭
دیباچہ
ابھی ہم انسان اور انسان کے درمیان کی جنگ، نفرت اور مقابلے کی نفسیات سے پوری طرح نکلے بھی نہیں تھے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے جہاں اب انسان اور مشین کے درمیان مقابلہ اور جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ہم نو آبادیاتی ترقی کا فائدہ جتنا بھی اٹھا لیں اس کے مضمرات کا نقصان بھی ہم انسانوں کو ہی اٹھانا ہے۔ یعنی آج جب تکنیکی ترقی کے اس دور میں عصری ادب میڈیا کا حصہ بن چکا ہے اور اس نے اپنی حدود کو مختلف جہتوں میں بڑھا دیا ہے، ہم اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو نقصان سے بھی ہم ہی نبرد آزما ہیں۔ اب ہم ایک مکمل نئی دنیا کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب ہمارے سامنے میٹا ورس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی شکل میں مزید نئے چیلنجز ہیں جو ترقی کے ساتھ ساتھ انسانیت اور انسانی رشتوں کے لیے تنزل کی نئی کہانیاں رقم کریں گے۔ اس لیے اس سے جڑے نئے نئے موضوعات ہمارے ذہن و دل پر دستک دینے کو تیار ہیں۔
اس سے پہلے کہ اس نئی دستک کی طرف متوجہ ہوا جائے کچھ خیر خواہ احباب اور دوستوں کے اصرار پر اپنے منتخب افسانوں کو کتابی شکل میں شائع کروانے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ ورنہ میں یہی سمجھتی تھی کہ رسائل کے بعد سوشل میڈیا ہی ان کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں یہ یقیناً کم وقت میں دور تک پھیل جاتے ہیں۔ ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ یہاں وقت، بصیرت، گہرائی اور ارتکاز کی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے ادب کی حقیقی تعریف ایک ٹویٹ میں ختم نہیں ہوتی کہ ’’ادب اچھا ہے۔‘‘
سوشل میڈیا اور ادب کے درمیان ایک رشتہ ہے لیکن اس رشتے کے باوجود سوشل میڈیا ادب نہیں ہے۔ ادب کے مطالعے کے لیے وقت اور ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ آپ کتاب کے ساتھ جد و جہد کرتے ہیں اور کتاب آپ کے ساتھ جد و جہد کرتی ہے، اس طرح کتاب کے معنی اور مفہوم تک آپ کی رسائی ہوتی ہے۔ گویا ادب آپ کے خیالات کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور ایک منفرد زاویے سے سوچنا اور محسوس کرنا سکھاتا ہے۔ شاید سوچنے اور محسوس کرنے کی یہی قوت انسانوں کو مشین پر فوقیت عطا کرے گی۔ اس لیے ادب میٹا فورسز ہے اور بنیادی سطح پر تبدیلی لاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں اور روح کو چھوتا ہے۔ ادب کا فوری اثر نہیں ہوتا، اس میں موجود پیغام کو پھیلنے میں وقت لگ سکتا ہے لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک طویل عرصے تک موجود رہتا ہے۔
کتابی شکل میں یہ میرا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ میرے افسانے اب تک پاکستان اور ہندوستان کے مختلف موقر ادبی رسائل و جرائد کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ جن میں شاعر، فنون، ادبِ لطیف، آج کل، جمنا تٹ، زبان و ادب، ثالث، دربھنگہ ٹائمز وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ مجھے اپنے افسانے سے متعلق کچھ نہیں کہنا سوائے اس کے کہ اس افسانوی مجموعے میں میرے ابتدائی دور کے چند افسانے بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ میرا پہلا افسانہ ’’تشنگی‘‘ 1991 میں ’’شاعر‘‘ میں شائع ہوا تھا پھر کشمکش، ایڈ ییسو، ڈائل ٹون ’’شاعر‘‘ میں ہی تواتر سے شائع ہوتے رہے۔ ان افسانوں کو اس مجموعے میں شامل کرنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ وقت اور زمانے کی تبدیلی ایک دن میں رو نما نہیں ہوتی۔ زندگی کی شکست و ریخت رفتہ رفتہ اپنا چولا بدلتی ہے۔ اس میں ہم اگر بہت کچھ پاتے ہیں تو بہت کچھ کھو بھی دیتے ہیں۔ میرے ان نئے اور پرانے افسانوں میں انسانی تہذیب، رشتے اور نفسیات کی ان ہی بدلتی اور بکھرتی ہوئی تصویر کا عکس ملتا ہے۔ وقت کا ارتقاء ایک تہذیب کا زوال بھی ہوتا ہے اور ادب اس کا آئینہ یا تاریخی دستاویز بن جاتا ہے جس کی اہمیت وقت کے ساتھ گزرے زمانے کو سمجھنے کے لیے بڑھ جاتی ہے۔ کل کا ڈائل ٹون، آج انگلی کی پور پر گھومتا چاند بن جاتا ہے۔ آج جب کہ ادب خود تکمیل اور شائع ہونے کی جلدی میں ہے اور سوشل میڈیا اس کے لیے وردان ثابت ہو رہا ہے، میں کتاب کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتی۔ بہت دیر سے سہی مگر چند خیر خواہ دوست اور احباب کے اصرار پر مجھے یہ حوصلہ ملا کہ اسے کتابی شکل میں شائع کروا لوں۔ ان سارے دوستوں اور احباب کا میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ ساتھ ہی اعجاز عبید صاحب کا بھی شکریہ جنھوں نے میرے افسانوں کو ای بک کی شکل میں کمپائل کر کے اپنی ڈیجیٹل اردو لائبریری میں محفوظ کر دیا تھا۔ ورنہ لیپ ٹاپ خراب ہو کر فارمیٹ ہونے کے بعد مجھے اس کی ایک بھی سافٹ کاپی ملنا ممکن نہ ہوتی۔
آخیر میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے ظفر اقبال صاحب کے ساتھ ان کی پوری اشاعتی ٹیم کا بھی شکریہ جنھوں نے اس ارادے کو ممکن اور سہل بنا دیا۔
نسترن احسن فتیحی
٭٭٭
افسانے
بین کرتی آوازیں
سارا نے بے چینی سے ٹہلنا شروع کیا۔ خیال بھی بلبلے کی طرح ہوتے ہیں، کسی لمحے میں ایک خیال جیسے ہی پیدا ہوتا ہے ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے پھر دوسرا، تیسرا اور نتیجے میں ایک تذبذب کی کیفیت، ایک اضطراب۔ اس کے اندر یہ اضطراب شور اور سناٹوں کے تصادم نے پیدا کیا ہے جو نہ جانے کب سے اس کا پیچھا کرتا رہا ہے اور جب اس کے اندر یہ تصادم بڑھتا ہے تو اس کے پیٹ میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے اور وہ اٹھ کر ٹہلنے لگتی ہے، چہرہ ست جاتا ہے اور اسے ابکائی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کا یہ اضطراب دوسروں پر بآسانی عیاں ہو جاتا ہے اور اسی لیے وہ سب کی نظروں سے بچنے کے لیے پریس سے اٹھ کر اوپر آ جاتی ہے، اپنے پیچھے سوال جواب اور چہ می گوئیاں چھوڑ کر۔ ’’کیا ہوا۔۔۔؟ پھر میگرین۔۔؟ آرام کرو۔۔ فضول کام میں سارا دن۔۔۔‘‘ کتنی بڑبڑاہٹیں اس کا پیچھا کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ گھر اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے، چھے کمرے ہیں مگر زمین کا پھیلاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اوپر بڑھے ہوئے ہیں۔ ہاں! اس میں رہنے والے افراد ضرور زیادہ ہیں۔ اس پر یہ کہ نچلی منزل کے دو کمرے گودام ہی بنے رہتے ہیں۔ ہمیشہ اوپر سے نیچے تک ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے اخبار، گرد سے اٹی کچھ نصابی کتابیں، سیاسی اشتہارات کے پرچے اور کئی طرح کی رسید کاپیاں۔ اس کا دل چاہتا کہ اس سارے عذاب سے ان دونوں کمروں کو نجات دلا دے تاکہ اس کمرے کے ساتھ ساتھ گھر کے مکین بھی کچھ کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔
اس نے اوپر کی بالکنی سے نیچے جھانکا۔ دھوپ چھاؤں نے دیوار پر پرچھائیں سی بنا رکھی تھی۔ ’’تم باہر مت نکلو، خطرہ ہے، بہت ٹریفک ہے۔ سامنے آنا ضروری ہے کیا؟ ایک طرف رہو۔۔۔‘‘ اس سناٹے میں آواز گونجی مگر اس آواز کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس کے چاروں طرف آوازیں تھیں، بے شمار آوازیں۔ گاڑی کا ہارن، کوکر کی سیٹی، کسی کے ہنسنے اور چلانے کی آواز۔ کوئی بہت قریب سے بولا تھا، ’’میرا بچہ بہت بیمار ہے۔ رام نام ستیہ ہے۔ کوئی مر گیا ہے۔‘‘ وہ بالکنی سے ہٹ گئی۔ آوازیں دھیمی ہوئیں۔ ان آوازوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سب غیر حقیقی آوازیں ہیں مگر اس کے سناٹوں کی آواز حقیقی ہے، وہ اسے لے کر ڈوبنے لگتی ہے۔ اس نے ٹی وی کھول لیا۔ ایک چینل سے دوسرے چینل پر، فلمیں، رپورٹروں کے چیخنے کی آوازیں، مضحکہ خیز مباحثوں کا پینل یا کسی سیاسی لیڈر کا مسکراتا ہوا چہرہ۔ وہ چینل بدلنا بھول جاتی ہے، جان بوجھ کر یا غلطی سے آواز کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ منسٹر کے مسکراتے ہوئے لب ہل رہے ہیں۔ ان کے پاس مسکرانے کی کیا وجہ ہے، یہ کیسے مسکرا سکتے ہیں؟ کیا دنیا میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے؟ چل ہی رہا ہو گا تب ہی کہیں سے گانے کی آواز آ رہی ہے۔ وہ اپنے اندر اور باہر کی آوازوں کا گلا نہیں گھونٹ سکتی، وہ کہیں نہ کہیں سے در آتی ہیں اور اس کی سماعت سے ٹکرانے لگتی ہیں۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آتی ہے۔ ’’سارا! کھانا کھا لو!‘‘ نانی کہتی ہیں۔
’’نانا نہیں آئے کیا؟‘‘ وہ پوچھتی ہے۔ خیالات کے بلبلوں کو لفظوں میں ڈھالنے کے لیے وہ نانا سے جرح کرنا چاہتی ہے۔
’’نہیں۔‘‘ جواب ملتا ہے۔
’’ارے آج پھر میگرین کا اٹیک ہے کیا؟ تو آرام کرو۔‘‘ ماموں زاد بہن نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ گودام میں چلی جاتی ہے۔ اسی گودام کی وجہ سے اسے نانا کے کام اور گھر سے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے وہ موٹی سی عینک آنکھوں پر چڑھائے اپنے پریس کے کاموں میں لگے رہتے تھے جو گیراج میں چلتا ہے اور اسی گیراج میں ایک چھوٹے سے علیحدہ حصے میں ان کا دفتر بنا ہوا ہے۔ کمپوزر، پرنٹر اور پبلشر کا سارا کام نانا ہمیشہ اکیلے ہی دیکھا کرتے تھے۔ نہ جانے کب سے۔۔۔؟
وہ بہت چھوٹی تھی جب دعا مانگا کرتی تھی کہ یا خدا باڑھ آ جائے اور یہ سارا کباڑ سیلاب بہا کر لے جائے مگر نہ سیلاب آیا نہ پریس بند ہوئی۔ ہاں کبھی کبھی اخبار ضرور بند ہو جاتا جب پولیس نانا کو پکڑ کر لے جاتی تھی۔ کچھ دن ان کے مہمان رہ کر وہ اپنی ملیح سی مسکراہٹ کے ساتھ واپس آ جاتے اور اخبار پھر نکلنے لگتا۔ مگر نانا کی غیر حاضری والے دورانیہ میں جب ماموں پریس چلاتے تو وہ نصابی کتابیں اور رسید کی ہی چھپائی کروایا کرتے تھے۔ وہ رفتہ رفتہ جان گئی تھی کہ نانا کے اخبار بکتے کم تھے اور گودام کی زینت زیادہ بن جاتے تھے۔ پر اب اس پلیا روڈ پر ’’آج کی آواز‘‘ کا پریس کچھ زیادہ زور و شور سے چلنے لگا ہے کیونکہ اب وقار ماموں پوری طرح اس کام میں شریک ہو گئے ہیں اور اب کمپیوٹر پر کمپوزنگ ہوتی ہے۔ وہ بھی ماس کمیونیکیشن کی پڑھائی مکمل کر کے اخبار سے منسلک ہو گئی ہے۔ ایک مستقل کالم لکھنے کا کام اس کے سپرد ہے۔ نانا اب کام میں حصہ نہیں لے پاتے، کبھی کبھی پریس کے آفس میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ماموں کو اب دماغ کی نہیں کچھ کارندوں کی ضرورت ہے۔ پریس کی دوسری مشینوں کی طرح بے جان پرزے جو سوچنا نہ جانتے ہوں۔ نانا اپنی ضعیفی کے باوجود سوچنا بھی جانتے ہیں اور ان کی اس سوچ کی ایک پہچان اور عزت بھی ہے۔ ’’آج کی آواز‘‘ کے عزیز احمد سے ہر سوچنے والا دماغ واقف تھا مگر ماموں کو اب پیسے کی ضرورت تھی۔ عزت تو نانا نے ’’آج کی آواز‘‘ کے لیے کما ہی لی تھی۔
ماموں وقار اس سے بھی کمپوزنگ کے کاموں میں مدد لینے لگے تھے مگر وہ اسے ایک کمپیوٹر کی طرح ہی کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں انسان کی طرح نہیں۔ صبح چار بجے یہ اخبار وین پر لوڈ ہو کر اپنی منزل کی تلاش میں روانہ کر دیے جاتے ہیں۔ جب سے ماموں نے کام سنبھالا ہے پولیس کم آنے لگی ہے۔ ماموں نئے زمانے کے پروردہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہمارا قانون، ہماری پولیس اور ہماری نوکر شاہی اعلیٰ ستائش کے لائق ادارے ہیں اور ان پر نکتہ چینی کرنا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔ ان کے اخبار کے صفحات پر رنگین خوبصورت تصاویر نے بھی کافی جگہ گھیر لی ہے۔ اردو زبان کی کم ہوتی ہوئی قدر کو بڑھانا وہ جانتے ہیں اسی لیے اب ’’آج کی آواز‘‘ کے صفحات پر خبریں کم اور اشتہار زیادہ لگتے ہیں۔ کبھی کبھی ماموں اور نانا میں بحث ہو جاتی ہے اور نانا دل برداشتہ ہو کر چپ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہر موقعے پر وہ گودام میں چلی جاتی ہے۔ اس شور سے گھبرا کر پناہ لینے کی اب وہ بہترین جگہ بن چکی ہے جہاں عجیب سی پراسرار خاموشی ہے۔ وہ خاموشی اس سے بات کرتی ہے، اخبار کی سرخیاں طرح طرح کی شکلوں میں اس پر منکشف ہونے لگتی ہیں۔ ان سرخیوں سے ہم کلام ہو کر اسے سکون ملتا ہے اور اس کا اضطراب کم ہونے لگتا ہے۔ وہ ان آوازوں کو آزاد کر دینا چاہتی ہے جنھیں اس گودام میں قید کر دیا گیا ہے۔ گودام کے سناٹوں میں ان آوازوں کا بین سر پٹختا ہے اور اسے پا کر ہم کلام ہو جاتا ہے۔
ان آوازوں سے دوستی کرنا اسے نانا نے ہی سکھایا ہے۔ جب وہ بہت چھوٹی تھی اس کی ماں نے اسے نانا کے گھر چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کے والد کے فوت ہو جانے پر ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور اس نئے گھر میں اس کے لیے گنجائش نہ تھی۔ وہ ماں کے آنے پر بہت چیختی، روتی، اس کے پیروں سے لپٹ لپٹ جاتی مگر ماں کی جانے کیسی مجبوری تھی؟ سارہ نہیں سمجھ پاتی اور اگر زیادہ پچھاڑیں کھاتی تو گودام میں گھسیٹ کر بند کر دی جاتی کیونکہ اس وقت وہ اس گودام کے اندھیرے کمرے سے بہت ڈرتی تھی۔ اس کی سسکیاں حلق میں گھٹ جاتیں، اوپر تلے رکھے اخبار عجیب عجیب حیوانی شکلیں بنانے لگتے جیسے اسے زندہ نگل جائیں گے۔ ماں کے چلے جانے کے بعد کبھی وقار ماموں کبھی نانی یا نانا اسے وہاں سے نکال لے جاتے۔ نانا نے ایک بار اس کے خوف کو سمجھ لیا پھر وہ اپنی انگلی پکڑا کر اسے وہاں اکثر لے جایا کرتے اور اخبار کے پرانے پرچے کھول کر خبروں، کہانیوں اور واقعات سے اس کی دوستی کراتے۔ پھر اس کی سمجھ میں آنے لگا کہ اس گھر کی بہترین جگہ یہ گودام ہے۔ ماں کے آنے کا اسے اب انتظار نہ رہتا اور آنے پر پرواہ نہ رہتی۔ اب اسے کبھی زبردستی کھینچ کر گودام میں مقید نہ کرنا پڑتا۔ ماں کے آنے پر وہ خود گودام میں آ جاتی اور ماں کے جانے کے بعد ہی نکلتی کیونکہ اس نے محسوس کیا تھا کہ ماں اپنے شوہر کے سامنے اس کی موجودگی کو پسند نہیں کرتی۔ اس لیے ماں کی بے اعتنائی سے یہاں پناہ لیتے لیتے ان آوازوں سے اس کی گہری دوستی ہو گئی۔ وہ ایک ایک کی التجا سنتی۔ اسے لگتا تھا کہ پلیا روڈ کی اس دم گھونٹو فضا، نالیوں کی بدبو اور اندر باہر کے شور سے اس کا دل جیسے گھبرا جایا کرتا ہے ویسے ہی اس گودام میں بہت سی سچی آوازوں کا گھبراتا ہو گا۔
ماموں کے نکالے ہوئے ’’آج کی آواز‘‘ میں زور شور سے اس قصبے اور شہر کی ترقی کی خبریں چھپتی ہیں مگر وہ جانتی ہے کہ یہ ترقی کسی منصوبے اور تخیل کے بغیر والی ترقی ہے۔ کوئی منصوبہ، سڑک، بجلی، پانی کچھ نہیں۔ اسے یقین نہیں آتا کہ وہ دہلی جیسے شہر کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس کے با وجود یہ بھی سچ ہے کہ شہر اور قصبوں کے مکان اور زمین کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ لوگوں کے پاس پیسے آ گئے ہیں۔ کالا بازاری کے پیسے، دھوکے اور کرپشن کے پیسے۔ ایسے پیسے والوں کی اطمینان کی خبروں کو ماموں ’’آج کی آواز‘‘ پر سجا دیتے ہیں کیونکہ انھیں بزنس کا طریقہ معلوم ہے۔ جہاں یقین نہ ہو وہاں امیدیں دھڑا دھڑ بک جاتی ہیں۔ کھلے گریبان والی تصویروں سے سجا اخبار ہر پان اور نائی کی دکان کی زینت ضرور بنتا ہے۔ ایسے اخبار لفافے بنانے اور ریک پر بچھانے کے کام میں آنے کے لیے ردی میں بک کر بھی کچھ قیمت دے جاتے ہیں۔
زندگی میں مایوسی پھیلانے والے کالم پڑھنے کی فرصت آج کسی کے پاس نہیں ہے۔ وقار ماموں اس کے لکھے کالم پر روز برستے ہیں مگر نانا کی طرح اسے بھی جھوٹی امیدوں کے پیچھے چند سچی آوازوں کی موت منظور نہیں۔ نہیں!!! وہ ان آوازوں کو مرنے نہیں دے گی۔ اخبار اور ٹی وی میں ان آوازوں کی جگہ نہیں تو کیا ہوا، وہ اپنے اخبار کے کالم میں انھیں جگہ دے گی۔ جب وہ ہر خبر کے لیے روز اخبار کے عملے کے ساتھ یہاں وہاں کی خاک چھانتی ہے تو اسے ہر خوشی، ہر خبر یا ہر ظلم اور جبر کے پیچھے بین کرتی کچھ آوازیں جکڑنے لگتی ہیں۔ مگر خبر بنانے والے ان آوازوں سے بچ بچا کر اپنی ذہانت اور مہارت سے ان خبروں کو پالش کر کے چمکا لیتے تھے اور وہ ان آلائشوں کو اپنے لیے جمع کر لاتی۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کی کون سی طاقت ان اداروں کو ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کر لیتی ہے۔ اسی لیے کوئی ریپ کیس ہو یا قتل، عوام پر کوئی جبر ہو یا کرپشن، لوگوں کا غم و غصہ سڑکوں پر ضرور ابل پڑتا اور وہ ہر بھیڑ، ہر انتشار کا خود حصہ بن جاتی ہے۔ پوری طاقت سے اس غم اور غصے کو وہاں تک پہچانے کے لیے تگ و دو کرتی ہے جہاں اس کا ازالہ ہو سکے مگر یہ غم و غصہ صرف ایک اجتماع ہوتا ہے جس پر دھا را ایک سو چوالیس لاگو کر دیا جاتا ہے۔ وہ قانون جو ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف بغاوت روکنے کے لیے بنا وہی قانون آج بھی لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لیے لاگو کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاست دان ان ہی لکیروں کو پیٹ رہے ہیں، قانون آج بھی بنتے ہیں مگر اس میں انسانیت کی فلاح سے زیادہ ذاتی مفاد کی آمیزش ہوتی ہے۔ قانون بننے کے لیے کسی نربھیا کو بے موت مرنا پڑتا ہے، کسی بستی کو جلنا ہوتا ہے۔ سڑکوں پر نو جہاد اور ریپ جیسی قانون شکنی کے بعد آرڈیننس تیار ہوتا ہے پھر اسے پاس کرنے نہ کرنے پر لڑا ئیاں ہوتی ہیں، ملک کے کندھے پر اخراجات کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اور اس درمیان عوام اپنی امید اور نا امیدی کو، اپنے احتجاج اور مایوسی کو، انڈیا گیٹ پر موم کے آنسوؤں میں بہا دیتے ہیں۔ اور جب وہ ان آنسوؤں کو اپنے کالم میں سمیٹ لاتی ہے تو وقار ماموں اس کے ایسے کالم کو اس کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ جذباتیت سے بھری ہوئی تحریر ہے، جذبات اور تجارت کا گزارہ ایک ساتھ ممکن نہیں۔
وہ اس دنیا میں کچھ روشنی، کچھ خوشی، کچھ رنگ تلاش کرنا چاہتی ہے مگر اپنی زمین سے دور بھی خوشی اور رنگ کی تلاش میں راکھ، دھواں اور خون کے علاوہ اسے کہیں کچھ نہیں ملتا۔ وہ سرحد پار سے بھی بے شمار درد سمیٹ لاتی ہے، اس کا کالم سرخ دھبوں سے داغدار ہو جاتا ہے، پشاور کے بچوں کی موت کا درد سرحد پار کر کے اس کے اندر آ کر بیٹھ جاتا ہے اور وہ اس درد کو اوڑھ لیتی ہے۔ درد جو سوال پیدا کرتے ہیں۔ ہزاروں سوال تھے جو اسے جینے نہیں دیتے تھے۔ اس کے اندر خاموشی اور آوازوں کا تصادم جاری رہتا اور وہ کالم میں اپنا درد انڈیل کر سارا بوجھ معاشرے پر منتقل کرنا چاہتی ہے مگر کالم چھپا تو وقار ماموں نے اسے بالکل بدل دیا۔ استفسار پر انھوں نے اس سے کہا، ’’تم ابھی سیکھو۔ خبر اور درد کو الگ کرنا سیکھو، یہ تمہارا ٹریننگ پیریڈ ہے۔‘‘
اس کے اندر پھر ایک چیخ گھٹ گئی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ چین سے رہنے والے ان آہوں، آنسوؤں اور دھبوں کی صرف خبروں سے بھی اپنی دنیا کو پاک کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ کیا اس ظلم پر وہ اپنے ہی اخبار میں ذرا سی جگہ نہیں پا سکتی، مگر کہہ نہ سکی۔ ماموں نے سختی سے کہا، ’’تم ان نقصانات سے واقف نہیں۔ اس لیے ایسی جذباتیت سے کام لیتی ہو، اپنا فوکس چینج کرو۔‘‘
وہ پھر نئی خبر کے پیچھے بھاگی، نئی آوازوں کے پیچھے، کبھی جن پتھ جو سیاسی تحریکوں کے لیے ممنوعہ علاقہ ہے۔ وہاں غبارے بیچنے والے اور سیر و تفریح کے شوقین کا جمگھٹا لگا رہتا تھا جیسے دنیا سیر و تفریح اور خرید و فروخت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ مگر ماموں کو نہ جانے یہاں کون سی خبر نظر آتی ہے، ان کا کیمرہ مین خوبصورت چہروں کا تعاقب کرتا ہے اور خبریں گھڑ لیتا ہے۔
’’سارا تم کہاں ہو؟ نانی پریشان ہو رہی ہیں۔‘‘ فون پر اس کے ماموں زاد بھائی زید کی آواز آئی۔
’’میں آ جاؤں گی اندھیرا ہونے سے پہلے۔‘‘ اس نے فون کاٹ دیا۔ آوازوں کے تعاقب میں وہ لوگ جنتر منتر پر آئے۔ وہاں اس وقت ہندوستان کی اس چھ کروڑ آبادی کے نمائندے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو رہے تھے۔ وہاں میڈیا اور سیاست سے نظر انداز کیے ہوئے لوگ پولیس اور قانون کی کینہ توز نظروں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے کچھ بنیادی ضرورتوں کی مانگ لے کر جمع ہو رہے تھے۔ رہنے اور کھانے کا حق، کام اور جینے کا حق مگر یہ ڈھور ڈنگر تھے، پالتو جانوروں کے برابر بھی ان کا حق نہیں تھا۔ یہ جسموں کے وہ انبار تھے جو نہ جانے کن دراڑوں سے نکل آتے ہیں، جن کے لیے کوئی بستی، روزگار یا گوشۂ عافیت نہیں تھی، جو جمہوریت پر یقین رکھنے کے لیے ہڑتالوں، ہنگاموں، نعروں پر یقین رکھتے تھے، جن کی آنکھیں خوابوں سے خالی تھیں اور ان کی جلد کا رنگ بے اعتنائی کی دھوپ میں سیاہ ہو گیا تھا۔ راحت کا نیا کالم تیار تھا۔ یہ کسی ریپ کا قصہ نہیں تھا کہ وہ بہت غیر اہم خبر تھی کیونکہ اب ہر دن ایسی خبریں آتی تھیں، یہ کوئی مسلمان اور ہندو خبر بھی نہیں تھی کہ اس پر تعصب کا الزام لگے، یہ خبر تو اس چھ کروڑ عوام کی تھی جو توجہ اور انصاف مانگ رہی تھی، جو بھک مری، باڑھ اور سوکھے کی زد میں تھی۔
گھر آ کر اس نے اطمینان سے اپنا کالم ماموں کے حوالے کیا اور سکون کی نیند سو گئی۔ دوسرے دن اخبار اس کے ہاتھ میں تھا۔ ماموں نے کالم میں کچھ تبدیلی کی تھی۔ سارا کی جمع کی ہوئی تفصیلات کے ساتھ منسٹروں کے کچھ حسین وعدوں کا اضافہ تھا، ریلی کو بہتر ڈھنگ سے سنبھالنے کے لیے نظم و ضبط کی تعریف تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں آئے اس طبقے کے نمائندوں کی آواز، ضرورت اور مقصد کی ایک ہلکی سی آہٹ بھی اس کے کالم میں موجود نہ تھی۔ اپنے کالم کو دیکھ کر وہ حیران تھی۔ جملوں کی نشست و برخاست کی تبدیلی سے اس کے کالم کا مفہوم ہی بدل چکا تھا اور اسے لگ رہا تھا جیسے یہ پوری دنیا ایک گودام ہے جس میں اسے پھر سے بند کر دیا گیا ہے۔ جہاں کچھ خوفناک ہیولے اس کی چیخوں کو اس کے گلے میں گھونٹ دیتے ہیں اور اس کی سسکیاں بھی بین کرتی ان آوازوں میں شامل ہو کر اسے خوفزدہ کر رہی ہیں اور اس کے پیٹ میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے اور اسے ابکائیاں محسوس ہوتی ہیں۔ اس کی ماموں زاد بہن اس سے پوچھ رہی ہے، ’’کیا ہوا۔۔؟ پھر میگرین کا اٹیک۔۔۔۔؟‘‘
٭٭٭
صندوق
سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد بستر پر آ کر ٹیک لگاتے ہوئے لگتا جیسے میرا وجود چار سمتوں میں تقسیم ہونے کی رسہ کشی میں مبتلا ہے۔ جسم کو جب آسائش، مصنوعات، زیبائش اور نمود کی خواہش میں بے جا مصروفیات کے لیے کولہو کا بیل بنا دیا جاتا ہے تو روح ان بندشوں سے راہِ فرار کی تلاش میں سر پٹکتی ہے۔ مصروفیات اور گہما گہمی کی اس دنیا میں جسم اور روح کے مرکب وجود کے اندر بوند بوند جمع ہوتی ہوئی اداسی اور خالی پن، تضاد کا شکار ہو کر کھلے ماحول، ہریالی اور مٹی کی سوندھی مہک کے پیچھے بھاگنا چاہتا ہے۔ جہاں مٹی کی سوندھی مہک کے ساتھ خالص محبت اور وافر اوقات اپنے اور اپنوں کے درمیان گزارنے کے لیے ہوتے تھے مگر اب یہ ہوتا ہے کہ ہم کرنا کچھ چاہتے ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں، آخر میں ہاتھ اور پیر، دل و دماغ سب بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت بھی جسم کے ہر حصے نے بغاوت کر دی تو میں بے جان سی بستر پر پڑی رہی مگر دماغ بہت تیزی سے گردش میں تھا۔ وہ ابھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا، نظر نے دماغ کا ساتھ دیا اور سامنے کے صندوق پر میری نظر ٹک گئی۔ دماغ نے دل کو بہکایا کہ اٹھو اور اپنی جادو کی اس پٹاری کو کھولو، جس میں طرح طرح کے سنہرے دن، منقش یادیں اور اجلے اجلے خواب بند ہیں، جنھیں وقت بے وقت نکالنے سے مردہ روح توانا ہو جاتی ہے مگر حالات ایسے ہیں کہ روح کو توانا کرنے کی مہلت بھی نہیں دیتے۔ دل نے سرگوشی کی کہ اٹھو ذہن تو پہلے ہی صندوق پر سوار ہو چکا تھا مگر جسم کے باقی حصوں نے انکار کر دیا۔ میں دماغ کی سازش پہچان رہی تھی، دل کی ماننا چاہتی تھی اور ہاتھ پیروں کی بے کسی سمجھ سکتی تھی۔ رسہ کشی چلتی رہی اور میں خاموش تماش بین بنی یہ سب دیکھتی رہی-
پھر ایک کہانی شروع ہوئی جس میں امی تھیں مگر نہیں… یہ ایسے تو نہیں شروع ہوئی تھی۔ یہ میرے حال سے شروع ہو کر ماضی کے سفر پر نکلنے کی کہانی تھی، جہاں میں اور میری بیٹیاں ہیں، جینے کی جد و جہد ہے اور بے شمار بے جا مصروفیات ہیں۔ جو نہ کبھی کسی کے اندر جھانکنے کا وقت دیتی ہیں نہ باہر کی وسعتوں سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دیتی ہیں کہ یہ وسعتیں بڑی آلودہ ہو چکی ہیں۔ ان میں نکلنے سے خوف آتا ہے، دم گھٹتا ہے، اس سے بہتر تو یہ صندوق ہے جسے کھول کر میں ایک خوب صورت جوڑا لیے کھڑی ہوں گو مگو کی کیفیت میں۔ یہ جوڑا بہت پہلے کا بنا ہوا ہے۔ ہاں! بہت پہلے کا۔ لیکن اس وقت بھی میں کہیں کی شہزادی نہیں تھی مگر ایک جادوئی محل میں رہتی تھی۔ جہاں خوشی کا احساس صرف سفید اور اودے بادلوں، تتلیوں کے لمس اور شوخ رنگوں میں یا آسمان کی نیلی روشنی یہاں تک کہ دھول بھری طویل دوپہر میں درختوں کے سائے میں تھا۔ جب زندگی میرے لیے پرانے بکسے سے نکلے رنگ برنگے ریشم کی طرح لش لش کرتی سامنے پھیلی تھی جس میں لپٹ کر مجھے خود کو بادلوں سے بھی ہلکا اور نرم محسوس کرنا تھا۔ میری زندگی کسی سند باد یا الف لیلیٰ کی داستان نہیں تھی پھر بھی لگتا جیسے پریاں ہر وقت مجھے کسی جادوئی قالین پر بٹھا کر ایسے دیس میں لے گئی تھیں جہاں تحیر، تجسس اور دلچسپی تھی، جہاں مٹ میلی پیلی روشنی میں ہر رنگ ہر شبیہ پگھلی ہوئی سی لگتی، جہاں بڑے بھائی بہنوں کی ہنسی اور سرگوشیاں، امی کے پکوان اور ابا کی گھرکیوں کی تہہ میں لگتا جیسے کوئی اور شے ہو، جا دو جیسی کوئی بات!!! دماغ کے آس پاس دھند کا ایک دبیز کہرا اور اس کے پار ہر نقش، ہر بات، ہر یاد بہت ملائم، خوبصورت اور رنگین۔ یہ وہ جوڑا ہے جسے میری امی نے برسوں کی ریاضت سے تیار کیا تھا، جس کے ایک ایک ٹانکے میں انھوں نے اپنے خوابوں کے ستارے ٹانکے تھے، جس کا ہر دھاگا ان کی دعاؤں سے پرویا گیا تھا، جس میں تہہ در تہہ ان کی جائز ضرورتوں کی قربانیاں بچھا دی گئی تھیں۔ وہ جوڑا خوابوں، دعاؤں اور قربانیوں کے بوجھ سے اتنا بھاری ہو گیا تھا کہ میں گزرتے ہوئے ماہ و سال کے ساتھ اسے ہمیشہ نکال کر دیکھتی اور اس کی تہہ میں اپنے بھی کچھ خواب سجا کر اسے واپس صندوق میں ڈال دیتی۔ آج میں گو مگو میں تھی جیسے اپنے اور اپنی ماں کے خواب کسی کے سپرد کرنا چاہتی ہوں۔ میں کسی شہزادی کی تلاش میں بیٹیوں کے پاس گئی کہ کوئی تو یہ جوڑا پسند کر لے مگر وہ کامدار جوڑا دیکھ کر راغب نہیں ہوتیں۔ وہ سادہ مگر برانڈڈ کرتیاں جینز پر پہنتی ہیں، پیر میں کولہا پوری چپلیں ڈال کر ہمیشہ وقت کا پیچھا کرتی نہ جانے کس سمت بھاگ رہی ہیں۔۔۔؟ نہیں جانتیں کہ وقت سے قدم ملا نا نا ممکن ہے۔ وہ ہم پر سے گزر جاتا ہے، ہمیں روند کر مگر میں دل سے قدر بھی کرتی ہوں ان کے اس خیال کی کہ ہر آنکھ کو اپنے خواب خود دیکھنے چاہییں مگر وہ نہیں جانتیں کہ نئی آنکھوں سے خواب نوچ کر ان میں خوف اور دہشت بھرنے کا کاروبار چل پڑا ہے۔
میں نہ جانے کیسے اس جوڑے کے ساتھ ماضی کے سفر پر نکل جاتی ہوں مگر اس احساس کے ساتھ کہ ماضی میں زندہ ہوں اور حال کو ایک دوسرے شہر کے محفوظ کمرے میں چھوڑ آئی ہوں۔ حیران بھی ہوں کہ حال کی گرفت سے چھوٹ کر ماضی کی طرف مراجعت کیسے ممکن ہوئی۔ مگر بہت خوش ہوں جیسے بہت ہلکی ہو گئی ہوں، جسم کے بوجھ سے آزاد، ایک روح کی مانند۔ بے سر و سامانی بھی پریشان نہیں کر رہی بس کندھے سے جھولتا ایک بیگ ہے اور اس میں وہی بھاری کامدار جوڑا۔ ہاتھ میں ناکافی پیسے اور پیروں میں چپل بھی نہ جانے کس کی پہن آئی ہوں مگر ایک عجیب سا شوق ہے۔ چلی جا رہی ہوں، پیچھے جو کہ میرا حال ہے اسے چھوڑ آنے کی فکر بھی ہے، سب کی ناراضگی کا خوف بھی مگر یہ شوق ہر فکر پر بھاری ہے۔ میں جانتی ہوں کہ بتا کر میں وہاں سے نہیں نکل سکتی تھی اور مجھے آنا ہی تھا۔ آنکھیں ترس رہی ہیں اس کوچہ و در کو دیکھنے کے لیے۔ اب میں ایسی گلیوں میں ہوں جو سب جانی پہچانی ہیں۔ ارے یہ تو وہی موڑ ہے جس کے سگنل کے کھلنے کے انتظار میں رکشے پر گھنٹوں بیٹھنا پڑتا تھا مگر اس کے اطراف میں نہ کوئی میدان ہے، نہ اس میدان میں درختوں کا کوئی سلسلہ جس کی چھتنار چھایا میں تھکے ہوئے مسافر سستایا کرتے تھے۔ وہاں ایک برج بن گیا ہے اس لیے لمبی مسافت والے اب رک کر سستاتے نہیں بس گزر جاتے ہیں۔
اس وقت بھی اسی موڑ پر رکشے میں بیٹھی ہوں۔ میرے ساتھ دو اجنبی سواریاں ہیں، ایک خستہ حال ادھیڑ عمر عورت شکل سے مسلمان لگتی ہے اور دوسری سانولی نک چڑھی نوجوان عورت جو یقیناً ہندو ہے۔ آج رکشہ یہاں سگنل بند ہونے کی وجہ سے نہیں کھڑا بلکہ سامنے ایک جلوس جا رہا ہے۔ کس بات کا شور ہے سمجھ نہیں آ رہا، رکشے پر ان دو عورتوں کے درمیان میں کب وارد ہوئی نہیں جانتی مگر دونوں میری وجہ سے ادھر ادھر سے جھک کر تکرار کر رہی ہیں۔ میں وجہ جاننا چاہتی ہوں کہ بحث کس بات کی ہے مگر وہ نک چڑھی لڑکی نہیں بتاتی۔ اس میں مجھے اپنی ایک سہیلی کی شباہت نظر آ رہی ہے۔ کیا یہ اس کی بیٹی ہے؟ مگر دل نہیں مانتا۔ وہ تو بہت اچھے مزاج کی تھی۔ ہولی میں بنائے گئے مال پوئے کا ذائقہ آج تک زبان پر ہے اور عید پر اس کی سویوں کی فرمائش کیسے بھول سکتی ہوں۔ مگر اس لڑکی کے چہرے پر ایسا کوئی رنگ ہے جو ہولی اور عید کی ساری خوشیوں پر حاوی ہو گیا ہے، ایک زرد سا پھیکا رنگ۔ میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں مگر مسلمان عورت دھیرے سے اشارہ کرتی ہے کہ میں خاموش رہوں۔ مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ تکرار جلوس سے متعلق ہے اور ان کی تکرار سیا ست اور مذہب پر ہے۔ جلوس چھٹتے ہی وہ نک چڑھی لڑکی رکشے سے اتر کر غائب ہو جاتی ہے۔ میں اسے روکنا چاہتی ہوں مگر وہ عورت مجھے روکنے نہیں دیتی جیسے کسی مصلحت سے مجھے با ور کرانا چاہتی ہے۔ میں اس کے التفات سے تنگ ہو رہی ہوں۔ میں آزاد خیال، نڈر اور بے باک ہوں، اپنے ارادوں، خوابوں اور زندگی کے لیے کوئی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتی۔ وہ مخلص، بدحال ادھیڑ عمر عورت جیسے صدیوں سے میرے پیچھے ہے، مجھے گریز سکھاتی ہے، مجھے لگتا ہے جیسے میرے خواب کے اور میرے درمیان وہ ہمیشہ حائل ہوتی رہی ہے۔ میں حال کی بندشوں سے کتنی مشکل سے فرار حاصل کر پا ئی ہوں۔ آج میں آزاد رہنا چاہتی ہوں، ہر گریز اور بوجھ سے۔ وہ میری گلی میں رکشہ موڑنے کو کہتی ہے مگر مجھے شک ہے کہ یہی میری گلی ہے۔ یہ تو میرے حالیہ شہر سے مشابہت رکھتا ہے، طویل قامت عمارت نے ہر جگہ سر اٹھا رکھا ہے، منزل پر پہنچنے کی جلد بازی اور خوشی میں بھی مجھے احساس ہے کہ اس پر خلوص عورت کے لیے مجھے کچھ کرنا چاہیے مگر میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ میں اس کے حصے کا کرایہ بھی دے سکوں۔ ایک دم یوں لگا جیسے میرے دل کا چور اس عورت نے پکڑ لیا اور صرف نرمی سے مسکرائی۔ مجھے اس نرمی سے چڑ سی ہو رہی ہے۔ اب میری ساری توجہ اپنے دیرینہ گھر کو دیکھنے کی جستجو میں آگے سڑک پر ہے۔ میں اچانک انگلی اٹھا کر کہتی ہوں کہ یہی ہے میرا گھر اور تڑپ کر اترتی ہوں۔ اتنا شاندار سجا ہوا بالکل نیا بنا ہو جیسے۔ ذہن سے چپکا ایک بوسیدہ بوڑھا مکان سرک گیا سامنے نئے پیرہن میں وہی گھر کیسا خوبصورت لگ رہا ہے۔ میں نے کبھی تخیل میں بھی اسے ایسے آراستہ نہیں کیا تھا۔ کس نے سجایا ہو گا؟ اب کون رہتا ہے یہاں؟ میری حیرانی فزوں تر ہو رہی تھی۔ میں رکشے سے کود کر اتری، وہ عورت بھی میرے ساتھ اتر آئی تو مجھے ناگوار گزرا۔ ایسے خوبصورت وصال کے لمحوں میں ایک اجنبی کی شمولیت مجھے منظور نہیں تھی۔ میں ذرا رعونت سے آگے بڑھ گئی۔ میری سرد مہری سے ٹھٹھک کر وہ عورت چند سیڑھیاں چڑھ کر با ہری منڈ یر پر ٹک گئی اور میں نے غنیمت جانا۔ سب سے ملنے کے بعد اسے اندر بلا لوں گی۔ نہ جانے کون ہے یا یہیں پر چائے بھجوا دوں گی۔
اندر برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے میں سوچنے لگی کہ عجیب بات تھی مکان تو نئے پیرہن میں تھا مگر باہری منڈیر ماہ و سال کی مار سے بوسیدہ ہو رہی تھی۔ میں نے برآمدے میں قدم رکھا۔ یقین نہیں آتا یہ میرے سیدھے سادے والدین کا وہی سیدھا سادہ برآمدہ اور وہی کمرہ ہے۔ کونے والی میز پر کیسے خوبصورت ڈیکوریشن پیسز رکھے ہوئے ہیں۔ نئے چمکتے ہوئے صوفے اور دروازوں پر پردہ۔ میں حیرانی سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی کہ چھوٹی بھتیجی شازیہ اندر سے نکلی، حیرانی سے میری طرف دیکھا اور لپٹ کر رونے لگی۔ میں بھی رو رہی تھی تب ہی آپا نمودار ہوئیں۔ خوشی سے ایک چیخ ما ری، ’’تم!! اب فرصت ملی ہے؟‘‘ انہوں نے محبت سے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ ان کی آنکھیں نم تھیں مگر چہرہ خوشی سی دمک رہا تھا۔ ہلچل کی آواز پر امی آئیں۔ ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ شدتِ جذبات سے یا جب وہ کچن سے اٹھ کر آتیں تو ایسے ہی چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا۔
میں نے شازیہ سے پوچھا، ’’یہ گھر کس نے آراستہ کیا؟ جاوید نے؟؟‘‘ پھر میں نے غور کیا کہ امی بار بار باہر کی طرف اس خستہ حال عورت کو دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے ساتھ ہے؟
میں نے کہا، ’’نہیں!!‘‘ اور ایک اچٹتی نگاہ باہر ڈالی۔ اس کے چہرے پر انتظار تھا مگر کس بات کا؟ میں سمجھ نہیں پائی۔ میں ابھی اپنی اس خوشی کو جینا چاہتی تھی جس میں امی تھیں، آپا تھیں اور میرا جدی گھر بوسیدہ نہیں بلکہ آراستہ تھا۔ جہاں بھتیجے بھتیجیوں کی کامیابیاں نقش تھیں مگر پھر کہانی کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ ماضی، ماضی بن گیا اور میں حال میں بغیر کسی سفر کے واپس آ چکی تھی۔ تخیل میں ایک بوسیدہ گھر ابھرا جہاں ایک خستہ حال ادھیڑ عمر عورت ٹوٹی ہوئی منڈیر سے ٹیک لگائے آج بھی ٹکی ہوئی ہے۔ ہاں اب اس کے ہاتھ میں وہی بھاری کامدار جوڑا ہے جسے میں اتنے سالوں سے ڈھو رہی تھی۔ شاید اس پر مہربان ہو کر میں نے اسے یہ پکڑا دیا ہو مگر وہ خستہ حال عورت حیران سی آج بھی وہیں کیوں بیٹھی ہے؟ کون ہے وہ؟؟؟
٭٭٭
انگلی کی پور پر گھومتا چاند
کمرے میں اندھیرا در آیا تھا۔ زاہدہ بی نماز پڑھ کر بمشکل اٹھیں اور دھیرے دھیرے سنبھل کر چلتے ہوئے دریچے تک گئیں اور اس کے دونوں پٹ کھول دیے۔ کام والی لڑکی اب تک نہیں آئی تھی۔ انھوں نے آنکھیں سکوڑ کر کھڑکی کے قریب میز کا سہارا لے کر باہر آنگن میں دیکھا مگر وہاں سناٹے اور اندھیرے کے علاوہ کوئی آہٹ، نہ کوئی روشنی نظر آئی۔ وہ وہاں سے ہٹتے ہوئے بدبدائیں، ’’دریچے اس لیے تو نہیں کھلے رکھے جاتے کہ ان سے تاریکی در آئے مگر جب باہر اندھیرا ہو تو اجالا کہاں سے اندر آئے گا۔‘‘
ملازمہ ضرور آس پڑوس میں کام کی لیے نکلی ہو گی تو اب تک نہ لوٹی ہو گی ورنہ آنگن والے کونے کی کمرے میں روشنی ضرور ہوتی اور انھیں یہ تسلی ہو جاتی کہ وہ بس اب آ ہی رہی ہو گی۔ اب وہ خود کسی کام کی نہیں رہ گئی تھیں، چاہیں بھی تو لالٹین نہیں جلا پائیں گی، ماچس ملے گی نہ کمزور ہاتھوں سے شیشہ صاف ہو سکے گا۔ بجلی تو کبھی اس قصبے میں جلدی آتی ہی نہیں پھر بھی سوئچ بورڈ تک جا کر سوئچ آن کیا۔ جانے موبائل بھی کہاں رکھ کر بھول گئی ہیں، اب قویٰ کمزور ہو گئے ہیں، ٹھیک سے دکھائی دیتا ہے نہ کچھ یاد رہتا ہے۔ انھوں نے کھڑکی کے قریب جا کر میز پر موبائل تلاش کرنا چاہا پر کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ مایوسی سے دریچے کے قریب لگے اپنے بستر پر بیٹھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر میز پر پھر کچھ ٹٹولنے کی کوشش کرنے لگیں اور مایوس ہو کر ہاتھ کھینچ لیا۔ انھیں مغرب کے وقت کمرے میں اندھیرا سخت نا پسند تھا مگر یہ لڑکی کبھی وقت پر کام کرنے نہیں آتی۔ اب جب وہ آئے گی تب ہی روشنی ہو گی یا موبائل اور چشمہ ملے گا۔ آج برسات کی یہ شام، یہ کا لی شام، ان کی نظروں میں کیسی سیاہی لے کر اتر رہی ہے۔ اس سیاہی نے کیسی معصوم خوشیوں کو، کتنے نازک احساسات کو، رشتوں کی صداقت اور پاکیزگی کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا ہے۔ انھیں لگا کہ ان کا دل ان جانے بوجھ سے دبا جا رہا ہے۔ یہ غربت کی سیاہی ہے نہ بجلی بتی کی کمی۔ یہ اندھیرا تو اپنوں سے دوری کا ہے۔ چار بیٹوں کی ماں ہوتے ہوئے بھی وہ اس عمر میں تنہا رہ گئیں کہ ایک لائیٹ جلانے کے لیے اوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جس گھر میں اولاد ہوتے ہوئے روشنی نہیں، آواز نہیں، وہاں سے برکت اور خوشیاں تو روٹھ ہی جائیں گی۔ ’’یا اللہ تو نے انسانوں کو زندگی صرف اس لیے عطا کی ہے کہ اس سے عبرت حاصل کی جائے‘‘ وہ بدبداتی ہوئی اٹھیں اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی صحن میں نکل آئیں۔
یہاں پر رکھی چوکی پر بیٹھتے ہوئے انھیں وہ دن یاد آئے جب اسی چوکی پر اپنے آخری وقت میں ان کے شوہر بیٹھا کرتے تھے۔ کتنے تنہا، بے بس اور کمزور لگنے لگے تھے اپنے آخری دنوں میں۔ اپنی کرب ناک سوچوں کے ساتھ پہروں اسی پر تنہا بیٹھے رہتے جبکہ انھوں نے اپنی زندگی میں کیا کچھ حاصل نہیں کیا۔ دولت، عزت اور اتنے سارے بیٹے، بہو اور پوتے پوتیاں۔ جنھیں وہ ہر دولت سے بڑھ کر اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔ اور سب سے چھوٹی چار بھائیوں کی اکلوتی بہن منی۔ ان کے گھر کی رونق، ان کی بیٹی مگر آخیر وقت میں بچوں کی جدائی کا صدمہ انھیں ایسا لگا کہ زندگی سے ہی منہ موڑ گئے۔ ’’میرے بارے میں بھی نہ سوچا، کم از کم دونوں ایک دوسرے کے سہارے جی تو رہے تھے‘‘۔ وہ چوکی پر بیٹھے بیٹھے خاموشی سے باتیں کرنے لگیں۔ جب جب وہ خاموشی کو خود سے مخاطب پاتیں تو ماضی کے لمحوں کے بے شمار جلتے بجھتے چراغ ان کے اندر روشنی بھر دیتے اور وہ باہر پھیلی تاریکی سے بالکل لا تعلق ہو جاتیں۔ باہر کی تاریکی سے اندر کی روشنی تک کا سفر کرنا انھوں نے بڑی ریاضت سے سیکھا تھا۔ یہ سیکھتے سیکھتے چہرے کی سلوٹوں کی تہہ میں کئی خوشیوں کی جوت، کیسے کیسے آنسوؤں کی نمی سمٹ آئی تھی اور چہرہ گئے وقتوں سے ساری ملاحت سمیٹ کر معصومیت اور نور کا ہالہ بن گیا تھا۔
وہ اندھیرے برآمدے میں نہ جانے کب تک یوں ہی بیٹھی رہیں اور خاموشی ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہی۔ کبھی اپنے چاروں طرف بچوں کی ریل پیل محسوس کرتیں، کبھی اپنے بزرگوں کے آگے خود کو دوڑتا بھاگتا محسوس کرتیں، کبھی حسین پل کے چراغ ان کی جھریوں میں مسکراہٹ کا اجالا بکھیر دیتے تو کبھی کسی کی جدائی کے لمحوں کی کسک آنکھوں میں نمی بن کر تیرنے لگتی۔ بچوں کی بہتر تعلیم نے انھیں دنیا میں وہ مقام دلایا کہ چاروں بیٹے چار ملکوں میں جا بسے۔ بس ایک بیٹی ہے جو اپنے ملک میں اور قریب کے شہر میں بس گئی اور ہر کچھ دن بعد آ جاتی ہے۔ وہی ضد لے کر کہ امی میرے ساتھ چلیے اور ہر بار وہ ٹال جاتی ہیں۔ وہ یہ سوچ کر رہ جاتی تھیں کہ چار بیٹوں کے ہوتے ہوئے داماد کے سر جا پڑوں اور کہیں بیٹوں کو شکایت نہ ہو جائے کہ امی نے ان کے ساتھ رہنا گوارہ نہیں کیا۔
بیٹوں کے پاس گئی تو تھیں مگر سب جانے کس مصروفیت میں رہتے ہیں۔ وہاں بھی تو انھیں سارا دن اجنبی ملک میں تنہا ہی رہنا تھا تو ایسی عمر میں مٹی کی پکار کو وہ کیسے ان سنا کر دیں۔ یہاں بیٹوں نے ان کے لیے آسائش کا سارا سامان مہیا کر دیا ہے۔ ہر سال آتے بھی ہیں کچھ نہ کچھ نئے زمانے کا تحفہ لے کر، بجلی سے چلنے والی بے شمار چیزیں جو یہاں آ کر ڈبہ بن جاتی ہیں۔ اپنے والد کی موت کے بعد بیٹوں نے انھیں کتنا بڑا سا فون لا کر دیا کہ امی آپ تنہا رہتی ہیں اسے ہر وقت پاس رکھا کریں۔ پوتے نے کتنی مشکل سے انھیں سمجھایا کہ یہ واٹس ایپ ہے، یہ فیس بک میسنجر اور یہ فون ریسیو کرنے کا طریقہ۔ وقت اور ضرورت نے انھیں فون کا استعمال تو سکھا دیا مگر اپنے بھلکڑ دماغ کا کیا علاج کریں۔ بجلی تو آتی جاتی رہتی ہے مگر کئی بار وہ موبائل چارج کرنا بھول جاتی ہیں۔ اتنی پریشانیوں کے باوجود نہ جانے کون سی طاقت انہیں یہاں سے باندھے رکھتی ہے۔ سارے گزرے ہوئے دن، سارے زندہ خوبصورت لمحے ان کے اسی کھنڈر نما گھر اور جسم میں ایک ساتھ سانس لیتے ہیں اور سانس کی یہ ڈور وہ اپنے آخری وقت تک تھام کر رکھنا چاہتی ہیں، مرنے سے پہلے نہیں مرنا چاہتیں۔ آنگن میں اگی خود رو جھاڑیاں جس طرح دہشت زدہ کھڑی لرزتی رہتی ہیں ویسے ہی ان کا دھواں دھواں وجود تنہائی میں دہشت زدہ سا یہاں وہاں ڈولتا رہتا ہے۔ کبھی بان کی ڈھیلی چارپائی پر تو کبھی نماز کی چوکی پر نماز ختم کر کے دعا مانگنے کے بعد۔ وہ آنگن کے کونے میں لگے اس گھنے درخت کو ایک ٹک دیکھے جاتیں جس کے نیچے خزاں رسیدہ پتوں کا ڈھیر سا جمع رہتا مگر خیالوں میں وہ روشن دن اجاگر ہوتے جب گرمیوں کی ہر شام اس کے نیچے صفائی کر کے پانی کا چھڑکاؤ ہوتا اور ایک تازہ اور ٹھنڈا پانی کا مٹکا وہاں رکھا جاتا مٹی کے کورے پیا لے کے ساتھ اور ہر آتا جاتا وہاں رک کر ٹھنڈا میٹھا پانی پیتا، ان کے شوہر کے پاس کچھ دیر بیٹھتا اور ایک کپ چائے پی کر رخصت ہوتا۔ اب ابتری ہے، تنہائی ہے مگر پھر بھی وہ خود کو یہاں محفوظ و مامون سمجھتی ہیں۔ یہاں کی ہوا اسی قبرستان سے گزر کر سرگوشیاں کرتی ہوئی آتی ہے جہاں ان کے سارے بزرگ اور اپنے محوِ خواب ہیں۔ کبھی کبھی تو تہجد پڑھتے وقت انہوں نے واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ ان کے نورانی پیکر ان کے اس پاس موجود ہیں، مسکراتی نظروں سے انھیں دیکھ رہے ہیں اور وہ بے چین ہو جاتیں ان کے ساتھ جانے کے لیے مگر دوسرے لمحے سب غائب ہو جاتے اور انھیں لگتا یہ ان کا واہمہ تھا۔ مگر بہت دیر تک کمرے کی فضا معطر رہتی اور وہ سرشار سی بیٹھی دعاؤں کا ورد کرتی رہتیں۔ جی چاہتا کوئی آس پاس ہو تو اس سے پوچھیں، ’’کیا یہ عطر کی خوشبو تمھیں بھی آ رہی ہے؟ یا یہ بھی میرا واہمہ ہے؟‘‘
