لؤلؤ القرآن ۔۔۔ نزہت وسیم

قرآنِ کریم کے آخری جز کی تفسیر

لؤلؤ القرآن

بچوں کے لئے آسان زبان میں، از قلم

نزہت وسیم

ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

کتاب کا نمونہ پڑھیں…..

 

۱۔ سورة النباء

اسمائے سورت:

اس سورة کا مشہور نام ’’سورة النبا‘‘ ہے۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ النباء کے علاوہ اسے سورة التساول، عم، عمّ یتساءلون اور سورة المعصرات بھی کہتے ہیں۔

روابط:

سورة النبا کا ماقبل سورة یعنی سورة المرسلات سے لفظی ربط بھی ہے اور معنوی بھی۔

لفظی ربط تو یہ ہے کہ اس سورة کے الفاظ پچھلی سورة سے ملتے جلتے ہیں اور معنوی ربط یہ ہے کہ سورة المرسلات میں قیامت کے آنے کا امکان ظاہر کیا گیا اور قیامت کا انکار کرنے والوں کی جزا و سزا کا بیان ہے۔ اب سورة النبا میں بھی انہی مضامین کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

شانِ نزول:

اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے انسانوں کو کفر و شرک کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے نبی کریمﷺ کو نبوت عطا فرمائی۔ جب آپ نے مکہ والوں کو دنیا میں کیے گئے کاموں کی جزا و سزا کے متعلق بتایا اور قیامت کے آنے کی خبر دی تو انہیں بہت حیرت ہوئی۔ وہ حیران ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے اور آنحضرتﷺ و صحابہ کرامؓ سے قیامت اور حساب کتاب کے متعلق پوچھنے لگے۔ کیونکہ وہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اس لیے ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة النبا نازل فرمائی جس میں قیامت کی حقیقت اور اس کے واقع ہونے کے متعلق تفصیل بیان کی گئی ہے۔ کافروں کے انکار اور ہنسی مذاق کو مختلف طریقوں سے رد کر کے قیامت اور اس میں پیش آنے والے واقعات کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔

عَمَّ یَتَسَاۗءَلُوْنَ۝۱ۚ

یہ (کافر) لوگ کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟

سورة کی ابتدا ایک سوال کی شکل میں ہے۔ سوال کسی چیز کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کائنات کی کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں اس لیے قرآن مجید میں کسی چیز کی عظمت، اہمیت یا ہولناکی کو بیان کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی سوال کا مقصد قیامت کی ہولناکی بیان کرنا ہے۔

جب نبی کریمﷺ نے کفار و مشرکینِ مکہ کو قیامت کے متعلق آیات سنائیں تو وہ اپنی محفلوں میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے، ہر جگہ، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، آپس میں یہی گفتگو کرتے، کوئی اسے سچ کہتا اور کوئی اس کا انکار کرتا، کوئی مذاق کرتا اور مختلف اندازے لگاتا۔ چنانچہ اس سورة کی پہلی آیت میں ان کا یہ حال بیان کیا گیا ہے۔

سوال: سوال کرنے والے کون تھے اور کس سے سوال کرتے تھے؟

جواب: اس میں مفسرین کے تین قول ہیں۔

۱۔ اس سے مراد کافر و مشرکین ہیں جو حیران ہو کر ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے۔

۲۔ کفار مکہ اور مشرکین مسلمانوں سے سوال کرتے تھے کہ تمہارے نبی یہ کیا کہہ رہے ہیں؟

۳۔ سوال کرنے والوں سے کافر اور مسلمان دونوں مراد ہیں۔ دونوں نبی کریمﷺ سے سوال کرتے تھے۔ مسلمان تو اس لیے پوچھتے تھے کہ ان کا ایمان مضبوط ہو اور کافر انکار کرنے اور مذاق اڑانے کے لیے سوال کرتے تھے۔ پہلا قول راجح ہے۔

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ۝۲ۙ

اس زبردست واقعے کے بارے میں

یعنی کفار ایک بہت بڑی خبر کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔ ان کے دل کفر کے اندھیروں سے سیاہ ہو چکے ہیں۔ اگر ان میں ایمان کی روشنی موجود ہوتی تو اس خبر کی عظمت ان کے دلوں پر ایسا اثر کرتی کہ وہ بغیر کسی سوال و جواب کے اسے مان لیتے۔

سوال: نبا عظیم سے کیا مراد ہے؟

جواب: اس میں تین قول ہیں:

۱۔ قیامت مراد ہے۔ سیعلمون سے دھمکی دینے کا انداز ظاہر ہو رہا ہے کہ جب قیامت آئے گی وہ اسے دیکھ کر یقین کر لیں گے۔ اگلی آیات میں قدرت کاملہ کے دلائل دئیے گئے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کا قیامت برپا کرنے پر قادر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر العظیم کا لفظ قیامت کے لیے آیا ہے۔

۲۔ قرآن مجید مراد ہے۔ کیونکہ قرآن مجید بھی ایک بڑی خبر ہے اور وہ قرآن مجید کے متعلق بھی سوال کرتے رہتے تھے کہ یہ قرآن جادو، یا شاعری یا پہلوں کے قصے کہانیاں ہیں۔

۳۔ نبوت مراد ہے۔ کیونکہ نبوت بھی عظیم الشان چیز ہے جس نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا اور پرانے رسم و رواج ختم کر دئیے۔ حکومتیں مٹا دیں اور نئے قوانین جاری کر دئیے۔

الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ۝۳ۭ

جس میں خود ان کی باتیں مختلف ہیں۔

موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے واقع ہونے کے متعلق ہر فرقے کا مختلف عقیدہ تھا۔ عرب کے اکثر لوگ قیامت کے دن کو نہیں مانتے تھے اور حیران ہو کر کہتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے۔ اسی طرح نصاریٰ کے خیال میں جسم مٹ جائیں گے صرف روحیں لوٹائی جائیں گی۔ اب بھی اکثر کا یہی عقیدہ ہے۔ یہودیوں کے بعض فرقے بھی قیامت کے سخت منکر تھے۔ بعض کہتے تھے دوبارہ جسم کے ساتھ زندہ ہونا نا ممکن ہے۔ مر کر انسان کی روح جنوں یا فرشتوں میں مل جاتی ہے اور اسی کا نام قیامت ہے۔ غرض مر کر زندہ ہونے کے معاملے میں سب کی رائے ایک دوسرے سے مختلف تھی۔

کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۝۴ۙ ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ۝۵

خبر دار! انہیں بہت جلد پتہ لگ جائے گا۔ دوبارہ خبر دار! انہیں بہت جلد پتہ لگ جائے گا۔

کلا جہاں بھی آئے اس سے دو معنی مراد ہوتے ہیں۔

۱۔ پچھلی بات کو رد کرنے یعنی انکار کے لیے

۲۔ اگلی بات کو ثابت کرنے کے لیے یعنی بمعنی حقا اور یقیناً

اگر معنی انکار ہو یعنی ’’ہرگز نہیں‘‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ کفار کا قیامت کے متعلق بحث و مباحثہ کرنا درست نہیں کیونکہ قیامت بحث کرنے سے سمجھ میں آنے والی چیز نہیں۔

اور اگر معنی ’’حقا‘‘ ہو یعنی ’’یقیناً‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا واقع ہونا حق اور یقینی بات ہے۔ عنقریب کفار اس سچ کو جان لیں گے۔ جب قیامت واقع ہو جائے گی اور قیامت کی ہولنا کیاں اور واقعات ان کے سامنے آئیں گے اس وقت ان کو اس بڑی خبر کی حقیقت سمجھ آ جائے گی۔

سوال: یہاں کلا سیعلمون اور ثم کلا سیعلمون کا تکرار کیوں ہے؟

جواب: یہ تکرار تاکید اور مضمون کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ہے۔ پہلے کلا سیعلمون کا مقصد ہے کفار پر جب موت آئے گی اس وقت جان لیں گے۔ یعنی اس کا تعلق مرنے سے ہے۔ دوسرے سیعلمون کا مقصد یہ ہے کہ کفار جب مرنے کے بعد زندہ ہوں گے اس وقت اپنا انجام جان لیں گے۔ یعنی اس کا تعلق قیامت سے ہے۔ یا اس سے مراد کافر اور مؤمن دونوں ہیں کہ کافر اپنے انکار کا اور مؤمن اپنی تصدیق اور ایمان کا حال جان لیں گے اور سزا و جزا پائیں گے۔

ربط آیات ۶ تا ۱۶

پچھلی آیات میں کفار مکہ کے سوال و جواب کا ذکر تھا۔ موت کے بعد زندہ ہونے اور انکارِ قیامت کا بیان تھا۔ اب اگلی آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنی عظیم الشان نشانیوں کا ذکر فرمایا اور نو دلائل سے اپنی قدرت کے عجیب و غریب مناظر پیش کیے۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے قطعاً مشکل نہیں کہ وہ اس سارے عالم کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دیں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انعامات کا ذکر فرما کر توجہ دلائی ہے کہ ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو اور اس کی توحید کا اقرار کرو۔

اللہﷻ کی حکمت و صنعت کے نو مناظر

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِہٰدًا۝۶ۙ

کیا ہم نے زمین کو ایک بچھونا نہیں بنایا؟

المھاد کا مطلب ہے ہموار اور درست کی ہوئی زمین۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ ہم نے زمین کو تمہارے چلنے پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے اور لیٹنے کے لیے بالکل مناسب اور درست بنایا ہے۔ جہاں چاہو بیٹھ جاؤ۔ جہاں چاہو لیٹ جاؤ۔ اگر زمین ہوا کی طرح ہلکی یا پانی کی طرح نرم یا آگ کی طرح گرم ہوتی تو تم اس پر کس طرح چل پھر سکتے؟ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جس میں کافر و مسلمان سب برابر کے شریک ہیں۔ اس نعمت کا تقاضا ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو اس کی توحید کا اقرار کرو۔ جس ذات نے اتنی بڑی زمین کو قدموں کے نیچے ہموار اور درست بچھونے کی صورت میں بچھا دیا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا بالکل مشکل نہیں۔

وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۝۷۠ۙ

اور پہاڑوں کو (زمین میں گڑی ہوئی) میخیں؟

جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے اور ڈگمگانے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دئیے گویا زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں جس سے وہ ساکن ہو گئی۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور جو ذات اتنے بڑے بڑے پہاڑ پیدا کر سکتی ہے وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔

وَ خَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا۝۸ۙ

اور تمہیں (مرد و عورت کے) جوڑوں کی شکل میں ہم نے پیدا کیا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے زمین کو پیدا کر کے ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس پر تمہیں جوڑا جوڑا بنا کر پیدا کیا تاکہ نسل انسانی بڑھ سکے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان ہے کہ ایک انسانی جوڑے سے کروڑوں، اربوں جوڑے پیدا کیے اور ہر ایک کی شکل دوسرے سے مختلف ہے۔ جو اللہ ایک بار بنا سکتا ہے اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا بھی مشکل نہیں۔