’’اماں کمرے میں چلیے، رات ہو گئی۔‘‘
کام والی کی آواز پر وہ چونک گئیں۔ ’’تو کب آئی؟‘‘
’’کب کی۔۔۔ کام بھی ختم، روٹی بنا دی ہے۔ وقت پر کھا لیجیے گا۔‘‘ وہ انھیں اندر لے جا کر بستر پر بٹھاتی ہوئی بولی۔
’’لالٹین جلائی؟‘‘ انھوں نے پوچھا تو رانی ہنسنے لگی۔
’’بجلی تو آ گئی اماں پھر لالٹین کس لیے۔‘‘
’’دیکھ مجھ سے بحث نہ کر، بجلی کا کیا ہے ابھی پھر چلی جائے گی۔‘‘ وہ ناراض ہوئیں۔
’’اماں منی باجی منع کرتی ہیں کہ رات میں لالٹین نہ جلایا کرو۔‘‘
’’میں منی سی تیری شکایت کروں گی۔ تو کبھی وقت پر نہیں آتی۔‘‘
رانی ہنسنے لگی۔ ’’اور جب آتی ہوں تو بھی آپ کو کہاں پتہ چلتا ہے۔‘‘
رانی اپنا کام بھلے برے ختم کر کے چلتی بنی۔ وہ ان کی خاموش ویران آنکھوں میں کبھی نہ جھانکتی۔ جو اندھیرے کوئیں جیسی یادوں کا سارا کچرا سمیٹ کر کہیں دور ڈوب گئی تھیں۔ ان کے جھری بھرے چہرے کی مسکراہٹ کے اجالے کو بھی نہ سمجھتی جو اپنے ضعیف ہاتھوں میں موبائل ڈھونڈ کر مضبوطی سے تھامتیں اور بار بار اس سے پوچھتیں، ’’دیکھ تو رانی! اس کی بیٹری تو ختم نہیں ہو گئی۔‘‘ رانی کام کر کے رخصت ہوئی تو ان کے چہار طرف اگر کوئی چیز ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھی تو وہ اس کمرے میں موجود چھپکلی اور چوہے تھے۔ یہ جاندار ہمیشہ سناٹے اور سونے پن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں شاید اس لیے کہ یہ انسان کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔ زاہدہ بی اب دھیرے سے تکیے کے سہارے نیم دراز ہو گئیں۔
کیا یہ ان کا وہی گھر ہے؟ ہنستا چہکتا مہکتا۔ نہیں!! یہ تو بالکل اجنبی ماحول ہے۔ کسی نے ایسے گھر اور گاؤں کی تمنا نہیں کی تھی۔ جانے یہ کیسی سیاہی ہے جس نے ان کے سارے جذبے سارے احساس کو نگل لیا ہے۔ زاہدہ بی نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ چار بیٹوں کے باوجود اس گھر میں سناٹا وقت سے پہلے در آیا تھا، سب کے ہوتے ہوئے بھی۔ اور اسی غم میں ان کے شوہر چلے گئے اور اب یہ تنہائی ان کا مقدر ہے۔ یہ کیسا بکھراؤ ہے اور کیوں ہے یہ بکھراؤ؟ انھیں اب اپنے بچوں کا ایک ایک چہرہ یاد آنے لگا۔ ہر چہرے میں اب بھی وہی ملاحت وہی کشش ہے جو کبھی اس گھر اور یہاں کی محفلوں کی جان ہوا کرتی تھی۔ جو چہرے اس آنگن کی پیشانی کا چاند تھے وہ اب ایسے ہی غروب ہو چکے ہیں جیسے برسات کی اس کا لی شام نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنگن میں بسیرا کر لیا ہو۔ وہ آج بھی دلوں میں موجود محبت اور خلوص کی حرارت کو محسوس کر سکتی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ درمیان میں میلوں کی مسافت نے محبت کی اس حرارت کو نگل لیا ہے۔ دل ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر دھڑک رہے ہیں، اپنی اپنی زندگی پوری کر رہے ہیں۔ مگر اب آنگن کی پیشانی پر کوئی چاند نظر نہیں آتا۔
ہلکی سی ٹوں ٹوں کی آواز نے انھیں ان کی سوچوں کے بھنور سے کھینچ لیا۔ وہ چونک کر سیدھی بیٹھ گئیں۔ تکیے کے نیچے سے آواز آئی تھی۔ تو موبائل یہاں ہے۔ انھوں نے تکیہ اٹھایا، موبائل کی اسکرین روشن تھی۔ ان کے سارے چاند موبائل کی اسکرین پر فیس بک میسنجر میں اتر کر معدوم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے کانپتے لرزتے ہاتھوں میں مضبوطی سے موبائل کو تھاما اور نرمی سے اپنی انگلی کی پور سے فیس بک میسنجر کو چھوا۔ گول گول چاند کی طرح کئی چہرے اسکرین پر جگمگا اٹھے۔ چشمہ نہیں تھا آس پاس اس لیے پیغام پڑھ نہیں سکتی تھیں۔ اس لیے انھوں نے باری باری ہر چہرے کو ایسی نرمی سے چھوا جیسے اپنے بیٹوں کے چہروں کو چھو رہی ہوں۔ وہ اس چاند کو چھو تو سکتی ہیں، انھیں دل بھر کر اپنی انگلیوں کی پوروں سے اسکرین پر گھما بھی سکتی ہیں مگر انگلی کی پور پر گھومتا ہوا یہ چاند ان کی زندگی کے اندھیرے آنگن میں روشنی نہیں بکھیرتا۔ یہ ایک چھلاوہ ہے، یہ ایسا چاند ہے جو کبھی کبھی ٹوں ٹوں کی آواز سے اپنے موجود ہونے کا احساس کروا جاتا ہے مگر اس چاند میں اتنی بھی طاقت نہیں، اتنی بھی روشنی نہیں کہ ان کی آنکھوں سے ڈھلکتے ہوئے آنسو کسی کو نظر آ سکیں۔
٭٭٭
یہ عجیب عورتیں
نظروں کے سامنے گہری دھند تھی، گرد و غبار تھا شاید۔ اس کا چہرہ ذرا سا چمکا تھا اس دھند کے پیچھے مگر شور اور بھیڑ میں وہ گم ہو گئی۔ میں نے اسے دوبارہ دیکھنے کی جستجو کی مگر نہیں! دھند بہت گہری ہے۔ یہ گرد و غبار نہیں کہرا ہے شاید یا رات کا ملگجا اندھیرا۔ میری جستجو جد و جہد میں بدل گئی۔ میں اسے دیکھنا چاہتی تھی مگر مجھے اس بھیڑ میں زور کا دھکّا لگا اور میں لڑکھڑا گئی۔
’’عجیب عورت ہے۔‘‘ کوئی بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اور میں اپنی جگہ کھڑی اچانک بھیڑ سے الگ ہو گئی جیسے ہوا میں معلّق۔ ہاں کسی کو پہچاننے کا یہ طریقہ صحیح ہے۔ میں نے ایک لمبی سانس لی اور اس چہرے کو یاد کرنے کی کوشش کی، کون تھی وہ؟ حجاب تھا اس کے چہرے پر یا نہیں؟ وہ تو برہنہ سر گھوم رہی تھی۔ شاید نوجوان سی تھی مگر پیشانی پر چند لکیریں بڑی واضح تھیں۔ پر یہ اچانک میں اس کے پیچھے کیوں پڑ گئی تھی۔ مجھے یاد آیا جب وہ میرے پاس سے گزری تھی تو کسی نے کہا تھا۔ ’’عجیب عورت ہے یہ۔‘‘ اور میں نے تجسس میں ادھر نظر دوڑائی تھی مگر وہ چہرہ سمجھ میں نہیں آیا تھا لیکن بہت شناسا بھی لگا تھا اور تب سے کانٹا سا بن گیا تھا اور دل میں چبھ رہا تھا۔ ایک معمّے کی طرح اور میں اس معمّے کو حل کرنا چاہتی تھی۔ کسی نے دھکّا دے کر مجھے بھی تو عجیب کہا تھا۔ یہ تو ایک ایسا خطاب ہے جو کبھی نا کبھی ہر عورت کو ملتا ہے کیونکہ وہ دنیا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خود کو نہ جانے کتنے سانچوں میں ڈھالتی چلی جاتی ہے اور بدلے میں اسے اس خطاب سے نواز دیا جاتا ہے۔
میں اپنی جستجو چھوڑ کر گھر واپس جانا چاہتی تھی مگر راستے کی دھند میں جیسے کھو گئی تھی۔ نظر نے ساتھ دینا چھوڑ دیا مگر میری سوچ نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔ میں اپنے ذہن میں ان عجیب عورتوں کا خاکہ مرتّب کرتی رہی۔ اور کیوں نہ کرتی؟ یہ لفظ ’’عجیب‘‘ اتنا سادہ بھی نہیں ہے بلکہ اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنی پیچیدہ یہ عورتیں۔ اس لفظ کے اندر پرت در پرت مفہوم کی دنیا آباد ہے کیونکہ یہ اپنے اندر محبت، نفرت، غصّہ اور جھنجھلا ہٹ سب کو سمیٹ لیتا ہے اور عجیب بن جاتا ہے پھر کسی نہ کسی عورت کو خطاب کی طرح عطا کر دیا جاتا ہے۔ میں اسی خطاب کا پیچھا کرتے ہوئے جیسے بادلوں پر سوار ہو گئی جن میں بہت سارے رنگ شامل تھے۔ میں دونوں ہاتھوں سے ان رنگوں کو ہٹا کر جیسے کوئی واضح اور ٹھوس شبیہ تلاش کر رہی تھی مگر سب رنگ آپس میں خلط ملط ہوئے جا رہے تھے۔ ان رنگین بادلوں میں تیرتے ہوئے کبھی کبھی مجھے لگتا جیسے میں گہرے سمندر میں ڈوبتی جا رہی ہوں اور سانس لینا بھی میرے لیے دشوار ہے۔ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور ذہن کی دھند چھٹ گئی۔ میں اپنے کمرے اور اپنے بستر پر تھی، محفوظ و مامون۔ سانس لے رہی تھی، سب کچھ صاف صاف دیکھ سکتی تھی۔ دھند تھی، نہ بادل اور نہ ہی کہیں گہرا سمندر تھا۔ نہ ہی الجھے الجھے خیال تھے بس دل پر کچھ بوجھ سا تھا اور سر میں درد۔
تو یہ عجیب عورتوں کی تلاش مجھے خواب میں پریشان کر رہی تھی۔ کیسی گھٹن تھی خواب میں۔ توبہ!!! میں نے کروٹ بدلی۔ لگتا ہے عرصے سے پرسکون ہو کر نہیں سوئی۔ کبھی بے خوابی میں پریشان سوچ الجھائے رکھتی ہے، کبھی نیند میں دھندلے خواب۔
کچن کی کھٹ پٹ سے اندازہ ہوا کہ سونی آ چکی ہے اور روز کی طرح جلدی میں ہے۔ میں منہ ہاتھ دھو کر جب تک کچن میں پہنچی تو وہ چائے بنا چکی تھی۔ میں بالکنی میں آ کر بیٹھ گئی۔ خواب کا تاثر زائل نہیں ہوا تھا۔ دل پر ایک بوجھ سا تھا اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ عرصہ سے دل میں ایک ان جانی پھانس سی چبھی تھی جس سے بے خوابی کی شکایت رہنے لگی تھی اور جب نیند آتی بھی تو اس طرح کے خواب پریشان کرتے۔
’’آنٹی! سب کام کر چکی ہوں۔ آج مسالہ آپ خود گرائینڈر میں پیس لیں؟‘‘ اس نے چائے کا کپ مجھے تھماتے ہوئے کہا۔
’’کیوں؟‘‘ میں نے ذرا سا چڑ کر سوال کیا۔
’’میں نے آج نئی کرتی پہنی ہے۔ مسالے کی سل پر نہیں بیٹھوں گی۔‘‘ یہ چھبیس یا ستائیس سالہ دوشیزہ سونی کے نخرے تھے۔ جو روز نئی نئی کرتی پہن کر آتی تھی اور کام سے جی چرایا کرتی تھی، مگر کچھ اس طرح استدعا کرتی کہ غصّہ نہیں آتا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔ جیسے جی چاہے کر لو۔ پر تمہارا روز کا یہی ڈرامہ ہے۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر لہراتی ہوئی میرے سامنے سے نکل گئی۔
سونی بڑی عجیب ہے۔ کبھی اپنے حالات سے نالاں نظر نہیں آتی۔ ہر وقت ہنستی مسکراتی اچھے لباس میں صاف ستھری نظر آتی ہے۔ اس کی ایک بیٹی اور ایک ناکارہ شوہر ہے۔ وہ عجیب اس لیے ہے کہ شوہر سے پٹ کر اور ہر وقت طلاق ملنے کی دھمکی کے باوجود اس کے خلاف رپورٹ نہیں کرتی۔ جب لوگ اسے بتاتے ہیں کہ قانون بن گیا ہے تو یہ کہہ کر سب کو لاجواب کر دیتی ہے کہ قانون بنانے والوں سے کہو، ان عورتوں کو پہلے انصاف دلوائیں جو دن رات پاور اور پیسے والوں کے ذریعے نوچی کھسوٹی جا رہی ہیں۔ وہ مجھ پر اپنی ناکامیوں کا غصہ نکال لیتا ہے پر میری عزّت کا رکھوالا تو ہے۔ دوسروں کی بہو بیٹیوں کو تو نہیں نگل رہا۔ اسے ضد تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پر اپنی بیٹی کو تعلیم دلوائے گی۔ وہ مجبوری، بے بسی اور آنسو کو حقارت سے دیکھتی تھی۔ محنتی تھی مگر اپنے کام کو آسان بنانے کا ہنر جانتی تھی۔ وہ ایسے گھر اپنے کام کے لیے منتخب کرتی تھی جہاں کم اور سلجھے ہوئے کام ہوں، چھوٹی فیملی ہو اور ہر وقت کی بک بک جھک جھک نہ ہو۔ وہ اپنے کام کو جاب کہلوانا پسند کرتی تھی اور اپنی بیٹی سے ہمیشہ کہتی کہ تو پڑھ لکھ کر مجھ سے اچھی جاب کرنا۔ آفس والی، گھر والی نہیں!! ایک دن مجھے اخبار دیتے ہوئے صفورہ زرگر کی تصویر پر انگلی رکھ کر بولی، ’’میں اپنی بیٹی کو ایسا بناؤں گی۔ پڑھی لکھی اور بہادر۔‘‘
وہ خود بھی تو بہادر تھی۔ کتنی ہمت سے پچھلے دنوں اپنے نا مساعد حالات کے باوجود مظاہرے میں ساری رات حاضر رہتی تھی کیونکہ جینے کے لیے دن میں اسے مزدوری کرنا تھا۔ یہ ہمّت اور یہ جذبہ مجھ میں کیوں مفقود ہے۔ میں نے چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے سوچا اور کپ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔
اور یہ صفورہ زرگر۔۔ یہ بھی تو کتنی عجیب لڑکی ہے۔ اتنی کم عمر، نئی شادی شدہ اور تین ماہ کی حاملہ مگر اس نے کیا کچھ برداشت نہیں کر لیا اس چھوٹی سی عمر میں۔ اپنی پہاڑ جیسی ہمّت سے پورے ایک نظام سے ٹکرا جانا کیا معمولی بات ہے۔ اس کی ہمت نے نظام کے جبر کو ہی نہیں بلکہ اس جبر کی زد میں آئے اس خوف کو بھی للکارا تھا جو دلوں میں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ اسی للکار نے تو میرے خوف کو کھینچ کر روشنی میں کھڑا کر دیا تھا اور میں خود سے شرمندہ تھی۔ پچھلے دنوں ایک سو ایک دن چلنے والے اس احتجاج میں ایک دن کے لیے بھی میں اس اندھے قانون اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اپنی آواز شامل نہیں کر پائی تھی۔ گھر اور گرہستی کی مصروفیات چھوڑ کر اس طرح کے احتجاج اور مظاہرے میں شامل ہونا کیا آسان بات ہے۔ ہر وقت گولیوں، بموں اور پولیس کی لاٹھیوں کے خوف کے سائے میں۔ وہ بھی دسمبر اور جنوری کی خون منجمد کر دینے والی اس سردی میں، آسمان کے نیچے، جبکہ ہر انسان اپنے گھروں کی محفوظ چار دیواری میں آرام دہ رضائیوں میں دبکا رہتا ہے۔ میں بھی تو دبکی رہی تھی، میں نے خواب کے دھندلکے میں کئی بار صفورہ کا چہرہ بھی دیکھا تھا، ایک پر اعتماد چہرہ۔ کیا تمہیں اپنی نئی شادی شدہ زندگی کی فکر نہیں، نہ اس بدنامی کی جو تمہارے نام سے منسوب کی جا رہی ہے اور نہ ہی اپنے آنے والے بچّے کی یا اس کے روشن مستقبل کی اور وہ حقارت سے قہقہے لگاتی دھند میں غائب ہو جاتی جیسے کہہ رہی ہو، ’’کون سا روشن مستقبل؟ کون سی زندگی۔‘‘ میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا۔ میں نیند اور جاگنے کا فرق بھولتی جا رہی تھی۔ حقیقت اور خواب جب خلط ملط ہو جائیں تو جینا محال ہو جاتا ہے۔ زندگی اور موت کی دو انتہاؤں کے درمیان یہ خواب ہی تو ہے جس کے پیچھے ہم زندگی بھر دوڑتے ہیں۔ اگر ان کے درمیان کی تفریق ختم ہو جائے تو ہم تعبیر ڈھونڈنا بند کر دیتے ہیں تب زندگی ہمیں ڈرانے اور تھکانے لگتی ہے۔ میں سچ مچ تھک گئی تھی، سوچتے سوچتے ڈر جاتی تھی کیونکہ بھول گئی تھی کہ جن پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے اس کے لیے کوئی ہے جو دریا میں راستے بنا دیتا ہے اور اپنی ساری طاقت کے باوجود فرعونیت غرق ہو جاتی ہے مگر ایسے نتائج کے لیے پہلے خود دریا میں اترنے کی ہمّت کرنی پڑتی ہے۔
دروازے کی گھنٹی بجی تو میرے خیالوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ میری چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ میں دروازے کی طرف دوڑی اس خیال سے بھی کہ سونی کے جانے کے بعد سے دروازہ تو کھلا ہوا ہو گا۔ نہ جانے کون ہے اس وقت۔ دیکھا تو پڑوس والی دادی کھڑی تھیں۔ انھیں ساری بلڈنگ کے ہر عمر کے لوگ دادی کہتے تھے۔
’’السلام علیکم!!!‘‘ میں نے گرمجوشی سے کہا۔
’’وعلیکم السلام! آج حلیم بنایا تھا۔ گھر کا ہے اور بالکل صفائی سے بنا ہوا ہے۔ اگر کوئی پرہیز نہیں تو لے لو۔‘‘ انھوں نے پیالہ میری طرف بڑھایا۔
’’ارے! آپ کے ہاتھ سے کیسا پرہیز، پر آپ نے کیوں زحمت کی؟ مجھے بلا لیا ہوتا یا میں سونی کو بھیج دیتی۔‘‘
’’نہیں بھئی! پانچ ماہ سے گھر میں بند ہوں۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی صبح کی سیرتو ختم ہی ہو گئی ہے۔ اب اسی بہانے میں ذرا اپنے فلور پر ہی چل پھر لیتی ہوں اور دیکھو ماسک بھی لگاتی ہوں۔‘‘
’’اتنی صبح صبح آپ نے حلیم تیار بھی کر لیا؟‘‘ میں نے پیالہ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’یہ صبح ہے؟ گیارہ بجنے والے ہیں۔‘‘
’’آپ اندر تو آئیے۔ میں نے تو ابھی صبح کی چائے بھی نہیں پی۔ اس لیے میرے لیے یہ صبح کی شروعات ہی ہے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’دیر تک سونا تم نئی نسل والوں کا طریقہ ہے۔ ہم تو پانچ بجے اٹھنے والے لوگ ہیں۔ ویسے بھی سارا دن اور ساری رات احتجاج میں شامل ہونے کی عادت نے صبح ہی صبح سارا کام ختم کر لینے کی عادت کو اور بھی پختہ کر دیا ہے۔‘‘ وہ اندر آ کر صوفے پر بیٹھ گئیں
میں حیرت کے سمندر میں غرق ہو گئی۔ اسّی سالہ اس خاتون کے خون میں کہاں سے اتنی گرمی آ گئی کہ برف گراتے آسمان کے نیچے بیٹھنے کا حوصلہ پیدا ہو گیا تھا ان میں۔ ’’کیا ہوا بی بی؟ کس سوچ میں گم ہو؟ میرا پیالہ خالی کر کے لے آؤ۔‘‘ میں ان کی آواز کے ساتھ سوچوں کی گرداب سے باہر آئی۔
’’جی! ابھی لائی۔ مسز فرحان تو بہت تعریف کرتی ہیں آپ کے کھانوں کی۔‘‘ میں ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ واپسی میں چائے کی ٹرے میرے ہاتھ میں تھی۔
’’ارے چائے بنانے کی زحمت کیوں کی؟‘‘ انھوں نے خوش دلی سے ماسک اتارتے ہوئے کہا
میں نے دو پیالیوں میں چائے نکالی اور ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا، ’’آج آپ کے ساتھ ہی سہی۔‘‘ مسکرا کر بولیں، ’’مسز فرحان کے یہاں بھی حلیم دے کر آئی ہوں۔ آفس بند ہونے کی وجہ سے آج کل تو گھر میں ہی ہیں۔ کرونا نے سب کو قید کر دیا ہے۔ ان کے شوہر کہنے لگے کہ۔۔ ’گھر کے کھانے کا مزہ تو آپ کی وجہ سے آتا ہے ورنہ نغمہ ہوٹل کا بنا ہوا لا کر سرو بھی خود سے نہیں کرنا چاہتیں۔ اب لاک ڈاؤن میں سب بند ہے اور ہر وقت گھر میں پکا پکا کر بیگم کی حالت خراب۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد بولیں، ’’کتنی عجیب ہیں نا؟ کھانا بنانا بھلا کیا مشکل۔‘‘
’’جی! ورکنگ ہونے کی مجبوری ہے۔ بے چاری گھر سے دس گھنٹے تو باہر ہی رہتی تھیں۔ اس لیے باہر کے کھانے کی عادت پڑ گئی ہو گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ہاں اسی لیے میں نے کہہ دیا کہ جو کھانا ہو مجھے کہہ دو میں بنا دیا کروں گی۔ خوش ہو گئے دونوں کہنے لگے، آپ کے یہاں کا صاف ستھرا بنا ملے تو میں اپنے دوستوں سے بھی کہوں گا آپ سے منگوا لیا کریں۔ آپ یہ کام شروع کر دیجیے۔ مفت کیوں کھلاتی ہیں۔‘‘
’’ہاں پر۔۔۔ اس عمر میں اتنی محنت آپ کیسے۔۔۔۔؟‘‘
’’ارے بی بی! یہ میرا شوق ہے۔ میں اپنی کام والی کی مدد سے سب کر لوں گی۔ مجھ سے خالی نہیں بیٹھا جاتا۔ سب نے اپنی اپنی نوکرانی کو بلانا شروع ہی کر دیا ہے۔ میں بھی بلواتی ہوں پر ہر طرح کی احتیاط لازمی رکھتی ہوں۔‘‘
’’جی! احتیاط تو لازمی ہے۔ قدرت نے ایک عجیب امتحان میں ڈال دیا ہے ساری انسانیت کو۔‘‘
’’اس کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ اس کی ذات سے نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ اچھا خدا حافظ! تمھیں بھی ابھی کام ہو گا۔ چلتی ہوں۔‘‘ وہ چائے کی خالی پیالی میز پر رکھتی ہوئی کھڑی ہو گئیں۔
جاتے جاتے وہ ایک اور عجیب عورت سے میرا تعارف کروا گئیں۔ مسز فرحان سے۔۔۔ بلکہ دو عجیب عورتوں سے۔ خود بھی تو عجیب ہیں۔ اسّی سال کی عمر میں نہ جانے کہاں سے اتنا جوش اور شوق سنبھال کر باقی رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے کمرے میں واپس آئی تو لگا جو پھانس دل میں چبھی ہے وہ ابھی تک نکلی نہیں ہے۔ اب بھی میں اس مطلوبہ چہرے تک پہنچ ہی نہیں پا رہی تھی، نہ خواب میں اور نہ ہی حقیقت میں۔ یہ ساری عجیب عورتیں ہمارے ہی درمیان کی معمولی عورتیں ہیں جو کوئی نا کوئی زندگی کا مقصد لے کر بس جیے چلی جا رہی ہیں، میری طرح۔
مجھے اوپر کے فلیٹ والی سنیتا یاد آئی، سنگل پیرنٹ۔ اسے میں کبھی معمولی نہیں سمجھتی تھی۔ شوہر کے مسلسل جبر کا شکار، شادی کے آٹھ سال بعد اپنے بچّوں کے ساتھ الگ ہو گئی۔ تعلیم یافتہ، خوبصورت اور اسمارٹ۔ کھل کر جیتی ہے۔ لڑکوں کے ساتھ دوستی رکھنا، خوب گھومنا، مست رہنا اس کے لیے معیوب نہیں ہے مگر ان باکس میں گلدستے، دل اور بوسے بھیجنے والوں کو دور تک رگید دیتی ہے۔ زندگی ہو یا ان باکس، حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرنے والوں کو حد میں رکھنے کے لیے اس کی ایک گرم نگاہ ہی کافی ہے۔ اس کا کوئی بھی عمل مخفی نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنے موبائل میں پاس ورڈ لاک رکھنا پسند نہیں کرتی کیونکہ وہ اپنے کسی عمل پر پشیمان نہیں رہتی۔ اس کے بچّے بہت پیارے ہیں جن پر وہ اپنی جان نچھاور کرتی ہے۔ اس لیے ان کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتی ہے۔ گاؤں چھوڑ کر شہر بھی اسی لیے آئی کہ ان کا مستقبل محفوظ کر سکے پر جب سے شہریت قانون آیا ہے، فکرمند رہتی ہے۔ میکے اور سسرال کسی کا سہارا نہیں، صرف اسکول کالج کی ڈگری ہے۔ اب وہ کیسے اور کہاں سے لائے اپنے پرانے کاغذات۔ کہتی ہے، ’’اب سے پہلے خود کو کبھی تنا کمزور محسوس نہیں کیا۔‘‘ اس وقت احساس ہوا تھا کہ وہ بھی ایک معمولی اور کمزور سی عورت ہے۔
میں نے سوچا شاید اپنی کمزوری اور معمولی پن سے جوجھنے کی ادنیٰ سی خواہش انھیں عجیب بنا دیتی ہے۔ ڈگر سے ہٹ کر بنے بنائے راستوں پر چلنے سے انکار کی کوشش۔ ہاں! یہ سب عورتیں نہ تو خاص ہیں اور نہ ہی غیر معمولی۔ یہ سب معمولی عورتیں ہیں، سب عورتوں کی طرح۔ اپنے بچوں، اپنے سہاگ اور اپنے مستقبل کے لیے سر گرداں اور پریشان۔ پھر میں ان ہی کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہوں۔ مجھے خواب میں ان کے ہی مختلف ہیولے کیوں نظر آتے ہیں۔ ہم سب معمولی عورتوں میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں، سب میں چند خوبیاں اور چند خامیاں ہیں بس۔ پھر ہمیشہ یہ عجیب کی تلاش مجھے ایک بند دروازے کے سامنے لے جا کر کیوں کھڑا کر دیتی ہے۔ فون کی گھنٹی بج رہی ہے۔ میرے بیٹے کا ہو گا۔ میں اسے ہندوستان سے باہر بھیج کر کتنی خوش تھی کہ اس کا مستقبل محفوظ کر دیا ہے پر اب ڈرنے لگی ہوں۔ فون کی آواز سے بھی بچتی ہوں کہ فون پر نہ جانے کیا سننے کو ملے۔ دنیا میں کوئی جگہ ہے جو محفوظ ہو؟ میں نے دعا کرتے ہوئے فون ریسیو کیا کہ سب خیریت ہو۔
’’امّی! مجھے گھر واپس آنا ہے۔‘‘
’’کیا ہوا بیٹا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟ یا نوکری؟‘‘ میری آواز حلق میں پھنسنے لگی۔
’’اسپیشل فلائیٹ سے کافی لوگ اپنے اپنے ملک لوٹ رہے ہیں کرونا کی وجہ سے۔ میرا دل یہاں نہیں لگ رہا۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، اپنے ملک میں، اپنے گھر پر۔‘‘
’’ہاں، ہاں بیٹا!!! واپس آ جاؤ۔ میرا بھی دل نہیں لگ رہا۔ حالات جیسے بھی ہوں مل کر ہمّت بنی رہتی ہے۔‘‘
’’شکریہ امّی!! میں کل بتا دوں گا کہ کب کی فلائیٹ ہے۔‘‘
کبھی کبھی ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ جو ہو رہا ہے وہ بہتر ہے یا نہیں۔ مجھے لگا کہ اس کی نوکری جا چکی ہے جسے وہ ابھی بتانا نہیں چاہتا تاکہ میری ہمّت بنی رہے۔ ایک نوکری جانے سے مستقبل تو ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس خبر سے، اس فیصلے سے مجھے ایک سکون حاصل ہوا جیسے میری کھوئی ہوئی طاقت واپس مل رہی ہو۔ ایسا لگا کہ ذہن سے ساری دھند صاف ہونے لگی ہے۔ میں خود کو جن عورتوں سے بالکل الگ سمجھ رہی تھی اس ایک خبر سے اب خود کو اسی قطار میں کھڑا ہوا دیکھ سکتی تھی اور میرا چہرہ بھی ان سارے معمولی چہروں میں شامل ہو چکا تھا۔ یہ سارے معمولی چہرے مل کر ایک بھِیڑ میں بدل گئے جس میں سونی بھی تھی، اسّی سالہ دادی بھی، اکیلی بچوں کی پرورش کرنے والی پڑوسن سنیتا بھی اور گھر اور کچن کے کام سے گھبرانے والی مسز فرحان بھی۔ یہ سارے چہرے ضرب ہوتے ہوتے ایک لا متناہی بھیڑ میں بدل گئے۔ ایک سیلاب کی طرح سڑکوں پر ابل آئے۔ یہ ساری کی ساری عجیب عورتیں طاقت کا استعارہ بن کر ابھریں اور ساری دنیا کی نظروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ انھوں نے اپنی فولادی ہمّت سے طاقت، حکومت، قانون سب کی سانسیں پھلا دیں۔ جو ان کے سامنے آتا ان کی پھنکار سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا۔ آسمان سے برسنے والی موسم کی شدّت بھی ان کے پیر اکھاڑ نہ سکی۔ موت کا خوف بھی انہیں باز نہ رکھ سکا۔ اپنے آنچل میں اپنے لعل کو سمیٹے، اپنی ہی زمین پر اپنے آنے والی نسلوں کے لیے اور ان کے مستقبل اور حقوق کے لیے بھِیڑ بن کر سڑکوں پر بیٹھ گئیں تھیں۔ ان کی اس عجیب ہمّت اور خصلت نے بد خواہوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ میرا لعل بھی واپس آ رہا تھا بلکہ اسے بھیج کر میں اب تک خود دھوکے میں جی رہی تھی۔ میں ان سے الگ نہیں تھی، مجھے بھی اس کے مستقبل کی فکر کرنی تھی۔ پرندے لوٹ کر گھونسلے میں ہی آتے ہیں اور اس گھونسلے کو محفوظ رکھنا ہمارا فرض تھا۔ میرے دل میں سکون اتر آیا۔ میں اب خود کو ان عجیب عورتوں میں شامل کر کے پر سکون ہو گئی تھی۔ دریا پر ہمارے قدم پڑ چکے تھے۔
٭٭٭
ہٹلر
چلتی ہوئی بس میں ’’این فرینک‘‘ کی ڈائری کو پڑھتے ہوئے نہ جانے کب میری توجہ پوری طرح بس کی کھڑکی کی طرف مبذول ہو چکی تھی۔ بس کی رفتار اس کے شیشوں کو جھانجھر کی طرح بجا رہی تھی۔ اس بے ہودہ آواز نے میرا دل کتاب سے اچاٹ کیا تھا یا شیشے کے کھسکنے سے باہر سے آنے والی تیز یخ بستہ ہوا نے، جس میں تلوار کے دھار جیسی کاٹ تھی یا شاید بار بار ہاتھ اٹھا کر اس شیشے کو بند کرنے کی کوشش مجھے زیادہ اذیت دے رہی تھی؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
موبائل کے میسج ٹون کی مدھم آواز مسلسل جاری تھی جس کی طرف سے میں لاپروا تھی – شاید اس لیے کہ گود میں رکھی ’’این فرینک‘‘ کی ڈائری اب بھی میرے دماغ پر حاوی تھی۔ بلکہ میں تصور میں ہی سہی اس ڈائری کی راوی کے مردہ جسم میں حلول کر کے نیدر لینڈ کے ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۵ء کی زندگی کو جی رہی تھی۔ میں ہٹلر کے زمانے کی دنیا کے ایک گمنام عقوبت خانے میں ایک بیمار پندرہ سالہ لڑکی کی اذیت جھیل رہی تھی۔ مگر اس بے کار سی بس نے مجھے ایک نئی اذیت میں مبتلا کر کے واپس اکیسویں صدی کی آزادی، خود مختاری، معاشی بہتری اور بے فکری کے دور میں کھینچ لیا تھا جہاں اب بھی یہ الفاظ رومانیت پسندی کی مثال بھر تھے۔
اس سے پہلے کہ میں پوری طرح چوکس ہوتی بس ایک جھٹکے سے رک گئی۔ ’’کیا ہوا۔‘‘ بس کے اندر ایک سراسیمگی در آئی۔ ’’ٹریفک جام ہے کیا؟‘‘
’’نہیں! کوئی ریلی لگتی ہے۔‘‘ ایک آواز آئی۔ کچھ گاڑیاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے لوگوں سے بھری ہوئی گزر رہی تھیں۔ ہلّڑ مچاتے ہوئے لوگ نہ جانے کس گمان میں تھے۔
’’اس طرح کب تک رکیں گے؟‘‘ کسی نے بے چین ہو کر سوال کیا۔
’’آگے نکلنے کا راستہ نہیں ہو گا، ابھی تو بہت بڑی بھیڑ اسی طرف آ رہی ہے۔ دیکھیے پرائیوٹ کار والے کیسے اپنی گاڑیاں موڑ موڑ کر واپس بھاگ رہے ہیں۔‘‘
’’حد ہے، بھاگ کیوں رہے ہیں؟ ریلی ہے، گزر جائے گی۔‘‘ ایک آدمی نے کندھے اچکائے۔
’’آپ نہیں جانتے؟‘‘ جواب میں دوسرا طنزیہ مسکرایا۔
؎ اس طرح کے پبلک ٹرانسپورٹ کا یہ فائدہ تو ہے کہ آپ کتنے بھی بے خبر ہوں، چاہتے نہ چاہتے سارے سوال اور جواب کانوں میں پڑ کر آپ کو حالاتِ حاضرہ سے باخبر کر دیتے ہیں۔ میں بھی خیالی دنیا سے نکل کر حال میں پوری طرح واپس آ چکی تھی۔ ایک شور کی آواز قریب آتی جا رہی تھی۔ کچھ لوگ بے چین ہوئے تو کھڑکی کھول کر اور سر باہر نکال کر قریب آتے شور کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ میں نے بھی کوشش کی۔ ہلڑ اور بدتمیزی کا اندازہ کر کے کسی نے مشورہ دیا۔ ’’بس کنارے پر اتار لو۔ بھیڑ کا کیا بھروسہ۔‘‘
’’ہاں! ریلی نکل جانے دو۔‘‘ کئی لوگوں نے تائید کی۔
’’کیا مصیبت ہے؟ میرا ایک ٹیسٹ ہے آج، چھوٹ نہ جائے۔ کنارے پر کر کے دھیرے دھیرے بڑھو۔‘‘
’’گاؤں کی پتلی سڑک ہے اور دیکھ نہیں رہے سامنے کا ہجوم؟ کدھر سے نکل سکتے ہیں؟‘‘ یہ کنڈکٹر تھا جو اس لڑکے کو جواب دے رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ انسان اچھے دور میں کتنی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کو ناقابل برداشت سمجھتا ہے۔ جبکہ ہر دور میں کہیں نہ کہیں کئی ملکوں میں یا خطوں میں، جنگ و جدل جیسے حالات اور اس کے زہریلے اثرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو انسانی زندگیوں کو جہنم زار بنا دیتے ہیں۔ ہم تو پھر بھی آزاد ملک کے خود مختار باشندے ہیں۔ میں پھر تانا شاہی کے دور کی بربریت کے خیال سے اس دور کے ان دیکھے دکھوں میں ڈوبنے لگی۔
’’آج وقت پر نہ پہنچے تو مَنڈی بند ہو جائے گی۔ مہاجن سے حساب کرنا تھا۔‘‘ ایک غریب کسان نے بے چین ہو کر پہلو بدلا۔
سب کے اپنے اپنے غم تھے۔ سکون اور سہولت سے جینے کی خواہش رکھنے والے محنتی لوگ۔ اپنی زندگی کو پٹری پر رکھنے کی جد و جہد میں اپنی ذات اور زندگی سے پرے دیکھنا ہی بھول گئے تھے یا حالات انھیں اس کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے۔ اس بس میں بیٹھے سارے لوگ اپنے خوابوں سے صرف ایک فرلانگ کی دوری پر رہتے تھے اور یہ مان بیٹھے تھے کہ اپنی ذات کی حد تک کی گئی ان کی فکر سے سارے مسائل دور ہو جائیں گے۔ کوئی طالب علم امتحانات میں کامیابی حاصل کر کے بے روزگاری کے گڑھے سے ایک ہی جست میں باہر نکلنا چاہتا تھا، کوئی کسان بینک سے قرض لینے کی امید باندھ کر اچھی فصل کے خواب پال رہا تھا، کوئی بچہ ماں باپ کی محفوظ پناہ گاہ سے نکل کر ہوسٹل جا رہا تھا، کسی عورت نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے زندگی کو پر آسائش بنانے کا خواب آنکھوں میں سینچ رکھا تھا۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ ایک آزاد جمہوریت کا حصہ ہیں اور وہ زمانے کی ساری ہلچل کو خود سے مناسب دوری پر رکھنے کے قائل اور عادی تھے۔ مگر زندگی کی اوبڑ کھابڑ سڑک پر دھچکے کھاتی ہوئی دوڑنے والی ان کی بس رکی تو وہ سب جھنجھلا اٹھے۔ انھیں اس بات سے زیادہ کوئی فکر اور کوئی تکلیف نہیں تھی کہ ان کا سفر جسے وہ جاری رکھنا چاہتے تھے ٹھہر گیا تھا۔ نعروں کی تیز آواز قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔ کوئی سیاسی ریلی ہی تھی۔
’’بس کنارے پر اتار لینا ہی ٹھیک ہے۔‘‘ ڈرائیور نے کہا اور بس سڑک سے ہٹا کر نیچے کچی زمین میں اتار دی۔ اس کے آگے پیچھے چند اور سواریاں بھی سڑک سے ہٹ جانے میں اپنی عافیت سمجھ رہی تھیں۔ اب سڑک یک طرفہ ٹریفک کے لیے صاف تھی۔ جس سے ٹریکٹر ٹرالی، بس، ٹرک، کار، جیپ یہاں تک کہ موٹر سائیکل اور سائیکل بھی، غرض ہر طرح کی سواریاں، گاڑیاں اور اس میں بھرے ہوئے انسان گزر سکتے تھے جن کی جیبوں کی طرح ان کے دماغ بھی خالی تھے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح سواریوں پر لدے ہوئے تھے۔ وہ لوگ اسی آزاد جمہوریت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ذرا دوسری طرح کے لوگ تھے، ملک میں ان کا حصہ مردم شماری کی حد تک تھا اور تعلیم، نوکری، گھر زمین ہر طرح کی سہولت سے محروم ملک کے ان باشندوں کی اہمیت اچانک الیکشن سے پہلے بڑھ جاتی تھی اور اپنی اس اہمیت پر یہ پھولے نہیں سماتے تھے۔ ان کے خالی دماغ کو ایک خاص مقصد کے تحت ایسے ترتیب دیا گیا تھا کے وہ سرکس کے جانور سے مشابہ لگ رہے تھے جنھیں کچھ کرتب دکھانے کے بعد چند نوالے ملنے کی امید ہوتی ہے۔ گندے فقرے، نفرت بھرے نعرے، غلیظ قسم کی گالیاں اور ایک ہلڑ مچاتی عوام کی ریلی نہیں ریلا تھا جو گزر رہا تھا اور خاموش تماش بینوں کے دلوں میں دہشت پیدا کر رہا تھا۔ اس میں پا پیادہ بھیڑ کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ اچانک پیدل چلنے والی ایک ویسی ہی بھِیڑ سڑک سے اتر کر بس اور کنارے پر کر کھڑی گاڑیوں کو گھیر کر کھڑی ہونے لگی۔ بس کے مسافر خوفزدہ ہو کر اپنی اپنی جگہ سمٹ گئے۔ میرے بغل کی سیٹ پر ایک کرتا پاجامہ اور سر پر گول سی کروشیہ کی بنی ہوئی سفید ٹوپی میں بیٹھا چودہ سال کا لڑکا سہم کر مجھ سے بولا، ’’یہ لوگ کیا کرنے والے ہیں آنٹی!! ؟‘‘
میں نے اضطراری طور پر اس کے سر سے ٹوپی اتار کر اپنے پرس میں رکھ لی، ’’شیی ی! کچھ نہیں کریں گے۔ ڈرو مت، چپ بیٹھے رہو۔ کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’احمد۔‘‘ اس نے بہت دھیمی آواز میں کہا۔
’’آ۔۔ آپ کا نام، آنٹی؟‘‘ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔ شاید وہ مجھ سے بھی خوفزدہ تھا یا شاید میری ساڑھی دیکھ کر میرے مذہب کا اندازہ لگا رہا تھا، اور اسے محفوظ کر دینے کے میرے اضطراری عمل سے اسے کچھ حوصلہ ملا تھا۔ شاید وہ یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ اس وقت وہ میری آڑ میں محفوظ ہے کہ نہیں۔
’’اتر سب نیچے اتر۔‘‘ کوئی شیشے کے باہر چلایا۔ اس بے رحم اور اجّڈ آواز سے میرا سر چکرا گیا۔ ایک لمحے کے ہزارویں حصّے میں میرے ذہن میں وہ سارے فساد گھوم گئے جو اس طرح کی بھیڑ نے سر انجام دیے تھے۔ میں نے احمد کا سرد ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ نہ جانے یہ اس کا خوف کم کرنے کی کوشش تھی یا میں اپنا ڈر سنبھالنے کا جتن کر رہی تھی۔ چھوٹے بچوں کو ان کی ماؤں نے اپنے آنچل میں چھپا لیا تھا۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟‘‘ بس میں بیٹھے کچھ تعلیم یافتہ نوجوان تیوری چڑھا کر اپنی جگہ سے اٹھنے لگے تو ان کے پاس بیٹھے لوگوں نے انھیں واپس بٹھا دیا۔ ’’چپکے بیٹھے رہو۔ جھگڑا مت کرنا۔ بھِیڑ پاگل ہوتی ہے۔‘‘
’’یہ ہمیں اتار کیوں رہے ہیں؟‘‘ ایک لڑکا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا۔
’’آنٹی!! یہ ہمیں۔ کہیں۔‘‘
’’کچھ نہیں ہو گا۔ پولیس بھی تو ہو گی اتنی بڑی ریلی کے ساتھ۔‘‘ میں نے اسے کچھ بھی بولنے سے روکتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کی مگر خود میرا دل جیسے کنپٹیوں میں دھڑک رہا تھا۔ اچانک کچھ لفنگے اجڈ اور خود سر لڑکے بس میں چڑھے اور کود کر ڈرائیور کے سر پر پہنچ گئے۔ نہ جانے اس سے کیا کہا کہ وہ اپنے سامنے لگی بھگوان کی تصویر دکھا کر دہائی دینے لگا مگر انھوں نے اس سے زبردستی بس اسٹارٹ کروائی اور اندر مسافروں کی طرف رخ کیا۔ اس لڑکے کے ہاتھ پر میری گرفت مضبوط ہوئی اور ذہن میں نہ جانے کتنی طرح کے خیالات کوند گئے۔
’’سب لوگ چپ چاپ گاڑی سے اتر جاؤ۔ جلدی کرو۔‘‘
’’ارے کیا کر رہے ہو بھائی۔‘‘ ایک دیہاتی بزرگ نے ہاتھ جوڑ لیا۔
’’تاؤ! صرف اترنے کو ہی بول رہے ہیں۔ چلو اتر لو۔‘‘ سب اترنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ کسی نے اپنے سامان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
’’نہ نہ!! سامان چھوڑ کر اترو۔ چپ چاپ۔‘‘ اس نے تمنچہ لہرایا۔
اس دیہاتی بزرگ نے پھر بھی اپنی گٹھڑی بغل میں دبائی اور اپنی جگہ سے آگے بڑھا۔
’’تاؤ! اسے چھوڑ جاؤ ہمارے لیے۔‘‘ اس نے جارحانہ انداز میں بزرگ کو روکا۔ اس بوڑھے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا شاید ساری جمع پونجی اس کے ساتھ تھی، وہ گڑگڑانے لگا۔ سب اس بوڑھے کو گڑگڑاتے دیکھ رہے تھے اور بس سے خاموشی سے اترتے جا رہے تھے، مسافروں سے بس خالی ہونے لگی۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، نوجوان۔ سب ایک پاگل بھیڑ کی زد میں تھے اور اس بپھری ہوئی بے مقصد بھیڑ کی آنکھوں میں سب تہ و تیغ کر دینے کا غرور ایسے بھرا ہوا تھا کہ ان آنکھوں میں خواب دیکھنے کی جگہ باقی نہ بچی تھی۔
ان ہلّڑ بازوں میں سے دو دروازے پر کھڑے ہو گئے تھے اور کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی ہوتا تو اس سے چھین لیتے۔ پھر ایک طرف قطار میں کھڑے ہونے کی تاکید بھی کرتے جا رہے تھے۔ مجھ سے آگے ایک نقاب پوش عورت کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ جو بچی تھی ڈر کر رونے لگی۔ دوسرے ساتھی نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا اور ڈانٹ کر کہا کہ ابھی جو کرنے نکلے ہو اس پر دھیان دو۔ میں نے اترتے ہوئے احمد کا ہاتھ نہ چھوڑا اور پرس خود ہی ان لفنگوں کی طرف بڑھا دیا۔ اس افرا تفری میں نہ جانے کب میری ’’اینی فرینک‘‘ والی کتاب احمد نے پکڑ لی تھی۔
ایک نے کتاب پر تمنچہ رکھ کر پوچھا، ’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’کتاب۔‘‘ میں منمنائی۔
’’ٹھیک ہے اس چوزے کو یہیں چھوڑ کر تم جاؤ۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے اسے خود سے چمٹاتے ہوئے کہا۔
’’یہ ہمارے ساتھ ریلی میں جائے گا۔‘‘ وہ بھونڈی ہنسی ہنسنے لگا۔
’’یہ کہیں نہیں جائے گا۔‘‘ میری آواز خوف اور غم سے کانپ رہی تھی اور اندر سے اس بوڑھے کسان کی گڑگڑانے کی رقت آمیز آواز فضا میں دہشت بھر رہی تھی۔
وہ بد تمیزی سے ہنسے تب ہی اندر ڈرائیور کے سر پر کھڑے ان کے ساتھی چلائے، ’’جلدی کرو۔‘‘
مجھ سے مخاطب لڑکے نے تمنچے کی ایک ٹھوکر سے کتاب دور پھینک دی اور کھا جانے والی نظروں سے احمد کو دیکھا۔ میں جلدی سے اس کے ساتھ بس سے اترنے والے لوگوں کی بھیڑ میں جا کر کھڑی ہونے لگی کہ احمد کو کچھ دوسرے لڑکوں نے اپنے درمیان کھینچ لیا۔ وہ سب اسے تھپڑ لگا رہے تھے، ادھر سے ادھر ایک دوسرے کی طرف دھکے دے کر بے شرمی سے ہنس رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا جیسے چار پانچ کتوں کے نرغے میں ایک اکیلی بلی پھنس گئی ہے اور سب اسے ان جنگلی کتوں کی طرح شکار کرنے سے پہلے پنجے مار رہے ہیں۔ میری آنکھوں سے اب آنسو جاری ہو گئے میں نے بس سے اترنے والے لوگوں کی طرف بے بسی سے دیکھا سب کے چہروں پر تکلیف تھی مگر سب خاموش تھے۔ میں اچانک غصے سے لرزنے لگی اور چیختی ہوئی آگے احمد کی طرف بڑھی۔ مگر ایک نوجوان جو بس میں بھی کھڑے ہونے کی کوشش میں بٹھا دیا گیا تھا مجھ سے پہلے ان لفنگوں کی طرف بڑھا اور احمد کو کھینچ کر میری طرف کر دیا۔ میں نے اسے سمیٹ کر اپنے بازوؤں میں کر لیا۔ سب کے دھڑکتے ہوئے دلوں میں اس وقت ایک ہی سوال تھا کہ اب یہ لوگ کیا کریں گے۔ لٹے پٹے انداز میں اپنی کھلی پگڑ کے ساتھ بدحال دیہاتی بزرگ اترنے والوں میں شاید بس کا آخری مسافر تھا۔
نیچے ابھی احمد کو ان لفنگوں کے نرغے سے نکالنے والے لڑکے کے ساتھ کچھ دھکا مکی شروع ہی ہوئی تھی کہ اچانک انسانوں کی اس بپھری ہوئی بھیڑ کا رخ ان گاڑیوں کی طرف ہو گیا، جواب تک سواری اتار کر خالی کروائی جا چکی تھیں۔ سب سیٹ گھیرنے کی جلدی میں دھکا مکی کرتے ہوئے ادھر لپک رہے تھے۔ اندر سے لے کر باہر چھت تک سب لد گئے انھیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ اس وقت ان سے کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں اور انسانوں کی بھیڑ کے ساتھ پولیس کی جیپ کا گزر بھی ایسے ہو رہا تھا جیسے وہ کاٹھ کے بنے ہوئے ہوں یا سب کچھ وہی اور ویسے ہی ہو رہا ہو جیسے ہونا چاہیے تھا۔ یہ ہندوستان کی وہ عام عوام تھی جسے ریلی میں شامل ہونے کے لیے مختلف مقامات سے جمع ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔ انھوں نے مفت کی شراب پی رکھی تھی، آج ان کا مقصد ایک مخصوص جگہ پر پہنچنا تھا۔ ریلی کی ساری گاڑیاں یکے بعد دیگرے گزرتی جا رہی تھیں۔ ان گزرنے والوں کا شور و غوغا اس لاقانونیت کو اور بھی خوفناک بنا رہا تھا مگر زبان گنگ ہو چکی تھی۔ میں، احمد اور وہ نوجوان اس وقت وہاں رہ جانے والے ان سارے لوگوں میں سے ذرا الگ کھڑے یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ ہمارے سر سے وہ پاگل بھیڑ ٹل چکی ہے۔
ہمارے ساتھ کنارے اترنے والی دوسری گاڑیاں بھی ہماری بس اور مال غنیمت کے ساتھ اسی ریلی میں شامل ہونے کے لئے نکل گئیں۔ اور آزادی، خود مختاری، اکیسویں صدی میں جینے کا سارا یقین اور خوش کن احساس بس کے ساتھ اور اس گزرنے والی سیاسی ریلی کے شور، نعروں اور ہلڑ کے ساتھ نیست و نابود ہو چکا تھا۔ پیچھے رہ گئی خواب پالنے والی آنکھیں، ان آنکھوں میں اب خواب کی جگہ خوف و ہراس کا رنگ بھرا ہوا تھا۔ یہ سب خود کو اس واقعے کا ذمہ دار نہیں سمجھ رہے تھے اور یقیناً یہ سب ایسی صورت حال میں پڑنے سے ہمیشہ خود کو محفوظ سمجھتے تھے اور میں سوچ رہی تھی کہ اس وقت اگر اس بھیڑ کا رخ دوسری طرف نہ مڑ گیا ہوتا تو احمد کا یا اس نوجوان کا کیا حشر ہوتا؟ مگر یہاں کھڑے لوگ بس یہ سوچ رہے تھے کہ اب سب ٹھیک ہو چکا ہے اور وہ کچھ انتظام کر کے اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ مگر میں ایسا نہیں سوچ پا رہی تھی بلکہ مجھے خیال آ رہا تھا کہ ہٹلر، مسولینی کے زمانے کے بارود برساتے آسمان کے نیچے تہہ خانے میں چھپی دھیرے دھیرے بیماری اور موت کی طرف بڑھتی ہوئی ’’این فرینک‘‘ اور اس کے ساتھ جنگ میں پھنسے لوگوں نے اپنے چہار طرف سڑتی گلتی لاشوں کو دیکھ کر بھی تو سوچا ہو گا کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ شاید کسی دن انھیں ان حالات میں پہنچا دینے والے ظالم کے دل میں خدا رحم ڈال دے گا اور بے قصور لوگوں کی زندگی کو جہنم بنانے سے وہ باز آ جائے گا۔
میں یہ سوچنے سے خود کو کسی طرح روک نہیں پائی کہ جنگ کا طریقہ وقت کے ساتھ بدل ضرور جاتا ہے مگر کچھ لوگ اسے ختم کبھی نہیں ہونے دیتے۔ مجھے لگا کہ آج بھی میں کچھ مرے ہوئے لوگوں کے درمیان کھڑی ہوئی ہوں اور مردہ لاشوں میں یہ شعور کہاں ہوتا ہے کہ وہ کچھ سوچ سکیں اور جان سکیں کہ وہ کن حالات میں جی رہے ہیں۔ اس لیے اس کھلے آسمان کے نیچے ہوتے ہوئے بھی میں ایسا محسوس کر رہی تھی جیسے ایک گیس چیمبر کے گھٹن زدہ ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہوں اور یہ ایسا تہہ خانہ ہے جس میں تازہ ہوا کا گزر بند ہو چکا ہے۔ ٹھٹھری ہوئی کہر آلود فضا اور ڈوبتے ہوئے دن کے اجالے پر چھانے والے نارنجی رنگ کے پھیلاؤ میں اس بھیڑ کے ہاتھ میں لہرانے والا جھنڈا آزاد ہندوستان کا ترنگا نہیں تھا بلکہ شفق کی سرخی اور خوف کی سیاہی کے ساتھ مل کر یہ خون آشام ہو گیا تھا اور بھیڑ کے کندھوں پر جمہوریت کا جنازہ اپنے پیچھے گونگے بہرے لوگوں کو چھوڑ کر دور نکلتا جا رہا تھا۔ ’’این فرینک‘‘ کی ڈائری پیروں کی ٹھوکروں کی زد میں آ کر دھول میں مل چکی تھی اور اس کی راوی کے چہرے کا پیلا پن صدیوں کا سفر کر کے اب میرے پاس کھڑے اس معصوم لڑکے کے چہرے پر نمودار ہو چکا تھا اور ہٹلر کا چہرہ جا بجا پوسٹروں میں ہر سو مسکراتا ہوا نظر آ رہا تھا۔
٭٭٭
کشمکش
آج مجھے شدّت سے احساس ہو رہا تھا کہ اپنی ہی نظروں میں گر جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پانچ سو روپے کے نوٹ کے پیچھے چھپے قوی ہیکل سوالات اپنی شکلیں بدل بدل کر مجھے پریشان کر رہے تھے اور میں بس کے باہر بھاگتے ہوئے مناظر سے زیادہ اپنے اندر چھپے ان پریشان کن سوالوں کے گرداب میں پھنستا جا رہا تھا۔
آج ہی کی تو بات تھی، صبح صادق کا اجالا ابھی نہ پھیلا تھا۔ دور دور تک سناٹے اور تاریکی کا راج تھا۔ فضا میں حبس بہت تھا۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا چورا ہے تک پہنچا اور مجھے یہ دیکھ کر یک گونہ سکون ہوا کہ سڑک کنارے ایک سائیکل رکشہ موجود تھا۔ رکشے کے قریب جا کر میں نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ رکشے والا ایک کثیف سا کپڑا منہ پر ڈالے رکشے کی سیٹ پر گہری نیند سو رہا ہے۔ میں نے ایک اضطراری کیفیت میں گھڑی دیکھی۔ ساڑھے تین بج چکے تھے۔ میری بس چار بجے کی تھی اور بس اسٹینڈ تک جانے میں یہاں سے آدھ گھنٹہ تو لگ جاتا ہے اس لیے اب میرے پاس رکشے والے کو نیند سے جگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
’’ارے بھئی!! اٹھو، بس اسٹینڈ چلنا ہے۔‘‘ میری آواز سناٹے میں سر دھنتی رہ گئی۔ میں نے اس بار رکشے والے کے کاندھے کو ہلکے سے چھوا۔ ’’اٹھو!! بس اسٹینڈ جا نا ہے۔‘‘
’’مجھے نہیں جانا ہے صاحب! دوسرا رکشہ دیکھیں۔‘‘ اس نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں جواب دیا مگر مجھے برا نہیں لگا۔ آخر میں اس کی گہری نیند میں مخل ہوا تھا مگر میرا اضطرار بڑھ رہا تھا۔ میں کسی بھی طرح یہ بس چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
’’چلو بھئی! یہاں کوئی دوسرا رکشہ نہیں ہے۔‘‘ اس بار ذرا زور سے جھنجھوڑتے ہوئے میں نے کہا۔ میری آواز میں بے چارگی عود کر آئی تھی مگر وہ راضی نہیں ہوا۔
”طبیعت ٹھیک نہیں ہے صاحب! مجھے نہیں جانا ہے۔‘‘ اس بار اس نے چہرے سے کپڑا ہٹا کر کندھے پر رکھا اور اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولا۔
میں نے موقع غنیمت جانا اور پائیدان پر اس کے پیر کے پاس زبردستی کے انداز میں اپنا بریف کیس رکھتے ہوئے کہا، ’’چلو بھا ئی! بس چھوٹ جائے گی، میرے پاس وقت بالکل نہیں کہ دوسرے رکشے کا انتظار کروں۔‘‘
’’کہا نا صاحب! طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ وہ بھی ایک ضدّی ہی تھا۔
مجھے غصہ آنے لگا مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا، ’’ارے! تم کچھ زیادہ پیسے لے لینا۔ میرا جانا بہت ضروری ہے، بس تم یہ بس پکڑوا دو، بڑی مہربانی ہو گی۔‘‘
میرے لجاجت بھرے انداز کا اثر تھا یا پیسے کی بات کا، وہ رکشے سے اتر آیا اور میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اچک کر رکشے پر بیٹھ گیا۔ اس نے بڑی قباحت سے رکشہ آگے بڑھایا اور میں نے پھر گھڑی دیکھی، دس منٹ یہیں پر ضائع ہو چکے تھے۔ میری تشویش بڑھ گئی۔ ’’ذرا جلدی پہنچا دو، بہت دیر ہو گئی ہے۔‘‘
’’کون سی بس لینی ہے صاحب!‘‘ اس نے پیڈل پر اپنے جسم کا زور بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’دلّی والی پہلی بس۔ چار بجے ہی نکلتی ہے۔‘‘
’’اوہ اچھا!‘‘ کہتے ہوئے اس میں کچھ تیزی آئی اور وہ پیڈل پر تیز تیز پیر مارنے لگا۔ اب صبح کی سرخی نمودار ہو رہی تھی اور تاریکی کی چادر سمٹتی جا رہی تھی۔ سڑک بالکل سنسان تھی اور رکشہ مناسب رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ میں نے سوچا قصبے نما اس شہر میں زندگی اب تک سوئی پڑی ہے اور دلّی کی سڑکوں پر زندگی کب کی جاگ چکی ہو گی۔
’’بس مل تو جائے گی نا؟‘‘ میں نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’کیا ٹیم ہوا ہے صاحب۔۔۔۔؟‘‘
’’پونے چار۔۔۔ اب بس چھوٹنے میں پندرہ منٹ ہی رہ گئے ہیں۔‘‘
’’اچھا!! دیر تو ہو گئی ہے۔۔۔ پر میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو بس مل جائے۔‘‘ اس نے پوری محنت سے رکشہ چلاتے ہوئے کہا۔
اس کی یقین دہانی اور اس کی محنت سے میرا دل اس کے لیے پسیجنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایک ادھیڑ عمر کا نحیف سا شخص تھا۔ میں نے دل میں سوچا آج اسے اچھے پیسے دے کر خوش کر دوں گا۔ میری کاروباری سوچ نے فوراً نفع نقصان کا حساب لگایا کہ اگر اس نے بس پکڑوا دی تو میں ایک بڑے نقصان سے بچ جاؤں گا۔ میں نے اس کا حوصلہ بڑھا نے کے لیے کہا، ’’تم آج مجھ سے زیادہ پیسے لے لینا اور ڈاکٹر کو بھی دکھا لینا۔‘‘
’’آپ بہت بھلے مانس ہیں صاحب! دو دن سے طبیعت ڈھیلی تھی تو رکشہ نہیں کھینچا اس لیے دو دن سے کھانا بھی نہیں ملا ہے۔ میں اسی لیے آپ کو منع کر رہا تھا، وہ تو آپ کی مجبوری دیکھی تو چلا آیا۔‘‘ وہ اب جتنا تیز رکشہ چلا رہا تھا، اتنی ہی تیزی سے باتیں بھی کر رہا تھا۔ ’’ہم غریب لوگوں کا یہی تو ہے صاحب! کسی دن کام کی ہمت نہ ہو تو پھر بھوکے ہی مرو۔‘‘ اس نے اپنی پھولتی ہوئی سانسوں میں کہا۔
یہاں سڑک ہلکی چڑھائی کی طرف تھی اس لیے اسے کافی زور لگانا پڑ رہا تھا۔ وہ رکشہ چلاتے ہوئے پیڈل کو اوپر سے نیچے کی طرف زور لگاتے وقت پورے جسم سے کھڑا ہو جاتا اور اس طرح وہ اپنے بیمار جسم سے پوری مشقت کر رہا تھا لیکن میں اس سے یہ بھی نہ کہہ سکتا تھا کہ وہ آرام آرام سے چلے۔ اس کی پرانی قمیض اس کے جسم سے بالکل چپک گئی تھی۔ درمیان میں کسی کسی وقت وہ انگلیوں کی پوروں سے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کو سمیٹ کر ایک طرف جھٹک دیتا مگر رکشے کی رفتار کم نہ کرتا۔ اب اسے دھن سوار ہو گئی تھی کہ مقررہ وقت سے پہلے وہ بس اسٹینڈ پہنچا دے۔ ’’مل جائے گی بس صاحب! چار تو ابھی نہیں بجے نا۔ اب زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘ وہ اپنی پھولتی سانسوں میں بھی مسلسل باتیں کیے جا رہا تھا جیسے مجھ سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا ہو۔
میری نا امیدی بھی امید میں بدل رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ آج اسے پچاس روپے کی جگہ دو سو ضرور دے دوں گا۔ دل اس اجنبی، غریب اور بیمار شخص کے لیے احساسِ تشکر سے بھر گیا۔
’’وہ رہا بس اسٹینڈ صاحب!‘‘ وہ خوشی سے چلایا۔ میرے چہرے پر بھی رونق دوڑ گئی۔ قریب پہنچنے پر دلی جانے والی پہلی بس بالکل سامنے ہی کھڑی نظر آ گئی، نکلنے کو بالکل تیار۔ وہ اسٹینڈ سے نکل کر گیٹ کے پاس کھڑی تھی ڈرائیور اپنی سیٹ پر موجود اور انجن اسٹارٹ۔ میں رکشہ پوری طرح رکنے سے پہلے ہی کود کر اترا اور جیب سے پرس نکال کر پیسے نکالنے لگا۔ رکشہ والا بھی ایک طرف رکشہ روک کر کنارے کھڑا فتح مندی سے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنا پسینہ خشک کر رہا تھا۔
میں یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ پرس میں ایک بھی چھوٹا نوٹ موجود نہ تھا، سب پانچ سویا ہزار کے تھے۔ میں نے بس کے دروازے سے لٹکے ہوئے کنڈکٹر کی طرف دیکھا جو مجھے رکشے سے اترتے ہوئے دیکھ کر میرا ہی منتظر تھا۔ ’’جلدی کیجیے۔‘‘ وہ چلایا۔
’’ٹکٹ لے لوں؟‘‘ میں نے اس سے کہا کیونکہ مجھے ٹکٹ سے زیادہ روپے کھلوانے کی فکر تھی۔
’’آیئے! بس میں ہی بن جائے گا۔‘‘ وہ پھر چلایا۔ بس اب اپنی جگہ سے کھسک رہی تھی۔ اس نے دروازے پر دب کر میرے چڑھنے کے لیے جگہ بنائی۔ میں نے رکشے والے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور بریف کیس اٹھا کر بس کی طرف لپکا میرے پیچھے رکشہ والا بھی تھا۔ چڑھنے سے پہلے میں نے کنڈکٹر سے کہا، ’’چینج دے دو پانچ سو کا۔‘‘
’’نہیں ہیں۔۔۔ آیئے!! جلدی کیجیے۔‘‘ وہ اپنی کرخت آواز میں چیخا –
’’سو دو سو ہیں تو وہی دے دو۔ اندر حساب کر لینا۔‘‘ میں نے ایک اور کوشش کی۔
’’پہلے اندر آئیے۔‘‘ وہ بد ستور بولا۔ میں بس پر چڑھ گیا، بس بہت آہستگی سے اب بھی رینگ رہی تھی اور رکشے والا بس کے دروازے کا ڈنڈا پکڑے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ کنڈکٹر اب میری طرف مخاطب نہیں تھا بلکہ باہر آدھے دھڑ سے لٹکا ہوا آوازیں لگا رہا تھا۔ میں نے گھبرا کر رکشے والے کی طرف دیکھا کیونکہ بس کی رفتار بڑھ رہی تھی اور کچھ مسافروں سے مخاطب ہوا کہ شاید کسی کے پاس چینج ہو۔ رکشہ والا ساتھ ساتھ اب تقریباً دوڑ رہا تھا، اسی طرح بس کے دروازے کا ڈنڈا پکڑے ہوئے۔ مسافر نفی میں سر ہلا رہے تھے اور میری نظریں سب کے چہروں سے پھسلتی ہوئی ادھر سے ادھر جا رہی تھیں۔ بس اب گیٹ سے باہر آ چکی تھی، میں نے دیکھا رکشے والا پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ میں شاید چلّا کر ڈرائیور کو روکنا چاہتا تھا مگر دیکھ رہا تھا کہ وہ اب نہیں رکے گا۔ اب میرے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ میں پانچ سو کا یہ نوٹ ساتھ دوڑتے ہوئے رکشے والے کی طرف پھینک کر اسے دے دوں۔ مگر اسی کشمکش میں، میں نے دیکھا کہ بس اپنی رفتار پکڑ چکی ہے۔ پھر بس کے پچھلے شیشے سے میں نے دیکھا کہ وہ بس کے پیچھے اب بھی دوڑ رہا تھا، اس کے دونوں ہاتھ اوپر اٹھے ہوئے تھے اور وہ کچھ کہہ بھی رہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ نظروں سے اوجھل ہوتا گیا مگر پانچ سو روپے کا وہ نوٹ میری مٹھی میں بھنچا ہوا تھا۔
٭٭٭
پرچھائیں
صبا نے راستے پر چلتے چلتے اپنی پرچھائیں کو دیکھا، کتنا بھی تیز قدم بڑھا لے وہ اس کے آگے ہی رہے گی۔ حقیر، بونی، بے ہودہ پرچھائیں، اسے اس کی کم مائے گی کا احساس کرانے کے لیے وہ اس کے سامنے رہ کر منہ چِڑاتی رہتی ہے لیکن کبھی جب وہ پیچھے جاتی ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے تو اپنا قد اتنا بڑا کر لیتی ہے کہ وہ نظروں میں نہ رہ کر بھی جیسے اسے دبوچ لیتی ہے اور وہ بے بس و کمزور پڑ کر اس کی موجودگی کے احساس سے نکل نہیں پاتی۔ یہ پرچھائیاں اتنی شکلیں کیوں بدلتی ہیں، کیوں نہیں تھوڑی دیر اسے اکیلا چھوڑ دیتی ہیں۔ اسے تو لگتا ہے کہ وقت کا کوئی بھی پہر ہو، اجالا یا اندھیرا ہو، وہ ان پرچھائیوں میں جیتے جیتے تھک گئی ہے۔ اپنی گنجلک سوچوں کے ساتھ وہ گھر پہنچ چکی تھی۔
صبا نے سبزی کا تھیلا ڈائننگ ٹیبل پر رکھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے تھکن زیادہ ہے یا پیاس۔ گھر پہنچ کر تھیلے اور پرس سے چھٹکارا پانے کے بعد دو قدم بڑھا کر اب اس سے فریج تک بھی نہ جایا جا سکا لیکن پیاس سے ہونٹ سوکھ رہے تھے، اکتوبر کے اوائل میں گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی لیکن چڑھتے سورج کی دھلی دھلائی سفید دھوپ کی تپش نے جیسے جسم سے پانی ہی نہیں خون بھی نچوڑ لیا ہو۔ اس نے سامنے بیڈ روم میں بستر پرا پنے دونوں پیر پھیلائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے اپنی بڑی بیٹی پنکی کو دیکھا، وہ اپنے فیس بک کے دوستوں کی دنیا میں گم تھی۔ تبھی دوسرے کمرے سے راجو آیا، پارے کی طرح تھرکتا ہوا۔
’’آپ آ گئیں ممی! بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اس نے فریج پر رکھی ٹوکری سے ایک سیب اٹھایا۔
’’ہاں، آ گئی۔ لفٹ خراب ہے، چار منزل چڑھتے چڑھتے حالت خراب ہو گئی۔ ذرا پانی تو پلاؤ۔‘‘
’’یے۔۔ یے۔۔ یے۔۔‘‘ پاس کے کمرے سے شور کی آواز آئی۔ کوئی وکٹ گری تھی، راجو اپنی آواز بھی اس شور میں شامل کرتا ہوا ادھر دوڑ گیا اور صبا کے الفاظ اس شور میں گم ہو گئے۔
’’منی!!!‘‘ صبا نے پکارا۔ چھوٹی بیٹی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ’’منی!!!‘‘ صبا نے پھر پکارا-
’’اف فوہ ممی! فون پر ہوں۔‘‘ منی نے بالکنی سے سر اندر کر کے اسے ایک جھڑکی دی۔ صبا کی سانسیں برابر ہو چکی تھیں۔ اس نے اٹھ کر فریج سے بوتل نکالی اور ٹیبل کے پاس آ کر گلاس سیدھا کر کے پانی اس میں ڈالنے لگی۔
’’ممی! ایک گلاس مجھے بھی۔‘‘ سامنے سے بڑی بیٹی پنکی نے آواز لگائی۔ وہ گلاس اٹھا کر پنکی کو دے آئی، اس میں اس وقت قوتِ مدافعت نہ تھی۔ پھر خود پانی پی کر بوتل بھر کر واپس فریج میں رکھی اور ٹی وی روم میں گئی۔ وہاں راجو اپنے پاپا کے ساتھ ٹوئینٹی ٹوئینٹی میچ دیکھنے میں محو تھا۔ ان دونوں کی محویت میں کوئی فرق نہ آیا اور صبا دو منٹ وہاں پر کھڑی ہو کر لوٹنے لگی۔ لیکن شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھیں یا نہ دیکھیں ان دونوں کے بیچ ایک ٹیلی پیتھی ہوتی ہے، شاید اسی ٹیلی پیتھی کی وجہ سے اس کے شوہر بلال نے اس کی موجودگی اور واپسی کو اچانک محسوس کیا اور اس کی دل جوئی کرنے کے لیے جاتی ہوئی صبا سے کہا، ’’صبا دیکھو! آج میچ میں بہت مزہ آ رہا ہے۔‘‘
’’ہوں۔۔۔‘‘ صبا کے قدم نہیں رکے کیونکہ وہ بہت بے مزہ ہو چکی ہے، اپنے چہار طرف ہلتی ڈولتی پرچھائیوں سے۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ اگر رک بھی گئی تو یہ پرچھائیاں اس کے اپنے قد کو ہی بونا اور بد ہیئت کر کے دکھا دیں گی۔ وہ وہاں سے آ کر الماری سے اپنے لیے ایک سوتی ساڑھی نکالتی ہے –
’’ممی! جلدی کھانا بنا دو۔ مجھے اور پاپا کو بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ صبا کی سماعت سے یہ آواز ٹکرائی اور وہ اپنی سلک کی ساڑھی اتار کر سوتی ساڑھی باندھ کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ آج دو اکتوبر کی چھٹی ہے اور آج ہی اتوار بھی ہے۔ ایک چھٹی نہ ملنے کا سب کو افسوس ہے اور آج اسی چھٹی کی وجہ سے سب گھر پر ہیں ورنہ اس وقت کون گھر میں رہتا ہے۔ کس نے کہاں، کب، کتنا کھایا؟ کسی کو معلوم نہیں رہتا اس لیے چھٹی کے دن کو صبا کچھ اسپیشل ٹچ دینا چاہتی ہے۔ شوہر اور بچوں کے لیے اور اپنے لیے بھی، اس کے اندر چند دہائیوں پہلے والی ایک عورت زندہ ہے جو ہر وقت اس کا دل مٹھیوں میں لے کر بھینچتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی ملنے والی چھٹّیوں کی اس کے لیے بھی وہی اہمیت ہے جو دوسروں کے لیے ہے۔ اس کا جسم بھی آج بے حس و حرکت بستر پر پڑا رہنا چاہتا ہے پر اس کے اندر والی عورت کا بھوت نکل کر اسے اپنے قابو میں کر لیتا ہے اور اسے بے حسی سے پڑے رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے اندر کی عورت پر اس کی ماں کی پرچھائیں نظر آتی ہے جس کے سارے جذبے بے لوث تھے مگر صبا مختلف ہے۔ وہ اپنی ہستی مٹا دینے میں فخر محسوس نہیں کرتی۔ بڑی بے چارگی سے مدد کے لیے سب کی طرف دیکھتی ہے پر اسے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ صرف کچھ لوگوں کی پرچھائیاں وہاں ہوتی ہیں ؛ بلال کی، راجو کی، پنکی اور منی کی۔ جو وہاں اتنے ہی موجود ہوتے ہیں، جتنی اس کی یادوں میں ماضی کی پرچھائیاں۔ وہ کام کرتے کرتے کب ماضی کی پرچھائیوں کے ساتھ ہوتی ہے اور کب حال کی اسے خود پتا نہیں چلتا۔ اسے لگتا ہے کہ اس کا زمانہ ایسا ہے جسے اس کے بچے پرانا زمانہ کہہ کر اس کی سوچوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور اس کے بڑے نیا زمانہ کہہ کر جھڑک دیا کرتے ہیں۔ اسے اپنے بچپن کے زمانے کا موہ بھی جکڑے رہتا ہے اور بہت یاد آتا ہے۔ کیونکہ اس زمانے کی بڑی بڑی ڈیوڑھیاں، آنگن، دالان اور ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے خاندان اور ان کی تہذیبیں سب غائب ہو گئی ہیں۔ صبا نے سوچا بادشاہ اور نواب کی بات تو وہ نہیں جانتی پر حویلیوں اور کوٹھیوں کو سکڑ سمٹ کر گھر میں بدلتے اس نے اس زمانے سے اس زمانے تک آتے آتے ہی دیکھا تھا۔ تب اسے بھی چھوٹے اور خوش و خرّم خاندان کا تصوّر بڑا بھلا لگتا تھاپر اب لگتا ہے بڑے خاندان کے ساتھ بڑے بڑے سہارے اور امداد بھی غائب ہو گئے ہیں۔ نہ جانے کب اور کیسے خوشی کی گٹھری وہیں چھوٹ گئی اور ہم اپنے ساتھ صرف بوجھ اٹھا لائے۔ چھوٹے بڑے کام کا بوجھ، تنہائی کا بوجھ، لاتعلقی کا بوجھ۔ وہ پرانی تہذیبیں ہی ہیں جو اس کی نسوں میں دشمن بن کر دوڑ رہی ہیں اور یہ یوں ہی ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں پر جب کسی نسل کے ساتھ دم توڑتی ہیں تو پورے معاشرے کو مردہ بنا جاتی ہیں۔
’’ممیی ی!!!‘‘ راجو کی آواز نے اسے ماضی سے حال کی پرچھا ئیوں کے بیچ کھینچ لیا۔
اس نے مکسر کا سوئچ آف کیا، گلاس ٹرے میں لگا کراس میں موسمّی کا جوس ڈالا اور سب کو جا جا کر جوس کا گلاس پکڑا دیا۔ فون کی گھنٹی بج رہی تھی، راجو نے صبا کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر کہا، ’’ممی! دو اوور‘‘ رہ گئے ہیں پلیز آپ دیکھ لیں۔‘‘ صبا نے اپنا غصہ ضبط کر لیا اور فون کی طرف گئی۔
’’رہنے دو ممی میرے لیے ہے۔ موبائل پر سگنل نہیں آ رہے ہیں۔‘‘
صبا کا غصہ پھوٹ پڑا، ’’کس سے اتنی دیر سے بات کر رہی ہو۔‘‘
منی نے کھا جانے والی نظروں سے ماں کو دیکھا اور فون اٹھا لیا۔ ’’یہ تم نے کس طرح مجھے۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ صبا کی بات پوری ہوتی، بلال کی آواز آئی، ’’اب اس وقت تم لوگ لڑنے مت لگ جانا۔‘‘
صبا کو اپنی ساس یاد آ گئیں جو ہمیشہ ایسے موقعے پر بلال کو روک دیا کرتی تھیں اور اس کا ساتھ دیتے ہوئے کہتیں، ’’ماں کچھ بھی بچّے کی بھلائی کے لیے بولتی ہے تو تم بیچ میں مت بولا کرو۔‘‘ صبا کا دل بھر آیا، اس بار حال کی نہیں پیچھے سے ماضی کی پرچھائیوں نے اپنا قد بڑا کیا اور اسے دبوچ لیا۔ صبا باورچی خانے میں چلی گئی اور تیزی سے سبزیاں کاٹنے، چاول دھونے اور پیاز تلنے میں لگ گئی۔
’’ممی!! ممی! کہہ دیجیے میں گھر پر نہیں ہوں۔‘‘ پنکی بغیر چپّل کے ہی ہاتھ میں موبائل لیے دوڑ کر آئی۔ صبا نے اس کے بغیر چپّل کے پیروں کو چِڑ کر دیکھا، آج ہی اس نے بستر کی چادر بدلی تھی۔ پھر اپنے گیلے ہاتھوں کو دیکھا۔
’’لیجیے۔۔‘‘ پنکی اس سے ضد کر رہی ہے۔ وہ ساڑھی کے آنچل سے ہاتھ پونچھ کر فون ریسیو کرتی ہے۔
’’کون آرتی۔۔؟ آدھے گھنٹے بعد کر لینا۔ وہ باتھ روم میں ہے۔۔۔ ہاں! نہا رہی ہے۔‘‘ پنکی ماں سے ناراض ہو گئی کہ اس نے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ گھر پر ہی نہیں ہے۔
’’کیوں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’آپ نہیں سمجھتیں ہیں ممی! آ کر بیٹھ جائے گی۔‘‘
’’تو کون سا تم ضروری کام کر رہی ہو؟‘‘
’’اتنے دن بعد دوستوں سے آن لائن ملی ہوں۔‘‘
’’جن دوستوں سے تم کبھی ملی نہیں ان کے لیے بچپن کی دوست سے۔۔۔‘‘ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی پنکی پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی جاتی ہے اور صبا پھر سے اپنی پریشان سوچوں کے گرداب میں چکرانے لگتی ہے۔ ماں باپ نے پہلے بچوں کو دوست بنایا پھر دھیرے دھیرے اب وہ کسی بات میں دخل اندازی برداشت نہیں کرتے۔ بلال پر اپنے کام کی اتنی تھکن سوار رہتی ہے کہ اسے ان چیزوں سے جیسے کوئی مطلب نہیں۔ سب اپنے اپنے محور پر بس گھوم رہے ہیں، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں جیسے سب کا ساتھ ہونا ایک اتفاقی بات ہو، جیسے کچھ اجنبیوں کا ایک ہی کوپے میں سفر کرنا، ایک اجنبیت کے ساتھ ایک دوسرے کو جاننا سمجھنا اور الگ الگ منزلوں کے انتظار میں رہنا۔ اور صبا کو اپنی دخل اندازی ایسی ہی لگتی ہے جیسے آپ کسی دوسرے کی برتھ پر زبردستی اپنے لیے جگہ بنائیں اور آپ کی اس جرأت پر لوگ آپ کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھیں۔
کھانا تیار ہو چکا تھا، گرم گرم کھانا۔ صبا کو خوشی ہے کہ وہ آج اپنے سارے کاموں پر اپنے بچوں اور شوہر کو ترجیح دے کر ان کے لیے تر و تازہ کھانا تیار کر پائی ہے، جو روز نہ کر پانے پر اس کے اندر دہائیوں پہلے والی عورت اسے کچوکے لگاتی رہتی ہے اور اسے اندر سے خوش نہیں رہنے دیتی۔ مگر اس وقت صبا نے گنگناتے ہوئے ٹیبل پر کھانا لگایا۔ سلاد، رائتہ، گوبھی، مٹر اور ٹماٹر کی سبزی، دال، زیرہ چاول اور گرم گرم گھی لگی روٹیاں۔ وہ پنکی اور منی کو آواز دیتی ہوئی بلال اور راجو کو بلانے چلی جاتی ہے۔
’’چلو کھانا تیار ہے۔‘‘ اسے ایک منٹ کی دیر بھی اب منظور نہیں۔
’’ارے صبا! بور مت کرو لا سٹ اوور چل رہا ہے۔‘‘
ٍ صبا کو غصہ آتا ہے۔ ’’راجو تمہیں بھوک لگی تھی؟؟؟‘‘
’’ممی یہیں پر پلیٹ میں لا دیں نا! پلیز۔۔!‘‘
’’ہاں صبا! یہیں پر پلیٹ میں دے دو۔ ایک دن تو چھٹی کا ملا ہے اسے اپنے طور پر جینے دو۔‘‘
وہ پلٹ کر جانے لگتی ہے۔ ’’تمھاری ممی کو اس کے علاوہ اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ کھانا کھانا بس ہر وقت کھانا۔۔۔‘‘ بلال اور راجو ایک ساتھ ہنستے ہیں۔ صبا کو لگتا ہے اس کی بونی پرچھائیں اس کے قدموں سے الگ ہو کر اس پر ہنس رہی ہے۔
صبا کا سر ناچ رہا ہے نہ جانے تھکن سے، مایوسی سے یا غصے سے۔ اس سے زیادہ اس کے اندر والی عورت مجروح ہوئی ہے۔ وہ تیزی سے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آتی ہے۔ پنکی اپنا کھانا لے کر واپس لیپ ٹاپ کے پاس جا چکی ہے، منی اسے غصے میں دیکھ کر جلدی سے ٹیبل پر آ جاتی ہے اور اپنا کھانا لے کر کھانے لگتی ہے۔ صبا نے بلال اور راجو کو پلیٹ میں کھانا نکال کر انھیں تھما دیا اور خود اسٹڈی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی۔ ٹیبل پر کاپیوں کا انبار لگا ہے، اسکول کے امتحان کی رپورٹ بھی تیار کرنی ہے، آج کا دن اس نے یوں ہی برباد کر دیا۔ منی اس سے پوچھنا چاہتی ہے آپ نہیں کھائیں گی۔۔؟ پر نہیں پوچھ پاتی اس کا موڈ دیکھ کر ڈر گئی ہے۔ صبا اپنے کام میں لگ جاتی ہے۔ اس کے پاس سب سے انتقام لینے کا یہی ایک طریقہ ہے، خود کو اذیت دینا، جس کا ادراک شاید ہی کسی کو ہو۔ اب وہ اپنے کام میں اتنی محو ہے کہ اسے احساس ہی نہیں ہوتا کب بجلی چلی گئی۔ پا ور کٹ ہوتے ہی راجو کو اپنے باہر کے دوست یاد آ جاتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھیلنے چلا جاتا ہے۔ بلال اس کمرے سے اس کمرے میں آتے جاتے کھانس کھنکھار کر صبا کی توجہ کے متمنی ہیں۔
’’صبا تم نے کھانا کھایا۔۔؟‘‘ بلال نے پوچھا۔
’’یہ کام ختم کر کے کھا لوں گی۔‘‘ صبا نے مختصر جواب دیا۔
’’کھانا اچھا تھا۔‘‘ بلال نے کہا۔ صبا چپ ہے، وقت گزر جانے کے بعد الفاظ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔
’’منی اور پنکی تو سو گئی ہیں۔‘‘ بلال نے بات آگے بڑھائی۔
’’ہاں!‘‘ صبا کی آواز جیسے بہت دور سے آئی۔
’’بہت بوریت ہے یار!!! کیا کروں؟‘‘ بلال کی آواز میں احتجاج ابھر آیا۔
’’سو جاؤ۔‘‘ صبا اپنے کام سے سر نہیں اٹھاتی اور اپنی سرد مہری پر ایک کمینی سی خوشی محسوس کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے وہ اپنی بونی پرچھائیں پر پیر رکھ کر کھڑی ہے لیکن صبا نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کے اندر کی چند دہائیوں پہلے والی مجروح عورت دور کھڑی حیران اور اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی ہے جیسے وہ اسے نہیں پہچانتی۔
٭٭٭
ڈائل ٹون
اُسے اچانک مایوسیوں نے آ گھیرا جبکہ وہ سمجھتا تھا کہ مایوسی، تھکان، نا امیدی جیسی چیزیں اس کی سرشت میں داخل نہیں لیکن وہ غلط سمجھتا تھا۔ آخر وہ بھی تو انسان ہے اور ہر انسان کی طرح اپنا زیادہ تر وقت اس عارضی دنیا کی فانی اور لایعنی اشیاء کے لیے تگ و دو کرتے اور حرص و ہوس میں گزارتے گزارتے اچانک تھکن محسوس کرنے لگا ہے اور اس تھکن کی بنیادی وجہ شاید ادھر ملنے والی مسلسل ناکامی تھی۔ اس ناکامی نے اس کے اندر عجیب سی بے بسی، کڑھن اور جھلّاہٹ بھر دی تھی۔ وہ بجھا بجھا سا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی جن سوالوں کا، جن منتظر نگاہوں کا اسے سامنا کرنا تھا وہ اس سے بچنا چاہتا تھا مگر وہ بے بس تھا۔
گھر پہنچ کر اس نے ایک لا تعلقی اور سنجیدگی کا انداز اپنایا اور کمرے میں جا کر ایک طرف بیگ پھینکا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ بیوی اس کی آہٹ پا کر لپکتی ہوئی آئی مگر اس کی سنجیدگی دیکھ کر چہرہ کچھ بجھ سا گیا۔ اس کی نظروں میں وہی سوال تھا جس سے وہ بچنا چاہتا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور بیوی نے سمجھ بوجھ کا پتہ دیتے ہوئے کولر آن کر دیا۔ کولر کی ہوا کا ٹھنڈا اور نم جھونکا دماغ پر چڑھی گرمی کو کم کرنے میں ذرا کارگر ثابت ہوا۔
’’سنو! یہ شربت پی لو۔‘‘ بیوی کی سریلی آواز بھی سرپر ہتھوڑے کی طری بجی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔ واقعی پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا۔ مسکراہٹوں کی پھوار گراتی ہاتھ میں شربت کا گلاس لیے سامنے کھڑی بیوی اس وقت اچھی لگی۔ اس کا تناؤ ذرا کم ہوا۔ بستر پر ذرا سا اُٹھ کر تکیے کا سہارا کمر کو دیتے ہوئے اس نے گلاس پکڑ لیا۔ اب وہ سوچ رہا تھا خواہ مخواہ گھر آتے وقت وہ تناؤ میں تھا۔ اب تک اس کی بیوی پائینتی پر بیٹھ چکی تھی اور وہ شربت کے ننھے ننھے گھونٹ لے کر نس نس میں دوڑتی ہوئی غصّے اور جھنجھلاہٹ کی چنگاریوں کو ٹھنڈا کر رہا تھا۔
تبھی بیوی نے بڑی لگاوٹ سے پوچھا، ’’آج گئے تھے کیا ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ؟؟؟‘‘ اس نے شاکی نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا۔ بیویاں اگر اپنے بیویانہ حقوق سے باز آ جاتیں تو محبوباؤں کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی۔
’’کیا تم ٹیلی فون کے اس چکر کو بھول نہیں سکتیں۔‘‘ آخر کار جھلاہٹ لفظوں سے عیاں ہوہی گئی۔
’’میں تو صرف پوچھ رہی تھی۔‘‘ اس نے ذرا روہانسی آواز میں کہا اور جھٹک کر اٹھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جیسے اپنی اوڑھی ہوئی لگاوٹ اس کے قدموں میں جھاڑ کر چلی گئی ہو، جیسے مرغیاں اپنے پروں سے گرد جھاڑ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس نے جھنجھلا کر ایک ہی سانس میں شربت کا گلاس یوں چڑھایا جیسے جلتا ہوا الکوہل حلق میں انڈیلا ہو اور گلاس ایک طرف پٹخ کر لیٹ گیا۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز اور جوتوں کی کھٹ کھٹ سے اندازہ ہوا کہ تینوں بچے بھی اسکول سے واپس آ گئے ہیں۔ اب وہ متوقع تھا کہ بچے باری باری اس کے پاس آئیں گے اور سوالات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
’’ڈائل ٹون آیا۔۔۔؟‘‘
’’آج بھی نہیں۔۔۔؟‘‘
’’پندرہ دن ہو گئے ہمارے یہاں فون انسٹالڈ (installed) ہوئے۔‘‘
’’پاپا گئے تھے۔۔۔؟‘‘
’’میرے دوست کے یہاں تو تیسرے دن ہی ڈائل ٹون آ گیا تھا۔۔۔‘‘
اور یہ صرف اس کا خیال نہیں تھا بلکہ کان میں اس قسم کی آوازیں پڑ رہی تھیں۔ بچے اپنی ماں کے کان اور جان کھا رہے تھے۔ کسی وقت بھی اس کی باری آ سکتی تھی۔ وہ ابھی آنے والی اس افتاد کے تناؤ میں ہی تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ کولر کے بند ہوتے ہی یہ آوازیں اور واضح، اور قریب محسوس ہونے لگیں اور ماحول میں پھلی ہوئی گرمی میں حلول ہو کر اس کے دماغ کی نسوں میں ناقابلِ برداشت کھنچاؤ ڈالنے لگیں۔ وہ بلبلا کر کھڑا ہو گیا۔ پہلے جوتے اور موزے اتار کر پھینکے پھر بنیان اور لنگی پہن کر کمرے سے باہر نکلا۔ بچوں پر ایک سخت سی نظر ڈالی۔ ’’اتنی دیر سے آ کر تم لوگ صرف باتیں بنا رہے ہو۔ اب تک ڈریس چینج کیوں نہیں کیا؟‘‘ پھر وہ بیوی سے مخاطب ہوا، ’’بجلی آتے ہی کھانا نکالو۔ اس گرمی میں کھانا کیسے کھایا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ بدبداتا، جھلّاتا بلا ارادہ ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی جھلّاہٹ سے بظاہر ہر طرف سانپ سونگھ گیا تھا مگر جھلّاہٹ بھرے وہ الفاظ سب کی سماعت سے ہوتے ہوئے سب کے وجود میں حلول کر گئے تھے اور اب ہر چہرہ تناؤ میں نظر آ رہا تھا۔
بجلی تو سسرال سے روٹھی ہوئی بہو کی طرح غائب تھی جسے نہ آنا تھا نہ آئی اور سب کے تناؤ میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ بیوی نے اپنی جھنجھلاہٹ بچوں پر نکالی اور انھیں ڈانٹ پھٹکار کر کھانا کھلا دیا۔ دونوں بیٹے اب بنیان اور نیکر پہنے بو کھلا بوکھلا کر بات بات پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ ان کی بنیانیں جیسے پسینے سے نہیں بلکہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھیں اور کیوں نہ ہوتیں، بھائیوں کے بیچ کی محبت آج کل کے بجلی اور پانی کی طرح ناپید ہو گئی تھی۔ بڑی بیٹی البتہ ایک ہاتھ میں کھجور کا پنکھا لیے زور زور سے ہلا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے فلمی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی۔ جب آس پاس آسودگی اور آسائش کے چہروں پر خراشیں پڑنے لگیں تو ایسے موقعے پر نئی نسل خوبصورت میگزین کی مردہ تصویروں کے روشن اور تاب ناک چہروں سے زندگی کی حرارت اور خوشی تلاش کرتی نظر آتی ہے۔
’’چار بج گئے ہیں۔ آ کر کھانا کھالو۔‘‘ بیوی کی آواز میں بلاوا کم اور دھمکی زیادہ تھی۔ وہ اٹھا اور ڈائیننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا۔ ایک ایک کرسی کھسکا کر اس کی بیوی اور بیٹی بھی بیٹھ گئیں۔ کھانا کھاتے ہوئے اسے لگا کہ آج کی ساری روداد سنا کر شاید اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے اور سب کا تناؤ بھی۔
’’میں گیا تھا ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ مگر وہ آدمی تھا نہیں۔ دو گھنٹے بیٹھا رہا تب جا کر آیا۔‘‘
’’کیا کہا اس نے؟‘‘ بیٹی نے بڑی بے چینی سے پوچھا۔
’’آج ایک نیا بہانہ، پرسوں بلایا ہے۔‘‘
’’اُف کتنی کمیونیکیشن پرابلم ہم لوگ فیس (Face)کر رہے ہیں۔ پاپا! میری کئی سہیلیوں کے یہاں اب تو انٹرنٹ کی سہولت بھی ہے۔ کئی کے پاس موبائل فون ہے اور ایک ہم ہیں کہ معمولی سا فون اتنی بھاگ دوڑ کے بعد ملا بھی تو نہ اب تک نمبر ملا ہے نہ ہی ڈائل ٹون‘‘۔
’’اوپر ساہنی صاحب کا فون بھی لگ گیا ہے۔‘‘ بیوی نے اطلاع دی تو اسے یاد آیا اس نے اور ساہنی نے ایک ساتھ ہی فون کے لیے اپلائی کیا تھا۔
شام گہری ہوئی تو گرمی سے پریشان لوگ اپنے اپنے فلیٹ سے باہر نکلنے لگے۔ عورتیں اور بچے بھی ادھر اُدھر سے نکل کر فلیٹ کے سامنے بڑے لان میں جمع ہو رہے ہیں۔ سب کے چہروں پر بے زاری جھلک رہی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے نلکوں میں پانی بھی نہیں آ رہا ہے اور پانی نہ آنے سے برتن نہیں دھُلے ہیں تو کھانا کیسے بنے۔ بچّے البتہ ناسازگار ماحول میں بھی کھیل کود میں فوراً مگن ہو جاتے ہیں اور یہاں بھی ان کا گروپ الگ طرح کے کھیلوں میں مصروف ہوتا جا رہا ہے۔
’’ارے بھائی! کوئی ٹرانس فارمر جل گیا ہے۔ ابھی بجلی دفتر میں فون کیا تو معلوم ہوا۔ دو گھنٹے اور لگیں گے اسے ریپئر(repair) ہونے میں۔‘‘ ساہنی نے اس کی طرف آتے ہوئے اطلاع دی۔
جب نیا نیا فون ہو تو جوش میں انسان اسے جلدی ہی کھڑکاتا ہے۔ اس نے سوچا اور روکھی سی ’’ہوں‘‘ سے ساہنی کو ٹالنا چاہا مگر جس خطرے کو اس نے پہلے ہی سونگھ لیا تھا وہ سامنے آیا اور ساہنی نے اگلا سوال داغا، ’’تمہارے فون کا کیا ہوا۔۔۔؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ ویسا ہی ہے۔‘‘
’’تم نے لائین مین کو پیسے نہیں دیے ہوں گے۔‘‘
’’دیے تھے نا بھائی صاحب! پورے سو روپے۔‘‘ اس کی بیوی نا جانے کب پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی اور اب ساہنی کی بات کا جواب دے رہی تھی۔
’’آپ نے کچھ زیادہ دیے تھے کیا۔۔۔؟‘‘
’’آج کل تین سو کا ریٹ چل رہا ہے۔‘‘ ساہنی نے اپنی خاص جان کاری ذرا دھیمی آواز میں ان لوگوں تک پہنچائی اور اس کا خون پھر بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچنے لگا۔ اس کرپٹ سو سائٹی کا تانا بانا آخر ہم اپنے ہاتھ سے ہی تو تیار کرتے ہیں تو پھر بعد میں ہر قدم پر سر پکڑ کر روتے کیوں ہیں؟؟؟ مگر وہ کس سے کرتا یہ سوال۔۔۔؟ اس لیے اپنے اس خیال کو خود تک ہی محدود رکھا۔
’’ان سے کتنی بار کہا رشوت نہیں دے سکتے تو کم سے کم ایس۔ ڈی۔ او سے ایک بار مل لیتے یا کسی ایسے آدمی کو پکڑتے جس کی پہنچ اوپر تک ہو۔ بھلا ایسا کرنے میں تو کوئی برائی نہیں۔‘‘
وہ چپ رہتا ہے، کچھ کہنے کا فائدہ نہیں۔ یہاں پر کمیونیکیشن پرابلم نہیں کمیونیکیشن گیپ ہے۔ اگر وہ اپنے دل کی کہے گا تو سمجھنا تو دور کوئی سننا بھی نہیں چاہے گا۔ جیسے ابھی خود اسے اپنی بیوی کی یا ساہنی کی باتیں گراں لگ رہی تھیں۔ اس کے بیوی بچّے تو اس وقت صرف ایک ہی بات سننا چاہتے تھے کہ ایسا کیا کِیا جائے کہ فون کی گھنٹی بج اٹھے اور وہ سوچتا ہے کہ آخر جب اپلائی کر کے ایک سال وہ اپنی باری کا انتظار کر سکتا ہے تو ایک ماہ اور کیوں نہیں۔ کچھ دیر اور آس پڑوس کے لوگ اسے طرح طرح کے مشورے دیتے رہے اور وہ صبر کے گھونٹ بھرتا رہا۔ وہ کس کس کو سمجھاتا جبکہ اس کے اپنے بھی اس کی دانست میں ان نا سمجھوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئے تھے۔ اچانک بجلی آ جانے سے پوری بلڈنگ جگمگا اُٹھی اور ان تمام لوگوں میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔
کئی دن اور معمول کے مطابق یو نہی سرک گئے۔ اس نے ہر طرف کے دباؤ سے گھبرا کر اپنے مزاج کے خلاف بھی کئی کام کیے۔ کئی طاقتور لوگوں کے دروازے پر گیا مگر ہوا کیا۔ اپنی بے چینی اور کمتری کا احساس اس کی انا کو کچو کے لگا گیا اور معاملہ جہاں تھا وہاں ہی رکا رہا۔ وہ سوچتا کہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس میں اپنی انا سے سمجھوتا کرنا پڑے، اسے مجروح کرنا پڑے جبکہ بیوی کہتی، ’’یہ انا، اصول، خود داری سب ناکامیاب لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں۔ بدلتے ہوئے وقت میں ان باتوں کی قیمت ویسے ہی گرتی جا رہی ہے جیسے ڈالر کے آگے انڈین کرنسی۔ اس لیے کبھی کبھی اپنے آدرشوں کی چادر میں چھپنے کے بجائے اسے ایک طرف اٹھا کر پھینکنے کی طاقت بھی خود میں پیدا کرنی چاہیے۔ ورنہ زندگی کے یہ کھوکھلے اصول کبھی کبھی ہم سے بڑی قیمتی شے چھین لیتے ہیں اور ناکامی کی کالک قسمت پر تھوپ دیتے ہیں۔‘‘
مگر اتنی بھاگ دوڑ اور تگ و دو کے بعد اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ اپنے اصولوں کو پکڑ کر بیٹھا رہتا تو کم از کم آج اسے یہ تکلیف تو نہ ہوتی جو بار بار ان کے اور اُن کے آگے گڑ گڑا کر، دوڑ کر بھی کچھ حاصل نہ کر پانے سے ہو رہی ہے۔ کچھ دنوں سے وہ سب کی چبھتی نظروں کو محسوس کر رہا تھا جیسے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہو یا ہر طرف ہر چیز ٹھیک ٹھیک چل رہی ہے صرف اسی میں کوئی کمی ہے جو اب تک وہ ایک ادنیٰ سا کام نہیں کروا پایا۔ اس سسٹم سے کسی کو کوئی شکایت نہیں جہاں پر کام یوں ہوتا ہے جیسے وہ نوکری نہیں احسان کر رہے ہوں۔ اب تو اسے بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ فون انسٹالڈ (installed) کرنے کے بعد بھی بیس دنوں سے اسے ڈائل ٹون اور نمبر نہیں دیا جا رہا ہے۔ صبر اور تحمل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اب تو بچوں نے بھی پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ بیوی کی ضد بھی ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ بس کبھی گھر میں اس طرح کا تذکرہ نکل جاتا کہ فلاں کے یہاں اتنی جلدی فون لگ گیا جبکہ ہم لوگوں کو اتنے دن ہو گئے اور دور کیوں جایا جائے، آج کل تو ہر بات کے پیچھے ساہنی کی مثال دی جانے لگی تھی۔ اس طرح کے تبصرے اب اس کے اندر ایک ضد بنتے جا رہے تھے اور اس نے ٹھان لیا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ اب رشوت دے کر ہر گز کامیابی کی کوشش نہیں کرے گا، سیدھے راستے سے ہی کوشش کرتا رہے گا اور انھیں ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر ڈائل ٹون دینا ہی پڑے گا۔ اور وہ ثابت کر دے گا کہ یہ ہمارے اوپر ہی منحصر ہے کہ ہم کون سا طریقہ اپنانا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی اس کی بیوی اسے سمجھانے کی کوشش کرتی مگر وہ اس طرح کی باتیں سننا بھی نہیں چاہتا تھا اس لیے ہوا یہ کہ گھر میں ایک سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔
ادھر اس نے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ وہ روزانہ ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر جا کر معلومات حاصل کرتا اور دیکھتا کہ وہ تنہا پریشان نہیں تھا۔ اس کے جیسے نہ جانے کتنے لوگ روزانہ اس دفتر کے چکر لگا یا کرتے۔ ایک دن ایسی ہی ایک مایوسی سے بھری تپتی دوپہر میں اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب نا جانے کیوں اور کیسے اسے ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر میں یہ جواب ملا، ’’آپ گھر جا کر فون ریسیو کریں۔ ابھی چند گھنٹوں میں ڈائل ٹون دیتا ہوں۔‘‘
وہ حیران بھی تھا اور خوش بھی۔ آج کی یقین دہانی میں سچائی کی جھلک تھی۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ سب کے سامنے سرخرو ہو جائے گا۔ گھر آتے ہی اس نے بیوی کو یہ خوشخبری دی مگر یہاں بھی اسے حیرت ہوئی جب اس خبر سے بجائے خوش ہونے کے ایک طنزیہ سی ہنسی اُس کے چہرے پر کمان کی طرح کھنچ گئی۔ بیوی کے چہرے کے طنزیہ خطوط کو دیکھ کر اس نے سوچا کہ شاید اسے یقین نہیں آیا ہے کہ وہ آج بالکل صحیح خبر لے کر آیا ہے۔ خیر! کچھ دیر میں یقین بھی آ جائے گا۔ جب تک اس گرمی اور انتظار کی کوفت سے نجات پانے کے لیے اس نے سوچا کہ وہ نہا کر آ جائے۔
ابھی وہ باتھ روم سے نکل کر تولیہ سے اپنے گیلے بالوں کو خشک کرنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑا ہی ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک آسودہ سی اطمینان بخش مسکراہٹ ابھر آئی۔ آخر کار وہ جیت گیا اور بغیر رشوت کے اپنی کوششوں سے اسے کامیابی ملی تھی۔ بیوی بچے سب فون کی طرف لپک چکے تھے۔ وہ اطمینان سے اپنے بالوں میں کنگھی کرتا رہا۔ گھر میں آئی خوشی کی یہ لہر اسے عجیب سا سکون دے رہی تھی۔ بیٹی نے فون اُٹھا کر اپنا نمبر نوٹ کیا۔ تبھی بیوی نے رسیور اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بات شروع کی، ’’تھینک یو بھائی صاحب! مہربانی آپ کی۔ آگے بھی خیال رکھیے گا کبھی فون خراب ہو تو۔ آپ کو مل گیا تھا نا؟ پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔ خواہ مخواہ اتنا انتظار کرنا پڑا۔ میں نے ساہنی صاحب کے ذریعے آپ کا تحفہ بھیجا تھا۔ ٹھیک۔! (وہ ہنسی) ہاں!! ہاں!!! کیوں نہیں، ہم بھی ہمیشہ آپ کا خیال رکھیں گے۔ او کے، تھینک یو۔‘‘
اب اس کی بیوی نے ریسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا تھا اور وہ سُن سا کھڑا تھا۔ وہ ہار گیا تھا۔ یہ باتیں تیزاب کا تاثر رکھتی تھیں جو اس کے یقین، اس کے اعتماد اور اس کے اندر کے سچے انسان کو جھلسا گئی تھیں۔ اس نے آئینے میں دیکھا تو اسے لگا جیسے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ یہ مسخ شدہ چہرہ اس کا ہے یا ایک سیدھے اور سچے انسان کا۔۔۔؟
٭٭٭
نسل
جدنی محتاط قدموں سے آفیسرز کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سہمی ہوئی نظروں سے وہ چاروں طرف کسی کسی وقت دیکھ لیتا جہاں کے سارے درخت اور پتّے، ٹیلے اور میدان، چرند و پرند اس کے جانے پہچانے تھے۔ جہاں کی ہوا اس کی سانسوں کے ساتھ ہم آہنگ تھی، جہاں کے پانیوں کی سطح اس کا آئینہ تھی۔ وہی علاقہ آج اس کے لیے کتنا اجنبی ہو گیا تھا بلکہ اجنبی کر دیا گیا تھا۔
یہاں سے تاڑ کے پیڑوں کے جھنڈ کے بیچ بنی اس کی جھونپڑی صاف نظر آ رہی تھی۔ بائیں طرف ایک ٹیلا اور دائیں طرف کچھ دور تک پھیلا نا ہموار میدان۔ کچھ لوگوں کی زندگی کی طرح جس میں کوئی بھی قدم سیدھا نہیں پڑتا۔
وہ اسی کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا حالانکہ پہرے پر بیٹھے سپاہیوں نے اسے کئی بار دھتکارا تھا۔ ’’ادھر بھولے سے بھی پیر مت رکھنا۔ شکاری سمجھ کر گولی چلا دی تو دوش دینے کے لیے سمے نہیں ملے گا۔‘‘ مگر ضرورتوں کی لاتعداد مگرمچھ اپنے خوفناک اور تیز دانت دکھا دکھا کر اسے موت کے کنویں کی طرف دھکیلتے تھے۔ شاید اسی کنویں سے اسے ایک چلّو پانی ملنے کی آس تھی۔ آفیسرز کیمپ کے پیچھے سے جنگل شروع ہوتا تھا جسے فی الحال احتیاطی تدابیر کے طور پر خاردار تاروں کی باڑ نصب کر کے محفوظ کیا گیا تھا۔ باڑ کے اس طرف دس بارہ فٹ گہرے گڑھے کھود دیے گئے تھے۔ یہ ساری حفاظتی کاروائی اس شیر اور شیرنی کے جوڑے کے لیے کی گئی تھے جو ایک کم یاب نسل (Rare Breed) تھی اور یہ نسل ختم ہونے پر آ گئی تھی۔