وَ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۝۹ۙ

اور تمہاری نیند کو تھکن دور کرنے کا ذریعہ ہم نے بنایا۔

سُبات سبت سے مشتق ہے جس کا مطلب مونڈنے یا کاٹ دینے کے ہیں، نیند کو اللہ تعالیٰ نے ایسی راحت بنایا ہے کہ وہ انسان کے تمام غم، رنج، فکر اور خیالات کو کاٹ کر اس کے دل و دماغ کو ایسی راحت دیتی ہے کہ دنیا کی کوئی نعمت اس کا بدل نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے سبات کا ترجمہ راحت بھی کیا جاتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو نیند اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جو بادشاہ، فقیر، امیر و غریب سب کو مفت حاصل ہے بلکہ امیروں کی بجائے غریبوں کو یہ نعمت زیادہ میسر ہے۔ انسان کے اعضاء کاروبارِ زندگی میں مصروف رہنے سے تھک جاتے ہیں۔ اس تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نیند کی نعمت عطا فرمائی جس سے انسان دوبارہ تر و تازہ ہو جاتا ہے۔ مزید غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیند زبردستی طاری کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص رات کو مسلسل کام کرنا بھی چاہے تو رحمت باری تعالیٰ اس پر زبردستی نیند مسلط کر دیتی ہے اور انسان نیند کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ نیند کی یہ نعمت کافر ہو یا مسلمان سب کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ نیند موت سے مشابہ ہے گویا اللہ تعالیٰ انسان کو اس عارضی موت سے زندہ کر دیتا ہے تو مرنے کے بعد زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا۝۱۰ۙ

اور رات کو پردے کا سبب ہم نے بنایا۔

ہم نے نیند کو تمہاری راحت و آرام کا سبب بنایا، نیند کے لیے جن چیزوں کی ضرورت تھی یعنی اندھیرا اور خاموشی اس کا ماحول تیار کر دیا چنانچہ رات کی تاریکی تمہیں لباس کی طرح ہر طرف سے ڈھانپ لیتی ہے اور سب ایک ہی وقت میں تھک کر سو جاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا۝۱۱۠

اور دن کو روزی حاصل کرنے کا وقت ہم نے قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہاری راحت کو مکمل کرنے کے لیے صرف رات اور اس کی تاریکی ہی نہیں بنائی بلکہ ایک روشن دن بھی دیا جس میں تم کاروبار کر کے اپنی معاشی ضروریات اور سامانِ زندگی حاصل کر سکو۔

وَ بَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۝۱۲ۙ

اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط وجود (آسمان) تعمیر کیے۔

اس کے بعد انسان کی اس راحت کا ذکر ہے جو آسمان سے متعلق ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے تمہارے لیے سات مضبوط آسمان بنا دئیے۔ آسمان کی یہ چھت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمت ہے جو بغیر کسی ستون کے مدت سے قائم ہے۔ لاکھوں کروڑوں سال گزرنے کے باوجود نہ تو پرانی ہوئی، نہ اس میں کہیں کوئی سوراخ ہوا۔

سوال: آسمان سقف یعنی چھت ہے اس کے لیے بنینا کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟

جواب: اگرچہ آسمان چھت ہے لیکن مضبوطی میں بنیاد کی طرح پائیدار ہے اسی لیے اسے بنیاد سے تشبیہ دی گئی ہے۔

وَ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا۝۱۳۠ۙ

اور ہم نے ہی ایک دہکتا ہوا چراغ (سورج) پیدا کیا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی نعمت و قدرت کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لیے جگمگاتا ہوا سورج بنا دیا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنی ضروریات کا انتظام کر سکو۔ اگر سورج نہ ہوتا تو اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا۔ پھر سورج میں روشنی کے ساتھ گرمی بھی موجود ہے۔ سورج کی روشنی اور حرارت زندگی کی علامت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے کہ تمام انسانوں کو خواہ وہ کافر ہوں یا مسلمان ہزاروں میل کی دوری سے دن کو سورج روشنی اور حرارت دیتا ہے اور رات کو چاند روشنی مہیا کرتا ہے۔

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا۝۱۴ۙ لِّنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَ نَبَاتًا۝۱۵ۙ وَ جَنّٰتٍ اَلْفَافًا۝۱۶ۭ

اور ہم نے ہی بھرے ہوئے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔ تاکہ اس سے غلہ اور دوسری سبزیاں بھی اگائیں۔ اور گھنے باغات بھی۔

پھر آسمان کے نیچے جو چیزیں انسان کی راحت کے لیے پیدا فرمائیں ان میں سب سے اہم چیز پانی برسانے والے بادل ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لیے رزق کا انتظام اس طرح کیا کہ بادلوں سے بارش برسائی۔ اس بارش سے غلہ اگایا جو تمہارے کھانے کے لیے ہے، پھر گھاس اور جڑی بوٹیاں پیدا کیں جو تمہارے جانوروں کی خوراک ہے اور گھنے باغات پیدا کیے جن کے پھل تم کھاتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر بہت بڑا انعام ہے۔ دیکھو اس کی قدرت کتنی زبردست ہے کہ بارش عجیب طریقے سے نازل کی، کبھی مسلسل چھوٹی چھوٹی بوندیں، کبھی موسلا دھار بڑے بڑے قطرے۔ پھر اس ایک ہی پانی سے مختلف رنگ اور ذائقے کی چیزیں پیدا کیں۔ ایسی قدرت والی ذات تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔

سوال: یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے بادلوں سے پانی نازل کیا دوسری آیت میں ہے و انزلنا من السماء ماء۔ ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا۔ بظاہر دونوں آیات میں تضاد ہے؟

جواب:  کوئی تضاد نہیں۔ سماء اوپر والی فضا کو کہتے ہیں۔ بادل کو بھی سماء کہا گیا ہے بارش بادل سے ہی نازل ہوتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں ممکن ہے کبھی آسمان سے بارش نازل ہوتی ہو کبھی بادل سے۔ انکار کی کوئی وجہ نہیں۔

فائدہ: اللہ تعالیٰ نے پہلے حبا کو بیان کیا پھر نباتا کو اور اس کے بعد جنات الفافا کو۔ اس ترتیب کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ غلے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ ہر شخص کو اس کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اس کو پہلے ذکر کیا۔ دوسرے نمبر پر نباتات یعنی جانوروں کی خوراک ضروری ہے اور پھل کو ذائقے کی وجہ سے کھایا جاتا ہے بطورِ غذا نہیں، اگرچہ اس میں بھی غذائیت ہوتی ہے۔

ربط آیات ۱۷ تا ۳۰

گزشتہ آیات میں نو دلائل سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ثابت کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مُردوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور میدانِ حشر میں حساب کتاب کے لیے جمع کرنا بالکل بھی مشکل نہیں۔ چنانچہ قیامت کے دن تم سب ضرور اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔

اب اگلی آیات میں قیامت کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں۔

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا۝۱۷ۙ

یقین جانو فیصلے کا دن ایک متعین وقت ہے۔

کافر سوال کرتے تھے کہ اگر قیامت کا آنا یقینی ہے تو پھر تاخیر کیوں ہو رہی ہے، ابھی کیوں نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قیامت ضرور آئے گی۔ کب آئے گی اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ قیامت کا ایک وقت مقرر ہے جس میں نہ تقدیم ہو سکتی ہے نہ تاخیر اس لیے تمہارے کہنے سے ابھی نہیں آئے گی۔

قیامت واقع ہونے کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں۔

۱۔ روح کا جسموں سے تعلق ختم ہو جائے۔

۲۔ دنیا کا کارخانہ درہم برہم ہو جائے۔ اس فانی گھر کی چھت، فرش اور سامان رزق جس سے تمام مخلوق فائدہ اٹھاتی ہے ختم کر دئیے جائیں۔

۳۔ تمام روحیں اس جہان سے فائدہ اٹھا لیں۔

جب تک یہ تینوں کام مکمل نہ ہو جائیں قیامت نہیں آئے گی۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا۝۱۸ۙ

وہ دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم سب فوج در فوج چلے آؤ گے۔

اس آیت میں دوسری بار صور پھونکنے کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔

حضرت اسرافیلؑ پہلی بار صور پھونکیں گے تو تمام عالم فنا ہو جائے گا دوسری بار صور پھونکیں گے تو لوگ زندہ ہو جائیں گے اور گروہوں کی شکل میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے۔

حضرت ابو ذر غفاریؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب لوگ قبروں سے نکل کر دربارِ خداوندی میں جائیں  گے تو ان کے تین گروہ ہوں گے۔ بعض پیٹ بھرے، اچھے لباس پہنے سواریوں پر سوار ہو کر جائیں گے۔ بعض پیدل چل کر جائیں گے۔ بعض منہ کے بل گھسیٹ کر لائے جائیں گے۔

بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن بہت سے گروہ ہوں گے۔ ہر نبی کی امت کے الگ الگ گروہ ہوں گے۔ مؤمنین کے الگ، کفار کے الگ۔ پھر مؤمنین کے بھی رتبے کے لحاظ سے بے شمار گروہ ہوں گے۔

وَ فُتِحَتِ السَّمَاۗءُ فَکَانَتْ ابو ابًا۝۱۹ۙ

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس کے دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔

اس آیت میں پہلی بار صور پھونکنے کا ذکر ہے۔ جب اسرافیلؑ صور پھونکیں گے تو آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔

ابوابا کے متعلق دو قول ہیں۔

۱۔ صور پھونکنے سے آسمان میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔ جس طرح کسی مضبوط چھت کے گرنے سے پڑ جاتی ہیں۔ ان دراڑوں کو ابو اب کہا گیا ہے۔

۲۔ جب صور پھونکا جائے گا تو آسمان میں بہت سے دروازے کھول دئیے جائیں گے۔ ان دروازوں سے فرشتوں کے گروہ نکلیں گے جو زمین کی ہر چیز کو فنا کر دیں گے۔

وَ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا۝۲۰ۭ

اور پہاڑوں کو چلایا جائے گا تو وہ ریت کے سراب کی شکل اختیار کر لیں گے۔

سراب کے لفظی معنی ذھاب یعنی چلے جانے کے ہیں، صحرا کی وہ ریت جو دور سے چمکتا ہوا پانی نظر آتا ہے اسے سراب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ قریب جاتے ہی وہ غائب ہو جاتا ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ذرات کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اور زمین ایک سیدھا صاف میدان بن جائے گی جس پر نہ کوئی درخت ہو گا، نہ کوئی پہاڑ۔ پہاڑوں کو پہلے ریزہ ریزہ کیا جائے گا، پھر روئی کی طرح نرم کر دیا جائے گا، پھر ان ذرات کو ہوا میں غبار کی طرح اُڑا دیا جائے گا، یعنی پہاڑ بالکل مٹ جائیں گے اور ان کی جگہ سراب جیسی ہو جائے گی۔

اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا۝۲۱۠ۙ

یقین جانو جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔

یہاں دوسری بار صور پھونکے جانے کے حالات کا بیان ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دربار میں پیش ہونے کے بعد ظاہر ہوں گے۔ مرصادا کا مطلب ہے وہ جگہ جہاں بیٹھ کر کسی کی نگرانی یا انتظار کیا جائے۔ یہاں جہنم سے مراد پُل صراط ہے۔ جہاں ثواب اور عذاب دینے والے فرشتے انتظار کرتے ہوں گے۔ جہنم والوں کو جہنم کے فرشتے پکڑ لیں گے اور جنت والوں کو جنت کے فرشتے ان کے مقام پر لے جائیں گے۔

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا۝۲۲ۙ

وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔

یہ پچھلی آیت میں موجود کانت کی خبر ثانی ہے۔ دونوں جملوں کے معنی یہ ہوئے کہ پل صراط ہر نیک اور بد کے لیے انتظار گاہ ہے سب لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے۔ اور جہنم طاغین یعنی سرکشوں کا ٹھکانہ ہے۔ طاغی کا معنی ہے سرکش یعنی حد سے بڑھ جانے والا؛ چنانچہ اس سے مراد کفار بھی ہو سکتے ہیں اور مسلمانوں کے بد عقیدہ اور گمراہ فرقے بھی ہو سکتے ہیں جو قرآن و سنت کی مقرر کردہ حد سے باہر نکل جاتے ہیں۔ جیسے روافض، خوارج اور معتزلہ وغیرہ۔

لّٰبِثِیْنَ فِیْہَآ اَحْقَابًا۝۲۳ۚ

جس میں وہ مدتوں اس طرح رہیں گے۔

یعنی کافر لوگ جہنم میں بہت لمبے زمانے تک رہیں گے۔

حقب کا مطلب ہے بہت لمبی مدت۔ اس لمبی مدت کی مقدار کیا ہو گی اس میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔

۱۔ حقب کی مقدار اسی سال کی ہے جس کا ہر سال بارہ مہینے کا ہر مہینہ تیس دن کا اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہو گا۔ اس طرح ایک حقب کی مدت تقریباً دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال بنتی ہے۔

۲۔ اسی حساب کے مطابق بعض نے حقب کی مقدار اسی کے بجائے ستر سال قرار دی ہے۔

دونوں قسم کی روایتوں میں یہ بات مشترک ہے کہ حقب حقبہ بہت طویل زمانے کا نام ہے۔ یعنی دھُورٌ متتابعةٌ پے در پے بہت سے زمانے

سوال: کیا کفار جہنم میں حقبہ حقب مقدار گزارنے کے بعد نکل جائیں گے؟

جواب: اس آیت میں لفظ احقاباً سے یہ سمجھنا کہ چند احقاب کے بعد کفار جہنم سے نکال دئیے جائیں گے تمام صحیح نصوص کے خلاف ہے۔ یہاں صرف اس بات کا ذکر ہے کہ مدت احقاب ان کو جہنم میں رہنا ہو گا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ احقاب کے بعد کیا ہو گا۔ چنانچہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی جس کے بعد وہ وہاں سے نکل آئیں۔ احقاب سے مراد وہ زمانہ ہے جس کا خاتمہ نہیں ہو گا بلکہ ایک ختم ہونے پر دوسرا حقب شروع ہو جائے گا، دوسرا ختم ہونے پر تیسرا شروع ہو گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

قرآن مجید کی دوسری آیات ہم فیھا خالدون (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) اور خلدین فیھا ابدا (ہمیشہ اس میں رہنے والے) سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْہَا بَرْدًا وَ لَا شَرَابًا۝۲۴ۙ

کہ اس میں نہ وہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے، اور نہ کسی پینے کے قابل چیز کا۔

پھر اس جہنم میں انہیں نہ تو ٹھنڈک ملے گی، نہ پانی، نہ سایہ، نہ مکان، نہ لباس اور نہ کھانا، نہ ہوا، آرام اور سکون پہچانے والی کوئی چیز میسر نہ ہو گی۔ بعض علماء فرماتے ہیں برداً کا مطلب نیند ہے۔ یعنی اس قدر مصیبتوں کی وجہ سے نیند بھی نہ آئے گی۔ شراباً سے مراد پانی ہے، یعنی دنیا کی ہلکی سے ہلکی چیز یعنی پانی جو بدترین قیدی کو بھی پلا دیا جاتا ہے وہاں انہیں وہ بھی نہیں ملے گا۔

اِلَّا حَمِیْمًا وَ غَسَّاقًا۝۲۵ۙ

سوائے گرم پانی اور پیپ لہو کے۔

حمیم: بے حد گرم پانی جو لوہے کی چمٹیوں سے پکڑ کر دوزخیوں کے سامنے لایا جائے گا۔ جب ان کے منہ کے قریب آئے گا تو چہرے جھلس جائیں گے اور پیٹوں میں اترے گا تو آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ (ترمذی)

غساق: بے حد ٹھنڈا ہو گا جس کی ٹھنڈک کی وجہ سے دوزخی اس کو پی نہ سکے گا، بعض کہتے ہیں کہ غساق جہنمیوں کا بہتا ہوا خون ہے یا پھر غساق جہنم کے ایک چشمے کا نام ہے جس میں سانپ، بچھو اور ہر زہریلے جانور کا زہر جمع ہو گا جب جہنمی کو اس میں غوطہ دیا جائے گا تو اس کی کھال ہڈیوں سے اتر کر ٹخنوں پر گر جائے گی جسے وہ گھسیٹتا پھرے گا۔

جَزَاۗءً وِّفَاقًا۝۲۶ۭ

یہ ان کا پورا پورا بدلہ ہو گا۔

یہ ظلم نہیں ہو گا بلکہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ ہو گا۔ جہنم میں ان کو جو سزا دی جائے گی وہ ان کے باطل عقیدوں اور بد اعمالیوں کے عین مطابق ہو گی۔ عدل و انصاف کے حساب سے کسی قسم کی زیادتی نہیں ہو گی اور یہ سزا ان کے بدترین جرم یعنی شرک و کفر کا بدلہ ہو گا۔

اِنَّہُمْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًا۝۲۷ۙ

وہ (اپنے اعمال کے) حساب کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔

ان آیات میں جزا اور سزا کی وجہ کو بیان کیا گیا ہے۔ انہیں یہ سزا اس لیے دی جائے گی کیونکہ انہیں حساب و کتاب پر یقین ہی نہیں تھا اور نہ انہیں اس بات کا کوئی ڈر تھا کہ ان کے اعمال کا حساب بھی ہو گا۔ یہی وجہ ہے یہ کافر و مشرک دنیا میں بے دھڑک اللہ کی مقرر کردہ حدوں کو توڑتے رہے۔ نہ تو موت کے بعد زندہ ہونے پر یقین رکھتے تھے، نہ جزا و سزا پر۔ اس لیے ان کی زندگیاں اللہ کی نافرمانیوں اور حکم عدولیوں سے بھر گئیں، اب انہیں اسی کی سزا مل رہی ہے۔

وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا۝۲۸ۭ

اور انہوں نے ہماری آیتوں کو بڑھ چڑھ کر جھٹلایا تھا۔

آیات سے مراد ہر قسم کی نشانیاں ہیں خواہ قرآن مجید کی آیات ہوں یا قدرت کی نشانیاں یا دلائل توحید و رسالت۔ کفار اور مشرکین ہر قسم کی نشانیوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے تھے اور خوب جھٹلاتے رہے۔ فساد میں حد سے بڑھ گئے۔ کھلم کھلا حق کا انکار کیا اور باطل پر اڑے رہے۔

وَ کُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰہُ کِتٰبًا۝۲۹ۙ

اور ہم نے ہر ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے ہر چیز کو لوحِ محفوظ یا اعمال نامے میں لکھ رکھا ہے۔ ہم سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ ہمیں ان کے ہر عمل کی خبر ہے۔

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا۝۳۰ۧ

اب مزہ چکھو! اس لیے کہ ہم تمہارے لیے سزا کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کریں گے۔

لہٰذا ہم ان کو ان کے عملوں کی پوری پوری سزا دیں گے اور ہم ان سے کہیں گے اپنے برے اعمال کا مزہ چکھو۔ اے سرکشو! ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی رہیں گے۔ اس میں کمی نہیں کریں گے۔ جہنمیوں کے حق میں یہ آیت قرآن مجید کی تمام آیات سے سخت ہے۔

ربط آیات ۳۱ تا ۳۷

پچھلی آیات میں طاغین یعنی سرکش و نافرمان لوگوں کے انجام اور سزا کا ذکر تھا اب مؤمنین اور متقین کے لیے ثواب اور جنت کے انعامات کا ذکر ہے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا۝۳۱ۙ

جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا تھا، ان کی بیشک بڑی جیت ہے۔

متقین کے لیے وہاں جسمانی اور روحانی ہر طرح کی کامیابی ہو گی۔ ان کو عذاب سے نجات ملنے کے ساتھ ساتھ جنت کے بے بہا انعامات ملیں گے۔

حَدَاۗىِٕقَ وَ اَعْنَابًا۝۳۲ۙ

باغات اور انگور۔

لوگوں کی چند پسندیدہ چیزوں کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً حدائق یعنی باغات جو کھانے اور سیر کے لیے ہر قسم کے پھلوں اور میووں سے لدے ہوں گے۔ اعناب یعنی انگوروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ غذا کا کام بھی دیتے ہیں اور اس کی بیلوں کا سایہ گھنا اور پر لطف ہوتا ہے، جس سے باغات کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے۔

وَ کَوَاعِبَ اَتْرَابًا۝۳۳ۙ

اور نو خیز ہم عمر لڑکیاں۔

پھر ہم عمر ہم نشینوں کا ساتھ بھی میسر ہو گا اور عمر کی مناسبت سے ان کی لذتیں کمال کو پہنچ رہی ہوں گی۔

وَ کَاْسًا دِہَاقًا۝۳۴ۭ

اور چھلکتے ہوئے پیمانے۔

چھلکتے ہوئے جام ہوں گے جن سے لطف و سرور میں ہر وقت تازگی رہے گی۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَ لَا کِذّٰبًا۝۳۵ۚ

وہاں پر وہ نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے، اور نہ کوئی جھوٹی بات۔

لیکن یہ بھرے ہوئے پیالے دنیا کی خرابیوں سے پاک ہوں گے۔ نہ ان سے بے ہوشی طاری ہو گی، نہ نیند، نہ سردرد اور نہ مار پیٹ، جنت کا سرور دنیاوی شرور سے پاک ہو گا۔ جنتی جام کے جام چڑھا کر بھی نہ تو بے ہودہ باتیں کریں گے، نہ جھوٹ بولیں گے، نہ ہی ان کی عقل میں کوئی فتور آئے گا۔

جنت کی نعمتوں کو دنیا کی چیزوں جیسا سمجھنا اور ناموں کا ملتا جلتا ہونے کی وجہ سے ان کا مذاق بنانا کم عقلی اور بد دماغی ہے۔ یہ مثالیں صرف سمجھانے اور رغبت دلانے کے لیے بیان کی جاتی ہیں ورنہ جنت کی کسی معمولی سی چیز کا دنیا کی اعلی ترین چیز سے بھی کوئی مقابلہ نہیں۔

جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَاۗءً حِسَابًا۝۳۶ۙ

یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہو گا۔ (اللہ کی) ایسی دین ہو گی جو لوگوں کے اعمال کے حساب سے دی جائے گی۔

جنت کی یہ نعمتیں مؤمنین، متقین کے لیے ان کے رب کی طرف سے ان کے اعمال کا بدلہ اور بے بہا انعام ہو گا۔ جنت میں ان کو جو کچھ ملے گا وہ بظاہر ان کے اعمال کا بدلہ ہو گا لیکن حقیقت میں عطائے الٰہی ہو گی؛ چنانچہ اس کے بعد بندوں کی کوئی تمنا و آرزو باقی نہ رہے گی۔

حسابا کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔

۱۔ حسابا کافیا: یعنی ایسے انعامات جو ان کی تمام ضرورتوں اور خواہشوں کے لیے کافی ہو جائیں۔

۲۔ حساب کا دوسرا معنی مقابلہ کا بھی ہے۔ یعنی جیسا ان کا اخلاص تھا بدلے میں اتنا ہی بڑا انعام دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحابہؓ کے اعمال اور سابقون الاولون کے ایمان کے برابر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

سوال: ان نعمتوں کو پہلے اعمال کی جزا کہا گیا پھر عطائے ربانی۔ بظاہر یہ دونوں باتیں مختلف ہیں کیونکہ جزا کا مطلب بدلہ ہے اور عطاء وہ ہے جو انعام میں دی جائے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے ان دونوں لفظوں کو اکٹھا بیان کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بخشش اور جنت کی نعمتیں بظاہر اہل جنت کے اعمال کا بدلہ ہیں لیکن اصل میں اللہ تعالیٰ کا انعام و اکرام ہیں ؛ کیونکہ انسان کو جو نعمتیں دنیا میں دی گئیں وہ ان کا شکرانہ ادا نہیں کر سکتے۔ جنت کے انعامات تو محض اللہ کا فضل و انعام اور خاص عطا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَہُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۝۳۷ۚ

اسی پروردگار کی طرف سے جو سارے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک، بہت مہربان ہے۔ کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے سامنے بول سکے۔

جنت کے تمام انعامات اس کی طرف سے ہیں جو زمین اور آسمان کا رب ہے اور جو کچھ بھی ان دونوں کے درمیان ہے۔

رب جو ہر چیز کی پرورش کر کے اسے ترقی دے کر درجۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے اور دوسری صفت رحمان جس کی رحمت کا کوئی حساب اور کوئی شمار نہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کہہ سکے مجھے یہ نعمت کیوں نہیں ملی اور کسی دوسرے کو کوئی نعمت کیوں دی گئی۔

اللہ تعالیٰ جس کو جو درجہ عطا کریں گے اس میں کسی کو بات کرنے یا اعتراض کرنے کا حق حاصل نہ ہو گا اور نہ کسی قسم کی گفتگو کرنے کی مجال ہو گی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن کسی کو بغیر اللہﷻ کی اجازت کے بات کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ البتہ یہ اجازت محشر کے بعض مقامات میں ہو گی اور بعض میں نہیں ہو گی۔

ربط آیات ۳۸ تا ۴۰

پچھلی آیات میں فرمایا کہ لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے گفتگو کرنے کی ہمت و مجال نہیں رکھیں گے۔ اگلی آیات میں اسی کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕکَة صَفًّا۝۲۶ۭۤۙ لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا۝۳۸

جس دن ساری روحیں اور فرشتے قطاریں بنا کر کھڑے ہوں گے، اس دن سوائے اس کے کوئی نہیں بول سکے گا۔ جسے خدائے رحمن نے اجازت دی ہو، اور وہ بات بھی ٹھیک کہے۔

یہ وہ دن ہو گا جب روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے۔ اللہﷻ کی ہیبت اور جلال کی وجہ سے ان کے دل لرز رہے ہوں گے، کوئی بھی بول نہ سکے گا اور نہ کسی کی سفارش کر سکے گا خواہ وہ روح و ملائکہ ہوں یا انبیاءؑ یا ان کے علاوہ کوئی اور، جب تک اللہﷻ اجازت نہ دے دیں۔ پھر جس کو سفارش کی اجازت ملے گی وہ بھی قاعدے کے مطابق ہی سفارش کر سکے گا اور با ادب ہو کر با مقصد بات کرے گا ادھر ادھر کی باتیں کرنے کی نہ تو اجازت ہو گی نہ ہمت ہو گی۔

سوال: روح کیا ہے؟

جواب: روح کے متعلق علماء کے چند اقوال ہیں:

۱۔ روح سے مراد جبرائیل امین ہیں، عام فرشتوں سے پہلے ان کا ذکر ان کی عظمت اور شان کے اظہار کے لیے ہے۔

۲۔ روح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم الشان لشکر ہے جو فرشتے نہیں ہیں بلکہ انسانوں کی طرح ان کے سراور ہاتھ پاؤں بھی ہیں۔ اس دن ایک صف ان کی ہو گی اور ایک فرشتوں کی۔

۳۔ روح کو اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کی شکل پر پیدا کیا ہے۔ جو فرشتہ آسمان سے اترتا ہے اس کے ساتھ روح کا ایک شخص ضرور ہوتا ہے۔ واللہ اعلم

ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ۝۳۸ۚ فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّہٖ مَاٰبًا۝۳۹

وہ دن ہے جو برحق ہے۔ اب جو چاہے وہ اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنا رکھے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیات کا خلاصہ بیان کر دیا ہے کہ ہماری ان تمام نشانیوں اور ہمارے قدرت و اختیار سے ثابت ہو گیا کہ انسان دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور قیامت ضرور بالضرور واقع ہو گی۔ تو جس شخص کو قیامت کا یقین ہو جائے وہ تقویٰ اختیار کرے اور نیک اعمال کر کے اپنا ٹھکانا اللہ تعالیٰ کے پاس بنا لے۔

اِنَّآ اَنْذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًاڂ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَ یَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا۝۴۰ۧ

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کر دیا ہے جو قریب آنے والا ہے جس دن ہر شخص وہ اعمال آنکھوں سے دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے ہیں، اور کافر یہ کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے تمہیں قیامت کے اس عذاب سے خبردار کر دیا ہے۔ قیامت بظاہر تمہیں دور دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں یہ اتنی قریب ہے جتنی انسان سے اس کی موت قریب ہے۔ اور موت تو بہت ہی قریب ہے۔

قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ وہ اس طرح کہ اس کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا یا پھر اس کے اعمال مختلف شکلوں میں اس کے سامنے آ جائیں گے۔ جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ زکوٰة نہ دینے والے کا مال سانپ کی شکل میں آئے گا اور قربانی کا جانور پُل صراط پر سواری بنے گا۔ یوم سے مراد قیامت کا دن بھی ہو سکتا ہے اور قبر و برزخ بھی، جس میں انسان اپنے اعمال کو دیکھ لے گا۔

اعمال کی نسبت ہاتھوں کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ اکثر کام ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں یا پھر یہ محاورے کے طور پر بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد اعمال کی دو قوتیں یعنی نیک عمل اور برے عمل ہوں۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ساری زمین برابر اور ہموار کر دی جائے گی۔ پھر وہاں تمام جن و انسان، وحشی اور پالتو ہر قسم کے جانور جمع کیے جائیں گے۔ اگر دنیا میں کسی جانور نے دوسرے جانور پر ظلم کیا ہو گا مثلاً کسی سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری کو مارا ہو گا تو اس سے بدلا دلایا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ تمام جانوروں کو حکم دیں گے کہ تم سب مٹی ہو جاؤ تو اس وقت کافر تمنا کریں گے اور کہیں گے کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں کافر سے مراد شیطان ہے جب وہ قیامت کے دن اولادِ آدم کی عزت دیکھے گا تو وہ کہے گا کاش میں بھی مٹی سے پیدا ہوا ہوتا۔

مختصر تفسیر عتیق سورة النباء:

سورة النباء چالیس آیات پر مشتمل ہے۔ مشرکین مکہ استہزاء و تمسخر کے طور پر مرنے کے بعد زندہ ہونے کو اور قرآن کریم کو ’’النبأ العظیم‘‘ یعنی ’’بڑی خبر‘‘ کہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعی بڑی اور عظیم الشان خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ کی بات لے کر فرمایا کہ اس ’’بڑی خبر‘‘ پر تعجب یا انکار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں عنقریب اس کی حقیقت کا علم ہو جائے گا۔ پھر اس پر کائناتی شواہد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان میں موجود چیزیں جن کی تخلیق انسانی نقطۂ نظر سے زیادہ مشکل اور عجیب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تخلیق فرمائی ہے اور ایسی طاقت و قدرت رکھنے والے اللہ کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ پھر اس اعتراض کا جواب دیا کہ اگر یہ بات برحق ہے تو آج مردے زندہ کیوں نہیں ہوتے؟ ہر چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے وقت مقرر ہوتا ہے۔ وہ چیز اپنے موسم اور متعین وقت میں آ موجود ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ’’موسم‘‘ اور وقت مقرر یوم الفصل (فیصلہ کا دن) ہے لہٰذا یہ کام بھی اس وقت ظاہر ہو جائے گا۔ پھر جہنم کی عبرتناک سزاؤں اور جنت کی دل آویز نعمتوں کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال اور فرشتوں جیسی مقرب شخصیات کی قطار اندر قطار حاضری اور بغیر اجازت کسی قسم کی بات کرنے سے گریز کو بیان کر کے بتایا کہ آخرت کے عذاب کی ہولناکی اور خوف کافروں کو یہ تمنا کرنے پر مجبور کر دے گا کہ کاش ہم دوبارہ پیدا ہی نہ کیے جاتے اور جانوروں کی طرح مٹی میں مل کر عذاب آخرت سے نجات پا جاتے۔

٭٭٭

۲۔ سورۃ النازعات

اسمائے سورت:

عم پارے کی دوسری سورة النازعات کے نام سے مشہور ہے۔ یہ نام اس سورة کی پہلی آیت میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسے ’’سورة الساھرہ‘‘ اور ’’سورة الطامہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مکی سورة ہے اور چھیالیس آیات پر مشتمل ہے۔

روابط:

اس سے پہلی سورة یعنی ’’النباء‘‘ میں قیامت کے متعلق کفار کے انکار اور سوال کا جواب دیا گیا ہے اور قیامت کے واقع ہونے کو دلائل سے ثابت کر کے منکرین کی سزا اور متقین کی جزا کا بیان کیا گیا۔ اب سورة النازعات میں قسم کے ساتھ، قیامت کی ابتداء یعنی موت کی کیفیت کا بیان ہے۔ مرنے کے ساتھ ہی قیامت شروع ہو جاتی ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے ’’من مات فقد قامت قیامۃ‘‘ (جو شخص مرگیا گویا اس کے لیے قیامت واقع ہو گئی)۔ یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ موت قیامت کا ایک سبب ہے اور جس طرح انسان سے اس کی موت زیادہ دور نہیں اسی طرح قیامت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔

ربط آیات ۱ تا ۵

سورت کے شروع میں فرشتوں کی ان پانچ صفات کو بیان کیا گیا ہے جن کا تعلق انسان کی موت اور نزع کے عالم سے ہے۔ فرشتوں کی قسم اس لیے کھائی گئی کہ فرشتے اس دنیا کا نظام چلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں اور قیامت کے دن بھی جب دنیا کے تمام اسباب ختم ہو جائیں گے فرشتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے مختلف کام انجام دیں گے۔

وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۝۱ۙ

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔

پہلی صفت: نازعات کا لفظ ’’نزع‘‘سے نکلا ہے جس کے معنی کسی چیز کو کھینچ کر نکالنے کے ہیں اور غرقاً اس کی تاکید ہے جس کا معنی ہے، ڈوب کر یعنی پوری شدت کے ساتھ۔ اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو کافروں کی روح نکالتے ہیں۔ کافر کی روح آخرت کی مصیبتوں سے گھبرا کر اس کے بدن میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، اس لیے فرشتے اس کے بدن میں گھُس کر سختی سے کھینچ کر اس کی روح کو باہر نکالتے ہیں، جس سے اسے شدید تکلیف ہوتی ہے۔ بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ کافر کی جان بہت آسانی سے نکل گئی ہے لیکن یہ آسانی صرف ظاہری ہوتی ہیں اس کی روح کو جو تکلیف ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ چنانچہ اس سختی سے روحانی تکلیف اور سختی مراد ہے، دیکھنے والے اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۝۲ۙ

اور جو (مومنوں کی روح کی) گرہ نرمی سے کھول دیتے ہیں۔

دوسری صفت: اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو مؤمن کی جان نکالنے آتے ہیں۔ فرشتے مؤمنوں کی روح کو نہایت آسانی اور سہولت سے نکالتے ہیں، شدت اور سختی نہیں کرتے ؛ کیونکہ مؤمن روح کے سامنے برزخ کا انعام اور ثواب ہوتا ہے جسے دیکھ کر وہ جلدی سے ان کی طرف جانا چاہتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہوا یا پانی، کسی چیز میں بند ہو اور اس کا ڈھکن کھول دیا جائے، وہ نہایت آسانی اور تیزی سے باہر نکل جاتی ہے، اسی طرح مؤمن کی روح نکلتی ہے۔ یہاں بھی آسانی سے مراد روحانی آسانی ہے۔ بعض اوقات مؤمن پر موت کی سختی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا۝۳ۙ

پھر (فضا میں) تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔

تیسری صفت: اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو انسان کی روح نکالنے کے بعد تیزی سے اسے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔ جس طرح کوئی شخص دریا میں تیرتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ہو تو جلد ہی منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے اسی طرح فرشتے بھی آسانی اور تیزی کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں۔

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۝۴ۙ

پھر تیزی سے لپکتے ہیں۔

چوتھی صفت: اس سے مراد یہ ہے کہ جو روح ان فرشتوں کے قبضے میں ہے اسے لے کر اچھے یا برے ٹھکانے پر تیزی سے پہنچاتے ہیں۔ روح کے بارے میں جو بھی حکم ہوتا ہے یعنی مؤمن کی روح کو جنت کی فضا اور نعمتوں کے مقام پر اور کافر کی روح کو دوزخ کی فضا اور عذاب کی جگہ پر فوراً پہنچا دیتے ہیں۔

فائدہ: قرآنِ کریم میں اصل لفظ، صرف اتنا ہے کہ ’’قسم اُن کی جو سختی سے کھینچتے ہیں‘‘ لیکن حضرت عبد اللہ بن عباسؓ  نے اس کی تفسیر میں یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد رُوح قبض کرنے والے فرشتے ہیں جو کسی کی (عام طور سے کافروں کی) رُوح کو سختی سے کھینچتے ہیں، اور کسی کی (عام طور سے مومنوں کی) روح کو آسانی سے اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے کوئی گرہ کھول دی ہو۔ پھر وہ ان رُوحوں کو لے کر تیرتے ہوئے جاتے ہیں، اور جلدی جلدی اُن کی منزل پر پہنچا کر ان احکام کے مطابق اُن کا انتظام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے بارے میں دئیے ہوتے ہیں۔ پہلی چار آیتوں کا یہی مطلب ہے۔

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا۝۵ۘ

پھر جو حکم ملتا ہے اس (کو پورا کرنے) کا انتظام کرتے ہیں۔

پانچویں صفت: فرشتوں کا آخری کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظام کرتے ہیں جس روح کو ثواب اور راحت کا حکم ہو اس کے لیے راحت کے اسباب جمع کر دیتے ہیں اور جس روح کے لیے تکلیف اور عذاب کا حکم ہو اس کے لیے عذاب کے اسباب کا انتظام کرتے ہیں۔

فائدہ: موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح نکال کر آسمان کی طرف لے جانا پھر اس کے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب اور راحت یا تکلیف کا انتظام کرنا ان آیات سے ثابت ہے۔ یہ ثواب و عذاب، قبر یعنی برزخ میں ہو گا۔ حشر کا عذاب و ثواب اس کے بعد ہو گا۔ صحیح احادیث میں اس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

سوال: غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود یہاں غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: ۱۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی حکم اور قانون کی پابند نہیں، یہ حکم مخلوق کے لیے ہے۔ مخلوق کو غیر اللہ کی قسم سے اس لیے منع کیا گیا کہ کہیں قسم کھانے والا اس چیز کو ایسا عظیم اور بڑا نہ سمجھنے لگے جیسا اللہ کو سمجھنا چاہیے۔

۲۔ یہاں مضاف محذوف ہے۔ اصل عبارت یوں ہے: وَ ربُّ النّٰزِعٰتِ روح کھینچنے والے فرشتوں کے رب کی قسم۔

فائدہ: بعض مفسرینِ کرام نے فرمایا ہے کہ نازعات سے مراد ستارے ہیں۔ ان کے اس قول کے مطابق ستارے رات کے وقت اپنے آپ کو کھینچ کر لاتے ہیں۔ جس طرح اللہ کی قدرت انہیں ڈوب جانے کے بعد دوبارہ طلوع اور روشن کر دیتی ہے اسی طرح یہ تمہیں بھی دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ ان مفسرین کے قول کے مطابق ناشطات سے مراد ایسے ستارے ہیں جو چلنے والے ہیں اور السابحات سے مراد وہ ستارے ہیں جو اپنے دائرے میں تیرتے ہیں اور فالسابقات سے مراد ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والے ستارے ہیں ؛ البتہ المدبرات فرشتوں کی صفت ہے ستاروں کی نہیں۔

ربط آیات۶ تا ۱۴

پچھلی آیات میں قیامت کو شروع کرنے والی یعنی موت کا ذکر تھا۔ اب قیامت کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَة۝۶ۙ

کہ جس دن بھونچال (ہر چیز کو) ہلا ڈالے گا۔

یعنی اے کافرو! تم قیامت کا انکار کرتے ہو ہم قسم کھا کر کہتے ہیں تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ ضرور زندہ کیا جائے گا۔ ایک ہلا دینے والی چیز سب چیزوں یعنی زمین، پہاڑ، درخت وغیرہ ہلا دے گی۔ اس وقت یہ حالت ہو گی کہ ہر چیز لرز جائے گی اور آخر کار فنا و برباد ہو جائے گی۔ یہ سب اس وقت ہو گا جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔

تَتْبَعُہَا الرَّادِفَة۝۷ۭ

پھر اس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔

پہلی دفعہ صور پھونکے جانے کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ جو پہلے سے متصل زمانہ ہو گا۔ یعنی یہ دونوں زمانے یوم واحد ہوں گے۔ دوبارہ صور پھونکے جانے سے تمام انسان و حیوان دوبارہ زندہ ہو جائیں گے اور عدالت الٰہی میں حاضر ہوں گے۔

سوال: دو بار صور پھونکنے کے درمیان کتنا زمانہ ہو گا؟

جواب: ابن عباسؓ و دیگر مفسرین کا بیان ہے۔ راجفہ سے مراد پہلا نفخہ ہے اور رادفہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے اور ان دونوں کے درمیان چالیس برس کی مدت ہو گی۔

قُلُوْبٌ یَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَة۝۸ۙ اَبْصَارُہَا خَاشِعَة۝۹ۘ

اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

جب حاضری ہو گی تو دل مارے خوف کے دھڑک رہے ہوں گے۔ نگاہیں ندامت و شرم اور خوف و ہراس کی وجہ سے جھکی ہوں گی۔ جس طرح مجرم عدالت میں پیش کیے جائیں تو ان کے سر اور نگاہیں احساسِ گناہ کی وجہ سے جھکی ہوتی ہیں۔

یَقُوْلُوْنَ ءَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَة۝۱۰ۭ

یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ: کیا ہم پہلی والی حالت پر لوٹا دیئے جائیں گے؟

قیامت میں ان کفار کا حال بیان کرنے کے بعد ان کی دنیاوی باتوں کا ذکر ہے۔ دنیا میں ان کے غرور، تکبر اور لاپروائی کا یہ عالم تھا کہ جب ان کو قیامت برپا ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو اس کا مذاق بناتے اور حقارت سے کہتے تھے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے،

ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَة۝۱۱ۭ

کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہوں گے؟

دنیا میں وہ کہتے تھے، اتنی مدت گزرنے کے بعد اور ہڈیوں کے مٹی میں مل جانے کے بعد اعضا کو کس طرح دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا؟ جب جسم گل سڑ جائے گا اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گی تو انہیں پھرسے پہلی حالت پر دوبارہ کیسے لوٹایا جائے گا؟

قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّة خَاسِرَة۝۱۲ۘ

کہتے ہیں کہ: اگر ایسا ہوا تو یہ بڑے گھاٹے کی واپسی ہو گی۔

دنیا کی زندگی میں یہ بات ان کی ناقص عقل سے باہر تھی، وہ اسے اللہ کی قدرت سے خارج سمجھتے تھے، اسی لیے نا ممکن سمجھ کر کہتے تھے اگر ایسا ہوا، پھر تو ہم بہت گھاٹے میں رہیں گے کیونکہ ہم نے تو اس کے لیے کوئی تیاری ہی نہیں کی۔

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَة وَّاحِدَة۝۱۳ۙ

حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بس ایک زور کی آواز ہو گی۔

اس سب کے جواب میں اللہ تعالیٰ قیامت کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ صرف ایک ڈانٹ، ہیبت ناک آواز یا ایک چیخ سنائی دے گی اور سب کے تمام اجزا اکھٹے ہو کر بدن تیار ہو جائیں گے، پھر اسی وقت ان کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں سے جوڑ دیا جائے گا۔

فَاِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَة۝۱۴ۭ

جس کے بعد وہ اچانک ایک کھلے میدان میں ہوں گے۔

وہ اس طرح سطح زمین پر زندہ کھڑے ہوں گے گویا سوئے ہوؤں کو جگا دیا گیا ہو اور خود ہی میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کتاب کے لیے جمع ہو جائیں گے۔

ساھرہ کے دو معنی ہیں۔

۱۔ لوگ قیامت کے دن فوراً جاگ اٹھیں گے۔ اس میں موت کو نیند سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسے حدیث مبارکہ میں نیند کو موت جیسا قرار دیا گیا۔ اس صورت میں یہ لفظ لیلۃ الساھرہ سے ماخوذ ہو گا یعنی ’’رتجگے کی رات‘‘۔ جس طرح نیند کے عالم میں اچھے برے خواب آتے ہیں اسی طرح موت کے عالم میں، راحت و عذابِ قبر کی آپس میں مناسبت ہے۔

۲۔ پھر ایک دم وہ میدان میں حاضر ہو جائیں گے۔

سوال: ساھرہ کیسی جگہ ہو گی اور کہاں ہو گی؟

جواب: اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔

اس سے مراد زمین، روئے زمین، کھلا میدان، سفید اور ہموار زمین جس میں گھاس پھونس، پیڑ پودے، عمارت وغیرہ کچھ نہ ہو، ارض القیامہ اور میدانِ حشر وغیرہ ہے۔ یہ بیت المقدس کے قریب والی جگہ ہے یا مکہ ہے یا سر زمینِ شام ہے جس کو اللہ تعالیٰ اتنا وسیع کر دیں گے کہ ساری مخلوق اس پر آ جائے گی۔

ربط آیات ۱۵ تا ۳۶

پچھلی آیات میں کفار کی ضد، تکبر، انکار اور تمسخر کا بیان تھا جس سے نبی کریمﷺ کو سخت دلی تکلیف ہوتی تھی اور آپﷺ ان کے اس روئیے سے غمگین ہو جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک جلیل القدر نبی موسیٰ کلیم اللہؑ اور اس کے سخت دشمن فرعون کا واقعہ بیان فرمایا۔ اس قصے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ تسلی رکھیں اور پریشان نہ ہوں کیونکہ مخالفین کی یہ ضد اور انکار صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دوسرے انبیاءؑ کو بھی مخالفین نے بہت تکلیفیں اور ایذائیں پہنچائیں۔ ان کی لائی گئی دعوت توحید و رسالت کا بھی انکار کیا اور مذاق اڑاتے رہے۔ پہلے پیغمبروں نے صبر اور استقامت سے سب کچھ برداشت کیا آپ بھی ان تکالیف پر صبر کریں۔

یہ قصہ آپ کے لیے تسلی ہے اور منکرین کے لیے زجر اور تنبیہ ہے۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلیل عقلی سے قیامت کے قائم ہو جانے کا ثبوت دیا اب موسیٰؑ کا واقعہ بطور نقلی دلیل پیش کیا، جس کے متعلق اس دور کے لوگ کچھ نہ کچھ جانتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک امی کی زبان سے موسیٰؑ کا واقعہ بیان کر دینا بھی آپ کی نبوت پر دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس واقعے کی خبر آپﷺ کو وحی کے ذریعے دی گئی ہے۔

ہَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰى۝۱۵ۘ

(اے پیغمبر) کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے؟

اللہ کریم کا یہ سوالیہ انداز نبی کریمﷺ کی تسلی کے لیے ہے یعنی آپ کی رسالت اور دعوت توحید کوئی نئی چیز نہیں آپ سے پہلے بھی انبیاءؑ اللہ کی توحید کی دعوت دینے آتے رہے ہیں اور انہیں بھی اس راستے میں تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے بعد موسیٰؑ اور فرعون کے واقعے کا صرف وہی رُخ یا پہلو بیان کیا گیا، جس کی یہاں ضرورت محسوس کی گئی۔

اِذْ نَادٰىہُ رَبُّہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى۝۱۶ۚ

جب ان کے پروردگار نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں آواز دی تھی۔

قصہ موسیٰؑ :

موسیٰؑ کا واقعہ قرآن مجید کی بہت سی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے جس کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے۔

مصر کا بادشاہ فرعون نہایت ظالم و جابر تھا جو طاقت اور اقتدار کے نشے میں اپنے آپ کو خدا کہتا تھا۔ اس نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔ اس کے درباری نجومیوں نے اسے خبر دی کہ بہت جلد بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو تیری ہلاکت کی وجہ بنے گا۔ فرعون نے حکم دیا: بنی اسرائیل میں جس کے گھر بھی بیٹا پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے۔ ’’ان حالات میں موسیٰؑ کی پیدائش ہوئی۔ ان کی والدہ نے انہیں قتل ہونے سے بچانے کے لیے اللہ کے حکم سے ایک صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہا دیا اور ان کی بہن سے کہا: ’’دیکھتی رہو صندوق کہاں جاتا ہے؟‘‘ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل میں اس کی بیوی آسیہ تک پہنچ گیا۔ اس نے جب کھولا تو ایک خوبصورت بچے کو دیکھ کر فرعون کی مخالفت کے باوجود اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ موسیٰؑ کی بہن کی حکمت سے بچے نے اپنی ماں کے دودھ پر پرورش پائی۔ موسیٰؑ اسی فرعون بادشاہ کے محل میں ناز و نعمت کے ساتھ جوان ہوئے۔

ایک دن ایسا ہوا کہ آپ شہر گئے جہاں دو آدمی لڑ پڑے، جن میں سے ایک حضرت موسیٰؑ کی قوم سے تھا اور دوسرا فرعونی تھا۔ بنی اسرائیلی شخص نے آپ کو مدد کے لیے بلایا۔ موسیٰؑ نے پہلے تو فرعونی کو زبان سے منع کیا، جب وہ نہیں مانا تو اسے ایک مکا مارا، وہ وہیں گر کر مر گیا۔ دوسرے دن پھر گھر سے نکلے تو وہی بنی اسرائیلی کسی دوسرے فرعونی کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔ اس نے دوبارہ آپ کو مدد کے لیے بلایا۔ آپ کو سخت غصہ آیا کہ یہ شخص فساد پھیلا رہا ہے، جب آپ اس کی طرف بڑھے تو اس نے شور مچا دیا۔ موسیٰؑ ایک بنی اسرائیلی ہمدرد کی مدد سے مصر سے نکلے اور مدین چلے گئے۔

وہاں ایک کنویں پر دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں جبکہ دوسرے لوگ پانی پلا رہے تھے۔ موسیٰؑ نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلا رہیں؟ انہوں نے جواب دیا ہم عورتیں ہیں، جب یہ مرد اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے پھر ہماری باری آئے گی۔ موسیٰؑ نے آگے بڑھ کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ لڑکیوں نے واپس جا کر اپنے والد شعیبؑ کو سارا واقعہ سنایا، انہوں نے اپنی لڑکی بھیج کر آپ کو بلوایا۔ موسیٰؑ سے سارا واقعہ سن کر انہیں تسلی دی اور اپنی ایک بیٹی کا نکاح ان سے اس شرط پر کر دیا کہ وہ آٹھ سال ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں تو دس سال رہیں۔

موسیٰؑ نے مدت پوری کی اور یہ سوچ کر کہ آٹھ دس سال میں لوگ قتل کا واقعہ بھول گئے ہوں گے، شعیبؑ سے اجازت لے کر وطن واپس روانہ ہو گئے۔ رات کا وقت تھا اور سخت سردی تھی۔ آپ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ طور پہاڑ کے قریب پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ اہل خانہ کو وہاں ٹھہرا کر کہا سامنے آگ نظر آ رہی ہے۔ میں وہاں سے آگ لے کر آتا ہوں یا پھر ان سے راستہ پوچھ کر آتا ہوں۔ وہاں پہنچے تو دیکھا وہ آگ نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا نور یا تجلی تھی جس نے ایک درخت کو گھیرا ہوا تھا۔ جب قریب پہنچے تو اس سے آواز آئی: ’’اے موسی! بیشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کیا کرو۔ اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ جواب دیا عصا یعنی لاٹھی ہے۔ فرمایا اس کو زمین پر ڈال دو۔ آپ نے لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ سانپ بن گیا۔ موسیٰؑ گھبرا کر بھاگے، فرمایا اس کو پکڑ لو، یہ دوبارہ لکڑی بن جائے گا۔ پھر فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ کو بغل میں دبا کر نکالو۔ آپ نے ایسا ہی کیا، آپ کا وہ ہاتھ چاند کی طرح چمکنے لگا، پھر دوبارہ بغل میں دبا کر نکالا، تو پہلے جیسا ہو گیا۔ اس موقعے پر موسیٰؑ کو نبوت اور یہی دو عظیم الشان معجزے عطا کیے گئے۔

اِذْ نَادٰىہُ رَبُّہٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔

اِذْہَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰى۝۱۷ۡۖ

کہ: فرعون کے پاس چلے جاؤ، اس نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو نبوت سے سرفراز فرمایا، پھر انہیں حکم دیا کہ مصر کے بادشاہ فرعون کے پاس جا کر اسے توحید کی دعوت دیں کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ چنانچہ موسیٰؑ فرعون کو دعوتِ حق دینے کے لیے مصر روانہ ہو گئے۔

فَقُلْ ہَلْ لَّکَ اِلٰٓى اَنْ تَزَکّٰى۝۱۸ۙ

اور اس سے کہو کہ کیا تمہیں یہ خواہش ہے کہ تم سنور جاؤ؟

اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو حکم دیا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ کیا تو چاہتا ہے، تو جسمانی اور روحانی برائی اور خباثت سے پاک صاف ہو جائے اور تیرا برا اخلاق اچھائی میں بدل جائے۔

وَ اَہْدِیَکَ اِلٰى رَبِّکَ فَتَخْشٰى۝۱۹ۚ

اور یہ کہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کا راستہ دکھاؤں تو تمہارے دل میں خوف پیدا ہو جائے؟

اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اس کو جان لے اور پہچان کر اس سے ڈرے اور اسی ڈر کی وجہ سے اپنی اصلاح کر لے۔ اس لیے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔

موسیٰؑ اللہ کا یہ پیغام لے کر فرعون کے پاس پہنچے۔ اسے دعوتِ توحید دی اور اللہ کے رب العالمین ہونے کی حقیقت سے باخبر کیا۔ یہ سن کر اس نے موسیٰؑ سے ان کی نبوت کی نشانی اور ثبوت مانگا۔

فَاَرٰىہُ الْایَٰة الْکُبْرٰى۝۲۰ۡۖ

چنانچہ موسیٰ نے اس کو بڑی زبردست نشانی دکھائی

موسیٰؑ نے اسے ایک بڑی نشانی دکھائی۔ مفسرین کے متفقہ قول کے مطابق وہ نشانی یہ تھی کہ آپ نے اپنا عصا یعنی لاٹھی زمین پر پھینک دی۔ وہ ایک بہت بڑا اژدھا یعنی سانپ بن گیا۔ فرعون اور اس کے درباری ڈر کر بھاگ گئے لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہ لایا۔