سب سے پہلے پاس کے گاؤں والوں نے سمڈیگا سے ذرا دور جہاں جنگل شروع ہوتے تھے اس نسل کے ایک شیر کو مردہ پایا۔ سیدھے سادھے گاؤں والوں کو بھی اب ان حیوانوں کی اہمیت کا اندازہ تھا اس لیے انھیں مردہ شیر کو دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور فکر بھی۔ شیر آخر مرا کیسے؟ یہاں کے باشندے اور جانور کبھی ایک دوسرے کی طرزِ زندگی میں مخل نہ ہوتے تھے۔ معاملات کی سنگینی کا اندازہ کر کے کچھ گاؤں والوں نے قریب کے تھانے میں خبر کر دی۔ پہلے تو پولیس نے معمولی کاروائی کی پھر نہ جانے کیا ہوا پورے پولیس کے عملے کے سا تھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پھر اس صوبے کے گورنر سب حرکت میں آ گئے۔ جدنی کو صرف اتنا سمجھ میں آیا کہ ایک شیر کی موت نے اس گاؤں کی کایا پلٹ دی تھی۔ وہی سڑک، وہی میدان، وہیں جنگل، وہی آسمان اور وہی زمین مگر حالات یکسر بدل گئے تھے۔
جب سے ان کے چہار طرف بکھرے قدرتی وسائل پر پابندی عائد کی گئی تھی جدنی کو لگ رہا تھا کہ زمین ان کے لیے مزید سخت اور آسمان مزید گرم ہو گیا ہے۔ اپنے ہی علاقے میں وہ نظر بند تھے۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا تھا۔ جنگل کا بڑا حصّہ خاردار تاروں سے گھیر دیا گیا تھا، انھیں ایک کونے میں سمٹنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ وہ آزادی سے اب ندی کے کنار گھوم بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ شک کے گھیرے میں تھے کہ کہیں کوئی اس پانی کو زہر آلود نہ کر دے۔ نا جانے کتنے لوگ ان حالات سے تنگ آ کر یہ علاقہ چھوڑ کر جا چکے تھے۔ برس ہا برس سے رہنے والے لوگ اگر جا رہے تھے تو دوسری طرف آفیسرز کیمپ لگائے جا رہے تھے۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ کالے کالے ننگ دھڑنگ وجود کی جگہ، رنگ برنگی پوشاکوں کے لہرانے کا سماں تھا۔ سرخ شعلوں کے درمیان بھونے جانے والے گوشت کی بو فضاؤں میں بکھر رہی تھی، ساتھ ہی میوزک، قہقہے، پکنک اور خیرہ چشم زیورات، قیمتی ملبوسات، چہرے سے زیادہ چمکتے ہوئے ہیرے اور کندن کے آویزے، گویا اسی طرح کی رنگ بھری اور امنگ بھری محفل۔
جدنی کی سمجھ میں کیا آتا۔ نا جانے کون تھے یہ لوگ؟ کیوں آئے تھے۔۔۔؟ جدنی نے تو کبھی ایسی دنیا نہیں دیکھی تھی۔ اس نے تو ہمیشہ کڑوے کسیلے دھوئیں کے سا تھ ابلتے ہوئے بھات (چاول) ہی دیکھے تھے۔ اس کی دنیا تو اس کی جھونپڑی میں تھی جس کے لیے وہ اس ناسازگار ماحول کو چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کی مہوا جو پیٹ سے تھی، دو قدم بھی چلنے سے قاصر تھی تو دو کوس کیسے چلتی؟ اس لیے وہ یہیں جما ہوا تھا اور آج آس کی ایک ڈور تھامے اس اجنبی ماحول کی طرف بڑھ رہا تھا کیونکہ اتنے دنوں میں اسے سبھاش بابو کا بڑا سہارا ہو گیا تھا۔ سبھاش بابو بھی سب لوگوں کے ساتھ شہر سے آئے تھے لیکن اب وہ سب کی طرح بالکل اجنبی نہیں لگتے تھے۔ کیونکہ وہ کئی بار ادھر ادھر ملے تھے تو ڈانٹنے کی بجائے پیار سے بات کرتے تھے۔ حال چال پوچھ لیتے تھے۔ انھوں نے ہی کہا تھا، ’’کیمپ میں آئے ہوئے لوگوں کی چاکری (خدمت)کر لو گے تو دو جوم (وقت) کے کھانے کا بندوبست ہو جائے گا۔‘‘ اور آج تو مہوا تکلیف میں تھی، اس نے سبھاش بابو سے سنا تھا کہ شہر سے دیونا (ڈاکٹر) بھی آیا ہے۔ وہی کوئی دوائی دے تو کچھ آرام مل جائے اس کی مہوا کو۔ مہوا کی تکلیف کا خیال کرتے ہی وہ تیز قدم اٹھانے لگا۔
مہوا نے اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھ سے تھام کر دیکھا۔ آج جیسے سارا بوجھ نیچے سرک گیا ہو اسی لیے پیڑو اس بوجھ سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی اندر بیٹھا آری چلا رہا ہو۔ وہ درد کی چُبھن سے پریشان ہو کر جھونپڑی کی نم آلود زمین پر بیٹھ گئی اور دیوار کا سہارا پیٹھ کو دیتے ہوئے دونوں پیر پھیلا دیے۔ اماں تو کہتی تھی کہ جب زچگی کے دن قریب آتے ہیں تو پیٹ لٹک جاتا ہے مگر ابھی تو اس کا ان گنا مہینہ ہی چل رہا ہے۔ پھر یہ تکلیف۔۔؟ اس نے ہاتھ سے پیٹ کو سہلایا جیسے درد کو اپنے چنگل میں کرنا چاہتی ہو اور دوسرے ہاتھ کے ناخن سے لاشعوری طور پر زمین کی مٹی کریدتی رہی۔ اس کی نظریں بار بار جھونپڑی کے در کی طرف اٹھ جاتیں۔ جہاں نہ کوئی پر دہ ہے نہ کوئی دروازہ۔ بس خس اور پھوس کی دیواروں کے بیچ اندر باہر آنے جانے کے لیے تھوڑی کھلی جگہ چھوڑ دی گئی تھی اور اس کی بے چین نظریں اس طرف بار بار اٹھ رہی تھیں۔ وہ کسے پکارے؟ پانی کے لیے حلق خشک ہو رہا تھا۔ جدنی اسے تسلّی دے کر گیا تھا کہ جلدی لوٹے گا پر ابھی تک۔۔۔۔ جبکہ اسے معلوم ہے کہ کاکی بھی چلی گئی۔ گاؤں سے لوگوں کا ہجوم روز ہی نکل جاتا ہے۔ سب کو اپنی پڑی ہے، سب پولیس اور شہری بابوؤں سے ڈرتے ہیں۔ ارے! صاف صاف کہہ دیں کہ ہم نے نہیں مارا شیر کو، بلکہ ہمارے یہاں پر رہنے سے شکاری لوگ ڈرتے ہیں جنگل کا رُخ کرنے سے۔ ہماری وجہ سے تو ان کی اور حفاظت ہوتی ہے۔ پر سب ڈرپوک ہیں سالے۔ اب مصیبت میں وہ کیسی نپٹ اکیلی رہ گئی۔ اس نے بے چین ہو کر سر سہلایا۔ ’’بوہسو تنا‘‘۔ (میر اسر درد کر رہا ہے) اس کی بڑبڑاہٹ بڑی واضح تھی۔ خود ہی چونک کر ہنس پڑی۔ کسے سنا رہی ہے اپنی تکلیف۔۔۔۔؟ وہ اٹھی اور پانی کا لوٹا اٹھا کر حلق تر کیا اور جھونپڑی سے باہر نکلی۔ دور دور تک جدنی آتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ وہ کوئی پہلا بچہ تو جننے جا نہیں رہی تھی، یہ تیسرا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اب بھی اس کی عمر اتنی کم ہے کہ شہری لڑکیوں کی شادی کا اس عمر میں کوئی سوچتا تک نہیں۔ اب یہ تیسرا بچّہ تھا اس لیے اسے اتنا تجربہ تو تھا ہی اور وہ سمجھ سکتی تھی کہ اب یہ تکلیف رکنے والی نہیں۔ اس ہون(بچہ) کو دنیا میں آنے کی بڑی جلدی ہے۔ جیسے اس کی ذات برادری والوں کو بھی ہر بات کی ہمیشہ جلدی رہتی ہے۔ شادی بیاہ کی جلدی، بوڑھے ہونے کی جلدی، اسی طرح مرنے کی جلدی، اب ایک معمولی سے واقعے پر گاؤں چھوڑنے کی جلدی۔ اس کی شادی بھی تو جدنی سے تیرہ سال کی عمر میں کر دی گئی تھی اور سترہ سال کی عمر میں وہ پہلی بار ماں بن گئی۔ پھر یہ سلسلہ ہر سال چل پڑا اس طرح صرف انیس سال کی عمر میں وہ تیسری بار ماں بننے جا رہی تھی۔
جدنی کیمپ کے پاس پہنچا تو دیکھا۔ سبھاش بابو کئی لوگوں کی ساتھ کرسیوں پر بیٹھے باتوں میں مشغول ہیں۔ وہ ایک کنارے کھڑا ہو گیا اور جب سبھاش کی نظر اس پر پڑی تو بڑے آدر بھاؤ سے اس نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ سبھاش نے سر کی جنبش سے جواب دے کر اشارہ کیا کہ وہیں بیٹھ کر انتظار کرے اور باتوں میں پھر سے لگ گئے۔ جدنی تھوڑے فاصلے پر اکڑوں بیٹھ گیا اور بے دلی سے باتیں سننے لگا۔ در اصل مہوا کا تکلیف سے سیاہ پڑتا چہرہ اس کی نظروں میں گھوم رہا تھا۔ اس نے بے چینی سے سبھاش کی طرف دیکھا مگر وہ بہت زور و شور سے کسی بحث میں مصروف تھے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ لکھتے بھی جا رہے تھے۔ جدنی کو یاد آیا کہ سبھاش بابو نے بتایا تھا کہ وہ کسی اخبار کے دفتر میں کام کرتے ہیں اور آج کل یہاں کے خبروں کی رپورٹ تیار کر کے بھیجتے ہیں۔ اس وقت بھی موضوع بحث وہی شیر تھا۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے، ’’یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ان تسکروں کا ساتھ یہاں کے کچھ مقامی لوگ دے رہے تھے کہ نہیں؟ کیونکہ اب شیر کی کھال کے علاوہ اس کی ہڈی، بون میرو، چربی اور مختلف حصوں کی بڑھتی مانگ اور قیمتوں کی وجہ سے شیروں کا غیر قانونی شکار بڑھ گیا ہے۔ اگر مقامی لوگوں نے اس کام میں ان کا ساتھ دیا ہے تو ہم ان کے ذریعے ہی تسکروں کے اس گینگ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘
’’پر اب یہ کام بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ گاؤں چھوڑ کر جا چکے ہے کیونکہ یہاں کے مقامی لوگوں کی زندگی کا انحصار اس جنگل پر ہی تھا۔ جہاں اب ہمارے اینٹی پوچنگ اسکوائیڈ کی تعیناتی کر دی گئی ہے اور اس حصّے میں داخل ہونا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔‘‘ سبھاش نے کہا پھر اسے جدنی کا خیال آیا تو اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔
اس کے قریب آنے پر سبھاش نے کہا۔ ’’صاحب لوگوں کو اپنا نام بتاؤ۔‘‘ جدنی کی گھبراہٹ بھانپ کر اس نے پھر کہا، ’’لُتم لُتم؟‘‘
’’جدنی۔۔۔ صاحب!‘‘ اس نے بمشکل کہا پھر سب اس سے تھوڑی دیر تک چند سوال کرتے رہے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ صرف سبھاش بابو وہیں بیٹھے رہے اور جدنی کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جدنی نے کندھے پر اپنا انگوچھا برابر کیا اور اس کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔
’’سب ٹھیک تو ہے۔‘‘ سبھاش نے نرمی سے پوچھا۔
’’نہیں صاحب! مہوا کی پیڑا بڑھ رہی ہے۔ کوئی دوائی کا جگاڑ ہو جاتا تو۔۔۔ اب تو ہم جنگل سے جڑی بھی نہیں لا سکتے نا صاحب! اور ہمارے واسطے کو نوکام بھی ہو صاحب تو۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ہاں، ہاں کیوں نہیں۔ میں نے بات کر لی ہے۔ کچھ تو تم یہاں کے چائے، پانی کا کام دیکھ لینا۔ لیکن تمہارا ایک اہم کام یہ ہے کہ تم جنگل کے چپّے چپّے سے واقف ہو اس لیے جب گشت پر نکلنا ہو گا تب تم ہماری مدد کے لیے ساتھ رہو گے۔‘‘
’’بڑی کرپا صاحب!!‘‘ جدنی احساسِ تشکر کے بار سے دب گیا۔
’’اور سنو!! یہاں ہم اپنے آدمیوں سے تمہاری پہچان کروا دیں گے۔ تم بھی نظر رکھنا کہ کوئی باہر کا آدمی ادھر آ کر شیرنی کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کو بچہ ہونے والا ہے اگر اسے نہ بچایا گیا تو یہ نسل ختم ہو جائے گی۔ سمجھ گئے نا۔ اچھا چلو! اب تمہاری مہوا کو دیکھ آئیں اور اس کے لیے کچھ دوائی بھی میں اپنے دوست سے تمھیں دلوا دیتا ہوں۔‘‘ پھر دونوں مہوا کا حال بتا کر چند دوائیوں کے ساتھ جھونپڑی پر واپس آئے تو دیکھا مہوا کا درد سے برا حال تھا۔ جدنی نے جلدی سے اسے درد روکنے کی دوا کھلائی اور سبھاش سے التجا کی، ’’صاحب! یہاں تو اکیلی یہ مر جائے گی۔ جنگل سے ہو کر ایک سیدھا راستہ جاتا ہے جو چھوٹا پڑے گا۔ آپ کی کرپا ہو تو ہمیں اس سے جانے کی انومتی دلوا دیں۔ پھر میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر لوٹ آتا۔‘‘ جدنی کی آنکھوں میں جو بے چارگی تھی اس نے سبھاش کو پگھلا دیا۔ اپنے آپ میں یہ ایک مشکل کام تھا مگر اس نے حامی بھر لی اور کہا کہ وہ تھوڑی دیر انتظار کرے وہ کاروائی پوری کروا کر آتا ہے۔
سبھاش کے جانے کے بعد جدنی نے اپنی کمسن بیوی کے سیاہ پڑے چہرے کو دیکھ کر پوچھا، ’’تھوڑا جوم (کھانا) لے گی۔‘‘
’’نہ رے! اس دوائی سے تھوڑا چین ملا ہے۔‘‘ مہوا نے اپنی کمزور آواز میں کہا۔
’’اچھا اب تھوڑا آرام کر۔ اماں کے پاس چلنے کے لیے تجھے ہمت کرنا ہو گی ورنہ یہاں اکیلی کیا کرے گی اس گھڑی۔‘‘
’’یہ اتّے سارے لوگ یہاں کیا کرنے آئے ہیں رے جدنی!‘‘ مہوا نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔
’’کیا کرے گی سن کر۔ وہی شیر جو مر گیا ہے نا اس کی نسل بچانے آئے ہیں۔ شیرنی گا بھن ہے۔ تجھے معلوم ہے سبھاش بابو بات کر رہے تھے کہ اس کے ایک بچے کی قیمت سات لاکھ (روپیہ) ہو گی۔ اگر کوئی چڑیا گھر والا اس کو پوسنے (پرورش) کے لیے لے جائے گا تو سرکار کو سات لاکھ روپیا دے گا۔‘‘
’’سات لاکھ؟ باپ رے!!! ای سات لاکھ سمجھنے کے لیے تو ہمیں سات جنم لینے پڑیں گے۔ ہم تو جانوروں سے بھی برا بھاگ لے کر آئے ہیں رے جدنی۔‘‘ مارے غم کے اس کی آنکھوں کے کور بھیگنے لگے۔
’’ہاں! جانتی ہے ہم تو بتا بھی نہیں سکتے کہ ای ہمارا تیسرا بچہ ہے۔‘‘
’’کا ہے۔۔۔؟‘‘
’’سبھاش با بو نے منع کیا ہے بتانے سے۔ کہہ رہے تھے قانون بن گیا ہے کہ جس گھر میں تیسرا بچہ جنمے گا اس کو نہ سرکاری کام ملے گا، نہ کوئی اور سہولت، نہ دوائی، نہ ڈاکٹر۔ اور وہ ہم کو کام دلوانے کا وعدہ کیے ہیں۔‘‘
صدمے اور حیرانی سے مہوا گنگ رہ گئی۔
٭٭٭
خوشبو
جمنی نے کھانستے کھانستے اپنا سینہ دبا لیا۔ پھر کھانسی کے زور پر مشکل سے قابو پاتے ہوئے اس نے اپنی دھندلی نظروں کو ادھر ادھر گھماتے ہوئے بے حد نحیف آواز میں بیٹی کو پکارا، ’’للیا!!!! ارے او للیا۔۔۔۔۔‘‘
للیا اس ایک کمرے کے کچّے مکان کے دروازے پر اپنے پیر پھیلائے یوں بیٹھی تھی جیسے کسی محل کی راج کماری ہو۔ اس کے سانولے تندرست چہرے پر بھولے پن کے ساتھ ساتھ ایک قِسم کا غرور بھی جھلکتا تھا۔ ماں کی پکار پر اس نے ناگواری سے اندر ایک جھلنگی چارپائی پر سمٹی ہوئی ماں کے کمزور و جود کی طرف دیکھا اور پھر اسی لاپرواہی سے چپ چاپ بیٹھی رہی۔
جمنی کو ایک بار پھر زور کی کھانسی اٹھی اور وہ کھانستے کھانستے رکی تو اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔ اس نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے پانی کو پونچھتے ہوئے ایک بار پھر بیٹی کو پکارا تو وہ پیر پٹکتی ہوئی اندر آئی اور قدرے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا، ’’سمجھ گئی۔۔۔ سمجھ گئی۔ تیرے پیٹ میں پھر آگ لگی ہے۔ اس لیے میں برتن دھونے جاؤں اور روٹی لا کر تیرے پیٹ کا دوزخ بھروں۔‘‘
’’اری سن تو۔۔۔۔ ۔۔ ذرا پانی دے دے۔ اپنے آپ ہی تو سب سمجھ لیتی ہے۔ اپنے لیے نہیں کہتی اگر جانے کو کہتی ہوں تو تیرے لیے، نہیں گئی تو کھائے گی کیا۔‘‘ جمنی ذرا سانس لینے کے لیے رُکی، پھر بولی، ’’کھانسی سے گلا سوکھ گیا ہے۔ ذرا لوٹے میں پانی دے اور جا کام پر۔ نہیں تو اوشا بہن جی ناراض ہوں گی۔ روز نیا کام کہاں سے ڈھونڈے گی پگلی۔‘‘
’’میں آج کام پر نہیں جاؤں گی۔‘‘ للیا نے سرکشی سے کہا اور لوٹا اٹھا کر جھپاک سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
جمنی کو للیا کا یہ غصّہ بھی پیارا لگا اور اس کا دل ترس سے بھر گیا۔ سولہ سترہ سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے، کھیلنے اور کھانے کے دن مگر اس کا باپ تو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے قابل بھی نہیں۔ جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ جب وہ خود اس عمر کی تھی تب کتنی بے فکر، خوش اور مطمئن تھی اس کی زندگی۔ دیکھنے میں جیسی للیا ہے ویسی ہی وہ بھی تھی۱۶، ۱۷ برس کی عمر میں۔ اس نے اپنے سوکھے سوکھے ہاتھ پیروں کو دیکھا۔ ان پچیس سالوں میں اس کا جسم غریبی، جد و جہد اور بھوک کی تپش میں پگھل کر ختم ہو چکا تھا۔ شادی کے بعد اس نے کچھ دن بھی تو سکھ کے نہیں دیکھے تھے۔ شادی کے پہلے انیس برس ایسے گزارے تھے کہ غم اور فکر جیسے الفاظ سے بھی وہ نا آشنا تھی۔
للیا پانی لے کر آئی تو جمنی کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا۔ پانی لیتے ہوئے اس نے ممتا بھری نظروں سے للیا کو دیکھا۔ ’’بیٹی! جا، ضد مت کر، آج نہیں گئی تو سارا دن بھوکی رہے گی۔‘‘
’’تجھے بھوک نہیں ہے؟‘‘ للیا نے سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ پوچھا۔
’’نہیں رے! مجھے اب بھوک نہیں لگتی۔ وہ تو زندہ ہوں اس لیے ایک روٹی حلق سے اتارنی پڑتی ہے۔‘‘ جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
’’ہاں تجھے بھوک کیوں لگے گی۔ تجھے پوریاں ملیں تبھی کھائے گی۔‘‘ للیا کی بات سن کر جمنی چپ رہی تو للیا نے کہا، ’’میں جا رہی ہوں۔ اب سانجھ کو ہی لوٹوں گی تیری روٹی لے کر۔‘‘
’’اری سن!‘‘ جاتی ہوئی للیا کو اس نے جلدی سے پکارا۔ ’’تو بہن جی سے کہنا تھوڑا آٹا ہی دے دیں۔ روٹی مت لینا۔ گھر میں سانجھ کو چولھا جلتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
ماں کی بات سن کر للیا کا پارہ پھر ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ ’’بس تجھے ہری ہری سوجھنے لگی۔ ایک تو میں سارا دن ادھر مر کر آؤں۔ پھر یہاں تیرے لیے گرم روٹی پکاؤں۔ دم نکلنے کو ہے اور شوقینی میں کمی نہیں آئی۔‘‘ للیا بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
تو جمنی اپنے آپ سے ہی بولی۔ ’’تو نہیں سمجھے گی رے! مجھے روٹی کی بھوک نہیں۔ مجھے تو سانجھ کو پکتی ہوئی روٹی کی خوشبو چاہیے۔ میرا پیٹ اسی سے بھر جائے گا۔ روٹی کی خوشبو تو کیا جانے۔‘‘ جمنی ڈوبنے لگی اپنے ماضی میں، جہاں مٹھاس ہی مٹھاس تھی۔ یادوں کی مٹھاس، یادوں کی کسک، پر نا جانے یہ کون سا درد ہے جو اسے اچھا لگتا ہے۔ آنسوؤں کی لڑی اس کی آنکھوں سے ڈھلک کر اس کی میلی کچیلی ساڑھی کے پلو میں جذب ہو گئی اور آنکھوں کے سامنے اسے اپنا بچپن اور لڑکپن ڈولتا ہوا محسوس ہوا۔ کھانسی کے ایک اور زور دار دورے کے بعد وہ بالکل نڈھال ہو گئی مگر یا دوں نے پیچھا نہ چھوڑا۔
اسے یاد آیا کہ جہاں اس نے ہوش سنبھالا تھا، وہ ایک بہت ہی کھاتا پیتا گھرانا تھا۔ جہاں اس کی ماں کام کرتی تھی اور اس بڑے سے گھر کے شاندار باورچی خانے کے پاس اس کی ماں کا کمرہ تھا۔ دونوں ماں بیٹی اسی کمرے میں رہتی تھیں۔ اس گھر کا ہر کام اور خاص کر باورچی خانہ اس کی ماں کے سپرد تھا۔ وہ خود تو وہاں کے بچوں کے ساتھ ہر وقت کھیلتی رہتی تھی۔ اس گھر کے ہر فرد کے ساتھ رہ کر اس نے ہر ہنر اور پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا حالانکہ وہ یہاں کے دوسرے بچوں کی طرح اسکول نہیں جاتی تھی اور اکثر ان کے جوٹھے کھانے اور اتارے کپڑے بھی اس کے حصّہ میں آتے تھے مگر اسے یہ سب کچھ برا نہیں لگتا تھا کیونکہ وہ اپنی حیثیت سے واقف تھی اور ساتھ ہی ان لوگوں کے خلوص اور محبت سے شاکی بھی نہیں تھی۔ اس نے اسی گھر میں ہوش سنبھالا اور یہیں اپنے شوق اور ان لوگوں کی کوششوں سے بہت کچھ سیکھ گئی۔ اس طرح گزرتے ہوئے وقت نے اس کے لاشعور میں اس ماحول کو اس طرح اتار دیا تھا کہ اسے کسی آہٹ کا گمان تک نہ ہوا۔ وہ بہت خوش اور مطمئن زندگی وہاں گذار رہی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ بچپن سے ہی شام کو پکنے والی روٹی کی خوشبو اسے اتنی اچھی لگتی تھی چاہے وہ اس وقت کتنا بھی دلچسپ کھیل کھیل رہی ہو روٹی کی اس مہک سے کھنچی چلی آتی اور للچائی ہوئی نظروں سے ماں کو دیکھنے لگتی۔ جبکہ ماں کو اس کی اس عادت سے چڑ تھی اس لیے جمنی کو دیکھتے ہی وہ جھلا جاتی۔ ’’بس!! دو چار روٹیاں بھی نکلنے نہیں دیتی اور موئی بلّی کی طرح سونگھتی ہوئی پہنچ جاتی ہے اور بھی تو بچے ہیں اس گھر میں مگر کسی کو تیری طرح بھوک نہیں لگتی۔‘‘
اپنی اس جھنجھلاہٹ کے ساتھ وہ ایک روٹی اس کے ہاتھ میں اس طرح پکڑا دیتی جیسے کہہ رہی ہو، جا مر، میرا پیچھا چھوڑ۔ جمنی نا جانے کب سے اسی طرح ماں کی جھڑکیوں کے ساتھ شام میں پکنے والی روٹی کھاتی آ رہی تھی اور اس وقت کی یہ ایک روٹی اسے دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر اچھی لگتی مگر ایک وقت ایسا آیا کہ اسے اس طرح روٹی لے کر کھانے میں شرم آنے لگی۔ لیکن شام میں پکنے وا لی روٹی کی خوشبو سے اس کا وہی لگاؤ رہا۔ اس کی کشش اس کے لیے اب بھی اسی طرح باقی تھی۔ وہ کہیں بھی رہتی، کچھ بھی کرتی رہتی اس وقت کی یہ خوشبو وہ اپنی سانسوں میں بھر لیتی، روح میں اتار لیتی۔
اسے اس تلخ حقیقت کا احساس تک نہیں ہوا کہ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا اور جب وقت کے گھومتے ہوئے پہیے کے نیچے اس کا اپنا وجود آیا تو وہ کرچی کرچی ہو کر بکھر گئی۔ تب اسے اس حقیقت کا احساس ہوا کہ وقت کے ایک ہی سرد اور ظالم جھونکے نے گھر کے ہر فرد کو سوکھے پتوں کی طرح بکھیر دیا ہے۔ نہ جانے کب چپکے سے اس گھر کی بزرگ ہستی دادی امّاں نے اجل کی گود میں پناہ لے لی۔ ماں وقت سے پہلے کچھ ہی دن کی بیماری میں چل بسی اور روحی آپا پیا دیس سدھاریں۔ پھر گھر میں اس کی شادی کی بات ہونے لگی۔۔ اب وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی کیونکہ اس گھر میں وہ جس جس کے بے حد قریب تھی وہ سب جا چکے تھے۔ اب اسے سب سے زیادہ جس سے لگاؤ تھا وہ دادا ابّا تھے لیکن ان کے رعب اور دبدبے کے آگے ان کے سامنے نظر اٹھانے کی بھی ہمت اس میں نہیں تھی۔ بس دور دور سے ہی ان کا ہر خیال رکھتی۔ ان کے سفید ریشم سے بالوں والا سر، ان کے سفید کمزور پیرا سے اتنے بلند، اتنے عظیم لگتے کہ اس کا دل چاہتا کہ وہ ان کے قدموں میں اپنا چہرہ چھپا کر خوب روئے اور کہے دادا ابّا، ’’مجھے اس گھر سے الگ مت کیجیے۔ مجھے یہیں ایک کونے میں پڑا رہنے دیجیے۔ میں ماں کی طرح پورا گھر سنبھال لوں گی لیکن میری شادی مت کیجیے۔‘‘
وہ جب جب سنتی کہ اس کے لیے کوئی رکشہ والا، کوئی مزدور یا کوئی درزی دیکھا جا رہا ہے تو وہ لرز جاتی۔ وہ جس نے بچپن سے اس ستھرے ماحول کو اپنا سمجھا ہے وہ کیسے ایک جاہل شخص کی اجڈ باتوں، گالیوں اور اوچھی حرکتوں کے ساتھ زندگی گزار سکے گی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ خود ایک کم ذات، غریب اور بے سہارا لڑکی ہے۔ ایک سبزی بیچنے والی کی بیٹی جس نے بعد میں اپنا پیشہ چھوڑ کر اس گھر میں پناہ لے لی تھی۔ اسی لیے کبھی اس نے سنہرے سپنے نہیں سجائے تھے۔ پھر بھی وہ جانتی تھی کہ اس باغ کا پھول نہ ہونے کے باوجود اگر اسے یہاں سے اکھاڑ کر کہیں اور لگایا گیا تو وہ پھر سے کھل نہیں پائے گی، مرجھا جائے گی کیونکہ وہ یہاں کی آب و ہوا کی عادی ہو چکی تھی۔ اسے پہلی بار یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ وہ اس گھر کا حصہ کبھی تھی ہی نہیں بلکہ صرف ایک نوکرانی تھی مگر وہ اپنی قسمت کی لکیر نہیں بدل سکتی تھی۔
انیسواں سال پورا ہوتے ہی اس کی شادی ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ کر دی گئی۔ گھر والے یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ روز ٹیکسی سے اچھی رقم کمانے والے شخص کے ساتھ جمنی خوش رہے گی۔ جمنی نے بھی نکاح کے بول کے ساتھ خود کو اس ڈرائیور کے ساتھ بندھا پایا کہ کبھی اس بندھن سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کی پوری پوری کوشش کی۔ شروع میں تو رزق آ بھی جاتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس میں کمی ہوئی اور کسی طرح غربت اور تنگدستی میں شب و روز گزرتے رہے۔ شادی کے سات آٹھ سال بعد بیٹی ہوئی مگر اس وقت تک حالات اور بھی بد سے بدتر ہو چکے تھے۔ اس کے شوہر کی پینے کی لت بڑھ گئی تھی اور کام کرنے کی عادت کم ہو گئی اس لیے جمنی ہی ادھر ادھر کام کر کے گزارے کا انتظام کرتی۔ مگر اسے احساس تھا کہ وہ بیٹی کی اچھی پرورش تو کیا کرتی اسے پورا کھانا کپڑا بھی نہیں دے پاتی تھی۔ اسے اپنا بچپن یاد آتا اور للیا کو دیکھتی تو گھٹن اور دکھ کے احساس سے بھر جاتی۔ دکھ کا یہ احساس اسے اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ گیا اور بیالیس برس کی عمر میں ہی وہ معذور ہو کر چار پائی پر لیٹ گئی۔ اب اس کی ذمہ داریاں دو سال سے للیا ڈھو رہی تھی۔ جب سے اس نے کھاٹ پکڑی تھی شاید ہی کبھی گھر میں چولہا جلتا ہو۔
جمنی نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے لگا کہ ماضی میں ڈوبتے ابھرتے اس کا پورا دن نکل گیا تھا اور شام اتر آئی تھی۔ اس نے اپنے سینے میں تیز جلن محسوس کی۔ بڑی مشکل سے ہاتھ بڑھا کر لوٹا اٹھایا اور پانی کا گھونٹ لیا تو لوٹا اس کے ہاتھ سے پھسل گیا اور وہ سر چار پائی کی پٹی پر ڈال کر ہانپنے لگی جیسے ایک لمبا سفر کرتے کرتے اب تھک گئی تھی، ہار گئی تھی۔ تبھی للیا کو ٹھری میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں دو چار لکڑیاں اور ایک پوٹلی تھی۔ اس وقت اس کے چہرے پر خوشی کی دمک تھی۔
’’ماں دیکھ! میں تیرے لیے آٹا لے آئی۔ تجھے بھوک لگی ہو گی نا۔۔۔؟ ابھی گرم گرم روٹی پکاتی ہوں۔‘‘ للیا نے چہکتے ہوئے کہا تو جمنی نے اپنی دھندلی آنکھیں کھولیں۔ ’’کیا بات ہے رے!! آج بڑی خوش ہے۔‘‘
’’ماں! اوشا دیدی نے آج مجھے اپنا ایک سوٹ اور پانچ روپے دیے ہیں اور دیکھ تیرے لیے آٹا بھی۔‘‘
اس نے جلدی جلدی آٹا گوندھتے ہوئے کہا تو جمنی کے نحیف چہرے پر مسکراہٹ کی پرچھائیں آئی۔
للیا روٹی پکا رہی تھی اور جمنی کی نظریں پکتی ہوئی روٹی سے اٹھتی ہوئی بھاپ پر تھیں۔ جو ماحول میں رچ بس کر اس کی روح میں اترتی جا رہی تھی، اسے سیراب کرتی جا رہی تھی۔ للیا دو روٹی تھالی میں ڈال کر ماں کے قریب آئی اور اسے اٹھانے کے لیے سہارا دینے کی کوشش کی تو جمنی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا اور اپنی کمزور آواز میں کہا، ’’یہ تو کھا لے بیٹی!!! میرا پیٹ تو اس خوشبو سے ہی بھر گیا۔‘‘
للیا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا مگر اس وقت جمنی کے چہرے پر ایک ایسی تسلی تھی جیسے اس کے نحیف وجود میں روٹی کی خوشبو کی پیاس باقی نہ ہو، جیسے اس کی زرد آنکھوں سے اس کے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی تسکین جھانک رہی ہو۔
٭٭٭
ادراک
وہ دریچے سے لگی خاموش کھڑی باہر ہوتی بارش کو دیکھ رہی ہے اور بارش کی بوندوں نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے مگر ملیحہ کو اندازہ ہے کہ باہر کے مو سم سے زیادہ سرد اس کے جذبات ہو چکے ہیں۔ اس نے شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا اور سرد ہواؤں کی زد میں کھڑی بوندوں کا تماشہ دیکھتی رہی۔ بارش کی ہر بوند گڑھے میں جمع پانی میں دائرہ بناتی جاتی ہے اور وہ دائرہ اس میں گم ہوتا جاتا ہے۔ وقت کی ندی میں بھی لمحوں کی برسات ہو رہی ہے اور لمحوں کے دائرے گم ہوتے جا رہے ہیں مگر اب وہ یہ جان گئی ہے کہ کچھ لمحے کبھی گم نہیں ہوتے ان کا وجود باقی رہتا ہے، ہمیشہ۔۔۔ کہیں نہ کہیں، کسی تاریخ میں یا کسی دل میں یا کسی ذہن میں۔ اور وہ دائرہ پھیلتا جاتا ہے اور پھیلتے پھیلتے ساری دنیا پر محیط ہو جاتا ہے اس لیے کہ اس لمحے میں بڑی قوت ہوتی ہے۔
اس نے بھی اپنے اندر کے برف کے صحرا کو پار کرتے ہوئے اپنے لیے ڈھیروں قوت جمع کر لی ہے مگر اس کے اندر آنسو منجمد ہو چکے ہیں، کیونکہ اس کے اندر خوشنما یادوں کی کوئی حرارت باقی نہیں۔ پر یہ تو اسے آج پتہ چلا کہ اب اس کے دل میں عرفان کے لیے نفرت، غصہ یا بدلہ جیسی کوئی چنگاری بھی باقی نہ رہ گئی تھی۔ عمر کی اس طویل مسافت کے بعد آج اچانک جب وہ سامنے آیا تو اس کے لیے سرد مہری کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ بس ایک سوال تھا کہ اب اسے پلٹ کر دیکھنے کی کیا ضرورت آ پڑی مگر اسے بیٹوں کے درمیان چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں آ گئی، کوئی چیخ پکار یا سوال جواب کیے بغیر۔ خاموش تو وہ اس دن بھی رہ گئی تھی جب ایک دن عرفان نے کہا کہ اسے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔ وہ ششدر کھڑی رہ گئی تھی اور اس پر سے ایک لمحے میں صدیاں بیت گئی تھیں، درد اور بے یقینی، مایوسی اور امید کی کیفیت میں اس پر وقت آ کر ٹھہر سا گیا۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے؟ محبت کی تقدیس کو ایسے بھی پامال کیا جا سکتا ہے کہ کسی کی بے لوث محبت کو یوں ٹھکرا دیا جائے؟ کسی اجنبی ملک میں ایک اور عورت کے لیے۔ وہ عرفان کے ساتھ اپنے ملک، اپنے ہر رشتے سے دور اس کی والہانہ محبت کے ساتھ ہی تو آئی تھی اگر اسے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے تو پھر وہ کیا تھا۔
وہ دونوں کتنے خوش تھے، ان کے تین پھول سے بچے تھے۔ نہیں نہیں! عرفان ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اس سے ضرور کوئی لمحاتی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ مگر عرفان چلا گیا اور وہ بہت دنوں تک خود کو دھوکا دیتی رہی کہ وہ واپس آ جائے گا اس کے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لیے۔ وہ جانتا تو تھا کہ یورپ آنے کی ضد ملیحہ کی نہیں اس کی اپنی تھی، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ملیحہ کبھی اپنے ملک میں بھی تنہا نہیں نکلی اور اس کے پاس گریجویشن کی ایک ڈگری کے علاوہ کچھ نہیں، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ عرفان کے بغیر ایک پل ایک لمحہ نہیں رہ سکتی تھی مگر وہ نہ لوٹا۔ اتنے سال کی اطاعت کا حساب برابر کرنے کا نہ جانے یہ کون سا طریقہ تھا، اس نے بس ملیحہ پر یہ احسان کیا کہ پس انداز کی ہوئی رقم اس کے پاس چھوڑ دی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ جائے۔
بے یقینی اور مایوسی کی ایسی ہی کیفیت میں ملیحہ کو لگتا کہ وقت اس کے سینے میں اپنے خونی پنجے گاڑے ٹھہر گیا ہے اور امید و مایوسی، بے یقینی اور انتظار میں ٹھہرے ہوئے وہ لمحے اس پر سے صدیاں بن کر گزر گئے۔ ٹھہرے ہوئے ان لمحوں میں وہ انتظار کرتی رہی کہ زندگی جلد ہی پہلے کی طرح ہموار گزرے گی، جس میں چھوٹے چھوٹے ملول کرنے والے جھگڑے ہوں گے، ناراضگی اور تیکھا پن ہو گا، بچوں کی فکریں ہوں گی اور ان سب چیزوں کے ساتھ چہرے پر نقوش چھوڑتے لمحے ہوں گے، ایک ساتھ بچوں کو بڑا کرتے ہوئے کیسا لگتا ہو گا، کیسا لگتا ہو گا عاشق اور معشوق کا دھیرے دھیرے ضعیف ہونا، کمزور ہو کر اور مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا، زندگی کی ڈگر پر آگے بڑھتے ہوئے دھندلی آنکھوں سے پیچھے مڑ کر ایک ساتھ گزارے ہوئے حسین پل دیکھنا۔۔؟ مگر اس کے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا، دل پر گزرے خزاں کے مو سم نے زندگی کے سارے رنگ اڑا دیے تھے اور زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں وہ تن و تنہا کھڑی تھی، اس کے سر پر ذمہ داریوں کی ننگی تلوار جھول رہی تھی۔ اس کی ذرا سی لغزش، اس کی کم ہمتی، اس کے ساتھ تین اور زندگیوں کو ہلاک کرنے کا موجب بن سکتی تھی مگر عرفان کی بے وفائی نے اس کا قتل نہیں کیا تھا بلکہ اس کی نسوں سے جینے کی خواہش نچوڑ لی تھی اور وہ اندر سے اتنی کھوکھلی ہو چکی تھی کہ اسے کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا۔ ان دنوں وہ کیسے کیسے اپنا احتساب کیا کرتی۔ اسے لگتا کہ میاں بیوی کے رشتے کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس نے ہمیشہ اپنی ہی شخصیت کی تراش خراش کی، اس عورت کو اوڑھ لیا خود پر جیسی عرفان کو چاہیے تھی اور خود سے اس ملیحہ کو ہی دور کر دیا جو اس کی شخصیت کی پہچان تھی، یہاں تک کہ اس کے پیچھے پیچھے اپنوں سے کالے کوسوں دور چلی آئی۔ کوئی اپنا پاس نہ تھا کہ اس برے وقت میں کسی کے گلے لگ کر رو بھی نہ سکی، کسی کی گود میں سر رکھ کر سسک بھی نہ سکی۔ اس نے کہاں کبھی سوچا تھا کہ وہ دو جدا جدا فرد تھے۔ اس کی خوشی کے لیے خود کو تراش تراش کر اتنا ہلکا کر دیا کہ وہ خود وجود سے عدم میں چلی گئی اور ہوتے ہوئے بھی نہ رہی۔ یک جان دو قالب ہونے کے لیے اس نے کب اپنے وجود کو ہی مٹا ڈالا اسے پتہ بھی نہ چلا اور اچانک عرفان نے اسے احساس کرایا کہ وہ ایک منفرد وجود ہے اور اسے اپنے قلب سے جھاڑ کر الگ کر دیا۔ تب اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی شخصیت اور شناخت کھو چکی ہے۔ اس میں مدغم ہو کر خود کو کھوکھلا اور اسے مضبوط کر چکی ہے، توازن برقرار رکھنے کے لیے وہ ہمیشہ خود کو ہی چھیلتی رہ گئی اور ملیحہ سے مسز عرفان بن کر رہ گئی مگر پھر مسز عرفان کے چولے کو اتار پھینکنے کے لیے جانے کیسے اس نے اپنے وجود کے سارے بکھرے ٹکڑوں کو سمیٹ کر خود کو یکجا کیا تھا۔ پھر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو اسے لگا نہ جانے کب سے، مہینوں اور سالوں سے نہیں بلکہ شاید صدیوں سے اس نے آئینہ نہیں دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کے اپنے تو نہیں تھے، سیاہ بالوں کی تہوں سے جھانکتی سفیدی کا ہلکا ہلکا سٹروک وقت کے فنکار نے نہ جانے کب اس کے بالوں پر لگایا تھا۔ وہ اتنی بے خبر کیسے تھی کہ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ اس کے سراپا کو کوئی یوں تبدیل کر رہا ہے اور یہ اداس اترا ہوا چہرہ بھی اس کے پاس کوئی تھا؟ جو اس نے پہن لیا تھا۔ اسے تو یاد نہیں پڑتا کہ زندگی میں ایسا کوئی چہرہ خرید کر اس نے کبھی اپنے لیے رکھا ہو۔ مگر یہ تو تھا موجود، اپنی ساری کی ساری تلخ سچائیوں کے ساتھ۔ اس کے بے حس وجود پر جیسے کسی نے بے دلی سے اٹکا دیا ہو اور اسی چہرے کی طرف چھے نئی نکور پر امید نگاہیں اٹھتی تھیں۔ منجھدار میں پھنسی ناؤ کو پار لگانے کے لیے اور وہ ان نگاہوں کی تاب نہ لا کر اپنے ہاتھوں اور پیروں کو دیکھتی، انہیں اٹھا کر مدد کے لیے ان معصوم ہاتھوں کو تھام لینا چاہتی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہ ڈوبنے دینے کا وعدہ لے کر مگر یہ کیا اس کے ہاتھوں اور پیروں کی تو سکت ہی ختم ہو چکی تھی۔ وہ انہیں اٹھانا چاہتی پر اٹھانے کی طاقت نہ ملتی۔ عرفان اب اس کے لیے دفن ہو چکا تھا مگر لگتا تھا وہ دفن ہو چکی ہے۔ اگر پوری نہیں تو اس کا آدھ ادھورا وجود عرفان کے ساتھ ضرور دفن ہو چکا تھا اسی لیے اس کے اندر کوئی حوصلہ، خواہش اور طاقت کی ہلکی سی رمق بھی باقی نہ تھی مگر کوئی سمجھتا کیوں نہیں۔۔؟ سب اس کی طرف کیوں امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔؟ سب کیوں سمجھتے ہیں کہ اب وہ ان بچوں کو زندگی عطا کرے گی۔ کیوں؟ اس کے اندر جب اتنی ساری چیزیں ایک ساتھ مر چکی تھیں تو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی کیوں نہیں مر گئی۔ اسے لگتا وہ پہلے کی طرح کبھی کھڑی نہیں ہو پائے گی۔ وطن واپس لوٹنے کا خیال اسے اور کمزور کر دیتا، یہاں یہ تین معصوم چہرے اسے مرنے نہیں دیتے تھے، وہاں دو ضعیف چہروں کی مایوسی وہ کیسے سہہ پائے گی۔
وہ اپنی اس شکست خوردگی کے ساتھ وطن لوٹنا نہیں چاہتی تھی مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ کون سی دنیا ہے۔؟ یہ وہ دنیا تو نہ تھی جسے آج تک اس نے عرفان کے ساتھ دیکھا سمجھا اور برتا تھا، یہ وہ دنیا بھی نہ تھی جو اس کے بچپن اور لڑکپن میں پھول بن کر اس کی راہوں میں بچھی تھا۔ یہ تو ایک الگ اجنبی اور نا مہربان دنیا تھی جس کی اسے عادت نہ تھی۔ اسے لگتا وہ وقت جو گزر گیا وہ صرف ایک خواب تھا۔ آنکھ کھلی اور تلخ حقیقت کی دھوپ میں اس کا پورا وجود، اس کی روح اور اس کے تین معصوم بچے جھلستے نظر آئے۔ اس کا دل چاہتا کوئی اسے زور سے جھنجھوڑ کر کہے کہ اب جاگ جاؤ اور یہ سخت جھلسا نے والے لمحات ایک بھیانک خواب ثابت ہوں مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا۔ وہ سچ مچ حقیقت کی بے حد سخت اور گرم زمین پر تن و تنہا کھڑی تھی اور اسے یقین نہ آتا کہ کبھی اس کے ہاتھ اپنے بچوں کے ہاتھوں کو مضبوطی عطا نہیں کر پائیں گے۔ وہ تنہا کیسے بچوں کی تعلیم و تربیت کرے گی۔ اسے یقین نہ آتا کہ اس کا اپنا عرفان اتنا سنگ دل اور خود غرض تھا۔ عرفان کی محبت نے اسے اتنا کمزور، بے بس اور غیر ذمہ دار بنا دیا تھا۔ کیا باہر کی بے رحم دنیا سے سابقہ نہ پڑنا انسان کو اتنا کھوکھلا کر جاتا ہے، کیا محبت اور توجہ انسان کو ناکارہ بناتے ہیں۔۔؟ پھر آج تک وہ جو سنتی سمجھتی اور دیکھتی آئی تھی محبت کے لیے، جو یقین رکھتی تھی وہ سب ایک حادثے میں ایسے بکھر گئے جیسے ان کا وجود ہی نہ تھا اور وہ ایک زخمی پرندے کی طرح زندگی کی برہنہ شاخ پر بیٹھی تھی۔ اپنی پرواز کھو کر جینا اتنا المناک تھا کہ اس کے دل میں موت کی خواہش شدت سے جاگتی۔
وقت کی ندی میں لمحوں کی برسات پھر بھی نہ رکی اور زمانہ گزرتا ہی رہا۔ وہ سہمی ہوئی اپنی آغوش میں اپنے بچوں کو سمیٹے بیٹھی رہی۔ وقت اور موسم کے ساتھ لوگوں کے رویے تبدیل ہونے لگے۔ پس انداز کی ہوئی رقم ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل گئی اور بھنور میں پھنسی ناؤ ڈوبنے لگی۔ سہارے کے لیے کس کی طرف دیکھتی۔ زندہ رہنے کی ننگی ضرورتیں بڑی ظالم ہوتی ہیں، وہ غم اور خوشی کے ہر کہرے کو اپنی حدت سے پگھلا کر غائب کر دیتی ہیں۔ ان ضرورتوں نے اس کے ارد گرد کے کہرے کو بھی کاٹنا شروع کر دیا اور اس کہرے کے پرے اسے تین بھیگے ہوئے بے حد ملائم چہرے نظر آئے، معصوم اور ملائم، اس نے ان چہروں کے ارد گرد اندھے بہرے اور گونگے آسمان اور زمین کو دیکھا اور ان بھیگے اور ملائم چہرے کی ساری بارشیں اس کے مردہ دل پر برس گئیں۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اپنے دکھ سے زیادہ بڑا ماں کا دکھ ہوتا ہے جو اسے مرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ اسے جینا تھا اور اپنے بچوں کے لیے جینا تھا۔ اس نے اپنے وجود کے سارے ٹکڑوں کو پھر ایک بار سنبھالا اور اس میں اپنا مردہ دل ڈال کر خود کو کھڑا کیا اور الماری کھول کر ایک بھولا بسرا کاغذ کا ٹکڑا ڈھونڈھ کر نکالا۔ وہ اس بے مایہ، بے قیمت کاغذ کے ٹکڑے کو غور سے دیکھتی رہی جو وقت کے ساتھ اس کی طرح زردی مائل ہو گیا تھا۔ اس نے اسے حاصل کرنے کے بعد کبھی اس کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا اور ایک مقدس صحیفے کی طرح خوبصورت کپڑے میں لپیٹ کر بھول گئی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی مقدس صحیفہ جزدان میں لپیٹ کر پہنچ سے بھی زیادہ اونچی جگہ پر رکھ کر انسان بھول جاتا ہے۔ آج وہی کاغذ کا بے جان ٹکڑا کسی زندہ چیز کی طرح اس کی ہتھیلی پر دھڑک رہا تھا اور اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ ملیحہ ابھی بھی زندہ ہے، بس اتنے سالوں میں عرفان کو پا کر وہی اسے بھول بیٹھی تھی۔ اسی یقین سے ذرا سی طاقت لے کر پھر اس نے اپنی زندگی کی صلیب کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور جینے کا شعور ڈھونڈھنے لگی۔ کم ہمتی، خوف اور بے یقینی نے بڑی ٹھوکریں لگائیں مگر ہر ٹھوکر اس کے اندر ضد بنتی گئی۔ وہ ضد ہمت میں پھر بے خوفی میں اور پھر یقین میں بدلنے لگی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ دنیا کے سامنے سرخرو ہونا خدا کے سامنے سرخرو ہونے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اپنی بقاء، حیا اور یقین کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ ایک غیر مرئی طاقت اس کے ساتھ ہے جو اس کی مدد کر رہی ہے۔ ایک این جی او میں نوکری ملنے کے بعد اپنی زندگی کے ہر ناروا سلوک کو اس نے منفی کرنا سکھ لیا جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی تھی اور وہ اپنے بچوں اور نوکری کے مضبوط سہارے کے ساتھ کمزوروں کی طاقت بننے کا کام کرنے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنے وجود کے ہر گوشے کو پرانی والی ملیحہ کی ان آرزوؤں سے روشن کر لیا جسے کبھی قابل اعتنا ہی نہیں سمجھا تھا اور وہ مصروف ہوتی گئی۔ وہ اپنے بچوں کی ماں باپ اور دوست سب کچھ بن گئی۔
وقت کی ندی میں لمحوں کی بارش ہوتی رہی اور اس کے بچوں کے بھیگے معصوم چہروں پر اطمینان کی سرخی اور یقین کا سورج جھلملانے لگا۔ اس کی شخصیت کا وقار اس کے اپنے بل بوتے پر لوٹ رہا تھا۔ لوگوں کا ناروا رویہ مثبت ہوتا جا رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ بعض لمحوں میں بڑی قوت ہوتی ہے۔ وہ کبھی فنا نہیں ہوتے بلکہ ان کا دائرہ پھیلتے پھیلتے پوری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے کہ وہ لمحہ کون سا ہے جسے آپ کو اپنی قوت بنانا ہے۔ جب ہم کمزور لمحے کو خود پر حاوی کر لیتے ہیں تو وہ ہمیں ناکامی کے بھنور میں ڈبو دیتا ہے اور جب ہم اس کمزور لمحے پر فتح پا لیتے ہیں تو اپنی ناؤ کو اس بھنور سے نکال لے جاتے ہیں جہاں اور بھی بہت سے جاندار لمحات وقت کی ندی پر برسنے کو تیار ملتے ہیں۔
آج وہ ایک کمزور عورت نہیں تھی۔ اس کا اپنا ذاتی گھر تھا جس میں آنے والی ساری دھوپ، ہوا اور بارشیں اس کی تھیں۔ گزرے ہوئے لمحے اسے کمزور اور اداس نہیں کرتے تھے، طاقت دیتے تھے مگر آج یہ کون سی کمزوری اس پر حاوی ہو گئی ہے۔ باہر بارش تھم چکی تھی، دن کا اجالا اندھیرے سے گلے مل رہا تھا اور دریچے میں کھڑے کھڑے اس کے پاؤں جیسے شل ہو چکے تھے تب ہی اسے اپنے کمرے میں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، اس کے بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا آہستہ قدموں سے قریب آیا۔ باقی دوجو پیچھے کھڑے تھے ان میں سے ایک نے کمرے کا بلب روشن کیا۔
’’ماں آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟ دیکھیے۔ ہم نے کافی بنائی ہے۔‘‘ اس نے صرف سوالیہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا۔ تو وہ ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اسے دھیرے سے کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا، ’’وہ چلے گئے ہیں۔‘‘ اور کافی کا مگ اسے پکڑا دیا۔۔
’’اب کیا لینے آئے تھے؟‘‘
’’شاید ہماری محبت یا آپ کی معافی۔ تہی دامن تھے۔ ہم پر اپنا حق جتا رہے تھے۔‘‘
’’پھر تم لوگوں نے کیا کہا؟‘‘ اس نے بہت تھکی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’آپ بتائیے ہم نے کیا کہا ہو گا؟‘‘ منجھلا اپنا کپ اٹھاتے ہوئے بولا۔
’’معلوم نہیں۔۔۔ تم نے کیسے، کیا کہا؟ مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ان سے تمہارا خون کا رشتہ ہے۔ خون کے رشتے نہ ٹوٹتے ہیں نہ ختم ہوتے ہیں، یہ تو ہر زمانے میں باقی رہنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور ہمیشہ چلتے ہیں۔ اب اچھی طرح چلیں یا بری طرح بس چلتے رہتے ہیں، کبھی کبھی یہ گھسٹ گھسٹ کر بھی چلتے ہیں مگر چلتے ضرور ہیں، یہ نہ مرتے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں۔ یہ اتنے سخت جان ہوتے ہیں کہ انسان مر جاتا ہے تب بھی یہ رشتے زندہ رہتے ہیں۔ یادوں اور دعاؤں میں، نذر و نیاز میں، آنسوؤں اور مسکراہٹوں میں اور یہ رشتے سینہ بہ سینہ سفر کرتے ہوئے بار بار دفنائے جانے کے باوجود سانس لیتے رہتے ہیں۔ یہ کہانی بن کر زندہ رہتے ہیں اور جب ان کہانیوں کے ورق بھی زرد ہو جاتے ہیں اور پلٹنے کے قابل نہیں رہتے تب یہ رشتے شجروں میں زندہ رہتے ہیں مگر رہتے ضرور ہیں۔‘‘
’’آپ کی کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے ماں۔‘‘ چھوٹا بیٹا جانے کب اس کے قدموں میں آ کر بیٹھ گیا تھا اس نے پیار سے اس کے گھنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔
’’آپ نے صحیح کہا۔ ہم نے ان سے بالکل یہی کہا کہ اب آپ ہمارے لیے صرف ہمارے شجروں میں زندہ ہیں اور یہ آپ کی ہی چوائس تھی۔‘‘
اس نے اپنے مگ کو ٹیبل پر رکھ کر اپنے دونوں بازو پھیلا دیے اور اپنی آغوش میں انھیں لے لیا۔ چھوٹا پہلے ہی اس کے گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھا تھا اور ملیحہ کو یقین ہو گیا تھا کہ محبت کبھی کسی کو کمزور نہیں کرتی۔ اس کی شخصیت کی بقاء کرتی ہے، یقین کو مستحکم کرتی ہے۔ جو چیز آپ کو کمزور کرے اور آپ کے یقین کو توڑ دے وہ محبت نہیں ہوتی۔ عرفان کی محبت محبت نہیں تھی۔ محبت تو یہ ہے جسے اس نے بہت سنبھال کر رکھا ہے اور انہیں ایک ایسا انسان بنایا ہے جو اپنی زندگی میں آنے والی عورتوں کو ایک مکمل وجود سمجھیں گے۔ برا وقت لمحوں کی اس برسات میں شامل ضرور ہوتا ہے مگر اسے اپنی ساری زندگی پر محیط کر لینا اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے۔ آج اس کی روح پورے غرور سے، سر بلندی سے اور فخر سے سر اٹھا کر اس نیلگوں آسمان کی بلندی کو چھونے کے لیے تیار تھی۔ اسے اس کا ادرک ہو چکا تھا کہ وہ ایک الگ اور مکمل وجود تھی، ہمیشہ سے۔۔۔ بس پہلے اس کا ادراک نہ تھا اب ہے۔
٭٭٭
تشنگی
میں تھک کر چور ہو چکی تھی۔ آج صبح سے میں نے مشینی انداز میں سارے کام کیے تھے۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو دن کے دو بج رہے تھے۔ پھر میری نظر اپنی ملگجی اور شکن آلود ساڑھی پر گئی، بہت دیر تک کچن میں کام کرنے کے باعث مجھے گرمی بھی لگ رہی تھی اور بس کے آنے سے پہلے مجھے تیار ہو جانا تھا، اس لیے نہانے کے ارادے سے کپڑے نکالنے کے لیے الماری کی طرف گئی۔ لیکن سنگھار میز کے سامنے ٹھٹھک گئی۔ آج سنگھار میز کا شیشہ بہت چمک رہا تھا اور اس میں میرا سراپا بہت واضح ہو گیا تھا۔ مجھے لگا جیسے آج آئینہ کی ساری دھول مجھ پر آ گئی ہے۔ مجھے اپنا ملگجا سا سراپا اپنی ہی نظروں میں عجیب لگا۔ روز جب اسی آئینے پر دھول کی ہلکی سی پرت کے پیچھے میں اپنا چہرہ دیکھتی تو اس چہرہ پر چھائی تھکان مجھ سے چھپی رہتی تھی۔ آج صاف و شفاف آئینے میں اپنا تھکا اور ملگجا سا سراپا، وقت سے پہلے سر پر کہیں کہیں سے جھانکتے دو چار سفید بال میرے حالات کی چغلی کھا رہے تھے جیسے میری ہی محنت پر مجھے منہ چڑا رہے تھے۔ میں جلدی سے الماری کی طرف بڑھ گئی۔ وہاں بھی مجھے جھنجھلاہٹ ہوئی۔ کیا پہنوں جو اچھا بھی ہو اور یہ بھی نہ لگے کہ میں نے کوئی خاص تیاری کی ہے۔ دو چار اچھے جوڑے جو کہیں آنے جانے پر ہی نکلتے تھے اور گھر میں پہننے کے سارے بے جوڑ، بد رنگ سے، اچانک میری نظر اپنی اس سوتی ساڑھی پر رک گئی جو قیمتی نہ سہی مگر مجھے بہت پسند تھی۔ آج کے لیے مجھے سب سے زیادہ یہی مناسب لگی۔ اسے میں نے دھوبی سے پریس کروا کر رکھا تھا اس لیے نکالنے کا دل بھی نہیں کر رہا تھا کیونکہ دھوبی کے یہاں کپڑے بھیجنا بھی میرے لیے لگژری تھی۔ پھر یہ سوچ کر کہ ایسے موقع پر چند روپے کے پریس کی قربانی دی جا سکتی ہے، میں نے وہ ساڑھی نکال لی۔
نہا کر نکلی تو کسی حد تک تھکان اور گرمی سے نجات مل چکی تھی۔ میرا موڈ بھی خوشگوار ہو گیا تھا۔ پہناوا بھی انسان کی شخصیت پر کتنا اثر ڈالتا ہے۔ میں نے بال سنوارتے ہوئے خود کو پھر سے آئینے میں دیکھا۔ میں زرد رنگ کی میرون باڈر والی ساڑی میں بڑی گریس فل لگ رہی تھی۔ بالوں سے جھانکتی ہلکی سی سفیدی ان کپڑوں سے بہت میچ کر رہی تھی۔ اب میں مطمئن تھی۔ عذرا کو آنے میں ابھی چند گھنٹوں کی دیر تھی اور میں اپنا سارا کام ختم کر چکی تھی۔ میں باہر چھوٹے سے برآمدے میں نکل آئی۔ بستر پر لیٹنے کی خواہش تھی مگر ساڑھی کی کریز خراب ہونے کا ڈر تھا اس لیے برآمدے ہی میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ بادل گھِر آئے تھے اور خوش گوار ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھلے لگ رہے تھے۔ میں نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں اور کچھ دیر خالی الذہن سی بیٹھی رہی۔ دل پر کچھ عجیب سے احساسات کا غلبہ تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ میں بہت خوش ہوں یا اس خوشی میں اداسی کا رنگ بھی گھلا ہوا ہے۔ آج صبح جب سے ٹیلی گرام آیا تھا کہ عذرا شام کو یہاں آ رہی ہے صرف چند گھنٹوں کے لیے تب ہی سے میں نے ایک پل بھی ضائع نہیں کیا تھا۔ خوشی اور بے چینی کا احساس مجھ پر غالب تھا لیکن اس خبر کے ساتھ ہی میں گھر کے کاموں میں اس قدر مصروف ہو گئی کہ اپنی اس کیفیت پر زیادہ دھیان نہ دے سکی۔ گھر کو نئے سر سے سے صاف کیا تھا۔ ایک ایک چیز کو صاف کر کے چمکایا تھا۔ بستر کی چادریں بدل ڈالی تھیں اور احمد کو آفس جانے سے پہلے سو بار تاکید کی تھی کہ مجھے کچھ چیزیں بازار سے لادیں تاکہ شام کی پر تکلف چائے کا انتظام کر سکوں۔ احمد نے فہرست پر سرسری سی نظر ڈالی تھی اور آفس جانے سے قبل سامان لا کر دے دیا تھا۔ ایک دو بار میری ساری تیاریوں کو مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا بھی تھا مگر بولے کچھ بھی نہیں تھے۔ میں جانتی تھی کہ وہ دکھاوے کے بہت خلاف ہیں اور میری ان تیاریوں کی ان کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ اسے یقیناً فضول سمجھ رہے تھے اسی لیے میں ان سے نظریں چراتے ہوئے کچن میں چلی گئی تھی۔ بہر حال آج اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کیونکہ آج میری عزیز ترین سہیلی آنے والی تھی۔ ایک ایسی سہیلی جس سے میں ہمیشہ ہی مرعوب رہی ہوں۔ خوشی، بے چینی اور کرب کا ملا جلا احساس جیسے مجھ میں گھل رہا تھا۔ تیزی سے کام کرتے ہوئے بھی میرا ذہن اپنے ماضی میں چکراتا رہا۔ ایک بہت خوبصورت دور، دو لڑکیاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہر وقت مسکراتی اور کھلکھلاتی ہوئی، کبھی تتلیوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی، کبھی امرود اور جامن کے پیڑ پر چڑھی ہوئی پھر وقت کا گھومتا ہوا پہیہ یہ خوبصورت دور اپنے ساتھ لے گیا اور اس دور کی خوش گوار، بے فکر اور انمول گھڑیاں ماضی کے کسی عمیق کھڈ میں جا گریں۔
اب تھا ایک نیا دور۔۔ نئے عزم، نئی امنگوں کے ساتھ۔ لڑکپن کی حدود سے نکل کر جوانی میں قدم رکھتی ہوئی دو ننھی کلیاں، عذرا اور نسرین۔ برسات کی پھوار سے دھلے اور نکھرے ہوئے اس تازہ کھلے پھول کی طرح جو ہر ایک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ عذرا بے حد چنچل، سانولی صورت اور تیکھے نقوش والی پیاری سی لڑکی۔ ہر وقت مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی جیسے مسکراہٹ اس کی شخصیت کا ایک اہم حصّہ ہو اور اس کے بغیر اس کا وجود نامکمل۔ دوسری طرف میں، میرے اندر دوسروں کی زبانی اپنی تعریفیں سن سن کر خوبصورتی کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔ میرے سفید رنگ اور بڑی بڑی آنکھوں کے کئی متوالے تھے۔ یہ وہ دور تھا جو زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے، جہاں بہاریں ہوتی ہیں، خوشیاں ہوتی ہیں، سہانے خواب ہوتے ہیں۔ روشن مستقبل کے سہانے خواب۔ میں نے اپنی زندگی کے اس خوبصورت دور میں ہمیشہ محسوس کیا کہ میں ہر پل، ہر لمحہ سر شار رہتی ہوں۔ میرے وجود میں ایک بے نام سی خوشی ہر وقت گھلی ملی رہتی، ایک خواہ مخواہ کا غرور میری نس نس میں بس گیا تھا۔ میری ساری سہیلیاں کافی امیر و کبیر گھر کی لڑکیاں تھیں۔ میرے پاس میری ساری دولت میری خوبصورتی تھی اچھی اچھی امیر لڑکیوں نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور میں ان کی محبت میں اپنی اصلیت پہچاننے سے انکار کرنے لگی۔ مجھے اپنی امیر سہیلیوں کی ہر بات اچھی لگتی۔ میں ہر بات میں آنکھ بند کر کے ان کی تائید کرتی، ان کی آزادی اور بے فکری کی نقل کرتی۔ خود کو ان کے جیسا دکھانے کے لیے مجھے کیا کیا جتن کرنے پڑتے۔ وہ کالج میں روزانہ کھانے پینے پر بے دریغ خرچ کر دیتیں اور ایسے موقع پر میری مٹھی میں دبے ہوئے گنے چنے نوٹ پسیج پسیج جاتے۔ ہر بناوٹ کے باوجود میں اس وقت اپنا احساسِ کمتری نہیں چھپا پاتی۔ میں وقتی طور پر یہ بھول کر کہ میں نے ایک متوسط طبقے میں جنم لیا ہے، بہت اونچے اونچے خواب دیکھنے لگی تھی۔ میرے کچے ذہن پر آزاد اور امیر سہیلیوں کی لفّاظی اپنا رنگ جماتی چلی گئی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا جس کے میں خواب دیکھتی۔ پھر بھی میرے اندر کچھ ایسا بھی تھا جو اس کے بالکل برعکس تھا۔
کبھی کبھی لگتا کہ میری ساری خوشیاں بڑی سطحی ہیں بلکہ ان ساری خوشیوں کے پیچھے ایک بے چینی، ایک اضطراب کی کیفیت بھی ہے جسے میں شعوری طور پر خود سے دور رکھتی اور اسے اپنے آپ پر حادی نہیں ہونے دنیا چاہتی تھی۔ لیکن پھر مجھ میں بڑی تبدیلی آنے لگی، میں سنجیدگی سے اپنے حالات کا تجزیہ کرتی۔ آخر کار مجھے لگا کہ میں نے اپنے دکھ اور اضطراب کی وجہ جان لی ہے، اپنے سے زیادہ اونچے طبقے کی سہیلیاں بنا کر، ہمیشہ میں نے اپنی انا کو مجروح کیا ہے۔ گھر میں چھوٹی بڑی ضرورتوں کے لیے پاپا کو جد و جہد کرتے دیکھتی۔ ہماری ضرورتوں کے لیے آرام کرنے کی عمر میں بھی انھیں کام کرنا پڑتا تھا اور پاپا کے متفکر چہرے کو دیکھ کر میرے دل سے خوشی کے سارے احساسات پھسل پھسل جاتے۔ پھر میرا دل چاہتا کہ پاپا کے ضعیف وجود سے چمٹی ہوئی پریشانیاں اور ممی کے نازک سراپا سے الجھی ہوئی پریشانیوں کو ایک پل میں دور کر دوں۔ کچھ تو کر سکوں سب کے لیے کہ ان کے پریشان چہروں پر خوشی، بے فکری اور ہنسی کی پھوار برسنے لگے مگر میں کچھ بھی نہ کر سکی۔ میرے سارے چھوٹے بڑے خواب زمین بوس ہوتے چلے گئے۔ گریجویشن کے بعد میں گھر بیٹھ گئی۔ ان سہیلیوں کا ساتھ چھوٹا اور میں نے اپنے حالات کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ حالات سے سمجھوتا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ عذرا مجھ سے اکثر ملتی رہتی تھی۔ پھر شادی ہو گئی اور میں ایک نئے گھر اور نئے ماحول میں آ گئی۔ اپنے شفیق والدین سے دور، ان کے لیے کچھ کرنے کے عزم کو و ہیں کہیں چھوڑ کر۔ یوں تو زندگی بڑی مطمئن گذر رہی تھی۔ سب کچھ ہی تھا، سب سے بڑھ کر ایک اچھا چاہنے والا بلند کردار ساتھی اور اس کے علاوہ زندگی کو سادگی سے گزارنے کے تمام ذرائع۔ پھر بھی میں کبھی کبھی بہت دکھی ہو جاتی کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک روایتی بیوی بن کر زندگی گذاروں گی۔ کیا کچھ بننے کے خواب دیکھے تھے مگر کچھ نہیں بن سکی۔ اس طرح گزرتے وقت کے ساتھ میں نے اپنے سارے احساسات کو تھپکیاں دے دے کر سلا دیا اور اس پر صبر کی سل رکھ دی۔ اب بہت کم ایسی باتیں سو چا کرتی اور اب میرے پاس ایسی باتیں سوچنے کا وقت ہی کہاں تھا لیکن آج اتنے دنوں بعد۔ عذرا کی آمد کی خبر نے پھر مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سارے سوئے ہوئے احساسات جاگ اٹھے تھے۔ میرے اندر وہی مصنوعی نسرین سرا بھار رہی تھی جسے اپنے گھر کی ہر چیز بد رنگ اور پھیکی نظر آ رہی تھی۔ عذرا کے سامنے خود کو اچھے سے اچھا پیش کرنے کے لیے میں نے کتنی محنت کی تھی۔ آخر وہ ایک بڑے گھر کی فرد تھی اور اب خود ہی وہ ایک بڑی پوسٹ پر تھی۔ میرا اضطراب بڑھنے لگا، مجھے انتظار کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ اتنی دیر سے کلف والی پریس کی ہوئی ساڑھی میں خود کو اسٹیچو بنائے بنائے مجھے تھکن محسوس ہونے لگی تھی۔ دونوں بچے گھر کو بے ترتیب نہ کر دیں اس لیے میں نے بڑی فراخ دلی سے انھیں پاس والے پارک میں جا کر کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔
آخر خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور عذرا کے آنے پر میں اس کے خیر مقدم کے لیے دوڑی۔ احمد بھی آفس سے آ چکے تھے۔ بچوں کو پارک سے بلا کر میں نے پڑھنے بٹھا دیا تھا۔ عذرا اور میں ایک دوسرے سے اتنے دنوں کے بعد ملے تھے کہ ہم والہانہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ ہماری آنکھیں خوشی سے نمناک تھیں۔ ہم دونوں بہت دیر تک ماضی کی سہانی یادوں کو کرید کرید کر خوش ہوتے رہے۔ عذرا بہت بدل گئی تھی، اب وہ ایک شوخ و شنگ لڑکی نہیں رہی تھی بلکہ اس کی شوخی کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔ وہ کافی بھاری بھرکم بھی ہو گئی تھی۔ ہاں اس نے مجھے دیکھ کر کہا کہ نسرین تم بالکل نہیں بدلیں صرف بالوں میں ذرا سفیدی جھلکنے لگی ہے۔ احمد بھی عذرا سے ملے اور اس کی دلچسپ باتوں پر مسکراتے رہے لیکن پھر جلد ہی انھوں نے ہم دونوں سہیلیوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ عذرا نے میرے پیارے بچوں کی بہت تعریف کی اور انھیں بہت سارے تحائف دیے۔ وہ مجھ سے اور میرے مختصر سے کنبے سے مل کر بہت خوش تھی اور اس خوشی کا اظہار بار بار کر رہی تھی۔ لیکن ان سب کے باوجود اس عذرا میں اور پہلی والی عذرا میں ایک نمایاں فرق نظر آ رہا تھا۔ اور وہ یہ کہ عذرا کی جو آنکھیں ہر وقت مسکراتی ہوئی سی نظر آتی تھیں، آج ان آنکھوں میں ایک ویرانی سی تھی۔ آخر کار میں نے دل کی بات اس سے پوچھ ہی لی۔ عذرا پہلے تو میرا سوال سن کر مسکرائی پھر سنجیدہ ہو گئی اور بڑی آہستگی سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، ’’تم نے پوچھا ہے نسرین تو میں ضرور بتاؤں گی۔ میں بہت تنہا ہوں۔ آج تم نے جس اپنے پن سے پوچھا ہے شاید میں اس خلوص کی گرمی سے میں پگھلنے لگی ہوں۔ تمھیں نہیں معلوم کہ شادی کے دو سال بعد ہی میں نے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ میرے گلشنِ حیات میں کبھی کوئی پھول نہیں کھلا۔ ازدواجی زندگی میں ناکامی کے بعد میں نے پھر شادی نہیں کی۔ میری زندگی بڑی ویران ہے۔ تم جانتی ہو نسرین۔ اعلیٰ سوسائٹی بڑی کھوکھلی ہوتی ہے۔ وہاں صرف پیسوں کی کھنک ہے، خلوص اور محبت کی گرمی نہیں اور میں نے اب جانا ہے زندگی میں روپیہ ہی سب کچھ نہیں۔ میں نے ایک غلط ساتھی کا انتخاب کیا تھا جو عیش پسند تھا، جو ہر رات اپنے لیے ایک بیوی خرید سکتا تھا۔ ایسے آدمی کے ساتھ میں ساری زندگی کیسے گزارتی۔ پھر مجھے شادی کے نام سے چڑ ہو گئی۔ مگر آج تم سے مل کر لگا کہ میں غلط تھی۔ ہر آدمی میرے شوہر کی طرح تو نہیں ہوتا۔ تم اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہو۔‘‘
عذرا اور بھی نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھی مگر میں حیرت سے عذرا کو دیکھ رہی تھی۔ یہ عورت جس کو میں نے ہمیشہ رشک کی نگاہ سے دیکھا وہ کتنی دکھی ہے اور میں سوچ رہی تھی کہ وہ ہر طرح سے کامیاب اور مکمل زندگی جی رہی ہو گی۔
عذرا کو رخصت کر کے میں نڈھال سی بستر پر گر گئی۔ کیسی ہے یہ زندگی۔ کیا یہاں ہر انسان پیاسا ہے۔ ایک تشنگی کے احساس سے جھٹپٹاتا ہوا، اپنے آپ میں ادھورے پن کا احساس لیے ہوئے۔ اس تشنگی، اس پیاس کا نام ہی شاید زندگی ہے۔
٭٭٭
ایڈہیسو (Adhesive)
نشی نے محسوس کیا کہ آج اچانک زندگی کا یہ رویّہ اس کے حوصلے پست کر رہا ہے۔ جیسے اس پر تصنع زندگی کو جھیلتے جھیلتے وہ ٹوٹ گئی تھی۔ زندگی کی آسائشوں کو پانے کی تمنّا میں، ترقی کی طرف بڑھتے قدم نے اس دور کے انسانوں سے جو قربانی لی تھی وہ معمولی نہیں تھی۔ اپنے پل پل کا سکون تج کر، لمحوں لمحوں کی موت مر کر اس نے بھی تو آسائشوں کا محل تعمیر کرنا شروع کر دیا تھا مگر اپنی ان کا وشوں سے اسے کبھی کوئی سچّی خوشی نہیں ملی تھی۔ نہ جانے یہ کرب صرف اس کی ذات کا ہے یا اس دور کا۔ اسے تو صرف اتنا پتا ہے کہ اکثر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود پھیکی اور بوجھل لگتی ہے اور کبھی کبھی اسے اپنا آپ بڑا اجنبی اجنبی سا لگتا ہے جیسے یہاں سے وہاں تک خلاء ہو اور گہرا سناٹا۔ ایک کامیاب زندگی کے لیے اس نے جتنے خواب دیکھے تھے اس کی تعبیر اس کے دامن میں تھی۔ اپنے شوہر راحُل اور بیٹے راجو کے ساتھ اپنے آراستہ گھر میں اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ مگر کچھ نہیں تھا تو فرصت کے چند لمحے ساتھ گزار نے کے لیے چند حسین بے فکرے پل۔ گنتی کے یہ چند افراد ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے کتنے اجنبی تھے۔ اپنے اپنے دائروں میں محبوس، ان دائروں میں پرائیوٹ کی کوئی تختی بھی نہیں لگی ہے مگر یہ دائرے کہیں ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتے۔
نِشی نے اپنے جاگتے ذہن اور سوئی آنکھوں سے چھٹکا را پانے کے لیے اپنی مندی مندی آنکھیں کھول دیں اور بڑی کسل مندی سے کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی۔ راحُل اس کے بغل میں اس ڈبل بیڈ پر کتنا بے ترتیب پڑا تھا۔ اس کے سونے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ کتنا تھکا ہوا ہے۔ ایسی بے خبری کی نیند تو کھردری سنگلاخ زمین کا احساس بھی گم کر دیتی ہے یہ تو پھر نرم گدا اور آرام دہ بستر ہے۔ آج اتوار ہے، اگر صبح کے نو بجے سے پہلے راحُل کی نیند ٹوٹ بھی گئی تو وہ کروٹ بدل بدل کر سونے کی کوشش کرے گا۔ چھ دن کی افرا تفری کے بعد تو یہ اتوار آتا ہے۔ اس نے کروٹ بدل کر کمرے کے دوسری طرف بچھے بستر پر نظر ڈالی۔ جہاں اس کا آٹھ سالہ لڑکا سو رہا تھا۔ ممتا تڑپی، کتنی چھوٹی عمر سے اس کا بستر الگ کر دیا ہے، نہ جانے کب اس نے اسے سینے سے لگا کر سلایا ہو گا۔ اس مشینی زندگی نے تو شب و روز کا احساس ہی مٹا دیا ہے۔ اس ننھّی سی جان پر بھی پڑھائی کے علاوہ کتنا بوجھ ہے۔ کمپیوٹر کلاسِز، کر اٹے کلاسِز، ٹیوشن۔ کتنا فرق ہے راجو کے اور اس کے گزرے ہوئے بچپن میں۔ آج کے حالات نے بچوں سے بھی ان کا بچپن، آزادی اور معصومیت چھین لی ہے۔ وقت سے پہلے بچّے میچیور نظر آتے ہیں۔
آج وہ اپنی تمام تر توجہ راجو اور راحُل پر وقف کر دے گی۔ بالکل الگ سادن گزار نے کی ایک خواہش صبح کے پو کی طرح اس کے دل میں پھوٹ رہی تھی۔ اُس نے بستر پر لیٹے لیٹے ہی پلاننگ کی۔ آج ان دونوں کے اُٹھنے سے پہلے وہ اچھّا سا ناشتہ تیار کرے گی۔ روزانہ کی بریڈ اور آملیٹ سے وہ سب کتنے بور ہو چکے تھے۔ صبح کی فضا میں تلے ہوئے پراٹھے کی خوشبو عرصے سے شامل نہیں ہوئی مگر اس ارادے کی تکمیل میں اسے قباحت محسوس ہوئی۔ جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں اٹھ پائی۔ آخر وہ بھی تو تھک جاتی ہے اور آج تو وہ اس شعوری کوشش میں ہے کہ خود سے ان سارے جھمیلوں کو دور رکھے جو روز اُسے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے درمیان گھسیٹ لیتے ہیں۔ آفس کی تھکا دینے والی دوڑ، وہاں کے ناپسندیدہ مسائل، پر انی اسکوٹر کی چڑ دلانے والی آواز، چھوٹے چھوٹے دکھ، پریشانیاں، واہمے کتنا کچھ جڑا ہے اس سے بھی جو اس کے اندر کے مضبوط درخت کو ٹہنی ٹہنی، پتّا پتّا بکھیر دیتا ہے۔ مگر وہ ایک ننگا پیڑ، ایک بے سایہ دار درخت بن کر رہنا نہیں چاہتی۔ اس لیے ان فرصت کے لمحوں میں وہ ان بکھرے پتّوں کو سمیٹ کر طاقت کی ایک لو دکھانا چاہتی ہے اور محسوس کرنا چاہتی ہے اپنے اندر سے پھوٹنے والی نئی کونپلوں کو جو اس کے خالی پن کو بھر دیتی ہیں، اسے مضبوط کرتی ہیں اور اسے اپنا بھرا پرا ہونا، مضبوط ہونا ہی اچھّا لگتا ہے۔ مگر وہ کسے الزام دے۔ اپنی شخصیت کے اس بکھراؤ کی ذمہ دار بھی تو وہ خود ہے۔ جب راحُل تنہا زندگی کی آسائشوں کو مہیا کرنے کے لیے خوار ہو رہا تھا تب اس نے قناعت سے کام نہ لے کر بے صبری دکھائی تھی۔ تب ہر پل نئے دور کی تعلیم یافتہ عورت ہونے کا گمان اسے ملامت کرتا کہ وہ چاردیواری میں قید ایک خاموش تماش بین ہے اور تب ہر رکاوٹ کو نظر انداز کر کے اس نے یہ چار دیواری لانگھ (پھلانگ) لی تھی۔ مگر اس وقت اسے اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنا کیا کچھ قربان کر رہی ہے۔ اب آج جب ان کے پاس سب کچھ ہے تو ان آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کی فرصت نہیں۔ یہ کیسا شراپ(بددعا) ہے اس دور کی زندگی کو۔
اس نے اپنی پریشان کن سوچوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے خود کو بستر سے گھسیٹ کر باہر نکالا۔ دھوپ اپنی پوری تمازت کے ساتھ سر پر چڑھ آئی تھی۔ دھیرے دھیرے سب ناشتے کی ٹیبل پر جمع ہو گئے اور وہاں وہی روز کی طرح بریڈ، آملیٹ اور چائے کا شغل تھا۔ نشی خجل تھی۔ راحُل نے کچھ نہیں کہا تھا مگر نشی کو لگا کہ وہ تھوڑا شاکی ہے مگر اتنا کم کہ وہ اس احساس کو صرف سونگھ سکتی ہے۔ تبھی راحُل کے نظروں کی شکایت راجو کی زبان سے پھسل پڑی، ’’ممی آج تو کچھ اسپیشل ہونا چاہیے تھا۔‘‘
’’لنچ میں دیکھتی ہوں کچھ بنا سکی تو۔‘‘ نشی نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے نشی نے محسوس کیا وہ فاصلہ جو ان تینوں کے درمیان موجود تھا، ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہ ہونے کا احساس نشی کو کتر رہا تھا۔ اس نے اپنے ٹوٹتے ہوئے ارادے کو مجتمع کر کے جمود کی اس کیفیت کو توڑنا چاہا۔ ’’راحُل آج تمہاری پسند کی کوئی ڈش بناتی ہوں۔ اگر مجھے تم بازار سے۔۔۔‘‘
’’نہیں، آج میں کہیں نہیں جاؤں گا۔‘‘ راحُل نے بہت بے رخی سے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی اور اخبار اُٹھا کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ نشی نے بے بسی اور اُمید کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ راجو کی طرف دیکھا۔ وہ بھی کسی اخبار پر جھکا سنڈے ریویو پر بچّوں کا کالم دیکھنے میں گم تھا-
’’کین یو ہیلپ می راجو! (Can you help me Raju)‘‘ اپنے ہی سوال کے کھوکھلے پن پر وہ کھسیانی ہو رہی تھی۔
’’سوری ممی! (Sorry Mummy) آج اتنا ہوم ورک ہے۔ آپ رہنے دیجیے۔ ہم کچھ بھی کھالیں گے۔‘‘
نشی کے دل میں کرچ سی چبھ گئی اس لا تعلّقی سے۔ مگر اس کے اندر چند دہائیوں پہلے والی ایک عورت جو موجود تھی جسے اس نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا، جانا تھا وہ اسے ہی مورد الزام ٹھہرا رہی تھی کہ اپنی شخصیت کے اس بکھراؤ کی ذمہ دار وہ خود ہے اور اسے یقیناً اپنی شخصیت کا یہ بکھراؤ پسند نہیں تھا۔ اسے اب شدّت سے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وہ شخصیت کے جس روپ میں بھی ہوتی ہے اس کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتی۔ تب اسے لگتا ہے وہ بکھر رہی ہے، دھبّا دھبّا لیکن دہ خود کو دھبّے کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتی۔ اسے بہت جگہ تھوڑا تھوڑا اور ایک دوسرے سے الگ بلکہ ایک جگہ ہونا اور پورے طور پر ہونا کہیں بہتر لگتا ہے۔ مگر اب وہ شدّت سے محسوس کر رہی تھی کہ اس کی بکھری شخصیت کی کرچیاں اس کے ساتھ ساتھ اب راجو اور راحُل کو بھی لہو لہان کر رہی ہیں۔
تبھی راجو کی معصوم آواز نے اسے خیالات کے بھنور سے باہر نکالا۔ ’’ممی! دیکھیے۔‘‘ اس نے اخبار کی ایک خبر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ’’یہ کیسا ایڈہیسِو (Adhesive) ایجاد ہوا ہے جو انسانی جسم کو جوڑ سکے گا اور آپریشن کے بعد اسٹیچنگ (Stitching) کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے انسانی جسم کا کوئی بھی کٹا ہوا حصّہ دوسرے سے بآسانی چپکایا جا سکے گا۔‘‘
نشی نے خالی خالی نظروں سے راجو کی طرف دیکھا۔ اس کے ذہن میں یہ سوال پھن پھیلائے کھڑا تھا۔ ’’کیا کوئی ایسا ایڈہیسِو (Adhesive) نہیں جو انسان کی بکھری ہوئی شخصیت کی کرچیوں کو بھی جوڑ سکے۔۔۔۔؟‘‘
٭٭٭
وہ نقش زیرِ آب ہے
(ہارر فکشن)
ہم تعداد میں کل سترہ تھے۔ گیارہ طلبہ اور طالبات کے ساتھ دو اساتذہ اور ان کی فیملی۔ یہ مختلف کنبوں اور جگہوں کے لوگ، مختلف عادات و اطوار اور مختلف طبائع کے لوگ کچھ دنوں کے لیے ایک کنبہ بن گئے تھے۔ اپنے اپنے گھروں سے ہزاروں کلو میٹر دور نہ جانے کن ان جانی خوشیوں اور علم کی تلاش میں آئے تھے اور کیرالہ کے اس ٹور کے لیے لمبی مسافت طے کر کے یہاں پہنچے تھے۔
دراوڑ لینگوئسٹک ایسوسی ایشن کا گیسٹ ہاؤس تریوندرم میں شہر سے بیس کلو میٹر کی دوری پر تھا۔ بالکل سنسان سے علاقے میں کئی مربع زمین پر پھیلا ہوا یہ گیسٹ ہاؤس ناریل، کاجو اور کھجور کے جنگلوں میں گم نظر آتا۔ اس میں موجود کینٹین، لائبریری، ایڈمنسٹریو بلاک سب ایک دوسرے سے دور اور الگ الگ تھے اور اچھی خاصی مسافت طے کرنے کے بعد کوئی دوسرا بلاک نظر آتا تھا۔ بھاگتی دوڑتی زندگی سے نکل کر آئے ہوئے اس گروپ کے لوگوں میں پہلے پہل بڑا کنفیوژن نظر آیا۔ کسی کی رائے میں یہ بڑی ایڈوینچرس جگہ تھی، کسی کی رائے میں ویران اور سنسان علاقے کا ڈراؤنا پن ان کا مزہ ختم کر رہا تھا، کوئی اپنی فائیو اسٹار لگژری کی فکر میں رہی سہی سہولتوں سے بھی لطف اندوز ہونے کو تیار نہ تھا۔ اس گروپ میں دو ٹیچر اپنی فیملی کے ساتھ اور آٹھ طالبات اور تین طلبہ تھے۔ ایک استاد حامد صرف اپنی بیوی صبیحہ کے ساتھ تھے، دوسرے استاد علی جو میرے شوہر تھے اور ہمارے ساتھ ہماری دونوں بچیاں یاسمین اور نسرین تھیں جو سات سال اور چودہ سال کی تھیں۔ دونوں اساتذہ پر ایم اے کے ان طلباء کی ذمہ داری تھی۔ ان آٹھ لڑکیوں میں گوری، سانولی، گوار، ناگوار سب تھیں، بعض ان میں دلکش تھیں بعض قبول صورت۔ لڑکے صرف تین تھے مگر سچ کہوں تو دس کے برابر، کام سنبھالنے میں بھی اور شرارت میں بھی۔ ان طالب علموں سے سفر کے دوران میری خوب دوستی ہو گئی تھی مگر صبیحہ ذرا ریزرو رہتی تھیں اس لیے ان سے الگ الگ نظر آتیں۔
یہاں اتر کر سب سے پہلا تاثر عجیب تھا۔ سوچنے والے دماغ، دھڑکتے ہوئے دل، تیرتے ہوئے خون کا تعطل اور لا علمی کا لرزہ خیز ناقابلِ تصور پھیلاؤ۔ ہم میں سے کوئی بھی بہتر سے بہتر انتظامات اور تفریح کی خواہش کا بوجھ پھسلتے ہوئے لمحات کے ساتھ فضا میں پھینکنے کو تیار نہیں تھا۔ لمبے سفر کی میٹھی میٹھی تھکان اگر آرام دہ بستر کی طلب گار تھی تو نئی اور ان دیکھی جگہ کو جاننے سمجھنے کا شوق بے پایاں قدموں کو بے چین رکھنے پر مصر۔ اس طرح فیصلہ یہ ہوا کہ آج کی رات اسی گیسٹ ہاؤس میں قیام اور کل ایک بہتر ہوٹل کی طرف کوچ۔
پہلے ہی دن اپنی ضروری سہولیات حاصل کر لینے کے بعد ہم نے سمندر کے کنارے اور غروبِ آفتاب کا مزہ لیا۔ ٹورسٹ پوائنٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بتایا کہ اس ساحل پر بھیڑ بھی کم ہوتی ہے اور گند گی بھی نہیں ہے۔ نوجوان اور بچے اس ساحل پر آ کر بہت خوش تھے۔ ہم چار بڑے کنارے پر ایک طرف ریت پر بیٹھ کر انھیں ساحل پر مستیاں کرتے دیکھتے رہے۔ میری بچیوں کی دوستی اس سفر میں ان لڑکیوں سے ہو چکی تھی۔ میں عادتاً منظر کے حسن میں کھونے لگی اور زیادہ دیر سکون سے وہاں بیٹھ نہ سکی اس لیے وہاں سے اٹھ کر سمندر کی موجوں کو اپنے قدموں سے چھونے کی خواہش لیے ذرا آگے بڑھی۔ سمندر کی بے کراں وسعتیں اور اس کی بے چین و مضطرب مدو جزر سطح سمندر پر سر پٹک پٹک کر نہ جانے اپنی کس نا خواندہ خواہش کا گلہ کر رہے تھے۔ ان بے پناہ وسعتوں کے سامنے انسانی وجود کی کم مائے گی اور سراسیمگی کے ساتھ انسان کی محدود طاقت کا ادراک بڑی آسانی سے ہو رہا تھا۔ میں نہ جانے کتنی دیر سمندر کے سحر میں گرفتار اور بے خبر رہی کہ اچانک مجھے اپنے اکیلے پن کا احساس ہوا۔ میں نے گھوم کر دیکھا تو میں سمندر کنارے تنہا کھڑی تھی، شام ڈھل چکی تھی اور یہاں وہاں چند اجنبی چہرے نظر آ رہے تھے۔ نیم تاریکی، نئی جگہ اور ساحل پر تنہا۔ سمت کا اندازہ بھی نہیں۔ خوف جیسے پانی سے اٹھا اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گیا۔ صدمہ الگ کہ مجھے اس طرح میرے بچے اور شوہر کیسے بھول کر جا سکتے ہیں اور بھول بھی گئے تو لوٹ کر کیوں نہ آئے۔ میں ڈبڈبائی آنکھوں سے اس طرف بھاگی جدھر سے آئی تھی مگر یقین نہیں تھا کہ تنہا گیسٹ ہاؤس تک پہنچ پاؤں گی یا نہیں۔ دو مقامی عورتیں ایک جگہ نظر آئیں جو آپس میں الجھ رہی تھیں۔ انھیں دیکھ کر جان میں جان آئی۔ مردوں کی طرف دیکھنا مجھے گوارا نہ تھا کیونکہ میں ایسی صورتحال میں تھی کہ ڈری ہوئی تھی، میرا خیال تھا کہ یہاں پراس وقت سب شرابی اور جواری ہی ہوں گے۔ گرتی پڑتی ان عورتوں کے پاس پہنچ کر ایک ہی سانس میں پتہ بتاتے ہوئے مدد کے لئے فریاد کی۔ مگر جلد ہی سمجھ میں آ گیا کہ وہ میری زبان سے ناواقف ہیں۔ ان میں سے ایک کچھ بڑبڑاتی ہوئی ایک طرف چلی گئی۔ اس سے پہلے کہ میں دوسری کی طرف امید بھری نظر ڈالتی ایک خوفناک شکل کا آدمی ہندی میں مجھ سے بولا، ’’میڈم یہ پاگل ہے اس سے مت بات کرو۔ اس کی بیٹی غائب ہو گئی ہے تب سے اس کا فوٹو لے کر گھومتی رہتی ہے یہاں وہاں۔‘‘
مجھے لگا وہ بات بنا رہا ہے۔ مشکوک نظروں سے اسے دیکھ کر میں نے اس عورت کی طرف دیکھا۔ ادھیڑ عمر کی بدحال عورت، میلی ساڑھی اور ویران آنکھیں۔ اس کے ہاتھ میں سچ مچ ایک پندرہ سال کی لڑکی کی تصویر تھی۔ سانولی سی گٹھے ہوئے جسم کی بڑے پیارے انداز میں ہنس رہی تھی۔ ایک موٹی سی چوٹی اس کے سینے پر جھولتی ہوئی اور اس کے سفید دانت بہت پرکشش تھے۔ اس عورت نے تصویر بالکل میری آنکھوں کے قریب کر دی تو میں ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی مگر نظر تصویر پر ہی رہی۔۔ اس تصویر میں بڑی عجیب بات تھی کہ میں اپنا مسئلہ بھولتی جا رہی تھی اور تصویر مجھ پر حاوی ہو رہی تھی۔ مجھے لگا تصویر کی آنکھیں جاندار لڑکی کی ہیں اور وہ آنکھیں میری مشکل کو سمجھتی ہیں۔ پھر مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں رہا۔ یوں لگا کہ وہ لڑکی میرے آگے آگے ہے اور میں اس کے پیچھے۔
’’ممی اٹھیے! ۔ سب ناشتے کے لیے باہر جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔‘‘ نسرین مجھے جھنجھوڑ رہی تھی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ میں گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں تھی، سر درد سے میری کراہ نکل گئی، چائے کی تیز طلب محسوس ہوئی مگر معلوم تھا کہ چائے کے لیے بھی کینٹین جانا ہو گا۔ نسرین پھر کمرے میں آئی، ’’آپ ابھی تک اٹھیں نہیں۔ سب تیار ہو چکے ہیں۔‘‘
’’سنو!!!‘‘ میں نے نسرین کو ہاتھ پکڑ کر روک لیا کیونکہ وہ پارے کی طرح تھرکتی رہتی تھی اور ایک جگہ ٹک کر نہ رہتی۔ ’’کل تم لوگ مجھے چھوڑ کر کیسے چلی گئیں؟‘‘
’’ممی!‘‘ اس نے بڑی بوڑھیوں کی طرح آنکھیں نکال کر منہ بنایا۔ ’’آپ سے تو ابو بہت ناراض ہیں، کل کتنا پریشان کیا آپ نے۔‘‘
’’میں نے؟؟؟‘‘
میری حیرانی دیکھ کر وہ بولی، ’’اور نہیں تو کیا! ہم لوگ جب ذرا آگے بڑھے تو آپ کو نہ دیکھ کر فوراً واپس گئے مگر آپ وہاں بھی نہیں تھیں۔ سارے راستے ڈھونڈتے ہوئے آئے۔ سب لوگ پریشان ہو گئے تھے مگر آپ کہیں نہیں نظر آئیں۔ کمرے میں آ کر دیکھا کہ آپ مزے سے سو رہی ہیں۔‘‘ وہ عادتاً پوری داستان سنا کر یہ جا وہ جا۔
میں الجھی الجھی سی تیار ہوئی، باہر نکلی تو یہ لپک کر آئے۔ ’’کل کس راستے سے واپس پہنچیں؟ اندازہ ہے کتنا پریشان کیا تم نے؟ اور کیا مزے سے گہری نیند سو رہی تھی۔ اتنی جلدی کیسے سو گئیں؟‘‘ افففف اتنے سارے سوال اور مجھے کچھ یاد نہیں۔ میں نے ہونقوں کی طرح دیکھا تو بولے، ’’اور چابی تو میرے پاس تھی پھر تم نے۔۔۔۔‘‘
’’سر چلیے! سب آ گئے ہیں۔‘‘ عمران نے آواز دی تو میری جان بچی۔ یہ اپنے کولیگ حامد کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ سب میری خیریت پوچھ رہے تھے۔ میں نے سر درد کا بتا کر سب کو ٹال دیا اور ہم کاجو کے گھنے درختوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے کینٹین تک پہنچے۔ معلوم ہوا یہ دس بجے کے بعد ہی کھلتا ہے۔ گیٹ کے باہر ایک اور کینٹین ہے، سڑک کے کنارے چل کر وہاں جا سکتے ہیں۔ ہمارا قافلہ ادھر مڑ گیا۔
میں سب سے ذرا پیچھے چل رہی تھی، حامد کی بیوی صبیحہ نے جو خود بھی انگریزی کی لیکچرار تھیں مڑ کر بولیں، ’’آپ آگے آئیے۔ پھر چھوٹ گئیں تو آج کا دن بھی آپ کو ڈھونڈنے کی نذر ہو جائے گا۔‘‘ ان کے لہجے کے طنز کی کاٹ میں نے محسوس کی مگر چپ رہی۔ مجھے لگا کوئی تیزی سے میرے پیچھے سے نکل کر آگے چلا گیا۔ اور ’’اوئی‘‘ کی آواز کے ساتھ صبیحہ نیچے جھکیں۔ سب رک کر انھیں دیکھنے لگے۔ کسی کیڑے نے کاٹ لیا تھا شاید، ان کی ایک انگلی سے خون نکل رہا تھا۔ ادھر ادھر کچھ نظر نہ آیا۔
صبیحہ اب بڑبڑا رہی تھیں، ’’یہاں سے جلدی چلو۔ میں اس جنگل میں نہیں رہ سکتی۔‘‘ ہم آگے بڑھنے لگے۔
’’سب لوگ دھیان سے نیچے دیکھ کر چلو۔ اتنی سوکھی پتیوں کے نیچے کچھ ہو سکتا ہے۔‘‘ کسی نے کہا۔ میری توجہ بھی پوری طرح نیچے راستے پر رہی تب اچانک ایک خوف کی لہر پھر میرے وجود میں سرایت کر گئی۔ میں نے دیکھا میرے بغل میں پتیاں ایسے چرمرا رہی ہیں جیسے کوئی ان پر چل رہا ہو بالکل میرے ساتھ ساتھ۔ میں رک گئی تو پاس کی پتیوں کی چرمرا ہٹ بھی رک گئی۔ میں پھر چلی تو وہی بات بالکل واضح طور پر محسوس کی۔ میں لپکتی ہوئی آگے گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگی۔ انھوں نے حیران ہو کر مجھے دیکھا۔ اتنے لوگوں کے درمیان میں ایسی بے تکلفی دکھانے کی عادی نہیں تھی۔
حامد نے مسکرا کر انھیں دیکھا اور کہا، ’’علی! بھابھی کو آپ پر بھروسہ نہیں رہا۔ کہیں آپ پھر نہ چھوڑ کر نکل جائیں۔‘‘
مگر علی نے مجھے بغور دیکھ کر کہا، ’’طبیعت تو ٹھیک ہے؟ ہاتھ اتنے ٹھنڈے کیوں ہیں۔۔۔؟‘‘
میں کیا بتاتی کہ آج تک کسی مافوق الفطرت چیز یا عناصر پر یقین نہیں رکھتی تھی نہ کبھی ڈرتی تھی۔ مجھے سب سے زیادہ خوف انسانوں سے ہی آتا تھا، پہلی بار ان عجیب و غریب احساسات کا شکار تھی۔ حیرت اس بات کی تھی کہ باقی سب نارمل تھے۔ انھیں کچھ محسوس ہوا ہوتا تو لڑکیاں ضرور ڈر جاتیں۔ باہر کی کینٹین سے ناشتہ کر کے ہم لوگ لائبریری چلے گئے۔ اس جنگل میں اتنی عالیشان لائبریری پا کر میں تو سرشار ہو گئی اور سارے بے تکے خیالات میرے ذہن سے نکل گئے۔ وہاں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ ہم لوگوں نے تین بجے تک وہاں وقت گزارا پھر بچوں کو بھوک کا احساس ہوا تو ہم اسی کینٹین میں جا بیٹھے جہاں ناشتہ کیا تھا۔ اب یہاں سے کسی ہوٹل کی تلاش کا وقت تھا مگر اب زیادہ تر لوگ یہاں رکنے کے خواہش مند نظر آ رہے تھے، صرف حامد، صبیحہ اور دو لڑکیوں کو چھوڑ کر۔ اس لیے کھانے کے درمیان بحث ہوتی رہی۔ میرا سر درد ٹھیک ہو چکا تھا اور میں بھی چہک رہی تھی، سب کی رائے پوچھی جا رہی تھی۔ میری مضبوط دلیل یہ تھی کہ یہاں رہنے سے ہم لائبریری کا پورا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جس دن یا جس وقت گھومنے نہیں جائیں گے اس وقت لائبریری میں گزاریں گے۔ لڑکوں کا کہنا تھا کہ کے ساحل کا اصل مزہ آبادی سے دور اسی ساحل پر آئے گا۔ باقی لڑکیاں یہاں کے سستے کھانے اور رہنے کی وجہ سے خوش تھیں، ہوٹل کی رہائش مہنگی پڑتی تو انھیں کچھ کنٹری بیوشن دینا ہوتا، یہاں رہتے ہوئے وہ اچھی شاپنگ کے لیے پیسے بچا سکتی تھیں۔ کینٹین کے لوگ بھی رکنے کے حق میں تھے اور بہترین ٹورسٹ بس کروانے کا وعدہ بھی کر رہے تھے، ہم لوگ گومگو کی کیفیت میں واپس نکلے۔ گیٹ پر وہی بدحال عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ہمارے گروپ کو آتا دیکھ کر کھڑی ہوئی اور ایک ایک کو تصویر دکھانے لگی تو گارڈ نے اسے کھدیڑ دیا اور اس کے ہاتھ سے تصویر چھین لی۔ مجھے برا لگا۔ اب لڑکے لڑکیاں رک کر گارڈ سے اس لڑکی کی کہانی سن رہے تھے اور وہ بتا رہا تھا کہ بڑی ہنس مکھ اور زندہ دل لڑکی تھی۔ یہاں آنے والے طالب علموں کو آس پاس کے علاقوں میں گھمایا کرتی تھی۔ یہ اس کی ماں ہے اور یہ ہمیشہ اسے اجنبیوں کے ساتھ گھومنے سے روکتی تھی۔ ایک دن پراسرار طریقے سے غائب ہو گئی۔ میں نے بڑھ کر تصویر اس کے ہاتھ سے لے لی اور پلٹ کو اس عورت کی طرف دیکھا جو ذرا دوری پر کھڑی سونی نظروں سے ادھر ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے وہ تصویر اسے جا کر تھما دی اور جانے کیوں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ’’تمہاری بیٹی ضرور مل جائے گی۔‘‘ اور اسی وقت تصویر کی آنکھیں میری آنکھوں میں اترتی چلی گئیں۔ میں ہلکا ہلکا سر درد لیے وہاں سے لوٹ آئی۔
گیسٹ ہاؤس کے سارے کمرے دائرے کی شکل میں بنے ہوئے تھے جیسے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے میوزیکل چئیر کھیلنے کھڑے ہوں۔ اس کے درمیان کے کھلے حصے میں دائرے کی شکل میں ہی ایک ہوا گھر بنا ہوا تھا جس کی چھت سرخ ٹائل سے مزین تھی اور اس کے اندر پتھر کی بنچ بنی ہوئی تھی۔ ان ساتھ ساتھ والے کمروں سے ہٹ کر ایک الگ اور ذرا زیادہ کشادہ اور بہتر سجا ہوا کمرہ بھی تھا جو لگتا تھا کہ یہاں کے منتظم کا تھا مگر ابھی خالی تھا۔ اس کمرے میں وہ دونوں لڑکیاں اپنا قبضہ کر چکی تھیں جو ہوٹل جانا چاہتی تھیں۔ چونکہ اس رکنے والے موضوع پر اپنے دوستوں سے لڑ چکی تھیں اس لیے وہ کمرے میں چلی گئیں۔ باقی سب ہوا گھر میں بیٹھ گئے۔ میری بچیاں بہت خوش تھیں۔ انھیں ایک الگ کمرہ ملا تھا اور کینٹین میں چپس، کولڈ ڈرنک اور چاکلیٹس تھیں، ہوا گھر سے ذرا ہٹ کر منتظم کے کمرے کے پاس ایک پارک نما حصہ بھی تھا جس میں جھولا اور بچوں کی دلچسپی کی چیزیں تھیں اور جہاں اتنا کچھ ہو ان کی جنت وہیں تھی۔ یاسمین اور نسرین بھاگتی ہوئی جھولے کی طرف چلی گئیں۔ جھولے سے ان کی ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں۔ شام ہو گئی تھی میں نے کئی بار واپس آنے کے لیے آواز دی مگر وہ نہ آئیں۔ مجھے اب تشویش ہو رہی تھی، میں اٹھ کر انھیں بلانے گئی۔
’’ممی!!! آتے ہیں ناں! بہت مزہ آ رہا ہے۔ بہت اچھا جھولا ہے۔ اس پر بیٹھتے ہی اونچی اونچی پیں گیں اپنے آپ پڑنے لگتی ہیں جیسے کوئی جھلا رہا ہو۔‘‘ میرے پورے جسم میں ایک سہری(کپکپاہٹ) دوڑ گئی۔ میں نے دوڑ کر جھولا روکا اور انھیں کھینچتی ہوئی وہاں سے لے آئی۔ بچیاں میرے اس انداز سے خائف ہو گئیں کیونکہ ان کے ساتھ میرا رویہ کبھی بھی جارحانہ نہیں رہا تھا۔ جب میں ہوا گھر کے پاس پہنچی تو حامد اور صبیحہ، علی کو بتا رہے تھے کہ وہ ہوٹل جا رہے ہیں۔ میں نے آگے بڑھ کر احتجاج کیا کہ اتنے بچوں کی ذمہ داری علی پر اکیلے چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ گھومنے میں تو ہم ساتھ ہی رہیں گے۔ صرف رات گزارنے کی ہی تو بات ہے اور یہاں رکنے کی خواہش سب کی اپنی ہے۔ وہ تو اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ سب چلیں۔ علی نے اشارے سے مجھے کچھ اور بولنے سے روک دیا اور وہ چلے گئے۔ تب ہی اچانک شمیم اور ناہید کمرے سے چیختی ہوئیں باہر آئیں۔ شمیم بری طرح رو رہی تھی ہم سب ہی دوڑ کر وہاں پہنچے۔
’’کیا ہوا؟؟‘‘ انہوں نے ڈانٹ کر پوچھا۔ اس نے روتے ہوئے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ ہم نے جا کر دیکھا تو جو دوپٹہ وہ آج دن بھر اوڑھ کر گھوم رہی تھی اس کا پھندہ بنا کر کسی نے پنکھے سے لٹکا دیا تھا۔ ’’کس کی شرارت ہے؟‘‘ یہ گرجے۔ لڑکوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا کہ وہ تو ہوا گھر سے ہلے بھی نہیں۔ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا تو اب سب کے سامنے اس وجود کی حرکتیں آنے لگیں۔ میری بچیاں آ کر سہمی ہوئی میرے پیچھے کھڑی تھیں، چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ کسی کا خیال تھا کہ ان دونوں نے ہوٹل شفٹ ہونے کے لیے خود یہ ڈرامہ کیا ہے۔ کوئی سمجھ رہا تھا کہ ان لڑکیوں کو ڈرانے کے لیے ان میں سے کسی کی حرکت ہے جن سے ان کی لڑائی ہوئی تھی۔ جبکہ وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ مستقل کمرے میں تھیں، ذرا دیر کو لیٹی تھیں کہ آنکھ جھپک گئی اور آنکھ کھلی تو یہ دیکھا۔