فَکَذَّبَ وَ عَصٰى۝۲۱ۡۖ

پھر بھی اس نے (انہیں) جھٹلایا، اور کہنا نہیں مانا۔

فرعون نے موسیٰؑ کے معجزے پر ایمان لانے کی بجائے اس کا انکار کیا اور اسے جھٹلا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کہنے لگا یہ یعنی موسیٰ (ؑ) تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ میں بھی اپنے جادوگروں کو بلاتا ہوں وہ آ کر اس کے جادو کا توڑ کریں گے اور اس سے مقابلہ کر کے اسے شکست دے دیں گے۔

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى۝۲۲ۡۖ فَحَشَرَ فَنَادٰى۝۲۳ۡۖ فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰى۝۲۴ۡۖ

پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لیے پلٹا۔ پھر سب کو اکٹھا کیا اور آواز لگائی۔ اور کہا کہ: میں تمہارا اعلیٰ درجے کا پروردگار ہوں۔

وہاں سے جانے کے بعد فرعون موسیٰؑ کے خلاف سازشیں کرنے اور فساد پھیلانے لگا، اس نے لوگوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کی اور کہا میں ہی تمہارا حاکمِ اعلی ہوں، میرے سوا کوئی اور اتنی طاقت اور شان و شوکت کا مالک نہیں۔ چنانچہ اس کے جادوگروں سے موسیٰؑ کا مقابلہ ہوا۔ جادوگروں نے رسیاں ڈالیں جو جادو سے سانپ بن گئیں۔ جب موسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے عصا یعنی لاٹھی کو زمین پر ڈالا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر ان سارے سانپوں کو کھا گیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر اللہ کی وحدانیت اور موسیٰؑ کی رسالت پر ایمان لے آئے لیکن فرعون پھر بھی نہ مانا۔

فَاَخَذَہُ اللہُ نَکَالَ الْاٰخِرَة وَالْاُوْلٰى۝۲۵ۭ

نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔

نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جسے دیکھ کر سب سہم جائیں۔ نکالِ آخرت فرعون کے لیے آخرت کا عذاب ہے اور نکال اولی دنیا کا عذاب ہے۔

موسیٰؑ بنی اسرائیل کو جب مصر سے لے کر چلے تو اللہ کے حکم سے دریا میں بارہ راستے بن گئے۔ فرعون نے بھی بنی اسرائیل کے پیچھے دریا کے راستوں پر لشکر ڈال دیا۔ لیکن اللہﷻ نے اس کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور دنیا میں یہ عبرت ناک سزا دی کہ فرعون اور اس کے لشکر کو دریائے قلزم میں غرق کر دیا اور اس کی لاش کو باہر پھینک دیا تاکہ لوگوں کے لیے عبرت کی وجہ بن جائے۔ فرعون کی لاش آج تک مصر میں محفوظ ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَة لِّمَنْ یَّخْشٰى۝۲۶ۭۧ

حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔

اس قصے میں متقین کے لیے بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ انبیاءؑ کی دعوت بالکل سچی ہوتی ہے۔ اس کا انکار اور مخالفت کرنے سے دنیا و آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے والے کا انجام بہت برا ہوتا ہے وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔

اے نبی کریمﷺ آپ پریشان نہ ہوں آپ کے مخالفین کا بھی آخر کار یہی انجام ہو گا۔ آپ تسلی رکھیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کو تباہ و برباد کر دے گا۔

ربط آیات ۲۷ تا ۳۳

گزشتہ آیات میں موسیٰؑ و فرعون کا قصہ بطورِ تسلی و عبرت بیان کرنے کے بعد ان آیات سے پھر اصل مضمون کا ذکر شروع ہوتا ہے یعنی دلائل قدرت سے یہ ثابت کرنا کہ قیامت ضرور قائم ہو گی اور منکرین کے اس شبہ کا جواب؛ جو کہتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد کیسے زندہ ہوں گے؟

ءَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ۝۲۶ بَنٰىہَا۝۲۷۪

(انسانو!) کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو؟ اس کو اللہ نے بنایا ہے۔

قیامت اور جزا و سزا کا انکار کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کافر کسی مُردہ کے زندہ ہونے کو بہت مشکل سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب تم مانتے ہو کہ آسمان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر اِنسان کو دوبارہ پیدا کرنا اُس کے لیے کیا مشکل ہے؟

تم ذرا اپنی عقل سے سوچ کر بتاؤ کہ تمہیں پہلی یا دوسری بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اتنے بڑے آسمان کو پہلی بار بنانا زیادہ مشکل ہے، جس قادر مطلق نے اتنا عظیم الشان آسمان بغیر ستونوں کے پیدا کیا، اس کے لیے اس چھوٹے سے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا بالکل بھی مشکل نہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے کیونکہ اسی انسان کو وہ پہلے بھی پیدا کر چکا ہے۔ اس بات کا انکار سوائے ضد کے کچھ بھی نہیں۔

رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوّٰىہَا۝۲۸ۙ

اس کی بلندی اٹھائی ہوئی ہے، پھر اسے ٹھیک کیا ہے۔

ان آیات میں آسمان کو تخلیق کرنے کی کیفیت کا بیان ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کس طرح کسی ستون اور دیوار کے سہارے کے بغیر آسمان کی چھت کو بہت بلند کر کے اس کو بالکل برابر کر دیا۔ ایسا درست اور ہموار بنایا کہ اس میں کہیں کوئی اونچ نیچ یا کوئی جوڑ اور پیوند نہیں ہے۔ پھر آسمان کو سورج، چاند اور ستارے وغیرہ مختلف چیزوں سے سجا دیا۔

وَاَغْطَشَ لَیْلَہَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىہَا۝۲۹۠

اور اس کی رات کو اندھیری بنایا ہے، اور اس کے دن کی دھوپ باہر نکال دی ہے۔

مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آسمان میں سورج پیدا کیا ہے۔ جب تک وہ اہل زمین کے سامنے رہتا ہے تو ان کے لیے دھوپ کا وقت اور دن ہوتا ہے اور جب وہ غروب ہو جاتا ہے اور چھپ جاتا ہے تو یہ ان کے لیے رات کا وقت ہوتا ہے۔ دن کو روشن بنایا تاکہ رزق تلاش کر سکو اور رات کو تاریک بنایا تاکہ آرام کر سکو۔

سوال: وَ اَغْطَشَ لَیْلَہَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىہَا میں رات اور دن کو آسمان کی طرف کیوں منسوب کیا گیا؟

جواب: سورج غروب ہونے سے رات آتی ہے اور سورج طلوع ہونے سے دن نکلتا ہے۔ سورج کا تعلق آسمان سے ہے اس لیے رات اور دن کی نسبت بھی آسمان کی طرف کر دی۔

رات کے لیے ڈھانکنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد رات کی تاریکی اس طرح زمین پر چھا جاتی ہے جیسے اوپر سے اس پر پردہ ڈال کر ڈھانک دیا گیا ہو۔

وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا۝۳۰ۭ اَخْرَجَ مِنْہَا مَاۗءَہَا وَ مَرْعٰىہَا۝۳۱۠ وَالْجِبَالَ اَرْسٰىہَا۝۳۲ۙ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ لِاَنْعَامِکُمْ۝۳۳ۭ

اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا ہے۔ اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا ہے۔ اور پہاڑوں کو گاڑ دیا ہے۔ تاکہ تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچائے۔

اللہ تعالیٰ نے آسمان کو پیدا کرنے کے بعد زمین کو بچھایا۔ پھر زمین میں پانی کے چشمے پیدا کر دئیے، گھاس اور چارہ پیدا کر دیا۔ چارے سے مراد اس جگہ صرف جانوروں کا چارہ نہیں ہے بلکہ تمام نباتات مراد ہیں جو انسان اور حیوان دونوں کی غذا کے کام آتے ہیں۔ پھر اس پر مضبوط پہاڑ بنا دئیے تاکہ زمین ادھر ادھر ڈولتی نہ رہے۔ یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے جانوروں کے نفع کے لیے کیا۔ جو ذات ان چیزوں کو پیدا کر سکتی ہے یقین کر لو کہ وہ تمہیں بھی دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔

سوال: ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کو پہلے بنایا گیا زمین کو بعد میں جبکہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو پہلے اور آسمان کو بعد میں پیدا کیا گیا۔ بظاہر آیات میں اختلاف ہے؟

جواب: کوئی اختلاف نہیں۔ زمین اور آسمان دونوں کو اکٹھا بنایا گیا۔

۱- جہاں یہ بیان ہے کہ زمین پہلے پیدا کی گئی آسمان بعد میں اس سے مراد کہ زمین کے مادے کو پہلے پیدا کیا گیا پھر آسمان کے مادے کو پیدا کیا گیا۔ لیکن جب بچھانے کا وقت آیا تو پہلے آسمان کو پھیلایا گیا پھر زمین کو جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے۔

۲- لوگوں کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ انداز اختیار کیا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار کو ظاہر کرنا ہو وہاں آسمانوں کا ذکر پہلے ہے اور زمین کا بعد میں۔ جہاں لوگوں کو اپنی نعمتوں کا احساس دلانا ہو، جو انہیں زمین پر حاصل ہو رہی ہیں وہاں زمین کا ذکر آسمانوں سے پہلے ہے۔

فائدہ: حضرت تھانویؒ نے بیان القرآن میں فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے زمین کا مادہ بنا اور ابھی اس کی موجودہ شکل نہیں بنی تھی کہ آسمان کا مادہ بنایا گیا، جو دخان یعنی دھوئیں کی شکل میں تھا، اس کے بعد زمین کو موجودہ شکل میں پھیلا دیا اور اس پر پہاڑ، درخت وغیرہ پیدا کیے گئے پھر آسمان کے مادے سے سات آسمان بنا دئیے گئے۔

ربط آیات ۳۴ تا ۴۱

دلائل قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ثابت کیا اور اب ان آیات سے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کے واقعات اور قیامت کے دن کی شدت کا بیان ہے۔ اعمال کے سامنے آ جانے اور اہل جنت و اہل جہنم دونوں کے ٹھکانے کا ذکر کر کے آخر میں ان دونوں کی خاص خاص نشانیاں بتائی گئی ہیں۔

فَاِذَا جَاۗءَتِ الطَّاۗمَّة الْکُبْرٰى۝۳۴ۡۖ

پھر جب وہ سب سے بڑا ہنگامہ برپا ہو گا۔

جس وقت سب سے بڑی مصیبت یعنی قیامت آ جائے گی۔ طامہ ایسی بڑی مصیبت اور آفت کو کہتے ہیں جو سمندر کے پانی کی طرح سب پر چھا جائے۔ اس کے ساتھ الکبری یعنی بہت بڑی کا لفظ قیامت کی مزید ہولناکی اور تاکید کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ قیامت ایسی بڑی مصیبت ہو گی جو ہر طرف چھا جائے گی اور کوئی اس سے بچ نہیں پائے گا۔

یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى۝۳۵ۙ

جس دن انسان اپنا سارا کیا دھرا یاد کرے گا۔

اس دن ہر شخص اپنے اعمال کو یاد کرے گا جن کو بہت مدت گزر جانے کے بعد بھول چکا ہو گا۔ یعنی جب انسان دیکھ لے گا کہ وہی محاسبے کا دن آ گیا ہے جس کی اسے دنیا میں خبر دی جا رہی تھی، تواس سے پہلے کہ اس کا نامۂ اعمال اس کے ہاتھ میں دیا جائے، اسے ایک ایک کر کے اپنے سارے کام یاد آنے لگیں گے، جو وہ دنیا میں کرتا رہا تھا۔ بعض لوگوں کو یہ تجربہ اس دنیا میں بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی وقت وہ کسی ایسے خطرے سے دوچار ہو جائیں، جس میں موت ان کو بالکل قریب کھڑی نظر آنے لگے تو اپنی پوری زندگی کے سارے اچھے برے اعمال نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں۔

یا پھر یہ کہ جب نامۂ اعمال اس کے سامنے لایا جائے گا تو اسے دیکھتے ہی انسان کو اپنے تمام اعمال یاد آ جائیں گے۔

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى۝۳۶

اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔

مؤمن اور کافر سب جہنم کو دیکھ لیں گے۔ مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔

اب اگلی آیات میں اہل جنت اور اہل جہنم کی خاص علامتیں بتائی گئی ہیں۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر انسان دنیا میں بھی پہچان سکتا ہے کہ اس کا ٹھکانا جنت ہو گا یا جہنم۔ البتہ جن لوگوں کے حق میں کسی قسم کی سفارش یا شفاعت قبول ہو گئی وہ اللہ جل شانہ کی رحمت سے جہنم سے نکال کر جنت میں ڈال دئیے جائیں گے۔ (جیسا کہ بعض روایات اور آیات میں آیا ہے)

فَاَمَّا مَنْ طَغٰى۝۳۷ۙ وَ اٰثَرَ الْحَیٰوة الدُّنْیَا۝۳۸ۙ

تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔

پہلے اہلِ جہنم کی دو خاص نشانیاں بتائی گئی ہیں۔

۱- طغیان یعنی سرکشی: اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی فرمانبرداری کرنے کی بجائے جانتے بوجھتے انکار کرنا۔

۲- دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا۔ یعنی جب شریعت کسی ایسے کام کا حکم دے جسے کرنے کے لیے دنیا میں مشکل اور سختی برداشت کرنی پڑے اس کو چھوڑ دینا۔ جس کام میں دنیاوی لذت اور خوشی ملتی ہو اسے کر لینا اور آخرت میں اس کام کی سزا اور عذاب کو نظر انداز کر دینا۔

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰى۝۳۹ۭ

تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہو گی۔

جو شخص دنیا میں ان دونوں کاموں میں مبتلا ہو جائے اس کے لیے فرمایا: فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ھِیَ الْمَاْوٰى (یعنی جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے)۔

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى۝۴۰ۙ

لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔

اہل جنت کی دو علامات:

۱- وہ شخص جنتی ہے جسے ہر وقت، ہر کام کے دوران یہ خوف ہو کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھے اس کام کا حساب دینا ہے۔

۲- اور وہ شخص جو اپنے نفس پر اس طرح قابو پا لے کہ ناجائز اور حرام کام کرنا تو دور کی بات اس کی خواہش سے بھی خود کو روک لے۔

دونوں شرائط کا تعلق ایک ہی بات سے ہے جسے اللہ کے سامنے ہر کام کا جواب اور حساب دینے کا خوف ہو گا وہ اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے یقیناً روک کر رکھے گا۔ کیونکہ در حقیقت اللہ کا خوف ہی انسان کو اتباع ھوا یعنی خواہشات کی پیروی سے روک سکتا ہے۔

فَاِنَّ الْجَنَّة ہِیَ الْمَاْوٰى۝۴۱ۭ

تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہو گی۔

جس میں یہ دونوں خصوصیات پیدا ہو جائیں اس کو یہ خوش خبری ہے۔ فانّ الجنة ہی المأویٰ (پس بے شک جنت اس کا ٹھکانہ ہے)

فائدہ: نفس کی خواہشات روکنے کے تین درجے ہیں۔ ۱- پہلا یہ کہ وہ غلط عقائد سے محفوظ رہے۔

۲- کسی گناہ یا اللہ کی نافرمانی کا ارادہ کرے پھر اسے یاد آ جائے کہ مجھے اس بات کا اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ اس وجہ سے وہ گناہ کو چھوڑ دے۔

اس درجے کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ وہ شبہات کو بھی چھوڑ دے، یعنی جس کام میں معمولی سا بھی شبہ ہو اسے چھوڑ کر یقینی حکم کو اختیار کرے اور ہر کام میں اپنے آپ کو ریا کاری سے بچانے کی کوشش کرے۔

۳- خواہش نفس کو روکنے کا تیسرا اور اعلی ترین درجہ یہ ہے کہ کثرت سے اللہ کا ذکر، مجاہدہ اور ریاضت کر کے اپنے نفس کو پاک کر لے۔ ایسا شخص اللہ کا ولی بن جاتا ہے۔

یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰىہَا۝۴۲ۭ

یہ لوگ تم سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہو گی؟

جب کافروں کے سامنے قیامت کے ہولناک حالات اور جزا و سزا کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ فوراً سوال کرتے ہیں کہ جب قیامت کا آنا لازم ہے تو پھر اس کا کوئی مقرر وقت بھی ہو گا، ہمیں بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ یہ سوال بیوقوفوں والا ہے اور یہ ایسا سوال ہے جیسے بیمار اپنی بیماری کے علاج کے لیے طبیب کے پاس جائے۔ طبیب اس سے کہے تمہیں خطرناک بیماری ہے اس کا علاج کرواؤ اور مریض علاج کروانے کی بجائے اپنے ڈاکٹر سے پوچھنے لگے مجھے بتاؤ میں کب مروں گا؟ حالانکہ اس کو علاج پر توجہ دینی چاہیے۔

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰىہَا۝۴۳ۭ

تمہارا یہ بات بیان کرنے میں کیا کام؟

کفار اور مشرکینِ مکہ چونکہ بار بار نبی کریمﷺ سے قیامت کے احوال اور اس کے واقع ہونے کے وقت کے متعلق سوال کرتے تھے اسی لیے نبی کریمﷺ بھی جبرائیلؑ سے بار بار قیامت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کس چیز میں پڑے ہوئے ہیں؟ آپ بار بار قیامت کے وقت کے متعلق سوال نہ کریں کیونکہ مصلحت کی وجہ سے ہم نے اس کا وقت چھپا رکھا ہے کسی کو اس کی خبر نہیں دی۔ وقت سے پہلے ان کو خبر دے بھی دی جائے تب بھی یہ نہیں مانیں گے بلکہ قیامت کو دور سمجھ کر گناہوں اور نافرمانی میں مشغول ہو جائیں گے۔

اِلٰى رَبِّکَ مُنْتَہٰىہَا۝۴۴ۭ

اس کا علم تو تمہارے پروردگار پر ختم ہے۔

قیامت کے علم کی انتہاء صرف اللہﷻ کے پاس ہے۔ صرف وہ ہی جانتا ہے کہ کب قیامت واقع ہو گی اور اس نے قیامت کے برپا ہونے کا علم کسی کو نہیں دیا۔

اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىہَا۝۴۵ۭ

جو شخص اس سے ڈرتا ہو، تم تو صرف اس کو خبردار کرنے والے ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپﷺ کی بعثت کا مقصد قیامت کا وقت بتانا نہیں بلکہ آپ کو قیامت کی سختیوں اور جزا و سزا سے ڈرانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اگرچہ آپ کو تمام عالم کے لیے بھیجا گیا ہے لیکن آپ انہی کو ڈرائیں جو اپنے دل میں اللہ اور آخرت کا ڈر رکھتے ہیں اور وہی آپ کے ڈرانے کا اثر قبول کریں گے۔

کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰىہَا۝۴۶ۧ

جس دن یہ اس کو دیکھ لیں گے، اس دن انہیں ایسا معلوم ہو گا

جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) ایک شام یا ایک صبح سے زیادہ نہیں رہے۔

کفار اس وقت تو شور مچا رہے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آتی؟ کب آئے گی؟ جلدی لے آؤ! وغیرہ لیکن جس وقت قیامت آ جائے گی، کفار و مشرکین اس کی ہولناکی اور عذاب دیکھیں گے جو ہمیشہ رہنے والا ہو گا۔ پھر دنیا کی زندگی یاد کریں گے۔ اس وقت انہیں ایسا محسوس ہو گا گویا دنیا میں بہت مختصر وقت گزارا ہے۔ صرف شام کے وقت یا صبح کے وقت ہی رہے ہیں۔ قیامت کے واقع ہو جانے کی حقیقت محسوس ہونے کے بعد دنیا میں گزاری گئی زندگی انتہائی مختصر اور حقیر معلوم ہو گی۔

مختصر تفسیر عتیق سورة النازعات:

یہ سورة چھیالیس آیات پر مشتمل ہے۔ سورت النازعات کا مرکزی مضمون مرنے کے بعد زندہ ہونے کا اثبات ہے۔

ابتداء ان فرشتوں سے کی گئی ہے جو اس کائنات کے معاملات کو منظم طریقے سے چلاتے ہیں۔ اچھے برے، نیک اور بدکار انسانوں کی جان نکالتے ہیں۔ پھر مشرکین مکہ کے اعتراض کے جواب میں قیامت کی ہولناکی اور بغیر کسی مشکل کے اللہ کے صرف ایک حکم پر قبروں سے نکل کر باہر آ جانے کا ذکر ہے۔ مزید وضاحت کے لیے واقعات کی گواہی پیش کی گئی۔ جس طرح اللہﷻ نے فرعون جیسے ظالم و جابر کو حضرت موسیٰؑ جیسے وسائل سے محروم شخص کے ہاتھوں شکست دے کر اسے سمندر میں غرق کر دیا۔ جو آسمانوں جیسی عظیم الشان مخلوق کو وجود میں لایا وہ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ جنت اور جہنم کا ذکر کرنے کے بعد، صبح و شام کسی بھی وقت قیامت اچانک قائم ہو جانے کے اعلان پر سورت کا اختتام کیا گیا۔

٭٭٭

یہاں کتب ورڈ، ای پب اور کنڈل فائلوں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ صفحے کا سائز بھی خصوصی طور پر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اگر قارئین پرنٹ بھی کرنا چاہیں تو صفحات کو پورٹریٹ موڈ میں کتاب کے دو صفحات ایک ہی کاغذ کے صفحے پر پرنٹ کر سکیں۔
ویب گاہ کی تعمیر و تشکیل: محمد عظیم الدین اور اعجاز عبید