علی کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔ پہلے سٹوڈنٹس کی لڑائی پھر حامد کا چلے جانا اور اب یہ قصہ۔ لڑکیاں اس کمرے میں جانے کو اب تیار نہ تھیں، ہمیں ان سے اپنا کمرہ بدلنا پڑا، ہم دونوں عجیب گو مگو کی کیفیت میں تھے جو ہو رہا تھا اس پر یقین بھی نہیں تھا اور اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مجھے اپنی بچیوں کی فکر ہوئی، انہیں ان کے علیحدہ کمرے میں تنہا کیسے چھوڑوں مگر وہ ایک الگ کمرے میں سونے کے لئے اتنی پر جوش تھیں کہ انھیں ان کے کمرے میں ہی سلانا پڑا، کھڑکیاں بند کیں اور آیت الکرسی پڑھنے کا کہہ کر نکل آئی کہ تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔ ڈرنا مت یہ سب بیوقوفی کی باتیں ہیں۔ مگر وہ کہاں ڈر رہی تھیں، ڈر تو میں رہی تھی۔ دو، دو کے گروپ میں سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
میں اس کمرے میں آئی کسی نے دوپٹہ کھول کر شمیم کو دے دیا تھا۔ دعا پڑھ کر میں نے پھونک ماری اور نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگی۔ علی میرے ان احتیاطی تدابیر کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میرے نماز پڑھنے تک علی کپڑے تبدیل کر کے بستر پر دراز ہو چکے تھے۔ ان کی عادت تھی بستر پر جاتے ہی سو جانے کی تو خراٹوں کی ہلکی ہلکی آواز آنے لگی تھی۔ میں نے عادتاً اپنی ڈائری اور پین نکالا، دن بھر کی روداد لکھنا تھی اور بستر پر تکیے کا سہارا لے کر بیٹھ گئی مگر میری توجہ دریچے کی طرف مبذول ہو گئی۔ میں نے نماز سے پہلے اسے بند کیا تھا، کھلا کیسے؟ پھر ایک ان دیکھا خوف میرے اندر سرایت کر گیا۔ سمندر کی بھیگی بھیگی خوشگوار ہوا کا جھونکا اچھا لگا مگر خوف بھی موجود تھا، ہمت کر کے اٹھی اور کھڑکی کا پٹ تیزی سے بند کرنا چاہا مگر یہ تو بالکل جامد تھا، مجھ سے ہل بھی نہیں رہا تھا۔ میں نے دل کو تسلی دی کہ انھوں نے ہوا کے لیے کھولا ہو گا اور کیچ لگا دیا ہو گا مگر کوئی کیچ نہ تھا۔ میں نے ایک بار پھر زور لگایا مگر بے سود۔ میں ڈر کر بستر کی طرف بھاگی، میرا حلق خشک ہو رہا تھا، اس میں کانٹے سے پڑ رہے تھے۔ میں نے دعائیں پڑھنا شروع کیں مگر پانی کی بوتل اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ وہ دور رکھی درمیانی میز پر تھی۔ مجھے اپنی بچیوں کی بھی فکر تھی مگر کمرے سے نکل کر جانے کی ہمت نہیں تھی۔ دل کہہ رہا تھا کہ انھیں اٹھا دوں مگر معلوم تھا کہ یہ مزید جھنجھلا جائیں گے اور میری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ میں دعائیں پڑھتی رہی کہ اس کے علاوہ کچھ کر نہ سکتی تھی۔ نیند نہیں آ رہی تھی، ایسا خوف کبھی محسوس نہیں کیا تھا، کبھی روح یا بھوت کو نہیں مانتی تھی مگر آج مان رہی تھی کہ کوئی اور طاقت یہاں موجود ہے۔ اچانک مجھے بہت شدید احساس ہوا کہ میری بچیاں تنہا کمرے میں غیر محفوظ ہیں۔ میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس وقت لگا حامد اور صبیحہ ہی عقلمند تھے۔ مجھے لگا اس وقت ہم پر بہت سارے بچوں کی ذمہ داری ہے اور میرے اندر ایک ماں کی ہمت جمع ہونے لگی۔ اپنے بچوں کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کی ہمت۔ میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا اب وہ ہوا سے ہل رہی تھی، میں نے اپنے خوف پر قابو پانے کا ارادہ کیا۔ میں خیال کے قوت کی قائل تھی، میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ میں یہ مانتی ہوں کہ ہمارا ہر فعل اور ہر حرکت محض خیال کا اظہار ہوتا ہے اور ہم میں سے وہی آدمی کامیاب ہوتا ہے جو منفی خیالات سے پیدا ہونے والے تباہ کن اثرات سے مغلوب نہیں ہوتا۔ میرا خوف نامعلوم سے ہے مگر مجھے اس وقت اس نامعلوم سے مغلوب نہیں ہونا تھا۔ میں کھڑکی کے قریب گئی، علی کی طرف دیکھا وہ گہری نیند میں تھے۔ پھر باہر دیکھا اور دل میں کہا، ’’تم کون ہو؟ تم جو بھی ہو اگر ہمارا آنا پسند نہیں تو کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔‘‘ میں نے دھیرے سے کھڑکی کو چھوا اس وقت وہ مجھ سے بند ہو گئی۔ اب میرا دماغ سناٹا محسوس کر رہا تھا نہ ڈر نہ فکر، مائے گرین کا اثر بڑھتا ہوا لگا۔ میں نے اپنی دوا کھائی، اس بار میز سے اٹھا کر بوتل بھی لے آئی۔ پھر میں نے ہمت کی اور پانی کی بوتل، موبائل اور ڈائری لے کر بچّوں کے کمرے میں چلی گئی۔ انھیں ان کے کمرے میں تنہا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ میں بستر پر آئی اور وہ ڈائری کھول کر بہت تیزی سے کچھ لکھنے لگی مگر کیا۔۔؟ مجھے نہیں معلوم تھا۔ یہ ایک اضطراری عمل تھا بس اتنا ہی سمجھ میں آ رہا تھا۔ لکھتے ہوئے سر کا درد تیز ہوتا ہوا محسوس ہوا پھر کچھ یاد نہیں رہا۔ دوسرے دن آنکھ کھلی۔ میرے شوہر اور بچے میرے پاس بیٹھے تھے مجھے آنکھ کھولتا دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ’’کیسی طبیعت ہے اب؟‘‘
’’مجھے کیا ہوا؟؟؟‘‘
’’ساری رات اتنا تیز بخار رہا۔‘‘ بڑی بیٹی یاسمین نے کہا۔ میرا رات والا خوف زائل ہو چکا تھا مگر باتیں کچھ کچھ یاد تھیں۔
’’تم چل سکو گی ناشتے کے لیے۔‘‘ علی پوچھ رہے تھے۔
’’نہیں۔۔ میرا یہیں لے آئیں۔ میں ابھی لیٹوں گی۔‘‘ مجھے کچھ دیر تنہائی کی ضرورت تھی۔
’’ہاں۔۔ تم آرام کرو، تیز بخار میں نہ جانے کیا کیا ہذیان بک رہی تھیں۔‘‘
ان لوگوں کے جاتے ہی میں نے ڈائری تلاش کی جو گدے کے نیچے مل گئی۔ اسے کھول کر دیکھا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس پر ہندی میں کچھ لکھا ہوا تھا جو کہ ہرگز میری تحریر نہ تھی اور یقیناً یہ پیغام میرے لیے تھا۔ میں نے پڑھا۔ ’’تم ماں ہو۔ مجھے اپنی مکتی (رہائی) کے لیے تمہاری مدد چاہیے۔ میری مکتی میں میری ماں کی مکتی ہے۔ تمھیں کچھ نہیں کرنا۔ تمھیں سامنے رکھ کر سب کچھ میں کروں گی۔ بس تمھیں کچھ دن میرا ساتھ دینا ہو گا۔ کھڑکی کے باہر دیکھو اور جو نشان نظر آئے اس کی رپورٹ پولیس کو دو۔ اس کی فکر مت کرنا کہ تمہاری بات کا سب یقین کیوں کریں گے۔ یہاں کے لوگ آتما کو بہت مانتے ہیں۔ تمھیں کیا بولنا ہے اس کی بھی فکر مت کرنا جو بولنا ہے میں بولوں گی، تمہارے ذریعے۔ آج تم کہیں مت جانا۔ میرا کام آج ہی ختم ہو جائے گا پھر تم آزاد ہو۔ میں نے اس مکتی کے لیے تمہارا پانچ سال انتظار کیا ہے اور اپنی طاقت بہت بڑھا لی ہے مگر میری مشکل صرف ایک ماں سمجھ سکتی تھی جو تم ہو اور تم سے پہلے کوئی ایسا نہیں آیا۔ اس لیے مجھے دھوکا مت دینا ورنہ میری طاقت تخریب میں بھی بدل سکتی ہے۔‘‘
میں نے ڈائری بند کر دی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے۔ اپنا تماشہ بناؤں یا ضد کر کے یہاں سے نکل لوں مگر کسی نے مجھ سے مدد چاہی ہے۔ شاید اسی زندہ آنکھوں والی تصویر نے اور میں نے مدد کرنے کا دل میں فیصلہ کر لیا۔ ناشتے کے بعد سب نے بہت ضد کی بیک واٹر چلنے کی مگر میں نے لائبریری میں رہنے کا اور آرام کا بہا نا بنایا۔ بچوں کو تسلی دی کہ کل سے ضرور گھوموں گی۔ ان کے جاتے ہی میں کھڑکی پر گئی۔ مجھے پیچھے کوئی نشان نظر نہ آیا۔ میں کھڑی رہی، اچانک ایک جگہ پتے ہوا میں اڑ کر ڈھیر ہونے لگے اور قبر کی شکل لے لی۔ پھر میں نے خود پر سے اختیار کھو دیا، میں گیٹ تک گئی۔ چوکیدار سے پولیس بلانے کو کہا۔ اب یاد کرتی ہوں تو لگتا ہے وہ سب خواب میں دیکھ رہی تھی۔ وہاں سے متعلق سارے آفیسر اور انتظامیہ سے ملی اور اس کانفیڈنس سے میں نے بات کی کہ سب حیران تھے کہ میں نے ایک دن میں اتنی تحقیقات کیسے کر لیں۔ میں نے بتایا کہ پانچ سال سے ایک ماں اپنی بچی کو ڈھونڈ رہی ہے جس کی قبر پیچھے ہے اور پانچ سال پہلے ممبئی سے جو چار لڑکے آئے تھے انھوں نے اس بچی کو گیسٹ ہاؤس کے کنارے والے کمرے میں تین دن تک بند رکھا، زیادتی کی اور جانے سے پہلے اس کا قتل کر کے پیچھے دفنا گئے اور سب آج تک بے خبر رہے۔ تو اب اس کی استھیاں نکلوا کر سمندر کے حوالے کر دی جائے تاکہ اس کی مکتی ہو اور اس کی ماں کو بھی سکون ملے کیونکہ وہ پاگل نہیں ہے بس بیٹی کے نہ ملنے کا غم ہے۔ زندہ یا مردہ، ملنے پر وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ آلہ قتل کا بھی پتہ بظاہر میں نے ہی بتایا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کو یہ سب کیسے معلوم تو میں نے یہ کہا کہ مجھے اس لڑکی کی آتما نے بتایا ہے اور میں یہ چاہتی ہوں کہ بغیر کسی ہنگامے کے جلد سے جلد یہ سا را کام ختم ہو جائے ورنہ وہ آتما سب کو پریشان کرے گی۔
پولیس نے پورا تعاون کیا۔ پیچھے انہیں ایک ڈھانچہ ملا۔ انھوں نے اس کی ماں کو بلا کر آخری رسومات ادا کیں اور اس کی ماں نے وہ تصویر اور اس کی ہڈیاں سمندر کی نذر کر دیں۔ پو لیس نے مجرموں کو گرفتار کرنے کوشش شروع کی اور یہ سارا کام اس تیزی سے ہوا کہ جب میرا گروپ گھوم کر لوٹ آیا تو یہاں سکون ہی سکون تھا۔ کسی کی زبان پر دن کی ہلچل کا تذکرہ نہ تھا۔ علی کے ساتھ بچے اور سارے طالب علم لوٹ کر آئے تو انھوں نے خوش ہو کر یہ بتایا کہ ایک بہترین ٹورسٹ بس کا انتظام ہوا ہے جس سے ہم لوگ کل علی الصبح کنیا کماری جائیں گے۔ سب کو میری طبیعت کی فکر تھی۔ میں نے کہا کہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ جلدی جلدی سب نے اپنا سامان رات میں ہی سمیٹا اور میں نے دل ہی دل میں اس پیاری سی لڑکی کو الوداع کہا۔
صبح بس میں بیٹھتے وقت میں نے ایک آخری بار یہاں کے ساحل سمندر پر جانے کی خواہش کی تو بس ادھر لے جائی گئی۔ ہم سب ساحل پر ذرا دیر کو اترے۔ طلوعِ آفتاب کا حسن سمندر کے حسن کو اور بھی دوبالا کر رہا تھا۔ دل اور روح کی ساری بالیدگی صاف ہو چکی تھی۔ خدا کے کنایات کے اسرار وہی جانے، کس کی کس میں مکتی(رہائی) اور موکش (حل ہونا) ہے۔ سمندر کے ساحل سے لے کر میرے دل کے اندر تک سکون ہی سکون تھا۔ لا علمی کا لرزہ خیز ناقابلِ تصور پھیلاؤ آج بھی موجود تھا۔ فرد کے وجود کا نا معلوم، تاریک، بے پایاں، لامکاں، بے زماں وسعتوں میں تحلیل ہو کر فنا ہو جانا اس کائنات کا سب سے المناک سانحہ ہے۔ انسانی طاقتوں کی کم مائے گی اور سراسیمگی کا ادراک بارہا ہوا تھا مگر اس وقت اچانک کچھ ملاح اپنی مختصر سی لکڑی کی ناؤ پر مچھلی والی جا لی رکھ کر اس بے پایاں سمندر میں اترے اور اس خوفناک سمندر کا سینہ چاک کرتے ہوئے ہماری نظروں کی حدود سے دور ہوتے ہوئے ایک نقطے میں تبدیل ہو کر غائب ہو گئے اور زبان سے بے ساختہ نکلا، ’’سبحان اللہ۔‘‘
خدا نے انسان کو حقیر اور کمتر بنا کر بھی ایک ایسی نعمت سے سرفراز کیا ہے کہ وہ کسی بھی طاقت کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر ہی لیتا ہے۔ پلٹتے وقت میں نے سمندر کی موجوں کو دیکھا تو یہ خیال کوندا کہ وہ موج پھر بکھر گئی۔ وہ نقش زیرِ آب ہے۔ کبھی کبھی میں اپنی ڈائری کا ورق پلٹ کر اس سادے ورق کو غیر یقینی سے دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کیا وہ سب میرا تخیل تھا یا حقیقت، یا پھر کوئی خواب جو میں نے تیز بخار کی شدت میں دیکھا۔
٭٭٭
کال بیلیا
دنیا نہ جانے کتنے پیروں پر گھومتی ہے کسے معلوم؟ لیکن شاید اسی لیے یہ کہیں بہت تیز تو کہیں بہت سست رفتار سے گھومتی محسوس ہوتی ہے مگر کال بیلیا قبیلے کی نرملا جوگن اپنے ان ہی دو پیروں سے سارے عالم کی خاک چھان چکی ہے۔ وہ پچھلے پانچ سال سے ایک ہی رفتار سے گھوم رہی ہے صرف اس لمحے کے انتظار میں جب اسے اپنے قبیلے میں ایک بار پھر واپس لوٹنا ہے۔ اسے اپنے دل میں اس ایک خواہش کے علاوہ اور کسی خواہش کا پتہ نہیں ملتا۔ لوگ کہتے ہیں ابھی اس کی عمر بہت کم ہے اور اسی کم عمری میں اس نے بہت شہرت حاصل کر لی ہے – پچیس سال کی عمر میں اس کے پاسپورٹ پر کتنے ہی ملکوں کا ویزہ لگ چکا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے وطن کے چپے چپے کی سیر بھی کر چکی ہے۔
لوگ عمر کا حساب نہ جانے کیوں دنوں، ہفتوں، مہینوں اور برسوں میں رکھتے ہیں۔ عمر کا حساب تو تجربوں، حادثوں اور سفروں میں رکھنا چاہیے۔ اس کی زندگی کا سفر تو جیسے دو صدیوں پر محیط ہے۔ جی ہاں!!! دو صدیاں۔۔۔ کیونکہ وہ بہ یک وقت دو صدیوں میں ایک ساتھ جیتی آئی ہے۔ دو صدیوں میں ایک ساتھ جینے کی تکلیف کیسی ہوتی ہے یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ صرف ایک اڑان سے وہ اکیسویں صدی سے ایسی جگہ پہنچ جایا کرتی تھی جہاں دنیا کا وہ حصہ جیسے اپنی رفتار بھول چکا ہو۔ گویا آج بھی وہ حصہ اور وہاں کے لوگ پندرھویں صدی عیسوی میں جی رہے ہوں اور المیہ یہ ہے کہ وہی اس کا مقدر تھا، اس کی مجبوری تھی۔ اکیسویں صدی کی جھلک دیکھ دیکھ کر پچھلی صدیوں جیسے حالات میں جینا اس کی قسمت تھی اور اپنے اسی مقدر سے جب اس نے محبت کرنا سیکھ لیا تو تقدیر نے یہ کیسا موڑ لے لیا کہ پانچ سال سے وہ اس جگہ سے دور ہے اور ایک لمحہ بھی اسے چین نصیب نہیں -۔ اپنے کال بیلیا قبیلے کی وہ عالمی شہرت یافتہ مگر ایسی بدقسمت رقاصہ ہے جو اپنے قبیلے سے دور رہنے پر مجبور ہے۔ اتنے دنوں تک اپنے ملک کے علاوہ وہ کوپن ہیگن، ڈنمارک جیسی جگہوں پر گھوم گھوم کر رقص کی تعلیم دیتی رہی مگر اپنے قبیلے کی طرف نہیں جا سکی۔ پشکر، پالی، اجمیر، چتوڑ گڑھ کی مٹی میں اس کے لیے جو کشش تھی وہ اسے کھینچتی ہے۔ اس کے ساتھ اب ایک چار سال کا بیٹا بھی ہے جو اپنے مستقبل سے بے خبر گداز بستر پر آرام سے سو رہا ہے۔ وہ گردن موڑ کر ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
وہاں سے پہاڑی کی ڈھلان پر چیڑ کے درختوں کے جھرمٹ میں نیچے دور تک گھاٹی نظر آ رہی تھی۔ اس گھاٹی کے ساتھ کہیں نمایاں اور کہیں غائب ہو جانے والی پگڈنڈیاں سانپ کی مانند بل کھاتی نظر آ رہی تھیں۔ اس نے دور افق پر نظر دوڑائی سورج چھپ چکا تھا، آسمان کہیں زرد کہیں پیلا اور افق کے ساتھ سرخی مائل تھا۔ دور پہاڑی کے عقب سے جھانکتے ہوئے کیمپ کے آدھے حصے پر اندھیرا اتر آیا تھا اور وہاں کام بند ہو چکا تھا۔ جنوب کی سمت اڑنے والے جنگلی پرندوں کی قطاروں کے نیچے انسانوں کا ریلا اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں تھا جن کے ہاتھوں اور کندھوں پر پھاؤڑا، بیلچہ اور دوسرے اوزاروں کا بوجھ تھا اور وہ اپنے تھکے ہوئے بیزار قدموں سے اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے۔
’’گھر‘‘ یہ لفظ اس کے کال بیلیا قبیلے کے لیے گویا ایک گالی تھی، ایک بد دعا۔۔۔ اور اس بد دعا کو سینے سے لگائے وہ پشت در پشت جیتے چلے آ رہے تھے۔ اس نے اپنے بابا سے سنا تھا کہ بھگوان وشنو کے ماننے والے گرو جالندھر ناتھ نے اپنے دو شاگردوں گورکھ ناتھ اور کنی پاؤ کو کوئی وردان دینے سے پہلے دو پیالے دے کر کہا تھا کہ تم نے آج تک جو ہنر اور فن مجھ سے سیکھا ہے اسے ثابت کرنے کے لیے ان پیالوں کو کسی چیز سے بھر دو پھر وردان پاؤ گے۔ گورکھ ناتھ نے اپنے اس پیا لے کو پھل کے میٹھے اور مزیدار پکوان سے بھر دیا مگر کنی پاؤ نے اپنے پیا لے کو زہر سے بھر دیا۔ تب ناراض ہو کر گرو نے کنی پاؤ کو شراپ(بد دعا) دیا کہ وہ پشت در پشت در در بھٹک کر سانپ کا زہر جمع کرے گا اور یہی اس کا ذریعہ معاش ہو گا۔ اسی لیے ان کے قبیلے کے لوگ آج بھی ریگستان کے ویرانوں، ٹیلوں اور جھاڑیوں میں سانپ ڈھونڈتے ہیں، پتھر توڑ کر اور بھیک مانگ کر مزدوری کر کے جیتے ہیں۔ ان کے ڈیرے بستی کے حاشیے پر لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کی خوشیوں میں رقص اور موسیقی کی محفل سجا کر سانپوں کے کرتب دکھا کر وہ ہر وقت خوش رہتے ہیں۔ مگر نرملا جوگن ان سے مختلف تھی۔ وہ سوال بہت کرتی تھی یہ جانے بغیر کہ شراپ میں جینے والوں کو سوال کا حق نہیں ملتا۔ اس لیے پانچ سال سے وہ اپنے چند سوالوں کا جواب تلاش کرتی ہوئی بھٹکتی رہی ہے مگر جواب میں وہ اس حقیقت تک پہنچی ہے کہ حاشیے پر رہنے والوں سے سوال کرنے کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔ اس زمانے نے اسے ایک نیا شراپ دے دیا ہے کہ وہ سوال کر نہیں سکتی۔ اتنے برسوں میں اس کے اندر صرف اور صرف ایک خواہش پروان چڑھی ہے کہ وہ اپنے قبیلے میں جا کر بابا، ماں اور بھائی کی تین قبروں سے لپٹ جائے۔ وہ قبریں جو اس کے دل میں کھدی تھیں اور وہ خود ایک ایسی دنیا میں تھی جو نہ زندہ تھی نہ مردہ اور اسی لیے وہ دنیا اسے وحشت ناک معلوم ہوتی تھی کہ وہ مدتوں سے زندگی اور موت سے قطعاً بے گانہ اور لاتعلق ہو چکی تھی۔ اس کو اپنی اس بے جان دنیا میں زندگی کے انتہائی حقیر اور کمزور ہونے کا احساس اندر ہی اندر کاٹتا رہتا تھا، اسی لیے رقص پر تھرکتے ہوئے پیروں نے روح سے ناطہ توڑ لیا تھا۔
تھکن، کمزوری، اندیشوں اور آلام کے بوجھ میں دبے رہنے کے باوجود ایک بے حس سی قوت انتہائی شدت سے کسی الاؤ کی مانند دہکتی اس کے دل میں باقی تھی جو اسے جینے پر مجبور کیے ہوئے تھی۔ اس کا اپنے بیٹے سے بھی بس ایسا ہی کچھ ناطہ تھا جتنا کہ اپنے رقص سے باقی رہ گیا تھا۔ نرملا جوگن نے اپنے باپ جو گی ناتھ اور بھائی ویروم جو گی سے سانپ کا زہر نکالنے کا ہنر نہیں سیکھا تھا، وہ تو ماں کے کندھوں پر بیٹھ کر گھومر ڈالتے ڈالتے اور لور کی تال پر تھرکتے تھرکتے جانے کب زمین پر اتر کر اس سے قدم سے قدم ملا کر ناچنے لگی اور پندرہ سال کی عمر سے ہی شہرت کی سیڑھیاں طے کرتی گئی۔
وہ اپنے قبیلے کی سب سے خوبصورت عورت تھی۔ ریگستان کی دھوپ اور ہوا کے اثر سے اس کے ہاتھوں اور چہرے کی جلد بھی دوسرے قبائلی باشندوں کی مانند سرخ تھی اور اس کے نقوش بہت پرکشش تھے۔ اپنی ہرنی جیسی خواب ناک آنکھوں میں وہ بڑے بڑے رنگین خواب لیے پھرتی جو سرخ ڈوروں کی شکل میں اس کی آنکھوں میں ہمہ وقت تحریر رہتے۔ سیاہ ریشمی لہنگا، چنی کے رنگین نقش و نگار اس خوبصورت سپیرن کے حسن میں ایسا نکھار پیدا کرتے کہ بڑے سے بڑا متکبر اس کے سامنے سرنگوں ہونے کو بے چین ہو جاتا۔ مگر حاشیے پر پھینکے ہوئے یہ لوگ اچھوت تھے۔ سب کی خوشیوں میں شریک ہو کر ناچ گا کر بستی سے باہر اپنے ڈیرے میں لوٹ جاتے۔ نرملا کی باہر کی دنیا میں مانگ بڑھ رہی تھی اور اسے اچھوت ماننے والوں کی نظروں میں حرص۔ اس وقت تک اس سپیرن کو اندازہ ہی نہ تھا کہ سانپ صرف ریگستانی علاقے کی جھاڑیوں اور ٹیلوں میں بل بنا کر ہی نہیں رہتے بلکہ ان سے بھی خطرناک زہریلے سانپ انسانی شکلوں میں بڑی بڑی حویلیوں میں رہتے ہیں۔ بچپن سے وہ سانپوں کو بلوں میں دیکھتی آئی تھی۔ جب اس کا بابا خطرناک پھنیر ناگ کو بے بس کر کے اپنی ٹوکری میں ڈالتا تو اس کا دل خوشی سے جھوم جاتا اور وہ ماں کے کندھوں سے مچل کر اترتی اور بابا کی گود میں بیٹھ جاتی۔ وہ اپنی رنگین پگڑی کو مضبوطی سے سر پر جماتا اور اپنی گھنی مونچھوں کے درمیان ہولے سے مسکرا دیتا۔ نرملا کے لیے گھر کا مطلب ماں بابا اور بھائی کا ساتھ تھا۔ اپنی خانہ بدوشی میں زمین کے جس حصے پر یہ چاروں اپنا ڈیرہ جماتے وہی اس کا گھر ہوتا۔ پندرہ سال کی عمر سے وہ باہر کا سفر کرنے لگی۔ کم عمری میں اتنے مواقع ملنے سے اس کی سمجھ اور عقل کھلنے لگی۔ اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولنا آ گئی۔ قبیلے کی کچھ اور عورتیں بھی باہر جاتی تھیں مگر اتنی جلدی جلدی نہیں، اس لیے قبیلے میں اس کے خاندان کی حالت معاشی طور پر سب سے بہتر ہو گئی۔ نرملا جوگن اپنے بابا سے اپنے قبیلے کی حالت اور طور طریقوں پر سوال جواب کرنے لگی۔ اسے دوسری دنیاؤں کے سامنے اپنے قبیلے کی کسمپرسی تکلیف دینے لگی۔ وہ اپنے باپ سے کہتی، ’’بابا اب دھوپ میں بھٹک کر سانپ کو ڈھونڈنا چھوڑ دو۔ ناگ کو ٹوکری میں بند کر کے اس کا تماشہ دکھانا چھوڑ دو۔‘‘
اس کا باپ ہنستا ہوا پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا، ’’جانتی ہے ہمیں کال بیلیا کیوں کہا جاتا ہے۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلا دیتی تو بتاتا، ’’کیونکہ ہم موت کے ساتھی ہیں۔ کال کا مطلب ’’موت‘‘ اور بیلیا ’’ساتھی‘‘ کو کہتے ہیں۔ ہم موت کے ساتھی ہیں جبھی تو ہم زہریلے سانپوں کے بلوں میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں، انھیں بیلی بنا سکتے ہیں اور سانپ کسی کو کاٹ لے تو اس کا زہر بھی اتار سکتے ہیں۔ تو نے دیکھا تھا نا! اس دن زمیندار کے بیٹے راجیش کو سانپ نے کاٹا تو تیرے بابا کے پاس کیسے دوڑے آئے سب۔ یہ ہنر ہے، یہ ہمارے پرکھوں کا اثاثہ ہے۔‘‘
اور نرملا سمجھ گئی، اپنی قسمت سے راضی بہ رضا ہو کر اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مست رہنے لگی۔ مگر جس انسان کو اس کے بابا نے سانپ کے زہر سے بچایا تھا اسی نے بار بار اس کا راستہ روکنا شروع کیا۔ بہانے بہانے سے وہ یہاں وہاں اسے گھیرتا اور وہ غصے سے بل کھا کر رہ جاتی، چاہ کر بھی بابا کو یہ بات نہ بتا پاتی کہ انھوں نے جسے بچایا ہے وہ بھی ایک زہریلا سانپ ہے جسے بچانے کے بجائے مرنے دیا ہوتا۔
وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر کھڑکی سے ہٹ آئی اور اپنے نرم بستر پر لیٹ کر سوچنے لگی۔ اس کی زندگی میں یہ آسائشیں جن چیزوں کو کھو کر آئی ہیں وہ ایسی تو نہ تھیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھا جائے مگر اپنا قبیلہ اپنے لوگ کتنے بھی قدامت پرست ہوں، وہ علاقہ کتنا بھی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو، اپنی تہذیب کی جڑوں سے جڑ کر جینا اور مرنا انسان کی سب سے پہلی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی نظروں میں اس کی زندگی فلم کی طرح چلا کرتی، اس کا بچپن، جوانی اس کی محبت۔ آنسو ڈھلک کر تکیے میں جذب ہو گئے۔ ذہن ماضی میں الجھتا چلا گیا۔ رقص و موسیقی کی وہ محفل جو گاؤں کے ہر گھر کی ہر خوشی کے موقعے پر جمتی تھی اور وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر گھومر ڈالتی اور لور کی دھن پر دیوانہ وار ناچتی، اس کا منگیتر کچی گھوڑی کا رقص کرتا اور پورا قبیلہ مل کر موسیقی کی دھن میں اپنی ساری محرومیاں بھول جاتا۔ نیند اور یادوں کے خمار میں اسے لگا بین اور پنگی کی رسیلی دھن پر تیرتی ہوئی وہ جیسے اس علاقے میں پہنچ گئی ہو۔ جہاں اس کا بھائی ہاتھ میں بڑا بھاری کونٹ (درانتی) لیے کنٹیلی جھاڑیاں کاٹتا چل رہا ہو۔ اسے کانٹے دار جھاڑیوں سے ایسی ہی دشمنی تھی، وہ کونٹ اس کے ہاتھ سے کبھی علیحدہ نہ ہوتا۔ اس کا دوپٹہ جس جھاڑی سے الجھتا وہ بھائی کو آواز دیتی۔ اس سے صرف ایک سال ہی تو بڑا تھا۔ جبکہ اس کا منگیتر کرما جوگی ان دونوں سے بڑا تھا مگر سہل پسند اور ڈرپوک تھا۔ وہ ہمیشہ اس کا مذاق اڑاتی۔ اور ایک دن راجیش کنٹیلی جھاڑیوں کی طرح اس کی راہ میں حائل ہوا تووہ بھائی کو آواز دینے لگی۔ پھر کیا تھا وہ کونٹ سمیت راجیش کے سر پر حاوی ہو گیا اور اس دن بھی بابا بیچ میں نہ آ یا ہوتا تو راجیش کی جان چلی جاتی۔ بابا نے راجیش کو بچا دیا مگر ٹھاکر کو سپیرے اور نیچ ذاتی کے کال بیلیا قبیلے کے لڑکے کی یہ جرأت برداشت نہ ہوئی۔ جس قبیلے کو ان کے گاؤں میں مردے تک جلانے کی اجازت نہیں کہ یہ اچھوت اپنے مردے جلا کر ہوا، پانی سب دوشت (ناپاک) نہ کر دیں۔ انھیں حکم تھا کہ یہ اپنے مردے اپنی جھگیوں کے درمیان اپنے آنگن کے سامنے دفنایا کریں اور ہندو دھرم ماننے والا یہ قبیلہ ہمیشہ اپنے مردے دفناتا ہی آیا تھا اپنے آنگن میں اپنے دروازے کے سامنے۔ ایسے میں ویروم کی یہ گستاخی ناقابلِ معافی ٹھہرائی گئی۔
نرملا گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ نیند میں بھی پانچ سال پرانی باتیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ویروم کا غصے سے سرخ چہرہ اب بھی اس کی نظروں میں ویسے ہی گھومتا، ہر رات وہ اس عذاب سے گزرتی تھی۔ دن مصروفیت میں نکل جاتا مگر رات اسے روندتی ہوئی گزرتی جو پانچ سالوں پر محیط تھی۔ اسے لگتا ایک بار وہ اپنے قبیلے چلی جائے، اپنے ماں، بابا اور بھائی کی قبر پر تو شاید اسے قرار آ جائے۔ وہ راجیش کو اپنے ہاتھوں سے اس کے کیے کی سزا دے اور اپنے منگیتر کی بزدلی پر ایک بار اس کے منہ پر تھوک آئے۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔ اس نے بیٹے کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے مستقبل اور ماں کی دلی کیفیت سے بے خبر سو رہا تھا۔ اسی کی وجہ سے کرما جوگی بہانے بناتا ہے، اسے گاؤں آنے سے روکتا ہے۔ اسے یاد آیا کیسے ٹھاکر نے موقع دیکھ کر ویروم کو اٹھوا لیا اور دو بار راجیش کی جان بچانے والا بابا، ماں کو ساتھ لے کر ٹھاکر سے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگنے پہنچا تو ٹھاکر نے اس کی جھولی میں بھی موت ڈال دی۔ یہ خبر سن کر پاگلوں کی طرح روتی فریاد کرتی نرملا وہاں پہنچی تو ٹھاکر نے کال بیلیا قبیلے کی تاریخ میں اس رات کو قیامت کی رات بنا دیا۔ اس کے باپ اور بھائی کی لاش کو ڈیرے کے سامنے پھینک گئے۔ ماں غم سے نڈھال ہو گئی اور نرملا کو انھوں نے اتنا ڈسا کہ اس کا جسم اس زہر سے نیلا پڑ گیا اور وہ اسے بھی کال بیلیوں کے ڈیرے پر مردوں کی سی حالت میں پھینک گئے۔ جب تک نرملا کے جسم میں سانس لوٹی ماں نے زندگی سے منہ موڑ لیا تھا۔ اپنے ڈیرے میں وہ تنہا تھی اور سامنے تین قبریں۔ اسے دنیا کی ہر چیز قبر کی طرح ساکت لگ رہی تھی۔ پھر اسے کرما نے سمجھا کر وہاں سے رخصت کر دیا کہ حالات ٹھیک ہوتے ہی وہ اسے بلا لے گا مگر حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ کرما خود آ کر اس سے مل جاتا اور ہر بار اس سے موٹی رقم وصول کرتا، جلد شادی کا وعدہ کرتا اور اسے سمجھاتا کہ وہ گاؤں آنے کی غلطی نہ کرے۔ ٹھاکر کو پتہ نہ چلے کہ تو نے اس کے بچے کو جنم دیا ہے ورنہ وہ پورے قبیلے کو ختم کر دے گا اور وہ اس کی بات مانتی رہی، ناچتی رہی اور اس کے دل میں الاؤ سلگتے رہے۔ بالکل اس کے گاؤں کے اس ریت کے ٹیلے کی طرح جس میں کوئلہ بنانے کے لیے لکڑیوں کے ڈھیر سجا کر چاروں طرف سے اسے ریت سے ڈھک دیا جاتا ہے اور اس میں اندر ہی اندر آگ سلگائی جاتی تھی جس سے ہلکا ہلکا دھواں نکلتا رہتا تھا۔ تین دن بعد آگ بجھ جاتی تو یہ ٹیلہ کرید کر اندر سے کوئلہ چن لیا جاتا۔ وہ بھی اسی ٹیلے کی طرح اندر ہی اندر پانچ سال سلگتی رہی ہے اور اب اسے یقین ہے کہ اسے کوئلہ بنانے میں اس کے منگیتر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، وہ ٹھاکر کے ہاتھ کا کھلونا بن چکا ہے۔ اس لیے اس نے اب اپنے دل میں کچھ تہیہ کر لیا ہے۔ وہ کال بیلیا ہے، موت کی ساتھی تو اسے کس بات کا ڈر۔
صبح اُٹھ کر نرملا جوگن نے اپنے پروگرام آرگنائزر سے چند دنوں کی چھٹی لی اور گاؤں کے لیے نکل گئی۔ اسے معلوم تھا کہ کرما اسے وہاں دیکھ کر پریشان ہو گا۔ نرملا جوگن گاؤں پہنچی تو اسے ایک اجنبیت کا احساس ہوا۔ اس عرصے میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ کچھ بچّے ادھر ادھر کھیل رہے تھے جنھیں وہ پہچان نہیں پا رہی تھی۔ اس وقت قبیلے کے سارے بڑے شاید تلاش معاش میں نکل چکے تھے۔ وہ نظر اٹھا کر جدھر بھی دیکھتی اسے آسمان اور زمین کی بے پناہ وسعتوں میں سن سن کرتا سناٹا نظر آتا، اسے اپنے اندر اور باہر خلا کا سامنا درپیش تھا۔ آسمان کی لا متناہی وسعتوں کے نیچے، ریت کی بے پناہ مقدار پر، سورج کی گرم کرنیں منعکس ہو کر انسانی سانسوں کو محدود تر کر رہی تھیں۔ کسی چیز کو جنبش یا دم مارنے کا یارا نہ تھا اور ان لا تعداد اور غیر معمولی طور پر مہین کرنوں کے آپس میں خلط ملط ہوتے رہنے کے دوامی عمل کے علاوہ اور کوئی حرکت محسوس نہ ہوتی تھی۔ جہاں تک اس کی نگاہ جاتی دنیا محض ہوا، سورج اور ریت بس ان تین چیزوں پر مشتمل دکھائی دیتی۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اپنے ڈیرے کے سامنے پہنچی جہاں تین قبریں موجود تھیں جن پر کچھ پتھر رکھ کر نمایاں کر دیا گیا تھا۔ وہ بیٹے کی انگلی تھامے قبر کے پاس پہنچی۔ یہ وہ قبریں تھیں جنھیں گاؤں میں دو گز زمین کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ حاکم انھیں موت تو دیتے ہیں مگر دفن کرنے کے لیے یا جلانے کے لیے دو گز زمین نہیں دیتے۔ ان بے بس لمحوں کے درمیان کسی وقت اس کے دل میں نفرت اور بغاوت کی مٹی سے ایک آرزو پنپی اور اس نے اپنے ہاتھ سے ان قبروں کو چھو کر ایک وعدہ کیا۔ ’’بابا میں بھی کال کی بیلی ہوں۔ جسے تو نے زندہ چھوڑ دیا تھا اس سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے آئی ہوں۔‘‘
وہ دل ہی دل میں بولی، ’’بابا بھیا میں سپیرن سے وش کنیا بن کر آئی ہوں۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ زہر کا پیالہ بھر بھر کر خود پیتی رہی۔ کنی پاؤ نے تو اس پورے قبیلے کو ایک زہر کا پیالہ بھر کر شراپ گرست(بدعا کے قابل بنانا) کروا دیا تھا، میں ہزاروں پیا لے پی کر خود کو اتنا زہریلا بنا چکی ہوں کہ اس دنیا میں سب کو شراپ دے سکوں۔‘‘
شام ہوتے ہوتے قبیلے کے لوگوں میں اس کے آنے کی خبر پھیل گئی، کرما بہت خوف زدہ تھا۔ ’’کیوں آئی ہے تو؟ صبح ہوتے چلی جا ٹھاکر کو پتہ نہ چلے۔‘‘
’’نہیں جاؤں گی میں۔ میں نے جرم نہیں کیا تو کیوں ڈروں۔۔۔؟‘‘
’’وہ بچے کو نہیں چھوڑے گا، ہمیں بھی مروا دے گا۔‘‘
’’تو نہ چھوڑے۔ یہ میری ذمہ داری نہیں، میں اب کام نہیں کروں گی۔ سمجھا تو۔۔۔‘‘
’’باؤلی ہوئی ہے چھوری! اپنے بچے کو کوئی مارتا ہے۔ کیسی ماں ہے تو؟‘‘ سمجھانے والوں میں سی کسی کی آواز آئی۔
یہ سن کر وہ تلخی سے ہنسی اور بولی، ’’جب سوکھا پڑ جاتا ہے اور کہیں کوئی پھول پھل نہیں ملتے تو شہد کی مکھیاں اپنی ہی چھوٹی مکھیوں کو ڈنک مار مار کر ختم کر دیتی ہیں کہ اب انہیں کھلائیں گی کہاں سے۔‘‘
’’تو مر مگر سن لے تیری وجہ سے ہم پر کوئی آفت آئی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔‘‘ کرما تلملاتا ہوا نکل گیا۔
نرملا ڈیرے سے نہ نکلی۔ یہ رات بھی اس پر بھاری تھی۔ وہ خود کو نہ سویا ہوا محسوس کر رہی تھی نہ جاگتا ہوا۔ اس کے ڈیرے کی دیواریں ہوا سے ہل رہی تھیں۔ چھت میں لگی پنیاں کھڑ کھڑ کرتیں اور اپنی کمزوری اور کم مائے گی کا ماتم کرتی رہتیں۔ وہ ان آوازوں کو اندر آنے سے روک پانے پر قادر نہ تھیں جو اس کے خلاف تھیں اور اس کی آمد پر خائف تھیں۔ کرما ان آوازوں کو تسلّی دے رہا تھا، ’’میں صبح اسے خود گھسیٹ کر ٹھاکر کے پاس لے جاؤں گا۔ اب آئی ہے تو سزا بھگتے۔ اس کے پیچھے ہم کیوں مارے جائیں۔‘‘
اس نے ٹھنڈی سانس لی اور سوچا، ’’ہاں کرما تو آستین کا سانپ ہے۔ نہ ماضی میں اجنبی قدموں کو روکنے کی سکت تجھ میں تھی جنھوں نے میرا سب کچھ لوٹ لیا تھا اور نہ اب تو میرا محافظ ہے۔‘‘
گرد و نواح کے تمام منظر پست واقع ہوئے تھے۔ زمین بالکل ساکت اور بے سایہ تھی، خلا کی لا متناہی وسعتوں میں اس کی حیثیت ایک پلیٹ فارم جیسی تھی۔ نرملا کو لگا کہ یہ بڑے سخت حالات ہیں اور بس وہ خود کو بہت مضبوط اور مستعد رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسے یاد تھا کہ یہاں کیوں آئی ہے۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ چھوٹا ٹھاکر رات کا تیسرا پہر کہاں گزارتا ہے۔ جب سب سو گئے تو نرملا ایک چادر اوڑھ کر اپنے ڈیرے سے نکل گئی۔ دوسرے دن رات گئے تک جاگنے کی وجہ سے وہ دیر تک ڈیرے میں سوتی رہی۔ بیٹے کی اسے فکر نہ تھی آج تو اسے دیکھنے والے کافی تھے۔ وہ نہ جانے کس کے پاس تھا۔
وہ کافی دیر سے اٹھی تو رات کو پی ہوئی بوٹی کا اثر اتر چکا تھا۔ جسم کی تکان بھی زائل ہو چکی تھی۔ ڈیرے پر سناٹا پسرا تھا۔ اس تپتی دھوپ میں پورا ریگستان کھویا ہوا سا لگ رہا تھا۔ افق کا کہیں پتہ نہ تھا، لرزتی ہوئی زمین کے ہر حصے میں ہوا لہراتی ہوئی اوپر کو اُٹھ رہی تھی، گرد و غبار کے بگولے اُٹھ اُٹھ کر ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ دور دور تک زمین لرزتی نظر آ رہی تھی جس پر نگاہ ٹھہرنا محال تھا۔ بہت دور کچھ بونے بونے گرد سے اٹے درخت یا جھاڑیاں اکا دکا نظر آ رہی تھیں۔ اس کی نظر ڈیرے کے سامنے تین قبروں پر ٹھہر گئی۔ وہ ڈیرے سے نکل کر قبر کے پاس آئی۔ اس کے دل میں اس وقت اطمینان اور چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔ کرما سامنے سے آ کر بولا، ’’آج تو واپس چلی جا۔‘‘
’’کیوں۔۔؟ کسی سے ڈر رہا ہے؟‘‘
’’دیکھ ٹھاکر کو پتہ چلے گا تووہ پورے قبیلے کو قبرستان بنا دے گا۔‘‘
’’اچھا!! تو تُو مجھے گھسیٹ کر اس کے پاس لے جا! قبیلہ قبرستان بننے سے بچ جائے گا۔‘‘
’’ہاں اگر نہیں مانی تو یہی کروں گا۔‘‘
’’اور اسے قبرستان جانے سے کون بچائے گا؟ تو۔۔؟ اس کا دلال۔‘‘
تب ہی کرما کا چھوٹا بھائی دوڑتا ہوا آیا۔ ’’چھوٹے ٹھاکر کو رات کسی نے گولی مار دی ہے۔‘‘
نرملا زہریلی ہنسی ہنسی اور حقارت سے کرما کی طرف دیکھا جو خونی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’اس نے تو تجھے میری پہرے داری پر لگا دیا تھا، اپنے پاس رکھتا تو شاید کوئی اسے رات مار کر نہ چلا گیا ہوتا۔‘‘
’’یہ تو نے اچھا نہیں کیا۔‘‘ وہ دانت پیس کر بولا۔
وہ حقارت سے زمین پر تھوک کر بولی، ’’ڈرپوک۔ اندر جا اور میری چوڑیاں پہن لے۔‘‘
کرما تلملا کر اس کی طرف بڑھا۔ نرملا نے اپنے پاس چھپائی ہوئی بندوق نکال لی۔ کرما اس پر پل پڑا۔ دھان پان سی لڑکی جلد ہی اس کے قابو میں آ گئی۔ اس نے اس سے بندوق چھین لی۔ ’’ٹھاکر کو تو تو نے دھوکے سے نیند میں مار لیا ہو گا پر مجھ سے نہیں بچ سکتی۔‘‘
’’میں نے ماں، بابا اور بھائی کا بدلا لے لیا، اب جینا بھی نہیں چاہتی۔ مار مجھے تاکہ شک نہ رہے کہ تو ایک گیدڑ ہے۔‘‘
’’مارنا تو پڑے گا ورنہ تیرے اس گناہ کی سزا پورے قبیلے کو ملے گی۔‘‘ اس نے نرملا کی طرف بندوق کرتے ہوئے کہا۔
وہ شان سے مڑی اور قبر کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ ’’آج مجھے کوئی افسوس نہیں۔ ہم تو موت کے ساتھی ہیں۔ دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے خطروں سے کھیل جاتے ہیں۔ میں نے آج ایک سانپ کو مارا ہے۔ اب اپنے قبیلے کے لیے مر بھی جاؤں گی۔‘‘
کرما نے ایک پل ضائع کیے بغیر گولی چلا دی۔ نرملا سہ پہر کی گرم ریت پر اوندھے منہ گری۔ پھر وہاں بنی قبر کا سہارا لے کر سیدھی ہوئی۔ اس کے چہرے پر سکون تھا، مسکراہٹ تھی۔ اس کا بیٹا کہیں سے نکل کر آ کھڑا ہوا تھا اور حیران نگاہوں سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔ کرما وہاں سے جاتے ہوئے اپنے بھائی سے بولا، ’’چوتھی قبر بھی اسی آنگن میں بنا دے۔‘‘
٭٭٭
مُنّو
موسمِ سرما کا آغاز تھا اور سنیچر کی وجہ سے اسکول آدھے دن کا تھا۔ صمد ہمیشہ کی طرح اس کے ساتھ ساتھ تھا۔ منو کھیلنے جاتا یا پڑھنے صمد اس کے ساتھ پرچھائیں کی طرح لگا رہتا اور منو کو ہمیشہ اسی کی وجہ سے گھر اور اسکول دونوں جگہ ڈانٹ پڑتی۔ اسے آج گھر جانے کی جلدی نہیں تھی یا پھر حوصلہ نہیں تھا، اس لیے اس نے گھر جانے کا ایک لمبا راستہ چنا۔ صمد اس کے ساتھ ساتھ تو رہا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آج اس کے منو بھیا کو گھر جانے کی جلدی کیوں نہیں۔ راستہ کتنا بھی طویل ہو ختم تو ہو ہی جاتا ہے اور منو کو افسوس ہوا کہ یہ راستہ بھی طے ہو گیا اور وہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دروازے کی جھری سے اندر دیکھا اور امی کا غصے سے تمتمایا ہوا چہرہ اسے نظر آ گیا۔ وہ تیزی سے واپس پلٹ کر باہر نکل گیا۔ اس کی تقلید میں صمد بھی باہر آیا۔
ننھا صمد سہما ہوا اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا بولا، ’’بھیا جی گھر نہیں چلیں گے۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ حالانکہ منو کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ چپکے سے اندر جا کر دوسرے بھائی بہنوں کے ساتھ ان کے مشاغل میں شریک ہو جائے اور امی اسے باہر سے گھر میں داخل ہوتے ہوئے ہر گز ہرگز نہ دیکھیں۔ ویسے جب بھی وہ باہر سے اپنی معصوم اور مسکین شکل لیے گھر میں داخل ہوتا تھا تو امی کی عقابی نظریں سر سے پیر تک اس کا اسکین کر لیتی تھیں۔ وہ کہاں سے آ رہا ہے؟ اس نے کس کے ساتھ کنچے کھیلے؟ کس کو پٹخنی دی یا پھر دھوپ میں رلتا پھرا، انھیں بغیر پوچھے سب پتہ چل جاتا تھا۔ اور آج تو اس نے ایک ایسا جرم کیا تھا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں، دل میں چور تھا اس لیے گھر میں داخل ہوتے وقت ہی نہیں بلکہ سارا دن وہ امی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے اندر ہمت نہیں تھی کہ ان کے سامنے جائے۔ صمد کو اس نے پہلے ہی راز داری کا سارا سبق ازبر کروا دیا تھا کہ وہ گھر میں کسی کو نہ بتائے کہ اس نے بغیر بڑوں کی اجازت کے آج کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ دونوں چلتے چلتے ٹوٹی چار دیواری والے مکان تک آئے، منو نے اپنا بستہ کندھے سے اتار کر ٹوٹی ہوئی دیوار پر رکھا اور اچک کر اس پر بیٹھ گیا۔ صمد اس کے پاس کھڑا رہا۔ وہ منو سے کم از کم تین سال چھوٹا تھا اس لیے دیوار پر اچک کر بیٹھنا اس کے لیے مشکل تھا۔ ویسے بھی اسے اب اماں کے پاس جانا تھا، بھوک لگ رہی تھی۔
’’بھیا جی گھر چلیے۔ اماں اور مالکن پریشان ہوں گی۔‘‘
’’صمد تم جاؤ۔ مجھے ابھی نہیں جانا اور سنو! یہ بالکل مت بتانا کہ میں تمھیں کہاں لے کر گیا تھا، اپنی اماں کو بھی نہیں ورنہ وہ میری امی کو بھی بتا دیں گی۔‘‘ اس نے پھر سے تنبیہ کی۔
صمد نے سعادت مندی سے سر ہلا دیا اور گھر جانے کے لیے مڑتے مڑتے رک گیا۔ ’’آپ کا بستہ لیتا جاؤں۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ منو نے حامی بھری تو صمد نے خوشی خوشی بستہ اپنے کندھے پر ڈالا۔ اس کے قد کے لحاظ سے بستہ بھاری تھا، وہ لڑکھڑایا پھر سنبھلا اور آگے بڑھ گیا۔ منو جانتا تھا صمد کو اس طرح بیگ کندھوں پر لٹکا کر اسکول جانے کا کتنا شوق تھا اسی لیے بستہ اٹھانے کی پیشکش وہ ہمیشہ کرتا رہتا تھا۔
اس کے جانے کے بعد منو کا خوف آج کی دوپہر کی طرح روشن اور چمک دار ہو گیا۔ اسے پل بھر کو لگا وہ امی کا سامنا ابھی کیا کبھی نہیں کر پائے گا۔ ایک چوہا کہیں سے دوڑتا ہوا آیا اور دیوار کی بنیاد میں بنے ایک بل میں گھس گیا۔ اس کی وہ ہمت جس کے سہارے آج صبح اس نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا تھا وہ بھی اس چوہے کی طرح کسی بل میں سما چکی تھی۔ اس نے دیکھا بھائی جان کے دوست کھیتوں کی طرف سے چلے آ رہے ہیں۔ اب یہ بھائی جان کو جا کر بتائیں گے اور وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے یہاں پہنچ جائیں گے۔ وہ نظریں چرا نے لگا مگر سامنے بیٹھا تھا اتنی جلدی کہیں چھپ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ مخاطب ہوئے، ’’ارے منو! اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ آج دوست کھیلنے نہیں آئے۔؟‘‘
’’نہیں۔۔‘‘ منو نے صرف نفی میں سر ہلایا۔
’’لو یہ گنا کھاؤ۔ ابھی ابھی کھیتوں پر سے کٹوا کر لا رہا ہوں اور گھر جاؤ۔ تنہا مت بیٹھو یہاں پر۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ دیوار سے کود کر اترا اور گنا ان سے لے لیا۔ وہ اپنے راستے پر بڑھ گئے تو وہ بھی تیزی سے کھیتوں کی طرف مڑ گیا۔ آج اس کا گنا کھانے کا بالکل موڈ نہیں تھا۔ وہ اسے ڈنڈے کی طرح نچاتا جھاڑیوں پر ایک آدھ ہاتھ مارتا اپنی سوچوں میں غلطاں چلتا رہا۔ اچھا ہوا وہاں سے چلا آیا کیونکہ اکثر وہ اسی ٹوٹی دیوار والے مکان کے صحن میں اپنے دوستوں کے ساتھ کنچے کھیلنے آتا تھا۔ کھیلتے وقت اسے وقت کا احساس نہ رہتا تو امی بھائی جان کو اس کی تلاش میں بھیجتیں۔ وہ کمان سے نکلے تیر کی طرح اسی ٹوٹی ہوئی دیوار والے مکان میں پہنچتے۔ بھائی جان کو دیکھ کر وہ انھیں غچہ کر نکل جاتا مگر اس کے رنگ برنگے کنچے بھائی جان سمیٹ کر ثبوت کے طور پر امی کو دے آتے اور وہ جب ڈرتا ڈرتا گھر پہنچتا تو امی کی طرف سے ہونے والی باز پرس کا سب سے زیادہ مزہ بھائی جان لیتے۔ ساری ڈانٹ سن لینے کے بعد وہ اس فکر میں لگ جاتا کہ امی نے اس کے کنچے کہاں چھپائے ہوں گے۔ امی اسے روز روز امجد کی امی کی طرح پاکٹ منی بھی تو نہیں دیتیں، جبکہ سارے بھائی بہنوں میں وہ سب سے چھوٹا اور ان کا لاڈلا بیٹا ہے مگر پیسے مانگنے پر ایک ہی جواب ہوتا کہ تمہارے ابا کہیں کے نواب نہیں ہیں۔ دوسرا جواب ہوتا کہ کنچے اور پتنگ بازی میں اپنی زندگی برباد مت کرو اور صمد کو تو اپنے ساتھ بالکل مت لے جاؤ، یتیم بچہ ہے غلط عادتوں میں پڑ گیا تو گناہ ہمیں بھی ہو گا۔ اپنی امی سے یہ سن سن کر اسے صمد کی فکر رہنے لگی تھی لیکن وہ اسے اپنے ساتھ آنے اور کھیلنے سے اسے کبھی نہ روک پاتا۔ ا می کی ڈانٹ کے باوجود جب اس کا اپنا دل نہیں مانتا اور وہ تقریباً روز ہی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل جاتا ہے اور صمد وہ تو اس سے بھی چھوٹا ہے۔ لیکن اسے صمد کی فکر بھی رہتی اور ایک احساسِ جرم بھی۔ ایک بار اس نے ماں سے پوچھا، ’’امی صمد اچھا لڑکا کیسے بنے گا؟‘‘
’’اسے پڑھا دیا کرو۔ علم کے بغیر کوئی اچھا نہیں بنتا مگر تم تو خود اپنا وقت برباد کرتے ہو اسے کیا پڑھاؤ گے۔‘‘ امی کی یہ بات اس کے دل میں بیٹھ گئی۔
اس نے چلتے چلتے راستے کی ایک کنکری کو زور کی ٹھوکر ماری۔ کھیت پر پہنچنے کے بعد اس کی منڈیر پر بیٹھ کر اس نے گنا کھایا کیونکہ اسے اور کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے اور پیاس بھی لگ رہی تھی۔ کہیں کہیں اس دوپہر کی دھوپ میں بھی کسان اپنے کھیتوں پر کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ بلا مقصد ادھر ادھر گھومنے کے بعد کھیت کے راستے میں موجود جامن کے درخت کے پاس پہنچا جس سے اس کی گہری دوستی تھی، وہ اس کے قریب سے گزرنے لگا تو اس کی شاخوں نے جھک کر اسے خوش آمدید کہا۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی ساری پریشانی بھول گیا اور اچک کر اس کی شاخوں کو پکڑنے کی کوشش کی، ایک گلہری ڈر کر تنے پر چڑھ گئی۔ شاخ نے شرارت میں پیچھے ہٹ کر اس کی پکڑ میں آنے سے خود کو بچایا۔ منو نے درخت کے قریب جا کر اس کے تنے پر پیار سے ہاتھ رکھا تو اس کی شاخیں جھوم جھوم کر دوپہر کی صاف ہوا سے منو کی اور اپنی دوستی کا اظہار کرنے لگیں۔ منو نے اس کے بلند قامت کو فخر سے دیکھا اور اس کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، وہ اب تھک چکا تھا۔ ہوا نے اپنے نرم لمس سے اس کی پیشانی کا پسینہ پونچھا اور نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ کسی کے جھنجھوڑنے سے اس کی آنکھ کھلی تو ڈوبتے سورج کی نرم کرنیں کھیتوں اور کھلیانوں کو الوداع کہہ رہی تھیں۔ بھائی جان اپنی ساری ناراضگی کے ساتھ سامنے کھڑے تھے۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا تو بغیر کچھ بولے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر کی طرف چلے۔ اب فرار کی کوئی صورت نہ تھی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی امی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹیں۔ ’’کہاں گئے تھے۔۔۔؟‘‘ وہ سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔
’’ایک مفت کا قلی مل گیا ہے۔ بیگ اس کے ہاتھ بھیج کر سارا دن آوارہ گردی کی۔‘‘
اس نے صمد کی طرف دیکھا جو اسے دیکھتے ہی وہاں آ گیا تھا۔ اس کی اماں بھی اس کے ساتھ اپنی کوٹھڑی سے نکل آئی تھیں۔ منو کے ماں باپ کوئی رئیس نہیں تھے مگر انسانیت کے ناتے صمد کی بیوہ ماں کو اپنے گھر کا ایک کنارے والا کمرہ رہنے کے لیے دے دیا تھا۔ اسی لیے صمد دن رات منو کے ساتھ لگا رہتا تھا، اس کی معصوم آنکھوں میں منو کو دیکھ کر جو ایک چھوٹی سی خوشی قمقمے کی طرح جلی تھی وہ اچانک بھک سے بجھ گئی۔ کیونکہ منو کو ڈانٹ پڑ رہی تھی، وہ جانتا تھا کہ منو کو یہ ڈانٹ اس کی وجہ سے ہی پڑ رہی ہے۔ ویسے بھی اس سارے خرابے میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ وہ تو بس اتنا جانتا تھا کہ اس کے منو بھیّا اس کے سب سے پکے والے دوست تھے اور اس کے منو بھیا جو کہہ دیں اس کے نزدیک وہی صحیح ہے۔ اب ان کی امی ان پر برس رہی تھیں اور وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکائے مجرم کی طرح کھڑے تھے اور اسے برا لگ رہا تھا۔ منو کے لیے یہ ڈانٹ پھٹکار کوئی نئی بات نہیں تھی مگر آج اس کا جرم بڑا تھا۔۔ کنچے کھیلنا، گلیوں میں آوارہ پھرنا، لڑائی کرنا جیسے قصور سے سب واقف تھے۔ امی کا سب سے نالائق بیٹا ہونے کے باوجود وہی ان کا لاڈلا تھا اور وہ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھیں کہ ان کے بچے میں ایسی برائی آ سکتی ہے جو اس نے آج کی۔ اس نے دیکھا کہ بھائی جان بھی جو اسے ڈانٹ پڑنے پر سب سے زیادہ مزہ لیتے تھے آج حیرت اور افسوس سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ باجی کی آنکھوں میں زمانے بھر کا ترحم تھا۔
منو کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس نے جو کیا ہے اس سے امی کو اتنی تکلیف پہنچ جائے گئی۔ منو جانتا تھا کہ وہی چند سو روپے ان کا کل سرمایہ تھے۔ ابا کا کام ہی ایسا تھا۔ اس نے ابا کی زبان سے ہمیشہ سنا تھا کہ مجھے تو مزدوروں کی طرح روز کنواں کھودنا ہے اور روز پانی پینا ہے، ایک دن بیٹھ جاؤں تو تم لوگوں کا کیا ہو۔ کبھی کہتے کہ میرے بچے بڑے ہو جائیں تو میں آرام کروں۔ اس خیال سے منو کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔
’’امی معاف کر دیجیے اور وعدہ لے لیجیے اب ایسا نہیں کرے گا۔‘‘ باجی آخر کار اس کے بچاؤ میں آگے آئیں۔
’’نو، دس سال کی عمر میں اس نے چوری کی ہے تو بڑے ہو کر یہ اب ڈاکہ ہی تو ڈالے گا۔‘‘ امی نے رندھے گلے سے کہا۔
ابا کی روز کی آمدنی تھی، وہ وکیل تھے مگر جب کیس نہ ملتا تو سارا دن کچہری میں بیٹھ کر تھکے ہارے خالی ہاتھ شام میں واپس آتے۔ پھر بہت سست آواز میں امی سے دریافت کرتے کہ تمہارے پاس ابھی پیسے تو ہیں نا؟ پیسے نہ بھی ہوتے تو بھی امی جلدی سے کہتیں، ’’ہاں آج کا خرچ تو نکل آئے گا۔‘‘
’’اللہ مالک ہے۔ ذرا ہاتھ روک کر ہی خرچ کرنا۔‘‘ ابا یہ کہہ کر کپڑے تبدیل کرنے لگتے۔
پھر امی اس وقت راز داری سے بھائی جان کے پاس جاتیں اور کہتیں۔ ’’ادھار سامان لے آؤ۔ ابا کو پتہ نہ چلے۔ اللہ چاہے گا تو کل پیسے دے دوں گی۔‘‘
یہ سب جانتے ہوئے بھی منو نے یہ جرأت کی تھی کہ اس نے ایسا کرتے ہوئے اتنا کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔ امی یا ابا کی پریشانی کا خیال تک نہ آیا تھا، اس نے یہ بھی نہ سوچا تھا کہ آج کا سامان یا سبزی کیسے آئے گی۔ اسے تو بس ایک ہی خیال تھا جس کے لیے وہ چوری بھی کر سکتا تھا بغیر یہ سوچے کہ اس کا اثر سب پر کیا ہو گا۔ امی کی بے بسی دیکھ کر آخر اس نے ہمت کر کے کہا، ’’ادھار سامان لے آؤں امی!!!‘‘
’’دیکھو بے شرم کو۔ کل انھوں نے پیسہ دے کر کہا تھا کہ ذرا سنبھال کر چلانا آج جمعہ ہے۔ اس لیے کیس ملنے کی امید نہیں۔ آج آدھے دن کی ہی کچہری ہوتی ہے آتے ہی ہوں گے۔ ’’امی بے بسی سے رو پڑیں۔ انھیں روتا دیکھ کر منو کا ضبط پھر ٹوٹنے لگا اور مشکل سے روکے ہوئے آنسو پھر ہٹ دھرمی سے آنکھوں میں آ گئے۔ سامنے ماں کی بے بسی اور بھائی بہنوں کے اترے ہوئے چہروں کے علاوہ تصور میں ابا کے پریشان چہرے کا مجرم بنا وہ بسورتی شکل کے ساتھ کھڑا رہا۔
بھائی جان کو شاید پہلی بار اس پر رحم آ گیا۔ وہ آگے بڑھے۔ ’’امی چپ ہو جائیے۔ میں ضرورت کا سامان ادھار لے آتا ہوں۔ ابا کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔‘‘
’’تمہارے والد دن بھر کے تھکے ہارے آ کر کیا صرف سوکھی روٹی کھائیں گے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں امی! آج دال بنا لیں گے۔‘‘ اس بار باجی بولیں۔
’’میں ہی جانتی ہوں کہ میں کیسے چلاتی ہوں گھر۔ اور یہ لڑکا۔۔۔‘‘ ان کی آواز بھرّا گئی۔ ’’افسوس!! اس کے ابا سنیں گے تو کتنا صدمہ ہو گا ان کو کہ ان کا بیٹا چوری کرنے لگا ہے۔‘‘ پھر اس کی طرف دیکھ کر دھاڑیں، ’’اب تم خود ہی بتانا ان کو اپنی کارستانی۔‘‘
اس کا رہا سہا ضبط جاتا رہا، آنسو ابل کر امڈے۔ اسے ڈانٹ کا غم نہیں تھا۔ اسے صدمہ تھا کہا س نے ماں کو ان جانے میں بہت دکھ پہنچا دیا تھا۔ اس نے دیوار کی طرف چہرہ گھما کر دل سے دعا کی، ’’یا اللہ!! آج ابّا کو ڈھیر سارا پیسہ مل جائے اور امی کی سب پریشانی دور ہو جائے۔‘‘
اچانک ابا کے کھنکارنے کی آواز آئی۔ وہ ہمیشہ اندر داخل ہوتے وقت کھنکار کر خبر دار کیا کرتے تھے۔ امی نے جلدی سے اپنا چہرہ صاف کیا اور منو کو گھور کر دیکھا۔ وہ دھیرے سے دوسرے کمرے میں کھسک گیا۔ باجی باورچی خانے میں چلی گئیں، پیچھے پیچھے صمد کی امی بھی ان کی مدد کو گئیں۔ صمد سہما ہوا وہیں کھڑا رہا۔ بھائی جان سامان لانے کے لیے دکان جانے کے ارادے سے باہر کے دروازے کی طرف بڑھے جدھر سے ابا داخل ہوئے تھے۔ ابا نے آتے ہی کہا، ’’کہاں جا رہے ہو؟ رکو! سامان لانے؟‘‘
’’جی!! بس ابھی لے کر آیا۔‘‘
’’یہ لو پیسے۔ آدھ کلو پیڑے بھی لیتے آنا۔‘‘ ابا نے جیب سے نکال کر کچھ روپے بڑھایے۔
بھائی جان کا چہرہ کھل گیا۔ یہ ابا کے اچھے پیسے ملنے کی نوید تھی۔ منو بھی سب بھول بھال کر بھاگا آیا۔ اس کے ہاتھ میں ابا کی چپل تھی۔ اس نے جھک کر ان کے پیر کے پاس چپل رکھی اور ان سے دریافت کیا، ’’پانی لاؤں ابا!!‘‘ اس کی آواز بھرا رہی تھی۔
’’ارے واہ!! میرا بیٹا آج بہت سمجھ دار ہو رہا ہے۔ لگتا ہے آج پھر کنچے کھیلنے پر ڈانٹ پڑی ہے۔‘‘ وہ ہنسے پھر کہا، ’’اچھا سنو!!‘‘ انھوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ کافی پیسے تھے سو سو کے کئی نوٹ اور دس دس کے بھی جس دن اچھی آمدنی ہوتی تھی وہ دن گھر میں عید جیسی خوشی لگتی۔ امی کچھ روپے برے دن کے لیے فوراً الگ رکھتی تھیں اور امی ابا بہت خوش رہتے تھے۔ وہ امی کی طرف روپے بڑھا کر بولے، ’’آج اللہ کا خاص کرم رہا۔ ایک بڑا اہم کیس جیت گیا۔ موکل نے خوش ہو کر ساری بقایا فیس کے ساتھ ساتھ کچھ اضافی رقم بھی دی۔ متمول گھرانے کے لوگ تھے۔ کل ان کے یہاں سے مٹھائی بھی آئے گی۔ تمہارے تو کئی دن کا انتظام ہو گیا۔ آج کون سی نیکی کی تھی۔‘‘ انھوں نے ہنس کر کہا۔ ان کا موڈ بڑا خوش گوار ہو رہا تھا- ’’اور یہ سو روپے میری جیب میں رہنے دو۔ کوئی ضرورت مند آ گیا تو تم سے نہیں مانگوں گا اور ہاں منو!!!‘‘ انھوں نے شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ’’یہ کچھ روپے تم سب بچوں کے لیے۔ سب پانچ پانچ روپے بانٹ لینا اور بیس روپے صمد کی امی کو بھی دینا۔‘‘ یہ کہہ کر منو کے ہاتھ میں بھی انھوں نے کچھ روپے پکڑائے اور بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھولنے لگے اور منو دوڑ دوڑ کر ان کی مدد کرنے لگا۔ منو کی امی غصے میں اٹھیں اور اس کے ہاتھ سے پیسے جھٹک لیے۔ ’’اسے مت دیجیے پیسے۔ میں خود ہی سب میں پیسے تقسیم کر دوں گی اور اسے تو پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔‘‘
’’ارے بھئی! دے دو اسے۔ کیوں غصہ کرتی ہو، کنچے نہیں خریدے گا۔‘‘
’’پوچھیے اس سے، کیا جرم کیا ہے اس نے آج۔‘‘ منو کا چہرہ خوف سے سفید ہو گیا۔
’’ایسا کیا کر دیا۔۔؟‘‘ اب ان کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔ وہ اچھے موڈ میں آئے تھے اس سب کے لیے تیار نہ تھے۔
’’یہ کیا بتائے گا؟ اس نے چوری کی ہے۔ میرے سرہانے سے سارے روپے اٹھا لیے۔‘‘ امی نے دھماکہ کیا۔
انھوں نے حیرت سے منو کی طرف دیکھا پھر پوچھا، ’’بتاؤ!! کیا ضرورت پڑ گئی ایسی۔۔؟‘‘ پھر امی کی طرف دیکھ کر بولے، ’’کتنے پیسے؟‘‘
’’یہی کوئی تین چار سو رکھے تھے۔‘‘
’’کیوں منو۔۔؟ اتنے پیسے تم نے کیوں لیے۔‘‘ انھوں نے منو کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کیا اور کرسی پر بیٹھ گئے۔ ’’ڈرو مت!! مجھے سچ سچ بتاؤ۔‘‘
وہ خاموش رہا تو وہ پھر بولے، ’’سچ بتا دو گے تو بالکل نہیں ڈانٹوں گا۔‘‘
’’صمد کا اسکول میں داخلہ کروایا ہے۔ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں ناں ابا اس لیے وہ کیسے اسکول جاتا؟‘‘ منو نے بڑی بڑی معصوم آنکھوں میں آنسو سنبھالتے ہوئے کہا۔ ’’امی کہتی ہیں تعلیم کے بغیر وہ اچھا انسان نہیں بن سکتا۔ میں نے سر سے کہا کہ اسے بھی اسکول میں آنے دیں تو انھوں نے کہا کہ اس اسکول میں ایڈمیشن کے چار سو لگیں گے۔‘‘
’’اوہ!!‘‘ ابا اور امی کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
’’اب کبھی چوری نہیں کروں گا ابا!!‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو ڈھلکے۔
’’کبھی نہیں ناں۔۔۔‘‘ ابا نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
ابا نے اسے گلے سے لگا لیا۔ منو نے حیرت سے دیکھا۔ ماں کے چہرے پر آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ ایسی مسکراہٹ کھل گئی تھی جیسے بادلوں کے درمیان سے نرم سی دھوپ جھانکتی ہے۔
٭٭٭
سادہ اوراق
ایک گھنی آبادی کے فلیٹ کی پانچویں منزل کے اکلوتے کمرے میں اور موسموں کی زیادتی کی زد میں احمد کو تنہا رہتے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔ آج کل مئی کی گرمی کی دوپہر میں یہ کمرہ تپش سے انگیٹھی بن جاتا ہے اور وہ گھبرا کر بلا ارادہ باہر نکل جاتا ہے۔ کیونکہ اس کمرے میں بیٹھنے سے بہتر اسے گلیوں، سڑکوں اور بازاروں میں آوارہ گردی کرنا لگتا ہے۔ اپنے چہار طرف بکھرے چہروں میں وہ نہ جانے کیا تلاش کرنے کی کوشش میں یہاں وہاں بھٹکتا رہتا ہے۔ اس کی آدھی توجہ اپنی جیب میں پڑے چند سکوں کے حساب کتاب کی طرف زیادہ رہتی ہے اور چہروں کی طرف کم کیونکہ جگہ جگہ بس بدلتے ہوئے اور چائے پیتے ہوئے یہ سکے کم ہوتے جاتے ہیں اور جن کہانیوں کی تلاش میں وہ نکلتا ہے انھیں ڈھونڈ نہیں پاتا۔ مگر پھر بھی ہر دفعہ گھر سے نکلتے وقت چند سادہ اوراق والی وہ ڈائری اور قلم اپنے کندھے سے لٹکتے ہوئے تھیلے میں رکھنا نہیں بھولتا جو اس کی بیوہ ماں نے چلتے وقت اسے دے کر کہا تھا، ’’یہاں پر تو جب بھی کوئی اچھا کام کر کے آتا تھا تو مجھے ساری کہانی سناتا تھا۔ میں اب پردیس میں تو نہیں ہوں گی مگر روز اس پر وہ بات ضرور لکھنا جو خوش ہو کر تو مجھے سناتا۔ جب میں ملوں گی تو سب پڑھوں گی۔ یہ ڈائیری تیری اس سچّی جد و جہد کی کہانی کہے گی جن پر چل کر تو آگے بڑھے گا۔‘‘
اور وہ روز سوچتا ہے کہ دو سال سے ایک دن بھی کوئی ایسی بات نہیں ہوئی کہ وہ خوش ہو کر اس ڈائری پر درج کر سکے۔ جبکہ اسے لگتا تھا نوکری ملنے تک یہ ڈائری بھر جائے گی اور پھر وہ ایک ٹیب لے لے گا جب تک ماں کی دی ہوئی یہ ڈائری ہی سہی۔ ابھی تو ایک معمولی سا موبائل ہے جس سے صرف فون ریسیو کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے فون میں کبھی بھی بیلنس نہیں ہوتا۔ دن بھر کی آوارہ گردی کے بعد شام کو اپنے کمرے میں لوٹنے کی شدید خواہش لیے وہ واپس آ جاتا ہے، نہا کر تھکن اور تپش سے چھٹکارا پانے کے بعد اسے اس بڑے شہر میں یہ کمرہ کسی عیاشی سے کم نہیں لگتا۔ وہ کمرے کے سامنے چھوٹی سی کھلی چھت پر کرسی نکال کر بیٹھ جاتا ہے۔ اترتی ہوئی شام میں کھلی چھت پر کرسی ڈال کر بیٹھنا اسے بہت اچھا لگتا ہے۔ گاؤں کے گھر کا کھلا آنگن چھوڑنے کی تکلیف کچھ کم ہو جاتی ہے۔ اس کھلی چھت پر جنگلے سے ہٹ کر بیٹھا وہ کبھی نیچے کی چہل پہل دیکھتا ہے، کبھی اس ڈائری کو دیکھتا ہے جس کا ہر صفحہ اب تک کورا ہے۔ ہلکی ہلکی ہوا کے جھو نکے دن بھر کی تھکاوٹ کو زائل کرنے میں کارگر ثابت ہوتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ دن بھر کی خاک چھان کر آنے کے بعد اپنی ڈائری کے سادہ اوراق کو سنبھال کر بیٹھ جاتا ہے۔ مگر جو وہ لکھنا چاہتا ہے وہ لکھ نہیں پاتا کیونکہ یہ ڈائری ماں کی امانت ہے جس پر اسے اپنی خوشیاں درج کرنی ہیں یا ایسی روداد جس پر بعد میں فخر ہو۔ مگر اس کی نوبت ہی نہیں آتی بلکہ اب تک تو وہ دوسروں کے لیے وہ سب لکھتا رہا ہے جو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اپنے قصبے سے آ کر دلی جیسے بڑے شہر میں ایک کمرے کی عیاشی قائم رکھنے کا اس کے پاس فی الحال یہی ایک واحد ذریعہ ہے۔ وہ ایک ان چاہی مصروفیت کا شکار ہو گیا ہے جس سے اسے خوشی نہیں ملتی کوفت ہوتی ہے۔
نوکری تو ملی نہیں مگر بہت سے ایسے دوست ضرور مل گئے جو اخبار، ریڈیو اور ٹی وی میں کام کرتے ہیں اور اس سے گھوسٹ رائیٹنگ کروا کر اس کی جیب میں چند روپے سرکا دیتے ہیں – کئی بار تو وہ سچائی کے مکروہ چہرے پر اس کی تحریروں کا گہرا نقاب ڈالنا چاہتے ہیں، کئی بار گھڑے ہوئے جھوٹ پر سچائی کی پالش چڑھوانے آتے ہیں۔ ان کے پاس نوکری ہے، کام کی زیادتی ہے اور اس کے پاس بے کاری اور ضرورت ہے۔ جینے کے لیے وہ اپنی صلاحیت کی چور بازاری کرتا ہے۔ نوکری کے لیے روزانہ کوئی نہ کوئی انٹرویو بھی دیتا ہے اور اپنے خواب کی تعبیر کا انتظار کرتا ہے۔ دو سال سے دھکے کھا کھا کر وہ سمجھ گیا ہے کہ صحافت کا جو چہرہ اس کی سوچ میں تھا وہ سب ایک سراب ہے کیونکہ ادارے کسی کے پاس رہن رکھے جا چکے ہیں، وہاں کوئی نہ تو سچ کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے، نہ ہونا چاہتا ہے۔ کیونکہ جھوٹ کی قیمت اس دنیا میں زیادہ ہے۔
وہ جانتا ہے کہ عام لوگ اس کی تحریر پسند کرتے ہیں۔ اسے اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے کہ اس کی تحریر میں سچائی کی جو ترشی ہے وہ ان لوگوں کو پسند آتی ہے جن کی آواز دبا دی گئی ہے۔ اس کی تحریر ان کی آواز بن جاتی ہے کیونکہ اس کے الفاظ میں اس کا ضمیر دھڑکتا ہے اور وہ اپنا ضمیر فروخت نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے اس کے اندر ایک جنگ چلتی رہتی ہے، زندگی بچا لے یا ضمیر۔ اس کشمکش میں نوکری ہاتھ نہیں آتی مگر وہ اب چھوٹی موٹی چیزوں اور خبروں پر سمجھوتا کرنا سیکھ گیا ہے کہ جینے کے لیے کچھ تو کرنا تھا۔ گاؤں سے ماں کا فون اکثر آتا ہے، ’’احمد پتر!! واپس آ جا، یہاں قصبے کے اسکول میں ماسٹر نہیں ہیں۔ تو پڑھا لینا، جو بھی ملے گا اس سے اچھا گزارہ ہو گا۔ دونوں ماں بیٹا ساتھ تو رہیں گے‘‘۔
ماں کی معصومیت پر وہ تلخی سے مسکرا دیتا تھا۔ ماں نام کی مخلوق صرف گزارہ کر کے اور کروا کر کیوں خوش رہتی ہے؟ ماسٹری کر لو کہ پیٹ کی بھوک مٹے، شادی کر لو جسم کی بھوک مٹے۔ کیا بھوک سے آگے اور پیچھے کچھ سوچنا نہیں چاہیے۔ کیا زندگی میں بھوک ہی واحد سچ ہے۔ مگر نہیں، ، ماں نے تو بچپن سے اس کے ضمیر کو جگائے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ جانے بغیر کہ اس کا بیٹا ایک ایسے دور میں جینے کی جد و جہد میں شامل ہو گا جہاں ضمیر کو سلا دینے والا سب سے زیادہ کامیاب ہو گا لیکن وہ ایسا کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس لیے جس طرح وہ ابھی رہ رہا ہے وہ گزارہ کرنے سے بھی کوئی نچلے درجے کا سمجھوتا ہے۔ پھر بھی احمد واپس جانا نہیں چاہتا ہے، وہاں گزارہ تو ہے مگر اس کے ساتھ کوئی خواب نہیں ہے، اچھے دن کی کوئی اُمید نہیں ہے اور وہ زندگی ہی کیا جہاں کوئی امید کا دامن ہاتھ میں نہ ہو۔ بس بڑے سے آنگن میں چارپائی پر لیٹ کر آسمان کے تارے دیکھنا یا اسے دیکھتے دیکھتے سو جانا اور بڑے شہروں کے سنہرے خواب دیکھنا۔ اسی لیے وہ ان خوابوں کے پیچھے پیچھے یہاں چلا آیا۔ زندگی کے لیے اور بھی کتنا کچھ ضروری ہے ایک روٹی اور ایک تاروں بھرے کھلے آسمان کے علاوہ مگر وہ ماں کو کیسے سمجھائے۔۔۔؟ کیونکہ وہ ماں سے شرمندہ ہے کہ اونچا اڑنے کی خواہش میں وہ اس پانچویں منزل کے کمرے پر آ کر جیسے ہوا میں معلق ہو گیا ہے۔ اب نہ پیروں کے نیچے زمین ہے اور نہ اڑنے کے لیے خوبصورت آسمان، بس ہاتھ پیر مار رہا ہے کہ خوابوں کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
کمرے میں فون کی گھنٹی بجی تو وہ اپنے خیالات سے چونکا۔ نہاتے وقت اس نے فون بستر پر اچھالا تھا، وہ لپک کر اندر گیا۔ راجیو کا فون تھا، اس کے دفتر میں وہ انٹرویو دے کر آیا تھا شاید کوئی اچھی خبر ہو۔ وہ فون لے کر واپس چھت پر آیا اور اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی، راجیو جس اخبار میں کام کرتا تھا اس میں ایک اسامی کی جگہ خالی تھی اور راجیو نے یقین دلایا تھا کہ یہ جگہ اسے ضرور ملے گی۔
’’ہیلو!! کیا کوئی اچھی خبر ہے۔‘‘
’’اچھی خبر کو بری تو تُو بناتا ہے۔‘‘
’’اوہ!!! تو اس بار بھی۔۔۔‘‘ کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے ٹھنڈی سانس لی۔
’’انٹرویو اچھا ہوا ہے پر تیرا ایگریشن انہیں پسند نہیں آیا۔ اگر ان کی شرائط پر آنا چاہتا ہے تو بتا۔ ابھی بھی چانس ہے۔‘‘
اس کی خاموشی پر راجیو نے کہا، ’’کچھ لچک پیدا کر، آج کل سب اپنا سوچتے ہیں۔ ہمارے پروفیشن میں اتنی اکڑ اچھی نہیں۔ اپنی کمیونٹی کے خلاف نہیں لکھوں گا، جھوٹ نہیں لکھوں گا۔ تیرے ٹیلنٹ سے متاثر ہیں مگر تیرے خیالات سے مطمئن نہیں۔ کام تو ان کے حساب سے ہی کرنا ہو گا۔‘‘
’’سوچتا ہوں۔‘‘ اس نے بہت مردہ آواز میں کہا۔
’’سوچ مت۔ آج کل نوکری ملتی کہاں ہے۔ اپنی شرطوں پر تو بالکل نہیں ملے گی۔ یہ اچھی نوکری ہے۔ ایسا پیکج کہیں نہیں ملے گا۔ ساتھ میں ایک فلیٹ بھی ہے دفتر کے پاس۔‘‘
’’ارے! انہوں نے شرط ہی ایسی رکھی کہ مجھے کہنا پڑا میں جھوٹ نہیں لکھوں گا۔‘‘
’’ایسا کیا کہہ دیا۔۔۔؟‘‘
’’کہہ رہے تھے، کوئی بھی فساد ہو، لنچنگ ہو، ریپ ہو مجھے سچ تلاش نہیں کرنا بلکہ وہ لکھنا ہو گا جسے وہ صحیح سمجھتے ہوں گے۔ کیونکہ میرا کام تحقیق کرنا نہیں ہو گا بلکہ رپورٹ بنانے کا ہو گا۔ انویسٹی گیشن یا تحقیق کوئی اور کرے گا۔‘‘
’’تو تجھے کیا مسئلہ ہے؟ تیرا کام تو آسان ہی ہو رہا ہے۔ اور ابھی جوائن کر کون سا کل کوئی فساد ہونے جا رہا ہے۔ دھیرے دھیرے سب عادت بن جاتی ہے۔‘‘
’’یار پیسے بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ میں بھی اب تھک گیا ہوں مگر یہ شرط بہت خطرناک ہے۔‘‘
’’اچھا وہ اس کتاب پر ریویو لکھ دیا؟ رائیٹر ایڈوانس دینے کو تیار تھا، میں نے نہیں لیے کہ جتنا اچھا ریویو ہو گا اتنی اچھی قیمت لگواؤں گا۔‘‘
’’بہت بکواس کتاب ہے یار! کیا لکھوں اس پر۔‘‘
’’پھر وہی۔ ارے چپ چاپ لکھ دے۔ سنا ہے بہت پہنچ ہے اس کی، کسی ایوارڈ کے لیے کوشش میں ہے۔ اچھا سا ریویو لکھ دے، اپنا کیا جاتا ہے۔ منہ مانگے پیسے دے گا۔‘‘
’’مجھے کیوں دے گا؟ میں کون سا بڑا نقاد ہوں۔‘‘
’’بہت بھولا ہے تو۔ تیرے نام سے اسے مطلب نہیں ہے، بس اسے اپنا من چاہا کام کروانا ہے۔ تو نہ سہی اور سہی، اس کا کام تو ہو ہی جائے گا اس لیے تو ہی کر دے۔ چل کل صبح آتا ہوں تو آج رات لکھ کر ای میل کر، کل پیمنٹ دلوا دوں گا- بس اب زیادہ سوچ مت، وقت بہت بدل گیا ہے۔ سب چلتا ہے۔‘‘
فون رکھ کراس نے تلخی سے سوچا کہ وقت کہاں بدلتا ہے، وہ تو اپنی مستانہ رفتار سے چلتا رہتا ہے ٹک ٹک ٹک ٹک۔۔۔ سال میں اکتیس (۳۱) ملین سیکنڈز کا حساب دیتا ہوا، جذبات، احساسات، معصومیت اور انسانوں کو روندتا ہوا۔ بدلتے تو کردار ہیں، کرداروں کے چہرے، خواب اور خواہشیں، ان کے طریقے، سوچ، انداز، ضرورتیں، اور ان بدلاؤ کے دھچکے سہتے سہتے زندگیاں اپنی جگہ خالی اور اسے پر کرتی ہوئی موسم بدلتے ہیں، تاریخیں بدلتی ہیں اور ان سارے بدلاؤ کو ہم وقت کے کھاتے میں ڈالتے جاتے ہیں۔
وہ چھت کی جنگلے سے نیچے سڑک کی چہل پہل غور سے دیکھتا ہے۔ دنیا بہت بڑی ہے ہر وقت رواں دواں اور مصروف، بھاگ رہی ہے اپنے اپنے حصّے کی خوشیوں کی تلاش میں۔ اسے ہنسی آ جاتی ہے، خوشی کہاں ہے؟ اگر کہیں کسی رنگ میں اسے بھی نظر آ جائے تو اس کی روداد آج ڈائری پر ضرور لکھے گا۔ وہ ایک ایک چہرہ پڑھنا چاہتا ہے۔ مگر اتنے اوپر سے اسے لوگ کہاں سمجھ میں آ سکتے ہیں لیکن لوگوں کے چہرے نہیں کوئی نیا کردار، کوئی خوش کن کہانی ملے تو وہ لکھے۔ کہانیاں تو سیکڑوں ہیں اس کے سامنے مگر کہیں کوئی انفرادیت نہیں۔ چائے پان کی دکان کے سامنے لڑکوں کا غول کھڑا رہتا ہے، وہاں پر موجود کار، بائیک یا دیوار کے سہارے کمر ٹیڑھی کیے یا کہنیاں ٹیکے اور گھٹنے موڑے ہوئے۔ ایک ایک موبائل پر چار چار جھکے ہوئے یا ہنسی ٹھٹھول میں مشغول، سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے ہوئے۔ گزرتی ہوئی کسی بھی لڑکی کو چور اور ترچھی نظروں سے دیکھ کر رکیک اشارے اور چھچھورے کمنٹ کر کے کتنے خوش ہو جاتے ہیں جیسے بہت بہادری کا کام کر لیا ہو۔ اسی رواں دواں سیلاب میں بچّوں سے پریشان عورتیں، بچّے جو دکان میں سجی ہر اشیا ء کو کتنے تجسس اور اشتیاق سے دیکھتے ہیں۔ مگر ماں باپ کے قدموں کی رفتار کو تھا منے میں بے بس ہیں۔
سفید کرتے پاجامے میں تیز قدموں سے مسجد کی طرف جاتے لوگ نظر آ رہے تھے۔ مغرب کی نماز کا وقت ہے، اسے بھی جانا چاہیے۔ مگر اس کے دل میں عقیدت کے جذبات کو اس کی سوچوں نے پراگندہ کر دیا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جنت کے خواہاں دنیا کو جہنم بنانے سے کیوں نہیں رک پاتے۔ جنت پانے کی خود غرضانہ خواہش نے ہم انسانوں کے صالح اعمال کو بھی کیسا مشکوک کر دیا ہے کیونکہ اپنے اپنے انداز میں سب کو جنت تو نظر آتی ہے پر انسان نظر نہیں آتے۔ وہ کمنڈل اٹھائے ’’بابا جی‘‘ سب کو عقیدت بیچ رہے ہیں۔ وہ لوگوں کی ہتھیلی پر کوئی پرساد دیتے ہیں بدلے میں لوگ چند سکے بابا کو پکڑا دیتے ہیں۔ سارا عمل کتنا میکانکی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو بس اپنی زندگی چلانے کے لیے الگ الگ ڈھونگ۔ ہونہہ۔۔۔
اس نے بے زاری سے سوچا۔ ’’مولوی، پنڈت، مرد، عورت، بوڑھے، جوان سب صرف ایک کام کر رہے ہیں یا زندگی ان سے کروا رہی ہے۔ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کی سعی۔ یہ جہنم جیتے جی انسان ساتھ لیے چلتا ہے اور وہ اسے جتنا بھرتا جاتا ہے تشنگی کی آگ اتنی ہی بھڑکتی جاتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ مصروف ہو جاتا ہے۔ نہ جانے کتنے جرائم، کتنی بے ایمانیاں، کتنی عیاریاں لکھتا ہے وقت کے صفحات پر جو وقت کی مجموعی سوچ میں بدل کر تاریخ بن جاتی ہے۔ شام کا سلیٹی رنگ رات کی سیاہی کے پردے میں روپوش ہو گیا۔ بازار کی رونق اب بھی بنی ہوئی ہے۔ اس نے اپنے قلم اور ڈائری کو وہیں کرسی پر رکھ دیا۔ بڑے شہروں کی مصنوعی دنیا میں کوئی سچ ایسا نہیں کہ اسے ڈائری پر درج کیا جا سکے۔ اس لیے آج بھی وہ کچھ نہیں لکھ سکے گا کم از کم ویسا کچھ جو وہ لکھنا چاہتا ہے۔ مگر اسے وہ لکھنا ہے جسے لکھ کر وہ خود کو غلام محسوس کرتا ہے۔
وہاں سے اٹھتے ہوئے اس نے اپنے خیالات سے فلسفے کی گرد جھاڑی اور جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے ٹٹولے۔ اب اس کی بھی بھوک اور پیاس چمک اٹھی تھی۔ ایک جہنم تو وہ بھی لے کر گھوم رہا ہے۔ وہ پانچویں منزل سے کھانا کھانے کے لیے نیچے اترتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ راجیو سچ کہتا ہے ان فلسفوں سے کس کا پیٹ بھرا ہے۔ اسے یاد آیا اس وقت کھانے کے بعد جیب خالی ہو جائے گی۔ اس لیے جب کھانا کھا کر آئے گا تو ایک بکواس کتاب پر بہت عمدہ تبصرہ لکھے گا، اپنی بھوک مٹانے کے لیے کسی کی شہرت کی بھوک مٹانے کی سعی کرنے میں برائی بھی کیا ہے۔ اپنے فلسفے، اپنی سچائی وہ خود تک محدود رکھے گا۔ اس نے سکون کا سانس لیا اور اوپر چھت کی کرسی پر پڑی ہوئی ڈائری کے سادہ اوراق ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے اور وہ اپنی چمکتی ہوئی بھوک کے پیچھے تیزی سے نیچے ہی نیچے اترتا جا رہا تھا۔
٭٭٭
ووٹ کا ویٹ
آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا بات ہوئی! ’’ووٹ کا ویٹ‘‘ آخر یہ کیا ہے۔۔۔؟ مضمون ہے۔۔۔؟ انشائیہ ہے؟ یا افسانہ ہے؟ اب یہ جو کچھ بھی ہے، ہے تو اردو میں ہی، تو بھلا انگریزی کے اس لفظ ’’ویٹ‘‘ کو یہاں گھسیٹ لانے کی کیا ضرورت تھی۔ اُردو کا ہی لفظ لیا جاتا تو بات صاف ہو جاتی۔ یعنی اگر اس ویٹ سے انتظار مراد ہے تو ’’ووٹ کا انتظار‘‘ لکھا جا سکتا تھا۔ اگر وزن مراد ہے تو ’’ووٹ کا وزن‘‘ نام دیا جا سکتا تھا اور اگر اس کے لفظی مفہوم سے گریز کرتے ہوئے ذرا گہری نظر ڈالنی ہے تو اسے وقار یا اہمیت کے معنوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے تو ’’ووٹ کا وقار‘‘ ہی کہہ دیا جاتا۔ مگر یہ ویٹ جو بھی ہو، ہے ایک حقیقت اور یہی حقیقت آپ کے سامنے ہے۔ چونکہ آج کل یہ رجحان غالب ہے کہ لکھنے والے کا یہ مسئلہ نہیں کہ وہ سوچے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے، یہ مسئلہ قاری کا ہے کہ وہ رد و تشکیل کے عمل سے گزر کر خود مفہوم تک رسائی حاصل کرے۔ اس لیے یہ فیصلہ آپ کیجیے کہ ’’ووٹ کے ویٹ‘‘ سے مراد ہے۔ مجھے تو اصل بات کی طرف آنے دیجیے۔
آپ تو جانتے ہی ہیں کہ الیکشن کا موسم پھر آ گیا۔ موسم کا تو کام ہی ہے پلٹ پلٹ کر آنا سو وہ آئے گاہی مگر موسم کا اپنا ایک قانون بھی ہے۔ سال میں ایک ہی بار وہ اپنی باری کا انتظار کر کے آتا ہے، یہ نہیں کہ برسات گرمی سے کہے کہ مجھے ذرا جلدی ہے اس لیے جاڑے کے بعد مجھے قطار میں لگ جانے دو۔ آنے والے سال میں، میں بھی چھٹی پر چلی جاؤں گی اور میری جگہ تم لے لینا۔ اگر ایسا ہونے لگے تو۔۔۔ توبہ توبہ۔ ابھی تو الیکشن کے موسم کی بات کرنی ہے اور میں اس سے بھٹک کر قدرتی موسم کی بات کرنے لگی۔ شکر ہے موسم نے ابھی اپنا قانون نہیں توڑا ہے۔ مگر اس الیکشن نے تو پچھلے چند سالوں سے سال میں تین بار اُگائے جانے والی سبزیوں کی کاشت کو بھی شرمندہ کر دیا ہے۔ جی ہاں پہلے سال میں کوئی بھی سبزی خواہ وہ ٹماٹر ہو یا گوبھی، مٹر ہو یا گاجر، ایک بار اپنی بہار دکھاتی تھی۔ زبان کا ذائقہ کیا تراوٹ پاتا تھا۔ ہر چیز کا بس اپنا ہی مزہ تھا جس دن گوبھی کی سبزی یا میتھی کے پراٹھے بن جائیں گھر کی پوری فضا معطر ہو جاتی تھی۔ گاجر کا حلوہ، نام آتے ہی بس پوچھیے مت خوشی سے چہروں پر گاجر کا رنگ آ جاتا تھا اور ان چیزوں میں جو صحت بخش عنصر شامل ہوتے تھے ان سے بھلا کسے انکار ہو سکتا ہے۔ مگر جب سے زراعت نے ترقی کی ہے یہی سبزیاں اب ہر تیسرے مہینے دوکانوں پر نظر آ جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ سنیے۔ اس دن میں اپنے یہاں آئے ہوئے رشتے کے ایک چچا کے ساتھ سبزیاں خریدنے بازار گئی تو میرے ضعیف العمر چچا نے کہا، ’’بیٹی! آج تم نے میری گرم جرسی نہیں پہنائی۔ پھر بھی مجھے سردی نہیں لگ رہی ہے۔‘‘
تو میں نے کہا، ’’چچا جان! بھلا اس گرمی کے موسم میں آپ کو سردی کیوں لگنے لگی۔‘‘
تو وہ چونک کر بولے، ’’آں ہاں! یہ تو گرمی کا ہی موسم ہے مگر پھر یہ گوبھی، گاجر، ٹماٹر کی بہتات سبزی منڈی میں کیسے۔۔۔؟ یہ تو جاڑے کے موسم کی بہار ہیں۔‘‘
میں نے کہا، ’’چچا جان! اب جو سبزی میں آپ کو کھانے کا پرانا مزہ نہیں ملتا ہے نا۔ وہ ہم عورتوں کا کھانا پکانے کے شوق سے بددلی نہیں بلکہ یہی وجہ ہے کہ ہر چیز کی کاشت سال میں ایک بار کی بجائے تین بار ہونے لگی ہے۔ کھاد ڈال کر ان کے حجم اور صورت کو جتنا بھی نکھار لو، ان کی سیرت کے کھوکھلے پن سے تو ہر کوئی جوجھ رہا ہے۔‘‘
لیجیے جناب! اب میں پھر ایک نئی ڈگر پر بھٹک گئی۔ کیا کریں ’’ووٹ میں ویٹ‘‘ ہو تب ہی تو اس مدعے پر ٹکیں۔ بہر حال بات ہو رہی تھی الیکشن کی یعنی ووٹ کی۔ تو جب الیکشن کا موسم بے موسم کی سبزی کی طرح ہمارے سر پر آ ہی گیا ہے تو ظاہر ہے یہ صحت بخش بھی نہ ہو گا مگر اب اس سے نبٹنے کے علاوہ چارہ بھی کیا ہے۔ وہ تو بھلا ہو الیکشن کمیشن کا جس نے پچھلی دفعہ غلط قسم کے پرچار پر وچار کر کے روک لگا دیا ہے۔ ورنہ ہندوستان کی آدھی آبادی ہر سال ہونے والے الیکشن کی چیخ و پکار سے بہری ہو جاتی تو ان نیتاؤں کا بھاشن کون سنتا۔ اس لیے باقی آدھی آبادی تو الیکشن میں لڑنے کھڑی ہو جاتی ہے۔
بہر کیف الیکشن کمیشن کے شکرانے کے بعد بھی میں سمجھتی ہوں کہ الیکٹرانک میڈیا کا شکریہ ادا نہ کرنا بھی نا انصافی ہو گی۔ کیوں کہ اب ہر نیتا اپنے اپنے وچار کے پرچار کے لیے اسی کا استعمال کرتا ہے تاکہ گھر گھر اس کی آواز پہنچ سکے۔ اب بے چارے، ہندوستانی اس پرچار سے تنگ آ جائیں تو اپنا غصّہ نیتا جی کے کان اینٹھ کر تو نہیں کر سکتے مگر اپنے ریڈیو، ٹی وی کے کان تو بخوشی اینٹھ سکتے ہیں۔ پھر بھی ان ساری باتوں کے باوجود ہر پارٹی کے وچار(خیالات) نہ چاہنے ہم تک پہنچے تو ہمارے اپنے ذہن میں بھی وچاروں کی ہانڈی پکنے لگی اور میں نے سوچا کیا میں اس بار پھر سے ووٹ دینے کی ہمت کر پاؤں گی۔ یہ سوال میرے ذہن میں اپنے پچھلے تجربے کی بنیاد پر آیا۔ کیونکہ پچھلی بار میں نے بہت سوچ سمجھ کر، جوش و شوق سے ووٹ دینے کی پلاننگ کی تھی۔ اس وقت مجھے یہ لگنے لگا تھا کہ اگر ہر بار ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں تو روز روز کی اس جھنجھٹ سے چھٹکارا ملے گا اور یہ خیال آتے ہی میں خود کو مجرم سمجھنے لگی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اتنا پڑھ لکھ کر اپنے حق کا استعمال نہ کرنا یقیناً جہالت ہے اور مجھ سے بہتر تو گاؤں کی وہ ناخواندہ عورتوں ہیں جو نہ جانے کتنی مشکلوں سے اتنی دور دور سے ووٹ ڈالنے چلی آتی ہیں۔ اگر ہم سو کالڈ (So Called) پڑھے لکھے لوگ پولنگ والے دن چھٹی کا پورا مزہ اُٹھاتے ہوئے، منہ لپیٹ کر نہ سوئیں تو شاید ملک کو ایک اسٹیبل گورنمنٹ (Stable Government) مل جائے۔ مگر اس نقار خانے میں طوطی کی آواز سنتا ہی کون ہے۔ جب نیتاؤں کی ہی کوئی نہیں سنتا۔ بہر حال اس کام پر دور درشن والوں نے پہلے ہی کمر کس رکھی ہے، اسی لیے طرح طرح سے دور دور کی کوڑی لا کر آپ کو درشن کرواتے ہیں اور کیسے کیسے سروے کر کے آپ کے کنفیوژن کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ تاکہ اگر آپ میں سوچنے سمجھنے کی ذرا بھی صلاحیت ہے تو وہ بھی مفقود ہو جائے۔ مگر میں نے حتمی ارادہ کر لیا تھا کہ میں ووٹ ضرور دوں گی۔ یہ اس وقت کا قصّہ ہے جب چار سال پہلے اپنا نام ووٹ لسٹ میں ڈلوا لیا تھا۔ مگر پہلے دو الیکشن میں تماش بین کی طرح پاپ کورن کھاتے ہوئے ٹی وی پر سارا تماشہ دیکھا تھا۔ مگر تیسری بار خود اس کا حصّہ بننا چاہتی تھی، ملک کے تئیں اپنا فرض ادا کرنا چاہتی تھی۔ اور اس ارادے کی تکمیل سے جو تجربہ ہو اس کی بناء پر آج یہ سوال ذہن میں ہے کہ کیا ایک بار پھر وہی سب۔۔۔؟ اچھا آئیے آپ کو بھی پچھلا تجربہ تباہی دوں۔
اُس بار ہوا یوں کہ ووٹ دینے کا خیال آتے ہی سب سے پہلی پریشانی یہ ہوئی کہ ووٹ کسے دوں؟ سب کا بھاشن نہ چاہ کر بھی سن چکی تھی۔ نہ جانے نیتاؤں کی تقریر میں میں کیا تلاش کر رہی تھی کہ کسی نے مجھے متاثر نہ کیا۔ سوچتی تھی کہ قبر میں پیر لٹکا یا ہوا آدمی حرص اور ہوس میں مبتلا نہ ہو شاید اپنی عاقبت سنوارنے کی خاطر لوگوں کا بھلا کرنے میدان میں اترا ہے۔ مگر اب تو یہ سوچ بھی غلط ثابت ہو چکی تھی جب سے ایک بزرگ محترم کی جیت کا نتیجہ ہماری اس سوچ کے برعکس نکلا۔ کیونکہ ایسے ہی ایک بزرگ لیڈر کو اپنی سات پشتوں کے لیے خزانے سمیٹتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔ شاید اپنی عاقبت سے زیادہ وہ انھیں آئندہ نسل کا مستقبل سنوار نے کی زیادہ فکر تھی، اسی لیے اب عمر اور تجربے سے متاثر ہونے کا قطعی ارادہ نہ تھا اور وعدوں پر اعتبار نہ تھا البتہ ارادوں کا پتہ ضرور تھا۔ سب کے ارادے الگ الگ تھے، تیور بھی الگ الگ تھے۔ مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ سب میں ایک بات بڑی مشابہ تھی۔ ان کے جسموں پر کرتا کھادی کا ہو یا سلک کا، ان کے ہاؤ بھاؤ بتاتے تھے کہ ان کی کھال بہت موٹی اور چکنی ہے۔ شاید مکھن کی مالش سے کھال موٹی اور چکنی ہو جاتی ہو۔ خیر میں پچھلی بار اپنے ووٹ ڈالنے کے تجربے کا ذکر کر رہی تھی۔ خدا خدا کر کے پولنگ والا دن آ گیا۔ چونکہ میں کوئی فیصلہ نہ کر سکی تھی کہ ووٹ کسے دوں اس لیے سوچا محلے والوں پر نظر رکھوں کہ ان کا رجحان کدھر ہے۔ اسی مقصد کے تحت یہ طے کیا کہ آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ہی ووٹ دینے جاؤں گی۔ اس طرح سب کے ساتھ قافلے کی شکل میں نکلی اور گھر کے پاس والے موڑ پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ ووٹروں کی آسانی کے لیے کئی پارٹیوں کی گاڑیاں سڑک پر دوڑ رہی ہیں۔ ابھی میں یہ سوچ رہی تھی کہ ان سیاسی پارٹیوں کو عوام کی دوسری تکلیفوں اور پریشانیوں کا احساس اتنی جلدی کیوں نہیں ہو پاتا کہ ایک بھیڑ کے دھکے کے ساتھ میں ایک ماروتی وین میں چڑھ گئی یا یوں کہیے چڑھا دی گئی۔ محلے کی بہت سے امائیں بھی ساتھ چڑھ چکی تھیں اس لیے چپ چاپ بیٹھ گئی۔ ہمارے بیٹھنے کے بعد کچھ خواتین نما حضرات بھی اس میں جگہ پا گئے۔ ان کی باچھیں یوں کھلی پڑ رہی تھیں جیسے اپنی بھائی کی بارات میں جا رہے ہیں اور مجھے لگ رہا تھا کہ ہم لوگ سرکس کے جانور ہیں جنھیں ایک گاڑی میں بھر کر کرتب دکھانے لے جایا جا رہا ہے۔ کیونکہ وین کے چلتے ہی اس میں بیٹھی اماؤں کے بچے جو سڑک پر چھوڑ دیے گئے تھے ہلڑ مچاتے ہوئے کچھ دور تک وین کے پیچھے بھاگتے ہوئے آ گئے پھر پیچھے چھوٹ گئے۔ پولنگ بوتھ پر پہنچتے ہی کچھ لوگ وین سے اترنے والوں کے آگے پیچھے لگ گئے اور کان میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ ’’آپ کو نام چاہیے؟ ادھر آئیے۔ نام لیجیے۔۔۔‘‘
عورتیں گروپ کی شکل میں بٹ گئیں اور ان کے ساتھ جانے لگیں۔ میں تنہا کھڑی رہ گئی کہ کدھر جاؤں۔ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہ آیا مگر جلد ہی سمجھ گئی کہ مختلف پارٹیوں کے لوگ الگ الگ جگہ پر بیٹھے ووٹ دینے والوں کو نام دے رہے تھے اور اُمید کر رہے تھے کہ انھیں ہی اس نام کا ووٹ ملے۔ بات سمجھ میں آنے پر میں بڑے اعتماد سے اس طرف گئی جہاں ووٹرز لسٹ لیے ایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس میز پر پہنچ کر میں نے ووٹرز لسٹ میں اپنا نام دیکھنے کے لیے کہا مگر میری اس بات پر اس آدمی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور ایسے مجھے نظر انداز کر دیا جیسے میں مخبوط الحواس ہوں۔ تب ایک آدمی کسی طرف سے میرے قریب آ کر بولا، ’’آپ ادھر آئیے۔‘‘
میں اس کے پیچھے گئی۔ وہ ایک درخت کے پاس مجھے لے گیا۔ وہاں زمین پر کچھ لوگ ایک لسٹ لے کر بیٹھے تھے اور ان کے چاروں طرف عورتیں ٹوٹی پڑ رہی تھیں۔ اس آدمی نے کہا، ’’یہاں آپ کو نام مل جائے گا۔‘‘
میں نے مشکور نگاہوں سے اسے دیکھا اور اس کوشش میں لگ گئی کہ لسٹ والے آدمی تک رسائی حاصل کر سکوں مگر مجھے کچھ انتظار کرنا پڑا۔ عورتیں اپنا اپنا نام لے کر ہٹ رہی تھیں، مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سب بار بارا پنا نام رٹ رہی ہیں۔ آخر کار میری رسائی بھی اس فہرست والے آدمی تک ہوئی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی اس نے کہا۔ ’’میڈم! ایک ہی نام بچا ہے یہی لے لیجیے۔ جلدی سے ووٹ دے کر آ جائیے گا، کوئی دھیان نہیں دے گا۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’کیا مطلب؟‘‘
تو اس نے کہا، ’’در اصل جو نام بچا ہے اس کی عمر ہے بیس سال مگر آپ اب یہی لے لیجیے۔‘‘ اور اس طرح ایک پرچی پر اس نے مجھے وہ نام پکڑا دیا اور میں بے وقوفوں کی طرح دیکھتی رہ گئی کہ اپنی عمر سے آدھی عمر والی لڑکی کے نام پر مجھے ووٹ دینا تھا۔ میرا نام تو نہ جانے کہاں گم تھا۔ ممکن ہے اس بیس سال والی لڑکی کے پاس ہو۔ مگر اتنا سمجھ میں آ رہا تھا کہ آپ کے پاس ووٹ ڈالنے کی فرصت ہو نہ ہو آپ کے نام سے ووٹ پڑ ضرور جاتے ہیں۔ خیر اب تو آ ہی چکی تھی اس لیے اپنا نیا نام رٹتے ہوئے میں ووٹ دینے کے آخری مراحل کی طرف چلی۔ میری سمجھ میں اب کچھ کچھ آ رہا تھا کہ یہ سب کیا چکر ہے اور میں سوچ رہی تھی کہ کیا سب کچھ اس ملک میں کبھی آرگینائز (Organize) نہیں کیا جا سکے گا۔ قوم کا بھلا کرنے کا جذبہ اس دھکم مکی میں کہیں گم ہو چکا تھا۔ میں دیکھ رہی تھی کہ ہر پارٹی کو ووٹ کے لیے ایک ہاتھ کی ضرورت تھی۔ اگر ان کا بس چلتا تو ووٹرز کو جمع کر کے لے جانے والی گاڑیاں صرف ہاتھوں کو بھر کر لے جاتیں اور ووٹ حاصل کر کے انھیں کچرے کے ڈھیر پر پھینک آتیں کیونکہ اگلے الیکشن تک ہاتھوں کی نئی کھیتی پھر اُگ آتی۔ مگر افسوس کہ ایک ہاتھ کے ساتھ ایک سرکی گنتی بھی ہو جاتی ہے اور سر بھی ایسے ایسے جس میں بھُس نہیں بھرے ہیں بلکہ وہ خود بھی سوچ اور سمجھ سکتے ہیں۔ اسی لیے تو نہ جانے ان کی گاڑیوں کا پیٹرول پھونکنے کے بعد اندر جا کر کس کے نام کے آگے ٹھپّہ لگاتے ہوں گے؟ کون جانے؟ مگر اس وقت تو مجھے فیصلہ لینا تھا۔ میری انگلی پر سیاہی لگانے والے آدمی نے ذرا بھویں سکوڑ کر کہا، ’’آپ کا نام؟‘‘
شکر ہے میرا نام زبان پر آتے آتے رہ گیا۔ اپنا نیا نام میں بھول چکی تھی صرف عمر یاد تھی۔ تبھی اس کے قریب بیٹھے آدمی نے دھیرے سے کہا، ’’جانے دو اپنی ہی گاڑی پر آئی ہیں۔‘‘
’’جایئے۔‘‘ اس نے پردے کے پیچھے جانے کا اشارہ کیا۔ میں اندر گئی، فیصلے کی گھڑی آ پہنچی تھی، تھوڑا سوچا۔ یوں لگا باہر بیٹھے آدمی نے میرا کنفیوژن دور کرنے کے لیے اشارہ دیا ہے۔ جس وین پر آئی تھی اس پر لگا بینر یاد کیا پھر دوسری پارٹی کی گاڑی کا بینر یاد کیا۔ دل میں ہمدردی پیدا کی (ویسی ہی ہمدردی جیسی ان قوم کے رہنماؤں کے دل میں الیکشن کے وقت ووٹرز کے لیے ہوتی ہے) اور اس طرح اپنی انصاف پسند طبیعت کے تحت دونوں نشانوں پر اس طرح ٹھپّہ لگا دیا کہ دونوں پر برابری سے آدھا آدھا تقسیم ہو جائے اور واپسی میں اس وین میں نہیں بیٹھی جس سے آئی تھی بلکہ دوسری پارٹی کی گاڑی میں بیٹھ گئی اور اپنے اس انصاف پر عش عش کر اُٹھی۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اس بار کے الیکشن میں پھر سے ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر پاؤں گی؟ ہر گز نہیں۔۔۔ اور ضرورت بھی کیا ہے ایسے ووٹ کا ویٹ ہی کسے ہے اور کتنا ہے۔
٭٭٭
دمڑی کی دال
اسے بہت کوفت ہوتی جب لڑائیاں بلا وجہ زور پکڑتیں۔ دونوں ہنستے ہنستے خوشگوار باتیں کرتے ہوئے اچانک کب الجھ پڑتے اس کی سمجھ میں نہ آتا۔ جبکہ وہ اپنی طرف سے عدنان کو خوش رکھنے میں کبھی کوئی کمی نہیں کرتی۔
’’جب دیکھو کسی کام میں مصروف!! کبھی مجھے بھی وقت دیا کرو۔‘‘ عدنان نے بڑے خوشگوار موڈ میں کہا تو ساجدہ اپنے خیالات سے چونک اٹھی۔ عدنان کو خوش گوار موڈ میں دیکھنا ساجدہ کو کتنا پسند تھا۔ وہ اپنی ساری طاقت خرچ کیے رہتی کہ عدنان کے چہرے پر شکن نہ آئے مگر شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا کہ عدنان اچھے موڈ میں ہوتے۔ زیادہ تر وہ چڑچڑے، جھنجھلائے ہوئے، ڈانٹتے اور ڈپٹتے ہی نظر آتے۔ بچے تو کسی کونے میں سما جاتے اور اس جھنجھلاہٹ کا سارا عتاب ساجدہ پر ہی گرتا۔ وہ کبھی خاموش رہ کر، کبھی منمنا کر اور کبھی کبھی پلٹ کر احتجاج کر کے اس کے غصے کا سامنا کرتی رہتی۔ اب تو وہ اسے ہی اپنا مقدر مان چکی تھی۔ درمیانے طبقے کی عورتوں کا یہی تو مسئلہ ہے کہ وہ بہت جلد اپنے حالات کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اپنی پیشانی پر مل لیتی ہیں۔ کیونکہ حالات سے بھاگنا ان کی نظر میں، ان کی تربیت میں اور ان کے عقیدے میں گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ ساجدہ بھی ایسی ہی تربیت، نظریے اور عقیدے کی عورت تھی۔
’’لو بھئی!! یہ پورے ڈھائی ہزار روپے ہیں۔‘‘ عدنان کے چہرے پر رعونت، فخر اور محبت احساسِ پدری کے ساتھ مل کر شیر و شکر ہو رہے تھے۔
’’یہ کس لیے؟‘‘ ساجدہ کی آواز سے احساسِ ذمہ داری، تشکر اور فکر کا ہلکا سا شائبہ بھی جھلک پڑا کیونکہ ہر ذمہ داری اسے زمین میں آدھا انچ دھنسا دیا کرتی تھی۔
’’ارے! تم نے ہی کہا تھا نا کہ اماں کو ڈاکٹر کو دکھانا ہے اور بچوں کے لیے عید کے کپڑے پہلے سے ہی بنوا لو۔‘‘
’’ہاں!!‘‘ ساجدہ نے چہرے پر خوشی لانی چاہی۔
’’کمانے والا اپنا جگر چھلنی کر کے پیسے گھر لاتا ہے ذرا چہرے پر خوشی رکھا کر‘‘ اسے اماں کا مخصوص جملہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ یاد آ جاتا مگر خوشی اور پیسے کا تعلق اس کے پاس بہت گمراہ کن تھا۔ نہ جانے وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو پیسے سے خوشیاں خرید پاتے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں تو جب جب پیسے آئے وہ اپنے ساتھ فکر ہی لے کر آئے۔ وہ پیسے کو کھینچ کر کبھی بڑا نہ کر پائی، ہاں کام ضرور کھنچتے چلے جاتے ہیں اور عدنان کی ساری چڑچڑاہٹ بھی تو یہی اخراجات پورا کرنے کی ہوتی ہے۔
’’کیا کم ہیں۔۔۔؟ کس سوچ میں ہو؟ اماں اور تمہارے کپڑوں کے لیے بعد میں دیکھا جائے گا۔‘‘ عدنان کی آواز پر وہ پھر اپنے خیالات کے بھنور سے نکلی۔
’’ارے نہیں!!! ہو جائے گا، کافی ہیں۔‘‘ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا جبکہ دل اور دماغ میں یہی رسہ کشی چل رہی تھی کہ یہ ناکافی ہیں۔ اس نے دس سالہ شادی شدہ زندگی میں اپنی زبان کو اتنا سدھا لیا ہے کہ اس سے وہی الفاظ نکلتے ہیں جو عدنان کے کانوں کو پسند آئیں۔ وہ مصمم ارادہ کر کے آتی ہے کہ اس بار عدنان سے کہہ دے گی کہ اسے زیادہ رقم چاہیے۔ یوں گن گن کر مت دیا کرو ورنہ مجھ سے یہ کام نہیں ہو گا۔ مگر عین موقع پر سدھائی گئی زبان دھوکا دے جاتی ہے اور عدنان کی ناراضگی کے خوف سے وہ کچھ نہیں کہہ پاتی۔
’’سنو!!! ایک چھوٹی سی میری بھی فرمائش ہے ناراض تو نہیں ہو گی۔‘‘ عدنان آج کچھ زیادہ ہی ترنگ میں تھے۔
’’اففف! میں کب ناراض ہوتی ہوں۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔ ساجدہ کو ہر وقت جھنجھلائے اور چڑچڑے رہنے والے عدنان کا کبھی کبھی اپنایا گیا یہ خوشامدانہ، لجاجت بھرا مصنوعی انداز بہت برا لگتا تھا کیونکہ اس کی شخصیت پر یہ انداز پھبتا نہیں تھا۔ وہ اس کے خوشامد کی متمنی نہیں تھی بس یہ چاہتی تھی کہ تنگی ہو یا فراوانی دونوں بغیر تناؤ لیے ہر بات کا فیصلہ کریں، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں اور وہ اپنے اندر سے یہ خوف نکال سکے کہ اس کے کسی انکار پر یا فرمائش پر عدنان کا موڈ خراب ہو جائے گا۔
’’میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے؟‘‘ عدنان کی آواز پر وہ چونک گئی۔
’’ہاں کیا! بتاؤ سن رہی ہوں۔‘‘ اس نے بڑی مشاقی سے اپنے احساسات کو پیچھے دھکیلا۔
’’ایک دو دن میں باس کے ساتھ کچھ دوستوں کو اور ان کی بیویوں کو کھانے پر بلاؤں گا۔ تم بھی ذرا سب سے ملا کرو، دیکھو سب کتنی خوش باش رہتی ہیں، کتنی اسمارٹ لگتی ہیں۔ تم تو بس ہر وقت نہ جانے کس پریشانی میں نظر آتی ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ ساجدہ نے پھیکی ہنسی کے ساتھ کہا۔ وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ اسے یہ سب کچھ ان ہی ڈھائی ہزار روپوں میں کرنا ہے مگر خیال دماغ کی اندھیری گپھا میں چکرا کر رہ گئے، اظہار کا راستہ نہ ڈھونڈ سکے۔
’’اور سچ پوچھو تو میں یہ تمہارے لیے ہی کر رہا ہوں، ملنا جلنا بھی ضروری ہے ورنہ مجھے کہاں فرصت ہے ان جھمیلوں کی۔‘‘ عدنان نے شرٹ اتار کر اس کی طرف اچھال دیا اور تولیہ اٹھا کر غسل خانے کا رخ کیا۔
کہنے کو تو اس کے پاس بھی بہت کچھ تھا مگر ذہن ڈھائی ہزار روپے کی بے چین پھڑپھڑاہٹ اپنی منجمد انگلیوں میں محسوس کر رہا تھا جو اس کے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی نئے نئے پنکھ لگا کر پرواز کو تیار تھے۔ اس نے حساب لگایا، اماں کے ڈاکٹر کی فیس پانچ سو، کم از کم ہزار کی دوا تو بچے ہوئے ہزار روپے میں دونوں بچوں کے سستے سے سستے کپڑے بھی ممکن نہیں۔ ہاں گھر میں دعوت کا انتظام وہ کسی نہ کسی طرح بچے ہوئے ہزار روپے میں کر لے گی۔ سب کی بیویاں ہوٹل میں دعوت کا انتظام کرتی ہیں۔ عدنان کو ان ہی دعوتوں اور چمک دمک کا جواب دینا ہوتا ہے۔ ساجدہ کے گھر کے کھانے کی لذت سب پر بھاری پڑتی ہے مگر اس کا تھکا ہوا چہرہ، بجھا ہوا وجود، عدنان کی خوشیوں پر پانی پھیر دیتا ہے مگر وہ کر بھی کیا سکتی ہے۔ ان لوگوں کا مقابلہ کرنا بھی نہیں چاہتی، نہ جاننا چاہتی ہے کہ اتنے پیسے لوگوں کے پاس آتے کہاں سے ہیں؟ اسے تو بس اتنا معلوم ہے کہ ایسی دعوت کا اثر مہینہ بھر کے بجٹ کو ڈانوا ڈول کر دے گا۔ خیر دیکھا جائے گا۔ اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی فکروں کو پرے دھکیلا اور رقم الماری میں رکھ کر بالکونی میں گئی۔ کام والی اب تک کہاں غائب ہے؟ اس نے فلیٹ کی بالکونی سے بغل والے خالی پلاٹ کی جھگی کی طرف نظر ڈالی۔ افففف!!! آج بھی وہی منظر، ہر دوسرے تیسرے دن اس کا شوہر اس کی لاتوں گھونسوں سے تواضع کرتا ہے۔ یعنی آج بھی نہیں آئے گی، سارا دن ٹسوے بہائے گی۔ وہ واپس باورچی خانے میں آ کر روٹی بنانے لگی۔ اب انتظار فضول ہے۔ بے وقوف چھوڑ کیوں نہیں دیتی ایسے جابر اور ظالم شوہر کو، کون سا اس کے رحم و کرم پر اس کے خانہ داری کی گاڑی چلتی ہے جو۔۔۔۔ لیکن آج وہ تھوڑی دیر بعد کام پر آ گئی۔ سر کی چوٹ پر ایک غلیظ سے کپڑے کی پٹی بندھی تھی۔ چپ چاپ آ کر برتن دھونے لگی۔ روٹی بناتے بناتے ساجدہ نے پوچھا، ’’آج پھر پٹ کر آئی ہے، کیوں مار رہا تھا وہ۔‘‘
’’چھوڑیے نا بی بی!! روز کا تو وہی کسا (قصہ) ہے۔‘‘
’’آج کیا ہوا تھا۔۔۔؟ بتا تو۔‘‘
’’وہی دمڑی کی دال اور کیا۔۔ ہم غریبن کا کسا۔۔‘‘
’’دمڑی کی دال؟ پہیلیاں کیوں بجھوا رہی ہے۔‘‘ ساجدہ نے جھنجھلا کر کہا۔ وہ ہنسنے لگی تو ساجدہ کو اس کی دماغی صحت پر شبہ ہوا اور اسے مڑ کر حیرت سے دیکھا تب اطمینان ہوا۔ وہ آنسو بھری آنکھوں سے ہنس رہی تھی۔
’’چل چھوڑ برتن، پہلے یہ چائے پی لے اور یہ جو سر کی چوٹ پر گندی سی پٹی باندھی ہے، کہیں کوئی انفیکشن نہ ہو جائے۔ پاس والی کلینک میں جا کر پٹّی کروا۔‘‘ ساجدہ نے چائے کپ میں ڈال کر اسے دی۔ عدنان اور اماں کی چائے انھیں پہنچا کر آئی تو دیکھا وہ بالکونی میں بیٹھی خلاؤں میں نہارتی چائے پی رہی ہے۔ ساجدہ بھی اپنا کپ لے کر وہیں آ گئی اور بالکونی میں پڑی کرسی پر بیٹھتی ہوئی بولی، ’’اب بتا یہ دمڑی کی دال کا کیا قصہ ہے۔‘‘
’’بی بی آپ کی سمجھ میں نہ آئے گا۔ یہ وہ بات ہے جو عورت کے لیے پتھر پر لکھ دی گئی ہے مگر سب اسے سمجھتے اور سمجھاتے اپنی اپنی بھاشا میں ہیں۔‘‘ اس نے ساجدہ کو مزید الجھا دیا۔ تھوڑی دیر میں وہ پھر گویا ہوئی، ’’یہ ایک بہت پرانا محاورہ ہے بی بی! جو مائی سے سنتے تھے لیکن آج بھی ہم لوگوں کے لیے پرانا نہیں پڑا۔
دمڑی کی دال سجنی تھوڑی پکئی ہو
تم لڑکوری ذرا زیادہ ہی کھئی ہو
میری قدر جان ذرا باسی بھی رکھیو
بس بی بی یہی ہے سارا جھگڑا۔ مرد اپنی کمائی عورت کے ہاتھ پر دھر کر خود کو سارے جہاں کا شہنشاہ سمجھنے لگتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کمی ہمارے کرنے میں ہے اس کے کمانے میں نہیں۔ آپ تو جانتی ہیں نا! ’’دمڑی‘‘ پرانے زمانے کا پیسہ؟‘‘
’’ہاں ایک زمانے میں دمڑی سب سے چھوٹا اور بے وقعت پیسہ ہوتا تھا۔‘‘ ساجدہ نے کہا۔
’’تو بی بی!! اس کی دال کیسی اور کتنی آتی ہو گی سستی کے زمانے میں بھی۔ تو یہ مرد یہی کرتے ہیں، ہاتھ پر دمڑی کے ساتھ اتنی نصیحت بھی اور تھما دیتے ہیں ہم عورتوں کو کہ سب سے گھٹیا قسم کی دال لا کر اسے بھی کم پکانے کی تاکید۔ پھر کہیں گے تم بچے والی ہو، زیادہ کھانا اور میری قدر جان کر باسی بھی رکھ دینا۔‘‘ اس وضاحت کے بعد وہ پھر ہنسنے لگی اور اچانک آبدیدہ ہو کر بولی، ’’اور جو ایسا نہ کر سکو تو جوتا اور لات تو ہے ہی کھانے کو۔ مگر بی بی آپ نہیں سمجھیں گی کیونکہ آپ کو کبھی دمڑی میں گزارہ نہیں کرنا پڑتا ہے نا؟‘‘ وہ اپنا فلسفۂ حیات بیان کر کے اٹھ گئی مگر ساجدہ کے ذہن میں یہ محاورہ گرداب بن کر گھسا اور پورے وجود کو اس کے تلاطم میں گردش دینے لگا۔ جانے ان جانے وہ اسے اس کی الجھن کا سرا پکڑا گئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ زمانہ کوئی بھی ہو، ہر رقم دمڑی کیوں بن جاتی ہے۔ پھر کچھ سوچ کر ساجدہ اٹھی، جلدی جلدی تیار ہوئی اور عدنان سے کہا، ’’مجھے آفس جاتے وقت بازار چھوڑ دینا۔ بچوں کے کپڑے لے کر واپسی میں اماں کے لیے ڈاکٹر سے وقت لے لوں گی۔ اور ہاں! ان دونوں ضروری کاموں کے بعد پیسے ہاتھ میں نہ بچے تو تمہارے دوستوں کی دعوت سے معذرت۔ مجھے اپنے ضروری کاموں کو ’’دمڑی کی دال‘‘ نہیں بنانا۔‘‘
عدنان نے حیرانی سے اس کے بدلے ہوئے تیور کو محسوس کر کے پوچھا، ’’کیا کہہ رہی ہو’ ’دمڑی کی دال‘‘ مطلب کیا؟‘‘
’’تم نہیں سمجھو گے۔ بس یہ کہ اب دمڑی کی دال اس گھر میں نہیں پکے گی۔‘‘ اور زور سے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
عدنان نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا۔ ’’اچھا تو پھر چلو۔‘‘ اور وہ مضبوطی سے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے ہو لی۔
٭٭٭
افسانچے
الیکٹرو ڈائنامک آلہ پر رکھے خواب
بارہ سالہ راجو اور سات سالہ دیپو دن بھر بازار میں کچرا لوٹتے رہے تھے۔ پلاسٹک کی بوتلوں کے کچھ ڈھکن اور لوگوں کے آدھے پونے کھا کر پھینکے ہوئے ٹکڑے ان کی جھولی میں نا کافی تھے اور ان کے گرد آلود ملگجے سراپے کا مذاق اڑا رہے تھے۔ کبھی کبھی کسی مہربان چہرے کے سامنے دیپو ہاتھ بھی پھیلا دیتا تو چند سکّے یا کوئی کھانے کی چیز مل جاتی۔ تب ہی ایک ٹی وی شو روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے راجو ٹھٹھک کر رک گیا۔ نشر ہوتی ہوئی خبر میں لفظ ’’کچرا‘‘ اس کی سماعت سے ٹکرایا تھا۔ اس کی تقلید میں دیپو بھی ادھر متوجہ ہو چکا تھا۔ دونوں منہ کھول کر خبریں سننے لگے۔
’’سیٹلائٹ شکن تجربات سے پیدا ہونے والے کچرے نے صورت حال کو بے حد تشویش ناک بنا دیا ہے۔ خلاء میں موجود یہ کوڑا تقریباً ایک کروڑ ٹن وزنی ہے اور خلائی دور کے آغاز سے اب تک بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق راکٹوں کے خالی خول، مردہ سیٹلائٹ، شیشے کے ٹکڑے اور پینٹ کے ذرّات خلاء میں تیر رہے ہیں۔ جاپان نے بحر الکاہل میں قائم تانیگاشیما خلائی مرکز سے ایک کارگو خلائی جہاز بھیجا ہے جو تقریباً سات سو میٹر لمبے کسی آلہ کی مدد سے زمین کے مدار میں موجود خلائی کچرے کو ہٹائے گا۔ اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ خلائی کوڑا کرکٹ کو مدار سے باہر کھینچ لائے گا۔‘‘
ابھی خبر ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ راجو نے دیپو کا ہاتھ پکڑا اور تیز دوڑتا ہوا بازار سے نکل گیا۔ وہ سیدھا نکّڑ والے کچرے کے ڈھیر پر پہنچ کر بیٹھ گیا۔ تیز دوڑنے سے ان کی سانس پھول رہی تھی اور شدّتِ جذبات سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ دیپو نے سانس بحال کر کے پوچھا، ’’کیا ہوا ہے رے راجو؟‘‘
’’تو کچھ نہیں سمجھا۔‘‘
’’نہ!!‘‘دیپو نے معصومیت سے کہا۔
’’سمجھے تو ہم بھی نہیں بس اتنا سمجھ میں آیا کہ آسمان میں کوئی راکٹ خراب ہو گیا ہے۔ اس کا بہت ڈھیر سارا کچرا گرے گا۔ راکٹ تو کتنا بڑا ہوتا ہو گا اور اس میں کتنا مہنگا مہنگا سامان لگا ہو گا۔‘‘
’’ہاں۔۔۔‘‘دیپو کے چہرے پر ایک چمک آئی اور اس نے اثبات میں سر ہلایا پھر پوچھا، ’’کہاں گرے گا یہ کچرا؟‘‘
’’ہت تیری کے!!!‘‘ راجو نے اپنے سر پر زور سے ہاتھ مارا۔ ’’ای تو ہم سوچے نہیں۔ کھبر ماں تو او جاپان بولا تھا۔‘‘
ان کی خوشی پل بھر میں کافور ہو گئی۔ ان کے خواب جاپان کے کارگو خلائی جہاز کی طرح خلاء میں بھی ابھی نہ پہنچے تھے کہ زمین کے کچرے میں آ ملے اور اب وہ مایوسی سے روز کی طرح کچرے کے ڈھیر میں گھسے اسے الٹ پلٹ رہے تھے۔ اس بات سے بے خبر کہ آج نہیں تو کل جاپان کا مشن تو کامیاب ہو جائے گا اور یہ الیکٹرو ڈائنامک آلہ اپنی توانائی سے اشیاء کا مدار بدل دے گا مگر ابھی ایسا کوئی آلہ سائنس نے نہیں بنایا کہ ان کی زندگی کا مدار بدل جائے اور ان کے خواب اس کچرے کے ڈھیر میں رلتے نہ رہیں۔
٭٭٭
پوت کے پاؤں
وہ ماں تھی، اپنے بیٹے کی حرکتیں دیکھ کر فکرمند ہو جاتی اور بار بار کہتی، ’’پوت کے پاؤں پالنے میں ہی پتہ چل جاتے ہیں۔ اس لڑکے کے طور طریقے اچھے نہیں مگر تم اپنے بیٹے پر دھیان نہیں دیتے۔‘‘
مگر باپ مسکرا کر رہ جاتا اور بیٹے پر ایک شفقت بھری نظر ڈال کر اپنی مصروفیت میں مگن ہو جاتا۔ ماں کی فکر اور باپ کی بے فکری نہ گئی۔ بیٹا بڑا ہوتا گیا۔ کبھی کبھی احتجاجاً ماں چیخ اٹھتی۔
تم کچھ کہتے کیوں نہیں؟ ذرا پڑھنے میں دل نہیں لگاتا۔ اتنے پڑھے لکھے انسان کا اپنا بیٹا ایسا نالائق، روز لڑ جھگڑ کر گھر آتا ہے اور کسی کی بھی چیز جبراً اٹھا لاتا ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں، کیا چور ڈاکو بنے گا؟‘‘
باپ پھر بھی کچھ نہ کہتا اور اسے مسکرا کر ایسے دیکھتا جیسے دنیا کا سب سے مطمئن باپ ہو اور ماں رنج سے گنگ رہ جاتی۔ دوسروں کے بچوں پر ہر وقت محنت کرنے والا انسان اپنے بیٹے سے اتنا غافل کیسے ہے؟ بلکہ اسے یہ بھی لگنے لگا تھا کہ وہ باپ کی شہ پر مزید خود سر ہوتا جا رہا ہے۔ سنِ بلوغت کی طرف بڑھتے قدم بتدریج دنیاوی معاملات میں اسے سرگرم کر رہے تھے اور وقت سے پہلے کر رہے تھے۔ ماں واضح طور پر محسوس کرنے لگی تھی کہ وہ اپنے معاملات اور زندگی سے اپنے والدین تک کو متروک کرتا جا رہا ہے۔
آخر ایک دن ماں سے رہا نہ گیا۔ وہ شوہر کے پاس آ کر بولی، ’’ہمارا ایک ہی بیٹا ہے۔ ہم اسے کامیاب انسان بنانا چاہتے تھے لیکن حیرت ہے تم اتنے مطمئن کیسے ہو سکتے ہو اپنے بیٹے کی طرف سے۔ کبھی سوچا ہے کیا بنے گا وہ؟
شوہر نے اپنی موٹی سی عینک اتار کر ٹیبل پر رکھی۔ بیوی کی طرف دیکھ کر سکون اور بردباری سے کہا، ’’میری ماں کو بھی میری اتنی ہی فکر تھی جتنی تمہیں ہے۔ میرے والد نے بھی میری بہت پرواہ کی، مجھے ہر طرح سے باندھ کر رکھا، میرا ایک لمحہ ادھر ادھر ضائع نہ ہونے دیا اور میں نے بہت پڑھا، بہت اچھے رزلٹ لائے اور دیکھ لو آج کیا حیثیت ہے؟ ایک معمولی ٹیچر ہی تو ہوں مگر میرے بیٹے کا مستقبل بہت روشن ہے۔ اس میں وہ ساری خصوصیات پروان چڑھ چکی ہے جس کے آگے سارے نمبر، رزلٹ، نالج اور عہدے سر جھکا کر ہاتھ باندھے کھڑے رہیں گے اور اسے خود کے لیے کسی سند کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ وہ اس ملک کا ایک کامیاب سیاست دان بنے گا۔‘‘
٭٭٭
خود کلامی
’’کون ہو تم۔۔؟‘‘
’’میں۔۔؟‘‘
’’ہاں۔۔ تم۔۔! تمہاری کوئی شہرت؟ تمہارا نام کوئی جانتا ہے؟ ۔‘‘
’’کیا بتاؤں۔۔؟ میں تو اپنی ڈائری کے اوراق میں، اپنی کہانیوں میں بھی خود کو تلاش نہیں کر پاتی۔ میرا وجود کہیں بھی مستحکم نہیں۔ میں اپنا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں مگر وہ کہیں بھی مکمل نہیں ملتا۔ اتنے ٹکڑوں میں بنٹا ہوا یہ چہرہ اب پہچانا نہیں جاتا اور یہ ٹکڑوں میں بنٹ کر اتنا نوکیلا اور دھاری دار ہو چکا ہے کہ کسی کے کام کا نہیں رہا۔‘‘
’’تو انہیں یکجا کرو۔ پہچان کے لئے یہ کرنا ہو گا۔‘‘
’’بہت مشکل ہے۔۔۔ میں جب ایک جھجھک کے ساتھ ان ٹکڑوں کو جمع کرتی ہوں، انہیں ایک پہچان دینا چاہتی ہوں تو مجھ پر آشکار ہوتا ہے کہ یہ ریزے تو اب میرے کام کے بھی نہیں رہے بلکہ اس کوشش میں میرے ہاتھ بھی لہولہان ہو گئے۔‘‘
’’تو تم اس دنیا سے نکل جاؤ۔؟ یہاں رہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔‘‘
’’مگر کیوں۔۔؟ میرا قصور کیا ہے۔۔؟ میں جاننا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تمہارا قصور اس عہد میں ہو کر کسی شہرت پانے کی وبا میں مبتلاء نہ ہونا ہے۔ جس کے بغیر جینے سے بہتر مر جانا ہے۔‘‘
’’مرنا تو ہے ہی، اب کرونا جیسی وبا سے مریں یا شہرت کی ہوس میں۔‘‘
’’تمہیں اس عہد میں نہیں رہنا چاہئے۔ تم دقیانوسی ہو، اس دور میں تمہارا گزارہ مشکل ہے۔ ‘
’’ہاں۔۔ میں یہ جان کر حیران ہو جاتی ہوں کہ میرا قصور اس عہد میں ہونا ہے۔ ہر عہد کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ غالب کے عہد کے کچھ اور مسائل تھے، منٹو کے عہد کے کچھ اور مگر عصری مسائل تو کچھ عجیب ہیں، جہاں صرف میں ہی نہیں ہر ذی نفس ایک بے چارگی کا شکار ہے جو صرف کسی خاص معاشرے کا مسئلہ نہیں بلکہ سارے انسانوں کی نفسیاتی بیماری بن کراس کی سائیکی میں سرایت کر گئی ہے۔ وہ عورت ہو یا مرد، زبان ہو یا تہذیب، نسل ہو یا معاشرہ یا پھر ادب ہو یا ادیب، ایک بے ہنگم شور ہے جو ہجومِ بے کراں سے ’’میں‘‘ کے اصوات میں ڈھل کر چیخ و پکار میں بدل گیا ہے۔ اپنی اپنی ’’میں‘‘ کے لیے ہر ذی روح اس قدر خائف ہے کہ ماضی کی ہر خوبصورت عبارت سے بھی اسے خوف آتا ہے۔ اس لیے وہ اسے بھی مٹانے پر مصر ہے اور اپنے عہد کی صاف سلیٹ پر صرف ایک لفظ دیکھنا چاہتا ہے ’’میں‘‘۔
’’کتنی عجیب ہو تم۔۔۔؟ سب کچھ جانتی ہو مگر اس ’میں ‘کے لئے کچھ نہیں کرتی۔‘‘
’’کیونکہ میں یہ جانتی ہوں کہ انجام پر سب کا یہی ’’میں‘‘ خون کے آنسو رلائے گا۔‘‘
’’تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے۔؟‘‘
’’ایسا اس لئے لگتا ہے کہ اس ’میں ‘ کو نمایاں کرنے کے لئے ہم زندگی کی سلیٹ سے پرانی عبارت مٹانے کی روایت چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ تو سوچ لو کہ کسی ’میں ‘ کی زندگی کتنی دیر پا ہو گی۔‘‘
٭٭٭
مجذوب
’’کون اتنی دیر سے دروازہ پیٹ رہا ہے؟‘‘
’’وہی مجذوب ہے اماں۔‘‘
’’اففف!! نہ دن دیکھتا ہے نہ رات، جب دیکھو منہ اٹھائے چلا آتا ہے، پاگل کہیں کا!!‘‘
میں نے بالکنی سے سر ذرا نکال کر نیچے دیکھا، گیٹ پر وہی مجذوب سا شخص کھڑا تھا۔ میں چند ماہ قبل اوپر کے کمرے میں کرائے دار کے طور پر آیا تھا اور بار ہا یہ منظر دیکھ چکا تھا مگر جب تک وہ چلا نہ جاتا میری دلچسپی بنی رہتی۔ تیز قدموں سے چلنے کی بلکہ غصے سے پیر پٹک پٹک کر چلنے کی آواز آئی، دھڑاک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا۔ اسے چند سکے تقریباً پھینک کر ڈھیروں مغلظات کے ساتھ دیے گئے جو کھٹ سے زمین پر گرے اور لڑھکتے ہوئے نالی میں جا گرے –
’’کمبخت! ہاتھ میں سکت نہیں کہ دی ہوئی چیز ڈھنگ سے تھام سکے۔‘‘ دینے والے نے پھر اسی کو ملامت کی۔ مجذوب شانِ بے نیازی سے مڑا اور سامنے والے مکان کے گیٹ پر ایک دستک کے بعد زمین پر آرام سے بیٹھ کر پیر کھجانے لگا۔
’’دماغ تو دیکھو جیسے کہیں کا شہنشاہ ہو۔ ہونہہ!! سامنے سے لینے میں جلدی نہیں رہتی، آرام سے بیٹھ کر خیرات کا انتظار کرتا ہے۔‘‘ بڑ بڑا ہٹ دور ہوتی گئی۔
’’اماں مجذوب ہے پر خوب سمجھتا ہے کہ تم خیرات کم اور گالیاں زیادہ دیتی ہو۔‘‘
’’اچھا رہنے دے۔ کیا سامنے اس کی خاطر داری ہوتی ہے؟ جو۔۔۔۔‘‘
’’وہاں اسے کھانا ضرور ملتا ہے۔ اسی کا انتظار کرتا ہے۔‘‘
میں نے دیکھا سامنے کا گیٹ کھلا اور ایک لڑکی کاغذ کی پلیٹ میں اسے کھانا دینے آئی جسے دیکھ کر وہ خوش نہیں ہوا اور اشارے سے پانی اور کچھ اور دینے کا اشارہ کیا۔ آں۔۔ آں ں۔۔۔ کی آواز احتجاج میں بلند ہوئی۔ لڑکی نے ناگواری سے جانے کا اشارہ کیا اور پانی کے لیے قریب کے خالی پلاٹ میں لگے نلکے کی طرفا شا رہ کر کے اندر چلی گئی۔ وہ اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا نل کی طرف گیا۔ وہاں پر اچھل کود کرتے کچھ بچوں نے اسے پریشان کرنے کی کوشش کی اور اس پر پانی پھینکا مگر وہاں موجود ایک بڑھیا بھکارن نے انھیں ڈانٹ کر بھگا دیا۔ مجذوب ان ساری باتوں سے بے پرواہ نظر آ رہا تھا۔ وہ آرام سے اس چبوترے پر جا کر بیٹھ گیا۔ میں اپنا سارا کام بھول کر اس کی حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا۔ اس نے روٹی توڑ کر نوالہ منہ میں ڈالا۔ ایک کتا سامنے آ کر بھوکی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ مجذوب نے ہاتھ میں پکڑی روٹی اس کی طرف اچھال دی اور پلیٹ میں پڑی آخری روٹی اٹھائی۔ اس کے علاوہ ذرا سے چاول بھی تھے۔ اس نے ضعیفہ کی طرف دیکھا اور اس کے قریب کھسک آیا۔ آں، ، آں، ،، کر کے اس سے چا ول کھانے کے لیے کہا۔ اب ضعیفہ، مجذوب اور کتا تینوں کھا رہے تھے مگر بڑی بڑی حویلیوں کے دروازے مضبوطی سے بند تھے اور اب میں حیرت سے سوچ رہا تھا اس منظر میں سخی کون ہے، صحیح الدماغ کون اور مجذوب کون۔۔۔؟
٭٭٭
تیزاب
میں چلچلاتی دھوپ میں گھر سے باہر نکلی اور دور تک جاتی سنسان سڑک کو دیکھا۔۔ کہیں کوئی منزل نظر نہیں آ رہی تھی۔ زندگی میں کبھی ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ جب کوئی منزل نظر نہ آئے تو موت کی منزل سب سے آسان لگتی ہے ’۔ مگر ‘۔۔۔ میرے اندر ابھی ایک’ مگر‘ زندہ ہے۔ اور میں اسے تھام کر رکھنا چاہتی ہوں۔ جو اس ’مگر‘ کو چھوڑ دیتے ہیں وہی سخت وقت میں مایوسی اور موت کے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں۔
اب میں انجانی سمت میں بڑھنے لگی، کبھی واپس نہیں مڑنے کے لئے۔ اس یقین ساتھ کہ چلتے چلتے کسی منزل کا نشان ڈھونڈھ ہی لوں گی۔ اس دھوپ کی تپش کچھ ہی دیر میں سائے کی ٹھنڈک میں ضرور بدل جائے گی۔ کیونکہ اس پر قدرت اس عظیم رب کو حاصل ہے جو کبھی کسی کو مایوس نہیں کرتا۔
مگر تیزاب تو انسانوں نے بنایا ہے اس لئے اس سے جلے ہوئے جانبر نہیں ہو پاتے۔ تیزاب بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تیزاب جو آجکل ناکام عاشق اپنی معشوقہ کے خوبصورت چہرے پر پھیک کر بظاہر ان کی جلد جھلسا دیتے ہیں۔۔۔ مگر بہ باطن ان کی پوری شخصیت، ان کی پوری زندگی کو مجروح کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک دوسری طرح کا تیزاب بھی ہوتا ہے، جو نظر نہیں آتا۔ جس سے آپ کی جلد بھی نہیں جھلستی۔۔۔ لیکن آپ کے ارد گرد۔۔۔ آپ کے رشتوں اور دوستیوں میں اس کی موجودگی کا احساس آپ کا دم گھونٹتا رہتا ہے جو دھیرے دھیرے آپ کے احساس کی خوبصورتی کو جھلسانے کا خوف بن کر آپ کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے۔ اور آپ کا دل دھیرے دھیرے مردہ ہو جاتا ہے۔ آج آخر کار ایسی ہی تیزاب کی بوتل کا ڈھکّن میرے اپنوں کے ہاتھوں کھل ہی گیا۔۔۔ نہیں صرف کھلا نہیں۔۔۔ بلکہ کھول کر مجھ پر انڈیل دیا گیا اور میں اوپر سے نیچے تک جھلس گئی اور اپنے احساسات کے ان خوبصورت نقوش کو تکلیف کی اس شدّت میں بھی ڈھونڈھ رہی ہوں، ان وجہوں کو بھی ڈھونڈھ رہی ہوں جن کے سہارے جینے کا حوصلہ پا کر آگے بڑھ سکوں۔ مگر تکلیف ابھی تازہ ہے۔۔۔ احساس کے آنکھوں کی بینائی تک کھو چکی ہے۔ ابھی سب کچھ سمجھ میں آنے میں وقت لگے گا۔۔۔ یہ سمجھ میں آنے میں وقت لگے گا کہ جیتی بھی ہوں یا نہیں؟
مگر ایک سرگوشی ہے وجود کے اندر جو شاید ایسے ہی وقتوں کے لئے بچپن سے ہمارے اندر بٹھا دی جاتی ہے۔۔۔ کہ مایوسی کفر ہے۔۔۔ کفر ہے۔۔۔ کفر ہے۔
٭٭٭
ٹھوکر
’’دیکھو!‘‘
’’سنبھل کر!‘‘
’’آرام سے!!‘‘
’’کہیں ٹھوکر نہ لگ جائے۔‘‘
یہ وہ فرمودات تھے جو وہ شعور میں قدم رکھنے سے پہلے سن رہا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہی اس نے دوڑنا شروع کر دیا تھا۔ وقت بھاگتا رہا اور وہ وقت سے زیادہ تیز خود بھی بھاگتا رہا۔ اسے بے حد چاہنے والے ماں باپ پاس رہتے یا دور ’’دیکھو! سنبھل کر!!‘‘ کی بازگشت اس کا پیچھا کرتی رہتی۔ وہ جھنجھلاتا مگر اس کے اطوار نہ بدلتے۔ چار چار سیڑھیاں پھلانگ کر اترنا، اونچائی سے کود جانا، تیز گاڑی چلا کر آفس پہنچنا، سگنل کی قانون شکنی کرنا یا ریلوے پلیٹ فارم پر کبھی بھی او ور برج کا استعمال نہ کر کے ریلوے ٹریک سے کود پھاند کر پلیٹ فارم بدلنا اس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ کام میں بھی وہی جلد بازی، آج یہ جاب، کل وہ کمپنی، آج اس شہر، کل اس شہر۔ پھر بھی وہ کامیاب ہوتا گیا۔
ماں کی موت کے بعد اس نے کوشش کی کہ والد اس کے ساتھ رہ جائیں مگر وہ نہ مانے۔ اس کے ساتھ یہاں وہاں کرنا ان کے بس کا نہیں تھا – بس سمجھانا اب بھی نہ چھوڑ ا۔ کہتے، ’’پہلے تمہیں ہماری توجہ کی ضرورت تھی۔ اب مجھے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘
مگر اسے اتنا سوچنے سمجھنے کی عادت ہی کہاں تھی۔ اس کی زندگی کی رفتار بے ڈھنگی ہی رہی۔ بیٹے کی محبت میں وہ خود کبھی کبھی آ کر مل جایا کر تے۔ آج بھی آ نے والے تھے۔ بار بار تاکید کی کہ اسٹیشن لینے آ جانا۔ وقت پر آنا۔ میں کمزور ہو گیا ہوں۔ ٹرین سے اترنے میں دقت ہوتی ہے۔ گاڑ ی تیز مت چلانا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ اب انھیں لینے جا رہا تھا۔ حسبِ عادت اسے دیر ہو گئی تھیا س لیے سگنل کو نظر انداز کرتا، آندھی طوفان کی طرح اسٹیشن پہنچا۔ ٹرین آ چکی تھی اور اب اگلی منزل کی طرف کوچ کے لیے سگنل گرین ہو چکا تھا۔
؎ ’’اوہ شٹ! بابا اترے کہ نہیں۔‘‘ پلیٹ فارم پر بہت بھیڑ تھی۔ پھر بھی سب کو دھکے دیتا مطلوبہ ڈبے کی طرف بڑھا۔ کچھ لوگ پلیٹ فارم پر ایک ہی جگہ راستہ روکے جمع تھے اس نے کسی کو دھکا دے کر راستہ بنایا۔ قدموں کے نیچے ایک پانی کی بوتل لڑھکتی ہوئی آئی۔ وہ مہارت سے اسے پھلانگتا ہوا نکل گیا۔ نکلتے وقت ان کانپتے ہاتھوں پر نظر پڑی جس سے چھوٹ کر وہ بوتل لڑھک گئی تھی مگر وہ اس بیمار شخص کو ٹھوکر لگنے سے صاف بچا گیا تھا۔ جلدی نہ ہوتی تو رک جاتا۔ کوئی مصیبت میں تھا، تماشائیوں نے بھیڑ لگا رکھی تھی مگر اسے اپنے بابا کو لینا تھا۔ وہ ساری ٹرین دیکھ کر مایوسی سے اتر آیا۔ شاید اتر کر کہیں اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ وہ باہر بھاگا۔ کچھ دیر پہلے جہاں بھیڑ تھی وہ اب تتر بتر ہو چکی تھی۔ وہاں دو پولیس والے کھڑے تھے۔ وہ شخص جو جاتے وقت حالت نزع میں تھا اب اس کی موت ہو چکی تھی۔ اس کے چہرے پر کسی نے تولیہ ڈال دیا تھا۔ وہ افسوس کے ساتھ وہاں سے گزر گیا۔
’’بابا کہاں ہوں گے۔۔؟ فون کروں۔‘‘ اس نے رک کر بابا کو فون ملایا۔ گھنٹی بجنے لگی تو اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ بابا! پک دی فون۔ رنگ سنتے ہوئے وہ بے چینی سے بدبدایا۔ فون ریسیو ہوتے ہی بابا کے بولنے سے پہلے بول اٹھا، ’’آپ کہاں ہیں۔۔؟ میں کب سے۔۔۔۔؟‘‘
دوسری طرف سے جو جواب ملا اسے سن کر اس کا چہرہ سفید ہو گیا۔ اس نے ریسیور کان میں لگائے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔ پلیٹ فارم پر پڑی ہوئی لاش کے پاس کھڑا ہوا پولیس والا بابا کے فون پر اس سے مخاطب تھا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم بڑھا تو کسی چیز کو ٹھوکر لگی۔ اس نے دیکھا یہ وہی پانی کی بوتل ہے جسے اس وقت اپنی جلد بازی میں وہ پھلانگ کر نکل گیا تھا۔ اس نے جھک کر بوتل اٹھائی، ایک کمزور کانپتا ہوا ہاتھ نظروں میں کوندا اور اس کے ضمیر پر ایک گہری ٹھوکر مار کر بوتل اس کے کانپتے ہاتھوں سے گر گئی۔
٭٭٭
نہ ہوتا گر جدا تن سے
اخبار کے رپورٹر نے مظفر نگر سے جان بچا کر بھاگ آنے والے جن فساد زدگان کی روداد سنی اس میں رحمو اور نسیمہ بھی تھے۔ ان کی بے بس اور بھولی شبیہ میں سب سے زیادہ پرکشش ان کی بڑی بڑی حیران آنکھیں تھیں۔ اس نے رحمو اور نسیمہ سے ان کی خانہ بدوشی کی کہانی پوچھ کر، ان کی تصویر لی اور بہت دل سے رپورٹ تیار کی، اس یقین کے ساتھ کہ یہ کہانی لوگوں تک ضرور پہنچنی چاہیے۔
پشتوں سے وہ اسی زمین پر اپنی جان نچوڑتے اور جی لیتے۔ ان کے سراپے کتنے بھی مٹ میلے ہوں، ان کی آنکھوں میں اطمینان کا ایک رنگ ضرور تھا مگر ان کی آنکھوں میں اس دن حیرت اتر آئی جب انھوں نے اپنی زمین کو اپنے پیروں کے نیچے سے کھسکتے دیکھا۔ وجہ سمجھنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ نفرت کا ٹھاٹھیں مارتا سیلاب ہے جو انسان دوستی، پہچان اور محبت سب کو بہائے لیے جا رہا ہے۔ انھوں نے زمین کا موہ چھوڑا اور اپنا واحد اثاثہ اپنی اپنی جان لے کر قافلے کی شکل میں اس قصبے سے نکل آئے۔ وہ مخدوش چھت اور اپنی زمین نہ رہی تو کیا ہوا؟؟؟؟ خدا کی بنائی ہوئی دنیا تو بہت بڑی تھی اور اس کا آسمان ایک چھت کی مانند۔ اس لیے وہ بڑے دل والوں کے بڑے شہر میں آ بسے۔
یہاں بھی بڑے شہر کے اصول و ضوابط کے جھاڑو نے انھیں سوکھے پتوں کی طرح بکھیر دیا اور وہ شہر کی مختلف ضرورتوں میں کھاد پانی کی طرح کام آئے، قافلے سے فرد بن گئے اور جینے کی جد و جہد میں لگے رہے۔ ان ہی افراد میں رحمو اور نسیمہ بھی تھے، کہیں بھی سو جاتے، کچھ بھی کھا لیتے، صابر اور شاکر، نہ آہ نہ کراہ، نہ آن کا مسئلہ نہ عزت نفس کی فکر۔ ان کی بجھی ہوئی نگاہیں جب رزق کی فکر سے نجات پاتیں تو دنیاوی چمک دمک پر کبھی کبھی حیران ہوتیں مگر پھر رزق کی فکر میں ڈوب جاتیں۔ انھیں اطمینان تھا تو صرف اتنا کہ ان کے پاس لٹنے لٹانے کے لیے کچھ نہ تھا اور فی الحال ان کے لیے یہی اطمینان بہت تھا۔
جس رات وہ یہ رپورٹ لکھ کر تیار کر رہا تھا، اسی رات کے اندھیرے میں رحمو اور نسیمہ اپنے عارضی رین بسیرے میں اچانک گھیر لیے گئے۔ بجھی ہوئی آنکھوں سے اطمینان کا وہ آخری رنگ بھی غائب ہو گیا اور ان کی آنکھوں میں پھر حیرانیاں اتر آئیں کہ ان کے پاس اب کیا ہے؟
دوسرے دن اخبار میں خبر تھی۔ ہتھیاروں سے لیس دو دہشت گرد جن میں ایک عورت اور ایک مرد تھے، پولیس مڈبھیڑ میں مارے گئے۔ دونوں لشکر طیبہ کے ایجنٹ تھے۔ اخبار کے رپورٹر نے دہشت گرد کی تصویر سے اپنے پاس والی تصویر ملائی اور اپنی رپورٹ پھاڑ دی۔ ساتھی کولیگ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو جواب دیا، ’’ایک ہی کردار کتنے ڈراموں کا حصہ بنیں گے۔‘‘
پھر نہ جانے کیا سوچ کر تصویر پر لکھا۔
نہ ہوتا گر جدا تن سے
تو کاندھوں پر دھرا ہوتا
اور ایک ٹھنڈی سانس لے کر تصویر کو کوڑے دان میں ڈال دیا۔
٭٭٭
فطری عمل
وہ بہت ظالم تھا، ایک سفاک قاتل۔ سپاری لیتا، وجہ بھی نہیں پوچھتا اور ایک زندگی کا چراغ گل کر دیتا۔ شاطر اتنا کہ ہر گناہ کے بعد بھی کھلے بندوں گھومتا۔ سب جانتے تھے اس کے کام اور اس کے نام کو اس لیے اس سے خوف کھاتے تھے اور اس سے بچ کر نکلتے رہتے مگر اس کے معاملات میں نہیں پڑتے تھے اور اسے کسی کی پرواہ تھی بھی نہیں۔ مگر اس دن بہت لوگوں نے حیرت سے دیکھا تھا، اس سے پہلے کہ ایک نوجوان لڑکا اپنی غفلت میں تیز رفتار ٹرین کے نیچے آ جاتا جب اسی سفاک قاتل نے بجلی کی سی پھرتی سے اسے بچا لیا اور اس حرکت کے بعد سب کی طرح وہ خود بھی حیران تھا۔ مگر جلد ہی اس نے اپنے ذہن کو جھٹکا۔ جان لینا اس کا پیشہ تھا اور ابھی جو کچھ ہوا یہ ایک فطری عمل-
٭٭٭
ترحم
ویسے تو وہ دونوں عورتیں خود مختار تھیں اور ساتھ رہتی تھیں مگر دونوں کا کوئی موازنہ کرنا بھی مناسب نہیں تھا۔ مالکن اور نوکرانی کے طور پر وہ دونوں ایک دوسرے کا سہارا بن چکی تھیں اور بہت اچھی طرح ایک دوسرے کا ساتھ دیتیں۔ روزی دیر گئے تک سوتی رہتی اور رانی صبح سویرے نہا دھو کر کنگھی چوٹی کر کے گھر کا سارا کام ختم کر لیتی تب ایک کپ گرم چائے کے ساتھ دوپہر میں روزی کو اٹھاتی۔ وہ اٹھ کر الجھے بالوں کے ساتھ دیر تک لیپ ٹاپ کھولے اس پر کچھ کرتی رہتی۔ جب تک رانی اپنے بچّے کو کھلاتی، تیار کرتی اور کھیلنے کے لیے چھوڑ دیتی۔ پھر واپس اندرون خانہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے پہنچ جاتی۔ شام ہونے سے پہلے روزی نہا کر پوری سج دھج کے ساتھ خوش باش نظر آتی اور دوست جمع ہونے لگتے۔ مغرب تک قہقہے اور برگر، پزا وغیرہ کا دور چلتا۔ پورا کمرہ کباڑ خانہ بن جاتا۔ رانی بھاگ بھاگ کر اس کے ایک اشارے پر اس کی مطلوبہ چیز حاضر کرتی۔
’’یار!!! یہ پرفیکٹ میڈ کہاں سے مل گئی؟‘‘ اس کے دوست کہتے۔
’’ہے ایک بے چاری، رہنے کی جگہ نہیں تھی تو میں نے گیرج میں جگہ دے دی۔‘‘
’’گڈ یار! یو آر گریٹ۔ اس کا بھی بھلا ہوا تمہارا بھی کام بن گیا۔‘‘
’’یس، یو آر رائٹ، پؤر لیڈی۔‘‘ کسی نے رانی کے لیے ترحم سے کہا۔
پھر سارے دوست روزی کے ساتھ باہر چلے گئے۔ پھر جب رات گئے روزی اپنے لڑکھڑاتے قدموں سے گھر واپس آتی تو پورا فلیٹ آراستہ ملتا مگر سائیں سائیں کرتا سناٹا اس کا استقبال کرتا۔ رانی گیرج میں اپنے بچے کو سینے سے چمٹائے سکون سے بے خبر سو رہی ہوتی اور روزی اپنے آرام دہ بستر پر دیر رات تک جاگتی اور یہ سوچ کر کروٹیں بدلتی رہتی کہ رانی کی ایسی بے خبری کی نیند کو دیکھ کر اسے اس وقت خود پر رحم کیوں آ رہا ہے۔
٭٭٭
نئی عبارت
(سبین محمود اور گوری لنکیش کو خراجِ عقیدت)
حادثے زندگی کا چہرہ ہی مسخ نہیں کرتے بلکہ اس کا رخ یکسر بدل دیتے ہیں۔ میری خود فریبی کے سارے محل ایک حادثے نے ایک جھٹکے میں مسمار کر دیے ور میری بے خواب راتیں طویل ہو گئیں۔ میں کھنڈر کی طرح ویران ہوں۔ کیونکہ میں اس اکیسویں صدی کی ایسی ماں ہوں جو اپنی بیٹی کے خون ناحق کے چھینٹے اس معاشرے کے چہرے پر دیکھ کر بے شمار سوالوں سے گھری اپنے اندرون میں جھانک رہی ہے۔ کچھ ایسے سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے جو میری سوچ کو متزلزل کر کے میرے دماغ کو چٹخا نے لگتے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی کو یہ سکھایا تھا کہ وہ حیوان اور سامان بن کر زندگی نہ گزارے، اسے یہ سکھایا تھا کہ وہ ایک وجود ہے اور جس دن وہ خود اس وجود کی ذمہ داری قبول کر لے گی اس دن اس کی ساری مشکل آسان ہو جائے گی۔ وہ میری امید سے زیادہ ایسی شخصیت بن گئی کہ مجھے اس پر فخر ہونے لگا، کچلی اور دبی ہوئی انسانیت کی بقاء ہی اس کی زندگی کا نصب العین تھا۔ میں اکثر سوچنے پر مجبور ہو جاتی کہ وہ اسی لیے خاص بن گئی تھی کیونکہ اسے اپنی شخصیت کی پہچان اور قدر تھی۔ وہ اپنی صلاحیت اور ہمت سے ایک ایسا آفتاب بن گئی تھی جس سے کئی چاند روشن ہو رہے تھے۔
میں شروع میں اس مغالطے میں رہی کہ میں نے اسے اس عہد کی بناوٹی احتیاط پسندی سے آزاد کر کے نڈر بنا دیا ہے مگر دھیرے دھیرے اس نے میری یہ غلط فہمی دور کر دی۔ وہ نڈر تھی اور بہادر تھی کیونکہ وہ حسین خواب بنتی تھی اور ان کی تعبیریں ڈھونڈھتی تھی۔ وہ ایک عورت تھی اور اس کا سب سے حسین پہلو اس کا محبت بھرا دل تھا جبکہ میں اس کی راہ میں حائل تمام مشکلات سے ڈرنے لگی تھی۔ میں نے گھر کے پنجرے میں اسے کبھی قید نہ کیا مگر ہمارا معاشرہ طرح طرح کی بندشیں لے کر اس کی راہ میں حائل ہونے لگا پھر بھی وہ بے کسوں اور بے زبانوں کی آواز بن گئی اور اس نے دبی کچلی آوازوں کو سہا را دینا بند نہ کیا۔ مجھے نظر آ رہا تھا کہ اس کی محبتوں کی اس راہ گزر پر بڑی گھاتیں تھیں۔ میں اسے اب اس ڈگر سے واپس نہ لا سکتی تھی کیونکہ اس کو میں نے خود غرض اور خود پرست نہ بنایا تھا۔ اسے اب اس کا پورا ادراک تھا کہ زنانہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ذات سے متعلقہ تمام امور میں مرد کے شانہ بشانہ پورے مساوات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے۔ مگر وہ یہ نہ جانتی تھی کہ یہ بات اتنی آسان نہیں تھی جتنا وہ سمجھنے لگی تھی۔
شخصیت اس طبیعت کا نام ہے جسے بننے میں صدیاں لگتی ہیں، نسلیں کھپ جاتی ہیں۔ وہ جان گئی تھی کہ اس کی شخصیت کے بنیادی عناصر، معنویت، سوچ، یقین، برداشت اور صبر سب کچھ مرد شخصیت سے قطعی مختلف ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زیادہ تر لوگ جن میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں اس اختلاف کو ظاہری خد و خال میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں مگر وہ جانتی تھی کہ ایک عورت کی حیثیت سے یہ اختلاف معاشرتی مقام کا، اس کی اپنی قدر و قیمت کا اور شخصیتوں کا ہوتا ہے جسے وہ خود بنا یا بگاڑ سکتی ہے، اور اس کی وہ شخصیت اتنی مضبوط ہو کر ابھری کہ مفاد پرستوں کی راہ میں نہ جانے کیسے پہاڑ کی طرح حائل ہو گئی اور عورت کو کمزور کہنے والے اس سے خائف ہو گئے۔ ان مفاد پرستوں نے میری بیٹی کے خون ناحق سے اپنے چہرے کو داغدار کر لیا اور یہی داغ اس معاشرے کو جواب ہے کہ تم ایسے کتنے ہی کالے کارنامے انجام دو، ہم ہر داغ کو شعلہ بنا کر اس میں تمہاری انا کو بھسم کر دیں گے۔ اسی خون سے وہ ایک نئی عبارت کو نئے انداز میں سماج کی پیشانی پر کندہ کر گئی ہے، اسے تم کبھی مٹا نہ پاؤ گے اور ایک کی جگہ دس اور سبین پیدا ہو جائیں گی۔
میں جانتی ہوں میری بیٹی جیسی لڑکیاں صرف سوچ کی مجرم تھی کیونکہ اس نے اپنی ہستی مٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ آج کی عورت ذلت کی خاک اپنے سر پر ڈالنے کو تیار نہیں ہے اور اکیسویں صدی کی تختی سے اب مردِ مجاہد اور جوان مرد جیسے لفظ مٹا دو کہ اب تم عورتوں اور بچوں پر دھوکے سے وار کرتے ہو۔ تم اپنے چہروں کو نقابوں میں چھپا کر بھاگتے رہو کیونکہ معاشرے کو بنانے اور سنوارنے کے لیے سبین اور گوری لنکیش جیسی بیٹیاں پیدا ہونے لگی ہیں اور میری جیسی مائیں فخر سے انھیں اس نیک عمل کے راستے پر قربان کر کے خود کھنڈر کی طرح ویران ہونے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔
٭٭٭
پرواہ کسے ہے
’’تمہاری سب سے بہتر پریزنٹیشن ہونے کے باوجود یہ اسائنمنٹ باس نے منوج کو دے دیا اور اب وہ مزے سے کمپنی کے پیسے پر ناروے گھوم کر آئے گا۔‘‘ آشا کی ساتھی کولیگ نے اسے سنایا تو اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دیے جیسے کہہ رہی ہو ’’پرواہ کسے ہے۔‘‘ اس کے بعد اور زیادہ انہماک سے کمپیوٹر پر جھک گئی مگر اب آشا کا ذہن منتشر ہو چکا تھا۔ یہ صرف گھومنے اور نیا ملک دیکھنے کا فائدہ تو نہیں تھا یہ فائدہ تو معاشی بحران سے باہر نکلنے کا بھی تھا مگر ’’پرواہ کسے ہے!‘‘ جیسا چھوٹا سا جملہ اس کا تکیہ کلام بن چکا تھا۔ اپنی زندگی میں ہر مشکل سے جوجھتے وقت وہ ’’پرواہ کسے ہے‘‘ کا گدا گھماتی اور منہ چڑاتے ہر سوال کو آن کی آن میں زمین بوس کر دیتی۔ وہ جانتی تھی کہ ایسے کسی موقعے کا فائدہ وہ اپنی ضعیف ماں اور چھوٹے بچوں کی وجہ سے نہیں اٹھا سکتی تھی۔ دن بھر آفس کی مصروفیت میں وہ اس بات کو بھول گئی مگر شام میں گھر کے لیے نکلتے وقت جب وہ آٹو رکشہ میں بیٹھ رہی تھی منوج نے اپنی کار اس کے پاس روکی۔ ’’آپ کو چھوڑ دوں؟‘‘
’’نہیں! مجھے راستے میں کچھ اور بھی کام ہے، بائی دی وے کانگریچولیشن!‘‘
’’تھینکس!! اٹس آل بی کاز آف یو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کار آگے بڑھا لے گیا اور وہ یہ سوچے بغیر نہ رہ سکی کہ اگر وہ بھی منوج کی طرح سارے موقع کا فائدہ اٹھا پاتی تو آج تک کرائے کے آٹو میں سواری نہ کرتی۔ اسے یاد آیا بچپن سے اس کی بے باک، آزادانہ فطرت، اس کی خود اعتمادی اور اس کی ذہانت کو صبر کی آنچ دکھا کر اور تربیت نام کے ہتھوڑے سے ضرب لگا لگا کراس کی شخصیت کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا گیا تھا۔
اپنی گلی کے نکڑ پر اترتے ہوئے اسے یاد آیا کہ ماں کی دوا لینی ہے۔ دوا لے کر مڑی تو سامنے پھل والے کی ریڑھی سے اپنے بچوں کے لیے پھل خریدتے ہوئے چند ندیدی آنکھوں اور خالی پیٹ والے بچوں کو اپنی طرف گھورتے پایا۔ ان آنکھوں میں نہ جانے کیا تھا کہ وہ ’’پرواہ کسے ہے‘‘ والے انداز میں کندھے نہ اچکا پائی مگر تیز تیز قدم اٹھاتی گلی میں داخل ہو گئی۔ گلی میں کچھ اوباش قسم کے لڑکے غول کی شکل میں ادھر ادھر کھڑے تھے اور اب بھوکی نظریں پھل کی تھیلی پر نہیں اس پر تھیں۔ وہ بے نیازی دکھاتی سب سے بچتے بچاتے گھر میں داخل ہوئی اور باہر کی ساری فکریں
؎بھول گئی۔ اب ایک نیا محاذ سامنے تھا۔ کام والی نہیں آئی تھی، وہ پرس پھینک کر مشین کی طرح کام میں لگ گئی مگر ماں کی مسلسل بڑبڑاہٹ اسے غصہ دلانے لگی۔ جب سوتے وقت وہ ماں کو دوا کھلانے آئی تو وہ پھر بولی، ’’کتنی بار کہا بائی بدل لے، تو نے کچھ کھایا بھی کہ نہیں؟ اور پربھات کو فون تو کر، اتنی دیر ہو گئی۔ لگتا ہے پھر دوستوں کے ساتھ کہیں محفل جما کر بیٹھا ہو گا۔ بیوی بچوں کی فکر ہی نہیں، آخر کب آئے گا؟‘‘
’’اوہ تو پرواہ کسے ہے؟؟؟ ، سب ہو گیا نا۔۔۔ اب سو جاؤ۔۔۔‘‘ وہ جھلا کر بولی اور اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی۔ ہر بات پر ’’پرواہ کسے ہے‘‘ کا گردان کرنے والی کا تکیہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔
٭٭٭
تشکر: مصنفہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں